درس نمبر۔67
ولما ذكر ان في للظرفية اورد بتقريبه بيان باقي اسماء الظروف المضافة وان لم تكن حروف جر فقال: ومنها اسماء الظروف فمع للمقارنة اي لمقارنة ما بعدها لما قبلها فاذا قال انت طالق واحدة مع واحدة او معها واحدة يقع ثنتان سواء كانت موطوءة او لا.
اور جب ولما ذكر، اور جب مصنف رحمہ اللہ نے یہ ذکر کر دیا کہ ان في للظرفية کہ فی کس لیے آتا ہے؟ ظرفیت کے لیے۔ تو اورد بتقريبه، اورد لے کر آئے، بتقريبه اسی کی مناسبت سے۔ تو لے کر آئے اسی کی مناسبت سے بیان باقي اسماء الظروف المضافة، باقی وہ اسماء ظروف جو مضاف ہوتے ہیں۔
وان لم تكن حروف جر، اگرچہ وہ حروفِ جر نہیں ہیں، فقال، پس فرمایا۔ بھئی دیکھیے! مصنف نے پیچھے ذکر کر دیا کہ فی ظرفیت کے لیے ہے، تو ظرفیت آ گئی بھئی، ظرفیت کا تذکرہ آ گیا۔ تو جب ظرفیت کا تذکرہ آ گیا، تو اسی کی مناسبت سے آگے اسماءِ ظروف کا ذکر شروع فرما دیا اگرچہ یہ حروفِ جارہ نہیں ہیں، لیکن اس مناسبت سے ان کو یہاں ذکر کیا۔ فقال، پس کہا: ومنها اسماء الظروف۔ ومنها اسماء الظروف، اور حروفِ معانی میں سے اسماءِ ظروف ہیں بھئی۔
حروفِ معانی میں سے کیا ہیں؟ اسماءِ ظروف۔ بھئی! یہ اسماء ہیں، اور انہوں نے شروع میں کہا تھا "حروفِ معانی"۔ وہاں پر بھی آپ کو شارح نے بتلایا تھا کہ چونکہ ان میں سے اکثر حروف ہیں، اس لیے حروف کو غلبہ دے دیا، اس لیے سبھی کو کیا کہہ دیا؟ حروف کہہ دیا گیا بھئی۔ ورنہ جیسے یہ کیا ہیں؟ ظروف۔ یہ اسماء ہیں بھئی ظروف بھئی، جو جملے میں ظرف واقع ہوتے ہیں یعنی مفعول فیہ، جیسے مع ہے، قبل ہے، بعد وغیرہ بھئی۔
تو غلبہ دے دیا گیا۔ بعض اوقات ایک چیز کو دوسری پر غلبہ دے کر، دوسری پر بھی وہی لفظ بول دیا جاتا ہے۔ جیسے دیکھیے آپ کہتے ہیں "والدین"۔ والدین، یہ تو والد کی تثنیہ ہے بھئی، ایک تو والد ہے، ایک تو والدہ ہے۔ لیکن والد کو غلبہ دے دیا گیا اور والدہ کو بھی کیا کہہ دیا گیا؟ والد۔ تو دو والد ہوئے تو تثنیہ آ گئی "والدین" بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے کبھی کبھار غلبہ دیا جاتا ہے، سورج کو بھی چاند کے ساتھ ملاتے ہوئے دونوں کو "قمرین" کہہ دیتے ہیں، حالانکہ ایک قمر ہے اور ایک تو شمس ہے۔ لیکن شمس پر قمر کو غلبہ دیا اور اس کو بھی گویا قمر ہی بنا دیا، قمر ہی قرار دے دیا، اس پر بھی یہی لفظ بول دیا، تو دو قمر ہوئے تو کیا کہہ دیتے ہیں؟ قمرین۔ یا جیسے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہی نام حضرت صدیق پر بھی بولتے ہوئے دونوں کو "عمرین" کہہ دیتے ہیں۔ اب ان میں تو ایک تو حضرت عمر ہیں، ایک تو حضرت ابو بکر صدیق ہیں، لیکن عمر کے نام کو غلبہ دے کر کیا بنا لیا گیا؟ تثنیہ، تو یہ ہے تغلیب، غلبہ دینا بھئی۔
تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، کچھ حروف تھے، کچھ اسماء تھے، لیکن چونکہ حروف زیادہ تھے اس لیے ان کو غلبہ دے کر سب پر کونسا لفظ بول دیا گیا؟ حروف والا ہی۔ تو کہتے ہیں: ومنها اسماء الظروف، اور حروفِ معانی میں سے اسماءِ ظروف ہیں، فمع للمقارنة، پس مع جو ہے وہ مقارنت کے لیے آتا ہے۔
مقارنت کہتے ہیں، مقارنت اتحادِ زمانی کو بھئی۔ ایک چیز کو کیا کر دیتا ہے؟ دوسری کے ساتھ ملا دینا زمانے کے اعتبار سے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: جائنی زيد مع عمرو، کیا معنی؟ زید عمر کے ساتھ آیا، یعنی دونوں ایک ہی زمانے میں آئے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اتحادِ زمانی جو ہے، یہ مقارنت ہے۔
تو مع جو ہے وہ مقارنت کے لیے آتا ہے، اي لمقارنة ما بعدها لما قبلها، یعنی اپنے ما بعد کو ما قبل کے ساتھ اس کی مقارنت کے لیے آتا ہے، اس کو ملانے کے لیے آتا ہے زمانے کے اعتبار سے۔ فاذا قال، پس جب کہا کسی شوہر نے اپنی بیوی سے: انت طالق واحدة مع واحدة، تجھے طلاق ہے ایک کے ساتھ ایک، تو کتنی ہو جائیں گی؟ دو، کیونکہ اکٹھی واقع ہوں گی زمانے کے اعتبار سے۔ چاہے وہ عورت مدخول بہا ہو یا غیر مدخول بہا ہو، اس سے صحبت کر چکا ہو یا نہ کر چکا ہو۔ جس سے صحبت نہیں کی آپ جانتے ہیں اس سے ایک ہی طلاق سے وہ بائنہ ہو جایا کرتی ہے اور اس پر عدت بھی کوئی نہیں، وہ فوراً ہی اگلا نکاح جہاں چاہے کر سکتی ہے۔
تو لہٰذا اگر اس کو ترتیب سے طلاقیں دے، کہ تجھے طلاق ہے، پھر کہے تجھے طلاق ہے، پھر کہے تجھے طلاق ہے، تو پہلی سے ہی وہ بائنہ ہو گئی، نکاح بالکل ختم ہو گیا، اگلی دو طلاقیں لغو چلی گئیں۔ لیکن اگر اکٹھی واقع کرے، تو اکٹھی تو نکاح کے بعد کتنی طلاقوں کا حق ہوتا ہے؟ تین، تو پھر تو دو یا تین اکٹھی بھی واقع کر سکتا ہے، کہ اگر یوں کہا اس سے: تجھے دو طلاقیں ہیں، تو دونوں اکٹھی پڑھ جائیں گی۔ اگر کہا: تجھے تین طلاقیں ہیں، تو اکٹھی پڑھ جائیں گی۔ ہاں، آگے پیچھے کرتا ہے پھر ایک سے ہی بائنہ ہو جائے گی اور باقی کیا ہو جائیں گی؟ لغو ہو جائیں گی۔ تو یہاں اس صورت میں، یہاں پر بھی چاہے وہ عورت مدخول بہا ہو یا غیر مدخول بہا ہو، اس سے صحبت کر چکا ہو یا نہ کی ہو، دونوں صورتوں میں کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟ دو واقع ہوں گی بھئی۔
تو یوں کہا: فاذا قال انت طالق واحدة مع واحدة، کہ تجھے طلاق ہے ایک کے ساتھ ایک۔
تو دیکھیے! مع کی اضافت کس کی طرف کی؟ واحدة کی طرف، اسمِ ظاہر کی طرف کی۔ یا یوں کہے: او معها واحدة، یا یوں پورا کلام کیا ہوا؟ انت طالق واحدة معها واحدة۔ اب مع کی اضافت کس کی طرف کی ہے؟ ضمیر کی طرف۔ کہتے ہیں: تجھے ایک، تو معنی کیا ہوگا؟ انت طالق واحدة، تجھے ایک طلاق ہے، معها واحدة، ایسی ایک کہ اس کے ساتھ ایک ہے۔ تو ہر صورت میں، تو چاہے مع کی اضافت ضمیر کی طرف کریں، اس کے ساتھ ضمیر کو ذکر کریں، یا اسمِ ظاہر کو ذکر کریں، دونوں صورتوں میں کتنی طلاقیں ہوں گی؟ دو ہوں گی۔
کیونکہ آگے مسئلہ آ رہا ہے: قبل اور بعد کی صورت میں ضمیر کی طرف اگر ان کی اضافت ہوگی تو حکم اور ہوگا، اگر اسمِ ظاہر کی طرف ہوگی تو حکم اور ہوگا، لیکن یہاں پر چونکہ یہ مقارنتِ زمانی کے لیے آتا ہے، تو لہٰذا چاہے ضمیر کی طرف مع کی اضافت کریں، چاہے اسمِ ظاہر کی طرف کریں، دونوں صورتوں میں حکم ایک ہی ہے۔ اسمِ ظاہر جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ یہ اسمِ ضمیر کے مقابلے میں ہے، جو ضمیر نہیں وہ کیا ہے؟ اسمِ ظاہر ہے۔
تو انت طالق واحدة مع واحدة، کس کی طرف اضافت کی مع کی؟ اسمِ ظاہر کی طرف۔ یا کہا: انت طالق واحدة معها واحدة، کس کی طرف مع کی اضافت کی؟ ضمیر۔ دونوں صورتوں میں يقع ثنتان، دو طلاقیں واقع ہوں گی، سواء كانت موطوءة او لا، برابر ہے کہ وہ عورت موطوءہ ہو یا نہ ہو، یعنی اس سے صحبت کر چکا ہو یا نہ کی ہو۔
وقبل للتقديم، قبل سے لفظِ قبل مراد ہے، لہٰذا اس پر تنوین پڑھیں گے بھئی، وقبل للتقديم۔
عبارت میں جب آتا ہے تو اس وقت یہ مضاف ہوتا ہے، اس لیے اس پر تنوین نہیں آتی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ مضاف پر تنوین نہیں آتی۔ اور یا کبھی یہ مبنی ہوتا ہے، اس لیے اس پر تنوین نہیں آتی، کیونکہ مبنی پر بھی تنوین نہیں آتی۔
لیکن یہاں پر لفظ مراد ہے، تو یہاں تنوین پڑھیں بھئی: وقبل للتقديم، اور قبل کیا ہے؟
ہاں، یہاں پر بھی آپ تنوین کے بغیر پڑھ سکتے ہیں۔ وقبل للتقديم، لیکن پھر کیا تاویل کریں گے؟ غیر منصر ف ہے ہم نے، آپ کیا پڑھا اس کو؟ غیر منصر ف۔
بھئی! وہ جو عبارتوں میں قبل، قبل آتا ہے، اس کا نام ہی ہم نے قبل رکھ دیا۔ تو علمیت آ گئی اس کے اندر اور نیز یہ تانیث بھی ہے كلمة کی تاویل میں۔ تو علمیت بھی آ گئی اور تانیث بھی آ گئی، تو کیا بن گیا؟ دو اسباب آ گئے، تو دو اسبابِ منعِ صرف پائے، تو کلمہ کیا بن جاتا ہے؟ غیر منصر ف، تو قبل پڑھیں بھئی۔ اور اگر آپ اس کو كلمة کے بجائے لفظ کی تاویل میں لیتے ہیں۔ تو پھر علمیت تو ہے، لیکن تانیث نہیں، صرف ایک سبب ہے، تو اس صورت میں قبل پڑھیں گے تنوین کے ساتھ۔
تو کہتے ہیں: وقبل للتقديم، اور قبل جو ہے وہ تقديم کے لیے ہے، مقدم کرنے کے لیے، اي لكون ما قبلها مقدما على ما اضيف اليه۔ بھئی! یاد رکھیے یہ قبل اور بعد کی بحث کریں گے، قبل اور بعد ہمیشہ مضاف الیہ چاہتے ہیں۔
