آگے سبق دیکھیے بھئی۔ مضارع را یازدہ صیغہ است، اثبات فعل مضارع معروف۔
یفعل، یفعلان، یفعلون، تفعل، تفعلان، یفعلن۔ تفعلون، تفعلین، تفعلن، افعل، نفعل۔
بحراکاتِ ثلاثہ عین۔ سے صیغہ اولیٰ برایِ مذکر غائب است، اول واحد، دوم تثنیہ، سوم جمع۔ بعد ازاں سے صیغہ مونث غائب است بہ ہموں وضع۔ مگر دراں تفعل برایِ واحد مذکر حاضر نیز برایِ واحد مذکر حاضر نیز آید، پس آں بجائے دو صیغہ است۔
مضارع کی بحث آگے شروع کر رہے ہیں بھئی۔ پہلے ذرا ماضی کی بحث بھئی۔ ماضی میں انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ماضی میں تیرہ صیغے ہیں۔ اور میں نے وجہ ذکر کی تھی کیونکہ وہاں پر ایک صیغہ دو جگہ پر آ رہا ہے۔ اور وہ کون سا؟ ضربتما کہہ لیں یا فعلتما، جو تثنیہ مذکر حاضر ہے، وہ تثنیہ مونث حاضر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو اس کو ایک شمار کیا، اس اعتبار سے تیرہ صیغے ہیں۔ بہرحال آپ نے جو گردان یاد کرنی ہے، آپ نے اپنے طریقے پر چودہ صیغے ہی یاد کرنے ہیں بھئی۔ اور وہ آپ کو بہترین یاد ہیں بھئی۔
بھئی ذرا ماضی کے صیغوں میں ضمیروں کی پہچان بھی کر لیں۔ میں ماضی کے صیغے بولوں گا، آپ نے مجھے ایک ایک میں ضمیر بتلانی ہے کہ ضمیر کون سی ہے بھئی۔ جی! ضربَ کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ ہوا ضمیر، یعنی واحد مذکر غائب کی۔ ضربَ کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ ہوا۔
ضربا، جو تثنیہ کا صیغہ ہے، اس میں؟ ہما۔ ہاں! شاباش۔ بھئی عموماً طلبہ کو ابتداء میں اساتذہ آسانی کے لیے یہی بتلاتے ہیں کہ ضربا کے اندر ہما ضمیر ہے۔ لیکن اب آپ نے یاد رکھنا ہے، آپ کی بنیاد بن چکی ہے، اب آپ نے یاد رکھنا ہے کہ ضربا اس کے اندر ہما ضمیر نہیں ہے، بلکہ یہ جو الف ہے، یہ ضمیر ہے۔
ضربا، یہ آخر میں کیا جڑا؟ الف۔ یہ الف ضمیر ہے۔ اب اگر آپ سے کوئی پوچھے یہ کون سی ضمیر ہے، تو جو صیغہ ہو وہی بول دیا کرو۔ ضربا کون سا صیغہ ہے؟ تثنیہ، پورا بولو، تثنیہ مذکر غائب۔ جی، تو یہ ضمیر بھی تثنیہ مذکر غائب کی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ضربَ کے اندر ہوا، لیکن ضربا، دیکھو ضربَ کے اندر ہوا اس لیے کہتے ہیں وہاں کوئی حرف ساتھ جڑا ہوا نہیں، ض، ر، ب، یہ تو فعل کا اپنا مادہ ہے بھئی۔ اس کا مصدر کیا ہے؟ ضربٌ، دیکھو ض، ر، ب۔ تو یہ اس کا اپنا مادہ ہے، آگے کوئی حرف جڑا ہی نہیں ہوا، تو اب یہاں پر پھر کہتے ہیں ہوا ضمیر ہے جو اس کے اندر چھپی ہوئی ہے۔
اور ضربا اس کے اندر کہتے ہیں ضمیر اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، چھپی نہیں ہوئی، بارز ہے۔ کیا ہے؟ بارز۔ بارز کا معنی ظاہر۔ وہ جو ضمیر ضربَ کے اندر ضمیر، اس کو کہتے ہیں مستتر۔ مستتر کا کیا معنی؟ چھپی ہوئی۔ وہ ضمیر کیا ہوا، کیا ہے ضربَ کے اندر؟ چھپی ہوئی ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضمیر مستتر۔ کیا کہتے ہیں؟ زبان سے دہرائو بھئی، ضمیر مستتر۔
اور ضربا اس کے اندر مستتر نہیں ہے، یہاں ضمیر بارز ہے۔ بارز کا کیا معنی؟ ظاہر ہے۔ اور یہ ضمیر کیا ہے؟ یہ الف ہے۔ اور الف کون سی ضمیر ہے؟ تثنیہ مذکر غائب۔ یعنی یہ الف وہی جو آپ نے ہما بولا تھا، یہ وہی ہما والا معنی ادا کر رہی ہے۔ الف ضمیر جو ہے اور ہما، دونوں کا معنی کیا ہے؟ ایک ہی ہے۔ لیکن ہما، جب اس کو الگ بولتے ہیں تو ہما بولتے ہیں۔ جب یہ فعل کے ساتھ جڑتی ہے تو اس کی شکل الف والی بن جاتی ہے۔
تو یہ وہی ضمیر ہے لیکن یہ متصل ہے، وہ ہما کیا ہے؟ منفصل۔ اس کے ساتھ کسی اور لفظ کو جوڑنے کی ضرورت ہے؟ نہیں، جوڑنے کی نہیں ضرورت، ہما آپ اکیلا بول رہے ہیں یا نہیں بول رہے؟ لیکن ضربا اس کے اندر یہ کیا ہے؟ الف۔ اب الف کو اکیلا ضمیر کے، ضربا کے بغیر نہیں استعمال کریں گے۔ الف ضمیر ہے تثنیہ مذکر غائب، لیکن جب بھی اس کو استعمال کریں گے، اکیلی نہیں آئے گی، کس کے ساتھ جڑ کے آئے گی؟ فعل کے ساتھ جڑ کے آئے گی۔ تو یہ کیا ہے؟ ضمیر متصل۔ تو الف بھی وہی ضمیر، ہما بھی وہی ضمیر۔ الف بھی تثنیہ مذکر غائب کی ضمیر، ہما بھی تثنیہ مذکر غائب کی ضمیر۔ لیکن الف کون سی ضمیر ہے؟ متصل، اور ہما کون سی ہے؟ منفصل ہے، جدا ہے۔
اور پھر ہوا، ضربَ کے اندر ہوا، وہ کیا ضمیر ہے؟ اس کے اندر چھپی ہوئی ہے، مستتر ہے۔ اور یہ الف کیا ہے؟ بارز ہے، یعنی ظاہر ہے۔ ظاہر ہے۔ اچھا، ضربوا؟ اس، شاباش! اس کے اندر واؤ ہے۔ اس کو آپ پہلے کس سے تعبیر کرتے تھے؟ ہم۔ یاد رکھو، ہم الگ ضمیر ہے، یہ واؤ الگ ضمیر ہے۔ ہاں، دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ ہم کا کیا معنی؟ وہ، وہ سب مرد، یعنی جمع مذکر غائب کے لیے ہے۔ کس کے لیے ہے؟ تو یہ ضربوا میں جو واؤ ہے، یہ بھی کون سی ضمیر ہے؟ جمع مذکر غائب۔ معنی دونوں کا ایک ہے۔ فرق کیا ہے کہ واؤ کیا ہے؟ متصل ہے، جڑی ہوئی ہے۔ اور ہم کیا ہے؟ وہ منفصل ہے۔
آگے ضربت؟ ہاں، یہ آپ نے یاد رکھنا ہے۔ ضربت میں تا ضمیر نہیں ہے بھئی۔ یہ تا تانیث کی علامت ہے۔ جیسے قائمٌ، قائمۃٌ، یہ گول تا کس چیز کی علامت ہے؟ تانیث۔ ضاربٌ کا کیا معنی؟ پٹائی کرنے والا مرد۔ اور ضاربۃٌ کا کیا معنی؟ پٹائی کرنے والی عورت۔ تو جیسے اسم میں گول تا آتی ہے مونث کے لیے، اسی طرح فعل کے اندر یہ لمبی تا آتی ہے کس کے لیے؟ مونث کے لیے۔ اور اس کو گول نہیں لکھتے، ضربت صیغہ آپ نے دیکھا ہے؟ لمبی تا لکھتے ہیں، دو نقطوں والی لمبی تا بھئی۔ تو یہ تانیث کی علامت ہے۔ لیکن یہ صرف کس میں آتی ہے؟ فعل میں۔ اسم میں جو مونث کی علامت تا آتی ہے، وہ گول تا ہے، اسے گول لکھتے ہیں بھئی، اسے لمبا نہیں لکھتے۔
