Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

علم الصيغة · dars-007

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 02 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 50
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی کتاب پر۔ نفی مضارع مجہول، لا یفعلُ الیٰٰ اٰخرہٖ، ما یفعلُ الیٰٰ اٰخرہٖ۔ چون لن بر مضارع داخل شود، در یفعلُ و تفعلُ و افعلُ و نفعلُ نصب کند، و از یفعلانِ، تفعلانِ، یفعلون، تفعلون، تفعلینَ، نون اعرابی را ساقط کند، و در یفعلنَ و تفعلنَ هیچ عمل نکند، و مضارع مثبت را بمعنی نفی تاکید مستقبل گرداند۔ اچھا بھئی! کل آپ نے ماضی اور مضارع کے صیغوں کے اندر ضمیروں کی پہچان کی۔ ذرا جلدی جلدی پھر دہرا لیں تاکہ خوب ذہن میں پختہ ہو جائیں بھئی۔ جی! ضربَ کے اندر کون سی ضمیر؟ ہُوَ۔ بارز ہے یا مستتر؟ مستتر۔ مستتر۔ ضربَا کے اندر؟ الف۔ بارز ہے یا مستتر؟ بارز۔ ضربُوا کے اندر؟ واؤ۔ اور یہ؟ بارز ہے۔ اور ضربَت کے اندر؟ ہِیَ۔ اور یہ؟ مستتر ہے۔ ضربَتَا میں؟ الف۔ اور یہ؟ بارز ہے۔ ضربنَ میں؟ نون ہے۔ اور یہ؟ بارز ہے۔ ضربتَ میں؟ تا ضمیر ہے۔ اور بارز ہے۔ ضربتُما میں؟ تُما ضمیر۔ اور یہ؟ بارز ہے۔ ضربتُم میں؟ تُم ضمیر۔ اور یہ؟ بارز ہے۔ ضربتِ میں؟ تا ضمیر۔ اور یہ؟ بارز ہے۔ اور ضربتُما میں؟ تُما ضمیر۔ اور یہ؟ بارز ہے۔ ضربتُنَّ میں؟ تُنَّ ضمیر۔ پھر بولو، اور ضربتُنَّ میں؟ تُنَّ ضمیر۔ اور یہ؟ بارز ہے۔ اور ضربتُ میں؟ تا ضمیر ہے۔ اور ضربنَا میں؟ نا ضمیر ہے۔ تو ضربتَ میں تا ضمیر، ضربتِ میں تا ضمیر، اور ضربتُ میں تا ضمیر۔ تو تینوں میں تا ضمیر ہے۔ توجہ ہے؟ جی! ضربتَ میں بھی تا ضمیر، ضربتِ میں بھی تا ضمیر، ضربتُ میں بھی تا ضمیر۔ اب جب آپ کہیں گے نا تا ضمیر، تو سننے والا سوچے گا پتہ نہیں کون سی تا ضمیر کی بات کر رہا ہے۔ ضربتَ والی تا، وہ واحد مذکر حاضر کی ضمیر ہے۔ ضربتِ والی تا، یہ واحد مؤنث مخاطبہ کی ضمیر ہے۔ یا ضربتُ کی تا ضمیر، جو واحد متکلم کی ضمیر ہے۔ تو جب آپ کہیں تا ضمیر، تو یہ تینوں اس میں آ جائیں گی۔ اب آپ خاص طور پر ان میں سے کسی ایک کو ذکر کرنا چاہتے ہیں، تو پھر اس کا کیا طریقہ ہے؟ تو پھر یاد رکھو، اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو ضمیر ذکر کر رہے ہیں، اس پر جس قسم کی حرکت ہے، جو آپ ضمیر ذکر کرنا چاہتے ہیں، اس پر جس قسم کی حرکت ہے، وہی والا حرف علت، وہی حرف دو ساتھ ملا دو۔ تا پر جس قسم کی حرکت ہو، وہی والے دو حرف علت ساتھ ملا دو۔ کیونکہ یہ دراصل ضمیریں ایک حرف پہ مشتمل ہیں نا؟ ضربتُ، ضربتَ۔ تا ہے، یہ کلمہ ہے کیونکہ اس کا کیا ہے؟ معنیٰ ہے۔ جب معنیٰ ہے تو یہ کلمہ ہوا۔ اور جب کلمہ ایک حرف پہ مشتمل ہو، تو اس کا کون سا نام لیتے ہیں؟ وہ جو حروفِ تہجی میں اس کا نام ہے۔ تو لہٰذا حروفِ تہجی میں تو ان سب کو، تینوں کو کیا کہیں گے؟ تا۔ لیکن آپ خاص طور پر ان میں سے کسی ایک کو ذکر کرنا چاہتے ہیں، کہ سننے والا سمجھ جائے یہ والی ضمیر میں ذکر کر رہا ہوں، تو اس کا طریقہ یہ ہے، تا پر حرکت دیکھو۔ اگر تا پر فتحہ ہے، تو دو الف ساتھ جوڑ دو۔ اگر تا پر پیش ہے، تو دو واؤ جوڑ دو ساتھ۔ اور اگر تا کے نیچے زیر ہے، تو دو یا ساتھ جوڑ دو۔ تو ضربتِ، اب اس کے ساتھ دو یا جوڑ دو۔ تِیٌّ، یاءِ مشدد بن جائے گی نا؟ دو یا آپس میں جڑ جائیں گی۔ تو اب آپ کہیں گے، یہ تِیٌّ ضمیر ہے۔ ضربتِ میں تِیٌّ ضمیر ہے۔ اور ضربتُ میں تُوٌّ ضمیر ہے۔ واؤ مشدد، دو واؤ ساتھ جوڑ دیے۔ اور ضربتَ میں تاءٌ ضمیر ہے۔ تا بھئی تا کہہ دیں، وہاں اسی طرح تا بول دیں۔ وہ ایک الف ہمزہ سے بدل دیا، تو تا بن گیا۔ تو وہ اسی طرح تا رہے گا، لیکن ضربتِ میں کیا کہیں گے؟ تِیٌّ۔ اور ضربتُ میں؟ تُوٌّ۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ ہم نے ان کا نام لینا ہے، اور نام کم از کم تین حروف پہ مشتمل ہوتا ہے۔ تو ایک یہ تا خود تھی، ضربتِ، یہ تِ، اور اس کے ساتھ دو یا جوڑ دیں۔ کتنے ہو گئے؟ تین حروف۔ اور پھر یا کا یا میں ادغام ہوا، تو کیا بن گیا؟ تِیٌّ۔ اور واؤ دو جوڑ دیے، تو کیا بن گیا؟ تُوٌّ۔ تو دیکھا، یہ ان کا نام پھر اس طرح ذکر کرتے ہیں۔ بہرحال، کبھی اس کی ضرورت کم ہی پیش آتی ہے، لیکن پھر بھی بہرحال ذہن میں رکھیے گا بھئی۔ تو ویسے کیا کہیں گے؟ تا ضمیر بھئی، تا ضمیر۔ اور مضارع کے اندر آئیے بھئی۔ مضارع کے اندر اب وہ ضمیریں ذرا تمام صیغوں میں پہچان لیں۔ یضربُ کے اندر؟ ہُوَ ضمیر، اور یہ کیا ہے؟ مستتر ہے۔ یضربانِ؟ الف ہے، اور یہ نون کیا ہے؟ نونِ اعرابی ہے۔ تو نونِ اعرابی کتنے صیغوں میں آتا ہے مضارع میں؟ سات صیغوں میں شاباش، آتا ہے۔ اور دو صیغوں میں جو نون آتا ہے، وہ نونِ اعرابی نہیں بلکہ وہ ضمیر ہے۔ وہ کون سے دو صیغے ہیں؟ یضربنَ اور تضربنَ، یا یوں کہو، جمع مؤنث کے دونوں صیغے، غائب کا بھی اور حاضر کا بھی۔ تو یہ نون ضمیر ہے۔ اور ضمیر تو بدلتی نہیں، تو فعلِ مضارع تو سارا معرب، لیکن اس میں سے یہ دو صیغے کیا ہیں؟ مبنی ہیں، یہ بدلتے نہیں۔ اور نونِ اعرابی کو نونِ اعرابی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے ذریعے اعراب کا پتہ چلتا ہے۔ یہ ہوگا، تو معلوم ہوا فعلِ مضارع مرفوع ہے۔ اور یہ اگر گرا ہو، تو معلوم ہوا منصوب ہے یا مجزوم ہے۔ تو فعلِ مضارع کے اندر، جو سات صیغے ہیں، ان میں کیا ہے؟ نونِ اعرابی۔ اور دو صیغوں میں جو نون ہے، وہ ضمیر ہے۔ اور وہ دونوں صیغے جمع مؤنث کے ہیں، اور وہ دو صیغے مبنی ہیں۔ باقی سارا مضارع کے جو 12 صیغے ہیں، وہ معرب ہیں بھئی، معرب ہیں۔ ضمیروں کی پہچان کر رہے تھے ہم مضارع میں، پھر کر لیں۔ یضربُ میں کون سی ضمیر؟ ہُوَ، اور یہ کیا ہے؟ مستتر ہے۔ اور یضربانِ میں؟ الف ضمیر، اور یہ بارز ہے۔ یضربونَ میں؟ واؤ، اور یہ بارز ہے۔ تضربُ میں؟ ہِیَ ضمیر، اور یہ مستتر ہے۔ اور تضربانِ میں؟ الف، اور یہ بارز ہے۔ یضربنَ میں؟ نون، اور یہ بارز ہے۔ تضربُ میں؟ اَنْتَ ضمیر ہے، اور یہ مستتر ہے۔ تضربانِ میں؟ الف ہے، اور یہ بارز ہے۔ تضربونَ میں؟ واؤ ضمیر، اور یہ بارز ہے۔ تضربینَ میں؟ یا ضمیر، اور یہ بارز ہے۔ اور تضربانِ میں؟ الف ضمیر، اور یہ کیا ہے؟ بارز ہے۔ اور تضربنَ میں؟ نون ضمیر، اور یہ بارز ہے۔ اور اضربُ میں؟ اَنَا ضمیر، اور یہ مستتر ہے۔ اور نضربُ میں؟ نَحْنُ، اور یہ مستتر ہے۔ اور یہ ساری، یہ ضمیریں کیا ہیں؟ متصل ہیں، فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ اور وہ جو ہُوَ، ہُمَا، ہُم، ہِیَ، ہُمَا، ہُ نَّ، اَنْتَ، اَنْتُمَا، اَنْتُم، اَنْتِ، اَنْتُمَا، اَنْتُنَّ، اَنَا، نَحْنُ، یہ ضمیریں منفصل ہیں۔ ان کے ساتھ، ان کو کسی کے ساتھ جڑنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ جو الف ہے، یہ ہمیشہ فعل کے ساتھ جڑ کے آئے گا۔ یہ جو واؤ ہے، یہ ہمیشہ فعل کے ساتھ جڑ کر آئے گا۔ یہ جو نون ہے، یہ ہمیشہ فعل کے ساتھ جڑ کر آئے گا۔ تو یہ ضمیریں ہوئیں متصل، اور ہُوَ، ہُمَا، ہُم وغیرہ کیا ہیں؟ منفصل ہیں، جدا ہیں بھئی۔ اچھا! فعلِ مضارع کی گردانیں چل رہی تھیں بھئی۔ تو دیکھیے، آج کا سبق۔ کہتے ہیں، نفیِ مضارع مجہول، مضارع مجہول کی نفی بھئی۔ وہ نفی والے صیغے، ان کی گردان۔ لا یفعلُ الیٰٰ اٰخرہٖ، آخر تک بھئی۔ تو لا یفعلُ، گردان کیجیے، آپ جو باب پڑھے ہیں، ان میں سے کوئی ایک باب کر لے۔ لا یفتحُ، لا یفتحانِ، لا یفتحونَ، لا تفتحُ، لا تفتحانِ، لا یفتح نَ، لا تفتحُ، لا تفتحانِ، لا تفتحونَ، لا تفتحینَ، لا تفتحانِ، لا تفتح نَ، لا افتحُ، لا نفتحُ۔ اور اسی طرح آگے پھر کتاب میں دیکھیے، ما یفعلُ الیٰٰ اٰخرہٖ، ما یفعلُ آخر تک بھئی۔ تو لا کے ساتھ بھی نفی والا معنیٰ آ گیا، اور ما کے ساتھ بھی نفی والا معنیٰ آ گیا۔ یضربُ کا معنیٰ ہے، وہ پٹائی کرتا ہے یا کرے گا۔ اور لا یضربُ کا معنیٰ، وہ پٹائی نہیں کرتا یا نہیں کرے گا۔ اور ما یضربُ کا بھی یہی معنیٰ ہے، وہ پٹائی نہیں کرتا یا نہیں کرے گا۔ تو لا اور ما، دونوں مضارع میں نفی کے لیے آتے ہیں۔ ماضی میں نفی کے لیے کیا آتا تھا؟ ماضی میں بھی ما اور لا ہی آتے ہیں، ما ضربَ اور لا ضربَ۔ لیکن فرق انہوں نے بتلایا تھا کہ لا اگر آپ استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو پھر لا کا تکرار بھی ہوگا، اور آگے فعل کا بھی تکرار ہوگا، جیسے لا صدَّقَ ولا صلّٰی۔ آگے دیکھیے بھئی۔ چون لن بر مضارع داخل شود، در یفعلُ و تفعلُ و افعلُ و نفعلُ نصب کند۔ اچھا، پھر مضارع پہ ذرا آئیے بھئی۔ مضارع کے کل کتنے صیغے؟ 14 صیغے۔ ان میں سے نونِ اعرابی کتنے میں آیا؟ سات میں۔ اور دو صیغے جمع مؤنث والے، کتنے ہو گئے؟ نو۔ باقی کتنے رہ گئے؟ پانچ، یعنی پانچ صیغے رہ گئے۔ ان پانچ صیغوں کے اندر بھئی، ضمیرِ مستتر ہے۔ ان سب میں کیا ہے؟ ضمیرِ مستتر ہے۔ اور لہٰذا، ان کا بار بار ذکر آئے گا بھئی۔ وہ پانچ صیغوں کا الگ ذکر آئے گا، ان کا حکم الگ ہوگا۔ نونِ اعرابی والوں کا حکم، توجہ ہے، ادھر پھر سنو! یہ پھر سنو، فعلِ مضارع کے کل کتنے صیغے؟ 14۔ نونِ اعرابی کتنے میں؟ سات میں۔ اور دو صیغے کیا ہیں؟ جمع مؤنث کے، جو مبنی ہیں۔ اور پانچ صیغے جن میں کیا ہے؟ ضمیرِ مستتر ہے۔ ان کے ساتھ نونِ اعرابی جڑا ہوا نہیں ہے۔ تو اب یہ پانچ صیغے الگ قسم کے ہو گئے، دو صیغے الگ قسم کے ہو گئے، اور سات صیغے الگ۔ یہ بار بار اب بیان کریں گے، کہ ان پانچ کا یہ حکم ہے، ان دو کا یہ حکم ہے، اور ان سات کا یہ حکم ہے۔ مثلاً دیکھو، لن ناصبہ جب فعلِ مضارع پر داخل ہوتا ہے، یہ کیا کرتا ہے؟ مضارع کو نصب دیتا ہے۔ تو پانچ صیغے ہیں جن کو وہ نصب دے گا۔ یہ بتلائیں گے۔ کون سے پانچ صیغے؟ آپ سمجھ گئے۔ کون سے پانچ صیغے؟ جن میں، جن میں ضمیرِ مستتر ہے۔ اور سات صیغوں میں یہ نونِ اعرابی گرا دے گا۔ آپ سمجھ گئے کون سے سات ہیں جن میں نونِ اعرابی ہے۔ اور دو صیغوں میں یہ کچھ بھی نہیں عمل کرے گا۔ آپ سمجھ گئے کون سے دو صیغے ہیں؟ جمع مؤنث والے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اسی طرح وہ بیان کریں گے کہ جب لم جازمہ آتا ہے، تو پانچ صیغوں میں وہ جزم دے گا۔ کتنے میں؟ وہ کون سے پانچ صیغے ہیں؟ جن میں ضمیرِ مستتر ہے۔ وہ کون سے ہیں، ذرا دہرا بھی لو۔ یضربُ، پھر تضربُ، پھر دوبارہ تضربُ، پھر اضربُ، پھر نضربُ۔ یہ پانچ صیغے ہیں۔ تو لم جازمہ جب فعلِ مضارع پر داخل ہوگا، پانچ صیغوں میں وہ کیا کرے گا؟ جزم دے گا، لم یضرب، لم اضرب، لم نضرب۔ اور سات صیغوں سے یہ نونِ اعرابی گرا دے گا۔ کون سے سات صیغے؟ چار تثنیہ والے۔ چار تثنیہ والے، اور ایک جمع مذکر غائب، اور ایک جمع مذکر حاضر، یضربونَ اور تضربونَ۔ جمع مذکر غائب اور جمع مذکر حاضر، اور ایک واحد مؤنث۔مخاطبہ کون سا؟ تضربین، تو یہ سات صیغے ہیں۔ تو یہ لم جازمہ ان ان سات صیغوں سے کیا کرے گا؟ نون اعرابی کو گرا دے گا۔ اور دو صیغوں میں عمل نہیں کرے گا۔ وہ کون سے دو صیغے ہیں؟ یضربن اور تضربن، یعنی جمع مؤنث کے دونوں صیغے، چاہے غائب ہو، چاہے حاضر ہو۔ تو یہی بات اب بار بار بیان کریں گے۔ دیکھیے کتاب میں عبارت دیکھیے: "چوں لن بر مضارع داخل شود"۔ جب لن ناصبہ بر مضارع مضارع پر داخل ہوتا ہے، یعنی نصب دیتا ہے۔ تو لن ناصبہ چوں، چوں کا معنیٰ ہے جب، جب۔ "چوں لن بر مضارع داخل شود" جب لن ناصبہ مضارع پر داخل ہوتا ہے "در یفعل وتفعل وأفعل ونفعل نصب کند"۔ ان چار صیغوں میں نصب دیتا ہے۔ ان چار صیغوں میں نصب دیتا ہے۔ بھئی ہم نے تو پانچ پڑھے، تو یہ تو چار بتا رہے ہیں۔ جواب دیجیے۔ ہاں، یہ جو تفعل ہے یہ دو جگہ استعمال ہوتا ہے، اس کو انہوں نے ایک ہی شمار کیا ہے بھئی۔ نصب دے گا، کیسے؟ لن یفعل، یضرب سے دیکھ لو، لن یضرب اور لن تضرب اور اگلا پھر لن تضرب، پھر لن اضرب اور لن نضرب، یہ پانچ صیغے ہیں بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو ان چار صیغوں میں نصب کند، نصب کرتا ہے، نصب دیتا ہے۔ "واز یفعلان وتفعلان ویفعلون وتفعلون وتفعلین نون اعرابی را ساقط کند" اور یہ کتنے صیغے ہیں؟ سات ہونے چاہئیں، لیکن انہوں نے کیا کیا؟ پانچ شمار کیے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ جو تفعلان ہے، یہ تین جگہ آتا ہے۔ ان میں سے صرف ایک شمار کیا، دو ختم کر دیے، کتنے رہ گئے؟ پانچ۔ تو لہٰذا اسی لیے کہا: "یفعلان وتفعلان ویفعلون وتفعلون وتفعلین نون اعرابی را ساقط کند" ان میں یہ نون یہ لن ناصبہ کیا عمل کرتا ہے؟ نون اعرابی کو گرا دیتا ہے۔ "ودر یفعلن وتفعلن ہیچ عمل نکند" اور یفعلن اور تفعلن میں کوئی عمل نہیں کرتا۔ عبارت اچھی طرح سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ دو کون سے صیغے ہیں؟ جمع مؤنث کے صیغے ہیں اور یہ مبنی ہیں۔ "ومضارع مثبت را بمعنائے نفی تاکید مستقبل گرداند" اور مضارع مثبت کو، یہ جو لن ناصبہ ہے، یہ مضارع مثبت کو "بمعنائے نفی تاکید مستقبل گرداند" اس کو نفی تاکید مستقبل کے معنیٰ میں کر دیتا ہے۔ اس کو کس معنیٰ میں کر دیتا ہے؟ نفی تاکید نفی تاکید مستقبل۔ یعنی ایک ہے لا یضرب، اس میں بھی نفی ہے۔ لیکن اس میں یہ جو لن یضرب، اس کے اندر تاکید بھی ہے، زور ہے بھئی۔ زور ہے۔ اور نیز مضارع میں تو حال کا بھی احتمال ہوتا ہے اور مستقبل کا بھی۔ لیکن یہ لن ناصبہ جب فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے تو اس کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے، اب آپ حال والا ترجمہ نہیں کر سکتے۔ لن یضرب، پہلے لا یضرب کا ترجمہ کرو۔ لا یضرب، یہ نفی ہے، نفی۔ جی، لا یضرب، وہ نہیں مارتا ہے یا وہ نہیں مارے گا۔ اور لن یضرب، دیکھا، اب وہ نہیں مارے گا، یہ مستقبل والا ترجمہ ہو گیا۔ اور اس میں ذرا تاکید پیدا کر دو، زور پیدا کر دو، وہ ہرگز نہیں مارے گا۔ اب وہ ہرگز نہیں مارتا ہے، یہ حال والا ترجمہ نہیں کرنا اب، اب صرف مستقبل والا ترجمہ۔ ورنہ تو مضارع میں کتنے ترجمے؟ دو۔ لیکن جب لن ناصبہ داخل ہو جائے، اب صرف کون سا معنیٰ کرنا ہے؟ مستقبل والا کرنا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہی بیان کر رہے ہیں کہ "ومضارع مثبت را بمعنائے نفی تاکید مستقبل گرداند" اور مضارع مثبت کو نفی تاکید مستقبل کے معنیٰ میں کر دیتا ہے۔ نفی تاکید بلن در فعل مستقبل معروف، اب اس کی وہی گردان ذکر کرنے لگے ہیں۔ نفی تاکید بلن ناصبہ در فعل مستقبل معروف، یہ وہ گردان کرنے لگے ہیں: لن یفعل، لن یفعل، لن یفعل، دیکھو عین پہ تینوں حرکتیں دی ہوئی ہیں۔ تینوں طرح آپ اس کو یاد کریں گے بھئی۔ آپ یوں کیجیے، مجھے گردان سنائیے بھئی۔ ایک ایک باب کی گردان مجھے سناتے جاؤ لن ناصبہ کے ساتھ۔ باب ضرب سے سنائیے بھئی۔ لن یضرب لن یضربا لن یضربوا لن تضرب لن تضربا لن یضربن لن تضرب لن تضربا لن تضربوا لن تضربی لن تضربا لن تضربن لن اضرب لن نضرب۔ شاباش! جی، آپ سنائیے بھئی لن یضرب مجهول سنا دیں، آگے مجهول بھی وہ ذکر کر دیں گے، لیکن آپ یہی سنا دیجیے۔ لن یضرب لن یضربا لن یضربوا لن تضرب لن تضربا لن یضربن لن تضرب لن تضربا لن تضربوا لن تضربی لن تضربا لن تضربن لن اضرب لن نضرب۔ شاباش! جی، آپ سنائیے بھئی لن ینصر، باب نصر سے سنا دیں۔ لن ینصر لن ینصرا لن ینصروا لن تنصر لن تنصرا لن ینصرن لن تنصر لن تنصرا لن تنصروا لن تنصری لن تنصرا لن تنصرن لن انصر لن ننصر۔ شاباش! شاباش! دیکھا، آپ بہترین صرفی ہیں بھئی۔ آپ سنا دیجیے بھئی لن یفتح، باب فتح عین کی تیسری حرکت۔ ضرب میں زیر تھی، نصر میں پیش تھی اور فتح میں زبر آ جائے گی۔ لن یفتح، جی۔ لن یفتح لن یفتحا لن یفتحوا لن تفتح لن تفتحا لن یفتحن لن تفتح لن تفتحا لن تفتحوا لن تفتحی لن تفتحا لن تفتحن لن افتح لن نفتح۔ شاباش! شاباش! چلیے جی، آگے دیکھیے بھئی کتاب میں۔ کہتے ہیں: لن یفعل لن یفطلا لن یفعلوا لن تفعل لن تفطلا لن یفعلن لن تفعلوا لن تفعلی لن تفعلن لن افعل لن نفعل۔ نفی تاکید بلن در فعل مستقبل مجهول: لن یفعل لن یفعلا لن یفعلوا لن تفعل لن تفطلا لن یفعلن لن تفعلوا لن تفعلی لن تفعلن لن افعل لن نفعل۔ "ان وکی واذن ہم مثل لن عمل کند"، ان، کی اور اذن، یہ بھی کہتے ہیں ہم، ہم کا معنیٰ ہے بھی، بھی۔ "مثل لن عمل کند" یہ بھی لن ناصبہ کی طرح عمل کرتے ہیں۔ یہ بھی کس کی طرح؟ لن ناصبہ کی طرح عمل کرتے ہیں۔ اور وہ کیا عمل کرتا تھا؟ پانچ صیغوں میں نصب دیتا تھا۔ سات صیغوں میں نون اعرابی گراتا تھا۔ اور دو صیغوں میں کوئی عمل نہیں کرتا تھا۔ وہی یہ ان، کی اور اذن بھی اسی طرح عمل کریں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی، ان کے ساتھ، اب آپ نے ان کے ساتھ تو یہ گردان نہیں یاد کی ہوئی، لیکن اسی طرح سنا دو۔ جی، ان کے ساتھ ضرب یضرب کی گردان سناؤ، ان یضرب۔ ان یضرب ان یضربا ان یضربوا ان تضرب ان تضربا ان یضربن ان تضرب ان تضربا ان تضربوا ان تضربی ان تضربا ان تضربن ان اضرب ان نضرب۔ شاباش! دیکھا، تو آپ کو یہ سب آپ آسانی سے کر لیں گے۔ تو ان، اور فرق یہ ہے کہ یہ ان جب فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے، اس کو مصدر کے معنیٰ میں کر دیتا ہے۔ کس معنیٰ میں؟ مصدر۔ ان یضرب، اب اس کا معنیٰ وہ پٹائی کرتا ہے یا پٹائی کرے گا، یہ ترجمہ نہیں کرنا۔ اب اس کا معنیٰ ہو گیا: ان یضرب، اس آدمی کا پٹائی کرنا۔ اس آدمی کا پٹائی کرنا، دیکھا، مصدر بن گیا۔ اور اسی طرح ان ینصر، ترجمہ کرو: اس آدمی کا مدد کرنا۔ اچھا، ان ینصرا: ان دو آدمیوں کا مدد کرنا۔ ان ینصروا: ان سب آدمیوں کا مدد کرنا۔ دیکھا، مصدر والا معنیٰ کریں گے۔ اب بات ادھوری ہے۔ یضرب، یہ بات پوری تھی، یضرب وہ پٹائی کرتا ہے، وہ پٹائی کرے گا۔ اور ان اس کا پٹائی کرنا، آپ کہیں گے بھئی بات تو پوری کریں، کیا ہوا اس کو بھئی؟ تو وہ کہے گا: اس کا پٹائی کرنا بڑا خطرناک ہے، بڑی زبردست پٹائی کرتا ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو ان کیا کرتا ہے؟ جس فعل پر داخل ہوتا ہے اس کو مصدر کے معنیٰ میں کر دیتا ہے۔ آگے ہے کی، کی۔ کی یاد رکھیے، یہ بھی نصب دیتا ہے۔ کی یضرب، کی ینصر، کی ینصرا، کی ینصروا، دیکھو نون اعرابی کو بھی گرا رہا ہے۔ جو جو عمل لن ناصبہ کر رہا تھا، یہ بھی اسی طرح عمل کریں گے۔ اور یہ یاد رکھو کی جو ہے، یہ سبب بتلانے کے لیے آتا ہے۔ کس کے لیے آتا ہے؟ سبب بتلانے کے لیے۔ دیکھو، ادھر دیکھیے، یہ ہے لفظ کی۔ ایک تھوڑی سی بات اس سے پہلے ہوگی اور تھوڑی سی بات اس کے بعد ہوگی۔ تو ایک کی کا ماقبل ہے، ایک کی کا مابعد ہے۔ جو کی کا مابعد ہوتا ہے، وہ ماقبل کے لیے سبب ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ کی کا جو مابعد ہے، وہ ماقبل کے لیے سبب ہے۔ دیکھو، مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ اور یہ کی مضارع میں نصب بھی دے گا۔ اسلمت، میں اسلام لایا، میں مسلمان ہوا۔ کی ادخل الجنة، ادخل، دیکھو نصب دیا۔ ادخل، متکلم کا صیغہ ہے نا۔ کی، اور اس کا ترجمہ پھر کریں گے تاکہ۔ میں اسلام لایا کی ادخل الجنة، تاکہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ تو ماقبل میں کیا ہے؟ اسلام لانا۔ مابعد میں کیا ہے؟ جنت میں داخل ہونا۔ اب مجھے بتائیے، اسلام لانے کی وجہ کیا ہے؟ سبب کیا ہے؟ تاکہ جنت میں داخل ہو جائے۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کی کا مابعد جو ہوتا ہے، یہ سبب ہوتا ہے کس کے لیے؟ ماقبل کے لیے۔ ماقبل میں کس چیز کا ذکر؟ اسلام لایا۔ کیوں لایا؟ وجہ کیا ہے؟ سبب کیا ہے؟ بتایا: تاکہ میں کس میں داخل ہو جاؤں؟ تو یہ جنت میں داخل ہونا اس کا سبب ہے، اس کا باعث ہے بھئی، اس کی وجہ ہے۔ واذن، اذن، اذن بھی اسی طرح عمل کرتا ہے۔ اذن یضرب، اذائی یضرب، اذائی یضربا، اذائی یضربوا، دیکھو کہیں نصب دے رہا ہے، کہیں نون اعرابی کو گرا رہا ہے۔ یاد رکھو یہ جو اذن ہے، اذن، اس کو حرف جواب بھی کہتے ہیں، حرف جواب۔ کیونکہ یہ جواب میں آتا ہے۔ کس میں آتا ہے؟ اس کو حرف جزا بھی کہتے ہیں، یہ یعنی جزا اور بدلے پر آتا ہے۔ اور اس کو حرف مکافات بھی کہتے ہیں۔ مکافات، یہ اس کا معنیٰ بھی ہے بدلہ، بدلہ۔ مکافات کا کیا معنیٰ؟ بدلہ۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حرف جواب بھی کہتے ہیں، حرف جزا بھی کہتے ہیں اور حرف مکافات بھی کہتے ہیں۔ اور جزا اور مکافات کا کیا معنیٰ ہے؟ بدلہ۔ بھئی وجہ یہ کہ یہ جواب پر داخل ہوتا ہے۔ کس پر داخل ہوتا ہے؟ جواب اور جزا پہ داخل ہوتا ہے، بدلے پر داخل ہوتا ہے، یعنی اس کے ساتھ بدلہ ذکر کیا جاتا ہے۔ اذن کے ساتھ بدلہ ذکر کیا جاتا ہے، جزا ذکر کی جاتی ہے۔ مثلاً، آپ کا ایک ساتھی آپ سے کہتا ہے: اتیک غدا، اتیک غدا۔ آتی، میں آؤں گا۔ کا، آپ کے پاس۔ غدا، کل۔ اتیک غدا، میں کل آپ کے پاس آؤں گا۔ آپ جواب میں کہتے ہیں: اذن اکرمک، اذن اکرمک، دیکھو اذن نے نصب دیا یا نہیں؟ اور کیا معنیٰ؟ تب تو میں آپ کا اکرام کروں گا، آپ کی دعوت کروں گا، آپ کو چائے وائے پلاؤں گا۔ تو یہ دیکھا، جزا اور بدلے میں آیا۔ اس نے ایک کام ذکر کیا، آپ نے اس کا بدلہ ذکر کیا، اگر آپ یہ کریں گے، تب تو پھر میں یہ کروں گا۔ تو اذن کا کیا ہے؟ حرف جواب اور کیا؟ حرف جزا اور اس کا کیا نام؟ حرف مکافات۔ یاد کرو اس لفظ کو بھئی، حرف مکافات۔ کاف چھوٹا ہے، میم، کاف چھوٹا، الف، ف، الف اور لمبی تا، مکافات۔ عربی میں آئے گی تو گول تا آ جائے گی، اردو میں آئے گی تو لمبی تا لکھیں گے۔ تو اتیک غدا، میں کل آپ کے پاس آؤں گا۔ تو آپ نے جواب میں کیا کہا؟ اذن اکرمک، نصب پڑھنا ہے آپ نے، یا نون اعرابی والا صیغہ لا رہے ہیں تو نون اعرابی کو گرا دینا ہے۔ جمع والا صیغہ لے آؤ بھئی کوئی۔ آتِيكُمْ غَداً، میں تم لوگوں کے پاس آؤں گا کل۔ جواب دیں: إِذَنْ نُكْرِمَكَ، إِذَنْ نُكْرِمَك، پھر تو ہم آپ کا اکرام کریں گے، جمع کے مطابق جواب دے دیا۔ اچھا، دیکھیے اب کتاب پر۔ کہتے ہیں: أَنْ وَكَيْ وَإِذَنْ، تو معنیٰ إِذَنْ، تو إِذَنْ کا کیا معنیٰ ہوا؟ تب، تب تو۔ تو کہتے ہیں: أَنْ وَكَيْ وَإِذَنْ هم مثل "لَنْ" عمل کنند۔ کہتے ہیں: أَنْ اور كَيْ اور إِذَنْ بھی "لَنْ" ناصبہ کی طرح عمل کرتے ہیں۔ أَنْ يَفْعَلَ، دیکھا نصب دیا۔ وَكَيْ يَفْعَلَ، دیکھو اس نے بھی نصب دیا۔ وَإِذَنْ يَفْعَلَ، اس نے بھی نصب دیا۔ کہتے ہیں: إِذَنْ يَفْعَلَ را معروف و مجهول باید گردانید۔ ان کو معروف اور مجہول ان کی گردان کر لینی چاہیے۔ ہم نے تو ایک ایک صیغہ بتا دیا أَنْ يَفْعَلَ۔ آپ اس کی معروف اور مجہول گردان، طالب علموں کو کر لینی چاہیے۔ كَيْ يَفْعَلَ، ہم نے تو ایک معروف صیغہ دے دیا۔ آپ معروف اور مجہول دونوں طرح اس کی گردانیں کر لیجیے۔ اور إِذَنْ يَفْعَلَ، ہم نے تو ایک صیغہ دیا، آپ اس کی معروف اور مجہول گردانیں کر لیجیے۔ یہ معنیٰ ہے۔ تو کہتے ہیں: أَنْ يَفْعَلَ وَكَيْ يَفْعَلَ وَإِذَنْ يَفْعَلَ را معروف و مجهول باید گردانید، ان کی معروف اور مجہول گردانیں کر لینی چاہئیں۔ باید کا معنیٰ ہے چاہیے، چاہیے۔ باید گردانید، ان کی گردانیں کر لینی چاہئیں۔ لَمْ در يَفْعَلُ، جی اب "لَمْ" جازمہ کی بات آئی۔ جزم دیتا ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ لَمْ جازمہ۔ تو کہتے ہیں: لَمْ در يَفْعَلُ وَتَفْعَلُ۔ جی، لَمْ کا عمل اب آپ مجھے بتا دیں۔ لَمْ کیا کرتا ہے؟ جزم دیتا ہے۔ کتنے صیغوں میں جزم دے گا؟ پانچ صیغوں میں۔ اور کتنے صیغوں میں نونِ اعرابی گرائے گا؟ سات صیغوں میں۔ اور کتنے صیغوں میں عمل نہیں کرے گا؟ دو صیغوں میں عمل نہیں کرے گا بھئی۔ اچھا بھئی، لَمْ کی گردان سنا دیجیے بھئی: لَمْ يَضْرِبْ۔ لَمْ يَضْرِبْ، لَمْ يَضْرِبَا، لَمْ يَضْرِبُوا، لَمْ تَضْرِبْ، لَمْ تَضْرِبَا، لَمْ يَضْرِبْنَ، لَمْ تَضْرِبْ، لَمْ تَضْرِبَا، لَمْ تَضْرِبُوا، لَمْ تَضْرِبِي، لَمْ تَضْرِبَا، لَمْ تَضْرِبْنَ، لَمْ أَضْرِبْ، لَمْ نَضْرِبْ۔ شاباش! تو یہ دیکھا آپ نے، نصب بھی اس نے دیا اور نونِ اعرابی کو بھی گرایا۔ تو کہتے ہیں: لَمْ در يَفْعَلُ وَتَفْعَلُ وَأَفْعَلُ وَنَفْعَلُ جزم کند۔ لَمْ جو ہے، یہ چار صیغے جو ہیں، ان میں جزم دیتا ہے۔ چار صیغے، اور ہم نے تو کیا کہا؟ پانچ۔ تو اس کا کیا جواب ہے؟ کہ یہ تَفْعَلُ صیغہ دو جگہ آتا ہے۔ وَازْ يَفْعَلَانِ وَتَفْعَلَانِ وَيَفْعَلُونَ وَتَفْعَلُونَ وَتَفْعَلِينَ نونِ اعرابی را ساقط گرداند۔ اور یہ جو صیغے ہیں: يَفْعَلَانِ، تَفْعَلَانِ، يَفْعَلُونَ، تَفْعَلُونَ اور تَفْعَلِينَ سے نونِ اعرابی کو گرا دیتا ہے۔ یہ تو بھئی پانچ صیغے ہیں، اور ہم نے تو کتنے گنے تھے نونِ اعرابی والے؟ سات۔ تو کیا جواب ہے؟ ہاں، کہ تَفْعَلَانِ انہوں نے ایک دفعہ گنوا دیا اور وہ تین جگہ آیا ہے، تو سات ہو گئے۔ وَيَفْعَلْنَ وَتَفْعَلْنَ جمع مؤنث غائب و حاضر را بحالِ خود دارد۔ اور يَفْعَلْنَ اور تَفْعَلْنَ جو جمع مؤنث غائب اور حاضر ہے، را، ان کو، بحالِ خود دارد، ان کو اپنی حالت پر ہی رکھتا ہے۔ را بحالِ خود دارد، ان کو لَمْ جازمہ اپنی حالت پر ہی رکھتا ہے، یعنی یہ جیسے تھے ویسے ہی رہیں گے، یعنی ان میں کوئی عمل نہیں کرتا۔ تو کہتے ہیں: ان کو جمع مؤنث غائب و حاضر را بحالِ خود دارد، اور جمع مؤنث غائب اور حاضر کو اپنے حال پر رکھتا ہے۔ ومضارع را بمعنائے ماضی منفی گرداند، اور مضارع کو ماضی منفی کے معنیٰ میں کر دیتا ہے۔ بھئی، جیسے "لَنْ" ناصبہ مضارع کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا تھا، یہ جو "لَمْ" جازمہ ہے، یہ مضارع کے اندر ایک تو نفی پیدا کرے گا۔ کیا پیدا کرے گا؟ نفی۔ اور نیز اس مضارع کو بدل دے گا ماضی کی طرف۔ لَمْ يَضْرِبْ، لَمْ يَضْرِبْ کا ترجمہ: کہ وہ نہیں مارے گا یا وہ نہیں مارتا ہے، نہیں، حال یا استقبال والا ترجمہ نہیں کرنا، بلکہ کون سا ترجمہ کرنا ہے؟ ماضی والا، ماضی والا۔ لَمْ يَضْرِبْ، اس نے نہیں مارا زمانۂ ماضی میں۔ لَا يَضْرِبُ، وہ نہیں مارتا ہے یا نہیں مارے گا۔ اب مضارع کا اپنا ترجمہ ہو گا جب "لَا" کے ساتھ نفی ہو، لیکن جب "لَمْ" آ جائے تو پھر ماضی والا ترجمہ: لَمْ يَضْرِبْ، اس نے نہیں مارا زمانۂ ماضی میں۔ اچھا، یہی بیان کر رہے ہیں: ومضارع را بمعنائے ماضی منفی گرداند، اور مضارع کو ماضی منفی کے معنیٰ میں کر دیتا ہے۔ بحثِ نفیِ جہد، اس کو اس لیے جہد، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہد کہتے ہیں، جہد۔ نفیِ جہد بلم، بحثِ نفیِ جہد، بھئی لَمْ يَضْرِبْ، یہ جو گردان ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نفیِ جہد، جہد۔ تو بحثِ نفیِ جہد بلم در فعلِ مضارع معروف، نفیِ جہد بلم کی بحث فعلِ مضارع معروف میں: لَمْ يَفْعَلْ۔ دیکھا یہاں بھی عین پر تینوں حرکتیں ہیں: لَمْ يَفْعَلْ، لَمْ يَفْعِلْ اور لَمْ يَفْعُلْ۔ تو لَمْ يَفْعَلْ، لَمْ يَفْعَلَا، لَمْ يَفْعَلُوا، لَمْ تَفْعَلْ، لَمْ تَفْعَلَا، لَمْ يَفْعَلْنَ، لَمْ تَفْعَلْ، لَمْ تَفْعَلَا، لَمْ تَفْعَلُوا، لَمْ تَفْعَلِي، لَمْ تَفْعَلَا، لَمْ تَفْعَلْنَ، لَمْ أَفْعَلْ، لَمْ نَفْعَلْ۔ نفیِ جہد بلم در فعلِ مضارع مجہول، بھئی نفیِ جہد بلم فعلِ مضارع مجہول میں: لَمْ يُفْعَلْ، لَمْ يُفْعَلَا، تا آخر، آخر تک بھئی۔ کیسے ہو گی یہ گردان؟ لَمْ يُضْرَبْ، لَمْ يُضْرَبَا، لَمْ يُضْرَبُوا، لَمْ تُضْرَبْ، لَمْ تُضْرَبَا، لَمْ يُضْرَبْنَ، لَمْ تُضْرَبْ، لَمْ تُضْرَبَا، لَمْ تُضْرَبُوا، لَمْ تُضْرَبِي، لَمْ تُضْرَبَا، لَمْ تُضْرَبْنَ، لَمْ أُضْرَبْ، لَمْ نُضْرَبْ۔ لَمَّا هم مثلِ لَمْ عمل کند لفظاً ومعناً۔ لَمَّا هم، هم کا کیا معنیٰ؟ بھی۔ لَمَّا بھی مثلِ لَمْ عمل کند، لَمْ جیسا عمل کرتا ہے، لفظاً ومعناً، لفظوں کے اعتبار سے بھی اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی۔ توجه ہے؟ لَمَّا، وہ بھی کس کی طرح عمل کرتا ہے؟ لَمْ کی طرح۔ لفظوں کے اعتبار سے بھی اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی۔ لفظوں کے اعتبار سے لَمْ کیا عمل کرتا تھا؟ پانچ صیغوں میں جزم دیتا تھا، سات صیغوں سے نونِ اعرابی گراتا تھا، اور دو صیغوں میں عمل نہیں کرتا تھا۔ لَمَّا بھی اسی طرح ہے، پانچ صیغوں کے اندر یہ جزم دے گا، سات صیغوں سے نونِ اعرابی گرا دے گا، اور دو صیغوں میں عمل نہیں کرے گا۔ اور معنیٰ میں بھی اس کی طرح عمل کرے گا۔ معنیٰ میں لَمْ کیا عمل کرتا تھا؟ مضارع کو کس کے ساتھ، کس کی طرف بدل دیتا تھا؟ ماضی کی طرف۔ لَمَّا جو ہے، یہ بھی مضارع کے معنیٰ کو بدل دے گا کس کی طرف؟ ماضی کی طرف۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ لیکن یہ تھوڑا فرق ہے بھئی، تھوڑا فرق ہے۔ وہ یہ کہ مثلاً میں کہتا ہوں: لَمْ يَضْرِبْ زَيْدٌ، ترجمہ کریں: نہیں مارا زید نے زمانۂ ماضی میں۔ اور لَمَّا يَضْرِبْ زَيْدٌ، زید نے ابھی تک نہیں مارا۔ زید نے، اس میں "ابھی تک" آ جائے گا۔ یعنی یوں کہو، اس کے اندر لَمْ، لَمْ نے کیا بتلایا؟ زید نے زمانۂ ماضی میں پٹائی کی ہے کہ نہیں کی؟ ادھر دیکھیے بھئی، لَمْ يَضْرِبْ زَيْدٌ، اس لَمْ نے کیا بتلایا؟ زید نے ماضی میں پٹائی نہیں کی۔ لَمَّا يَضْرِبْ زَيْدٌ، اس کا بھی یہی معنیٰ ہے کہ زید نے ماضی میں پٹائی نہیں کی۔ دونوں ماضی میں اس فعل کی نفی کر دیتے ہیں۔ لیکن لَمَّا کے اندر امید ہوتی ہے کہ آگے چل کے وہ کرے گا۔ تو لَمْ يَضْرِبْ زَيْدٌ، اس میں امید نہیں۔ لَمْ يَضْرِبْ زَيْدٌ، زید نے پٹائی نہیں کی۔ اور لَمَّا يَضْرِبْ زَيْدٌ، زید نے ابھی تک پٹائی نہیں کی، کیا معنیٰ؟ یعنی امید ہے، آگے چل کے وہ پٹائی کرے گا۔ تو لَمَّا میں یہ فرق ہے کہ اس میں امید ہوتی ہے۔ لَمْ بھی ماضی منفی کا معنیٰ ادا کرتا ہے، اور لَمَّا بھی ماضی منفی کا معنیٰ ادا کرتا ہے، لیکن فرق کیا ہے کہ لَمَّا کے اندر امید ہوتی ہے اس فعل کی۔ تو کہتے ہیں: لَمَّا هم مثلِ لَمْ عمل کند لفظاً ومعناً، اور لَمَّا بھی جو ہے وہ لَمْ کی طرح عمل کرتا ہے لفظوں کے اعتبار سے و معناً اور معنیٰ کے اعتبار سے۔ چون لَمَّا يَفْعَلْ، هنوز نکرد۔ هنوز، ابھی، ابھی۔ تو هنوز نکرد، ابھی تک نہیں کیا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ هنوز کا کیا معنیٰ؟ ابھی۔ هنوز، ابھی، هنوز نکرد، ابھی تک نہیں کیا ہے۔ وإِنْ ولامِ امر ولاءِ نہی هم مثلِ لَمْ عمل کنند۔ اور إِنْ اور لامِ امر اور لائے نہی بھی لَمْ کی طرح عمل کرتے ہیں۔ یعنی لفظوں میں۔ لَمْ کیا عمل کرتا تھا؟ پانچ صیغوں میں جزم، سات صیغوں سے نونِ اعرابی گرا دیتا، اور دو صیغوں میں عمل نہیں کرتا تھا۔ یہ إِنْ بھی اسی طرح کرتا ہے۔ لامِ امر، لِيَضْرِبْ، یہ بھی اسی طرح کرتا ہے۔ اور لائے نہی، لَا تَضْرِبْ، یہ لَا بھی اسی طرح عمل کرتے ہیں۔ إِنْ بھی اسی طرح عمل کرتا ہے۔ إِنْ یاد رکھیے شرط کے لیے آتا ہے۔ کس کے لیے؟ شرط۔ إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ۔ إِنْ تَضْرِبْ، اگر تو پٹائی کرے گا، أَضْرِبْ، تو میں بھی پٹائی کروں گا۔ تو یہ جو إِنْ ہے نا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حرفِ شرط۔ اور یہ دو جملوں پر داخل ہوتا ہے۔ ایک کو کیا کہتے ہیں؟ شرط، اور دوسرے کو جزا۔ إِنْ تَضْرِبْ، اگر تو پٹائی کرے گا، أَضْرِبْ، تو میں بھی، تو یہاں ایک شرط ہو گی ہمیشہ اور ایک جزا ہو گی، جزا ہو گی۔ تو إِنْ کو کیا کہتے ہیں؟ حرفِ شرط، اور یہ فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے۔ إِنْ تَضْرِبْ، دیکھا تَضْرِبُ تھا، اب إِنْ کی وجہ سے میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ تَضْرِبْ۔ اور آگے کیا تھا؟ أَضْرِبُ، اس کو میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ أَضْرِبْ۔ تو إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو توجہ، ادھر دیکھیے بھئی! إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ، یہ إِنْ جب فعلِ مضارع پر داخل ہو گا تو جزم دے گا۔ اور اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے شرط، ایک ہے جزا۔ توجہ ہے؟ إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ۔ یہ تَضْرِبْ کیا ہے؟ یہ شرط ہے: إِنْ تَضْرِبْ، اگر تو پٹائی کرے گا۔ أَضْرِبْ، یہ کیا ہے؟ جزا۔ تو پہلا کیا جس پر داخل ہوا وہ؟ شرط، اور دوسرا؟ جزا۔ اب یہ فعلِ مضارع کو کب جزم دے گا؟ تو یاد رکھو، اگر شرط اور جزا دونوں مضارع ہوں، کیا ہوں؟ دونوں مضارع ہوں، تو یہ دونوں کو جزم دے دے گا۔ جیسے ابھی میں نے مثال دی: إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ، دیکھو دونوں کو جزم دیا ہے۔ اور اگر دونوں میں سے ایک مضارع ہو اور ایک مضارع نہ ہو، پھر؟ تو کہتے ہیں پھر اس کا ضابطہ یاد رکھو کہ پھر شرط میں تو عمل ضرور کرے گا۔ مثلاً: إِنْ تَضْرِبْ ضَرَبْتُكَ۔ اگر تو مارے گا تو میں بھی تجھے ماروں گا۔ إِنْ تَضْرِبْ ضَرَبْتُكَ، اگر تو مارے گا تو میں بھی تجھے ماروں گا۔ میں بھی تجھے ماروں گا۔ اب دیکھو شرط ہے مضارع، اور جزا ہے ماضی۔ توجہ ہے؟ إِنْ تَضْرِبْ، یہ تَضْرِبْ کیا ہے؟ مضارع۔ اور جزا کیا ہے؟ ضَرَبْتُكَ، ماضی۔ تو اگر شرط، اگر شرط جو ہے وہ مضارع ہو، تو إِنْ کے قریب ہے۔ إِنْ ساتھ جڑا ہوا ہے نا، تو پھر إِنْ فوراً عمل کرے گا اور اس کو جزم دے دے گا۔ إِنْ تَضْرِبْ ضَرَبْتُكَ۔ اور اگر اس کا برعکس ہو، یعنی جزا مضارع ہو۔ إِنْ ضَرَبْتَ أَضْرِبْكَ/أَضْرِبُكَ۔ إِنْ ضَرَبْتَ، پہلے کو میں نے ماضی بنا دیا، اور دوسرے کو مستقبل ہی رکھا۔ أَضْرِبْ، إِنْ ضَرَبْتَ أَضْرِبْ۔ اب، توجہ ہے؟ اب إِنْ جو ہے، إِنْ کے قریب ہے ماضی، إِنْ کے قریب ہے۔ اور مضارع اس سے دور ہے، تو اس میں دونوں صورتیں جائز ہیں۔ آپ اس میں جزم پڑھ لیں، وہ بھی جائز، اور رفع پڑھ لیں، وہ بھی جائز۔ تو کیسے پڑھیں گے؟ إِنْ ضَرَبْتَ أَضْرِبُ، میں نے رفع پڑھا۔ إِنْ ضَرَبْتَ أَضْرِبُ، اور چاہیں تو جزم پڑھ لیں: إِنْ ضَرَبْتَ أَضْرِبْ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو إِنْ کیا کرتا ہے؟ فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ حرفِ شرط۔ یہ شرط اور جزا پر داخل ہوتا ہے۔ دو جملے ہوتے ہیں، ایک شرط اور ایک جزا۔ تو اگر—شرط اور جزا دونوں کیا ہوں؟ مضارع ہوں۔ پھر دونوں کو جزم دے گا۔ پھر دونوں کو جزم دے گا۔ اور اگر صرف شرط مضارع ہے، تو پھر بھی اس کو ضرور جزم دے گا۔ اور اگر صرف جزا کیا ہے؟ مضارع ہے، پھر اس میں دونوں اختیار ہیں۔ اپ چاہیں تو جزم دے دیں، اپ چاہیں تو رفع دے دیں، پڑھ لیں، جزم نہ دیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ و لام امر ہے، آگے کتاب میں دیکھیے: اِن و لام امر۔ لام امر بھئی، وہی امر کے صیغوں میں آپ نے پڑھا۔ تو اِن جو ہے، اسی طرح لام امر ہے۔ کیا ہے؟ لام امر ہے۔ لام امر بھی مثلِ لم عمل کند، یہ بھی کس کی طرح عمل کرتا ہے؟ لم کی طرح عمل کرتا ہے۔ کس کی طرح؟ لم کی طرح عمل کرتا ہے۔ یعنی جیسے لم کیا کرتا تھا؟ پانچ صیغوں میں جزم دیتا ہے، سات صیغوں سے نونِ اعرابی گرا دیتا ہے، اور دو صیغوں میں عمل نہیں کرتا۔ تو اب ذرا مضارع پر لامِ امر لاؤ: لِیَضْرِبْ۔ یَضْرِبُ ہے نا، اس پر لامِ امر لاؤ: لِیَضْرِبْ، لِیَضْرِبَا، لِیَضْرِبُوا، لِتَضْرِبْ، لِتَضْرِبَا، لِیَضْرِبْنَ، لِتَضْرِبْ، لِتَضْرِبَا، لِتَضْرِبُوا، لِتَضْرِبِی، لِتَضْرِبَا، لِتَضْرِبْنَ، لِاَضْرِبْ، لِنَضْرِبْ۔ لیکن اس میں یاد رکھو، یہ معروف کے صیغے ہیں، معروف کے صیغے۔ معروف کے صیغوں میں حاضر کے لیے لِتَضْرِبْ نہیں استعمال ہوتا، اِضْرِبْ استعمال ہوتا ہے بغیر لام کے۔ مخاطب کے صیغوں میں کیا گردان تھی امر کی؟ اِضْرِبْ، اِضْرِبَا، اِضْرِبُوا، اِضْرِبِی، اِضْرِبَا، اِضْرِبْنَ۔ تو یہاں لِتَضْرِبْ، یہ صیغے نہیں آئیں گے، تو باقیوں میں لام آئے گا۔ مخاطب، مخاطب کے صیغوں میں لامِ امر نہیں آئے گا، معروف کے صیغوں میں۔ لہٰذا مخاطب کے صیغے نکال دو، اب پھر گردان پڑھو: لِیَضْرِبْ، لِیَضْرِبَا، لِیَضْرِبُوا، لِتَضْرِبْ، لِتَضْرِبَا، لِیَضْرِبْنَ، لِاَضْرِبْ، لِنَضْرِبْ۔ دیکھا؟ وہ مخاطب کے صیغے نکل گئے یا نہیں نکل گئے؟ ان کے ساتھ لامِ امر نہیں آتا، معروف میں۔ مجہول میں سب کے اندر آئے گا۔ کیا؟ مجہول میں سب کے اندر لامِ امر آئے گا بھئی۔ آپ نے بھی گردانوں میں پڑھا یا نہیں؟ لِیُضْرَبْ، لِیُضْرَبَا پڑھا یا نہیں پڑھا؟ پڑھا ہے۔ لِیُضْرَبْ تو آپ نے وہاں پڑھا، لیکن لِتَضْرِبْ آپ نے وہاں نہیں پڑھا کیونکہ مخاطب کے صیغوں میں، حاضر مخاطب معروف کے صیغوں میں لامِ امر نہیں آتا، وہاں خود امر کا صیغہ آ جاتا ہے: اِضْرِبْ، اِضْرِبَا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور مجہول کے صیغوں میں سب میں لامِ امر آتا ہے۔ لہٰذا مجہول کی گردان مضارع پر، مضارع مجہول بھئی: یُضْرَبُ، یُضْرَبُ۔ اس پر لامِ امر لے آؤ، اور اب پوری گردان کریں گے: لِیُضْرَبْ، لِیُضْرَبَا، لِیُضْرَبُوا، لِتُضْرَبْ، لِتُضْرَبَا، لِیُضْرَبْنَ، لِتُضْرَبْ، لِتُضْرَبَا، لِتُضْرَبُوا، لِتُضْرَبِی، لِتُضْرَبَا، لِتُضْرَبْنَ، لِاُضْرَبْ، لِنُضْرَبْ۔ تو وہاں ہم نے ابواب الصرف میں حاضر کے صیغے الگ کر دیے تھے اور غائب کے صیغے الگ کر دیے تھے۔ تو بہرحال، چاہے ملا کر یاد کریں ان کو، چاہے الگ یاد کریں، تو دونوں طرح لامِ امر جو ہے مجہول کے تمام صیغوں میں آتا ہے بھئی۔ و لاۓ نہی ہم مثلِ لم عمل کند۔ تو کہتے ہیں: و لاۓ نہی ہم مثلِ لم عمل کند، اور لاۓ نہی بھی اسی طرح عمل کرتا ہے۔ وہ بھی کیا کرتا ہے؟ پانچ صیغوں میں جزم دے گا، اور سات صیغوں سے نونِ اعرابی گرا دے گا، اور دو صیغوں میں کوئی عمل نہیں کرے گا۔ اسی طرح مضارع پر ذرا لاۓ نہی لے آؤ: لَا یَضْرِبْ، لَا یَضْرِبَا، لَا یَضْرِبُوا، لَا تَضْرِبْ، لَا تَضْرِبَا، لَا یَضْرِبْنَ، لَا تَضْرِبْ، لَا تَضْرِبَا، لَا تَضْرِبُوا، لَا تَضْرِبِی، لَا تَضْرِبَا، لَا تَضْرِبْنَ، لَا اَضْرِبْ، لَا نَضْرِبْ۔ غور کیا آپ نے؟ وہاں آپ نے ابواب میں تو دو حصے کر دیے تھے، حاضر کے صیغے الگ کر دیے تھے اور غائب کے صیغے، یہاں پوری گردان آپ اسی طرح پڑھ لیں۔ تو وہی عمل کرے گا۔ اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: و اِن و لامِ امر و لاۓ نہی ہم مثلِ لم عمل کنند۔ اِن اور لامِ امر اور لاۓ نہی بھی لم کی مثال، لم کی طرح عمل کرتے ہیں۔ اِن یَفْعَلْ، اِن یَفْعَلَا تا آخر، آخر تک۔ معروف و مجہول باید گردانید، اس کو معروف اور مجہول اس کی گردان کر لینی چاہیے۔ یہ جو اِن یَفْعَلْ، اِن یَفْعَلَا اور اِن یُفْعَلْ اور اِن یُفْعَلَا۔ اچھا آگے دیکھیے بھئی: لامِ امر در جمیعِ صیغہاۓ مجہول می آید۔ لامِ امر جو ہے، ابھی جو میں نے بات بیان کی بھئی: لامِ امر در جمیعِ صیغہاۓ مجہول می آید، مجہول کے سارے صیغوں میں آتا ہے۔ لِیُضْرَبْ سے لے کر لِنُضْرَبْ تک سارے صیغوں میں لامِ امر آیا تھا مجہول کے صیغوں میں۔ و در معروف در غیرِ صیغہاۓ حاضر۔ اور معروف کے میں حاضر کے صیغوں کے علاوہ میں آتا ہے۔ و در معروف، اور معروف کے صیغوں میں، اور معروف میں در غیرِ صیغہاۓ حاضر، حاضر کے صیغوں کے علاوہ میں، علاوہ میں آتا ہے۔ و لاۓ نہی در ہمہ صیغہا می آید، اور لاۓ نہی جو ہے، وہ تمام صیغوں میں آتا ہے۔ ہمہ؟ سب، سب۔ صیغہا؟ صیغہ کی جمع ہے صیغہا۔ ایک جمع اوپر آئی تھی: صیغ، صیغ۔ صیغہ کی جمع صیغ، یہ عربی میں ہے۔ صیغ، عربی کا لفظ استعمال کیا۔ عربی کے الفاظ عام استعمال ہوتے ہیں فارسی کے اندر بھی۔ خود فارسی کے اندر صیغہ کی، کسی لفظ کی جمع بنانی ہو، تو اس کے آخر میں 'ہا' بڑھا دیتے ہیں: صیغہا، کتابہا، قلمہا۔ تو یہ 'ہا' فارسی میں جمع کے لیے لاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: و لاۓ نہی در ہمہ صیغہا می آید، اور لاۓ نہی جو ہے وہ تمام صیغوں کے اندر آتی ہے۔ کیسے تھا؟ لَا یَضْرِبْ، لَا یَضْرِبَا، لَا یَضْرِبُوا، لَا تَضْرِبْ، لَا تَضْرِبَا، لَا یَضْرِبْنَ، لَا تَضْرِبْ، لَا تَضْرِبَا، لَا تَضْرِبُوا، لَا تَضْرِبِی، لَا تَضْرِبَا، لَا تَضْرِبْنَ، لَا اَضْرِبْ، لَا نَضْرِبْ۔ یہ تمام صیغوں میں آتی ہے۔ حسبِ بیانِ محققین صیغہاۓ امرِ مجہول بالام را و ہم صیغہاۓ نہی را متفرق کردن پسندیدہ نیست۔ اب توجہ سے سنو بھئی۔ کہتے ہیں: حسبِ بیانِ محققین، حسب کا معنی مطابق۔ حسبِ بیانِ محققین، محققین علماء کے بیان کے مطابق، ان کا بیان کیا ہے؟ وہ کیا فرماتے ہیں؟ کہتے ہیں: صیغہاۓ امرِ مجہول بالام را، امرِ مجہول بالام کے صیغوں کو، توجہ ہے؟ کون سے صیغے؟ امر مجہول بالام۔ کون سے تھے؟ لِیُضْرَبْ، لِیُضْرَبَا، لِیُضْرَبُوا، آخر تک بھئی۔ امر مجہول بالام، مجہول کے صیغے ہوں اور بالام ہوں۔ ان کے صیغوں کو، و ہم صیغہاۓ نہی را، اور اسی طرح نہی کے صیغوں کو متفرق کردن پسندیدہ نیست، ان کو متفرق کرنا، جدا کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔ کیا فرماتے ہیں؟ کہتے ہیں علماءِ محققین جو ہیں، یعنی جو بڑے علماء ہیں، وہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ امر بالام، امرِ مجہول بالام جو ہے، توجہ ہے؟ امرِ مجہول بالام، جس میں لام آ رہا ہے۔ اور نہی کے صیغوں کو علیحدہ کرنا پسندیدہ نہیں، جہاں ایک گردان ذکر کریں، وہاں ساتھ ہی دوسری بھی کریں۔ جہاں امرِ مجہول بالام ذکر کریں، کیا ذکر کریں؟ امرِ مجہول بالام ذکر کریں، وہیں پر نہی کے صیغوں کو بھی ذکر کرنا چاہیے۔ محققین علماء کیا فرماتے ہیں؟ جہاں امرِ مجہول بالام کے صیغوں کو ذکر کریں، وہاں نہی کے صیغوں کو بھی وہیں ان کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے، ان کو علیحدہ کرنا پسندیدہ نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ علماءِ محققین کی بات ذکر کر رہے ہیں صاحبِ علم الصیغہ۔ فرماتے ہیں کہ علماءِ محققین فرماتے ہیں کہ ایک گردان کس کی ہے؟ لاۓ نہی والی ہے۔ اور ایک گردان کون سی ہے؟ امرِ مجہول بالام۔ ان دونوں گردانوں کو علیحدہ کرنا پسندیدہ نہیں، یعنی یہ بہتر نہیں ہے، ان دونوں کو اکٹھا ذکر کرنا چاہیے، ایک دوسرے کے پاس ہی۔ جہاں نہی ذکر کریں، وہیں پر کیا ذکر کر دو؟ امرِ مجہول بالام، یا یوں کہو جہاں امرِ مجہول بالام ذکر کرو، اس کے ساتھ ہی کس کی گردان ذکر کر دو؟ نہی کی، کیونکہ دونوں ایک جیسی ہیں۔ دونوں جزم دے رہی ہیں، دونوں جزم دیتے ہیں فعلِ مضارع کو؟ دونوں ایک جیسی ہیں، لہٰذا دونوں کو کیا کرو؟ اکٹھا ذکر کرنا چاہیے، اکٹھا۔ پھر سنو، کہتے ہیں: حسبِ بیانِ محققین صیغہاۓ امرِ مجہول بالام را و ہم صیغہاۓ نہی را متفرق کردن پسندیدہ نیست۔ حسبِ بیانِ محققین، علماءِ محققین کے بیان کے مطابق، حسب کا کیا معنیٰ؟ مطابق۔ علماءِ محققین کے بیان کے مطابق صیغہاۓ امرِ مجہول بالام، امرِ مجہول بالام بھئی دیکھو ادھر، آپ نے پڑھ لیا، ایک ہے امرِ حاضر اور ایک امر بالام ہے۔ امرِ حاضر: اِضْرِبْ، اِضْرِبَا، اِضْرِبُوا، اِضْرِبِی، اِضْرِبَا، اِضْرِبْنَ۔ اور پھر معروف کے کچھ صیغوں میں بھی لام آتا ہے۔ اور وہ، تو چھ صیغے تو حاضر کے ہو گئے: اِضْرِبْ، اِضْرِبَا، اِضْرِبُوا، اِضْرِبِی، اِضْرِبَا، اِضْرِبْنَ۔ تو چودہ میں سے چھ صیغے نکل گئے، باقی کتنے رہ گئے؟ اٹھارہ؟ ان آٹھ صیغوں میں لام آتا ہے، وہ معروف کے صیغے ہیں ان میں لام آتا ہے۔ اور کیا ہے؟ لِیَضْرِبْ، لِیَضْرِبَا، لِیَضْرِبُوا، لِتَضْرِبْ، لِتَضْرِبَا، لِیَضْرِبْنَ، لِاَضْرِبْ، لِنَضْرِبْ۔ ان میں لام آتا ہے، تو یہ ہوا امرِ معروف بالام۔ یہ کیا ہے؟ امرِ معروف بالام۔ اور مجہول کے تو سارے صیغوں میں لام آتا ہے امر کے۔ اور وہ مضارع کی گردان کیسے ہے؟ مضارع کیا ہے مجہول؟ یُضْرَبُ، یُضْرَبَا، یُضْرَبُونَ۔ اسی پر لامِ امر لے آؤ: لِیُضْرَبْ، لِیُضْرَبَا، لِیُضْرَبُوا، لِتُضْرَبْ، لِتُضْرَبَا، لِیُضْرَبْنَ، لِتُضْرَبْ، لِتُضْرَبَا، لِتُضْرَبُوا، لِتُضْرَبِی، لِتُضْرَبَا، لِتُضْرَبْنَ، لِاُضْرَبْ، لِنُضْرَبْ۔ تو معلوم ہوا امرِ معروف بھی بالام آتا ہے اور امرِ مجہول بھی بالام۔ البتہ امرِ معروف میں حاضر کے چھ صیغے وہ بے لام ہیں۔ اور باقی معروف امرِ معروف جو ہے وہ، یعنی امرِ معروف بالام، اس کے صرف کتنے صیغے ہیں؟ آٹھ ہیں، آٹھ ہیں، آٹھ۔ اور مجہول میں چودہ کے چودہ صیغوں کے ساتھ لامِ امر آتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں علماءِ محققین فرماتے ہیں کہ یہ جو امرِ مجہول بالام ہے، اس کو اور نہی کے صیغوں کو علیحدہ کرنا پسندیدہ نہیں، ان کو اکٹھا ذکر کرو۔ ان کو کیا کرو؟ یعنی جہاں پر امرِ مجہول بالام ہو، وہیں پر نہی کی بھی گردان ذکر کرو۔ کیونکہ دونوں جزم دے رہے ہیں، دونوں جزم دیتے ہیں، لامِ امر بھی جزم دیتا ہے اور نونِ اعرابی کو گرا دیتا ہے، اور لاۓ نہی بھی کیا کرتا ہے؟ جزم دیتا ہے اور نونِ اعرابی کو گرا دیتا ہے۔ تو لہٰذا جہاں پر امرِ مجہول بالام، توجہ ہے؟ امرِ مجہول بالام کی گردان ہو، وہیں پر لاۓ نہی کی بھی گردان ہو۔ یا یوں کہو جہاں لاۓ نہی کی گردان ہو، وہاں امرِ مجہول بالام کی بھی گردان ہو۔ ان کو جدا کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔ دراصل مصنف بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ محققین نے تو یہ کہا ہے کہ ان دونوں کو علیحدہ کرنا پسندیدہ نہیں، لیکن میں نے علیحدہ کر دیا۔ کیا کریں گے؟ مصنف یہاں پر لاۓ نہی کی گردان تو ذکر کریں گے، لیکن امرِ مجہول یا امرِ مجہول بالام کو یہاں پر ذکر نہیں کریں گے۔ ابھی کیا بتا رہے ہیں؟ علماءِ محققین کیا فرماتے ہیں؟ امرِ مجہول بالام کو کس کے ساتھ ذکر کرو؟ نہی کے ساتھ ذکر کرو، جہاں نہی ہو وہاں امر مجہول، باللام بھی ہو۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہونا چاہیے تھا۔ یہاں میں نہی کی گردان ذکر کرنے لگا ہوں۔ نہی کو مضارع کے ساتھ میں ذکر کر رہا ہوں، لم... کیونکہ اس کی لم کے ساتھ مناسبت ہے، لم جزم دیتا ہے، لاۓ نہی بھی کیا کرتا ہے؟ جزم دیتا ہے۔ تو میں یہاں لاۓ نہی کی گردان ذکر کروں گا۔ اور مجھے امر مجہول باللام کو بھی ذکر کرنا چاہیے، وہ بھی کیا کرتا ہے؟ جزم دیتا ہے۔ اور علماء محققین کیا فرماتے ہیں؟ اس کو بھی لاۓ نہی کے ساتھ ذکر کرو۔ لہٰذا جب میں لاۓ نہی ذکر کر رہا ہوں، تو مجھے لام امر مجہول کو بھی یہاں ذکر کرنا چاہیے۔ لیکن میں اس کو یہاں ذکر نہیں کروں گا۔ کیوں؟ کیونکہ آگے امر کی بحث آ رہی ہے۔ امر فعل کی تیسری مستقل قسم ہے بھئی، فعل کی تین قسمیں ہیں: ماضی، مضارع اور امر۔ کتنی قسمیں ہیں؟ تین: ماضی، مضارع اور امر۔ اس وقت مضارع کی بحث چل رہی ہے۔ ماضی کی بحث ہم نے کل، پرسوں پڑھ لی تھی۔ یہ مضارع کی بحث ہے۔ اور تو علماء محققین فرماتے ہیں مضارع کی بحث کے اندر ہی کیا کرو؟ لاۓ نہی اور لام امر مجہول کو بھی اکٹھا رکھو، ان کو جدا نہ کرو۔ لیکن میں یہاں لاۓ نہی کی گردان تو ذکر کروں گا، لیکن لام امر چاہے مجہول ہو، چاہے معروف ہو... لام امر مجہول کے چودہ صیغے، اور لام امر معروف کے آٹھ صیغے۔ توجہ ہے؟ امر حاضر کے چھ صیغے، اور امر معروف باللام کے آٹھ صیغے، اور امر مجہول باللام کے چودہ صیغے۔ تو امر مجہول باللام اور لاۓ نہی کو کیا کرنا چاہیے؟ اکٹھا رکھنا چاہیے۔ تو لیکن میں یہاں صرف کس کو ذکر کروں گا؟ لاۓ نہی کو ذکر کروں گا۔ لاۓ نہی کو ذکر کروں گا، اور باقی امر کا ذکر آگے علیحدہ آ رہا ہے۔ یہ مضارع کی بحث چل رہی ہے، آگے امر کی بحث آئے گی۔ وہاں امر حاضر آئے گا، تو امر حاضر معروف کے ساتھ میں امر باللام بھی وہیں ذکر کروں گا۔ امر باللام کو بھی وہیں ذکر کروں گا۔ وہ سارے، چاہے امر باللام معروف ہو یعنی آٹھ صیغے، یا امر باللام مجہول ہو یعنی چودہ صیغے، ان سب کو میں کہاں ذکر کروں گا؟ وہاں امر کی بحث میں ذکر کروں گا، کیونکہ ان کی امر کے ساتھ مناسبت ہے، وہ امر کے صیغے ہیں، امر کہلاتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا کہنا چاہتے ہیں مصنف؟ کہ یہاں لاۓ نہی کے ساتھ ساتھ مجھے امر باللام مجہول کو بھی ذکر کرنا چاہیے تھا، لیکن میں امر باللام سارے کو اٹھا کر کہاں ذکر کروں گا؟ امر کے صیغوں میں، امر کی بحث میں، کیونکہ اس کی امر کے ساتھ کیا ہے؟ مناسبت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو درمیان میں علماء محققین کا قول ذکر کریں گے کہ علماء محققین بھی یہی فرماتے ہیں کہ ان کو اکٹھا ذکر کرنا چاہیے، لیکن چونکہ امر کی علیحدہ قسم ہے اور باللام کی اس کے ساتھ مناسبت ہے امر باللام کی، تو جہاں امر ذکر ہوگا، وہاں امر باللام کو بھی میں ذکر کروں گا۔ باقی نہی کے صیغوں کو میں یہی ذکر کرتا ہوں بھئی۔ بحث سمجھ میں آ گئی؟ اب ترجمہ دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: "حسب بیان محققین" محققین کے بیان کے مطابق۔ حسب کا معنیٰ: مطابق۔ محققین یعنی علماء محققین کے قول کے مطابق: "صیغہ ہاۓ امر مجہول باللام را و ہم صیغہ ہاۓ نہی را متفرق کردن پسندیدہ نیست"۔ کہ امر مجہول باللام کے صیغوں کو اور نہی کے صیغوں کو بھی جدا کرنا... "و ہم" کا معنیٰ کیا ہے؟ ہم یعنی بھی، یعنی اسی طرح۔ اسی طرح یہاں ترجمہ کر لیں "ہم" کا: اسی طرح۔ علماء محققین کے بیان کے مطابق، امر مجہول باللام کے صیغوں کو، "و ہم صیغہ ہاۓ نہی را" اور اسی طرح نہی کے صیغوں کو، "متفرق کردن پسندیدہ نیست" ان کو جدا کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔ ان کو اکٹھا ذکر کرنا چاہیے۔ "مثل بحث لم" لم کی بحث کی طرح، "ابحاث اینہا را ہم باید داشت" ان کی بحثوں کو بھی رکھنا چاہیے۔ لم کی بحث ہم نے کہاں ذکر کی؟ مضارع میں۔ تو لام امر کی بھی بحث کہاں ذکر کرنی چاہیے؟ مضارع میں۔ لاۓ نہی کی بحث بھی کہاں ذکر کرنی چاہیے؟ مضارع میں۔ لیکن میں لام امر کی بحث کہاں ذکر کروں گا؟ امر کے اندر۔ تو کہتے ہیں: "مثل بحث لم" لم کی بحث کی طرح، "ابحاث اینہا" ان کی بحث بھی، یعنی مجہول باللام اور نہی کی بحث کو بھی، "باید داشت" داشتن کا معنیٰ ہوتا ہے رکھنا۔ ان کو بھی رکھنا چاہیے، یعنی ان کو بھی یہاں پر، ان کو بھی یہاں پر رکھنا چاہیے۔ "البتہ تفریق گردان امر معروف ضرور است" البتہ جدا کرنا گردان امر معروف... کس کی گردان؟ امر معروف کی گردان کو جدا کرنا ضروری ہے۔ "چہ امر حاضر ازاں بے لام آید" کہ امر حاضر اس میں سے بغیر لام کے آتا ہے۔ امر معروف بھئی... امر معروف۔ امر معروف دو قسم پر ہیں نا: ایک بے لام، ایک باللام۔ اِضْرِبْ، اِضْرِبَا، اِضْرِبُوا، اِضْرِبِی، اِضْرِبَا، اِضْرِبْنَ، یہ کیا ہے؟ بے لام۔ اور لِیَضْرِبْ، لِیَضْرِبَا، لِیَضْرِبُوا، لِتَضْرِبْ، لِتَضْرِبَا، لِیَضْرِبْنَ، لِأَضْرِبْ، لِنَضْرِبْ، یہ کیا ہے؟ باللام۔ تو امر معروف دو طرح کا ہو گیا: ایک بے لام اور ایک باللام۔ تو جب بے لام یعنی اِضْرِبْ، امر حاضر اس کو علیحدہ ذکر کریں گے، تو باللام کو بھی وہیں پر ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: "البتہ تفریق گردان امر معروف ضرور است" البتہ جدا کرنا امر معروف کی گردان کو ضروری ہے۔ "ضرور است" ضروری ہے۔ "چہ امر حاضر ازاں بے لام آید" اس لیے کیونکہ امر حاضر اس میں سے بغیر لام کے آتا ہے۔ توجہ ہے؟ امر حاضر اس میں سے... کس میں سے؟ امر معروف میں سے۔ امر معروف کے بھی چودہ صیغے ہیں نا؟ چھ بغیر لام کے اور آٹھ لام کے ساتھ۔ اِضْرِبْ، یہ بھی کیا ہے؟ معروف۔ اور لِیَضْرِبْ، یہ بھی کیا ہے؟ معروف۔ تو جب میں نے کہا امر معروف، دونوں آ گئے یا نہیں؟ اِضْرِبْ بھی اس میں آ گیا اور لِیَضْرِبْ بھی آ گیا۔ تو لیکن اس میں سے چھ بے لام ہیں اور آٹھ باللام ہیں۔ یہی بیان کر رہے ہیں کہ: "البتہ تفریق گردان امر معروف ضرور است" البتہ جدا کرنا امر معروف کی گردان کو ضروری ہے۔ "چہ امر حاضر ازاں بے لام آید" اس لیے کیونکہ امر حاضر اس میں سے بغیر لام کے آتا ہے۔ امر حاضر بغیر لام کے آتا ہے، اور امر غائب اور متکلم وہ باللام آتا ہے۔ تو امر حاضر اس میں سے بے لام آتا ہے۔ "و قسم ثالث از فعل است" اور یہ امر حاضر کیا ہے؟ فعل کی تیسری مستقل علیحدہ قسم ہے۔ "پس صیغہ ہاۓ امر علیحدہ نوشتہ خواہد شد" پس امر کے صیغے علیحدہ لکھے جائیں گے۔ نوشتن کا معنیٰ: لکھنا۔ "علیحدہ نوشتہ خواہد شد" امر کے صیغے علیحدہ لکھے جائیں گے، کیونکہ یہ فعل کی باقاعدہ تیسری قسم ہے۔ فعل کی تین قسمیں ہیں: ماضی، مضارع اور امر۔ تو یہ فعل کی تیسری علیحدہ قسم ہے، "پس صیغہ ہاۓ امر علیحدہ نوشتہ خواہد شد" پس امر کے صیغے علیحدہ لکھے جائیں گے۔ "امر باللام" تو امر باللام جو ہے، "ہموں جا" اسی جگہ پر، "بمعرض نگارش خواہد آمد" وہ تحریر میں آ جائے گا۔ معرض نگارش... یہ یعنی تحریر بھئی۔ تحریر میں آنا، لکھنا کسی چیز کو۔ "بمعرض نگارش خواہد آمد" تحریر میں آ جائے گا۔ امر حاضر کو تو علیحدہ لکھا جائے گا۔ کیا، کس کو؟ وہ فعل کی تیسری قسم ہے۔ تو امر حاضر بے لام ہے، اور باقی بھی تو ہیں امر ہی، تو وہ بیشک باللام ہیں۔ تو وہاں اس باللام کی مناسبت کس کے ساتھ ہے؟ بے لام کے ساتھ۔ تو وہیں پر جہاں امر حاضر بے لام ہوگا، وہیں پر امر حاضر باللام کو بھی ہم مناسبت کی وجہ سے وہیں ذکر کریں گے۔ "ہموں جا" اسی جگہ۔ یہ معنیٰ ہے۔ "امر باللام" امر باللام جو ہے، "ہموں جا" اسی جگہ پر، "بمعرض نگارش خواہد آمد" تحریر کے اندر آ جائے گا، یعنی وہاں لکھا جائے گا۔ "للمناسبۃ" کس وجہ سے؟ مناسبت کی وجہ سے، کہ ان کی اس کے ساتھ مناسبت ہے، اس جیسا ہے۔ وہ بھی امر ہے، یہ بے لام بھی امر اور باللام بھی امر ہے۔ آگے کہتے ہیں: "صیغہ ہاۓ نہی اینجا نوشتہ می شود" نہی کے صیغے یہاں پر لکھے جاتے ہیں۔ لا تفعل، لا تفطلا، لا یفعلن، لا تفعلوا، لا تفعلی، لا تفعلن، لا أفعل، لا نفعل۔ بھئی انہوں نے مختصر کر دیا اسی طرح جو صیغہ ایک سے زیادہ دفعہ آئے، اس کو ملا دیتے ہیں۔ جی، آپ سنائیے بھئی۔ ہم نے تو ابواب میں نہی کی گردان کے دو حصے کر دیے تھے: حاضر کے صیغے الگ اور غائب کے صیغے الگ۔ آپ یوں کریں اکٹھا پڑھ لیں۔ اکٹھا کر لیں، جیسے یہ بیان کر رہے ہیں۔ جی، یضرب، اس سے نہی بناؤ۔ لا یضرب، پوری گردان نا، پوری گردان۔ آپ نے تو وہاں پڑھا تھا لا تضرب، لا تضربا، لا تضربوا، لا تضربی، لا تضربا، لا تضربن۔ اور دوسری گردان کیا تھی؟ لا یضرب، لا یضربا، لا یضربوا... تو ان دونوں کو ملا دو، ترتیب سے جیسے مضارع میں ہے اسی ترتیب سے پڑھ دو۔ یضرب، یضربان، اسی پر لاۓ نہی لے آؤ: لا یضرب، لا یضربا، لا یضربوا، لا تضرب، لا تضربا، لا یضربن، لا تضرب، لا تضربا، لا تضربوا، لا تضربی، لا تضربا، لا تضربن، لا اضرب، لا نضرب۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ وہ ہمارا طریقہ ذرا آسان تھا، دو حصے ہو گئے تھے گردان کے: مخاطب والے الگ اور غائب والے الگ۔ تو آپ اکٹھا کر لیں ان کو۔ بحث نہی مجہول، نہی مجہول کی بحث بھئی: لا یفعل، لا یفعلا الیٰ آخرہ، آخر تک بھئی۔ جی، یہ بھی کر لیں مجہول کی۔ لا ینصر، نصر سے کر لیں: لا ینصر، لا ینصرا، لا ینصروا، لا تنصر، لا تنصرا، لا ینصرن، لا تنصر، لا تنصرا، لا تنصروا، لا تنصری، لا تنصرا، لا تنصرن، لا انصر، لا ننصر۔ در فعل مضارع مجزوم بلم و دیگر جوازم، اگر کلمہ لام کلمہ حرف علت باشد، بیفتد۔ اچھا، اب انہوں نے یہاں ناقص کی بات کر دی بھئی۔ ناقص کی بات کر دی۔ آپ تو چونکہ ساری گردانیں پڑھ چکے ہیں، اس لیے آپ کے لیے یہ بات مشکل نہیں ہوگی۔ آپ نے پڑھا ہے ناقص کے اندر، لم کیا کرتا ہے؟ آخر سے حرف علت کو گرا دیتا ہے۔ رما یرمی، یرمی کی گردان سنائیں ذرا: یرمی، یرمیان، یرمون، ترمی، ترمیان، یرمین، ترمی، ترمیان، ترمون، ترمین، ترمیان، ترمین، ارمی، نرمی۔ دیکھو سب آخر میں یا آ رہی ہے عموماً۔ اب اس پر ذرا لم لے آؤ: لم یرم، لم یرمیا، لم یرموا، لم ترم، لم ترمیا، لم یرمین، لم ترم، لم ترمیا، لم ترموا، لم ترمی، لم ترمیا، لم ترمین، لم ارم، لم نرم۔ دیکھا؟ یرمی تھا، جب اس پر لاۓ نہی آیا تو لا یرم، آخر سے یا گر گئی۔ تو آخر میں اگر یا، الف یا واؤ حرف علت ہو، تو یہ جو جزم دینے والے حروف ہیں، یہ اس حرف علت کو گرا دیتے ہیں۔ تو یرمی سے کیا بن گیا؟ لا یرم، اور امر میں لیرم۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور ان کی وجہ سے کیا بن گیا؟ ان یرم، دیکھا یا آخر سے گر گئی۔ نون اعرابی کا تو پہلے ہی بتا دیا وہ گراتا ہے۔ تو بس یہاں صرف یہ بتایا کہ آخر سے حرف علت کو بھی یہ گرا دیں گے۔ اگر آخر میں واؤ ہو، تو واؤ کو بھی یہ گرا دیں گے۔ جیسے: دعا یدعو، یدعو، دیکھا؟ تو جی اس سے بنائیں: لا یدع، دیکھو بس لا یدع، دیکھو واؤ گر گیا۔ اگر آخر میں الف ہو... مضارع ایسا مضارع لاؤ جس کے آخر میں الف ہو: یرمٰی، یرمٰی، مجہول ہے نا، جو بھی لے آؤ بس مثال ہے۔ یرمٰی مجہول ہے۔ جی، اب اس پر ذرا لم لاؤ: لم یرم، دیکھا الف گر گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو چاہے معروف کے صیغے ہوں یا مجہول کے، آخر میں اگر واؤ، الف یا یا، یعنی حروف علت آ جائیں، تو وہ گر جائیں گے۔ تو یرمی سے پر لم داخل کرو، کیا بنا؟ لم یرم۔ لم یرم، میم کے نیچے کیا ہے؟ زیر۔ اب آپ سے کوئی کہے: بھئی، لم تو جزم دیتا ہے، لم یرم، یہاں میم کے نیچے زیر کیوں پڑھ رہے ہو؟تو آپ جواب کر دیں گے کہ یہاں حرفِ علت گر چکا ہے، لم نے جزم دیا ہے بھئی۔ لم یدع۔ آپ کو کوئی کہے کہ عین پر زبر کیوں پڑھ رہے ہو؟ لم تو جزم دیتا ہے۔ آپ کیا کہیں گے؟ یہاں سے الف گر چکا ہے بھئی۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: در فعلِ مضارع مجزوم بلم و دیگر جوازم۔ وہ فعلِ مضارع جو مجزوم ہو، کس کی وجہ سے؟ لم کی وجہ سے اور دیگر جوازم، دوسرے جو جزم دینے والے ہیں۔ وہ فعلِ مضارع اگر لام کلمہ حرفِ علت باشد، اگر اس کا لام کلمہ کیا ہو؟ حرفِ علت ہو، بیفتد تو وہ گر جائے گا۔ بیفتد وہ گر جائے گا۔ افتادن کا معنی گرنا۔ بیفتد وہ گر جائے گا۔ چون لم یدع، اصل میں کیا تھا؟ یدعو، لم ذرا ہٹا دو۔ یدعو، واؤ تھا۔ لم یرم، اصل میں کیا تھا؟ یرمی، یرمی تھا، یا تھی آخر میں۔ و لم یخشَ، اصل میں کیا تھا؟ یخشٰی، الف تھا آخر میں۔ و لما یدع، و إن یدع، و لیَدع، و لا یدع۔ دیکھو، لما کی بھی مثال دے دی، إن کی بھی، لامِ امر کی بھی، اور لاۓ نہی کی بھی، وهکذا اور اسی طرح باقی بھی صیغوں میں ہوگا۔ تو یہ کیا کرتے ہیں؟ یہ جوازم آخر سے حرفِ علت کو گرا دیتے ہیں۔ تو لہٰذا عموماً طلباء ایک دوسرے سے اس طرح کے سوال کرتے ہیں، آپ نے ہمیشہ ذہن میں رکھنا ہے۔ صیغہ جزم والا ہو اور آخر میں حرکت ہو، تو سمجھ جاؤ آخر سے کوئی حرفِ علت گرا ہے۔ جیسے اضرب، امر کے آخر میں کیا آتا ہے؟ جزم۔ لیکن اگر آپ کو کوئی کہے اِرمِ، یہاں تو میم کے نیچے زیر ہے، اور امر تو آخر میں کیا ہوتا ہے؟ مجزوم۔ جب امر، کسی مجزوم صیغے کے آخر میں زبر، زیر یا پیش آ جائے، سمجھ جاؤ وہاں سے کوئی حرفِ علت گرا ہے۔ اگر زیر ہے تو یا گری ہے، اگر زبر ہے تو الف گرا ہے، اور اگر پیش ہے تو واؤ گرا ہے۔ چلیے بس کریں بھئی، بس۔ آئیے بھئی، اب اردو کی کتاب میں سے بھی پڑھ لیں۔ دیکھیے بھئی اردو کی کتاب میں، نفیِ مضارعِ مجہول: لا یفعل إلی آخره، ما یفعل إلی آخره۔ جب مضارع پر "لن" داخل ہوتا ہے، تو یفعل، تفعل، افعل، اور نفعل میں نصب کر دیتا ہے۔ اور یفعلان، تفعلان، یفعلون، تفعلون، اور تفعلین سے نونِ اعرابی کو گرا دیتا ہے۔ اور یفعلن اور تفعلن میں کچھ عمل نہیں کرتا۔ اور مضارعِ مثبت کو نفیِ تاکید استقبال کے معنی میں کر دیتا ہے۔ نفیِ تاکید، تو لن ناصبہ کیا عمل کرتا ہے؟ مضارع میں نفی پیدا کرتا ہے اور اس کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے۔ لن یضرب، کیا ترجمہ کریں گے؟ وہ ہرگز پٹائی نہیں کرے گا، اب حال والا ترجمہ نہیں کر سکتے۔ نفیِ تاکید بلن در فعلِ مستقبلِ معروف بھئی: لن یفعل لن یفعلا لن یفعلوا لن تفعل لن تفعلا لن یفعلن لن تفعلوا لن تفعلی لن تفعلن لن افعل لن نفعل۔ نفیِ تاکید بلن در فعلِ مستقبلِ مجہول: لن یفعل لن یفعلا لن یفعلوا لن تفعل لن تفعلا لن یفعلن لن تفعلوا لن تفعلی لن تفعلن لن افعل لن نفعل۔ أن، کَی، اور إذَن بھی "لن" کی طرح عمل کرتے ہیں۔ یہ أن کیا ہے؟ مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اسے مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے۔ اور کَی کیا ہے؟ کَی سبب بیان کرتا ہے۔ اور إذَن، اس کو حرفِ مکافات اور حرفِ جزا کہتے ہیں، اور یہ جواب پر داخل ہوتا ہے۔ أن کی مثال: أن نضرب، ترجمہ کرو، ہمارا پٹائی کرنا، دیکھا مصدر والا معنی ہو گیا۔ أن کس معنی میں کرتا ہے مضارع کو؟ مصدر کے معنی میں۔ اور کَی سبب بیان کرتا ہے۔ آتیک غداً کی آخذ قلمک۔ کی آخذ قلمک، میں کل آؤں گا آپ کے پاس، کَی آخذ قلمک، تاکہ میں آپ کا قلم لے لوں۔ تو آنے کی وجہ کیا ہے؟ آنے کا سبب کیا ہے؟ قلم کا لینا۔ یا جیسے وہ مثال تھی: اسلمتُ کی ادخل الجنة۔ تو یہ سبب بیان کرتا ہے، اس میں ما بعد جو ہوتا ہے وہ سبب ہوتا ہے کس کے لیے؟ ما قبل کے لیے۔ اور إذَن، یہ حرفِ مکافات ہے، حرفِ جزا ہے، اور یہ جواب میں آتا ہے۔ مثلاً آپ کے ساتھی نے کہا: آتیک غداً، میں کل آپ کے پاس آؤں گا، تو آپ کیا کہتے ہیں؟ إذن اکرمک، دیکھا نصب دے گا، تو پھر میں آپ کا اکرام کروں گا۔ تو یہ کہتے ہیں: أن، کَی اور إذَن بھی لن کی طرح عمل کرتے ہیں۔ أن یفعل، و کی یفعل، و إذن یفعل کی معروف و مجہول گردان کر لینی چاہیے۔ دیکھ رہے ہیں بھئی کتاب پر؟ لم یفعل، و تفعل، و افعل، اور نفعل میں جزم کر دیتا ہے۔ اب لم کا بیان آیا۔ ان صیغوں پر جزم کر دیتا ہے، اور یفعلان، و تفعلان، اور یفعلون، و تفعلون، اور تفعلین سے نونِ اعرابی کو گرا دیتا ہے، اور یفعلن و تفعلن یعنی جمع مؤنث کو اپنے حال پر رہنے دیتا ہے، یعنی اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرتا۔ اور مضارع کو بمعنی ماضیِ منفی کر دیتا ہے۔ بحثِ نفیِ جہد بلم در فعلِ مضارعِ معروف: لم یفعل لم یفعلا لم یفعلوا لم تفعل لم تفعلا لم یفعلن لم تفعلوا لم تفعلی لم تفعلن لم افعل لم نفعل۔ بحثِ نفیِ جہد بلم در فعلِ مضارعِ مجہول۔ میں نے بتلایا تھا یہ لم کے ساتھ بھی نفی والا معنی آتا ہے، تو اس کو نفیِ جہد کہتے ہیں، نفیِ جہد۔ تو بحثِ نفیِ جہد بلم در فعلِ مضارعِ مجہول: لم یفعل لم یفعلا إلی آخره۔ لما بھی لفظاً و معناً لم کی طرح عمل کرتا ہے۔ یعنی لفظوں میں بھی عمل کرتا ہے، یعنی جزم دے گا، یا نونِ اعرابی کو گرا دے گا۔ اور معنی میں بھی عمل کرتا ہے، یعنی مضارع کو ماضی کے معنی میں کر دیتا ہے۔ لیکن فرق لم اور لما میں کیا ہے؟ کہ لما کے اندر امید ہوتی ہے، تو وہاں کیا ترجمہ کریں گے؟ ابھی تک۔ لما یضرب زید، زید نے ابھی تک پٹائی نہیں کی، یعنی ابھی امید ہے اس میں۔ تو کہتے ہیں: لما لفظاً و معناً لم کی طرح عمل کرتا ہے، جیسے لما یفعل لما یفعلا إلی آخره۔ لیکن لم یفعل کے معنی ہیں "نہیں کیا"، اور لما یفعل کے معنی ہیں "ابھی تک نہیں کیا"۔ اور إن، لامِ امر، اور لاۓ نہی بھی لم کی طرح عمل کرتے ہیں، یعنی جزم دیتے ہیں۔ إن یفعل إن یفعلا إلی آخره، معروف و مجہول کی گردان کر لینی چاہیے۔ لامِ امر مجہول کے تمام صیغوں میں آتا ہے، عبارت پر نظر ہے؟ لامِ امر مجہول کے تمام صیغوں میں آتا ہے، اور معروف کے صرف غیرِ حاضر کے صیغوں میں۔ معروف کے صرف، یوں کہو، حاضر کے صیغوں کے علاوہ میں۔ غیر کی جگہ "علاوہ" لے آؤ۔ حاضر کے صیغوں کے علاوہ میں۔ بھئی اضرب اضربا، اس میں لام ہے؟ نہیں، تو حاضر کے صیغوں کے علاوہ میں لامِ امر معروف کے حاضر کے علاوہ کے صیغوں میں آتا ہے۔ اور آگے دیکھیے: اور لاۓ نہی تمام صیغوں میں آتا ہے۔ محققین کے قول کے مطابق امرِ مجہول بالام کے صیغوں اور نہی کے صیغوں کو مضارع سے علیحدہ کرنا پسندیدہ نہیں۔ لم کی بحث کی طرح ان صیغوں کی بحث یہی ذکر کرنی چاہیے تھی۔ لیکن چونکہ امرِ معروف کی گردان جدا ذکر کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس میں سے امرِ حاضر بغیر لام کے آتا ہے، جو فعل کی تیسری مستقل قسم ہے۔ لہٰذا امر کے صیغے علیحدہ لکھے جائیں گے، تو مناسبت کے لیے امر بالام بھی وہی ذکر ہوگا۔ نہی کے صیغے یہاں لکھے جاتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بھئی جہاں مضارع ہو، محققین فرماتے ہیں، امر بالام اور نہی کو بھی اس کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے۔ کس کے ساتھ؟ مضارع کے ساتھ، یعنی لم کی بحث کے ساتھ ہی کس کو؟ امر بالام کو بھی اور نہی کو بھی ذکر کرنا چاہیے۔ لیکن چونکہ امرِ حاضر علیحدہ میں ذکر کروں گا، امرِ حاضر فعل کی تیسری قسم ہے، اس کو میں باقاعدہ علیحدہ ذکر کروں گا۔ تو امر بالام کے صیغے میں وہاں ذکر کروں گا، کس کے؟ وہاں ذکر کروں گا۔ اور نہی کے صیغے البتہ میں یہاں ذکر کر رہا ہوں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ علماءِ محققین کیا فرماتے ہیں؟ کہ امر بالام اور نہی کے صیغوں کو جدا کرنا پسندیدہ نہیں۔ جہاں امر بالام ہو، وہیں پر کیا ہو؟ نہی بھی ہو، یا جہاں پر نہی ہو، وہیں پر کیا ہو؟ امر بالام بھی ہو۔ تو مجھے بھی یوں کرنا چاہیے تھا، لیکن چونکہ امر ایک علیحدہ فعل کی تیسری قسم ہے، تو جہاں میں امر ذکر کروں گا، تو امر بالام کو بھی میں وہی ذکر کر دوں گا، کیونکہ اس کی امرِ حاضر کے ساتھ مناسبت ہے۔ جہاں میں امر ذکر کروں گا وہاں امر بالام کو بھی میں وہی ذکر کروں گا، چاہے معروف ہو چاہے مجہول۔ توجہ ہے؟ سنو، پھر سنو۔ علماءِ محققین فرماتے ہیں کہ امرِ مجہول بالام اور نہی کے صیغوں کو علیحدہ کرنا پسندیدہ نہیں۔ جہاں پر امرِ مجہول بالام ہو، وہیں پر کیا ہو؟ نہی کے بھی صیغے ذکر ہوں۔ لہٰذا یہاں نہی کے بھی صیغے ذکر ہونے چاہئیں اور امرِ مجہول بالام کے صیغے بھی ذکر ہونے چاہئیں۔ تو امر بے لام، اس کو تو میں علیحدہ ذکر کروں گا، کیونکہ وہ فعل کی تیسری قسم ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی امر بالام معروف بھی ذکر ہوگا۔ دیکھیے بھئی کتاب میں، محققین کے قول کے مطابق امرِ مجہول بالام کے صیغوں اور نہی کے صیغوں کو مضارع سے علیحدہ کرنا پسندیدہ نہیں۔ یعنی جہاں امرِ مجہول بالام ہو، وہیں پر نہی بھی ہو، یعنی مضارع کے ساتھ ہی۔ اور لم کی بحث کی طرح ان صیغوں کی بحث یہی ذکر کرنی چاہیے تھی۔ علماءِ محققین کے قول کے مطابق مجھے کیا کرنا چاہیے تھا؟ مضارع کے اندر ہی امرِ مجہول بالام کو بھی ذکر کرنا چاہیے اور نہی کو بھی۔ تو کہتے ہیں: لم کی بحث کی طرح ان صیغوں کی بحث بھی یہی ذکر کرنی چاہیے تھی۔ لیکن چونکہ امرِ معروف کی گردان جدا ذکر کرنا ضروری ہے، کس کی گردان علیحدہ ذکر کرنا؟ امرِ معروف، یعنی اضرب اضربا۔ لیکن چونکہ امرِ معروف کی گردان جدا ذکر کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس میں سے امرِ حاضر بغیر لام کے آتا ہے، جو فعل کی تیسری مستقل قسم ہے۔ تیسری علیحدہ مستقل قسم۔ لہٰذا امر کے صیغے علیحدہ لکھے جائیں گے، تو مناسبت کے لیے امر بالام بھی وہی ذکر ہوگا۔ نہی کے صیغے یہاں لکھے جاتے ہیں۔ بحثِ نہیِ معروف: لا یفعل لا یفعلا لا یفعلوا لا تفعل لا تفعلا لا یفعلن لا تفعلوا لا تفعلی لا تفعلن لا افعل لا نفعل۔ بحثِ نہیِ مجہول: لا یفعل لا یفعلا إلی آخره۔ جو فعلِ مضارع لم یا دوسرے جوازم سے مجزوم ہو، جو بھی فعلِ مضارع کس کے ساتھ مجزوم ہو؟ لم یا دوسرے جوازم سے، یعنی اس پر لما آئے یا اور جزم دینے والی کوئی چیز آ جائے، جیسے إن، اور لاۓ نہی، اور لامِ امر، اور لما، یہ سب جوازم ہیں۔ تو جو فعلِ مضارع لم یا دوسرے جوازم سے مجزوم ہو، اس میں لام کلمہ اگر حرفِ علت ہو تو وہ گر جاتا ہے۔ جیسے لم یدع، و لم یرم، و لم یخش۔ لم یدع سے کیا گرا؟ واؤ۔ و لم یرم، یہاں سے یا۔ و لم یخش، یہاں سے الف گرا۔ و لما یدع، یہاں سے واؤ۔ و لیَدع، یہاں سے بھی واؤ۔ و لا یدع، تو یہ ایک لامِ امر کی مثال بھی دے دی اور لاۓ نہی کی بھی۔ وهکذا اور اسی طرح، باقی بھی باقیوں میں بھی اسی طرح ہوگا۔ جو بھی جازم آئے گا، وہ آخر سے حرفِ علت کو گرا دے گا بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
55 approved lectures · 7 of 55