جیسے مع مضاف الیہ چاہتا تھا، مع کا معنی تھا "ساتھ"، بھئی کس کے ساتھ؟ مضاف الیہ چاہیے۔ قبل کا معنی "پہلے"، بھئی کس سے پہلے؟ مضاف الیہ چاہیے۔ اسی طرح بعد کا معنی "بعد میں"، بھئی کس کے بعد؟ کیا چاہیے اس کے ساتھ؟ مضاف الیہ، کہ فلاں کے بعد۔
اب اس کے، تو یہ قبل جو ہے وہ تقديم کے لیے آتا ہے، کہ اس کا ما بعد جو ہے وہ مقدم ہے، وہ مؤخر ہے، یا یوں کہیں۔
آپ کہتے ہیں: جائني زيد قبل عمرو، کیا معنی؟ زید آیا عمر سے پہلے۔ تو مضاف الیہ کون؟ عمر۔ اور ماقبل میں کون؟ زید۔ تو جو ماقبل میں ہے، وہ مقدم ہے کس پر؟ عمر یعنی جس کی طرف اس کی اضافت کی گئی ہے۔
تو یہی بتلا رہے ہیں: اي لكون ما قبلها مقدما على ما اضيف اليه، یعنی اس چیز کے لیے کہ اس کا جو ماقبل ہے وہ مقدم ہے اس پر جس کی طرف اس کی اضافت کی گئی ہے۔ وبعد، اس میں بھی اسی طرح بعد بھی پڑھ سکتے ہیں اور بعد بھی، وبعد للتاخير، اور بعد کس لیے آتا ہے؟ تاخیر کے لیے آتا ہے، یعنی مؤخر کرنے کے لیے، اي لكون ما قبلها مؤخرا عما اضيف اليه، یعنی اس چیز کے لیے کہ اس کا اس کے ماقبل جو اس کے ماقبل کے مؤخر ہونے کے لیے عما اضيف اليه اس سے جس کی طرف اس کی اضافت کی گئی ہے۔
جائني زيد بعد عمرو، آیا میرے پاس زید عمر کے بعد، تو مؤخر کون ہے؟ زید، اور کس سے مؤخر ہے؟ عمر، جس کی طرف اس کی اضافت کی گئی ہے، یہی کہہ رہے ہیں: اي لكون ما قبلها مؤخرا عما اضيف اليه، یعنی کہ اس کے ماقبل جو ہے اس کے مؤخر ہونے کے لیے عما اضيف اليه اس سے جس کی طرف اس کی اضافت کی گئی ہے۔ وحكمها في الطلاق ضد حكم قبل۔
وحكمها في الطلاق ضد حكم قبل یا قبل، قبل پڑھا تو منصر ف پڑھا، قبل پڑھا تو غیر منصر ف پڑھا، دونوں طرح آپ پڑھ سکتے ہیں۔
اور یہ جو بعد کا حکم جو ہے طلاق کے اندر، وہ قبل کے حکم کی ضد ہے۔
بعد کا حکم طلاق کے مسئلے میں قبل کے حکم کی ضد۔ یاد رکھیے! آگے ایک مسئلہ بیان کریں گے،
اور یہ جو مسئلہ ذکر کیا ماتن نے، یہ غیر موطوءہ کے بارے میں ہے۔
یعنی وہ عورت جس سے صحبت نہ کی گئی ہو۔
تو لہٰذا یہ مسئلہ اسی سے متعلق ہے، منار جو متن ہے اس کی بہت سی شروحات ہیں، وہ دیگر شارحین اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ مصنف نے آگے آنے والے مسئلہ جو بیان کر رہے ہیں وہ کس سے متعلق ہے؟ غیر موطوءہ سے، جس سے شوہر نے ابھی صحبت نہ کی ہو۔
صحبت، اور وہ اس کے بارے میں تو آپ جانتے ہیں کہ اس پر اگر الگ الگ طلاقیں واقع کی جائیں، تو ایک سے ہی وہ بائنہ ہو جاتی ہے اور باقی طلاقیں لغو ہو جاتی ہیں۔
تو اگلا جو مسئلہ وضعِ مسئلہ ہے وہ غیر موطوءہ کے بارے میں ہے۔
غیر موطوءہ کے بارے میں۔
اور اس غیر موطوءہ کے اندر بتلا رہے ہیں،
کہ جہاں قبل سے ایک طلاق آئے گی، تو بعد سے وہاں کتنی آ جائیں گی؟ دو۔ اور جہاں بعد سے ایک طلاق آئے گی، وہاں قبل میں کتنی آ جائیں گی؟ دو۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے! یہی بیان کر رہے ہیں: اي في كل موضع يقع فيه بلفظ قبل، ہر وہ جگہ جہاں پر واقع ہو لفظِ قبل سے، قبل کے لفظ سے واقع ہو، ہر وہ جگہ جہاں قبل کے لفظ کے ذریعے واقع ہو، کیا واقع ہو؟ طلاق واحد، ایک طلاق، يقع في لفظ بعد طلاقان، تو واقع ہوں گی بعد کے لفظ سے وہاں پر دو طلاقیں۔ وفي كل موضع يقع في لفظ قبل طلاقان، اور ہر وہ جگہ جہاں پر قبل کے لفظ سے دو طلاقیں واقع ہوں، يقع في لفظ بعد طلاق واحد، واقع ہوں گی وہاں پر بعد کے لفظ سے ایک ہی طلاق، على ما قال، بنا پر اس کے جو علماء نے فرمایا ہے، جیسا کہ انہوں نے لکھا، فرمایا بھئی۔
واذا قيدت بالكناية، اور جب اس کو مقید کیا جائے کنایہ کے ساتھ۔
یعنی ان میں سے ہر ایک کو۔
بھئی دیکھیے! قيدت کی ضمیر راجع کرنی تھی کل اور بعد، قبل اور بعد کی طرف، اور قبل اور بعد تو دو ہو گئے، اور قيدت کے اندر کونسی ضمیر ہے؟ واحد مؤنث کی۔ تو لہٰذا واحد کی ضمیر تثنیہ کی طرف کیسے لوٹ سکتی ہے؟ یہ تو معلوم ہوا صرف یا قبل کا لفظ مراد ہے یا صرف بعد۔ شارح آپ کو بتلائیں گے بھئی، اي كل واحد کی تاویل میں ہے، ہر ایک ان میں سے، اور مؤنث کی ضمیر راجع کیوں؟ کیونکہ یہ کلمہ ہیں بھئی، کیا ہیں؟ کلمہ ہیں بھئی۔
تو ان میں سے ہر ایک، اذا قيدت بالكناية، جب ان کو مقید کیا جائے کنایہ کے ساتھ۔
اچھا بھئی! دیکھیے۔
یاد رکھیے! قبل اور بعد کے لیے مضاف الیہ چاہیے۔ ان کا مضاف الیہ کبھی ضمیر ہوگی، کبھی اسمِ ظاہر ہوگا۔
کبھی ضمیر ہوگی اور کبھی اسمِ ظاہر ہوگا۔
کہتے ہیں، آپ کو بتائیں گے: جب ان کا مضاف الیہ ضمیر ہو، تو پھر یہ ما بعد کی صفت بنیں گے۔ اور جب ان کا مضاف الیہ اسمِ ظاہر ہو، تو یہ ماقبل کی صفت بنیں گے۔
توجہ ہے سبق کی طرف؟ جب ان کا مضاف الیہ کیا ہو؟ ضمیر ہو، تو پھر یہ ما بعد کی صفت بنیں گے، اور جب ان کا مضاف الیہ اسمِ ظاہر ہو، تو یہ ماقبل صفت بنیں گے۔ دیکھیے! اب مثالوں سے بات یہی سمجھ لیجیے۔ میں آپ سے کہتا ہوں: جائني زيد قبل عمرو۔
کیا معنی؟ کون پہلے آیا؟ اور کس سے پہلے آیا؟ اچھا! یہ پہلے آنا کس کی صفت ہے؟ زید کی صفت ہے۔
اور اس کے بجائے میں کہتا ہوں، یا دوسری بعد کی بھی یہی مثال بنا لیں، تو یہاں پر پہلی مثال میں جائني زيد قبل عمرو، قبلیت، پہلے آنا یہ کس کی صفت ہے؟ زید کی، ہاں؟
ماقبل کی صفت ہے۔ اچھا! اور جائني زيد بعد عمرو۔
آیا زید، کس کے بعد؟
عمرو کے بعد۔
یہ بعد میں ہونا کس کی صفت ہے؟
زید کی۔ یعنی ماقبل کی۔
دیکھو ہم اس میں ظاہر کی طرف مضاف کر رہے ہیں "قبلُ" اور "بعدُ" کو۔ "قبلَ عمروٍ"، "بعدَ عمروٍ" کس کی طرف مضاف کیا؟ اسمِ ظاہر، اور جب اس کو اسمِ ظاہر کی طرف مضاف کریں گے تو یہ ماقبل کی صفت بنے گی یعنی پہلے ہونا یا بعد میں ہونا یہ کس کی صفت ہوگا؟
ماقبل کی صفت ہوگا۔
لیکن جب ان کو ضمیر کی طرف مضاف کریں گے تو پھر یہ مابعد کی صفت بنیں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: جَاءَنِی زَیْدٌ قَبْلَہٗ عَمْرٌو۔
آیا میرے پاس زید،
کہ اس سے پہلے عمرو تھا۔
کیا معنی؟ پہلے کون آیا؟
تو پہلے ہونا کس کی صفت ہے؟
عمرو، دیکھو مابعد کی صفت ہے۔
ضمیر کی طرف میں نے مضاف کیا۔ "بعدُ" میں بھی اسی طرح دیکھ لیں: جَاءَنِی زَیْدٌ بَعْدَہٗ عَمْرٌو۔
آیا میرے پاس زید،
"بعدہ" کہ اس کے بعد عمرو تھا،
معلوم ہوا یہ بعد میں کون آیا؟
عمرو، تو بعد میں ہونا کس کی صفت؟
مابعد کی، بھئی۔
تو اگر معلوم ہوا "قبلُ" اور "بعدُ" کی اضافت اگر اسمِ ظاہر کی طرف کریں تو یہ ماقبل کی صفت ہوں گے اور اگر ان کی اضافت ضمیر کی طرف کریں تو یہ مابعد کی صفت ہوں گے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہی بات بیان کر رہے ہیں: وَإِذَا قُيِّدَتْ بِالْكِنَايَةِ، اور جب ان میں سے ان کو مقید کیا جائے کنایہ کے ساتھ۔ کنایہ سے مراد ہے ضمیر، بھئی۔ کیا مراد ہے؟
بھئی، دیکھیے ایک ہے لفظ کو صراحتًا ذکر کرنا
اور ایک ہے ضمیر کی صورت میں ذکر کرنا۔
تو اسمِ ظاہر کے ساتھ ذکر کیا تو آپ نے صراحتًا ذکر کر دیا ایک چیز کو،
اور ضمیر کے ساتھ ذکر کیا تو کنایتًا ذکر کیا، صراحتًا ذکر نہیں کیا، بھئی۔ تو اس لیے ضمیر کو کیا کہہ دیا؟ کنایہ کہہ دیا کہ یعنی صراحتًا نہیں ذکر کیا، کنایہ کے ساتھ کسی کو ذکر کیا۔
تو وَإِذَا قُيِّدَتْ بِالْكِنَايَةِ اور جب ان کو مقید کیا جائے کنایہ کے ساتھ، کیا معنی مقید کیا جائے کنایہ کے ساتھ؟
ضمیر کی طرف ان کی اضافت کی جائے، بھئی۔ تو پھر یہ کس کی صفت بنتے تھے؟
مابعد کی، وہی بیان کر رہے ہیں: کَانَتْ صِفَۃً لِمَا بَعْدَہَا، تو یہ صفت ہوں گے اپنے مابعد کے لیے۔ أَيْ إِذَا قُيِّدَ كُلٌّ مِنَ الْقَبْلِ وَالْبَعْدِ بِالْكِنَايَةِ، جب مقید کیا جائے ہر ایک کو "قبلُ" اور "بعدُ" میں سے کنایہ کے ساتھ۔ دیکھو وہی بات جو میں نے کی تھی "کلٌّ من الـ" وہ ضمیر کا مرجع بتلایا کہ "کل واحد" کی تاویل میں ہے۔
جب مقید کیا جائے "قبلُ" اور "بعدُ" میں سے ہر ایک کو کنایہ کے ساتھ، بِأَنْ يَقُولَ، بایں طور کہ یوں کہتا ہے خاوند: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ۔
ترکیب سمجھ لیں یہاں پر، بھئی۔
أَنْتِ طَالِقٌ
"أَنْتِ" ہے مبتدا، "طَالِقٌ" ہے اس کی خبر۔
"وَاحِدَةً"
أَیْ طَلْقَۃً وَاحِدَۃً یا طَلَاقًا وَاحِدًا، بھئی۔
یہ صفت ہے کس کی؟ مفعولِ مطلق کی،
اور "قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ"، "قبلَ" منصوب لفظاً مضاف، "ہا" ضمیر مضاف الیہ۔