تو ضربت میں یہ تا کیا ہے؟ تانیث کی علامت ہے۔ یہ تا صرف اتنا بتا رہی ہے کہ یہ جو فعل جس کے ساتھ یہ جڑی ہوئی ہے، اس فعل کو کرنے والی ذات کوئی مونث ذات ہے، کوئی مذکر نہیں۔ ضربَ اور ضربت، ضربت، اس کا مطلب ہے یہ پٹائی کسی مونث نے کی ہے۔ لہٰذا مثلاً کہتے ہیں: ضربت ہندٌ، ہند نے پٹائی کی۔ ہند یہ عربی کا، قدیم عربی کا عورتوں کا نام ہے بھئی۔ قدیم عربی میں عام استعمال ہوتا تھا بھئی۔ تو ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا صحابیہ بھی گزری ہیں بھئی۔ تو ہند عربوں میں عام عورتوں کا نام استعمال ہوتا تھا قدیم زمانے میں۔
تو ضربت ہندٌ، یہ ضربت کی تا کیا بتلا رہی ہے؟ کہ یہ ضربَ کا فعل کرنے والی ذات کوئی مذکر نہیں ہے بلکہ مونث ہے۔ پھر اس کے اندر ضمیر کیا ہے؟ ہیَ۔ کیا کہیں گے؟ ہیَ کہیں، ہیَ ضمیر۔
اچھا، ضربتا؟ ضربتا؟ الف۔ ہاں، یہ تا تو وہی والی ہے، ضربت والی ہے۔ واحد مونث تھا نا؟ ضربت واحد مونث، اور ضربتا تثنیہ۔ تو وہی تا ہے ضربتا، اور آخر میں یہ الف ضمیر جڑ گئی۔ اور الف، تو یہ ضربت میں تا کیا تھی؟ ساکن۔ لیکن الف ساتھ جب جڑ گیا، اب الف کیا چاہتا ہے؟ اس سے ماقبل والے حرف پر کیا آنا چاہیے؟ وہ فتحہ آنا چاہیے، اس لیے اس تا پر اب زبر آ گئی۔ تو ضربتا، اب اس میں کون سی ضمیر ہے؟ الف ہے، شاباش۔ اب آپ سے کوئی پوچھے، یہ الف کون سی ضمیر ہے؟ میں نے بتایا جو صیغہ ہے وہ بولو: تثنیہ مونث غائب۔
تو یہ الف اور وہ جو ہما آپ پڑھتے ہیں، تو معلوم ہوا وہی الف مذکر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور وہی الف کس کے لیے؟ تثنیہ، تثنیہ مذکر کے لیے بھی اور تثنیہ مونث غائب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن فرق کیا ہے الف میں اور ہما میں؟ الف کون سی ضمیر ہے؟ متصل ہے، اور ہما کیا ہے؟ منفصل ہے۔
جیسے ضربَ کے اندر ہوا ضمیر کیا ہے؟ مستتر ہے۔ اور ضربا میں الف کیا ہے؟ بارز ہے۔ مستتر، مستتر نہیں پڑھنا بھئی، مستتِر بھئی، مستتِر۔ اب آپ صرفی ہیں، صرفی ہیں۔ استتر یستتر استتاراً فہو مستتِرٌ۔ مستتِر کا معنی ہے چھپی ہوئی، چھپی ہوئی۔ اور مستتَر جس کا معنی ہے چھپایا گیا۔ جس کا معنی کیا ہے؟ چھپایا گیا ہے۔ تو ضمیر اس کے اندر چھپائی نہیں گئی، کوئی آپ نے چھپائی ہے یا کسی اور نے چھپائی ہے؟ نہیں، اس کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ تو مستتِر ہے۔
تو ضربَ کے اندر ہوا ضمیر مستتِر۔ ضربا کے اندر الف ضمیر بارز اور متصل۔ اور ضربوا کے اندر واؤ ضمیر بارز اور متصل۔ اچھا، اور ضربت میں؟ ہیَ ضمیر کون سی ہے؟ مستتِر ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ مستتِر ہے۔
اور ضربتا میں؟ الف ضمیر بارز، متصل ہے۔ دہراتے جاؤ، زبان سے دہرائو بھئی، میں یہ آپ کے لیے بار بار تکرار کروا رہا ہوں۔ ضربتا میں الف ضمیر بارز متصل۔
ضربنَ؟ نون، نون۔ نون ضمیر۔
یہ جو ایک حرف ہوتا ہے نا، اس کا نام لیتے ہیں جو الف با تا میں۔ ضربتا، نہیں، دوبارہ سنو! ضربَ کے اندر کون سی ضمیر؟ ہوا۔ ضربا میں؟ الف۔ اس کو الف پڑھیں گے، آ نہیں پڑھیں گے کہ آ ضمیر ہے۔ پڑھتے تو ضربا۔ اسی زبر کو میں نے کھینچا ہے یا نہیں کھینچا؟ لیکن آ یہ ضمیر ہے، یوں نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ کیونکہ جب ایک کلمہ ہو، کلمہ کسے کہتے ہیں؟ ہاں، یہ با معنی لفظ یاد رکھو۔ کلمہ کسے کہتے ہیں؟ با معنی لفظ کو کہتے ہیں۔ اور یہ الف اس کا کوئی معنی ہے یا نہیں؟ ضربا، ضمیر ہے نا، ضمیر کا کوئی معنی ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ جب معنی ہے تو یہ کیا ہوا؟ کلمہ۔ اور جو بھی کلمہ یاد رکھو، ایک حرف پر مشتمل ہو، تو اس کا نام لینا ہو تو وہ نام لیتے ہیں جو حروفِ تہجی میں اس کا نام تھا۔ اور حروفِ تہجی میں اس حرف کو کیا کہتے ہیں؟ یہ جو سیدھا اوپر سے نیچے کی طرف لکھا جاتا ہے، اس کو الف کہتے ہیں، تو الف کہیں گے۔
ضربوا میں یہ جو ساتھ جڑا ہے، اس کو الف یہ اس واؤ کا کچھ معنی ہے یا نہیں؟ معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ کلمہ۔ با معنی لفظ۔ اور جو کلمہ کتنے حروف پر مشتمل ہو؟ اس واؤ کا کچھ معنی ہے یا نہیں؟ اس کا کیا معنی ہے؟ ضمیر ہے، وہ سب مرد، وہ سب مرد۔ جو کلمہ کتنے حروف پر مشتمل ہو؟ واؤ ہے نا، صرف واؤ ہے۔ ضربا میں صرف کیا تھا؟ الف۔ ضربَ کے اندر کیا تھا؟ ہوا، وہاں تو ہا اور واؤ دو حروف تھے، ہوا، ہوا۔ یہاں تو صرف کیا ہے؟ الف۔ یا صرف کیا ہے؟ واؤ۔ اور ان کا معنی بھی ہے۔ یہ الف اور واؤ ویسے نہیں ہیں، ان کا کیا ہے؟ کچھ معنی بھی ہے۔ تو یہ کیا ہوئے؟ کلمہ۔
کلمہ، کیونکہ لفظ ہے، لفظ کسے کہتے ہیں؟ جس کا ہم زبان سے کیا کرتے ہیں؟ تلفظ۔ یہ الف اور واؤ پر ہم تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ سننے سے پتہ چل رہا ہے یا نہیں؟ بس دیکھو، سنو: ضربَ، ضربا۔ دیکھو ضربا میں میں نے اس سننے سے آپ کو پتہ چل گیا یا نہیں؟ تو معلوم ہوا یہ حرف ہے جس پہ میں کیا کر رہا ہوں؟ تلفظ کر رہا ہوں، زبان سے اس کو ادا کر رہا ہوں۔ تو یہ لفظ ہوا الف، اور اس الف کا کیا ہے؟ معنی بھی ہے۔ اور جس لفظ کا معنی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلمہ کہتے ہیں۔ اور جو کلمہ کتنے حروف پر مشتمل ہو؟ ایک حرف پر۔
تو جب اگر آپ اس کا نام لینا چاہتے ہیں، اس کو ذکر کرنا چاہتے ہیں کہیں پر، تو وہ نام لو جو حروفِ تہجی کے اندر اس کا نام تھا۔ اور یہ جو اوپر سے نیچے کی طرف سیدھی لکیر ہے، یا یوں کہو ضربا کے جو آخر میں ہے، اس کا نام لینا چاہتا ہوں، تو حروفِ تہجی میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ الف، تو آپ الف نام لیں گے۔
