اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم.
ومن آياته يريكم البرق خوفا وطمعا وينزل من السماء ماء فيحيي به الأرض بعد موتها إن في ذلك لآيات لقوم يعقلون.
ومن آياته اور الله ہی کی الله ہی کی نشانیوں میں سے ہے يريكم البرق کہ وہ دکھاتا ہے تمہیں البرق بجلی۔ برق یہ جو بادل میں بجلی چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اسے برق کہتے ہیں بھئی۔ اور الله کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں دکھلاتا ہے بجلی خوفا وطمعا خوف اور امید کے لیے۔ خوف اور امید کے لیے۔ وينزل من السماء ماء اور وہ اور وہ اتارتا ہے آسمان سے پانی۔
فيحيي به الأرض بعد موتها پس زندہ کرتا ہے به اس پانی کے ذریعے الأرض زمین کو بعد موتها بعد اس کے مر جانے کے۔ زمین مر چکی یعنی خشک ہو گئی تو یہ اس کے مر جانے کی طرح ہے، پھر پانی بارش کا جب اترتا ہے تو وہ پھر زمین سرسبز ہو جاتی ہے تو گویا دوبارہ زندہ ہو گئی۔
تو الله کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے خوف اور امید کے لیے اور اتارتا ہے آسمان سے پانی پس زندہ کرتا ہے اس کے ذریعے زمین کو اس کے مر جانے کے بعد۔ إن في ذلك لآيات لقوم يعقلون بےشک اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں لقوم ایسے لوگوں کے لیے يعقلون جو عقل رکھتے ہیں یا جو سوچتے ہیں۔
الله کی نشان ومن آياته يريكم البرق اور الله کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں دکھاتے ہیں البرق بجلی۔ خوفا وطمعا خوف اور امید کے لیے۔ خوف ہوتا ہے کہ کہیں بجلی نہ گر پڑے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ڈر بھی لگتا ہے، وطمعا اور امید بھی ہوتی ہے کہ بارش برسے تو اس سے کیا ہو جائے گی؟ بہت سے فائدے حاصل ہو جائیں گے بھئی۔
یہ خوفا اور طمعا کیا واقع ہو رہے ہیں بھئی؟ ترکیب کے اعتبار سے۔ تو یاد رکھیے یہ مفعول لہ ہیں بھئی۔ کیا ہیں؟ مفعول لہ۔
مفعول لہ کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے۔ ضربته تأديبا میں نے اس کی پٹائی کی کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے۔ تو یہ تأديبا یہ کیا ہے؟ مفعول لہ۔ تو یہ پٹائی کی علت بیان کر رہا ہے۔ تو وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان کرے اسے کیا کہتے ہیں؟ مفعول لہ کہتے ہیں۔
تو یہ بھی مفعول لہ ہیں، تو اس کا ترجمہ میں نے کیا کیا تھا؟ اور میں ضربته تأديبا میں نے اس کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لیے، یہاں بھی اسی طرح۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں دکھاتا ہے بجلی خوفا وطمعا خوف اور امید کے لیے۔ یہ بعض علماء نے لکھا۔
لیکن جمہور علماء کہتے ہیں یعنی اکثر علماء کہ بھئی مفعول لہ کے لیے ضروری ہے کہ ماقبل کے فعل اور اس کا فاعل ایک ہی ذات ہو۔ ماقبل کے فعل اور اس کا فاعل کیا ہو؟ ایک ہی ذات ہو جیسا میں نے کہا ضربته میں نے اس کی پٹائی کی تأديبا ادب سکھانے کے لیے، اب بتائیے یہ پٹائی کرنے والا کون ہے؟ متکلم۔ اسی طرح یہ ادب سکھانے والا بھی کون ہے؟ متکلم ہے، تو دونوں کا فاعل ایک ہی ذات ہونی چاہیے بھئی۔ ایک ہی ذات۔ لیکن یہاں دونوں کا فاعل ایک ذات نہیں، یہ دکھانا يريكم البرق یہ دکھانے والی ذات کون سی؟ الله کی، اور یہ خوف اور امید کس کو ہوتی ہے؟ یہ تو انسان کو ہوتی ہے، تو یہ خوف اور طمع یہ انسان کا فعل ہوا، اور بجلی دکھانا یہ الله کا فعل ہوا بھئی۔