اچھا، یہ "واحدةً" کو موصوف بنائیں، بھئی۔ کیا بنائیں گے؟ موصوف۔ یہ ہے تو وہی، مفعولِ مطلق کی صفت ہے لیکن کیا بن رہا ہے؟ موصوف۔
اچھا، "قَبْلَهَا" مضاف مضاف الیہ مل کر یہ ظرف ہے، بھئی۔ ظرف کے لیے ہمیشہ عامل چاہیے تو اس کے لیے "ثابتةٌ" نکالیں گے۔
کیا نکالیں گے؟
"ثابتةٌ"، اور "ثابتةٌ" یہ ہے خبرِ مقدم "ثَابِتَۃٌ قَبْلَہَا"، اور "وَاحِدَۃٌ" ہے مبتدائے مؤخر، بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، اور "ثابتةٌ" کے اندر ثابت ہے اس سے پہلے، "ثابتةٌ" نکالیں گے بلکہ کیا نکالیں گے؟ "ثابتةٌ"، کیونکہ ہمیں "ہیَ" ضمیر چاہیے کیونکہ خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ مبتدا سے، اور مبتدا ہے "وَاحِدَۃٌ" تو وہ مؤنث ہے تو عائد بھی کس قسم کا چاہیے؟
مؤنث چاہیے، تو "ثَابِتَۃٌ قَبْلَہَا"، تو "ثابتةٌ" کے اندر "ہیَ" ضمیر کس کو راجع؟
"وَاحِدَۃٌ" کو، اور اضمار قبل الذکر بھی نہیں، لفظوں میں سے تو اضمار قبل الذکر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے نہیں کیونکہ مبتدا کا رتبہ کیا ہوتا ہے؟ خبر پر مقدم ہوتا ہے۔
اچھا، اور "قَبْلَهَا"، "ہا" ضمیر کس کو راجع؟
یہ ماقبل میں جو "وَاحِدَةً" آیا تھا اس کو راجع، یہ ہے عائد، بھئی۔
پہلے "ثابتةٌ" میں عائد چاہیے تھا
وہ کس کے ساتھ جوڑنے کے لیے؟
مبتدا کے ساتھ، کیونکہ خبر کو جوڑتے ہیں مبتدا سے، تو اس کے اندر جو ضمیر ہے وہ "وَاحِدَۃٌ" کو راجع جو بعد میں آ رہا ہے۔
اور پھر یہ پورا جملہ بنے گا اور جملے کو صفت بنا رہے ہیں کس کی؟
"وَاحِدَةً" کی، تو جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑیں ربط چاہیے، عائد چاہیے، تو یہاں کون سا عائد، کون سی ضمیر ہے؟ یہ "قَبْلَهَا" کے ساتھ جو "ہا" ضمیر جڑی ہے یہ "وَاحِدَةً" کو راجع، تو یہ جملہ صفت بنے گا کس کی؟ "وَاحِدَةً" کی۔
ترکیب سمجھ میں آ گئی، بھئی؟
تو کہتے ہیں: بِأَنْ يَقُولَ، بایں طور کہ خاوند یوں کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ۔
ایک اور بات یاد رکھیے۔
کہ ماضی میں ایک شخص آج طلاق دیتا ہے بیوی کو لیکن ماضی میں اس کو واقع کرنا چاہتا ہے۔ مثلاً یوں کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ۔
طلاق ابھی دے رہا ہے اور کیا کہتا ہے؟ "أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ" تجھے گزشتہ کل میں طلاق ہے۔ تو یاد رکھیے یہ گزشتہ کل میں طلاق واقع کرنے پر اب قادر ہے؟ اب نہیں، وہ تو وقت گزر چکا۔ تو ماضی میں جب طلاق واقع کی جائے تو ماضی میں تو واقع ہو نہیں سکتی، وہ اسی وقت پھر اسی حال، حال میں واقع ہو جائے گی، بھئی۔
ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟
کہ ماضی میں طلاق واقع کی جائے تو کس وقت واقع ہوتی ہے؟
حال کے اندر واقع ہوتی ہے، اس، اسی وقت میں واقع ہو جاتی ہے، ماضی میں نہیں وہ واقع کر سکتا۔
تو کہتے ہیں: بِأَنْ يَقُولَ، بایں طور کہ خاوند یوں کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ تجھے طلاق ہے، وَاحِدَةً ایسی ایک طلاق، قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ کہ اس، تو یہ طلاق کس وقت دے رہا ہے؟ "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً"
فی الحال دے رہا ہے۔
یہ فی الحال دے رہا ہے۔
اور اس کے ایسی ایک طلاق، دیکھو "وَاحِدَةً قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ"، ایسی ایک طلاق کہ اس سے پہلے ایک ہے، یعنی وہ ایک کس میں گویا ہوئی؟
ماضی میں، اور ماضی میں تو یہ طلاق واقع، یہ ایک فی الحال ہے اور اس سے پہلے ایک ہے تو معلوم ہوا وہ تو کس میں ہوگی؟ ماضی میں، اور یہ ماضی میں بھی طلاق واقع کرنا چاہ رہا ہے اور ماضی میں تو طلاق واقع نہیں ہونی،
پھر؟
اسی وقت واقع ہوتی ہے، تو گویا اسی وقت وہ بھی واقع ہوگی اور یہ بھی، تو کتنی طلاقیں ہو جائیں گی؟ دو۔
دونوں اکٹھی ہو جائیں گی۔
وضعِ مسئلہ ہے غیرِ مطوعہ کے اندر۔ آگے پیچھے طلاقیں ہوئیں تو ایک واقع ہوگی اور اسی سے بائن ہو جائے گی، دوسری واقع نہیں ہو سکے گی۔ لیکن یہاں پر جو اس نے لفظ استعمال کر لیے، اس نے "قبلُ" کی اضافت کر دی ضمیر کی طرف، بھئی، اور جب ضمیر کی طرف اضافت کی تو اس صورت میں معلوم ہوا وہ کب طلاق واقع کرنا چاہتا ہے؟
ماضی میں، اور ماضی میں تو جو طلاق واقع کی جاتی ہے وہ بھی کس وقت واقع ہوتی ہے؟ حال میں، تو حال میں ایک تو یہ خود واقع کر رہا تھا اور ایک اس سے پہلے والی جو بتا رہا تھا وہ بھی حال میں، تو دونوں اکٹھی ہو جائیں گی، تو عورت کو کتنی طلاقیں ہو جائیں گی؟ دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے سب کو، بھئی؟
أَوْ بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ، بھئی۔
یہ بھی دوسری مثال ذکر کر دی لیکن آدھا جملہ حذف کر دیا: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ،
کیونکہ پہلی مثال سے اس کا پتہ چل رہا تھا اس لیے باقی لفظوں کو ذکر نہیں کیا۔ اب دیکھیے کیا معنی ہوگا؟
أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ
تجھے ایک ایسی طلاق ہے کہ اس کے بعد ایک طلاق ہے۔
تو أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً، یہ کس وقت واقع کر رہا ہے؟
یہ حال میں کر رہا ہے، اور ساتھ ہی کہہ رہا ہے: بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ کہ اس کے بعد ایک اور ہے۔
وہ اس کے بعد ہوگی،
تو کیا کتنی طلاقیں ہوں گی؟
ہاں ایک، کیونکہ پہلی ہوتے ہی وہ بائن ہو جائے گی، اس کے بعد دوسری طلاق بھی آنا چاہتی ہے، اس نے کہا اس کے بعد بھی ایک طلاق ہے، لیکن ایک سے وہ بائن ہو گئی، لیکن تو چنانچہ دوسری طلاق کیا ہو جائے گی؟ لغو ہو جائے گی، بھئی، لغو ہو جائے گی۔
اور ان دونوں صورتوں میں دیکھیے
"قبلُ" اور "بعدُ" کی اضافت ضمیر کی طرف کی ہے، اس صورت میں یہ کس کی صفت بنتے ہیں؟
مابعد کی۔
أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ
تجھے ایک ایسی طلاق ہے کہ اس سے پہلے ایک طلاق ہے، تو پہلے کون سی ہوئی جو بعد میں ذکر کر رہا ہے، یا کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ، تجھے ایک طلاق ہے اس کے بعد، تو یہ بعد میں ہونا کس کی صفت ہے؟
مابعد کی صفت ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟
فَتَكُونُ الْقَبْلِيَّةُ أَوِ الْبَعْدِيَّةُ صِفَةً لِمَا بَعْدَهَا فِي الْمَعْنَى، تو اس صورت میں جو پہلے ہونا اور بعد میں ہونا یہ صفت ہوگی اس کے مابعد کی
فِي الْمَعْنَى، کس اعتبار سے؟
معنیٰ کے اعتبار سے، بھئی۔ وَإِنْ كَانَتْ بِحَسَبِ التَّرْكِيبِ النَّحْوِيِّ صِفَةً لِمَا قَبْلَهَا، اگرچہ نحوی ترکیب کے اعتبار سے یہ کس کی صفت ہے؟
بھئی نحوی ترکیب تو میں نے آپ کو بتا دی، دونوں صورتوں میں "قبلُ" ہو یا "بعدُ"، "وَاحِدَةً" جو ہے لائے، پہلے "وَاحِدَةً"، "قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ" کہیں، یہ بھی "وَاحِدَةً" کی صفت، "وَاحِدَةً بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ"، تو "بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ" کس کی صفت ہے؟
"وَاحِدَةً" کی، تو نحوی اعتبار سے تو یہ دونوں صورتوں میں ماقبل ہی کی صفت ہے لیکن معنیٰ کے اعتبار سے کس کی صفت ہے؟ مابعد کی صفت کہ یعنی پہلے ہونا یا بعد میں ہونا یہ بعد والے میں ہوگا، بھئی۔
وَإِنْ كَانَتْ بِحَسَبِ التَّرْكِيبِ النَّحْوِيِّ صِفَةً لِمَا قَبْلَهَا، اگرچہ نحوی ترکیب کے اعتبار سے یہ صفت ہیں اپنے ماقبل کے لیے، فَيَقَعُ فِي الْأَوَّلِ طَلَاقَانِ، پس واقع ہو جائیں گی پہلی صورت میں دو طلاقیں،
وَفِي الثَّانِي طَلَاقٌ وَاحِدٌ، اور دوسری صورت میں ایک طلاق، یعنی "قبلُ" کی صورت میں ہو رہی ہیں دو طلاقیں، اور "بعدُ" کی صورت میں ایک طلاق۔
اچھا، آگے جو بات آئے گی اس کو بھی یہاں سمجھ لیں۔
وضعِ مسئلہ کس کے بارے میں ہے؟ غيرِ مطوعہ کے بارے میں، دیگر شارحِ منار نے اس کی تصریح کی ہے۔
مصنف سے، یعنی یہ
صاحبِ نور الانوار سے یہاں تسامح ہوا۔
وہ سمجھے شاید وضعِ مسئلہ عام ہے، بھئی،
یعنی یا وضعِ مسئلہ وہ سمجھے مطوعہ کے اندر ہے، بھئی۔
کس کے اندر ہے؟
چنانچہ وہ اپنی تقریر کریں گے لیکن میں نے بتا دیا یہ کیا ہے شارح کا تسامح ہے۔ غیر مطوعہ میں کریں تو دیکھیں بات کتنی واضح ہے، کہیں شبہ نہیں۔
