اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔
وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ۔
ولقد آتينا آتينا لقمان الحكمة، اور تحقیق ہم نے عطا کی حضرت لقمان کو الحكمة دانائی، عقل، عقلمندی۔ اور ہم نے عطا کی حضرت لقمان کو دانائی أن اشكر لله، کہ شکر ادا کریں اللہ کا بھئی۔ أن اشكر لله، یعنی کہ شکر ادا کریں اللہ کا۔
بھئی حضرت لقمان رحمہ اللہ، اکثر مفسرین اسی بات کی طرف گئے ہیں کہ حضرت لقمان جو تھے وہ پیغمبر نہیں تھے۔ بلکہ اللہ کے نیک اور برگزیدہ اور نہایت متقی اور پارسا انسان تھے جن پر اللہ نے خصوصی فضل فرمایا اور ان کو خوب حکمت اور دانائی عطا کی بھئی، خوب حکمت اور دانائی عطا کی، اور یہ حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں تھے بھئی۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام سے پہلے یہ لوگوں کو فتوے وغیرہ دیتے تھے عقل کی روشنی میں، یہ ایسی باتیں کرتے تھے جو پیغمبروں کی تعلیمات کے موافق تھیں بھئی۔
آگے ذکر آئے گا بھئی، شرک سے لوگوں کو روکتے تھے بھئی، شرک سے روکتے تھے۔ پیغمبر بھی کیا کرتے ہیں؟ شرک سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ تو وہ باتیں جو پیغمبر وحی کے ذریعے لوگوں کو بتلاتا ہے اللہ نے ان کو ایسی دانائی عطا کی تھی کہ عقل کے ذریعے یہ وہی چیزیں لوگوں کو بتلاتے تھے بھئی، عقل کے ذریعے، تو اللہ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ دیکھو اے لوگوں! یہ چیزیں جو پیغمبر تمہیں بتلا رہے ہیں، شرک سے منع کر رہے ہیں، نیک کاموں کی طرف بلا رہے ہیں، انسانی عقل بھی اسی چیز کی طرف انسان کی رہنمائی کرنے والی ہے اگر تم غور کرو تو۔
تو دیکھو یہ عقل کے ذریعے وہ ساری باتیں وہ وہی دعوت دے رہے ہیں لوگوں کو، وہی چیزیں بیان کر رہے ہیں اور پھر یہ حضرت داؤد علیہ السلام کا زمانہ پایا انہوں نے تو پھر انہوں نے فتویٰ دینا چھوڑ دیا بھئی۔ تو یہ حبشی تھے بھئی حبشی، اور شکل و صورت ان کی بڑی معمولی اور معمولی سی شکل و صورت حبشی اور غلام تھے، لیکن دانائی اللہ نے ایسی دی کہ ساری مخلوق کا مرجع بن گئے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو اصل چیز حکمت، علم اور دانائی ہے، شکل و صورت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب حبشی بھی تھے، غلام بھی تھے، لیکن لوگ پھر بھی باتیں پوچھنے کے لیے انہی کے پاس آیا کرتے تھے بھئی، اتنی ان کی شہرت ہو گئی۔ اور آج تک اتنی شہرت ہے، دیکھیے جگہ جگہ ان کی باتیں آپ کو کتابوں کے اندر ملے گی، ملیں گی کہ وہ یہ فرماتے ہیں اور حضرت لقمان یہ فرماتے ہیں، یہ فرماتے ہیں، تو ان کی دانائی کی باتیں آج تک نقل ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ انہی میں سے کچھ باتیں اللہ تعالیٰ ذکر کر رہے ہیں قرآن کے اندر بھئی۔
جی، تو دیکھیے اللہ فرما رہے ہیں، ولقد آتينا لقمان الحكمة، اور ہم نے عطا کی لقمان کو دانائی، عقلمندی، أن اشكر لله، کہ شکر ادا کریں اللہ کا، ومن یہ کہ شکر ادا کریں اللہ کا، ومن يشكر فإنما يشكر لنفسه، اور جو شکر ادا کرتا ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اپنے ہی نفس کے لیے۔ جو شکر ادا کرتا ہے، وہ اپنے ہی نفس کے لیے شکر ادا کرتا ہے یعنی اس کا فائدہ اور نفع اسی کو پہنچے گا بھئی۔
