آگے دیکھیے بھئی سبق۔ قاعدہ اگر فائے افتعال دال یا ذال یا زا باشَد، تائے افتعال بدال بدل شود و دراں دال فائے کلمہ وجوباً مدغم شود۔ چون اِدَّعٰی، و ذال سے حالت دارد، گاہے بدال بدل شدہ در دال مدغم شود، چون اِدَّکَرَا و گاہے دال را ذال کردہ فائے کلمہ را دراں ادغام کنن، چون اِدَّکَرَ و گاہے بے ادغام دارن، چون اِدَّکَرَ۔
اچھا بھئی گزشتہ سبق میں ثلاثی مزید فی مطلق کے ابواب ہم نے پڑھنا شروع کیے تھے۔ مصنف رحمتہ اللہ نے آپ کو بتلایا کہ ثلاثی مزید فی مطلق جو ہے وہ دو قسم پر ہے باہمزہ وصل اور بے ہمزہ وصل بھئی۔ باہمزہ وصل جن کے شروع میں ہمزہ وصل ہے اور بے ہمزہ وصل جن کے شروع میں ہمزہ وصل نہیں ہے اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ باہمزہ وصل کے سات باب ہیں اور بے ہمزہ وصل کے پانچ ہیں کیونکہ آپ نے پڑھا ثلاثی مزید فی کے بارہ ابواب آپ نے پڑھے تھے ابواب الصرف کے اندر بھئی اور میں نے بتلایا تھا کہ آسانی سے آپ باہمزہ وصل کا پتہ چلا سکتے ہیں کہ ان بارہ ابواب میں سے صرف باب افتعال جو ہے اس کا ہمزہ قطعی ہے وہ درمیان عبارت میں نہیں گرتا جبکہ باقی جتنے باب ہیں ان کے شروع میں جو بھی ہمزہ آئے وہ ہمزہ وصل ہے بھئی۔ اور ہمزہ وصل درمیان عبارت میں گر جاتا ہے بھئی درمیان عبارت میں۔
تو ہم نے وہ باہمزہ وصل کے سات باب پڑھنا شروع کیے تھے بھئی۔ سب سے پہلے انہوں نے باب افتعال کو ذکر کیا باب افتعال کو اور بتلایا تھا کہ اس باب کی علامت جو ہے وہ تائے زائدہ ہے بھئی۔ فائے کے بعد کیا آئے گی تائے زائدہ جیسے اِجْتِنَاب برورزن افتعال فائے کے بعد تا آگئی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے اس کی گردان ذکر کی تھی اور بتلایا تھا ماضی مجہول کیسے بناتے ہیں ان باقی بابوں سے تو انہوں نے بتلایا تھا کہ چاہے ثلاثی مزید فی ہو چاہے رباعی مجرد ہو چاہے رباعی مزید فی ہو اس میں اگر آپ ماضی معروف سے ماضی مجہول بنانا چاہتے ہیں تو آخر سے ماقبل کو کسرہ دے دو اور باقی جتنے حروف متحرک ہیں ماقبل میں ان سب پر ضمہ پڑھ دو جیسے اِجْتَنَبَا۔ آخر میں کیا؟ باء۔ باء سے ماقبل کیا نون ہے تو نون کو کسرہ دے دو آخر سے ماقبل کو کسرہ اور باقی اِجْتَنَبَا نون سے ماقبل متحرک کون کون ہے؟ ہمزہ ہے اور جی، جی تو ساکن ہے تا ہے، ہمزہ اور تا متحرک ہیں ان دونوں کو ضمہ دے دو اور ساکن کو اپنے حال پہ چھوڑ دو کیا بن گیا؟ اُجْتُنِبَا یا اسی طرح اِستَفْعَلَ اِستَفْعَلَ جیسے اِستَخْرَجَ۔ آخر میں کیا؟ جیم۔ جیم سے ماقبل کیا؟ را۔ را کو کسرہ دے دو اور اس سے ماقبل جتنے متحرک ہیں ان سب کو ضمہ دے دو تو ماقبل میں کون کون متحرک؟ ہمزہ بھی ہے اور تا بھی ہے جبکہ سین اور خا کیا ہیں؟ ساکن، ان کو اپنے حال پہ چھوڑ دو، جو متحرک ہیں ان کو ضمہ دے دو تو کیا بن گیا؟ اُستُخْرِجَ۔ تو یہی طریقہ ہے ماضی مجہول بنانے کا تمام بابوں میں۔
اور نیز انہوں نے ایک ضابطہ بھی بتلایا تھا کہ جتنے بھی ہمزہ وصل والے باب ہیں ان کے شروع میں جب ما یا لا آئے گا ماضی میں نفی کے لیے کیا لاتے ہیں ما اور لا تو یہ ما اور لا اس کا الف بھی گر جائے گا کیونکہ ایک تو ہمزہ وصل تھا اصل میں کیا تھا مثلاً اِجْتَنَبَا۔ اس کے شروع میں کیا لے آؤ؟ ما۔ ما اِجْتَنَبَا اب اِجْتَنَبَا کا ہمزہ تو وصلی ہے وہ تو گر جائے گا اب آگے جیم بھی ساکن اور جیم سے قبل ما کا الف بھی ساکن تو اجتماع ساکنین علی غیر حدہ آیا اور اجتماع ساکنین علی غیر حدہ میں اگر اول مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں اور اگر مدہ نہ ہو تو پھر اس کو کسرہ والی حرکت دے دیتے ہیں تو مَجْتَنَبَا۔ اسی طرح لَجْتَنَبَا۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟
نیز انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ ان ابواب سے اسم فاعل کیسے بنائیں گے؟ انہوں نے بتلایا تھا کہ ان ابواب سے اسم فاعل مضارع کے وزن پر آتا ہے، ہاں مضارع کے وزن پر لے آؤ اور علامت مضارع کو ہٹا کر اس کی جگہ میم مضموم لے آؤ اور آخر سے ماقبل اگر کسرہ نہیں ہے تو کسرہ لے آؤ۔ يَجْتَنِبُ یہ مضارع ہے اس سے کیا بنانا چاہتا ہوں میں؟ اسم فاعل تو یا کو ہٹاؤ اور اس کی جگہ میم مضموم لے آؤ۔ مُجْتَنِبٌ آخر میں تنوین آجائے گی۔ مُجْتَنِبٌ اور آخر سے ماقبل پر کسرہ لائیں گے لیکن یہاں تو پہلے ہی نون پر کسرہ موجود ہے تو اگر کسرہ نہ ہوتا تو پھر ہم کسرہ لے کر آتے تو یہ ہے اسم فاعل کا طریقہ کہ آخر سے ماقبل پر کیا لے آؤ؟ مضارع، مضارع کے آخر سے ماقبل پر کسرہ لے آؤ اور شروع میں علامت مضارع کو گرا کر اس کی جگہ میم مضموم لے آؤ۔
اور جبکہ جبکہ اسم مفعول جو ہے اس میں آخر سے ماقبل پر کسرہ کے بجائے فتحہ آئے گا بھئی۔ کیا آئے گا؟ آخر سے ماقبل پر فتحہ تو وہ کیا آئے گا مُجْتَنَبٌ اور نیز اسم ظرف بھی اسی اسم مفعول کے وزن پر آتا ہے ثلاثی مزید فی میں بھی، رباعی مجرد میں بھی اور رباعی مزید فی میں بھی، اسم ظرف کا اور اسم مفعول کا وزن ایک ہی ہوتا ہے بلکہ اسی وزن پر مصدر بھی ان کے آتے ہیں اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ مصدرِ مصدرِ میمی کہتے ہیں کیونکہ شروع میں کیا ہے میم۔ معلوم ہوا مُجْتَنَبٌ یہ اسم مفعول بھی ہے مُجْتَنَبٌ یہ اسم ظرف بھی ہے اور مُجْتَنَبٌ یہ یہ مصدر بھی ہے بھئی مصدر بھی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مصدرِ میمی تو جتنے ابواب ہیں ان میں جو اسم مفعول کا وزن وہی اسم ظرف کا بھی وزن اور نیز اسی وزن پر بعض اوقات ان کے مصدر بھی آتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ مصدرِ میمی کہتے ہیں بھئی۔
پھر اس کے بعد یہ بتلایا تھا کہ ان ابواب سے اسم آلہ اور اسم تفضیل نہیں آتے۔ اسم آلہ کا اگر معنی ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس باب کا مصدر لے لیں اس باب کا مصدر لے لیں اور اس کے شروع میں ما بہی لگا دیں جیسے اِلْاجْتِنَاب اس کے شروع میں کیا لگا دو؟ ما بہی۔ مَابِہِ الْاجْتِنَابُ ما وہ چیز، بہی کہ اس کے ذریعے سے اِجْتِنَابُ کیا کیا جائے؟ پرہیز کیا جائے تو مَابِہِ الْاجْتِنَابُ مَابِہِ الْاِکْرَامُ وہ چیز جس کے ذریعے کیا کیا جائے؟ اِکْرام کیا جائے۔ اور مَابِہِ التَّکْرِیمُ وہ وہ چیز جس کے ذریعے کیا کی جائے؟ تکریم، ویسے مثال بنا رہا ہوں تو دیکھ لیں جو جو استعمال ہوتا ہے اس کے مطابق آپ بنا لیں بھئی۔ تو یہ تھا اس میں آلہ بنانے کا طریقہ کہ مصدر کے شروع میں کیا لے آؤ؟ ما بہی اور اگر آپ اس میں تفضیل کا معنی ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس میں تفضیل تو نہیں آتا لیکن اگر تفضیل والا معنی ادا کرنا چاہتے ہیں تو مصدر منسوب پر اشدُ جیسے لفظ کو بڑھا دیں گے جیسے اِجْتِنَاب اس کو منسوب کر دو اِجْتِنَاباً اور اس پر اشدُ جیسا لفظ بڑھا دو۔ اَشَدُّ اِجْتِنَاباً زیدٌ اَشَدُّ اِجْتِنَاباً مِنْ عَمْرٍو زید بہت زیادہ پرہیز کرنے والا ہے عمر کے مقابلے میں تو اشدُ، اکثرُ، اقوی یہ اس جیسے لفظ بڑھا دیں گے موقع کے مطابق بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی اور نیز آپ نے پڑھا تھا ثلاثی مجرد میں جو لون اور عیب والے باب ہیں ان سے بھی اسم تفضیل نہیں آتا کیونکہ جو لون اور عیب ہے ان سے ایک افعل آتا ہے لیکن وہ افعل کیا ہے؟ افعل صفت ہی ہے وہ صفت مشبہ تو احمر بروازن ازرب لیکن ازرب ہے اسم تفضیل اور احمر کیا ہے؟ لون ہے، رنگ ہے تو یہ کیا ہے؟ صفت مشبہ۔ اس کا معنی زیادہ سرخ نہیں کیونکہ اس میں تفضیل نہیں ہے بلکہ اس کا کیا معنی؟ سرخ ابیض کا کیا معنی؟ سفید، زیادہ سفید نہیں تو یہ جو لون اور عیب ہوتے ہیں، صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ یا جیسے اعما، اعما کا کیا مطلب؟ اندھا کیونکہ اندھا ہونا کیا ہے؟ عیب۔ اعرج، اعرج کا کیا معنی؟ لنگڑا یہ عیب ہے تو یہ اس میں تفضیل نہیں ہے تو آپ نے ہمیشہ خیال رکھنا ہے طلبا عموماً خیال نہیں رکھتے وہ سمجھتے ہیں جو بھی افعل وزن آئے وہ اس میں تفضیل ہے حالانکہ اس میں تفضیل نہیں وہ لون اور عیب ہو تو پھر ہمیشہ کیا ہوگا؟ صفتِ مشبہ ہوگا۔
لون اور عیب سے اسم تفضیل نہیں آتا صفتِ مشبہ آتی ہے۔ ان سے بھی اگر آپ تفضیل والا معنی ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بھی یہی طریقہ ہے کہ شروع میں کیا لے آؤ؟ اشدُ اور اکثرُ وغیرہ جیسے الفاظ لے آؤ بھئی۔
اب آگے دیکھیے بھئی آج کا سبق۔ قاعدہ اگر فائے افتعال دال یا ذال یا زا باشَد، تائے افتعال بدال بدل شود و دراں دال فائے کلمہ وجوباً مدغم شود۔ اب باب افتعال کے کچھ قوانین بیان کرنے لگے ہیں۔ باب افتعال بابِ اِجْتِنَاب جو پہلا باب انہوں نے ذکر کیا باب افتعال اسی کے کچھ قوانین ذکر کرنے لگے ہیں۔ پہلا قانون فائے کلمے سے متعلق ہے۔
اِفْتَعَلَ اِجْتِنَاب، جی اس میں فا کیا ہے؟ جیم ہے اور عین کیا ہے؟ اِفْتَعَلَ اِجْتِنَاب، جی پھر بولو فا کیا ہے؟ جیم، عین کیا ہے؟ نون ہے اور لام کیا ہے؟ با ہے۔ تو لہٰذا اب فائے کلمے سے متعلق کچھ قوانین ذکر کرنے لگے ہیں۔ پہلا قانون بھئی پہلے اس کو سمجھ لیں بھئی، ادھر دیکھیے۔ کہتے ہیں اگر بابِ افتعال میں فائے کی جگہ دال یا ذال یا زا آجائے۔ کیا کیا؟ دال، ذال یا زا کس جگہ پر آئیں؟ فائے کی جگہ پر تو آگے فائے کے بعد کیا ہے؟ تا، تا جو اس باب کی علامت ہے تو اس تا کو ہمیشہ دال سے بدل دیں گے۔ ضابطہ سمجھ میں آیا؟ کیا؟ کہ اگر فائے کی جگہ کیا آئے؟ دال، ذال یا زا آجائے تو آگے جو تا آرہی ہے باب افتعال کی جو علامت ہے اس کو لازمی کس سے بدلیں گے؟ دال سے، دال سے بدلیں گے۔ پھر ان میں الگ الگ تفصیل ہے۔ اگر فائے کی جگہ دال تھا اور آگے تا کو کس سے بدل دیا؟ دال سے تو فائے کی جگہ بھی دال اور تا کی جگہ بھی کیا آگیا؟ دال تو دو حرف ایک جنس کے جمع ہوگئے تو اب دال کا دال میں وجوباً ادغام کریں گے۔ لازم ہے یہ ادغام کرنا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
جیسے مثلاً دعویٰ سے ہے دعویٰ سے اِدَّعٰی دعویٰ سے کیا بنایا باب؟ اِدَّعٰی دعویٰ کرنا۔ اچھا اِدَّعٰی یاد رکھو پہلے تو اس کی تحقیق سن لو۔ اِدَّعٰی اصل میں تھا اِدْتَعَاوَ اِدْتَعَاوَ الف دال تا عین واؤ تو یہ آخر میں واؤ تھا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ دعویٰ ہے نا دعویٰ میں کیا آ رہا ہے؟ واؤ آ رہا ہے۔ تو اِدْتَعَاوَ تھا۔ پھر آپ نے ابواب الصرف میں قانون پڑھا ہے کہ جب واؤ چوتھی جگہ پر آئے یا چوتھی جگہ سے آگے آئے اور ماقبل حرکت اس کے مخالف ہو، مخالف سے کیا مراد ہے؟ یعنی ضمہ نہ ہو فتحہ ہو یا جو بھی ہو لیکن ضمہ نہ ہو تو وہ مخالف ہے تو پھر اس واؤ کو کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے بدلتے ہیں تو لہٰذا اس واؤ کو کس سے بدلا؟ یا سے تو اِدْتَعَاوَ کیا بن گیا؟ اِدْتَعَایَا اِدْتَعَایَا صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ اِدْتَعَایَا۔ اچھا پھر یا متحرک ماقبل فتحہ، یا پر بھی فتحہ اور اس سے ماقبل عین پر بھی فتحہ تو یا ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے تو کیا بن گیا؟ اِدْتَعَا دال اور تا کو ابھی الگ رکھو ابھی ہم یہاں نہیں پہنچے۔ اِدْتَعَا اِدْتَعَا۔ جی اب باب افتعال کے فائے کلمے کی جگہ کیا آ رہا ہے؟ دال تو اس تا آگے والی تا کو بھی کیا کرو؟ دال اور دال کا دال میں ادغام کر دو تو کیا بن گیا؟ اِدَّعٰی۔ اِدَّعٰی کا معنی ہے دعویٰ کرنا، دعویٰ کرنا، مقدمہ کرنا۔ معنی سمجھ میں آگیا؟