اور مطوعہ میں کریں تو وہ کس طرح تقریر کرتے ہیں؟ دیکھیے ابھی
وہ یوں کہیں گے،
کہ بھئی جب کہا: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ
تجھے ایک ایسی طلاق ہے کہ اس کے بعد ایک طلاق، تو شارح کہیں گے دیکھو ایک تو ابھی واقع کر دی، أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً، اور آگے کیا کہا؟ بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ، اس کے بعد ایک اور ہے،
تو لفظوں کے اعتبار سے آپ غور کریں، خاوند طلاقیں
ابھی دے رہا ہے
لیکن ان میں ترتیب قائم کر رہا ہے۔
شارح کہیں گے کہ خاوند نے گویا پہلی طلاق ابھی واقع کی اور دوسری کے بارے میں کہا اس کے بعد ایک اور آئے گی،
ایک اور آئے گی،
ابھی میں نے دی نہیں لیکن آئے گی ایک اور طلاق، اس کے بعد میں دوں گا، اور شارح کہتے ہیں اس کا تو ابھی پتہ ہی نہیں۔
اس نے صرف بات کی ہے میں اس کے بعد ایک اور طلاق دوں گا، تو اس کا پتہ ہی نہیں، اس لیے ایک واقع ہوئی۔
اس لیے ایک واقع ہوئی کیونکہ اگلی کا صرف ابھی بتایا ہے، دی نہیں،
حالانکہ یہ شارح کا تسامح ہے، بھئی۔
وہ دونوں اکٹھی دے رہا ہے، ایک کے بعد ایک ہے،
ایک کے بعد ایک ہے، تو وہ دے دونوں اکٹھی رہا ہے، تو شارح کو یہ تاویل کرنا پڑی کہ ایک وہ صرف بتا رہا ہے کہ اس کے بعد ایک اور آئے گی، کیوں تاویل کرنا پڑی؟
کیونکہ اگر مطوعہ کا مسئلہ بنائیں
تو پھر تو دو ہو رہی ہیں،
دو ہو رہی ہیں یا نہیں؟
اور مسئلہ بنانا ہے کہ ایک ہونی چاہیے۔
"قبلُ" میں دو ہوئی ہیں یا نہیں؟
تو "بعدُ" میں کتنی ہونی چاہیے؟
اگر یہ تقریر شارح نہ کریں تو پھر تو دو ہو رہی ہیں اس پر بھی دو ہو رہی ہیں۔
تو معلوم ہوا وہ کہہ رہے ہیں دوسری والی طلاق ابھی دی نہیں صرف اس کا وعدہ کیا اس کا بتلایا ہے۔
اگر بتلایا نہ ہو تو پھر تو یہاں مطوعہ میں کتنی ہو جائیں گی؟
دو، حالانکہ ابھی مصنف نے بتلایا جہاں "قبلُ" میں دو طلاقیں ہوں گی وہاں "بعدُ" میں
تو اگر وہ یہ تقریر نہ کریں تو "قبلُ" میں بھی دو ہو رہی ہیں "بعدُ" میں بھی دو ہو رہی ہیں حالانکہ جہاں "قبلُ" میں دو ہوں وہاں "بعدُ" میں ایک ہونی چاہیے اور جہاں "بعدُ" میں دو ہوں وہاں "قبلُ" میں
ضابطہ تو یہی ہے اسی پہ چلنا ہے ہر حال میں، تو اگر غیر مطوعہ میں مسئلہ بناؤ تو بالکل واضح ہے، بھئی، اور دیگر شراح نے تصریح بھی کی ہے۔
اور اگر مطوعہ میں بنائیں تو پھر شارح والی تاویل کرنا پڑتی ہے، بھئی، تو شارح کو سے تسامح ہوا، ان کی اس بات کی طرف توجہ نہ رہی کہ شاید وہ سمجھے شاید یہ مسئلہ مطوعہ کے بارے میں ہے اور مطوعہ میں تو یہاں بھی دو طلاقیں آ رہی ہیں، اب کیا کریں؟ تو وہ کہنے لگے کہ دوسری کا ابھی پتہ ہی نہیں وہ آگے آئے گی کسی وقت، تو جس لیے ایک کی ہوئی ہے، بھئی۔
تقریر سمجھ میں ان کی آ گئی، بھئی، اچھی طرح؟
تو کہتے ہیں: وَفِي الثَّانِي طَلَاقٌ، دیکھو اب یہی تقریر کریں گے، دوسری صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہوئی، بھئی ایک کیوں واقع ہوئی؟ وجہ بیان کر رہے ہیں دونوں کی، پہلے میں دو ہوئیں اور دوسری میں ایک، کہتے ہیں: لِأَنَّ مَعْنَى الْأَوَّلِ، اس لیے کیونکہ پہلے کا معنیٰ یہ ہے: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً کہ تجھے ایک ایسی طلاق ہے الَّذِي سَبَقَتْهَا وَاحِدَةٌ أُخْرَى، کہ جس سے مقدم ہو چکی ہے ایک دوسری طلاق،
جس سے مقدم ہو چکی ہے ایک دوسری طلاق،
یعنی ماضی میں ایک طلاق دینا چاہ رہا ہے،
اور وہ تو ہو نہیں سکتی، تو حال میں ہی ہوگی: فَتَقَعَانِ مَعًا فِي الْحَالِ، اس لیے دونوں طلاقیں اکٹھی حال میں واقع ہو جائیں گی۔ وَمَعْنَى الثَّانِي، اور دوسری کا معنیٰ یہ ہے، دوسرے کلام کا جس میں "بعدُ" لایا: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً الَّتِي سَتَجِيءُ بَعْدَهَا أُخْرَى، کہ تجھے طلاق ہے ایک ایسی طلاق
الَّتِي سَتَجِيءُ بَعْدَهَا أُخْرَى، کہ جو عنقریب اس کے بعد دوسری آئے گی،
دیکھو آئے گی،
فَتَقَعُ هَذِهِ فِي الْحَالِ، تو یہ ایک تو ابھی واقع ہو جائے گی، وَلَا يُعْلَمُ مَا سَيَجِيءُ، اور اس کا پتہ ہی نہیں جو ابھی آئے گی، وہ تو ابھی آئی نہیں۔ بھئی تو ایک واقع ہوگی۔
مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں بھی آیا کہ ویسے ہی سر ہلا رہے ہیں، بھئی؟
وَإِذَا لَمْ تُقَيَّدْ كَانَتْ صِفَةً لِمَا قَبْلَهَا، اور جب اس "قبلُ" اور "بعدُ" کو مقید نہ کیا جائے کس کے ساتھ؟
ضمیر، کنایہ کے ساتھ یعنی ضمیر کے ساتھ،
تو یہ دونوں جو ہیں: كَانَتْ صِفَةً لِمَا قَبْلَهَا، یہ صفت ہوں گے کس کی؟
اپنے ماقبل کی، أَيْ إِذَا لَمْ يُقَيَّدْ كُلٌّ مِنَ الْقَبْلِ وَالْبَعْدِ بِالْكِنَايَةِ، جب مقید نہ کیا جائے ہر ایک کو "قبلُ" اور "بعدُ" میں سے بالکنایۃ، کنایہ یعنی ضمیر کے ساتھ، بِأَنْ يَقُولَ، بایں طور کہ خاوند یوں کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ، تجھے طلاق ہے ایسی ایک طلاق، تجھے ایک طلاق ہے "قبلَ واحدةٍ"، ایک طلاق سے پہلے،
پہلے،
کیا معنی ہوگا؟
تجھے ایک طلاق ہے
"قَبْلَ وَاحِدَةٍ"
یہ والی پہلے ہے،
اس کے بعد ایک اور آ رہی ہے، اس ایک سے یہ والی طلاق کیا ہے؟
پہلے ہے، تو دیکھو پہلے ہونا
بھئی، اس میں دونوں جگہ واحد واحد کا لفظ آ رہا ہے اس لیے آپ کو اشتباہ پڑ رہا ہے، اور مثال بناؤ: جَاءَنِی زَیْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو
آیا میرے پاس زید عمرو سے پہلے، تو پہلے ہونا کس کے لیے ہے؟
زید، کون پہلے آیا؟
زید پہلے آیا، "جَاءَنِی زَیْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو"، زید عمرو سے پہلے آیا، تو ماقبل والا مقدم ہے، صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح ہے: أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ، تجھے ایک طلاق ہے ایک طلاق سے پہلے،
معلوم ہوا پہلے کون سی ہے؟ ماقبل والی یا مابعد والی؟
ماقبل والی پہلے ہے۔
اور اس کے
بعد ایک ہے،
تو کتنی طلاقیں ہوں گی؟
توّجہ نہیں میرا خیال سبق کی طرف۔
ایک طلاق کون سی والی پہلے ہے؟ ماقبل والی۔ وہ پہلے ہے اور وہ تو فی الحال ہے، دوسری اس کے بعد ابھی مستقبل میں آنے لگی ہے۔ اب، اب ایک ابھی اور ایک مستقبل میں آ رہی ہے، کتنی طلاقیں ہوں گی؟ ایک ہی ہوگی، کیوں؟ کیونکہ وہ پہلی سے فی الحال والی سے بائنہ ہو گئی، اس کے بعد جو آ رہی ہے وہ لغو چلی گئی بھئی۔
اور تو معلوم ہوا پہلے ہونا ماقبل کی صفت ہے۔ اگر بعدُ کو لے آئیں: "أنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ"۔ دیکھو، دوسری پہلے مثال بناؤ: "جَاءَنِي زَيْدٌ بَعْدَ عَمْرٍو"۔ آیا میرے پاس زید، کس کے بعد؟ آیا میرے پاس زید عمرو کے بعد۔ معلوم ہوا ماقبل میں جو زید ہے، وہ پہلے ہے یا بعد میں ہے؟ بعد میں ہے۔ تو دیکھو بعد میں ہونا ماقبل کی صفت ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے۔ اگر یوں کہا "أنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ" تجھے ایک طلاق ہے ایک کے بعد۔ معلوم ہوا ماقبل والی "جَاءَنِي زَيْدٌ بَعْدَ عَمْرٍو"۔ آیا میرے پاس زید، کس کے بعد؟ عمرو کے بعد، تو بعد میں کون ہے؟ زید ہے نا۔ یعنی ماقبل والا بعد میں ہے، ماقبل والا ماقبل والا۔ یہاں بھی اسی طرح، "أنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ"۔ جو پہلے والی "وَاحِدَةً" ہے، وہ کب ہے؟ وہ بعد میں ہے۔ وہ بعد میں ہے۔ تو اور بعد والی پہلے ہے، تو وہ پہلے والی واقع ہو جائے گی۔ دیکھو نا، پہلے والی تو حال ہی میں ہے، ہے تو حال میں۔ لیکن پہلے یا بعد میں ہونا کس کی صفت ہے، صرف اس پہ نظر رکھیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں "جَاءَنِي زَيْدٌ بَعْدَ عَمْرٍو"۔ میرے پاس زید آیا، کس کے بعد؟ عمرو کے بعد۔ تو بعد میں کون؟ ماقبل والا، یہ زید کیا ہے؟ بعد میں ہے۔ کس کے بعد ہے؟ عمرو کے بعد، تو ماقبل والا بعد میں ہے، ماقبل والا ماقبل والا۔ یعنی بعد میں ہونا ماقبل کی صفت ہے۔