ضربوا کے آخر میں یہ جو حرف ہے، کس کے آخر میں؟ ضربوا کے، یہ جو آخر میں حرف ہے، اس کا کچھ معنی ہے یا نہیں؟ تو یہ لفظ ہوا، اور ایسا لفظ جس کا کچھ معنی ہو، تو یہ کیا ہوا؟ کلمہ۔ اور یہ کلمہ کتنے حروف پر مشتمل؟ ضربوا میں صرف واؤ کی بات کر رہا ہوں، کتنے حروف ہیں؟ ایک حرف، واؤ ہے، صرف واؤ۔ الف، با، تا، ثا، جیم وغیرہ۔ تو یہ کیا ہے؟ ایک حرف۔ تو یہ کیا ہوا؟ کلمہ۔ اور جو کلمہ ایک حرف پر مشتمل ہو، آپ اس کا نام لینا چاہتے ہیں، کہیں کسی کو بتلانا چاہتے ہیں، ذکر کرنا چاہتے ہیں، تو اس کا نام کس طرح لیں گے؟ وہ جو حروفِ تہجی میں اس کا نام تھا۔ اور یہ ضربوا کے آخر میں جو حرف ہے، اس کو حروفِ تہجی میں کیا کہتے ہیں؟ واؤ۔ با کے بعد کیا آ رہا ہے؟ واؤ، اس کو حروفِ تہجی میں واؤ کہتے ہیں، تو یوں کہیں گے یہ واؤ ضمیر۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
اچھا، ضربت کے اندر یہ تا کیا ہے؟ یہ تانیث کی علامت ہے، ضمیر نہیں۔ تو پھر اس کے اندر ضمیر کون سی؟ ہیَ۔ضمیر ہے۔ اب ہیا بتاؤ، لفظ ہے یا نہیں؟
جی۔ جی۔
لفظ ہے۔ تلفظ کر رہا ہوں یا نہیں؟ سننے... ہیا۔ اور معنیٰ اس کا ہے کہ... معنیٰ نہیں ہے؟
ہے، معنیٰ ہے۔
معنیٰ ہے۔ کیا معنیٰ؟ "وہ ایک عورت"۔ تو جب اس کا معنیٰ ہے تو یہ بھی کیا ہوا؟ کلمہ۔ ہر وہ لفظ جس کا کچھ معنیٰ ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ کلمہ کہتے ہیں۔ تو ہیا کیا ہوا؟ کلمہ۔
اور یہ ایک حرف پر مشتمل ہے ہیا یا دو حروف پر؟ دو۔ ہا اور یا، ہیا۔
لہٰذا اب وہ حروفِ تہجی والا نام نہیں لینا، کیونکہ حروفِ تہجی والا نام تو کہاں لیں گے؟ جب ایک حرف پر مشتمل ہو اور آپ اس کا نام لینا چاہتے ہوں، اس کو ذکر کرنا چاہتے ہوں، اس کے بارے میں بتلانا چاہتے ہوں، جیسے "ضربَ"، "ضربَا"، اب میں آپ کو بتلانا چاہتا ہوں کہ یہ "با" کے بعد جو حرف ہے، یہ ضمیر ہے، تو اس کا کیا نام لوں گا کہ یہ "الف"، یہ الف ضمیر ہے۔ "ضربُوا" کے اندر واؤ ضمیر ہے۔ "ضربَتْ" کے اندر ہیا ضمیر ہے اور یہ "تا" کس چیز کی علامت ہے؟ تانیث کی علامت ہے۔ یہ صرف اتنا بتلاتی ہے، یہ جو فعل ذکر کیا جا رہا ہے، اس کو کرنے والی کوئی مؤنث ذات ہے، مذکر ذات نہیں ہے۔
اچھا آگے چلیے، "ضربَتَا" اس کے اندر کیا ہے؟ الف ضمیر ہے۔ اور یہ "تا" جو الف سے پہلے ہے، یہ وہی تانیث کی علامت ہے۔ یہ بتلا رہی ہے "تا" کہ یہ دو کرنے، اس فعل کو سرانجام دینے والے ہیں، یہ مؤنث ہیں، مذکر نہیں۔
آگے "ضربْنَ"، "ضربْنَ" کے اندر نون ضمیر ہے۔ دیکھو، "ضربْ نَ"، یہ جو آخر میں حرف آیا، یہ کون سی ضمیر ہے؟ جمع مؤنث غائب۔ معلوم ہوا یہ کیا ہوا؟ بامعنیٰ لفظ، تو اس کو یہ کیا ہوا؟ یہ ہوا کلمہ۔ اور جو کتنے حروف پر مشتمل ہے؟ ایک۔ اور اس ایک حرف کا آپ نام لینا چاہتے ہیں تو کون سا نام لیں گے؟ حروفِ تہجی میں، اور وہ کیا ہے؟ نون۔ تو "ضربْنَ" میں کیا ہے؟ نون ضمیر ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
جی استاد۔
اچھا، آگے چلیے، "ضربْتَ"... "ضربْتَ"... کتاب میں دیکھو، ماضی کی گردان ہے، "فعلْتَ"، "فعلْتَ" میں کیا ہے ضمیر؟ تا ہے۔ "ضربْتَ"، ضاد، را، با، یہ تو فعل کا اپنا مادہ ہے، ان کے ساتھ جو حرف جڑا ہوا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضمیر تو کہتے ہیں، اس کا نام کیا ہے؟ تا ہے، کیا ہے؟ حروفِ تہجی میں اس کا نام کیا ہے؟ تا۔ تو یہ تا کیا ہے؟ ضمیر ہے۔ معنیٰ ہے یا نہیں اس کا؟ تو یہ کیا ہوا؟ کلمہ۔ اور وہ کلمہ جو کتنے حروف پر مشتمل ہو؟ ایک حرف، اس کا نام لینا ہو تو کون سا نام لیتے ہیں؟ حروفِ تہجی والا۔ تو یہ تا کیا ہے؟ ضمیر ہے۔ تو اب میں آپ سے پھر پوچھتا ہوں، "ضربْتَ" میں کون سی ضمیر؟ تا ضمیر۔ کون سی ضمیر ہے، اب مجھے یہ بھی بتا دو کہ یہ کون سی ضمیر ہے؟ واحد مذکر حاضر، بھئی شاباش۔
"ضربْتُمَا" اس میں کون سی ضمیر ہے؟ "تما" پوری ضمیر ہے بھئی، سوچتے کیوں ہو؟ "ضربَتْ" کی وجہ سے پریشان نہیں ہونا، صرف وہ "ضربَتْ" والی "تا" مؤنث والی ہے اور کوئی "تا" مؤنث والی نہیں۔ باقی سب ضمیریں ہیں۔ "ضربَ"، "ضربَا"، "ضربُوا"، "ضربَتْ"، یہ "تا" کیا ہے؟ تانیث کی علامت۔ باقی جتنے حروف ساتھ جڑے ہوئے ہیں، وہ سب ضمیریں ہیں۔ تو "ضربْتَ" میں کون سی ضمیر؟ تا ضمیر۔ "ضربْتُمَا" میں؟ "تما" ضمیر۔ اور یہ کون سی ضمیر ہے؟ تثنیہ مذکر حاضر، شاباش۔
"ضربْتُمْ" میں کون سی ضمیر؟ "تم" ضمیر ہے اور یہ کون سی ضمیر ہے؟ جمع مذکر حاضر۔
"ضربْتِ" میں... اب پتہ چلے گا بات میری سمجھ میں آئی ہے کسی کو کہ نہیں آئی۔ "ضربْتِ" میں کون سی ضمیر ہے؟ دیکھا، سب "تی" کہہ رہے ہیں۔ میں نے ابھی بتایا، یہ "تی" کیا ہے؟ ضمیر ہے، سنو ذرا، "تی" کیا ہے؟ ضمیر ہے۔ اس کا معنیٰ ہے یا نہیں؟ بولو، معنیٰ ہے۔ جب معنیٰ ہے تو یہ کیا ہوا؟ کلمہ۔ اور یہ کلمہ کتنے حروف پر مشتمل؟ ایک، اور جب کوئی کلمہ ایک حرف پر مشتمل ہو تو اس کا وہ نام لیتے ہیں جو کہاں تھا؟ حروفِ تہجی میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ تا کہتے ہیں۔ تو یہ تا ضمیر ہے۔ "ضربْتَ" میں بھی تا ضمیر، "ضربْتِ" میں بھی تا ضمیر ہے۔ عموماً طلباء غلطی کرتے ہیں، وہ "ضربْتَ" میں تو تا کہتے ہیں، "ضربْتِ" میں "تی" کہہ دیتے ہیں۔ نہیں بھئی، اس کا آپ نام لینا چاہتے ہو، اس کو ذکر کرنا چاہتے ہو تو "تی" کے ساتھ نہ ذکر کرو، کس کے ساتھ ذکر کرو؟ تا کے ساتھ ذکر کرو۔
اب سمجھ میں آ گئی بات سب کو؟
جی استاد۔
اچھا جی، "ضربْتِ" میں کون سی ضمیر؟ تا ضمیر، اور کون سی ضمیر ہے یہ؟ واحد مؤنث حاضر، شاباش۔
پھر آگے "ضربْتُمَا"، اس میں کون سی ضمیر؟ "تما"، معلوم ہوا یہ "تما" ضمیر تثنیہ مذکر حاضر کے لیے بھی ہے اور تثنیہ مؤنث حاضر کے لیے بھی۔
آگے چلیں، "ضربْتُنَّ"، اس میں کون سی ضمیر ہے؟ "تنّ" ضمیر ہے، کیونکہ یہ ایک سے زیادہ حروف ہیں تو وہی نام لو جو اس کی صورت ہے۔ تو یہ "تنّ" ضمیر ہے، اور کون سی ضمیر ہے یہ؟ جمع مؤنث حاضر کی۔
اچھا، آگے چلیں، "ضربْتُ"، اس میں کون سی ضمیر ہے؟ شاباش، تا ضمیر، دیکھا! اس کو "تو" نہیں کہنا، عموماً طلباء کیا کہہ دیتے ہیں؟ "تو" ضمیر، نہیں۔ یہ تا ضمیر ہے۔ اور کون سی ضمیر ہے اس کا معنیٰ کیا ہے؟ میں، ایک مرد یا عورت، جو بھی ہو، دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو یہ کون سی ضمیر ہوئی؟ واحد متکلم، چاہے مذکر ہو چاہے مؤنث۔
