اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
ولما جاءت رسلنا لوطا سیء بهم وضاق بهم ذرعا وقالوا لا تخف ولا تحزن إنا منجوك وأهلك إلا امرأتك كانت من الغابرين۔
گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا لوط علیہ السلام کی قوم کو تباہ کرنے کے لیے اور پہلے یہ فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اور انہیں خوشخبری دی بیٹے اور پوتے کی، جبکہ ابراہیم علیہ السلام بوڑھے ہو چکے تھے اور آپ کی بیوی بھی بوڑھی اور بانجھ ہو چکی تھیں بھئی۔
اب آگے دیکھیے: ولما جاءت رسلنا اور جب آئے ہمارے بھیجے ہوئے لوطا لوط علیہ السلام کے پاس، سیء بهم تو پریشان ہوئے بهم ان کی وجہ سے۔ یا یہ ترجمہ کر لیں: سیء مجہول تو سیء بهم پریشانی ہوئی ان کی وجہ سے۔
أي حصلت المشقة۔ پریشانی ہوئی بهم با سببِیہ ہے، ان کے سبب سے، ان فرشتوں کے سبب سے انہیں پریشانی ہوئی۔ یا سیء کے اندر ضمیر لوط علیہ السلام کو لوٹائیے۔ اس صورت میں جب میں نے پہلا معنیٰ کیا: سیء بهم، تو اس کے اندر جو ضمیر ہے وہ اسی کے مصدر کو لوٹ رہی ہے بھئی، اسی کا مصدر بھئی وہ نائب الفاعل بنے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ قافیہ وغیرہ میں آپ پڑھیں گے بھئی۔ یا چلیں وہ نحوی بحث ہے، ذرا مشکل بھی ہے، بس اتنا یاد رکھیں آپ بھئی۔ سیء بهم، أي حصلت المشقة۔ پریشانی ہوئی بهم، أي بسببهم۔ وہ پریشانی ہوئی انہیں ان فرشتوں کی وجہ سے۔
تو اس صورت میں ضمیر راجع کی اسی کے مصدر کی طرف، اور یا پھر یہ ضمیر حضرت لوط علیہ السلام کی طرف راجع کریں تو سیء، پریشان کیے گئے بهم ان فرشتوں کے سبب سے۔
समझ में आ गया معنیٰ اچھی طرح؟ تو جب آئے ہمارے بھیجے ہوئے لوط علیہ السلام کے پاس سیء بهم تو آسان لفظوں میں بس یوں کر لیں، واضح ترجمہ ہو کہ پریشان ہوئے ان کی وجہ سے بھئی۔ سیء بهم پریشان ہوئے ان فرشتوں کی وجہ سے۔ وضاق بهم ذرعا اور تنگ ہوئے ان کے بارے میں ذرعا با اعتبار ہاتھ کے بھئی۔ تنگ ہوئے حضرت لوط علیہ السلام بھئی، ضاق کی ضمیر کس کو راجع؟ حضرت لوط علیہ السلام۔ اور حضرت لوط علیہ السلام تنگ ہوئے بهم ان کے بارے میں ذرعا با اعتبار ہاتھ کے، با اعتبار ہاتھ کے یہ تمیز ہے بھئی۔
ذرعا ہاتھ یعنی ذراع آپ جانتے ہیں انسان کا کہنی سے لے کر انگلیوں کے سرے تک بازو کا یہ حصہ ذراع کہلاتا ہے۔ تو تنگ ہوئے وہ ان کے بارے میں ذرعا ہاتھ کے اعتبار سے، اور یہ عربی میں جب کوئی شخص کسی کام سے عاجز آ جائے اور اس میں اس کام کی طاقت نہ رہے تو اس وقت کہتے ہیں ضاق به ذرعا۔ اس چیز کے بارے میں اس کا ہاتھ تنگ ہو گیا یعنی اس میں اس چیز کی طاقت نہیں ہے رہی، اس چیز کی قوت نہیں رہی، اس چیز کے کرنے سے وہ عاجز آ گیا ہے۔
تو ضاق به ذرعا عربی میں کب کہتے ہیں؟ جب کوئی شخص کسی چیز سے، کسی معاملے سے عاجز آ جائے، اس میں اس کے کرنے کی طاقت نہ رہے، اس پر وہ قادر نہ رہے، طاقت نہ رہے۔ تو وضاق بهم ذرعا ان میں طاقت نہ رہی ان کے معاملے کی کہ ان کے معاملے کو کس طرح سنبھالیں بھئی۔ بھئی یہ دراصل جو فرشتے آئے تھے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس، یہ حسین و جمیل نوجوانوں کی صورت میں آئے تھے اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم تو مردوں سے بدفعلی کرتی تھی، جو مسافر وہاں سے گزرتے ان سے بھی بدفعلی کرتے اور اپنے اس فعل پر ذرا برابر بھی ان میں ندامت اور ندامت اور شرمندگی نہیں تھی، تو جب یہ فرشتے آئے انسانی شکل میں، حسین و جمیل نوجوانوں کی شکل میں، تو حضرت لوط علیہ السلام جو ہیں ان کی وجہ سے بڑے پریشان ہو گئے، انہیں تو ابھی یہ علم نہیں تھا کہ یہ فرشتے ہیں، تو وہ بڑے ہی پریشان ہوئے کہ یہ میرے مہمان آئے ہیں اب میں انہیں کیسے سنبھالوں، اگر ان کو میں اپنے پاس نہیں ٹھہراتا تو یہ مہمان نوازی کے خلاف ہے، اخلاق و مروت کے خلاف ہے، اور اگر میں ان کو اپنے پاس ٹھہراتا ہوں تو اپنی قوم سے ان کو کیسے بچاؤں گا، ان کی حفاظت کیسے کروں گا بھئی؟ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس لیے سیء بهم بھئی، وہ پریشان ہوئے ان کے سبب سے، وضاق بهم ذرعا اور تنگ ہوا ان کے بارے میں ان کا ہاتھ، یعنی ان کا معاملہ سنبھالنے کی ان میں طاقت نہ رہی، ان کا معاملہ سنبھالنے کی ان میں طاقت نہ رہی بھئی۔
تو حاصلِ معنیٰ کر لیں یہاں پر بھئی۔ لفظی ترجمہ سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ حاصلِ معنیٰ جو مفسرین اردو ترجموں وغیرہ میں آپ کو ملے گا وہ تنگ دل ہوئے ان کی وجہ سے، کیا ہوئے؟ تنگ دل، ان کو معاملے کی طاقت نہ رہی یعنی تنگ دل ہوئے بھئی۔ وضاق بهم ذرعا اور وہ تنگ دل ہوئے بھئی ان کے بارے میں۔
وقالوا لا تخف ولا تحزن اب فرشتے بتلاتے ہیں بھئی ان کو پریشان اور غمگین دیکھ کر، وقالوا انہوں نے کہا: لا تخف ولا تحزن کہ آپ نہ ڈریے، آپ خوف نہ کیجیے ولا تحزن اور غمزدہ نہ ہوں۔ آپ خوف نہ کریں اور غم ہمارے بارے میں کوئی خوف اور غم نہ کریں، ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔
إنا منجوك وأهلك بے شک ہم آپ کو نجات دیں گے وأهلك اور آپ کے گھر والوں کو۔ میں نے بتلایا تھا پہلے بھی کہ أهلك سے کیا مراد ہے؟ جو ان کا اتباع کرنے والے ہیں حضرت لوط علیہ السلام کا، ان پر ایمان لانے والے ہیں۔ بے شک ہم نجات دیں گے آپ کو بھی اور آپ کا اتباع کرنے والوں کو بھی، إلا امرأتك مگر آپ کی بیوی جو ہے كانت من الغابرين وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی۔ پیچھے رہنے والوں میں سے۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نے پھر جا کر قوم والوں کو بتایا کہ اس طرح مہمان آئے ہیں، اور پھر بھی ان کو لے کر چلے بھئی اور لیکن یہ پھر راستے سے واپس پلٹ آئی بستی، حضرت لوط علیہ السلام بھئی فرشتوں نے جب کہا کہ اب آپ یہاں سے بستی سے نکل جائیں، ہم ان پر عذاب لانے والے ہیں تو اس وقت لوط علیہ السلام نکلے اور بیوی ہمراہ تھی لیکن کچھ فاصلے سے پھر وہ واپس آ گئیں بستی کے والوں کے پاس بھئی، اور وہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آئیں بھئی۔
تو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوں گی، إنا منزلون على أهل هذه القرية رجزا من السماء بے شک ہم نازل کرنے والے ہیں على أهل هذه القرية اس بستی کے رہنے والوں پر رجزا، رجز عذاب کو کہتے ہیں، ہم نازل کرنے والے ہیں اس بستی کے رہنے والوں پر عذاب من السماء آسمان سے بما كانوا يفسقون بوجہ اس کے جو وہ گناہ کرتے ہیں، جو فسق کرتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو جو وہ فسق کرتے ہیں اور گناہ کرتے ہیں اس کی وجہ سے ہم ان پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔
ولقد تركنا منها آية بينة لقوم يعقلون اور تحقیق ہم نے چھوڑ دیا منها، ها ضمیر راجع ہے بستی کو، قریہ کو بھئی، اور تحقیق چھوڑ دیا ہم نے اس بستی میں سے آية بينة نشانی ایک واضح، واضح نشانی چھوڑ دی لقوم يعقلون ایسے لوگوں کے لیے يعقلون جو سمجھ رکھتے ہیں۔ ہم نے کیا کیا؟ اس بستی میں سے ایک واضح نشانی چھوڑ دی ان لوگوں کے لیے جو سمجھ رکھتے ہیں، جو عقل رکھتے ہیں۔
واضح نشانی بھئی کیا مراد ہے؟ ان کی بستیوں کے وہ کھنڈر جو ہیں وہ ابھی بھی کہتے ہیں باقی ہیں، یا ان کے جو جو ان پر پتھر برسائے گئے وہ ابھی بھی باقی ہیں اور اے عرب! جب تم ملکِ شام کی طرف سفر کرتے ہو، تمہارے قافلے جاتے ہیں تو ان کے کھنڈروں کا تم لوگ مشاہدہ کرتے ہو راستے کے اندر آتے ہیں، اور اسی طرح ان پر جو پتھر برسائے گئے تھے وہ بھی تو مراد وہ نشانی کیا ہے؟ ہم نے چھوڑ دیا اس بستی میں سے ایک واضح نشانی ایسی قوم کے لیے جو سمجھ رکھنے والے ہیں، یعنی ان کے وہ کھنڈر مراد ہیں یا وہ پتھر مراد ہیں جو ان پر برسائے گئے تھے بھئی۔
اور تحقیق چھوڑ دیا ہم نے اس بستی میں سے ایک واضح نشانی ایسی قوم کے لیے جو سمجھ رکھتی ہے۔ وإلى مدين أخاهم شعيبا أي أرسلنا إلى مدين، اور بھیجا ہم نے مدین بستی کی طرف، مدین کی طرف أخاهم شعيبا، مدین یاد رکھیے مولانا! حضرت شعیب علیہ السلام کی جو قوم تھی اس قوم کا نام بھی مدین تھا، مدین قوم بھئی، اور اسی قوم کی وجہ سے جو ان کی بستی تھی اس کا نام بھی مدین ہی مشہور تھا، تو مدین ان کی قوم بھی اور مدین ان کی بستی بھی۔ تو ہم نے بھیجا مدین کی طرف، مدین قوم کی طرف، أخاهم ان کے بھئی شعیبا شعیب علیہ السلام کو، أخاهم ان کے بھئی کو بھئی۔ شعیب علیہ السلام بھی چونکہ انہی کی قوم میں سے تھے اس لیے کہا ان کے انہی کے بھئی یعنی انہی کے ایک قومی بھئی کو جو انہی کے قوم میں سے تھے ان کو ہم نے ان کی طرف بھیجا بھئی، کوئی باہر سے دوسری جگہ سے کوئی اور پیغمبر نہیں آئے بلکہ انہی کے قوم اسی قوم کے ایک فرد کو ان کی طرف دعوت کا پیغام دے کر بھیجا بھئی۔
وإلى مدين أخاهم شعيبا اور بھیجا ہم نے مدین کی طرف ان کے بھئی شعیب علیہ السلام کو، فقال يا قوم اعبدوا الله پس فرمایا انہوں نے: اے میری قوم! يا قوم، يا بھئی یہ قومی بھئی تھا اور عربی میں پھر اکثر ایسا کرتے ہیں کہ آخر سے کیا کر لیا جاتا ہے؟ یا کو حذف کر لیا جاتا ہے اور وہ کسرہ یاءِ محذوف پر دلالت کرتا ہے جیسے یا رب۔ یا رب اصل میں کیا ہے؟ یا ربي، اسی یہاں بھی اسی طرح بھئی میم کا کسرہ ہے، یہ دلالت کر رہا ہے کہ یہاں یا حذف ہوئی ہے۔ فقال يا قوم تو فرمایا انہوں نے: اے میری قوم! اعبدوا الله تم اللہ کی عبادت کرو وارجوا اليوم الآخر، أي وارجوا ثواب اليوم الآخر، ثواب یہاں مضاف محذوف ہے بھئی۔ ثواب مضاف یہاں پر، اور امید رکھو تم یومِ آخرت کے ثواب کی، سمجھ میں آیا؟ ورنہ وارجوا اليوم الآخر تم امید رکھو قیامت کے دن کی، آخرت کے دن کی، بھئی قیامت کا دن تو یقینی ہے اور امید یقین سے الگ چیز ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر لہٰذا ثواب کا لفظ مضاف محذوف نکال لیں کہ تم امید رکھو آخرت کے دن کے ثواب کی، یعنی نیک اعمال کرتے رہو، تیاری کرتے رہو، اللہ یقیناً تمہیں اس کا بڑا اجر دیں گے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو قیامت کے دن کے ثواب کی امید رکھو یعنی اپنے عمل کے ذریعے، عمل کرتے رہو۔ اور رجاء کے معنیٰ ایک ڈرنے اور خوف کرنے کے بھی آتے ہیں تو چاہے وہ ترجمہ کر لیں: وارجوا اليوم الآخر اور ڈرتے رہو قیامت کے دن سے، قیامت کے دن سے، قیامت کے دن سے ڈرو یعنی اس کے لیے تیاری کرو نیک اعمال کے ساتھ بھئی، اس سے بے خوف نہ ہو جاؤ، بڑا سخت دن آنے والا ہے۔