اب دیکھیے، یہاں پر بھی "أنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ"۔ "أنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً" یہ "وَاحِدَةً" تو ہے حال میں، یہ تو قطعی بات ہے۔ اب یہ بعد میں ہونا، یہ کس کی صفت ہے؟ ماقبل کی، کس کی صفت ہے؟ ماقبل کی، معلوم ہوا یہ حال والی بعد میں ہے، دوسری اس سے پہلے ہے۔ دوسری اس سے تو معلوم ہوا ماضی میں طلاق واقع کرنا چاہتا ہے، اور ماضی میں طلاق واقع کر سکتا ہے؟ نہیں۔ تو یہ ایک تو تھی ہی حال میں، وہ ماضی والی بھی حال میں آ گئی، دونوں اکٹھی واقع ہو جائیں گی، کتنی طلاقیں ہوں گی؟ دو ہو جائیں گی بھئی۔
معلوم ہوا قبلُ کی صورت میں یہاں ایک طلاق ہے، اور بعدُ کی صورت میں دو۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: "تَكُونُ الْقَبْلِيَّةُ وَالْبَعْدِيَّةُ صِفَةً لِمَا قَبْلَهَا فَيَقَعُ فِي الْأَوَّلِ طَلَاقٌ وَفِي الثَّانِي طَلَاقَانِ"۔ تو اس صورت میں پہلے ہونا اور بعد میں ہونا یہ صفت ہے ماقبل کے لیے، "فَيَقَعُ فِي الْأَوَّلِ طَلَاقٌ" پس واقع ہوگی پہلی صورت میں ایک طلاق، "وَفِي الثَّانِي طَلَاقَانِ" اور دوسری صورت میں دو طلاقیں۔ "لِأَنَّ مَعْنَى الْأَوَّلِ" اس لیے کیونکہ پہلے کلام کا معنی یہ ہے: "أنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً" تجھے ایک طلاق ہے "الَّتِي كَانَتْ قَبْلَ الْوَاحِدَةِ الْأُخْرَى" جو ایک دوسری طلاق سے پہلے ہے، یعنی وہ بعد میں آئے گی، بعد والی بعد میں آئے گی۔ "الْآتِيَةِ" دیکھو صفت بھی آگے لے آئے بھئی، ایک ایسی جو آگے آنے والی ہے۔ "فَتَقَعُ الْأُولَى" تو پہلی کیا ہوگی؟ واقع ہو جائے گی۔ "وَلَا يُعْلَمُ حَالُ الْآتِيَةِ" اور آنے والی کا تو حال ابھی معلوم نہیں۔ یہ شارح کی تقریر ہے کہ ابھی دوسری کا صرف بتایا ہے، دی نہیں۔ حالانکہ ہم نے بتایا وضع مسئلہ کس میں؟ غیر مدخولہ میں۔ تو بعد والی بھی آنا چاہتی ہے، دے اسی وقت رہا ہے، لیکن ایک کیا ہے؟ وہ لغو چلی گئی بھئی، یہ نہیں کہ اس کا آنے کا بھی حال معلوم نہیں ہے۔
"وَمَعْنَى الثَّانِي" اور دوسرے کا معنی یہ ہے: "أنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً الَّتِي كَانَتْ بَعْدَ الْوَاحِدَةِ" کہ تجھے ایک ایسی طلاق ہے کہ جس کے بعد ایک دوسری طلاق ہے، جو نہیں، "أنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً الَّتِي كَانَتْ بَعْدَ الْوَاحِدَةِ الْأُخْرَى الْمَاضِيَةِ" کہ تجھے ایک ایسی طلاق ہے جو ایک دوسری گزشتہ طلاق کے بعد ہے۔ تجھے ایک طلاق ہے جو ایک دوسری گزشتہ طلاق کے بعد ہے۔ تو ماضی میں واقع کرنا چاہتا ہے ایک کو، بعد والی کو ماضی میں کرنا چاہتا ہے، "فَتَقَعَانِ مَعًا" تو دونوں اکٹھی واقع ہو جائیں گی۔ "وَهَذَا كُلُّهُ فِي الطَّلَاقِ" اور یہ سارا مسئلہ کس میں، یہ ساری صورت طلاق کے اندر ہے، اس طرح ہوگا۔ "وَأَمَّا فِي الْإِقْرَارِ" اور اگر باقی اقرار کے اندر وہاں قبلُ اور بعدُ میں کیا ہوگا؟ کہتے ہیں: "فَيَلْزَمُ فِي قَوْلِهِ" کہ لازم ہوگا کسی شخص کے اس قول کے اندر: "لَهُ عَلَيَّ دِرْهَمٌ وَاحِدٌ قَبْلَ دِرْهَمٍ" فلاح کا مجھ پر ایک درہم ہے ایک درہم سے پہلے۔ تو اس صورت میں ایک درہم ہے ایک درہم سے ماقبل والا پہلے ہے۔ مابعد والا مابعد والا بعد میں ہے نا، اس سے یہ پہلے والا پہلے ہے۔ تو لہٰذا کہتے ہیں: "يَلْزَمُ دِرْهَمٌ" کیا لازم آئے گا؟ "فَيَلْزَمُ فِي قَوْلِهِ لَهُ عَلَيَّ دِرْهَمٌ وَاحِدٌ قَبْلَ دِرْهَمٍ" اس میں کیا لازم آئے گا؟ "دِرْهَمٌ وَاحِدٌ" ایک ہی درہم لازم آئے گا بھئی، کیونکہ ایک تو اس نے کہا ابھی ہے۔ اور یہ والا ایک دوسرے سے پہلے ہے، دوسرا اس کے بعد آنا ہے، لیکن دوسرا بھئی کوئی اس نے ایسا کوئی کام ہی نہیں کیا جس کی وجہ سے اس پر ایک اور درہم بھی واجب ہو جائے، تو ایک ہی درہم اس پر واجب ہوگا بھئی۔
"وَفِي الصُّوَرِ الْأُخَرِ" اور دوسری صورتوں کے اندر بھئی اس میں دیکھیے، قبلُ کی اضافت کس کی طرف کی؟ اس میں ظاہر کی طرف، باقی صورتیں یعنی قبلُ کی اضافت کس کی طرف ہو؟ ضمیر کی طرف، یا بعدُ ہو چاہے اس کی اضافت ضمیر کی طرف ہو یا اسم ظاہر، تو باقی تینوں صورتوں میں "يَلْزَمُهُ دِرْهَمَانِ" اس پر کتنے درہم لازم ہوں گے؟ دو درہم۔ "هَكَذَا قَالُوا" اسی طرح علماء نے فرمایا ہے۔
مسئلہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ "وَعِنْدٌ لِلْحَضْرَةِ" یا "وَعِنْدُ" اسی طرح بھئی، جیسے قبلُ اور قبلٌ پڑھا تھا۔ "وَعِنْدُ لِلْحَضْرَةِ" اور عندَ کا لفظ جو ہے "لِلْحَضْرَةِ" وہ موجودگی کے لیے ہے۔ بھئی آپ بھی کہتے ہیں "اَلْمَالُ عِنْدِي" مال میرے پاس ہے۔ مال میرے پاس ہے، تو یہ پاس موجودگی کے لیے آتا ہے۔ "فَإِذَا قَالَ لِغَيْرِهِ" جب کہا کسی نے کسی دوسرے سے: "لَكَ عِنْدِي أَلْفُ دِرْهَمٍ" کہ تمہارے میرے پاس ایک ہزار درہم ہیں، "كَانَ وَدِيعَةً" تو یہ کیا ہوگی؟ ودیعت امانت ہوگی، "لِأَنَّ الْحَضْرَةَ تَدُلُّ عَلَى الْحِفْظِ دُونَ اللُّزُومِ" اس لیے کیونکہ موجودگی یہ دلالت کرتی ہے حفاظت پر کہ اس کے پاس وہ کیا ہیں ایک ہزار بطورِ حفاظت کے طور پر ہیں، یعنی امانت کے طور پر ہیں، "دُونَ اللُّزُومِ" نہ کہ لزوم، یعنی یہ ایک ہزار اس پر ودیعت امانت کے طور پر ہوں گے نہ کہ دین کے طور پر، لزوم یعنی کیا معنی؟ دین، یعنی اس پر لازم نہیں ہوں گے دین کے طور پر نہیں ہوں گے۔ "لِأَنَّ عِنْدَ يَكُونُ لِلْقُرْبِ" اس لیے کیونکہ عندَ قرب کے لیے آتا ہے، قریب ہونے کے لیے آتا ہے، پاس ہونے کے لیے آتا ہے کہ میرے پاس ہیں۔ "وَالْقُرْبُ الْمُتَيَقَّنُ هُوَ قُرْبُ الْأَمَانَةِ دُونَ الدَّيْنِ" اور یقینی قرب وہ کون سا قرب ہے؟ پاس ہونا، وہ کون سا پاس ہونا یقینی ہے؟ بطورِ امانت کے ہونا یقینی ہے، البتہ دین کا اس میں احتمال ہے، لہٰذا اگر وہ دین کا لفظ ساتھ ذکر کر دیتا ہے "لِفُلَانٍ" یوں کہتا ہے: "لِفُلَانٍ عِنْدِي أَلْفُ دِرْهَمٍ دَيْنًا" تو اگر خود دین کا لفظ لے آئے تو دین کا اس میں احتمال تو تھا، اسی دین کو اس نے پکا کر دیا ہے اس احتمال کو کہ یہی مراد ہے، تو اب بطورِ دین کے آئیں گے، ورنہ اگر دین کا لفظ نہ ذکر کرے تو پھر کس طریقے پر آئیں گے؟ بطورِ امانت کے ہوں گے۔
"لِأَنَّ الْقُرْبَ الْمُتَيَقَّنَ هُوَ قُرْبُ الْأَمَانَةِ دُونَ الدَّيْنِ" اس لیے کیونکہ وہ یقینی قرب، یقینی پاس ہونا جو ہے وہ بطورِ امانت کے پاس وہ امانت کا پاس ہونا ہے نہ کہ دین کا، "لِأَنَّهُ مُحْتَمَلٌ" اس لیے کیونکہ دین جو ہے وہ اس کا احتمال ہے، "وَلِهَذَا إِذَا وَصَلَ بِهِ لَفْظَ الدَّيْنِ" پس اسی وجہ سے اگر اس نے اس کے ساتھ ملا دیا دین کے لفظ کو، "بِأَنْ يَقُولَ" بایں طور کہ یوں کہتا ہے: "لَكَ عِنْدِي أَلْفٌ دَيْنًا" تمہارے میرے پاس ایک ہزار بطورِ دین کے ہیں، "يَكُونُ دَيْنًا" تو اس صورت میں کیا ہو جائے گا؟ دین ہو جائے گا۔
"وَغَيْرٌ يُسْتَعْمَلُ صِفَةً لِلنَّكِرَةِ" اور غیرُ کا لفظ جو ہے وہ اس کو استعمال کیا جاتا ہے نکرہ کے لیے بطورِ صفت کے، "وَيُسْتَعْمَلُ اسْتِثْنَاءً" اور اس کو استعمال کیا جاتا ہے بطورِ استثناء کے بھی۔ یاد رکھیے استثناء کے لیے لفظ ہے إلاّ، اور غیرُ کا لفظ جس کو وضع کیا گیا ہے صفت کے لیے، کس کے لیے؟ صفت کے لیے۔ لیکن دونوں کبھی کبھار ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہو جاتے ہیں۔ إلاّ وضع تو استثناء کے لیے ہے لیکن کبھی کس طور پر آ جاتا ہے؟ صفت کے طور پر بھی آ جاتا ہے جیسے کلمے میں ہے "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ"، یہاں یہ إلاّ کس معنی میں ہے؟ یہ صفت کے لیے ہے، غیرُ کے معنی میں ہے بھئی۔
اور غیرُ وضع ہے صفت کے لیے لیکن یہ کبھی کس کے لیے آ جاتا ہے؟ إلاّ کے یعنی استثناء کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے۔
تو کہتے ہیں غیرُ جو ہے وہ صفت ہے نکرہ کے لیے اور استعمال کیا جاتا ہے اس کو استثناء کے لیے بھی، "لٰكِنَّ الِاسْتِعْمَالَ الْأَوَّلَ أَصْلٌ فِيهِ" لیکن پہلا استعمال اس کے اندر اصل ہے، یعنی کیا بنے؟ نکرہ کے لیے صفت بنے، "وَالثَّانِيَ تَبَعٌ" اور ثانی یعنی استثناء کے لیے ہونا وہ تابع ہے، "فَهُوَ أَيْضًا دَاخِلٌ فِي الظُّرُوفِ تَغْلِيبًا" تو یہ بھی داخل ہے ظروف کے اندر تغلیباً، تغلیب کے طریقے پر۔ بھئی غیرُ ظروف میں سے نہیں ہے اور یہاں تو ذکر ظروف کا چل رہا ہے، کہتے ہیں یہاں بھی ظروف کو اس پر غلبہ دیتے ہوئے اس پر بھی کیا لفظ بول دیا گیا؟ ظروف ہی کو لفظ بول دیا گیا، انہی میں اس کو شامل کر دیا گیا بھئی۔