تو چنانچہ پھر اس کا وہ جواب یہ دیتے ہیں کہ یہاں ارادہ کا لفظ مضاف محذوف ہے بھئی۔ ارادہ کا لفظ کیا ہے؟ مضاف محذوف ہے۔ إرادة خوف وطمع خوف اور امید کے ارادے سے۔ خوف اور امید الله کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے خوف اور امید کے ارادے سے بھئی۔ کیا ارادہ ہوتا ہے الله کا کہ خوف اور امید ہو بھئی دیکھنے والوں کو۔ تو دیکھو ارادہ آ گیا مولانا إرادة، اور ارادہ بھی یہاں کس کا فعل ہوا؟ الله ہی کا فعل ہوا بھئی۔
یا بعضوں نے کہا کہ یہ اس کو حال بنا لیں بھئی، يريكم کے اندر کے ساتھ یہ جو كم ضمیر ہے بھئی جمع مخاطب کی، اسی سے حال بنا لیں۔ تو خوفا وطمعا یہ مصدر ہیں، اور مصدر آپ نے کب پڑھا ہے کبھی اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی اسم مفعول کے معنی میں ہوتا ہے، جیسے آپ پڑھتے ہیں زيد عدل تو یہ عدل کس معنی میں ہے؟ عادل کے معنی میں ہے، زيد عادل۔ تو یہاں بھی اسی طرح خوفا یہ حال ہے كم ضمیر سے بھئی جمع کی، تو اسی کے مطابق اسم فاعل بنا لیں جمع کا صیغہ، اور وہ کیا ہے؟ خائفون، کیا بن گیا؟ خائفون۔ اور طمع سے کیا بن گیا؟ طامعون، طمع رکھنے والے۔ خائفون ڈرنے والے جمع، اور طامعون امید رکھنے والے۔ اور پھر حال منصوب ہوتا ہے تو اس کو حالت نصبی میں لے جائیں، خائفون سے کیا بن جائے گا؟ خائفين، اور طامعون سے کیا بن جائے گا؟ طامعين بھئی۔
تو اس صورت میں ترجمہ یوں ہو گا: اور الله کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ دکھاتا ہے تمہیں بجلی اس حال میں کہ تم ڈرنے والے ہوتے ہو اور امید کرنے والے ہوتے ہو، کہ تم خوف کرنے والے ہوتے ہو اور تم امید، کیونکہ یہ كم ضمیر سے حال واقع ہو رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں دو تین باتیں میں نے ذکر کر دیں، بعضوں نے کہا خوفا وطمعا کیا واقع ہو رہا ہے؟ مفعول لہ واقع ہو رہا ہے جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے۔ اس پر پھر جمہور نے اعتراض کیا کہ بھئی کہ فعل اور یہ مفعول لہ کا فاعل تو کیا ہونا چاہیے؟ ایک ہی ذات ہونی چاہیے اور یہاں الگ الگ ہیں، تو پھر چنانچہ جواب کیا دیا کہ اس صورت میں کیا کر لیں گے؟ ارادہ کا لفظ پہلے مضاف محذوف نکال لیں گے إرادة خوف وطمع خوف اور امید کے ارادے کے لیے۔ تو خوف اور امید کا ارادہ کرتے ہوئے۔ جی، اور بعضوں نے پھر کیا کہا یہ خوفا وطمعا کیا ہے؟ حال واقع ہو رہا ہے کس چیز سے؟ یہ كم جمع کی جو جمع مخاطب کی ضمیر ہے اس سے یہ حال ہے۔
وينزل من السماء ماء اور وہ اتارتا ہے آسمان سے پانی کو۔ سماء میں نے بتایا عربی میں ہر اوپر جو بلند چیز ہے اس کو سماء کہہ دیتے ہیں بھئی۔ تو آپ یہ ترجمہ کر لیں آسمان سے پانی اتارتا ہے، یا یہ ترجمہ کر لیں اوپر سے پانی اتارتا ہے، یا یہ ترجمہ کر لیں بادل سے پانی اتارتا ہے، کیونکہ بادل بھی اوپر ہوتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ سب ٹھیک ہیں بھئی۔
بھئی قرآن میں آپ دیکھیں گے جگہ جگہ الله تعالیٰ بارش کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ الله کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ انسان حیران ہوتا ہے اتنا پانی بادلوں کے اندر بھئی! پورے شہر کے شہر جو ہے اوپر بارش برستی ہے، میلوں تک برستی چلی جاتی ہے، اور اتنا پانی بعض اوقات تو اتنا پانی ہوتا ہے کہ بڑی تباہی اس سے مچ جاتی ہے جیسے ابھی آپ نے دیکھا پورے ملک کے اندر بھئی بارشوں کی وجہ سے کتنا پانی آیا کہ قابو میں ہی نہ رہا اور کس قدر حد تک اس کا نقصان ہوا بھئی۔
