Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-029

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم. بسم اللہ الرحمن الرحيم. يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين أمتعكن وأسرحكن سراحاً جميلاً. وإن كنتن تردن الله ورسوله والدار الآخرة فإن الله أعد للمحسنات منكن أجراً عظيماً. يا نساء النبي من يأت منكن بفاحشة مبينة يضاعف لها العذاب ضعفين وكان ذلك على الله يسيراً. یا ایھا النبی قل لازواجک، اے پیغمبر! قل آپ کہہ دیجیے لازواجک اپنی بیویوں سے إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها اگر تم چاہتی ہو دنیاوی زندگی کو اور اس کی زینت کو فتعالين تو آ جاؤ أمتعكن میں تمہیں کچھ نفع دے دیتا ہوں وأسرحكن اور تمہیں رخصت کر دیتا ہوں سراحاً جميلاً اچھے طریقے سے رخصت کرنا، یعنی بغیر کسی تکلیف کے۔ اے پیغمبر! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے، إن كنتن تردن الحياة الدنيا اگر تم دنیاوی زندگی چاہتی ہو وزينتها اور اس دنیاوی زندگی کی زیب و زینت چاہتی ہو فتعالين تو آ جاؤ أمتعكن میں تمہیں کچھ نفع دے دیتا ہوں، کچھ مال وغیرہ، یعنی وہ متعۃ الطلاق مراد ہے، وہ کپڑے وغیرہ، وأسرحكن اور تمہیں میں رخصت کر دیتا ہوں، یعنی طلاق دے دیتا ہوں، سراحاً جميلاً اچھے طریقے سے رخصت کرنا، یعنی بغیر کسی تکلیف کے۔ وإن كنتن تردن الله ورسوله اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہو والدار الآخرة اور آخرت کے گھر کو، دارِ آخرت کو یعنی جنت کو چاہتی ہو فإن الله أعد للمحسنات منكن تو اللہ، بے شک اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھا ہے للمحسنات جو نیکی کرنے والیاں ہیں منكن تم میں سے، ان کے لیے اللہ نے تیار کر رکھا ہے أجراً عظيماً عظیم اجر، عظیم ثواب اللہ نے تیار کر رکھا ہے۔ یا ایھا النبی قل لازواجک، ان آیتوں کا شانِ نزول، بھئی اس سے پہلے آپ نے پڑھا وہ غزوۂ خندق کا واقعہ پیش آیا اور پھر اس کے بعد وہ بنو قریظہ کا واقعہ، جس میں ان کے تمام بالغ مردوں کو قتل کر دیا گیا اور بچوں اور عورتوں کو غلام اور باندیاں بنا لیا گیا اور ان کا سارا مال و اسباب مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔ تو میں نے بتایا اس سے مسلمانوں کو بڑا مال حاصل ہوا بھئی۔ اور پھر اسی طرح اس کے دو سال بعد غزوۂ خیبر کا واقعہ پیش آیا، اس میں بھی مسلمانوں کو بہت کثرت سے مال ہاتھ آیا، تو مسلمان جو تھے وہ آسودہ حال ہو گئے بھئی۔ تو مسلمانوں کو بڑا مال و اسباب حاصل ہوا، ان کی زندگی میں آسانی آ گئی، دنیاوی اسباب مل گئے۔ تو ازواجِ مطہرات جو ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج، امہات المؤمنین، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑوں وغیرہ کا اور اسی طرح نفقے وغیرہ میں کچھ اضافے کا مطالبہ کیا۔ کہ ہمارے نفقے میں کچھ اضافہ کر دیا جائے اور کپڑوں وغیرہ کا مطالبہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات سے بڑی تکلیف ہوئی۔ تو لوگ آسودہ حال ہو گئے تو طبعاً بھئی ازواجِ مطہرات کے دلوں میں بھی آیا کہ اور لوگوں کو مال مل گیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بھی نفقے میں کچھ اضافہ فرما دیں۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا بھئی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات سے تکلیف ہوئی، کیونکہ یہ عام عورتیں نہیں تھیں، یہ قیامت تک آنے والی تمام عورتوں کے لیے نمونہ تھیں۔ اگرچہ ان کا مطالبہ کوئی غلط نہیں تھا، مطالبہ ٹھیک تھا، لیکن چونکہ وہ عام عورتیں نہیں تھیں، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تھیں، وہ تمام امت کی وہ مائیں ہیں اور ان کا مقام بڑا اونچا ہے، تو اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے اس قسم کے مطالبے کو پسند نہیں کیا اور آپ کو اس سے بڑی تکلیف ہوئی۔ اور آپ ناراض ہوئے اور قسم اٹھا لی کہ ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے۔ چنانچہ مسجدِ نبوی کے ساتھ ہی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھر تھا، اس گھر کے بالاخانے میں آپ آرام فرما ہوئے بھئی۔ صحابہ کو خبر ملی، صحابہ سمجھے شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے، صحابہ بڑے پریشان ہوئے۔ حضرت عمر فاروق، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو خبر ہوئی، وہ بھی بڑے پریشان ہوئے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک اپنی بیویوں سے الگ رہے۔ 29 دن کے بعد پھر یہ آیات نازل ہوئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس اور پھر یہ آیت ان کے سامنے تلاوت فرمائی بھئی۔ جس میں کہا گیا کہ اے نبی کی بیویو! اگر تم دنیاوی زندگی چاہتی ہو تو پیغمبر تمہیں رخصت کر دیتے ہیں اچھے طریقے سے، اور اگر چاہو تو اخروی زندگی کو اختیار کر لو، اس دنیاوی زندگی میں اسی طرح گزارا کرو۔ تو سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ میں تم سے ایک بات میری کہنے لگا ہوں، لیکن میری خواہش ہے کہ تم جواب دینے میں جلدی نہ کرنا، اپنے والدین سے مشورہ کر لینا۔ پھر یہ آیتیں ان سے تلاوت فرمائیں۔ تو یہ آیتیں تلاوت فرمائیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرمانے لگیں کہ کیا یا، اے اللہ کے پیغمبر! کیا آپ کے بارے میں بھی میں اپنے والدین سے جا کر مشورہ کروں؟ میں اللہ کو اور اس کے رسول کو اور دارِ آخرت کو اختیار کرتی ہوں۔ اور اسی طرح تمام ازواجِ مطہرات نے اللہ اور اس کے رسول کو اور دارِ آخرت کو اختیار کیا بھئی، دارِ آخرت کو اختیار کیا۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں نو ازواج تھیں بھئی۔ کتنی ازواج تھیں اس وقت؟ نو ازواج تھیں اور جب انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا، آخرت کو اختیار کر لیا، تو اللہ نے بھی پھر حکم نازل فرما دیا جو اسی سورۃ الاحزاب کے اندر آگے آ رہا ہے بھئی، آیت نمبر 52 میں اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں بھئی: لا يحل لك النساء من بعد، کہ اے پیغمبر! آپ کے لیے حلال نہیں ہیں اور عورتیں ان کے بعد، ولا أن تبدل بهن من أزواج، اور نہ یہ کہ آپ بدل لیں ان کے، بدل لیں ان سے اور بیویوں کو، یعنی ان کے بدلے میں ان کو چھوڑ کر اور بیویاں کر لیں، اس کی بھی اب آپ کو اجازت نہیں بھئی۔ تو جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو اور دارِ آخرت کو اختیار کر لیا، تو اللہ نے بھی حکم نازل فرما دیا کہ اے پیغمبر! اب ان بیویوں کے بعد اور نکاح کرنے کی آپ کو اجازت نہیں، اور یہ بھی، یہی بیویاں آپ کے عقد میں رہیں گی اور یہ بھی آپ نہیں کر سکتے کہ ان کے بدلے میں اور کر لیں، کسی کو چھوڑ دیا اور اس کی جگہ دوسری کر لیں، ایسا بھی، اس کی بھی آپ کو اجازت نہیں ہے۔ جی، شانِ نزول سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سب نے کس کو اختیار کیا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آخرت کو اختیار کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرمانے لگیں کہ یا رسول اللہ! آپ نے تو ایک ماہ کی قسم اٹھائی تھی اور ابھی تو 29 دن گزرے ہیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے، مہینہ کبھی 29 دن کا بھی ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسلامی مہینہ کبھی 29 دن کا اور کبھی 30 دن کا ہوتا ہے۔ تو ان سب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا بھئی۔ یہ وہ عورتیں جن کو ازل سے ہی اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لیے چن لیا تھا اور ان کے ہاں ہمیشہ فقر و فاقے والی صورت ہی رہتی تھی، جو کچھ ملتا تھا فوراً ہی اللہ کے راستے میں دے دیا کرتیں، صدقہ وغیرہ کر دیتی تھیں بھئی۔ اور چونکہ یہ کوئی معمولی عورتیں نہیں تھیں، یہ قیامت تک آنے والی تمام عورتوں کے لیے نمونہ تھیں۔ اس لیے ان کے اس معمولی مطالبے پر بھی اللہ کی طرف سے سخت عتاب ہوا اور کہا کہ ایک راستہ اختیار کر لو، یا یہ دنیا کا راستہ اختیار کر لو یا آخرت کا راستہ اختیار کر لو۔ يا نساء النبي من يأت منكن بفاحشة مبينة يضاعف لها العذاب ضعفين، يا نساء النبي اے پیغمبر کی بیویو! من يأت منكن جو تم میں سے لے کر آئے بفاحشة مبينة واضح بے حیائی، واضح بے حیائی کوئی لے کر آئے، یعنی کرے، تو يضاعف لها العذاب تو بڑھا دیا جائے گا اس کے لیے عذاب کو ضعفين یعنی دگنا، یعنی اس کے لیے دگنا عذاب ہے، تم کوئی عام عورتیں نہیں ہو، پیغمبر کی بیویاں ہو، تو تمہارے لیے اگر تم میں سے کسی سے کوئی غلطی ہو تو اس کے لیے دگنا عذاب ہے۔ دیکھو، جتنا مقام اور مرتبہ زیادہ، اسی قدر پھر عتاب بھی اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اسی کے بقدر بھئی۔ وكان ذلك على الله يسيراً اور یہ اللہ پر آسان ہے، یعنی تمہارے لیے عذاب کو دگنا کر دینا آسان ہے، یعنی جتنا عام عورت کو کسی چیز پر عذاب ہو، اگر تم میں سے کوئی ایسا کام کرے تو اس کے لیے اس سے دگنا عذاب ہے۔ یا نساء النبي اے پیغمبر کی بیویو! من يأت منكن جو لائے تم میں سے، یعنی جو کرے تم میں سے بفاحشة مبينة کوئی ظاہر بے حیائی، ظاہر بے حیائی، يضاعف لها العذاب تو دگنا کر، بڑھا دیا جائے گا۔ يضاعف لها العذاب ضعفين بڑھا دیا جائے گا اس کے لیے عذاب دگنا، وكان ذلك على الله يسيراً اور یہ اللہ پر آسان ہے۔ ومن يقنت منكن لله ورسوله اور جو کوئی فرمانبرداری کرے تم میں سے اللہ کی اور اس کے رسول کی وتعمل صالحاً اور عمل کرے نیک، اچھا، اور نیک عمل کرے نؤتها أجرها مرتين تو ہم دیں گے اسے اس کا اجر دو مرتبہ۔ یہ اس عذاب کے مقابلے میں، دوسری طرف عذاب دگنا تھا، تو اس طرف نیک عمل کا ثواب بھی دگنا ہے بھئی۔ وأعتدنا لها رزقاً كريماً اور تیار کر رکھا ہے ہم نے اس کے لیے معزز رزق، پاکیزہ رزق۔ يا نساء النبي لستن كأحد من النساء، اے پیغمبر کی بیویو! لستن تم نہیں ہو كأحد من النساء عورتوں میں سے کسی ایک کی طرح، یعنی عام عورتوں کی طرح تم نہیں ہو۔ بلکہ تم تمام آخر، قیامت تک آنے والی تمام عورتوں کے لیے نمونہ ہو۔ يا نساء النبي لستن كأحد من النساء، اے پیغمبر کی بیویو! تم عام، تم معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو، یا تم کسی ایک عورت، عام معمولی عورت کی طرح نہیں ہو، إن اتقتن اگر تم اللہ سے ڈرو فلا تخضعن بالقول تو نرم نہ کرنا بات، نرمی نہ کرنا بات میں، فیطمع الذی فی قلبه مرض، ترست طمع کرنے لگے، حرص کرنے لگے الذی وہ شخص فی قلبه مرض جس کے دل میں مرض ہے، وقن قولاً معروفاً اور کہو اچھی بات، سیدھی بات۔ تو إن اتقتن اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو فلا تخضعن بالقول تو نرمی نہ کرنا بات میں۔ یعنی اگر کسی غیر محرم مرد سے بات کرنے کی ضرورت پیش آ جائے تو نرمی سے بات نہ کرنا بھئی۔ عورت کی آواز میں اللہ تعالیٰ نے طبعاً نرمی اور نزاکت رکھی ہے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں، جب کسی غیر محرم مرد سے بات کرنے لگو تو اس وقت نرمی سے بات نہ کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ طمع کرنے لگے وہ شخص کہ جس کے دل میں مرض ہے، یعنی نفاق ہے اور تو کہیں وہ اپنی آخرت بالکل ہی تباہ نہ کر بیٹھے بھئی۔ تو یہ یہاں ذکر تو ازواجِ مطہرات کا ہے، لیکن یہ دراصل تمام امت کی تمام عورتوں کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ جب بھی وہ کسی نامحرم سے بات کریں تو نرمی سے بات نہ کریں، بلکہ سخت لہجے میں بات کریں تاکہ کسی قسم کی خرابی کا اندیشہ ہی نہ رہے۔ اسی طرح آگے آنے والے احکام بھی اسی طرح ہیں، وہ بھی خطاب تو ہے امہات المؤمنین کو، انہیں بظاہر حکم دیا جا رہا ہے، لیکن مراد تمام عورتیں ہیں بھئی، سب کا یہی حکم ہے۔ تو لہٰذا عام عورت بھی جب اگر اسے کسی غیر محرم مرد سے بات کرنے کی ضرورت پیش آئے، تو فقہاء لکھتے ہیں کہ اسے سخت لہجے میں بات کرنی چاہیے بھئی، کس طرح؟ سخت لہجے میں بات کرنی چاہیے، نرمی سے نہیں بھئی۔ وقلن قولاً معروفاً اور کہنا سیدھی بات، تو نرمی نہ کرنا اور سیدھی بات کہنا۔ وقلن قولاً معروفاً اور کہو سیدھی بات، اچھی بات، یعنی نرمی سے بات نہ کرو، سختی، سخت لہجے میں بات کرو، تو لہجہ سخت ہو لیکن سیدھی بات کہو، اچھی بات کہو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی بات کہو۔ يا نساء النبي لستن كأحد من النساء، اے پیغمبر کی بیویو! تم نہیں ہو کسی ایک کی طرح عورتوں میں سے، یعنی عام تم، عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ بالاتفاق جمہور کے نزدیک پانچ عورتیں جو ہیں، انہیں باقی تمام عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔ ایک حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اور اسی طرح مریم بنتِ عمران بھئی، مریم بنتِ عمران، حضرت مریم، اور آسیہ، حضرت آسیہ جو زوجہ تھیں فرعون کی اور مومنہ تھیں بھئی۔ یہ پانچ عورتیں بھئی، حضرت فاطمہ، حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ، حضرت آ... تین پانچ کو فضیلت حاصل ہے باقی تمام عورتوں پر۔ اور یہاں آیت میں آیا کہ تم نہیں ہو کسی ایک کی طرح بھی عورتوں میں سے، یعنی عورتوں، یعنی تمام عورتوں پر تمہیں فضیلت حاصل ہے بھئی۔ تو اس پر شبہ آتا، پڑتا ہے کہ بھئی تمام پر کیسے فضیلت حاصل ہے؟ حالانکہ فضیلت تو تمام ازواج ازواج میں بھی حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ کو ہے۔ اور پھر تمام پر اگر فضیلت حاصل ہو تو تمام کے اندر تو حضرت فاطمہ بھی آ گئیں، حضرت مریم بھی آ گئیں، حضرت آسیہ بھی آ گئیں، حالانکہ ان کو باقی سب پر کیا ہے؟ ان پانچ کو باقی سب پر فضیلت۔ تو جواب یہ، یعنی تم کسی ایک کی طرح نہیں ہو، یعنی تمہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت اللہ نے نصیب فرمائی ہے، اس کے اندر تمہارے برابر میں کوئی نہیں، یہ فضیلت اللہ نے تمہیں بخشی ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وقرن في بيوتكن اور ٹھہری رہو في بيوتكن اپنے گھروں میں۔ یعنی بلا ضرورت باہر، عورت کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ گھر پر ہی رہے۔ ہاں، ضرورت کے درجے میں گھر سے نکلنے کی گنجائش ہے بھئی، ضرورت کے درجے میں گھر سے نکلنے کی گنجائش ہے۔ وقرن یہ واؤ عاطفہ ہے اور یہ قرن، یہ امر ہے جمع مؤنث کا بھئی، جمع مؤنث حاضر۔ اصل میں تھا اقررن، باب عالم يعلم سے ہے بھئی، قر يقر. کون سا باب ہے؟ باب عالم بھئی، قر يقر. تو عالم يعلم سے امر کیا آئے گا؟ اعلم. گردان کس طرح ہوگی؟ اعلم، اعلما، اعلموا، اعلمي، اعلما، اعلمن، یہ جمع مؤنث کا صیغہ آ گیا۔ اعلمن، اقررن. تو یہ اصل میں کیا تھا؟ اقررن. اقررن. دوسری را ساکن، پہلی را پر فتحہ اور قاف بھی ساکن۔ پھر ایک را کو حذف کر لیا گیا، دوسری را کو حذف کر لیا گیا اور پہلی را کے فتحہ کو نقل کر کے قاف پر، کو دے دیا گیا۔ اب جب قاف متحرک ہو گیا تو شروع میں ہمزۂ وصل کی ضرورت نہ رہی، کیونکہ شروع میں ہمزۂ وصل کیوں لایا گیا تھا؟ کیونکہ ابتداء بالساکن محال ہے عربی زبان میں بھئی، ہر زبان میں نہیں، عربی زبان میں ابتداء بالساکن محال ہے۔ اور زبانوں میں ابتداء بالساکن ہو سکتی ہے بھئی، مثلاً آپ پڑھتے ہیں اسکول، اسکول بھئی، سین پر فتحہ نہیں ہے، سین ساکن ہے۔ ورنہ سکول ہوتا سکول، سکول نہیں ہے لفظ، اسکول ہے۔ تو البتہ عربی میں کیا ہے؟ ابتداء بالساکن محال، ساکن سے ابتداء نہیں ہو سکتی۔ تو لہٰذا اب وہ قاف پر فتحہ، اہ، تو ہمزۂ وصل شروع میں لائے تھے، اب جب فتحہ قاف کو دے دیا تو ہمزۂ وصل کی ضرورت نہ رہی، اس کو بھی ختم کیا تو کیا رہ گیا؟ قرن. تو یہ واؤ کیا ہے؟ عاطفہ ہے، یہ الگ ہے بھئی۔ وقرن اور تم ٹھہری رہو في بيوتكن اپنے گھروں میں، ولا تبرجن تبرج کہتے ہیں عورت کا زیب و زینت کا اظہار کرنا بھئی۔ عورت کا کیا کرنا؟ زیب و زینت کا اظہار کرنا۔ ولا تبرجن اور تم زیب و زینت کا اظہار نہ کرو تبرج الجاهلية الأولى، اسلام سے پہلے کا زمانہ، زمانۂ جاہلیت کہلاتا ہے بھئی۔ اور ولا تبرجن اور تم زینت، زیب و زینت کا اظہار نہ کرو تبرج الجاهلية الأولى پہلی جاہلیت کی زیب و زینت کی طرح۔ یعنی جیسے اس پہلی زمان، پہلے زمانۂ جاہلیت کے اندر عورتیں زیب و زینت کا اظہار کرتی تھیں، کھلے عام پھرتی تھیں اور عام مردوں کے لیے بھی زیب و زینت کا اظہار کرتی تھیں، اس طرح تم نہ کرنا۔ ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى اور تم زیب و زینت کا اظہار نہ کرو پہلی جاہلیت کے زیب و زینت کی طرح، وأقمن الصلاة اور نماز قائم کرتی رہو، وآتين الزكاة اور زکوٰۃ دیتی رہو، وأطعن الله ورسوله اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتی رہو۔ إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيراً. إنما حصر کے لیے آتا ہے۔ يريد الله کا ویسے ترجمہ ہوگا: اللہ ارادہ کرتے ہیں، اللہ چاہتے ہیں۔ اور إنما آ گیا، تو إنما يريد الله، يريد الله، اللہ یہی چاہتے ہیں، اللہ إنما يريد الله اللہ یہی چاہتے ہیں ليذهب عنكم الرجس کہ لے جائیں تم سے گندگی کو، یعنی دور کر دیں۔ ليذهب عنكم الرجس کہ دور کر دیں تم سے گندگی کو أهل البيت، أيا أهل البيت، یہ منادیٰ ہے اور منادیٰ مضاف ہو تو آپ نے پڑھا منصوب ہوتا ہے۔ اللہ یہی چاہتے ہیں کہ دور کر دیں تم سے گندگی کو، اے نبی کے گھر والو! ويطهركم تطهيراً اور تمہیں خوب پاک کر دیں۔ ويطهركم تطهيراً تمہیں خوب پاک کر دیں۔ تو گندگی کو اللہ تعالیٰ، اللہ چاہتے ہیں کہ تم سے گندگی کو دور کر دیں، یعنی ہر گناہ کو دور کر دیں، ہر گناہ کو تم سے دور کر دیں، تم عام عورتیں نہیں ہو، تم پیغمبر کی ازواج ہو، تم امہات المؤمنین ہو، تمہیں دوسری عورتوں پر فضیلت حاصل ہے اور تم قیامت تک آنے والی عورت، تمام عورتوں کے لیے نمونہ ہو، تو اللہ تعالیٰ کیا چاہتے ہیں؟ کہ تمہیں ہر گناہ سے تمہاری حفاظت فرمائیں، تم سے دور کر دیں ہر گناہ کو۔ إنما يريد الله اللہ یہی چاہتے ہیں ليذهب عنكم الرجس کہ دور کر دیں تم سے گندگی کو أهل البيت اے پیغمبر کے گھر والو! ويطهركم تطهيراً اور تمہیں خوب پاک کر دیں۔ اہلِ بیت بھئی، سیاقِ کلام سے ہی پتہ چل رہا ہے، بات کس کی چل رہی ہے؟ پیغمبر علیہ السلام کی ازواج کی، معلوم ہوا وہ اہلِ بیت میں داخل ہیں بھئی، بات ہی انہی کی چل رہی ہے۔ ہاں، بعض لوگ جیسے مثلاً یہ شیعہ، وہ کہتے ہیں کہ اہلِ بیت جو ہیں وہ ازواجِ مطہرات ان میں داخل نہیں ہیں۔ وہ ایک حدیث پیش کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے چادر کے اندر حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم، ان کو چادر میں لیا ان سب کو اور فرمایا: اللهم هؤلاء أهل بيتي، اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں، تو کہتے ہیں یہ ہیں اہلِ بیت بھئی۔ یہ اہلِ بیت ہیں۔ اسی طرح حضرت سلمان فارسی جن کے بارے میں غزوۂ خندق میں، میں نے آپ کو بتایا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ یہ ہمارے اہلِ بیت میں سے ہیں۔ تو یہ ہیں اہلِ بیت، ازواج کو وہ داخل نہیں مانتے، لیکن یہاں آپ خود دیکھ رہے ہیں، سیاقِ کلام سے آپ کو پتہ چل رہا ہے، بات کس کی چل رہی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی اور ازواج ہی تو سب سے پہلے اہلِ بیت میں داخل ہوتی ہیں کہ اہلِ بیت وہ گھر والے، یعنی جس پر انسان کا خرچہ وغیرہ ہوتا ہے، نفقہ ہوتا ہے اور آپ جانتے ہیں بیوی کا نفقہ خاوند پر ہوتا ہے بھئی، تو وہ سب سے پہلے اس میں داخل ہیں۔ اور باقی جو حدیث میں آیا، حدیث میں، تو جواب ہم یہ دیتے ہیں کہ بھئی! کہ وہاں ازواج کا داخل ہونا تو ظاہر ہی تھا، اس لیے ان کو ذکر نہیں کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے، وہ تو سب کو معلوم تھا بھئی کہ وہ داخل ہی ہیں اہلِ بیت میں۔ لیکن اولاد اور داماد وغیرہ یہ بھی داخل ہیں یا نہیں؟ تو ان کے بارے میں بات واضح نہیں تھی، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی چادر میں لیا اور فرمایا کہ یہ بھی کس میں سے ہیں میرے؟ اہلِ بیت میں سے ہیں بھئی، اہلِ بیت میں سے۔ واذكرن ما يتلى في بيوتكن اور تم یاد کرو وہ جو پڑھا جاتا ہے تمہارے گھروں کے اندر من آيات الله والحكمة اللہ کی آیتوں اور حکمت میں سے، یعنی دانائی کی باتوں میں سے۔ یعنی قرآن کی جو آیتیں تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں، جن میں احکام بھی ہیں اور دانائی کی باتیں بھی ہیں، انہیں یاد کرو۔ تو حکمت سے بھی مراد کیا ہے؟ وہی قرآن ہے، اسی کے اندر جو دانائی کی باتیں ہیں وہ مراد ہیں۔ اور بعضوں نے کہا حکمت سے مراد سنت ہے، اور تم یاد کرو وہ جو پڑھا جاتا ہے تمہارے گھروں میں اللہ کی آیتوں، یعنی قرآن میں سے والحكمة اور سنت میں سے، یعنی حدیث بھئی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تم سے فرماتے ہیں۔ إن الله كان لطيفاً خبيراً، یقیناً اللہ تعالیٰ راز جاننے والے، باخبر ہیں۔ لطیف بھئی، باریک بین، راز جاننے والے، بھید جاننے والے۔ إن الله كان لطيفاً خبيراً، یقیناً اللہ تعالیٰ باریک بین، باخبر ہیں۔ واذكرن ما يتلى في بيوتكن اور یاد کرو، یاد رکھو وہ جو تلاوت، جو پڑھی جاتی ہے تمہارے گھروں میں من آيات الله اللہ کی آیتوں میں سے والحكمة اور دانائی کی باتوں میں سے۔ یا یعنی جو اللہ کی آیتیں تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اور دانائی کی باتیں کی جاتی ہیں، انہیں یاد رکھو، یعنی بھلا نہ دینا، انہیں یاد رکھو۔ یا یہ معنیٰ ہے کہ انہیں یاد کرو، یعنی ذکر کرو انہیں بھی، جب کوئی مسلمانوں میں سے کوئی پوچھنے آئے، یعنی تمہارے روحانی بیٹوں میں سے کوئی پوچھنے آئے کوئی بات، تو انہیں بھی وہ بات بتلا دیا کرو جو اللہ نے قرآن میں بتلائی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں بطورِ نصیحت کے فرمائی ہے۔ بھئی! یہ اوپر پہلی آیت میں آیا فتعالين أمتعكن وأسرحكن سراحاً جميلاً دیکھیے، أمتعكن أمتع فعلِ مضارع ہے اور یہ مجزوم ہے اس وقت بھئی، مجزوم بھئی۔ اصل میں ہے أمتعُ، أمتعُ، اور یہ کنّ ضمیر تو مفعول کے ساتھ ملی ہوئی ہے فعل کے ساتھ، اسی طرح أسرحكن، یہ کنّ ضمیر مفعول کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور یہ أسرحُ فعلِ مضارع ہے اور اس وقت یہ مجزوم ہے بھئی، جزم آ رہا ہے آخر میں۔ تو یہ أمتع اور أسرح مجزوم ہیں، کیونکہ یہ جوابِ امر ہیں بھئی، کیا ہیں؟ جوابِ امر ہیں اور جوابِ امر ہونے کی وجہ سے یہ مجزوم ہیں بھئی، اس سے پہلے فتعالين امر آیا بھئی امر، تو یہ کیا ہیں؟ جوابِ امر ہیں بھئی، جوابِ امر بھئی۔ اور ہدایت النحو کے اندر آپ پڑھ چکے ہوں گے، اسی طرح قافیہ میں بھی آگے جا کر آپ پڑھیں گے کہ چھ چیزوں کے جواب میں جب فعلِ مضارع آئے بھئی، چھ چیزوں کے جواب میں کیا آئے؟ فعلِ مضارع آئے، تو اس پر جزم آئے گا بھئی، وہ چھ چیزیں کون کون سی ہیں؟ امر ہے، نہی ہے، استفہام ہے، تمنا ہے اور عرض ہے اور نفی ہے، امر، نہی، نفی، تمنا، عرض اور استفہام۔ ان چھ چیزوں کے جواب میں فعلِ مضارع آئے تو وہ مجزوم ہوگا، تو یہاں بھی فتعالين امر کے بعد أمتعكن اور أسرحكن، ہاں! اسی وجہ سے یہ مجزوم ہیں، یہ جوابِ امر ہیں بھئی۔ وجہ سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ دیکھیے، یہ مجزوم ہیں، لیکن اگر اس فعلِ مضارع جو انہی چھ چیزوں کے بعد آئے اور اس فعلِ مضارع پر واؤ یا فا آ جائے، اس (یعنی اس سے) پہلے واؤ یا فا، تو پھر اس صورت میں وہ منصوب ہوں گے، وہاں ان مقدر ہوتا ہے اور پھر وہ منصوب ہوتا ہے۔ اگر یہی پر واؤ یا فا ہوتا، تو اس نے أمتعكن نہ ہوتا بلکہ أمتعكن ہوتا اور أسرحكن ہوتا، اگر کیا ہوتا اس اس سے پہلے اس أمتعكن سے پہلے کیا آ جاتا؟ واؤ یا فا۔ جیسے اس کی مثال آگے آ گئی بھئی، اسی کے بعد ایک دو آیتیں چھوڑ کر آ رہا ہے: فلا تخضعن بالقول فيطمع الذي بھئی، فيطمع الذي، تو دیکھو يطمع یہ اصل میں تو فعلِ مضارع مرفوع تھا، يطمعُ اور لیکن یہ کس کے جواب میں آیا ہے؟ فلا تخضعن، نہی کے بعد آ رہا ہے بھئی اور نہی بھی ان چھ چیزوں میں سے ہے، امر، نہی، نفی، استفہام، تمنا اور عرض بھئی۔ تو یہاں نہی کے بعد فعلِ مضارع آیا اور اس پر فا داخل ہے، تو یہ منصوب ہے بھئی، اسی طرح اگر واؤ آئے تو بھی کیا ہوتا ہے فعلِ مضارع؟ منصوب ہوتا ہے، نصب آتا ہے، کیونکہ اس فا اور واؤ کے بعد ان مقدر ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو یہ اس طرح چھوٹی چھوٹی چیزیں نحو کی ان کو یاد رکھیں بھئی۔ یہ کسویں پارے کی آخری آیت میں آ رہا ہے: من يأت منكن بفاحشة مبينة يضاعف لها تو يأت فعلِ مضارع ہے اور یہ مجزوم ہے، آخر میں یا گر گئی بھئی، أتى يأتي. لیکن وہ جزمی حالت میں آخر میں حرفِ علت جو ہوتا ہے وہ گر جاتا ہے، تو یہاں بھی يأت کے آخر سے یا گر گئی، تو یہ بھی مجزوم ہے۔ لیکن یہ کس وجہ سے مجزوم ہے؟ کیونکہ اس پر اداتِ شرط داخل ہو رہا ہے: من يأت. تو یہ من کیا کرتا ہے؟ جب شرط کے لیے آتا ہے اور فعلِ مضارع پر داخل ہو تو اس کو جزم دیتا ہے، تو یہ ہے شرط اور اسی طرح جزا کے اندر بھی يضاعفُ تھا بھئی، تو وہ بھی جب شرط کے اندر فعلِ مضارع مجزوم ہے تو جب شرط کے اندر، تو جزا کے اندر بھی فعلِ مضارع مجزوم ہوگا، اسی طرح 22ویں پارے کی پہلی آیت آئی: ومن يقنت بھئی، ومن يقنت، یہاں بھی یہ من کی وجہ سے یہ يقنت کیا ہے؟ مجزوم ہے بھئی، کیونکہ شرط ہے اور جی، وتعمل، تعمل کا اسی پر عطف ہے، اس لیے وہ بھی مجزوم ہے۔ اور آگے نؤتها، یہ جزا ہے بھئی، نؤتها. تو شرط کے اندر جب فعلِ مضارع مجزوم تھا، تو جزا کے اندر بھی فعلِ مضارع مجزوم ہے۔ نؤتي اصل میں کیا تھا؟ نؤتيها، نؤتيها، تو پھر وہ یا گر گئی جزم کی وجہ سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو فعلِ مضارع جب شرط اور جزا میں آئے، تو اس وقت یہ اس پر جزم آئے گا بعض صورتوں میں جو ذکر ہو گئیں بھئی۔ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام.
69 approved lectures · 29 of 69