Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-016

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ فَمَن يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ فَمَن يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلَّدِينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا، بلکہ اتباع کرتے ہیں، پیروی کرتے ہیں، الَّذِينَ ظَلَمُوا، وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا۔ أَهْوَاءَهُم، اہواء جمع ہے ہوا کی۔ اور ہوا کہتے ہیں خواہشِ نفس کو بھئی۔ خواہشِ نفس کو۔ اور نفس کی خواہشیں دو قسم کی ہیں۔ کچھ پسندیدہ ہیں، کچھ ناپسندیدہ ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن یہ اہواء استعمال ہوتا ہے ناپسندیدہ کے اندر بھئی۔ کس کے اندر استعمال ہوتا ہے؟ ناپسندیدہ بھئی۔ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُم، بلکہ پیروی کرتے ہیں وہ لوگ، بلکہ پیروی کی ان لوگوں نے جنہوں نے ظلم کیا، أَهْوَاءَهُم، اپنے خواہشاتِ نفس کی، بِغَيْرِ عِلْمٍ، بغیر کسی علم کے۔ یعنی ان کے پاس کوئی دلیل وغیرہ موجود نہیں تھی، بس یہ جو بتوں وغیرہ کی عبادت کرتے ہیں، کوئی دلیل نہیں ہے، صرف کیا کر رہے ہیں؟ اپنے خواہشاتِ نفس کی پیروی کر رہے ہیں۔ نفس جس طرح کوئی چیز ان کو دکھا دیتا ہے، اسی طرح اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ نفس نے ان کو یہ بتوں کی عبادت اور اس کو بڑا اچھا کر کے دکھایا تو اب یہ اسی پر چل رہے ہیں۔ فَمَن يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ، پس کون ہدایت دے گا من، اس شخص کو، أَضَلَّ اللَّهُ، جسے اللہ گمراہ کر دے؟ پس کون راستہ دکھائے گا جسے اللہ گمراہ کر دے؟ جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کون راستہ دکھا سکتا ہے بھئی؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اللہ اسی کو گمراہ کرتے ہیں جو گمراہی کو چاہتا ہے، وہ اس کو گمراہی کی طرف جانے دیتے ہیں بھئی۔ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ، اور نہیں ہوگا ان کے لیے من ناصرین، مددگاروں میں سے، کوئی ان کے لیے مددگار نہیں ہوگا بھئی۔ فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلَّدِينِ حَنِيفًا، پس آپ سیدھا رکھیے، وَجْهَكَ، اپنا چہرہ، یعنی اپنا رخ۔ پس آپ سیدھا رکھیے وَجْهَكَ، اپنا رخ، لِلَّدِينِ، اس دین کی طرف، فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلَّدِينِ حَنِيفًا، یکسو ہو کر۔ حَنِيفًا، یکسو ہو کر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حنیف، حنف کہتے ہیں گمراہی سے حق کی طرف، سیدھے راستے کی طرف مائل ہونا۔ سیدھے راستے کی طرف مائل ہونا، اس کو حنف کہا جاتا ہے۔ حنیف وہ شخص جو سیدھے راستے کی طرف مائل ہونے والا ہو بھئی، سیدھے راستے کی طرف۔ تو یہ حَنِيفًا، یہ حال ہے اَقِمْ امر کے اندر جو انتَ ضمیر ہے۔ اَقِمْ امر کے اندر جو انتَ ضمیر ہے۔ پس آپ سیدھے رہیے، سیدھے رکھیے وَجْهَكَ، اپنے رخ کو اس دین کی طرف یکسو ہو کر، اس حال میں کہ آپ یکسو ہوں، حق کی طرف مائل ہونے والے ہوں۔ پس آپ سیدھا رکھیے اپنے رخ کو اس دین کی طرف یکسو ہو کر، فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا۔ فِطْرَتَ اللَّهِ، یہ منصوب ہے، مفعول ہے مولانا مفعول، اور اس کے لیے ایک فعلِ محذوف نکالیں گے: اِلْزَمُوا۔ لَزِمَ یَلْزَمُ کے معنی لازم پکڑنا۔ یعنی مضبوطی سے پکڑو، لازم پکڑو، یعنی اسے نہ چھوڑو۔ اِلْزَمُوا فِطْرَتَ اللَّهِ، تم اللہ کی فطرت کو مضبوطی سے، اللہ کی فطرت کو لازم پکڑو۔ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا، اللہ کی وہ فطرت جس پر اللہ نے، فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا، پیدا کیا لوگوں کو اس پر۔ وہ فطرت جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ تم لازم پکڑو اللہ کی اس فطرت کو جس پر لوگوں کو پیدا کیا۔ یاد رکھیے! فطرت بھئی، فطرت وہ پیدائشی چیز، وہ پیدائشی طبیعت، اوصاف جو کسی چیز کے اندر اللہ نے رکھے ہیں، وہ اس کی فطرت کہلاتی ہے بھئی، فطرت۔ مثلاً آپ دیکھتے ہیں بھئی، پرندے جو ہیں، وہ انڈے دیتے ہیں، اس میں سے بچے نکلتے ہیں اور وہ بچے جب بڑے ہو جاتے ہیں، ان کے جب انڈے دینے کا وقت آتا ہے تو پھر وہ اسی طرح گھونسلا بناتے ہیں۔ اب ان کے، انہیں کسی نے یہ بتلایا نہیں ہے کہ گھونسلا کس طرح بناتے ہیں بھئی، کسی نے تربیت وغیرہ کسی نے بھی نہیں دی۔ لیکن اللہ نے ان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو اس کو کہتے ہیں فطرت کہ ان کے پیدائشی ایک چیز ان کے اندر رکھی ہوئی ہے اللہ تعالیٰ نے۔ اسی طرح انسان جو ہے، حدیث میں آتا ہے کہ ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے، وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یعنی اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یا تو یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ تو ہر انسان کو اللہ اسی فطرت پر پیدا فرماتے ہیں کہ وہ اگر اس کا یہ معاشرہ اس پر اثر انداز نہ ہو تو وہ اللہ کی وحدانیت کو پہچان لے، یہ جان لے کہ کوئی ایک ذات ہے جو ان تمام چیزوں کو پیدا کرنے والی ہے اور اس سارے نظام کو چلانے والی ہے۔ تو یہ انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ چیز رکھی ہے لیکن پھر یہ معاشرے کا اثر پڑتا ہے، ماحول کا اثر پڑتا ہے، بچپن سے پڑتا چلا جاتا ہے، والدین کا اثر پڑتا ہے، چنانچہ کوئی عیسائی ہوا، کوئی یہودی ہوا، کوئی مجوسی ہوا، سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن اللہ کیا ہیں؟ ہر ایک کو اسی فطرت پر پیدا کرتے ہیں کہ اس کے اندر یہ چیز رکھی ہے کہ اگر وہ، کہ وہ اللہ کی وحدانیت کو پہچان لے گا اگر اور چیزیں اس پر اثر انداز نہ ہوں۔ چنانچہ وہ لوگ بھی جو اللہ کو بالکل سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے کہ کوئی ذات موجود ہی نہیں ہے، یہ نظام خود بخود چل رہا ہے، انہوں نے کئیوں کے واقعات بھی دیکھنے میں آتے ہیں کتابوں کے اندر، جب ان پر کوئی شدید تکلیف آئی، جب چھوٹنے کی کوئی صورت دکھائی نہ دی تو وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس وقت ہمارے اندر سے بھی ایک آواز آئی، ہماری بھی توجہ ہو گئی کہ اے اللہ! اے وہ ذات جو اس کائنات کو بنانے والی ہے، ہمیں اس تکلیف سے نجات دے دے۔ چاہے تھوڑی دیر کے لیے ہی ہوئی اور پھر، لیکن بہرحال ایک ان کے اندر بھی یہ چیز اللہ نے رکھی تھی، وہ ان کے سامنے بھی ظاہر ہوئی بھئی۔ تو اللہ ہر ایک کو کس پر پیدا کرتے ہیں؟ فطرت پر، یعنی اللہ کی وحدانیت کو پہچاننے کی صفت اس میں رکھی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں: اِلْزَمُوا فِطْرَتَ اللَّهِ، لازم پکڑو تم بھئی اللہ کی فطرت کو، الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا، جس پر پیدا کیا کہ پیدا کیا لوگوں کو اس پر، لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ، اللہ کی پیدائش میں کوئی تبدیلی نہیں، اللہ کے پیدا کرنے میں کوئی تبدیلی نہیں، اب بھی اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر انسان کو فطرت ہی پر پیدا کرتے ہیں، بعد میں یہ اس کے والدین اور اس کا ماحول ہے جو اسے کفر و شرک کی طرف لے جاتا ہے۔ تو لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ، تو یہ معنی ہے: اللہ کی پیدائش میں کوئی تبدیلی، اللہ کے پیدا کرنے میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یا تو یہ معنی، یا یہ معنی ہے: اللہ کے پیدا کرنے میں تبدیلی نہ کرو بھئی، مراد یہ ہے۔ اللہ ہر ایک کو فطرت پر پیدا کرتے ہیں، دینِ حق اس کے اندر رکھا ہوا ہے کہ وہ سیدھے راستے کی طرف خود بخود آ جائے گا، اور تو تم اللہ کی اس فطرت میں، اس پیدائش میں تبدیلی نہ کرو، اسے کفر کی طرف نہ لے کر جاؤ بھئی لوگوں کو۔ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ، کوئی تبدیلی نہیں ہے اللہ کے پیدا کرنے میں، ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ، یہی دین سیدھا دین ہے۔ ذَٰلِكَ، یہ ہے مبتدا، الدِّينُ الْقَيِّمُ، یہ ہے خبر۔ الدِّينُ موصوف، الْقَيِّمُ اس کی صفت۔ اور خبر بھی آ گئی معرفہ، الدِّينُ، الف لام آیا بھئی، اور یاد رکھیے مبتدا تو ہوتا ہی معرفہ ہے عموماً، خبر بھی جہاں معرفہ آ جائے تو وہ حصر کا فائدہ دیتا ہے، یعنی ایک چیز کو دوسری چیز میں بند کر دیتا ہے۔ اگر ہوتا ذٰلِکَ دِیْنٌ قَیِّمٌ، تو ترجمہ کیا ہوتا؟ یہ سیدھا دین ہے۔ اور بھی کوئی سیدھا دین ہے یا نہیں؟ کسی اور کی نفی نہیں تھی، لیکن اب آیا ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ، یہی سیدھا دین ہے، معلوم ہوا اور کوئی دین سیدھا نہیں ہے بھئی، تو یہ حصر آ گیا۔ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ، یہی سیدھا دین ہے، وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ، یہ حال ہے، یہ حال ہے وہ جو اِلْزَمُوا فعل ہم نے نکالا تھا بھئی، لازم تم پکڑو، لازم پکڑو اللہ کی فطرت کو، یعنی اللہ کی فطرت پر چلو، اللہ کی فطرت پر چلو۔ سمجھ میں آیا؟ تو اِلْزَمُوا نکال لیں یا اس کے مطابق اِتَّبِعُوا نکال لیں بھئی، اِتَّبِعُوا، تم پیروی کرو، چلو تم، فِطْرَتَ اللَّهِ، کس پر؟ اللہ کی فطرت پر چلو جس پر اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ، اس حال میں کہ تم رجوع کرنے والوں، کرنے والے ہو اس اللہ کی طرف۔ مُنِيبِينَ کیا واقع ہو رہا ہے؟ حال، کس سے؟ وہ جو اِلْزَمُوا یا اِتَّبِعُوا امر محذوف نکالا تھا آپ نے، اس کے اندر جو ضمیر ہے جمع مخاطب کی، اِتَّبِعُوا، یہ جو واؤ ہے واؤ، یہ واؤ جمع مخاطب کی جو ضمیر ہے اِتَّبِعُوا کے اندر، اس سے یہ حال واقع ہو رہا ہے۔ تو ترجمہ کیا ہوگا؟ چلو تم اللہ کی فطرت پر جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ، اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے، تم اللہ کی فطرت کا اتباع کرو، اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہوئے بھئی۔ ترجمہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ وَاتَّقُوهُ، اور اللہ سے ڈرو تم، وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ، اور تم نماز قائم کرو، وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، اور نہ ہو جاؤ تم مشرکوں میں سے، مِنَ الَّذِينَ، یہ بدل ہے مِنَ الْمُشْرِكِينَ سے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ الَّذِينَ بدل ہے مُشْرِكِينَ سے اور مشرکین پر مِین داخل ہوا تھا، اسی مِین کو دوبارہ آگے ذکر کیا گیا بھئی، اور تم نہ ہو جاؤ مشرکین سے، وہ مِنَ الَّذِينَ، ان ان میں سے، فَرَّقُوا دِينَهُمْ، جنہوں نے جدا جدا کر دیا، ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اپنے دین کو، جنہوں نے دین میں کیا کیا؟ فَرَّقَ یُفَرِّقُ تفریق کا معنی جدا جدا کرنا بھئی، ٹکڑے کرنا، الگ کرنا، الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ، جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اپنے دین کو، وَكَانُوا شِيَعًا، شِيَعًا، شِيَعًا، یا پر فتحہ، یہ جمع ہے شِیعَةٌ کی، اور شِیعَہ عربی میں گروہ کو کہتے ہیں بھئی، کس کو کہتے ہیں؟ یہ جو آپ شیعہ ایک فرقے کو جانتے ہیں وہ نہیں بھئی، شِیعَہ گروہ کو کہتے ہیں گروہ۔ وَكَانُوا شِيَعًا، اور وہ گروہ، گروہ ہو گئے بھئی۔ گروہ، گروہ ہو گئے۔ كَانُوا افعالِ ناقصہ، کَانَ بمعنی صَارَ کہ ہو گیا، پس وہ ہو گئے، انہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے، ٹکڑے کیا، اپنے دین کو جدا، جدا کیا، وَكَانُوا شِيَعًا، اور بہت سے گروہ ہو گئے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ اور بہت سے گروہ ہو گئے۔ تو كَانَ کس معنی میں ہوا؟ صَارَ کے معنی میں، اب دونوں افعالِ ناقصہ میں سے ہیں، كَانَ بھی اور صَارَ بھی۔ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے، ٹکڑے کیا، وَكَانُوا شِيَعًا، اور بہت سے گروہ ہو گئے، كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ، حِزْبٍ بھی گروہ کو کہتے ہیں۔ ہر گروہ بِمَا لَدَيْهِمْ، وہ چیز، كُلُّ حِزْبٍ، ہر گروہ فَرِحُونَ، خوش ہے۔ ہر گروہ خوش ہے کس چیز پر؟ بِمَا لَدَيْهِمْ، جو ان کے پاس ہے۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے، وہ اسی پر خوش ہے بھئی، ہر ایک اپنے آپ ہی کو حق پر سمجھتا ہے اور اسی پر خوش ہے اور نازاں ہے کہ یہ جو کچھ ہمیں، ہمارے پاس ہے، ہم جس راستے پر چل رہے ہیں، یہی راستہ کیا ہے؟ صحیح ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ، ہر گروہ وہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے۔ تو ہر گروہ جو اس کے پاس ہے، اسی پر خوش ہے۔ سمجھ میں آیا؟ الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اہل برحق میں سے پیدا کیا بھئی، الحمد للہ۔ اور پھر دین پڑھنے کی اور اس راستے پر چلنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی بھئی، ورنہ کون اپنے عقیدے کو چھوڑتا ہے بھئی؟ ہر ایک اپنے، اپنے عقیدے پر خوش ہے، اسی کو حق سمجھتا ہے، چاہے جس قدر واضح گمراہی اور شرک کے اندر ہی کیوں نہ پڑا ہوا ہو بھئی۔ وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُم، اور جب چھو لے لوگوں کو، یعنی پہنچے لوگوں کو، وَإِذَا مَسَّ، مَسَّ کے معنی چھونے کے ہوتے ہیں، یعنی پہنچنا مراد۔ وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ، اور جب پہنچتی، پہنچتی ہے لوگوں کو ضُرٌّ، کوئی تکلیف، ضُرٌّ، تکلیف، کوئی سختی۔ اور جب پہنچتی ہے لوگوں کو کوئی تکلیف، دَعَوْا رَبَّهُم، تو وہ پکارتے ہیں اپنے پروردگار کو، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ، اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے۔ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً، پھر جب وہ اللہ چکھا دیتے ہیں ان کو مِّنْهُ، اپنی جانب سے رَحْمَةً، کوئی رحمت، پھر جب اللہ ان کو اپنی طرف سے رحمت چکھا دیتے ہیں، إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم، تو اچانک ایک گروہ ان میں سے، بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ، اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے، اپنے پروردگار کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔ لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ، تاکہ ناشکری کریں بِمَا، یا انکار کریں، تاکہ انکار کریں بِمَا آتَيْنَاهُمْ، اس چیز کا جو ہم نے انہیں دی ہے، جو ہم نے انہیں عطا کی ہے۔ فَتَمَتَّعُوا، پس تم نفع اٹھا لو۔ اے شرک کرنے والو، اے انکار کرنے والو! تم کیا کر لو؟ نفع اٹھا لو، فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ، عنقریب تم جان لو گے۔ سمجھ میں آیا؟ پس تم نفع اٹھا لو، یہی، یہی ترجمہ، فَتَمَتَّعُوا، پس تم مزے اڑا لو، فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ، عنقریب تم جان لو گے۔ أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا، کیا اتاری ہے ہم نے ان پر کوئی دلیل؟ کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل اتاری ہے؟ فَهُوَ يَتَكَلَّمُ، پس وہ بول رہی، بول رہی ہے، بِمَا كَانُوا، اس چیز کے ساتھ كَانُوا، کہ وہ لوگ جو ہیں، بِهِ، اللہ کے ساتھ، يُشْرِكُونَ، شریک کرتے ہیں۔ كَانُوا بِهِ، بِهِ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ اللہ تعالیٰ کو۔ کہ وہ، کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل اتاری ہے کہ وہ بول رہی ہے کہ اس چیز کا کہ جس کو وہ اللہ کے ساتھ شریک کریں؟ یعنی کوئی ایسی دلیل اتاری ہے جو انہیں کہہ رہی ہو کہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ بھئی؟ کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل اتاری ہے جو انہیں کہہ رہی ہو کہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ؟ أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا، کیا ہم نے ان پر اتاری ہے کوئی دلیل؟ فَهُوَ يَتَكَلَّمُ، پس وہ بولتی ہو، وہ کہہ رہی ہو، وہ بولتی ہو، بِمَا كَانُوا، اس چیز کو كَانُوا، جس کو وہ بِهِ، اللہ کے ساتھ، يُشْرِكُونَ، شریک کرتے ہیں۔ وہ بول رہی ہو، وہ انہیں بتا رہی ہو اس چیز کے بارے میں جس کو وہ اللہ کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ شریک کرتے ہیں۔ وہ چیز، وہ دلیل انہیں بتا رہی ہو کہ اس کو کیا کرو؟ اللہ کے ساتھ شریک کرنا، تو وہ اس کو اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہیں بھئی۔ حالانکہ ایسی بات نہیں، ان کے پاس اس بارے میں کسی قسم کی کوئی دلیل نہیں، جن چیزوں کو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں، یہ سب اللہ کی مخلوقات ہیں بھئی۔ وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً، اور جب چکھاتے ہیں ہم لوگوں کو رحمت، فَرِحُوا بِهَا، تو وہ خوش ہوتے ہیں اس سے، وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ، اور جب پہنچے ان کو سَيِّئَةٌ، کوئی برائی، کوئی تکلیف، وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ، اور اگر پہنچے ان کو کوئی تکلیف، بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ، بموجب اس کے جو قَدَّمَتْ، آگے کیا، أَيْدِيهِمْ، ان کے ہاتھوں نے۔ بسبب اس کے جو آگے کیا ان کے ہاتھوں نے، یعنی جو آگے بھیجا ان کے، ان کے ہاتھوں نے اس کی وجہ سے، یعنی ان کے اپنے عمل کی وجہ سے، ان کے اپنے عمل کی وجہ سے۔ اور اگر وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ، اور اگر پہنچتی ہے ان کو کوئی تکلیف ان کے اپنے عمل کی وجہ سے، یہ ترجمہ ہوا۔ اگر ان کو خود برے، برے عمل کرتے ہیں بھئی، برے عمل کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ ظاہری طور پر کیا نکلے گا؟ دنیا کے اندر بھی تکلیف آئے گی بھئی۔ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ، اور اگر پہنچے انہیں کوئی تکلیف، بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ، بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا، إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ، تو اچانک وہ ناامید ہو جاتے ہیں۔ ان کے اپنے عمل کی وجہ سے ان پر کوئی سختی، تکلیف یا مصیبت آتی ہے تو وہ کیا ہو جاتے ہیں اچانک؟ تو فوراً ہی ناامید ہو جاتے ہیں۔ أَوَلَمْ يَرَوْا، کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں؟ أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ، کہ بے شک، کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ، کہ اللہ تعالیٰ وہ پھیلاتے ہیں رزق کو، یعنی وسیع کرتے ہیں، فراخ کرتے ہیں رزق کو، لِمَن يَشَاءُ، جس کے لیے وہ چاہتے ہیں، وَيَقْدِرُ، اور تنگ کرتے ہیں۔ جس کے لیے اللہ چاہتے ہیں رزق کو کشادہ کرتے ہیں اور جس کے لیے چاہتے ہیں رزق کو تنگ کرتے ہیں۔ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ، بے شک اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں ایسے لوگوں کے لیے يُؤْمِنُونَ، جو ایمان رکھتے ہیں۔ فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ، پس آپ دیجیے۔ پس آپ فَآتِ، امر ہے۔ فَآتِ، پس اے پیغمبر! آپ دیجیے ذَا الْقُرْبَىٰ، قرابت والے کو۔ ذو المال کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مال والا۔ ذَا الْقُرْبَىٰ، یہ اسی حالتِ نصبی میں آیا، ذَا الْقُرْبَىٰ، قرابت والا، یعنی رشتہ دار، رشتہ دار۔ فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ، پس اے پیغمبر! آپ دیجیے رشتہ دار کو حَقَّهُ، اس کا حق، وَالْمِسْكِينَ، اور مسکین، محتاج کو، فقیر کو بھی، وَابْنَ السَّبِيلِ، ابن السبیل مسافر کو کہتے ہیں عربی میں بھئی۔ ابن السبیل، راستے کا بیٹا۔ کیونکہ مسافر بھی اکثر کہاں؟ راستوں ہی پر سفر کرتا ہے، تو اس لیے اسے ابن السبیل کہا جاتا ہے۔ تو اے پیغمبر! آپ دیجیے قرابت والے کو اس کا حق اور مسکین کو اور مسافر کو۔ تو پیغمبر کو حکم دیا جا رہا ہے بھئی اور کیونکہ پیغمبر اصل ہیں اور ساری امت ان کے تابع ہے، تو ساری امت بھی مراد ہوئی بھئی، امت کو دراصل حکم دیا جا رہا ہے۔ تو آپ کے رشتہ داروں کو، مسکینوں کو اور مسافروں کو ان کا حق دینا چاہیے، یعنی اللہ نے مال دیا ہے تو ان لوگوں کا بھی حق ہے جو محتاج ہیں، تکلیف میں ہیں اور جو رشتہ داروں میں سے استطاعت وغیرہ نہیں رکھتے اپنی حاجات پوری کرنے کی، تو انسان ان پر خرچ کرے بھئی۔ ذَٰلِكَ خَيْرٌ، یہ بہتر ہے، لِّلَّذِينَ، ان لوگوں کے لیے، يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ، جو چاہتے ہیں اللہ کی رضا کو۔ وَجْهَ اللَّهِ، اللہ کا چہرہ، مراد رضا ہے بھئی۔ یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو چاہتے ہیں اللہ کی رضا کو، وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ بھئی! آپ نے پڑھا ہے کہ ہدایت النحو میں کہ مبتدا تو ہوتا ہے معرفہ، خبر بھی کبھی کبھار اس کے ساتھ کیا آ جاتی ہے؟ معرفہ، تو پھر اس وقت کبھی کبھار درمیان میں ایک صیغہ لے آتے ہیں جسے فصل کہا جاتا ہے، تاکہ موصوف صفت کا شبہ نہ پڑے، پتہ لگ جائے یہ مبتدا، خبر ہیں۔ پہلا بھی معرفہ ہو، دوسرا بھی معرفہ ہو تو پھر اولاً تو کیا شبہ پڑ سکتا ہے کہ یہ دونوں شاید آپس میں موصوف صفت ہیں، لیکن جب درمیان میں فصل آ جائے تو پھر پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ موصوف صفت نہیں ہیں، دراصل کیا ہیں؟ مبتدا، خبر۔ تو یہاں بھی أُولَٰئِكَ اور الْمُفْلِحُونَ، یہ دونوں معرفہ، تو لہٰذا درمیان میں فصل آ گئی کہ هُم کے ساتھ اب شبہ نہیں پڑتا کہ الْمُفْلِحُونَ، أُولَٰئِكَ کی صفت ہے، بلکہ یہ اس کی خبر ہے۔ اور اس کو فصل کہتے ہیں، یعنی یہ ضمیر نہیں ہے بھئی، ضمیر جیسی صورت ہے لیکن ضمیر نہیں، اس لیے اس کا ترجمہ بھی نہیں ہوتا بھئی۔ ہاں! بعض کہتے ہیں کہ نہیں یہ ضمیر ہی ہے اور یہ پھر مبتدائے ثانی بنتا ہے اور آگے اس کی خبر ہے الْمُفْلِحُونَ، اور پھر یہ دونوں مبتدا، خبر مل کر جملہ ہو کر پھر یہ پہلے مبتدا کے لیے خبر بنتے ہیں۔ جی! تو وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں، یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ جی، چلیے، بس کریں۔ اچھا بھئی! کوئی بات کسی کو سمجھ میں نہ آئی ہو، کہیں ترجمہ مشکل ہو۔ وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ، مَسَّ کے معنی ہوتے ہیں چھونے کے بھئی، ہاتھ لگانے کے، اور یہاں چھوئے، النَّاسَ دیکھو منصوب ہے، یہ مفعول ہے، ضُرٌّ فاعل ہے۔ چھوئے انسانوں کو کیا چیز؟ ضُرٌّ، کوئی تکلیف، یعنی پہنچے۔ جب پہنچتی ہے انسانوں کو کوئی تکلیف، دَعَوْا رَبَّهُم، تو وہ پکارتے ہیں اپنے پروردگار کو، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ، اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے۔ پھر اس وقت وہ خالص اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں تکلیف کے عالم میں بھئی۔ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً، پھر جب وہ، أَذَاقَ يُذِيقُ کے معنی چکھانے کے، اسی سے ذائقہ ہے بھئی۔ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُم، پھر جب وہ اللہ چکھا دیتا ہے انہیں، مِّنْهُ، اپنی طرف سے، رَحْمَةً، رحمت بھئی۔ پھر جب اللہ انہیں اپنی طرف سے رحمت چکھا دیتا ہے تو إِذَا، یعنی اللہ کی جب رحمت آ جاتی ہے، وہ تکلیف اور پریشانی دور ہو جاتی ہے، إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ، تو اچانک کوئی ایک فریق ان میں سے، بِرَبِّهِمْ، اپنے پروردگار کے ساتھ، يُشْرِكُونَ، شرک کرنے لگتا ہے، شریک کرنے لگتا ہے بھئی۔ جی! یہ پوچھ رہے ہیں کہ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ، یہاں مبتدا اور خبر کے درمیان هُم فصل لائی گئی اور اس سے پیچھے گزرا تھا: ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ، یہاں بھی مبتدا تو معرفہ ہے، خبر بھی معرفہ آئی۔ تو بھئی! یہ حرج واجب نہیں ہے، یاد رکھو، واجب نہیں ہے۔ کہیں لے آتے ہیں اور کہیں نہیں لاتے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ واجب نہیں ہے بھئی۔ اور کوئی بات بھئی؟ اور کوئی بات کسی کو سمجھ میں نہ آئی ہو بھئی؟ چلیے، بس بھئی! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
69 approved lectures · 16 of 69