اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم.
وكأين من دابة لا تحمل رزقها الله يرزقها وإياكم وهو السميع العليم.
وكأين من دابة اور کتنے ہی ہیں جانوروں میں سے، كأين کتنے ہی ہیں بھئی، کثرت بتانا مقصود ہے۔ یعنی بہت سے ایسے ہیں من دابة، دابة زمین پر چلنے والے ہر جانور کو کہا جاتا ہے بھئی۔ وكأين من دابة اور کتنے ہی ہیں جانوروں میں سے، لا تحمل رزقها کہ وہ اٹھاتے نہیں اپنا رزق، یعنی اٹھائے نہیں رکھتے اپنا رزق۔
اس سے پچھلی آیتوں کے اندر بیان ہو رہا تھا کہ وہ مسلمان جو مکہ میں تھے اور ابتدائے اسلام کا زمانہ تھا، مشرکینِ مکہ ان کو تکلیف دیتے تھے، تنگ کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمانے لگے کہ اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو، میری زمین وسیع ہے۔ یعنی اگر یہاں تمہیں دین پر سکون سے عمل نہیں کرنے دیتے، دینِ حق پر، تو یہاں سے چلے جاؤ، میری زمین وسیع ہے، کسی ایسی جگہ جہاں پر تم آسانی سے دین پر عمل کر سکو۔
اور اللہ نے بتلایا کہ تمہیں بالآخر یہ دنیاوی زندگی گزار کر سب نے ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے، ہم ان کو جنت کے بالاخانے دیں گے، جنت کے بالاخانے۔
تو جب اللہ کی طرف سے یہ حکم آیا کہ بھئی یہاں اگر دین پر نہیں چل سکتے تو دوسری جگہ چلے جاؤ، تو بعض مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنے لگے کہ اے اللہ کے پیغمبر! یہاں تو ہمارا ذریعۂ معاش ہے، زمین ہے، یا کاروبار وغیرہ کچھ کام ہیں، دوسری جگہ جائیں گے تو ہم رزق کا بندوبست، کھانے پینے کا بندوبست کیسے کریں گے؟ اپنی روزی کہاں سے حاصل کریں گے؟ تو اللہ فرما رہے ہیں: وكأين من دابة اور کتنے ہی ہیں جانوروں میں سے، لا تحمل رزقها کہ وہ اٹھائے نہیں رکھتے، رزقها اپنا رزق۔ الله يرزقها اللہ ہی ان کو رزق دیتا ہے، وإياكم اور تمہیں بھی، وهو السميع العليم اور وہ سننے والا ہے، جاننے والا ہے۔
اللہ فرما رہے ہیں کہ جانوروں کو دیکھ لو، وہ تم سے کتنے کمزور ہیں اور وہ بھی اپنی روزی اٹھائے نہیں رکھتے، ان کے پاس کوئی روزی، صبح جب نکلتے ہیں تو ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا، لیکن شام کو جب واپس اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچتے ہیں تو سب کو، سب کے پیٹ بھرے ہوتے ہیں، اللہ ہی ہر ایک کو رزق دینے والا ہے۔ تو تم بھی جاؤ گے تو رزق کی فکر اور روزی کی فکر نہ کرو، اللہ تمہارے لیے بھی انتظام فرما دیں گے۔
علماء نے لکھا ہے مفسرین نے کہ انسان، چیونٹی، اور چوہا، صرف یہ تین جاندار ہیں جو اپنی روزی اور اپنی خوراک جمع کر کے رکھتے ہیں۔ اور کوئی بھی جاندار ایسا نہیں جو اپنی خوراک جمع کر کے رکھے۔ صرف انسان اس طرح کرتا ہے، اور ایک چیونٹی اس طرح ہے، اور ایک چوہا، باقی کوئی جاندار اس طرح نہیں کرتا۔
ولئن سألتهم من خلق السماوات والأرض ولئن سألتهم اور اگر آپ پوچھیں ان سے، اور البتہ اگر آپ پوچھیں ان سے، یعنی ان مشرکینِ مکہ، اے پیغمبر! اگر آپ ان مشرکینِ مکہ سے پوچھیں، ان سے سوال کریں، من خلق السماوات والأرض کس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو؟