یہ کون سی صورت تھی؟ جب فائے کی جگہ دال آئے۔ پہلے پھر شروع سے قانون دہراؤ۔ باب افتعال میں تا کو دال سے بدلتے ہیں کب؟ جب فائے کی جگہ دال آئے یا ذال آئے یا زا۔ دال والی صورت ہم نے پڑھ لی۔ دال والی صورت ہم نے پڑھ لی۔ ذال اگر باب افتعال کے فائے کی جگہ ذال آئے تو تا کو تو دال سے بدلنا واجب آپ پڑھ چکے۔ جیسے اِذْتَکَرَا ہمزہ ذال پھر تا پھر کاف پھر را۔ ذکر سے ہے نا یاد کرنا۔ اِذْتَکَرَ، جی تو فائے کی جگہ کیا آیا؟ ذال اور فائے کی جگہ ذال آئے تو بھی تا کو کس سے بدلتے ہیں؟ دال سے دال سے بدل دیا۔ دال سے بدل دیا تو کیا بن گیا؟ اِذْدَکَرَ۔ دال کا تو بدلنا واجب ہے۔ تا کو کس سے بدلا؟ دال سے یہ تو واجب ہے بدل دیا آپ نے۔ آگے اب تین صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ اس دال کو ذال کرکے ذال میں ادغام کر دو پہلے تا کو کس سے بدلا؟ دال سے۔ اب کیا بنا؟ اِذْدَکَرَ تو اس دال کو بھی کیا کرو؟ ذال کرکے ذال میں ادغام کرو کیا بن گیا؟ اِذَّکَرَ یا ذال کو دال کرکے دال میں ادغام کر دو اِدَّکَرَ یا اس کو اپنے حال پر چھوڑ دو اِذْدَکَرَ۔ تینوں صورتیں جائز۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو اگر فائے کی جگہ کیا آئے؟ دال یا ذال اگر فائے کی جگہ باب افتعال میں ذال آئے، پھر آگے تا کو دال سے بدلنا واجب اور پھر آگے کتنی صورتیں؟ تین صورتیں یا تو دال کو ذال کرکے ذال میں ادغام کر دیں یا ذال کو دال کرکے دال میں ادغام کر دیں یا دونوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ اِذْدَکَرَ بھی صحیح، اِدَّکَرَ بھی صحیح اور اِذَّکَرَ بھی صحیح تینوں طرح جائز ہے۔
اور اگر باب افتعال میں فائے کی جگہ زا آجائے تو پھر اس صورت میں تا کو پہلی تو وہی قانون لگے گا، تا کو دال سے بدلنا واجب۔ مثلاً اِزْتَجَرَا اِدَّکَرَ کا معنی تھا یاد کرنا اور اِزْتَجَرَا اِزْتَجَرَا اس کا معنی تھا ڈانٹنا، ڈانٹنا۔ تو کیا تھا؟ اِزْتَجَرَا افْتَعَلَ تو تا کو دال سے بدلنا واجب کیا بن گیا؟ اِزْدَجَرَا اب اس میں چاہیں تو آپ اسی طرح رکھیں ادغام نہ کریں، اِزْدَجَرَا پڑھیں اور چاہیں تو دال کو بھی زا کرکے زا میں کیا کر دیں؟ ادغام، اِزَّجَرَا۔ ہاں زا کو دال کرکے دال میں ادغام یہاں درست نہیں ہے بھئی۔ پہلے کیا آیا تھا؟ ذال میں تو تینوں صورتیں تھیں چاہے دال کو ذال کرو یا ذال کو دال کرو یا ان کا ادغام ہی نہ کرو۔ لیکن زا کے اندر تا کو کس سے بدلا؟ دال سے کیا بن گیا؟ اِزْدَجَرَا چاہیں تو اسی طرح رکھیں چاہیں تو اس دال کو بھی زا کرکے زا میں کیا کر دیں؟ ادغام کیا بن جائے گا؟ اِزَّجَرَا۔ لیکن اس کا برعکس نہیں کر سکتے کہ زا کو دال کرکے دال میں کیا کر دیں؟ ادغام اور اِدَّجَرَا پڑھیں نہیں نہیں یوں نہیں کر سکتے۔ تو زا میں دو صورتیں ہوگئیں۔
بغیر ادغام کے بھی، اور زاکر کے زا میں، ادغام اس زجرہ بھی سہی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ دیکھیے بھئی قاعدہ قانون! اگر ف افتعال، د یا ذ یا ز باشد، اگر افتعال کی فا جو ہے، وہ د یا ذ یا ز ہو، تاء افتعال بدال بدال شود، تو افتعال کی تا جو ہے وہ د سے بدل جائے گی، و در آن دال فا کلمہ وجوبا مدغم شود۔ اور اس دال میں اس دال میں فا کلمہ جو ہے، فا بھی کیا ہے؟ دال ہے نا۔ تو اس دال میں فا کلمہ وجوبا مدغم شود۔ وجوبا مدغم ہو جائے گا، چون ادعا جیسے ادعا۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ و در آن دال، اور اس دال میں، کون سی دال؟ جو تا کی جگہ ائی ہے جی ادعا ادعا تا تھا فاء کی جگہ تو دال ہے ہی۔ آگے جو تا ہے اس کو بھی کس سے بدل دیا؟ دال سے۔ تو اس دال میں ماقبل والی جو فاء ہے، اس کا ادغام لازم ہے کیونکہ دو حرف کیا ہیں؟ ایک جنس کے جمع ہوگئے۔ لہذا یہاں بغیر ادغام کے نہیں پڑھیں گے بلکہ ادغام لازم ہے۔ یہ معنی ہے و در آن دال اور اس دال میں فاء کلمہ وجوبا مدغم شود، فاء کلمہ وجوبا مدغم ہو گا، چون ادعا جیسے ادعا اس کا معنی دعوی کرنا۔
و زاء سے حالت دارد اور زاء تین حالتیں رکھتا ہے، زاء کی تین حالتیں ہیں، کون کون سی؟ یا زاء کو بھی دال کر دو، یا دال کو زاء کر دو، یا دونوں کو اپنی حالت پر رکھو۔ تو کہتے ہیں و زاء سے حالت دارد اور زاء تین حالتیں رکھتا ہے، گاہے بدال بدلا شدہ گاہے کبھی کبھار کبھی تو وہ دال سے بدل کر گاہے بدال بدلا شدہ کبھی دال سے بدل کر در دال مدغم شود دال میں مدغم ہو جائے گا چون ادکرا جیسے ادکرا۔ و گاہے دال را زاء کردہ اور کبھی کبھار دال کو زاء کر کے فاء کلمہ را در آن ادغام کنند، فاء کلمہ کا اس میں ادغام کریں گے چون اذکرا۔ و گاہے بے ادغام دارند اور کبھی بغیر ادغام کے رکھیں گے چون ادکرا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معنی ایک ہی ہے، ایک ہی بات ہے یہ، ایک ہی صیغے دیکھیں مختلف صورتیں ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی ایک ہی فعل کی مختلف صورتیں ہیں، تو معنی ہے یاد کرنا۔
و زاء دو حالت دارد اور زاء دو حالتیں رکھتی ہے (یعنی زاء کی دو حالتیں ہیں)، گاہے بے ادغام دارند، کبھی اس کو بغیر ادغام کے رکھتے ہیں چون ازدجر۔ اس ازدجر کا معنی ڈانٹنا۔ و گاہے دال را زاء کردہ اور کبھی کبھار دال کو زاء کر کے، زاء فاء کلمہ را در آن ادغام کنند، فاء کلمہ کی زاء کا اس میں ادغام کرتے ہیں۔ چون ازجرہ جیسے ازجرہ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ یہ پہلا قانون تھا فاء کلمہ سے متعلق۔ پھر دہراؤ فاء کلمہ سے متعلق قانون کیا کہ باب افتعال کے فاء کلمہ کی جگہ اگر دال، زاء یا زاء آجائے تو تا کو دال سے بدلنا لازم ہے اور پھر اس کے بعد دال میں ادغام کریں گے، زاء میں تین صورتیں ہیں اور زاء میں دو صورتیں ہیں بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی قاعدہ قانون! اگر ف افتعال ص ص و ض و ط و ض باشد، تا افتعال بطا بدل شود، اگر باب افتعال کی فاء جو ہے وہ ص یا ض اور ط اور ض ہو، تو تا افتعال بطا بدل شود تو افتعال کی تا جو ہے وہ کس سے بدل جائے گی؟ ط کے ساتھ ط کے ساتھ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ افتعلا یہ تا کس سے بدلے گی؟ ط سے۔ کب؟ جب اس سے ماقبل فاء میں کیا آجائے؟ ص آجائے یا ض آجائے یا ط آجائے یا ض اور یہ بدلنا واجب ہے بھئی واجب ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جب فاء کی جگہ کیا آئے ص، ض، ط، ض تو آگے آنے والی تا کو کس سے بدلو؟ ط سے بدل دو۔ اب اس کے بعد کیا کرنا ہے وہ تینوں کے چاروں کی الگ صورتیں ہیں وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو تا افتعال بطا بدل شود، تو افتعال کی تا جو ہے وہ ط میں بدل جائے گی پس ط مدغم شود وجوبا، پس ط تو مدغم ہوگی وجوبا اگر فاء کی جگہ کیا تھی ط اور تا کو تا بھی کس سے بدل گئی ط سے تو دو حرف ایک جنس کے آگئے تو دونوں ط کا کیا کریں گے آپس میں ادغام اور یہ لازم ہے کیونکہ بغیر ادغام کے آپ نہیں پڑھ سکتے۔ پس ط مدغم شود وجوبا، پس ط جو ہے مدغم ہو جائے گی وجوبا چون اطلبا جیسے اطلبا۔ اصل میں کیا تھا؟ ات طلبا دونوں طاؤں والی تا تھی آگے تو فاء کی جگہ کیا آئی ط تو آگے تا کو بھی کس سے بدلا؟ ط سے اور ط کا ط میں ادغام کر دیا۔ اطلبا کا معنی طلب کرنا۔
و ض گاہے ط شدہ مدغم شود اب دوسری ض کی بات آگئی۔ اگر فاء کی جگہ کیا آئی ض تو تا کو کس سے بدلا؟ ط سے۔ اب چاہیں تو ان کو اسی طرح رکھیں، ض کو ض رکھیں، ط کو ط الگ رکھیں اور چاہیں تو ض کو ط کر کے ط میں ادغام کر دیں یا ط کو ض کر کے ض میں ادغام کر دیں، لہٰذا اضطلمہ ہمزہ ہے، پھر ض ہے، پھر تا کس سے بدل گئی ط سے ط سے اضطلمہ۔ اب اس میں اسی طرح پڑھنا بھی جائز ہے اضطلمہ اور چاہیں تو ض کو ط کر کے ط میں ادغام کر دیں کیا بن گیا؟ اطلما اور چاہیں تو ط کو ض کر کے ض میں ادغام کر دیں اظلما، تینوں صورتیں جائز ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو اضطلمہ اس کا معنی ہوتا ہے ظلم برداشت کرنا بھئی۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں و ض گاہے ط شدہ مدغم شود اور ض جو ہے کبھی تو ط ہو کر مدغم ہو جائے گی چون اطلما و گاہے بے ادغام ماند اور کبھی بغیر ادغام کے باقی رہے گی چون اضطلمہ و گاہے ط را ض کردہ ادغام کنند اور کبھی ط کو ض کر کے ادغام کرتے ہیں چون اظلما جیسے اظلما۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا اس میں بھی ض جیسی تینوں صورتیں ہیں جیسے وہاں دال کو زاء کرنا اور زاء کو دال کرنا اور بغیر ادغام کے بھی جائز تھا تو یہاں پر بھی ط کو زاء کرنا اور زاء کو ط کرنا اور بغیر ادغام کے بھی جائز، کب؟ جب باب افتعال کے فاء کی جگہ ض آجائے۔
و ص و ض بے ادغام میں ماند اور ص اور ض بغیر ادغام کے باقی رہیں گے چون اصطبر واضطربہ۔ اصل میں کیا تھا؟ اصطبر ط کی جگہ تا تھی نا باب افتعال والی اور اسی طرح اضطربہ میں ط کی جگہ کیا تھی تا اور انہوں نے آپ کو قانون بتلا دیا تھا کہ فاء کی جگہ ص ض آجائیں یا ط ض آجائیں تو اس تا کو کس سے بدلنا واجب ہے ط سے تو ط سے بدل دیا تو اصطبر اور اضطربہ ہوا۔ اصطبر کا معنی صبر کرنا اور اضطربہ کا معنی بے چین ہونا۔ تو چاہیں تو آپ اسی طرح رکھیں ان کو یعنی بغیر ادغام کے، بغیر اور چاہیں تو ط کو ماقبل والے حرف سے بدل کے سے بدل کر ادغام کر دیں اس کی جنس سے بدل کر ادغام کر دیں، مثلاً اصطبر کیا کریں؟ ط کو ص کرکے ص میں کیا کر دیں؟ ادغام کیا بن گیا؟ اصطبر اور اسی طرح اضطربہ میں ط کو کیا کریں؟ ض کر کے ض میں ادغام کر سکتے ہیں ازضربہ، صورت سمجھ میں آگئی۔ تو اس قانون یہ جو دو قانون ذکر ہوئے۔ اچھا پہلے ترجمہ دیکھ لیں۔ تو کہتے ہیں و ص و ض بے ادغام میں ماند اور ص اور ض بغیر ادغام کے باقی رہیں گے چون اصطبر و اضطربہ اس جیسے اصطبر صبر کرنا و اضطربہ بے چین ہونا، و گاہے ط را ص یا ض کردہ ادغام می کنند اور کبھی ط کو ص یا ض کر کے اس میں ادغام کر دیں گے چون اصطبر و اضطربہ۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ تو دو قانون ذکر ہوئے۔