تو یہ جگہ جگہ الله فرماتے ہیں کہ یہ الله کی نشانیوں میں سے ہیں۔ سائنس اتنی ترقی کر گئی بھئی اتنی ترقی کر گئی، لیکن ابھی تک بارش کی پوری حقیقت سائنسدان نہیں سمجھ سکے بھئی۔ نظریات ان کے بہت سے ہیں یوں ہوتا ہو گا، یوں بادل بخارات اٹھتے ہوں گے سمندروں سے، پھر یوں بادل بنتے ہوں گے، اور پھر یوں جا کر برستے ہوں گے، آپ نے بھی سائنس کی کتابوں میں پڑھا ہو گا، لیکن یہ تو سرسری سی بات ہے بادل اٹھے، سمندر سے بخارات اٹھے، بادل بنے اور آئے اور بارش ہوئی۔ یہ ہوتا کس طرح ہے یہ سارا؟ کس طریقے سے ہوتا ہے یہ سارا نظام چلتا کیسے ہے بھئی؟ تو حقیقت یہ ہے آپ گہرائی میں جائیں گے اور اس کی تحقیق کریں گے تو حیران رہ جائیں گے کہ اتنی ترقی ہونے کے باوجود کمپیوٹر وغیرہ اتنی چیزیں بن گئیں، ایٹم بم بن گئے بھئی، جہاز جدید ترین بن گئے، سواریاں بن گئیں، ٹیلیفون بن گئے، سارا کچھ بن گیا، لیکن ابھی تک اس بارش کو بھی وہ پوری طرح سمجھ نہیں سکے بھئی۔
تو الله فرماتے ہیں اس کے اندر بڑی نشانیاں ہیں ہماری، اس کے دیکھو یہ ہم نے عجیب نظام چلایا ہوا ہے، جہاں پانی کی ذرا کمی ہوتی ہے بادل آتے ہیں بارش برستی ہے اور ان کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں وينزل من السماء ماء اور اتارتی ہیں آسمان سے پانی کو فيحيي به الأرض پس زندہ کرتے ہیں به أي بالماء یہ ها ضمیر ماء کو راجع ہے، پس زندہ کرتے ہیں اس پانی کے ذریعے زمین کو بعد موتها بعد اس کے مر جانے کے إن في ذلك لآيات لقوم يعقلون بےشک اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں۔
ومن آياته أن تقوم السماء والأرض بأمره اور الله کی نشانیوں میں سے ہے کہ قائم ہے آسمان اور زمین بأمره الله کے حکم سے۔
الله ہی نے آسمان اور زمین کو پیدا بھی کیا اور پھر ان کی بقاء کا بھی بندوبست فرمایا کہ یہ باقی بھی رہیں، چنانچہ انہیں اپنی اپنی جگہ پر قائم رکھنے رہنے کا حکم دیا بھئی۔
تو الله کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان قائم ہے آسمان اور زمین اس کے حکم سے، ثم إذا دعاكم دعوة من الأرض پھر جب تمہیں دعاكم جب تمہیں پکارے گا بلائے گا دعوة یہ مفعول مطلق ہے بھئی مفعول مطلق۔ ضربته ضربا بھئی، وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ مفعول مطلق کہتے ہیں۔ اور مفعول مطلق کے بہت سے فائدے ہیں بھئی۔ کبھی وہ عدد بتلانے کے لیے آتا ہے ضربته ضربته ضربا، کیا معنی؟ یا جو مثالیں کتاب میں مذکور جلست جلسة میں یہ عدد بتانے کے لیے ہے، میں ایک مرتبہ بیٹھا۔ جلست جلستين میں دو مرتبہ بیٹھا، جلست جلسات میں کئی مرتبہ بیٹھا، اور کبھی یہ نوع بتلانے کے لیے آتا ہے جلست جلسة القاري میں بیٹھا کس کی طرح؟ قاری کی طرح وغیرہ، تو یہاں پر دیکھو یہ دعوة آیا بھئی فعلة وزن، اور یہ عدد بتلانے کے لیے ہے بھئی، کیا بتلانے کے لیے؟ عدد بتلانے کے لیے ثم إذا دعاكم دعوة اور پھر جب تمہیں الله بلائیں گے ایک ہی مرتبہ، جب ایک ہی مرتبہ بلائیں گے من الأرض زمین سے یعنی انسان تو زمین میں مٹی ہو گیا، مل گیا، قبر میں پڑا ہے، جب الله اس زمین سے اس کو بلائیں گے، پکاریں گے إذا أنتم تخرجون تو اچانک تم نکل آؤ گے۔ فوراً، إذا مفاجاتیہ، اچانک یعنی فوراً، اسی وقت بھئی، تو اسی وقت أنتم تخرجون تم نکل آؤ گے قبروں سے۔
ثم إذا دعاكم دعوة من الأرض پھر جب تمہیں وہ بلائے گا ایک بار پکارے گا زمین سے تو انسان کہاں ہو گا؟ زمین میں ہے، تو الله پکاریں گے اسے بھئی، تو وہ فوراً نکل، ثم إذا دعاكم دعوة من الأرض پھر جب تمہیں وہ بلائے گا ایک مرتبہ زمین سے إذا أنتم تخرجون تو اسی وقت تم نکل آؤ گے۔