بھئی، جس طرح اللہ نے سات آسمان بنائے ہیں، اسی طرح ان کی مثل سات زمینیں بھی ہیں، لیکن قرآن میں جہاں بھی آپ دیکھیں گے، السماوات یہ تو جمع کا صیغہ ذکر ہوگا، لیکن أرض اس کے ساتھ جو ذکر ہوگی وہ مفرد کا صیغہ۔ خلق السماوات والأرضين جمع نہیں، بلکہ کیا ہوگا؟ خلق السماوات والأرض مفرد۔ وجہ اس کی یہ بھئی کہ أرض کی جو جمع ہے، وہ ثقیل ہے۔ ثقیل ہے، زبان پر اس کی ادائیگی مشکل ہے۔ اور قرآن بے انتہا فصیح و بلیغ کلام ہے، تو اگر أرضین ذکر کیا جائے تو کلام میں ثقل پیدا ہوگا، تو یا یوں کہیں آپ کہ یہ کلمہ غیرِ فصیح ہے۔ اس کی جمع جو ہے وہ غیرِ فصیح ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ مفرد کے ساتھ أرض کو ذکر فرماتے ہیں۔
ولئن سألتهم اور اگر آپ پوچھیں ان سے، ان مشرکینِ مکہ سے، اے پیغمبر! من خلق السماوات والأرض کس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو؟ وسخر الشمس والقمر اور مسخر کیا سورج کو اور چاند کو؟ ان کو مسخر کیا، یعنی کام میں لگا دیا۔ سورج اپنا کام سرانجام دے رہا ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ یہ آپ کے لیے روشنی پھیلاتا ہے اور اسی طرح اور بھی جو کام ہیں اس کے، اس کے فصلیں وغیرہ اس کی دھوپ کی، دھوپ کی وجہ سے فصلیں پکتی ہیں وغیرہ۔ اسی طرح چاند جو ہے اس کو بھی اللہ نے اپنے کام میں لگا دیا، اس کے ذریعے ہماری راتوں میں روشنی ہوتی ہے اور اس کے ذریعے ہم مہینوں کا حساب رکھتے ہیں وغیرہ۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ ان مشرکین، اے پیغمبر! ان مشرکینِ مکہ سے پوچھیے آپ کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، وسخر الشمس والقمر اور کام میں لگا دیا سورج کو اور چاند کو؟ ليقولن الله تو البتہ وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے۔
اگر مشرکین سے بھی، اے پیغمبر! آپ سوال کریں تو وہ جواب میں یقیناً کیا کہیں گے؟ کہ اللہ نے جو ہے، آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور اللہ نے سورج اور چاند کو اپنے کام میں لگایا ہے۔ تو یہ مشرکینِ مکہ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے، تسلیم کرتے تھے، لیکن ساتھ شرک کرتے تھے، بت بنا کر ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے، ان بتوں کے بھی سجدے کرتے تھے کہ یہ ہماری اللہ کے پاس سفارش کریں گے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ ہمیں دنیا کے اندر زندگی میں آسانیاں دیں گے وغیرہ، تو اس قسم کے ان کے عقائد تھے، تو باقی اللہ کی ذات کو وہ بھی تسلیم کرتے تھے۔
جیسے یہاں سے ہی بات واضح ہو رہی ہے کہ اے پیغمبر! اگر آپ ان سے یہ سوال کریں گے تو جواب میں وہ بھی اس کو تسلیم کریں گے اور کہیں گے کہ یہ زمین اور آسمان کا پیدا کرنا اور سورج اور چاند کو اپنے کام میں لگانا، یہ کس کا کام ہے؟ اللہ کا کام ہے۔ فإنى يؤفكون پس کہاں يؤفكون وہ پھیرے جاتے ہیں؟ أفك يئفك کے معنی ہوتے ہیں پھرنا، پلٹنا۔ مجہول کا صیغہ آیا، فإنى کہاں يؤفكون پھیرے جاتے ہیں وہ؟ یعنی جب انہیں اس بات کا علم ہے کہ زمین اور آسمان کو اللہ نے پیدا کیا، سورج چاند کو اللہ تعالیٰ نے مسخر کیا، تو پھر وہ کہاں پھرے، کہاں الٹائے جاتے ہیں؟ کہاں توحید کو، توحید کے بجائے وہ پھر کیوں شرک کی طرف چلے جاتے ہیں؟