جبکہ جبکہ محشی لکھتے ہیں کہ یہ یہ معلوم ہوا شارح کے پاس جو منار کا نسخہ تھا اس میں کچھ عبارت موجود نہیں تھی، ورنہ منار کے کہتے ہیں دوسرے نسخوں میں یہ عبارت موجود ہے: "وَمِنْهَا حُرُوفُ الِاسْتِثْنَاءِ" اور حروفِ معانی میں سے کیا ہیں؟ حروفِ استثناء بھی ہیں۔ تو اس کے مطابق پھر یہ غلبے والی تاویل کرنے کی ضرورت ہی نہیں، وہ اس کو الگ باقاعدہ ذکر کر رہے ہیں بھئی۔
"كَقَوْلِهِ" جیسے کسی شخص کا یہ قول: "لَهُ عَلَيَّ دِرْهَمٌ غَيْرُ دَانِقٍ بِالرَّفْعِ" جیسے کسی شخص کا یہ قول: فلاح کے مجھ پر ایک ایسا درہم ہے "غَيْرُ دَانِقٍ" جو دانق سے غیر ہے، "بِالرَّفْعِ" اس کو رفع کے ساتھ پڑھنا ہے، یعنی غیرُ پر کیا پڑھنا ہے؟ بھئی آگے مثال آئے گی وہاں غیرَ پڑھیں گے بھئی، رَ پر فتحہ پڑھیں گے بھئی، تو یہ یہ رفع والی صورت ہے۔
بھئی دیکھیے، "لَهُ عَلَيَّ دِرْهَمٌ" فلاح کا مجھ پر ایک درہم، اب آگے "غَيْرُ دَانِقٍ" دانق یا دانَق، نون پر کسرہ بھی صحیح اور نون پر فتحہ بھی ٹھیک ہے۔ دانق جو ہے یہ درہم کے چھٹے حصے کو کہتے ہیں، یعنی چھ دانق ملیں تو ایک درہم بنتا ہے بھئی، چھٹا حصہ ہے۔ اب ایک آدمی نے یہ کہا "لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ غَيْرُ دَانِقٍ"۔ یہ غیرُ پر اگر رفع پڑھے گا تو حکم بدل اور ہوگا، اگر اس پر نصب پڑے گا تو حکم اور ہوگا، اگر اس پر رفع پڑھا تو ماقبل میں کیا ہے؟ درہمٌ، وہ معرفہ ہے یا نکرہ ہے؟ نکرہ ہے، اور وہ مرفوع ہے، آگے "غَيْرُ دَانِقٍ" یہ بھی کیا ہوا؟ یہ بھی نکرہ اور اس پر بھی رفع ہے، معلوم ہوا یہ اس کو اس کی صفت بنا رہا ہے، کیونکہ موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، اور اگر اس نے "غَيْرَ دَانِقٍ" پڑھا تو معلوم ہوا یہ اس کو اس کی صفت نہیں بنا رہا، تو دونوں صورتوں میں مسئلہ الگ ہوگا۔ چنانچہ اگر اس نے "غَيْرُ دَانِقٍ" پڑھا "لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ غَيْرُ دَانِقٍ" فلاح کا مجھ پر موصوف صفت کا ترجمہ میں نے بتلایا تھا، موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں۔ فلاح کا مجھ پر ایسا درہم ہے "غَيْرُ دَانِقٍ" جو دانق سے غیر ہے، دانق سے الگ ہے۔ دانق اور چیز ہے درہم اور، تو فلاح کا مجھ پر ایسا درہم ہے جو دانق سے غیر ہے۔ تو کتنا آئے گا؟ کہتے ہیں ایک پورا درہم آ جائے گا۔ اور اگر غیرَ پڑھا "لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ غَيْرَ دَانِقٍ" فلاح کا مجھ پر ایک درہم ہے، اب صفت بنا رہا ہے؟ نہیں، تو اب استثناء والا ترجمہ کریں۔ فلاح کا مجھ پر ایک درہم ہے سوائے ایک دانق کے، یعنی ایک دانق کم ایک درہم ہے، تو اس صورت میں ایک دانق کم ایک درہم اس پر واجب ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں: "كَقَوْلِهِ لَهُ عَلَيَّ دِرْهَمٌ غَيْرُ دَانِقٍ بِالرَّفْعِ" کسی شخص کا جیسے یہ قول: فلاح کا مجھ پر ایک درہم ہے ایک ایسا درہم ہے جو دانق کے سے غیر ہے "بِالرَّفْعِ" کس کے ساتھ پڑھا؟ رفع کے ساتھ، "فَيَلْزَمُ دِرْهَمٌ تَامٌّ" تو اس پر لازم ہو جائے گا ایک پورا درہم، "لِأَنَّهُ حِينَئِذٍ صِفَةٌ لِلدِّرْهَمِ" اس لیے کیونکہ غیرُ کا لفظ اس وقت درہم کی صفت ہوگا، "فَيَكُونُ الْمَعْنَى" تو معنی کلام کا یہ ہو جائے گا: "لَهُ عَلَيَّ الدِّرْهَمُ الَّذِي هُوَ مُغَايِرٌ لِلدَّانِقِ" میرے اوپر فلاح کا وہ درہم ہے "الَّذِي هُوَ مُغَايِرٌ لِلدَّانِقِ" جو دانق سے مغائر ہے اس سے الگ ہے، "فَلَا يُسْتَثْنَى مِنْهُ شَيْءٌ" تو لہٰذا اس سے کسی شے کا استثناء نہیں کیا جائے گا۔ "فَيَلْزَمُ دِرْهَمٌ تَامٌّ"
تو اس پر کیا لازم ہوگا؟ جی، "فَلَا يُسْتَثْنَى مِنْهُ شَيْءٌ" تو لہٰذا اس درہم سے کسی شے کا استثناء نہیں ہوگا، "فَيَلْزَمُ دِرْهَمٌ تَامٌّ" تو اس پر ایک پورا درہم لازم ہوگا۔ "وَلَوْ قَالَ بِالنَّصْبِ" اور اگر وہ نصب کے ساتھ کہے، "كَانَ اسْتِثْنَاءً" تو یہ غیرُ کس لیے ہوگا؟ استثناء ہوگا، "فَيَلْزَمُهُ دِرْهَمٌ إِلَّا دَانِقًا" تو اس پر لازم ہوگا ایک درہم "إِلَّا دَانِقًا" مگر ایک دانق کم، "وَهُوَ مِقْدَارُ سُدُسِ الدِّرْهَمِ" اور دانق جو ہے یہ سدسِ درہم کی مقدار ہے، یعنی درہم کے چھٹے حصے کی مقدار ہے۔
"وَسِوَى مِثْلُ غَيْرٍ" اور سوا جو ہے یہ بھی کس کی طرح ہے؟ غیرُ کی طرح ہے، بھئی کیا معنی غیرُ کی طرح ہے؟ کہتے ہیں: "فِي كَوْنِهِ صِفَةً وَاسْتِثْنَاءً" اس کے صفت اور استثناء، یعنی یہ بھی کبھی صفت کے طور پر آتا ہے اور کبھی استثناء کے طور پر۔ "وَهُوَ ظَرْفٌ فِي الْحَقِيقَةِ" اور یہ سوا جو ہے اصل میں تو ظرف ہے، "لٰكِنْ لَمَّا كَانَ إِعْرَابُهُ تَقْدِيرِيًّا" لیکن جب اعراب اس کا تقدیری ہے، بھئی سوا اس کے آخر میں تو الفِ مقصورہ ہے، لہٰذا اس پر تو اعراب ظاہر ہو ہی نہیں سکتا۔ اعراب ظاہر ہو ہی، تو لازمی بات ہے اعراب تقدیری ہوگا، جب اعراب تقدیری ہوگا تو اب ہمیں پتہ نہیں چلے گا۔ اگر رفع ہوتا تو ہم صفت بناتے، نصب ہوتا تو ہم استثناء کے لیے بناتے، لیکن اعراب تو ہے تقدیری پتہ نہیں چل رہا، تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ کہنے والے کی نیت پر موقوف ہوگا بھئی، نیت پر موقوف ہوگا، اس سے پوچھا جائے گا تمہاری کیا نیت تھی؟ تم استثناء کرنا چاہتے تھے یا استثناء نہیں کرنا چاہتے تھے بھئی؟ تو اس کے مطابق بتلایا جائے گا مسئلہ۔
تو کہتے ہیں: "لٰكِنْ لَمَّا كَانَ إِعْرَابُهُ تَقْدِيرِيًّا يُحَالُ عَلَى النِّيَّةِ" جب اس کا اعراب جو ہے وہ تقدیری ہے تو اس کو حوالے کیا جائے گا نیت پر، "وَلَعَلَّ الْقَاضِيَ لَا يُصَدِّقُهُ فِي صُورَةِ التَّخْفِيفِ" اور شاید قاضی بھی اس کی تصدیق نہیں کرے گا تخفیف کی صورت میں۔ تخفیف کی صورت میں اس کی تصدیق بھئی اعراب کا تو پتہ نہیں چل رہا، اگر صفت کے طور پر بنائیں پھر تو استثناء نہیں ہوتا، کچھ نکلتا نہیں ماقبل میں سے، اور استثناء کے لیے بنائیں گے تو پھر ماقبل سے کسی چیز کا استثناء کر دے گا، اس کو نکال دے گا تو ماقبل کم ہو جائے گا بھئی۔ تو لہٰذا اگر یہ کہتا ہے میرا تو استثناء کا ارادہ تھا، تو کہتے ہیں شاید پھر قاضی اس کی تصدیق نہ کرے، کیونکہ یہ ایسی صورت کو اختیار کر رہا ہے وہ صورت بتلا رہا ہے جس میں اس کے لیے آسانی ہے۔ تو دلوں میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ شاید یہ کیا کر رہا ہے؟ اپنی آسانی کے لیے جھوٹ بول رہا ہے بھئی، اس لیے قاضی اس پر اس کی تصدیق نہیں کرے گا۔
"وَمِنْهَا حُرُوفُ الشَّرْطِ" اور حروفِ معانی میں سے حروفِ شرط ہیں، "فَإِنْ أَصْلٌ فِيهَا" پس اِن جو ہے ان حروفِ معانی کے اندر اصل ہے، "لِأَنَّهَا لَمْ تُسْتَعْمَلْ إِلَّا لِهٰذَا الْمَعْنَى" اس لیے کیونکہ یہ استعمال نہیں کیا جاتا مگر اسی معنی کے لیے۔ بھئی حروفِ شرط میں اِن اصل ہے، کیونکہ یہ صرف اسی معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کسی معنی کے لیے نہیں، آگے اِذا
آئے گا، إذا وغیرہ وہ ظرف کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں اور شرط کے طور پر بھی۔ جبکہ 'إن' صرف شرط کے لیے ہے، تو معلوم ہوا یہ اسی، اس میں اصل ہے بھئی۔
وغيرها، اور اس کے علاوہ جو ہیں، تستعمل لمعان أخر، وہ دوسرے معانی کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔
لمعان أخر بھئی، وہ استعمال ہوتے ہیں اور دوسرے معانی کے لیے بھی۔ ولهذا غلب إن، اور اسی وجہ سے مصنف نے غلبہ دیا 'إن' کو، فسمى الكل بحرف الشرط، پس سب ہی کو حرفِ شرط کہہ دیا۔ سب کا کیا نام رکھ دیا؟ حرفِ شرط۔ وإن كان بعضها اسم— بعضها اسماً، اگرچہ ان میں سے بعض کیا ہیں؟ بھئی آگے حروفِ شرط آ رہے ہیں نہ، حروفِ شرط میں 'إن' ہے، یہ تو حرف ہے لیکن آگے إذا، متى وغیرہ آئیں گے، وہ تو اسماء ہیں۔ تو کہتے ہیں بھئی چونکہ 'إن' اصل تھا، لہذا اس کو اصل کو باقی سب پر غلبہ دیتے ہوئے باقی سب کو کیا کہہ دیا؟ حروف کہہ دیا کہ حروفِ شرط بھئی۔