اور "ضربْنَا"، اس میں کون سی ضمیر ہے؟ نا ضمیر، دو حروف ہیں نا، نون اور الف ہے، تو پھر اسی طرح نام لو، "ضربْنَا"، یہ نا ضمیر ہے، نا۔
اور اس کا کیا معنیٰ، کون سی ضمیر ہے یہ؟ تثنیہ متکلم کے لیے بھی یہ استعمال ہوتی ہے اور جمع متکلم کے لیے بھی، چاہے مذکر ہوں چاہے مؤنث ہوں بھئی۔
اب ضمیروں کی پہچان ہو گئی اچھی طرح؟
جی استاد۔
تو ہاں، ابھی تک آپ نے یہ پڑھا تھا کہ "ضربَ" کے اندر "ہو" ہے، "ضربَا" کے اندر "ہما" ہے، "ضربُوا" کے اندر "ہم" ہے، لیکن وہ آپ کا ابتدائی سال تھا، آپ کو ویسے سمجھانے کے لیے کہ آپ پریشان ہو جائیں گے، ضمیروں کی مختلف صورتیں اور شکلیں دیکھیں گے، حیران ہوں گے، اب بات آپ کو سمجھ میں آ گئی کہ یہ جو فعل کے ساتھ، یہ جو حروف آگے جڑتے ہیں، یہ دراصل کیا ہوتی ہیں؟ ماضی میں یہ ضمیریں ہیں، تو ان کو انہی کے ناموں کے ساتھ ذکر کرنا ہے، "ہما"، "ہم" کے ساتھ ذکر نہیں کرنا۔ ہاں، معنیٰ ان کا اور ان کا ایک ہی ہے، البتہ فرق یہ کہ "ہو"، "ہما"، "ہم"، وہ ہیں ضمیرِ منفصل اور یہ کیا ہیں؟ متصل۔
پھر یہ ضمیریں دو قسم پر ہیں، کچھ تو فعل کے اندر چھپی ہوتی ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مستتر، اور جو ظاہر ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ بارز کہتے ہیں۔ اب آپ مجھے بتائیے، کون سی ضمیر بارز ہے، کون سی مستتر؟ "ضربَ" میں بارز ہے یا مستتر؟ مستتر۔ "ضربَا"؟ بارز۔ "ضربُوا"؟ بارز۔ "ضربَتْ"؟ مستتر ہے، "ضربَتَا"؟ بارز۔ "ضربْنَ"؟ بارز۔ "ضربْتَ"؟ بارز۔ "ضربْتُمَا"؟ بارز۔ "ضربْتُمْ"؟ بارز۔ "ضربْتِ"؟ بارز۔ "ضربْتُمَا"؟ بارز۔ "ضربْتُنَّ"؟ بارز۔ "ضربْتُ"؟ بارز۔ "ضربْنَا"؟ بارز ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے جی آج کے سبق پر بھئی۔
آگے فعلِ مضارع کا ذکر آ رہا ہے۔ ضمیریں ہم کر رہے ہیں، تو چلیے پہلے ذرا ضمیریں فعلِ مضارع کے اندر بھی ہم ضمیریں کر لیتے ہیں۔ "یضربُ"، جی مضارع کی گردان سنائیے بھئی۔
یضربُ یضربانِ یضربونَ تضربُ تضربانِ یضربْنَ تضربُ تضربانِ تضربونَ تضربینَ تضربانِ تضربْنَ اضربُ نضربُ۔
جی، ینصرُ۔
ینصرُ ینصرانِ ینصرونَ تنصرُ تنصرانِ ینصرْنَ تنصرُ تنصرانِ تنصرونَ تنصرینَ تنصرانِ تنصرْنَ انصرُ ننصرُ۔
شاباش، ینصرُ (مجہول)۔
ینصرُ ینصرانِ ینصرونَ تنصرُ تنصرانِ ینصرْنَ تنصرُ تنصرانِ تنصرونَ تنصرینَ تنصرانِ تنصرْنَ انصرُ ننصرُ۔
جی، یفتحُ۔
یفتحُ یفتحانِ یفتحونَ تفتحُ تفتحانِ یفتحْنَ تفتحُ تفتحانِ تفتحونَ تفتحینَ تفتحانِ تفتحْنَ افتحُ نفتحُ۔
جی، یحسبُ۔
یحسبُ یحسبانِ یحسبونَ تحسبُ تحسبانِ یحسبْنَ تحسبُ تحسبانِ تحسبونَ تحسبینَ تحسبانِ تحسبْنَ احسبُ نحسبُ۔
شاباش، يحسبُ (مجہول)۔
يحسبُ يحسبانِ يحسبونَ تحسبُ تحسبانِ يحسبْنَ تحسبُ تحسبانِ يحسبونَ تحسبینَ تحسبانِ يحسبْنَ احسبُ نحسبُ۔
شاباش، دیکھا! اب میں نے آپ سے یہ گردانیں سنیں، آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ تو ہم سے بچوں والی چیزیں پوچھ رہے ہیں، لگتا ہے یا نہیں بھئی؟ جی؟ اب آپ اتنے ماہر ماشاء اللہ صرفی بن چکے ہیں، وہ جو ابواب ہیں، یاد رکھو، جب آپ نے ابواب کر لیے تو اب آپ کو ہر صرف انشاء اللہ بالکل آسان لگے گی۔ تو یہ علم الصیغہ پڑھنے سے پہلے ابواب بہترین یاد ہونے چاہئیں، پھر ہی علم الصیغہ کا فائدہ ہوگا، اگر ابواب آپ کو یاد نہیں، پھر علم الصیغہ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے بھئی، اگر فائدہ اٹھایا بھی تو بہت تھوڑا ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تو آپ نے دیکھا کہ مضارع کے اندر عین پر تینوں حرکتیں آتی ہیں۔ "یضربُ"، "یفتحُ"، "ینصرُ"، دیکھو عین پر تینوں حرکتیں ہیں، "یضربُ" یفعِلُ، "یفتحُ" یفعَلُ، اور "ینصرُ" یفعُلُ، تو دیکھا عین پر زبر بھی ہے، زیر بھی ہے اور پیش بھی ہے۔ ضمہ، فتحہ، کسرہ تینوں آ گئے بھئی۔
اب اس مضارع کے اندر بھئی ضمیریں ذرا پہچان لیں بھئی۔ "یضربُ"، "یضربُ" کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ "یضربُ"، بھئی یاد رکھو، یہ جو مضارع ہے نا، اس کے شروع میں حروفِ اتینَ میں سے کوئی ایک حرف آ جاتا ہے، کس میں سے آتا ہے؟ ادھر توجہ کرو، ادھر توجہ کرو، مضارع کے شروع میں کیا آتا ہے؟ اتینَ، ہمزہ، تا، یا، نون، مختلف صیغوں میں مختلف حروف آتے ہیں بھئی، تو ان کو جمع کر کے صیغے کی شکل دے دی تاکہ یاد رکھنے میں آسانی ہو، اتینَ، اتینَ۔
تو لہٰذا "یضربُ" کے شروع میں جو یا ہے، یہ کس میں سے ہے؟ علامتِ مضارع، اتینَ، اس میں یا ہے یا نہیں؟ تو دیکھا "یضربُ" وہی ماضی کے شروع میں کیا بڑھا دی؟ یا بڑھا دی، اور پھر عین کی حرکت باب کے مطابق دے دی، را کے نیچے زیر دے دی، اور آخر میں اعراب آ گیا۔
یاد رکھو، یہ جو افعال ہیں، ان میں سے صرف فعلِ مضارع معرب ہے، کیا ہے؟ معرب ہے۔ باقی مبنی ہیں۔ معرب آپ نحو شروع کر چکے ہوں گے، آپ نے پڑھا ہوگا، معرب کسے کہتے ہیں؟ کہ جس کا آخر عامل کے بدلنے سے بدلتا ہو۔
تو "یضربُ" آپ کبھی پڑھتے ہیں، "لن یضربَ" کبھی زبر پڑھتے ہیں، "لم یضربْ" کبھی جزم پڑھتے ہیں۔ تو فعلِ مضارع جو ہے، یہ معرب ہے، اس پر اعراب آتا ہے، لیکن فرق یہ ہے، اسم کا اعراب تو ہے رفع، نصب، جر: زیدٌ، زیداً، زیدٍ، رفع، نصب، جر۔ فعلِ مضارع میں جر نہیں آتا، وہاں جزم آتا ہے: رفع، نصب، جزم، رفع، نصب، جزم: "یضربُ"، "لن یضربَ"، "لم یضربْ"۔
تو جر خاصہ ہے اسم کا، جو صرف کس میں آتا ہے؟ اسم میں، فعل میں نہیں۔ اور جزم خاصہ ہے فعل کا، صرف کس میں آتا ہے؟ فعل میں آتا ہے، اسم میں نہیں آتا۔
تو فعلِ مضارع جو ہے وہ معرب ہے۔ باقی فعل جو ہیں: ماضی، امر، یہ کیا ہیں؟ مبنی ہیں۔ ان کا آخر... مبنی وہ ہے جس کا آخر بدلتا نہیں، "ضربَ" میں با پر ہمیشہ زبر ہی رہتی ہے، بدلتی نہیں۔
