Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-031

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم۔ يا أيها الذين آمنوا اذكروا الله ذكرا كثيرا، وسبحوه بكرة وأصيلا۔ هو الذي يصلي عليكم وملائكته ليخرجكم من الظلمات إلى النور، وكان بالمؤمنين رحيما۔ يا أيها الذين آمنوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، اذكروا الله ذكرا كثيرا، تم یاد کرو اللہ کو کثرت سے۔ تم اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ وسبحوه بكرة وأصيلا، اور تم تسبيح بيان کرو اس کی، وسبحوه، اور تم اس کی، یعنی اللہ کی، اور تم اللہ کی تسبیح بیان کرو، بكرة، بكرة، صبح، وأصيلا، اور شام کو۔ وسبحوه بكرة وأصيلا، اور تم اللہ کی تسبیح بیان کرو، یعنی پاکی بیان کرو صبح اور شام کے وقت۔ یعنی ہر وقت کثرت سے، خوب کثرت سے ذکر کرتے رہو، صبح شام اللہ کی پاکی بیان کرتے رہو۔ هو الذي يصلي عليكم، وہ ذات رحمت بھیجتی ہے تمہارے اوپر، وملائكته، اور اس کے ملائکہ بھی، ليخرجكم، تاکہ نکالے تم لوگوں کو، من الظلمات إلى النور، اندھیروں سے، تاریکیوں سے، إلى النور، نور کی طرف، روشنی کی طرف۔ اللہ اور اس کے فرشتے تم پر، اے مومنین، رحمت بھیجتے ہیں، ليخرجكم، تاکہ نکالے تمہیں، من الظلمات إلى النور، اندھیروں سے روشنی کی طرف۔ یعنی گمراہی اور جہالت کی تاریکیوں سے، گمراہی اور جہالت کی تاریکیوں سے حق اور علم کے نور کی طرف۔ وكان بالمؤمنين رحيما، اور اللہ مومنوں پر نہایت رحم کرنے والے ہیں۔ تحيتهم يوم يلقونه سلام۔ تحیت کہتے ہیں دعا کو۔ تحيتهم، ان مومنین کی دعا، یعنی ان کے لیے جو دعائیہ کلمہ ہوگا، يوم يلقونه، جس دن وہ مومنین اللہ سے ملاقات کریں گے، تو ان کا دعائیہ کلمہ کیا ہوگا؟ سلام، سلام ہوگا۔ یعنی اللہ ان پر سلام بھیجیں گے اور فرشتے بھی ان کے پاس آکر انہیں سلام کریں گے، اور مومنین آپس میں بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے، یعنی السلام علیکم کہیں گے۔ تحيتهم يوم يلقونه سلام، ان مومنین کی دعا جس دن کہ وہ اللہ سے ملاقات کریں گے وہ سلام ہوگا۔ وأعد لهم أجرا كريما، وأعد لهم، اور اللہ نے تیار کر رکھا ہے ان مومنین کے لیے، أجرا كريما، عزت والا اجر۔ اللہ نے ان کے لیے عزت والا اجر تیار کر رکھا ہے۔ يا أيها النبي إنا أرسلناك شاهدا ومبشرا ونذيرا، اے پیغمبر، یقیناً ہم نے، أرسلناك، آپ کو بھیجا، شاهدا، اس حال میں کہ آپ شاہد ہیں، گواہ ہیں، ومبشرا، اور اس حال میں کہ آپ خوشخبری دینے والے ہیں، ونذيرا، اور اس حال میں کہ آپ ڈرانے والے ہیں۔ وداعيا إلى الله، اور اس حال میں کہ آپ بلانے والے ہیں اللہ کی طرف، بإذنه، اس کی اجازت سے، یعنی اللہ کی اجازت سے۔ وسراجا منيرا، اور اس حال میں کہ آپ روشن چراغ ہیں، چمکتے ہوئے چراغ ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ يا أيها النبي إنا أرسلناك شاهدا ومبشرا ونذيرا، یقیناً ہم نے آپ کو گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کی طرف بلانے والا اللہ کے حکم سے، وسراجا منيرا، اور روشن چراغ بنا کر بھیجا۔ اے پیغمبر، ہم نے آپ کو گواہ بنا کر بھیجا، خوشخبری دینے والا بنا کر اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، اور وہ ایسا شخص جو اللہ کی طرف دعوت دینے والا ہو اللہ کے حکم سے، وہ بنا کر بھیجا، اور چمکتا ہوا چراغ بنا کر بھیجا۔ تو یہ شاهدا ومبشرا وغیرہ جو ہیں، یہ حال واقع ہو رہے ہیں، یہ أرسلناك، یہ کاف ضمیر سے، بھئی۔ اس حال میں کہ آپ کیا ہیں؟ گواہ ہیں۔ گواہ کیا معنی؟ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن گواہی دیں گے، بھئی۔ اپنی امت کے بارے میں کہ کس کس نے میرے پیغام کو قبول کر لیا تھا اور کس کس نے میرے پیغام کو قبول نہیں کیا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب صبح اور شام حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی امت کو پیش نہ کیا جاتا ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پہچانتے ہیں۔ تو ہر روز کیا کیا جاتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی امت کو پیش کیا جاتا ہے، بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہچانتے ہیں کہ کون میرے طریقہ پر چل رہا ہے اور کون میرے طریقہ پر نہیں چل رہا۔ یا اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے انبیاء کے بارے میں بھی گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنا اپنا پیغام، جو اللہ نے جو انہیں پیغام دے کر بھیجا تھا، جو دعوت دے کر بھیجا تھا، وہ انہوں نے اپنی امتوں کو پہنچا دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے۔ آپ کہیں گے بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو اس زمانے میں تھے ہی نہیں جب دوسرے انبیاء کو بھیجا گیا تھا، وہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھیجے گئے تھے، تو پھر گواہی کیسے دیں گے؟ بھئی، گواہی اس طرح کہ اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلا دیا کہ ہر پیغمبر نے کیا کیا؟ اپنے اپنے دعوت کو اور اپنے اپنے پیغام کو اپنی امت تک پہنچا دیا۔ اللہ نے بتلا دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو، قرآن میں جگہ جگہ ذکر آتا ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے کہ اللہ، آپ نے بتلا دیا تھا مجھے کہ یہ ہر ہر پیغمبر اپنی دعوت کو، اپنے پیغام کو اپنی امت تک پہنچا چکا ہے۔ بات سمجھ میں آئی سب کو، بھئی؟ مفہوم اچھی طرح واضح ہو گیا؟ یہ معنی ہے کہ ہم نے آپ کو گواہ بنا کر بھیجا، ومبشرا، اور خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا۔ خوشخبری دینے والے ہیں یعنی مومنین کو، بھئی، مغفرت کی خوشخبری، جنت کی خوشخبری، اجر عظیم کی خوشخبری دینے والے ہیں۔ ونذيرا، اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، ڈرانے والے ہیں کفار کو، بھئی، اور گناہگاروں کو۔ وداعيا إلى الله، اور ہم نے آپ کو بھیجا اس حال میں کہ آپ دعوت دینے والے ہیں اللہ کی طرف اللہ کے حکم سے۔ وسراجا منيرا، اور ہم نے آپ کو سراج منیر، چمکتا ہوا چراغ بنا کر بھیجا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ چمکتا ہوا چراغ ہیں، وہ آفتابِ نبوت جس کی روشنی سے ہر شخص ہدایت حاصل کرتا ہے، اور جنت کا امیدوار ہو جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آئی، بھئی؟ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سراج منیر ہیں، بھئی، حق کے چراغ ہیں۔ دینِ مستقیم جو ہے، اس کے چراغ ہیں، علوم کے چراغ ہیں، جن کی روشنی پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ وبشر المؤمنين، اور اے پیغمبر، آپ خوشخبری دے دیجیے مومنین کو، بأن لهم من الله فضلا كبيرا، کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔ اے پیغمبر، آپ مومنین کو خوشخبری دے دیجیے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔ ولا تطع الكافرين والمنافقين، اور اے پیغمبر، آپ کہنا نہ مانیے کافروں کا اور منافقوں کا، ودع أذاهم، اور چھوڑ دیجیے ان کی تکلیف کو، ان کی اذیت کو۔ جو وہ آپ کو اذیت دیتے ہیں، تکلیف دیتے ہیں، یعنی اس کا خیال نہ کیجیے، اس کی پروا نہ کیجیے، اپنے دعوت و تبلیغ کے کام میں لگے رہیے۔ ودع أذاهم، اور چھوڑ دیجیے ان کی تکلیف کو، یعنی اس کا خیال نہ کیجیے، اس کی پروا نہ کیجیے، وتوكل على الله، اور بھروسہ کیجیے اللہ پر، وکفى بالله وكيلا، اور اللہ کافی ہیں باعتبار کارساز کے۔ یعنی کام، اللہ کام بنانے کے اعتبار سے کافی ہیں۔ یہ بات پہلے بھی گزر چکی، میں نے بتلایا تھا، وکفى بالله، یہ لفظِ اللہ لفظاً تو مجرور ہے لیکن معناً یہ مرفوع ہے، فاعل ہے کفیٰ کے لیے۔ يا أيها الذين آمنوا إذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل أن تمسوهن فما لكم عليهن منعدة تعتدونها، يا أيها الذين آمنوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، إذا نكحتم المؤمنات، جب تم نکاح کر لو مومنہ عورتوں سے، ثم طلقتموهن، پھر تم انہیں طلاق دے دو، من قبل أن تمسوهن، قبل اس کے کہ تم انہیں ہاتھ لگاؤ۔ مس کہتے ہیں ہاتھ لگانا، ہاتھ سے چھونا۔ قبل اس کے کہ تم انہیں ہاتھ لگاؤ، مراد ہے صحبت مراد ہے، یعنی ان سے صحبت کرنے سے پہلے ہی اگر تم انہیں طلاق دے دو، بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا، بھئی؟ یعنی انہیں صحبت، ان سے صحبت کرنے سے پہلے ہی اگر انہیں طلاق دے دو، فما لكم عليهن، پس نہیں ہے تمہارے لیے ان عورتوں پر، یعنی وہ جنہیں تم نے صحبت سے پہلے ہی طلاق دے دی ہو، تو تمہارے لیے نہیں ہے ان پر، منعدة، کوئی ایسی عدت، تعتدونها، جسے تم شمار کرو۔ عدت نکرہ آیا، تعتدونها، اس کے بعد فعل آیا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنتا ہے۔ تو اعتدیٰ یعتدوا کے معنی ہوتے ہیں شمار کرنا، اور ہا ضمیر اسی عدت کو راجع ہے۔ فما لكم عليهن منعدة تعتدونها، پس نہیں ہے تمہارے لیے ان پر کوئی ایسی عدت تعتدونها کہ جسے تم شمار کرنے لگو۔ यानी उन पर عدت نہیں ہے، بھئی۔ ان پر عدت، اگر کسی عورت سے صحبت نہیں کی، نکاح تو ہو گیا لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی، صحبت نہیں کی اور پہلے ہی اسے طلاق دے دی، تو اس پر عدت نہیں ہے۔ اور اگر صحبت کے بعد طلاق دی جائے تو پھر اس پر کیا ہوتی ہے؟ عدت ہوتی ہے، اور اس عدت کے پورا ہونے سے پہلے عورت کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتی۔ تو یہاں بتلایا جا رہا ہے کہ اگر صحبت سے پہلے ہی مومنو تم نے طلاق دے دی تو اس عورت پر کوئی عدت نہیں ہے کہ جسے تم شمار کرنے لگو۔ فمتعوهن، پس انہیں نفع دے دو، یعنی کچھ مال دے دو۔ اور وہ آپ جانتے ہیں، بھئی، فقہ میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ اگر صحبت سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے تو اور مہر پہلے مقرر کیا ہو، تو نصفِ مہر دینا پڑے گا۔ کتنا دینا پڑے گا؟ نصفِ مہر۔ یہ تب ہے اگر مہر پہلے مقرر کیا تھا، تو جو مقرر کیا تھا اس کا نصف دے دو۔ اور اگر پہلے مہر مقرر کیا ہی نہیں، تو پھر، پھر متعة الطلاق دے دیں گے، بھئی، یعنی کپڑوں کا ایک جوڑا دے دیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ فمتعوهن، تو ان کو نفع تھوڑا سا دے دو، وسرحوهن سراحا جميلا، اور رخصت کر دو انہیں اچھے طریقے سے رخصت کرنا، یعنی کوئی تکلیف وغیرہ نہ دو۔ تو صحبت سے پہلے کا یہ حکم ہے، بھئی، کہ نصف اگر مہر مقرر کیا ہے تو نصفِ مہر دینا پڑے گا، اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تو کپڑوں کا ایک جوڑا دینا پڑے گا۔ اور یاد رکھیے، عند الاحناف، ہمارے نزدیک جو ہے، خلوتِ صحیحہ کا بھی یہی حکم ہے۔ خلوتِ صحیحہ۔ خلوت کہتے ہیں تنہائی کو، تنہائی کو۔ خلوتِ صحیحہ یعنی صحیح تنہائی، پوری تنہائی مراد ہے۔ خلوتِ صحیحہ اسے کہتے ہیں کہ میاں بیوی تنہائی میں جمع ہو جائیں، نکاح ہو چکا اور دونوں میاں بیوی تنہائی میں جمع ہو جائیں، یعنی ایسی تنہائی ہو کہ اگر شوہر صحبت کرنا چاہے تو کر سکے۔ شوہر صحبت کرنا چاہے تو کر سکے، یہ ہے خلوتِ صحیحہ۔ اب ایک شخص کا مثلاً نکاح ہوا اور بیوی کی رخصتی ہو گئی، اس کے پاس آ گئی، اور یہ دونوں پھر ایک جگہ پر اکٹھے ہوئے کمرے میں، اور یہاں اب پورا موقع تھا وہ اس کے ساتھ صحبت کر سکتا تھا، لیکن اس نے صحبت نہیں کی، اور پھر اگلے دن طلاق دے دی، تو اب آپ یہ نہ کہیں کہ اس نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی، لہٰذا آدھا مہر دینا پڑے گا۔ بلکہ خلوتِ صحیحہ جو ہے کس کی طرح ہے؟ اس کا وہی حکم ہے جو صحبت کا ہے، اور صحبت کی صورت میں تو پورا مہر دینا پڑتا تھا، تو خلوتِ صحیحہ کی صورت میں بھی اب پورا مہر ہی دینا پڑے گا۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ جی، تو دوبارہ یہ آیت دیکھیے: يا أيها الذين آمنوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، إذا نكحتم المؤمنات، جب تم نکاح کر لو مومنہ عورتوں سے، ثم طلقتموهن، پھر تم انہیں طلاق دے دو، من قبل أن تمسوهن، قبل اس کے کہ ان کے ساتھ صحبت کرو، قبل اس کے کہ انہیں ہاتھ لگاؤ، فما لكم عليهن منعدة تعتدونها، پس نہیں ہے تمہارے لیے ان پر کوئی ایسی عدت کہ تم اسے شمار کرو، فمتعوهن، پس ان کو کچھ نفع دے دو، وسرحوهن، اور رخصت کر دو انہیں، سراحا جميلا، اچھی طرح رخصت کرنا۔ چلیے، بس، بھئی۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
69 approved lectures · 31 of 69