وإنما تدخل على أمر معلوم على خطر الوجود، اچھا بھئی، بھئی دیکھیے! 'إن' یہ بھی شرط کے لیے آتا ہے، 'لو' 'لو' بھی شرط کے لیے آتا ہے، 'إذا' 'إذا' بھی شرط کے لیے آتا ہے۔ لیکن 'إن' ایسے چیز کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے ہونے اور نہ ہونے میں شک ہو۔ وہاں کیا استعمال کرتے ہیں؟ 'إن'۔ یعنی جس کی امید ہے، قطعی نہیں۔ إن جاءني زيد، اگر زید میرے پاس آیا، تو دیکھو زید کا آنا، آنے کا بھی احتمال اور نہ آنے کا بھی۔
اور جہاں یقین ہو اس کے لیے 'إن' نہیں استعمال کرتے، وہاں 'إذا' استعمال کرتے ہیں۔ آپ کسی کو یہ نہیں کہہ سکتے: إن طلعت الشمس، اگر سورج طلوع ہوا تو میں یہ کام کروں گا، بھئی یہ 'إن' کا مقام نہیں ہے۔ سورج کا طلوع ہونا تو کیا ہے؟ یقینی ہے، تو وہاں 'إذا' استعمال کرتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور جس، اور جو محال ہو وہاں 'لو' استعمال کرتے ہیں۔ کیا استعمال کرتے ہیں؟ 'لو' استعمال کیا جاتا ہے جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: لو كان، لو كان فيهما آلهة إلا الله لفسدتا، اگر اس زمین اور آسمان میں اور معبود ہوتے اللہ کے علاوہ لفسدتا، تو ان کا نظام خراب ہو جاتا۔ خراب ہو جاتا۔ اور ان کا نظام تو خراب نہیں، معلوم ہوا اللہ کے علاوہ اور آلہہ بھی نہیں ہیں بھئی نہیں ہیں۔ تو دیکھو اور آلہہ کا ہونا ممکن ہی نہیں ہے بھئی، تو اس کے لیے کیا استعمال کیا گیا؟ 'لو' استعمال کیا گیا۔
تو جو چیز، جس چیز میں تردد ہو، اس کے ہونے کی امید توقع ہو، یقین نہ ہو، اس کے لیے لاتے ہیں 'إن'۔ اور جو یقینی ہو اس کے لیے لاتے ہیں 'إذا'۔ اور جو محال ہو اس کے لیے لاتے ہیں 'لو' بھئی۔
یہی بات بیان کر رہے ہیں: وإنما تدخل على أمر معدوم، اور یہ 'إن' جو داخل ہے، یہ داخل ہوتا ہے ایسے امر پر جو معدوم ہوتا ہے یعنی ابھی ہوا نہیں، لیکن على خطر الوجود، خطر کا معنی امکان، توقع بھئی، على خطر الوجود، لیکن اس کے ہونے کا، ہونے کی توقع ہوتی ہے۔ ليس بكائن لا محالة، اور وہ نہیں ثابت ہوتا قطعی طور پر، یعنی قطعی طور پر وہ ہونے والا نہیں ہوتا۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ قطعی طور پر وہ ہونے والا نہیں ہوتا یعنی اس میں تردد ہوتا ہے۔ فلا تستعمل فيما لم يكن على خطر الوجود، پس 'إن' کو استعمال نہیں کیا جاتا اس چیز کے اندر جس کے وجود کی توقع نہ ہو بھئی۔
جس کے وجود کی توقع، بھئی 'إن' کو کہاں استعمال کرتے ہیں؟ جس کے پائے جانے کی توقع ہو۔ جس کے پائے جانے کی توقع نہ ہو وہاں پر 'إن' کو استعمال نہیں کرتے، تو جو چیز جو ہے جو جس چیز کے پائے جانے کی توقع نہ ہو، بل محالاً، بلکہ وہ کیا ہو؟ محال ہو، وہاں پر 'إن' کو استعمال نہیں کیا جاتا، إلا بضرب من التأويل، مگر ایک نوع کی تاویل کے ساتھ۔ اگر ایسی جگہ آ گیا ایک چیز محال ہے اور وہاں 'إن' ذکر ہے، تو پھر کوئی تاویل کرنا پڑے گی کہ یہ 'إن' کس کے معنی میں ہے؟ 'لو' کے معنی میں ہے وغیرہ۔ لأنه، لأنه محل لو، اس لیے کیونکہ وہ تو محل کس چیز کا محل ہے؟ 'لو' کا ہے، ولا يستعمل على أمر كائن لا محالة، اور استعمال نہیں کیا جاتا 'إن' کو على أمر ایک ایسے معاملے میں كائن لا محالة جو قطعی طور پر ہونے والا ہو، اس میں بھی 'إن' کو استعمال نہیں کیا جاتا، إلا بالتأويل، مگر کسی تاویل کے ساتھ، لأنه محل إذا، اس لیے کیونکہ وہ 'إذا' کا محل ہے۔
فإذا قال، پس جب کہا خاوند نے اپنی بیوی سے: إن لم أطلقك فأنت طالق، اگر میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے۔ اگر میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے... فقہائے کرام پر اللہ کی کروڑہا رحمتیں ہوں بھئی! کتنے، کیسے کیسے مشکل سے مشکل جس کا امکان بھی تھا پیش آنے کا، ان سارے مسائل کو باقاعدہ دلائل کے ساتھ مزین کر کے لکھ دیا ہماری آسانی کے لیے بھئی، کہ کوئی اس طرح آئے، کوئی اس طرح مسئلہ پوچھنے آئے، اس طرح کا واقعہ آئے تو یہ مسئلہ ہوگا، یوں مسئلہ ہوگا، پہلے ہی سے سارا کچھ درج کر دیا۔ تو پس اگر کہا کسی خاوند نے اپنی بیوی سے: إن لم أطلقك فأنت طالق، اگر میں نے تجھے طلاق نہ دی تو تجھے طلاق ہے۔
کہتے ہیں لم، لم تطلق، لم تطلق ہے آپ کی کتابوں میں؟ تطلق ہونا چاہیے۔ لم تطلق، تو وہ عورت طلاق والی نہیں ہوگی، اسے طلاق نہیں ہوگی، حتى يموت أحدهما، یہاں تک کہ ان دونوں میں سے ایک مر جائے۔
بھئی خاوند نے یہ کہا نہ: اگر میں نے تجھے طلاق نہ دی، تو تجھے طلاق ہے۔ اور یہ قطعی طور پر پتہ نہیں چل سکتا، طلاق تو آگے مستقبل کی زندگی میں وہ کسی بھی وقت دے سکتا ہے، ساری زندگی کا وقت اس میں طلاق دے سکتا ہے، اور اس نے تو کیا کہا ہے؟ اگر میں نے تجھے طلاق نہ دی... تو آپ سال بعد کہیں کہ اس نے طلاق نہیں دی، طلاق ہونی چاہیے، نہیں بھئی ہو سکتا ہے آگے دے دے۔ اچھا دو سال بعد آپ کہیں بھئی اب تو طلاق ہو جانی چاہیے اس نے کہا تھا میں نے اگر طلاق نہ دی تو طلاق ہے، بھئی یہ تو ہو سکتا ہے آگے چل کر کیا کرے وہ؟ طلاق دے دے بھئی۔
تو ابھی بھی امکان ہے یا نہیں؟ امکان ہر اگلے دن میں امکان ہے، ہر اگلے لمحے میں امکان ہے شاید وہ طلاق دے دے۔ تو جب امکان ہے، ممکن ہے طلاق دینا اور اس نے تو کہا تھا کیا کہا تھا؟ اگر میں نے تجھے طلاق نہ دی، تو مستقبل کے اعتبار سے بات کی تھی، تو لہذا اس عورت کو آخری موت تک جو ہے طلاق نہیں ہوگی۔ موت تک... کیونکہ موت سے قبل ہر لمحے کے اندر طلاق دینا ممکن ہے۔
ہاں، جب موت کا وقت آ گیا خواہ خاوند کی، خواہ بیوی کی، عین موت کا وقت آ گیا بھئی، چند لمحے پہلے، جب صرف اتنا وقت رہ گیا، اب اس میں وہ أنت طالق بھی نہیں کہہ سکتا، ایک دو لمحے پہلے، تین لمحے پہلے کہہ لیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بس جب اتنا وقت کم ہو گیا کہ اس میں اب أنت طالق بھی نہیں کہہ سکتا، اب طلاق ہو جائے گی، کیونکہ اب تو طلاق وہ دے ہی نہیں سکتا، امکان ہی آگے نہ رہا اور اس نے بھی کیا کہا تھا؟ اگر میں تجھے طلاق نہ دوں، پہلے تو مستقبل میں ہر وقت کے اندر طلاق دینے کا امکان موجود تھا، جب امکان موجود تھا تو ابھی بھی شرط نہیں پوری ہوئی تھی، لہذا طلاق نہیں ہوئی تھی، لیکن اب جب موت کا وقت اتنا قریب آ گیا، اب تو طلاق دینے کا موقع ہی نہ رہا، تو اور اس نے بھی یہی کہا تھا، اگر میں تجھے طلاق نہ دوں، تو تجھے... تو لہذا اب طلاق واقع ہو جائے گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
لأن هذا الشرط لا يعلم قطعاً إلا حين موت أحدهما، اس لیے کیونکہ یہ شرط معلوم نہیں ہو سکتی قطعی طور پر مگر ان دونوں میں سے کسی ایک کی موت کے وقت، فإنه قبل الموت يمكن في كل حين أن يطلقها، اس لیے کیونکہ موت سے پہلے ممکن ہے ہر وقت کے اندر کہ وہ اسے طلاق دے دے، موت سے پہلے ہر وقت کیا ممکن ہے کہ وہ اسے طلاق دے، وہ ممکن تو ہے۔
فإذا لم يطلق، پس جب اس نے طلاق نہ دی، وشارف موت الزوج، شارف کا معنی قریب ہونا، وشارف موت الزوج، اور خاوند کی موت قریب آ گئی، تطلق، تو اب عورت کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی، وتحرم عن الميراث، اور یہ عورت میراث سے محروم ہو جائے گی، إن كانت غير مدخول بها، اگر یہ کیا ہوئی؟ غیر مدخول بہا ہوئی یعنی اس سے صحبت نہ کی، کیونکہ ایک طلاق ہوتے ہی فوراً کیا ہو جائے گی؟ بائنہ ہو گئی اور نکاح بالکل ختم ہوا۔
بخلاف ما إذا كانت مدخولاً بها، برخلاف اس کے اگر وہ عورت مدخول بہا ہوئی یعنی اس سے صحبت کر چکا ہے، لأن امرأة الفار ترث بعد الدخول، اس لیے کیونکہ امرأة الفار وہ وارث ہوتی ہے صحبت کے بعد۔
امرأة الفار، بھئی فارٌّ، ایک شخص ہے، وہ اپنی بیوی کو مرض الموت میں طلاق دیتا ہے، تو یہ رجلِ فارّ ہے، فارٌّ بھاگنے والا، فرار اختیار کرنے والا، یہ کیا ہے؟ رجلِ فارّ، اور اس کی بیوی ہے امرأةِ فارّ، امرأةِ فارّ۔
یا، یہ تو ایک صورت تھی مرض الموت میں طلاق دے رہا ہے، یا خاوند پر قصاص کا، اس نے کسی کو قتل کر دیا ہے، اب اس کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا، اب اس وقت یہ اپنی بیوی کو کیا کرتا ہے؟ طلاق دیتا ہے، تو یہ اس کی بیوی کیا کہلائے گی؟ امرأةِ فارّ، یہ خاوند فرار اختیار کرنا چاہتا ہے، وہ مرض الموت میں طلاق دی، یہ خاوند فرار اختیار کرنا چاہتا ہے، بھئی کس چیز سے فرار؟ اس بات سے فرار کہ یہ میری وارثہ نہ بنے۔