تو شکر ادا کرنے میں اسی کا اسی کا نفع ہے، اللہ تعالیٰ کو کسی کی حمد و ثنا، عبادت وغیرہ کسی چیز کی حاجت نہیں، تو جو کوئی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، اللہ کی عبادت کرتا ہے، اللہ کے بتلائے ہوئے طریقے پر چلتا ہے تو دراصل یہ اپنے ہی نفع کر رہا ہے بھئی۔ ومن كفر، اور جو شخص ناشکری کرتا ہے، فإن الله غني حميد، تو بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز ہیں، حميدٌ، قابل تعریف ہیں۔
قابل تعریف ہیں۔ فإن الله غني حميد، پس بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز ہیں، حميدٌ، قابل تعریف ہیں، یا یہ ترجمہ کر لیں حمید بمعنی محمود کے، تعریف کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہیں، تعریف کیے گئے ہیں۔ وإذ قال لقمان لابنه، اور جب کہا لقمان حضرت لقمان نے لابنه اپنے بیٹے سے، وهو يعظه، یہ وهو يعظه، یہ مبتدا 'هو' مبتدا، 'يعظه' اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا اور یہ حال ہے۔ یہ حال ہے لقمان سے بھئی، یہ جملہ پورا کیا بن رہا ہے؟ حال ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو ترجمہ یوں کر لیں، جس طرح ہے: اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے سے اور وہ اسے نصیحت کر رہے تھے، یا حال کو بیچ میں لے آئیں بھئی، اس 'قال' والے جملے کے بیچ میں حال کو لے آئیں۔ اور جب کہا لقمان رحمہ اللہ نے نصیحت کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو، جب حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: يا بني، اے پیارے بیٹے! تصغیر ہے مولانا تصغیر، اور شفقت کے طور پر بھئی، شفقت تصغیر کبھی کبھار تحقیر کے لیے ہوتی ہے، لیکن یہاں کس لیے ہے؟ شفقت کے لیے۔ يا بني، اے پیارے بیٹے! لا تشرك بالله، تو شریک نہ کر اللہ کے ساتھ، إن الشرك لظلم عظيم، بے شک شرک جو ہے وہ بہت بڑا ظلم ہے، بہت بڑی نا انصافی ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو اس سے پچھلی سبق کے آخر میں جو آیا تھا بل الظالمون في ضلال مبين، ظلم کرنے والے سے کیا مراد ہے؟ شرک کرنے والے، یہ آگے آ گیا آج إن الشرك لظلم عظيم، شرک کیا ہے؟ بہت بڑا ظلم ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ظلم نا انصافی بھئی نا انصافی، تو بہت بڑی نا انصافی ہے کہ انسان اللہ جیسی ذات جس نے اس کو پیدا کیا، ہر قسم کی نعمتیں دیں، اس کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرنے لگے جن کو وہ اپنے ہاتھ سے بناتا ہے، اپنے ہاتھ سے بناتا ہے۔
تو اللہ کی ذات تمام خوبیوں کی جامع ہے، تمام صفات کمالیہ اللہ کے اندر موجود ہیں، تو وہی ذات مستحق عبادت ہے، اور انسان کی حماقت کا ذرا اندازہ لگاؤ بھئی کہ اسے اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے، تمام مخلوقات پر اس کو فضیلت دی ہے، ان سے افضل اس کو بنایا ہے، اور یہ پھر مٹی اور پتھروں کی مورتیوں بناتا ہے، ان کے بت بناتا ہے، جو ادنیٰ ترین چیز ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔ افضل ترین ذات کو چھوڑ کر اپنی ذات سے بھی جو ادنیٰ ہیں بلکہ سب چیزوں سے ادنیٰ ترین جو چیز بناتا ہے، اس کی عبادت کرنے لگ جاتا ہے، حالانکہ عبادت کس ذات کی ہونی چاہیے؟ جو سب سے اعلیٰ ہو بھئی، اور وہ اللہ کی ذات ہے بھئی۔
إن الشرك لظلم عظيم، بے شک شرک بہت بڑی نا انصافی ہے۔ ووصينا الإنسان بوالديه، جی، إن الشرك لظلم عظيم، یہاں تک حضرت لقمان کی بات تھی، وہ نصیحت تھی جو وہ اپنے بیٹے کو کر رہے تھے بھئی۔ آگے اللہ تعالیٰ درمیان میں ایک بات اپنی طرف سے ایک چیز ذکر فرما رہے ہیں، آگے چل کر پھر حضرت لقمان کی نصیحت کا ذکر آئے گا بھئی۔