دو قانون اور ان دو قانونوں کے دو حصے ہیں، پہلا حصہ وجوبی، دوسرا جواز، توجہ ہے؟ جی۔ وجوبی کیا؟ واجب ہے وہ کیا؟ کہ اگر فاء کی جگہ کیا آئے؟ دال یا زاء یا زاء تو تا کو دال سے بدلنا واجب ہے اس کے بعد مزید تبدیلیاں اس میں جائز ہیں کچھ صورتیں، جی جی وہ مختلف صورتیں آپ کو بتلا دیں۔ دال ہو تو پھر ادغام کرنا واجب اور اگر زاء ہو تو اس میں تین صورتیں جائز، زاء ہو تو اس میں دو صورتیں جائز۔ اور اگر فاء کلمہ کیا ہو؟ ص ض یا ط ض تو پھر تا کو ط سے بدلنا واجب اور باقی حصے اگر ماقبل میں ط ہے تو ادغام واجب اور اگر ماقبل میں زاء ہے تو تین صورتیں جائز جو بھی آپ پڑھنا چاہیں پڑھ سکتے ہیں اصطلمہ، اظلما، اطلما، تینوں جائز، اور ص ض ہوں تو پھر دو صورتیں جائز ہیں کیا ط کو علیحدہ رکھو یا ط کو بھی اسی کی جنس سے بدل کر اس میں کیا کر دو؟ ادغام اصطبر یا اصطبر، اضطربہ یا ازضربہ۔ قانون سمجھ بھی آ رہے ہیں کہ نہیں بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی قاعدہ قانون! اگر ف افتعال سا باشد بھئی اگر افتعال کی فاء سا ہو رواست کہ تا سا شاد کہ تا بھی کیا ہو جائے؟ سا ہو جائے پس ادغام یابد، پس ادغام پالے تا بھی کیا ہو جائے؟ سا ہو کر سا کا سا میں ادغام ہو جائے چون اثارہ، اثارہ کا معنی غبار کا اڑنا بھئی گرد و غبار کا اڑنا۔ کیا کیا؟ پھر دہرائو۔ باب افتعال کی فاء کی جگہ کیا آئی؟ سا تو تا کو بھی سا کر کے سا میں ادغام اور آپ چاہیں تو بغیر ادغام کے بھی رکھ سکتے ہیں استارہ اور آپ چاہیں تو سا کو بھی تا کر کے تا میں ادغام پڑھ دیں اتارہ تو اس میں تینوں صورتیں جائز ہیں اثارہ بھی، اتارہ بھی اور استارہ بھی۔ لیکن سب سے عمدہ لغت یہ ہے کہ سا کا سا میں ادغام کر دو اثارہ سب سے عمدہ لغت ہے۔ تو یہ سب سے عمدہ صورت ہے اس کی، اسی لیے قرآن میں بھی یہی آیا ہے۔
قاعدہ عین افتعال، اچھا آگے افتعال کے عین سے متعلق ضابطہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ فاء سے متعلق تین ضابطے ذکر کردیے۔ دال یا زاء یا زاء ہے تو کیا کرنا ہے؟ ص ض ط ض ہے تو پھر کیا کرنا ہے اور سا آئے تو کیا کرنا ہے۔ ایک قانون آپ نے باب الصرف میں بھی پڑھا تھا، باب افتعال کا کیا؟ کہ باب افتعال میں کیا؟ ہاں، شاباش۔ باب افتعال کے فاء کلمے کی جگہ واؤ یا یا آجائے تو اس واؤ یا یا کو تا کر کے تا میں ادغام کرتے ہیں بھئی۔ جیسے اقتعدا حمزہ واؤ تا ق دو نقطوں والا دال تو اقتعدا واؤ کو تا کر کے تا میں ادغام کریں گے کیا ہوا؟ اقتعدا اور اسی طرح ایتصر یا کو تا کر کے تا میں ادغام کیا تو کیا پڑھ کیا بن گیا؟ ایتصر بھئی۔ اچھا آگے دیکھیے بھئی عین کلمے سے متعلق قانون بھئی۔ قاعدہ عین افتعال اگر تا و سا و جیم و زاء و دال و زاء و سین و شین و ص و ض و ط و ز باشد چنانچہ در اختصما و اہتدتا افتعال را ہم جنس عین کردہ حرکتش بہ ماقبل دادہ ادغام کنند۔ ضابطہ یہ ہے کہ اگر باب افتعال کا عین جو ہے عین فاء کی اب بات نہیں ہو رہی افتعلا تا کے بعد جو کیا رہا ہے؟ عین یہ عین اگر تا ہو یا سا ہو یا جیم ہو یا زاء ہو یا دال یا زاء ہو یا سین یا شین ہو یا ص یا ض ہو یا ط یا زاء یہ بارہ حروف میں سے کوئی ہو تو اس تا کو بھی اس حرف کی جنس سے بدل کر اس میں ادغام کر سکتے ہیں، ادغام جائز ہے۔ توجہ ہے؟ افتعلا کس کی بات ہو رہی ہے؟ کس قانون کس سے متعلق ہے؟ افتعلا کے عین سے اور عین سے پہلے کیا ہے؟ تا تا تو اس تا کو بھی عین کی جنس سے بدل کر اس میں کیا کر سکتے ہیں ادغام کر سکتے ہیں، ادغام جائز ہے۔ اگر عین کی جگہ کیا ہے؟ سین تو اس تا کو بھی سین کر کے سین میں ادغام جائز، اگر عین کی جگہ کیا ہے؟ شین تو اس تا کو بھی شین کر کے شین میں ادغام جائز ہے، اگر عین کی جگہ کیا ہے؟ ص تو تا کو بھی ص کر کے ص میں ادغام جائز، جیسے مثال دے رہے ہیں اختصما، اختصما کا معنی جھگڑا کرنا تو اب عین کی جگہ کیا آیا؟ ص تو اس تا کو بھی ص کر کے ص میں ادغام جائز ہے۔ دیکھیے قانون بھئی دوبارہ تفصیل سے۔ قاعدہ کیا ہے کہ قانون عین افتعال اگر تا و سا و جیم و زاء و دال و زاء و سین و شین و ص و ض و ط و ز باشد اگر عین کلمہ یہ ہو چنانچہ در اختصما و اہتدتا جیسے کس میں ہے؟ اختصما اور اہتدتا میں۔ اختصما میں عین کیا ہے؟ ص تو تا کو بھی ص کر کے ص میں ادغام کر سکتے ہیں اور اہتدتا اس میں عین کی جگہ کیا ہے؟ دال ہے تو اس تا کو بھی دال کر کے دال میں ادغام جائز ہے۔ بس ایک دو مثالیں دے دیں۔ تو مصنف نے دو ہی مثالوں پر اکتفا کر لیا باقی کو آپ اسی پر قیاس کر لیں۔ چنانچہ در اختصما و اہتدتا چنانچہ اختصما اور اہتدتا میں تا افتعال را ہم جنس عین کردہ تا افتعال کو کیا کیا؟ عین کی ہم جنس کر دیا یعنی تا کو بھی ص کر دیا اور آگے اہتدتا میں تا کو بھی دال کر دیا تو حرکاتش بہ ماقبل دادا اور اس کی حرکت کس کو دے دی؟ ماقبل تا پر حرکت ہے یا نہیں؟ نہیں ہے۔ بھئی یاد رکھو جب ادغام جب بھی کرتے ہیں نا تو اول کو ساکن کرتے ہیں اگر وہ ساکن نہ ہو۔ جیسے اختصما تا پر کیا ہے؟ زبر تو اس کو بھی ص سے بدلا کیا بنا؟ اصصاما، ادغام نہیں کر سکتے کیونکہ پہلے حرف کو ساکن کریں گے پھر ہی ادغام ہو سکتا ہے۔ تو لہٰذا کیا کریں گے؟ اس تا کے زبر کو ماقبل خاء کو دے دیں گے۔ اختصما، خا ساکن ہے یا نہیں؟ جی۔ اور آگے تا پر کیا ہے؟ زبر، اس تا کو کس سے بدل دیا؟ ص سے، تو اب ص کا ص میں ادغام کرنا ہے تو پہلے ص کی حرکت گرانی پڑے گی یا ماقبل کو نقل کرنا پڑے گا تو پہلے کی حرکت کیا کر دی؟ پہلے ص کی حرکت خاء کو دے دی اور ص ساکن ہوا اب ص کا ص میں ادغام کر دیا۔ تو جب بھی ادغام کرتے ہیں پہلے حرف کو ساکن کرتے ہیں اس کی حرکت کو گرا دیتے ہیں یا ماقبل والے کو دے دیتے ہیں صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
یہی بیان کر رہے ہیں کہ تا افتعال را ہم جنس عین کردہ تا افتعال کو عین کی ہم جنس بنا کر حرکاتش بہ ماقبل دادا اس کی حرکت ماقبل کو دے کر ادغام کنند کیا کرتے ہیں؟ ادغام کرتے ہیں۔ ہمزہ وصل بیفتد اور ہمزہ وصل گر جاتا ہے۔ ہمزہ وصل بیفتد گر جاتا ہے کیوں؟ کیونکہ ہمزہ وصل شروع میں اس لیے لائے تھے کہ اگلا حرف ساکن تھا۔ اختصما یہ خا کیا ہے؟ ساکن ہے اور عربی زبان میں ساکن سے ابتدا نہیں ہو سکتی تو مجبورا پھر شروع میں کیا لاتے ہیں؟ ہمزہ وصل لاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جیسے اذرب، اضرب، ضرب یضرب، یہ شروع میں ہمزہ وصل
وصل کیوں لائے؟ کیونکہ آگے ضاد کیا ہے؟ ساکن۔ اگر یہ ساکن نہ ہوتا تو پھر ہمزہ وصل بھی ہم نہ لاتے؛ جیسے تفعل یتفعل تو تتفعل اس سے ذرا بناؤ امر۔
تفعل۔ اصل میں کیا تھا؟ تتفعل۔ شروع میں سے ایک تا گرا دی، علامتِ مضارع گرا دی۔ اگلا حرف تا ہے، وہ بھی کیا ہے؟ متحرک۔ جب وہ متحرک ہے تو شروع میں ہمزہ وصل لانے کی ضرورت نہیں۔
تو ہمزہ وصل کس لیے لاتے ہیں؟ کیونکہ اس سے پہلے جو حرف تھا، ما قبل میں اس کے بعد جو حرف آ رہا ہے، وہ وہ کیا تھا؟ وہ ساکن تھا اور ابتدا بساکن ہو نہیں سکتی عربی میں، تو ہمزہ وصل لے آتے ہیں۔ اب آپ نے کیا کیا؟ اختصم میں تا کو ص کیا اور ص ص کی حرکت ما قبل کو دے کر ص میں ادغام۔ تا کو ص کیا اور اس کی حرکت ما قبل کو دے کر ص کا ص میں کیا کیا؟ ادغام۔ تو خا پر کیا آگئی؟ حرکت آگئی۔ جب حرکت آگئی، اب ہمزہ وصل کی ضرورت ہے؟ ہمزہ وصل کی ضرورت نہیں تو وہ گر جائے گا۔ تو کیا بن گیا؟ خصّم۔
خصّم۔ اور اہتد۔ اس میں بھی یہ سب کچھ جاری کرو۔ تا کو دال کیا۔ اور دال کا دال میں ادغام اور دال کی پہلے کی حرکت کس کو دے دی؟ ہا کو دے دی تو کیا بن گیا؟ ہدا۔ ہمزہ وصل گر گیا، ہدا۔ صورت سمجھ میں آگئی۔
یہ معنی ہے ہمزہ وصل بھی افتد، ہمزہ وصل گر جائے گا چونکہ خصّم جیسے خصّم و ہدا شوت۔ تو بس خصّم اور ہدا ہو جائے گا۔
و مضارع یخسیم و یہد یہی دی نہیں یہدّی ہونا چاہیے، یہدّی۔ خود بناؤ۔ اصل میں کیا تھا؟ یختصم۔ پھر بناؤ جلدی، کیا قانون نہیں سمجھ میں آیا؟ پھر سوچ میں کیوں ڈوبے ہوئے ہو؟
یختصم جی۔ ع کی جگہ کیا آیا؟ ص۔ تو تا کو بھی کیا کرو؟ ص۔ اور پھر اس کی حرکت ما قبل کو دے دو اور ص کا ص میں ادغام کر دو۔
جی۔ خا یختصم تھا نا، تا کو کیوں گراتے ہو؟ کیا بن گیا؟ یخستیم۔ پھر بنا لو، یختصم۔ خا ساکن ہے۔ جی۔ اس پر کیا آگیا؟ زبر۔ کس کا کہاں سے زبر آیا؟ وہ تا والا، وہ تا والا زبر ادھر آ جائے گا اور تا کو ص کر کے ص کا ص میں ادغام کیا، کیا بن گیا؟
یختسیم، یخسیم۔ ص کے نیچے تو زیر ہی ہے نا۔ دوسرے ص کے نیچے تو زیر ہے، یختسیم۔ پہلا جو تا بدل گئی ص سے، اس کا زبر کس کو دے دیا؟ خا کو۔ اور پہلا ص ہوا ساکن، دوسرا ص اس کے نیچے تو زیر ہے، اس کو زیر کو باقی رکھو، تو کیا بن گیا؟
یخصیم۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح یہتدی، اس سے بھی بناؤ۔
ع کے مقابلے میں ص آیا۔ یہتدی۔ ع کی جگہ کیا آیا؟ دال۔ تو تا کو بھی دال کر کے دال میں ادغام اور دال کا زبر پہلے جو تا تھی اس کا زبر کس کو دے دیا؟ ہا کو دے دیا، تو کیا بن گیا؟ یہدّی۔ کیا بن گیا؟ یہی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں وہ مضارع یخسیم و یہدّی۔ تو یہ ہا کے نیچے جو زیر لگی ہے، یہ کتابت کی غلطی ہے۔
تو کہتے ہیں مضارع یخسیم و یہدّی۔ جی۔ تو مضارع کیا بن جائے گا؟ یخسیم اور یہدّی۔
و کسرہ فا ہم جائز است اور اس میں فا کا کسرہ بھی جائز ہے۔
اس میں فا کا کسرہ بھی جائز ہے۔ خصّمہ۔ اس میں فا کا کسرہ لے آؤ۔ خِصّمہ۔ ہدّا میں ہا فا کا کسرہ لے آؤ۔ ہِدّا۔ جی۔ یخسیم۔ اس میں خا کیا ہے؟ فا ہے نا۔ فا پر کسرہ لے آؤ کیا بن گیا؟ یخسِّمو۔ اور یہدّی اس میں ہا کے پر کیا لے آؤ کسرے، کیا بن گیا؟ یہِدّی۔ یہی بتلا رہے ہیں و کسرہ فا ہم جائز است اور فا کا کسرہ بھی جائز ہے، چونکہ خصّمہ، یخسّمو و ہِدّا یہدّی۔
یخسّمون و یہدّی۔ جی۔ یخسّمون و یہدّی۔ کدھر قرآن مجید آندا کہ یخسّمون یہ بھی قرآن میں آیا ہے اور یہدّی یہ بھی قرآن میں آیا ہے۔ اگر آپ سے کوئی پوچھ لے یخسّمون کون سا صیغہ ہے؟ آپ سوچ میں نہ ڈوبیں، فوراً جواب دیں کہ یہ باب افتعال سے ہے۔ کس سے ہے؟ باب افتعال ہے۔ تا کو بھی ص کر کے ص میں ادغام کیا ہے اور پھر خا پر زبر پڑھنا بھی جائز ہے اس میں اور زیر پڑھنا بھی۔ یخسّمون بھی جائز، یخسّمون بھی جائز ہوتا ہے اس صیغے میں۔ قرآن میں البتہ یخسّمون آیا ہے۔ اسی طرح یہدّی قرآن میں آیا ہے تو طلباء عموماً ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، اب آپ کو پتہ چل گیا، اب یہ آپ کے ذہن میں ہونا چاہیے، اس کو یاد رکھنا ہے۔
تو کہتے ہیں یخسّمون و یہدّی کہ در قرآن مجید آندا از ہمی باب است کہ یخسّمون اور یہدّی جو کہ قرآن مجید میں آیا ہے، از ہمی باب است وہ اسی باب سے ہے و در اس میں فاعل ضم میں فا ہم آندا۔
اور اس میں فاعل میں فا کا ضمہ بھی آیا ہے۔
کیا؟ اس میں فاعل میں فا کا ضمہ بھی آیا ہے۔ بھئی ماضی اور مضارع توجہ ہے۔ ماضی اور مضارع اس میں فا پر زبر بھی جائز اور زیر بھی۔