فأنى يؤفكون پس وہ کہاں سے پھیرے جاتے ہیں؟ الله يبسط الرزق لمن يشاء من عباده بسط يبسط کے معنی ہوتے ہیں کشادہ کرنا، وسیع کرنا، فراخ کرنا۔ الله يبسط الرزق اللہ روز، رزق کو، روزی کو فراخ کرتے ہیں، کشادہ کرتے ہیں، لمن يشاء جس کے لیے وہ چاہیں، من عباده اپنے بندوں میں سے۔ ويقدر له اور تنگ کرتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں۔ قدر يقدر کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کو ناپ کر اندازے سے دینا بھئی۔ تو بعض کو اللہ تعالیٰ وسیع رزق نصیب فرماتے ہیں اور بعض کو ناپ کر، یعنی بقدرِ ضرورت جتنے سے اس کی حیات ہو سکے، بس اتنا تھوڑا تھوڑا اللہ عطا فرماتے ہیں، یہ نہیں کہ بالکل بند کر دیتے ہیں۔ بند کر دیں پھر تو وہ زندہ ہی نہ رہ سکیں، تو البتہ اللہ جس کے لیے چاہتے ہیں، روزی کو کھول دیتے ہیں، کشادہ کر دیتے ہیں، وسیع رزق دیتے ہیں، لیکن یہ یاد رکھنا، یہ وسیع رزق کا ملنا، یہ بھی اللہ کی طرف سے امتحان اور آزمائش ہوتی ہے کہ میں اس کو خوب مال دیتا ہوں تو یہ میرے راستے پر چلتا ہے یا نہیں چلتا؟ اور اللہ کی طرف سے اگر روزی تنگ کر دی جاتی ہے تو یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے اور بطورِ آزمائش کے ہوتا ہے۔ تو بعضوں کی آزمائش ایک طریقے سے، بعضوں کی آزمائش دوسرے طریقے سے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
الله يبسط الرزق لمن يشاء من عباده ويقدر له اللہ کشادہ کرتے ہیں، وسیع کرتے ہیں رزق کو لمن يشاء جس کے لیے وہ چاہتے ہیں من عباده اپنے بندوں میں سے، ويقدر اور تنگ کرتے ہیں له، یہ ضمیر راجع ہے من کو، من يشاء بھئی، اور تنگ کرتے ہیں روزی جس کے لیے وہ چاہتے ہیں۔ إن الله بكل شيء عليم یقیناً اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔
إن الله بكل شيء عليم بے شک اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ ولئن سألتهم من نزل من السماء ماء اور اگر آپ پوچھیں ان سے، ان مشرکینِ مکہ سے، اے پیغمبر! اگر آپ ان مشرکینِ مکہ سے پوچھیں: من نزل من السماء ماء کس نے اتارا آسمان سے پانی کو؟ تو السماء کا ترجمہ چاہے آسمان سے کر لیں، ویسے عربی کے اندر یاد رکھیے، ہر وہ چیز جو ہمارے اوپر ہے، اسے سماء کہہ دیا جاتا ہے۔ آسمان ہمارے اوپر تو اسے بھی، اسی طرح بھئی بادل جو ہیں وہ ہمارے اوپر، تو اسے بھی کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ سماء۔ تو چاہے اس طرح ترجمہ کر لیں: من نزل من السماء کس نے، کون نازل کرتا ہے آسمان سے ماء پانی؟ یا یوں کر لیں: من نزل من السماء ماء کون نازل کرتا ہے اوپر سے پانی؟ یعنی کون اوپر سے بارش برساتا ہے؟
فأحيا به الأرض پس زندہ کرتا ہے اس کے ذریعے زمین کو، من بعد موتها بعد اس کے مر جانے کے۔ زمین کا زندہ ہونا یعنی اس کا ترو تازہ ہونا، اس پر درختوں وغیرہ اور پودوں کا بکثرت ہونا، یہ ہے زمین کی زندگی، اور اس کا خشک ہو جانا یہ اس کی گویا کہ موت ہے بھئی۔
