آگے دیکھیے بھئی کتاب پر باب دوم در بیان ابواب مشتمل بر چہار فصل۔
فصل اول در ابواب ثلاثی مجرد چون از بیان صیغہ افعال مشتقات فارغ شدیم حالا بیان ابواب کرتے ہیں۔
از بیان سابق دانیستی کہ ثلاثی مجرد را شش باب است۔
باب اول فاعل یفعل بفتح عین ماضی و ضم عین غابر یعنی مضارع۔
غابر بہ معنی باقی است۔
بعد زمانہ ماضی حال و استقبال کہ مضارع بر آن دلالت دارد باقی میماند لہذا مضارع را غابر گویند۔
اچھا بھئی یہ دوسرا باب شروع ہو رہا ہے۔
مصنف رحمہ اللہ نے آپ کو کتاب کے آغاز میں بتلایا تھا کہ میری یہ کتاب یہ میرا مختصر رسالہ ایک مقدمے، چار بابوں اور ایک خاتمے پر مشتمل ہو گا۔
تو سب سے پہلے انہوں نے مقدمے کا ذکر کیا اور اس میں آپ کو بتلایا کہ اسم کسے کہتے ہیں، فعل کسے کہتے ہیں، حرف کسے کہتے ہیں، ماضی کسے کہتے ہیں، مضارع کسے کہتے ہیں، امر کسے کہتے ہیں اور اسی طرح ہفت اقسام جو ہیں صحیح است و مثال است و مضاف لفیف ناقص و محموز و اجوف ان کے بارے میں بتایا اور اسی طرح ثلاثی مجرد، ثلاثی مزید فی، رباعی مجرد، رباعی مزید فی وغیرہ کے بارے میں آپ کو بتلایا۔
اور پھر اس کے بعد پہلا باب شروع ہوا تھا، پہلا باب دو فصلوں پر مشتمل تھا بھئی۔
پہلی فصل کے اندر فعل کی گردانیں ذکر ہوئیں بھئی ماضی، مضارع، امر وغیرہ یہ گردانیں ذکر ہوئیں۔
اور پھر پہلے باب کی دوسری فصل کے اندر اسمائے مشتقہ کا بیان ہوا تھا کہ اسمائے مشتقہ کون کون سے ہیں اس میں فاعل ہے، اس میں مفعول ہے، صفت مشبہ ہے، اس میں تفضیل ہے وغیرہ بھئی۔
اور پھر اس کے آخر میں ثلاثی مجرد سے آنے والے جو مصدر کے اوزان ہیں ان کو بھی ایک نظم کی صورت میں انہوں نے جمع کیا بھئی اور اس میں کوئی چوالیس اوزان انہوں نے ذکر کیے بھئی۔
لیکن میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہی چوالیس اوزان نہیں ہیں اس کے علاوہ بھی مزید اوزان بھی ہیں ثلاثی مجرد کے، مصدر کے۔
آخری سبق میں کچھ فائدے انہوں نے ذکر کیے تھے کہ ایک تو یہ بتلایا تھا کہ مبالغے کے لیے کچھ صیغے استعمال ہوتے ہیں جیسے فعال، فعّال، فاعل اور فعیل وغیرہ۔
लेकिन याद रखिए, मुबालغے کے صرف یہی اوزان نہیں ہیں بھئی، مبالغے کے اور بھی اوزان ہیں، یہاں انہوں نے دو چار ذکر کر کے اس کی وضاحت کر دی۔
اور اسی طرح اسی مبالغے کے صیغے کے آخر میں کبھی گول تا بھی ملا دی جاتی ہے جیسے علامہ۔
اب یہ علامہ کے آخر میں جو تا ہے یہ تانیث کے لیے نہیں ہے بھئی، تانیث کے لیے نہیں ہے بلکہ مبالغے میں زیادتی کے لیے یہ تا ساتھ ملاتے ہیں۔
تو لہذا اسی لیے کہتے ہیں زید علامہ۔
دیکھا! زید کے لیے خبر کیا لائے؟ علامہ۔
تو اب یہ اعتراض نہ ہو کہ علامہ تو مؤنث ہے بھئی، نہیں بھئی! یہ جو گول تا ہے یہ تانیث کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ کس لیے ہے؟ مبالغے میں زیادتی کے لیے۔
ایک صیغہ مبالغے والا، پھر گول تا بھی مبالغے کے لیے آگئی تو یعنی مبالغہ در مبالغہ ہوا، یعنی خوب زیادتی بیان ہو گئی۔
تو زید علامہ، زید بہت زیادہ جاننے والا ہے۔
یعنی بہت بڑا عالم ہے۔
معنى سمجھ میں آیا بھئی؟
جی۔
پھر اس کے بعد انہوں نے فرق بتلایا تھا کہ مبالغے کے صیغے کے ذریعے بھی زیادتی بیان ہوتی ہے، اس میں تفضیل کے ذریعے بھی زیادتی بیان ہوتی ہے، تو فرق بیان کیا تھا کہ اس میں تفضیل کے ذریعے جو زیادتی بیان ہوتی ہے وہ کسی دوسرے کے مقابلے میں بیان ہوتی ہے اور مبالغے کے صیغے میں جو زیادتی بیان ہوتی ہے وہ مطلقا بیان ہوتی ہے، وہاں کسی کے ساتھ مقابلہ مقصود نہیں ہوتا بھئی، مقابلہ مقصود نہیں ہوتا۔
اس کے بعد انہوں نے وزن فاعل سے متعلق ایک دو فائدے ذکر کیے تھے۔
آپ نے تو پڑھا کہ فاعل وزن جو ہے یہ اسم فاعل کا ہے، کس کا ہے؟ اسم فاعل کا ہے۔
اسم فاعل۔
لیکن انہوں نے آپ کو بتلایا کہ فاعل وزن کبھی کبھار درجہ بتلانے کے لیے بھی آتا ہے، مرتبہ بتلانے کے لیے بھی آتا ہے اور وہ عدد کے اندر آتا ہے جیسے خمسہ کا معنی پانچ، لیکن اسی سے فاعل وزن بنا لو خامس، تو خامس کا معنی پانچویں مرتبے والا، پانچویں درجے والا یعنی یوں کہو پانچواں، پانچواں۔
سادس کا معنی چھٹا۔
سابع کا معنی ساتواں، تو دیکھو یہ فاعل وزن پر ہے تو عدد کے اندر فاعل وزن بنا لیتے ہیں مرتبہ بتلانے کے لیے بھئی، مرتبہ بتلانے کے لیے۔
اور اس کے ساتھ ایک اور فائدہ انہوں نے یہ یہ بھی بتلایا کہ کبھی کبھار یہ فاعل کا وزن نسبت بتلانے کے لیے بھی آتا ہے اور اسے فاعل ذی کذا کہتے ہیں۔
کیا کہتے ہیں؟ فاعل ذی کذا آسان لفظوں میں کہو نسبت والا فاعل۔
گویا کئی فاعل آپ کے پاس ہو گئے۔
ایک فاعل اس میں فاعل والا ہوگا۔
ضارب، فاتح یہ کیا ہے اس میں فاعل تو ایک فاعل وزن ہے اس میں فاعل والا، اسی طرح ایک فاعل ہے صفت مشبہ والا، کاءبر بر وزن فاعل یہ صفت مشبہ ہے آپ پڑھ چکے ہیں۔
اسی طرح ایک فاعل جو ہے یہ مرتبہ بتلانے کے لیے بھی آتا ہے عدد کے اندر، خامس، ثالث، رابع، صورت سمجھ میں آ رہی ہے۔
اور اسی طرح فاعل کبھی نسبت کے لیے بھی آتا ہے، نسبت بیان کرنے کے لیے جیسے لاہور والا، آپ کہتے ہیں لاہوریون۔
پاکستان والا، آپ کہتے ہیں پاکستانیون۔
تو یہ یا ملاتے ہیں نسبت کے لیے پاکستان والا۔
اس معنی کو ادا کرنے کے لیے فاعل وزن بھی عربی میں استعمال ہوتا ہے۔
تو یہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ فاعل ذی کذا، یعنی آسان لفظوں میں کیا کہو؟ نسبت والا فاعل۔
تو کوئی نسبت والا فاعل کہہ دے یا کوئی فاعل ذی کذا کہہ دے تو ایک ہی بات ہے جیسے تامر، دیکھو تمر سے کیا معنی؟ کھجور والا۔
لاہوریون کا کیا معنی تھا؟ لاہور والا۔
پاکستانیون کا کیا معنی تھا؟ پاکستان والا۔
یہی معنی یہاں فاعل وزن ادا کرے گا، تامر، تمر کسے کہتے ہیں؟ کھجور کو۔
اسی سے بنا لیا تامر، فاعل کیا معنی؟ کھجور والا، یعنی کھجور بیچنے والا۔
لبن دودھ کو کہتے ہیں، اسی سے کیا بنا لیا لابن، کیا معنی؟ دودھ والا، یعنی دودھ بیچنے والا، معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟
جی۔
اسی طرح خابز خبز روٹی کو کہتے ہیں، اسی سے خابز بنا لیا کیا معنی؟ روٹی والا، تو یہ نسبت کے لیے ہے، اس کو کیا کہتے ہیں فاعل ذی کذا یا یوں کہیں نسبت والا فاعل۔
یعنی وہ وزن فاعل جو کس کے لیے ہے؟ وزن کی بات ہو رہی ہے نا فاعل، وزن یہ وزن کبھی کس کے لیے آتا ہے؟ نسبت کے لیے بھی آتا ہے، نسبت بیان کرتا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں فاعل ذی کذا بھئی۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اب آگے دوسرا باب شروع ہو رہا ہے بھئی۔
دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں باب دوم در بیان ابواب مشتمل بر چہار فصل۔
دوسرا باب در بیان ابواب، ابواب کے بیان میں (یعنی اس میں وہ فعل کے ابواب بیان ہوں گے)۔
