Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

علم الصيغة · dars-033

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 03 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 43
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی! آگے سبق دیکھیے۔ قسم چہارم در صرف ناقص و لفیف۔ ناقصِ واوی اسبابِ نصر ینصر الدعاء و الدعوۃ خاصۃ۔ دعا یجعو دعاء و دعوۃ فہو داع و دعوی یدعا دعاء و دعوۃ فہو مدعو۔ الامر منہ ادعو و النہی عنہ لا تدعو۔ الظرف منہ مدعا و الۃ منہ مدعا، مدعات، مدعا۔ و تثنیہ توما مدعایان و مدعایان و الجمع منہما مداع و مداعی۔ فعل التفضیل منہ ادعی و المؤنث منہ دعیا و تثنیہ توما ادعایان و دعیا یانی۔ و الجمع منہما ادع و ادعون و دعن و دعیا یات۔ گذشتہ سبق میں آپ نے ایک فائدہ پڑھا تھا کہ اجوف کے امر کے صیغے کہ ان میں عین حذف ہو جاتا ہے۔ اسی طرح محموز العین کے اندر امر کے صیغوں میں بھی یسلو کے قانون سے ہمزہ حذف ہو جاتا ہے۔ تو اس حال سے کیا بن جاتا ہے سل۔ تو اجوف میں امر بن گیا خف اور محموز میں امر بن گیا سل۔ تو خف اور سل تو بظاہر بالکل ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں تو ان میں فرق کیسے کریں گے؟ تو مصنف رحمہ اللہ نے آپ کو بتلایا کہ امر کے صیغوں میں واحد مذکر حاضر یعنی پہلا صیغہ اور چھٹا صیغہ یعنی جمع مؤنث ان دو صیغوں کے اندر یہ درمیان والا جو عین ہے وہ محذوف ہے جبکہ باقی صیغوں کے اندر اجوف میں وہ جو حرف حذف ہوا ہے واپس آ جاتا ہے۔ جیسے خف خافا دیکھا خا اور فا کے درمیان الف واپس آگیا تثنیہ کے صیغے میں تو خف، خافا، خافو، خافی، خافا، خفنا۔ تو اس طرح یہ دو صیغے ہیں ان میں درمیان میں سے واؤ یا یا حذف ہو جاتی ہے اور باقی صیغوں میں واپس آ جاتی ہے تو اس کے ذریعے آپ آسانی سے فرق کر سکتے ہیں۔ کیونکہ محموز کے اندر وہاں پر یہ درمیان میں جو ہمزہ حذف ہوا ہے وہ واپس نہیں آئے گا۔ وہاں کیسے گردان ہو گی سل، سلا، سلو، سلی، سلا، سلنا۔ تو وہاں جو ہمزہ حذف ہوا ہے واپس نہیں آئے گا لیکن یہاں پر جو واؤ یا یا حذف ہوئے ہیں اجوف کے اندر وہ واپس آ جائیں گے تو اس کے ذریعے آپ آسانی سے فرق کر سکتے ہیں۔ اور نیز جب ان کے ساتھ نونِ ثقیلہ ملے گا تو اس وقت بھی وہ واؤ یا یا واپس آ جاتے ہیں۔ تو اس سے آپ آسانی سے فرق کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد اجوف کی کچھ گردانیں آئی تھیں اور ان میں جو تعلیلیں ہوئی تھیں ان کو ذکر کیا۔ اب آگے ناقص اور لفیف شروع ہو رہے ہیں۔ دیکھیے بھئی آگے سبق بھئی۔ تو آگے وہ کہتے ہیں قسم چہارم در صرف ناقص و لفیف۔ چوتھی قسم ناقص و لفیف کی صرف کے بارے میں یعنی ان کی گردان کے بارے میں۔ ناقصِ واوی اسبابِ نصر ینصر۔ پہلی گردان ذکر کر رہے ہیں ناقصِ واوی ہے بابِ نصر ینصر سے۔ الدعاء و الدعوۃ خاصۃ۔ دعا اور دعوت کا معنی ہے خاصتاً مانگنا، مانگنا بلانا مانگنا۔ تو دیکھیے آگے گردان دعا یجعو دعاء و دعوۃ فہو داع و دعوی یدعا دعاء و دعوۃ فہو مدعو۔ الامر منہ ادعو و النہی عنہ لا تدعو۔ الظرف منہ مدعا و الۃ منہ مدعا، مدعات، مدعا۔ و تثنیہ توما مدعایان و مدعایان و الجمع منہما مداع و مداعی۔ فعل التفضیل منہ ادعی و المؤنث منہ دعیا و تثنیہ توما ادعایان و دعیا یانی۔ و الجمع منہما ادع و ادعون و دعن و دعیا یات۔ اچھا بھئی یہاں اس میں تفصیل میں جمع مؤنث سالم جو آ رہی ہے اس کی وہ ہے دعیا یات۔ اور ابوابِ صرف کے اندر جو آپ نے گردانیں یاد کیں وہاں ہے دعایات وہاں ایک یا ہے اور یہاں دعیا یات کتنی یا ہیں؟ دو یا ہیں۔ تو یہ تمام گردانوں میں اسی طرح آپ کو فرق ملے گا ناقص اور لفیف کے اندر آپ علمِ صیغہ وغیرہ اور دیگر کتابوں میں دیکھیں گے تو وہاں آپ کو دو یا نظر آئیں گی۔ جبکہ میرے والد صاحب رحمہ اللہ شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا محمد موسی روحانی بازی رحمہ اللہ تعالی رحمتہ واسعہ انہوں نے مجھے جو ابوابِ صرف لکھ کر دیے وہ روزانہ میرے لیے ایک ایک باب لکھتے اور میں اس کو یاد کرتا تھا اور اسی کو پھر میں نے ایک کاپی کی صورت میں چھپوا بھی دیا جس سے آپ نے گردانیں یاد کی ہیں۔ ان گردانوں میں آپ دیکھیں تو ناقص اور لفیف کے اندر یہ جو جمع مؤنث جمع مؤنث سالم ہے اس میں تفصیل کی وہاں آپ کو ایک یا نظر آئے گی جبکہ عام کتابوں کے اندر دو یا جیسے یہاں کیا آیا دعیا یات اور وہاں ابوابِ صرف میں آپ نے کیا پڑھا؟ دعایات۔ اسی طرح یہاں آگے آئے گا رمیا یات رما یرمی سے رمیا یات اور والد صاحب نے جو گردانیں لکھوائیں اس میں رمایات ہے۔ کیا ہے؟ رمایات۔ تو علمِ صیغہ میں اور اسی طرح عام دیگر کتابوں کے اندر جو قریب کے زمانے میں جو کتابیں لکھی گئیں جن میں یہ گردانیں درج ہیں ان میں دو یا لکھی گئیں۔ دو یا اس میں آپ کو دو یا ملیں گی۔ تو آپ ان میں سے جو بھی یاد کرنا چاہیں یاد کر سکتے ہیں۔ چاہے تو عام کتابوں میں دو یا ہیں آپ چاہے دو یا کے ساتھ یہ گردانیں یاد کر لیں یعنی رمیا یات، دعیا یات اور چاہے تو والد صاحب کا طریقہ اسی طرح برقرار رکھیں۔ والد صاحب کا علمی مقام بہت اونچا ہے بھئی بہت اونچا اور اصل کمال ان کا علم تھا۔ اللہ نے ان کو اتنا علم نصیب فرمایا تھا کہ زمانہ حال کے علماء حیرت کا اظہار کرتے ہیں بھئی۔ تمام علوم و فنون میں وہ مجتہد کی حیثیت رکھتے تھے۔ تاریخ میں آپ کو ایسے بہت کم علماء ملیں گے جو تمام علوم و فنون میں مجتہد کی حیثیت رکھتے ہوں۔ کوئی بہت بڑا صرفی ملے گا، کوئی بہت بڑا نحوی آپ کو نظر آئے گا، کوئی بہت بڑا محدث نظر آئے گا، کوئی بہت بڑا منطقی آپ کو نظر آئے گا، لیکن ایسے علماء جو تمام علوم و فنون کے زبردست ماہر ہوں اور ان میں مجتہد اور امام کی حیثیت رکھتے ہوں آپ کو ایسے علماء پوری تاریخِ اسلام میں بہت کم نظر آئیں گے۔ اور والد صاحب رحمہ اللہ ان کا اصل کمال یہی تھا کہ ان کو اللہ نے تمام علوم و فنون میں مجتہد کی حیثیت نصیب فرمائی تھی۔ ان کی جس کتاب کو بھی علماء اٹھاتے ہیں حیران رہ جاتے ہیں۔ اور یوں معلوم ہوتا ہے ان کی کسی بھی فن کی کوئی کتاب اٹھا کر انسان پڑھے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اس شخص کی ساری زندگی اسی ایک فن کے اندر گزری ہے۔ یعنی اتنی زبردست مہارت۔ اور پھر والد صاحب رحمہ اللہ کی کتابیں جس کتاب کو بھی کسی بھی بڑے عالم نے دیکھا وہ کتاب دیکھ کر ہی حیران رہ گئے ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ آج سے کئی صدیاں قبل ہی ان علوم و فنون کے دروازے بند ہو گئے ہیں، لیکن حضرت کی کتابیں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ آج بھی ان علوم و فنون کے دروازے کھلے ہیں اور ایسے لوگ موجود ہیں جن کو اللہ نے ان فنون میں بے انتہا مہارت نصیب فرمائی ہے۔ تو والد صاحب رحمہ اللہ نے اس میں یہاں پر ایک یا لکھی ہے ایک یا لکھی ہے اور وہ یا کیسے گری؟ وہ تفصیل میں نے ابوابِ صرف میں جہاں رما یرمی کی گردان آتی ہے اس کے نیچے میں نے درج کی ہے۔ تو ابوابِ صرف کے اندر جہاں رما کی گردان ہے وہاں پر حاشیے میں یہ قانون درج ہے دیکھئے بھئی یہ قانون آپ سن لیں ایک مرتبہ پھر ابوابِ صرف سے ہی۔ دیکھیے دو نمبر حاشیہ ہے میں یہ حاشیہ پڑھتا ہوں آپ سنتے جائیں اور میں اس کی ساتھ ساتھ تفصیل بھی بیان کرتا جاؤں گا ابوابِ صرف کے اندر بھئی۔ دیکھیے لکھا ہے کہ رمایات دراصل رمیا یات بر وزن زربایات تھا۔ رمایات دراصل رمیا یات بر وزن زربایات تھا۔ پھر یا کا فتحہ نقل کر کے میم کو دیا گیا پھر یا کو ما قبل فتحہ کی وجہ سے الف کیا تو رمایات ہوا پہلے کیا تھا رمیا یات پھر یا کا فتحہ ما قبل جو میم ساکن ہے اس کو دیا اور ما قبل فتحہ کی وجہ سے یا کو کس سے بدلا؟ الف سے بدلا تو رمایات ہوا۔ پھر اس الف کو اسی قانون کے تحت گرایا گیا جس قانون کے تحت رماتا کے اندر سے الف گرا ہے۔ رماتا یعنی ماضی کا پانچواں صیغہ رما، رمایا، رمائو، رمات، رماتا۔ رماتا اصل میں تھا راماتا بلکہ اصل میں تھا رمایاتا۔ رماتا اصل میں کیا تھا؟ رمایاتا پھر یا الف سے بدلی اور پھر الف گر گیا تو کیا ہوا رماتا۔ تو جیسے رمایات اصل میں کیا تھا رمیا یات پھر یا کا فتحہ کس کو دیا؟ میم کو اور پھر ما قبل فتحہ کی وجہ سے یا کو کس سے بدلا؟ الف سے تو کیا بن گیا رمایات اور پھر الف گر گیا تو کیا رہ گیا رمایات۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے تو رمایات رہ گیا یہ الف کیسے گرا جواب اس کا یاد رکھیے کہ یہ اسی قانون کے تحت گرا ہے جس قانون کے تحت رماتا میں سے الف گرا ہے۔ رماتا اصل میں کیا تھا رمایاتا۔ یا متحرک ما قبل فتحہ اس کو کس سے بدلا الف سے بدلا تو کیا بن گیا رماتا۔ پھر درمیان سے یہ الف گر گیا تو کیا رہ گیا رماتا۔ تو دیکھا رماتا میں جس قانون کے تحت الف گرا ہے اسی قانون کے تحت رمایات میں سے بھی الف گر گیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگ گئی؟ آگے فرماتے ہیں تفصیل قانون یہ ہے جو کہ کتاب مراح الارواح میں درج ہے کہ رماتا دراصل رمایاتا بر وزن زرباتا تھا۔ یا متحرک کو ما قبل فتحہ کی وجہ سے الف کیا تو رماتا۔ وا۔ اجتماع ساکنین علی غیر حدہ ایا، اس الف اور تا میں۔ توجہ ہے؟ رما تا۔ الف بھی ساکن، الف کے بعد والی تا بھی ساکن تو اجتماع ساکنین ایا اور الف اجتماع ساکنین کی وجہ سے اول مدہ تھا وہ گر گیا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ آپ کے ذہن میں فورا اشکال آئے گا کہ تا ساکن کدھر ہے؟ تا تو متحرک ہے، رما تا، توجہ ہے؟ رما یا تا، ضرب تا، پھر یا کو کس سے بدلا؟ الف سے، کیا بنا؟ رما تا۔ پھر یہ الف اجتماع ساکنین سے گرا، کس کے ساتھ ایا اجتماع ساکنین؟ الف اور تا میں، الف اور تا میں اور ان میں سے پہلا اول جو الف ہے وہ حرف مدہ ہے تو اس کو گرا دیا تو کیا بن گیا؟ رما تا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ تا ساکن کدھر ہے؟ الف تو ساکن ہے، ٹھیک ہے، مگر تا تو متحرک ہے، اس پر تو فتحہ ہے، رما تا۔ اشکال سمجھ میں آرہا ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ فی الحال اگرچہ تا متحرک ہے، مگر اصل میں یہ تا ساکن ہے۔ یہ وہی مؤنث والی تا ہے۔ ضرب ضرب ضرب ضربت، یہ یہ تا دیکھو یہ ساکن ہے۔ تو یہ اصل کے اعتبار سے یہ تا ساکن ہے۔ تانیث والی تا، اور پھر اس کے ساتھ جب الف تثنیہ کا جڑتا ہے، ضربت ضربتا تو الف اپنے سے ماقبل کیا چاہتا ہے؟ فتحہ، اس لیے تا پر فتحہ آگیا، ورنہ اصل کے اعتبار سے یہ تا کیا ہے؟ ساکن ہے، ساکن ہے۔ تو لہذا یہاں روما یا، توجہ ہے؟ بہت مشکل قانون ہے، خوب توجہ سے سمجھ لو، تو رما تا، رما تا کے اندر الف بھی ساکن اور تا ساکن۔ اس وقت تو تا ساکن نہیں لیکن اصل کے اعتبار سے تا کیا ہے؟ ساکن ہے تو تا کی اصل حالت کا اعتبار کیا اور اصل کے اعتبار سے تو تا ساکن اور ماقبل میں الف بھی ساکن، تو اجتماع ساکنین آیا اور اجتماع ساکنین علی غیر حدہ ہے، اول حرف مدہ ہے یعنی الف، اس کو گرا دیا تو کیا بن گیا؟ رما تا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ اس پر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی اگر تا کی اصل حالت کا اپ نے اعتبار کیا ہے، تو پھر تو اس وقت پھر اجتماع ساکنین آرہا ہے۔ رما تا، تو اصل کے اعتبار سے تا کیا ہے؟ ساکن اور آگے الف بھی ساکن ہے، یہ تو ابھی بھی کیا لازم آرہا ہے؟ اجتماع ساکنین لازم آرہا ہے۔ تو جواب اس کا لکھا ہے کہ بھئی جو پہلا الف گرا، وہ اصل کلمہ تھا۔ یعنی لام تھا۔ رما یا تا سے کیا بنا؟ رما تا، تو یہ الف کس سے بدل کر آیا ہے؟ یا سے، اور یا کیا ہے؟ حرف اصلی ہے، لام کلمہ ہے، لام ہے بھئی، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو وہ لام ہے، اصل کلمہ ہے، فعل کا اصل، اور یہ جو دوسرا الف ہے، یہ الف ہے عارضی۔ یہ تو ساتھ ضمیر آکر جڑ گئی، یہ ضمیر ہمیشہ ہوتی ہے، ضربت کے ساتھ کوئی الف والی ضمیر ہے؟ نہیں، ضربتا میں یہ الف تثنیہ کی ضمیر آگئی، تو یہ ضمیر کیا ہے؟ یوں سمجھو عارضی ہے، کیا ہے؟ کبھی اس تا کے ساتھ جڑے گی اور کبھی نہیں جڑے گی۔ تو یہ الف کیا ہوا؟ عارضی۔ اور تا کی اس وقت حالت کیا ہے؟ اس پر فتحہ ہے، یہ فتحہ بھی کیا ہے؟ عارضی، توجہ ہے؟ ماقبل میں ایک الف تھا، وہ الف تھا اصلی۔ رما تا، وہ الف کیا تھا؟ اصلی۔ کیا معنی اصلی؟ حرف اصلی ہے، لام ہے بھئی، را، رما یا، را، میم، یا۔ الف کیا ہے؟ اصلی، تو پہلا الف اصلی، دوسرا الف عارضی۔ رما تا، پہلا الف اصلی، حرف اصلی اور دوسرا الف عارضی ہے، وہ تا کے ساتھ ہمیشہ ہوتا ہے یا صرف تثنیہ کے صیغے میں آکے جڑے گا؟ رما، رمایا، رمائو، رمت، دیکھو رمت میں کوئی الف ہے؟ نہیں، پھر رماتا میں الف ساتھ آکے جڑ گیا، تو یہ الف بھی کیا ہوا؟ عارضی۔ تو گویا دو الف آگئے، ایک تا سے پہلے، ایک تا کے بعد۔ تا سے پہلے والا الف ہے اصلی، اور تا کے بعد والا الف ہے عارضی۔ اسی طرح تا کی بھی دو حالتیں ہیں، ایک تا کی اصلی حالت، وہ ساکن ہے اصل میں، ضربت، اس میں تا کیا ہے؟ ساکن، رمت، اس میں تا کیا ہے؟ ساکن، تو اصل کے اعتبار سے تا ساکن ہے، لیکن اس وقت تا پر فتحہ ہے، تو یہ اس کی عارضی حالت ہوئی، کیونکہ الف کی وجہ سے اس پر فتحہ آیا، تو یہ اس کی عارضی حالت۔ تو تا کی بھی دو حالتیں ہوگئیں، ایک اصلی حالت اور ایک عارضی حالت، تو اصلی الف کے لیے تا کی اصلی حالت کا اعتبار کیا اور عارضی الف کے لیے تا کی عارضی حالت کا اعتبار کیا۔ تو الف کیا ہے پہلا؟ اصلی، اس کے لیے تا کی اصلی حالت کا اعتبار کیا، اور تا اصل میں کیا ہے؟ ساکن، تو کیا لازم آیا؟ اجتماع ساکنین، تو ایک الف گر گیا، اور اب تا ہے اور آگے دوسرا الف ہے، وہ دوسرا الف بھی عارضی اور تا پر فتحہ بھی عارضی، تو دوسرے الف کے لیے تا کی عارضی حالت کا اعتبار کیا اور عارضی حالت تا کی کیا ہے؟ ساکن ہے، متحرک ہے؟ متحرک ہے، تو جب متحرک ہے تو اجتماع ساکنین ہے ہی نہیں، اس لیے تا نہیں گرے گی۔ وجہ سمجھ میں آگئی؟ تو پہلا الف تھا اصلی، دوسرا الف ہے عارضی، اور اسی طرح تا کی بھی دو حالتیں، ایک ہے اصلی، ایک ہے عارضی، تو اصلی الف کے لیے تا کی اصلی حالت کا اعتبار کیا اور عارضی الف کے لیے تا کی عارضی حالت کا اعتبار کیا، جب اصلی الف کے لیے تا کی اصلی حالت کا اعتبار کیا تو اجتماع ساکنین آیا کیونکہ تا اصل میں ساکن تھی، اور عارضی الف کے لیے تا کی عارضی حالت کا اعتبار کیا تو عارضی حالت میں تا پر تو فتحہ ہے تو اجتماع ساکنین لازم نہیں آیا۔ تو رماتا کی سمجھ آگئی، رماتا سے رماتا کیسے بنا؟ رماتا سے رماتا، رماتا اصل میں کیا تھا؟ رمایا تا، پھر یا کو کس سے بدلا؟ الف سے، کیا بن گیا؟ رماتا، پھر الف کو گرا دیا تو کیا بن گیا؟ رماتا، تفصیل سمجھ میں آگئی۔ اسی طرح رمیاط ہے بھئی، رمیاط، یہ اصل میں جمع ہے رمیان، اس میں تفصیل مؤنث کی۔ اور رمیا، دیکھو آخر میں یا ہے اور یا کے مابعد الف ہے، رمیا۔ را، میم، یا اور الف، رمیا، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ را بھی اصلی، میم بھی اصلی، یا بھی اصلی، اور آخر میں جو الف ہے، یہ الف تانیث ہے، تانیث کے لیے بڑھایا گیا، یہ زائد ہے۔ توجہ ہے؟ رمیا، کیا کیا ہے؟ را، میم، یا اور الف، یہ را بھی اصلی، میم بھی اصلی، یا بھی اصلی، لیکن جو الف ہے آخر میں، وہ تانیث والا ہے، مؤنث کے لیے الف آخر میں بڑھایا گیا، تو یہ الف تانیث ہے، اور یاد رکھو، یہ جو الف تانیث ہے، اس کے بعد، اس کے بعد تثنیہ یا جمع کا الف آجاۓ، تثنیہ یا جمع کا الف آجاۓ تو اسے یا کہتے ہیں۔ رمیا، جمع مؤنث سالم، مسلمۃ، مسلمات۔ مسلمۃ کے آخر میں کیا بڑھا دیا؟ الف اور تا، تو یہ الف اور تا جمع مؤنث سالم میں بڑھاتے ہیں، اسی طرح الف تثنیہ بھی بڑھاتے ہیں، رجل رجلانی، دیکھو کیا بڑھایا آخر میں؟ الف اور نون، تو تثنیہ کے لیے بھی الف نون بڑھاتے ہیں اور جمع مؤنث سالم کے لیے بھی کیا بڑھاتے ہیں؟ الف اور تا، تو یہ جو تثنیہ والا الف اور جمع مؤنث سالم والا الف، جب اس میں تفصیل کے اندر جو الف مؤنث ہے، توجہ ہے؟ رمیا، رمیا کے آخر میں کیا ہے؟ الف ہے، اس الف کے بعد اگر تثنیہ والا الف آجاۓ یا جمع مؤنث سالم والا الف آجاۓ تو اس پہلے الف کو یا سے بدل دیتے ہیں۔ رمیا، پھر سنو، رمیا، آخر میں کیا ہے؟ الف، اس کی جب تثنیہ بناؤ گے، تو آگے الف اور نون جوڑ دیں گے۔ تو اس الف کے بعد ایک اور الف آیا، تو یہ جو الف ہے یہ کس سے بدلے گا؟ یا سے۔ اسی طرح رمیا، اس سے جمع مؤنث سالم بنائیں گے، تو آخر میں الف اور تا جوڑ دیں گے، تو ایک الف پہلے موجود، ایک الف مزید آگیا، تو جو پہلا الف ہے مؤنث والا، وہ کس سے بدل جائے گا؟ یا سے بدل جائے گا، تو کیا بن جائے گا؟ رمایات۔ رمیات، رمیا، ایک یا تو پہلے ہے نا، پھر ایک رمیا کے آخر میں کیا ہے؟ الف، یہ الف بھی یا سے بدل دو، رمیا یا، اور آگے الف تا جوڑ دو، کیا بن گیا؟ رمایات، صورت سمجھ میں آگئی؟ وہ الف کس سے بدل گیا؟ یا سے بدل گیا۔ الف جمع کی وجہ سے۔ پھر رمایات میں کیا کیا؟ توجہ ہے؟ رمایات میں کیا کیا؟ پہلی یا جو ہے، اس کا فتحہ نقل کرکے میم کو دیا، اور ماقبل مفتوح ہونے کی وجہ سے پھر اس یا کو کس سے بدلا؟ الف سے، تو کیا بن گیا؟ رمایات، کیا بن گیا؟ رمایات، یہ بہیح وہی صورت بن گئی جو رماتا کی تھی، رمایا تن۔ देखو درمیان میں ہے یا، ماقبل میں بھی الف، مابعد نے بھی الف، ماقبل میں الف اس کو گرا دیا، کیا بن گیا؟ رمایات، کیا بن گیا؟ یہ ماقبل والا الف کیوں گرا؟ جی؟ کیونکہ یہ الف یہ حرف اصلی ہے، یا سے بدل کے آئی ہے نا، یہ ہے حرف اصلی، اور اس کے مابعد جو یا ہے، یہ دراصل کیا تھی؟ الف تھی، یہ الف سے بدل کر آئی ہے، آخِر میں جو الف ہے وہ کیا ہے؟ عارضی ہے۔ وہ جمع مؤنث کے لیے ہم نے ساتھ ملایا تو پہلا الف اصلی اور بات والا الف عارضی اور درمیان میں جو یا ہے اس کی بھی دو حالتیں ایک اس کی اصلی حالت، ایک اس کی عارضی حالت، اصل میں وہ یا کیا تھی؟ الف تھی، ساکن تھی۔ الف تھی، کیا تھی؟ ساکن تھی اور اس وقت عارضی حالت کیا ہے؟ یا ہے، متحرک ہے تو لہذا ماقبل والے الف جو اصلی تھا، اس کے لیے یا کی اصلی حالت کا اعتبار کیا تو الف بھی اصلی اور یا بھی اصل کے اعتبار سے ساکن تھی، الف تھی، اجتماع ساکنین آیا تو پہلا الف گر گیا۔ اور دوسرا الف ہے عارضی تو اس کے لیے یہ یا کی عارضی حالت یعنی یا پر فتحہ ہے اس کا اعتبار کیا تو اجتماع ساکنین نہیں ہے، لہذا اب ان میں سے کوئی بھی نہیں گرے گا تو کیا بن گیا؟ رمایات۔ پہلے کیا تھا؟ رمایات، یہ الف کیوں گرا پہلا؟ اجتماع ساکنین کس کے ساتھ؟ یا اور الف میں، الف پہلا الف اور یا ان میں کیا آیا؟ اجتماع ساکنین، کیوں آیا اجتماع ساکنین؟ یا تو متحرک ہے، یا کی اصل حالت کا اعتبار کیا، بھئی اصل حالت کا کیوں اعتبار کیا؟ کیونکہ الف اصل ہے، الف کیا ہے؟ حرف اصلی ہے تو یا کی بھی اصل حالت کا اعتبار کیا، تو اس اعتبار سے دونوں ساکن ہیں، تو اجتماع ساکنین آیا تو پہلا الف گر گیا، اور دوسرا الف عارضی، اس کے لیے یا کی عارضی حالت کا اعتبار کیا، اور یا کی عارضی حالت تو کیا ہے وہ متحرک ہے، تو وہاں اجتماع ساکنین نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اس پر پھر اشکال ہوتا ہے سوال کہ آپ نے رمایات یا کی حرکت کس کو دی؟ میم کو اور میم کو دی اور پھر یا کو ماقبل فتحہ کی کس سے بدلا؟ الف سے۔ با الفاظ دیگر یہاں پر یباع والا قانون جاری ہوا۔ कौन सा؟ یباع، یباع اصل میں کیا تھا؟ یبیع یبیع یا پر فتحہ اور ماقبل با ساکن، توجہ ہے؟ یا پر فتحہ، درمیان والی جو یا ہے یباع، درمیان والی یا پر فتحہ اور ماقبل میں با ساکن تو یا کا فتحہ کس کو دیا؟ با کو اور پھر ماقبل فتحہ کی وجہ سے یا کو کس سے بدلا؟ الف سے تو کیا بن گیا؟ یباع تو آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ رمایات رمایات یہاں پر بھی یا کا فتحہ کس کو دیا؟ میم کو اور پھر ماقبل فتحہ کی وجہ سے یا کو کس سے بدلا؟ الف سے تو گویا یہاں پر بھی یباع والا قانون جاری ہوا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یباع والا قانون وہ تو اجوف کے ساتھ خاص ہے بھئی، اس کی شرائط میں ہے۔ یباع والے قانون کی شرائط میں ہے کہ وہ یا یا واؤ ان کی حرکت ماقبل کو تب دیں گے جب وہ عین کی جگہ آئیں، یباع اصل میں کیا تھا؟ یبیع، یا کی حرکت کس کو دی؟ با کو، یہ یا کس کی جگہ ہے؟ عین کی جگہ، عین کی، اجوف ہے نا؟ فاعل حروف اصلی با یا ع تو اجوف میں یہ قانون جاری ہوتا ہے، کس میں؟ اجوف تو حاصل کلام یہ کہ یباع والا قانون وہ تو اجوف کے ساتھ خاص ہے اس کی شرطوں میں سے ہے کہ یہ کہاں جاری کرنا ہے؟ اجوف میں، یعنی وہ واؤ یا یا جس کی حرکت آپ کس کو دینا چاہتے ہیں؟ ماقبل کو، ضروری ہے کہ وہ واؤ یا یا عین کی جگہ ہو، کس کی جگہ ہو؟ عین کی جگہ اور یہاں رمایات یا کی حرکت آپ کس کو دے رہے ہیں؟ میم کو، اور یہ یا یہ تو عین کی جگہ نہیں ہے یہ تو لام کی جگہ ہے یہ تو ناقص ہے، اشکال سمجھ بھی آ رہا ہے کہ نہیں آ رہا؟ یباع والا قانون کس میں جاری ہوتا ہے؟ اجوف میں، یعنی وہ واؤ یا یا عین کی جگہ ہونے چاہئیں، پھر ان کی حرکت ماقبل کو دیتے ہیں، اور یہاں تو رمایات یہ یا تو کس کی جگہ ہے؟ لام کی جگہ ہے، تو یہاں تو مانع موجود ہے، شرط پوری نہیں، جب شرط پوری نہیں تو یا کی حرکت ماقبل کو نہیں دیں گے، تو جواب اس کا یہ کہ رمایات میں مانع موجود ہے، لیکن پھر بھی حرکت نقل کی گئی اور اعلال کیا گیا موافق فعل کے لیے۔ کس کے لیے؟ موافق فعل کے لیے، جیسے فعل میں اعلال ہوا تھا، رما اصل میں کیا تھا؟ رمایا تو یا کس سے بدلی؟ الف سے، یا اسی طرح دعا اصل میں کیا تھا؟ دعاوا، واؤ کس سے بدلا؟ الف سے، تو چونکہ فعل میں اعلال ہوا تھا، اس لیے موافق فعل کے لیے یہاں پر کیا کیا گیا؟ اعلال کیا گیا باوجود شرط کے پورا نہ ہونے کے، یا یوں کہیں باوجود مانع کے، باوجود مانع پایا گیا، پھر بھی اعلال کیا گیا۔ میرا خیال ہے توجہ نہیں۔ جیب یباع والا قانون اس میں شرط ہے کہ وہ کہاں ہونا چاہیے؟ وہ اجوف میں ہو، یعنی عین کی جگہ ہو، اور یہ رمایات میں یہ جو یا کی حرکت آپ میم کو دے رہے ہیں، یہ تو کہاں پر ہے؟ لام کی جگہ ہے۔ تو جواب اس کا یہ کہ یہاں مانع موجود ہے، شرط پوری نہیں، پھر بھی اعلال کیا گیا، کس لیے موافق فعل کے لیے، چونکہ فعل میں اعلال ہوا تھا اس لیے یہاں پر بھی کیا کر دیا گیا؟ اعلال، تاکہ یہ صیغہ اپنے فعل جیسا ہو جائے، جیسے اس میں اعلال، اس میں بھی اعلال ہو جائے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ موافق کے لیے اعلال کیا گیا، مانع موجود ہونے کے باوجود، یعنی یوں کہو شرط پوری نہ ہونے کے باوجود، جیسے جیسے اغاست اور استغاست یہاں بھی مانع موجود ہونے کے باوجود اعلال کیا گیا، اغاست اصل میں کیا تھا؟ اغواست پھر واؤ کی حرکت کس کو دی؟ غین کو، اور پھر واؤ کو کس سے بدلا؟ الف سے، پھر دو الف جمع ہو گئے تو پہلا الف گر گیا، کیا بن گیا؟ اغاست، اور پھر آخر میں عوض میں گول تا لے آئے، وہ جو الف گر گیا تھا، تو کیا بن گیا؟ اغاست۔ اسی طرح استغاست اصل میں کیا تھا؟ استغواست اور پھر واؤ کی حرکت کس کو دی؟ غین کو، اور پھر واؤ کو کس سے بدلا؟ الف سے، ایک واؤ کے بعد پہلے سے الف ہے، ایک واؤ خود بھی الف ہو گیا، دو الف جمع ہو گئے، اجتماع ساکنین آیا تو ایک کو گرا دیا، اور پھر آخر میں گول تا لے آئے اس کے عوض میں تو کیا بن گیا؟ استغاست۔ تو اس پر سوال ہوتا ہے کہ یہ اغاست میں واؤ کی حرکت غین کو کیوں دی؟ کیونکہ اس قانون کی ایک شرط ہے، وہ شرط یہ کہ وہ واؤ یا یا، توجہ ہے؟ جس کی حرکت آپ نقل کرکے ماقبل کو دینا چاہتے ہیں، ان کے بعد کوئی حرف مدہ نہیں ہونا چاہیے، اس واؤ یا یا کے بعد کوئی حرف مدہ नहीं ہونا چاہیے۔ اور اغاست، واؤ کے بعد الف حرف مدہ ہے یا نہیں؟ استغاست، یہاں پر بھی واؤ کے بعد الف حرف مدہ ہے، لہذا مانع موجود ہے، شرط پوری نہیں، جب شرط پوری نہیں تو واؤ کی حرکت ماقبل کو نہیں دینی چاہیے، لیکن پھر بھی دیتے ہیں، کس لیے؟ موافق فعل کے لیے، فعل میں چونکہ اعلال ہوا تھا اغاس یغیث، اصل میں کیا تھا اغوس یغویس، وہاں چونکہ اعلال ہوا، اس لیے موافق فعل کے لیے اس مصدر میں بھی کیا کیا گیا؟ اعلال کیا گیا، باوجود مانع موجود ہونے کے، باوجود شرط پوری نہ ہونے کے، پھر بھی کیا کیا گیا؟ اعلال، اسی طرح رمایات کے اندر بھی موافق فعل کے لیے اعلال کیا گیا، باوجود اس کے کہ وہاں شرط پوری نہیں تھی اور مانع موجود تھا، پھر بھی کیا کیا گیا؟ اعلال کیا گیا۔ وجہ سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو یہ ہے اعلال، بھئی رمایات سے کیا بنے گا؟ رمایات۔ اور ویسے بھی رمایات، بھئی دو یا اکٹھی ہیں، اگر برقرار بھی رکھیں، پھر تو ادغام ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ ادغام ہونا چاہیے، دو حرف ایک جنس کے جمع ہوں تو ان میں کیا کرتے ہیں؟ ادغام، لہذا پہلی یا کو کی حرکت میم کو دے دینی چاہیے، تو اور پھر یا کا یا میں ادغام کر دینا چاہیے تو رومیات ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ رومیات، ہاں تو دو یا ویسی عجیب سی معلوم ہوتی ہیں، کہ صیغے کے آخر میں دو یا جمع ہو رہی ہیں۔ تو ان میں کیا ہونا چاہیے، پھر تو، اگر برقرار رکھیں، پھر تو کیا ہونا چاہیے؟ ادغام ہونا چاہیے۔ تو بہرحال، باقی علماء نے رمایات دو یا ذکر کی ہیں، میں نے بتلایا کہ والد صاحب نے ابواب الصرف کے اندر کیا درج فرمایا؟ رمایات، ایک یا اور پھر یہ ایک یا کیسے ختم ہوئی؟ کہ وہ الف سے بدلی اور پھر الف اجتماع ساکنین سے گر گیا، وہ پوری تفصیل میں نے بیان کر دی، قانون اچھی طرح سمجھ میں آ گیا۔ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ میں نے بڑی کوشش کی، مجھے تو آج تک ایسا صیغہ کسی کتاب میں ملا نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یعنی یہ اتنا پتہ نہیں کہاں استعمال ہوتا بھی ہے یا کبھی استعمال بھی نہیں ہوتا، تو اس میں پریشان ہونے والی بات بھی نہیں ہے کہ ہم کون سا یاد کریں، بھئی میں نے تو ابھی تک یہ نہیں دیکھا کہ اس میں تفصیل مؤنث دو یا کے ساتھ، اس میں تفصیل مؤنث ہو کس کے ساتھ؟ دو یا کے ساتھ، رمایات، دعایات، رزیایات، میں نے کبھی آج تک ایسا کسی عربی کتاب میں مجھے نہیں ملا، بھئی۔ یا تو کسی کتاب میں قدیم عرب اشعار میں کہیں مل جاتا، تو پھر ہمیں پتہ چل جاتا کہ کیا کرنا ہے، رمایات ہونا چاہیے یا رمایات ہونا چاہیے، تو معلوم ہوا یہ نہ ہونے کے برابر ہی اس کا استعمال، گویا ابھی تک میں نے تو دیکھا ہی نہیں ہے اس کا استعمال، تو اس میں پریشان ہونے والی بات بھی نہیں ہے، آپ جو بھی یاد کر لیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بھئی۔ ہاں! کہیں آپ کو اگر دلیل مل جائے، واقعی کسی قدیم ائمہ لغت نے لکھا ہو، جو امام گزرے ہیں لغت کے، ان میں سے کسی نے لکھا ہو یہ صیغہ، اور علماء نے اس کو لکھا ہو کہ یہاں دونوں یا برقرار رکھیں گے، تو پھر تو ٹھیک ہے، پھر تو آپ کو دلیل مل گئی، یا کسی قدیم عرب شاعر کے کلام میں آپ کو اس طرح کا صیغہ مل جائے، کہ جمع مؤنث سالم ہو، اس میں تفصیل مؤنث کی اور اس میں دو یا آ رہی ہوں، تو اگر وہ مل جائے، تو پھر، پھر تو آپ کے پاس دلیل آ جائے گی، لیکن عام علماء کا کلام، وہ اس کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا، بھئی، بات سمجھ میں آ گئی، یہ آگے چل کر آپ پڑھیں گے کہ لغت کے اندر، لغت، زبان میں، زبان کے اندر قانون وغیرہ دلیل نہیں بنتے، بلکہ وہاں سماعت دلیل ہوتی ہے، عربوں سے سنا کس طرح ہے آپ نے، عرب اس کو رمایات پڑھتے ہیں یا رمایات پڑھتے ہیں، یہ سننا ہے، سننا کیسے کسی اشعار کے اندر انہوں نے لکھا ہو، یا اب ائمہ، جو جنہوں نے اس عربی زبان کے بنیادی قوانین لکھے، ان میں سے اگر کسی نے یہ دو یاء کے ساتھ یہ جمع مونث سالم اسم تفصیل اس کو ذکر کیا ہو، پھر تو دلیل ہے۔ اس کے بغیر کسی ایک کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو بہرحال میں نے بتلا دیا عام علماء نے دو یاء لکھی ہیں روم یاء تن، دو یاء تن اور والد صاحب نے ایک یاء لکھی ہے بھئی۔ وہ ایک یاء کیسے خط حذف ہوئی وہ تفصیل بھی میں نے بیان کر دی۔ تو آپ نے جیسے یاد کیا ہے اسی طرح یاد کیجیے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وہاں ایک یاء کے ساتھ آپ نے یاد کیا، اسی طرح اس کو یاد رکھیے۔ اور نیز اس لیے بھی کہ انہوں نے کیا کہا تھا کہ یہ قانون کس میں جاری ہوگا؟ اجوف میں۔ کس میں؟ اجوف میں۔ یعنی وہ واء یاء عین کی جگہ آجائیں اور یہاں پر بھی روم یاء تن، یہاں بھی اجوف والی صورت ہی بن گئی۔ کیونکہ وہ یاء درمیان میں آگئی۔ پہلی یاء درمیان میں آگئی یا نہیں؟ روم یاء تن۔ تو کس جیسی صورت بن گئی؟ اجوف جیسی صورت بن گئی تو اگرچہ یہ ہے تو ناقص لیکن گویا صورت کس جیسی بن گئی؟ اجوف۔ لہذا اجوف والا قانون یہاں جاری ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ अच्छा भई, सुनाइए भई! دعا یدعوہ سے سرفِ صغیر سنائیے۔ بھई دعادعوا دعاون دعاض دعتا دعاون دعوتا دعوتا دعوتما دعوتُم دعوتی دعوتما دعوتُنّ دعوتُ دعونا شاباش۔ اچھا भई, یہ آگے دیکھیے ماضی, معروف, ماضی مجہول اور مضارع معروف، مضارع مجہول وغیرہ یہ ساری گردانیں انہوں نے دی ہوئی ہیں اگلے صفوں کے اندر آرہی ہیں دیکھ رہے ہیں آپ بھई تو یہ ابھی سے میں سن لیتا ہوں بس آپ ان پر نظر رکھیے جی ماضی کی سنائیے ماضی معروف بھई۔ دعا دعوا دعو دعو دعا دعتا دعونا دعوتا دعوتما دعوتُم دعوتی دعوتما دعوتُنّ دعوتُ دعونا شاباش دعا دعا دعیا دعو دعو دعیا دعینا دعیت دعیتما دعیتُم دعیتی دعیتما دعیتُنّ دعیت دعینا یدعو یدعو یدعوان یدعون تدعو تدعوان یدعون تدعو تدعوان تدعون تدعین تدعوان تدعون ادعو ندعو یدعا یدعا یدعان یدعون تدعا تدعان یدعین تدعا تدعان تدعون تدعین تدعان تدعون ادعا ندعا شاباش لن یدعو لن یدعو لن یدعوا لن یدعو لن تدعو لن تدعو لن یدعون لن تدعو لن تدعو لن تدعو لن تدعی لن تدعو لن تدعون لن ادعو لن ندعو لن یدعا لن یدعا لن یدعوا لن یدعو لن تدعا لن تدعی لن تدعو لن تدعی لن تدعون لن تدعین لن تدعون لن تدعی لن تدعی لن ادعا لن ندعا شاباش لم یدعو لم یدعو لم یدعو لم تدعو لم تدعو لم یدعون لم تدعو لم تدعو لم تدعو لم تدعی لم تدعو لم تدعون لم ادعو لم ندعو شاباش لم یدعا لم یدعا لم یدعو لم تدعو لم تدعی لم تدعون لم تدعا لم تدعی لم تدعون لم تدعی لم تدعی لم تدعون لم ادعا لم ندعا شاباش نون ثقیلہ کے ساتھ بھई۔ لیدعون لیدعون لیدعون لیدعون لتدعون لتدعون لیدعون لتدعون لتدعون لتدعون لتدعون لتدعون لتدعون لتدعون لتدعون لا ادعون لا ندعون شاباش لیدعون لیدعون لیدعون لیدعون لتدعون لتدعون لیدعون لتدعون لتدعون لتدعون لتدعون لتدعون لتدعون لتدعون لا ادعون لا ندعون شاباش اچھا امر سنائیے بھई! ادعو ادعو ادعوا ادعو ادعی ادعو ادعون ہاں نون ثقیلہ کے ساتھ سنائیے۔ ادعون ادعون ادعون ادعون ادعون ادعون شاباش نہیں۔ سنائیے بھई! لا تدعو لا تدعو لا تدعو لا تدعو لا تدعو لا تدعو لا تدعون نون ثقیلہ کے ساتھ سنائیے۔ لا تدعون لا تدعون لا تدعون لا تدعون لا تدعون لا تدعون شاباش شاباش دیکھیے بھई کتاب پر در مدعا ظرف و مدعا اعلی واء کے بقاعدہ ہفتم الف شدہ بود بہ سبب اجتماع ساکنین با تنوین بیفتاد بھई مدعا ظرف ہے اصل میں کیا تھا مدعا ون کیا تھا مدعا ون واوی ہے نا پھر واء چوتھی جگہ یا چوتھی سے آگے آئے تو کس سے بدلتا ہے؟ یاء سے تو کیا بن گیا؟ مدعایون پھر یاء متحرک ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے کیا بن گیا؟ مدعان بھई تنوین کا نون بھی تو موجود ہے یاء الف سے بدل گئی اور آخر میں نون بھی مدعان پھر اجتماع ساکنین آیا الف میں اور نون تنوین میں تو الف گر گیا کیا بن گیا؟ مدعان اسی طرح مدعان میں بھی اسی طرح مدعان اصل میں کیا تھا؟ مدعا ون مدعا ون پھر واء چوتھی جگہ سے آگے آیا کس سے بدلا؟ یاء سے پھر یاء کو ماقبل فتحہ کی وجہ سے کس سے بدلا؟ الف سے پھر الف میں اور نون میں کیا آیا اجتماع ساکنین تو الف گر گیا تو کیا بن گیا؟ مدعان تو کہتے ہیں در مدعان ظرف و مدعا اعلی واء کے بقاعدہ ہفتم الف شدہ بود واء جو کہ ساتویں قانون سے الف ہو گیا تھا ساتواں قانون وہی قال اور باع والا واء اور یاء متحرک ماقبل فتحہ کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف تو اس کی وجہ سے یہ الف ہو گیا تھا بہ سبب اجتماع ساکنین با تنوین بیفتاد وہ جو الف ہے پھر اجتماع ساکنین با تنوین تنوین کے ساتھ اجتماع ساکنین کی وجہ سے بیفتاد گر گیا اور اگر دریں ہر دو صیغہ اچھا آگے یہ بیان کر رہے ہیں کہ مدعان اور مدعان اس میں الف اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر گیا الف کا اجتماع ساکنین کس کے ساتھ آیا؟ نون تنوین کے ساتھ اگر یہ تنوین نہ ہوتی تو اس الف نے نہیں گرنا تھا تو وہ کون سی صورت ہے جس میں تنوین نہ رہے؟ اس پر الف لام لے آؤ کیا لے آؤ؟ الف لام کیا بن جائے گا؟ المدعا المدعا دیکھو اب الف نہیں گر رہا اب موجود ہے کیونکہ تنوین آخر میں نہیں اور تنوین کی وجہ سے الف گرا تھا اسی طرح اس کی اضافت کر دو اضافت کی صورت میں بھی تنوین گر جاتی ہے تو لہذا مدعاکم مدعاکم دیکھا یہاں بھی کیا ہے الف موجود ہے صورت سمجھ میں آگئی تو یہی بیان کر رہے ہیں دیکھیے کہتے ہیں واگر دریں ہر دو صیغہ اور اگر ان دونوں صیغوں میں بہ سبب الف و لام یا اضافت الف لام یا اضافت کی وجہ سے تنوین نہ باشد تنوین نہ ہو تو الف حذف نہ شود الف حذف نہیں ہوگا چوں المدعا والممدعا ومدعاکم ومدعاکم ودر مدعا ان بھई مدعا ان کون سا صیغہ ہے؟ مدعا ان میم کا کسرہ کیا بتلا رہا ہے؟ کہ اس میں اعلی ہے اعلی کیا ہے؟ مدعان مدعات مدعا ان مدعا ان اصل میں کیا تھا؟ مدعا ون کیا تھا؟ مدعا ون واء کس کے بعد آیا؟ الف زائد کے بعد تو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ واء یاء الف زائد کے بعد طرف میں آئیں تو ان کو کس سے بدلتے ہیں؟ ہمزہ سے یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں ودر مدعا ان باقاعدہ ینو زدہم 19 باقاعدہ 19 واں قاعدہ بھई 19 واں قاعدہ 19 کو کیا کہتے ہیں 19 واں ینو زدہم بھई ینو زدہم 19 19 کو کہتے ہیں ینو زدہ فارسی کی گنتی آتی ہے یا نہیں بھई؟ 