وله من في السماوات والأرض اور الله ہی کے لیے ہے، الله ہی کا ہے اور الله ہی کا ہے من من آتا ہے ذوی العقول کے لیے بھئی، کس کے لیے؟ ذوی العقول کے لیے۔ ما آتا ہے غیر ذوی العقول کے لیے، پڑھا ہے یا نہیں پڑھا بھئی آپ نے؟ وله من في السماوات والأرض اور الله ہی کا ہے جو کوئی بھی ہے آسمانوں میں اور زمین میں، یعنی سب اسی کی مخلوق ہے۔ كل له قانتون كل سب کے سب له اسی کے قانتون تابع ہیں۔ سب کے سب اسی کے تابع ہیں، فرماں بردار ہیں۔
سب کے سب اسی کے تابع ہیں، سب کے سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ کفار تو الله کے فرماں بردار نہیں، وہ تو الله کی عبادت نہیں کرتے، الله کے احکامات کو تسلیم نہیں کرتے، جواب بھئی: عبادت کے اندر تابع ہونا مراد نہیں ہے جو عبادت کا الله نے حکم دیا، مراد ہے ارادے کے اندر بھئی، كل له قانتون سب کے سب اسی کے تابع ہیں ارادے میں، سب کے سب اسی کے تابع ہیں ارادے میں، جیسا الله چاہتے ہیں ویسا فرما دیتے ہیں، کسی کی مجال نہیں کہ الله کے ارادے کے اندر، الله کے کاموں میں کسی قسم کا دخل دے سکے بھئی، جس کو چاہتے ہیں زندگی دیتے ہیں، جس کو چاہتے ہیں موت دیتے ہیں، جس کو چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں وہاں وہ پیدا ہوتا ہے زمین کے اس خطے میں، اس علاقے میں، پھر جس طرح کے اس کے لیے رزق وسیع چاہتے ہیں الله وسیع دے دیتے ہیں، تنگ چاہتے ہیں تو تنگ رزق دیتے ہیں وغیرہ، تو جو الله ارادہ کرتے ہیں اس میں سب اسی کے تابع ہیں، کوئی ذرہ برابر بھی اس میں چون و چرا نہیں کر سکتا۔
كل له قانتون سب کے سب اسی کے ارادے کے تابع ہیں وهو الذي يبدأ الخلق اور وہی ذات ہے يبدأ الخلق جو ابتداء کرتی ہے پیدائش کی یعنی پہلی بار پیدا کرتے ہیں، اور وہی ذات ہے جو پہلی بار پیدا کرتی ہے ثم يعيده پھر اسے دہرائے گی، پھر اس پیدائش کو پھر اس پیدائش کو دہرائے گی وهو أهون عليه اور یہ اس پر آسان ہے، یہ هو ضمیر يعيد کے سے جو اعادہ مصدر معلوم ہوا یہ اس کی طرف راجع ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مصدر فعل اپنے مصدر پر دلالت کرتا ہے بھئی۔ فعل کا مفہوم معنی جو ہے وہ تین چیزوں سے مرکب ہوتا ہے۔ فعل کا لفظ اگرچہ مفرد ہے لیکن معنی یہ تین چیزوں پر دلالت کرتا ہے۔ نمبر ایک: مصدر پر، ضرب نے مصدر ضرب پر بھی دلالت کی ضرب نے، کس پر؟ ضرب پر۔ اور زمانے پر بھی دلالت کی ضرب نے، ضرب سے کون سا زمانہ آپ کو سمجھ میں آیا؟ ماضی کا زمانہ، اور نسبت الی الفاعل پر بھی یہ دلالت کرتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ہر فعل اپنے مصدر پر دلالت کرتا ہے، تو یہاں بھی يعيد आया تو اس نے کس پر دلالت کی؟ اعادہ پر، أعاد يعيد إعادة۔ جی، تو هو ضمیر اس اعادہ کو راجع ہے بھئی اعادہ کو۔
اور إعادة مصدر ہے اور المصدر كالمخنس قد يذكر وقد يؤنث، مصدر مخنث کی طرح ہے کبھی اس کو کیا شمار کیا جاتا ہے؟ مذکر اور کبھی مؤنث، مذکر کی ضمیر بھی اس کی طرف راجع کر دیتے ہیں اور مؤنث کی بھی۔ لیکن اس کے ساتھ تا ملی ہوئی ہو تو پھر عموماً مؤنث کا زیادہ لحاظ رکھا جاتا ہے، تو یہاں اعادہ کی طرف هو ضمیر راجع ہوئی مذکر کی حالانکہ اعادہ کے ساتھ کیا ملی ہوئی ہے؟ تا بھئی، بہرحال ایک جواب تو یہی ہو گیا کہ المصدر قد يذكر وقد يؤنث بھئی۔
