Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-008

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 07 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 28
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم۔ بسم اللہ الرحمن الرحيم۔ فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ فَآمَنَ لَهُ، له کی ہا ضمیر راجع ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو۔ پس ایمان لائے ان پر لوط علیہ السلام بھئی۔ ایمان لائے ان پر، یا یہ ترجمہ کر لیں تصدیق کی ان کی لوط علیہ السلام نے۔ حضرت لوط علیہ السلام یہ بھان، یہ بھتیجے تھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے۔ یہ ان کے بھئی کے بیٹے تھے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ان کے بھئی کے بیٹے تھے۔ اور یہ بھی پیغمبر ہیں، تو ایمان لے آئے ان پر۔ یعنی ان کی رسالت کا اقرار کیا بھئی، ان کی باتوں کی، جو کچھ باتیں انہوں نے کی تھیں ان کی تصدیق کی بھئی۔ تو اس کا یہ معنی نہیں کہ پہلے وہ شرک کرتے تھے، توحید کے تو وہ پہلے بھی قائل تھے۔ توحید کے وہ پہلے بھی قائل تھے، توحید ہی اللہ کی وحدانیت ہی تسلیم، تسلیم کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کے پیغمبر تھے، رسالت چاہے بعد میں ملی ہو لیکن بہرحال شرک نہیں کرتے تھے۔ ہاں یہاں پر ایمان لانے سے، تصدیق کرنے سے کیا مراد ہے؟ کہ انہوں نے جو باتیں فرمائی تھیں ان کی تصدیق کی یا ان کی رسالت کی تصدیق کی کہ یہ کیا ہیں؟ اللہ کے، اپ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ، ایمان لائے ان پر حضرت لوط علیہ السلام، یا یوں کر لیں ترجمہ، پس تصدیق کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حضرت لوط علیہ السلام نے۔ جی، یہ یہاں قرآن میں جگہ جگہ آتا ہے، یہ دیکھیے آگے میم لکھا ہوا ہے کنارے پر، وقف لازم ہے۔ ایسا مقام جہاں آئے وہاں وقف ضرور کرنا ہے، آگے ساتھ ملا کر نہیں پڑھنا، کیونکہ معنی بدل جاتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ کچھ کا کچھ ہو جائے معنی بھئی۔ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، یہ قَالَ کی ھُو ضمیر فاعل کی ضمیر کس کو راجع؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي، میں، بے شک میں ہجرت کرنے والا ہوں اپنے پروردگار کی طرف۔ یعنی جہاں کا میرا حکم میرے پروردگار دیں گے، میں اس طرف کو ہجرت کرنے والا ہوں۔ جی، تو پھر آپ نے ہجرت فرمائی جہاں اللہ نے حکم دیا، ملکِ شام کی طرف۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے پہلے شخص ہیں بھئی۔ سب سے پہلے آپ نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، اپنے وطن کو چھوڑا بھئی۔ جی، اور اس سفر میں، ہجرت میں حضرت لوط علیہ السلام بھی ان کے ساتھ تھے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ علیہ السلام بھی ان کے ہمراہ تھیں بھئی۔ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک میں ہجرت کرنے والا ہوں اپنے پروردگار کی طرف، یعنی جہاں کا، میرے پروردگار مجھے حکم دیں گے میں اس طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ، بے شک وہ زبردست ہے، حکمت والے ہیں۔ اللہ بے شک وہ، میرے پروردگار جو ہیں وہ حکمت، زبردست اور زبردست ہیں، حکمت والے ہیں۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے ہجرت کی بھئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی، نے بہت سی چیزیں کہ میں سب سے پہلے کرنے والے ہیں، مثلاً خطبے کے لیے یہ ممبر ہے، تو یہ ممبر پر سب سے پہلے ممبر کی ابتداء اور اس پر وعظ کرنے کی ابتداء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔ اسی طرح یہ لاٹھی رکھنا یہ سنت ہے انبیاء کی، یہ ساتھ بھئی سمجھ میں آیا؟ آج کل یہاں کے علماء میں تو آپ کو تقریباً متروک ہی نظر آئے گی، حالانکہ یہ سنت ہے مولانا، علماء کو سنت پر، اس سنت پر عمل کرنا چاہیے۔ تو یہ بھی سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شروع کی۔ اور اسی طرح یہ مونچھیں، مونچھوں کو کتروانا، چھوٹا کرنا اس کی ابتداء بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔ اور اسی طرح سب سے پہلے بال جو سفید ہوئے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہوئے۔ اس سے پہلے کسی کے بال کبھی سفید نہیں ہوتے تھے۔ تو بعض اوقات ایسا ہوتا کہ والد ہیں اور بیٹا ہیں، تو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کون والد ہیں اور کون بیٹا ہے، کیونکہ دونوں کے بال سیاہ ہوتے تھے۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بال سب سے پہلے سفید ہوئے، تو جب کچھ ب، سفیدی بالوں کے اندر دیکھی پہلی مرتبہ تو حیران ہوئے اور اللہ سے سوال کیا کہ اے اللہ! یہ کیا ہے؟ تو اللہ نے فرمایا کہ یہ وقار ہے وقار۔ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟ یہ وقار ہے۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر اس پر دعا کی: رَبِّ زِدْنِي وَقَارًا، اے اللہ! میرے وقار کو، میری عزت کو اور بڑھا دیجیے۔ وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ۔ وَوَهَبْنَا لَهُ، اور عطا کیے ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو إِسْحَاقَ، اسحاق علیہ السلام، یہ ان کے بیٹے ہیں بھئی۔ ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور پھر یہ دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام۔ یہ اس وقت عطا فرمائے جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بوڑھے ہو چکے تھے اور اسی طرح ان کی بیوی جو تھیں حضرت سارہ، وہ بھی بوڑھی ہو چکی تھیں اور بانجھ ہو چکی تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی، قادر ہیں ہر چیز پر، جو چاہتے ہیں ویسا ہی ہوتا ہے، تو اس حالت میں جبکہ ان کی بیوی بھی بوڑھی، وہ بھی بوڑھے ہو چکے، بیوی بھی بوڑھی ہو چکی اور بانجھ ہو چکی، اس حال میں کسی کے اولاد نہیں ہوتی، لیکن اللہ نے اس عمر میں انہیں اولاد کی نعمت عطا فرمائی بھئی۔ اور اولاد بھی حضرت اسحاق علیہ السلام جو اللہ کے پیغمبر تھے۔ تو ہم نے عطا کیے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق، وَيَعْقُوبَ، اور یعقوب علیہ السلام، یہ بیٹے ہیں حضرت اسحاق علیہ السلام کے، یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ہوئے بھئی۔ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُبُوَّةَ وَالْكِتَابَ، اور کر دیا ہم نے ان کی اولاد کے اندر نبوت کو اور کتاب کو۔ ان کی ن، ان کی اولاد میں نبوت اور، یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں نبوت اور کتاب کو کر دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد جس قدر بھی پیغمبر آئے، وہ سارے انہی کی اولاد میں سے تھے بھئی، سارے انہی کی اولاد میں سے تھے۔ اور آپ کے دو بیٹے تھے، ایک حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ایک حضرت اسحاق علیہ السلام۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور حضرت باقی جتنے انبیاء تھے، وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوئے بھئی سارے۔ تو چونکہ اس کے بعد تمام انبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے آئے، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ابو الانبیاء بھی کہتے ہیں بھئی، ابو ال، ابو الانبیاء بھئی، ابو الانبیاء۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے ہیں حضرت اسحاق علیہ السلام اور ان کے بیٹے ہیں حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد جو ہے وہ، ان کی جو اولاد ہے وہ بنی اسرائیل کہلاتی ہے بھئی۔ بنی اسرائیل جو اللہ کی محبوب قوموں میں سے ایک قوم تھی، وہ اللہ نے ان کی، یہ، یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہے بھئی۔ علماء مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت اسما، کہ بعد کے تمام پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں آئے، اللہ خود فرما رہے ہیں: وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُبُوَّةَ وَالْكِتَابَ، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہم نے رکھ دی نبوت اور کتاب بھئی۔ تورات، زبور، انجیل اور قرآن، یہ سب کتابیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو دی گئی ہیں بھئی۔ اور اسی طرح تمام انبیاء بھی ان کی اولاد میں سے آئے، میں نے جیسے ابھی بتایا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور حضرت باقی تمام انبیاء حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے، اور کہتے ہیں کہ حضرت اسحاق علیہ السلام ان کی اولاد میں چار ہزار انبیاء آئے بھئی، چار ہزار۔ تو نبوت بھی بعد میں انہی کی اولاد میں اور تمام کتابیں بھی انہی کی اولاد کو دی گئیں۔ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُبُوَّةَ وَالْكِتَابَ، اور رکھ دیا ہم نے ان کی اولاد کے اندر نبوت کو اور کتاب کو، کتاب پر الف لام جنسی ہے بھئی، تمام کتابوں کو شامل ہے۔ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا، اور عطا کیا ہم نے ان کو ان کا اجر، ان کا صلہ فی الدنیا، دنیا میں۔ دنیا میں بھی ہم نے ان کا صلہ دیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمارے راستے میں ہجرت کی تھی اور اپنے وطن کو چھوڑ دیا تھا، ہم نے اس کا صلہ انہیں دنیا میں بھی عطا کیا بھئی۔ دنیا میں کیا صلہ عطا کیا؟ مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، مختلف اقوال ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ جیسے ابھی ذکر ہوا کہ بوڑھے ہو چکے تھے، بیوی بانجھ ہو چکی تھی، پھر بھی ہم نے انہیں حضرت اسحاق علیہ السلام اور، اور حضرت یعقوب علیہ السلام بیٹا اور پوتا نصیب فرمائے۔ اور یہ بھی صلہ ہے کہ اللہ نے نبوت اور کتاب کو انہی کی اولاد میں رکھ دیا بھئی، اس کے بعد اور کسی کی اولاد میں سے پیغمبر نہیں، صرف انہی کی اولاد میں سے پیغمبر آئے۔ اور یہ صلہ کہ، کہ، سب کے لیے ان کو تمام دینوں کے لیے ان کو قابلِ احترام بنا دیا بھئی۔ تمام دینوں والے اپنی نسبت، اپنے دین کی نسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کرتے ہیں۔ چاہے مسلمان ہوں، چاہے عیسائی ہوں، چاہے یہودی ہوں، سب یہی کہتے ہیں کہ ہم کس کے دین پر ہیں؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ بنیادی باتیں وہی ہیں بھئی اسلام میں بھی جن کی دعوت حضرت ابراہیم علیہ السلام دیا کرتے تھے، اللہ کی وحدانیت ہے اور پیغمبروں کا ماننا اور آخرت کا قائم ہونا وغیرہ، ہاں احکام مختلف ہیں ہماری اپنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے، ان کے، شریعت کے اور۔ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا، اور دیا ہم نے ابراہیم کو ان کا صلہ دنیا میں، دو تین معنی میں نے بیان کر دیے، ایک کیا معنی؟ ہاں اس عمر، بڑھاپے کی حالت میں ہم نے بیٹا اور پوتا اور وہ بھی پیغمبر عطا کیے۔ دوسرا؟ نبوت اور کتاب انہی کی اولاد میں رکھ دی۔ اور؟ کہ تمام دینوں والے اپنی نسبت انہی کی طرف کرتے ہیں، سب ان کا احترام کرتے ہیں، عزت کے ساتھ نام لیتے ہیں، ان کی تعریف کرتے ہیں۔ وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ، اور بے شک وہ آخرت کے اندر صالحین میں سے ہوں گے۔ وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ، اور اے محمد! یاد کیجیے لوط علیہ السلام کو، اسی طرح بھئی جیسے پہلے اُذْكُرْ محذوف نکالا تھا۔ تو خطاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا کہ اے پیغمبر! اُذْكُرْ آپ یاد کیجیے لوط علیہ السلام کو، یا اس کا عطف اسی طرح ابراہِیمَ یا نُوحًا پڑھ لیجیے۔ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا تھا، اسی پر عطف کر لیں، اور بھیجا ہم نے لوط علیہ السلام کو إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ جس وقت کہا انہوں نے اپنی قوم سے إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ بے شک کہ تم بے حیائی کا بے حیائی کرتے ہو۔ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ بے حیائی کے پاس آتے ہو یعنی بے حیائی کرتے ہو۔ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ سو تم بے حیائی کرتے ہو بھئی۔ یہ لواطت کا فعل حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی طرف منسوب ہے کہ یہ مردوں کے ساتھ بدفعلی کیا کرتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنی قوم سے کیا فرما رہے ہیں کہ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ تم بے حیائی کرتے ہو مَا سَبَقَكُمْ بِهَا بِهَا کی ہا ضمیر فَاحِشَةَ کو راجع ہے۔ مَا سَبَقَكُمْ نہیں سبقت لے گیا تم پر تم سے بِهَا اس بے حیائی میں مِنْ أَحَدٍ کوئی ایک بھی مِنَ الْعَالَمِينَ جہان والوں میں سے نہیں آگے ہوا تم سے اس بے حیائی میں، اس بے حیائی پر کوئی ایک بھی جہان والوں میں سے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ نہیں آگے ہوا تم تم تم سے تم پر بِهَا اس اس بے حیائی کے ساتھ تو کوئی ایک بھی سبقت نہیں لے گیا تم سے اس بے حیائی پر مِنْ أَحَدٍ ہاں مِنْ أَحَدٍ آخر میں آ رہا ہے، اس کو ترجمے میں بھی ذرا مؤخر کر دو، پھر بعد میں بامحاورہ آپ الگ کر سکتے ہیں۔ مَا سَبَقَكُمْ نہیں سبقت لے گیا تم سے بِهَا اس بے حیائی پر مِنْ أَحَدٍ کوئی ایک بھی مِنَ الْعَالَمِينَ جہان والوں میں سے یعنی تم سے پہلے کسی نے بے حیائی کا یہ کام نہیں کیا، تم نے اس کی بنیاد رکھی ہے۔ اور یاد کیجیے لوط علیہ السلام کو إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ جس وقت کہا انہوں نے اپنی قوم سے إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ کہ بے شک تم بے حیائی کرتے ہو مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ نہیں سبقت کی تم سے اس بے حیائی پر کسی ایک نے بھی جہان والوں میں سے أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو یعنی ان کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو؟ وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ اور راستہ کاٹتے ہو۔ أَئِنَّكُمْ استفہام ہے، استفہامِ انکاری بھئی، یعنی تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور راستہ کاٹتے ہو۔ راستہ کاٹنے کا کیا معنی؟ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ کا تو معنی واضح ہے بھئی، مردوں کے پاس آتے ہو یعنی ان کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو، اور وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ راستہ کاٹتے ہو۔ یہ کہتے ہیں جو مسافر وہاں سے گزرا کرتے تھے، ان کے ساتھ بھی بدفعلی کرتے تھے، تو اس لیے یہ کہا گیا تَقْطَعُونَ السَّبِيلَ تم کیا کرتے ہو؟ راستہ کاٹتے ہو۔ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ نادی مجلس کو کہتے ہیں، جب کہ اس میں مجلس والے موجود ہوں۔ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ اور کرتے ہو تم فِي نَادِيكُمُ اپنی مجلسوں میں الْمُنْكَرَ ناپسندیدہ کام، برے کام اور تم اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو۔ علماء نے مختلف باتیں ذکر کی ہیں، یعنی مجلسوں میں بھی بے حیائی والے کام کرتے تھے بھئی۔ بعضوں نے لکھا کہ یہ مجلسوں میں ایک دوسرے کے سامنے بدفعلی کرتے تھے۔ بعضوں نے لکھا کہ مجلسوں میں بے حیائی ناپسندیدہ کام کرتے تھے، ایک دوسرے پر تھوکتے تھے بھئی، تھوکتے تھے۔ یا اسی طرح کنکریاں وغیرہ اپنے پاس رکھی ہوتیں اور کوئی مسافر وغیرہ گزر رہا ہوتا تو اسے کنکریاں مارتے تھے بھئی۔ اور تم کرتے ہو فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ اپنی اپنی مجلسوں میں منکر، برائی، برے کام فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ پس نہیں تھا ان کی قوم کا کوئی جواب إِلَّا أَنْ قَالُوا مگر یہ کہنا، مگر یہ کہ وہ انہوں نے کہا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ لے آئیں آپ اللہ کا عذاب إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ اگر آپ ہیں سچوں میں سے اگر آپ سچوں میں سے ہیں تو اللہ کا عذاب لے آئیے۔ تو اور کوئی ان کی باتوں کا جواب نہیں ہوتا تھا، ان کے پاس جواب تھا ہی نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ سب عیوب ان میں موجود تھے تو اور کوئی جواب تو ان کے پاس تھا نہیں، بس ہنسی مذاق کرتے اور کہتے کہ ہاں اگر آپ سچے ہیں، واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں تو اللہ کا عذاب لے آؤ۔ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا، رَبِّ اے میرے پروردگار، رَبِّیْ یا حذف، یا موجود تھی یہاں پر اور اس کو کلامِ عرب میں پھر حذف کر لیا جاتا ہے، تو یہ با کا کسرہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ قَالَ رَبِّ اے میرے پروردگار، انْصُرْنِي میری مدد فرمائیے عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ فساد کرنے والے لوگوں پر، فساد کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرمائیے۔ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میرے پروردگار، فساد کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرمائیے۔ وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى اور جب آئے رُسُلُنَا ہمارے بھیجے ہوئے إِبْرَاهِيمَ ابراہیم علیہ السلام کے پاس بِالْبُشْرَى خوشخبری کے ساتھ بشارت کے ساتھ بھا، جَاءَ کے معنی ہیں آنا آنا، اور بعض تو یہ فعلِ لازم ہے، اور فعلِ لازم کو متعدی بنانے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اس کو بابِ افعال میں لے جائیں، اور بعض اوقات اس کے ساتھ با کو زائد کر دیتے ہیں اس کو متعدی بنانے کے لیے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں جَاءَ زَيْدٌ، کیا ترجمہ ہوگا؟ زید آیا۔ اور آپ اس کو متعدی کرنا چاہتے ہیں با کے ساتھ، یوں کہیں گے جَاءَ زَيْدٌ بِالْكِتَابِ، کیا ترجمہ اب ہوگا؟ زید کتاب لایا۔ پہلے تھا جَاءَ زَيْدٌ، زید آیا، لیکن اب با ساتھ آ گئی تو اب کیا معنی ہوگا؟ اب جَاءَ کا معنی لانے کے کریں گے بھئی، زید کتاب لایا۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، بِالْبُشْرَى با آ رہی ہے آگے، تو جَاءَ کا کیا ترجمہ کر لیں گے؟ ہاں لانا۔ وَلَمَّا جَاءَتْ اور جب لائے رُسُلُنَا ہمارے بھیجے ہوئے، فرشتے اللہ نے بھیجے۔ وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا اور جب آئے ہمارے، جب لائے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم علیہ السلام کے پاس خوشخبری، جب ان کے پاس وہ خوشخبری لے کر آئے۔ قَالُوا تو پھر ان فرشتوں نے کہا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ بے شک ہم ہلاک کرنے والے ہیں اس بستی والوں کو۔ اس یہ جو بستی ہے، یہ جو حضرت لوط علیہ السلام کی سدوم بستی تھی بھئی، سدوم۔ س، س د و م جی، تو یہ سدوم بستی تھی اور اس کی طرف اشارہ کیا کہ یہ بستی یہ جو بستی ہے، اس بستی والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں۔ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ بے شک اس بستی والے ظلم کرنے والے ہیں یعنی کفر کرنے والے ہیں۔ قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، إِنَّ فِيهَا لُوطًا بے شک ان میں تو لوط علیہ السلام بھی ہیں۔ اے فرشتو! تم اس کو بستی کو کیا کرنے جا رہے ہو؟ بستی والوں کو ہلاک کرنے جا رہے ہو تو ان میں تو لوط علیہ السلام بھی ہیں۔ اچھا بھئی، بِالْبُشْرَى خوشخبری لے کر آئے، اور جب آئے ہمارے بھیجے، جب لائے ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم علیہ السلام کے پاس خوشخبری، بھئی خوشخبری وہی، اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کی خوشخبری بھئی کہ اللہ، اے ابراہیم! آپ کو اللہ ایک بیٹا اور ایک پوتا جو پیغمبر ہوں گے، وہ اللہ عطا فرمانے والے ہیں بھئی۔ تو خوشخبری سے وہ مراد ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ فرشتے بھیجے اللہ تعالی نے، انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دی اور یہ کس لیے آئے تھے آگے؟ کیا کریں گے؟ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو تباہ و برباد کرنے، کریں گے، اس پر اللہ کا عذاب لائیں گے۔ تو تو یہ اللہ کی قدرتوں کی طرف اشارہ ہے، اللہ کی قدرت کی نیرنگیاں بتلائی جا رہی ہیں کہ جس طرح اللہ ایک قوم کو اس جہان سے، اس دنیا سے ختم کرنے والے ہیں تو اس کے ساتھ ایک عظیم الشان قوم یعنی بنی اسرائیل کی بنیاد رکھنے والے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ بنی اسرائیل وہی حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہے بھئی، تو ایک قوم کو اللہ دنیا سے ختم فرما رہے ہیں تو دوسری قوم کو دنیا میں بھیج رہے ہیں۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ ان میں تو لوط علیہ السلام ہیں۔ کیا معنی بھئی؟ کیا یہ بات، یہ بات تو فرشتوں کو پہلے سے معلوم تھی، پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ بات کہنے کا کیا مقصد ہے؟ بھئی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ اگر ممکن ہو کوئی صورت ہو یہ عذاب کسی طرح مؤخر ہو جائے، شاید یہ لوگ آگے چل کر ایمان لے آئیں بھئی۔ شاید آگے چل کر ایمان لے آئیں بھئی، اس لیے بات، یہ بات شروع کی بھئی کہ ان میں تو لوط علیہ السلام بھی ہیں، کیسے ان پر عذاب لا رہے ہو؟ یا مراد یہ تھا کہ تم لوگ عذاب لے کر آؤ گے تو حضرت لوط علیہ السلام کے سامنے وہیں پر ہوں گے تو وہ یقیناً عذاب کو دیکھ کر گھبرا جائیں گے، اگرچہ ان پر تو عذاب نہیں، ان کی تو، وہ تو اللہ کے پیغمبر ہیں، ان کو تم نجات دے دو گے، لیکن ان کے سامنے تو عذاب آئے گا اور وہ انسان ہیں تو یقیناً اس اللہ کے عذاب کو دیکھ کر گھبرائیں گے، ڈر جائیں گے۔ تو اس لیے یہ فرمایا قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا کہ بے شک ان میں تو لوط علیہ السلام ہیں، قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا فرشتوں نے کہا، اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں نے کہا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا ہم زیادہ جاننے والے ہیں ان کو جو اس بستی میں ہیں، ہمیں خوب معلوم ہیں وہ لوگ جو اس بستی میں ہیں، ہمیں علم ہے حضرت لوط علیہ السلام وہاں ہیں۔ لَنُنَجِّيَنَّهُ البتہ ہم ضرور نجات دیں گے ان کو وَأَهْلَهُ اور ان کے گھر والوں کو۔ تو اَهْلَهُ کا عام ترجمہ تو یہی ہے ان کے گھر والے، لیکن مفسرین کہتے ہیں بھئی کہ یہاں اس کا ترجمہ، اس سے مراد ان کا اس، ان کا جو اتباع کرنے والے تھے یعنی مومنین جو حضرت لوط علیہ السلام پر ایمان لائے تھے، تو وہ بھی ان کے اہل ہیں بھئی۔ ان کے ان کی پیروی کرنے والے، البتہ ہم ضرور نجات دیں گے لوط علیہ السلام کو وَأَهْلَهُ اور ان کے، ان کا اتباع کرنے والوں کو إِلَّا امْرَأَتَهُ مگر ان کی بیوی، كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ غابر کہتے ہیں باقی رہ جانے والا، مگر ان کی بیوی جو ہے باقی رہ جانے والی ہوگی عذاب میں۔ یا بستی میں بھئی۔ مگر ان کی بیوی ہوگی باقی رہ جانے والوں میں سے، اب چونکہ یہاں شبہ پڑتا ہے باقی رہنے کا تو مطلب بظاہر یوں لگتا ہے باقی ہلاک ہوں گے اور ان کی بیوی باقی رہ جائے گی، تو اس لیے ترجمہ کیا کر دیتے ہیں؟ پیچھے رہ جانے والوں میں سے، ان کی بیوی، تو ان کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے، لوط علیہ السلام اور ان کی پیروی کرنے والوں کو ہم نجات دیں گے مگر ان کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
69 approved lectures · 8 of 69