فعلِ مضارع کے اندر ہم ضمیریں دیکھ رہے تھے بھئی۔ "یضربُ"، یہ شروع میں جو یا ہے، یہ تو کیا ہے؟ علامتِ مضارع، یہ ضمیر نہیں بھئی، یہ ضمیر نہیں، کیونکہ جو فعل میں جو ضمیر ہوتی ہے، وہ فاعل کی ہوگی عموماً، فاعل یا نائب فاعل کی، اور فاعل یا نائب فاعل، فعل کے بعد آتا ہے، فعل پر کبھی مقدم نہیں ہو سکتا: "ضربَ زیدٌ"، یہ زید کیا ہے؟ فاعل ہے، یہ "ضربَ" نے کیا کیا اس کو؟ رفع دیا ہے، اور فاعل ہمیشہ فعل کے بعد آتا ہے، یہ ویسے ایک نحوی بات ذکر کر رہا ہوں، لیکن آگے آپ کی کتابوں میں آ رہی ہوگی یا آ چکی ہوگی، تو خوب توجہ سے سمجھ لیں: "ضربَ زیدٌ"، کیا معنیٰ؟ مارا زید نے، معلوم ہوا یہ ضرب کا عمل کس نے کیا؟ زید نے، معلوم ہوا زید فاعل ہے۔
اور کبھی نائب فاعل ہوتا ہے: "ضُربَ زیدٌ"، مارا گیا زید، یعنی زید کی پٹائی کی گئی ہے۔ تو یہ جو فاعل یا نائب فاعل ہوتا ہے، یہ فعل اس کی صفت ہوتی ہے۔ "ضربَ زیدٌ"، یہ پٹائی کس نے کی؟ زید نے، زید یہ پٹائی کرنے والا ہے، یہ پٹائی اس کی صفت ہے، یہ نہ ہوتا تو یہ والی پٹائی بھی نہ ہوتی۔ "ضُربَ عمروٌ"، پٹائی کس کی ہوئی؟ عمرو، تو یہ "ضُربَ" کا اسناد...عمرو اس کا نائب الفاعل ہے۔ کس نے کی پٹائی، وہ ذکر نہیں ہے، فعل مجہول ہے۔ فعل مجہول کا فاعل ذکر نہیں ہوتا۔ ہاں اتنا بتا دیا گیا کہ پٹائی کس کی ہوئی ہے، عمرو کی۔ تو یہ پٹائی ہونا یہ کس کی صفت ہوئی، عمرو کی۔ یہ عمرو نہ ہوتا تو یہ والی پٹائی بھی نہ ہوتی۔ یہ ہے تو یہ والی پٹائی بھی ہو گئی۔ جس نے بھی کی لیکن ہوئی کس کی، عمرو کی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو فعل معروف کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوتا ہے، فاعل کی طرف۔ اور فعل مجہول کا اسناد ہمیشہ کس کی طرف ہوتا ہے، نائب فاعل کی طرف۔ اور فاعل ہو یا نائب فاعل، فعل اس کے ساتھ قائم ہوتا ہے، یعنی فعل اس کی صفت ہوتا ہے۔ تو فعل معروف کس کی صفت، فاعل کی۔ اور فعل مجہول کس کی صفت، نائب فاعل کی۔ اور یہ جو فاعل اور نائب فاعل ہیں، یہ ہمیشہ فعل کے بعد آتے ہیں، کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتے۔
لہٰذا آپ نے ماضی ضرب کی گردان میں آپ نے دیکھا، جب بھی فاعل آیا کس کے بعد آیا، ض ر ب کے بعد آیا۔ ضربَ، ضربَا دیکھو الف ب کے بعد آیا۔ ضربُوا، یہ واؤ ب کے بعد آیا، آخر میں آتا ہے۔ تو فاعل جب بھی آتا ہے کہاں آتا ہے، آخر میں۔ کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ تو یضربُ کے اندر میں بتلانا یہ چاہتا ہوں کہ یضربُ میں جو یا آئی ہے، یہ علامت مضارع ہے۔ اس کو ضمیر نہ کہہ دینا، اس کو ضمیر نہیں کہنی۔ کیونکہ ضمیر جو بھی آئے گی، وہ فعل کے بعد ساتھ جڑ سکتی ہے، فعل سے پہلے نہیں۔ اور یہ یا تو پہلے آ گئی ض ر ب پر مقدم ہے یا نہیں؟ یہ یا کیا ہے، ض ر ب پر مقدم ہے۔ اور فاعل یا نائب فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں۔ یہ صرف علامت مضارع ہے۔ یہ یا ہمیں صرف اتنا بتلا رہی ہے کہ یہ مضارع کا صیغہ ہے، یہ ماضی کا صیغہ نہیں ہے۔
تو یضربُ کے اندر یا کیا ہوئی، علامت مضارع۔ اور ض ر ب یہ تو کیا ہے فعل کا اپنا مادہ ہے، فعل کا مادہ ہے۔ اور ب کے بعد کوئی حرف ہے، نہیں۔ تو معلوم ہوا ضمیر اس کے اندر مستتر ہے، بارز نہیں ہے۔ اور کون سی ضمیر ہے، ہوَ ضمیر۔ توجہ ہے؟ تو یضربُ میں کون سی ضمیر ہے، ہوَ ضمیر۔ بارز ہے یا مستتر، مستتر ہے۔
یضربانِ، الف نون ہاں یاد رکھو۔ یہ جو مضارع ہے نا مضارع، اس میں ایک نون ساتھ آ کر جڑ جاتا ہے اور اس کو نون اعرابی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں، نون اعرابی۔ وہ اعراب بتلاتا ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں، نون اعرابی۔ اور اس نون اعرابی سے پہلے ضمیر آ چکی ہے۔ یضربانِ، ب کے بعد کیا ہے، الف۔ الف، یہ الف ضمیر ہے اور یہ جو نون ہے، یہ کیا ہے نون اعرابی۔
توجہ ہے؟ یضربُ کے بعد کون سا صیغہ ہے، اچھی طرح سمجھ لیں۔ یضربُ کے بعد کون سا صیغہ، یضربانِ۔ اس یضربانِ میں جو الف ہے، وہ ضمیر ہے اور جو نون ہے، وہ نون اعرابی ہے۔ نون اعرابی یہ اعراب بتلاتا ہے۔ کیا بتلاتا ہے، اعراب۔ بھئی فعل مضارع ابھی میں نے بتایا معرب ہے یا مبنی، معرب ہے۔ کبھی آپ کیا پڑھتے ہیں یضربُ، کبھی پڑھتے ہیں لن یضربَ اور کبھی کیا پڑھتے ہیں لم یضرب۔ تو اس پر رفع بھی آتا ہے، نصب بھی اور جزم بھی۔ یہ نون اعرابی اعراب بتلاتا ہے۔ یہ ہے تو اس کا مطلب ہے فعل مرفوع ہے، فعل مضارع مرفوع ہے۔ توجہ ہے؟ یہ نون ہے تو فعل مضارع مرفوع۔ یہ نون نہیں تو اس کا مطلب ہے فعل مضارع یا وہ منصوب ہو گا یا مجزوم ہو گا۔
فعل مضارع کیا ہے، معرب۔ اس کا اعراب کتنی قسم پر، تین۔ کون کون سے، رفع، نصب، جزم۔ یعنی یوں کہو، فعل مضارع کبھی مرفوع ہو گا، کبھی منصوب ہو گا، کبھی مجزوم ہو گا۔ اور نون اعرابی صرف مرفوع حالت میں آئے گا، منصوب اور مجزوم حالت میں نون اعرابی گر جائے گا۔ تو یہ نون کیا بتلاتا ہے، رفع بتلاتا ہے۔ کیا بتلاتا ہے، رفع۔ اس لیے اس کو نون اعرابی کہتے ہیں۔
یضربانِ، یہ کون سی حالت میں ہے، حالت رفعی میں کیونکہ نون موجود ہے۔ اگر نون نہیں تو معلوم ہوا نصبی یا جزمی ہے۔ آپ خود دیکھ لو، لن یضربَ لن یضربَا، گردان یاد ہے؟ لن یضربَ دیکھو نون گر گیا یا نہیں گر گیا؟ اچھا لم یضرب لم یضربَا، دیکھو اس میں بھی کیا ہے نون گر گیا۔ تو یہ نون اعرابی ہے، ضمیر نہیں۔ ضمیر نہیں ہے یہ، کیونکہ ضمیر ضمیر تو مبنی ہے، اس پر اثر نہیں پڑتا۔