اور پھر یا اس میں یوں کہیں اس میں خبر کی رعایت رکھی گئی ہے۔ خبر "أهون" جو ہے وہ مذکر تھی، تو ضمیر جب دائر ہو جائے بين المرجع والخبر، ایک طرف دیکھیں مرجع کی طرف دیکھیں تو وہ ضمیر کیا آنی چاہیے مثلاً؟ مؤنث، اور خبر کی طرف دیکھیں تو ضمیر کیا آنی چاہیے؟ مذکر، تو دونوں جائز ہیں، خبر کی رعایت رکھنا بھی جائز اور مرجع کی رعایت رکھنا بھی جائز۔ جیسے آپ نے قافیہ میں پڑھا ہو گا "الكلمةُ" کیا ہے؟ "لفظٌ وضع لمعنىً مفردٍ" آگے کیا ہے؟ "وهي اسمٌ" تو "هي" ضمیر راجع ہے کلمہ کو، آگے ہے "اسمٌ" مذکر، تو خبر کی رعایت خبر کی طرف دیکھا جائے تو ضمیر "هو" لانی چاہیے، کلمہ لفظ جس مرجع کو دیکھیں تو ضمیر کیا لانی چاہیے؟ مؤنث لانی چاہیے، تو صاحبِ قافیہ نے کس کی رعایت کی؟ مرجع کی رعایت، مرجع کیا ہے؟ "الكلمةُ" "تا" آ رہی ہے یا نہیں بھئی؟ تو انہوں نے ضمیر کون سی ذکر کر دی؟ "هي"، تو یہاں "هي" لانا بھی صحیح اور "هو" لانا بھی صحیح۔ "هو" کس کی طرف دیکھتے ہوئے؟ آگے خبر "اسمٌ" مذکر ہے تو خبر مبتدا بھی کیا ہونا چاہیے؟ مذکر "هو" ہونا چاہیے، اور مرجع کو دیکھیں تو کیا لانا چاہیے؟ "هي"، تو یہاں دونوں میں سے جس کی بھی رعایت رکھی جائے ٹھیک ہے بھئی۔
"وهو أهون عليه" اور یہ اعادہ، یہ دوبارہ پیدا کرنا "أهون عليه" آسان ہے اللہ پر۔ بھئی "أهون" اصل میں تو ہے اسمِ تفضیل بھئی، اسمِ تفضیل جس میں زیادتی کے معنی ہوں۔ کیا معنی ہوں؟ زیادتی۔ تو "وهو أهون عليه" اور یہ پیدا، دوبارہ پیدا کرنا زیادہ آسان ہے اللہ کے لیے۔ بھئی یاد رکھیے! ایک ہے پہلی مرتبہ کا پیدا کرنا، ایک ہے بعد میں دوبارہ پیدا کرنا، یہ سب اللہ کی قدرت میں ہے، اللہ کے لیے سب برابر ہیں، سمجھ میں آیا؟ یہ نہیں کہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل تھا اور دوسری مرتبہ پیدا کرنا آسان، اللہ کے لیے سب برابر ہیں، سب اللہ کی قدرت میں ہے، سب اللہ کے لیے آسان ہیں، تو پھر اس کا کیا معنی کہ یہ اللہ کے لیے زیادہ آسان؟ تو جواب یہ کہ یہ دنیا کے لوگوں کے رنگ میں کلام کیا گیا کہ اے دنیا کے لوگو! اے مشرکینِ مکہ! تم کیا کرتے ہو کہ دوبارہ اللہ کیسے پیدا کریں گے؟ دوبارہ کیسے جب ایک شخص مٹی ہو گیا، مٹی میں مل گیا تو کیسے اللہ اس کو پیدا کریں گے؟ کہتے ہیں بھئی تم خود ہی اپنے آپ کو دیکھ لو، تمہارے لیے کوئی کام پہلی مرتبہ تو مشکل ہوتا ہے، دوسری مرتبہ میں اتنا مشکل نہیں ہوتا، تو جس اللہ نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی اللہ کیا کرے گا؟ دوسری مرتبہ بھی، اور پہلی مرتبہ تمہارے نزدیک مشکل ہوتا ہے دوسری مرتبہ تو مشکل بھی اتنا مشکل نہیں ہوتا بھئی، تو ان کے رنگ میں، دنیاوی دنیا کے لوگوں کے انداز میں کلام آیا بھئی۔
تو ترجمہ پھر یہ کر لیں، تو چنانچہ بعض نے کہا یہ "أهون" بمعنی "هين" یعنی آسان کے ہے۔ تو بہرحال آپ یہ ترجمہ کر لیں بھئی: "وهو أهون عليه" اور یہ دوبارہ پیدا کرنا بہت آسان ہے اللہ کے لیے، "زیادہ" کا لفظ نہ لائیں، "زیادہ آسان ہے" سمجھ میں آئی بات؟ "زیادہ" ہے معلوم ہوا ایک کم آسان ہے ایک زیادہ، تو یہ لفظ نہ لائیں بلکہ "بہت آسان"، اور یہ دوبارہ پیدا کرنا بہت آسان ہے اللہ کے لیے، اللہ پر۔ "وله المثل الأعلى في السماوات والأرض" اور اللہ کے لیے بہت اونچی شان ہے، "المثل" صفت بھئی صفت، شان، حال بھئی حال۔ "الأعلى" اسمِ تفضیل، سب سے اونچی۔ اور اللہ کے لیے اللہ کی سب سے اونچی شان ہے آسمانوں اور زمین میں بھئی، اللہ کی شان سب سے اونچی ہے کہ وہ وحدہ لا شریک ہے، وہ اکیلا معبود ہے، اس جیسی کوئی ذات نہیں ہے بھئی۔ "وهو العزيز الحكيم" اور وہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔
"ضرب لكم مثلا من أنفسكم" بیان کرتے ہیں تمہارے لیے ایک مثال "من أنفسكم" تمہارے ہی نفسوں میں سے۔ اللہ بیان کرتے ہیں تمہارے لیے ایک مثال تمہارے ہی نفسوں میں سے۔ المشرکین اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں تو ان کے لیے اللہ ایک مثال بیان فرما رہے ہیں۔ "هل لكم" کیا ہے تمہارے لیے "مما ملكت أيمانكم" ان میں سے "ما" ان میں سے "ملكت" کہ مالک ہیں "أيمانكم" تمہارے دائیں ہاتھ۔ ایمان جمع ہے یمین کی، دائیں ہاتھ کو کہتے ہیں بھئی۔ "ملكت" یہ "أيمانكم" فاعل ہے "ملكت" کے لیے، "مما" ان میں سے "ملكت أيمانكم" کہ مالک ہیں تمہارے دائیں ہاتھ جن کے، مراد غلام اور باندیاں ہیں بھئی، کیا مراد ہیں؟ غلام اور باندیاں بھئی، یعنی جو تمہارے مملوک ہیں غلام اور باندیاں۔ کیا ہیں تمہارے غلاموں یہ مراد ہی ترجمہ، کیا ہیں تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے "من شركاء" کوئی شریک "فيما رزقناكم" اس چیز کے اندر جو ہم نے تمہیں رزق دیا، جو ہم نے تمہیں عطا کیا "فأنتم فيه سواء" پس تم اس میں، تم سب اس میں برابر ہو، پس تم سب اس میں برابر ہو "تخافونهم" پس تم ڈرتے ہو ان سے، خطرہ رکھتے ہو ان کا "كخايفتكم" جیسے کہ تم ڈرتے ہو "أنفسكم" اپنے نفسوں سے یعنی اپنوں سے، جیسے کہ تم ڈرتے ہو اپنوں سے۔
بھئی دیکھیے! اللہ مثال بیان فرما رہے ہیں کہ تم میرے لیے شریک بناتے ہو، تم میرے لیے شریک بناتے ہو، ذرا اپنے دیکھو تم، کیا تم اپنے غلاموں اور باندیوں کو اپنے مال میں برابر کا حصے دار سمجھتے ہو؟ اور جس طرح اس مال میں کئی شریک ہوں تو ایک شریک جو ہے وہ ہر وقت خوف احتیاط کرتا رہتا ہے، خوف رکھتا ہے کہ اگر میں نے اس میں کسی قسم کا تصرف کیا تو کہیں ایسا نہ ہو میرا دوسرا ساتھی مجھ سے ناراض ہو جائے بھئی۔ خوف رکھتا ہے یا نہیں بھئی؟ احتیاط رکھتا ہے یا نہیں رکھتا شرکت والے مال میں؟ ہر انسان اسی طرح خیال رکھتا ہے بھئی، احتیاط رکھتا ہے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں: کیا ہم نے جو تمہیں مال عطا کیا ہے، کیا اس میں تم اپنے غلاموں اور باندیوں کو برابر سمجھتے ہو کہ وہ بھی تمہارے ساتھ اس میں برابر کے حصے دار ہوں؟ کوئی بھی اس طرح، کوئی بھی اس طرح نہیں سمجھتا، اپنے غلام اور باندی کو اپنے مال میں حصے دار نہیں سمجھتا، اور کیا تم جس طرح اپنے شریکوں کا خوف رکھتے ہو اور ان کا خطرہ رکھتے ہو اور احتیاط سے کام لیتے ہو، کیا اپنے مال کے اندر اسی طرح اپنے ان غلاموں اور باندیوں کا بھی خطرہ رکھتے ہو کہیں ایسا نہ ہو یہ ہم سے پوچھ لیں کہ کہاں خرچ کیا، کیسے خرچ کیا؟ معلوم ہوا تم ان کا ذرا بھی خوف نہیں رکھتے، تو اللہ فرماتے ہیں: بھئی حالانکہ یہ ہر اعتبار سے تمہارے جیسے ہیں، تم بھی انسان ہو یہ بھی انسان ہیں، تمہاری بھی وہی ضروریات جو ان کی ضروریات ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ ہر لحاظ سے تمہارے جیسے ہیں، صرف یہ ہے کہ مجازاً تم ان کے مالک ہوں، مالک ہو اور یہ تمہارے مملوک ہیں، تو ہر لحاظ سے یہ تمہارے جیسے ہیں، پھر بھی تم ان کو اپنے برابر کا نہیں سمجھتے، تو پھر کتنا بڑا ظلم کرتے ہو تم کہ تم بتوں وغیرہ کو بناتے ہو اور ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو، اللہ کے برابر سمجھتے ہو بھئی! جب اپنے جیسے انسانوں، غلاموں اور باندیوں کو تم اپنے برابر نہیں سمجھتے، تو جو چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں تم کیسے ان کو اللہ کے برابر سمجھ لیتے ہو بھئی؟ بات سب کو سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
