Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-011

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 07 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 21
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قل كفى بالله بيني وبينكم شهيدا. قل، اپ کہہ دیجیے۔ اے پیغمبر، اپ کہہ دیجیے۔ كفى بالله، کافی ہیں اللہ۔ یاد رکھیے، یہ با جارّہ زائدہ ہے اور لفظِ اللہ مجرور ہے لفظاً لیکن مرفوع ہے محلاً، یہ فاعل ہے كفى کے لیے۔ کیونکہ اپ جانتے ہیں ہر فعل کے لیے، ہر فعل معروف کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، اور ہر فعل مجہول کے لیے نائب الفاعل چاہیے۔ تو یہاں پر یہ جو با ہے، یہ زائد ہے اور لفظِ اللہ یہ فاعل ہے كفى فعل کے لیے بھئی، كفى فعل کے لیے۔ تو کیسے کہیں گے؟ لفظِ اللہ مجرور ہے لفظاً اور مرفوع ہے محلاً، محل کے اعتبار سے یہ مرفوع ہے کیونکہ فاعل ہے فعل کے لیے بھئی، اور فاعل کیا ہوا کرتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے۔ تو یہ اپ ہدایت النحو کے اندر پڑھ چکے ہوں گے کہ کلامِ عرب کے اندر با بعض اوقات کچھ حروف کو زائد ذکر کیا جاتا ہے۔ یعنی ان کے بغیر بھی معنیٰ پورا ہو جاتا ہے، لیکن پھر ان کو کیوں زائد لایا جاتا ہے؟ بھئی، ایک تو فائدہ ان کا یہ ہوتا ہے کہ ان سے کلام کے اندر تاکید پیدا ہو جاتی ہے، بات کے اندر ذرا زور پیدا ہو جاتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس سے عبارت حسین ہو جاتی ہے، تو خاص خاص مواقع پر کیا کیا جاتا ہے؟ بعض اوقات حروف کو زائد ذکر کیا جاتا ہے اور زائد ذکر کیا جاتا ہے، یعنی وہ حروف اپنے معنیٰ کا فائدہ نہیں دیتے، جیسے مِنْ یا جہاں آتا ہے اپنے معنیٰ کا فائدہ دیتا ہے، فِی جہاں پر آئے گا وہ اپنے معنیٰ کا فائدہ دے گا، لیکن بعض اوقات یہ حروف کیا ہوتے ہیں؟ زائد ہوتے ہیں، تو پھر یہ یعنی وہ اپنا معنیٰ نہیں ادا کریں گے وہاں پر۔ تو اپ کے ذہن میں پھر یہ شبہ نہ آئے کہ یہ تو پھر بیکار ہوئے، بیکار نہیں ہیں، میں نے بتلایا ان کے ذریعے کلام میں تاکید پیدا ہو جاتی ہے، کلام میں زور پیدا ہو جاتا ہے اور نیز کلام کیا ہو جاتا ہے؟ حسین ہو جاتا ہے کلام میں، تو یہ موقع بموقع ہر جگہ نہیں، موقع بموقع یہ زائد الفاظ کلامِ عرب میں استعمال ہوتے ہیں بھئی۔ قل كفى بالله، اے پیغمبر، اپ فرما دیجیے، کافی ہے اللہ بيني وبينكم، میرے اور تمہارے درمیان شهيدا، بااعتبار گواہ کے۔ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے۔ اللہ بطورِ گواہ کے کافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کیا فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر، اپ ان کفار کو جن کو اپ دعوت دے رہے ہیں اور یہ لوگ جواب میں بجائے اس کے کہ اپ کی دعوت کو قبول کریں، اپ کو تکلیف پہنچاتے ہیں، اپ کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں اگر اپ سچے ہیں تو ہمارے اوپر اللہ کا عذاب لے کیوں نہیں آتے؟ تو اپ ان لوگوں کو کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ بطورِ گواہ کے کافی ہیں، بطورِ گواہ کے۔ یعنی اے لوگو! اے لوگو! کیا تم دیکھتے نہیں؟ میں تمہیں دن رات اللہ کے دین کی طرف بلا رہا ہوں، اس بات پر اللہ گواہ ہیں۔ میں بہتر سے بہتر طریقے سے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں، اللہ کی طرف سے جو وحی اور قرآن نازل ہوتا ہے، وہ تم لوگوں تک پہنچا رہا ہوں اور اس پر اللہ گواہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کی نصرت میرے ساتھ ہے، جس کا مشاہدہ تم لوگ بھی کرتے ہو کہ میرے ساتھیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے روز بروز۔ تو کیا اللہ کی طرف سے یہ عملی گواہی کافی نہیں؟ اللہ کی طرف سے جو، پھر اللہ کی طرف سے میرے ہاتھ پر معجزات کا بھی تم مشاہدہ کرتے ہو، تو یہ جو میں تمہیں دعوت دیتا ہوں، میری اس دعوت پر اور تمہارے انکار پر اور تمہارا جو مجھے جھٹلانا ہے، اس پر اللہ ہی بطورِ گواہ کے کافی ہیں، اس پر اللہ گواہ ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ اس پر گواہ ہیں، قیامت کے دن تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پھر پوچھا جائے گا۔ قل كفى بالله بيني وبينكم شهيدا، اے پیغمبر، اپ فرما دیجیے، کافی ہے اللہ میرے اور تمہارے درمیان بطورِ گواہ کے۔ يعلم ما في السماوات والأرض، وہ جانتا ہے ما، وہ جو کہ في السماوات والأرض، آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ والذين آمنوا بالباطل وكفروا بالله، اور وہ لوگ جو ایمان لائے باطل پر وکفروا باللہ، اور کفر کیا اللہ کے ساتھ، انکار کیا اللہ کا، جو بھی ترجمہ اپ کر لیں۔ اور وہ وکفروا باللہ، اور کفر کیا اللہ کے ساتھ، یا یہ ترجمہ کر لیں وکفروا باللہ، اور انہوں نے انکار کیا اللہ کا۔ أولئک هم الخاسرون، وہی لوگ خس ہیں، وہی لوگ ہیں خسارے والے، وہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ کا انکار کرتے ہیں اور بتوں کی کیا کرتے ہیں؟ بتوں کی اور دوسرے معبودانِ باطلہ کی عبادت کرتے ہیں، کہتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ ويستعجلونك بالعذاب، يستعجلون بھئی، یہ عجلت سے ہے، عجلت جلدی کو کہتے ہیں بھئی، ع، ج، ل، لام جو ہے اس کا مادہ ہے اور س، ت طلب کے لیے ہے۔ اور جلدی طلب کرتے ہیں اپ سے، ويستعجلونك، اور جلدی طلب کرتے ہیں اپ سے بالعذاب، عذاب کو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ کفار جواب میں کیا کہتے تھے کہ اگر اپ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں تو عذاب لے کیوں نہیں آتے ہمارے اوپر؟ اپ ہمارے اوپر عذاب لائیں۔ ويستعجلونك بالعذاب، اور جلدی طلب کرتے ہیں اپ سے عذاب کو۔ ولولا أجل مسمى لجاءهم العذاب، اور اگر نہ ہوتی، نہ ہوتا مقررہ وقت، اجل کہتے ہیں مدت کو، مسمى، مقررہ۔ اور اگر وقت، اگر مقررہ وقت نہ ہوتا لجاءهم العذاب، تو البتہ آ جاتا ان پر عذاب۔ اگر وقتِ مقررہ یعنی قیامت کا دن نہ ہوتا تو پھر ان پر کیا آ جاتا؟ ہاں، قیامت کا دن ہم نے مقرر کر دیا ہے اور قیامت کا دن مقرر کر دیا ہے، تو اگر یہ مقررہ دن نہ ہوتا تو پھر دنیا ہی میں ان پر کیا آ جاتا؟ عذاب۔ تو قیامت کے دن انہوں نے ہمارے سامنے ہی پیش ہونا ہے اور پھر ہم ان کے اعمال کا انہیں بدلہ دیں گے۔ ولولا أجل مسمى لجاءهم العذاب، اور اگر نہ ہوتا وقتِ مقررہ تو البتہ آ جاتا ان پر عذاب۔ وليأتينهم بغتة وهم لا يشعرون، اور البتہ يأتين، ضرور بالضرور آئے گا هم، ان پر۔ وليأتينهم، اور البتہ ان پر ضرور بالضرور آئے گا، کیا چیز بھئی؟ وہ عذاب بھئی جس کو وہ طلب کرتے ہیں۔ تو يأتين کے اندر فاعل کی ضمیر کس کو راجع؟ عذاب کو۔ وليأتينهم، اور البتہ ضرور بالضرور ان پر وہ عذاب آئے گا بغتةً، اچانک، بغتةً کے معنیٰ اچانک بھئی، اچانک وهم لا يشعرون، اور وہ شعور بھی نہ رکھتے ہوں گے، گمان بھی نہ رکھتے ہوں گے۔ یعنی انہیں خیال بھی نہیں ہوگا، اچانک ان پر وہ عذاب آ جائے گا بھئی، اس لیے کیونکہ انہیں تو آخرت، یومِ آخرت کی امید ہے ہی نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں وليأتينهم بغتة وهم لا يشعرون، اور البتہ وہ عذاب ان پر اچانک آ جائے گا اور انہیں گمان بھی نہیں ہوگا، انہیں شعور بھی نہیں ہوگا۔ يستعجلونك بالعذاب، جلدی طلب کرتے ہیں اپ سے عذاب کو، اللہ پھر فرما رہے ہیں بھئی۔ ويستعجلونك بالعذاب، اور جلدی اپ سے طلب کرتے ہیں عذاب کو۔ وإن جهنم لمحيطة بالكافرين، احاط يحيط کے معنیٰ ہوتے ہیں گھیرنے کے، احاطہ کرنا، گھیر لینا۔ وإن جهنم، اور بے شک جہنم جو ہے لمحيطة بالكافرين، البتہ وہ گھیر رہی ہے کافروں کو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ترجمہ کر لیں یا گھیرنے والی ہے، کہ بے شک جہنم گھیرنے والی ہے کافروں کو۔ وإن جهنم لمحيطة بالكافرين، اور بے شک جہنم گھیر رہی ہے کافروں کو، یہ اپنے اعمال ایسے کر رہے ہیں کہ جو کس کے باعث بننے والے ہیں؟ جہنم کا، تو جہنم گویا ابھی سے ان کو گھیر رہی ہے۔ يوم يغشاهم العذاب من فوقهم، جس دن کے يغشاهم، غشی يغشى کے معنیٰ ڈھانپ لینا۔ يوم يغشاهم، جس دن کے ڈھانپ لے گا ان لوگوں کو العذاب، عذاب من فوقهم، ان کے اوپر سے ومن تحت أرجلهم، اور ان کے پاؤں کے نیچے سے۔ جس دن کے ڈھانپ لے گا ان لوگوں کو وہ عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے قدموں کے نیچے سے۔ ويقول، اور کہیں گے اللہ، يقول کے اندر ہو ضمیر، کہنے والے کون؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ان سے، یا وہ عذاب ہی ان سے کہے گا بھئی، اسی کو اللہ زبان دے دیں گے، یا وہ فرشتہ جو مقرر ہوگا وہ کہے گا بھئی۔ اور وہ ويقول، اور وہ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے ذوقوا ما كنتم تعملون، چکھو تم جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ ذوقوا، چکھو تم لوگ ما، وہ جو کہ كنتم تعملون، عمل کیا کرتے تھے تم لوگ۔ ذَاقَ يَذُوْقُ کے معنیٰ چکھنا، اسی سے ذائقہ ہے بھئی۔ يوم يغشاهم العذاب من فوقهم، جس دن کے ڈھانپ لے گا ان کو وہ عذاب ان کے اوپر سے ومن تحت أرجلهم، اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ويقول، اور اللہ ان سے فرمائیں گے ذوقوا ما كنتم تعملون، چکھو وہ جو تم عمل کیا کرتے تھے، یعنی یہ اسی کی جزا ہے، اسی کا بدلہ ہے۔ يا عبادي الذين آمنوا، اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو! عبادي، یا آئی آخر میں بھئی، اضافت ہوئی ہے بھئی۔ يا عبادي، اے میرے وہ بندو الذين آمنوا جو کہ ایمان لائے ہو۔ إن أرضي واسعة، بے شک میری زمین أرضي یا مضاف الیہ ہے بھئی۔ إن أرضي، بے شک میری زمین واسعة وسیع ہے۔ فإياي فاعبدون، پس میری ہی تم عبادت کرو۔ مکہ کے اندر جب مسلمانوں پر کفار کا ظلم و ستم بڑھ گیا، تو اس پر اللہ فرما رہے ہیں کہ اے لوگو، میری زمین وسیع ہے۔ اگر یہاں تمہیں یہ کفار تکلیف دیتے ہیں، دین پر عمل نہیں کرنے دیتے، تو یہاں سے نکل چلو کسی اور جگہ جا کر ٹھہرو، جہاں پر تم آسانی سے اپنے دین پر عمل کر سکو۔ تو اللہ فرما رہے ہیں: يا عبادي الذين آمنوا إن أرضي واسعة، اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو، بے شک میری زمین وسیع ہے، فراخ ہے۔ فإياي فاعبدون، پس تم میری ہی عبادت کرو۔ فاعبدونِ، یہ نون کا کسرہ بتلا رہا ہے کہ یہاں یا حذف ہوئی ہے بھئی۔ فاعبدونِ، تم میری عبادت کرو، میری عبادت کرو۔ تو فاعبدوا امر کا صیغہ ہے بھئی، فاعبدوا۔ اور اس کے ساتھ جب یا کو جوڑا جاتا ہے تو درمیان میں نون وقایہ لے آتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں بھئی نحو میں آپ نے پڑھا ہو گا۔ تو کیا تھا اصل میں؟ فاعبدوا فاعبدوني، جی۔ پھر یا کو حذف کر لیا گیا اور نون کا کسرہ اس یاء محذوف پر دلالت کر رہا ہے۔ فاعبدونِ، کیا ترجمہ ہوا؟ فاعبدوا تم لوگ عبادت کرو، نِ میری۔ پس تم لوگ میری عبادت کرو۔ اور فإياي جو پہلے آیا، یہ بھی متکلم کی واحد متکلم کی ضمیر ہے بھئی۔ یہ ضمیر منفصل ہے اور وہ جو یا تھی، وہ ضمیر متصل تھی۔ یا ضمیر وہ ضمیر متصل تھی اور یہ کیا ہے؟ ضمیر منفصل ہے۔ جیسے قرآن میں آپ پڑھتے ہیں: إياك نعبد۔ اگر یہی کاف إياك یہ مخاطب واحد مخاطب کی مفرد مخاطب کی ضمیر ہے اور اگر یہی آخر میں ہوتی اور متصل ہوتی تو یوں ہوتا: نعبدك، نعبدك۔ پھر اسی کو کیا کیا؟ مقدم کر دیا گیا تخصیص کے لیے۔ تو جب مقدم ہو گئی تو اب اتصال کی کوئی صورت نہیں۔ اب منفصل، جدا ضمیر ہی لانا پڑی، لانا پڑے گی۔ تو چنانچہ اسی لیے قرآن میں کیا آیا؟ إياك نعبد۔ تو یہاں پر بھی إياي یہ ضمیر ہے مولانا۔ اور یاد رکھیے، اس کا عامل محذوف ہے۔ کیا؟ اعبدوا یہاں پر ایک اور محذوف ہے اور یہ آگے آنے والا اعبدوا اسی محذوف کی تفسیر ہے بھئی۔ یہ آگے آنے والا اعبدوا بتلا رہا ہے کہ پیچھے کیا حذف ہوا ہے؟ اعبدوا حذف ہوا ہے۔ اس کو کہتے ہیں: "ما أضمر عامله على شريطة التفسير" اگر ہدایت النحو یاد ہو آپ کو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ما أضمر عامله على شريطة التفسير۔ کہ جس کے عامل کو مقدر کر لیا گیا ہو، حذف کر لیا گیا ہو على شريطة التفسير تفسیر کی شرط پر کہ آگے اس کی تفسیر آ رہی ہو۔ تو جب آگے ایک اور اعبدوا آیا تو ما پہلے کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا بھئی۔ جی، تو یہ بحث شاید اکثر کے ذہن میں نہ ہو، بہرحال کسی کو یاد رہے تو اچھی بات ہے اور نہیں تو کافیہ کے اندر تفصیلاً یہ بات آ جائے گی، تو اس مقام کو پھر دیکھ لینا، آپ کو پوری طرح سمجھ میں آ جائے گا بھئی۔ كل نفس ذائقة الموت، ہر نفس چکھنے والا ہے موت کو۔ ہر نفس، ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے یعنی ہر نفس پر موت آئے گی۔ ثم إلينا ترجعون، پھر إلينا ہماری ہی طرف ترجعون تم لوٹائے جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کیا فرما رہے ہیں؟ يا عبادي الذين آمنوا إن أرضي واسعة فإياي فاعبدون، اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو، میری زمین وسیع ہے، پس تم میری ہی عبادت کرو، میری ہی عبادت کرو۔ تو یہاں میری زمین وسیع ہے، یہاں دین پر تمہیں آسانی سے عمل نہیں کرنے دیا جاتا تو میری زمین وسیع ہے، ہجرت کرو کسی ایسی جگہ جا کر رہو جہاں پر تم آسانی سے دین پر عمل کر سکو۔ اور یہاں پر تو زمینیں ہیں تم لوگوں کی اور کاروبار وغیرہ ہیں، یہ سب چھوڑ کر جانا پڑے گا لیکن کوئی بات نہیں، کچھ تکلیف اٹھا لو گے تو کوئی حرج نہیں، كل نفس ذائقة الموت، ہر نفس پر موت آنے والی ہے، ثم إلينا ترجعون پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ تو تم نے لوٹنا تو ہے ہی ہماری طرف، کچھ دن تکلیف اٹھا لو گے کوئی حرج نہیں، ہر ایک نے ہماری ہی طرف آنا ہے، تو اگر یہ تکلیف اٹھا لی تو پھر بھی ہمارے پاس آؤ گے تو ہم تمہیں اس کا بہترین بدلہ دیں گے بھئی۔ آگے اللہ فرما رہے ہیں: والذين آمنوا وعملوا الصالحات، اور وہ لوگ جو ایمان لائے وعملوا الصالحات اور انہوں نے اچھے عمل کیے، نیک عمل کیے، لنبوئنهم، بوأ يبوئ کے معنی ہوتے ہیں ٹھکانہ دینے کے، ٹھکانہ دینا۔ تو یہ جمع متکلم کا صیغہ، لنبوئنهم، تو البتہ ہم ضرور بالضرور ٹھکانہ دیں گے ہم ان لوگوں کو، من الجنة غرفا، جنت میں سے بالاخانے۔ غرف جمع ہے غُرفَةٌ کی، اوپر والی منزل کو کہتے ہیں، بالاخانے کو بھئی۔ تو لنبوئنهم، البتہ ہم انہیں ضرور بالضرور ٹھکانہ دیں گے من الجنة غرفا جنت میں سے بالاخانے، تجري من تحتها الأنهار، بہتی ہوں گی، جاری ہوں گی من تحتها ان کے نیچے سے الأنهار نہریں۔ ان بالا خانوں کے نیچے سے یا اس جنت کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، خالدين فيها، ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ خلود کا معنی ہوتا ہے ہمیشہ رہنا بھئی۔ خالدين ہمیشہ رہیں گے فيها اس جنت کے اندر۔ غرف دیکھیے، نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد تجري فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے صفت بنتا ہے اور موصوف صفت کا ترجمہ کہ موصوف سے پہلے اردو میں 'ایسا' یا 'ایسی' کا لفظ لے آئیں۔ تو غرفا، ایسے بالاخانے تجري من تحتها الأنهار کہ بہتی ہوں گی ان بالا خانوں کے نیچے سے نہریں، خالدين فيها، ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ جملہ جب کسی چیز سے جوڑا جاتا ہے تو ربط دیا جاتا ہے، سمجھ میں آئی بات؟ تو غرف، یہ موصوف ہے اور تجري من تحتها الأنهار، یہ ساری اس کی، یہ سارا جملہ اس کی صفت ہے اور تو آپ نے جملے کو موصوف سے جوڑا یعنی اس کی صفت بنایا اور جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑا جائے، درمیان میں ربط کا ہونا ضروری۔ اس ربط کی کئی صورتیں ہیں، ایک صورت یہ ہے کہ اس جملے میں کوئی ایسی ضمیر ہونی چاہیے جو موصوف کو لوٹے۔ تو یہاں پر بھی تحتها، ها ضمیر کس کو راجع ہے؟ غرف کو راجع ہے اور غرف جمع ہے اور جمع بتاویل جماعت واحد مؤنث کے حکم میں ہوتا ہے۔ جمع کس کے حکم میں ہوتی ہے؟ واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے، اسی لیے اس کی طرف ها واحد مؤنث کی ضمیر لوٹائی گئی بھئی، واحد مؤنث بھئی۔ جب کئی افراد ہو گئے تو ایک جماعت بن گئی بھئی اور جماعتٌ کا لفظ بھئی عربی میں گول تا سے لکھتے ہیں، تو ایک یہ واحد مؤنث ہے بھئی۔ جس کی جمع جماعات آتی ہے، تو جماعت کا لفظ کیا ہے؟ واحد مؤنث۔ تو یہاں پر بھی غرف جمع ہے اور جمع بتاویل جماعتٌ کے، یہ کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث کے حکم میں ہے، تو اس لیے ضمیر بھی کون سی لوٹائی گئی؟ واحد مؤنث کی لوٹائی گئی بھئی۔ تو ایسے، دوبارہ دیکھیے: البتہ ہم انہیں ضرور ٹھکانہ دیں گے جنت میں سے ایسے بالاخانے کہ بہتی ہوں گی ان بالا خانوں کے نیچے سے نہریں، خالدين فيها، ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ نعم أجر العاملين، نعم آپ نے پڑھا افعال مدح میں سے ہے بھئی، افعال مدح میں سے۔ یہ ایک فاعل چاہتا ہے، جیسے ہر فعل۔ تو نعم أجر العاملين، کتنا ہی اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا! کیا اجر ہے؟ یعنی مخصوص بالمدح بھی آگے چاہیے، وہ محذوف ہے، یہ جو بالاخانے ہیں۔ تو الغرف آگے محذوف ہے، الغرفُ۔ نعم أجر العاملين الغرفُ، کتنا ہی اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے بالاخانے! یعنی یہ بالاخانے عمل کرنے والوں کے لیے کتنے اچھا اجر ہے جو ہم نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے! جی جی، وہ مرفوع ہوتا ہے، خبر بنتی ہے، مخصوص بالمدح بھی مرفوع ہوتا ہے، وہ خبر بنے گی مبتدائے محذوف کی۔ سمجھ میں آئی؟ تو نعم کس میں سے؟ افعال مدح میں سے، کسی چیز کی مدح کے لیے یہ فعل استعمال کیا جاتا ہے بھئی، خبر دینے کے لیے نہیں، مدح کے۔ سمجھ میں آیا؟ تو انشاء مدح ہے بھئی یہاں۔ نعم أجر العاملين، کتنا اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا وہ بالاخانے! الذين صبروا، وہ، یہ صفت ہے عاملین کی، وہ عمل کرنے والے الذين صبروا جنہوں نے صبر کیا وعلى ربهم يتوكلون اور اپنے پروردگار پر يتوكلون بھروسہ کرتے ہیں۔ بھئی ان پر تکالیف آئیں، اپنے وطن کو چھوڑا، سب تکالیف پر صبر کیا وعلى ربهم يتوكلون اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ نعم، دوبارہ سن لیں: نعم أجر العاملين الذين صبروا وعلى ربهم يتوكلون، اور کتنا ہی اچھا بدلہ ہے یہ بالاخانے ان عمل کرنے والوں کے لیے الذين صبروا جنہوں نے صبر کیا وعلى ربهم يتوكلون اور وہ اپنے پروردگار پر ہی وہ بھروسہ کرتے ہیں۔ چلیے، بس بھئی۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
69 approved lectures · 11 of 69