ولا تعثوا في الأرض مفسدين۔ عسیٰ یعسیٰ کے معنیٰ ہوتے ہیں فساد مچانے کے، عسیٰ یعسیٰ یہ بابِ سمع سے ہے بھئی۔ عسیٰ یعسیٰ کے معنیٰ فساد مچانے کے ہیں، فساد پھیلانے کے ہیں۔ ولا تعثوا اور تم فساد نہ پھیلاؤ، فساد نہ مچاؤ في الأرض زمین میں مفسدين، یہ حال ہے مولانا، اس حال میں کہ تم فساد کرنے والے ہو۔ تو فساد کا معنیٰ عسیٰ کے اندر خود موجود تھا، اس حال کے ذریعے اسی وہ معنیٰ جو پہلے گزر چکا اسی کی، اسی میں تاکید آ گئی تو اسے کہتے ہیں حالِ مؤکدہ۔ حالِ مؤکدہ کہتے ہیں جو وہی پہلا معنیٰ عامل کے اندر جو موجود ہے اسی کے اندر تاکید پیدا کر دیتا ہے۔ ولا تعثوا في الأرض مفسدين اور تم فساد نہ پھیلاؤ زمین میں مفسد بن کر، فسادی بن کر، یہ تو لفظی ترجمہ ہوا بھئی۔ با محاورہ ترجمہ: ولا تعثوا في الأرض مفسدين اور تم زمین میں فساد نہ مچاتے پھرو، سمجھ میں آیا بھئی؟
فكذبوه پس انہوں نے جھٹلایا ان کو، ان کی قوم جو تھی انہوں نے شعیب علیہ السلام کو جھٹلایا فأخذتهم الرجفة پس پکڑ لیا ان کو زلزلے نے، رجفہ زلزلے کو کہتے ہیں، پس انہیں زلزلے نے پکڑ دی، پکڑ لیا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک زوردار چیخ ماری جس سے زبردست زلزلہ آیا بھئی۔ فأصبحوا في دارهم جاثمين پس ہو گئے وہ في دارهم اپنے گھروں میں جاثمين اوندھے منہ گرے ہوئے، اوندھے منہ پڑے کے پڑے رہ گئے بھئی وہ اپنے گھروں کے اندر۔
جثم یجثم جثوماً کے معنیٰ انسان یا جانور کا زمین کے ساتھ چپکنا، اپنے سینے کو زمین کے ساتھ لگانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ سینے کو زمین کے ساتھ لگانا، زمین کے ساتھ چپکنا یعنی اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ تو چیخ آئی اور زلزلہ آیا، پھر گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے یعنی مردہ پڑے تھے، سب ختم ہو گئے۔ فأصبحوا في دارهم جاثمين پس ہو گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے ۔
حضرت شعیب علیہ السلام کو حضور علیہ السلام نے خطیب الانبیاء کا لقب دیا بھئی، خطیب الانبیاء انہیں فرمایا، وجہ اس کی یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام جو ہیں ان کا جو اپنی قوم کو انہوں نے دعوت دی جو قرآن میں اور جگہوں پر مذکور ہے، اور دعوت دی اور وعظ و ارشاد فرمایا وہ بڑا ہی فصیح و بلیغ اور بڑے ہی دل نشین پیراۓ میں، بڑے ہی پیارے انداز میں انہیں دعوت دی بھئی۔
وعادا وثمود وقد تبين لكم من مساكنهم، أي وأهلكنا عادا وثمود۔ فعلِ محذوف کے لیے یہ مفعول واقع ہو رہے ہیں، اس لیے منصوب ہیں بھئی۔ پیچھے ذکر آیا تھا بھئی: قالوا إنا مهلكو أهل هذه القرية۔ تو ہلاک کرنے کا ذکر پیچھے آ گیا تھا تو اسی سے فعل یہاں پر محذوف نکال لیں بھئی: وأهلكنا، اور ہم نے ہلاک کیا قومِ عاد کو اور قومِ ثمود کو۔ قومِ عاد یہ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم ہے اور ثمود یہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ہے۔ اور ہلاک کیا ہم نے قومِ عاد اور قومِ ثمود کو وقد تبين لكم اور تحقیق ظاہر ہے تمہارے لیے