زبر کیوں؟ زبر کیوں جائز؟ تا کی حرکت نقل کر کے اس کو دی ہے۔ توجہ ہے؟ زبر کی اگر کوئی وجہ پوچھ لے، وجہ بھی آپ کے ذہن میں ہونی چاہیے۔
اس میں فا پر زبر کیوں جائز؟ تا کی حرکت نقل کر کے اس کو دی ہے اور زیر کیوں جائز؟
زیر میں پھر کیا کرتے ہیں؟ دیکھو یاد رکھو، طریقہ میں بتاتا ہوں۔ زیر بھئی در اصل۔
اصل میں کیا تھا؟ یختصمو کیا تھا؟ تا کو ص کیا۔
کیا بن گیا؟ یخساسمو۔ پھر ص کی حرکت ما قبل کو نہیں دی، ص کی حرکت گرا دی اور ص کا ص میں ادغام کر دیا۔
अच्छा، अब ये पहला ص क्या है؟ ساکن اور ما قبل میں خا بھی ساکن۔ تو کیا آیا؟ اجتماع ساکنین۔ تو کیا کرتے ہیں؟ اگر اول حرف مدہ ہو اس کو گراتے ہیں اور اگر حرف مدہ نہ ہو تو الساکن إذا حرّک حرّک بالکسر۔ کسرہ کی حرکت دے دیں۔ تو کیا بن گیا؟
یخسّمو۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یخسّمو فتحہ کہاں سے آیا؟ تا کا ہے۔ اور یخسّمو یہ کسرہ کہاں سے آیا؟ الساکن إذا حرّک حرّک بالکسر بھئی۔
آگے کہتے ہیں و در اس میں فاعل زم میں فا ہم آندا اور اس میں فاعل میں فا کا ضمہ بھی آیا ہے۔
اگر خا پر زبر پڑھو، کیا پڑھو؟ خا پر زبر بھی پڑھ سکتے ہیں اور زیر بھی پڑھ سکتے ہیں نا، تو اسی کے مطابق اس میں فاعل بنا لو۔ اگر خا پر زبر ہو تو اس میں فاعل کیا بنے گا؟
مختصمون بنا لو۔
مختصمون ہے نا، اب تا کو ص کر کے ص میں ادغام کرو اور خا پر زبر لے آؤ کیا بن گیا؟ مخسّمیں۔ مخسّمیں۔
اور اگر خا کے نیچے زیر پڑھو پھر کیا بنے گا؟ مخسّمون۔ تو خا پر زبر بھی جائز، زیر بھی جائز۔ زبر کیوں؟ تا والا ہے۔ اور زیر کیوں؟ الساکن إذا حرّک حرّک بالکسر۔ اور ضمہ بھی اس میں جائز ہے، یعنی
مخسّمون۔
مخسّمون۔
خا پر ضمہ بھی جائز، کیوں؟ کیونکہ ما قبل میں میم پر ضمہ ہے۔ اچھا۔ تو اس کی وجہ سے یہاں ضمہ بھی جائز۔
تو اس میں فاعل میں کتنی صورتیں ہوگئیں؟ تین۔ مخسّم، مخسّم اور مخسّم۔ یہ ضمہ کیوں جائز ہے یہاں؟ ما قبل میم کے ضمہ کی وجہ سے۔
تو کہتے ہیں و در اس میں فاعل زم میں فا ہم آندا اور اس میں فاعل میں فا کا ضمہ بھی آیا ہے۔ یاد رکھو یہ قانون ویسے نہیں بناتے چلے جا رہے، یہ سارے صیغے ہم نے عربوں سے سنے ہیں۔ وہ کبھی مخسّمون بولتے ہیں، کبھی مخسّمون بولتے ہیں اور کبھی مخسّمون بولتے ہیں۔ تو ہمارے علماء ایک ایک چیز کی وجہ بیان کر رہے ہیں اور قانون بتا رہے ہیں کہ یہ مخسّم یہ صیغہ کون سا ہے؟ غور کر کے بتلایا کہ یہ دراصل باب افتعال ہے۔ جب باب افتعال میں عین کی جگہ کیا آ جائے؟ ص تو عرب تا کو کبھی کیا کرتے ہیں؟ ص کر کے ص میں ادغام کرتے ہیں تو یہ عرب کے ایک ایک لفظ میں غور کرنے کے بعد انہوں نے یہ قوانین بنائے ہیں۔ آپ نے تو دو چار منٹ میں پورا قانون پڑھ لیا اور علماء کو یہ قانون بنانے میں پتہ نہیں کتنا وقت لگا ہوگا، عمریں انہوں نے گزار دیں یہ قوانین بنانے کے اندر بھئی۔
صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ عربوں سے ہم نے سنے ہیں، اس لیے ہم یوں بیان کر رہے ہیں۔ یہ نہیں کہ اپنی طرف سے قانون بناتے جا رہے ہیں، یوں بھی پڑھ سکتے ہو، یوں بھی پڑھ سکتے ہو، یوں بھی نہیں۔ نہیں، یہ ہم نے عربوں سے سنے ہیں۔ اگر نہ سنے ہوتے تو معلوم ہوا اس طرح پڑھنا جائز ہی نہیں۔
تو کہتے ہیں و در اس میں فاعل زم میں فا ہم آندا اس میں فاعل کے اندر فا کا ضمہ بھی آیا ہے۔ مخسّم، مخسّم اور مخسّم ہر سے جائز است، تینوں جائز ہیں۔
ہر سے جائز است، تینوں کے تینوں جائز ہیں۔
باب دوم، باب استفعال۔
دوسرا باب آگیا بھئی۔
باب دوم استفعال، علامت آ زیادتیِ سین و تا است قبل فا۔
اس باب کی علامت سین اور تا کی زیادتی ہے، سین اور تا کا زائد ہونا ہے۔ علامتِ آ اس باب کی علامت، زیادتی سین و تا است سین اور تا کی زیادتی ہے قبل فا کس سے پہلے؟ فا سے پہلے۔ استفعال۔ دیکھو فا سے پہلے کیا ہے؟ سین بھی اور تا بھی اور دونوں زائد ہیں۔ زائد ہیں کیونکہ فا حرف اصلی ہے۔
چوں الاستنسار طلبِ مدد کردن۔
نصرت کا کیا معنی تھا؟ مدد کرنا تو یہ جو باب افتعال کا سین ہے، یہ طلب کے لیے آتا ہے تو استنسار کا کیا معنی؟
مدد طلب۔ دیکھو عرب نے یہ مختلف باب بنائے تھے، دیکھو اب نصرت نصر ینصر نصرا یعنی نصرا و نصرتا نصر اور نصرت کا کیا معنی ہے؟ مدد کرنا لیکن اب اس میں وہ طلب والا معنی بھی شامل کرنا چاہتے ہیں تو اسی مادے کو وہ پھر باب استفعال میں لے جاتے، استنصرتہ میں نے اس سے مدد طلب کی۔ دیکھا تو یہ طریقہ تھا کہ مختلف معنی کے لیے وہ اس کلمے کو مختلف بابوں کے اندر لے کر جاتے تھے بھئی۔
تو طلبِ مدد کرد طلبِ مدد کردن یہ با کے نیچے زیر پڑھنا بھئی۔ طلبِ مدد کردن، مدد کو طلب کرنا، تصریفہ اس کی گردان۔ استنصر یستنصر استنساراً فھو مستنصر و استنصرا يستنصر استنساراً فھو مستنصر الامر منہ استنصر و النہی عنہ لا تستنصر و الظرف منہ مستنصر۔
سنائیے بھئی استنسار کی صرفِ صغیر جیسی آپ نے ابوابِ صرف میں پڑھی اسی طریقے پر۔
استنصر یستنصر استنساراً فھو مستنصر و استنصرا يستنصر استنساراً فھو مستنصر لم ينصر لم يستنصر لم يستنصر لا يستنصر لا يستنصر لا يستنصر لا يستنصر الامر من استنصر لتستنصر ليستنصر ليستنصر والنہی عن لا تستنصر لا تستنصر لا تستنصر لا تستنصر والظرف من مستنصر مستنسان۔
ماضی۔
استنصر استنصرا استنسارو استنسارت استنسارتا استنسارنا استنسارتا استنسارتما استنسارتُم استنسارتا استنسارتما استنسارتُم استنسارتُما استنسارتُنا استنسارتُو استنسارنا۔ شاباش۔
یستنصرو۔
يستنصرو يستنصرا نستنصرو تستنصرو تستنصرا يستنصرنا تستنصرو تستنصرا تستنصرو تستنصرینہ تستنصرا نستنصرنا اس اس استنسرو نستنسرو۔
جی۔ امر سنا دے استنسر۔
استنسر استنسرا استنسرو استنسری استنسرا استنسرنا۔
نہی سناؤ لا تستنسر۔
لا تستنسر لا تستنسرا لا تستنسرو لا تستنسری لا تستنسرا لا تستنسرنا۔
جی شاباش۔
تو و النہی عنہ لا تستنصر الظرف منہ مستنصر۔
فائدہ۔
در استطاع یستطیع جائز است کہ تا استفعال حذف کنند۔
استطاع یستطیع یہ کون سا باب ہے؟ بابِ استفعال۔ استطاعت کا معنی استطاعت رکھنا یعنی قدرت رکھنا۔
استطاع یستطیع جائز است۔
در است در استطاع یستطیع جائز است کہ تا استفعال حذف کنند۔ استطاع یستطیع میں جائز ہے کہ تا استفعال کو کیا کر دیں؟ حذف۔ یہ استفعال کی جو تا ہے اس کو حذف کر دیں فمستطاع۔
ما لم تستطع در قرآن مجید ازہمی باب است۔ کہتے ہیں قرآن مجید میں جو فمستطاع آیا ہے اور ما لم تستطع آیا ہے، وہ ازہمی باب است وہ اسی باب سے ہے۔
فمستطاع طالبِ علم حیران ہوتا ہے استاع یہ کون سا باب ہے؟ لیکن انہوں نے آپ کو بتلایا یہ اصل میں کیا تھا؟ استطاع اور پھر اس تا کو حذف کرنا جائز ہے۔
اس باب میں ہر باب میں نہیں بھئی، اس باب میں تا کو حذف کرنا استاع استطاع کے۔ ہر باب میں بھی نہیں اس اس کلمے میں، اس کلمے میں۔ استاع استطاع۔
استنسرہ کے اندر تا کو حذف کرنا جائز نہیں۔ استخرجہ میں تا کو حذف کرنا جائز نہیں۔ لیکن استاع میں استطاع میں تا کو حذف کرنا جائز تو فمستطاع جو قرآن میں آیا ہے اور ما لم تستطع آیا ہے اصل میں کیا تھا؟ ما لم تستطع تو یہ تا کو حذف کرنا جو قرآن حذف کیا گیا ہے ازہمی باب است یہ اسی باب سے ہے، بات سمجھ میں آگئی۔
باب سوم انفعال بھئی۔
تیسرا باب بابِ انفعال ہے۔
علامتِ آ زیادتیِ نون و تا است قبل فا۔ اس باب کی علامت نون کی زیادتی ہے قبل فا کس سے پہلے؟ فا سے پہلے انفعال فا سے پہلے کیا ہے؟ نون زائد ہے۔
و ایں باب ہمیشہ لازم آید اور یہ باب ہمیشہ لازم آتا ہے (یعنی متعدی نہیں ہوتا)۔
چوں الانفطار جیسے انفتار شگافتہ شدن، پھٹ جانا۔
جیسے السماء انفطرت قیامت کے دن جب آسمان پھٹ جائے گا۔ تو انفتار کا معنی ہے شگافتہ شدن، پھٹ جانا تصریفہ اس کی گردان۔ انفطر ینفطر انفطاراً فھو منقطر و انفترا ينفطر انفطاراً فذٰاک منقطر۔
لم ينفطر لم ينفطر لا ينفطر لا ينفطر لا ينفطر لا ينفطر الامر من انفطر لتنفطر لينفطر لينفطر والنہی عن لا تنفطر لا تنفطر لا تنفطر لا تنفطر والظرف منہ منقطر منقطرانی۔
شاباش۔
امر سنا دو بھئی انفطر۔
انفطر انفطرا انفطرو انفطری انفطرا انفطرنا۔
لا تنفطر۔
لا تنفطر لا تنفطرا لا تنفطرو لا تنفطری لا تنفطرا لا تنفطرنا۔
شاباش۔
یہ سب گردانیں آپ کو یاد ہیں بھئی، بات سمجھ میں آرہی ہے اس لیے میں سارے صرفِ کبیر نہیں سن رہا، یہ آپ کو یاد ہیں۔
آگے دیکھیے بھئی قاعدہ ہر لفظے کہ فا و نون باشد، ہر وہ لفظ جس کی فا نون ہو توجہ ہے؟ بابِ انفعال چل رہا ہے، بابِ انفعال میں
فَا سے پہلے کیا ہے؟ ادھر دیکھو ادھر دیکھو۔ بابِ انفعال میں فَا سے پہلے کیا ہے؟ نون۔ اور اگر فَا بھی نون آ جائے تو دو نون جمع ہو جائیں گے۔ زبان پر ادائیگی کیا ہو جائے گی؟ مشکل۔ لہذا ایسا کلمہ جس کے فَا کی جگہ کیا آئے؟ نون۔ اور ہم اس کو بابِ انفعال والا یعنی لازمی معنی لینا چاہتے ہیں۔ بابِ انفعال میں کیا ہوتا ہے؟ ہمیشہ لازمی ہوتا ہے۔ متعدی نہیں۔ تو اگر ہم بابِ ایک ایسا کلمہ ہے جس کے فَا کی جگہ نون آیا اور ہم اس سے لازمی والا معنی لینا چاہتے ہیں، اب ہم اس کو لے جانا چاہتے ہیں بابِ انفعال میں لیکن بابِ انفعال میں لے کے جائیں گے پھر تو دو نون جمع ہو جائیں گے۔ تو پھر اس صورت میں اس کو بابِ انفعال میں نہیں لے کے جاتے اس کو بابِ افتعال میں لے جاتے۔ لازمی والا معنی چاہیے اور فَا کی جگہ کیا ہے؟ نون۔ تو پھر اس کو کس میں لے جاؤ؟ بابِ افتعال میں۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں ہر لفظ کہ فَا و نون باشد۔ ہر وہ لفظ جس کی فَا نون ہو، از بابِ انفعال نہ آید، وہ بابِ انفعال سے نہیں آتا بلکہ اگر ادائے معنی انفعال منظور باشد، بلکہ اگر انفعال کا معنی ادا کرنا مقصود ہو، آن را بابِ افتعال برند، اس کو بابِ افتعال میں لے جاتے ہیں۔ بردن کا معنی لے جانا۔ بابِ افتعال برند اس کو بابِ افتعال میں لے جاتے ہیں۔ چوں انتقص سرنگوں شدن۔
انتصاک کا معنی سرنگوں ہونا، اوندھے منہ ہونا یعنی زمین کی طرف منہ ہونا، الٹا ہونا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ کوئی زمین پر ایسے گرا منہ کے بل کہ اس کا منہ کس کی طرف ہے؟ زمین کی طرف ہے تو ہم کہیں گے وہ اوندھا گرا ہوا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ سرنگوں ہونا۔
بابِ چہارم، افعِلَال۔ علامت آن تکرارِ لام است۔ اس باب کی علامت تکرارِ لام ہے۔ و بودنِ چہار حرف بعدِ ہمزۂ وصل اور چار حرفوں کا ہونا کس کے بعد؟ ہمزۂ وصل کے بعد۔ در ماضی، کس میں؟ فعلِ ماضی میں۔ بابِ افتعال، بھئی پہلا باب کیا ذکر کیا تھا؟ بابِ افتعال۔ اس کی علامت کیا تھی؟ فَا کے بعد تاءِ زائدہ۔ دوسرا باب استفعال۔ اس کی علامت کیا تھی؟ فَا سے پہلے سین اور تا زائد اور اس کے بعد اس کے بعد بابِ انفعال آیا۔ اس کی علامت کیا تھی؟ فَا سے پہلے نون زائد۔ اب آ گیا بابِ افعِلَال، افعِلَال۔ اور اس کی علامت ہے تکرارِ لام۔ اس میں لام کتنی دفعہ ہے؟ دو۔ بھئی دو لام ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ رباعی ہے۔