ثلاثی مجرد کے کتنے باب ہیں، ثلاثی مزید فی کے کتنے باب ہیں، رباعی مجرد کے کتنے باب ہیں، رباعی مزید فی کے کتنے باب ہیں وغیرہ یہ اس میں ذکر ہوں گے۔
تو کہتے ہیں باب دوم در بیان ابواب، دوسرا باب ابواب کے بیان میں، مشتمل بر چہار فصل اور یہ چار فصلوں پر مشتمل ہے، اس میں چار فصلیں آئیں گی بھئی۔
فصل اول در ابواب ثلاثی مجرد، پہلی فصل ثلاثی مجرد کے ابواب کے بارے میں۔
چوں از بیان صیغہ افعال و مشتقات فارغ شدیم۔
چوں جب از بیان صیغہ افعال و مشتقات، افعال اور مشتقات کے صیغوں کے بیان سے فارغ شدیم، ہم فارغ ہو گئے۔
یہ فارسی میں میم آتا ہے میرے کے لیے، فارغ شدم، میں فارغ ہوا۔
فارغ شدیم، یہ یا میم آتا ہے ہم کے لیے، جمع کے لیے۔
فارغ شدیم، ہم فارغ ہوئے۔
مثلاً میں کہتا ہوں رفتم، میں گیا، اور رفتیم، ہم گئے، جی۔
تو مصنف فرما رہے ہیں کہ اب ثلاثی مجرد کے ابواب کا بیان ہوگا بھئی، ثلاثی مجرد۔
اور افعال کے صیغوں کا بیان بھی گزر گیا، ابھی پہلا باب گزرا، اس میں کتنی فصلیں تھیں؟ دو فصلیں۔
پہلی فصل میں افعال کا بیان تھا صیغے کا۔
ماضی کے کتنے صیغے ہیں، مضارع کے کتنے صیغے ہیں، امر کے کون سے صیغے ہیں، مضارع مؤکد بالث ناصبہ کے کتنے صیغے ہیں اور اس کی کون کون سی صورتیں بنیں گی وہ سارا بیان تھا۔
اس کے بعد اگلی فصل میں کس کا بیان تھا؟ مشتقات کا۔
اب ابواب بیان کرنے لگے ہیں کہ ثلاثی مجرد کے کتنے ابواب ہیں۔
تو کہتے ہیں فصل اول در ابواب ثلاثی مجرد، پہلی فصل ثلاثی مجرد کے ابواب کے بارے میں، چوں از بیان صیغہ افعال و مشتقات فارغ شدیم، جب مشتقات اور افعال کے صیغوں کے بیان سے فارغ شدیم ہم فارغ ہو گئے، حالا بیان ابواب می کنیم، حالا کا معنی ہے اب، اب۔
جب ان سے فارغ ہو گئے تو اب بیان ابواب می کنیم، اب ہم ابواب کا بیان کرتے ہیں۔
از بیان سابق دانیستی کہ ثلاثی مجرد را شش باب است۔
سابقہ بیان سے جو پہلے ہو چکا گزر چکا، دانیستی تو نے جان لیا کہ ثلاثی مجرد را شش باب است، کہ ثلاثی مجرد کے چھ باب ہیں۔
سابقہ بیان سے آپ نے جان لیا کہ ثلاثی مجرد کے چھ باب ہیں۔
انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مضارع کے اندر کبھی یفعل پڑھتے ہیں، کبھی یفعل پڑھتے ہیں، کبھی یفعل عین پر تینوں حرکتیں، اسی طرح ماضی کے اندر بھی فَعَلَ، فَعِلَ، فَعُلَ تین عین پر تینوں حرکتیں اور کل کتنے باب وہاں بنائے تھے؟ چھ باب انہوں نے آپ کو۔
باب بتلائے تھے چھ باب بنائے تھے۔ اس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں بھئی کہتے ہیں از بیان سابق دانستی سابقہ بیان سے آپ نے جان لیا کہ ثلاثی مجرد راش شش باب است کہ ثلاثی مجرد کے چھ باب ہیں۔ باب اول فَعَلَ یَفْعُلُ بفتح عِین ماضی و ضَمِّ عِین غابر. پہلا باب بھئی فَعَلَ یَفْعُلُ پہلا باب فَعَلَ یَفْعُلُ توجہ ہے سبق کی طرف؟ جی جی آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم نے تو پہلا باب کیا پڑھا تھا؟ فَعَلَ یَفْعِلُ ضرب یضرب بھئی ترتیب وہ ضروری نہیں ہے کہ وہی ہو۔ عموماً ویسے ضرب ہی کا باب ترتیب اولاً ذکر کیا جاتا ہے لیکن ترتیب اگر بدل بھی دیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مقصد کیا ہے ان چھ بابوں کا بیان کروانا اور یاد کروانا ہے۔ انہوں نے نصرہ کو پہلے ذکر کر دیا۔ تو کہتے ہیں باب اول فَعَلَ یَفْعُلُ بفتح عِین ماضی۔ ماضی کے عِین کے فَعَلَ ماضی میں عِین پر کیا ہے؟ فتحہ۔ اور یَفْعُلُ مضارع میں عِین پر کیا ہے؟ ضمہ۔ یہی بیان کر رہے ہیں بفتح عِین ماضی۔ ماضی کے عِین کے فتحہ کے ساتھ و ضَمِّ عِین غابر اور غابر کے عِین کے ضمہ کے ساتھ۔ غابر کیا معنی؟ کہتے ہیں یعنی مضارع۔ یعنی کہ مضارع۔ غابر سے مراد مضارع ہے۔ ماضی میں عِین پر فتحہ ہے اور مضارع میں عِین پر ضمہ ہے۔ کہتے ہیں غابر بمعنی باقی است۔ غابر جو ہے وہ باقی کے معنی میں ہے۔ غابر کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ باقی۔ بھئی زمانے کل کتنے؟ تین۔ ماضی، حال اور استقبال۔ ماضی نکل جائے تو باقی کیا رہ گیا؟ حال اور استقبال۔ اور مضارع دونوں پر دلالت کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ کرتا ہے دونوں پر کرتا ہے اس لیے اس کو غابر کہہ دیا۔ کیونکہ غابر کا کیا معنی؟ باقی۔ ماضی گزر گیا، ماضی نکل گیا تو باقی کیا رہ گئے؟ حال اور استقبال اور اس پر دلالت کے لیے کون اتا ہے؟ مضارع۔ اس لیے مضارع کو غابر کہہ دیا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ دوبارہ دیکھیے بفتح عِین ماضی و ضَمِّ عِین غابر یعنی مضارع۔ ماضی کے عِین کے فتحہ کے ساتھ اور غابر یعنی مضارع کے عِین کے ضمہ کے ساتھ۔ غابر بمعنی باقی است۔ غابر باقی کے معنی میں ہے۔ بعدِ زمانے ماضی، حال استقبال کہ مضارع بر آں دلالت دارد باقی میں مائد۔ بعدِ زمانے ماضی۔ ماضی کے زمانے کے بعد۔ حال اور استقبال کہ مضارع بر آں دلالت دارد کہ مضارع ان پر دلالت کرتا ہے۔ باقی میں مائد۔ باقی رہ جاتے ہیں۔ کیا رہ گئے باقی؟ حال اور استقبال۔ باقی رہ گئے کہ مضارع ان پر دلالت کرتا ہے۔ لہذا مضارع را غابر گویند۔ اس لیے مضارع کو غابر کہتے ہیں۔ وجہ سمجھ میں آگئی؟ جی۔ پھر دیکھیں بعدِ زمانے ماضی حال استقبال۔ باقی میں مائد۔ درمیان والی عبارت ذرا نکال دو کہ مضارع بر آں دلالت دارد اس کو ذرا نکال دو۔ بعدِ زمانے ماضی۔ ماضی کے زمانے کے بعد۔ حال استقبال باقی میں مائد۔ حال اور استقبال باقی رہ جاتے ہیں۔ کہ مضارع بر آں دلالت دارد۔ کہ مضارع ان پر دلالت کرتا ہے۔ لہذا مضارع را غابر گویند۔ لہذا مضارع کو غابر کہتے ہیں۔
النصر و النصرۃ یاری کردن۔ النصر و النصرۃ یاری کردن۔ مدد کرنا۔ نصرہ کے دو مصدر ذکر کر دیے۔ آپ نے کیا پڑھا تھا؟ نصر یَنْصُرُ نصراً۔ انہوں نے نصراً ایک اور مصدر بھی ذکر کر دیا۔ تو مصدر ایک ایک باب کے بعض اوقات کئی کئی آتے ہیں بھئی تو اس میں پریشان ہونے کی بات نہیں۔ اب آگے صرفِ صغیر ذکر کریں گے۔ کس کی؟ صرفِ صغیر نصرہ کی۔ آپ نے اپنی ترتیب یاد رکھنی ہے۔ صرفِ صغیر کہیں بھی نہیں بدلنی۔ آپ جو بھی صرف کی کتاب آگے پڑھتے جائیں۔ مادہ یہاں سے لے لیا کریں۔ کوئی بھی نیا لفظ آ جائے آپ اس کی گردان کرنا چاہتے ہیں۔ طریقہ وہی اپنا ابوابِ صرف والا رکھیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہر کتاب والے کا صرفِ صغیر کا اپنا طریقہ ہے۔ اور اگر ہر ایک کو یاد کرنے کی کوشش کریں گے تو ایک بھی اچھی طرح یاد نہیں رہے گا۔ تو اصل مقصد کیا ہے؟ کہ ابواب کو یاد کرنا، صیغوں کو یاد کرنا تو بس آپ نے ایک ترتیب یاد کی ہوئی ہے آپ اسی پر رکھیں بھئی۔ نصرہ کا باب آیا ہے بھئی پہلے باری باری میں سن بھی لیتا ہوں جو جو باب آتا جائے گا، جی پہلا باب آپ سنا دیجیے نصرہ سے بھئی۔ باب دوم بروزن فَعَلَ یَفْعُلُ، النصر مدد کردن مدد کرنا۔ جی۔ نصر یَنْصُرُ نصراً فھو ناصر و نُصِرَ یَنْصُرُ نصراً فذاک منصور لم یَنْصُر لم یَنْصُر لا یَنْصُر لا یَنْصُر لَنْ یَنْصُر لَنْ یَنْصُر الامر منہ اُنصُر لتُنصَر لیَنْصُر لیُنصَر و النہی عنہ لا تنصُر لا تُنصَر لا یَنْصُر لا یُنصُر و الظرف منہ منصر والجمع مناصر و الآلۃ منہ منصر منصرۃ منصار والجمع مناصر و مناصیر و افعل التفضیل المذکر منہ انصر والجمع اناصر و المؤنث منہ نصریٰ مصریات نصر شاباش شاباش۔ دیکھا یہ سب ابواب آپ کو یاد ہیں بھئی۔ تو دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں النصر و النصرۃ یاری کردن۔ یاری کردن۔ مدد کرنا۔ مدد کرنا۔ تصریفہ اس کی گردان بھئی۔ تصریف کسے کہتے ہیں؟ گردان کو۔ تصریفہ اس کی گردان۔ نصر یَنْصُرُ نصراً و نصراً فھو ناصر و نُصِرَ یَنْصُرُ نصراً و نصراً فھو منصور۔ الامر منہ اُنصُر و النہی عنہ لا تنصُر۔ الظرف منہ منصر و الآلۃ منہ منصر و منصرۃ و منصار۔ و تثنیَتہما منصرانی و منصرانی۔ والجمع منہما مناصر و مناصیر۔ افعل التفضیل منہ۔ انصر و المؤنث منہ نصراً و تثنیَتہما انصرانی و نصریانی۔ والجمع منہما انصرون و اناصر و نصر و نصرات۔ یہ دیکھو وہی گردان ہے اور البتہ انداز الگ ہے بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی۔ باب دوم فَعَلَ یَفْعُلُ یہ کون سا باب ذکر ہو رہا ہے فَعَلَ یَفْعُلُ؟ ضربہ شاباش۔ باب دوم فَعَلَ یَفْعُلُ بفتح عِین ماضی و کسر عِین غابر۔ ماضی میں عِین کے فتحہ کے ساتھ اور مضارع میں عِین کے کسرہ کے ساتھ۔ الضرب زدن۔ ضرب کا معنی زدن مارنا۔ و رفتن بر روئے زمین۔ رفتن چلنا، جانا۔ بر روئے زمین زمین کے اوپر۔ زمین کی سطح پر یعنی زمین پر چلنا۔ اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ضرب۔ بھئی ایک ایک لفظ کے کئی کئی معانی آتے ہیں عربی زبان میں۔ آپ ضربہ کا مادہ دیکھیں گے۔ عربی میں لغت اٹھائیں گے آپ کو بیسوں معنی مل جائیں گے۔ تو یہاں ایک دو اس میں سے ذکر کر رہے ہیں۔ ضرب کا معنی زدن مارنا و رفتن بر روئے زمین اور زمین کے اوپر چلنا و پدید کردن۔ پدید کا معنی ظاہر۔ پدید کردن ظاہر کرنا۔ مصنف رحمہ اللہ نے ضربہ کا ایک معنی پدید کردن ظاہر کرنا لکھا۔ لیکن لغت میں تلاش کے باوجود یہ معنی مجھے نہیں ملا بھئی۔ معلوم ہو یہ کوئی کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ پہلے زمانے میں کتابیں ہاتھ سے لکھتے تھے نا تو کسی نے یہ جس نے نسخہ نقل کیا تو کہیں یہاں کچھ غلطی ہوئی ہے بھئی ظاہر کرنا یہ ضربہ کا معنی نہیں آتا ضرب کا معنی نہیں آتا بھئی۔ تو بہرحال میں نے معنی ذکر کر دیا ویسے پدید کردن کا کیا لفظی کیا ترجمہ ہے؟ ظاہر کرنا لیکن ضرب کا یہ معنی نہیں آتا بھئی ضرب کا۔ اچھا جی آگے دیکھیے بھئی۔ مثل ضرب یضرب ضرباً الیٰ (یعنی الی آخِرہِ)۔ جی یہ گردان اب آپ خود کر سکتے ہیں۔ دیکھو ایک دفعہ صرفِ صغیر دے دی۔ اب بار بار صرفِ صغیر بھی نہیں دے رہے بس اشارہ کر رہے ہیں کہ آپ کو طریقہ پتہ چل گیا اسی طریقے سے کریں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ اور آپ کو میں نے یہ بھی بتا دیا آپ کا اپنا طریقہ ہے آپ کو پتہ چل چکا ہے صرفِ صغیر کیسی کرنی ہے جہاں بھی کوئی صیغہ ہے آپ اس کے مطابق اس کی گردان کرتے جائیں۔ جی اب ضربہ کا باب آپ سنا دیجیے بھئی۔ اونچی آواز میں۔ باب دوم بروزن فَعَلَ یَفْعُلُ جو الضرب زدن مارنا۔ جی۔ ضرب یضرب ضرباً فھو ضرب و ضرب یضرب ضرباً فذاک مضروب لم یضرب لم یضرب لا یضرب لا یضرب لن یضرب لن یضرب الامر منہ اضرب لتضرب لیضرب لیضرب والنہی عنہ لا تضرب لا تضرب لا یضرب لا یضرب والظرف منہ مضروب والجمع مضارب والآلۃ منہ منضرب منضربۃ منضغاب والجمع مضارب ومضاریب وافعال التفضیل المذکر منہ اضرب والجمع مضارب والمؤنث منہ ضرب ضربات ضرب شاباش بھئی شاباش۔ آگے دیکھیے بھئی۔ باب سوم۔ تیسرا باب۔ سوم و کو شد پڑھنا۔ پیچھے کیا کہتا ہے باب دوم و پر شد پڑھنا ہے۔ باب سوم تیسرا باب فَعَلَ یَفْعُلُ بکسرِ عِین ماضی فتحِ عِین غابر۔ فَعَلَ یَفْعُلُ ماضی کے عِین کے کسرہ کے ساتھ اور فتحِ عِین غابر اور مضارع کے عِین کے فتحہ کے ساتھ یہ کون سا باب آپ نے پڑھا ہے بھئی؟ سمعا۔ باب سمعا ہے وہی بیان کرنے لگے ہیں کیونکہ السمع شنیدن سننا بھئی۔ سمع یسمع سمعاً الیٰ آخِرہِ۔ جی باب سمعا آپ سنا دیجیے بھئی اونچی آواز میں۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ باب سوم بروزن فَعَلَ یَفْعُلُ جو السمع شنیدن سننا۔ سمع یسمع سمعاً فھو سامع و سمع یسمع سمعاً فذاک مسموع لم یسمع لم یسمع لا یسمع لا یسمع لن یسمع لن یسمع الامر منہ اسمع لتسمع لیصمع لیصمع والنہی عنہ لا تسمع لا تسمع لا یسمع لا یسمع والظرف منہ مسمع والجمع مسامع والآلۃ منہ مسمع مسمعۃ مسمع والجمع مسامع مسامیع وافعال التفضیل المذکر منہ اسمع والجمع اسامع والمؤنث منہ سمعا سمعیات سمعا۔ شاباش بھئی شاباش۔ تو یہ تیسرا باب باب سمعا ہوا بھئی۔ باب چہارم فَعَلَ یَفْعُلُ بفتحِ العین فیہما۔ اس میں عِین کا فتحہ ہے فیہما ان دونوں میں یعنی ماضی میں بھی اور مضارع میں بھی۔ الفتح کشاداً۔ فتح یفتح فتحاً الیٰ آخِرہِ۔ چلیے بھئی آپ اس باب باب فتحہ کی گردان سنائیے بھئی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
بابِ چہارم: بر وزنِ فَعَلَ يَفْعُلُ، جو الفتحہ گشادن بولنا۔ فتح يَفْتَحُ فَتحاً فَہُو فاتِحٌ وَ فُتِحَ يُفْتَحُ فَتحاً فَذاكَ مَفْتُوحٌ۔ لَمْ يَفْتَحْ، لَمْ يُفْتَحْ، لا يَفْتَحُ، لا يُفْتَحُ، لَنْ يَفْتَحْ، لَنْ يُفْتَحَ۔ الأَمْرُ مِنْہُ: اُفْتَحْ، لِتُفْتَحْ، لِيَفْتَحْ، لِيُفْتَحْ۔ وَ النَّہْیُ عَنْہُ: لا تَفْتَحْ، لا تُتَفْتَحْ، لا يَفْتَحْ، لا يُفْتَحْ۔ وَ الظَّرْفُ مِنْہُ: مَفْتَحٌ، وَ الْجَمْعُ: مَفَاتِحُ۔ وَ الآلَةُ مِنْہُ: مِفْتَحٌ، مِفْتَحَةٌ، مِفْتَاحٌ، وَ الْجَمْعُ: مَفَاتِحُ وَ مَفَاتِيحُ۔ وَ اَفْعَلُ التَّفْضِیلِ الْمُذَکَّرُ مِنْہُ: اَفْتَحُ، وَ الْجَمْعُ: اَفَاتِحُ وَ الْمُؤَنَّثُ مِنْہُ: فُتْحَى، فُتْحَيَاتٌ، فُتْحٌ۔
آگے دیکھیے بھئی، شرطِ ایں باب ایں است۔ اس باب کی شرط یہ ہے، ایں است، یہ نُون پر کیا پڑھنا ہے؟ زبر، زبر۔ شرطِ ایں باب ایں است، اس باب کی شرط یہ ہے کہ ہر کلمہ صحیح کہ ایں باب آید، کہ ہر صحیح کلمہ جو کہ اس باب سے آئے، ہر صحیح کلمہ کیا معنی؟
صحیح ہفت اقسام میں کیا ہو؟ صحیح ہو، یعنی مثال، اجوف، ناقص، محموز اور مضاف نہ ہو۔ تو کہتے ہیں ہر کلمہ صحیح کہ ایں باب آید، ہر صحیح کلمہ کہ جو اس باب سے آئے، در عِینِ فعل یا لامِ فعل او حرفِ حلق باشد۔ اس کے فعل کے عِین میں یا اس کے فعل کے لام میں یا لامِ فعلِ او یا اس کے فعل کے لام میں حرفِ حلق باشد، کیا ہوگا؟ حرفِ حلق ہوگا۔