اور یہ جو کہا وإذ قال لقمان لابنه، اور جب حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا، یہ جو بیٹے تھے ان کا نام جو ہے مفسرین لکھتے ہیں، ان کا نام تارآن تھا تارآن، تا دو نقطوں والی بھئی۔ الف، با، تا، تارآن بھئی، تارآن تھا، بعضوں نے سارآن لکھا، تا کے بجائے ثا لکھی ہے، سارآن۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کا نام مشکم تھا، مشکم یا مشکم بھئی، یہ ان کا نام تھا، اور بعضوں نے انعم ان کا نام لکھا ہے بھئی، انعم، انعم۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ان کے بیٹے کا نام جو مفسرین لکھتے ہیں روایات، مختلف روایات ہیں۔ اور یہ ان کے بیٹے کیا مسلمان تھے؟ مومن تھے؟ یا مشرک تھے کہ وہ اپنے بیٹے کو کہہ رہے ہیں لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم؟ تو بعضوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کیا تھے؟ مشرک تھے، اور حضرت لقمان جو ہیں بار بار اسے نصیحتیں کرتے رہے، یہاں تک کہ پھر وہ ایمان لے آئے بھئی، اللہ کی وحدانیت کا اقرار کر لیا انہوں نے۔ اللہ کی وحدانیت کا۔ اور بعض
بعض مفسرین کہتے ہیں نہیں، ان کے بیٹے مومن ہی تھے اور اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے تھے اور یہ جو حضرت لقمان ان کو نصیحت کر رہے تھے یہ ویسے ہی کر رہے ہیں تاکہ یہ ایمان پر ہی ثابت قدم رہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ایمان پر اس کی استقامت اور مضبوطی کے لیے اس کو نصیحت کر رہے ہیں، یہ نہیں کہ وہ ایمان والا نہیں تھا بھئی۔
جی، تو آگے اللہ فرما رہے ہیں، وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ، اور نصیحت کی ہے ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں۔ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں نصیحت کی ہے۔ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ، حَمَلَتْهُ، اٹھاتی ہے اس کی ماں اسے، اٹھایا، اٹھایا اسے، 'ہ' ضمیر انسان کو راجع، اٹھایا اسے أُمُّهُ اس کی ماں نے، اٹھایا اسے اس کی ماں نے، یعنی پیٹ میں رکھا، کون سا اٹھانا مراد ہے؟ جو پیٹ میں رکھا، تو پیٹ میں رکھا اسے اس کی ماں نے وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ۔ یہ حال ہے 'ام' سے، حال ہے 'ام' سے۔ اور 'وہن' سے پہلے ذات مضاف محذوف نکال لیں بھئی۔
اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا اس حال میں، 'وہن' کہتے ہیں ضعف کو، کمزوری کو بھئی۔ اس حال میں ذَاتَ وَهْنٍ عَلَىٰ وَهْنٍ بھئی۔ 'ذات' کا لفظ مضاف نکال لیں گے کیا بن گئی عبارت؟ ذَاتَ وَهْنٍ عَلَىٰ وَهْنٍ۔ پیٹ میں رکھا اسے اس کی ماں نے اس حال میں کہ وہ کمزوری پر کمزوری والی تھی، کمزوری پر، ضعف پر ضعف والی تھی بھئی، ضعف پر ضعف والی تھی۔ بھئی آپ خود ہی دیکھ لیں اندازہ لگائیں نو مہینے تک ماں بچے کو اپنے پیٹ میں رکھتی ہے اور جوں جوں حمل بڑھتا چلا جاتا ہے اس کا حاملہ کا ضعف بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور اتنا وزن اٹھا کر ہر وقت ساتھ رکھنا اور اس کا خیال رکھنا اور پھر اس کے بعد پیدائش کے بعد پیدائش کے بعد کس طرح مشکلات اٹھا اٹھا کر اس کی پرورش کرتی ہے، تکالیف اٹھاتی ہے۔ بچہ کس طرح ہر بات پر شروع میں تو وہ حرکت بھی نہیں کر سکتا، ہر ہر چیز کا لحاظ، خیال ماں رکھتی ہے کہ اس کو گرمی نہ لگ جائے، اسے سردی نہ لگ جائے، یہ اور بھوک نہ لگ بھوک لگتی ہے جیسے اس کے لیے کھانے، دودھ وغیرہ کا بندوبست اور پھر کوئی تکلیف اسے نہ پہنچے اور پھر بچے کی ضد وغیرہ اور چیزوں کے ساتھ کتنی مشکلات کے ساتھ ماں بچے کی پرورش کرتی ہے بھئی۔ تو سب سے زیادہ حق انسان پر اس کی ماں کا ہے، ماں باپ کا ہے اور ماں باپ میں سے پھر ماں کا ہے۔ سب سے زیادہ حق یعنی اللہ کا ہے کہ اللہ نے پیدا کیا اور تمام نعمتیں دیں، ہاں اللہ کے بعد کن کا حق ہے؟ والدین کا ہے اور والدین میں سے پھر ماں کا حق زیادہ ہے بھئی۔
