Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-032

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یا ایہا النبی انا احللنا لک ازواجک اللاتی اتیت اجورہن وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک وبنات عمک وبنات عماتک وبنات خالک وبنات خالاتک اللاتی ہاجرن معک۔ وامراۃ مومنۃ ان وہبت نفسہا للنبی ان اراد النبی ان یستنکحہا خالضۃ لک من دون المومنین۔ قد علمنا ما فرضنا علیہم فی ازواجہم وما ملکت ایمانہم لکی لایکون علیک حرج۔ وكان الله غفورا رحیما۔ یا ایہا النبی، اے پیغمبر، اے نبی، انا احللنا لک، بیشک ہم نے حلال کیا ہے آپ کے لیے، ازواجک اللاتی، آپ کی ان بیویوں کو، اتیت اجورہن، جنہیں آپ دے چکے ہیں ان کا مہر۔ جنہیں آپ ان کا مہر... اے پیغمبر، ہم نے آپ کے لیے حلال رکھا ہے آپ کی ان بیویوں کو جن کا آپ مہر دے چکے ہیں۔ وما ملکت یمینک، اور وہ جن کے مالک ہیں... مالک ہے آپ کا دایاں ہاتھ، یعنی وہ جو آپ کی مملوکہ ہیں، جو آپ کی... اے پیغمبر، ہم نے حلال رکھا ہے آپ کے لیے آپ کی ان بیویوں کو جن کا آپ مہر دے چکے ہیں اور وہ جو آپ کی مملوکہ ہیں یعنی باندیاں، مما، ان میں سے، افاء اللہ علیک، افاء کے معنی ہوتے ہیں پھیر لانا، لوٹانا بھئی۔ ان میں سے افاء اللہ علیک، جو پھیر لایا ہے اللہ آپ پر، جو اللہ آپ پر پھیر لایا ہے یعنی کفار سے، یعنی بطور غنیمت کے جو اللہ نے آپ کو دلوا دی ہیں۔ آپ کی وہ باندیاں جو آپ کو اللہ نے بطور غنیمت کے دلوا دی ہیں۔ اللہ پھیر لائے ہیں یعنی کس سے پھیر لائے ہیں؟ کفار سے، یعنی بطور غنیمت کے آپ کو دلوا دی ہیں۔ تو اے پیغمبر، ہم نے حلال کیا ہے آپ کے لیے آپ کی ان بیویوں کو جن کا آپ مہر دے چکے ہیں، وما ملکت یمینک، اور وہ جن کے... اور وہ جو آپ کی مملوکہ ہیں، مما افاء اللہ علیک، ان میں سے جو اللہ نے آپ کو دلوا دی ہیں بطور غنیمت کے۔ تو یہ کوئی قید... یہ قید احترازی نہیں ہے۔ اس میں اللہ، اس آیت میں دیکھیے اللہ فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر، آپ کے لیے آپ کی وہ بیویاں بھی حلال ہیں جن کا آپ مہر دے چکے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہی تھی کہ وہ ش... شروع ہی میں مہر دے دیا کرتے تھے بھئی۔ سارا مہر ادا کر دیا کرتے تھے۔ تو وہ عورتیں جن کا آپ مہر دے چکے ہیں یعنی جو آپ کے عقد میں ہیں، جو آپ کے عقد میں ہیں وہ حلال ہیں آپ کے لیے۔ اور وہ جن کے... وہ جو آپ کی مملوکہ ہیں جو بطور غنیمت کے آپ کو دلوا دی ہیں۔ تو باندیاں عموماً مال غنیمت ہی میں آیا کرتی تھیں۔ تو اس لیے اس کو ساتھ ذکر کر دیا۔ تو یہ قید احترازی نہیں ہے یعنی اس کا یہ معنی نہیں کہ جو بطور غنیمت کے نہ ملیں، ویسے مل جائیں وہ حلال نہیں ہیں آپ کے لیے۔ بلکہ یہ ویسے ہی قید ساتھ ذکر کر دی کیونکہ عموماً باندیاں کس میں آتی تھیں؟ مال غنیمت میں بھئی، جنگ ہوتی تھی، اس زمانے میں غلام اور باندیاں تھیں تو جنگ ہوتی تو جو قید ہوتے تھے، یا جو عورتیں ہاتھ آتی تھیں ان کو غلام... ان کو باندیاں بنا لیا جاتا تھا بھئی۔ جیسے آپ بنو قریظہ کے واقعے میں پڑھ چکے ہیں تفصیل بھئی، کہ ان میں بالغ مردوں کو قتل کر دیا گیا اور بچوں اور عورتوں کو غلام اور باندیاں بنا لیا گیا۔ وبنات عمک، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں، وبنات عماتک، اور آپ کی پھپھیوں کی بیٹیاں، وبنات خالک، اور آپ کے ماموؤں کی بیٹیاں، اور آپ کے ماموؤں کی بیٹیاں، وبنات خالاتک، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں، اللاتی ہاجرن معک، وہ جنہوں نے ہجرت کی آپ کے ساتھ۔ اے پیغمبر، آپ جن بیویوں کا مہر ادا کر چکے ہیں وہ بھی حلال ہیں آپ کے لیے، اور جو آپ کی مملوکہ ہیں وہ بھی حلال ہیں آپ کے لیے، اور یہ جو آپ کی رشتہ دار عورتیں ہیں، ان میں سے جو مثلاً کیا ذکر کیا؟ آپ کے چچاؤں کی بیٹیاں ہیں، آپ کی پھپھیوں کی بیٹیاں ہیں، آپ کے ماموؤں کی بیٹیاں ہیں، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں ہیں۔ یہ بھی آپ کے لیے حلال ہیں، لیکن ان کے ساتھ قید ذکر کر دی، شرط یہ ہے کہ جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ... جو ان میں سے ہجرت کر لیں یعنی قریش کی وہ عورتیں جو آپ کے ساتھ ہجرت کر لیں آپ کے رشتہ دار، وہ آپ کے لیے حلال ہیں۔ یرحمک اللہ۔ وہ آپ کے لیے حلال ہیں۔ اس سے کیا معلوم ہوا؟ جنہوں نے ہجرت نہیں کی وہ پیغمبر علیہ السلام کے لیے حلال نہیں ہیں بھئی۔ وامراۃ مومنۃ، اور وہ مومنہ عورت، ان وہبت نفسہا للنبی، اگر وہ ہبہ کر دے اپنے نفس کو، اپنی ذات کو پیغمبر کے لیے، اگر کوئی مومنہ عورت اپنے نفس کو ہبہ کر دے پیغمبر کے لیے تو وہ بھی پیغمبر کے لیے حلال ہیں، ان اراد النبی ان یستنکحہا، اگر نبی کا ارادہ ہو ان یستنکحہا کہ ان سے نکاح کر لے۔ اگر پیغمبر کا ان سے نکاح کا ارادہ ہو تو یہ عورتیں بھی پیغمبر کے لیے حلال ہیں جو اپنے نفس کو پیغمبر کو ہبہ کر دیں۔ پیغمبر کو کیا کر دیں؟ ہبہ کر دیں، یعنی بغیر مہر کے ہی اپنے آپ کو پیغمبر کے عقد کے لیے پیش کر دیں بھئی۔ کس کے لیے پیش کر دیں؟ پیغمبر، تو یہ بھی پیغمبر کے لیے حلال ہیں جو اپنے نفس کو ہبہ کر دیں بشرطیکہ پیغمبر کا ارادہ ان کے ساتھ نکاح کا ہو۔ تو چار قسم کی عورتیں ذکر ہو گئیں جو پیغمبر کے لیے حلال ہیں۔ ایک وہ عورتیں جن کا وہ مہر دے چکے ہیں یعنی جو ان کے عقد میں ہیں اللہ نے فرما رہے ہیں کہ وہ بھی ہم نے آپ کے لیے حلال رکھی ہیں، اسی طرح وہ باندیاں، وہ جو مملوکہ ہیں آپ کی، جو باندیاں ہیں وہ بھی آپ کے لیے حلال ہیں، اور آپ کے خاندان کی وہ عورتیں بھی آپ کے لیے حلال ہیں جو ہجرت کر چکی ہوں، جنہوں نے ہجرت نہیں کی معلوم ہوا وہ حلال نہیں، ان سے آپ نکاح نہیں کر سکتے۔ اور کوئی مسلمان عورت، کوئی مومنہ عورت اگر اپنے آپ کو پیغمبر کو ہبہ کر دے یعنی بغیر مہر کے پیغمبر کو دے دے اپنے نفس کو اور پیغمبر کا ارادہ بھی ان سے نکاح کا ہو تو یہ عورت بھی پیغمبر کے لیے حلال ہے۔ آگے اللہ فرماتے ہیں، خالضۃ لک من دون المومنین، خالص آپ کے لیے علاوہ مومنین کے۔ مومنین کے علاوہ یہ خالص یعنی خاص طور پر آپ کے لیے ہے کہ کوئی عورت بغیر مہر کے اپنے آپ کو آپ کے لیے پیش کر دے اور آپ کا ارادہ اس سے نکاح کا ہو تو یہ آپ کے لیے جائز ہے۔ جبکہ کوئی اور مومن، وہ بغیر مہر کے نہیں ہو سکتا وہاں۔ آپ فقہ کے اندر تفصیل پڑھ چکے ہیں بھئی، کہ ہبہ وغیرہ کے لفظ سے بھی نکاح منعقد ہو جائے گا، یعنی وہ الفاظ جن میں دوسرے کو ایک چیز کا مالک بنایا جاتا ہے۔ ہبہ کہتے ہیں نا تحفہ دینا، اردو میں عام لفظ جو عام چیزیں، کوئی چیز کسی کو دیتا ہے کہتے ہیں میں نے اسے ہبہ کی یعنی تحفہ دیا، تو اس میں اسے مالک بنا دیا جاتا ہے۔ تو وہ الفاظ جن کے ذریعے کسی دوسرے کو چیز کا مالک بنایا جاتا ہے ہمارے نزدیک ان سے بھی نکاح منعقد ہو جاتا ہے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ نکاح کے اندر مہر کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ذکر کیا جائے تو وہ مہر بن جائے گا اور کم از کم وہ دس درہم کی مقدار ہے، اس سے کم مہر ہمارے نزدیک جائز نہیں، اگر اس سے کم بھی ذکر کریں تو کتنا ہوگا؟ دس درہم ہی ہوں گے۔ اور اگر مہر سرے سے ذکر ہی نہیں کیا تو پھر اگر بعد میں کوئی مہر مقرر کر لیں وہ بھی ٹھیک ہے، اور اگر بعد میں بھی مقرر نہیں کرتے پھر مہر مثل آ جایا کرتا ہے۔ کیا آتا ہے؟ مہر مثل۔ تو عام مومنین کے لیے یہ حکم ہے کہ بغیر مہر کے کوئی عورت ان کے عقد میں آئے یہ درست نہیں ہے، جبکہ پیغمبر کے لیے اللہ فرما رہے ہیں خاص طور پر، خالص آپ کے لیے ہے کہ بغیر مہر کے بھی اگر کوئی عورت اپنے آپ کو ہبہ کرتی ہے اور آپ کا ارادہ اس سے نکاح کا ہو تو وہ آپ کے لیے حلال ہے بھئی۔ یہ معنی ہے خالضۃ لک من دون المومنین، خالص آپ کے لیے نہ کہ اور مومنین کے لیے۔ قد علمنا ما فرضنا علیہم، تحقیق ہم جانتے ہیں وہ جو ہم نے مقرر کیا ہے علیہم مسلمان مردوں پر یعنی خاوندوں پر، فی ازواجہم، ان کی بیویوں کے بارے میں۔ تحقیق ہم جانتے ہیں، ما، وہ جو، فرضنا علیہم، جو ہم نے... ہم نے مقرر کیا ہے خاوندوں پر، فی ازواجہم، ان کی بیویوں کے بارے میں، وما ملکت ایمانہم، اور ان کی... اور وہ جن... جو جس... جن کے ان کے دائیں ہاتھ مالک ہیں یعنی وہ جو ان کی باندیاں ہیں۔ تحقیق ہم جانتے ہیں وہ جو ہم نے فرض کیا ہے خاوندوں پر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان کی باندیوں کے بارے میں۔ یعنی بیویوں کے بارے میں مہر ہم نے مقرر کیا ہے اور اسی طرح ان کا نفقہ مقرر کیا ہے بھئی۔ کیا کیا ہے؟ نفقہ مقرر کیا ہے۔ اسی طرح... اور باندیوں کے بارے میں نفقہ ہم نے... کیونکہ باندی میں تو مہر نہیں ہوتا، باندی تو اپنی مملوکہ ہوتی ہے، ہاں البتہ اس کا بھی نفقہ مالک پر واجب ہوتا ہے بھئی۔ تو اللہ ج... فرما رہے ہیں کہ ہم جانتے ہیں جو ہم نے مسلمان مردوں پر یعنی ان خاوندوں پر مقرر کیا ہے ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان کی مملوکہ باندیوں کے بارے میں۔ لکی لا یکون علیک حرج، تاکہ نہ ہو آپ پر کوئی حرج، کوئی تنگی نہ ہو، وكان الله غفورا رحیما، اور اللہ مغفرت فرمانے والے اور نہایت رحم کرنے والے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا آیت کا؟ ترجی من تشاء منہن وتؤوی الیک من تشاء، ارجاء یرجی کے معنی ہوتے ہیں مؤخر کرنا اور ملتوی کرنا، کسی چیز کو مؤخر کرنا اور ملتوی کرنا۔ یاد رکھیے! جس... جو شخص جو ہے اس کی دو یا تین یا چار بیویاں ہوں، چار بیویوں تک کی اجازت دی ہے شریعت نے، تو اگر دو ہوں بیویاں یا تین ہوں یا چار ہوں تو ان میں مساوات کرنا ضروری ہے بھئی، شریعت نے حکم دیا کہ ان میں برابری کرو ہر معاملے کے اندر بھئی، ہر معاملے کے اندر۔ جیسے... جیسا نفقہ ایک کو دیتے ہو ویسا ہی نفقہ دوسری کو بھی دو، جو چیز ایک کے لیے لاتے ہو وہی چیز دوسری کے لیے بھی لے کر آؤ، اسی طرح باری کی بھی تقسیم کر دی... باری کی بھی تقسیم کہ ایک رات ایک کے پاس گزارتے ہو گھر میں، ایک کے گھر میں تو دوسری رات دوسری کے پاس گزارنا ضروری، تیسری اگر تیسری بیوی ہے تو اس کے بعد، یعنی باری کے اندر بھی مساوات ضروری ہے بھئی۔ ایک کے پاس مثلاً دو تین دن رہتا ہے تو دوسری کے پاس بھی دو تین دن رہے، تیسری کے پاس بھی دو تین دن، تو باری کے اندر بھی مساوات ضروری ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو مثلاً ایک کے گھر پر رہتا ہے ایک دو دن، تو دوسری کے گھر بھی ایک دو دن رہے، تو یہ باری کے اندر مساوات ضروری ہے، ہاں صحبت میں مساوات ضروری نہیں ہے بھئی۔ صحبت میں مساوات ضروری نہیں، ہاں البتہ ایک کے پاس، ایک کے گھر ایک رات گزارتا ہے تو اب ضروری ہے کہ دوسری کے پاس بھی ایک رات گزارے، تیسری کے پاس بھی ایک رات گزارے تو مساوات ہونی چاہیے۔ لیکن حضور علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ، ان کے بارے میں اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ ترجی من تشاء منہن، کہ آپ... ارجاء یرجی کا کیا معنی بتلایا میں نے؟ مؤخر کرنا، ملتوی کرنا۔ یعنی مؤخر کریں، پیچھے رکھیں آپ، من تشاء، جسے آپ چاہیں، منہن، ان میں سے، وتؤوی الیک، اور ٹھکانہ دیں اپنے پاس، یعنی جگہ دیں اپنے پاس، من تشاء، جسے آپ چاہیں۔ یعنی آپ پر یہ باری کی تقسیم اس طرح واجب نہیں ہے۔ آپ، اے پیغمبر! جسے چاہیں پیچھے رکھیں یعنی یا ملتوی کر دیں اس کی باری، اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں۔ یعنی آپ پر یہ باری کی تقسیم واجب نہیں ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ معنی اچھی طرح؟ ترجی من تشاء منہن، آپ اب... دور کریں آپ جس کو چاہیں ان میں سے، وتؤوی الیک من تشاء، اور جگہ دیں اپنے پاس جس کو آپ چاہیں۔ ومن ابتغیت ممن عزلت فلا جناح علیک، ومن ابتغیت، اور وہ جسے آپ طلب کریں، ابتغاء کا معنی طلب کرنا، چاہنا۔ اور وہ جسے آپ طلب کریں، وہ جسے آپ چاہیں، ممن، ان میں سے، عزلت، جسے آپ جدا کر چکے ہیں۔ مثلاً ایک بیوی ہے آپ اس کو جدا کر چکے ہیں، اس کی باری آپ نے ختم کر دی اور اس کے پاس... ان کے پاس تشریف ہی نہیں لے جاتے، تو یہ بھی آپ کے لیے جائز ہے اور پھر جس کو جدا کر دیا تھا اگر پھر اس کو آپ طلب کرتے ہیں، پھر اس کے باری مقرر کرتے ہیں، اس کے پاس جاتے ہیں تو اس میں بھی آپ پر کوئی حرج نہیں ہے، آپ کے لیے جائز ہے۔ یہ معنی ہے، ومن ابتغیت، اور جسے آپ طلب کریں، ممن عزلت، ان میں سے جن کو آپ نے جدا کر دیا تھا، فلا جناح علیک، تو آپ پر کوئی حرج نہیں ہے، آپ پر کوئی تنگی نہیں ہے۔ ذلک ادنی، یہ بات زیادہ قریب ہے، ان تقر اعینہن، کہ ٹھنڈی رہیں ان کی آنکھیں، آپ کے ان ازواج کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں، یہ اس میں زیادہ قریب ہے اس میں یہ جو ہم نے حکم دیا، ولا یحزن، اور یہ کہ وہ غمگین نہ ہوں، ویرضین، اور راضی ہو جائیں، بما اتیتہن، اس پر جو آپ انہیں دیں، کلہن، سب کی سب۔ ذلک ادنی، یہ بات زیادہ قریب ہے، یہ جو ہم نے حکم دیا بھئی کہ جس کو چاہیں آپ قریب کریں، جس کو چاہیں جدا کر دیں، اور پھر جسے جدا کیا ہے چاہیں تو پھر اس کو اپنے قریب کر لیں، اس میں یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ ان بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی، ولا یحزن، اور وہ غمگین نہ ہوں گی، ویرضین، اور وہ راضی ہوں گی بما اتیتہن، اس پر جو آپ انہیں دیں گے، کلہن، سب کی سب۔ واللہ یعلم ما فی قلوبکم، اور اللہ جانتے ہیں وہ جو تمہارے دلوں میں ہے، وكان الله علیما حلیما، اور اللہ جاننے والے، بردبار ہیں۔ حلیم کا کیا معنی؟ بردبار، تحمل والے ہیں اللہ، تحمل والے ہیں۔ بائی دیکھیے! اللہ نے حکم دیا کہ اے پیغمبر، آپ پر یہ باری کی تقسیم واجب نہیں ہے۔ جس بیوی کو چاہیں آپ باری اس کی مقرر کریں، جس کے بارے میں نہیں چاہتے آپ کی مرضی ہے آپ چاہیں تو اس کی باری مقرر نہ کریں، اس کو الگ کر دیں۔ اور پھر جسے الگ کیا ہے پھر بھی آپ اسے طلب کرنا چاہیں تو آپ طلب کر سکتے ہیں، اس میں آپ پر کوئی حرج نہیں ہے۔ اور یہ بات زیادہ قریب ہے کہ اس سے ان بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی، وہ غمگین نہ ہوں گی، اور جو کچھ آپ انہیں دیں گے وہ سب کی سب اس پر راضی رہیں گی۔ یہ اس لیے اللہ دیکھیے یہ خود علت بھی اللہ نے ذکر فرما دی، اس حکم کا فائدہ بھی بتلا دیا۔ کیونکہ اگر پیغمبر پر باری کی تقسیم واجب ہو تو پھر بیویوں میں ہمیشہ اسی کی کشمکش رہے بھئی۔ اور اللہ نے جب بد... حکم آ گیا، بتلا دیا گیا کہ پیغمبر پر ان میں سے کوئی بھی چیز واجب نہیں ہے، بیویوں کو پتہ چل گیا، تو اب آپس میں کسی جھگڑے کا امکان ہی نہ رہا۔ انہیں پتہ چل گیا کہ پیغمبر ہمارے پاس آتے ہیں، ہمیں جو کچھ دیتے ہیں، یہ ہمارا حق نہیں ہے، یہ پیغمبر کی مہربانی ہے۔ پیغمبر کی مہربانی ہے کہ یہ ہمارے پاس آ جاتے ہیں، ہماری باری بھی مقرر کی ہے، تو اسی پر وہ خوش رہیں گی اور آپس میں کسی قسم کے لڑائی جھگڑے کا امکان ہی نہیں رہے گا ورنہ... تو اگر پیغمبر پر واجب ہو یہ چیز، پھر تو ہم اسی کشمکش میں... بات اسی کشمکش میں رہے اور دعوت و تبلیغ کی طرف اتنی توجہ نہ ہو سکے گی، پھر تو یہ اسی کشمکش کی طرف توجہ ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اللہ فرما رہے ہیں یہاں اس بات میں یہ زیادہ قریب ہے کہ اس سے ان بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ غمزدہ نہ ہوں گی اور راضی ہوں گی اس پر جو آپ انہیں دے دیں گے سب کے سب، وہ اس پر راضی ہوں گی۔ لا يحل لك النساء من بعد، اس آیت کا شان نزول پہلے گزر چکا ہے۔ میں نے بتلایا تھا کہ یہ جب تمام صحابہ آسودہ حال ہو گئے غزوۂ خیبر کے بعد، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ ہمارے نفقے میں کچھ اضافہ فرمائیں اور کپڑوں وغیرہ کا مطالبہ کیا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات سے تکلیف ہوئی اور آپ نے ایک مہینے تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھائی بھئی۔ اور ایک ماہ کے بعد پھر وہ آیت نازل ہوئی جو اس سے کچھ ایک آدھ دو سبق قبل گزری کہ اے پیغمبر! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر وہ آپ کو اور اللہ کو اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہیں تو اسی پر گزارا کریں اور اگر وہ دنیا اور اس کی زینت کو چاہتی ہیں تو انہیں اچھے طریقے سے رخصت کر دیجیے۔ اور پھر میں نے بتلایا تھا کہ تمام ازواج مطہرات نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور دار آخرت ہی کو اختیار کیا۔ تو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں نو ازواج تھیں بھئی، نو ازواج۔ کون کون سی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھئی۔ جیم پر ضمہ پڑھیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ جاریہ کی تصغیر ہے اور جیم پر ضمہ بھئی۔ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ تو انہوں نے جب اللہ اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو اختیار کیا تو اللہ کی طرف سے بھی حکم نازل ہو گیا کہ اے پیغمبر! ان عورتوں کے بعد اب اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں ہیں اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں نو ازواج مطہرات تھیں بھئی، نو ازواج مطہرات: حضرت عائشہ، حضرت حفصہ، حضرت سودہ، حضرت ام سلمہ، حضرت زینب، حضرت ام حبیبہ، حضرت جویریہ، حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن بھئی۔ یہ نو ازواج تھیں بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اگر امتحان میں یہ آ جائے نو... حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت کون سی ازواج آپ کے عقد میں تھیں؟ تو یہ نو نام لکھ سکتے ہیں یا نہیں لکھ سکتے بھئی؟ اچھا۔ جی، تو یہ حکم نازل ہو گیا اللہ کی طرف سے پھر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ انہوں نے اللہ کو اور اللہ کے رسول کو اور دار آخرت کو ترجیح دی تھی تو اللہ نے بھی ان کی عزت اور تکریم کے کے طور پر پھر یہ حکم نازل فرما دیا کہ اے پیغمبر! ان بیویوں کے بعد اب اور بیویاں آپ کے لیے حلال نہیں ہیں۔ جی، تو دیکھیے اب آیت میں: لا يحل لك النساء من بعد، اے پیغمبر! آپ کے لیے حلال نہیں ہیں عورتیں ان کے بعد، یعنی ان عورتوں کے بعد اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں ہیں، ولا أن تبدل بهن من أزواج، اور نہ یہ کہ آپ بدل دیں ان سے، ان بیویوں سے، من أزواج، اور بیویوں کو۔ ان بیویوں سے بدل لیں اور بیویوں کو، یعنی ایسا بھی نہیں کر سکتے کہ ان میں سے کسی کو چھوڑ دیں اور اس کی جگہ کسی اور عورت سے نکاح کر لیں۔ بدل بھی نہیں سکتے۔ ولو أعجبك حسنهن، اگرچہ پسند آئے آپ کو ان کا حسن، اگرچہ اچھا لگے آپ کا حسن... آپ کو ان کا حسن، یعنی اگرچہ کوئی اور کسی اور عورت کا حسن، حسن و جمال آپ کو اچھا لگے پھر بھی آپ کے لیے اب کسی اور عورت سے ان کے بعد نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ إلا ما ملكت يمينك، مگر وہ جس کے... وہ جو آپ کی مملوکہ ہیں، جو آپ کی باندیاں ہیں۔ باندیوں کی اجازت ہے اور باندیوں کی، لیکن اور نکاح کرنے کی اجازت آپ کو نہیں ہے۔ باندیوں میں بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو حرم مشہور ہیں بھئی، دو حرم: ایک حضرت ماریہ قبطیہ، قاف دو نقطوں والا ہے، با ہے، طا۔ ماریہ قبطیہ، جو مصر کے بادشاہ مقوقس نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں بھیجی تھیں بھئی بطور ہدیہ کے، حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ اور انہی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم ہوئے اور پھر بچپن ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اور دوسری حضرت ریحانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھئی۔ وكان الله على كل شيء رقيبا، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہیں۔ نقیب، نگہبان۔ وكان الله على كل شيء رقيبا، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہیں۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ لا يحل لك النساء من بعد، ان عورتوں کے بعد اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں ہیں اور نہ یہ کہ آپ بدل لیں ان کے بدلے اور بیویوں کو اگرچہ آپ کو ان کا حسن اچھا لگے، حسن... اگرچہ آپ کو ان کا حسن و جمال اچھا لگے، إلا ما ملكت يمينك، مگر وہ جو آپ کی مملوکہ ہیں یعنی وہ جو آپ کی باندیاں ہیں، یعنی باندیوں میں کوئی حرج نہیں ہے، اور باندیاں بھی آپ رکھ سکتے ہیں۔ اور حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما عنہما سے روایت ہے کہ آخر عمر میں پھر یہ منع بھی موقوف ہو گئی تھی، یعنی اس کے بعد آپ کے لیے پھر نکاح کو اللہ نے حلال قرار دے دیا تھا۔ شروع میں پہلے تو یہ حکم نازل ہوا نا کہ اور عورتوں کے ساتھ آپ کے لیے نکاح حلال نہیں، لیکن آخر عمر میں روایات میں آتا ہے کہ یہ منع موقوف ہو گئی تھی اور اس حکم کو اٹھا لیا گیا تھا آپ کے لیے اور نکاح کی اجازت دے دی گئی تھی بھئی آپ کو، لیکن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نکاح نہیں فرمایا۔ یاد رکھیے! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے 25 سال کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کیا جو دو مرتبہ بیوہ ہو چکی تھیں بھئی، یکے بعد دیگرے ان کے دو خاوندوں کا انتقال ہو چکا تھا اور ان کی عمر اس وقت 40 سال تھی۔ تو حضور علیہ السلام نے ان سے نکاح کیا۔ اور پھر اس کے بعد ہجرت سے کچھ عرصہ قبل ان کا انتقال ہوا، 53 برس کی عمر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی بھئی۔ تو یہ سارا عرصہ حضور علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ گزارا۔ اور اس کے بعد جب ہجرت کی، پھر اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کیا اور یہ حضور صلی... صلی اللہ علیہ وسلم کی واحد زوجہ تھیں جو کنواری تھیں بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جب انتقال ہوا تو حضرت عائشہ کی عمر اس وقت 20 سال سے بھی کم تھی بھئی، 20 سال سے بھی۔ اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے محبوب ازواج میں سے تھیں، حضور... حدیث میں آتا ہے کہ عائشہ کی فضیلت عورتوں پر اسی طرح ہے جس طرح ثرید کی اور کھانوں پر۔ ثرید ایک عرب کا مخصوص کھانا جس میں روٹی کے ٹکڑے کر کے ان پر شوربہ وغیرہ ڈال دیا جاتا ہے اور تو وہ سب سے بہترین اور پسندیدہ کھانا تھا عرب کا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے مرغوب غذا تھی، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عائشہ کی فضیلت عورتوں پر اسی طرح ہے جس طرح ثرید کی ہے۔ اس کے بعد پھر حضور علیہ السلام نے ان کے علاوہ بھی اور از... عورتوں سے نکاح کیے جیسے کہ ابھی ذکر ہوا کہ وفات کے وقت آپ کی زوجیت میں نو ازواج تھیں۔ باقی جتنی بھی ازواج تھیں، وہ ان میں سے بھی ہر ایک کو کسی کو ایک مرتبہ طلاق ہو چکی، کسی کو زیادہ، کسی کے ایک خاوند کا انتقال ہو چکا، کسی کے دو کا، کسی کے تین کا یکے بعد دیگرے انتقال ہو چکا۔ اور عام امت کے افراد جو ہیں، ان کو چار سے زائد نکاح کی اجازت نہیں، لیکن حضور علیہ السلام کو کی یہ تخصیص تھی کہ آپ کو اور نکاح کی بھی اجازت دی گئی، چار سے زائد کی بھی اجازت دی گئی۔ اور اس میں بہت سی مصلحتیں تھیں بھئی، بہت سی مصلحتیں۔ ایک بڑی مصلحت ان میں یہ تھی، بڑی مصلحت، کہ جیسے مردوں کو اسلام کے احکام ان کے لیے ضروری ہیں، اسی طرح عورتوں کے لیے بھی ضروری ہیں۔ تو جب ازواج زیادہ ہوں گی، تو عورتوں کے ساتھ ملنا جلنا ہر ایک کی ملنے والی ہوں گی، تو عورتوں کو بھی کیا ہو جائے گا؟ احکام سب تک آسانی سے پہنچ جائیں گے بھئی۔ مردوں کے لیے جس طرح احکامات ہیں، اسی طرح عورتوں کے لیے بھی احکامات ہیں، تو تاکہ عورتوں تک اسلام کے احکام پہنچ جائیں، عورتوں کے جو مسائل ہیں، وہ تمام عورتوں کو معلوم ہو جائیں، اسلامی احکامات ان تک پہنچ جائیں۔ دوسری حکمت اس کے اندر یہ تھی کہ گھر کے باہر کے جو آپ کے طریقہ وغیرہ تھا، وہ تو صحابہ دیکھ لیتے تھے، تو گھر کے اندر گھر کے امور، گھر کے اندر کی باتیں، ان میں آپ کی عادت، سنت وغیرہ تھی، تاکہ ان کو بھی لوگوں کو علم ہو۔ تو ازواج زیادہ ہوں گی تو ہر ایک کسی سے کچھ نہ کچھ باتیں وہ لوگ پوچھنے آئیں گے، تو اس طرح ازواج زیادہ ہوں گی تو سس... ساری تفصیلات لوگوں کے سامنے آ جائیں گی۔ تیسری حکمت اس کے اندر یہ تھی کہ یہ عورتیں مختلف قبیلوں کی تھیں۔ مختلف قبیلوں کی، تو مختلف قبیلے، اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا، تو تمام کفار جو تھے، تمام عرب مخالف تھے، پھر جب حضور علیہ السلام جب ان سے نکاح کیا ان عورتوں سے، تو ان خاندانوں کو، ان قبیلوں کو بھی یہ فضیلت اور یہ شرف حاصل ہو گیا کہ ایک پیغمبر ان کے داماد بن گئے بھئی۔ ان کے خاندان، ان کے قبیلے کی عورت سے نکاح کیا، تو ان کے لیے کیا بن گئے؟ ان کے داماد بن گئے، تو آپس میں ان کی جو وہ جو نفرت تھی تاکہ اس میں کمی آ جائے، وہ پیغمبر کو اپنا سمجھیں، اپنا مخالف نہ سمجھیں اور جب اپنا سمجھیں گے، تو اسلام کی طرف راغب ہوں گے اور اسلام قبول کریں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو تین فائدے میں نے ذکر کر دیے جو بڑے کہ ایک تو یہ تاکہ یہ دین جو ہے، عورتوں تک بھی پہنچ جائے اچھی طرح، خوب اچھی طرح، اور یہ ازواج زیادہ ہوں، تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے، کم ایک بیوی ہو تو اس صورت میں، ایک یا دو ہوں تو اس میں نہیں ہو سکتا۔ دوسرا یہ تاکہ گھریلو امور کی بھی پوری تفصیل جو ہے، وہ لوگوں کے سامنے آ جائے۔ اور تیسرا... تیسری وجہ تاکہ مختلف قبیلے جو ہیں، ان کی وہ اسلام کی اور پیغمبر کی جو مخالفت ہے تاکہ اس میں کمی آ جائے بھئی، وہ ختم ہو جائے۔ تو بعض لوگ حضور علیہ السلام پر یہ کثرتِ ازواج کا طعنہ دیتے ہیں بھئی کہ آپ کے پیغمبر نے... تو بھئی، یہ پیغمبروں کو تو زیادہ نکاح کی، یہ صرف حضور علیہ السلام کے ساتھ خاص نہیں ہے، آپ سے پہلے بھی جو پیغمبر گزرے، ان کو بھی زیادہ ازواج کی اجازت دی گئی بھئی... زیادہ۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ ان کی 100 بیویاں تھیں بھئی۔ حضرت... اور حضرت سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں آتا ہے، جسے اللہ نے عظیم بادشاہت بھی نصیب فرمائی تھی، ان کے بارے میں آتا ہے کہ ان کی 300 بیویاں تھیں بھئی، 300۔ تو حضور علیہ السلام کی تو صرف نو ازواج بیک وقت تھیں بھئی۔ اور حدیث میں آتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے 40 جنتی مردوں کے برابر طاقت دی گئی ہے۔ 40 جنتی مردوں کے برابر طاقت، اور ایک جنتی کی طاقت دنیا کے 100 مردوں کے برابر ہے۔ تو 40 جنتیوں کی طاقت کتنی ہو گئی؟ 4,000 دنیا کے اف... مردوں کے برابر طاقت، یعنی حضور علیہ السلام کو 4,000 مردوں کے برابر طاقت دی گئی تھی۔ طاقت دی گئی تھی۔ سمجھ میں آیا؟ چنانچہ بھئی، روایات میں آتا ہے کہ عرب کے ایک بہت بڑے اور بہت مشہور پہلوان تھے، رکانہ بھئی، رکانہ۔ اتنے مضبوط، اتنے طاقتور، اور اتنے قوی اور جسم ان کا اتنا بڑا اور اتنی طاقت، کہتے ہیں کہ وہ چمڑے پر کھڑے ہو جاتے، مثلاً اونٹ کی کھال ہے یا گائے وغیرہ کی کھال ہے، اس کے چمڑے پر کھڑے ہو جاتے اور کئی افراد، آٹھ دس افراد مل کر وہ چمڑا کھینچتے تھے، یہ مضبوطی سے اس پر جم کر کھڑے ہو جاتے۔ ان کی طاقت کا اندازہ لگائیں کہ وہ کہتے ہیں وہ دس آدمی مل کر ان کو اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتے تھے، وہ چمڑا پھٹ جاتا تھا، لیکن اس کو ہلا نہیں سکتے تھے، اتنی طاقتور! پورے عرب میں مشہور تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دعوت دی کہ بھئی، اسلام لے آؤ، توحید پر آ جاؤ۔ کہنے لگے: آپ میرے ساتھ کشتی لڑیں، اگر آپ نے مجھے شکست دے دی تو پھر میں اسلام لے آؤں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تیار ہو گئے، ٹھیک ہے بھئی، آ جاؤ۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ کشتی شروع ہوئی، وہ آگے ہوا، حضور علیہ السلام نے اس... ان کو یوں پکڑا جیسے چھوٹا سا بچہ نہیں ہوتا؟ آپ کے سامنے دو چار سال کا بچہ، اس کو آپ آرام سے نیچے لٹا دیتے ہیں پکڑ کے، حضور علیہ السلام نے ان کو اس طرح آرام سے پکڑا اور نیچے گرا دیا۔ وہ حیران ہوئے، یہ کیا ہوا؟ حضور علیہ السلام نے فرمایا: بس بھئی۔ کہنے لگا: نہیں نہیں، پھر کریں، یہ صحیح نہیں ہوئی۔ پھر اس نے دوبارہ بھئی اسی طرح، حضور علیہ السلام نے آرام سے پکڑ کے ان کو گرا دیا بھئی۔ 40 جنتیوں کی، 4,000 مردوں کی طاقت دی گئی ہو تو ایک مرد کیا کر سکتا ہے وہاں پر بھئی؟ چاہے پہلوان ہو، جو مرضی ہو۔ پھر گرایا، پھر اس نے کہا تیسری مرتبہ پھر کریں۔ پھر تیسری مرتبہ اسی طرح انہیں گرایا، تو پھر وہ مسلمان ہو گئے بھئی اور ایمان لے آئے حضرت رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی۔ تو حضور علیہ السلام کو 4,000 دنیا کے مردوں کے برابر طاقت گویا دی گئی تھی اور آپ کے عقد میں ایک وقت میں صرف بیک وقت نو بیویاں رہیں، اگر آپ کے عقد میں 4,000 بیویاں بھی بیک وقت ہوتیں، تو یہ اسی طرح تھا جیسے ایک عام مرد کے عقد میں ایک بیوی ہو۔ اور ایک مرد کو چار کی اجازت ہے تو اس اعتبار سے تو آپ کو 16,000 بیویوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور تو حضور علیہ السلام پر بھئی، حکم بیان ہوا یہ اوپر کہ جسے آپ چاہیں، اپنے پاس جگہ دیں اور جسے چاہیں اپنے سے دور کر دیں، یعنی اس کی باری مقرر نہ کریں۔ اور تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی گئی تھی ہر طرح کی، لیکن اس کے باوجود بھئی، اس کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام زندگی کبھی اس سے ان کو اس... اپنے اس اختیار کو استعمال نہیں فرمایا اور بیویوں میں ہمیشہ عدل و انصاف رکھا، مساوات بھئی۔ صرف حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، وہ ضعیف ہو گئیں، بوڑھی ہو گئی تھیں، کسی بات پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طلاق دینے کا ارادہ کیا، تو کہنے لگیں کہ اے اللہ کے پیغمبر! آپ مجھے طلاق نہ دیں، میں بوڑھی ہو گئی ہوں، آپ مجھے طلاق نہ دیں، میں اپنی باری عائشہ کو دیتی ہوں۔ میں اپنی باری عائشہ کو دیتی ہوں، آپ مجھے طلاق نہ دیں، میں چاہتی ہوں کہ آخرت میں بھی اسی طرح آپ کی زوجیت کا مجھے شرف حاصل رہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ وہ عورتیں تھیں دانا عورتیں، جلی... اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کے لیے منتخب فرمایا تھا اور پھر ان کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھریلو امور، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنتیں، وہ ساری امت کے سامنے آئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے محبوب بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ جن سے محبت تھی، علماء لکھتے ہیں کہ پیغمبر کی محبت بلا وجہ نہیں تھی۔ حضرت عائشہ نے دین کی وہ خدمت کی، وہ کام سرانجام دیا کہ انسان حیران ہوتا ہے بھئی۔ دین کا ایک بہت بڑا حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے منقول ہے بھئی، بہت بڑا حصہ۔ وہ اس امت کی سب سے بڑی محدثہ تھیں بھئی، سب سے زیادہ بڑی، سب سے بڑی محدثہ تھیں۔ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
69 approved lectures · 32 of 69