شعر: حرفِ حلقی شش باب اے نورِ عِین، ہمزہ، ہا و ہا و، خا و عِین و غِین۔ جی یہ شعر یاد ہے آپ کو؟ یہ شعر آپ کو یاد ہونا چاہیے بھئی۔ حرفِ حلقی شش باب اے نورِ عِین۔ حرفِ حلق چھ ہیں بھئی، اے نورِ عِین، اے میری آنکھوں کے نور۔ طالبِ علم کو خطاب ہے۔ حرفِ حلقی شش باب اے نورِ عِین۔ حرفِ حلق چھ ہیں، اے میری آنکھوں کے نور۔
ہمزہ، ہا، یہ ہمزہ کے بعد ایک گول ہا ہونی چاہیے، میری کتاب میں نہیں ہے، ہمزہ۔ ہمزہ، ہا، اس کے بعد و کی ضرورت نہیں بھئی، باقی جتنے حروف ہیں ان کے بعد و ہے، ہمزہ، ہا و، ہا و، خا و، عِین و غِین۔ کیسے پڑھنا ہے؟ ہمزہ، ہا و، ہا و، خا و، عِین و غِین۔ ہمزہ، اس کے بعد و نہیں ہے۔
اور تو یہاں ہمزہ کے بعد گول ہا لکھ لیں بھئی، گول ہا ہونی چاہیے۔ تو حروفِ حلقی چھ ہیں بھئی۔ کون کون سے ہیں؟ ہمزہ ہے، ہا ہے، حا ہے، خا ہے، عِین اور غِین، یہ چھ حروفِ حلقی ہیں۔ یعنی یہ حلق سے ادا ہوتے ہیں۔ آپ خود غور کر لیں، ہمزہ، ہا، ہمزہ کہاں سے ادا ہوتا ہے؟ حلق سے۔
اور اسی طرح ہا بھی حلق سے، اور اسی طرح حا اور خا بھی حلق سے، اور عِین اور غِین بھی حلق سے ادا ہوتے ہیں، تو یہ حروفِ حلقی ہیں۔ تو حروفِ حلقی کتنے ہوئے؟ چھ۔ اب ایک قیمتی ضابطہ یہ ذکر کر رہے ہیں۔ یاد رکھیے بھئی، آپ صرف کی اور کتابیں پڑھیں گے، وہاں آپ کو ملے گا کہ حروفِ حلقی چھ ہیں اور یہ جو بابِ فتحہ ہے، اس سے جو بھی صیغہ آئے، توجہ ہے؟
بابِ فتحہ سے جو بھی صیغہ آئے، اس کا عِین یا لام حرفِ حلقی ہونا ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ بابِ فتحہ سے جو بھی صیغہ آئے، اس کا عِین یا لام، توجہ ہے؟ کون؟ کیا کیا؟ عِین یا لام، ان کا حرفِ حلقی ہونا ضروری ہے۔
اب اس باب سے جتنے بھی صیغے آئے، جتنے بھی مادے آتے ہیں، جو بھی مصدر اس باب سے آئے گا، گردان اس کی اس باب سے آئے گی، آپ دیکھیں گے اس کے عِین یا لام کی جگہ حرفِ حلقی ہوگا۔ جیسے دیکھو، فَتَحَ۔
لام کی جگہ کیا ہے؟ حا، دیکھو حروفِ حلقی۔ اور اسی طرح آپ نے پڑھا اس باب کو بابِ منع بھی کہتے ہیں، کیونکہ بعض اساتذہ اس میں کون سی گردان لکھواتے ہیں؟ منع کی۔
اسی طرح بابِ سمعہ کو بابِ علیمہ بھی کہتے ہیں۔ بابِ سمعہ کو بابِ علیمہ بھی کہتے ہیں، کیونکہ بعض اساتذہ اس کے اندر سمعہ کی گردان لکھواتے ہیں اور بعض کیا لکھواتے ہیں؟ علیمہ کی گردان لکھواتے ہیں، تو یہ دونوں ناموں سے یہ باب مشہور ہے بھئی۔ بابِ سمعہ کہیں یا بابِ علیمہ کہیں آپ سمجھ جائیں ایک ہی باب کا ذکر ہو رہا ہے جس میں ماضی میں عِین کے نیچے کسرہ ہے اور مضارع میں عِین پر فتحہ ہے۔
اسی طرح یہ جو بابِ فتحہ ہے، یہ بابِ فتحہ بھی کہلاتا ہے اور بابِ منع بھی، کیونکہ بعض اساتذہ اس میں فتحہ کی گردان لکھواتے ہیں اور بعض اساتذہ اس میں منع کی گردان لکھواتے ہیں۔ তো ضابطہ انہوں نے کیا ذکر کیا کہ بابِ فتحہ سے جو بھی کلمہ آئے، یوں کہیں، بابِ فتحہ سے جو بھی کلمہ آئے، اس کا عِین یا لام کیا ہو ہمیشہ حرفِ حلقی۔
آپ پوری لغت اٹھا کر دیکھ لیں، جہاں کہیں بابِ فتحہ آ رہا ہوگا، اس کا عِین یا لام کیا ہوگا؟ حرفِ حلقی ہوگا۔ اب یہ ضابطہ کس نے بنایا؟ علمائے صرف نے۔ علمائے صرف نے، دیکھو یہ یاد رکھو، یہ جو صرف اور نحو ہیں نا، یہ علوم بعد میں بنے ہیں اور عربی زبان پہلے تھی۔ یہ علوم بنائے مسلمانوں نے، مسلمان علمائے نے یہ علوم ایجاد کیے، یہ علوم بنائے۔
لیکن ایسے پیارے قانون بنا دیਏ، یوں لگتا ہے قانون پہلے تھا اور صیغے بعد میں بنے ہیں، حالانکہ صیغے پہلے بنے تھے اور قانون انہوں نے بعد میں بنایا۔ توجہ ہے؟ صیغے پہلے تھے، عرب والے ضرب یضرب کے جو صیغے آپ نے پڑھے ہیں، یہ اسی طرح بولتے تھے، لیکن کسی نے اس طرح قانون نہیں بنائے تھے جیسے انہوں نے کیا کیا؟ قانون بنا دیا۔
کہ يَضْرِبُ مضارع میں عِین کے نیچے زیر ہے، تو ظرف میں بھی عِین کے نیچے کیا آئے گی؟ زیر آئے گی۔ یہ کس نے نکالا؟ علماء نے غور کیا کہ جب بھی عِین کے نیچے زیر آتی ہے، مضارع میں، اس سے عرب جب ظرف بناتے ہیں وہ کون سا بولتے ہیں؟ عِین کے نیچے زیر، تو اسے انہوں نے ایک قانون بنا دیا۔
اسی طرح انہوں نے غور کیا کہ بابِ فتحہ سے جتنے کلمے آ رہے ہیں، ساروں کے اندر عِین یا لام کیا ہے؟ حرفِ حلقی ہے۔ لیکن ایک دو کلمات، دو یا چار کلمات بعض اوقات رہ جاتے ہیں جو اس قانون کے نیچے نہیں آتے۔ جیسے اسی میں ہے: اَبَا يَبَا۔
اَبَا يَبَا، ہمزہ، با اور یا ہے، جو کس سے بدل گئی؟ الف سے۔ اَبَا يَبَا، اَبَا يَبَا کا معنی انکار کرنا، انکار کرنا کسی چیز سے۔ مثلاً آپ کہنا چاہتے ہیں زِید نے انکار کر دیا ہے، آپ کہیں گے: اَبَا زَيْدٌ۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اَبَا يَبَا کا کیا معنی؟ انکار کرنا۔ اور یہ ہفت اقسام میں کیا ہے ذرا مجھے بتاؤ؟ ناقص بھی ہے، اَبَا رَمَا کی طرح اور محموز الفا بھی ہے، تو محموز بھی ہے اور ناقص بھی ہے، یعنی یہ مرکب ہے۔ اچھا، تو اَبَا يَبَا، یہ بھی بابِ فتحہ سے آ رہا ہے۔
اب علمائے صرف نے تو قانون بنا دیا کہ جتنے عربی کلمات اس بابِ فتحہ سے آئیں گے، ان سب کا عِین یا لام کیا ہوگا؟ حرفِ حلقی، لیکن اَبَا يَبَا میں دیکھ لیں عِین کیا ہے؟ با، با، اور لام کیا ہے؟ یا ہے، جو کس سے بدل گئی؟ الف سے۔
تو نہ با حرفِ حلقی اور نہ یا حرفِ حلقی ہے۔ تو اب یہ آ تو بابِ فتحہ سے رہا ہے لیکن قانون کے تحت نہیں۔ تو اس قسم کے کلمات ان کو کہتے ہیں شاذ۔ کیا کہتے ہیں؟ شاذ۔ فار۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو شاذ کسے کہتے ہیں؟ جو استعمال کے اعتبار سے ٹھیک ہو، عرب اسی طرح بولتے ہیں، عرب اَبَا يَبَا ہی کہتے ہیں۔
لیکن قانون کے نیچے نہ آ رہا ہو، قانون کے مطابق نہ ہو، یوں کہیں۔ استعمال کے اعتبار سے ٹھیک ہے، عرب اسی طرح بولتے ہیں، عرب جب بھی بولتے ہیں اَبَا يَبَا ہی بولتے ہیں۔ لیکن قانون کے اعتبار سے ٹھیک نہیں، قانون تو ہم نے کیا بنایا کہ عِین یا لام کلمہ کیا ہو؟ حرفِ حلقی، لیکن اس کا عِین بھی حرفِ حلقی نہیں اور لام بھی حرفِ حلقی نہیں۔
تو وہ ایک دو کلمے یا تین ک semelhantes کلمے جو ہیں ان کو وہ کہہ دیتے ہیں شاذ۔ کیا کہہ دیتے ہیں؟ شاذ۔ اب بات سمجھ میں آگئی، شاذ کسے کہتے ہیں؟ جو استعمال کے اعتبار سے ٹھیک ہے، یعنی عرب ٹھیک اسی طرح بولتے ہیں، یہ نہیں آپ کہیں گے کہ یہ غلط ہے، کیونکہ قانون تو آپ بنا رہے ہیں اور قانون کس سے بنا رہے ہیں؟ عربوں کی زبان کو دیکھ کر بنا رہے ہیں، تو ان کی زبان کو آپ غلط نہیں کہہ سکتے، آپ کا قانون تو غلط ہو سکتا ہے، عربوں کی زبان غلط نہیں۔
تو ہم پھر یوں کہتے ہیں کہ ہم نے تو بڑی کوشش کی، ہم نے قانون بنا دیا اور اس قانون پر ہم نے پوری عربی زبان دیکھی، سارے الفاظ قانون کے مطابق ہیں، جو بھی بابِ فتحہ سے آ رہا ہے اس کا عِین یا لام کیا ہے؟ حرفِ حلقی، پوری عربی کے اندر بھئی ایک دو لفظ رہ گئے، تو اس سے کوئی نقصان نہیں، اس کے بارے میں پھر کہہ دیتے ہیں یہ شاذ ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