بین، ظاہر ہے۔ کیا ظاہر ہے؟ ضمیر لوٹ رہی ہے اسی ہلاکت کے اہلاک کو بھئی۔
أهلكنا، فعل آ گیا بھئی اور اسی کا جو مصدر ہے اہلاک بھئی، اسی کو ضمیر راجع۔
وقد تبين لكم من مساكنهم، اور تحقیق ظاہر ہے ان کی وہ ہلاکت تمہارے لیے من مساكنهم ان کے گھروں سے، ان کے رہائش گاہوں سے، ان کے جو رہنے کی جگہیں۔ دوبارہ دیکھیے: وعادا وثمود، اور ہلاک کیا ہم نے قومِ عاد اور قومِ ثمود کو، وقد تبين لكم من مساكنهم، اور تحقیق ظاہر ہے ان کی ان کی ہلاکت لكم تمہارے لیے، یعنی اے عرب والو! اے مکے والو! تمہارے لیے بھی ان کی ہلاکت کیا ہے؟ ظاہر ہے من مساكنهم ان کے رہنے کی جگہوں سے بھئی، ان کے جو رہنے کے گھر تھے، وہ جو کھنڈرات باقی ہیں ان سے ان کی تباہی تمہارے لیے اور ان کی ہلاکت ظاہر ہے، اس سے پتہ چل جاتا ہے تمہیں کہ ان کو ان پر عذاب آیا اور ان کو ہلاک کیا گیا۔
تو تبين لكم بھئی، یہاں اس صورت میں کیا معنیٰ میں نے کیا؟ اس کی ضمیر کس کو لوٹائیں؟ ہلاکت کو لوٹائیں بھئی۔ اور تحقیق ظاہر ہے تمہارے لیے ان کی ہلاکت من مساكنهم ان کے رہنے کی جگہوں سے۔ وزين لهم الشيطان أعمالهم، اور مزین کیے ان کے لیے شیطان نے ان کے اعمال۔ شیطان کیا کہ شیطان نے ان کے اعمال انہیں مزین کر کے، خوبصورت بنا کر ان کو دکھاتا تھا، انہیں اپنے کام اچھے لگتے تھے اور چنانچہ اسی پیغمبر کی دعوت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور پھر اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آ گئے۔
وزين لهم الشيطان أعمالهم، اور مزین کیے ان کے لیے شیطان نے ان کے اعمال، فصدهم عن السبيل، پس روک دیا، فصد یا یصد کے معنیٰ روکنا، فصدهم پس شیطان نے ان کو روک دیا عن السبيل، أي سبيل الحق، حق راستے سے، سیدھے راستے سے انہیں روک دیا وكانوا مستبصرين، اور تھے وہ بصیرت والے، یعنی عقل والے تھے، ہوشیار تھے۔
تو ان کو تو یہ بڑی سوجھ بوجھ والے، عقل والے اور ہوشیار تھے، لیکن شیطان نے ان کو ان کے اعمال ان کے سامنے ایسے مزین کیے کہ دنیاوی معاملات میں ان کی ہوشیاری تو تھی لیکن دینی معاملے میں وہ سیدھے راستے پر نہ آئے بھئی۔
وقارون وفرعون وهامان، اس کا عطف بھی اسی وعادا وثمود پر، اور ہلاک کیا ہم نے قارون کو اور فرعون کو اور ہامان کو، ولقد جاءهم موسى بالبينات، اور تحقیق آئے ان کے پاس موسیٰ علیہ السلام بالبينات، واضح نشانیاں لے کر، فاستكبروا في الأرض، پس انہوں نے تکبر کیا زمین میں، وما كانوا سابقين، اور نہیں تھے یہ سبقت کرنے والے، یعنی آگے نکل جانے والے نہیں تھے، یعنی ہمارے عذاب سے، ہماری پکڑ سے۔ یہ ہماری پکڑ اور عذاب سے آگے نکل جانے والے نہیں تھے، یعنی بچنے والے نہیں تھے بھئی۔
فاستكبروا في الأرض، پس انہوں نے تکبر کیا زمین کے اندر بھئی، انہوں نے تکبر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے في الأرض خاص ذکر فرمایا، زمین میں تکبر کیا، حالانکہ جو زمین تو اس میں اشارہ ہے کہ جو زمین میں رہتا ہو تو وہ تکبر، اس کی شان ہی نہیں، اس کے لائق ہی نہیں ہے۔ ہاں، جو آسمان میں رہتا ہو اسے تو تکبر کر سکتا ہے اور تو آسمان پر رہنے والے فرشتے وہ تکبر کر سکتے ہیں لیکن وہ بھی تکبر نہیں کرتے، تو زمین پر رہنے والے تو کو تو کسی صورت میں تکبر نہیں کرنا چاہیے۔
فاستكبروا في الأرض، پس انہوں نے تکبر کیا زمین کے اندر، وما كانوا سابقين، اور نہیں تھے وہ آگے نکل جانے والے۔ فكلا أخذنا بذنبه، پس ہر ایک کو پکڑ لیا ہم نے اس کے گناہ کی وجہ سے۔
