Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-001

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 34
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
ہم علم تفسیر شروع کریں گے بھئی، آئیے پہلے دعا پڑھ لیں سارے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ رب العالمين۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہ و اصحابه و بارک وسلم۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہ و اصحابه و بارک وسلم۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہ و اصحابه و بارک وسلم۔ ربّنا یسر لنا هذا العلما ولا تعسره وتممه بالخير وبك نستعين يا فتاح يا علیم۔ ربّنا یسر لنا هذا الفن ولا تعسره وتممه بالخير وبك نستعين يا فتاح يا علیم۔ ربّنا یسر لنا هذا العلما ولا تعسره وتممه بالخير وبك نستعين يا فتاح يا علیم۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہ و اصحابه و بارک وسلم۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہ و اصحابه و بارک وسلم۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہ و اصحابه و بارک وسلم۔ قرآن پر بھی دیکھیے تھوڑا سا، چند آیتیں پڑھ لیں شروع میں بھئی۔ اعوذ بالله من الشیطان الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم۔ الم۔ أحسب الناس أن یتركوا أن یقولوا آمنا وهم لا یفتنون۔ ولقد فتنا الذین من قبلهم فلیعلمن اللہ الذین صدقوا ولیعلمن الکاذبین۔ أم حسب الذین یعملون السیئات أن یسبقونا، ساء ما یحکمون۔ صدق اللہ العظیم۔ अच्छा بھئی، کافیہ نکالیے۔ کچھ مباحث شروع میں لکھ دیجیے۔ لکھیے بھئی۔ ہر علم کے چند مبادی ہوتے ہیں، جس سے اس علم اور کتاب کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ جی، آگے لکھیے۔ بحث اول۔ ہر علم کے لیے چار چیزوں کا جاننا موجب بصیرت و افادہ تامہ ہے۔ نمبر ایک، علم کی تاریخ۔ نمبر دو، علم کا موضوع۔ نمبر تین، علم کی غرض اور مقصد۔ نمبر چار، واضع علم یا واضع فن۔ علم تفسیر کی تعریف۔ ہوا علم یعرف به معانی کتاب اللہ تعالی ونظمه۔ نظم سے مراد قرآن کے الفاظ ہیں۔ یعنی علم تفسیر وہ علم ہے جس کے ذریعہ کتاب اللہ کے معانی اور الفاظ یعنی قرآات کا پتہ چلتا ہے۔ علم تفسیر کا موضوع۔ اس علم کا موضوع کتاب اللہ تعالی یعنی قرآن کریم ہے۔ علم تفسیر کی غرض و غایت۔ صون النفس عن الخطا فی معانی کتاب اللہ تعالی۔ لکھیے بھئی۔ ہاں دوبارہ تاریخ سن لیں کیا لکھا ہے؟ علم تفسیر کی تعریف: ہوا علم یعرف به معانی کتاب اللہ تعالی ونظمه۔ موضوع اس کا کتاب اللہ ہے بھئی۔ اور غرض و غایت کیا ہے؟ صون النفس عن الخطا فی معانی کتاب اللہ تعالی۔ یعنی کتاب اللہ کے معانی جاننے میں نفس کو خطا سے بچانا، نفس کو غلطی سے بچانا۔ آگے لکھیے، واضعِ فن۔ واضعِ فن۔ اس علم کے واضع، اس علم کے واضع ضاد ہے، واضع ضاد رایں۔ اس علم کے واضع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس علم کے واضع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہیں بذریعہ وحی، انہیں بذریعہ وحی اللہ جل جلالہ نے، اللہ جل جلالہ نے قرآن مجید کے معنی بتائے، اور پھر انہوں نے، اور پھر انہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم، صحابہ رضی اللہ عنہم کو بتائے، اور پھر انہوں نے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بتائے، اور صحابہ نے، اور صحابہ نے آگے امت کو، آگے امت کو قرآن کے صحیح صحیح معنی، اور صحابہ نے آگے امت کو، قرآن کے صحیح صحیح معنی، اور مطالب و مضامین، اور مطالب و مضامین، اور مطالب و مضامین سے مطلع فرمایا۔ سے مطلع فرمایا۔ پھر امت میں یہ فن منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ، یہاں تک کہ موجودہ زمانہ آیا، اور اس طرح یہ فن، اور اس طرح یہ فن تا قیامت منتقل ہوتا رہے گا۔ صحابہ کرام میں بعض اشخاص، صحابہ کرام میں بعض اشخاص اس فن کے زیادہ ماہر تھے، اس فن کے زیادہ ماہر تھے۔ مثلا حضرت عمر، مثلا حضرت عمر، ابن مسعود، ابن مسعود، اور ابن عباس، اور ابن عباس، رضی اللہ تعالی عنہم، رضی اللہ تعالی عنہم، وغیرہ۔ وغیرہ۔ آخری دو اشخاص، آخری دو اشخاص، یعنی حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ، یعنی حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ، اور حضرت ابن عباس، اور حضرت ابن عباس، رضی اللہ تعالی عنہما، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما، اس فن میں زیادہ مشکور، زیادہ مشکور و معروف ہیں۔ سب سے زیادہ مشہور، سب سے زیادہ مشہور، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عباس، رضی اللہ تعالی عنہما، سب سے زیادہ مشہور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ہیں۔ ابن عباس کے ساتھ رضی اللہ تعالی عنہما تثنیہ بھی ضمیر آخر میں لانی ہے عنہما بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ، ان کے والد عباس ان کا بھی ذکر آ گیا، ابن عباس۔ تو وہ بھی صحابی ہیں، یہ بھی صحابی ہیں تو ابن عباس کہیں بھئی۔ وہ رئیس المفسرین ہیں۔ وہ رئیس المفسرین ہیں۔ اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، کی مبارک دعا کا اثر تھا۔ کی مبارک دعا کا اثر تھا۔ لکھ لیا بھئی؟ اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک دعا کا اثر تھا۔ احادیث میں ہے، کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام، کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے، ان کے لیے خصوصی دعا فرمائی، نے ان کے لیے خصوصی دعا فرمائی، اور فرمایا، اور فرمایا، اللہم، اللہم، فقہ ہو، فقہ ہو، دو ہا آئیں گی بھئی، ایک تو فقہا مادہ کی اپنی ہا ہے اور ایک ساتھ ضمیر ساتھ ملائیں، فقہ ہو فی الدین، فی الدین، وعلمہ، وعلمہ، التاویلی، التاویلی، دو نقطوں والی تا آئے گی بھئی۔ التاویلی، دعا لکھ لی بھئی؟ اللہم فقہہ فی الدین وعلمہ التاویلی۔ تاویل سے مراد تفسیر ہے۔ تاویل سے مراد تفسیر ہے۔ یعنی اے اللہ، یعنی اے اللہ، انہیں دین کی سمجھ دے دے، انہیں دین کی سمجھ دے دے، اور انہیں علم تفسیر سکھا دے۔ اور انہیں، انہیں علم تفسیر سکھا دے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی وفات، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی وفات، شہر طائف میں ہوئی ہے۔ شہر طائف میں ہوئی ہے۔ جو مکہ المكرمہ سے، جو مکہ المكرمہ سے، پچیس تیس میل دور ہے۔ پچیس تیس میل دور ہے۔ اور وہیں ان کی قبر ہے، اور وہیں ان کی قبر مبارک ہے، اور وہیں ان کی قبر مبارک ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ جی، بخش اول ختم ہوئی مولانا بھئی۔ چلیے بس کرتے ہیں بھئی، ہذا هو المرام، واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔
69 approved lectures · 1 of 69
Current dars-001
Next ▶ Last ⏭