لیکن مصنف رحمہ اللہ نے کمال کیا، شاذ کو بھی قانون کے اندر داخل کر دیا۔ قانون کی
دیکھو جی علماء سوچ سوچ کر قانون کی ایسی صورت بنائی کہ وہ شاذ ختم ہو گئے، وہ اس کے اندر داخل ہو گئے۔
شاذ ختم ہو گئے کس طرح؟ قانون یہ بنایا کہ پہلے قانون کیا تھا؟ کہ کوئی بھی کلمہ
جو بھی کلمہ کس میں سے آئے؟ باب فتحہ سے اس کا عین یا لام حرف حلقی ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا جو بھی کلمہ، انہوں نے کہا جو بھی صحیح کلمہ باب فتحہ سے آئے۔
دیکھا؟ جی۔ جب صحیح کی قید لگا دی، اجوف، مثال، ناقص، محموض اور مضاف نکل گئے۔ ان کے بارے میں تو ہم بات ہی نہیں کر رہے ہیں۔
تو دیکھو اب ابا ابا باب فتحہ سے آ رہا ہے یا نہیں؟ اور اب اس کو شاذ کہنے کی ضرورت ہے؟ نہیں، شاذ تو تب کہتے اگر یہ قانون کے خلاف ہوتا، قانون تو ہم نے بنایا ہی صرف کس کے لیے ہے؟ صحیح کے لیے، صحیح کا جو بھی صیغہ آئے گا، آپ پورے کلام عرب میں گھوم جائیں ایک لفظ بھی آپ کو نہیں ملے گا جو اس باب، اس قانون سے باہر ہو۔
صورت سمجھ میں آگئی، تو دیکھو مصنف رحمۃ اللہ نے کمال کیا بھئی وہ قانون علماء، سارے علماء کہتے ہیں یہ ابا یہ ابا شاذ ہے، شاذ ہے، انہوں نے کہا نہیں یہ شاذ نہیں ہے، یہ قانون تو ہے ہی کس کے بارے میں صرف؟ صحیح کے بارے میں۔
تو یہ علماء نے اس طرح محنتیں کر کے قانون کی صورت پھر آپ غور کریں گے، آپ کو کوئی اور بہتر صورت نظر آتی ہے جس میں اور بھی اس کے اندر داخل ہو جائیں آپ اس کے مطابق قانون میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔
تو انہوں نے دیکھو ایسی جگہ پر کتاب لکھی، جیل کی مشقت ہے، تکلیف ہے اور سختیاں ہیں اور کوئی کتاب بھی ان کے پاس نہیں لیکن قانون کی کیسی پیاری صورت بیان کی کہ ابا یہ ابا کا شاذ ہونا ختم ہو گیا، بات سمجھ میں آگئی۔
تو بہرحال باقی ساروں نے کیا لکھا ہے؟ ابا یہ ابا شاذ ہے۔
اور پھر یہاں ایک اور قیمتی بات یاد رکھیں، جس کلمے کا بھی عین یا لام حرف حلقی ہو اور آپ کہیں یہ تو باب فتحہ سے ہے، یہ ضروری نہیں ہے۔
جس کا عین یا لام حرف حلقی ہو، اس کا فتحہ سے آنا ضروری نہیں، وہ کسی اور باب سے بھی آ سکتا ہے لیکن جو فتحہ سے آئے گا اس کا عین یا لام حرف حلقی ہونا ضروری ہے۔
بات سمجھ میں آئی کہ اوپر سے گزر گئی؟ بھئی دیکھو جو بھی کلمہ باب فتحہ سے آئے گا اس کا عین یا لام کیا ہوگا؟ حرف حلقی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کسی اور باب سے ایسا کلمہ نہیں آ سکتا جس کا عین اور لام حرف حلقی ہوگا۔
جس کا بھی عین یا لام کیا ہو؟ حرف حلقی آپ فورا کہہ دیں جی یہ باب ضربہ سے نہیں ہو سکتا یہ تو کس سے ہوگا؟ فتحہ نہیں۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ضروری، وہ کسی بھی باب سے آ سکتا ہے، کسی اور باب میں بھی عین کی جگہ کیا آ سکتا ہے؟ حرف حلقی، لام کی جگہ بھی کیا آ سکتا ہے؟
تو حرف حلقی جس میں عین یا لام کی جگہ ہو وہ کسی اور باب سے بھی آ سکتا ہے اور باب فتحہ سے لیکن فتحہ سے جب بھی کوئی آئے گا صحیح اس کا عین یا لام ہمیشہ کیا ہوگا؟ حرف حلقی ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
دیکھیے بھئی کتاب پر۔
کہتے ہیں شرط ای باب ای نست، اس باب کی شرط یہ ہے کہ ہر کلمہ صحیح کے ازیں باب آید کہ ہر صحیح کلمہ جو کہ اس باب سے آئے، در عین فعل یا لام فعل او حرف حلق باشد، اس کے فعل کے عین یا لام میں حرف حلق ہوگا، شعر: حرف حلقی شش بود اے نور عین۔
حرف حلقی چھ ہیں اے نور عین، اے میری آنکھوں کے نور، حمزہ، ہاؤ، حاؤ، خاؤ، عین و غین۔
باقی جتنے مصنفین ہیں، انہوں نے یہاں صحیح کی قید نہیں لگائی اور جب صحیح کی قید نہیں لگائی تو ابا یہ ابا کو کیا ماننا پڑا؟ شاذ ماننا پڑا۔
شاذ ماننا پڑا۔
اور والد صاحب رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ کسی طالب علم نے پوچھا، کوئی ذہین طالب علم تھا، والد صاحب کو اللہ نے فل بدیع جواب کا عجیب ملکہ علوم میں نصیب فرمایا تھا۔
کوئی اشکال ہو جاتا، کوئی اعتراض ہوتا، وہ اپنی طرف سے فل بدیع ایسے نئے نئے جوابات دیتے جو کہیں بھی بزرگوں کی کتابوں میں نہیں ملتے تو یہ اللہ نے ان کو ایک خاص علمی کمال نصیب فرمایا تھا۔
چنانچہ ان سے ایک مرتبہ کسی طالب علم نے یہ ابا یہ ابا کا ذکر آیا اور وہاں فرمایا کہ یہ ابا یہ ابا شاذ ہے، جو بھی کلمہ ہر کس سے آئے؟ باب فتحہ سے آئے اس میں اس کا عین یا لام ہمیشہ کیا ہوگا؟ حرف حلقی ہوگا، البتہ ابا یہ ابا شاذ ہے۔
کہتے ہیں ایک طالب علم نے سوال کیا یہ شاذ کیوں ہے؟ عجیب گہرا سوال۔
کہتے ہیں میں نے بھی عجیب جواب دیا بھئی طلبہ کو واقعہ سنا رہے تھے کہ درس کے دوران کہیں ذکر آیا۔
فرمانے لگے کہ شاذ ہونے کی وجہ اس کا معنی ہے، کیا ہے؟ اس کا معنی ہے، ابا یہ ابا کا معنی ہے انکار کرنا، نہ ماننا، بھئی ہم نے یہ قانون بنا دیا ہے، اس باب سے صرف وہی آئے گا جو جس کا عین یا لام کیا ہو؟ حرف حلقی لیکن ابا یہ ابا کہتا ہے میں نہیں مانتا، میں یہ قانون نہیں مانتا میرا عین یا لام حرف حلقی بھی نہیں اور میں اسی باب سے آؤں گا، بات سمجھ میں آرہی ہے؟
تو ابا یہ ابا شاذ کیوں ہے؟ شاذ ہونے کی وجہ اس کا معنی ہے، ابا یہ ابا کا کیا معنی؟ انکار کرنا، نہ ماننا تو یہ قانون نہیں مانتا، تسلیم نہیں کرتا۔ عجیب پیاری توجیح بیان کی بھئی۔
اچھا بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی، باب پنجم: فَعُلَ یَفْعُلُ بضم العین فیہما، پانچواں باب بھئی فَعُلَ یَفْعُلُ دونوں میں عین کا زمہ ہے یعنی ماضی میں بھی اور مضارع میں بھی، جو الکرم والکرامۃ گرامی شدن۔
الکرم والکرامۃ گرامی شدن، معزز ہونا، بزرگ ہونا، بڑا ہونا، بات سمجھ میں آگئی۔
کَرُمَ یَکْرُمُ کَرَاماً وَّکَرَامَۃً فَهوَ کَرِیْمٌ۔
یہاں چونکہ صفت مشبہ آ رہی تھی اس لیے اس کی تھوڑی سی گردان ذکر کر دی فھو کریم، الامر منہ اکُرُمُ الی آخِرہ۔
باب کرُمَ کی گردان سنائیے بھئی۔
باب پنجم بر وزن فَعُلَ یَفْعُلُ چو الکرم والکرامۃ کریم شدن، کَرُمَ یَکْرُمُ کَرَاماً وَّکَرَامَۃً فھو کریم لم یکرُم لایکرُم لَنْ یَّکْرُمُ الامر منہ اکُرُم لِیَکْرُمُ لا نہی عن لاتکرُم لایکرُم الظرف منہ مکرَمٌ وَّالجمع مکَارِمُ والآلۃ منہ مِکْرَمٌ مِکْرَمَۃٌ مِکْرَمَاتٌ والجمع مکَارِمُ ومکاریْمُ، و فعل تفضیل مذکر من اکرم والجمع اکارم والمؤنث من کرُمَ کرُمَاتٌ کرُموا۔ شاباش بھئی شاباش۔
تو یہ باب کرُمہ ہے بھئی، دیکھیے بھئی کتاب پر۔
کہتے ہیں ایں باب لازم است، یہ باب کیا ہے؟ لازم ہے۔ کیا معنی لازم ہے؟ یعنی کہ یعنی متعدی نہیں، اس کے لیے مفعول وغیرہ نہیں آتا۔ بھئی فعل لازم اور فعل متعدی، آگے ذکر بھی آ رہا ہے، کسے کہتے ہیں فعل لازم؟ جہاں فاعل پر بات پوری ہو جائے، مفعول کی ضرورت نہ ہو۔