فأحيا به الأرض فأحيا پس زندہ کرتا ہے، به، یہ ضمیر راجع ہے ماء کو، اس پانی کے ذریعے، الأرض زمین کو، من بعد موتها، ہا ضمیر راجع ہے أرض کو، أرض عربی میں مونثِ سماعی ہے بھئی، مونث استعمال ہوتا ہے۔ من بعد موتها بعد اس زمین کے مر جانے کے۔ ليقولن الله تو البتہ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ، کہ اللہ ہی ایسا کرتے ہیں۔
ولئن، دوبارہ دیکھیے: ولئن سألتهم من نزل من السماء ماء اور اگر آپ ان کفارِ مکہ سے، مشرکینِ مکہ سے سوال کریں: کون اتارتا ہے اوپر سے پانی کو؟ فأحيا به الأرض پس زندہ کرتا ہے یا یوں کہہ لیں ترو تازہ کرتا ہے، پس ترو تازہ کرتا ہے اس پانی کے ذریعے زمین کو، من بعد موتها بعد اس کے مر جانے کے، یعنی بعد اس کے خشک ہو جانے کے، بعد اس کے خشک ہو جانے کے، ليقولن الله تو البتہ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ، کہیں گے کہ یعنی کہ اللہ ہی ایسا کرتے ہیں۔ قل الحمد لله اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے کہ الحمد للہ۔
الحمد للہ کہ اللہ کی حمد بیان کیجیے کہ اللہ نے ان پر حجت پوری کر دی، آپ کو ان پر غالب کر دیا، وہ خود اقرار کر رہے ہیں کہ آسمان سے پانی، خود اقرار کریں گے کہ کس سے؟ آسمان سے پانی کون نازل کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نازل کرتے ہیں۔ زمین کو خشک ہو جانے کے بعد پھر دوبارہ ترو تازہ کون فرماتے ہیں؟ اللہ، وہ خود اس کا اقرار کر لیں گے، تو آپ کی بات انہوں نے تسلیم کر لی جس طرف انہیں دعوت دے رہے ہیں، آپ بھی انہیں توحید کی طرف بلا رہے ہیں، وہ بھی یہ چیزیں مانتے ہیں کہ زمین اور آسمان کو پیدا کرنے والی ذات اللہ ہی کی ہے، سورج اور چاند کو مسخر کرنے والی ذات اللہ ہی کی ہے، آسمان سے بارش برسانے والی اور اس کے ذریعے زمین کو زندہ کرنے اور ترو تازہ کر دینے والی ذات اللہ ہی کی ہے، یہ وہ خود تسلیم کر لیں گے، تو آپ ان پر دلیل کے اندر اور حجت کے اندر غالب آ گئے، تو اس پر اللہ کی حمد بیان کیجیے اور کہیے: قل الحمد لله، کہیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ بل أكثرهم لا يعقلون بلکہ ان میں سے اکثر جو ہیں، وہ سمجھ ہی نہیں رکھتے۔
بلکہ ان میں سے اکثر تو سمجھ ہی نہیں رکھتے۔ وما هذه الحياة الدنيا إلا لهو ولعب اور نہیں ہے یہ دنیاوی زندگی مگر تماشا اور کھیل۔ لهو لهو تفریح کے سامان کو، تفریح کے چیز کو کہا جاتا ہے۔ تو لهو کہتے ہیں تفریح کا سامان بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یعنی تماشا
تَماشا، وَالَّعِبُ اور "لعیب" کہتے ہیں کھیل کو۔ اللہ فرما رہے ہیں: وَمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا لَهْوٌ وَّلَعِبٌ، اور نہیں ہے یہ دنیاوی زندگی مگر تماشا اور کھیل۔
وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ، اور بے شک آخرت کا گھر جو ہے البتہ وہی زندگی ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ اور بے شک آخرت کا گھر لَهِيَ الْحَيَوَانُ البتہ وہی زندگی ہے، لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ اگر وہ لوگ جانتے۔ شرط ہے جزا محذوف ہے، تو ایسا نہ کرتے۔
حیوان، مراد حیات ہے بھئی۔ حیوان بول کر حیات مراد ہے۔ حیوان یعنی حیات والا، حیات والا۔ لیکن حیوان بول کر کیا مراد ہے؟ حیات زندگی ہی مراد ہے بھئی۔
وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ اور بے شک آخرت کا گھر ہی زندگی ہے، یعنی وہی اصل زندگی ہے، وہی حقیقی زندگی ہے۔ جبکہ یہ دنیاوی زندگی کیا ہے؟ کھیل، کھیل تماشا ہے۔ اگر یہ لوگ جانتے تو ایسا نہ کرتے۔
دعا کرو اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی پوری سمجھ نصیب فرما دے کہ یہ دنیاوی زندگی کھیل اور تماشا ہے اور آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔ اگر یہ حقیقت دل میں کامل طور پر اتر جائے تو پھر انسان پوری طرح اللہ کا ہو جاتا ہے بھئی۔
فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ، پس جب وہ رَكِبُوْا سوار ہوتے ہیں فِي الْفُلْكِ کشتی میں، فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ جب وہ لوگ سوار ہوتے ہیں کشتی میں، دَعَوُا اللّٰهَ تو پکارتے ہیں اللہ کو، مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے دین کو۔
دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اللہ کو پکارتے ہیں، یعنی اپنے اعتقاد کو اللہ کے لیے خالص کر دیتے ہیں۔ اس وقت پھر ان کے ذہن میں شرک وغیرہ نہیں رہتا کیونکہ اس وقت وہ بھی جانتے ہیں کہ اس وقت یہاں پر اب ہمیں بچانے والی ذات صرف کون سی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی ہے، یہ بت وغیرہ جو ہم نے خود بنا رکھے ہیں، یہ ہمیں کوئی نفع نہیں دے سکتے۔
تو فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ جب وہ سوار ہوتے ہیں کشتی کے اندر، دَعَوُا اللّٰهَ تو پکارتے ہیں اللہ کو، مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے دین کو، خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے اعتقاد کو، عقیدے کو۔
فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ، پس جب نَجّٰىهُمْ نجات دیتا ہے اللہ ان کو اِلَى الْبَرِّ کس کی طرف؟ خشکی۔ "برٌّ" خشکی کو کہتے ہیں بھئی، خشکی کو۔ اس کے مقابلے میں بحر ہے بھئی، بحر سمندر بھئی۔
فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ پس جب نجات دیتا ہے اللہ ان کو خشکی کی طرف، اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَ تو اچانک وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔
مراد ہے فوراً بھئی، تو فوراً ہی وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔ ابھی بھئی کشتی میں بیٹھے تھے، سمندر کے اندر تھے تو اس وقت پوری توجہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف تھی۔ اور جب تکلیف ختم ہو گئی، خشکی پہ اترے تو پھر وہی شرک اسی طرح شروع کر دیتے ہیں۔
فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ... "نجا" دیکھنا، ترجمہ اسی کے مطابق کرنا جیسا صیغہ آئے بھئی۔ "نجا" کون سا صیغہ ہے؟ مذکر غائب کا صیغہ ہے، تو یہ ترجمہ نہ کرنا "ہم نجات دیتے ہیں"۔ وہ نجات دیتے ہیں یعنی اور ضمیر کس کو راجع ہے؟ اللہ کو۔ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ جب اللہ نجات دیتے ہیں ان کو اِلَى الْبَرِّ خشکی کی طرف، اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَ تو فوراً ہی وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔
لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ... لِيَكْفُرُوْا تاکہ... یہ لام لامِ کَے ہے۔ لامِ کَے، جس کا ترجمہ "تاکہ" کے ساتھ کیا جاتا ہے، تاکہ۔ لِيَكْفُرُوْا تاکہ وہ کفر کریں، ناشکری کریں، بِمَآ اس چیز کی، اٰتَيْنٰهُمْ جو ہم نے انہیں دی ہے۔
تاکہ وہ کیا کریں؟ تاکہ وہ ناشکری کریں اس چیز کی جو ہم نے انہیں دی ہے۔ وَلِيَتَمَتَّعُوْا اور تاکہ وہ نفع اٹھا لیں، اس دنیاوی زندگی میں کچھ نفع اٹھا لیں بھئی۔ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ پس عنقریب وہ جان لیں گے۔
لوٹ کر تو بالآخر انہوں نے ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ اب جتنا کفر، ناشکری کرنا چاہتے ہیں ناشکری کر لیں اور جس قدر دنیاوی زندگی میں شرک کے ذریعے نفع اٹھانا چاہتے ہیں، آپس میں ساتھیوں سے اور دنیاوی زندگی سے، تو یہ نفع اٹھا لیں، فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ عنقریب یہ جان لیں گے۔
تو لِيَكْفُرُوْا میں یہ لام کون سا بنایا؟ لامِ کَے۔ اور اس کا معنیٰ "تاکہ" کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح وَلِيَتَمَتَّعُوْا میں بھی کیا ہے؟ لامِ کَے ہے اور اس کا معنیٰ بھی "تاکہ" کے ساتھ۔
جبکہ بعض مفسرین فرماتے ہیں یہ لامِ امر ہے بھئی، لامِ امر۔ دونوں جگہ کیا آ رہا ہے؟ لامِ امر۔ لِيَكْفُرُوْا، چاہیے کہ وہ کفر کریں جو ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں۔ وہ ناشکری کر لیں جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے اور وہ نفع اٹھا لیں۔
ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ وہ ناشکری کر لیں جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس کی اور یہ لوگ نفع اٹھا لیں۔ اور امر کیا جاتا ہے کسی کام کے کرنے کے لیے، تو اس کا معنیٰ یہ نہیں کہ انہیں کفر کا حکم دے رہے ہیں اللہ تعالیٰ اور دنیا میں نفع اٹھانے کا حکم دے رہے ہیں، بلکہ بعض اوقات امر دوسرے کو دھمکی دینے کے لیے بھی کیا جاتا ہے، جیسے آپ بھی عام طور پر اس طرح کرتے ہیں، مثلاً کسی شخص سے کسی بات پر ناراض ہوئے اور وہ پھر وہ فعل کر رہا ہے، آپ اس کو کیا کہتے ہیں کہ "آپ کر لیں یہ کام، پھر بعد میں آپ کو دیکھیں گے"۔ اس طرح عام استعمال ہوتا ہے یا نہیں بھئی؟ تو اس کا یہ معنیٰ نہیں ہوتا کہ آپ یہ کر لیں کہ آپ اس کو اس کام کی اجازت دے رہے ہیں یا حکم دے رہے ہیں، بلکہ مطلب کیا ہوتا ہے؟ دھمکی دینا۔ تو یہاں پر بھی اگر اس کو امر کے صیغے مانیں تو پھر یہ امر کس لیے ہو جائے گا؟ بطورِ دھمکی کے ہو گا بھئی کہ وہ کفر کر لیں جو ہم نے انہیں دیا ہے اس کا اور وہ نفع اٹھا لیں، فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ پس عنقریب وہ جان لیں گے۔
اَوَلَمْ يَرَوْا کیا دیکھا نہیں انہوں نے؟ کیا یہ کفارِ مکہ دیکھتے نہیں، اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا کہ ہم نے بنایا ہے حرم کو امن والا؟