تو یہ نون کون سا ہے، نون اعرابی ہے۔ تو یوں کہو، فعل مضارع کے آخر میں جو نون آتا ہے، وہ نون کون سا ہے، نون اعرابی۔ نون اعرابی کو اس نون کو نون اعرابی کیوں کہتے ہیں، کیونکہ یہ رفع بتلاتا ہے اور جب یہ گر جائے تو کس کی خبر دیتا ہے، نصب۔ اور اس سے نصب اور جزم کا پتہ چلتا ہے، اس لیے اس کو نون اعرابی کہتے ہیں۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھو، فعل مضارع میں جتنے نون آ رہے ہیں، سارے اعرابی نہیں ہیں۔ ہاں اکثر اعرابی ہیں، دو نون اعرابی نہیں ہیں۔ دو نون اعرابی نہیں اور ان کو یاد کرنا بھی بڑا آسان ہے۔ دونوں جو جمع مؤنث کے صیغے ہیں۔
جی گردان کیا تھی، یضربُ یضربانِ یضربونَ تضربُ تضربانِ یضربنَ۔ یہ جو نون ہے جمع مؤنث والا اور پھر آگے پڑھو، تضربُ تضربانِ تضربونَ تضربینَ تضربانِ تضربنَ۔ ایک ہے یضربنَ اور ایک ہے تضربنَ۔ یہ دونوں جو جمع مؤنث غائب اور حاضر کے صیغے ہیں، ان کے آخر میں جو نون آ رہا ہے، یہ نون اعرابی نہیں، یہ ضمیر ہے۔ یہ کیا ہے، یہ ضمیر ہے۔
اور اسی لیے مضارع کے یہ دو صیغے مبنی ہیں۔ کیا ہیں، مبنی۔ آپ نے پڑھا ہو گا، ضمیر مبنیات میں سے ہے۔ ایک معرب ہوتا ہے اور ایک مبنی۔ معرب کسے کہتے ہیں، جس کا آخر بدلتا ہو۔ اور مبنی کسے کہتے ہیں، جس کا آخر نہ بدلتا ہو۔ اور ضمیر کس میں سے، مبنیات میں سے، ضمیر کا آخر نہیں بدلتا۔ اور یضربنَ، یہ نون کیا ہے، آخر میں ضمیر آ گئی۔ اب بدلے گا، جب یہ بدلے گا نہیں تو یہ مبنی ہوا۔ تضربنَ، یہ نون کیا ہے، یہ ضمیر ہے اور ضمیر کس میں سے، مبنیات میں سے۔ لہٰذا یہ صیغہ بھی نہیں بدلے گا۔ تو یہ دو صیغوں کے آخر میں ضمیر آ رہی ہے اور ضمیر ہے، وہ کسی قسم کی تبدیلی آنے نہیں دیتی۔ تو یہ دو صیغے مبنی ہیں، باقی مضارع کے 14 میں سے 12 صیغے معرب ہیں۔
مثلاً لن یضربَ کی گردان دیکھو بھئی، لن یضربَ، اصل میں کیا تھا یضربُ۔ یضربُ یضربانِ یضربونَ تضربُ تضربانِ یضربنَ تضربُ تضربانِ تضربونَ تضربینَ تضربانِ تضربنَ اضربُ نضربُ۔ اب اسی پر میں لن ناصبہ داخل کروں گا، آپ دیکھیں گے آخر بدلتا جا رہا ہے۔ لیکن یہ جو دو صیغے ہیں، ان کا آخر نہیں بدلے گا۔ لن یضربَ، تبدیلی آئی، کیا، لن یضربَ ہاں جی کیا، نصب آ گیا۔ لن یضربَا، کیا تبدیلی آئی، نون گر گیا۔ لن یضربُوا، نون گر گیا۔ لن تضربَ، نصب آ گیا۔ لن تضربَا، نون اعرابی گر گیا۔ لن یضربنَ، کوئی تبدیلی نہیں آئی کیونکہ یہ صیغہ کیا ہے، مبنی۔
آگے دیکھو، لن تضربَ، نصب آ گیا۔ لن تضربَا، نون اعرابی گر گیا۔ لن تضربُوا، نون اعرابی گر گیا۔ لن تضربِی، نون اعرابی گر گیا۔ لن تضربَا، نون اعرابی گر گیا۔ لن تضربنَ، دیکھو کوئی تبدیلی نہیں آئی کیونکہ یہ صیغہ مبنی ہے۔ لن اضربَ، نصب آ گیا۔ لن نضربَ، نصب آ گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اب ذرا جزم کے ساتھ لے آؤ۔ لم یضرب، کوئی تبدیلی آئی، جزم آ گیا۔ لم یضربَا، نون اعرابی گر گیا۔ لم یضربُوا، نون اعرابی گر گیا۔ لم تضرب، جزم آ گیا۔ لم تضربَا، نون اعرابی گر گیا۔ لم یضربنَ، دیکھو کوئی تبدیلی نہیں کیونکہ یہ صیغہ کیا ہے، مبنی۔ پھر آگے، لم تضرب، جزم آ گیا۔ لم تضربَا، نون اعرابی گر گیا۔ لم تضربُوا، نون اعرابی گر گیا۔ لم تضربِی، نون اعرابی گر گیا۔ لم تضربَا، نون اعرابی گر گیا۔ لم تضربنَ، کوئی تبدیلی نہیں آئی کیونکہ یہ صیغہ کیا ہے، مبنی۔ اور لم اضرب، جزم آ گیا۔ لم نضرب، جزم آ گیا۔ تو فعل مضارع کے دو صیغے مبنی ہیں، کون کون سے، یضربنَ اور تضربنَ۔ یا یوں کہو، جمع مؤنث غائب اور جمع مؤنث حاضر۔ اور باقی 12 صیغے معرب۔
وہ جو معرب ہیں، ان میں سے کچھ کے ساتھ نون اعرابی آتا ہے اور کچھ میں نون اعرابی نہیں آتا۔ تو بات چل رہی تھی، ہم ضمیریں پہچان رہے تھے مختلف صیغوں میں فعل مضارع کی۔ تو یضربُ کے اندر کون سی ضمیر، ہوَ۔ اور یہ کون سی ضمیر ہے، مستتر ہے۔ یضربانِ، الف ہے اور نون کیا ہے، اعرابی۔ تو یہ الف ضمیر ہے اور کون سی ضمیر ہے یہ الف، تثنیہ مذکر غائب۔ یضربونَ، واؤ ضمیر ہے اور نون کیا ہے، نون اعرابی ہے۔ اور یہ واؤ کون سی ضمیر ہے، جمع مذکر غائب۔
تضربُ، ہیَ ضمیر شاباش، کون سی ضمیر ہے؟ اور بارز ہے، مستتر ہے؟ تضربُ، ہیَ ضمیر، کدھر ہے بارز؟ تضربُ، میں نے کوئی ہیَ پڑھا؟ تو وہ اس کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ تو تضربُ میں مستتر ہے، مستتر ہے۔
آگے چلو، آگے کون سا صیغہ ہے، تضربانِ۔ کون سی ضمیر، الف۔ اور یہ نون، اعرابی۔ یضربنَ، یہ نون ضمیر ہے، یہ نون اعرابی نہیں ہے بھئی۔
تضربُ آگے بھئی، تضربُ، جو صیغہ ہے اس کے مطابق ضمیر نکالو۔ کون سا صیغہ ہے یہ، واحد مذکر حاضر۔ واحد مذکر حاضر کے لیے آپ کیا ضمیر استعمال کرتے ہیں؟ حاضر حاضر کے لیے، کسی آدمی سے بات کر رہے ہو، کون سا صیغہ، وہ تو متصل ہے، یہاں تو کوئی متصل ہے ہی نہیں، مستتر ہے۔ انتَ۔ تضربُ میں کون سی ضمیر، انتَ ضمیر بھئی۔ بارز ہے، مستتر ہے؟ مستتر ہے، کدھر ہے بارز؟ تضربُ، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
اچھا تضربانِ، الف الف۔ نون کون سا ہے، اعرابی۔ تضربونَ، واؤ۔ کون سی ضمیر ہے، جمع مذکر حاضر۔ جو صیغہ ہو، وہ ضمیر ہو گی، وہی آپ نے بولنا ہے۔ پھر بولو، تضربُ، کون سی ضمیر اس کے اندر، انتَ۔ اور تضربانِ میں، الف۔ اور یہ الف کون سی ضمیر ہے، تثنیہ مذکر حاضر، شاباش۔
اور یہ الف پہلے بھی آیا تھا، تضربانِ میں الف آیا تھا اور یضربانِ میں بھی آیا تھا، دیکھا؟ تثنیہ مذکر غائب، توجہ ہے؟ اس میں بھی الف تھا، تثنیہ مؤنث غائب میں بھی الف تھا اور تثنیہ مذکر حاضر میں بھی الف ہے۔ معلوم ہوا الف ان سب کے لیے یہی الف ضمیر استعمال ہوتی ہے۔ اور صیغے سے پتہ چلے گا پھر کہ یہ کس کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ تضربونَ میں، واؤ۔ یضربونَ میں بھی واؤ آیا تھا۔ وہ کون سی ضمیر تھی، جمع مذکر غائب۔ اور یہ واؤ کون سی ضمیر ہے، جمع مذکر حاضر۔ اور تضربینَ میں، ضمیر کیا ہے، تضربینَ۔ میں نے بتایا نون، صرف دو ضمیروں میں نون، صرف دو صیغوں میں نون ضمیر ہے، باقی سب میں نون اعرابی ہے، اعرابی۔ تضربینَ ان دو صیغوں میں سے ہے، نہیں۔ تو پھر یہ نون کون سا ہوا، اعرابی۔ اور نون سے پہلے کیا ہے، یا۔ تو یا ضمیر ہے۔ اور یا کون سی ضمیر، واحد مؤنث حاضر جی۔
