Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-019

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم۔ بسم اللہ الرحمن الرحيم۔ فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ۔ پس بے شک آپ نہیں سنا سکتے مردوں کو وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ اور آپ نہیں سنا سکتے بہروں کو الدُّعَاءَ پکارنا۔ آپ بہروں کو پکار نہیں سنا سکتے إِذَا وَلَّوْا جب وہ پلٹ جائیں مُدْبِرِينَ پشت پھیرتے ہوئے۔۔ یہ مدبرین حال واقع ہو رہا ہے ولوا کے اندر، ولوا میں جو ضمیر ہے بھئی و، یہ و جمع کی جو ضمیر ہے، اس سے کیا بن رہا ہے یہ؟ حال۔ إِذَا وَلَّوْا جب وہ پلٹ جائیں اس حال میں کہ پشت پھیرنے والے ہوں۔ مدبرین پشت پھیرنے والے۔ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ اور آپ نہیں سنا سکتے بہروں کو پکار إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ جب وہ پلٹ جائیں پشت پھیرتے ہوئے۔ جی۔ تو میں نے آپ کو بتایا تھا کہ بھئی اگر بہرے کا رخ آپ کی طرف ہو، تو پھر کچھ نہ کچھ وہ ہونٹوں اور ہاتھ وغیرہ کے اشارے سے کچھ بات سمجھ جائے گا۔ لیکن اگر اس کا رخ وہ پشت پھیر لے، رخ ہی دوسری طرف کر لے، تو اب اس کے سمجھنے کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں پر اللہ فرما رہے ہیں فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ، موتىٰ سے مراد کفار ہیں بھئی، یاد رکھیے۔ کفار، اور ان کو مردہ کہا گیا، کیونکہ ایمان جو ہے وہ دراصل زندگی ہے اور کفر موت کی طرح ہے بھئی۔ تو یہ لوگ بھی مردوں کی طرح ہیں اور مردوں کو آپ نہیں سنا سکتے، یعنی اس سے ان کو کوئی نفع نہیں ہے، وہ اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتے بھئی۔ وہ آگے وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ، اور اسی طرح ان کفار کو کیا قرار دیا؟ بہرا قرار دیا کہ یہ بہرے ہیں بھئی۔ جیسا بہرے کو کچھ سنائی نہیں دیتا، اس طرح یہ کفار ہیں، یعنی یہ سنتے تو ہیں، لیکن اپنے کفر اور کفر کی وجہ سے اور ضد اور عناد کی وجہ سے اسی طرح سنی کو انسنی کر دیتے ہیں، ان پہ کوئی اثر، تو یہ بہروں ہی کی طرح ہیں جنہیں کوئی لفظ سنائی نہیں دیتا، اور وہ پھر وہ جب سننا بھی نہ چاہے خاص طور پر، پشت پھیر لے بھئی۔ پھر یہاں پر میں نے آپ کو سماع موتىٰ کے مسئلے کی تفصیل کچھ ذکر کی تھی بھئی۔ فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ، پیغمبر! آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے بھئی، نہیں سنا سکتے۔ بھئی دیکھیے! دنیا کے اندر جو کچھ بھی ہے، وہ اللہ کی مشیت اور ارادے سے ہے۔ اللہ چاہیں، چاہتے ہیں تو ہوتا ہے، اللہ نہ چاہیں تو نہیں ہو سکتا بھئی۔ لیکن عام زندگی کے اندر کوئی شخص اپنے اختیار سے کوئی فعل کرے، اور ایسا فعل ہے، فعل عادی ہے، یعنی عادتًا اور لوگ بھی اس طرح کر سکتے ہیں، تو اس فعل کی نسبت اس بندے کی طرف کی جاتی ہے۔ مثلاً کسی نے کسی کو گولی ماری تو اور قتل کر دیا، تو کہیں گے اس آدمی نے اس کو کیا کیا ہے؟ قتل کیا ہے۔ لیکن اگر فعل سے کوئی، کوئی غیر معمولی قسم کا فعل ہو، تو پھر جو عام لوگوں سے ممکن نہ ہو، تو پھر اس کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے بھئی۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَمَا رمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ۔ ایک غزوہ کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی وہ کنکریاں اور ریت وغیرہ اٹھائی اور دشمن کی طرف پھینک دی، اور اس وہ سارے لشکر والوں کی آنکھوں میں پڑی، اور پھر ان کو شکست ہو گئی، تو اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ بھئی دیکھیے! یہ کام انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ ایک مٹھی ریت یا کنکریاں وغیرہ اٹھائے اور وہ سارے لشکر والوں کی آنکھوں تک پہنچ جائیں بھئی، ان سب کو جا کر لگیں، تو یہ اللہ ہی کا فعل ہے۔ تو لہٰذا نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ اللہ کی طرف یہاں نسبت کی جائے گی، کیونکہ اس پہ جو نتیجہ مرتب ہوا، وہ غیر معمولی تھا، ہر ایک اس طرح نہیں کر سکتا تھا، چنانچہ اللہ فرماتے ہیں: وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ، اور آپ نے نہیں پھینکا إِذْ رَمَيْتَ جب آپ نے پھینکا تھا۔ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ بلکہ اللہ نے پھینکا تھا۔ تو پھینکنے کی نسبت کس کی طرف کر دی گئی؟ اللہ کی طرف، کیونکہ جب، کیونکہ اس پہ جو نتیجہ مرتب ہوا، وہ بڑا غیر معمولی تھا، عادتًا اس طرح ہو نہیں سکتا بھئی۔ تو لہٰذا عام فعل ہو تو اس کی نسبت بندے کی طرف کرتے ہیں، لیکن اگر نتیجہ غیر معمولی ہو تو پھر نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ اللہ کی طرف کی جاتی ہے بھئی، اگرچہ ہے سب کچھ اللہ ہی کے ارادے اور قدرت سے۔ وہ گولی اس شخص نے دوسرے کو مثلاً ماری، اس سے وہ مر گیا، تو اس شخص کو قاتل کہیں گے، اگرچہ ہے وہ بھی اللہ کی قدرت سے، لیکن وہ غیر معمولی نہیں، عادتًا کوئی بھی اس طرح فعل کرے گا، دوسرے کو گولی مارے گا تو وہ کیا ہوگا؟ مر جائے گا بھئی۔ تو اس، یہ عام فعل ہے، عادی فعل ہے، اس کی نسبت بندے کی طرف کی جاتی ہے، اور جو غیر معمولی ہو، اس کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ اللہ کی طرف کی جاتی ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح کسی مردے کو بات سنانا، یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے بھئی۔ وہ مردہ ہے، روح نکل چکی ہے، بے جان دھڑ پڑا ہوا ہے، وہ یقیناً کوئی بات سننے کی صلاحیت نہیں رکھتا بھئی، صلاحیت نہیں رکھتا۔ تو یہاں بھی یہی کہہ رہا ہے، آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے بھئی، تو اس اسماع کی نفی ہے، سنا نہیں سکتے۔ ہاں! باقی اللہ سنائیں تو اس پہ کوئی انکار نہیں کر سکتا بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہاں اسماع کی نفی ہو رہی ہے کہ سنوا نہیں سکتے آپ، کیونکہ یہ عام، یہ کوئی عام فعل نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ غیر معمولی فعل ہے کہ مردہ سن لے، تو آپ نہیں سنوا سکتے، باقی اللہ سنوانا چاہیں تو اس پہ اللہ قادر ہیں، اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اللہ کیا کرتے ہیں؟ سناتے ہیں بھئی۔ یہ اللہ ہی کی قدرت ہے۔ تو یاد رکھیے! اس میں جو اختلاف ہے مردوں کے سننے کے اندر بھئی، وہ بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ نہیں سنتے، اور بعض کس طرف چلے گئے ہیں کہ مردے سنتے ہیں، دونوں طرف اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں اور نصوصِ قرآن و حدیث ہی کو دلیلوں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تو لہٰذا یہ صحابہ کے دور سے اختلافی مسئلہ چلا آ رہا ہے، اس کی وجہ سے آپس کا اختلاف نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ایک اختلاف، کیونکہ آخرت میں یہ نہیں پوچھا جائے گا بھئی کہ مردے سنتے ہیں یا نہیں سنتے، بہرحال یہ ایک علمی اختلافی مسئلہ ہے، تو اس کو اسی کے حد تک رکھنا چاہیے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس کی وجہ سے آج کل اتنا ایک دوسرے پر طعن و تشنیع اور اعتراضات کیے جاتے ہیں، تو اللہ اس قسم کے اختلافات سے ہم سب کی حفاظت فرمائے بھئی۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کا تعلق آپ سے، جس کے بارے میں آپ سے آخرت میں پوچھا جائے گا اور اس و، تو بلاوجہ ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کرنا اور اعتراضات کرنا۔ تو یہ عام مردوں کے اندر ہے یہ اختلاف بھئی۔ سماعِ موتىٰ کے بارے میں جو اختلاف ہے، وہ عام مردوں کے بارے میں ہے۔ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ مردے نہیں سنتے، اور بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ مردے سنتے ہیں، تو یہ سماعِ موتىٰ کا جو اختلاف ہے، وہ عام مردوں کے بارے میں ہے۔ باقی انبیاء کے سماع کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ انبیاء کے اختلاف، سماع کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ بالاجماع تمام علمائے اسلام کے نزدیک بھئی، انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں بھئی۔ اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور باقاعدہ نمازیں پڑھتے ہیں، اذان و اقامت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں، اور اس بارے میں کثرت سے احادیثِ صحیحہ آئی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جو درود و سلام دور سے پڑھا جاتا ہے، وہ ان کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے، اور جو آپ کے پاس پڑھا جاتا ہے، قبر کے پاس، قبرِ مبارک کے پاس، تو اس کو آپ باقاعدہ سنتے ہیں، اور باقاعدہ اس کا جواب دیتے ہیں، سلام کا کیا کرتے ہیں؟ باقاعدہ جواب دیتے ہیں۔ تو اس سماعِ انبیاء کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے بھئی۔ یہاں تک کہ فقہاء نے بھی لکھا ہے بھئی، کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مبارک کے پاس حاضر ہو، اور وہاں حاضری کا اللہ موقع نصیب فرمائے، اللہ ہم سب کو وہاں بار بار حاضری کی سعادت نصیب فرمائے بھئی، تو جسے اللہ وہاں فقہاء نے لکھا ہے، جسے اللہ وہاں حاضری کی سعادت نصیب فرمائے، تو اسے چاہیے کہ اپنی شفاعت کی بھی درخواست کرے، کہ اے اللہ کے پیغمبر! آپ یومِ آخرت میں، قیامت کے دن ہماری شفاعت فرمائیے گا۔ قیامت کے دن اللہ کے دربارِ جلال و جمال میں ہماری شفاعت فرمائیے گا، ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مبارک کے پاس جو صلاۃ و سلام پڑھا جائے، اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم باقاعدہ سنتے ہیں بھئی، سنتے ہیں۔ تو جو قبروں میں انبیاء کو حیات حاصل ہے، وہ اسی دنیاوی زندگی کی طرح، بلکہ کئی اعتبار سے اس سے بھی بڑھ کر ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ دنیا میں تو انسان جب سنتا ہے، ایک ہی بات ہی سن رہا ہوتا ہے، اس کی طرف توجہ ہوتی ہے، لیکن قبر کے پاس سینکڑوں لوگ کھڑے ہیں، سب صلاۃ و سلام پڑھ رہے ہیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور بڑی آہستہ آواز میں پڑھ رہے ہوتے ہیں، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سنتے ہیں بھئی۔ اس بارے میں احادیثِ صحیحہ آئی ہیں بہت سی بھئی۔ چنانچہ والد صاحب ایک مرتبہ عمرے کے لیے جانے لگے، تو درسِ ترمذی کے اندر بھئی، دورہ حدیث شریف کے طلباء سے فرمانے لگے کہ: میں عمرے کے لیے جا رہا ہوں، آپ حضرات کے لیے کیا لاؤں وہاں سے بھئی؟ ایک مرتبہ کہا، چونکہ ان کا جلال بہت زیادہ تھا، اور طلباء خاموش بیٹھے ہیں، کسی کی ہمت نہیں کوئی بات کرے، پھر کہا بھئی: کیا لاؤں آپ حضرات کے لیے؟ پھر خاموش رہے طلباء، پھر تیسری مرتبہ فرمایا، تو ایک طالب علم نے ہمت کی اور کہا کہ: استادی! وہاں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر ہمارا سلام عرض کر دیجیے گا۔ جب ایک نے کہا، تو باقیوں کو بھی ہمت ہو گئی، سارے بول پڑے کہ: استادی! ہمارا بھی سلام عرض کر دیجیے گا، فرمایا: بہت اچھا۔ چنانچہ عمرے کے لیے تشریف لے گئے بھئی۔ عمرے سے جب واپسی ہوئی، 15-20، 15-20 دن کے بعد واپس آئے، تو سبق کے اندر طلباء سے فرمانے لگے، عمرے کا بھی سنایا، سفر سنایا، اور فرمایا کہ بھئی! میں نے آپ لوگوں کا سلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے روضہِ اقدس پر آپ لوگوں کا سلام پیش کیا تھا، اور پھر عجیب انداز میں فرمانے لگے کہ: میں نے وہاں پر کہا کہ: اے اللہ کے نبی! اے اللہ کے پیغمبر! وہ، وہ غریب و مسکین طلباء جو سارا سال قال اللہ قال الرسول پڑھتے رہتے ہیں، اے اللہ کے پیغمبر! وہ سب بھی آپ کی خدمت میں سلام عرض کر رہے تھے۔ اور پھر فرمانے لگے: واللہ! ثم واللہ! میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سب کے سلام کا جواب دیا بھئی۔ طلباء نے یہ سنا تو ان کی چیخیں نکل گئیں بھئی۔ تو ان کی عجیب شخصیت تھی بھئی، عجیب اور فقہاء نے لکھا ہے، جیسا میں نے ابھی بیان کیا، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مبارک پر جو حاضر ہو، اسے اپنی شفاعت کی درخواست بھی کرنی چاہیے، کہ اے اللہ کے رسول! قیامت کے دن آپ ہماری شفاعت فرمائیے گا۔ والد صاحب کا ایک خواب ایک جگہ انہوں نے لکھا ہوا تھا، وفات کے بعد میں نے کاغذات میں ایک دفعہ ملا مجھے، لکھا ہوا تھا اس میں کہ: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی خواب میں مجھے، اور اور بھی باتیں تھیں، اس میں ایک یہ بات لکھی ہوئی تھی کہ: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اے اللہ کے رسول! اے اللہ کے پیغمبر! قیامت کے دن آپ ہماری بھی، میری بھی شفاعت فرمائیں گے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ: آپ کے لیے تو میری شفاعت واجب ہو چکی ہے بھئی۔ فرماتے ہیں: مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ میں بیان نہیں کر سکتا، اور کہ میں تو درخواست کر رہا ہوں سفارش شفاعت، سفارش کی اور شفاعت کی، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بڑھ کر یہ فرما رہے ہیں کہ آپ کے لیے تو میری سفارش اور شفاعت واجب ہو چکی ہے بھئی، واجب ہو چکی ہے، ہم، کہ ضرور کریں گے بھئی سفارش۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللَّهُ لَهُ، جو اللہ والا ہو جاتا ہے، اللہ اس کے ہو جاتے ہیں۔ فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ، پس بے شک آپ نہیں سنا سکتے مردوں کو، وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ، اور آپ، تو مردوں کو نہیں سنا سکتے، یا مراد یہ ہے ایسا سنانا جس سے، جس کے، اس سے وہ نفع بھی اٹھا سکیں۔ کوئی بات کہیں، کوئی بات کی جائے، اس پر وہ عمل بھی کر سکیں، نفع بھی اٹھا سکیں، ایسا نہیں، یا یہ کہ وہ جواب، ایسا سنانا کہ وہ جواب بھی دے سکیں بھئی، تو اس طرح آپ نہیں سنا سکتے۔ فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ، پس بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے، وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ، اور نہیں سنا سکتے آپ بہروں کو پکار، إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ، جب وہ پلٹ جائیں پشت پھیرتے ہوئے، وَمَا أَنْتَ بِهَادِ الْعُمْيِ عَنْ ضَلَالَتِهِمْ، اور نہیں ہیں آپ ہدایت دینے والے، ہادی، ہدایت دینے والے، عمی، عمیٌ، یہ جمع ہے اعمىٰ کی بھئی، اندھے کو کہتے ہیں اعمىٰ، وَمَا أَنْتَ بِهَادِ الْعُمْيِ، اور آپ نہیں ہیں ہدایت دینے والے اندھوں کو، عَنْ ضَلَالَتِهِمْ، ان کی گمراہی سے، آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہدایت دینے والے نہیں ہیں بھئی، ہدایت۔ إِنْ تُسْمِعُ إِلَّا مَنْ يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا، آپ نہیں سناتے مگر من انہی کو، مَنْ يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا، جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر، آپ تو انہی کو سناتے ہیں، یعنی وہی آپ کی باتوں سے نفع اٹھاتے ہیں، اور کوئی نفع نہیں اٹھاتا، تو گویا وہ سنتے ہی نہیں بھئی، جو نفع نہیں اٹھاتا، گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں۔ تو إِنْ تُسْمِعُ إِلَّا مَنْ يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا، آپ نہیں سناتے مگر وہ جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر، فَهُمْ مُسْلِمُونَ، پس وہ فرمانبردار ہوتے ہیں۔ ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور فرمانبردار ہوتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں پھر۔ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ، اللہ وہ ذات ہے، خلقكم جس نے پیدا کیا تمہیں، مِنْ ضَعْفٍ کمزوری سے، ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً، پھر کر دیا، بنا دیا مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ کمزوری کے بعد، قُوَّةً قوت کو، پھر کیا کر دیا، کیا دیا کمزوری کے بعد؟ قوت کر دی، قوت دے دی، ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا، پھر کر دیا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ قوت کے بعد، ضَعْفًا کمزوری، وَشَيْبَةً اور بڑھاپا، شیب کہتے ہیں اصل میں سفید بالوں کو بھئی، تو مراد بڑھاپا ہوا۔ پھر قوت کے بعد کیا دے دیتے ہیں؟ کمزوری اور بڑھاپا۔ بھئی دیکھیے! انسان شروع میں بچہ ہوتا ہے، چھوٹا سا، کتنا کمزور ہے، نہ پہلو بدل سکتا ہے، نہ ہر، کوئی اپنی کوئی ضرورت پوری کر سکتا ہے، کتنا کمزور ہوتا ہے، اور پھر اللہ اس کو آہستہ آہستہ طاقت دیتے ہیں، یہاں تک کہ جوانی میں جب ساری طاقتیں عروج پر ہو، جا جاتی ہیں، پھر اس وقت اس کے تکبر اور اس کی مستی کہ انسان دیکھے تو حیران ہوتا ہے کہ کس طرح وہ دنیا کے اندر ظلم و ستم کا بازار گرم کرتا ہے، کسی کمزور کو تو خاطر ہی میں نہیں لاتا، اپنی جوانی پر نازاں رہتا ہے کہ میری اتنی طاقت ہے، میں جو کرنا چاہوں کر سکتا ہوں، اور پھر وہی کچھ وقت گزرتا ہے، پھر بڑھاپا آ جاتا ہے، اس حد تک کمزور ہو جاتا ہے کہ چند قدم چلنا بھی بغیر سہارے کے اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے بھئی۔ تو یہ سب اللہ کی نشانیاں، اللہ نے اس طرح پیدا کیا ہے انسان کو کہ پہلے کیا ہوتا ہے؟ کمزور، اور پھر طاقت اور انتہائی درجے کی طاقت اس میں آ جاتی ہے، عروج پر پہنچتی ہیں اس کی طاقتیں، اور پھر اس کے بعد دوبارہ کیا آتا ہے؟ وہ کمزوری اور بڑھاپے کا زمانہ آ جاتا ہے۔ تو دیکھیے بھئی! اللہ اسی کو ذکر فرما رہے ہیں: اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ، اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تم کو کمزوری۔ سے، سمجھ میں آیا؟ یا کمزوری سے مراد وہ نطفہ مراد لے لیں بھئی، نطفہ ایک قطرہ ہی ہے، کچھ بھی نہیں ہے، لیکن اس سے اللہ کیسے انسان کو بنا دیتے ہیں۔ جس نے تم کو پیدا کیا کمزوری سے ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً، پھر دے دی کم، بعد کمزوری کے طاقت، ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا، پھر دے دی ک، تا، قوت کے بعد کمزوری، وَشَيْبَةً، اور بڑھاپا، يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ، اللہ پیدا کرتے ہیں جو چاہتے ہیں، وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ، اور وہ خوب جاننے والے ہیں اور قادر ہیں، قدرت والے ہیں۔ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ، اور وہ اس دن، وہ دن کہ جب قائم ہوگی قیامت، اور وہ دن کہ جب تَقُومُ قائم ہوگی، السَّاعَةُ قیامت، يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ، تو قسم اٹھائیں گے مجرم لوگ، یعنی گناہگار قسم اٹھائیں گے، یعنی کفار وغیرہ، مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ، کہ وہ نہیں ٹھہرے الا سوائے ایک گھڑی کے۔ یعنی دنیا کے اندر اور قبر میں تو ہم ایک گھڑی ہی رہے، وہ وقت جب گزر گیا، تو اس، دنیا کے اندر جو ان کو لمبی زندگی دی گئی تھی، اور قبر میں اتنا عرصہ رہے، قیامت تک، اس سب کا انکار کر دیں گے، اور کیا کہیں گے؟ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ، کہ وہ نہیں رہے سوائے ایک گھڑی کے، دنیا میں اور قبر میں بھئی، دنیا میں اور قبر میں۔ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ، اسی طرح وہ تھے الٹے چلائے جاتے، اسی طرح وہ الٹے پھیرے جاتے تھے، الٹے پلٹائے جاتے تھے، الٹے چلائے جاتے تھے حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف بھئی۔ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ، اسی طرح وہ الٹے چلائے جاتے تھے۔ یعنی جس طرح یہاں دنیا میں الٹے چلتے تھے، اسی طرح یہاں آخرت میں بھی آ کر اب کیا کر رہے ہیں؟ اب اس دنیا کی وہ جو زندگی ہم نے دی تھی، ک، سالہا سال کی زندگی، اس کا بھی انکار کر دیں گے، کہ وہاں تو ہم دنیا میں ایک گھڑی ہی رہے بس۔ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ، اور کہیں گے وہ لوگ جن کو علم دیا گیا اور ایمان دیا گیا، وہ لوگ جن کو علم اور ایمان دیا گیا، یعنی مؤمنین، انبیاء اور اسی طرح ملائکہ، یہ ان سے کہیں گے: لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ، تحقیق تم ٹھہرے رہے فِي كِتَابِ اللَّهِ اللہ کی کتاب میں إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ اٹھنے کے دن تک، بعث کا معنیٰ اٹھنا بھئی، اٹھنے کے دن تک۔ کہ یہ وہ تو کیا کہہ رہے ہیں؟ ہم تو دنیا میں اور قبر میں ایک گھڑی ہی رہے ہیں، تھوڑی سی دیر ہی رہے ہیں، تو یہ، ایمان والے اور علم والے ان سے کہیں گے: لَقَدْ لَبِثْتُمْ، تحقیق تم رہے ہو إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ، کب تک رہے ہو؟ اٹھنے کے دن تک، یعنی قیامت کے دن تک تم رہے ہو فِي كِتَابِ اللَّهِ، اللہ کی کتاب میں، یعنی اللہ کی کتاب کے موافق، جیسا اللہ نے اپنی کتاب میں لکھا تھا، اسی کے موافق تم دنیا میں کب تک رہے ہو؟ اٹھنے کے دن تک رہے ہو، فِي كِتَابِ اللَّهِ کا کیا معنیٰ، کیا مراد ہے؟ اللہ کی کتاب کے مطابق، اللہ کی کتاب کے موافق، یعنی جیسا اللہ نے اپنی کتاب میں لکھا تھا، اسی کے مطابق تم دنیا میں اٹھنے کے دن تک رہے ہو۔ اور کتاب اللہ سے مراد ہے لوحِ محفوظ بھئی، کیا مراد ہے؟ لوحِ محفوظ میں اللہ نے ہر چیز درج فرما دی، ہر چیز لکھ دی بھئی۔ تو اس میں یہ سب کچھ ان کا لکھ دیا، تو وہ، ایمان والے ان سے کیا کہیں گے؟ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، تحقیق تم ٹھہرے فِي كِتَابِ اللَّهِ اللہ کی کتاب میں ہے، یہ جیسے یعنی کہ اللہ کی کتاب میں ہے، اس کے مطابق إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ، ک، کب تک؟ اٹھنے، یعنی قیامت کے دن تک بھئی۔ تو جیسا اللہ نے لکھا تھا، اس کے مطابق تم اٹھنے کے دن تک دنیا میں رہے ہو۔ فَهَٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ، یہ ہے اٹھنے کا دن بھئی، یعنی یہ ہے قیامت کا دن، وَلَٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ، مگر تم لوگ نہیں جانتے تھے، مگر تم لوگ نہیں جانتے تھے۔ وَلَٰكِنَّ حروفِ مشبہ بالفعل ہے، حرفِ مشبہ بالفعل ہے، یہ ایک اسم چاہتا ہے اور ایک خبر، اپنے اسم کو کیا دیتا ہے؟ نصب، انّ اور انّ کی طرح، اور خبر کو رفع، تو یہ جو کم ضمیر ساتھ ہے، یہ اس کا اسم ہے، یہ منصوب ہے محلاً، کیونکہ ضمیر مبنیات میں سے ہے، اور كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ، یہ پورا جملہ اس کی خبر ہے، اس پورے جملے میں پھر كُنْتُمْ، یہ کان فعل، افعالِ ناقصہ ہے، اور تم اس کے ساتھ ضمیر ہے، کان کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتا ہے، تو یہ تم ضمیر جو كُنْتُمْ میں تم ضمیر ہے، یہ کیا ہے؟ یہ مرفوع ہے محلاً اس کا اسم ہے، اور لَا تَعْلَمُونَ، یہ پورا جملہ، فعل اپنے فاعل سے مل کر پورا جملہ کیا بنے گا؟ کان کی خبر، اور یہ منصوب ہے۔ کیا ہے؟ منصوب ہے، لیکن اس پہ نصب ظاہر نہیں ہوگا، کیونکہ یہ جملہ ہے اور جملہ مبنی ہوا کرتا ہے، تو یہ محلاً منصوب ہے، جملہ کیا ہوتا ہے؟ مبنی ہوا کرتا ہے، م، بعضوں نے کہا مبنی الاصل ہے، اور مبنی پر آپ جانتے ہیں اعراب ظاہر نہیں ہوتا بھئی، ہاں اس کی جگہ کوئی اسم آتا تو پھر اور معرب ہوتا، تو پھر اس پر اعراب ظاہر ہو جاتا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی سب کو؟ وَلَٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ، مگر تم لوگ نہیں جانتے تھے، یہ ہے قیامت کا دن، مگر تم نہیں جانتے تھے، فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ، پس اس دن نفع نہیں دے گا ان لوگوں کو ظَلَمُوا جنہوں نے ظلم کیا، ان لوگوں کو نفع نہیں دے گا، کیا چیز نفع نہیں دے گی؟ یہ الَّذِينَ ظَلَمُوا یہ مفعول ہے، نفع نہیں دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا، مَعْذِرَتُهُمْ یہ فاعل آیا، ان کا معذرت کرنا، ان کا معذرت کرنا کوئی نفع نہیں دے گا، وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ، اور نہ ہی ان سے اللہ کی رضا طلب کی جائے گی، نہ ان سے اللہ کی رضا طلب کی جائے گی۔ بھئی يُسْتَعْتَبُونَ کا معنیٰ سمجھ لو۔ آپ جانتے ہیں بابِ استفعال میں سین عموماً سین طلب کے لیے آتا ہے، سین کس لیے آتا ہے؟ طلب کے لیے۔ اچھا! اور یہ جو، یہاں سین طلب کے لیے ہے اور يُسْتَعْتَ، تو معنیٰ ہوا طلبِ عتبىٰ، کیا ہوا؟ عتبىٰ، عتبىٰ سے ہے يُسْتَعْتَبُونَ بھئی، عتبىٰ کیسے لکھتے ہیں؟ عین ہے، تا ہے دو نقطوں والی، با اور اس کے ساتھ یا، اوپر کھڑی زبر آ جائے گا، عتبىٰ۔ عتبىٰ کہتے ہیں رضامندی اور خوشنودی کو، رضامندی اور خوشنودی کو، تو يُسْتَعْتَبُونَ کا معنیٰ کیا ہوا؟ طلبِ عتبىٰ، رضامندی اور خوشنودی کا طلب کرنا، اور مجہول کا صیغہ ہے، یعنی طلب کروانا، رضامندی اور خوشی کو طلب کروانا، یعنی اسی سے ہے، یہ باب اس کا اعتاب ہے بھئی، اعتاب، اعتب یعتب اعتاباً، اعتب یعتب اعتاب، بابِ افعال ہے اور آپ نے پڑھا ہے کہ بابِ افعال کبھی سلبِ ماخذ کے لیے آتا ہے، کس کے لیے آتا ہے؟ سلبِ ماخذ، ماخذ کی نفی کرنے کے لیے آتا ہے، جیسے فلوس پیسوں کو کہتے ہیں، لیکن اسی کو بابِ افعال میں لے جاؤ، افلس یفلس افلاساً فهو مفلس، مفلس جس کے پاس پیسے ہوں یا نہ ہوں؟ نہ ہوں، تو دیکھو، نفی کے لیے آیا، یہ باب اس، باب میں وہ مادہ جا کر اس کی کیا ہو جاتی ہے؟ نفی ہو جاتی ہے، تو اس کی آسان یہ مثال ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ بابِ افعال آتا ہے سلبِ ماخذ کے لیے، اور اس کی مثال کیا ہے؟ افلس یفلس افلاساً فهو مفلس، تو فلوس پیسوں کو کہتے ہیں، لیکن مفلس وہ جس کے پاس کچھ نہ ہو، پیسے وغیرہ کچھ بھی نہیں بھئی۔ تو یہاں پر بھی عتاب، عتاب بھئی آپ بھی استعمال کرتے ہیں، ناراضگی کو کہا جاتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ناراضگی کو کہا جاتا ہے، تو اسی کو عتاب، یہ بابِ افعال میں آ گیا، اعتب یعتب اعتاباً، کیا معنیٰ ہوا؟ ناراضگی کی نفی کرنا، اس کو ختم کرنا، یعنی کسی سے خوش ہو جانا، راضی ہو جانا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اسی اعتاب، اسی سے ہے عتبىٰ اسم ہے اور اس کے معنیٰ کیا ہوئے؟ جس میں عتاب کی نفی ہے، یعنی رضامندی اور خوشنودی ہوا اس کا معنیٰ، تو یہاں يُسْتَعْتَبُونَ، سین طلب کے لیے ہے، تو کیا معنیٰ ہوا؟ خوشنودی طلب کرنا، اور مجہول کا صیغہ ہے، خوشنودی طلب کروانا، وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ، اور نہ ان سے خوشنودی طلب کروائی جائے گی، نہ ان سے رضامندی طلب کروائی جائے گی، کس کی رضامندی؟ اللہ تعالیٰ کی، کہ اب ان سے یہ قیامت میں نہیں کہا جائے گا کہ اللہ آپ سے ناراض ہیں، اب اللہ کو راضی کرو، کیونکہ وہ عمل کا مقام ہی نہیں ہے بھئی، وہاں ایمان کا کوئی اعتبار ہی، وہاں تو سب کچھ دیکھ لیں گے، وہ تو ماننا ہی پڑے گا، تو لہٰذا ایمان اور عمل کی جو مقام تھا، وہ دنیا تھا، اور دنیا کے اندر وہ مؤمنین کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور ان کو تکالیف دیا کرتے تھے، تو قیامت کے دن ان سے نہیں کہا جائے گا کہ اللہ کو راضی کرو بھئی۔ ترجمہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ يُسْتَعْتَبُونَ کا کیا معنیٰ؟ طلبِ عتبىٰ، طلبِ عتبىٰ، اور عتبىٰ یہ خوشنودی، رضامندی کو کہتے ہیں، اور یہ اعتاب سے ہے، باب کیا ہے؟ اعتاب، اور اعتاب کا کیا معنیٰ؟ عتاب کو ختم کرنا، عتاب کو ختم کرنا، یعنی راضی ہونا، خوش ہونا کسی سے۔ فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ، پس آج کے دن، پس اس دن، پس اس دن لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ ظَلَمُوا نفع نہیں دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا، یعنی کفر کیا، شرک کیا، ان کو نفع نہیں دے گی مَعْذِرَتُهُمْ ان کی معذرت، وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ، اور نہ ان سے رضامندی طلب کی جائے گی، یعنی نہ ان سے اللہ کی رضامندی طلب کی جائے گی۔ وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ، اور تحقیق البتہ، تحقیق ضَرَبْنَا ہم نے بیان کیا لِلنَّاسِ لوگوں کے لیے فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ اس قرآن کے اندر مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ہر طرح کی مثالیں۔ تحقیق ہم نے بیان کیا لوگوں کے لیے اس قرآن کے اندر ہر طرح کی مثالیں۔ وَلَئِنْ جِئْتَهُمْ بِآيَةٍ، اور البتہ اگر آپ لائیں جِئْتَهُمْ بِآيَةٍ اگر آپ ان کے پاس لائیں کوئی نشانی، لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا، تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ، إِنْ نفی کے لیے ہے بھئی، جیسے حرفِ ما نفی کے لیے ہے، اسی طرح عربی میں ان بھی کس لیے استعمال ہوتا ہے کبھی؟ نفی کے لیے بھئی، تو یہ ان نفی کے لیے، إِنْ أَنْتُمْ أي مَا أَنْتُمْ بھئی، إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ، نہیں ہو تم مگر اہل باطل، اور اگر آپ ان کے پاس کوئی نشانی، ان کفار کے پاس کوئی نشانی لے کر آئیں، کوئی آیت لے کر آئیں، یا اس کا ترجمہ معجزے، نشانی کے کر لیں، کوئی معجزہ ان کے پاس لے کر آئیں، لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا، تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ، کہ نہیں ہو تم مگر اہل باطل، یعنی تم اہل باطل ہی ہو، تم جھوٹ بناتے ہو، جھوٹ بنانے والے ہو۔ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ، اسی طرح، كَذَٰلِكَ اسی طرح يَطْبَعُ اللَّهُ اللہ مہر لگا دیتے ہیں، طبع یطبع معنیٰ مہر لگانا، اسی طرح اللہ مہر لگا دیتے ہیں عَلَىٰ قُلُوبِ الَّذِينَ ان لوگوں کے دلوں پر لَا يَعْلَمُونَ جو نہیں جانتے، اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔ بھئی اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ پہلے گزر چکا کہ ہر شخص کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے، اللہ کے دین پر ہوتی ہے، اور اگر معاشرے کا اور والدین وغیرہ کا اثر نہ پڑے، تو بڑا ہو کر وہ خود ہی اس اللہ کی وحدانیت کا اقرار کر لے گا کہ کوئی ایک ذات ہے جو اس، جو ہمیں پیدا کرنے والی ہے اور اس سارے نظام کو چلانے والی ہے، اور جو ہر چیز پر قادر ہے، لیکن حدیث میں جیسے میں نے حدیث بھی آپ کو سنائی تھی کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے والدین اسے کیا کرتے ہیں؟ یہودی بنا دیتے ہیں اور عیسائی اور مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ تو اسی طرح ہر دل کے اندر اللہ تعالیٰ نے استعداد رکھی ہے حق کو قبول کرنے کی، کس چیز کی استعداد رکھی ہے؟ حق کو قبول کرنے کی استعداد اور حق کو قبول کرنے کی صلاحیت اس میں رکھی ہے، لیکن جب انسان کفر پر جم جاتا ہے اور شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے، تو دل پر گناہوں کے ساتھ ساتھ سیاہی اور زنگ پھیلتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ہوتے ہوتے یہ زنگ اس قدر بڑھ جاتا ہے اور اس طرح پورے دل کو لپیٹ میں لے لیتا ہے کہ رفتہ رفتہ وہ صلاحیت ہی ختم ہو جاتی ہے، اب اس میں قبولِ حق کی صلاحیت رہتی نہیں، کچھ وہ اب حق کو قبول کر سکتا ہی نہیں، یہ ہے کہ اللہ نے کیا کیا اس کے دل پر مہر لگا دی اب کہ اس کی وہ صلاحیت ہی ختم ہو گئی، اب وہ حق کو قبول کرنے کے قابل ہی نہ رہا بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ معنیٰ ہے: كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ، اور اسی طرح اللہ مہر لگا دیتے ہیں ان لوگوں کے دلوں پر جو نہیں جانتے۔ فَاصْبِرْ، پس اے پیغمبر! آپ صبر کیجیے، آپ جمے رہیے۔ فَاصْبِرْ، پس جو بھی ترجمہ کر لیں، پس اے پیغمبر! آپ صبر کیجیے، إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ، اور آپ کو بے برداشت نہ بنا دیں الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے، وہ لوگ جو وہ یقین نہیں رکھتے، ایمان نہیں رکھتے کہ وہ آپ کو کہیں بے بر، آپ صبر کیجیے، کہیں وہ آپ کو بے برداشت نہ بنا دیں۔ استخف يستخف کے معنیٰ ہوتے ہیں کسی کو مشتعل کرنا، اس کے تحمل کو اور برداشت کو ختم کر دینا بھئی۔ فَاصْبِرْ، پس اے پیغمبر! آپ صبر کیجیے، إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ، اور آپ کو بے برداشت نہ کر دیں وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے۔ یعنی یہ کفار اور مشرکین وغیرہ ہر وقت آپ کو تکلیف دیتے رہتے ہیں، ہر بات پر آپ کو جھٹلاتے ہیں، آپ کی کوئی بات کوئی آپ کی کسی بھی نشانی وغیرہ کو تسلیم نہیں کرتے، اور تو اے پیغمبر! ان کی ان تکالیف پر رنجیدہ نہ ہوں، غمزدہ نہ ہوں، صبر سے کام لیجیے، آپ اپنا دعوت و تبلیغ کا کام اسی طرح جاری رکھیے اور خوب صبر سے کام لیجیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ان کی تکالیف کی وجہ سے آپ بے برداشت نہ ہو جائیں، آپ کی برداشت ختم نہ ہو جائے بھئی۔ چلیے بس ہٰذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الکلام۔
69 approved lectures · 19 of 69