حرم کو کیا بنایا ہے؟ بھئی بیت اللہ کے ارد گرد کچھ خاص علاقہ، خاص حد تک جو ہے چند چند میل کے فاصلے تک بیت اللہ کے ارد گرد، یہ خاص علاقہ اس کو حرم کہا جاتا ہے۔ کیا کہا جاتا ہے؟ حرم۔ اور اس کی زمانۂ جاہلیت کے اندر بھی عرب والے بے انتہا خیال رکھتے تھے اس کی حرمت کا۔ اس حرم کے اندر کسی جاندار کو، کسی کو کسی قسم کی تکلیف پہنچانے سے منع کیا گیا ہے بھئی۔ حتیٰ کہ اس علاقے کے اندر شکار کا کھیلنا بھی منع ہے، کسی جانور کو بھی تکلیف دینے کی اجازت نہیں، کیونکہ یہ بیت اللہ کے ارد گرد کا علاقہ ہے تو بیت اللہ کی عظمت کا تقاضا یہ ہے، یہ اللہ کا گھر ہے، یہاں پر اللہ کی طرف توجہ ہو اور کسی بھی جاندار کو، کسی بھی چیز کو یہاں پر ادنیٰ درجے کی بھی تکلیف نہ دی جائے، کیونکہ یہ محبوب کا مقام ہے، محبوب کی جگہ ہے، محبوب کا گھر ہے بھئی۔
تو عرب والے اس حرم کی بے انتہا خیال رکھتے تھے، بے انتہا اس کی عزت اور احترام کرتے تھے، اس حد تک کہ انسان حیران رہتا ہے بھئی، اللہ نے ان کے دلوں میں اس جگہ کی اتنی عظمت اور احترام پیدا کر دیا تھا۔
ارد گرد لوگ لوٹ مار میں بھی مصروف ہوتے تھے، لیکن حرم کی حدود کے اندر کوئی کسی کو کچھ نہیں کہتا تھا۔ ارد گرد ڈاکے بھی ڈالے جا رہے ہیں، لوگوں کو قتل بھی کیا جا رہا ہے، ان کو قیدی بھی بنایا جا رہا ہے، لیکن یہ حرم والے جو ہیں اس حرم کو ہم نے امن والی جگہ بنا دیا، یہ لوگ بڑے اطمینان سے یہاں رہتے ہیں، نہ کسی کی طرف سے قتل کا خطرہ، نہ کسی کی طرف سے ڈاکے کا خطرہ، تو کتنا بڑا انعام کیا ہے ہم نے ان لوگوں پر، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں۔
اَوَلَمْ يَرَوْا کیا یہ لوگ اہل مکہ یعنی مشرکین مکہ دیکھتے نہیں، اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا کہ ہم نے بنایا حرم کو امان والا؟ وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ، اور اچک لیے جاتے ہیں، وَّيُتَخَطَّفُ اور اچک لیے جاتے ہیں لوگ مِنْ حَوْلِهِمْ ان کے ارد گرد سے۔
ان مکہ والوں کے ارد گرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں۔ اچکنا؟ کسی چیز کو اچانک کوئی چیز اٹھا لینا بھئی۔ مراد ہے ارد گرد یعنی لوگ قتل کیے جاتے ہیں اور ان ڈاکے ڈالے جاتے ہیں، قیدی بنائے جاتے ہیں، لیکن یہاں والے لوگ امان میں ہیں۔
یُتَخَطَّفُ کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ اچک لینا، اچانک کوئی چیز اٹھا لینا بھئی، پکڑ لینا۔ وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ اور اچک لیے جاتے ہیں لوگ مِنْ حَوْلِهِمْ ان کے ارد گرد سے، اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ، کیا پس باطل پر یہ ایمان رکھتے ہیں؟ باطل اللہ کے علاوہ تمام معبودانِ باطلہ بھئی، اللہ کے علاوہ اور چیزیں سب۔ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ کیا باطل پر یہ لوگ ایمان لاتے ہیں وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں؟ یا یوں کہیں، اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں؟