حالانکہ دو لام تو کس میں آتے ہیں؟ رباعی۔ ایک لام زائد ہے، ایک اصلی ہے۔
لیکن اس جو زائد ہے اور اصلی ہے، وہ دونوں ایک ہی حرف ہوتے ہیں۔ ایک ہی جنس کے ہوتے ہیں اس لیے اس زائد کو بھی لام سے ہی ذکر کر دیتے ہیں۔ جیسے احمرار۔ یا تو پہلی را زائد ہے یا دوسری را زائد۔ ایک اصلی ہے ایک زائد ہے۔ لیکن ہیں دونوں را۔ تو ایک اصلی ہے اس کو کس سے ظاہر کریں گے؟ اس کا وزن کس سے نکالیں گے؟ لام سے۔ تو زائد بھی اسی جیسی ہے اس کا وزن بھی کس سے ظاہر کر دیں گے؟ لام سے۔ ورنہ یہ ایک زائد ہے اس کو تو لام کے ساتھ ظاہر نہیں کرنا چاہیے لیکن چونکہ جب زائد حرف بھی اسی اصلی کی جنس میں سے ہو تو اس کے لیے جو وزن میں بھی کیا کرتے ہیں؟ ویسا ہی حرف وہی حرف لاتے ہیں۔
تو اس بات کی کیا علامت ہے؟ کہتے ہیں علامت آن تکرارِ لام است، اس باب کی علامت تکرارِ لام ہے۔ و بودنِ چہار حرف بعدِ ہمزۂ وصل اور چار حرفوں کا ہونا ہمزۂ وصل کے بعد۔ در ماضی، زمانہ ماضی میں۔ ماضی کے صیغے کی بات کر رہے ہیں ہر صیغے کی بات نہیں کر رہے ورنہ مصدر میں اور صورت بن جائے گی۔ جیسے احمَرَّ۔ احمَرَّ۔ افعَلَّ۔ علامت کیا ہے؟ احمَرَّ۔ دو لام۔ تکرارِ لام۔ افعَلَّ۔ کتنے لام ہیں؟ دو لام۔ اور کتنے حروف ہیں ہمزۂ وصل کے بعد؟ چار حروف۔ افعَلَّ۔ ہمزۂ وصل کے بعد فَا ہے، عَيْن ہے اور لامِ مشدد ہے۔ لامِ مشدد کتنے حروف ہوتے ہیں؟ دو۔ کوئی بھی مشدد حرف ہو دراصل دو ہوتے ہیں تو یہ چار حرف ہو گئے کس کے بعد؟ ہمزۂ وصل کے۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ علامتِ آن تکرارِ لام است، اس کی علامت تکرارِ لام ہے و بودنِ چہار حرف بعدِ ہمزۂ وصل اور چار حرفوں کا ہونا ہمزۂ وصل کے بعد در ماضی، زمانہ ماضی میں۔ چوں الاحمرار سرخ شدن، سرخ ہونا۔ تصریفه احمَرَّ یحمَرُّ۔ یہ باب تو آپ پڑھ چکے بھئی۔
جی احمَرَّ یحمَرُّ احمراراً فھو محمرّ، والامر منہ احمرَّ احمرّ احمرِر، والنہی عنہ لا تحمرَّ لا تحمرّ لا تحمرِر، والظرف منہ محمرّ۔ محمرّ۔ جی پہلے گردان کوئی سنا دے بھئی۔
احمرَّ احمرَّ احمرّوا احمرّت احمرّتا احمَراراً فھو محمرّ و احمرّ احمرَّ احمرّان فذاک محمرّ لم یحمَرّ لم یحمَرّ لم یحمَرِر لم یحمَرَّ لم یحمَرر لم یحمَرَّ لا یحمَرَّ لا یحمَرّ لا یحمَرر لا یحمَرَّ لا یحمَرّ الأمر منہ احمرَّ احمرّ احمری لتُحمَرّ لتُحمَرّ لتُحمَرّر لیحمَرّ لیحمَرّ لیحمَرّر لیحمَرّ لیحمَرّ لیحمَرّر والنہی عنہ لا تحمرَّ لا تحمرَّ لا تحمری لا تحمرّ لا تحمرّ لا تحمرر لا یحمَرّ لا یحمَرّ لا یحمَرَّ لا یحمَرّ لا یحمَرّ لا یحمَرر و ظرف من محمرّ محمرّان۔
شاباش۔ جی، احمرَّ۔
احمرَّ احمرّا احمرّوا احمرّت احمرّتا احمررنا احمررتما احمررتم احمررتی احمررتما احمررتن احمررنا۔ شاباش دیکھا بھئی آپ نے غور کیا؟ احمرَّ احمرّا احمرّو احمرّت احمرّتا احمرارا نہ یہاں فکِّ ادغام ہوا ہے۔ فکِّ ادغام کا کیا معنی؟ ادغام کا توڑ دینا، ادغام کو ختم کر دینا۔ تو جب ادغام ختم کریں گے تو ماضی معروف میں زبر پڑھیں گے۔ احمرَرَنا۔ اور ماضی مجھول میں زیر پڑھیں گے۔ احمُرِرَنا۔ تو ماضی معروف میں زبر اور ماضی مجھول میں زیر لیکن مضارع میں اس کا برعکس ہے۔ مضارع معروف میں کیا پڑھیں گے؟ زیر اور مضارع مجھول میں زبر پڑھیں گے۔ جی ماضی مجھول سنائیے بھئی۔
احمُرَّ احمُرّا احمُرّو احمُرّت تحمُرّتا تحمُرّنا تحمُرّی تو احمُرّی توما احمُرّی توما احمُرّی تو احمُرّی توما احمُرّی تن احمُرّی تو احمُرّی نا۔ شاباش۔ یحمَرُّ۔
يحمرُّ يحمرّانی يحمرّون تحمرُّ تحمرّانی يحمرّین تحمرُّ تحمرّانی تحمرّون تحمرّین تحمرّانی تحمرّین احمرُّ نحمرُّ۔ شاباش۔ یُحمَرُّ۔
يُحمَرُّ يُحمَرّانی يُحمَرُّون تُحمَرُّ تُحمَرّانی يُحمَرّنہ تُحمَرُّ تُحمَرّانی تُحمَرُّون تُحمَرّين تُحمَرّانی تُحمَرّرنہ احمرُّ نحمرُّ۔
شاباش۔ جی۔
امر سناؤ بھئی۔
احمرَّ احمرّا احمرّو احمرّی احمرّا احمریرنا۔
پھر احمرَّ۔
احمرَّ احمرّا احمرّو احمرّی احمرّا احمریرنا۔
لا تحمرَّ۔
لا تحمرَّ لا تحمرّا لا تحمرّو لا تحمری لا تحمرّا لا تحمریرنا۔
شاباش شاباش۔
اور اس باب میں آپ نے امر کی صرفِ صغیر میں کیا پڑھا؟ احمَرَّ احمَرّی احمَرّیر۔
احمَرَّ احمَرّی احمَرّیر۔
تین صیغے پڑھے بھئی تین صورتیں پڑھیں اس صیغے کی۔
امر حاضر اور یہ سب ایک ہی ہے بھئی۔
اس یعنی احمَرَّ پڑھنا بھی جائز، احمَرّی پڑھنا بھی جائز اور احمَرّیر پڑھنا بھی جائز۔ احمَرّیر یہ تو اپنی اصل پر ہے۔ امر کے آخر میں کیا آتا ہے؟ جزم۔ تو احمَرّیر آخر میں جزم آ رہا ہے۔
لیکن دو را ہیں لہذا پہلی را کو ساکن کر کے دوسری را میں کیا کر دیا؟ ادغام۔ احم توجہ ہے؟ احمَرّیر۔
دوسری را تو ہے ہی ساکن پہلی کو بھی کیا کر دیا؟ ساکن۔ اور را کا را میں ادغام۔
پھر اس پر زبر پڑھنا بھی جائز، احمَرَّ اور زیر پڑھنا بھی جائز، احمَرّی۔ زبر پڑھنا کیوں جائز؟
کیونکہ فتحہ اخفُّ الحَرَکات ہے، سب سے آسان ہے زبان سے ادا کرنا۔ اس لیے احمَرَّ زبر بھی پڑھتے ہیں۔
اور احمَرّی زیر بھی پڑھتے ہیں کیوں؟
الساکن اذا حُرِّک حُرِّک بالکَسْر ضابطہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو آپ کو یہ بات اب پتہ ہونی چاہیے بھئی اور کون سے صیغوں میں یہ تین شکلیں پڑھتے ہیں؟ جن میں جزم آئے، جن میں کیا آتا ہے؟ لم یحمَرَّ لم یحمَرّی لم یحمَرّیر۔
جزم آیا یا نہیں؟ اور اس احمر امر، احمَرَّ احمَرّی احمَرّیر اور نہیں لا تحمَرَّ لا تحمَرّی لا تحمَرّیر۔
لیکن پوری پوری گردان میں نہیں یاد رکھنا۔ مثلاً مضارع میں ہے۔ مضارع پر لم لے آؤ۔ کیا لے آؤ؟ لم۔ لم کیا کرے گا؟ جزم دے گا۔ اب کس صیغے میں یہ تین طرح پڑھنا اس کو جائز؟ وہ صیغے جن کے آخر میں ضمیرِ بارز نہ ہو۔
جن کے آخر میں جن کے آخر میں ضمیرِ بارز ہے وہاں تین طرح نہیں پڑھ سکتے وہاں ایک ہی طرح پڑھیں گے۔ توجہ ہے؟
اب مجھے بتاؤ۔
مضارع لے آؤ۔ مضارع۔ مضارع پر لم داخل ہوتا ہے نا۔ مضارع سے ہی امر بنتا ہے اور مضارع سے ہی نہیں بنتا ہے تو مضارع ہی کے آخر میں جزم آتا ہے تو لہذا یحمَرُّ۔
آپ مجھے بتائیں یحمَرُّ کو چھوڑ دیں آسان کوئی باب لے آؤ یَضرِبُ۔ یَضرِبُ کے آخر میں کوئی ضمیرِ بارز ہے؟
بارز بارز۔ ہاں ضّاد را با تو فعل کا اپنا مادہ ہے آگے کوئی ضمیر ہے؟ نہیں۔ تو اس میں ضمیرِ بارز نہیں۔ معلوم ہوا اس صیغہ جو پہلا صیغہ ہے اس میں تین طرح پڑھنا جائز ہوگا لم یحمَرَّ لم یحمَرّی لم یحمَرّیر۔
اگلا صیغہ یَضرِبُ یَضرِبانی۔ ضمیرِ بارز ہے؟ ہاں یہ نون تو نونِ اعرابی ہے اور الف کیا ہے؟ ضمیرِ بارز۔ لہذا اس صیغے کے اندر تین حالتیں بابِ احمرار میں نہیں آئیں گی بھئی۔ آگے یَضرِبُونَ۔
ضمیرِ بارز ہے؟ نون تو اعرابی ہے اور و بارز ہے لہذا یہاں بھی تین صورتیں نہیں پڑھ سکتے۔ ہاں آگے تَضْرِبُ۔
ضمیرِ بارز ہے؟ نہیں۔ لہذا اس میں بھی تین صورتیں پڑھ سکیں گے بھئی تو واحد مذکر غائب میں بھی اور واحد مؤنث غائب۔ اچھا تَضْرِبُ تَضْرِبَانی۔ یہ نون کیا ہے نونِ اعرابی اور الف کیا ہے؟ ضمیرِ بارز ہے لہذا یہاں بھی تین صورتیں نہیں پڑھ سکیں گے ہم۔ اچھا یَضْرِبۡنَ۔
یہاں بھی نون کیا ہے؟ ضمیرِ بارز ہے یہ نونِ اعرابی نہیں ہے جمع مؤنث والا نون یہ ضمیر ہے۔ تو یہاں بھی ضمیرِ بارز ہے تین صورتیں نہیں پڑھ سکتے۔ آگے چلیے تَضْرِبُ۔
ضمیرِ بارز ہے؟ نہیں ہے۔ تَضْرِبَانی۔ بارز ہے۔ تَضْرِبُونَ۔ بارز ہے۔ تَضْرِبِینَ۔ یہ یا ہے نون نونِ اعرابی ہے اور یا کیا ہے؟ ضمیرِ بارز ہے یہاں بھی نہیں تین صورتیں پڑھ سکتے۔ تَضْرِبَانی۔
بارز ہے۔ تَضْرِبۡنَ۔ بارز ہے۔ اَضْرِبُ۔
نہیں ہے، نَضْرِبُ۔ یہ تو ان دونوں میں ضمیرِ بارز نہیں ہیں۔ تو گویا کل پانچ صیغے ہیں۔
يَضرِبُ تَضْرِبُ پھر دوبارہ تَضْرِبُ پھر اَضْرِبُ پھر نَضْرِبُ۔ یہ پانچ صیغے ہیں جن کے آخر میں ضمیرِ بارز نہیں۔ لہذا بابِ افتعال میں جب بھی جزم والا موقع آئے تو ان پانچ صیغوں میں جن کے آخر میں ضمیرِ بارز نہیں یہاں تینوں طرح پڑھنا جائز ہے۔
لم یحمَرَّ لم یحمَرّی لم یحمَرّیر۔ اسی طرح لم تحمَرَّ لم تحمَرّی لم تحمَرّیر۔ اگلا بھی آ گیا لم تحمَرَّ لم تحمَرّی لم تحمَرّیر۔ اگلا کیا آیا لم لم احمَرَّ لم احمَرّی لم احمَرّیر۔ اور اگلا کیا ہے؟ لم نحمَرَّ لم نحمَرّی لم نحمَرّیر۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ بلکہ پوری گردان دیکھ لو یحمَرُّ یحمَرّانی یحمَرُّونا۔
صرف یحمَرُّ کے اندر یہ تین صورتیں ہیں۔ یحمَرّانی میں بھی نہیں۔ یحمَرّونا میں بھی نہیں۔ تحمَرُّ اس کے اندر بھی تین صورتیں تحمَرّانی، یحمَرّیرنہ۔
ان دونوں میں ایک ایک ہی صورت۔ پھر تحمَرُّ اس میں کتنی صورتیں؟ تین صورتیں۔ پھر تحمَرّانی تحمَرُّونا تحمَرّینا تحمَرّانی تحمَرّیرنہ۔
ان سب میں ایک ہی صورت ہے کیونکہ ضمیرِ بارز ہے۔ آگے احمَرُّ اور نحمَرُّ میں کتنی صورتیں؟ تین تین۔ معلوم ہوا کہ تین صورتیں جزم والی جگہ پر آئیں گی۔ کس میں؟ جیسے لم کی وجہ سے کیا آیا؟ جزم۔ اسی طرح امر ہے، امر۔
امر کی گردان آپ نے کیا پڑھی؟
صرفِ صغیر تو آپ نے یوں پڑھی و الأمر منہ احمَرَّ احمَرّی احمَرّیر لتُحمَرَّ لتُحمَرّی لتُحمَرّار۔
جی۔
کیوں؟ کیونکہ یہ پہلا صیغہ تھا اور پہلے صیغے میں ضمیرِ بارز نہیں ہوتی۔ ویسے امر کی گردان آپ کو کوئی کہے سناؤ تو آپ نے کیسے سنانی ہے؟
احمَرَّ احمَرّا احمَرّو احمَرّی احمَرّاً احمَرّیرنہ۔
جی۔
اب ذرا مجھے یہ بتاؤ احمَرَّ۔
کتنی صورتیں جائز ہیں؟ تین۔ شاباش کیونکہ ضمیرِ بارز نہیں۔ احمَرّا۔
اس میں ایک ہی، اس میں ایک ہی احمَرَّ ہی پڑھ سکتے ہیں بس اور کوئی صورت نہیں۔ احمَرّو۔
ایک ہی پڑھ سکتے ہیں اور صورت کوئی نہیں۔ احمَرّی۔
یہی ایک صورت ہے اور کوئی صورت نہیں۔ پھر احمَرّا۔
ایک ہی صورت ہے کیونکہ الف ہے آخر میں اور صورتیں نہیں۔ اور احمَرّیرنہ۔
یہاں بھی ایک ہی صورت ہے۔ معلوم ہوا صرف پہلے صیغے میں تینوں طرح پڑھنا جائز ہے باقی کسی صیغے میں بھی جائز نہیں۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
تو لہذا یہ تین صیغے جو آپ نے صرفِ صغیر میں پڑھے لم یحمَرَّ لم یحمَرّی لم یحمَرّیر۔ اور اسی طرح امر میں احمَرَّ احمَرّی احمَرّیر۔ اور اسی طرح نہیں میں لا تحمَرَّ لا تحمَرّی لا تحمَرّیر۔ یہ ہر صیغے میں تینوں صورتیں نہیں جائز صرف ان ان صیغوں میں جائز ہوں گی جہاں پر ضمیرِ بارز ساتھ ملی ہوئی نہ ہو۔ اور اگر ضمیرِ بارز ملی ہو تو پھر ایک ہی صورت وہاں ہوگی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے تعلیلَات کر رہے ہیں بھئی کہ احمَرَّ یہ کیسے بنا؟ کہتے ہیں کتاب پر کہتے ہیں احمَرَّ در اصل احمارَرَ بود۔ اصل میں یہ کیا تھا؟ احمارَرَ تھا۔ دو حرف
یک جنس جمع آمدند۔
بود یہاں ایک اور دال ہونا چاہیے بھئی۔
بود کا دال الگ اور دو حرف کا دال الگ۔