11 12 13 کیسے کہیں گے؟ یازدہ دوازده سیزده چہارده پندرہ شانزدہ ہفتدہ ہجده نوزدہ بیس 11 12 یازدہ دوازده 13 14 سیزده چہارده 15 16 پندرہ شانزدہ 17 18 ہفتدہ ہجده ہجده جیم بھی پڑھتے ہیں بعض ژ پڑھتے ہیں ژ ہجده ہجده صورت سمجھ میں آرہی ہے ہفتدہ اور ہجده 19 اور بیس نوزدہ اور بیس بیس اور اگر گیارہواں ہو یازدہ کا معنی ہے 11 اور گیارہواں کہیں گے یازدہم یازدہم بارہواں دوازدہم تیرواں سیزدہم چودہواں چہاردهم پندرہواں پندرہ پندرہ دہم پندرہ دہم سولہواں شانزدہ شانزدہم شانزدہم شین الف نون ہے اور زا ہے شانزدہم اور 17 ہفتدہم ہفتدہم ہفتدہم اور اٹھارہواں ہجدهم ہجدهم اور انیسواں نوزدہم نوزدہم اور بیسواں بیستم اچھا جی تو کہتے ہیں ودر مدعا ان مدعا ان میں باقاعدہ ینو زدہم واء ہمزہ شدہ 19 ویں ضابطے سے واء ہمزہ ہو گیا 19 واں ضابطہ کیا تھا؟ ابھی میں نے بیان کیا الف زائدہ کے بعد واء یاء طرف میں آجائیں تو کس سے بدلتے ہیں؟ ہمزہ سے تو واء جو ہے ہمزہ شدہ ہمزہ ہو گیا مثل دعا ان مصدر جیسے دعا ان مصدر میں ہوا تھا ہم نے بیان کیا تھا تو ودر مداعن جمع ظرف اور مداعن جو ظرف کی جمع ہے گردان پہ ذرا نظر رکھیں پھر وء ظرف منہ مدعان والجمع مداعن مداعن تو کہتے ہیں مداعن جمع ظرف و ادعاعن اور جو ادعاعن ہے جمع مذکر اسم تفصیل تعمیل قاعدہ اہ 25 ویں شدہ 25 ویں 25 ویں قاعدے کی تعمیل ہوئی ہے اس پر عمل کیا گیا ہے 25 واں قاعدہ کیا تھا کہ افاعل افاعل فواعل وغیرہ جیسے وزن میں اگر لام کی جگہ کیا آجائے؟ یا آجائے کیا آجائے؟ یا جیسے جواری جواری ذہن میں آیا بھई جواری یا آجائے تو پھر وہ یا حالت رفعی اور جری میں جائے گی۔ جوارین۔ اور ہاں اگر اس پر الف لام ہو پھر وہ یا نہیں گرے گی، الجواری، جواریکم۔ ذہن میں آیا؟ جی۔ تو الف لام اور اضافت ہو پھر تو تنوین نہیں آئے گی، جب تنوین نہیں آئے گی تو یا گرے گی بھی نہیں۔ تو کیسے کہیں گے؟ الجواری۔ حالتِ رَفْعی اور حالتِ جَرّی میں، حالتِ نصبی میں یا نہیں گرے گی بھئی، کیونکہ یا پر فتحہ خفیف ہے، ثقیل نہیں۔ تو حالتِ رَفْعی میں بھی یا گرے گی اور حالتِ جَرّی میں بھی جب الف لام اور اضافت نہ ہو، اور اگر الف لام اور اضافت ہو تو پھر یا ساکن رہے گی۔ الجواری، حالتِ رَفْعی میں بھی یا کو ساکن پڑھیں گے، حالتِ جَرّی میں بھی یا کو ساکن۔ اور اضافت میں بھی اسی طرح ہے، پھر سنو؛ ایک ہے حالتِ رَفْعی، ایک ہے حالتِ جَرّی۔ اگر جواری جیسے الفاظ یعنی جن کے آخر میں یا ہے اور ماقبل کیا ہے کسرہ، آخر میں یا ہے اور ماقبل کسرہ۔ ان میں اگر الف لام یا اضافت ہو تو حالتِ رَفْعی اور جَرّی میں یا کو ساکن پڑھیں گے۔ الجواری، حالتِ رَفْعی میں بھی یا کو ساکن، حالتِ جَرّی میں بھی یا کو ساکن۔ اور اسی طرح؛ اا اضافت کی صورت میں بھی اسی طرح ہے، جواریکم، حالتِ رَفْعی میں بھی یا کو ساکن پڑھیں گے، جواریکم، حالتِ جَرّی میں بھی یا کو ساکن پڑھیں گے، جواریکم۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ تو تھا جب اس پر الف لام ہو یا اضافت ہو۔ اگر الف لام نہیں اور اضافت نہیں تو پھر حالتِ رَفْعی اور جَرّی میں یا گر جائے گی اور تنوین ماقبل والے حرف پر آجائے گی، یعنی را پر، کس پر؟ را پر۔ تو وہاں پر حالتِ رَفْعی میں کیسے پڑھیں گے اور حالتِ جَرّی میں؟ جوارین۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جوارین پڑھیں گے۔ البتہ نصب ہر حالت میں آئے گا۔ چاہے اضافت کے ساتھ ہو، چاہے الف لام کے ساتھ ہو اور چاہے بغیر اضافت اور بغیر الف لام۔ تو وہاں کیسے پڑھیں گے؟ بغیر اضافت اور بغیر الف لام کے ہو تو پڑھیں گے جواریا، رَأَیْتُ جواریا۔ اور اگر الف لام ہو تو کیسے پڑھیں گے؟ الجواریا۔ اور اضافت ہو تو بھی نصب پڑھیں گے، جواریاکم۔ صورت سمجھ آئی کہ نہیں آئی؟ اچھی طرح؟ جی۔ تو وہ پچیسواں قاعدہ تھا۔ تو کہتے ہیں مداعن، اصل میں کیا تھا؟ مداعِوٌ۔ مداعِوٌ۔ پھر وہ کس سے بدلا؟ یا سے، کیونکہ چوتھی جگہ یا اس سے آگے آیا، تو کیا بن گیا؟ مداعیٌ۔ پھر الف لام ہے؟ مداعن۔ اصل میں کیا تھا؟ مداعِوٌ۔ مداعِوٌ۔ پھر کیا بنا؟ وہ مداعِو۔ وہ یا سے بدلا کیا بن گیا؟ مداعیٌ۔ پھر حالتِ رَفْعی میں اور جَرّی میں کیسے پڑھیں گے؟ یا گر جائے گی۔ پڑھو؛ مداعن، وہ تنوین عین پر آگئی۔ مداعن۔ اور اسی طرح اداعن۔ اور اگر اس پر الف لام ہو پھر یا کو ساکن پڑھیں گے۔ المداعی۔ الاداعی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور نصب ان پر آئے گا ہر حال کے اندر۔ تو کہتے ہیں در مداعن جمعِ ظرف و اداعن جمعِ مذکر، اس میں تفصیل۔ تعمیلِ قاعدہ بیست و پنجم، شُدَہ۔ پچیسویں قاعدے کی تعمیل ہوئی۔ در مداعیانی و مدعیانی، مداعیانی اور مدعیانی، تثنیۂ ظرف و آلہ جو اس میں آلہ اور ظرف کی تثنیہ ہیں، وادعیانی، جو تثنیہ اس میں تفصیل، جو اس میں تفصیل کی تثنیہ ہے۔ ادعا کی تثنیہ کیا؟ ادعیانی۔ تو تثنیہ اس میں تفصیل، و مداعیُو اور اسی طرح مداعیُو جمعِ آلہ، جو آلہ کی اس میں آلہ کی جمع ہے، وہ بقاعدۂ بیستم، وہ وہ بیسویں ضابطے سے، و در دُعیا اور دُعیا میں، بقاعدۂ بیست و ششم، یا شدہ۔ وہ جو ہے دُعیا کے اندر چھبیسویں ضابطے سے یا ہو گیا۔ کس میں؟ پھر دیکھو، مداعیانی اور مدعیانی۔ یہ ظرف اور آلہ کی تثنیہ۔ مداعیانی اصل میں کیا تھا؟ مداعوانی۔ اور مدعیانی اصل میں کیا تھا؟ مدعوانی۔ وہ چوتھی جگہ یا آگے آیا تو کس سے بدلا؟ یا سے۔ یہ بیسواں قاعدہ ہے۔ اسی طرح اداعیانی اصل میں کیا تھا؟ ادعوانی۔ وہ بیسویں قاعدے سے یا سے بدل گیا، چوتھی جگہ یا اس سے آگے، مداعیُو۔ مداعیُو اصل میں کیا تھا؟ جی؟ مداعیُو۔ مضاربو، مفاعیلو۔ مداعیُو۔ پھر وہ جو آخر میں تھا چوتھی جگہ یا اس سے آگے آیا، وہ کس سے بدلا؟ یا سے۔ وہ وہ یا سے بدل گیا اور پھر یا کا یا میں ادغام کیا تو کیا بن گیا؟ مداعیُو۔ یہ معنی ہے کہ دوبارہ دیکھیے، در مداعیانی و مدعیانی تثنیۂ ظرف و آلہ و اداعیانی تثنیہ اس میں تفصیل و مداعیُو جمعِ آلہ، وہ وہ بیستم، وہ بیسویں ضابطے سے و در دُعیا اور دُعیا میں جو وہ ہے، بقاعدۂ بیست و ششم، چھبیسویں ضابطے سے یا شدہ، کیا ہو گیا؟ یا۔ دُعیا میں چھبیسواں ضابطہ لگا۔ دُعیا اصل میں کیا تھا؟ دُعوا۔ دُعوا بھی ہے؟ دُعوا۔ کیا تھا؟ دُعوا۔ تو فعلی وزن میں لام کی جگہ کیا آیا؟ وہ۔ اور فعلی وزن میں لام کی جگہ وہ آئے اور اس میں جامد ہو تو وہ وہ کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ یہ تو اس میں تفصیل ہے، اس میں جامد تو نہیں ہے؟ تو جواب یہ کہ اس میں تفصیل بھی کس کے حکم میں ہے؟ اس میں جامد کے حکم میں ہے۔ آگے دیکھیے، و در دُعیانی و دُعیاتن، الف بقاعدۂ بیست و دوم یا شدہ اور دُعیانی و دُعیاتن میں الف جو ہے بائیسویں ضابطے سے یا ہو گیا۔ دُعیانی اصل میں کیا تھا؟ دُعیا۔ پھر الف اور نون ساتھ جڑ گئے۔ توجہ ہے؟ مونث اس میں تفصیل دُعیا۔ توجہ ہے؟ جی۔ پھر اس دُعیا کی جب تثنیہ بناتے ہیں، ابھی میں نے ضابطہ بیان کیا رمایات کے اندر۔ اس کے ساتھ الفِ تثنیہ یا الفِ جمعِ مونث آجائے تو اس الف کو کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے۔ تو لہٰذا دُعیانی ہوا۔ تو کہتے ہیں و در دُعیانی و دُعیاتن الف بقاعدۂ بیست و دوم یا شدہ الف جو ہے بائیسویں ضابطے سے یا ہو گیا، و ہم چنی ہر جادری ہر دو صیغہ اور اسی طرح ہے ہر جگہ پر ان دونوں صیغوں میں، یہ صیغے جس گردان میں بھی ہیں ان سب میں اسی طرح، وہ الف کس سے بدل جائے گا؟ یا سے۔ اور اسی طرح ہے ہر جگہ ان دونوں صیغوں میں۔ یعنی یہ جو الف دُعیا کے آخر میں تھا، یہ الف جب اس کے آخر میں الفِ تثنیہ آجائے یا الفِ جمعِ مونث آجائے تو یہ الف کس سے بدلتا ہے؟ یا سے بدلتا ہے۔ دُعیا سے تثنیہ کیا بنے گا؟ دُعیانی۔ اور جمع کیا بنے گی؟ دُعیاتن۔ کہتے ہیں یہ صرف ناقص کے اندر نہیں ہے بلکہ ہر جگہ پر تمام بابوں میں اسی طرح ہے، جہاں پر بھی یہ الفِ تانیث آتا ہے اور اس کے بعد الفِ تثنیہ یا الفِ جمعِ مونث آجائے تو وہ ماقبل والا الف کس سے بدل جاتا ہے؟ یا سے۔ جیسے زُربا، اس سے کیا بنا؟ زُربانی اور زُرباتن۔ نُسرا، اس سے کیا بنا؟ نُسرانی اور نُسرایاتن۔ اسی طرح، قولا، کیا بنا؟ قولانی اور قولایاتن۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ صرف آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ صرف ناقص کے اندر یہ الف یا سے بدلا ہے بلکہ ہر جگہ اسی طرح ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ سب قسموں میں، چاہے صحیح ہو، چاہے معتل ہو، چاہے مہموز ہو، چاہے مضاعف وغیرہ سب کے اندر۔ کہتے ہیں و ہم چنی ہر جادری ہر دو صیغہ اور اسی طرح ہے ہر جگہ پر ان دونوں صیغوں میں۔ آگے دیکھیے بھئی، اثباتِ فعلِ ماضی معروف؛ دعا، دعاوا، دعووا، دعا، دعاٹا، دعاون، دعاوتا، دعاوتم، دعاوتم، دعاوتی، دعاواتنا، دعاو تو، دعاونا۔ وہو در دعا، وہ وہ جو کس میں تھا؛ دعا، دعا، کے در اصل دعاوا بود، دعا، کے اصل میں کیا تھا؟ دعاوا تھا۔ بقاعدۂ ہفتم الف شُد، وہ ساتویں ضابطے سے الف ہو گیا۔ ساتواں ضابطہ کیا تھا؟ قال اور باع والا، وہ متحرک ماقبل فتحہ کس سے بدلا؟ الف سے۔ تو دعاوا سے کیا بن گیا؟ دعا۔ تو کہتے ہیں وہو در دعا کے در اصل دعاوا بود، وہ وہ جو دعا میں تھا جو کہ در اصل دعاوا تھا بقاعدۂ ہفتم الف شُد، وہ ساتویں ضابطے سے الف ہو گیا۔ فائدہ؛ ہر الفِ بدل از واو باشد بصورتِ، اچھا یہ کتابت کا ضابطہ بیان کر رہے ہیں، میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ جب واو الف سے بدلے، تو اس واو کو الف کی شکل میں لکھتے ہیں۔ دعا، دعا کیسے لکھتے ہیں؟ دال، ع، الف۔ یہ الف کہاں سے آیا؟ واو سے۔ تو واو جب الف سے بدل جائے، تو اس کو لکھتے بھی الف کی صورت میں ہیں۔ اور رما کیسے لکھتے ہیں؟ ر، م، یا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ حالانکہ یہ یا کس سے بدل گئی ہے؟ الف سے، لیکن یا الف سے بدل جائے پھر بھی اس کو کس شکل میں لکھتے ہیں؟ یا ہی کی صورت میں لکھتے ہیں۔ وہی بیان کر رہے ہیں یہ کتابت کا ضابطہ ایک فائدہ ذکر کر رہے ہیں۔ ہر الفِ بدل از واو باشد، ہر وہ الف جو واو سے بدل ہو، بصورتِ الف نوشتہ شود، اس کو الف کی صورت میں لکھا جاتا ہے۔ لہٰذا در دعا الف میں نویسند، اسی لیے دعا کے اندر الف لکھتے ہیں۔ میں نویسند لکھتے ہیں، نویسندن کا معنی لکھنا، اسی سے ہے میں نویسند۔ میں نویسند لکھتے ہیں، و بدل از یا بصورتِ یا، اور وہ الف جو یا سے بدل ہو، بصورتِ یا، اس کو یا کی صورت میں لکھتے ہیں، چونکہ رما جیسے رما۔ در دعاوا، جی پہلا صیغہ کیا تھا؟ دعا۔ وہ اصل میں کیا تھا؟ دعاوا۔ واو کو کس سے بدلا؟ الف سے۔ اب دوسرا صیغہ آیا، در دعاوا تثنیہ، دعاوا تثنیہ۔ بھئی اس میں بھی تو واو متحرک ہے، ماقبل عین پر فتحہ ہے، اس کو کیوں نہیں بدلا الف سے؟ جی؟ ادعا، دعاوا، وہ متحرک ماقبل عین پر فتحہ ہے، اس کو کس سے بدلنا چاہیے؟ الف سے۔ تو کیوں نہیں بدلا؟ جواب شرط پوری نہیں، کیونکہ اس قانون کی ایک شرط یہ تھی کہ اس واؤ یا یا جس کو آپ کس سے بدلنا چاہتے ہیں، الف سے؛ اس کے بعد الفِ تثنیہ نہ ہو، اور یہاں تو کیا ہے الفِ تثنیہ۔ تو کہتے ہیں در دعوا تثنیہ واو بسببِ اتصالِ آبہ الفِ تثنیہ سلامت ماندا؛ واو جو ہے واو بسببِ اتصالِ آبہ اس کے جڑنے کی وجہ سے، اتصال کا معنی جڑنا، ملنا، اس وجہ سے کہ جڑا ہوا ہے، ملا ہوا ہے باالف کس کے ساتھ؟ الف کے ساتھ۔ باالفِ تثنیہ، الفِ تثنیہ کے ساتھ سلامت ماندا تو یہ سلامت رہا۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دیکھیے! در دعوا تثنیہ، دعوا جو تثنیہ کا صیغہ ہے، واؤ بسببِ اتصالِ آبہ الفِ تثنیہ سلامت ماندا، واؤ جو ہے اپنے الفِ تثنیہ کے ساتھ اتصال کی وجہ سے سلامت ماندا، سلامت باقی رہا۔ ودر دعاو، اور دعاو جو ہے جمع جو جمع کا صیغہ ہے، الف بِلتقائے ساکنین افتاد، الفِ تقائے ساکنین کی وجہ سے گر گیا۔ دعاو بھئی! تیسرا صیغہ آ گیا۔ دعا، دعوا، دعاو۔ دعاو اصل میں کیا تھا؟ دعاو۔ جی میں نے بتایا تھا یہ کون سا باب ہے؟ نصر۔ نصر سے وہی صیغہ نکال لیا کرو اور پھر اس کے مطابق بنا لیا کرو۔ وہاں کیا تھا؟ نصر، نصرا، نصرو۔ اب یہاں بنا لو! دعاو، واؤ بھی ہے نا تو دعاو۔ پھر واؤ متحرک ماقبل فتحہ، اس کو کس سے بدلا؟ الف سے۔ کیا بن گیا؟ دعاو۔ الف بھی ہے، واؤ بھی ہے، دعاو، دعاو۔ پھر اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے الف گر گیا، کیا بن گیا؟ دعاو۔ تو کہتے ہیں در دعاو جمع جو ہے اس کے اندر الف بِلتقائے ساکنین افتاد، الف جو ہے التقائے ساکنین کی وجہ سے گر گیا۔ ودر دعاات، وداعتا، داعات اور داعاتا میں۔ بھئی داعات اصل میں کیا تھا؟ داعاوت۔ پھر واؤ متحرک ماقبل فتحہ، کس سے بدلا؟ الف سے۔ کیا بن گیا؟ داعات۔ پھر الفِ اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا۔ اسی طرح داعاتا اصل میں کیا تھا؟ داعاوتا۔ پھر واؤ متحرک ماقبل فتحہ، کس سے بدلا؟ الف سے۔ کیا بن گیا؟ داعاتا۔ داعاتا، پھر اس الف کو کیوں گرایا؟ جی! ابھی بتایا تھا، ابھی بتایا تھا۔ رماتا جی! کہ یہ تا جو ہے اصل میں کیا ہے؟ ساکن۔ اور یہ الف بھی اصل ہے، تو الف بھی ساکن، تا بھی ساکن، اجتماءِ تا کی اصلی حالت کا اعتبار کیا تو الفِ اجتماءِ ساکنین سے گر گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ انہوں نے تو آسان بتا دیا تھا کہ تائے تانیث چاہے متحرک ہی کیوں نہ ہو، وہ اس سے پہلے الف آئے تو وہ گر جائے گا۔ تو کہتے ہیں در دعا، داعاتا، بسَببِ اتصالِ تائے تانیث اور داعات اور داعاتا میں جو واؤ گر گیا، بسَببِ اتصالِ تائے تانیث۔ کس کی وجہ سے؟ تائے تانیث کے ملنے کی وجہ سے۔ یاد آیا انہوں نے کیا بتلایا تھا؟ بھئی! قال کہ قانون کے اندر، شرائط کے اندر آخر میں انہوں نے ذکر کیا تھا کہ اس جیسا الف جو تائے تانیث سے پہلے جب آجائے چاہے وہ تائے تانیث متحرک ہی کیوں نہ ہو، یہ الف گر جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی! تو قال کہ قانون کے آخر میں آپ دیکھ لیجیے گا۔ دیکھیے بھئی کتاب پر! ودر داعات، داعاتا بسَببِ اتصالِ تائے تانیث اور داعات اور داعاتا میں تائے تانیث کے ملنے کی وجہ سے وہ واؤ گر گیا۔ و از دعاون تا آخر جملہ صیغ بر اصل بر اصل اند، اور دعاون سے لے کر آخر تک جملہ صیغ، سارے صیغے جو ہیں بر اصل اند وہ اپنی اصل پر ہیں، ان میں کوئی اعلال نہیں ہوا۔ دعا، دعوا، دعاو، دعا، داعتا، دعاون، دعاون۔ بر وزنِ نصرنا۔ دعاون۔ دیکھا کوئی اعلال نہیں ہوا۔ پھر دعاوتا بر وزنِ نصَرتا۔ دعاوما بر وزنِ نصَرتما۔ دعاوتم بر وزنِ نصَرتم۔ دعاوتی بر وزنِ نصَرتی۔ دعاوما بر وزنِ نصَرتما۔ دعاواتنا بر وزنِ نصَرتنَّ۔ دعاوْتُ بر وزنِ نصَرتُ۔ دعاونا بر وزنِ نصَرنا۔ تو دیکھا دعاون سے لے کر آخر تک کوئی اعلال نہیں ہوا۔ آआगे دیکھیے بھئی! اثباتِ فعلِ ماضی مجہول؛ دُعی، دُعیا، دُعوو، دُعیتا، دُعینا، دُعیتا، دُعیتیما، دُعیتم، دُعیتی، دُعیتنَّ، دُعیْتُ، دُعیِنا۔ در جمیعِ صیغِ ایں بحث، اس بحث کے تمام صیغوں میں واؤ باقاعدہ یازدہم یا شد، واؤ جو ہے وہ گیارہویں ضابطے سے یا ہو گیا۔ دُعی اصل میں کیا تھا؟ دُعیو۔ واؤ طرف میں تھا اور ماقبل کسرہ آیا، تو اس واؤ کو کس سے بدل دیا؟ یا سے۔ یہ گیارہواں قانون تھا نا کہ واؤ طرف میں ہو اور ماقبل کیا ہو؟ کسرہ، تو اس کو یا سے بدلتے ہیں تو دُعی ہوا۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں در جمیعِ صیغِ ایں بحث، اس بحث کے سارے صیغوں میں واؤ باقاعدہ یازدہم یا شد، واؤ گیارہویں ضابطے سے یا ہو گیا۔ ودر دُعو، اور دُعو جو ہے، جمع مذکر غائب، جو جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ دُعی، دُعیا، دُعو، یہ جو دُعو ہے اس میں یا باقاعدہ دہم، یہ کتاب یہاں نمبر چھوٹ گیا ہے، وہ لکھ لیجیے بھئی! یا باقاعدہ دہم، یا جو ہے وہ دسویں ضابطے سے بعدِ نقلِ حرکتِش بہ ماقبل، بعد اس کی حرکت کو ماقبل کو نقل کرنے کے بعد، حذف شدہ، حذف ہو گئے۔ دُعو اصل میں کیا تھا؟ دُعیو۔ وہی، وہی! بھئی! نصرہ سے وہی صیغہ نکال لو! نصیرو، دُعیو۔ دُعیو اور پھر واؤ گیارہویں ضابطے سے کس سے بدل گیا؟ یا سے، تو کیا بن گیا؟ دُعییو، دُعییو۔ پھر عین کا کسرہ گرا دیا اور یا کا ضمہ کس کو دے دیا؟ عین کو، اور پھر ماقبل ضمہ کی وجہ سے یا کو کس سے بدلا؟ واؤ سے، تو کیا بن گیا؟ دُعو، وہ دو واؤ آ گئے ان میں سے ایک اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا تو کیا بن گیا؟ دُعو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دسوواں قانون بھی یہی! دسوواں ضابطہ کیا؟ دُعو اصل میں کیا تھا؟ دُعییو۔ پھر عین کو ساکن کیا اور یا کی حرکت نقل کرکے کس کو دے دی؟ عین کو۔ پھر ماقبل ضمہ کی وجہ سے یا کس سے بدل گئی؟ پھر سنو! دُعو اصل میں کیا تھا؟ دُعییو۔ پھر یا پر، یا کا ضمہ عین کو دیا بھئی! عین کا کسرہ گرا دیا اور یا کا ضمہ نقل کرکے کس کو دے دیا؟ عین کو۔ پھر ماقبل ضمہ کی وجہ سے یا کس سے بدل گئی؟ واؤ سے بدل گئی۔ پھر دو واؤ جمع ہوئے، دونوں ساکن ہیں، تو ایک اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا، تو دُعو رہ گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ در ودر دُعو اور دُعو جمع مذکر غائب میں یا باقاعدہ دہم، بعدِ نقلِ حرکتِش بہ ماقبل حذف شدہ، یا جو ہے بعدِ نقلِ حرکتِش بہ ماقبل اس کی حرکت ماقبل کو نقل کرنے کے بعد حذف شدہ، وہ یا کیا ہو گئی؟ حذف ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بھئی! اردو کی کتاب میں بھی دیکھ لیجیے! یہاں تک ساری بحث اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔ قسِم چہارم، ناقص و لفیف کی گردانیں۔ عبارت مل گئی بھئی! ناقصِ واوی از بابِ نصرَ یَنصُرو، الدُّعاءُ والدَّعوۃُ، بلانا۔ بلانا، مانگنا۔ دعا یدعو دعاءً ودعوۃً فھو داعٍ ودوِعی یدعو دعاءً ودعوۃً فھو مدعُوٌّ۔ الأمر منہ اُدعُ والنھی عنہ لاتدعُ، والظرف منہ مَدعًی والآلۃ منہ مِدعاً مِدعاةٌ مِدعاءٌ وتثنیتھما مِدعایان ومِدعیانی، والجمع منھما مَداعٍ ومَداعِیُّ۔ افعل التفضیل منہ أَدعَی والمؤنث منہ دُعْیا وتثنیتھما أَدعیان ودُعیانی والجمع منھما أَدعاءُ وأَدعاونَ ودوَعاً۔ بھئی! یہ کتابت کی غلطی ہے، دُعیا نہیں دُعن، دُعن، عین پر دو زبر ہونے چاہییں۔ ودوُعیّاتٌ، اور یہ دُعیّات میں نے بتا دیا بھئی! چاہے دُعیّات یاد کریں یا دُعایات یاد کریں۔ مَدعاً ظرف اور مِدعاً آلہ ہیں جو واؤ ساتویں قاعدے سے الف بن گیا تھا، وہ تنوین کے ساتھ اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا اور اگر دونوں صیغوں میں الف اور لام یا اضافت کی وجہ سے تنوین نہ ہو تو الف حذف نہیں ہوتا، جیسے: المَدعی، والمِدعی، ومَدعاکم، ومِدعاکم۔ اور مِدعاءٌ میں دعاّء مصدر کی طرح انیسویں قاعدہ سے واؤ ہمزہ ہو گیا ہے، اور مَداعِن جمعِ ظرف میں اور اداعِن جمعِ مذکر اسمِ تفصیل میں پچیسویں قاعدہ کا عمل ہوا ہے۔ مِدعیانی ومِدعیانی، تثنیہ ظرف و آلہ میں اور أَدعیانی تثنیہ اسمِ تفصیل میں، اور مَداعِیُّ جمعِ آلہ میں، واؤ بیسویں قاعدہ سے اور دُعیامیں چھبیسویں قاعدہ سے یا ہوا ہے۔ اور دُعیانی ودوُعیّات میں الف بائیسویں قاعدہ سے یا ہو گیا ہے، اور ان دونوں صیغوں میں ہر جگہ یہی ہوتا ہے (یعنی تمام گردانوں میں)۔ اثباتِ فعلِ ماضی معروف؛ دعا، دعوا، دعاو، دعا، داعتا، دعاون، دعاوتا، دعاوتم، دعاوتی، دعاوتم، دعاواتنا، دعاوْتُ، دعاونا۔ دعا اصل میں دعاوَ تھا، ساتویں قاعدے سے واؤ الف سے بدل گیا۔ فائدہ: ہر وہ الف جو واؤ سے بدلا ہوا ہو، الف کی صورت میں لکھا جاتا ہے، جیسے دعا، اور یا سے بدلا ہوا الف یا کی صورت میں، جیسے رمَا۔ دعَوا تثنیہ میں واؤ الفِ تثنیہ کے قبل ہونے کی وجہ سے سالم رہ گیا، اور دعاو جمع میں الفِ التقائے ساکنین کی وجہ سے گرا ہے، اور دعا، داعتا میں تائے تانیث کے اتصال کی وجہ سے، دعاون سے آخر تک تمام صیغے اپنی اصل پر ہیں۔ اثباتِ فعلِ ماضی مجہول؛ دُعی، دُعیا، دُعو، دُعیتا، دُعیتا، دُعینَ، دُعیتا، دُعیتیما، دُعیتُم، دُعیتی، دُعیتیما، دُعیتنَّ، دُعیْتُ، دُعیِنا۔ اس بحث کے تمام صیغوں میں واؤ گیارہویں قاعدے سے یا ہو گیا، اور دُعو جمع مذکر غائب میں دسویں قاعدے سے یا کی حرکت ماقبل کو دینے کے بعد اسے حذف کر دیا گیا۔ بحث اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی! ھذا ھو المرام، واللہُ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
55 approved lectures · 33 of 55