Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-024

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. ذلك بأن الله هو الحق وأن ما يدعون من دونه الباطل وأن الله هو العلي الكبير. ألم تر أن الفلك تجري في البحر بنعمت الله ليريكم من آياته إن في ذلك لآيات لكل صبار شكور. وإذا غشيهم موج كالظلل دعوا الله مخلصين له الدين فلما نجاهم إلى البر فمنهم مقتصد وما يجحد بأياتنا إلا كل ختار كفور. ذلك بأن الله هو الحق. "ذلك" یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالی حق ہیں۔ یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالی، اللہ تعالی حق ہیں، اللہ ہی کی ذات حق ہے بھئی۔ یہ سے اشارہ ہے یہ جو پیچھے بیان ہوا، یعنی یہ جو تصرفات وغیرہ بیان ہوئے کہ اللہ تعالی یہ دن کو رات میں داخل کرتے ہیں اور رات کو دن میں داخل کرتے ہیں، سورج چاند وغیرہ کو مسخر کر رکھا ہے، یہ سب اس وجہ اس سبب سے کہ اللہ تعالی ہی حق ہیں بھئی۔ تو یہ تصرفات اسی کے ساتھ خاص ہیں۔ ذلك بأن الله هو الحق، یہ اس سبب سے کہ اللہ تعالی ہی حق ہیں۔ وأن ما يدعون من دونه الباطل، اور وہ جس کو تم پکارتے ہو من دونه اس اللہ کے علاوہ الباطل وہ باطل ہے۔ اور وہ جسے تم اللہ کے علاوہ اور پکارتے ہو وہ باطل ہے، اللہ کے علاوہ جتنے معبود تم نے بنا رکھے ہیں وہ سب کیا ہیں؟ باطل ہیں، وأن الله هو العلي الكبير، اور اللہ ہی بلند بڑے ہیں، بلند ہیں، بڑے ہیں۔ العلي بلند عالی شان، اور اللہ ہی عالی شان ہیں بڑے ہیں۔ ألم تر أن الفلك تجري في البحر بنعمت الله ليريكم من آياته، کیا تو نے اے دیکھا نہیں اے مخاطب؟ ألم تر کیا تو نے دیکھا نہیں، أن الفلك تجري في البحر کہ کشتی چلتی ہے سمندر میں بنعمت الله اللہ کی نعمت سے، یعنی اللہ کے فضل سے۔ کیا تو نے دیکھا نہیں کہ چلتی ہے کشتی سمندر میں اللہ کی، اللہ کے فضل سے، ليريكم من آياته تاکہ دکھائے تمہیں اپنی نشانیوں میں سے۔ إن في ذلك لآيات لكل صبار شكور، یقیناً اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے، شکر کرنے والے کے لیے۔ بیشک اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے، شکر کرنے والے کے لیے۔ وإذا غشيهم موج كالظلل دعوا الله مخلصين له الدين، وإذا غشيهم اور جب ان کو ڈھانپ لے موج كالظلل کوئی موج كالظلل سایبانوں کی طرح۔ ظلل جمع ہے ظلة کی اور ظلة کہتے ہیں سایبان بھئی، سایا کرنے والی چیز بھئی، سایا کرنے والی۔ جو بھی چیز سایا کرنے والی ہے اوپر سے وہ اسے کیا کہتے ہیں؟ ظلة کہتے ہیں۔ سمجھ میں آئی بات؟ کوئی بھی چیز اسی طرح جیسے بادل ہیں وہ بھی اس میں آگئے، پہاڑ ہیں وہ بھی اسی میں آگئے، تو یہاں مراد بڑی چیز ہے مولانا جیسے پہاڑ وغیرہ اس لیے کیونکہ بات چل رہی ہے موج کی جب ان کو کوئی موج ڈھانپ لے اور یقیناً موج وہ کوئی معمولی چیز نہیں ہوتی۔ کتنے سمندری جہاز کتنے بڑے بڑے ہوتے ہیں کہ پورا شہر آباد ہوتا ہے اس کے اندر، بلکہ اب تو ایسے ایسے سمندری جہاز بنا لیے گئے کہ ان کے اوپر ہی ہوائی جہاز اترتے ہیں اور انہی سے اڑتے ہیں، تو اتنے بڑے بڑے ہیں۔ لیکن جب طوفان آتا ہے، اللہ کی قدرتوں کا انسان اندازہ لگائے بھئی کہ یہ اتنا بڑا شہر ایک پورا ہوتا ہے، لیکن اتنی بڑی بڑی موجیں ہوتی ہیں کہ ان کے اندر یہ جہاز تنکے کی طرح ادھر ادھر لرزتا رہتا ہے اور خوف طاری ہوتا ہے کہ اب ڈوبا، اب ڈوبا اور پھر کبھی اللہ فضل فرما لیتے ہیں تو بچ جاتے ہیں اور کبھی جہاز پانی ہی میں غرق ہو جاتا ہے بھئی، جتنا بڑا بھی ہو، تو موجوں کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، اتنی بڑی بڑی پہاڑ جیسی موجیں انسان ان کا تصور نہیں کر سکتا بھئی۔ وإذا غشيهم موج كالظلل، اور جب ڈھانپ لے ان کو کوئی موج سایبانوں کی طرح، دعوا الله مخلصين له الدين، تو پکارتے ہیں وہ اللہ کو خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے دین کو، یعنی خالص کرتے ہوئے اللہ ہی کے لیے اعتقاد کو۔ اس وقت کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، بلکہ صرف کس کو پکارتے ہیں؟ اللہ ہی کو پکارتے ہیں، کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ اس جگہ پر اب ہمارا اور جو معبود ہم نے بنا رکھے ہیں وہ ہمارے کسی کام نہیں آسکتے، یہاں مدد کرنے والی ذات ہے تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ تو کہتے ہیں وإذا غشيهم موج كالظلل جب ان کو ڈھانپ لے کوئی موج سایبانوں کی طرح، دعوا الله مخلصين له الدين تو پکارنے لگتے ہیں خالص کرتے ہوئے اللہ ہی کے لیے دین کو، فلما نجاهم إلى البر، پس جب ہم نجات دے دیتے ہیں ان کو إلى البر خشکی کی طرف، فمنهم مقتصد، تو ان میں سے بعض جو ہیں وہ اعتدال پر رہتے ہیں۔ کس پر رہتے ہیں؟ مقتصد، اقتصاد، اعتدال بھئی، تو ان میں سے بعض اعتدال پر رہتے ہیں۔ وما يجحد بأياتنا إلا كل ختار كفور، اور نہیں جحد انکار کو کہتے ہیں، وما يجحد بأياتنا اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا، إلا كل ختار كفور، ختار بمعنے غدار کے ہے بھئی، غدر کرنے والا، عہد کو توڑنے والا۔ كفور ناشکری کرنے والا، اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا مگر ہر عہد کو توڑنے والا، ناشکری کرنے والا۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ جب سمندر کے اندر تھے تکلیف طوفان آیا، خوف ہوا غرق ہونے کا، تو اس وقت سارے معبودوں کو بھول کر صرف مجھے ہی پکارنے لگتے ہیں اور جب میں ان پر اپنا فضل کرتا ہوں اور انہیں نجات دے دیتا ہوں، تو پھر جب خشکی پر پہنچتے ہیں، تو بعض تو ان میں سے وہ اعتدال کی راہ پر رہتے ہیں اور بعض پھر اسی طرح ناشکری کرنے لگتے ہیں۔ اور خوف کی حالت میں جو عہد کیا ہوتا ہے، اللہ ہی کو پکار رہے ہیں، اللہ ہی کی طرف متوجہ ہیں، اس کو توڑ ڈالتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں وما يجحد بأياتنا إلا كل ختار كفور اور نہیں انکار کرتا ہماری آیتوں کا مگر ہر عہد کو توڑنے والا اور ناشکرا، ہر عہد کو توڑنے والا ناشکرا۔ شان نزول بھئی، یہ آیت حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں نازل ہوئی بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کو فتح فرمایا، تو لوگوں کو امان دے دی گئی، مسلمانوں کو منع کر دیا گیا، فاتحین کو منع کر دیا گیا کہ کسی کو قتل نہیں کرنا، لیکن چار آدمی ہیں ان کو قتل کر دینا چاہے وہ بیت اللہ کے پردوں ہی سے کیوں نہ لٹک جائیں، اس کے کپڑے سے ہی کیوں نہ لٹک جائیں، انہیں پھر بھی کیا کر دو؟ قتل کر دو، ان میں ایک عکرمہ بن ابی جہل تھے بھئی۔ لیکن یہ وہاں سے بھاگ نکلے تھے اور پھر یہ سمندر میں کشتی میں سوار ہوئے وہاں سے، مکہ کے قریب ہی ہے سمندر بھئی، جدہ ساحل سمندر پر ہے، مکہ اور جدہ میں تقریباً گھنٹے کا فاصلہ ہے، تو مکہ کے قریب وہ وہاں سے سمندر کی طرف نکلے اور کشتی میں جہاز میں سوار ہوئے، جب کشتی درمیان میں پہنچی تو زبردست طوفان آگیا۔ بڑی بڑی لہریں ہیں بھئی، کشتی اس میں تنکوں کی طرح لرز رہی، تو اس وقت وہ جو الملاح وغیرہ تھے سب سے کہنے لگے، بھئی صرف اللہ کو پکارو اس وقت، اس وقت صرف اللہ ہی کی ذات ہمیں بچا سکتی ہے اور کوئی نہیں بچا سکتا۔ تو عکرمہ بن ابی جہل نے دل میں سوچا کہ اگر یہاں پر اللہ کے علاوہ کوئی نہیں ہمیں بچا سکتا، تو یقیناً خشکی پر بھی اللہ کے علاوہ کوئی اور ہمیں نہیں بچا سکتا، وہی ذات معبود معبود برحق ہے۔ چنانچہ عہد کیا کہ اے اللہ اگر آپ نے مجھے یہاں سے نجات دے دی، تو میں جاؤں گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور اسلام کو قبول کر لوں گا۔ چنانچہ جب ان طوفان سے بچ گئے، تو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور اسلام قبول کر لیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ ہے وہ مثال يخرج الحي من الميت، اللہ مردہ سے کیا کر دیتے ہیں؟ زندہ کو نکال دیتے ہیں، باپ کو دیکھیں تو کفر کے اندر انتہا درجے کو پہنچا ہوا تھا اور بیٹے کو دیکھیں تو اللہ نے ایمان کی دولت نصیب فرمائی اور صحابیت کا شرف نصیب فرما دیا کہ دنیا کے تمام اولیاء بھی مل جائیں تو وہ ادنی درجے کے صحابی کے رتبے کو بھی نہیں پہنچ سکتے بھئی۔ تو انہوں نے اپنے عہد کو پورا کیا بھئی، تو اس پر یہ اللہ فرما رہے ہیں وإذا غشيهم موج كالظلل اور جب ان کو ڈھانپ لے کوئی موج سایبانوں کی طرح، دعوا الله مخلصين له الدين تو وہ پکارتے ہیں اللہ کو خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے اعتقاد کو، فلما نجاهم إلى البر پس جب اللہ ان کو نجات دے دیتے ہیں خشکی کی طرف، فمنهم مقتصد تو ان میں سے بعض جو ہوتے ہیں وہ اعتدال پر رہتے ہیں۔ اعتدال پر رہتے ہیں، بھئی اعتدال پر معنیٰ یہ ہے مراد مومن ہے، مومن اعتدال کی راہ پر چلتا ہے، مومن کی حالت امید اور خوف کے درمیان ہوتی ہے بھئی۔ امید اور خوف کے درمیان، امید ہوتی ہے اللہ کے فضل کی کہ اللہ میری مغفرت فرما دیں گے اور خوف اللہ کی ذات کا ہوتا ہے کہ کہیں میرے گناہوں کی وجہ سے اللہ میری پکڑ نہ فرما لیں، تو مومن کی یہ حالت ہے، تو اس لیے مقتصد کے ساتھ تعبیر کیا گیا، کہ درمیان اعتدال کی راہ جو امید اور خوف کے درمیان ہے۔ یا اعتدال کا معنیٰ یہ کہ وہ جو سمندر میں اور خوف کے وقت حالت تھی اور جتنا اخلاص اس وقت تھا وہ تو نہیں رہتا، لیکن پھر بھی اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں اور اللہ کے راستے پر چلتے ہیں، لیکن وہ جو خوف کے وقت جتنی کامل توجہ اللہ کی طرف ہو جاتی ہے ہر چیز سے کٹ کر وہ حالت تو نہیں رہتی، لیکن پھر بھی وہ سیدھے راستے پر اعتدال کی راہ پر رہتے ہیں بھئی۔ يا أيها الناس اتوا ربكم واخشوا يوما لا يجزي والد عن ولده، يا أيها الناس اے لوگو، اتوا ربكم ڈرو تم اپنے پروردگار سے، واخشوا يوما اور ڈرو تم اس دن سے، لا يجزي والد کہ بدلہ نہیں دے گا والد عن ولده اپنی اولاد سے۔ والد اپنی اولاد کی طرف سے کوئی بدلہ نہیں دے سکے گا ان کو چھڑانے کے لیے بھئی۔ واخشوا يوما لا يجزي والد عن ولده ڈرو تم اس دن سے کہ بدلہ نہیں دے سکے گا والد اپنی اولاد کی طرف سے، ولا مولود هو جاز عن والده شيئا اور نہ اولاد، مولود جس کو جنم دیا گیا ہے یعنی اولاد، ولا مولود هو جاز اور نہ جو اولاد ہے وہ بدلہ دینے والی ہوگی اپنے والد کی طرف سے شيئا کوئی بھی چیز۔ نہ والد اپنی اولاد کی طرف سے بدلہ دے کر اسے چھڑا سکے گا اور نہ اولاد اپنے والد کی طرف سے کوئی بدلہ دے کر اسے چھڑوا سکے گی بھئی۔ إن وعد الله حق یقیناً اللہ کا وعدہ حق ہے، فلا تغرنكم الحياة الدنيا پس تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے دنیاوی زندگی، ولا يغرنكم بالله الغرور اور تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ سے الغرور دھوکہ دینے والا۔ ولا يغرنكم اور تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے بالله اللہ سے الغرور دھوکہ دینے والا، یعنی شیطان۔ اللہ کی بارے میں تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے، کہ اللہ کی ذات تو بڑی رحیم ہے، بڑی رحمان ہے اور تم گناہ کرتے بھی رہو کوئی حرج نہیں، اللہ معاف کرنے والے ہیں یا آخری عمر میں کیا کر لیں گے ہم؟ توبہ کر لیں گے، تو شیطان اس طرح کے دھوکوں میں تمہیں نہ ڈال دے۔ کیونکہ موت کے وقت کا کوئی پتہ نہیں کس وقت موت آجائے، تو کہتے ہیں ولا يغرنكم بالله الغرور اور دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ سے تمہیں دھوکے میں ڈالنے والا۔ يا أيها الناس اتوا ربكم اے لوگو ڈرو تم اپنے پروردگار سے، واخشوا خشیت یخشى کے معنی بھی ڈرنے کے ہیں، واخشوا يوما لا يجزي والد عن ولده اور ڈرو تم اس دن سے کہ بدلہ نہیں دے سکے گا والد اپنی اولاد سے، ولا مولود هو جاز عن والده شيئا اور نہ اولاد وہ بدلہ دے سکے گی اپنے والد سے کے بدلے میں شيئا کوئی چیز، بدلے میں کوئی چیز نہیں دے سکتے۔ إن وعد الله حق یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے، فلا تغرنكم الحياة الدنيا پس تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے دنیاوی زندگی، الحياة الدنيا فاعل ہے "تغرنكم" کے لیے، تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے دنیاوی زندگی۔ "ولا يغرنكم بالله الغرور"، یہاں "الغرور" فاعل ہے "يغرنكم" کے لیے، اور دھوکے میں نہ ڈال دے تمہیں اللہ سے، اللہ کے بارے میں، "الغرور" دھوکے باز، یعنی شیطان بھئی۔ "إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبير" "إن الله عنده علم الساعة"، یقیناً اللہ جو ہیں "عنده علم الساعة" انہی کے پاس ہے قیامت کا علم۔ انہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔ یہ ایک شخص تھا حارث ابن عمر بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟ اور میں نے فصل کاشت کی ہے، بارش کب ہوگی یہ بتائیے مجھے؟ اور میری بیوی حاملہ ہے بتائیے اس کے پیٹ میں کیا ہے، لڑکا ہے یا لڑکی ہے؟ اور میں یہ تو جانتا ہوں آج میں نے جو عمل کیا، کل میں کیا عمل کروں گا، کیا کماؤں گا وہ مجھے بتلائیے۔ اور میں مجھے یہ تو معلوم ہے کہ میری پیدائش کہاں ہوئی ہے، آپ مجھے یہ بتائیے میری موت کس جگہ پر ہوگی؟ تو یہ حضور یہ آیت بھئی نازل ہوئی کہ یہ چیزیں جو ہیں یہ ان کا علم اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے، اللہ نے ان چیزوں کا علم کسی کو نہیں دیا بھئی۔ "إن الله عنده علم الساعة"، یقیناً اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم۔ "وينزل الغيث"، بھئی ترکیب پہ توجہ رکھنا ذرا۔ "إن" ہے حرف از حروفِ مشبہ بالفعل، لفظِ اللہ اس کا اسم ہے۔ اور آگے "عنده علم الساعة"، توجہ ہے؟ "عنده علم الساعة"، یہ پورا جملہ ہے۔ "عنده" یہ ہے خبرِ مقدم اور "علم الساعة" یہ کیا ہے؟ مبتدائے مؤخر۔ یہ پورا جملہ یہ خبر بن رہا ہے کس کی؟ "إن" کی۔ "إن" کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں حصر ہے کہ اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم۔ تو یہ "عنده علم الساعة" یہ پورا جملہ خبر ہے "إن" کی، "وينزل الغيث" وہ نازل کرتا ہے بارش کو۔ غیث بارش کو کہتے ہیں۔ اس پورے جملے کا عطف ماقبل کے "عنده علم الساعة" پر، پورے جملے پر ہے بھئی۔ تو یہ بھی خبر ہوئی "إن" کی۔ اور جیسے اس میں حصر تھا کہ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، تو اس میں بھی حصر آ گیا کہ "إن الله ينزل الغيث" کہ اللہ ہی بارش کو نازل کرتے ہیں۔ اللہ ہی بارش کو نازل کرتے ہیں۔ "ويعلم ما في الأرحام"، اس کا بھی اسی پر عطف ہے، یعنی "إن الله يعلم ما في الأرحام"، اللہ ہی جانتے ہیں کہ کیا ہے ماؤں کے پیٹ میں، رحموں میں کیا ہے وہ اللہ ہی جانتے ہیں۔ "وما تدري نفس"، "وما تدري نفس"، اور نہیں جانتا، یہ "ما" پہلا جو ہے یہ نفی کے لیے ہے۔ "وما تدري نفس"، اور نہیں جانتا کوئی نفس، "ماذا تكسب غدا"، کہ وہ کیا کمائے گا کل، یعنی خیر یا شر بھئی، اچھائی کرے گا یا برائی، اچھا عمل کرے گا یا برا عمل کرے گا، کوئی نفس یہ نہیں جانتا۔ "وما تدري نفس ماذا تكسب غدا"، اور نہیں جانتا کوئی نفس کہ وہ کیا عمل کرے گا کل۔ "وما تدري نفس بأي أرض تموت"، اور نہیں جانتا کوئی نفس "بأي أرض تموت" کہ کس زمین میں وہ مرے گا، کہاں پر اس کی موت آئے گی۔ "إن الله عليم خبير"، یقیناً اللہ جاننے والے ہیں باخبر ہیں۔ یقیناً اللہ جاننے والے ہیں، باخبر ہیں بھئی۔ تو یہ آیت کے اندر پانچ چیزیں بیان ہوئیں، ایک قیامت کا علم، ایک بارش کے نازل کہ بارش کب نازل ہوگی، کہاں نازل ہوگی، اسی طرح ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے، اور اسی طرح اگلے آنے والے دن میں کوئی نفس کیا عمل کرے گا، اور اسی طرح کہ کسی شخص کی موت کس جگہ پر آئے گی، یہ سب چیزیں خاص ہیں اللہ کے ساتھ بھئی۔ یعنی ان کا کلی علم اللہ ہی کے پاس ہے، اللہ نے یہ علم کسی کو نہیں دیا بھئی۔ ہاں اگر جزوی علم کوئی ایک آدھ واقعے کا، دو چار کا دے دیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ اللہ... لیکن کلی علم اللہ نے اپنے ساتھ خاص رکھا ہے۔ کسی پیغمبر کو بھی یہ علم نہیں دیا گیا اور کسی اور ولی کو بھی یہ علم نہیں دیا گیا، یہ چیزیں خاص ہیں اللہ کے ساتھ بھئی۔ تو ان کو یہ اس آیت کو جو ہے، حدیث میں "مفاتيح الغيب" کہا جاتا ہے۔ یہ پانچ چیزیں جو ہیں یہ کیا ہیں؟ مفاتیح الغیب، غیب کی چابیاں بھئی، جو اللہ کے ساتھ مخصوص ہیں، اللہ کے ساتھ۔ امام مالک رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے بھئی، بعضوں نے ایک اور خلیفہ، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانے میں خلیفہ تھا، بعضوں نے اس کا لکھا، لیکن بعضوں نے امام مالک رحمہ اللہ کے بارے میں لکھا۔ امام مالک رحمہ اللہ مدینہ منورہ میں رہتے تھے بھئی، اور مکہ کا سفر بھی نہیں کرتے تھے کہ اس خوف سے کہیں میری موت مدینہ سے باہر نہ آ جائے، تو میری قبر مدینہ سے باہر رہ جائے، تو چنانچہ لیکن شوق بے انتہا شوق تھا کہ عمرہ، حج کے سفر پر تشریف لے جائیں، ادھر یہ خوف بھی تھا کہ کہیں میری موت نہ آ جائے اور میری قبر مدینہ میں نہ بن سکے، چنانچہ ایک مرتبہ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تو خواب میں پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری میں میری موت کب آئے گی؟ میری موت کب آئے گی؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہاتھ یہ پنجہ ان کی طرف کر دیا اس سے پورے انگلیاں کھول کر ہاتھ کا اشارہ ان کی طرف کیا۔ تو یہ کچھ انہیں سمجھ میں نہیں آیا، بیدار ہوئے، اب سوچ رہے ہیں کہ یہ پانچ کا اشارہ کیا ہے، پانچ انگلیوں سے، تو کیا معنی ہوگا اس کا؟ سمجھ میں آئی بات؟ پورا ہاتھ کھول کر پانچ انگلیوں کے ساتھ، پنجے کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کیا، تو اب یہ حیران ہیں کہ پتہ نہیں اس سے کیا مراد ہے، میری موت پانچ دن بعد ہوگی، یا پانچ ہفتے بعد، یا پانچ مہینے بعد، یا پانچ سال بعد؟ چنانچہ علامہ ابن سیرین اس زمانے میں بہت بڑے معبر تھے، اللہ نے انہیں خوابوں کی تعبیر بتانے میں بے انتہا ملکہ نصیب فرمایا تھا۔ ان کے پاس ایک شخص کو روانہ کیا کہ جلد سے جلد سیدھے جاؤ اور ان کے سامنے یہ خواب بیان کرنا اور دیکھو میرا نہ بتانا، بس یہ خواب بتانا کہ یہ خواب اس طرح کا کسی نے دیکھا ہے اور اس کی کیا تعبیر ہوگی؟ وہ علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ کے پاس پہنچا اور خواب بیان کیا۔ علامہ ابن سیرین بھئی، فرمانے لگے کہ بھئی یہ خواب تو تمہارا دیکھا ہوا نہیں لگتا، یہ تو کوئی عام آدمی کا خواب نہیں ہے، یہ کسی بہت بڑی ہستی کا خواب ہے اور تم مدینہ منورہ سے آئے ہو اور مدینہ منورہ میں سب سے جلیل القدر ہستی اس وقت امام مالک رحمہ اللہ کی ہے، معلوم ہوتا ہے یہ خواب انہوں نے دیکھا ہے بھئی۔ تو اس آدمی نے بتلایا کہ جی ہاں انہوں نے ہی دیکھا ہے، تو کہنے لگے اس پانچ کی انگلیوں کا جو اشارہ فرمایا، اس میں پانچ دن یا پانچ ہفتے کی طرف اشارہ نہیں ہے، بلکہ اشارہ ہے اس آیت کی طرف بھئی، کہ یہ پانچ چیزیں ہیں، ان کا علم اللہ کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں ہے بھئی۔ انہوں نے موت کا پوچھا تھا، انہی میں سے ایک کیا ہے؟ وہ بھی اسی کے اندر ہے، کہاں موت آئے گی، کس جگہ پر موت آئے گی، کس وقت آئے گی، یہ صرف اللہ ہی جانتے ہیں۔ "وما تدري نفس بأي"، اسی طرح بھئی، اسی طرح ایک مرتبہ ملک الموت جو ہے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس تشریف لائے بھئی، ان کو اللہ نے بہت بڑی سلطنت نصیب فرمائی تھی، تو جب ان کے پاس آئے، تو دربار لگا ہوا ہے اور لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، تو ایک شخص کی طرف دو تین چار مرتبہ بڑے غور سے بار بار دیکھا بھئی۔ تو وہ شخص پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ حضرت! یہ ملک الموت میری طرف بڑی غور سے دیکھ رہا تھا، یہ نہ ہو کہیں میری موت آنے والی ہو، آپ یوں کریں مجھے یہاں ہوا کو حکم دیں کہ مجھے یہاں سے ہندوستان پہنچا دے، ہندوستان بہت دور تھا وہاں سے بھئی، کئی دنوں کا بلکہ مہینوں کا سفر تھا، چنانچہ آپ نے ہوا کو حکم دیا اور اسی وقت ہوا نے اسے ہندوستان پہنچا دیا۔ تو حضرت پھر ملک الموت نے کہا، بعد میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو بتلایا کہ میں اس شخص کو غور سے بار بار اس لیے دیکھ رہا تھا کہ اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا تھا کہ اس کی روح ہندوستان میں قبض کرنی ہے اور میں حیران ہو رہا تھا کہ یہ آدمی تو وہی ہے اور یہ یہاں پر ہے، یہ وہاں پہنچے گا کیسے؟ کیسے میں اس کی وہاں روح قبض کروں گا؟ حکم تو اللہ نے یہ دیا ہے بھئی۔ تو دیکھو، کسی شخص کو پتہ نہیں کہاں پر اس کی موت آئے گی بھئی۔ تو ان چیزوں، یہ جو پانچ چیزیں بیان ہوئیں، ان کا علم اللہ ہی کے پاس ہے بھئی۔ قیامت کب قائم ہوگی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اجمالی علم تو دیا گیا کہ قیامت قریب ہے، لیکن کب ہوگی؟ یہ نہیں بتلایا گیا بھئی۔ کب ہوگی، اس کی نشانیاں بھی بتلا دی گئیں، لیکن کب ہوگی یہ علم نہیں دیا گیا بھئی۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ حدیثِ جبریل جو آتی ہے، حضرت جبریل علیہ السلام اس انسانی صورت میں آئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھے، صحابہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا، اجنبی تھا، بڑے سفید کپڑے اس نے پہنے ہوئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس طرح بیٹھا، التحیات کی شکل میں اپنے گھٹنے حضور کے گھٹنوں کے ساتھ جوڑ کر بیٹھ گیا۔ ان کے سامنے بیٹھ گیا اور پھر پوچھتے کئی سوالات پوچھے، صحابہ سب بیٹھے تھے، سوالات مختلف پوچھتے رہے بھئی، حضور جواب دیتے رہے۔ اور پھر یہ بھی پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو قیامت کب آئے گی؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: "ما المسئول عنها بأعلم من السائل"، جس سے پوچھا گیا ہے، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا بھئی۔ یعنی جیسے تمہیں علم نہیں ہے، اسی طرح مجھے بھی علم نہیں ہے قیامت کب آئے گی۔ پھر وہ تشریف لے گئے، جب وہ چلے گئے حضور نے صحابہ سے پھر پوچھا کہ جانتے ہو یہ کون تھے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں یا رسول اللہ! حضور نے فرمایا یہ جبریل علیہ السلام آئے تھے تمہیں دین سکھانے کے لیے، تمہارے سامنے مجھ سے باتیں پوچھیں تاکہ تمہیں کیا ہو؟ ان چیزوں کا پتہ لگ جائے۔ تو ان چیزوں کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ بارش کب ہوگی؟ آپ کہیں گے محکمہ موسمیات والے تو پہلے سے ہی بتا دیتے ہیں کہ بارش ہوگی، نہیں بھئی یہ نہیں، یہ تو انہوں نے بادل آتے ہوئے دیکھ لیے باقاعدہ، اور پھر بھی ان کی پیشین گوئی کوئی یقینی پھر بھی نہیں ہوتی، اگرچہ انہوں نے بادلوں کو بھی آتے ہوئے دیکھ لیا بھئی۔ پہلے سے بتائیں نا ہمیں، مہینہ پہلے بتائیں۔ یا مہینہ بھی چلو، اس میں بھی ہو سکتا ہے بادل اس طرف رخ ہو چکے ہوں۔ ہمیں ایک سال پہلے بتائیں، یہاں بارش ہوگی، یہاں نہیں ہوگی، کوئی بھی نہیں جانتا بھئی۔ تو وہ صرف بادلوں کو آتا ہوا دیکھ کر اس کے ذریعے ایک اندازہ بتاتے ہیں، یقینی پھر بھی نہیں ہوتی بات۔ اور اسی طرح بھئی، کہ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے یہ اللہ ہی جانتے ہیں۔ آپ کہیں گے بھئی، آج کل تو الٹراساؤنڈ کے ذریعے پہلے ہی پتہ کروا لیتے ہیں کہ بیٹا ہے یا بیٹی ہے، تو جواب یہ ہے بھئی، کلی علم اللہ کے پاس ہے، یہ چند جزوی اگر کسی کو معلوم بھی ہو جائیں تو اس سے اس پہ کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ اور بعض علماء نے یہ جواب دیا کہ الٹراساؤنڈ میں تو باقاعدہ مشین کے ذریعے دیکھ لیتے ہیں تو وہ علمِ غیب کہاں رہا بھئی؟ پھر تو وہ مشاہد ہو گیا۔ عالم الغیب تو صرف اللہ تعالی ہیں، دیکھنے کے بعد پھر کہنا کہ یہ چیز ہے، بغیر دیکھے بتائیں نا، تو بغیر دیکھے کوئی بھی نہیں بتا سکتا۔ نیز اللہ تعالی نے ذکر کیا فرمایا؟ "ما في الأرحام"، یہ نہیں فرمایا "يعلم من في الأرحام"، اور "ما" آتا ہے غیر ذوی العقول کے لیے بھئی۔ نیز وہ جو الٹراساؤنڈ میں ہے، وہ وہ جب بچہ بن چکا ہے تقریباً اس وقت پتہ چلے گا، اس سے پہلے تو کسی کو بھی علم نہیں ہے بھئی۔ اور نیز "ما" ذکر کیا، "ما" عام ہے بھئی، اس کے اندر یہ بھی آ گیا کہ وہ لڑکا ہوگا یا لڑکی، اس میں یہ بھی آ گیا کہ وہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت ہوگا، اس میں یہ بھی آ گیا کہ اس کی عمر کتنی ہوگی اور کب اس کتنی عمر ہوگی اس کی، اس میں یہ بھی آ گیا کہ اس کو کتنا رزق دیا جائے گا، اللہ جانتے ہیں اس کو جو رحم میں ہے، یعنی وہ نیک بخت ہے یا بدبخت ہے، کتنی عمر والا ہے، جنتی ہے، جہنمی ہے، یہ سب چیزیں آ گئیں اس کے اندر، تو اس سے صرف یہ معنی کرنا کہ لڑکا ہے یا لڑکی، یہ تو اس کا معنی ہی نہیں ہے بالکل صرف بھئی، یہ سب چیزیں اس کے اندر داخل ہو گئیں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ کہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے اللہ جانتے ہیں کہ ماؤں کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی، بھئی یہ لڑکا لڑکی والا معنیٰ کہاں سے آپ نے کر لیا؟ اللہ نے تو یہ نہیں کہا، اللہ نے تو کیا فرمایا: "يعلم ما في الأرحام"، وہ جو ماؤں کے پیٹ میں ہے۔ کیا مراد ہے؟ بتلایا اس میں، نیک بخت اور بدبخت ہونا بھی مراد ہو سکتا ہے، اور لڑکا یا لڑکی ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ سب چیزیں اس میں آ گئیں اور وہ اللہ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔
69 approved lectures · 24 of 69