فكلا أخذنا، ہر ایک کو پکڑ لیا ہم نے بذنبه اس کے، یہ یوں کہیں سب کو، فكلا پس سب کو پکڑ لیا ہم نے بذنبه اپنے اپنے گناہ کی وجہ سے۔ فمنهم من أرسلنا عليه حاصبا، پس ان میں سے بعض تو وہ تھے کہ أرسلنا عليه کہ بھیجا ہم نے ان پر حاصبا، پتھروں والی آندھی کو۔ فمنهم پس بعض، فمنهم من، پس ان میں سے بعض وہ تھے أرسلنا عليهم کہ بھیجا ہم نے ان پر حاصبا، پتھروں والی آندھی بھئی، پتھروں والی آندھی۔
ومنهم من أخذته الصيحة، اور ان میں سے بعض وہ تھے، أخذته الصيحة کہ پکڑ لیا ان کو چیخ نے، أخذته الصيحة اس کے لیے فاعل ہے، پکڑنے، کس نے پکڑا؟ چیخ نے پکڑا۔ بھئی! ان میں سے بعض وہ تھے جن پر ہم نے پتھروں والی آندھی بھیجی بھئی، یہ قومِ لوط ہے بھئی، قومِ لوط۔ اور قومِ لوط ہے، اور اسی طرح قومِ عاد ہے بھئی، قومِ عاد۔ ان پر پتھروں والی آندھی بھیجی اللہ تعالیٰ نے۔
قومِ لوط جو ہے اس کی بستی کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اٹھایا اور اٹھا کر اسے زمین پر پٹک دیا اور پھر ان پر پتھروں والی تیز پتھر برسائے گئے بھئی، پتھروں والی آندھی آئی۔
ومنهم من أخذت، تو حاصبا بعضوں پر ہم نے پتھروں والی آندھی بھیجی، کون کون تھے؟ قومِ لوط اور اور قومِ عاد۔ ومنهم من أخذته الصيحة، اور ان میں سے بعض وہ تھے کہ پکڑ لیا ان کو چیخ نے، چیخ نے۔ یہ قومِ ثمود تھی بھئی، قومِ ثمود۔ اور اسی طرح یہ اہل کمدین جو تھے بھئی، قومِ ثمود اور اہل مدین۔
ومنهم من خسفنا به الأرض، اور ان میں سے بعض وہ تھے کہ خسفنا به الأرض دھنسا دیا ہم نے ان کو زمین میں، بعضوں کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا، یہ قارون ہے بھئی۔ ومنهم من أغرقنا، اور ان میں سے بعض وہ تھے کہ ان کو ہم نے غرق کر دیا، یہ فرعون اور ہامان وغیرہ اور اسی طرح قومِ نوح بھئی۔
وما كان الله ليظلمهم، اور نہیں تھے اللہ ان پر ظلم کرنے والے، اور نہیں تھے اللہ کہ ان پر ظلم کریں، ولكن كانوا أنفسهم يظلمون، مگر یہ لوگ تھے اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے۔ یہ لوگ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے، خود ہی انہوں نے غلط راستے کو اختیار کیا اور دعوت و تبلیغ کے باوجود اس غلط راستے کو چھوڑنے سے انکار کر دیا بلکہ اس پر ڈٹ گئے اور پیغمبروں کو اور مومنین کے درپے ہو گئے، ان کو تکلیف دینے لگے-
وما كان الله ليظلمهم، اور نہیں تھے اللہ کہ ان پر ظلم کرتے، ولكن كانوا أنفسهم يظلمون، لیکن تھے وہ اپنے ہی نفسوں پر ظلم کرنے والے۔ مثل الذين اتخذوا من دون الله اولياء كمثل العنكبوت، مثال ان لوگوں کی جنہوں نے پکڑا ہے اللہ کے علاوہ اور دوستوں کو، اللہ کے علاوہ اور دوست جنہوں نے پکڑ رکھے ہیں، اور کارساز پکڑ رکھے ہیں، كمثل العنكبوت، ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے۔
ان کی مثال كمثل العنكبوت، وہ مکڑی کی طرح ہیں۔ اتخذت بيتا، مکڑی بناتی ہے ایک گھر، وإن أوهن البيوت لبيت العنكبوت، اور بے شک گھروں سب گھروں میں سے سب سے کمزور گھر لبيت العنكبوت، البتہ مکڑی کا گھر ہے۔
إن أوهن البيوت، تمام گھروں میں سب سے کمزور گھر لبيت العنكبوت، وہ کس کا گھر ہے؟ مکڑی کا گھر ہے، جو مکڑی جالا بناتی ہے بھئی۔
ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟
تو وہ لوگ جو اللہ کے علاوہ اور کارسازوں کو پکڑتے ہیں یعنی اور معبود بناتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے، جس طرح مکڑی جالا بناتی ہے تو ان لوگوں کو کی تشبیہ ہوئی مکڑی سے اور جو جن کو معبودوں کو انہوں نے بنا رکھا ہے اپنی طرف سے یہ معبود اس مکڑی کے جالے کی طرح ہیں بھئی۔
تو یہاں تشبیہ کس اعتبار سے ہے؟ تو تشبیہ یہاں دو تین اعتبار سے آپ ذکر کر سکتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھیے بھئی، گھر کی گھر کا مقصد ہوتا ہے کہ انسان کی حفاظت ہو اس میں اور سردی اور گرمی سے اسے بچائے، کم از کم اتنا تو ضرور ہو، سردی گرمی سے تو ضرور بچائے، لیکن مکڑی کے جالے میں اس طرح نہیں بھئی، وہ سردی اور گرمی سے بھی اس کو نہیں بچاتا بھئی۔ تو یہ بت بھی کسی ادنیٰ درجے کا نفع ان لوگوں کو نہیں دے سکتے جیسے یہ مکڑی کا جالا اس کو سردی اور گرمی میں ادنیٰ درجے کا فائدہ بھی نہیں دیتا۔
نیز اس سے تشبیہ ہے کہ اگر آپ کہتے علامہ زمخشری لکھتے ہیں کہ اگر گھروں میں سے ایک ایک گھر کا آپ چکر لگائیں، ان کو دیکھیں، تلاش کریں تو آپ کو سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ملے گا بھئی، ان گھروں میں سے سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہے، اور اسی طرح ایک ایک مذہب کے آپ تلاش کریں اور اس کو ڈھونڈیں، دیکھیں تو آپ کو سب سے کمزور مذہب جو ہے وہ یہ بت پرستوں کا نظر آئے گا جنہوں نے بت بنا رکھے ہیں اور ان کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔
سمجھ میں آیا، کوئی کسی چیز کی عبادت کرتا ہے، کوئی کسی چیز کی، تو لیکن یہ سب سے کمزور دین جو ہے یہ کس کا ہے؟ کہ خود ہی بت بناتے ہیں اپنے ہاتھ سے اور پھر اسی کو کیا کرتے ہیں؟ سجدے کرتے ہیں بھئی۔
مثلاً بعض سورج کی عبادت کرتے ہیں، چلو سورج کو تو انہوں نے خود نہیں بنایا، بعض فرشتوں کی، بعض کسی اور ستاروں وغیرہ کی اور اسی طرح، تو لیکن سب دینوں میں سب سے کمزور دین کون سا ہے؟ وہ جو بت پرستوں کا ہے۔ تو اس لیے ان کو تشبیہ دی اس کے ساتھ۔
نیز اس لیے کہ مکڑی جو اپنا جالا بناتی ہے تو یہ جالے کے لیے ادھر ادھر سے کوئی چیزیں نہیں اکٹھی کرتی بلکہ اسی کے منہ سے یا بدن منہ سے کوئی لعاب ہے اس سے یا بدن سے کوئی چیز نکلتی ہے اس کے ذریعے بناتی ہے، تو جس طرح مکڑی کا مکڑی جو ہے یہ اس کے جالے کا مٹیریل جو ہے یہ اسی کے بدن سے نکلتا ہے، اسی کے منہ سے نکلتا ہے، اسی طرح یہ جو مشرکین ہیں، یہ جو بتوں کے عبادت کرنے والے ہیں، ان کی بھی جو باتیں ہیں، دین ہے یہ سارا ان کے اپنے ہی ذہنوں سے نکلا ہے، ان کے اپنے پیٹ سے نکلا ہے، خارج میں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ خارج میں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو تین قسم کی تشبیہات میں نے ذکر کیں بھئی کہ ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ کے علاوہ اور کارساز پکڑ رکھے ہیں، ان کی مثال کس کی طرح ہے؟ مکڑی، وہ مکڑی کے مشابہ ہیں، مکڑی کی طرح ہیں، تو میں نے تین تشبیہات ذکر کیں بھئی، تین تشبیہات، کہ گھر کے کم از کم کیا مقصد ہے؟ کم از کم فائدہ اس کا یہ ہے کہ سردی اور گرمی سے بچائے اور مکڑی کے گھر میں ایسا نہیں بھئی، تو یہ بت بھی کسی ادنیٰ درجے کا نفع ان لوگوں کو نہیں دے سکتے جیسے یہ مکڑی کا جالا اس کو سردی اور گرمی میں ادنیٰ درجے کا فائدہ بھی نہیں دیتا۔