اور فعل متعدی کسے کہتے ہیں؟ فاعل کے ساتھ ساتھ مفعول کی بھی ضرورت ہو۔ ضرب زید عمراً، مارا زید نے کس کو؟ عمر کو۔ معلوم ہوا یہ ضرب کیا ہے؟ فعل متعدی ہے۔ کیا ضرب بغیر مضروب کے ہو سکتی ہے؟ نہیں۔ کیا شرب بغیر مشروب کے ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ کیا عقل بغیر معقول کے ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ تو یہ سارے کیا ہیں؟ فعل متعدی اور فعل لازم وہ ہے جہاں مفعول کی ضرورت نہیں ہوتی، فرَّ زید، زید بھاگا۔
دیکھو کسی مفعول کی ضرورت نہیں۔ ضَحِکَ زید، زید ہنسا، کسی مفعول کی ضرورت نہیں۔ مات زید، زید مر گیا، کسی مفعول کی ضرورت نہیں۔
ضرب زید عمراً، یہ ضرب کا کیا ہے؟ فعل متعدی۔ میں نے عمراً کو حذف کر لیا، ضرب زید، توجہ ہے؟ میں نے عمراً مفعول کو حذف کر لیا۔ اب بتاؤ یہ، یہ فعل لازم ہے یا فعل متعدی؟ متعدی۔
جی؟ متعدی۔ یہ ابھی بھی شاباش، شاباش یہ ابھی بھی کیا ہے؟ فعل متعدی۔ مفعول کو ذکر کرو یا نہ کرو، اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا، آپ بس فعل کے معنی میں غور کیا کریں، مفعول تو اکثر کلام میں حذف کر لیا کرتے ہیں تو مفعول ذکر نہ ہو، آپ کہہ دیں یہ تو فعل لازم ہے، نہیں، آپ نے مفعول ذکر ہے یا ذکر نہیں، اس کو نہیں دیکھنا۔ آپ نے صرف اس کے معنی پر ذہن میں غور کر لینا ہے کہ اس فعل کے لیے کوئی مفعول چاہیے ہوتا ہے کہ نہیں؟ جیسے ظرف کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مضروب۔ بغیر مضروب کے کبھی بھی ظرف کا وجود نہیں۔ بغیر مشروب کے کبھی بھی شرب نہیں۔ آپ مجھے بتائیے، کوئی مشروب کچھ بھی نہ ہو اور آپ شرب کا فعل کر لیں، ہو سکتا ہے؟ نہیں، کچھ نہ کچھ تو پینے والی چیز ہوگی تبھی کیا پایا جائے گا؟ شرب پایا جائے گا۔ پانی ہوگا یا دودھ یا چائے یا شربت، کوئی چیز آپ پیئیں گے تو ہم کہیں گے اس نے شَرِبَ زید، زید نے کیا کیا؟ پی لیا۔
تو شرب کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مشروب۔ ظرف کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مضروب۔ بغیر مضروب کے ظرف کبھی بھی۔ آپ مجھے کوئی مثال دکھا سکتے ہیں؟ مثلاً میں کہتا ہوں ضرب زید، زید نے مارا۔
عمراً کو میں نے حذف کر دیا۔ اب بتاؤ، یہ جو زر زید نے پٹائی کی، بغیر مضروب کے ہو سکتی ہے؟ کوئی بھی مضروب نہ ہو اور ظرف پائی جائے؟ نہیں، کوئی نہ کوئی تو مضروب ہوگا۔
وہ الگ ہے ہم اس کا ذکر کریں یا نہ کریں۔
تو کہتے ہیں ایں باب لازم است، یہ باب کیا ہے؟ لازم ہے۔ اِزام مجہول و مفعول نہ می آید، اس سے مجہول اور مفعول نہیں آتے۔ فعل بر دو قسم است، اب وہ فعل لازم اور متعدی بیان کرنے لگے ہیں۔
میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں اور ابھی بھی مختصر میں نے بیان کر دیا۔
فعل بر دو قسم است، فعل دو قسم پر ہے: لازم و متعدی۔ ایک لازم ہے اور ایک متعدی۔
لازم فعل را گویند کہ بر فاعل تمام شود، لازم اس فعل کو کہتے ہیں کہ بر فاعل تمام شود کہ جو فاعل پر پورا ہو جائے۔
و اثر آن بر دیگرے ظاہر نہ شود، اور اس کا اثر دوسرے پر ظاہر نہ ہو۔
لازم اس فعل کو کہتے ہیں جو فاعل پر پورا ہو جائے اور کسی دوسرے پر اس کا اثر ظاہر نہ ہو، یعنی اس کے لیے کوئی مفعول کی ضرورت نہ ہو۔
ضرب زید عمراً، زید نے ضرب لگائی۔ مجھے بتاؤ، یہ امر پر ضرب ظاہر ہوئی یا نہیں؟ امر پر ضرب لگی یا نہیں لگی؟ لگی۔ ضرب تو پھر سنو، ضرب زید عمراً، زید نے پٹائی کی، کس کی؟ امر کی، تو پٹائی کرنے والا کون؟ زید اور پٹائی کا اثر کس پہ پڑا؟ امر پہ۔ دیکھا تو متعدی میں ہمیشہ کوئی مفعول ہوگا جس پر اس فعل کا اثر پڑے گا۔ جب کہ فعل لازم میں ایسا نہیں۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں لازم فعل رہا گوین کہ برفاعل تمام شود کہ لازم اس فعل کو کہتے ہیں جو فاعل پر پورا ہو جائے و اثر آں بر دیگر ظاہر نہ شود اور اس کا کوئی اثر دوسرے پر ظاہر نہ ہو. چونکہ کرم زید زید سخی ہوا یا زید معزز ہوا اب کسی مفعول کی ضرورت نہیں.
و جلس زید زید بیٹھ گیا اب کسی مفعول کی ضرورت نہیں.
وہ متعدی آں کہ اثر آں از فاعل بہ دیگر رسد اور متعدی وہ ہے کہ اثر آں کہ اس فعل کا اثر جو ہے از فاعل بہ دیگر رسد فاعل سے دوسرے کو پہنچے بہ دیگر رسد دوسرے کو پہنچے ضرب زید عمرا یہ ضرب لگانے والا کون زید اور اس ضرب کا اثر کس کو پہنچا امر کو شرب زید ماء زید نے پانی پیا دیکھو زید کے پینے کا اثر کس پہ پہنچا پانی پر.
یہ معنی ہے و متعدی آں کہ اثر آں از فاعل بہ دیگر رسد اور متعدی وہ ہے کہ اس کا اثر فاعل سے دوسرے کو پہنچے مثل ضرب زید عمرا زید نے عمر کو مارا و اکرم بکر خالدا بکر نے خالد کا اکرام کیا اس کی عزت کی دیکھا دیکھو اس کی عزت کی۔ و اکرم بکر خالدا بکر نے اکرام کیا خالد کا دیکھو یہ اکرام کا اثر بکر سے کہاں تک پہنچا خالد تک پہنچا خالد نہ ہوتا تو بکر کس بکر نے کس کا اکرام کیا کوئی مکرم چاہیے تھا یا نہیں اس کے بغیر اکرام ہو ہی نہیں سکتا.
کہتے ہیں باہمی جہت کہ اثر فعل لازم بر دیگر ظاہر نہم شود.
اب آگے وجہ ذکر کرنے لگے ہیں.
وجہ ذکر کرنے لگے ہیں.
کہ فعل لازم میں کیا ہوتا ہے فاعل کا اثر کسی دوسرے کو نہیں پہنچتا اور فعل متعدی میں دوسرے کو اثر پہنچتا ہے ضرب کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے مہروب جس کو اس کا ضرب کا اثر پہنچے شرب کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے مشروب جس کو شرب کا اثر پہنچے اکل کے لیے اقل کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے ماکول چاہیے جس چیز کو کھایا جائے جس کو اقل کا اثر پہنچے تو اب آگے وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ اس سے مفعول کیوں نہیں آتا تو بتلا رہے ہیں بھئی.
کہ فعل لازم وہ ہے کہ جس کا اثر دوسرے کو نہیں پہنچتا.
اور مفعول تو اسی کو کہتے ہیں جس کو اثر پہنچے جب کہ اس کا اثر دوسرے کو پہنچتا ہی نہیں ہے تو اس کے لیے مفعول بھی نہیں آئے گا بات سمجھ میں آگئی.
کہتے ہیں باہمی جہت اسی وجہ سے کہ اثر فعل لازم بر دیگر ظاہر نہم شود کہ فعل لازم کا اثر دوسرے پر ظاہر نہیں ہوتا و مفعول ہمو می باشد اور مفعول وہی ہوتا ہے کہ بر آں اثر ظاہر مہ شود کہ اس پر اثر ظاہر ہوتا ہے.
مفعول کسے کہتے ہیں جس پر اثر ظاہر ہوتا ہے اور فعل لازم کا تو اثر دوسرے کو پہنچتا ہی نہیں جب دوسرے کو اثر پہنچتا ہی نہیں تو دوسرے پر اثر ظاہر کہاں سے ہو لہذا اس کے لیے مفعول بھی نہیں آئے گا.
تو کہتے ہیں باہمی اسی وجہ سے از فعل لازم مفعول نہ میں آیت فعل لازم سے مفعول نہیں آتا.
پھر سنو باہمی جہت اسی وجہ سے آخر میں اب دیکھو از فعل لازم مفعول نہ میں آیت مل گئی عبارت باہمی جہت اسی وجہ سے از فعل لازم مفعول نہ میں آیت فعل لازم سے مفعول نہیں آتا.