دوبارہ دیکھیے احمَرَّ در اصل احمارَرَ بود۔ احمَرَّ اصل میں کیا تھا؟ احمارَرَ تھا۔ دو حرفِ یک جنس جمع آمدند۔ دو حرف ایک جنس والے جمع ہو گئے۔
اول را ساکن کردہ۔
دونوں متحرک تھے نا اور میں نے کیا بتلایا تھا ادغام جب بھی کریں گے پہلے کو کیا کریں گے؟ ساکن۔ وہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں اول را ساکن کردہ، پہلے کو ساکن کرکے در دوم ادغام کردند۔ دوسرے میں ادغام کر دیا۔ احمَرَّ شد تو کیا ہوا؟ احمَرَّ ہوا۔ وبہرمی قیاس است تعلیلِ یحمَرُّ و یحمَرُّ۔ اور اسی قیاس یعنی اسی طریقے پر ہے یحمَرُّ اور یحمَرّو کی تعلیل بھی۔ واشباہِ آن۔
اور اس جیسے جو ہیں۔ اشباہ
جو اس کے مشابہ ہیں۔
اشباہِ جو اس جیسے جو صیغے ہیں ان کی بھی اسی طرح تعلیل ہے۔ یحمَرُّ اصل میں کیا تھا؟ يَّحْمَارِيرُ۔
یحمَرُّ
جی يَّحْمَارِيرُ
ياحمّارِيبو
يحمرّو کی گردان ذرا سناؤ۔ یحمَرُّ یحمَرّانی یحمَرّونا تحمَرُّ تحمَرّانی یحمَرّیرنہ۔ را کے نیچے کیا ہے؟ زیر۔ تو یحمَرُّ میں بھی لا کے نیچے را کے نیچے کیا لاؤ؟ زیر۔ تو یحمَرُّ اصل میں کیا تھا؟ يَّحْمَارِيرُ۔
پھر پہلی را کو ساکن کرکے دوسرے میں کیا کیا؟ ادغام تو یحمَرَّ ہوا۔
اور يُحْمَرُّ اصل میں مجہول کیا تھا؟ يُحْمَارَارُ۔
دیکھا تو معروف جو تھا وہ يَّحْمَارِيرُ تھا اور مجھول جو ہے وہ يُحْمَارَارُو۔ پہلی را کو ساکن کرکے اس کا دوسری را میں ادغام کیا تو کیا بن گیا؟ يُحْمَرُّ ہوا۔
طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں و بہرمی قیاس است تعلیلِ یحمَرُّ و یحمَرُّ و ان جیسوں کی تعلیل۔ در واحد مذکر امر۔
واحد مذکر جو امر ہے بسَبَبِ وقف۔ وقف کی وجہ سے۔ توجہ ہے۔
در واحد مذکر امر امر کے واحد مذکر یعنی پہلے صیغے میں بسَببِ وقف کس کی وجہ سے؟ وقف کی وجہ سے، بھئی امر کے آخر میں کیا کرتے ہیں؟ وقف کرتے ہیں یا نہیں؟ اضرب باء کو کیا کر دیا؟ ساکن کر دیا، وقف کیا تو کہتے ہیں در واحد مذکر امر امر کے واحد مذکر میں بسَببِ وقف وقف کی وجہ سے اجتماعِ ساکنین شد، کیا ہوا؟ اجتماعِ ساکنین ہوا، ابھی میں نے بتایا تھا۔
امر بنانا چاہتا ہوں۔
مضارع کا صیغہ لاؤ جس سے میں امر بناؤں۔
تضرب، ہاں احمرّا سے بناؤ، اچھا تِحمَرّو کیا ہے؟ تِحمَرّو اصل میں کیا تھا؟ تِحمَرِرُو، تِحمَرِرُو، جی! کیسے بناتے ہیں امر؟ شروع میں علامتِ مضارع گرائی اور حا ساکن تھی تو لہٰذا ہمزہ وصل لے آئے، اِحْمَرِرُو اور آخر کو ساکن بھی کرو اِحْمَرِرْ، اِحْمَرِرْ، پھر کیا کیا؟ اجتماعِ ساکنین آیا، ادھر ساکن ہے اجتماعِ ساکن، جی! سوچ سوچ کر بتاؤ بھئی! اِحْمَرِرْ، پہلے را کو ساکن کر کے ثانی را میں کیا کیا؟ ادغام کیا کیا تو اِحْمَرَّ، نہیں، زبر نہیں، زیر نہیں، کچھ بھی نہیں ہے، پہلے دوسری را تو ساکن ہے، اس پر تو وقف ہے، اب اس پر کیا لا سکتے ہیں؟ زبر بھی اور کیا لا سکتے ہیں؟ زیر، زبر کیوں لائیں گے؟ کیونکہ فتحہ زبان سے بولو فتحہ اخفُّ الحَرَکات ہے، اخف، اخف اس میں تفضیل ہے، تمام حرکتوں سے سب سے زیادہ خفیف یعنی زبان پر جس کی ادائگی سب سے آسان ہے، اس لیے فتحہ بھی عرب لاتے ہیں اور کسرہ بھی لاتے ہیں، کسرہ کیوں لاتے ہیں؟ اساکن إذا حرّک حرّک بالکسر، زبان سے دہرائو! اساکن إذا حرّک حرّک بالکسر، اور فتحہ کیوں لاتے ہیں؟ اخف الحَرَکات کیا ہے؟ اخف، تو اصل میں کیا تھا صیغہ؟ اِحْمَرِرْ، پھر دوسری را تو ہے ہی ساکن، پہلی کو بھی ساکن کر کے ثانی میں کیا کیا؟ ادغام اور پھر ثانی کو کون سی حرکت دے دی؟ فتحہ، کیونکہ فتحہ کیا ہے؟ اخف الحَرَکات اور دوسری را کو کسرہ بھی دے سکتے ہیں، کیونکہ اساکن إذا حرّک حرّک بالکسر، تو اِحْمَرَّ بھی جائز، اِحْمَرّی بھی جائز اور اِحْمَرِرْ بھی جائز، یہی بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں در واحد مذکر امر، امر کے واحد مذکر میں بسَببِ وقف وقف کی وجہ سے اجتماعِ ساکنین شد، کیا آیا؟ اجتماعِ ساکنین، دونوں را ساکن ہو گئے کہ ہر دو را ساکندن، کہ ہر دو را جو ہیں یعنی دونوں را ساکن ہو گئے، گاہے رائے دوم را فتحہ دادند، کبھی تو دوسرے را کو فتحہ دیتے ہیں تو اِحْمَرَّ شد کیا ہو گیا؟ اِحْمَرَّ ہو گیا و گاہے کسرہ اور کبھی کسرہ دیتے ہیں پس اِحْمَرّی شد تو اِحْمَرّی ہو گیا، و گاہے فکّ ادغام کردند اور کبھی فکّ ادغام کرتے ہیں یعنی ادغام کو توڑ دیتے ہیں، ختم کر دیتے ہیں تو اِحْمَرِرْ شد تو کیا ہوا؟ اِحْمَرِرْ ہو گیا لَمْ یَحْمَرَّا، لَمْ یَحْمَرّی و دیگر صیغہ مضارع مجزوم را ہم بریں نمط باید فہمید، لَمْ یَحْمَرَّا و دیگر صیغہ مضارع مجزوم اور مضارع مجزوم کے دوسرے جو صیغے ہیں را ہم ان کو بھی بریں نمط، نمط کہتے ہیں طریقے کو، بریں نمط اسی طریقے پر باید فہمید سمجھ لینا چاہیے۔
کہتے ہیں ہم نے تو ایک صیغہ بیان کر دیا، مضارع کے جہاں جہاں جزم آئے ان سب کو بھی آپ اسی طریقے پر سمجھ لیں، یعنی جہاں بھی اجتماعِ ساکنین آئے آخر میں، تو وہاں فتحہ بھی جائز، کسرہ بھی جائز اور فکّ ادغام بھی جائز اور آخر میں ضمیرِ بارز ہوگی تو اجتماعِ ساکنین آئے گا ہی نہیں۔
اِحْمَرَّ کس صیغے سے بنا؟ یَحْمَرِّ، تِحْمَرِّ نہ، مخاطب کا صیغہ ہے نا! تِحْمَرِّ نہ، اگلا صیغہ لاؤ! یَحْمَرُّ، یَحْمَرُّ، یَحْمَرَّانی، یَحْمَرُّونا، تِحْمَرُّ، تِحْمَرَّانی، تِحْمَرِّینا، تِحْمَرَّانی، تِحْمَرِّنہ، یہ چھ صیغے ہیں، کون کون سے؟ تِحْمَرُّ، تِحْمَرَّانی، تِحْمَرُّونا، تِحْمَرِّینا، تِحْمَرَّانی، تِحْمَرِّنہ، ان چھ صیغوں سے ہم نے امر بنانا ہے اور جہاں بھی اجتماعِ ساکنین آئے گا آخر میں وہاں کتنی صورتیں جائز؟ تین اور جہاں اجتماعِ ساکنین نہیں تو وہاں اور صورتیں جائز بھی نہیں۔ لہٰذا تِحْمَرُّ اس سے کیا بنا؟ امر اِحْمَرَّ، اِحْمَرّی اور اِحْمَرِرْ، اگلا صیغہ کیا ہے؟ تِحْمَرَّانی، اسے میں امر بنانا چاہتا ہوں، آخر سے نونِ اعرابی کو گرا دیا اور شروع میں ہمزہ وصل لے آیا کیا بن گیا؟ اِحْمَرَّا، یہاں اجتماعِ ساکنین آیا؟ نہیں، کیونکہ آخر میں الف ہے، الف سے ماقبل پہلے ہی فتحہ موجود ہے، دوسری را ساکن ہے ہی نہیں۔
تو سب میں آپ غور کر لیں اسی طرح ہے، تو جہاں بھی اجتماعِ ساکنین آیا ہے، اور اجتماعِ ساکنین کہاں کہاں آیا؟ وہ پانچ صیغے جن کے آخر میں ضمیرِ بارز نہیں ہے بھئی۔
یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ لَمْ یَحْمَرَّا و دیگر صیغہ مضارع مجزوم، لَمْ یَحْمَرَّا اور مضارع مجزوم کے دوسرے صیغے جو ہیں را ہم ان کو بھی بریں نمط باید فہمید، اسی طریقے پر ان کو سمجھ لینا چاہیے۔
فائدہ، لامِ ایں باب ہمیشہ مشدد باشد، اس باب کا لام ہمیشہ مشدد ہوتا ہے۔
اس باب کا لام ہمیشہ مشدد ہوگا، ہمیشہ مشدد ہوگا، اِحْمَرَّ، اِفْعَلَّ، یَفْعَلُّ، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ لام پر کیا ہے؟ شد ہے، شد ہے، مگر در ناقص، مگر کس میں؟ ناقص میں کہ وہاں لام مشدد ہونا ضروری نہیں۔ چو اِرْعَاوَ، جیسے اِرْعَاوَ، اِرْعَاوَ بھی اب یہی باب ہے، اصل میں تھا اِرْعَاوَوَ، دونوں جگہ واو تھے، دونوں جگہ واو تھے۔
پھر، اعلان کریں، اِرْعَاوَوَ، واو چوتھی یا اس سے اگلی جگہ پر آئے اور ماقبل حرکت اس کے مخالف ہو، اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے، تو اِرْعَاوَیا، پھر یا متحرک ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے تو کیا بن گیا؟ اِرْعَاوَا، اور یہ بابِ اِحْمِرارِ، افعلال ہے، اور بابِ افعلال میں یہ واو اور واو کا ادغام ہونا چاہیے تھا، کیا ہونا چاہیے تھا؟ ادغام، دو واو تھے یا نہیں؟ اِرْعَاوَوَ، لیکن چونکہ یہ ناقص ہے اور ناقص ہے تو لفیف والے احکام یہاں جاری ہوں گے، کیونکہ دو واو آگئے گویا لفیف جیسی صورت بن گئی، پہلے واو کو کس سے بدلا؟ یا سے تو پھر کس سے بدلا؟ الف سے، تو ایک ہے اعلان ایک ہے ادغام۔
ایک صورت کیا تھی؟ واو کا واو میں کیا کر دیتے؟ ادغام، اور ایک صورت یہ ہے کہ اخری واو میں کیا کرو؟ اعلان کرو، اور یاد رکھو اعلان مقدم ہے ادغام پر، جہاں بھی ایک طرف دیکھیں تو ادغام ہونا چاہیے، دوسری طرف دیکھیں تو اعلان ہونا چاہیے، اِرْعَاوَوَ دو واو جمع ہیں، دیکھا جائے تو ان کا کیا ہونا چاہیے؟ ادغام اور دوسری طرف دیکھیں تو واو چوتھی جگہ سے آگے آ رہا ہے کیا ہونا چاہیے؟ اعلان، تو اعلان اور ادغام جب بھی اکٹھے ہو جائیں، یاد رکھو اعلان مقدم ہے کس پر؟ ادغام پر، تو پہلے اعلان کریں گے، جب اعلان کیا اب ادغام ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ واو تو بدل کر کیا بن گیا؟ یا اور یا سے بدل کر پھر کیا بن گیا؟ الف۔
تو بتلانا یہ چاہ رہے ہیں کہ اس باب کا لام ہمیشہ مشدد ہوتا ہے سوائے کس کے؟ ناقص کے، چو اِرْعَاوَ جیسے اِرْعَاوَ، اِرْعَاوَ کا معنی ہے باز رہنا، کسی چیز سے رک جانا، کسی چیز کو نہ کرنا، چو اِرْعَاوَ کہ درآں با احکامِ لفیف کار بند شاونْد، کہ اس میں لفیف کے جو احکام ہیں ان پر کار بند ہوا جاتا ہے، ان پر عمل کیا جاتا ہے۔
کس کے قوانین پر؟ لفیف کے قوانین پر عمل کیا جاتا ہے کہ واوِ اول را سلامت دارند، کہ پہلے واو کو سلامت رکھتے ہیں و در واوِ دوم تعلیلِ حسبِ قواعدِ ناقص کنند اور دوسرے واو میں تعلیل کرتے ہیں حسبِ قواعدِ ناقص، کس کے قوانین کے مطابق؟ ناقص کے قوانین کے مطابق جیسے ناقص میں یا متحرک ماقبل فتحہ ہو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے، واو چوتھی جگہ ہے اس سے آگے آئے ہے کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے، تو وہاں پر ناقص والے قوانین لگیں گے، بات سمجھ میں آگئی، پھر دوبارہ ترجمہ دیکھ لیں۔
چو اِرْعَاوَ جیسے اِرْعَاوَ کہ درآں با احکامِ لفیف کار بند شاونْد کہ اس میں لفیف کے احکام پر عمل کرتے ہیں کہ واوِ اول را سلامت دارند کہ پہلے واو کو سلامت رکھتے ہیں و در واوِ دوم تعلیلِ حسبِ قواعدِ ناقص کنند اور دوسرے واو میں ناقص کے قوانین کے مطابق تعلیل کرتے ہیں۔
بات سمجھ میں آگئی؟ انہوں نے کیا بیان کیا؟
کہ اس باب کا لام ہمیشہ مشدد ہوتا ہے سوائے کس کے؟ ناقص کے اور اس کی مثال بھی دے دی اِرْعَاوَ، یہی باب ہے لیکن ادغام نہیں ہوا، اِحْمَرَّارا جیسے اِحْمَرَّارا میں تو ادغام کر دیا لیکن یہاں پر ادغام نہیں کیا۔
تو باب ایک ہی ہے، تو کیا ضابطہ بیان کیا؟
کہ اس باب کا لام ہمیشہ مشدد ہوگا مگر ناقص میں مشدد نہیں ہوگا۔
ابواب الصرف میں یہی قانون والد صاحب رحمۃ اللہ نے اور طریقے سے لکھوایا، اور صرف کی کتابوں میں اور طرح ہے وہ کیا کہتے ہیں؟ کہتے ہیں اس باب کا شد لازمی نہیں ہے۔
کیا پڑھا آپ نے وہاں؟ اس باب کا شد لازمی نہیں ہے۔
وہاں آپ نے پڑھا اس باب کا شد لازمی نہیں ہے جیسے اِرْعَاوَ۔
اِرْعَاوَ میں شد ہے؟ نہیں، اگر شد لازمی ہوتا تو اِرْعَاوَ میں بھی کیا آنا چاہیے تھا؟ شد۔
بابِ تفاعل اور بابِ تفعیل کا شد لازمی ہے، وہاں ہمیشہ شد ہی آئے گا۔