تو اللہ فرما رہے ہیں حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ، پیٹ میں رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری کے پر کمزوری کے ساتھ، وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ، فصال کہتے ہیں دودھ چھڑانے کو بھئی۔ فصل کا معنی ہوتا ہے جدا کرنا لیکن فصال جو ہے نا یہ صرف دودھ چھڑانے کے لیے آتا ہے بھئی۔ وہ دودھ چھڑانا، وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ، اور اس کا دودھ چھڑانا جو ہے دو سال میں ہوتا ہے، دودھ دو سال میں اس کا دودھ چھڑایا جاتا ہے۔ دو سال میں اس کا دودھ چھڑایا جاتا ہے۔
تو مفسرین لکھتے ہیں بھئی فقہاء فرماتے ہیں اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہ مدت رضاعت دو سال ہے بھئی۔ عموم یہ کیا ہے؟ دو سال مدت رضاعت ہے۔ اور اس مدت کے اندر بچے کو جو بھی عورت دودھ پلائے گی وہ اس کی رضاعی ماں بن جائے گی بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ ہاں اس کے بعد پھر وہ رضاعی ماں نہیں بنے گی بھئی۔ تو مدت رضاعت بہرحال کتنی ہے؟ دو سال عام فقہاء کے نزدیک، لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مدت رضاعت ڈھائی سال ہے یعنی تیس مہینے۔ اور ان کی دلیل وہ آیت ہے وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا، کہ اس کا حمل اور مدت رضاعت کی دودھ کا چھڑانا کتنے عرصے مدت میں ہے؟ ڈھائی سال میں یعنی 30 مہینے میں ہے۔
جی، اور تو کہتے ہیں وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ اور اس کا دودھ چھڑایا جاتا ہے دو سال میں، أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ، یہ وہ وصیت آ گئی بھئی۔ ہم نے وصیت، نصیحت کی ہے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں۔ درمیان میں ذکر کر دیا ماں کا کہ اس کی ماں اس کے لیے بڑی تکالیف اٹھاتی ہے۔ اور اب وہ کیا وصیت کی ہے؟ وہ یہ، أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ۔ یہ 'أن' جو ہے یہ 'أَيْ' کے معنی میں ہے، تفسیر کے لیے آتا ہے، کسی چیز کی تفسیر بیان کرنے کے لیے آتا ہے بھئی۔ جیسے پیچھے بھی آیا أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ۔ یہ 'أن' کس لیے ہے؟ تفسیر کے لیے۔ ہدایت النحو میں بھی آپ نے پڑھا ہو گا کہ اور اور اسی طرح قافیہ میں بھی پڑھیں گے کہ تفسیر کے لیے جیسے 'أَيْ' آتا ہے، اسی طرح 'أن' بھی آتا ہے لیکن 'أن' کے ذریعے اس فعل کی تفسیر کی جاتی ہے جس میں قول والا معنی پایا جائے۔ جس میں کون سا معنی پایا جائے؟ قول۔ قول کی اپنے تفسیر آگے 'قال' کی تفسیر 'أن' سے نہیں آئے گی کیونکہ یہ خود ہے، اور وہاں ہے کہ جس میں قول قول خود نہیں بلکہ قول والا معنی پایا جائے۔ اور نصیحت کرنے میں بھی قول والا معنی ہے یا نہیں بھئی؟ نصیحت بھی کسی قول کے کسی سے کہی جائے گی۔ جی، تو اس میں بھی قول والا معنی ہے بھئی۔
جی، تو یعنی کہ أَنِ اشْكُرْ لِي کہ شکر کر میرا، ہم نے وصیت کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ، یعنی کہ شکر کر میرا اور اللہ فرما رہے ہیں، أَنِ اشْكُرْ لِي کہ شکر کر میرا، وَلِوَالِدَيْكَ اور اپنے والدین کا، إِلَيَّ الْمَصِيرُ، میری ہی طرف لوٹنا ہے۔ میری پاس میرے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔
وَإِن جَاهَدَاكَ، اور اگر وہ دونوں کوشش کریں، جَاهَدَا تثنیہ آیا۔ اگر وہ دونوں تجھ پر، 'ک' ضمیر مخاطب کی، اور اگر وہ دونوں کوشش کریں تجھ پر یا وہ دونوں یہ ترجمہ کر لیں، اگر وہ دونوں زور ڈالیں تجھ پر عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي اس بات پر کہ تو شریک کر 'بی' میرا، 'ی' کیا ہے؟ متکلم کی ضمیر۔ کہ تو شریک کر میرے ساتھ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ اس چیز کو، کہ تو شریک کر میرے ساتھ اس چیز کو لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ کہ نہیں ہے تیرے پاس اس کا کوئی علم، یعنی تجھے جس کا وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ، اور اگر وہ دونوں زور ڈالیں تجھ پر کہ تو شریک کر میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کچھ بھی علم، فَلَا تُطِعْهُمَا، تو ان دونوں کی اطاعت نہ کر۔ فَلَا تُطِعْ، تو تو اطاعت نہ کر، هُمَا، ان دونوں کی۔ وَصَاحِبْهُمَا، اور ساتھ دے ان دونوں کا، فِي الدُّنْيَا، دنیا کے اندر، مَعْرُوفًا، اچھے طریقے سے۔ وَصَاحِبْهُمَا، ساتھ دے ان دونوں کا، ساتھ رہ ان دونوں کے، جو بھی ترجمہ کر لیں۔ ساتھ رہ ان دونوں کے دنیا کے اندر مَعْرُوفًا اچھے طریقے سے، یعنی ان کے ساتھ نیکی کرتے کرتے ہوئے۔ وَاتَّبِعْ، اور اتباع کر، پیروی کر، سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ، راستہ اس شخص کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف۔ 'أناَبَ' رجوع کرنا بھئی۔ تو اس اور پیروی کر اس شخص کے راستے کی جو رجوع کرنے والا ہے میری طرف، جو میری طرف رجوع کرنے والے ہیں میرے راستے پر چلنے والے ہیں اللہ فرما رہے ہیں ان کی پیروی کرو۔ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ، پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے، فَأُنَبِّئُكُم، پس میں تمہیں بتلا دوں گا، میں تمہیں خبر دے دوں گا۔ 'نبأ ينبئ' کے معنی خبر۔ فَأُنَبِّئُكُم، پس میں تمہیں خبر دے دوں گا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ اس چیز کی جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ میں تمہیں اس چیز کی خبر دوں گا جو تم عمل کیا کرتے تھے۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وَإِن جَاهَدَاكَ، دوبارہ دیکھ لیں، وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ، اور اگر وہ دونوں زور ڈالیں تجھ پر کہ تو شریک کر میرے ساتھ اس چیز کو لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ کہ نہیں ہے تجھے اس کا کچھ بھی علم، فَلَا تُطِعْهُمَا، تو ان کی اطاعت نہ کر اور ان کا ساتھ دے دنیا میں اچھے طریقے سے، اور پیروی کر ان لوگوں کے راستے کی جو رجوع کرتے ہیں میری طرف، پھر میری طرف ہی تمہارا لوٹنا ہے تو میں تمہیں بتلا دوں گا جو تم عمل کیا کرتے تھے، یعنی اس کا بدلہ پھر تمہیں دوں گا۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اللہ فرما رہے ہیں میرے بعد سب سے زیادہ حق تم پر تمہارے والدین کا ہے اور ان میں بھی سب سے زیادہ حق ماں کا ہے، لیکن اگر یہ دونوں بھی میرے ساتھ شرک کرنے کے بارے میں کہیں تو اس معاملے میں ان کی بات ان کی بات تسلیم نہ کرنا، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