اور تضربانِ، الف۔ یہ کون سی ضمیر ہے، تثنیہ مؤنث حاضر۔ اور تضربنَ، نون ضمیر ہے، شاباش۔ اور یہ کون سی ضمیر ہے نون، جمع مؤنث حاضر۔ تو پہلے وہ نون تھا یضربنَ میں، وہ جمع مؤنث غائب کی ضمیر تھی اور تضربنَ میں جو نون ہے، وہ جمع مؤنث حاضر کی ضمیر ہے اضربُ، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ اَنا ضمیر۔ کون سی ضمیر ہے؟ اَنا ضمیر ہے۔ اور نضربُ کے اندر، نَحنُ ضمیر ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ اب مجھے بتائیے، کس صیغے میں ضمیر بارز ہے، کس میں مستتر ہے؟ یضربُ، مستتر، یہ ضمیر مستتر ہے۔ یضربانِ، یہ بارز ہے۔ یضربونَ، بارز۔ تضربُ، مستتر۔ تضربانِ، بارز۔ یضربنَ، بارز۔ تضربُ، مستتر۔ تضربانِ، بارز۔ تضربونَ، بارز۔ تضربینَ، بارز۔ تضربانِ، بارز۔ تضربنَ، بارز۔ اضربُ، مستتر۔ نضربُ، مستتر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب ذرا مجھے گن کے بتاؤ، کتنے صیغوں میں نون اعرابی آتا ہے؟ آپ نے گننا ہے بھئی۔ یضربُ میں ہے؟ نہیں۔ یضربانِ، ہے۔ یضربونَ، ہے۔ تضربُ، نہیں ہے۔ تضربانِ، ہے۔ یضربنَ، نہیں ہے۔ تضربُ، نہیں ہے۔ تضربانِ، ہے۔ تضربونَ، ہے۔ تضربینَ، ہے۔ تضربانِ، ہے۔ تضربنَ، نہیں ہے۔ اضربُ، نہیں ہے۔ نضربُ، نہیں ہے۔ جی، اب بولو۔ ہاں، سات صیغے ہیں۔ فعل مضارع کے سات صیغے ہیں جن میں نون اعرابی آتا ہے۔ کون کون سے؟ تثنیہ والے سارے صیغے۔ تثنیہ والے چار صیغے ہیں۔ تثنیہ مذکر غائب، تثنیہ مؤنث غائب، تثنیہ مذکر حاضر، تثنیہ مؤنث حاضر۔ ان چاروں میں ہے۔ اور یضربونَ اور تضربونَ، چھ ہو گئے، اور واحد مؤنث حاضر، تضربینَ۔
پھر بولو، کتنے صیغوں میں ہے نون اعرابی؟ سات۔ کون سے سات صیغے؟ چار تثنیہ والے، اور دو جمع مذکر والے، اور ایک واحد مؤنث حاضر والا۔
اور کتنے صیغوں میں نون ضمیر ہے؟ دو صیغے۔ کون کون سے؟ تو سات اور دو کتنے ہو گئے؟ نو۔ باقی کتنے بچے؟ پانچ۔ پانچ صیغوں کے اندر ضمیر مستتر ہے۔
کیا ہے؟ مستتر ہے۔ کون سے صیغے؟ یضربُ، تضربُ، پھر دوبارہ تضربُ، پھر اضربُ، پھر نضربُ۔ تو ان میں ضمیر کیا ہے؟ مستتر ہے۔ باقی سب میں ضمیر بارز ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو ماضی اور مضارع، دونوں میں ضمیروں کی پہچان اچھی طرح ہو گئی؟ ضمیر مستتر اور بارز، متصل اور منفصل، سب کا پتہ چل گیا۔ اب دیکھیے آگے کتاب پر بھئی۔
مضارع را یازدہ صیغہ است، مضارع کے 11 صیغے ہیں۔ بھئی ہم نے تو 14 پڑھے ہیں، تو 11 کیوں ہوئے؟ کیونکہ بعض جگہ ایک ہی صیغہ دو یا تین جگہ آتا ہے۔ تو اس لیے ان کو ایک ہی شمار کیا، تو اس اعتبار سے کل کتنے صیغے؟ 11۔ دیکھو کس طرح، دیکھو بھئی ادھر دیکھو۔ یضربُ یضربانِ، تضربُ تضربانِ۔ یہ جو تضربُ آیا، تضربُ واحد مؤنث غائب کے لیے، یہی تضربُ کس کے لیے آتا ہے؟ واحد مذکر حاضر کے لیے بھی آتا ہے۔ تو ان دونوں کو ایک ہی شمار کیا، تو ایک صیغہ کم ہو گیا۔ کتنے رہ گئے؟ 13۔
اچھا، اس کے بعد جو تضربانِ ہے، یہ صیغہ تین جگہ آتا ہے۔ یضربُ یضربانِ یضربونَ تضربُ تضربانِ، یہ ایک دفعہ۔ پھر یضربنَ تضربُ تضربانِ، یہ دوسری جگہ۔ پھر تضربونَ تضربینَ تضربانِ، تو یہ تیسری جگہ۔ تو یہ تین کو بھی ایک شمار کیا، تو دو اور کم ہو گئے۔ 13 میں سے دو اور کم ہوئے، کتنے رہ گئے؟ 11۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پہلے ایک صیغہ دو جگہ تھا، اور ایک صیغہ تین جگہ ہے۔ تو ایک صیغہ دو جگہ، تو ایک کو نکال دو۔ ایک صیغہ تین جگہ، تو دو کو نکال دو۔ تین کم ہوئے تو 11 رہ گئے۔
کہتے ہیں: مضارع را یازدہ صیغہ است، مضارع کے 11 صیغے ہیں۔ اثباتِ فعلِ مضارعِ معروف، فعلِ مضارع معروف کا اثبات یعنی مثبت، فعلِ مضارع معروف مثبت کی گردان۔ یَفْعَلُ، یَفْعَلَانِ، یَفْعَلُونَ، تَفْعَلُ، تَفْعَلَانِ، یَفْعَلْنَ، تَفْعَلُونَ، تَفْعَلِینَ، تَفْعَلْنَ، اَفْعَلُ، نَفْعَلُ۔ آپ دیکھ رہے ہیں بھئی، عین پر تینوں حرکتیں ہیں۔ یَفْعَلُ، یَفْعُلُ، یَفْعِلُ، تو تینوں طرح آپ یہ گردان پڑھیں گے بھئی، یاد کریں گے اور آپ کو یاد ہیں بھئی۔ یَفْعَلُ، یَفْعَلَانِ، یَفْعَلُونَ، تَفْعَلُ، تَفْعَلَانِ، یَفْعَلْنَ، تَفْعَلُونَ، تَفْعَلِینَ، تَفْعَلْنَ، اَفْعَلُ، نَفْعَلُ۔ بحرکاتِ ثلاثۂ عین، عین کی تینوں حرکتوں کے ساتھ۔ تو یَفْعَلُ میں نے پڑھا۔ اسی کو آپ یَفْعُلُ کے ساتھ بھی پڑھیں گے، اسی کو آپ یَفْعِلُ کے ساتھ بھی پڑھیں گے، عین کے زیر کے ساتھ۔
تو کہتے ہیں: سہ صیغۂ اولیٰ برائے مذکر غائب است۔ ان میں سے تین پہلے صیغے کس کے لیے ہیں؟ مذکر غائب کے لیے ہیں۔ اول واحد، دوم تثنیہ، سوم جمع۔ پہلا واحد کے لیے، دوسرا تثنیہ کے لیے، تیسرا جمع کا۔
اچھا ہاں، ایک بات یاد رکھو۔ اردو میں ہم اس کو پڑھتے ہیں اول، دوم، سوم۔ اول، دوم، سوم۔ یاد رکھو یہ دوم نہیں ہے، دوم ہے، دوم۔ اور سوم نہیں ہے، سوم ہے۔ فارسی میں یہ لفظ کیا ہے؟ سوم۔ دوم کا معنی دوسرا، اور سوم کا معنی تیسرا۔
اچھا جی، تو کہتے ہیں: اول واحد، دوم تثنیہ، سوم جمع۔ پہلا واحد کا صیغہ ہے اور دوسرا تثنیہ کا اور تیسرا جمع کا۔ بعد ازاں سہ صیغہ مؤنث غائب است بر ہماں وضع۔ اس کے بعد تین صیغے مؤنث غائب کے ہیں، اسی طریقے پر یعنی پہلا واحد کا، دوسرا تثنیہ کا اور تیسرا جمع کا۔ مگر دراں تَفْعَلُ برائے واحد مذکر حاضر نیز آید۔ لیکن اس میں سے وہ جو مؤنث غائب کے صیغے ہیں، اس میں تَفْعَلُ واحد مذکر حاضر کے لیے بھی آتا ہے۔ پس آن بجائے دو صیغہ است، پس وہ دو صیغوں کی جگہ پر ہے۔ ایک ہی صیغہ کتنے کی جگہ پر؟ دو کی جگہ پر ہے۔