اَوَلَمْ يَرَوْا کیا دیکھا نہیں ان مشرکین مکہ نے اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا کہ بے شک کہ ہم بنایا ہم نے حرم کو امان والا، حرم کو ہم نے امان والی جگہ بنایا ہے جہاں انہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں، یہ اللہ کی طرف سے ان پر بہت بڑا انعام ہے بھئی۔ اطمینان اور سکون سے رہتے ہیں، کسی قسم کا انہیں خطرہ نہیں ہوتا۔ جبکہ ارد گرد کے رہنے والے لوگ کہیں قتل و غارت جاری ہے، کہیں پر ڈاکے ڈل رہے ہیں، کہیں کسی کو پکڑ کر قید میں ڈالا جا رہا ہے، جبکہ یہ لوگ اطمینان اور بے فکری سے یہاں رہتے ہیں۔
وَمَنْ اَظْلَمُ... اظلم اس میں تفصیل ہے بھئی جس میں زیادتی کے معنیٰ ہوتے ہیں۔ وَمَنْ اَظْلَمُ اور کون زیادہ ظالم ہو گا مِمَّنِ اس شخص سے، افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ... افترا کے معنیٰ جھوٹ باندھنے کے بھئی، جھوٹ گھڑنے کے۔ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اس شخص سے جو گھڑتا ہے اللہ پر جھوٹ، اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ یا جھٹلاتا ہے حق کو یعنی پیغمبر کو، لَمَّا جَآءَهٗ جبکہ وہ اس کے پاس آ گئے۔ تو حق سے مراد ہیں پیغمبر یا حق سے مراد ہے اللہ کی کتاب یعنی قرآن۔
وَمَنْ اَظْلَمُ اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو گا مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے، اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو گا، اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ یا جو حق کو جھٹلاتا ہے لَمَّا جَآءَهٗ جبکہ وہ اس کے پاس آ جائے؟
اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ، کیا نہیں ہے جہنم کے اندر مثویٰ، ٹھکانا؟ مثویٰ، ٹھکانا۔ کیا نہیں ہے جہنم کے اندر ٹھکانا للکافرین، کفر کرنے والوں کے لیے؟
وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا اور وہ لوگ جو جہاد کرتے ہیں فینا، یعنی فی سبیلنا، ہمارے راستے میں۔ فینا یعنی فی سبیلنا۔ اور وہ لوگ جو جہاد کرتے ہیں ہمارے راستے میں، لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا البتہ ہم انہیں ضرور ہدایت دیں گے، ضرور دکھلا دیں گے سُبُلَنَا اپنے راستے۔
اور وہ لوگ جو جہاد کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں، اور وہ لوگ جو کوشش کرتے ہیں فینا یعنی فی سبیلنا ہمارے راستے میں، لَنَهْدِيَنَّهُمْ تو البتہ ہم انہیں ضرور راستہ دکھا دیں، ضرور دکھلا دیں گے سُبُلَنَا اپنے راستے بھئی، یعنی نیکی کے راستے ہم ان کو ضرور دکھلا دیں گے جو انہیں ہم تک پہنچا دیں گے۔
وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ، اور بے شک البتہ، اور بے شک اللہ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ البتہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ البتہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہیں بھئی۔
ترجمہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا اور وہ لوگ جو کوشش کرتے ہیں ہمارے راستے میں، لَنَهْدِيَنَّهُمْ البتہ ہم ضرور انہیں ہدایت دے دیں گے سُبُلَنَا اپنے راستوں کی، یعنی نیکی کے راستے ان کو دکھا دیں گے، نیکی کے راستوں تک انہیں پہنچا دیں گے، وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ اور بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔
چلیے بس، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