عبارت مل گئی باہمی جہت جملے کے شروع میں تھا اور از فعل لازم مفعول نہ میں آیت یہ کہاں ہے جملے کے آخر میں آخر میں باہمی جہت اسی وجہ سے از فعل لازم مفعول نہ میں آیت فعل لازم سے مفعول نہیں آتا اسی وجہ سے بھئی وہ وجہ کیا ہے وہ درمیان میں ذکر کر دی.
کہ فعل لازم کا اثر دوسرے پر ظاہر نہیں ہوتا اور جب دوسرے پر اثر ظاہر ہی نہیں ہوتا تو مفعول کہاں سے آئے گا مفعول تو کہتے ہی اس کو ہیں جس پر کیا ہو دوسرے کا اثر ظاہر ہو.
آگے دیکھیے و فعل مجھول منصوب بہ مفعول میں باشت اچھا پہلے کیا وجہ ذکر کی کہ مفعول کیوں نہیں آتا باب کرمہ سے مفعول کیوں نہیں آتا کیا وجہ ذکر کی کیوں نہیں آتا.
کیونکہ یہ فعل لازم کا اثر دوسرے کو نہیں پہنچتا جب دوسرے کو اثر نہیں پہنچے گا تو مفعول کہاں سے آئے گا مفعول تو اسی کو کہتے ہیں جس کو اثر پہنچے اب آگے دوسرے سوال کا جواب دے رہے ہیں سوال یہ کہ فعل مجھول کیوں نہیں آتا آپ نے گردان پڑھی نا کرمہ یکرم کرما و کرامت فہوا کریم آگے وکریمہ مجھول نہیں پڑھا آپ نے اور آگے مفعول بھی نہیں آیا اس گردان کے اندر تو اب وہ وجہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ اس سے فعل مجھول کیوں نہیں آتا کہتے ہیں بھئی فعل مجھول جو ہوتا ہے اس کی نسبت مفعول کی طرف ہوتی ہے کس کی طرح ادھر سنو ضرب زید عمرا کس نے مارا زید نے کس کو مارا عمر کو اب اس کو فعل مجھول بنائیں گے کیسے زیدن کو ہٹا ختم کر دیں فعل کو کیا بنا دو زریبا اور عمر کو مرفوع کر دو کیا بن گیا زریبا عمرو پٹائی کی گئی کس کی عمر کی توجہ ہے سبق کی طرف پھر سنو.
ضرب زید عمرا کس نے پٹائی کی زید نے کس کی کی عمر کی یہ تھا فعل معروف اب اس کو ذرا فعل مجھول بنا دو فعل مجھول میں کیا کرتے ہیں فاعل کو حذف کرتے ہیں فاعل کو اور فعل کو کیا بنا دیا مجھول بنا دی اور اس کا اسناد کس کی طرف کر دیا زید کی طرف مفعول کی طرف کس کی طرف کر دیا مفعول کی طرف کر دیا صورت سمجھ میں آرہی ہے اور اس پر رفع پڑھ دیا کیا بن گیا زریبا عمرو عمر کی پٹائی کی گئی.
تو لہذا فعل مجھول تبھی آئے گا جب کوئی مفعول تو ہو فعل مجھول کا اسناد کرنا ہے یا نہیں فعل معروف کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوتا ہے فعل معروف فعل معروف اس کا اسناد ہمیشہ فاعل کی طرف ہوتا ہے ضرب زید ضرب زید تو یہ ضرب کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوگا فاعل کی طرف پھر دہراؤ فعل معروف کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوتا ہے فاعل یعنی جو اس فعل کو کرنے والا ہے جس کی یہ فعل صفت ہے اور فعل مجھول کا اسناد کس کی طرف ہوتا ہے مفعول کی طرف ہوتا ہے تو فعل لازم کا تو مفعول ہوتا ہی نہیں جب مفعول ہوتا ہی نہیں تو فعل مجھول بھی نہیں آئے گا کیوں کیونکہ فعل مجھول کے لیے اسناد بھی تو کرنا ہے اور وہ اسناد کس کی طرف ہوگا مفعول کی طرف جب مفعول آتا ہی نہیں تو اسناد کس کی طرف کرو گے وجہ سمجھ میں آئی کہ نہیں فعل معروف کا اسناد کس کی طرف فاعل کی طرف فعل معروف کبھی بھی فاعل کے بغیر نہیں آسکتا اور فعل مجھول کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف مفعول کی طرف فعل مجھول کبھی بھی بغیر مفعول کے نہیں آسکتا یعنی وہ اس کے لیے نائب فاعل بنے گا تو اگر مفعول ہے ہی نہیں تو فعل مجھول کہاں سے لاؤ گے فعل مجھول کا بھی تو اسناد کرنا ہے یہی بیان کر رہے ہیں.
کہتے ہیں وہ فعل مجھول منصوب مب مفعول میں باشت اور فعل مجھول جو ہوتا ہے وہ مفعول کی طرف منصوب ہوتا ہے لہذا آ ہم از لازم نہ میں آیت اس لیے وہ بھی فعل لازم سے نہیں آتا.
فعل مجھول فعل لازم سے نہیں آتا.
مگر ہر گاہ کہ فعل لازم را بہ حرف جر متعدی کنند مجھول و مفعول ازاں میں آیت مگر ہر گاہ مگر جب بھی فعل لازم را بہ حرف جر متعدی کنند اس کو فعل حرف جر کے ساتھ متعدی کر دیں تو مجھول بھی آئے گا و مفعول تو مجھول اور مفعول ازاں میں آیت تو اس میں مفعول اور مجھول آتے ہیں بھئی دیکھیے.
یاد رکھو کبھی کبھار فعل کو حرف جر کے ذریعے متعدی کرتے ہیں.
توجہ ہے جی.
کبھی کبھار فعل کو حرف جر کے ذریعے متعدی کرتے ہیں.
ذہبا زید کیا معنی زید چلا گیا.
توجہ ہے جی ذہبا زید زید چلا گیا.
اب اسی کے ساتھ میں با لے آتا ہوں ذہبا زید بہ عمر.
ذہبا زید بہ عمر اب ذہبا فعل لازم ہے زید چلا گیا لیکن اس فعل لازم کے ساتھ کبھی با وغیرہ لے آتے ہیں با لے آتے ہیں حرف جر کے طور پر جو اسی کے ساتھ جڑتی ہے اور پھر یاد رکھیے یہ جو با ہے اس کے ذریعے وہ فعل متعدی بن جاتا ہے.
کیا بن جاتا ہے.
اب دیکھو ذہبا زید کا ترجمہ کیا تھا زید چلا گیا اور ذہبا زید بہ عمر اب ترجمہ کریں گے زید لے گیا عمر کو.
دیکھا اب لے جانا لے جانے میں کوئی چیز چاہیے یا نہیں جس کو لے کر جائے انسان تو دیکھا پہلے فعل لازم تھا اب کیا بن گیا متعدی بن گیا کس کے ذریعے با کے حرف جر کے ذریعے.
یا جیسے میں کہتا ہوں جاء زید زید آ گیا.
اور میں ساتھ پھر بہ عمر کہہ دیتا ہوں جاء زید جاء زید کا کیا ترجمہ زید آیا اور جاء زید بہ عمر.
زید عمر کو لے کر آیا.
دیکھا پہلے تھا زید آیا اب ہے زید عمر کو لے کر آیا اب دیکھو لے کر آنا کسی کا ہوگا یا نہیں تو اب یہ متعدی بن گیا تو یہ با کے ذریعے کیا کرتے ہیں کبھی کبھی فعل لازم کو متعدی بنا لیتے ہیں یہی ضابطہ یہاں ذکر کر رہے ہیں کہ باب کرمہ جو ہے یہ فعل لازم ہے اس کے لیے مفعول نہیں آتا لیکن کبھی اس کو متعدی بنا لیتے ہیں کس کے ذریعے حرف جر کے ذریعے جب حرف جر کے ذریعے متعدی بنائیں گے تو پھر فعل مجھول بھی آئے گا اس کا اور مفعول بھی آ سکتا ہے.
فعل مجھول بھی اس کا آ سکتا ہے اور مفعول بھی آ سکتا ہے صورت سمجھ میں آگئی.
مگر ہر گاہ کہ فعل لازم را بہ حرف جر متعدی کنند مگر جب مگر ہر اس وقت کے فعل لازم کو حرف جر کے ذریعے متعدی کرتے ہیں مجھول و مفعول ازاں میں آیت تو مجھول اور مفعول اس سے آتے ہیں چون کریمہ بہی و مکروم بہی دیکھا کریمہ فعل مجھول آ گیا.