صورت سمجھ میں آگئی، حالانکہ یہاں شد ختم ہو جاتا ہے جیسے دیکھو اِحْمَرُّ، اِحْمَرَّانی، اِحْمَرُّونا، تِحْمَرُّ، تِحْمَرَّانی، اِحْمَرِّرْ نہ شد ختم ہو گیا یا نہیں؟ حالانکہ انہوں نے تو کیا کہا؟ لازمی ہے، شد ختم ہوتا ہی نہیں سوائے کس میں ختم ہوگا؟ ناقص۔
اور وہاں کیا پڑھا؟
کہ اس باب کا شد لازمی نہیں، لازمی نہیں ہے، اکثر آتا ہے لیکن کبھی نہیں بھی آتا جیسے لم، جیسے اِحْمَرِرْنَا، اس میں شد نہیں آیا، ہاں بابِ تفعیل اور بابِ تفاعل کا شد لازمی ہے، ہر صیغے میں شد آئے گا۔
جیسے کرَّم، یُکَرِّمُ، تَکْرِیْمًا، الامر منہ، کرِّمْ یا یُکَرِّمُ، یُکَرِّمُ، یُکَرِّمَانِ، یُکَرِّمُوْنَ، تُکَرِّمُ، تُکَرِّمَانِ، یُکَرِّمْنَا، تُکَرِّمُ، تُکَرِّمَانِ، تُکَرِّمُوْنَ، تُکَرِّمِيْنَ، تُکَرِّمَانِ، تُکَرِّمْنَا، اُکَرِّمُ، نُکَرِّمُ، دیکھو ہر جگہ شد آ رہا ہے یا بابِ تفاعل میں چلے جاؤ یَتَصَرَّفُ، یَتَصَرَّفَانِ، یَتَصَرَّفُوْنَ، تَتَصَرَّفُ، تَتَصَرَّفَانِ، یَتَصَرَّفْنَا، تَتَصَرَّفُ، تَتَصَرَّفَانِ، تَتَصَرَّفُوْنَ، تَتَصَرَّفِیْنَ، تَتَصَرَّفَانِ، تَتَصَرَّفْنَا، أَتَصَرَّفُ، نَتَصَرَّفُ، کہیں شد نہیں جا رہا، شد لازمی ہے، ہر جگہ آئے گا، صورت سمجھ میں آگئی، تو وہاں قانون کیا ذکر ہوا؟
اس باب کا شد لازمی، یہ بابِ افعلال کا شد لازمی نہیں، جبکہ بابِ تفعیل اور بابِ تفاعل کا شد لازمی ہے۔
بات سمجھ میں آگئی۔
اچھا جی آگے دیکھیے کتاب میں،
بابِ پنجم، اِفْعِیْلَالَ، علامتِ آن تکرارِ لام است، اس باب کی علامت بھی کیا ہے؟ لام کا تکرار ہے، لام کا تکرار، ایک ہے بابِ افعلال جو ہم نے ابھی پڑھ لیا اِحْمِرار اور ایک ہے بابِ اِفْعِیْلال، یہ جو اب ہم پڑھ رہے ہیں بابِ اِفْعِیْلال، اس کی علامت بھی کیا ہے تکرارِ لام، با زیادَتِ الف قبلِ لامِ اول، الف کی زیادتی کے ساتھ قبلِ لامِ اول، لامِ اول سے پہلے لامِ اول سے پہلے الف کی زیادتی ہے اِحْمَارَّ ماضی کی بات کر رہے ہیں، مصدر پہ ابھی نہ جائیں، ماضی کی بات، ابھی پچھلا باب کیا پڑھا؟ اِحْمَرَّ، اِفْعَلَّ، لام سے پہلے عین ہے، الف نہیں، لیکن اِحْمَارَّ، اِفْعَالَ، لام اول سے پہلے کیا ہے؟ عین ہے، اِفْعَالَ، لامِ اول سے پہلے کیا ہے؟ الف ہے، اِحْمَارَّ ماضی کی بات ہو رہی ہے اور یہی الف مصدر میں یا سے بدل جائے گا، اِحْمِیْرَارًا، اِحْمِیْرَارًا، یہ الف تھا یہ یا نہیں تھی کیا تھا؟ الف لیکن اس سے ماقبل میم پر کیا آ گیا؟ کسرہ، عین پر کیا آ گیا؟ کسرہ، اس کسرے کی وجہ سے الف کس سے بدلا؟ یا سے، بات سمجھ میں آگئی، یہی بیان کر رہے ہیں دیکھئے بھئی، کہتے ہیں علامتِ آن تکرارِ لام است اس باب کی علامت تکرارِ لام ہے با زیادَتِ الف قبلِ لامِ اول، لامِ اول سے پہلے الف کی زیادتی کے ساتھ، کہ آن الف در مصدر بایہ بدل شد، کہ وہ الف مصدر میں یا سے بدل گیا ہے، چو اِیدھیماموت سخت سیاہ شدن، سخت کالا ہونا، سخت سیاہ ہونا، خوب گہرا کالا ہو تو اس کے لیے بھی امام کہتے ہیں۔
تصریف ہو گردان بھئی، اِدْحَامَّ، یَدْحَامُّ، مُئْدھیماماً فَھُوَمُدْحَامٌّ، الامر منہ اِدْحَامَّ، مَا اِدْحَامَّ، مِیْدْحَامٌّ، والنہی عنہ لا تَدْحَامَّ، وَلاَ تَدْحَامَّ، مِیلا تَدْحَامَّ، الظرف منہ مُدْحَامٌّ۔
اِدْحَامَّ سے یہ باب سناؤ بھئی گردان جیسی آپ نے ابوب الصرف میں پڑھی ہے۔
اِدْحَامَّ، یَدْحَامُّ، مُئْدھیماماً فَھُوَمُدْحَامٌّ، وَاِدْحَوْمَ، مَیْدْحَامَّ، مِیْدْحَامٌّ، فَذَاكَ مُدْحَامٌّ، لَمْ یَدْحَامَّ، وَلَمْ یَدْحَامَّ، وِلَمْ یَدْحَامَّ مِمْ لَمْ یَدْحَامَّ، وِلَمْ یَدْحَامَّ مِمْ لَمْ یَدْحَامَّ، وِلَمْ یَدْحَامِّمْ، لَا تَدْحَامَّ، وَلَا تَدْحَامَّ، وَلَا تَدْحَامَّ مِمْ لَا تَدْحَامَّ مِمْ لَا تَدْحَامَّ مِمْ، لَا تَدْحَامَّ، وَلَا تَدْحَامَّ، وَلَا تَدْحَامَّ مِمْ لَا تَدْحَامَّ مِمْ لَا تَدْحَامَّ مِمْ، وَالظَّرْفُ مِنْهُ مُدْحَامٌّ، مُدْحَامَّانِ۔
ہاں شاباش بھئی شاباش، جی اِدْحَامَّ، ماضی سناؤ، اِدْحَامَّ، اِدْحَامَّ، اِدْحَامُّوْا، اِدْحَامَّتْ، اِدْحَامَّتَا، اِدْحَامَمْنَا، اِدْحَامَمْتَ، اِدْحَامَمْتُمَا، اِدْحَامَمْتُمْ، اِدْحَامَمْتِ، اِدْحَامَمْتُمَا، اِدْحَامَمْتُنَّ، اِدْحَامَمْتُ، اِدْحَامَمْنَا۔
شاباش، جی۔
یَدْحَامُّ، یَدْحَامّانِ، یَدْحَامُّوْنَ، تَدْحَامُّ، تَدْحَامّانِ، یَدْحَامْمْنَا، تَدْحَامُّ، تَدْحَامّانِ، تَدْحَامُّوْنَ، تَدْحَامِّيْنَ، تَدْحَامّانِ، تَدْحَامْمْنَا، أَدْحَامُّ، نَدْحَامُّ۔
شاباش، شاباش، امر سناؤ بھئی، اِدْحَامَّ، اِدْحَامَّ، اِدْحَامُّو، اِدْحَامِّي، اِدْحَامَّ، اِدْحَامْمْنَا۔
شاباش، نہی سناؤ، لَا تَدْحَامَّ، وَلاَ تَدْحَامَّ، وَلاَ تَدْحَامُّوْا، وَلاَ تَدْحَامِّي، وَلاَ تَدْحَامَّ، وَلاَ تَدْحَامْمْنَا۔
شاباش، شاباش، جی۔
تو کہتے ہیں چو اِیدھیمامو سخت سیاہ شدن، سخت کالا ہونا، سخت سیاہ ہونا، تصریفہ اس کی گردان اِدْحَامَّ، یَدْحَامُّ، مُئْدھیماماً فَھُوَمُدْحَامٌّ، اَلاَمْرُ مِنْہُ اِدْحَامَّ، مَا اِدْحَامَّ، مِیْدْحَامٌّ، والنَّھْیُ عَنْہُ لَا تَدْحَامَّ، وَلاَ تَدْحَامَّ، مِیلا تَدْحَامَّ مِمْ، اَلضَّرْفُ مِنْہُ مُدْحَامٌّ۔
ادغام در صیغہ ایں باب مثلِ صیغہ بابِ اِفْعِلَال گردیدہ۔
اِفْعَالَّ ہے آپ کی کتابوں میں؟ ہاں۔
افعلال ہونا چاہے۔ یہ افعلال کی طرح ہے، افعال کی طرح نہیں ہے یہ۔ کہتے ہیں ادغام۔ اچھا اس اس باب کے صیغوں میں بھی کیا ہوا؟ ادغام۔ اور باب افعلال جو پچھلا باب ہوا اس میں بھی کیا ہوا؟ ادغام۔ بتانا یہ چاہتے ہیں، اس میں بھی اسی طرح ادغام ہوا ہے جیسے اس میں کیا تھا؟ ادغام تھا۔ تو کہتے ہیں ادغام در صیغہ ای باب، اس باب کے صیغوں کے اندر ادغام جو ہے مثل صیغہ باب افعلال گردیدہ، کس کی طرح ہوا ہے؟ باب افعلال کے صیغوں کی طرح ہوا ہے۔ ہر صیغہ را بقیاس مشاکل خود اصل بر آوردہ تعلیل میں باید کرد۔
ترجمہ سن لو بھئی، یہ مشکل لفظ ہیں بھئی۔ ہر صیغہ را، ہر صیغے کو بقیاس مشاکل خود اپنے ہم شکل کے پر قیاس کرتے ہوئے۔ کس پر؟ اپنے ہم شکل کے قیاس کرتے ہوئے۔ مثلاً بتانا یہ چاہتے ہیں، احمرَّ اصل میں کیا تھا؟ احمرار۔ تو احمارَّ بھی اسی کا ہم شکل ہے، صرف درمیان میں کیا زیادہ ہے؟ الف۔ تو اسی طرح، اصل میں احمارَّ اصل میں کیا تھا؟ احمارر۔ اچھا، يحمرُّ اصل میں کیا تھا؟ يحمرِرُ۔ تو يحمارُّ اصل میں کیا تھا؟ يحمارِرُ۔ اس طرح کہہ رہے ہیں، اپنے ہم شکل کے ساتھ قیاس کرتے ہوئے ہر ایک کی اصل نکالتے جاؤ اور پھر اعلال کرتے جاؤ کہ کیسے ادغام ہوا۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ احمارَّ اصل میں کیا تھا؟ احمارر۔ پھر کیا کیا؟ را کا، اول را کو ساکن کر کے را ثانی میں ادغام کیا احمارَّ۔ يحمارُّ اصل میں کیا تھا؟ يحمارِرُ۔ پہلے را کو ساکن کر کے ثانی میں ادغام کیا يحمارُّ ہوا۔ الامر منہ احمارَّ۔ احمارَّ، امر میں کتنی صورتیں ہیں؟ احمارَّ، احمارِّ اور احمارِر۔ اصل میں کیا تھا؟ احمارِر۔ ادھر کیا تھا اصل میں؟ احمرار۔ ادھر اصل میں کیا ہے؟ احمارِر۔ پھر کیا کیا؟ را اول کو ساکن کر کے ثانی میں ادغام، احمارّ۔ اور پھر ثانی پر زبر پڑا، کیوں؟ کیونکہ اجتماع ساکنین آیا، حرکت تو دینی ہے۔ پہلی را بھی ساکن ہے، دوسری بھی ساکن ہے، تو دوسری را کو زبر دیں گے، کیوں؟ کیونکہ فتحہ اخف الحرکات ہے۔ اور زیر بھی دے سکتے ہیں، کیونکہ الساکن اذا حرک حرک بالکسر۔ تو احمارَّ، احمارِّ اور احمارِر۔ تو دیکھا، اسی اپنے ہم شکلوں پر قیاس کر کے آپ سارے صیغوں کی یہاں تعلیلات کر سکتے ہیں۔ باب افعلال میں جیسے کیا ہے، افعیلال میں بھی اسی طرح ہوگا۔
یہی بیان کر رہے ہیں کہ ہر صیغہ را بقیاس مشاکل خود، بقیاس مشاکل خود، ہر صیغے کو، مشاکل: ہم شکل۔ مشاکل خود: اپنے ہم شکل۔ ہر صیغے کو اپنے ہم شکل پر قیاس کرتے ہوئے اصل بر آوردہ، کیا کریں؟ اس کی اصل نکال کر تعلیل میں باید کرد، اس کی تعلیل کر لینی چاہیے۔ و دریں ہر دو باب بمعنائے لون و عیب بیشتر آید، اور ان دونوں بابوں میں لون اور عیب والے معنی زیادہ آتے ہیں، باب افعلال اور افعیلال۔ دیکھا، احمرَّ اس کا معنیٰ سرخ ہونا، احمارَّ معنیٰ زیادہ سرخ ہونا۔ تو زیادہ تر ان دو بابوں سے لون یعنی رنگ کا بھی ذکر آئے گا ان میں اور عیب کا ذکر آئے گا۔
و ایں ہر دو باب ہمیشہ لازم باشن، اور یہ دونوں باب ہمیشہ کیا ہوں گے؟ لازم۔ صرف یہ دونوں نہیں، بلکہ باب انفعال جو پیچھے گزرا وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ لازم۔ آگے باب افعیعال آ رہا ہے، وہ بھی اکثر اکثر کیا ہوتا ہے؟ لازم۔ یہ چاروں باب اکثر لازم ہوتے ہیں، صرف باب افعیعال سے ایک دو لفظ آئے ہیں جو متعدی ہیں، ورنہ یہ سارے باب کیا ہیں ہمیشہ؟ لازم، یہ چاروں باب۔ کون کون سے؟ باب انفعال، باب افعلال، باب افعیلال اور باب افعیعال۔
آگے دیکھیے، باب ششم: افعیعال۔ علامت آن تکرار عین است بتوسط واؤ میان دو عین۔ افعیعال اصل میں کیا تھا؟ افعیوعال، یا کی جگہ واؤ تھا۔ اخشوشَنَ، واؤ ہے یا نہیں درمیان میں؟ پھر مصدر میں یہی واؤ کس سے بدل گیا؟ یا سے، اخشیشان۔ کس سے؟ یا سے۔ کیوں؟ کیونکہ یا، واؤ سے ماقبل کیا آیا؟ کسرہ۔ تو واؤ کس سے بدلا؟ یا سے، اخشیشان ہوا۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟
تو کہتے ہیں: علامت آن تکرار عین است، اس باب کی علامت عین کا تکرار ہے۔ عین دو دفعہ آیا ہے، اور ان میں سے ایک عین اصلی ہے اور ایک زائد۔ لیکن اخشوشَنَ، دونوں عینوں کی جگہ کیا آ رہا ہے؟ شین۔ تو دونوں، ان میں سے ایک اصلی ہے اور ایک زائد۔ اور جو اصلی ہے اس کو کس سے ذکر کریں گے؟ اس کا وزن کس سے نکالیں گے؟ عین سے۔ تو دوسرے کا وزن بھی عین ہی سے بتاتے ہیں، کیونکہ دونوں حرف ایک جنس والے ہیں۔ ورنہ ان میں سے ایک عین اصلی ہے اور ایک زائد۔
تو کہتے ہیں: علامت آن تکرار عین است، اس باب کی علامت تکرار عین ہے۔ بتوسط واؤ میان دو عین، ساتھ واؤ بیچ میں دو عینوں کے۔ دونوں عینوں کے بیچ میں کیا ہے؟ واؤ ہے، اخشوشَنَ ماضی میں دیکھ لیں۔ و آن واؤ در مصدر بسبب کسرہ ماقبل بایا بدل شدہ، اور وہ واؤ مصدر میں ماقبل کے کسرہ کی وجہ سے یا سے بدل گیا، چون الاخشیشانُ، جیسے اخشیشان، سخت درشت شدن، سخت کھردرا ہونا۔ کھردرا، ایک ہے ہموار چیز اور ایک ہے کھرصری ہو ذرا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اونچی نیچی ہے، برابر نہیں ہے۔
جی، اخشوشَنَ کی گردان سنائیے جس طرح ابواب الصرف میں آپ نے پڑھی:
اخشوشن یخشوشن اخشیشانا فہو مخشوشن و اخشوشن یخشوشن اخشیشانا فذاک مخشوشن لم یخشوشن لم یخشوشن لا یخشوشن لا یخشوشن لن یخشوشن لن یخشوشن الامر منہ اخشوشن لتخشوشن لیخشوشن لیخشوشن والنہئ عنہ لا تخشوشن لا تخشوشن لا یخشوشن لا یخشوشن والظرف منہ مخشوشن مخشوشنان۔ شاباش!