"هل لكم" کیا ہے، دوبارہ ترجمہ دیکھیے۔ "هل لكم" کیا ہیں تمہارے لیے "من شركاء" یہ "من" زائد ہے مولانا، زائد بھئی، اور یہ "شركاء" یہ مبتدائے مؤخر ہے۔ کیا ہے؟ یہ مبتدائے مؤخر ہے۔ ترجمہ تاکہ آپ کو اچھی طرح آ جائے اس کی ترکیب بیان کر رہا ہوں۔ "هل لكم من شركاء" "من" زائد ہے بھئی، کیا ہیں تمہارے شریک؟ "هل لكم شركاء" یوں بن گئی نہ عبار عبارت، کیا ہیں تمہارے شریک؟ کس چیز میں شریک؟ "فيما رزقناكم" وہ جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے۔ تو کیا ہیں تمہارے شریک اس چیز میں جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے "مما ملكت أيمانكم" ان میں سے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے غلام اور باندیوں؟ کیا تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے کوئی تمہارا شریک ہے اس مال کے اندر جو ہم نے تمہیں دیا ہے؟ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ کیا تمہارے لیے تمہارے غلام اور باندیوں میں سے کوئی شریک ہے اس مال کے اندر جو ہم نے تمہیں دیا ہے، پس تم پس تم سب "فيه سواء" اس مال کے اندر برابر ہو؟ کیا ایسا ہے کہ تمہارے غلام اور باندیوں میں سے کوئی اس مال کے اندر تمہارے ساتھ شریک ہو اور پس تم سب اس مال میں کیا ہو جاؤ؟ برابر ہو جاؤ، ایسا ہے؟ ایسا نہیں ہے۔
"تخافونهم" یہ یہ خبرِ ثانی ہے "أنتم" کی، ایک خبر "سواء" آ گئی اور ایک "تخافونهم"، کیا تو تم اس میں برابر ہو اور تم تم "تخافونهم" تم ان کا خوف رکھو "كخايفتكم أنفسكم" جیسے کہ تم خوف رکھتے ہو اپنوں کا۔ یعنی ایسا نہیں ہے، یہ سوال اللہ فرما رہے ہیں، استفہامِ انکاری ہے کہ یقیناً ایسا نہیں ہے بھئی۔ دوبارہ آپ ترجمہ دیکھیے: "هل لكم مما ملكت أيمانكم" کیا ہیں تمہارے لیے ان میں سے جو تمہارے غلام اور باندیاں ہیں "من شركاء" شریک "فيما رزقناكم" اس چیز کے اندر جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے؟ کیا ہیں دوبارہ، کیا ہیں تمہارے کیا ہیں تمہارے لیے جو ہم نے تمہیں غلام اور باندیاں دی ہیں یا وہ "مما ملكت أيمانكم" کا ترجمہ چاہے بےشک اسی طرح کر لیں۔ تو مراد وہی ہے غلام اور باندیاں، دونوں ترجمے آپ کر سکتے ہیں، سمجھ میں آئی بات؟ "هل لكم مما ملكت أيمانكم" کیا ہیں تمہارے لیے ان کے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں ان میں سے کوئی شریک اس مال کے اندر جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے پس تم اور وہ اس کے اندر برابر ہو اور تم ڈرتے ہو ان سے کہ جیسے کہ تم ڈرتے ہو اپنوں سے؟ کیا کوئی شریک ہے اور تم پھر اس میں برابر ہو اور تم ان کا خوف رکھو جیسے اپنوں کا خوف رکھتے ہو؟ یقیناً ایسا نہیں ہے بھئی۔
"كذلك نفصل الآيات لقوم يعقلون" اسی طرح ہم "فصل يفصل" تفصیل بیان کرنا بھئی، کھولنا، اسی طرح ہم کھول کھولتے ہیں اپنی نشانیوں کو ایسی قوم کے لیے "يعقلون" جو عقل رکھتے ہیں۔ اسی طرح ہم کھول کر بیان کرتے ہیں اپنی نشانیوں کو ایسی قوم کے لیے "يعقلون" جو سمجھ سوچتے ہیں، جو عقل رکھتے ہیں۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ حل ہوا کہ نہیں بھئی؟ حل دوبارہ سن لیں پھر۔ "ضرب لكم مثلا من أنفسكم" بیان کیا اللہ نے تمہارے لیے ایک مثال کو "من أنفسكم" تمہارے ہی نفسوں میں سے، بیان کرتے ہیں اللہ تمہارے لیے ایک مثال تمہارے ہی نفسوں سے "هل لكم مما ملكت أيمانكم من شركاء" کیا ہیں تمہارے ان میں سے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں کوئی شریک اس مال کے اندر "رزقناكم" جو ہم نے تمہیں دیا ہے تو تم "فأنتم فيه سواء" تو تم تم اور سب جو ہے تم اور وہ سب، "فأنتم" پس تم سب جو ہے "فيه سواء" اس میں برابر ہو جاؤ، برابر ہو "تخافونهم كخايفتكم أنفسكم" تم ان سے ڈرتے ہو جیسے کہ تم ڈرتے ہو اپنے اپنوں سے، اپنوں سے ڈرتے ہو، پس وہ تمہارے ساتھ کیا ہو جائیں اس مال میں؟ کیا اس مال میں بھئی تمہارے غلاموں میں سے کوئی شریک تمہارے ساتھ ہے اور پھر وہ تمہارے ساتھ اس مال کے اندر کیا ہو جائیں؟ برابر کے حصے دار ہو جائیں اور پھر تم ان کا اسی طرح خوف کرو جس طرح کیا کرتے ہو؟ اپنوں کا خوف کرتے ہو، کیا ایسا ہے؟ استفہامِ انکاری ہے کہ یقیناً ایسا نہیں ہے بھئی۔