کریمہ.بهی اس کی عزت کی گئی مکرم بهی اس کا بهی معنی اس کی عزت کی گئی دیکھو بهی کے ساتھ بهی ہے با جاره تو اسی وجہ سے اس نے اس نے کیا کیا اس کو فعل متعدی ورنہ گردان میں کریمہ نہیں آیا تھا مکرم نہیں آیا تھا بات سمجھ میں آ گئی حاصل کلام کیا کہ ایک ہے فعل لازم ایک فعل متعدی فعل لازم وہ ہے جو صرف فاعل پر بات پوری ہو جائے مفعول کی ضرورت نہیں اور فعل متعدی وہ ہے جہاں فاعل پر بات پوری نہ ہو بلکہ ایک ایسی چیز بھی چاہیے جس پر فاعل کا اثر پڑے فاعل کا اثر ظاہر ہو اور وہ کیا ہے مفعول جب فعل لازم کا اثر دوسرے کو پہنچتا ہی نہیں تو اس کے لئے مفعول بھی نہیں آئے گا اور فعل مجہول بھی نہیں آئے گا کیونکہ فعل مجہول کی تو نسبت کس کی طرف ہوتی ہے مفعول کی طرف جب اس کا مفعول نہیں تو فعل مجہول بھی نہیں لیکن اگر اس کو متعدی بنا لیا کس کے ذریعے حرف جر کے ذریعے پھر اس سے مفعول بھی آ سکتا ہے اور فعل مجہول بھی آ سکتا ہے بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی آگے دیکھیے بھئی باب ششم فعل یفعل بکسر العین فیهما فعل یفعل دونوں میں عین کے کسرہ کے ساتھ یعنی ماضی میں بھی اور مضارع میں بھی فیهما الحسب والحسبان پنداشتن بھئی پنداشتن کا معنی خیال کرنا گمان کرنا اس کا ایک مصدر حسب تو آپ نے پڑھا تھا حسبان ایک نیا مصدر ذکر کر دیا انہوں نے جی حسب یحسب حسبان فھو حاسب وحسب یحسب حسبان فھو محسوب الی آخره
سنائیے بھئی حسب کی گردان سنا دیجیے باب پنجم بروزن فعل یفعل تو الحسب گمان کرنا گمان کرنا حسب یحسب حسبان فھو حاسب وحسب یحسب حسبان فذاک محسوب لم یحسب لم یحسب لا یحسب لا یحسب لن یحسب لن یحسب الأمر من احسب لتحسب لیحسب لیحسب و نھی عن لا تحسب لا تحسب لا یحسب لا یحسب والظرف من محسوب والجمع محاسب والآلة منه محسوب محسوبة محسوب والجمع والجمع محاسب ومحاسيب وافعال التفضيل من احسب والمؤنث منه حسبي حسبيات حسب شابش بھئی شابش
آگے دیکھیے بھئی صحیح ازی باب جز حسب یحسب نئی آمدہ کہتے ہیں صحیح ازی باب اس باب سے جز جز کا معنی علاوہ علاوہ حسب یحسب کے نیا آمدہ نہیں آیا ہے اس باب سے صحیح کلام صرف حسب یحسب آیا ہے حسب کیا ہے ہفت اقسام میں مھموز ہے نہیں مثال نہیں اجواف نہیں ناقص نہیں مضاف نہیں نہیں تو یہ صحیح ہے اور اس باب سے صحیح صرف حسب آیا ہے آپ پوری عربی زبان تلاش کر لیں آپ کو صحیح مادہ صحیح کلام اس باب سے نہیں ملے گا اور مل جائیں گے مثال اجواف وغیرہ مل جائیں گے لیکن صحیح اور نہیں ملے گا
تو یہی بات بیان کر رہے ہیں صحیح ازی باب جز حسب یحسب نئی آمدہ کہ صحیح اس باب سے علاوہ حسب یحسب کے نہیں آیا ہے و درا هم در مضارع فتح العین نیز آمد است و درا اور اس میں کس میں حسب یحسب میں و درا اور اس میں ہم در مضارع مضارع میں بھی مضارع میں فتح العین نیز آمد است فتح العین بھی آیا ہے توجہ ہے جی اس حسب یحسب حسب یحسب میں مضارع کے میں کیا ہے عین پر کسرہ کسرہ لیکن اسی میں عین پر فتحہ بھی آیا ہے حسب یحسب بھی آیا ہے جی یعنی یوں کہو یہ باب علیمہ سے بھی آیا ہے باب علیمہ حسب یحسب کیا بن جائے گا باب علیمه تو یاد رکھیں یہ جو باب ہیں مختلف یہ اور ابواب سے بھی آتے ہیں ضرب صرف فعل یفعل سے نہیں آئے گا کسی اور سے بھی آپ کو مل جائے گا تو ہر ایک مختلف بابوں میں لیکن عام طور پر جو زیادہ استعمال ہوتا ہے وہ ان ابواب کے اندر ہے تو لہذا حسب معلوم ہوا یہ مادہ جو ہے باب حسب سے بھی آتا ہے اور باب سمعہ علیمہ سے بھی آتا ہے تو کہتے ہیں و درا هم در مضارع فتح العین نیز آمد است اور اس کے اندر مضارع میں عین کا فتحہ بھی آیا ہے دیگر چند کلام مثال و لفیف ازی باب آمداند دیگر چند کلام دوسرے کچھ کلمات مثال و لفیف ازی باب آمداند اس باب سے آئے ہیں یعنی اس باب سے صحیح سے صرف حسب آیا ہے اور کچھ اور کلمات آئے ہیں وہ کس میں سے ہیں مثال اور لفیف میں سے مثال اور لفیف میں سے ہیں معلوم ہوا معلوم ہوا کہ مھموز نہیں آیا اس باب سے معلوم ہوا مضاف اس باب سے نہیں آیا
تو کہتے ہیں دیگر چند کلام مثال و لفیف ازی باب آمداند کچھ اور کلمات لفیم مثال اور لفیف اس باب سے آئے ہیں چلیے بس بھئی اب اردو کی کتاب بھی دیکھ لیں باتیں سب اچھی طرح سمجھ میں آ گئیں
دیکھیے بھئی کتاب پر اردو کی کتاب دوسرا باب ابواب کے بیان میں جو چار فصلوں پر مشتمل ہے فصل اول ابواب ثلاثی مجرد کے بیان میں افعال و مشتقات کے صیغوں سے فارغ ہو کر اب ہم ابواب بیان کرتے ہیں پہلے تم جان چکے ہو کہ ثلاثی مجرد کے چھ باب ہیں باب اول فعل یفعل عین ماضی کے فتحہ اور عین غابر کے ضمہ کے ساتھ غابر بمعنی باقی سے مضارع مراد ہے چونکہ زمانہ ماضی کے بعد حال اور استقبال باقی رہ جاتے ہیں جن پر مضارع دلالت کرتا ہے اس لیے مضارع کو غابر کہتے ہیں النصر والنسرة مدد کرنا تصریفه نصر ینصر نصرا و نصرة فھو ناصر و نصر ینصر نصرا و نصرة فھو منصور الأمر منه انصر والنھی عنه لا تنصر الظرف منه منصر والآلة منه منصر و منصرة و منصار وتثنیتهما منصرانی و منصرانی والجمع منهما مناصر و مناصیر افعال التفضيل منه انصر والمؤنث منه نصرا وتثنیتهما انصرانی و نصریان والجمع منهما انصرون و اناصر و نصر و نصریات
باب دوم فعل یفعل عین ماضی کے فتحہ اور عین غابر کے کسرہ کے ساتھ الضرب مارنا اور سطح زمین پر چلنا یہ دوسرا معنی ہے اور مثال بیان کرنا یہ تیسرا معنی ہے یہ انہوں نے وہ پدید کردن کا معنی کیا کر دیا مثال بیان کرنا تو یہ مرادی ترجمہ بھی ہو سکتا ہے بھئی بھئی جب مثال بیان کریں گے تو کوئی بات ظاہر ہو جائے گی یا نہیں بات سمجھ میں اچھی طرح آ جائے گی یا نہیں تو وہی لحاظ ٹھیک اچھا تو ضرب یضرب ضربا الی آخره باب سوم فعل یفعل عین ماضی کے کسرہ اور عین غابر کے فتحہ کے ساتھ السمع سونا سمع یسمع سمعا الی آخره باب چہارم فعل یفعل بفتح العین فیهما الفتح کھولنا فتح یفتح فتحا الی آخره
اس باب میں شرط یہ ہے کہ ہر وہ کلمہ صحیح جو اس باب سے آئے اس کے عین فعل یا لام فعل میں حرف حلقی ہو تو کہتے ہیں اس باب میں شرط یہ ہے کہ ہر وہ کلمہ صحیح جو اس باب سے آئے اس کے عین فعل یا لام فعل میں حرف حلقی ہو حرف حلقی شش باب عین نور عین همزه ھاء ھاو خاو عین و غین باب پنجم فعل یفعل بضم العین فیهما دونوں میں عین کا ضمہ ہے الکرم والکرامة بزرگ ہونا معزز ہونا بڑا ہونا میں نے تینوں ترجمے کر دیے بھئی کرم یکرم کرما و کرامة فھو کریم الأمر منه اکروم الی آخره یہ باب لازم ہے اس سے مجہول اور مفعول نہیں آتے فعل کی دو قسمیں ہیں لازم اور متعدی لازم اس فعل کو کہتے ہیں جو فاعل پر تمام ہو جائے فاعل پر پورا ہو جائے اور اس کا اثر کسی دوسرے پر ظاہر نہ ہو جیسے کرم زید زید معزز ہوا زید سخی ہوا اب اس میں کسی مفعول کی ضرورت نہیں جلس زید زید بیٹھ گیا اس میں کسی مفعول کی ضرورت نہیں اور متعدی وہ ہے کہ اس کا اثر فاعل سے دوسرے پر پہنچے جیسے ضرب زید عمرا یہ ضرب کا اثر فاعل یعنی زید سے کس تک پہنچا عمر تک اور اکرم بکر خالدا بکر نے اکرام کیا خالد کا دیکھو یہ اکرام کا اثر بکر سے کہاں تک پہنچا خالد تک پہنچا خالد نہ ہوتا تو بکر کس بکر نے کس کا اکرام کیا کوئی مکرم چاہیے تھا یا نہیں اس کے بغیر اکرام ہو ہی نہیں سکتا آگے دیکھیے بھئی تو چونکہ فعل لازم کا اثر دوسرے پر ظاہر نہیں ہوتا اور مفعول وہی ہوتا ہے جس پر اثر ظاہر ہو اس لیے فعل لازم سے مفعول نہیں آتا اور چونکہ فعل مجہول مفعول کی طرف منصوب ہوتا ہے توجہ ہے فعل مجہول مفعول کی طرف منصوب ہوتا ہے لہذا وہ بھی لازم سے نہیں آتا لیکن جب فعل لازم کو حرف جر کے ذریعے متعدی کرتے ہیں تو اس سے بھی مجہول اور مفعول آ جاتا ہے جیسے کرمہ به مکرم به باب ششم فعل یفعل بکسر العین فیهما الحسب والحسبان گمان کرنا حسب یحسب حسبا و حسبانا فھو حاسب وحسب یحسب حسبا و حسبانا فھو محسوب الی آخره اس باب سے صحیح حسب یحسب کے علاوہ نہیں آتا پھر اس میں عین مضارع کا فتحہ بھی آیا ہے کس میں حسب یحسب میں یعنی حسب یحسب بھی آیا ہے البتہ دوسرے چند کلمات مثال اور لفیف کے اس باب سے آتے ہیں
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام