Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

علم الصيغة · dars-013

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 02 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 45
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی! فَعْلَةٌ در ثلاثی مجرد برائے مرۃ آیت، چوں ضربۃ یک بار زدن و فعْللَۃ برائے نوع چوں صبغَۃ یک نوع رنگ کردن و فُعْلَۃ برائے مقدار، چوں اکلَۃ و لقمَۃ۔ فائدہ برائے مبالغہ، صیغہ فعال آیت چوں ضراب و فعّال چوں طوال و فاعل چوں حذیر و فعیل چوں علیم۔ کل کے سبق میں مصنف نے آپ کو ثلاثی مجرد کے جو مصدر کے چوالیس اوزان ہیں، جو عام کثیرالاستعمال ہیں، وہ ذکر کیے تھے بھئی نظم کے اندر۔ اور انہوں نے آپ کو بتایا تھا کہ میرے استاد جو ہیں مولوی سید محمد علی صاحب انہوں نے اکثر اوزانِ مصادرِ ثلاثی مجرد را بہ وضع نظم فرموداند۔ تو اکثر اوزان کو نظم کیا ہے یہ نہیں کہ ثلاثی مجرد کے یہی سارے اوزان ہیں، اس کے علاوہ بھی ہیں لیکن اکثر اوزان اور یہ عام میں جو استعمال ہونے والے ہیں، ان سب کو اس نظم میں جمع کر دیا۔ اور یہ نظم آپ کو بہترین یاد ہونی چاہیے بھئی۔ اب آگے مصدر سے متعلق کچھ اور قیمتی باتیں ذکر کر رہے ہیں، تو کہتے ہیں فَعْلَةٌ در ثلاثی مجرد برائے مرۃ آیت۔ بھئی تین وزن ذکر کریں گے مصدر کے، ایک فَعْلَةٌ، ایک فِعْلَةٌ، ایک فُعْلَةٌ۔ صرف فا پر حرکت بدل رہی ہے فَعْلَةٌ، فِعْلَةٌ، فُعْلَةٌ۔ یاد رکھو یہ جو فَعْلَةٌ ہے نا فا پر زبر ہے، فتحہ ہے، یہ ایک مرتبہ کے لیے آتا ہے، کس کے لیے؟ ایک مرتبہ کے لیے۔ آپ کسی کو کہنا چاہتے ہیں میں نے ایک دفعہ زید کی پٹائی کی، تو آپ کہیں گے ضربتُ زیداً ضربۃً، دیکھا ضربۃً مفعولِ مطلق لے آئے، مفعولِ مطلق آپ نہ پڑھ رہے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، اس کو کیا کہتے ہیں مفعولِ مطلق۔ ضربتُ ضربۃً، دیکھو ضربۃً مصدر ہے اور اس سے ماقبل وہی فعل ضربتُ آ رہا ہے بھئی۔ تو ضربتُ زیداً ضربۃً میں نے زید کو مارا ضربۃً ایک مرتبہ۔ اور اسی طرح آپ کہتے ہیں میں نے ایک سجدہ کیا، تو کہیں گے سجدتُ سجدۃً۔ دیکھا فَعْلَةً مفعولِ مطلق آ رہا ہے یا نہیں؟ تو سجدتُ سجدۃً میں نے ایک سجدہ کیا۔ اور اسی طرح آپ کہتے ہیں میں ایک دفعہ کھڑا ہوا، تو آپ کہیں گے قمْتُ قومۃً۔ میں ایک مرتبہ اٹھا، ایک مرتبہ کھڑا ہوا۔ اور اسی طرح مثلاً آپ کہنا چاہتے ہیں میں ایک دفعہ سوار ہوا، تو آپ کہیں گے رکبتُ رکوبۃً، دیکھا وہ فَعْلَةً وزن لے آئیں گے، ایک مرتبہ بتلانے کے لیے۔ اور اگر آپ نوع بتلانا چاہتے ہیں یعنی قسم، کوئی خاص قسم بتلانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے فِعْلَةٌ وزن آتا ہے۔ مثلاً آپ کہنا چاہتے ہیں میں ایک خاص طریقے پر بیٹھا، یا یوں کہیں ایک طریقے پر بیٹھا، ایک خاص تو آپ کہیں گے جلستُ جلسۃً۔ میں ایک طریقے پر، ایک نوع، نوع کا معنی قسم، میں ایک قسم پر بیٹھا، ایک طریقے پر بیٹھا۔ اور اگر بیان بھی کرنا چاہتے ہیں تو آگے وہ بھی جوڑ دیں، جلستُ جلسَۃ القاری، میں قاری کی طرح بیٹھا۔ دیکھا ایک خاص نوع بیان ہوئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا جلستُ جلسَۃ الاستاز، میں استاز کی طرح بیٹھا۔ یہ نوع اور قسم بتلانے کے لیے ہے۔ اور جو فُعْلَةٌ وزن ہے وہ خاص مقدار کے لیے آتا ہے، جیسے أکلتُ أکلۃً، أکلَ کا معنی کھانا، أکلتُ أکلۃً، میں نے ایک خاص مقدار کھائی خوراک کی۔ أکلۃً کسے کہتے ہیں أکلَ کا معنی کھانا، أکلۃً خاص مقدار۔ اردو ترجمہ خوراک کے کریں گے اس کا، خوراک کے کر لیں، أکلتُ أکلۃً، میں نے ایک خوراک کھائی، ایک خاص مقدار جو ہے، خاص مقدار۔ یہاں مرتبہ نہیں ہے کہ ایک مرتبہ کھایا، ایک خاص مقدار مراد ہے۔ یہ اسی طرح لقمتُ لقمۃً، دیکھا لقمہ کسے کہتے ہیں؟ لقمہ ایک لقمہ روٹی کا، دیکھو یہ ایک خاص مقدار ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ تو فَعْلَةً وزن آتا ہے ایک مرتبہ کے لیے، فِعْلَةٌ وزن آتا ہے ایک نوع کے لیے، ایک قسم کے لیے اور فُعْلَةٌ وزن آتا ہے خاص مقدار کے لیے، یہی بیان کر رہے ہیں دیکھیے بھئی! کہتے ہیں فَعْلَةٌ در ثلاثی مجرد برائے مرۃ آیت، کہ فَعْلَةً جو ہے ثلاثی مجرد میں مرّہ کے لیے آتا ہے، مرّہ مرّۃً ایک مرتبہ ایک مرتبہ کے لیے آتا ہے، چوں ضربۃً یک بار زدن، جیسے ضربۃً ایک مرتبہ مارنا۔ و فِعْلَةٌ برائے نوع، اور فِعْلَةٌ کا وزن جو ہے وہ نوع یعنی قسم کے لیے آتا ہے، چوں صبغَۃً، جیسے صبغَۃً۔ تو صبغَ کے معنی رنگ کرنا بھئی، تو صبغہ فِعْلَةٌ وزن ہوا تو یک نوع رنگ کرنا، ایک قسم کا، ایک نوع کا رنگ کرنا۔ و فُعْلَةٌ برائے مقدار، اور فُعْلَةٌ کا وزن جو ہے برائے مقدار، وہ کس کے لیے آتا ہے؟ مقدار کے لیے، چوں أکلۃً و لقمۃً، جیسے أکلہ اور لقمہ۔ تو أکلہ بھی خاص مقدار اور لقمہ بھی خاص مقدار ہے بھئی۔ فائدہ برائے مبالغہ صیغہ فعال آیت چوں ضراب و فعّال چوں طوال و فاعل چوں حذیر و فعیل چوں علیم۔ اب کچھ مبالغے کے صیغے کے اوزان ذکر کرنے لگے ہیں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں زیدٌ ضاربٌ، زید پٹائی کرنے والا ہے، لیکن آپ بتلانا چاہتے ہیں زیادہ پٹائی کرنے والا ہے، تو آپ کیا کہیں گے؟ زیدٌ ضرابٌ، دیکھا فعّال وزن آپ نے اس سے بنا لیا۔ اور یہ آپ کہتے ہیں زیدٌ طویلٌ، زید لمبے قد والا ہے، زید لمبا ہے، لیکن آپ بتلانا چاہتے ہیں بہت لمبا ہے، تو مبالغے کا صیغہ لائیں گے زیدٌ طوالٌ۔ تو یہ مبالغے کے صیغے زیادتی کو بیان کرتے ہیں، کس کو؟ زیادتی کو بیان کرتے ہیں، لیکن آگے آپ کو بتائیں گے اس میں تفصیل ہے اس میں بھی زیادتی بیان ہوتی ہے، مبالغے میں بھی زیادتی بیان ہوتی ہے، لیکن اس میں تفصیل میں کسی دوسرے کے ساتھ مقابلے میں زیادتی بیان ہوتی ہے، مثلاً اگر میں کہوں زیدٌ أطولُ من عمرٍو، زید عمر سے زیادہ لمبا ہے، تو دیکھا یہ عمر کے مقابلے میں میں أطول اس میں تفصیل لایا، اور اگر میں ویسے بتانا چاہتا ہوں زید بہت لمبا ہے، کسی کے ساتھ مقابلہ نہیں کر رہا، ویسے بتا رہا ہوں زید بہت زیادہ لمبے قد والا ہے، تو میں کہوں گا زیدٌ طوالٌ۔ مبالغے کے صیغے میں کسی کے ساتھ مقابلہ ملحوظ نہیں ہوتا، بس اپنی ذات کے اعتبار سے اس کو بتایا جاتا ہے کہ یہ کام زیادہ کرنے والا ہے، یا زیادہ صفت ہے اس کے اندر یہ والی۔ جبکہ اس میں تفصیل میں دوسرے کے ساتھ مقابلہ ہوتا ہے بھئی، مقابلہ ملحوظ ہوتا ہے۔ تو اب دیکھیے کتاب پر بھئی، فائدہ کہتے ہیں برائے مبالغہ صیغہ فعال آیت کہ مبالغے کے لیے فعال کا صیغہ آتا ہے، چوں ضرابٌ، بہت زیادہ مارنے والا، یا جیسے غفّارٌ، بہت زیادہ بخشنے والا۔ و فعّال، اور اسی طرح فعّال بھی آتا ہے چوں طوالٌ جیسے طوال بہت لمبا، و فاعلٌ، اور فاعل بھی آتا ہے چوں حذیرٌ، بہت زیادہ بچنے والا۔ تو حذیر، بہت زیادہ بچنے والا، بہت زیادہ پرہیز کرنے والا۔ و فعیلٌ، چوں علیمٌ، بہت زیادہ جاننے والا۔ توجہ ہے بھئی؟ جی۔ مبالغے کا ایک وزن فاعل ذکر کیا جیسے حذیر، اور آپ پڑھ چکے یہی فاعل وزن مصدر میں بھی آتا ہے خنِقَ، آیا تھا یا نہیں کل کی نظم میں؟ جی۔ اور یہی وزن صفتِ مشبہ میں بھی آتا ہے خشنٌ، خشین جی۔ تو یہ معلوم ہوا یہ فاعل وزن، یہ مبالغے کے صیغے میں کا بھی ہے، یہی وزن مصدر کا بھی ہے اور یہی وزن صفتِ مشبہ کا بھی ہے، تو جہاں بھی فاعل آ جائے، آپ نے پھر غور کرنا ہے کہ یہ وہ مصدر ہے یا مبالغے کا صیغہ ہے یا صفتِ مشبہ ہے؟ علماء نے ہر ایک کے بارے میں لکھا ہے، تو آپ کو تحقیق کرنا پڑے گی کہ یہ کون سا صیغہ مراد ہے یہاں پر۔ بسا اوقات تو ویسے ہی پتہ لگ جاتا ہے، اندازہ ہو جاتا ہے فلاں صیغہ ہے اور بسا اوقات آپ کو پھر علماء کی کتابوں میں تحقیق کرنا پڑتی ہے، انہوں نے لکھا ہوتا ہے کہ یہ مبالغے کا صیغہ ہے یا یہ صفتِ مشبہ ہے، دیکھو خشن، خشن کو کہاں ذکر کیا؟ بتایا یہ صفتِ مشبہ ہے، مبالغے کا صیغہ نہیں اور حذیر کو یہاں ذکر کیا، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ مبالغے کا صیغہ۔ اسی طرح ایک وزن یہ مبالغے کے صیغے میں بتلا رہے ہیں فعیلٌ جیسے علیم، اور یہی فعیل وزن مصدر میں بھی کل آپ نے پڑھا ومیض، فعیل وزن اور یہی وزن آپ نے صفتِ مشبہ میں بھی پڑھا ہے، صفتِ مشبہ تو اس وزن پر بہت آتی ہے شریفٌ، کریمٌ۔ یہی علیمٌ بھی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو پھر آپ نے خیال رکھنا ہے، غور کرنا ہے کہ یہ کون سا صیغہ ہے، صبالغے کا صیغہ ہے یا صفتِ مشبہ ہے یا مصدر ہے، جہاں قرآن و حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں تو عموماً علماء وہاں لکھ دیتے ہیں کہ یہ فلاں صیغہ ہے۔ اور صرف یہی مبالغے کے اوزان نہیں ہیں، یاد رکھیں! مبالغے کے اور بھی اوزان ہیں اور بسا اوقات صیغہ مبالغہ کے آخر میں تا بھی ملا دیتے ہیں مزید مبالغے کے لیے جیسے علّامَۃ، علّامہ، بہت زیادہ علم والا جو ہو اس کو علامہ کہتے ہیں، تو یہ جو اس کے آخر میں گول تا ہے یہ تانیث کے لیے نہیں ہے، یہ بھی مبالغے کے لیے ہے بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی! کہتے ہیں و فرق در معنای صیغۂ مبالغہ و اسم تفضیل این است۔ اچھا بھئی! بھئی مبالغے کا ذکر آ گیا، مبالغے کے صیغے کا ذکر آ گیا اور پیچھے اس میں تفصیل کا بھی ذکر آیا تھا، تو اب دونوں میں فرق بیان کرنے لگے ہیں، میں نے فرق بتلا دیا کیا؟ کہ اس میں تفصیل میں دوسرے کے ساتھ مقابلہ ملحوظ ہوتا ہے اور مبالغے کے صیغے میں مقابلہ ملحوظ نہیں ہوتا، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں و فرق در معنای صیغۂ مبالغہ و اسم تفضیل این است، اور صیغۂ مبالغہ اور اسم تفضیل کے درمیان فرق یہ ہے کہ در صیغۂ مبالغہ منظور زیادت می باشد، کہ صیغۂ مبالغہ میں زیادت منظور ہوگی، یعنی وہ نظر میں ہوگی۔ زیادتی پر نظر ہوگی کہ زیادتی بیان کر رہے ہیں زیدٌ ضرابٌ، زید بہت زیادہ مارنے والا ہے، تو زیادتی منظور ہے، یعنی اس زیادتی کی طرف نظر ہے۔ پھر دیکھیں عبارت، کہ در صیغۂ مبالغہ منظور زیادت می باشد، کہ مبالغے کے صیغے میں زیادتی نظر میں ہوگی، در معنای فاعلیت، کس معنی کے اندر؟ فاعلیت۔ فاعلیت کے معنی میں زیادتی، دیکھو ضراب مبالغہ ہے، زارب میں، زارب فاعل میں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور آپ نے اس میں تفصیل میں بھی پڑھا تھا، وہ بھی کس سے آتا ہے؟ فاعل کے معنی کی زیادتی بیان کرتا ہے، مفعول کے معنی کی زیادتی آتی ہے، بہت کم جیسے الأشہر بمانے زیادہ مشہور۔ ورنہ تو فاعل کے معنی کی زیادتی بیان کرتا ہے، تو یہاں پر آپ پھر عبارت دیکھیں کہ در صیغۂ مبالغہ منظور زیادت می باشد، کہ مبالغے کے صیغے میں زیادتی نظر میں ہوگی، در معنای فاعلیت، کس معنی میں؟ فاعلیت کے معنی میں زیادتی جو ہے وہ منظور ہوگی فی حدِّ ذاتہ، اپنی ذات میں، کس میں؟ اپنی ذات۔ یعنی کسی کے ساتھ مقابلہ نہیں ہے، اس کی اپنی ذات ہی بیان ہو رہی ہے کہ یہ زیادہ پٹائی کرنے والا ہے، تو اپنی ذات میں زیادتی بیان کرنا مقصد ہے کہ یہ زیادہ پٹائی کرنے والا ہے، عمر، بکر یا خالد کے ساتھ مقابلہ یہاں منظور نہیں ہے۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر دیکھیں، کہتے ہیں وہ فرق در معنی صیغہ مبالغہ اور اسم تفضیل این است صیغہ مبالغہ اور اسم تفضیل کے معنی میں فرق یہ ہے کہ در صیغہ مبالغہ منظور زیادت می باشد در معنی فاعلیت فی حد ذاتہ نہ نظر بہ دیگر کہ صیغہ مبالغہ میں اپنی ذات میں فاعلیت کے معنی کی زیادتی منظور ہوتی ہے، نہ نظر بہ دیگر، نہ کہ دوسرے کی طرف نظر کرتے ہوئے (یعنی دوسرے سے مقابلہ ملحوظ نہیں ہوتا)۔ و در اسم تفضیل زیادت منظور می باشد نظر بہ دیگر اور اسم تفضیل میں زیادتی منظور ہوتی ہے دوسرے کی طرف نظر کرتے ہوئے، یعنی دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے۔ و در اسم تفضیل زیادت منظور می باشد نظر بہ دیگر اور اسم تفضیل میں زیادتی مقصود ہوگی۔ منظور کا ترجمہ کیا کر لیں؟ مقصود، جس کی طرف نظر ہو یعنی جس کا ارادہ ہے، جو مقصود ہے۔ تو منظور کا ترجمہ کیا کر لیں؟ مقصود، تو اسم تفضیل میں زیادت منظور می باشد، زیادتی مقصود ہوگی، نظر بہ دیگر، دوسرے کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ پیچھے بھی منظور کا لفظ آیا تھا، اس میں بھی مقصود ترجمہ کر لیں، ترجمہ ذرا بہترین ہو جائے گا۔ بات تو آپ سمجھ گئے ہیں، لیکن پھر ترجمہ دیکھ لیں۔ کہتے ہیں فرق در معنی صیغہ مبالغہ و اسم تفضیل این است صیغہ مبالغہ اور اسم تفضیل میں فرق یہ ہے کہ در صیغہ مبالغہ منظور زیادت می باشد کہ صیغہ مبالغہ میں زیادتی مقصود ہوتی ہے در معنی فاعلیت فی حد ذاتہ، اپنی ہی ذات میں فاعلیت کے معنی میں۔ اپنی ذات میں فاعلیت کے معنی میں زیادتی مقصود ہوتی ہے، نہ نظر بہ دیگر، دوسرے کی طرف نظر کرتے ہوئے مقصود نہیں۔ و در اسم تفضیل زیادت منظور می باشد نظر بہ دیگر، اور اسم تفضیل میں دوسرے کی طرف نظر کرتے ہوئے زیادتی مقصود ہوتی ہے۔ عبارت سمجھ میں آئی؟ سارے کا ترجمہ با محاورہ سنو، در صیغہ مبالغہ منظور زیادت می باشد در معنی فاعلیت فی حد ذاتہ نہ نظر بہ دیگر، کہ صیغہ مبالغہ میں اپنی ذات میں فاعلیت کے معنی کی زیادتی مقصود ہوتی ہے، نہ نظر بہ دیگر، نہ کہ دوسرے کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ و در اسم تفضیل زیادت منظور می باشد نظر بہ دیگر، اور اسم تفضیل میں دوسرے کی طرف نظر کرتے ہوئے زیادتی مقصود ہوتی ہے۔ أضرب من زید یا أضرب القوم خواہند گفت۔ دیکھا جس سے زیادتی یاد رکھو یہ جو اسم تفضیل ہے نا، آپ نحف کی کتابوں میں بھی پڑھ لیں گے اس کے استعمال کے تین طریقے ہیں۔ اس کے ساتھ یا من آئے گا، زید أضرب من عمر، جس پر من داخل ہو اس کے ساتھ مقابلہ بیان ہو رہا ہے، اس کے مقابلے میں زیادتی بیان ہو رہی ہے۔ زید أضرب من عمر، زید زیادہ مارنے والا ہے من عمر، کس کے مقابلے میں؟ عمر کے مقابلے میں۔ اور کبھی یہ اضافت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے، زید أضرب القوم، زید سب لوگوں سے زیادہ مارنے والا ہے۔ تو دیکھا مضاف الیہ جو ہے اس پر زیادتی بیان ہو رہی ہے اور کبھی کبھار الف لام کے ساتھ استعمال ہوتا ہے، جاعنی زید الاضرب۔ الاضرب، الف لام آیا، میرے پاس وہ زیادہ آیا، الاضرب، جو سب سے زیادہ پٹائی کرنے والا ہے۔ سب سے زیادہ، دیکھا سب کے مقابلے میں زیادتی بیان ہو رہی ہے، اپنی ذات میں نہیں۔ میں کہوں زید بڑے لمبے قد والا ہے، تو کیا باقیوں کو میں نے کہا کسی کے مقابلے میں؟ نہیں۔ ہو سکتا ہے اور اس سے بھی لمبے ہوں، لیکن میں خود اس کی اپنی ذات کے اعتبار سے بات کر رہا ہوں کہ اس کا قد زیادہ لمبا ہے۔ جبکہ اس میں تفضیل میں دوسروں سے مقابلہ ملحوظ ہوگا، چاہے کسی ایک سے مقابلہ ہو، دو سے ہو، زیادہ سے ہو یا سب سے ہو، لیکن ہوگا مقابلہ۔ تو اس کے استعمال کے کتنے طریقے؟ تین طریقے۔ یا من کے ساتھ یا اضافت کے ساتھ یا الف لام۔ مثلاً أضرب من عمر، یا أضرب القوم، اور یا الاضرب، جاعنی زید الاضرب۔ دیکھیے کتاب پر، أضرب من زید یا أضرب القوم خواہند گفت، تو دوسرے کے ساتھ مقابلہ ملحوظ ہوتا ہے، لہٰذا أضرب من زید یا أضرب القوم خواہند گفت کہیں گے۔ اضافت کے ساتھ یا الف لام کے ساتھ بھئی۔ اور تیسرا طریقہ میں نے بتایا کس کے ساتھ؟ الف لام کے ساتھ، چونکہ یہاں وہ سارے طریقے ذکر کرنا مقصد نہیں ہے، ان کا مقصد صرف یہ بتلانا ہے کہ اسم تفضیل میں زیادتی جو ہوتی ہے وہ کسی دوسرے کے مقابلے میں ہوتی ہے، تو جو مثالیں ذرا واضح تھیں، آسان تھیں، وہ ذکر کر دیں۔ تو کہتے ہیں أضرب من زید یا أضرب القوم خواہند گفت، أضرب من زید، زید سے زیادہ پٹائی کرنے والا، یا أضرب القوم، ان لوگوں سے زیادہ پٹائی کرنے والا، خواہند گفت کہیں گے۔ آگے ترجمہ بھی کر رہے ہیں، زنندہ تر است از زید۔ زنندہ تر است از زید، زیادہ مارنے والا زید سے۔ زدن کا معنی ہے مارنا۔ اور اسی سے مارنے والا زنندہ، زنندہ اور زنندہ تر، زیادہ مارنے والا۔ تو کہتے ہیں زنندہ تر است از زید، زیادہ مارنے والا زید سے، زید سے زیادہ مارنے والا، یہ کس کا ترجمہ کر رہے ہیں؟ أضرب من زید، آگے أضرب القوم کا ترجمہ کر رہے ہیں، یا زنندہ تر است از قوم، یہ زیادہ مارنے والا قوم سے۔ و اگر صرف لفظ أضرب أو اکبر آویت، معنی نسبت مقدر می باشد۔ اب ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں دراصل، اعتراض یہ ہوتا ہے آپ نے ہمیں کیا بتایا؟ کہ اس میں تفضیل میں ہمیشہ دوسرے کے ساتھ مقابلہ ملحوظ ہوگا، کیا ہوگا؟ مقابلہ ملحوظ ہوگا۔ اور وہ من یا اضافت کے ساتھ وہ ساتھ ذکر ہوگا، ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ اس میں تفضیل آ رہا ہے اور نہ اس کے ساتھ من آیا ہے اور نہ اس کے ساتھ مضاف الیہ آیا ہے، جیسے اللہ اکبر۔ اللہ اکبر، اب دیکھو اکبر اس میں تفضیل ہے، لیکن یہاں من بھی آگے نہیں ہے اور مضاف الیہ بھی آگے نہیں ہے۔ تو اس کا جواب دینے لگے ہیں کہ بھئی اگر ذکر نہ بھی ہو، وہاں ہوگا ضرور مقدر ہوگا۔ وہ کیا ہوگا جس پر زیادتی بیان ہو رہی ہے وہ کیا ہوگا وہاں پر؟ مقدر ہوگا، جیسے اللہ اکبر، یہ دراصل ہے اللہ اکبر من کل شئی، اللہ کی ذات سب چیزوں سے زیادہ بڑی ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھو سب چیزوں کے مقابلے میں اللہ کی عظمت بیان کی جا رہی ہے۔ تو یہاں مفضل علیہ کیا ہے؟ محذوف ہے بھئی، محذوف ہے، مقدر ہے۔ تو کہتے ہیں و اگر صرف لفظ أضرب أو اکبر آویت، اگر صرف أضرب یا اکبر کا لفظ آئے، یعنی مفضل علیہ وہاں پر ذکر نہ ہو جس سے مقابلہ کیا جا رہا ہے وہ ذکر نہ ہو، تو معنی نسبت مقدر می باشد، تو نسبت کا معنی مقدر ہوگا۔ نسبت کا معنی مقدر ہوگا، یعنی اس میں تفضیل میں دوسرے کی نسبت سے زیادتی بیان ہوتی ہے، دوسرے کی نسبت، وہی نسبت جو میں کہہ رہا تھا نا مقابلے میں، اس کے لیے انہوں نے لفظ کیا استعمال کر لیا؟ نسبت۔ میں نے مثلاً کہا تھا زید زیادہ مارنے والا ہے، کس کی بنسبت؟ عمر، میں نے کہا تھا زید زیادہ مارنے والا ہے عمر کے مقابلے میں، یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ زید زیادہ مارنے والا ہے عمر کی بنسبت، تو نسبت کا لفظ استعمال کر رہے ہیں، بات وہی ہے بھئی، یہ معنی ہے کہ معنی نسبت مقدر می باشد، نسبت کا معنی وہاں پر مقدر ہوگا، مثلاً مثال کے طور پر در اللہ اکبر مراد این است کہ اکبر من کل شئی، کہ اللہ اکبر میں مراد یہ ہے کہ اکبر من کل شئی، کہ بزرگ تر است از ہر شئے، کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ زیادہ بڑا ہے از ہر شئے، ہر چیز سے۔ یعنی اللہ ہر چیز سے زیادہ بڑا ہے، زیادہ عظمت والا ہے۔ و معنی ضراب۔ یہ کس کا معنی بیان ہوا اس میں؟ تفضیل کا، کہ اس میں دوسرے کی طرف نظر کرتے ہوئے زیادتی بیان ہوتی ہے، جبکہ مبالغے کے صیغے میں ایسا نہیں، یہی بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں و معنی ضراب زیادہ زنندہ است و بس، اور ضراب کا معنی جو ہے زیادہ مارنے والا ہے اور بس۔ یعنی بس اتنا ہی معنی ہے، کسی کے ساتھ مقابلہ ملحوظ نہیں۔ نسبت بکہ سے ملحوظ نیست، کسی کے ساتھ نسبت یعنی مقابلہ ملحوظ نہیں ہے بھئی، ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ نسبت بکہ سے ملحوظ نیست، کسی کے ساتھ نسبت ملحوظ نہیں ہے۔ فائدہ، اب آگے ایک اور فائدہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ یہ فائدے آپ کو یاد ہونے چاہیے بھئی، بڑے قیمتی فائدے ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں فائدہ، صیغہ فاعل در اعداد برای مرتبہ می آید، فاعل کا صیغہ، بھئی پیچھے اس میں فاعل کا وزن آیا تھا یا نہیں؟ فاعل، فاعل کا وزن، ایک تو اسم فاعل میں کیا وزن تھا؟ اس میں فاعل ثلاثی مجرد سے کس وزن پر آتا ہے؟ فاعل۔ اور صفت مشبہ میں ایک وزن فاعل آیا تھا کا بیر، فاعل، تو اب اسی، چونکہ فاعل وزن کا ذکر آیا تھا، تو اسی سے متعلق ایک فائدہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ فائدہ پہلے سمجھ لیں، فائدہ یہ کہتے ہیں عدد سے بھی فاعل وزن بنا لیتے ہیں۔ عدد سے بھی فاعل وزن بنا لیتے ہیں اور یہ پھر مرتبہ بیان کرتا ہے، مرتبہ بیان کرتا ہے، کون سے درجے والا ہے، کون سے مرتبے والا ہے۔ مثلاً خمسہ کا معنی ہے پانچ، اور اسی سے فاعل بنا لو، خامس، خامس کا معنی ہے پانچویں نمبر والا۔ ستہ کا معنی ہے چھ، اسی سے سادس، چھٹے نمبر والا۔ صالث، تیسرے نمبر والا، رابع، چوتھے نمبر والا، سامن، آٹھویں نمبر والا، تاسع، نویں نمبر والا، عاشر، دسویں نمبر والا، تو دیکھا، اس میں صرف عدد سے کیا بنا لیتے ہیں؟ فاعل وزن بنا لیتے ہیں اور وہ مرتبہ بیان کرتا ہے کہ یہ اس مرتبے والا ہے، پہلے درجے والا یا دوسرے والا یا تیسرے والا یا چوتھے والا۔ کہتے ہیں صیغہ فاعل در اعداد برای مرتبہ می آید کہ فاعل کا صیغہ اعداد میں مرتبے کے لیے یعنی درجہ بتلانے کے لیے آتا ہے، خامس بمقابلہ پنجم، خامس پنجم یعنی پانچویں کے معنی میں ہے، وعاشر بمقابلہ دہم، اور عاشر دہم کے یعنی دسویں کے معنی میں ہے، یعنی آنچہ در شمار بہ این مرتبہ باشد، یعنی وہ جو شمار میں، یعنی گنتی میں، شمار، گنتی، ہاں یعنی آنچہ یعنی وہ جو کہ در شمار گنتی میں بہ این مرتبہ باشد، اس درجے پر ہو، اس مرتبے پر ہو، عاشر کا کیا معنی؟ آپ چیزیں گن رہے ہیں، جو چیز دسویں درجے پر ہے، دسویں نمبر پر ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ عاشر۔ یہ معنی ہے، یعنی آنچہ در شمار بہ این مرتبہ باشد، یعنی وہ جو گنتی میں اس مرتبے پر ہو، اس درجے پر ہو۔ مگر در مرکبات جز اول را بر وزن فاعل سازند و ثانی را بحال خود گزارند۔ دستک تو عدد آسان بن گئے، دس کے بعد ہم کیا کریں گے؟ دس کے بعد، یہ تو عدد میں تھا اول، ثانی، ثالث، رابع، خامس، سادس، سابع، سامن، تاسع اور عاشر، یہ تو مفردات میں تھا، جو اکیلا عدد ہو، جب مرکبات ہوں، 11 اور اس سے آگے تو مرکبات شروع ہو جاتے ہیں، وہاں کس طرح کہیں گے؟ وہاں کس طرح کہیں گے؟ تو عدد کی تفصیل یاد ہے؟ آپ نے ابھی نحف میں نہیں پڑھی ہوگی، کہ پڑھ لی ہے؟ عدد کی، بھئی یاد رکھو! یہ جو 11 سے 19 تک عدد ہے اس میں دونوں جز یہ دونوں جز مبنی علی الفتح ہوتے ہیں سوائے اثنا عشر کے۔ أحَدَ عَشَرَ جی یہ دال پر ہمیشہ زبر ہی پڑھنی ہے، عشرہ کی را پر زبر ہی پڑھنی ہے۔ اور پھر اثنا عشرہ۔ یہ اثنا، یہ پہلا جز، یہ معرب ہے۔ حالتِ رفع میں کہیں گے اثنا عشرہ اور حالتِ نصبی جری میں کہیں گے اثنے عشرہ۔ دیکھو الف کس سے بدلا؟ یا سے۔ جیسے رجلانی اور رجلاین۔ الف کس سے بدل جاتا ہے؟ تثنیہ یا سے۔ تو یہاں بھی اسی طرح حالتِ نصبی جری میں یہ بدلے گا۔ معلوم ہوا یہ مبنی نہیں ہے۔ مبنی تو وہ ہوتا ہے نا جو بدلتا نہیں ہے عامل کے بدلنے سے اور یہ بدل رہا ہے۔ معلوم ہوا یہ حصہ، پہلا جز جو ہے، یعنی اثنا، یہ معرب ہے۔ باقی سارے 11 سے لے کر 19 تک سارے جز وہ مبنی علی الفتح ہیں۔ جیسے أحَدَ عَشَرَ۔ أحَدَ مبنی علی الفتح۔ عشرہ مبنی علی الفتح۔ پھر آیا اثنا عشرہ۔ اثنا، ہاں! اثنا کیا ہے؟ معرب اور عشرہ مبنی علی الفتح۔ پھر آیا ثلاثہ ثلاثہ عشرتا ثلاثہ عشرتا یا یوں کہو ثلاثۃ عشر۔ یہ جو 11، 12 تھے أحَدَ عَشَرَ اور اثنا عشر۔ یاد رکھو یہ یہ یہ ذرا عدد کا معاملہ مشکل ہے عربی کے اندر بھئی۔ جس چیز کو گن رہے ہیں، اس کے اعتبار سے عدد کی صورت بدل جائے گی۔ جس یعنی وہ جو معدود ہے، جس کو آپ کیا کر رہے ہیں، گن رہے ہیں کہ وہ مذکر ہے یا مؤنث۔ مذکر کے لیے اور صورت ہوگی، مؤنث کے لیے اور صورت۔ مثلاً میں مرد گن رہا ہوں، رجل، رجل۔ تو میں کہنا چاہتا ہوں 11 مرد۔ توجہ ہے؟ تو میں کہوں گا أحَدَ عَشَرَ رجلاً۔ أحَدَ عَشَرَ، دونوں جز مبنی علی الفتح۔ اور رجلاً، رجال نہیں کہوں گا، جمع نہیں لاؤں گا۔ مفرد لاؤں گا اور منصوب لاؤں گا رجلاً۔ یہ مبنی نہیں ہے، مبنی پر تنوین نہیں آتی۔ رجلاً پر کیا آ رہی ہے؟ تنوین آ رہی ہے۔ 11 سے لے کر 19 تک جو معدود ہے، جس یعنی جس کو آپ شمار کر رہے ہیں، وہ عدد کے بعد آئے گا اور منصوب ہوگا اور مفرد ہوگا۔ أحَدَ عَشَرَ۔ کیا کہوں گا؟ رجل کے بارے میں۔ أحَدَ عَشَرَ رجلاً۔ دیکھا، رجل مفرد لایا، جمع نہیں لایا۔ اور اس کو میں منصوب لایا۔ یہ منصوب ہے، یہ تمیز ہے۔ کیا ہے؟ تمیز۔ تمیز آپ پڑھیں گے جو ابہام کو دور کرتی ہے کہ 11، بھئی 11 کیا چیزیں ہیں؟ انسان ہیں، حیوان ہیں، بکریاں ہیں، گائے ہیں، کیا چیز ہے 11؟ تو آگے رجلاً نے آ کر ابہام دور کر دیا کہ 11 مرد ہیں بھئی اور چیزیں نہیں مراد۔ تو اس کو کہتے ہیں تمیز جو ایک چیز میں سے ابہام اور یعنی شبے کو دور کر دے، پتہ ہی نہ چل رہا ہو کہ کیا چیز ہے، وہ جو تو جو چیز وہ ابہام دور کر دے اس کو کہتے ہیں تمیز۔ یہ آپ آگے نحو میں پڑھیں گے۔ اور تمیز منصوبات میں جا کر پڑھیں گے۔ تمیز منصوب ہوتی ہے۔ تو أحَدَ عَشَرَ رجلاً۔ اور آگے کہیں گے، میں کہنا چاہتا ہوں 12 آدمی تو کیا کہوں گا؟ اثنا عشر رجلاً۔ اسی طرح 19 تک رجلاً مفرد، منصوب چلتا رہے گا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ لیکن أحَدَ عَشَرَ یہ کتنے جز ہیں؟ دو۔ یاد رکھو أحَدَ عَشَرَ اور اثنا عشر، اس میں دونوں جز معدود کے مطابق ہوں گے۔ کس کے؟ معدود کے مطابق۔ معدود اگر مذکر، تو یہ دونوں بھی مذکر۔ وہ اگر مؤنث، تو یہ دونوں بھی مؤنث۔ اب رجل مذکر ہے یا مؤنث؟ مذکر۔ تو أحَدَ، مذکر۔ عشرہ، دیکھو، کوئی گول تا ساتھ نہیں جڑی ہوئی۔ ہاں، اگر میں کہنا چاہتا عورتیں، امْرَأَةً، تو پھر کیسے کہتا؟ احد کی مؤنث لاؤ، إحْدَى اور عشرہ کی مؤنث لاؤ، عَشْرَةَ عَشْرَةَ گول تا ساتھ جوڑ دیں۔ اور پھر بنو تمیم والے عَشْرَتَ، شین پر زبر ہی پڑھتے ہیں۔ کیا پڑھتے ہیں؟ یہ عرب کا ایک بڑا قبیلہ ہے۔ اور اہل حجاز والے یعنی مکہ مدینہ والے جو ہیں، وہ شین کو پھر ساکن کر دیتے ہیں۔ پھر عَشْرَتَ کیا پڑھتے ہیں؟ إحْدَى عَشْرَتَ۔ توجہ ہے؟ کیوں؟ شین کو ساکن کیوں کرتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ چار مسلسل فتحے زبان پر ثقیل ہیں۔ ان کی ادائیگی ذرا دشوار ہے۔ تو پھر شین کو وہ ساکن پڑھتے ہیں۔ ورنہ دیکھو نا عَشْرَتَ۔ دیکھو ساروں پر فتحہ آ رہا ہے یا نہیں؟ تو چار فتحے مسلسل آ گئے، تو کہتے ہیں چار فتحے مسلسل ثقیل ہیں زبان پر، لہٰذا لفظ کو کچھ ہلکا کرو، آسانی سے ادا ہو جائے، اور آپ بھی جانتے ہیں، ساکن کو ادا کرنا آسان ہوتا ہے یا متحرک کو؟ ساکن کو، تو لہٰذا شین کو ساکن کر دیتے ہیں اور کیا پڑھتے ہیں؟ إحْدَى عَشْرَتَ۔ جب گول تا نہیں تھی، پھر تو یہ مسئلہ نہیں تھا، پھر تو چار فتحے نہیں آ رہے تھے، پھر تو تین تھے، لہٰذا اس وقت شین پر زبر پڑھتے ہیں، تو کیا پڑھتے ہیں أحَدَ عَشَرَ رجلاً اور عورت کا ذکر آیا تو گول تا بھی ساتھ جڑ گئی، اب شین کو وہ ساکن پڑھتے ہیں، کیا پڑھیں گے؟ أحَدَ عَشَرَ۔ ہاں، دونوں جز، دونوں جز بدلو۔ إحْدَى عَشْرَتَ امْرَأَةً۔ 12 میں بھی اسی طرح ہوگا۔ اثنتا۔ پہلے مرد کے لیے کیا تھا؟ اثنا عشر رجلاً۔ اب مؤنث کے لیے دونوں بدلو۔ اثْنَتَا عَشْرَةَ امْرَأَةً۔ اثْنَتَا عَشْرَةَ امْرَأَةً۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو 11 اور 12 ان دو کا معاملہ باقی عددوں سے مختلف ہے۔ اس میں دونوں جز معدود کے مطابق آئیں گے۔ معدود اگر مذکر، تو دونوں جز بھی مذکر۔ اگر معدود مؤنث، تو دونوں جز بھی مؤنث۔ پھر بولو، 11 آدمی، بولو! 11 آدمی۔ ہاں اب عربی بولو اس کی۔ أحَدَ عَشَرَ رجلاً۔ دیکھو! أحَدَ بھی مذکر، عشرہ بھی مذکر، کیونکہ آگے معدود رجل مذکر آ رہا ہے۔ أحَدَ عَشَرَ رجلاً۔ اب مؤنث کے لیے لاؤ۔ أحَدَ کو بدلا إحْدَى سے، عشرہ کو بدلا عَشْرَتَ سے، تو إحْدَى عَشْرَتَ امْرَأَةً۔ یہ اہل حجاز کا طریقہ ہے، جبکہ بنو تمیم والے شین پر زبر ہی پڑھتے ہیں، إحْدَتَا عَشْرَتَ امْرَأَةً، إحْدَتَا عَشْرَتَ امْرَأَةً۔ अच्छा، اب 12 مرد، بولو! کیا ہوگی عربی؟ اثنا عشر رجلاً۔ 12 عورتیں، بولو! اثْنَتَا عَشْرَةَ امْرَأَةً۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ 11 12 میں اس طرح ہے۔ 13 سے لے کر 19 تک معاملہ اور ٹیڑھا ہے۔ کس طرح؟ 13 سے لے کر 19 تک پہلے جز کو معدود کے مخالف لاؤ گے۔ اور دوسرے کو مطابق لاؤ گے۔ پہلے کو کیا؟ مخالف۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں 13 آدمی۔ 13 آدمی۔ اب رجل مذکر ہے یا مؤنث؟ مذکر۔ تو اس کے لیے پہلا جز مخالف لاؤ، یعنی تا کے ساتھ۔ تا تو کس کے لیے آتی ہے؟ مؤنث کے لیے، لیکن یہاں آپ کہیں گے ثلاثۃ اور عشرہ کو مطابق لاؤ۔ عشرہ میں تا آنی چاہیے یا نہیں؟ مطابق، مطابق۔ نہیں آنی چاہیے، کیونکہ مذکر کا ذکر آ رہا ہے تو عشرہ کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ مذکر۔ تو میں کہوں گا 13 آدمی، کیسے بولوں گا؟ ثلاثۃ عشر رجلاً۔ دیکھا، پہلا جز مخالف، دوسرا جز مطابق۔ اس لفظ کو یاد کرو، آپ کو آسانی ہو جائے گی۔ 11، 12 کا معاملہ الگ ہے، وہاں دونوں جز مطابق ہوں گے، جبکہ 13 سے 19 تک پہلا جز مخالف، دوسرا جز مطابق۔ لہٰذا، پھر بولو، 13 آدمی۔ ثلاثۃ عشر رجلاً۔ دیکھا، تا لے آئے، تا لے آئے، مخالف کر دیا۔ تا تو مؤنث کے لیے آتی ہے، یہاں تو مذکر ہے معدود، تو لیکن ہم نے مخالفت کی، تا لے آئے۔ اور عشرہ کو مطابق بنایا، یعنی وہاں پر تا نہیں لائے، کیونکہ رجل مذکر کا ذکر آ رہا ہے، تو کیسے پڑھیں گے؟ ثلاثۃ عشر رجلاً۔ پھر آگے چلو، 14 آدمی۔ 14 آدمی، بناؤ۔ اربعۃ عشر۔ مبنی علی الفتح پڑھتے جاؤ سب کو، مبنی علی الفتح۔ اربعۃ عشرہ۔ صرف اثنا اور اثنتا یہ معرب ہے، باقی سارے اجزا کیا ہیں؟ مبنی علی الفتح، ان پر فتحہ پڑھنا ہے۔ جی، 14 آدمی، بولو! اربعۃ عشر رجلاً۔ پہلا جز مخالف کرو، اربعۃ۔ دوسرا جز مطابق کرو، عشرہ رجلاً۔ اربعۃ عشر رجلاً۔ جی، 15 آدمی۔ خمسۃ عشر رجلاً۔ 16 آدمی، ستۃ عشر رجلاً۔ 17 آدمی، سبعۃ عشر رجلاً۔ 18 آدمی، ثمانیۃ عشر رجلاً۔ 19 آدمی، تسعۃ عشر رجلاً۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ اور مؤنث کے لیے اسی یہ یہی طریقہ، پہلا جز مخالف، دوسرا جز مطابق۔ اب کہو، 13 عورتیں، 13 عورتیں، پہلا مرد کے لیے کیا تھا؟ پہلا مخالف۔ پہلا مخالف۔ عورتوں کے لیے بھی پہلا مخالف کر دو، اور عورتوں کے لیے تو ویسے آنی چاہیے تا، لیکن اب تا کو نہ لاؤ، مخالف کرو، ثلاثہ اور دوسرا جز مطابق کرو، عشرہ تا لاؤ ساتھ مؤنث کے لیے، تو کیا کہیں گے؟ ثلاثۃ عشرتا امْرَأَةً۔ دیکھا، پہلا جز مخالف، بغیر تا کے۔ دوسرا جز مطابق، تا کے ساتھ۔ ثلاثۃ عشرتا امْرَأَةً۔ 14 عورتیں، اربعۃ عشرتا امْرَأَةً۔ آگے، خمسۃ عشرتا امْرَأَةً۔ جی، آگے، ستۃ عشرتا امْرَأَةً۔ جی، اور آگے سبعۃ عشرتا، دیکھا، سبعۃ، تا نہیں لانی، سبعۃ عشرتا امْرَأَةً۔ 18 عورتیں، ثمانیۃ عشرتا امْرَأَةً۔ 19 عورتیں، تسعۃ عشرتا امْرَأَةً۔ تو حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ 11 اور 12 کا معاملہ مختلف، اس میں دونوں جز معدود کے مطابق آئیں گے۔ اور 13 سے لے کر 19 تک، پہلا جز مخالف ہوگا اور دوسرا جز مطابق ہوگا بھئی، مطابق ہوگا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔ اور جو معدود آگے ذکر ہوگا، اس کو مفرد منصوب لانا ہے، امْرَأَةً، رجلاً، دیکھو، مفرد ہے اور منصوب ہے۔ میں کہنا چاہتا ہوں 11 کتاں، کیا کہوں گا؟ عدد کے بعد لاؤ معدود کو، 11 کتاں۔ أحَدَ عَشَرَ کتاباً۔ دیکھا، احد میں مذکر، عشر بھی کیونکہ کتاب مذکر ہے۔ كراسةً، كراسة کہتے ہیں کاپی کو، كراسة کے آخر میں گول تا ہے، یہ مؤنث ہے، اب کیسے کہو گے؟ دونوں جز مطابق کرو۔ إحْدَى عَشْرَتَ كراسةً۔ كراسة منصوب مفرد ہی رکھنا ہے، كراسات، جمع نہیں لانی، مفرد كراسةً۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ 11 اور 12 میں کیا کرتے ہیں؟ دونوں جز مطابق، اور تیرہ سے لے کر انیس تک پہلا جز مخالف اور دوسرا جز مطابق۔ اور نیز آپ نے پڑھا، سارے اجزا مبنی علی الفتح ہوں گے سوائے کس کے؟ اثنا اور اثنتا، یہ جو پہلا جز ہے بس۔ یعنی بارہ کا جو پہلا جز ہے وہ صرف معرب ہے، وہ بدلتا ہے، باقی ساروں پہ فتحہ پڑھیں گے۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ تو یہ انیس تک اس طرح ہے۔ اس کے بعد عشرون، عشرون۔ وہاں پر بھی عدد اسی طرح عشرون، مذکر اور مونث کے لیے یہ جو عشرون ہے نا، اس کو کہتے ہیں عقد، دہائی، دہائی۔ یہ جو دہائیاں ہیں، یعنی عقود ہیں، عشرون، ثلاثون، اربعون، خمسون، ستون، سبعون، ثمانون، تسعون۔ یہ جو عقود ہیں، یہ مذکر اور مونث کے لیے یکساں رہتے ہیں۔ مذکر اور مونث کے لیے یکساں۔ میں کہنا چاہتا ہوں بیس آدمی، تو کہوں گا عشرون رجلاً۔ اور بیس عورتیں کہنا چاہوں تو بھی اسی طرح ہے۔ عشرون امراۃً۔ ثلاثون رجلاً، ثلاثون امراۃً۔ اربعون رجلاً، اربعون امراۃً۔ تو یہ جو تمیز ہے نا تمیز، یہ تو یاد رکھو، یہ گیارہ سے لے کر گیارہ سے لے کر ننانوے تک تمیز مفرد منصوب آتی ہے۔ گیارہ سے لے کر گیارہ مرد، کیا کہا تھا آپ نے؟ احد عشر رجلاً۔ منصوب لائے تھے اور مفرد لائے تھے۔ یہی مفرد چلے گا ننانوے تک۔ بیس آدمی کہنا ہے تو کیا کہوں گا؟ عشرون۔ رجل کو مفرد لاؤ اور منصوب لاؤ۔ عشرون رجلاً، ثلاثون رجلاً، تسعون رجلاً۔ مفرد منصوب۔ اب آپ نے دیکھا کہ گیارہ سے لے کر انیس تک معاملہ کیا تھا؟ پہلے دو مرکب جو ہیں، یعنی گیارہ اور بارہ، اس کا حکم الگ تھا اور تیرہ سے لے کر انیس تک کا حکم الگ تھا۔ گیارہ بارہ میں کیا تھا؟ دونوں جز مطابق تھے۔ اور مذکر کے لیے مذکر اور مونث کے لیے مونث۔ اور تیرہ سے لے کر انیس تک کیا حکم تھا؟ پہلا جز مخالف، اور دوسرا جز مطابق تھا بھئی۔ اور جبکہ جو عقود وغیرہ ہیں، ان میں بھی اسی طرح ہے۔ مثلاً عقود تو میں نے بتا دیے عشرون، ثلاثون، یہ تو مذکر مونث دونوں کے لیے اسی طرح رہیں گے۔ ہاں، اکتیس بائیس اس کا حکم الگ اور تئیس سے لے کر انتیس کا حکم الگ۔ پھر اکتیس اور بتیس کا حکم الگ اور تینتیس سے لے کر انتالیس تک حکم الگ۔ پھر اکتالیس اور بیالیس کا حکم الگ، تینتالیس سے لے کر انچاس تک حکم الگ۔ جیسے وہاں تھا گیارہ بارہ کا حکم الگ اور تیرہ سے لے کر انیس تک حکم الگ۔ یہاں بھی اسی طرح ہے کہ پہلے جو دو عدد ہیں، یعنی اکتیس بائیس، اکتیس بتییس، اکتالیس بیالیس، اکاون باون یہ سب الگ ہیں اور آگے والے چھ سات عدد الگ ہیں۔ اس کا کیا طریقہ ہے؟ طریقہ وہی ہے، یہاں اب عطف آئے گا۔ کیا آئے گا؟ عطف آئے گا۔ عطف آئے گا، مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں اکیس آدمی، تو میں کہوں گا احاد، احد اور واؤ بیچ میں لے آؤں گا عطف کے لیے۔ احد وعشرون رجلاً۔ اور بائیس کہنا چاہتا ہوں، اثنانی وعشرون رجلاً۔ دیکھو احد، مذکر کے لیے مذکر لایا۔ اثنانی، وعشرون رجلاً۔ مذکر کے لیے مذکر لایا۔ اور عشرون تو نہیں بدلے گا۔ تو کیا کہوں گا پھر کہو اکیس آدمی، احد وعشرون۔ یہاں مبنی علی الفتح نہیں ہے، یہاں اعراب پڑھو گے جو بھی اعراب آ رہا ہوگا، پیچھے اگر رفع دینے والا عامل ہے تو رفع پڑھو، نصب والا ہے تو نصب پڑھو، جر ہے تو جر پڑھو۔ تو عطف کے ساتھ پڑھو۔ تو احد وعشرون رجلاً۔ بائیس کہو، بائیس آدمی، اثنانی وعشرون رجلاً۔ عورت، مونث کے لیے کہو، اکیس عورتیں، پہلا جز مطابق کر دو، احد وعشرون امراۃً۔ احد وعشرون امراۃً۔ بائیس عورتیں، مرد کے لیے کیا تھا؟ اثنانی۔ مونث کے لیے اثناتانی، مونث لے آؤ۔ اثناتانی وعشرون امراۃً۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور تئیس سے لے کر انتیس تک، عشرون تو اسی طرح رہے گا لیکن پہلا جز مخالف ہو جائے گا۔ میں کہنا چاہتا ہوں تئیس مرد، تو کیا کہوں گا؟ مخالف کرو۔ ہاں، مخالف کرو، مذکر کے لیے تا لاؤ۔ ثلاثۃ وعشرون رجلاً۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ثلاثۃ وعشرون رجلاً۔ اب مذکر کے لیے تا لا رہے ہیں آپ۔ پہلے بھی اسی طرح تھا۔ ثلاثۃ عشر رجلاً۔ مذکر کے لیے ثلاثۃ کے ساتھ کیا لائے تھے؟ تا۔ یہاں بھی مذکر میں ثلاثۃ کے ساتھ کیا لاؤ؟ تا۔ ثلاثۃ وعشرون رجلاً۔ ہاں، فرق یہ ہے، گیارہ سے انیس تک دونوں جز مبنی علی الفتح تھے۔ یہاں پر مبنی نہیں ہے، یہاں معطوف اور معطوف علیہ ہیں اور اعراب آئے گا اور عشرون کا عطف کس پر ہے؟ احد پر، ثلاثۃ پر، جو پہلے والا عدد ہے۔ پھر کہو، تئیس آدمی، ثلاثۃ وعشرون رجلاً۔ مخالف لاؤ، پہلا جز مخالف لاؤ۔ ثلاثۃ وعشرون رجلاً۔ چوبیس آدمی، اربعۃ وعشرون رجلاً۔ پچیس آدمی، خمسۃ وعشرون رجلاً۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اب مونث لے آؤ۔ مونث کے لیے، تئیس عورتیں، اب پہلا جز مخالف لاؤ۔ بغیر تا کے لاؤ۔ ثلاث وعشرون امراۃً۔ چوبیس عورتیں، اربع وعشرون امراۃً۔ پچیس عورتیں، خمس وعشرون امراۃً۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا گیارہ بارہ، اکیس بائیس، اکتیس بتییس، اکتالیس بیالیس، یہ جو پہلے دو عدد ہیں ہر دہائی میں، یہ ان کا حکم الگ اور اگلے سات کا حکم الگ ہے، وہاں پر پہلا جز مخالف آئے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ اسی طرح بناؤ، اکسٹھ مرد، احد وستون رجلاً۔ باسٹھ مرد، اثنانی وستون رجلاً۔ تریسٹھ مرد، ثلاثۃ وستون رجلاً۔ چونسٹھ مرد، اربعۃ وستون رجلاً۔ اب عورتوں کے لیے لے آؤ، اکسٹھ عورتیں، احد وستون امراۃً۔ باسٹھ عورتیں، اثناتانی وستون امراۃً۔ اچھا، اور تریسٹھ عورتیں، اب بغیر تا کے لاؤ۔ ثلاث وستون امراۃً۔ چونسٹھ عورتیں، اربع وستون امراۃً۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ یہ تو تھا تعداد آپ شمار کر رہے ہیں۔ احد عشرہ کا معنی گیارہ۔ اثنا عشرہ کا معنی بارہ۔ تو گیارہ سے ننانوے تک عدد کا پتہ چل گیا، اتنی لمبی تفصیل میں نے اس لیے بیان کی تاکہ آپ کو بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے کہ مرکبات میں بیان کس طرح کرتے ہیں۔ پھر انہی مرکبات میں اب بات کیا چل رہی تھی کہ فاعل کا وزن عدد میں آتا ہے مرتبہ بتلانے کے لیے۔ خمسہ کا معنی پانچ اور خامس، یعنی فاعل وزن پر لے جاؤ تو خامس کا معنی پانچواں اور ستہ کا معنی چھ اور سادس فاعل وزن پر لے گئے تو سادس کا معنی چھٹا، یعنی چھٹے نمبر پر جو ہو بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اب بات آ گئی تھی، وہ آگے مرکبات ذکر کرنے لگے تھے۔ مرکبات مرکبات میں کیا کریں گے؟ میں کسی کو بتلانا چاہتا ہوں نواں تو کیا کہوں گا؟ تاسع۔ میں کسی کو بتلانا چاہتا ہوں دسواں تو کیا کہوں گا؟ عاشر کہوں گا۔ یہاں تک تو اب آسان ہے۔ مرکبات میں کیسے بولیں گے؟ تو یاد رکھو، مثلاً میں احد عشرہ کا کیا معنی؟ گیارہ، لیکن میں کہنا چاہتا ہوں گیارواں۔ تو کیا طریقہ ہے؟ تو یاد رکھو اس کا طریقہ آپ کو بتائیں گے کہ مرکبات میں پہلے جز کو فاعل وزن پر لے جاؤ۔ پہلے جز کو فاعل وزن پر تو گیارھویں کو کہیں گے حادی عشرہ۔ دیکھا، احد عشرہ تھا نا، تو احد پہلے جز کو فاعل وزن پہ لے جاؤ۔ حادی عشرہ۔ اثنا عشرہ تھا تو اب کیا بناؤ؟ ثانی عشرہ۔ ثلاثہ عشرہ تھا تو ثالث عشرہ۔ تو پہلے جز کو کیا کر دیں گے؟ مرکبات میں پہلے جز کو فاعل وزن پر لے جائیں گے۔ پندرہ کو کیا کہتے تھے پندرہ مرد؟ خمسۃ عشرہ۔ پندرہ کو کیا کہتے تھے؟ خمسۃ عشرہ۔ اب اس سے بناؤ، پندرھویں نمبر والا۔ پندرہواں، خامس عشر۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے خامس عشر۔ پھر یاد رکھو، جیسے احد عشرہ سے لے کر تاسع عشرہ تک دونوں جز مبنی علی الفتح تھے، کیا تھے؟ مبنی علی الفتح۔ اور نیز گیارہ بارہ میں دونوں جز مطابق تھے اور تیرہ سے لے کر انیس تک پہلا جز مخالف اور دوسرا جز مطابق۔ یہاں بھی تھوڑا سا فرق ہے۔ گیارہ سے لے کر انیس تک دونوں جز مبنی علی الفتح ہوں گے۔ کیا ہوں گے؟ مبنی علی الفتح۔ نہیں، دونوں جز مبنی ہوں گے۔ کیا ہوں گے؟ مبنی ہوں گے۔ لیکن وہ جز جس کے آخر میں یا آ رہی ہے تو وہ مبنی علی السكون ہوگا۔ توجہ ہے؟ یہاں بھی دونوں جز مبنی علی الفتح ہوں گے، لیکن وہ جز جس کے آخر میں یا آ جائے وہ مبنی علی السكون ہوگا۔ مثلاً احد عشرہ سے کیا بنا؟ حادی عشرہ۔ ہونا تو چاہیے حادیہ عشرہ۔ دونوں جز کیا ہوں؟ مبنی علی الفتح۔ لیکن حادی کے آخر میں کیا آ رہی ہے؟ یا آ رہی ہے۔ یا ہے، آخر میں کیا ہے؟ یا۔ اور جس جز کے آخر میں یا آ رہی ہو اس کو مبنی علی السكون پڑھیں گے۔ حادی عشرہ۔ یا کو ساکن پڑھیں گے۔ حادی عشرہ۔ ثانی عشرہ، ثانی عشرہ۔ باقی جز سارے مبنی علی الفتح۔ ثالث عشرہ، خامس عشرہ، سادس عشرہ، سابع عشرہ، ثامن عشرہ، تاسع عشرہ۔ سارے جز کیا ہوں گے؟ مبنی علی الفتح۔ لیکن جس جز کے آخر میں کیا ہے؟ یا، وہ کیا ہوگا؟ مبنی علی السكون۔ مبنی وہ بھی ہے، مبنی وہ بھی ہے، معرب نہیں ہے، لیکن مبنی علی السكون ہے بھئی۔ مبنی علی السكون وہاں سکون پڑھنا ہے۔ صورت سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟ اس پر کبھی الف لام بھی پہلے جز پر لے آتے ہیں۔ کیا لے آتے ہیں؟ الف لام تو بھی اسی طرح پڑھیں گے۔ الحادی عشرہ۔ الحادی عشرہ۔ الثانی عشرہ۔ الثالث عشرہ۔ الرابع عشرہ۔ الخامس عشرہ۔ السادس عشرہ۔ السابع عشرہ۔ الثامن عشرہ۔ تاسع عشر (یعنی یہ مبنی علی الفتح ہوں گے)۔ سورہ سمجھ میں آگئی؟ اور جن کے آخر میں یا ہے وہ مبنی علی سکون۔ لیکن وہاں آپ نے کیا پڑھا تھا؟ احد عشر سے لے کر تسع عشر تک۔ آپ نے پڑھا تھا گیارہ اور بارہ میں دونوں جز کیا ہوتے ہیں؟ مطابق۔ اور تیرہ سے لے کر انیس تک پہلا جز مخالف اور دوسرا جز مطابق۔ لیکن یہاں ایسا نہیں، یہاں حادی عشر سے لے کر تاسع عشر تاسع عشر تک دونوں جز مطابق آئیں گے۔ یہاں کیا ہوگا؟ حادی عشر سے لے کر تاسع عشر ہاں دونوں جز مطابق آئیں گے بھئی۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں گیارہ عورتیں۔ دونوں کو مؤنث بنا دو۔ ہاں ہادیہ ہادیہ ہادیہ عشرہ عشرہ عشرہ امرأۃ یا نہیں گیارہویں معدود تو نہیں آئے گا نا یہاں تو گیارہویں نمبر والا جو آرہا ہے وہ شروع میں لے آؤ امرأۃ ہادیہ عشرہ یا شین کو ساکن بھی پڑھو امرأۃ ہادیہ ہادیہ عشرہ امرأۃ ہادیہ عشرہ ہادی سے کیا بن گیا؟ ہادیہ اور عشرہ سے کیا بن گیا؟ عشرہ۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ ہادیہ عشرہ امرأ اب یہاں امرأ کو آخر میں نہیں رکھنا یہاں تو گیارہویں نمبر والا ہے تو لہذا اس کو پہلے لے آؤ گیارہویں عورت امرأۃ ہادیہ عشرہ اور اگر المدرسہ الف لام لائے ہیں تو آگے اس پر بھی الف لام لے آؤ۔ الامرأۃ الحادیۃ عشرہ طریقہ سمجھ میں آرہا ہے؟ الامرأۃ تو کیا ہے؟ الف لام ہے تو الحادیہ پر بھی کیا لے آؤ؟ الف لام۔ الامرأۃ الموصوف کیا ہے؟ ہے امرأۃ مرفوع۔ مرفوع ہے۔ تو الحادیۃ عشرہ یہ بھی مرفوع ہے لیکن یہ مبنی ہے اس پہ اعراب ظاہر نہیں ہو رہا۔ یہاں اس کو مبنی علی اسی طرح پڑھیں گے دونوں جز مبنی علی الفتح اور اگر آخر میں یا آرہی ہے کسی جز کے تو وہ مبنی علی سکون پڑھو گے۔ تو الامرأۃ الحادیۃ عشرہ گیارہواں آدمی بناؤ۔ الرجل یا پہلے نکرہ بناؤ۔ رجل حادی عشر دیکھو تا نہیں لانی کسی جز میں بھی تا رجل حادی عشر گیارہواں آدمی۔ معرفہ بناؤ۔ الرجل الحادی عشر بارہواں مرد بارہواں مرد الرجل الثانی ال الف لام ہے نا تو اس پر بھی الف لام لے آؤ باقی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا الرجل الثانی عشر الرجل الثانی عشر العشر نہیں عشرہ پہ الف لام نہیں لانا صرف پہلے جز پہ لانا ہے۔ الرجل پھر بولو الرجل الثانی عشر تیرہواں آدمی الرجل الثالث عشر چودھواں آدمی الرجل الرابع عشر پندرھواں آدمی الرجل الخامس عشر سولھواں آدمی الرجل السادس عشر تو رجل پہ الف لام ہے تو سادس پہ بھی الف لام لاؤ اگر وہاں نہیں ہے تو یہاں بھی نہ لاؤ میں مثلاً میں کہتا ہوں سولھواں آدمی بغیر الف لام کے رجل سادس عشر سترواں آدمی رجل سابع عشر اب اور عورتوں میں مؤنث کے لیے بھی دونوں جز مطابق لاؤ۔ مثلاً کیا کہتے ہیں؟ گیارہویں عورت امرأۃ پہلا جز ہادی سے کیا بنا لو؟ ہادیہ اور عشرہ سے کیا بنا لو؟ عشرہ عشرہ جی کیا کہیں گے؟ امرأۃ ہادیہ عشرہ امرأۃ ہادیہ عشرہ جی بارہویں عورت امرأۃ امرأۃ ثانیۃ عشر فاعل وزن بناؤ۔ امرأۃ ثانیۃ عشرہ امرأۃ ثانیۃ عشرہ تیرہویں عورت امرأۃ دونوں جز مطابق لاؤ۔ امرأۃ ثالثۃ عشرہ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ کہ یہاں پر دونوں جز مطابق ہوں گے، دونوں جز مطابق اور نیز یہاں دونوں جز مبنی علی الفتح ہوں گے۔ ہاں جس جز کے آخر میں یا ہے وہ کیا ہوگا مبنی علی سکون۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ اور پھر بیس بیسویں عورت تو یاد رکھیے جو عقد ہے نا جو دہائی وہ اسی طرح رہے گی۔ عشرون عشرون ہی رہے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بیسواں آدمی عشرون رجل نہیں عشرون رجلان کا مطلب تو ہے بیس آدمی، بیس آدمی نہیں بیسواں آدمی رجل عشرون بیسویں عورت امرأۃ عشرون چالیسویں عورت امرأۃ اربعون چالیسواں مرد رجل اربعون دیکھا یہ عقد نہیں بدلیں گے۔ سورہ سمجھ میں آگئی۔ اور باقی 21، 22، 23 ان میں پھر اسی طرح ہوگا۔ 21 واں مرد رجل ہادی و عشرون فاعل وزن لاؤ گے نا آپ پہلے جز میں ہادی و عشرون 22 واں آدمی رجل ثانی و عشرون 23 واں آدمی رجل ثالث و عشرون یہ یہ مبنی علی الفتح نہیں ہوں گے مبنی علی الفتح صرف 11 سے 19 تک ہوتا ہے گیارہویں اور گیارہویں سے لے کر انیسویں تک۔ اچھا جی 24 واں آدمی رجل رابع و عشرون 25 واں آدمی رجل خامس و عشرون اب عورتوں کے ذرا کرو مؤنث کے لیے 21 ویں عورت امرأۃ ہادیۃ و عشرون 22 ویں عورت امرأۃ ثانیۃ و عشرون 23 ویں عورت امرأۃ ثالثۃ و عشرون دیکھا یہاں وہ عدد میں تو مخالف ہوتا تھا پہلا جز مخالفت لیکن یہاں مطابقت ہی چلتی رہے گی امرأۃ ثالثۃ و عشرون 24 ویں عورت امرأۃ رابعۃ و عشرون 25 ویں عورت امرأۃ خامسۃ و عشرون طریقہ سمجھ میں آگیا؟ تو حاصل کلام یہ کہ فاعل کا وزن عدد میں مرتبہ بتلانے کے لیے آتا ہے اور مرکبات میں صرف پہلے جز کو فاعل وزن پر لے کر جائیں گے دوسرے جز کو نہیں لے کر جائیں گے اور نیز جب فاعل وزن پر پہلے جز کو لے گئے تو پھر دونوں جز مطابق ہوں گے مخالف نہیں ہوں گے جبکہ عدد بتلاتے ہوئے حکم ذرا مختلف تھا۔ تفصیل سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی اب کتاب پر فائدہ صیغہ فاعل در اعداد بر مرتبہ میں آید کہ فاعل کا جو صیغہ ہے وہ اعداد میں مرتبے کے لیے آتا ہے۔ خامس بمعنی پنجم و عاشر بمعنی دہم دہم دال پر زبر پڑھیں اور ہا پر پیش پڑھیں خامس کا معنی خامس بمعنی پانچویں کے اور عاشر بمعنی دسویں کے یعنی آنکہ در شمار بہ ایں مرتبہ باشد یعنی وہ چیز جو گنتی میں اس درجے پر ہو اس مرتبے پر ہو۔ مگر در مرکبات جز اول را بوزن فاعل سازند لیکن مرکبات میں پہلے جز کو فاعل کے وزن پر بناتے ہیں۔ ساختن کا معنی بنانا۔ سازند بناتے ہیں۔ مگر در مرکبات جز اول را بوزن فاعل سازند لیکن مرکبات میں پہلے جز کو فاعل کے وزن پر بناتے ہیں و ثانی را بحال خود گزارند اور دوسرے کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں یعنی عشرون ثلاثونا کو یا عشرہ وغیرہ کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ چونکہ حادی عشر ثانی عشر حادی و عشرون رابع و ثلاثونا ودعوب بعد عشرہ ہم عدد اسم برای مرتبہ ہم باشد اور عُقود میں یعنی دہائیوں میں کس میں دہائیوں میں 20، 30، 40، 50 یہ جو در عقود دہائیوں میں بعد عشرہ کس کے بعد؟ عشرہ کے بعد عشرہ بھی دہائی ہے لیکن اس کو نہیں اس کے بعد والی جو دہائیاں ہیں یعنی 20، 30 وہ مراد ہیں۔ تو کہتے ہیں و در عقود بعد عشرہ عشرہ کے بعد جو عُقود ہے ان میں ہم عدد وہی عدد ہم عدد اسم برای مرتبہ ہم باشد وہی عدد اسم مرتبے کے لیے بھی ہوگا مرتبے یعنی درجے کے لیے بھی وہی اسم ہوگا۔ یعنی عشرون کا معنی بیس بھی اور اس یہی عدد مرتبے کے لیے بھی ہے یعنی بیسواں بھی۔ ثلاثونا کا معنی 30 بھی اور تیسواں بھی۔ اربعونا کا معنی 40 بھی اور چالیسواں بھی۔ خمسونا کا معنی 50 بھی اور پچاسواں بھی۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں و در عقود بعد عشرہ عشرہ کے بعد جو عقود ہیں ان میں ہم عدد اسم برای مرتبہ ہم باشد وہی عدد مرتبے کے لیے اسم بھی ہوگا درجہ بتلانے کے لیے وہی اسم یعنی وہی عدد اسم استعمال ہوگا۔ مثلاً عشرون جیسے کہ عشرون بس ہم باشد و بستم ہم بسست بھئی فارسی میں بیس کو کہتے ہیں بَست ب، یا، س اور تا کیا کہتے ہیں؟ بَست ب کے بعد یا ہے لیکن اور بیسویں کو کہتے ہیں بیستم بیستم لیکن پھر کبھی اس یا کو گرا دیتے ہیں تخفیف کے لیے۔ بیستم دیکھو لفظ کو لمبا کرنا پڑا تخفیف کے لیے مختصر کرنے کے لیے کیا کہتے ہیں؟ بیس کو بست کے بجائے بست کہہ دیتے ہیں اور بیستم کو بیستم کہہ دیتے ہیں بیسواں۔ بات سمجھ آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں جیسے مثلاً عشرون جو ہے بست ہم باشد یہ بیس بھی ہے و بستم ہم اور بیسواں بھی۔ و صیغہ فاعل برای نسبت ہم میں آید اور فاعل کا صیغہ نسبت کے لیے بھی آتا ہے۔ صیغہ فاعل برای نسبت ہم میں آید فاعل کا صیغہ نسبت کے لیے بھی آتا ہے یہ اب ایک الگ فائدہ ذکر کرنے لگے ہیں چونکہ فاعل وزن کی بات چل رہی تھی تو اسی وزن کے بارے میں ایک اور فائدہ بھی بتلانے لگے ہیں۔ فائدہ یہ بتلائیں گے کہ فاعل کا وزن فاعلِ ذی کذا کے لیے بھی آتا ہے۔ فاعل کا وزن نسبت کے لیے بھی آتا ہے۔ جیسے لاہور لاہوریون کیا معنی؟ لاہور والا سورہ سمجھ میں آرہی ہے؟ پاکستان پاکستانیون کیا معنی؟ پاکستان والا دیکھو نسبت ہو رہی ہے پاکستان کی طرف نسبت ہو رہی ہے لاہور کی طرف تو اس نسبت کے لیے فاعل کا وزن بھی آتا ہے۔ کون سا وزن؟ فاعل کا وزن بھی آتا ہے اور اس کو فاعلِ ذی کذا کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ فاعلِ ذی کذا فاعلِ ذی کذا زی وہ ذُو مال۔ ذُو مال کا کیا معنی ہے؟ مال والا تو دیکھو والا کے لیے ذُو کا لفظ آتا ہے۔ اور حالتِ رَفْعِی میں کیا کہتے ہیں؟ ذُو مال حالتِ نَصْبِی میں ذامال حالتِ جَرّی میں زی مال تو یہی وہی ذُو مال حالتِ نَصْبِی میں الف آگیا زامال اور حالتِ جَرّی میں زی مال تو یہاں بھی اسی طرح ہے فاعلِ ذی کذا فاعلِ ذی کذا اور کذا یہ کنایہ ہے۔ کذا کیا ہے کنایہ اس کی جگہ کوئی بھی چیز آسکتی ہے۔مثلاً، مثلاً فرس گھوڑے کو کہتے ہیں عربی میں۔ فرس کسے کہتے ہیں؟ گھوڑے کو۔ اسی سے میں نے فاعل وزن بنا لیا۔ فارس۔ اب فارس کا کیا معنی؟ یہ فاعل ذی کذا ہے۔ کیا ہے؟ فارس ذی یعنی وہ والا فاعل جو ذی ذی کذا والا فاعل ہے۔ ذی کذا۔ یعنی قضا کی جگہ وہ فرس لے آؤ۔ فرس لے آؤ۔ قضا۔ کی جگہ کیا لے آؤ؟ فرس۔ تو کیا بن گیا؟ فارس۔ ذو فرس۔ حالت رفع میں پڑھ دو نا۔ ذو فرس، فرس والا، گھوڑے والے والا۔ تو جو جس آدمی کے پاس گھوڑا ہے، گھوڑے پر سوار ہے کیا کہتے ہیں؟ فارس۔ کیا معنی فارس؟ ذو فرس، فرس والا یا یوں کہو صاحب فرس، گھوڑے والا۔ سورۃ سمجھ آ رہی ہے؟ ذو کس لیے آتا ہے؟ ذو اس میں جنس کو کسی کی صفت بنانے کے لیے آتا ہے۔ مثلاً میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ آدمی مال والا ہے، اس کے پاس مال ہے، تو میں پھر ذو لاؤں گا۔ جاءنی رجل ذو مال۔ میرے پاس مال والا آیا۔ اور میں کہنا چاہتا ہوں گھوڑے والا آیا، تو میں کیا کہوں گا؟ جاءنی رجل ذو فرس، ذو فرس۔ لیکن ذو فرس سے پھر عرب کیا بنا لیتے ہیں؟ فاعل وزن بنا لیتے ہیں۔ ذو فرس کے بجائے کیا کہہ دیتے ہیں؟ فارس۔ جاءنی رجل فارس۔ یا میں کہنا چاہتا ہوں میرے پاس دودھ والا آیا تھا، تو میں کیا کہوں گا؟ جاءنی رجل ذو لبن۔ کیا؟ لبن۔ دودھ والا۔ لیکن اس دودھ والا، اس سے عرب کیا بنا لیتے ہیں؟ فاعل وزن بناؤ۔ لابن۔ جاءنی رجل لابن۔ یا جیسے میں کہنا چاہتا ہوں میرے پاس کھجور والا آیا تھا، تو کیا کہوں گا؟ جاءنی رجل ذو تمر۔ تمر والا، کھجور والا۔ لیکن اس ذو تمر سے عرب کیا بنا لیتے ہیں؟ تامر۔ فاعل وزن بنا لیتے ہیں۔ جاءنی رجل تامر۔ کھجور والا یعنی کھجوریں بیچنے والا میرے پاس آیا تھا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب فاعل ذی کذا سمجھ میں آیا؟ فاعل ذی کذا۔ کون سا فاعل؟ ذو کذا والا فاعل۔ توجہ ہے؟ کون سا فاعل؟ ایک فاعل ہے فعل کرنے والا، وہ مراد نہیں ہے، یہ کون سا فاعل ہے؟ فاعل ذو کذا والا ہے۔ ذو کذا کیا معنی؟ کضا وہ جنس سے کنایہ ہے، وہ جنس جس کو یہاں کضا کی جگہ کوئی بھی آ سکتا ہے، ابھی دیکھا آپ نے۔ کضا کی جگہ کیا آیا؟ فرس، ذو فرس۔ کضا کی جگہ کیا آیا؟ تمر، ذو تمر۔ کضا کی جگہ کیا آیا؟ لبن، ذو لبن۔ تو کضا کنایہ ہے، کوئی بھی چیز اس کی جگہ آ سکتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ یہ کون سا فاعل ہے؟ اسم فاعل ہے؟ یہ ذو کذا والا فاعل ہے، یہ کون سا ہے؟ یعنی نسبت والا فاعل ہے، نسبت والا فاعل کا صیغہ ہے، اسم فاعل نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اب فاعل ذو کذا سمجھ میں آیا؟ کیا معنی؟ ذو کذا والا فاعل یعنی وہ فاعل کا وہ وزن جو اسم فاعل نہیں ہے یہ نسبت والا ہے، کیا ہے؟ نسبت والا ہے۔ جیسے لاہوری کا معنی: لاہور والا، ذو فرس کا معنی: گھوڑے والا، ذو مال کا معنی: مال والا۔ تو یہ کون سا فاعل ہے؟ ذو کذا والا فاعل ہے۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں و صیغہ فاعل برای نسبت ہم می آید اور فاعل کا صیغہ نسبت کے لیے بھی آتا ہے و این را فاعل ذی کذا گویند اور اس کو فاعل ذی کذا کہتے ہیں۔ ذی کذا کہہ لیں یا ذو کذا کہہ لیں یا زا کضا کہہ لیں، تینوں حالتیں جو بھی آپ کو بولنے میں آسانی ہو۔ چون تامر کیا معنی؟ ذو تمر یا یوں کہو صاحب تمر، کھجور والا۔ یا لابن کیا معنی؟ ذو لبن یا یوں کہو صاحب لبن۔ یہی بیان کر رہے ہیں چون تامر ولابن بمعنی صاحب تمر و صاحب لبن یعنی کھجور والا اور دودھ والا۔ تو یہ ایک شخص کے پاس ایک چیز ہو، اس کے لیے بھی آتا ہے اور ایک چیز کو بیچنے والا ہو، اس کے لیے بھی آتا ہے۔ تو یہ کھجور بیچنے والا ہو، اس کو کیا کہیں گے؟ تامر۔ دودھ بیچنے والا ہو تو کیا کہیں گے؟ لابن۔ اور فارس وہ گھوڑے بیچنے والا نہیں، گھوڑے پر جو سوار ہے، جس کے پاس گھوڑا ہے، تو یہ وہ چیز بیچنے کے لیے بھی یہ صیغے استعمال ہوتے ہیں اور جس کے پاس وہ چیز ہو، اس کے لیے بھی، چاہے بیچنے والا نہیں ہے، لیکن وہ چیز اس کے پاس ہے تو اس کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے عربی میں کہتے ہیں رجل خابز۔ خبز کسے کہتے ہیں؟ روٹی کو۔ رجل خابز کیا معنی؟ روٹی والا یعنی روٹی بیچنے والا۔ اسی طرح فارس ای صاحب فرس، گھوڑے والا جو گھوڑے پر سوار ہے جس کے پاس گھوڑا ہے۔ رامح عربی میں کہتے ہیں رجل رامح۔ کیا معنی؟ ای ذو رمح۔ رمح نیزے کو کہتے ہیں، نیزے والا۔ رجل رامح نیزے والا۔ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح ناعل کہتے ہیں عربی میں رجل ناعل۔ نعل جوتے کو کہتے ہیں۔ ای ذو نعل، صاحب نعل، جوتے والا۔ جوتے والا۔ اور اسی سے جبکہ اسی طرح امام اقفش فرماتے ہیں اسی طرح شاعر کا لفظ بھی ہے، شاعر۔ ای ذو شعر، شعر والا یا صاحب شعر۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ شعر کہنے والا۔ شاعر۔ تو کہتے ہیں دوبارہ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں و صیغہ فاعل برای نسبت ہم می آید فاعل کا صیغہ نسبت کے لیے بھی آتا ہے و این را فاعل ذی کذا گویند اور اس کو فاعل ذی کذا کہتے ہیں یعنی یہ وہ فاعل، اسم فاعل والا فاعل نہیں ہے، یہ فاعل ذی کذا ہے۔ چون تامر ولابن بمعنی صاحب تمر و صاحب لبن، تامر یعنی کھجور والا اور لابن یعنی دودھ والا، وہ ہم چونی تممار ولّبان اور اسی طرح تممار اور لبّان بھی ہے۔ تممار ایک صیغہ مبالغہ بھی آیا تھا فعال۔ غفار، زّرار وہ مبالغے کا صیغہ بھی اس وزن پر آتا ہے لیکن اسی وزن پر نسبت فاعل ذی کذا بھی آتا ہے۔ تممار کا کیا معنی؟ صاحب تمر، کھجوریں بیچنے والا، کھجوروں والا اور لبّان دودھ والا، یعنی دودھ بیچنے والا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یہ یاد رکھو قیاسی نہیں ہے۔ آپ نہیں بنا سکتے جہاں سے دل کرے آپ بنا لیں۔ جس صیغے سے آپ چاہیں بنا لیں یہ وزن نہیں۔ جے عربوں سے ہم نے سنا ہے، جس کے لیے انہوں نے فاعل ذی کذا استعمال کیا ہے تو آپ بھی کریں اس کو، لیکن جس کے لیے انہوں نے نہیں کیا آپ اس کو نہیں بنا سکتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ سماع پر موقوف ہے۔ اس لیے میں نے کچھ مثالیں دے دیں۔ جیسے رجول خابز، روٹی والا۔ رجول فارس، گھوڑے والا۔ رجول رامح، نیزے والا اور رجول ناعل، جوتے والا اور رجول شاعر، شعر والا۔ چلیے بس کریں بھئی، اب اردو کی کتاب میں بھی ذرا جلدی جلدی دیکھ لیں۔ فاعلت ثلاثی مجرد میں مرہ کے واسطے آتا ہے، مرتہ کے واسطے۔ عبارت مل گئی؟ فاعلت ثلاثی مجرد میں مرتہ کے واسطے آتا ہے یعنی ایک مرتبہ کے لیے، جیسے ضربت ایک مرتبہ مارنا اور فوعلت نوع کے واسطے آتا ہے، جیسے صبغرت ایک قسم کا رنگ کرنا اور فوعلت مقدار کے واسطے، جیسے اکلت اور لقمتہ۔ فائدہ۔ مبالغے کے واسطے یہ صیغے آتے ہیں فعال جیسے زراب بہت مارنے والا اور و فعال جیسے طوال بہت لمبا و فاعل جیسے حذر بہت بچنے والا، بہت پرہیز کرنے والا و فعلیل جیسے علیم بہت جاننے والا۔ اور صرف یہی مبالغے کے اوصاف نہیں ہیں یاد رکھیں، مبالغے کے اور بھی اوصاف ہیں۔ اور بعض اوقات صیغہ مبالغہ کے آخر میں تا بھی ملا دیتے ہیں مزید مبالغے کے لیے جیسے علامہ۔ علامہ بہت زیادہ علم والا جو ہو اس کو علامہ کہتے ہیں، تو یہ جو اس کے آخر میں گول تا ہے یہ تانیث کے لیے نہیں ہے یہ بھی مبالغے کے لیے ہے بھئی۔ دیکھیے کتاب پر اور فرق صیغہ مبالغہ اور اسم تفضیل کے معنی میں یہ ہے کہ صیغہ مبالغہ میں معنی فاعلیت کی زیادتی فی حد ذاتہ مقصود ہوتی ہے یعنی اپنی ذات میں ہی زیادتی مقصود ہوتی ہے، کسی دوسرے کی طرف اس میں نظر نہیں ہوتی اور اسم تفضیل میں زیادتی دوسرے کے اعتبار سے مقصود ہوتی ہے۔ چنانچہ ازرب من زید یا ازرب القوم کہیں گے۔ یعنی زید سے زیادہ مارنے والا ہے یا قوم سے زیادہ مارنے والا ہے اور اگر صرف ازرب یا اکبر آئے تو معنی نسبت مقصود ہوتے ہیں، مثلاً اللہ اکبر میں یہ مراد یہ ہے کہ اکبر من کل شین ہر چیز سے بڑا ہے اور زراب کے معنی زیادہ مارنے والے کے ہیں اور بس کسی دوسرے کی طرف نسبت ملحوض نہیں، یعنی کسی دوسرے کے ساتھ مقابلہ ملحوض نہیں۔ فائدہ۔ اعداد میں فاعل کا وزن مرتبہ یعنی درجہ کے واسطے آتا ہے۔ خامس بمعنی پنجم اور عاشر بمعنی دہم یعنی وہ چیز جو شمار میں اس درجہ میں ہو، مگر مرکبات میں جز اول کو بر وزن فاعل بناتے ہیں اور ثانی کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے حادی عشرہ، ثانی عشرہ، حادی و عشرونا، رابع و ثلاثونا۔ اور عشرہ کے بعد کے عقد میں اسم برائے مرتبہ بھی عدد ہی کے وزن پر آتا ہے۔ اسم برائے مرتبہ، مرتبہ کے لیے جو اسم ہے وہ بھی اسی عدد کے وزن پر آتا ہے، مثلاً عشرون بیس بھی ہے اور بیسواں بھی۔ اور فاعل کا وزن نسبت کے واسطے بھی آتا ہے اور اس کو فاعل ذی کذا کہتے ہیں۔ جیسے تامر ولابن یعنی تمر والا اور دودھ والا یعنی کھجور والا اور دودھ والا اور اسی معنی میں تممار اور لبّان بھی ہے۔ فاعل ذی کذا آسان لفظوں میں کہو نسبت والا فاعل۔ گویا کئی فاعل آپ کے پاس ہو گئے۔ ایک فاعل اس میں فاعل والا ہو گا۔ ضارب، فاتح، یہ کیا ہے اس میں فاعل؟ تو ایک فاعل وزن ہے اسم فاعل والا، اسی طرح ایک فاعل ہے صفت مشبہ والا کا بر وزن فاعل، یہ صفت مشبہ ہے آپ پڑھ چکے ہیں۔ اسی طرح ایک فاعل جو ہے یہ مرتبہ بتلانے کے لیے بھی آتا ہے عدد کے اندر، خامس، ثالث، رابع، صورت سمجھ میں آ رہی ہے۔ اور اسی طرح فاعل کا بھی نسبت کے لیے بھی آتا ہے نسبت بیان کرنے کے لیے، جیسے لاہور والا، آپ کہتے ہیں لاہوریون، پاکستان والا، آپ کہتے ہیں پاکستانیون، تو یہ یا ملاتے ہیں نسبت کے لیے پاکستان والا۔ اسی معنی کو ادا کرنے کے لیے فاعل وزن بھی عربی میں استعمال ہوتا ہے۔ تو یہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ فاعل ذی کذا، یعنی آسان لفظوں میں کیا کہو؟ نسبت والا فاعل، تو کوئی نسبت والا فاعل کہے یا کوئی فاعل ذی کذا کہہ دے تو ایک ہی بات ہے، جیسے تامر دیکھو تمر سے۔ کیا معنی؟ کھجور والا، لاہوریون کا کیا معنی تھا؟ لاہور والا، پاکستانیون کا کیا معنی تھا؟ پاکستان والا، یہی معنی یہاں فاعل وزن ادا کرے گا، تا تمر، تمر کسے کہتے ہیں؟ کھجور کو، اسی سے بنا لیا تامر، فاعل کیا معنی؟ کھجور والا، یعنی کھجور بیچنے والا، لبن دودھ کو کہتے ہیں، اسی سے کیا بنا لیا لابن کیا معنی؟ دودھ والا، یعنی دودھ بیچنے والا، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ اسی طرح خابز خبز روٹی کو کہتے ہیں، اسی سے خابز بنا لیا کیا معنی؟ روٹی والا، تو یہ نسبت کے لیے ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ فاعل ذی کذا، یا یوں کہیں نسبت والا فاعل۔ یعنی وہ وزن فاعل جو کس کے لیے ہے؟ وزن کی بات ہو رہی ہے نا، فاعل وزن، یہ وزن کبھی کس لیے آتا ہے؟ نسبت کے لیے بھی آتا ہے، نسبت بیان کرتا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ فاعل ذی کذا بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
55 approved lectures · 13 of 55