اور نیز کہ ایک ایک گھر میں کو اگر آپ دیکھیں تو سب سے کمزور گھر مکڑی کا ملے گا، اور ایک ایک دین کو آپ دیکھیں تو سب سے کمزور دین ان کا آپ کو ملے گا اور ان بت پرستوں کا۔ اور اسی طرح جس طرح مکڑی اپنے گھر کو اپنے ہی منہ سے نکلنے والے لعاب کے ذریعے بناتی ہے، اسی طرح انہوں نے جو اپنا دین بنا رکھا ہے یہ بھی انہی کے ذہن سے نکلی ہوئی باتیں ہیں، اس پر واقعے کے اندر، خارج کے اندر کوئی دلیل ان کے پاس موجود نہیں ہے بھئی۔
مثل الذين اتخذوا من دون الله اولياء كمثل العنكبوت، مثال ان لوگوں کی جنہوں نے پکڑا ہے اللہ کے علاوہ اور کارسازوں کو، كمثل العنكبوت، وہ ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے۔ اتخذت بيتا، یہ گھر بناتی ہے، وإن أوهن البيوت لبيت العنكبوت، اور تمام گھروں میں سب سے کمزور گھر جو ہے وہ مکڑی کا گھر ہے، لو كانوا يعلمون، کاش کہ یہ جانتے، کاش کہ یہ جانتے۔
إن الله يعلم ما يدعون من دونه من شيء، بے شک اللہ تعالیٰ جانتے ہیں وہ جس کو وہ پکارتے ہیں اللہ ومن دونه، أي من دون الله، اللہ کے علاوہ من شيء کسی بھی چیز میں سے، اللہ کے علاوہ یہ جس چیز کو پکارتے ہیں جن چیزوں کو معبود انہوں نے اپنا بنا رکھا ہے اور انہیں پکارتے ہیں، اللہ ان سب چیزوں کو جاننے والے ہیں بھئی، معنیٰ سمجھ میں آیا؟
دوبارہ دیکھیے: إن الله يعلم، بے شک اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جس کو وہ پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ کسی بھی چیز میں سے، کوئی بھی چیز ہے جس کو وہ پکارتے ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں، اللہ سب کو جانتے ہیں، وهو العزيز الحكيم، اور وہ اللہ زبردست حکمت والے ہیں، وتلك الأمثال نضربها للناس-
تو مشرکین اعتراض کرتے تھے کہ تم کہتے ہو یہ قرآن اللہ کا کلام ہے تو اس کے اندر تو مکڑی وغیرہ کا بھی ذکر ہے، کس کا ذکر ہے؟ مکڑی کا ذکر ہے، مکڑی کی مثال اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائی ہے، تو تو اگر اللہ کا کلام ہوتا تو اس میں مکڑی کا ذکر نہ ہوتا اتنی حقیر چیز کا، تو اللہ فرما رہے ہیں بھئی، یہ جو مثالیں ہیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں بات کو سمجھانے کے لیے۔
ہاں! مثال دینے سے مثال دینے والے کی عظمت میں کوئی فرق نہیں آتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے مثال کے جس چیز کے ساتھ مثال دی جا رہی ہے اس کے ساتھ اس کی مطابقت ہے یا نہیں بھئی اس کے ساتھ۔
وتلك الأمثال نضربها للناس، اور یہ مثالیں ہیں نضربها جنہیں ہم بیان کرتے ہیں للناس لوگوں کے لیے، اور یہ مثالیں ہیں نضربها بیان کرتے ہیں ہم ان مثالوں کو للناس لوگوں کے لیے، وما يعقلها إلا العالمون، اور نہیں سمجھتے ان کو مگر علم والے ہی، جاننے والے ہی۔
خلق الله السماوات والأرض بالحق، پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ، اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔ إن في ذلك لآية للمؤمنين، بے شک اس کے اندر البتہ نشانی ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
خلق الله السماوات والأرض بالحق، پیدا فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو برحق، إن في ذلك لآية للمؤمنين، بے شک اس کے اندر البتہ نشانی ہے ایمان والوں کے لیے۔
چلیے بس بھئی، هذا ہوالمرام والله أعلم بحقيقة الکلام۔