جا کا کیا معنی ہوتا ہے فارسی میں؟ جگہ۔ آن بجائے دو صیغہ است، وہ دو صیغوں کی جگہ پر ہے۔ و تَفْعَلَانِ برائے تثنیہ مذکر حاضر و مؤنث حاضر نیز آید۔ اور یہ جو تَفْعَلَانِ ہے، جو تثنیہ مؤنث غائب، یہی تثنیہ مؤنث غائب کا صیغہ کس کے لیے آتا ہے؟ تثنیہ مذکر حاضر کے لیے بھی، اور تثنیہ مؤنث حاضر کے لیے بھی آتا ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں کہ و تَفْعَلَانِ برائے تثنیہ مذکر حاضر و مؤنث حاضر نیز آید، کہ تَفْعَلَانِ جو ہے تثنیہ مذکر حاضر کے لیے اور مؤنث حاضر کے لیے بھی آتا ہے۔ پس آن بجائے سہ صیغہ است، پس وہ تین صیغوں کی جگہ پر ہے۔
و تَفْعَلُونَ صیغۂ جمع مذکر حاضر است۔ اور تَفْعَلُونَ کون سا صیغہ ہے؟ جمع مذکر حاضر ہے۔ و تَفْعَلِینَ واحد مؤنث حاضر۔ اور تَفْعَلِینَ کون سا صیغہ ہے؟ واحد مؤنث حاضر کا۔ و تَفْعَلْنَ جمع مؤنث حاضر۔ یہ جمع مؤنث حاضر کا صیغہ ہے۔ و اَفْعَلُ واحد مذکر و مؤنث متکلم۔ یعنی یہ واحد متکلم ہے، مذکر ہو اور مؤنث۔ تو کہتے ہیں: و اَفْعَلُ واحد مذکر و مؤنث متکلم، اور اَفْعَلُ جو ہے واحد مذکر اور مؤنث متکلم کے لیے ہے۔ و نَفْعَلُ، اور نَفْعَلُ جو ہے تثنیہ و جمع مذکر و مؤنث متکلم مع الغير۔ اور یہ تثنیہ اور جمع مذکر اور مؤنث متکلم مع الغير کے لیے ہے۔ کس کے لیے ہے؟ نَفْعَلُ، جس کو آپ جمع متکلم کہتے ہیں۔ ادھر دیکھو، نَفْعَلُ، کون سا صیغہ ہے؟ جمع متکلم۔ چاہے دو ہوں یا دو سے زیادہ، اور چاہے مذکر ہوں چاہے مؤنث، تو یہ چار صیغوں کی جگہ آ گیا۔ تثنیہ مذکر کے لیے بھی، تثنیہ مؤنث کے لیے بھی، جمع مذکر کے لیے بھی اور جمع مؤنث، یعنی ہوں متکلم سارے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
انہوں نے کہا: متکلم مع الغير۔ متکلم مع الغير، کیا معنی متکلم مع الغير؟ بھئی دیکھو، بات کرنے والا تو ایک ہے۔ مثلاً میں بول رہا ہوں، میں آپ سے کہتا ہوں: ضَرَبْنَا زَیْدًا، ہم نے مارا زید کو۔ کس نے مارا؟ ہم نے۔ تو میں نے صرف اپنی بات کی یا اپنے ساتھ ایک، دو یا تین کو اور ملا کر بات کی؟ ہم نے مارا۔ میں نے یہ نہیں کہا میں نے مارا، میں نے کیا کہا؟ ہم نے۔ تو میں نے صرف اپنی بات کی یا اپنے ساتھ اوروں کو بھی ملایا؟ اسی لیے کہتے ہیں: متکلم مع الغير۔ اس نے اپنے ساتھ متکلم کے ساتھ غیر بھی ملے ہوئے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ غیر کو ساتھ ملا کر اس نے بات کی ہے، وہ ایک بھی ہو سکتا ہے جس کو ساتھ ملایا، دو یا دو سے زیادہ۔ مثلاً اگر دو تھے، بولا صرف میں: ہم نے زید کو مارا۔ کیا مطلب؟ اس میں میں ہوں متکلم، اور یہ میرے ساتھ جو غیر ہے، اس کو بھی میں نے ساتھ ملا کر بات کی کہ ہم دونوں نے زید کو مارا۔ اب بات سمجھ میں آ گئی متکلم مع الغير؟
تو یہ جو ہے تثنیہ و جمع مذکر و مؤنث متکلم مع الغير۔ مضارع مجهول بھئی، مضارع مجہول کی گردان۔ یُفْعَلُ، یُفْعَلَانِ، یُفْعَلُونَ، تُفْعَلُ، تُفْعَلَانِ، یُفْعَلْنَ، تُفْعَلُونَ، تُفْعَلِینَ، تُفْعَلْنَ، اُفْعَلُ، نُفْعَلُ۔ اس میں تو آئے گی ہی ایک حرکت، مجہول میں تو عین پہ صرف فتحہ آتا ہے اور حرکت آتی ہی نہیں۔
نفی مضارع معروف: لَا یَفْعَلُ الخ۔ یہ الخ مخفف ہے اِلٰی آخِرِہٖ کا۔ اِلٰی آخِرِہٖ، اِلٰی آخِرِہٖ۔ تو جگہ جگہ اس کو لکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے، تو اس کو مختصر کر کے الخ لکھ دیتے ہیں۔ پڑھنے والا سمجھ جاتا ہے کہ اس کو کیا پڑھنا ہے؟ اِلٰی آخِرِہٖ۔ یعنی دیکھو، گردان کا ایک لفظ ذکر کر دیا: لَا یَفْعَلُ۔ اور اِلٰی آخِرِہٖ، آخر تک یعنی اسی طرح آپ گردان کر لیجیے: لَا یَفْعَلُ، لَا یَفْعَلَانِ، لَا یَفْعَلُونَ، لَا تَفْعَلُ، لَا تَفْعَلَانِ، لَا یَفْعَلْنَ، لَا تَفْعَلُ، لَا تَفْعَلَانِ، لَا تَفْعَلُونَ، لَا تَفْعَلِینَ، لَا تَفْعَلَانِ، لَا تَفْعَلْنَ، لَا اَفْعَلُ، لَا نَفْعَلُ، تو آخر تک۔ یہ معنی ہے لَا یَفْعَلُ الخ، مَا یَفْعَلُ الخ۔ مَا یَفْعَلُ اِلٰی آخِرِہٖ، اسی طرح آپ گردان کر لیجیے: مَا یَضْرِبُ، مَا یَضْرِبَانِ، مَا یَضْرِبُونَ، مَا تَضْرِبُ، مَا تَضْرِبَانِ، مَا یَضْرِبْنَ، مَا تَضْرِبُ، مَا تَضْرِبَانِ، مَا تَضْرِبُونَ، مَا تَضْرِبِینَ، مَا تَضْرِبَانِ، مَا تَضْرِبْنَ، مَا اَضْرِبُ، مَا نَضْرِبُ۔
نفی مضارع مجہول۔ اچھا چلیے، بس کرتے ہیں، بس بھئی۔ باقی انشاء اللہ اگلے سبق میں پڑھیں گے۔
دیکھیے بھئی، اردو کی کتاب میں۔ اثباتِ فعلِ مضارعِ معروف: یَفْعَلُ، یَفْعَلَانِ، یَفْعَلُونَ، تَفْعَلُ، تَفْعَلَانِ، یَفْعَلْنَ، تَفْعَلُونَ، تَفْعَلِینَ، تَفْعَلْنَ، اَفْعَلُ، نَفْعَلُ، عین میں تینوں حرکات ہیں۔ عین میں یَفْعَلُ بھی، یَفْعِلُ بھی اور یَفْعُلُ بھی، تینوں طرح گردانیں ہوں گی۔ پہلے تین صیغے مذکر غائب کے لیے ہیں۔ اول واحد، دوم تثنیہ اور سوم جمع، تیسرا جمع کا ہے۔ ان کے بعد اسی ترتیب سے تین صیغے مؤنث غائب کے ہیں۔ مگر ان میں سے تَفْعَلُ واحد مذکر حاضر کے لیے بھی آتا ہے۔ چنانچہ یہ دو صیغوں کے قائم مقام ہے۔ اور تَفْعَلَانِ تثنیہ مذکر و مؤنث حاضر کے لیے بھی آتا ہے، لہذا یہ تین صیغوں کے قائم مقام ہے۔ اور تَفْعَلَانِ تثنیہ مذکر و مؤنث حاضر کے لیے بھی آتا ہے، لہذا یہ تین صیغوں کے قائم مقام ہے۔ اور تَفْعَلُونَ صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ اور تَفْعَلِینَ واحد مؤنث حاضر، اور تَفْعَلْنَ جمع مؤنث حاضر ہے۔ اور اَفْعَلُ واحد متکلم مذکر و مؤنث۔ اور نَفْعَلُ تثنیہ و جمع مذکر و مؤنث متکلم مع الغير ہے۔
اثباتِ مضارع مجہول: یُفْعَلُ، یُفْعَلَانِ، یُفْعَلُونَ، تُفْعَلُ، تُفْعَلَانِ، یُفْعَلْنَ، تُفْعَلُونَ، تُفْعَلِینَ، تُفْعَلْنَ، اُفْعَلُ، نُفْعَلُ۔
نفی مضارع معروف: لَا یَفْعَلُ اِلٰی آخِرِہٖ، مَا یَفْعَلُ اِلٰی آخِرِہٖ۔
چلیے بھئی، اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ہٰذَا ہُوَ الْمَرَامُ وَاللہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الْکَلَامِ۔