ماضی سناؤ اخشوشن:
اخشوشن اخشوشنا اخشوشنوا اخشوشنت اخشوشنتا اخشوشنن اخشوشنت اخشوشنتما اخشوشنتم اخشوشنت اخشوشنتما اخشوشنتن اخشوشنت اخشوشنا۔ شاباش!
یخشوشن:
یخشوشن یخشوشنان یخشوشنون تخشوشن تخشوشنان یخشوشنن تخشوشن تخشوشنان تخشوشنون تخشوشنین تخشوشنان تخشوشنن اخشوشن نخشوشن۔ شاباش!
اخشوشن امر:
اخشوشن اخشوشنا اخشوشنوا اخشوشنی اخشوشنا اخشوشنن۔
لا تخشوشن:
لا تخشوشن لا تخشوشنا لا تخشوشنوا لا تخشوشنی لا تخشوشنا لا تخشوشنن۔ شاباش!
کتاب میں دیکھیے بھئی، تصریف ہوا اس کی گردان:
اخشوشن یخشوشن اخشیشانا فہو مخشوشن الامر منہ اخشوشن والنہئ عنہ لا تخشوشن الظرف منہ مخشوشن۔
ایں باب بیشتر لازم می آید، یہ باب بھی زیادہ تر لازم آتا ہے، وگاہے متعدی آمدہ، اور کبھی متعدی بھی آیا ہے، چون احلولتہ، جیسے احلولتہ۔ یہ دیکھو، احلولیتُ یہ صیغہ ہے اور ہا ضمیر ساتھ جڑ گئی۔ یہ ہا ضمیر مفعول کی ہے۔ لغت کی کتابوں میں مفعول اس طرح بتاتے ہیں، ہا ضمیر ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ ضربتُہ، کیا معنیٰ؟ یہ ہا سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ مفعول، یہ مفعول ہے، متعدی ہے۔ نصرتُہ، یہ ہا کیا بتا رہی ہے؟ یہ مفعول ہے، یعنی یہ متعدی آتا ہے۔ تو احلولتہ، یہ ہا اس لیے ساتھ جوڑ دی۔ احلولتہ: میں نے اس کو میٹھا پایا، میٹھا سمجھا۔ شیریں پنداشتم۔ شیریں: میٹھا، پنداشتم: سمجھنا، سمجھنا۔ شیریں پنداشتم: میں نے اس کو میٹھا سمجھا۔ مطلب آپ نے کوئی چیز کھائی، کسی نے آپ سے پوچھا بھئی کیسی تھی وہ چیز؟ آپ کہتے ہیں احلولتہ، میں نے تو اس کو میٹھا پایا، یعنی مجھے تو میٹھی لگی تھی، اچھی لگی تھی۔ شیریں پنداشتم آنرا، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ شیریں سمجھا آنرا: میں نے اس کو، میں نے اس کو میٹھا سمجھا۔
باب ہفتم، ساتواں باب: افعیوال، باب افعیوال۔ علامت آن واؤ مشدد است، اس باب کی علامت کیا ہے؟ واؤ مشدد ہے، یعنی واؤ مشدد اس میں آتا ہے۔ بعد عین، کس کے بعد؟ عین کے بعد، چون الاجلوّاذُ، جیسے اجلوّاذ، شتافتن۔ شین کے نیچے زیر پڑھنا، شتافتن۔ شتافتن کا معنیٰ ہے دوڑنا، دوڑنا۔ آپ نے کیا پڑھا؟ چون الاجلوّاذُ برشتاب رفتن، تیز چلنا۔ اجلوّاذ کا اصل معنیٰ تیز چلنا ہے، دوڑنا نہیں۔ لیکن انہوں نے کیا کہا؟ شتافتن: دوڑنا۔ غالباً مراد ہوگی، جب انسان تیز چلتا ہے تو تھوڑی ہلکی سی دوڑ نما جیسی حالت بن جاتی ہے یا نہیں؟ تو بس اس وجہ سے اس کو دوڑنا کہہ دیا، ورنہ دوڑنے کو نہیں کہتے، اجلوّاذ کیا کہتے ہیں؟ تیز چلنا۔
تصریفہ، اس کی گردان بھئی:
اجلوَّذَ یجلوِّذُ اجلوّاذًا فہو مجلوِّذٌ الامر منہ اجلوِذ والنہئ عنہ لا تجلوِذ الظرف منہ مجلوَّذٌ۔
جی، اجلوَّذَ کی گردان سنائیے جس طرح آپ نے ابواب الصرف میں پڑھی:
اجلوذ یجلوذ اجلو اذا فہو مجلوذ و اجلوذ یجلوذ اجلو اذا فذاک مجلوذ لم یجلوذ لم یجلوذ لا یجلوذ لا یجلوذ لن یجلوذ لن یجلوذ الامر منہ اجلوذ لتجلوذ لیجلوذ لیجلوذ والنہئ عنہ لا تجلوذ لا تجلوذ لا یجلوذ لا یجلوذ والظرف منہ مجلوذ مجلوذان۔ شاباش!
اجلوَّذَ ماضی سناؤ:
اجلوذ اجلوذا اجلوذوا اجلوذت اجلوذتا اجلوذن اجلوذت اجلوذتما اجلوذتم اجلوذت اجلوذتما اجلوذتن اجلوذت اجلوذنا۔
یجلوِّذُ:
یجلوذ یجلوذان یجلوذون تجلوذ تجلوذان یجلوذن تجلوذ تجلوذان تجلوذون تجلوذین تجلوذان تجلوذن اجلوذ نجلوذ۔ شاباش، شاباش بھئی!
اجلوِذ امر:
اجلوذ اجلوذا اجلوذوا اجلوذی اجلوذا اجلوذن۔ جی۔
لا تجلوِذ:
لا تجلوذ لا تجلوذا لا تجلوذوا لا تجلوذی لا تجلوذا لا تجلوذن۔ شاباش، شاباش!
ساری گردانیں میں نہیں سن رہا بھئی، کیونکہ یہ سارے آپ کو یاد ہیں۔ بہرحال، تھوڑا سا کم از کم ذہن میں تازہ ہو جائیں، وقت زیادہ لگ جائے گا۔ ورنہ تو طریقہ یہی ہے کہ صرفِ صغیر کے بعد سارے کبیر سنی جائیں جتنی بھی صرفِ صغیر میں آئی ہیں بھئی۔
اب آئیے بھئی، اردو کی کتاب میں پڑھ لیجیے بھئی۔
قاعدہ: اگر فائے افتعال دال یا ذال یا زا ہو تو— عبارت مل گئی بھئی؟ اردو کی کتاب میں دیکھیے بھئی۔ قاعدہ: اگر فائے افتعال دال یا ذال یا زا ہو تو تائے افتعال دال سے بدل جاتی ہے۔ پھر اس میں فا کلمہ کی دال تو وجوباً مدغم ہو جاتی ہے جیسے ادَّعی۔ اور ذال کی تین حالتیں ہیں: کبھی دال سے بدل کر دال میں مدغم ہو جاتی ہے جیسے ادَّکر، اور کبھی دال کو ذال سے بدل کر فا کلمہ کو اس میں مدغم کر دیتے ہیں جیسے اذَّکر، اور کبھی بے ادغام رہنے دیتے ہیں جیسے اذتکر۔ اور زا کی دو حالتیں ہیں: کبھی بے ادغام رکھتے ہیں جیسے ازتجر، اور کبھی دال کو زا بنا کر فا کلمہ کی زا کو اس میں مدغم کر دیتے ہیں جیسے ازَّجر۔
قاعدہ نمبر 2: اگر فائے افتعال صاد یا ضاد یا طاء یا ظاء ہو تو تائے افتعال طاء سے بدل جاتی ہے۔ پھر طاء تو وجوباً مدغم ہو جاتی ہے جیسے اطَّلب۔ اور ظاء کبھی طاء ہو کر مدغم ہو جاتی ہے جیسے اطَّلم، اور کبھی بے ادغام ہی رہتی ہے جیسے اظطلم، اور کبھی طاء کو ظاء کر کے ادغام کر دیتے ہیں جیسے اظَّلم۔ اور صاد اور ضاد بے ادغام رہتے ہیں جیسے اصطبر اور اضطرب۔ اور کبھی طاء کو صاد یا ضاد سے بدل کر ادغام کر دیتے ہیں جیسے اصَّبر اور اضَّرب۔
قاعدہ نمبر 3: اگر فائے افتعال ثاء ہو تو جائز ہے کہ تا کو ثاء سے بدل کر ادغام کر دیں جیسے اثَّار۔
قاعدہ: عینِ افتعال اگر تا، ثا، جیم، زا، دال، ذال، سین، شین، صاد، ضاد، طاء یا ظاء ہو جیسے اختصم اور اہتدی میں، تو تائے افتعال کو ہم جنسِ عین کر کے اس کی حرکت ماقبل کو دے کر ادغام کر دیتے ہیں۔ اور ہمزہ وصل گر جاتا ہے۔ پس خَصَّمَ اور ہَدَّى ہو جائے گا، اور مضارع یَخَصِّمُ اور یَہَدِّي۔ اور کسرہ فا بھی جائز ہے جیسے خِصَّمَ یا خِصِّمُ، اور ہِدَّى یا ہِدِّي۔ یَخِصِّمُونَ اور یَہِدِّي جو قرآن مجید میں آیا ہے، اسی باب سے ہے۔ اور اسمِ فاعل میں ضمہ فا بھی آیا ہے: مُخَصِّمٌ، مُخُصِّمٌ، مُخِصِّمٌ، تینوں حرکتیں جائز ہیں۔
بابِ دوم: استفعال۔ اس کی علامت سین اور تا کا فا سے پہلے زائد ہونا ہے، جیسے الاستنصارُ: مدد طلب کرنا، مدد مانگنا۔ تصریفہ: استنصر یستنصر استنصارًا فہو مستنصرٌ، و استنصر یستنصر استنصارًا فہو مستنصرٌ، الامر منہ استنصر والنہئ عنہ لا تستنصر، الظرف منہ مستنصرٌ۔
فائدہ: استطاع یستطیع میں جائز ہے کہ تائے استفعال حذف کر دی جائے۔ قرآن مجید میں فَمَا اسْطَاعُوا اور مَا لَمْ تَسْطِعْ اسی باب سے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہر بابِ استفعال کی تا نہیں حذف کر سکتے، صرف استطاع یستطیع کی تا حذف کر سکتے ہیں۔
آگے دیکھیے کتاب میں، بابِ سوم: انفعال۔ اس کی علامت فا سے پہلے نون کا زائد ہونا ہے، اور یہ باب ہمیشہ لازم آتا ہے جیسے الانفطارُ: پھٹنا۔ تصریفہ: انفطر ینفطر انفطارًا فہو منفطرٌ، الامر منہ انفطر والنہئ عنہ لا تنفطر، الظرف منہ منفطرٌ۔ جس لفظ کا فا کلمہ نون ہو، وہ بابِ انفعال سے نہیں آتا، بلکہ انفعال کے معنیٰ ادا کرنا مقصود ہوں تو اسے بابِ افتعال میں لے جاتے ہیں جیسے انتکس: سرنگوں ہونا، اوندھے منہ ہونا۔
بابِ چہارم: افعلال۔ اس کی علامت تکرارِ لام اور ہمزہ وصل کے بعد ماضی میں چار حرف ہونا ہے، جیسے الاحمرارُ: سرخ ہونا۔ تصریفہ، اس کی گردان: احمرَّ يحمرُّ احمرارًا فہو محمرٌّ، الامر منہ احمرَّ احمرِّ احمارِر والنہئ عنہ لا تحمرَّ لا تحمرِّ لا تحمارِر، الظرف منہ محمرٌّ۔ احمرَّ دراصل احمرَرَ تھا۔ دو حرف ایک جنس کے جمع ہو گئے، اول کو ساکن کر کے دوسرے میں ادغام کر دیا، احمرَّ ہو گیا۔ يحمرُّ، محمرٌّ، اور ان جیسے دوسرے صیغوں کی تعلیل بھی اسی طرح ہے۔
امر واحد مذکر میں وقف کی وجہ سے اجتماعِ ساکنین ہو گیا، کیونکہ دونوں را ساکن ہو گئیں۔ تو کبھی دوسری را کو فتحہ دیا تو احمرَّ ہو گیا، اور کبھی کسرہ دیا تو احمرِّ ہو گیا، اور کبھی فکِ ادغام کیا تو احمارِر ہو گیا۔ لم يحمرَّ، لم يحمرِّ اور مضارع مجزوم کے دوسرے صیغوں کو بھی اسی طرح سمجھ لینا چاہیے۔
فائدہ: اس باب کا لام ہمیشہ مشدد ہوتا ہے، سوائے ناقص کے کہ اس میں لفیف کے احکام پر عمل کیا جاتا ہے جیسے ارعوی، کہ واؤ اول کو سالم رکھتے ہیں اور دوسرے واؤ میں ناقص کے قواعد کے مطابق تعلیلات کرتے ہیں۔
بابِ پنجم: افعیلال۔ اس کی علامت تکرارِ لام اور لامِ اول سے پہلے الف کا زائد ہونا ہے۔ یہ الف مصدر میں یا سے بدل جاتا ہے، جیسے الدہیمامُ: سخت سیاہ ہونا۔ تصریفہ، اس کی گردان بھئی: ادہامَّ یدہامُّ ادہیمامًا فہو مدہامٌّ، الامر منہ ادہامَّ ادہامِّ ادہامِم والنہئ عنہ لا تدہامَّ لا تدہامِّ لا تدہامِم، الظرف منہ مدہامٌّ۔ اس باب کے صیغوں میں ادغام بابِ افعلال کے صیغوں کی طرح ہوا ہے۔ ہر صیغہ کی تعلیل اس کی نظیر کے طرز پر اصل نکال کر کر لینا چاہیے۔ ان دونوں بابوں میں زیادہ تر لون اور عیب کے معنیٰ آتے ہیں اور یہ دونوں ہمیشہ لازم ہوتے ہیں۔
بابِ ششم: افعیعال۔ اس کی علامت تکرارِ عین اور دو عین کے درمیان واؤ کا آنا ہے۔ یہ واؤ مصدر میں کسرہ ماقبل کے باعث یا سے بدل گیا ہے، جیسے الاخشیشانُ: سخت کھردرا ہونا۔ تصریفہ: اخشوشن یخشوشن اخشیشانًا فہو مخشوشنٌ، الامر منہ اخشوشن والنہئ عنہ لا تخشوشن، الظرف منہ مخشوشنٌ۔ یہ باب اکثر لازم ہوتا ہے اور کبھی متعدی بھی آ جاتا ہے، جیسے احلولیتُہ: میں نے اسے شیریں سمجھا۔
بابِ ہفتم: افعیوال۔ اس کی علامت واؤ مشدد بعدِ عین ہے، جیسے الاجلوّاذُ: دوڑنا۔ تصریفہ: اجلوَّذَ یجلوِّذُ اجلوّاذًا فہو مجلوِّذٌ، الامر منہ اجلوِذ والنہئ عنہ لا تجلوِذ، الظرف منہ مجلوَّذٌ۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ سارا حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