Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-007

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 07 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 23
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ أُولَٰئِكَ يَئِسُوا مِن رَّحْمَتِي وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔ وَالَّذِينَ كَفَرُوا، اور وہ لوگ جنہوں نے كَفَرُوا انکار کیا بِآيَاتِ اللَّهِ اللہ کی آیتوں کا وَلِقَائِهِ اور اللہ کی ملاقات کا، یعنی قیامت کے دن کا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اللہ کی آیات کا اور اللہ اور قیامت کے دن کا۔ أُولَٰئِكَ يَئِسُوا مِن رَّحْمَتِي، بلکہ لقائی کا ترجمہ اسی طرح کریں، بس معنی ذہن میں رکھیں بھئی۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اللہ کی آیتوں کا وَلِقَائِهِ اور اللہ کی ملاقات کا أُولَٰئِكَ يَئِسُوا مِن رَّحْمَتِي، وہ لوگ مایوس ہوں گے میری رحمت سے۔ تو یہ ماضی بمعنی مضارع کے ہے بھئی۔ یئسوا کون سا صیغہ ہے؟ ماضی کا، لیکن یہ کس معنی میں ہے؟ مضارع کے معنی میں ہے۔ کے معنی ناامید ہونے کے ہیں۔ وہی لوگ ناامید ہوں گے مِن رَّحْمَتِي میری رحمت سے، یعنی قیامت کے دن۔ کب مایوس ہوں گے؟ قیامت کے دن میں۔ تو یہی لوگ مایوس ہوں گے میری رحمت سے، یعنی قیامت کے دن۔ وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، اور انہی کے لیے ہے اور یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے عَذَابٌ أَلِيمٌ دردناک عذاب ہے۔ عَذَابٌ أَلِيمٌ میں عذاب کی صفت علیم لائی گئی بھئی۔ علیم الم سے ہے، الم۔ اردو میں بھی اپ استعمال کرتے ہیں رنج و الم، تکلیف کو کہتے ہیں بھئی۔ تو عَذَابٌ أَلِيمٌ الم والا عذاب، یعنی دردناک عذاب۔ تو ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا ۔ تو اوپر یئسوا ماضی کو، مضارع کو ماضی کے ساتھ تعبیر کیا گیا۔ ماضی ہے لیکن کس معنی میں ہے؟ مضارع۔ تو مضارع کے بجائے ماضی کا صیغہ ذکر کیا گیا بوجہِ کس اس نقطے کے لیے کہ ایسا ہونا یقینی ہے۔ ایسا ہونا؟ تحقّق کے لیے، یقین کے لیے۔ بھئی جیسے ماضی میں، مستقبل میں ایک کام ہونا ہو تو اس میں شک ہوگا، پتہ نہیں ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ لیکن ماضی میں ایک بار جب ہو چکی اور گزر چکی، اس میں کسی قسم کا شک، کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہوتا۔ تو یہاں بھی یئسوا ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا کہ اس بات میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے، یقینی طور پر اسی طرح ہوگا کہ یہ لوگ جو ہماری آیتوں اور ہماری ملاقات کا انکار کرتے ہیں، یہ لوگ میری رحمت سے، میری جنت سے مایوس ہوں گے۔ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ، پس نہیں تھا جواب ان کی قوم کا۔ تو یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کا کی بات چل رہی ہے، وہ اپنی قوم کو دعوت دے رہے ہیں، سمجھا رہے ہیں۔ تو جواب میں ان کی قوم، آگے بتلایا جا رہا ہے صرف یہی جواب، ان کے پاس اور تو کوئی جواب تھا نہیں ان باتوں کا، کیونکہ یہ ساری باتیں حقیقت پر مبنی تھیں اور تو بس یہی کہنے لگے کہ ان کو قتل کر دو یا جلا دو۔ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ، پس نہیں تھا ان کی قوم کا کوئی جواب إِلَّا أَن قَالُوا مگر یہ کہ انہوں نے کہا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ کہ ان کو قتل کر دو یا ان کو جلا دو۔ ان کو قتل کر دو یا ان کو جلا دو۔ تو کہنے والے بعض تھے۔ لیکن سارے لوگ ان پر، ساری قوم اس پر راضی تھی، اس لیے ساری قوم کی طرف نسبت کر دی گئی کہ ساری قوم کا یہی جواب تھا۔ ان کی دعوت و تبلیغ اور حق باتوں کے جواب میں اور تو کچھ انہوں نے، جواب ان کے پاس تھا ہی نہیں تو یہی کہا کہ ان کو کیا کرو؟ قتل کر دو یا جلا دو۔ اور کیا کہا؟ ان کی قوم کا جواب تھا، حالانکہ کہنے والے بعض ہیں، لیکن چونکہ سارے اس پر راضی تھے تو ساروں ہی کی طرف نسبت کر دی گئی۔ پس نہیں تھا ان کی قوم کا کوئی جواب سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ان کو قتل کر دو یا ان کو جلا دو۔ فَأَنجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ، پس اللہ نے نجات دے دی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے۔ انہوں نے بڑی آگ جلائی بھئی، لکڑیاں جمع کیں اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس میں پھینکا گیا، لیکن اللہ تعالی نے اس آگ کو ان کے لیے ٹھنڈا فرما دیا اور کوئی تکلیف ہونے نہیں پہنچائی۔ آگ نے صرف جن رسیوں سے ان کو باندھا گیا تھا، صرف ان رسیوں کو جلایا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کچھ بھی نہیں ہوا اور وہی پر فوراً اللہ تعالی نے ایک باغ بنا دیا۔ تو فوراً اللہ کی طرف سے کیا بن گیا؟ باغ بن گیا بھئی وہاں پر۔ فَأَنجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ، پس اللہ نے ان کو نجات دی مِنَ النَّارِ اس آگ سے۔ یہ فا جو ہے، فائے فصیحہ کہلاتا ہے۔ فصیحہ صاد کے ساتھ۔ فائے فصیحہ، جو محذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے۔ کس پر دلالت کرتا ہے؟ محذوف عبارت پر بھئی۔ بھئی، انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ان کو قتل کر دو یا جلا دو۔ آگے پھر واقعہ محذوف ہے کہ انہوں نے پھر اس پر متفق ہو گئے کہ ان کو آگ میں ڈالتے ہیں، پھر انہوں نے آگ جلائی اور پھر اس کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پھینکا، فَأَنجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ، تو اللہ نے ان کو آگ سے بچا لیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ کیا ہے؟ فائے فصیحہ، جو عبارت محذوف جو ہے، اس پر دلالت کرتا ہے۔ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ، یقیناً اس واقعے کے اندر لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ البتہ کئی، بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے يُؤْمِنُونَ جو ایمان لانے والے ہیں، جو ایمان والے ہیں۔ یقیناً اس واقعے کے اندر بہت سی نشانیاں ہیں ایسی قوم کے لیے جو ایمان والی ہے۔ بھئی نشانیاں تو سب کے لیے تھیں، کفار کے لیے بھی، مسلمانوں کے لیے بھی، لیکن ان سے فائدہ اور نفع اٹھانے والے صرف مومنین ہیں، اس لیے مومنین کو ذکر کر دیا گیا۔ بہت سی نشانیاں ہیں ایسی قوم کے لیے جو ایمان والے ہیں، کئی نشانیاں تھیں بھئی۔ دیکھو، آگ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام، آگ کا تو کام ہی جلانا ہے، لیکن اللہ کا جب حکم آ گیا تو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نہیں جلایا۔ نیز وہ ان کو جن رسیوں سے ان کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے تھے، ان کو جلا دیا۔ اسی طرح وہاں پر اللہ نے فوراً ان کے لیے ایک باغ بنا دیا، تو کئی نشانیاں تھیں اس کے اندر بھئی۔ وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، اور فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا تم نے بنا رکھا ہے، تم نے پکڑ رکھا ہے مِّن دُونِ اللَّهِ اللہ کے علاوہ أَوْثَانًا بتوں کو۔ اتخذ دو مفعول چاہتا ہے بھئی۔ تو مفعول ثانی محذوف ہے، مفعول اول اوثان ہے بھئی، منصوب۔ اور مفعول ثانی محذوف ہے، آلهةً بھئی۔ آلهةً، تم نے بتوں کو معبود بنا رکھا ہے، معبود پکڑ رکھا ہے، یعنی معبود بنا رکھا ہے۔ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا تم نے پکڑ رکھا ہے، تم نے بنا رکھا ہے اللہ کے علاوہ بتوں کو معبود۔ مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، مَّوَدَّةَ یہ منصوب ہے، یہ مفعول لہ واقع ہو رہا ہے۔ کیا واقع ہو رہا ہے؟ مفعول لہ۔ مفعول لہ کسے کہتے ہیں؟ ہاں، جو ماقبل فعل کے علت بیان کرتا ہے، سبب بیان کرتا ہے بھئی، اسے کیا کہتے ہیں؟ مفعول لہ کہتے ہیں۔ جیسے ضربته تأدیباً، میں نے اس کی پٹائی کی، کس لیے کی؟ تأدیباً، ادب سکھانے کے لیے۔ تو یہ مفعول لہ ہے بھئی تأدیباً۔ پھر یہ مفعول لہ یاد رکھیے، دو قسم پر ہوتا ہے۔ مفعول لہ دو قسم پر ہوتا ہے، کبھی یہ ماقبل فعل کے لیے سبب ہوتا ہے اور کبھی اس کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مفعول لہ کتنے قسم پر ہوتا ہے؟ دو قسم پر سبب ہونے کا معنی یہ کہ یہ اس پر مقدم ہے، اس کی وجہ سے ماقبل کا فعل کیا گیا۔ اور نتیجہ ہونے کا معنی یہ کہ یہ فعل کے بعد ہے، فعل سے حاصل ہو رہا ہے۔ نتیجہ بعد میں آتا ہے، تو فعل سے... تو کبھی یہ فعل پر مقدم ہوگا یعنی سبب ہوگا اور کبھی یہ فعل سے مؤخر ہوگا اور نتیجہ ہوگا۔ مثال سے بات سمجھ میں آئے گی بھئی۔ دیکھیے، ایک مثال ہے: ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا، میں نے اس کی پٹائی کی، کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے۔ اب ماقبل میں ہے پٹائی کرنا اور مابعد میں ہے ادب کا حاصل ہونا، کیا چیز مقدم ہے؟ پٹائی کرنا مقدم اور نتیجہ... تو یہ کیا ہوا؟ کس قسم کا ہوا؟ نتیجے کے طور پر یہ نتیجہ ہے بھئی۔ پٹائی ہوگی تو کیا حاصل ہو جائے گا؟ ادب بھئی۔ اور ایک کہ مفعول لہُ... تو یہاں دیکھو، مفعول لہُ فعل سے مؤخر ہے بھئی۔ ادب کا حاصل ہونا مؤخر۔ اور ایک ہے کہ مفعول لہُ فعل پر مقدم ہو، جیسے: قَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ جُبْنًا، میں جنگ سے بیٹھا یعنی اس میں شرکت نہیں کی جُبْنًا، بزدلی کی وجہ سے۔ تو یہ جنگ سے بیٹھنے کی وجہ سے بزدلی آئی یا بزدلی کی وجہ سے جنگ سے بیٹھا؟ بزدلی کی وجہ سے، یعنی بزدلی مقدم تھی اور جنگ سے بیٹھنا... تو یہ سبب ہے ماقبل فعل کے لیے۔ یہ بزدلی سبب ہے ماقبل فعل کے لیے بھئی، ماقبل فعل کے لیے۔ تو یہ مقدم ہوا اور اس کی وجہ سے جنگ سے بیٹھا، اس میں شرکت نہیں کی۔ اور پہلے میں کیا تھا؟ ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا، وہ فعل کا نتیجہ تھا، فعل سے حاصل ہونے والی چیز تھی بھئی۔ تو یہاں بھی مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، اس کو دونوں قسموں میں سے بنانا درست ہے۔ تو پہلے کون سی قسم بنائیں؟ نتیجہ بنا لیں بھئی، نتیجہ۔ جو فعل سے مؤخر ہو۔ تم نے اللہ کے علاوہ اور معبودوں کو... اور اللہ کے علاوہ بتوں کو معبود بنا رکھا ہے کس لیے؟ مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ، تمہاری آپس کی محبت کے لیے فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، دنیاوی زندگی میں۔ دنیاوی زندگی میں آپس کی محبت، آپس کی دوستی کے لیے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ یہ کون سی قسم بنا رہے ہیں ہم؟ نتیجہ؟ بھئی، جو ایک مذہب والے ہوتے ہیں، ان میں آپس میں محبت ہوتی ہے، تعلق ہوتا ہے۔ تو تم نے بھی بتوں کو اس لیے معبود بنا رکھا ہے تاکہ تمہارے آپس میں محبت ہو بھئی۔ جب ایک مذہب پر ہو جاؤ گے تو آپس میں کیا ہوگی؟ محبت ہوگی، اس لیے ایک دوسرے کے راستے پر چل رہے ہو بھئی۔ تو بتوں کی عبادت کریں گے، سارے اسی راستے پر چلیں گے تو کیا حاصل ہے؟ آپس کی محبت بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس اعتبار سے ترجمہ دیکھو: وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، تم نے پکڑا ہے اللہ کے علاوہ بتوں کو معبود، تم نے بنا رکھا ہے اللہ کے علاوہ بتوں کو معبود آپس کی... مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ، تمہاری آپس کی دوستی کے لیے فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، دنیاوی زندگی میں۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ تمہاری آپس کی دوستی کے لیے دنیاوی زندگی میں، دنیاوی زندگی میں تمہاری آپس کی دوستی کے لیے۔ دوسرا معنی: وہاں پر "کی وجہ سے"، یہ ترجمہ کر لینا۔ تمہاری آپس کی محبت کی وجہ سے تم نے اللہ کے علاوہ بتوں کو معبود بنا رکھا ہے دنیاوی زندگی میں تمہاری آپس میں محبت، تمہاری آپس میں دوستی کی وجہ سے۔ بھئی، جس کو جس سے محبت ہوتی ہے، تعلق ہوتا ہے، تو وہ اسی کے طور طریقوں کو اختیار کرتا ہے۔ تو یہاں بھی ایک بتوں کی عبادت کرتا تھا، دوسرے کو اس سے تعلق ہوتا، اس سے کوئی نفع کی امید ہوتی یا ویسے دوستی وغیرہ ہے دنیا کے اندر، تو اس کو دیکھ کر یہ بھی اسی کی طرح کیا کرنے لگتے؟ بتوں کی... بتوں کی عبادت کرنے لگتے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو آپس میں دوستی کی وجہ سے یعنی دوستی مقدم ہے اور پھر بتوں کو معبود بنانا مؤخر ہے بھئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ اب دوبارہ دونوں ترجمے سنیے بھئی: اور فرمایا کہ تم نے بنا رکھا ہے اللہ کے علاوہ بتوں کو معبود دنیاوی زندگی میں تمہاری آپس کی دوستی کے لیے، دنیاوی زندگی میں تمہاری آپس کی محبت کی وجہ سے۔ ترجمہ سمجھ... اچھی طرح سب کو؟ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ، پھر قیامت کے دن انکار کریں گے بَعْضُكُم بِبَعْضٍ، بعض بعض کا، یا قیامت کے دن پھر انکار کریں گے ایک دوسرے کا وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا، اور لعنت کریں گے ایک دوسرے پر وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ، اور تمہارا ٹھکانا جہنم ہے وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ، اور نہیں ہے، نہیں ہوگا تمہارے لیے کوئی مددگار۔ مددگاروں میں سے تم... وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ، تو نہیں ہوگا تمہارے لیے کوئی مددگاروں میں سے، یعنی جہنم میں تمہیں پھینک دیا جائے گا اور وہاں جہنم سے نجات دینے والا، مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ جی، تو پھر قیامت کے دن انکار کریں گے تم میں سے بعض بعض کا، تو قیامت کے دن ایک دوسرے کا انکار کریں گے بھئی۔ یا تو یہ کفار ہی آپس میں مراد ہیں، یہ ایک دوسرے پر کیا کا کیا کریں گے؟ انکار کریں گے، ایک دوسرے کی مخالفت کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت کریں گے، ایک کہے گا: "میں نے تمہاری وجہ سے یہ راستہ اختیار کیا تھا"، دوسرا کہے گا: "بھئی، نہیں، میری وجہ سے کوئی راستہ اختیار نہیں کیا، تم خود ہی اس راستے کو پسند کرتے تھے"۔ اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے کہ: "بھئی، تمہاری وجہ سے میں اس راستے پر چلا تھا اور آج تم مجھے یہ جواب دے رہے ہو" اور ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یا تو کفار ہی مراد ہیں کہ وہ ایک دوسرے پر کے مخالف ہوں گے، ایک دوسرے کا انکار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ یا معنی یہ ہے کہ وہ جو بت ہیں، وہ بھی ان کے ساتھ جہنم میں ڈالے جائیں گے اور ان کو اللہ زبان دے دیں گے۔ تو یہ بت ان کی مخالفت کریں گے بھئی۔ بت کہیں گے: "ہم نے تمہیں کب کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کرو؟ ہماری عبادت کرو۔" اور یہ ایک دوسرے... لعنت بھیجیں گے، کہیں گے کہ: "ہم تم پر ساری زندگی نذر و نیاز چڑھاتے رہے اور آج تم ہی ہماری مخالفت کر رہے ہو جب اللہ نے تمہیں زبان دے دی ہے"۔ معنی سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا، اور پھر قیامت کے دن انکار کریں گے، یا یوں کر لیں، مخالفت کریں گے۔ پھر قیامت کے دن مخالفت کرے گا ایک دوسرے کی وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا اور لعنت کرے گا ایک دوسرے پر وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ، اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے، تمہارا بھی اور جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ، اور نہیں ہے، ہوگا تمہارے لیے کوئی مددگار۔ تو کفار کے ساتھ ان کے بت بھی جہنم میں ڈالے جائیں گے، اس سے آپ کے ذہن میں یہ شبہ آئے گا کہ بھئی، بتوں کا کیا قصور ہے؟ انہیں کیوں جہنم میں ڈالا گیا اور انہیں کیوں عذاب دیا دیا گیا بھئی؟ جواب یہ کہ بھئی، انہیں جو جہنم میں ڈالا جائے گا، وہ بطورِ عذاب کے نہیں، انہیں عذاب وہاں نہیں ہوگا، ہاں! صرف ان کو وہاں پر اس لیے ڈالا جائے گا تاکہ ان کفار کی حسرت اور تکلیف اور زیادہ ہو اور ان پر ان کی حماقت اور زیادہ واضح ہو، خود اپنی آنکھوں سے اپنی حماقت دیکھیں کہ جن چیزوں کی ہم عبادت کیا کرتے تھے، وہ ہماری کیا مدد کرتے، وہ تو خود ہمارے ساتھ ہی جہنم کے اندر موجود ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بت وہاں پر... اور یہ اس کا یہ معنی ہے وہاں ہوں گے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ انہیں عذاب ہوگا بھئی۔ چلیے، بس کریں بھئی۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
69 approved lectures · 7 of 69