"هل لكم من" بھئی یہ جو "شركاء" آگے آ رہا ہے یہ ہے مبتدائے مؤخر، یہ اس "شركاء" سے پہلے جو "من" ہے یہ زائد ہے بھئی۔ تو "شركاء" ہے مبتدائے مؤخر اور "لكم" ہے خبرِ مقدم بھئی۔ ترتیب یوں ہی لفظوں کی اصل کے اعتبار سے: "هل شركاء لكم" کیا تمہارے کوئی شریک ہیں "مما ملكت أيمانكم" ان میں سے جن کے مالک ہیں "أيمانكم" تمہارے دائیں ہاتھ؟ کیا تمہارے کوئی شریک ہیں ان میں سے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں یعنی غلام اور باندیاں؟ یعنی کیا تمہارے کوئی شریک ہیں تمہارے غلام اور باندیوں میں سے "فيما رزقناكم" اس مال کے اندر جو ہم نے تمہیں دیا ہے؟ وہ مال جو ہم نے تمہیں دیا ہے کیا اس مال کے اندر تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے کوئی تمہارا شریک ہے "فأنتم فيه سواء" تو تم اس میں برابر ہو؟ یعنی کیا تمہارے غلام اور باندیوں میں سے کوئی تمہارا اس مال کے اندر کوئی شریک ہے جو ہم نے دیا ہے کہ وہ تمہارے ساتھ اس مال میں برابر ہوں، تم ان کو اپنے برابر سمجھتے ہو کہ یہ بھی ہمارے ساتھ اس مال میں برابر کے حصے دار ہیں، "وتخافونهم كخايفتكم" اور تم ان سے ڈرتے ہو جیسے کہ تم ڈرتے ہو "أنفسكم" اپنے نفسوں سے یعنی اپنوں سے؟
تو کیا تمہارے تو کیا تمہارا کوئی شریک ہے تمہارے غلام اور باندیوں میں سے اس مال کے اندر کہ ہم نے تمہیں دیا ہے اور وہ تمہارے ساتھ اس میں برابر ہوں، تم ان کو اپنے برابر سمجھتے ہو کہ یہ بھی ہمارے ساتھ اس مال میں برابر کے حصے دار ہیں، اور تم ان سے ڈرتے ہو جیسے کہ تم اپنوں سے ڈرتے ہو بھئی؟ کوئی شریک ہوتا ہے وہ ڈرتا ہے مال کے اندر مالِ شرکت میں تصرف کرنے سے وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں نے کوئی تصرف کیا تو دوسرا شریک کیا ہو گا؟ ناراض ہو گا، تو کیا تم ان غلام اور باندیوں میں سے کوئی تمہارے مال میں شریک ہے اور اسے تم اپنے برابر سمجھتے ہو اور وہ تم اس سے اسی طرح ڈرتے ہو جس طرح تم اپنوں سے ڈرتے ہو؟ یقیناً ایسا نہیں ہے، ان میں سے کوئی بھی، ان میں سے کسی کو بھی تم اپنے مال میں حصے دار نہیں سمجھتے، برابر نہیں سمجھتے اپنے مال کے اندر اور نہ ان سے تم ڈرتے ہو جیسے کہ اپنے اور حصے داروں سے تم ڈرتے ہو بھئی، جیسے تم ان سے تم نہیں ڈرتے بھئی۔
جی ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ "هل شركاء لكم" کیا کوئی شریک ہے تمہارا تمہارے غلام اور باندیوں میں سے "فيما" اس مال کے اندر جو ہم نے تمہیں دیا ہے "فأنتم فيه سواء" پس تم اس مال کے اندر تم اور وہ کیا ہوں؟ برابر ہوں اور تم ان سے برابر ہوں تم ان سے ڈرتے ہو جیسے ڈرتے ہو اپنے نفسوں سے، اپنوں سے؟ یقیناً ایسا نہیں ہے، تو یہ استفہامِ انکاری ہے بھئی۔
تو جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا اور مال میں حصے دار نہیں سمجھتے نہ ان کا خوف رکھتے ہو، تو یہ پھر کتنے ظلم کی بات ہے کہ غلام جو انسان ہیں بالکل تمہاری طرح، ان کی بھی وہی تمام ضروریات جو تمہاری ضروریات ہیں، لیکن بس یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں مالک بنا دیا، ان کو مملوک بنا دیا، مجازاً وہ اب تمہارے مملوک ہیں، تم ان کے مالک ہو، تو تم ان کو اپنے برابر کا تو نہیں سمجھتے اپنے مال وغیرہ کسی چیز کے اندر بھی، اور پھر اتنا بڑا ظلم کرتے ہو کہ اللہ کی مخلوق کو اللہ کے برابر بناتے ہو معبود ہونے کے اندر بھئی! تو یہ معنی ہے اس آیت کا بھئی۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