بھئی طلاق دینی تھی مرض الموت میں طلاق دے رہا ہے، بستر سے ہل بھی نہیں سکتا، اس وقت طلاق دے رہا ہے، بھئی طلاق دینی تھی تو پہلے دینی چاہیے تھی آپ کو، اب؟ اب طلاق دینے کا کیا معنی؟ اب تو آپ خود مرنے لگے ہو بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا اس کا صرف ایک ہی مقصد ہے طلاق دینے کا، کہ یہ چاہتا ہے اس کو میری وراثت میں سے کچھ نہ ملے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
لہذا، اگر عورت سے صحبت نہیں کی، پھر تو اسے کچھ نہیں ملے گا، لیکن اگر صحبت کر چکا ہے، پھر اس صورت میں یاد رکھیے! طلاق کے بعد بھی یہ عورت عدت کے اندر تھی کہ خاوند کا انتقال بھی ہو گیا، تو یہ عورت وارثہ بنے گی۔ ہاں عدت کے بعد خاوند کا انتقال ہوا پھر وارثہ نہیں بنے گی، پھر تو نکاح کا بالکل تعلق ہی ختم ہو گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لیکن جب تک عدت میں ہے، تو وہ عورت آگے اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتی، معلوم ہوا ابھی پچھلے نکاح کا کچھ نہ کچھ اثر باقی ہے، جبھی آگے نکاح نہیں کر سکتی، تو جب عدت گزر جائے، اس کے بعد خاوند کا انتقال ہوا ہے، تو پھر تو یہ عورت میراث سے محروم ہے، لیکن اگر عدت کے اندر خاوند کا انتقال ہوا تو اسے کیا ملے گی؟ میراث ملے گی۔
تو کہتے ہیں: بخلاف ما إذا كانت مدخولاً بها، برخلاف اس کے کہ وہ عورت اگر مدخول بہا ہوئی یعنی اس سے صحبت کر چکا ہے تو وہ وارث بنے گی، لأن امرأة الفار ترث بعد الدخول، اس لیے کیونکہ امرأة الفار جو ہے وہ وارث بنتی ہے صحبت کے بعد، وكذا إذا شارف موت المرأة، اور اسی طرح اگر قریب، جب اسی طرح جب قریب آ جائے عورت کی موت، تطلق البتة، تو اس وقت بھی اسے طلاق ہو جائے گی، عورت کی موت بالکل قریب آ گئی، اتنا وقت رہ گیا کہ جس میں اب خاوند، وہ ٹھیک تو ہے، لیکن وقت ہی اتنا تھوڑا ہو گیا کہ اس میں وہ أنت طالق کہہ ہی نہیں سکتا بھئی، اس کی روح بالکل نکلنے لگی ہے۔ تو اس صورت میں بھی تطلق البتة، طلاق ہو جائے گی اسے قطعی طور پر۔
تطلق البتة، تطلق البتة، یہ 'البتة' کا جو ہمزہ ہے، یہ ہمزہء وصلی ہے، یاد رکھیے بھئی! 'البتة' کا جو ہمزہ ہے وہ ہمزہء وصلی ہے، یاد رکھیے ہمیشہ یہ بات بھئی۔
یہ بات ذکر کی ہے بعض شارحینِ منار نے علامہ ابنِ حجر کے حوالے سے، کہ علامہ ابنِ حجر وہ لکھتے ہیں کہ یہ البتة، یہ بَتَّةٌ مصدر ہے نہ؟ بَتَّةٌ مصدر ہے، اسی پر الف لام داخل ہوا ہے، تو یہ وہ الف لام والا ہمزہ، وہ وصلی ہوتا ہے آپ جانتے ہیں۔ درجِ عبارت میں گر جاتا ہے۔
تو تطلق البتة، تو طلاق ہو جائے گی اسے قطعی طور پر، لأنه تحقق الشرط حينئذٍ، اس لیے کیونکہ شرط پائی گئی اس وقت، شرط کیا تھی؟ اگر میں تجھے طلاق نہ دوں، اور اس نے بھی طلاق نہیں دی، اب تو آگے کوئی امکان ہی نہیں ہے، تو اسے طلاق ہو جائے گی۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آیا؟
وإذا عند نحاة الكوفة تصلح للوقت والشرط على السواء، اور 'إذا' جو ہے... اچھا 'إذا' کے بارے میں یاد رکھیے۔ 'إذا' کے بارے میں اختلاف ہے کوفہ کے نحویوں کا اور بصرہ کے نحویوں کا۔ کوفہ اور بصرہ کے نحویوں کا اختلاف ہے، کس کے بارے میں؟ 'إذا' کے بارے میں بھئی۔
اچھا، کوفہ اور بصرہ کے نحویوں کا 'إذا' کے بارے میں اختلاف ہے، کوفہ کے نحوی کہتے ہیں کہ 'إذا' شرط کے لیے بھی آتا ہے اور وقت کے لیے بھی آتا ہے۔ شرط کے لیے اس کی وضع الگ ہے اور وقت کے لیے اس کی وضع... یعنی دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں۔ جب شرط کے لیے ہوگا تب ظرف، ظرفیت کے لیے نہیں ہے، اور جب ظرفیت کے لیے ہے اس وقت شرط کے لیے نہیں ہے بھئی۔ جبکہ بصرہ کے نحوی کہتے ہیں کہ یہ وقت کے اندر حقیقت ہے، کس کے اندر؟ وقت کے اندر حقیقت ہے، لیکن کبھی کبھار اس کو شرط کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے، اور جب شرط کے لیے بھی استعمال ہو تو اس وقت بھی اس میں وقت کا معنی پایا جائے گا۔
تو کوفہ کے نحوی کیا کہتے ہیں؟ یہ وقت اور شرط، پہلا قول ان کا ہے کوفہ والوں کا، کہ یہ شرط اور وقت دونوں کے لیے ہے۔
دیکھیے بھئی! کہتے ہیں: وإذا عند نحاة الكوفة تصلح للوقت والشرط على السواء، اور 'إذا' جو ہے کوفہ کے نحویوں کے نزدیک، یہ صلاحیت رکھتا ہے وقت اور شرط دونوں کی على السواء، برابری کے طریقے پر، فيجازى بها مرة ولا يجازى بها أخرى، پس اس کی جزا لائی جاتی ہے ایک مرتبہ، اور اس کی جزا نہیں لائی جاتی دوسری مرتبہ۔ یعنی فيجازى بها مرة، یعنی کبھی اس کی جزا لائی جاتی ہے، ولا يجازى بها أخرى، اور کبھی اس کی جزا نہیں لائی جاتی، يعني أنها مشتركة بين الظرف والشرط، یعنی یہ لفظ جو ہے مشترک ہے ظرف اور شرط کے اندر، فتستعمل تارة على استعمال كلم المجازاة، پس اس کو استعمال کیا جاتا ہے کبھی على استعمال كلم المجازاة، کلمِ مجازات یعنی کلماتِ شرط جن کے آگے جزا آتی ہے، کلماتِ شرط بھئی۔
تو کبھی اس کو استعمال کیا جاتا ہے على استعمال كلم المجازاة، کلماتِ شرط کے استعمال کے طریقے پر، من جعل الأول سبباً والثاني مسبباً، یعنی اول کو سبب اور ثانی کو مسبب بناتے ہوئے، ومن جزم المضارع بعدها، اور اس کے بعد مضارع کے مجزوم ہوتے ہوئے، مجزوم کرتے ہوئے، ودخول الفاء في جزائها، اور فا کے اس کی جزا میں داخل ہوتے ہوئے بھئی۔ یعنی اس کی جزا میں کیا داخل ہوگی؟ فا۔ بھئی تین چیزیں ہوں گی، جب 'إذا' دیکھو کس کے لیے آئے؟ شرط کے لیے آئے، تو تین چیزیں ہوں گی۔ اول سبب ہوگا، ثانی کیا ہوگا؟ مسبب، دوسری بات: فعلِ مضارع کو بھی یہ جزم دے گا اپنے بعد، تیسری بات: آگے جزا اس کے بعد فا بھی آئے گی جزا پر بھئی، کتنی چیزیں؟ تین، اول سبب ہوگا، ثانی مسبب، دوسری بات: یہ فعلِ مضارع کو اپنے بعد جزم بھی دے گا، تیسری بات: کہ جزا پر فا بھی داخل ہوگی۔
تو ایک یہ استعمال ہے، وتارة على استعمال كلمات الظروف من غير جزم ودخول فاء فيما بعدها، اور کبھی کبھار اس کو استعمال کیا جاتا ہے کلماتِ ظروف کے طریقے پر من غير جزم، بغیر کسی جزم کے و...
وغير ودخول فاء وإن وكان المذكور بعدها كلمتين على نمط الشرط والجزاء اگرچہ وان
ان سے پہلے یہ واو آئے یہ کیا ہے ان وصلیہ ہے بھئی اس کا معنی اگرچہ کے ساتھ کریں گے اگرچہ مذکور اس کے بعد دو کلیمے ہوں علی نمط شرط و جزاء کس طریقے نمط
طریقہ شرط اور جزا کے طریقے پر
شرط اور جزا کے
بھئی کبھی تو یہ شرط کے لیے ہی آئے گا وہاں تین چیزیں ضرور ہوں گی اول سبب ہوگا ثانی مسبب ہوگا نیز یہ فعل مضارع کو جزم بھی دے گا اور تیسری بات کہ اس کی جزا پر آگے فا داخل ہوگی
اور کبھی کبھار یہ ظرف کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس صورت میں یہ فعل مضارع کو جزم بھی نہیں دے گا اور جزا پر فا داخل نہیں ہوگا اگرچہ اس کے بعد شرط اور جزا والی صورت ہی کیوں نہ ہو دو کلیمے آ رہے ہیں لیکن پھر بھی
دو کلیمے ہیں شرط اور جزا کی صورت میں لیکن یہ پھر بھی صرف کس طریقے پر استعمال ہوگا
ظرف کے طریقے پر نہ جزم دے گا اور نہ اس کے بعد فا آئے گی
مثال الاولی پہلے کی مثال
واستغنی ما أغناك ربك بالغنی وإذا تصیبك خصاصة فتحمل
واستغنی اور تو بے پرواہ ہو جا بے نیاز ہو جا
ما بمعنی ما دام کے ہے بھئی
اور تو بے پرواہ ہو جا بے نیاز ہو جا
ما أغناك ربك جب تک کہ تجھے بے نیاز کر دے اغنا کا مالدار کرنا بے نیاز کرنا
جب تک کہ تجھے مال بے نیاز کر دے تجھے تیرا پروردگار بالغنی مالداری کے ساتھ
جب تک کہ تجھے تیرا پروردگار مالداری کے ساتھ
بے پرواہ کر دے استغنی تو بھی کیا کر تو بھی بے نیاز ہو جا بھئی جب تک اللہ تجھے بے نیاز کرتے ہیں مال دیتے ہیں تو بھی بے نیاز رہ کسی کی پرواہ نہ کر
وإذا تصیبك خصاصة
اور جب تجھے پہنچے خصاصہ کہتے ہیں تنگ دستی کو
اور جب تجھے تنگ دستی پہنچے یعنی فقر پہنچے
فتتحمل
تو اس کو برداشت کر
تو پھر اسے کیا کر برداشت کر یعنی صبر کر
یعنی جب تک تمہارا پروردگار تمہیں مالداری کے ذریعے بے نیازی کیے رکھے اس وقت تک بے نیازی سے رہو اور جس وقت
تو تنگ دستی آ جائے تو پھر اسے صبر کے ساتھ برداشت کرو بھئی
بعض روایتوں میں
تحمل میں حا کی جگہ جیم آیا ہے فتجمل
تو تو خوبصورت ہو جا آراستہ ہو جا
یعنی صبر کے ساتھ اپنے آپ کو آراستہ کر لے معنی مرادی معنی پھر بھی وہی
جب تک اللہ تجھے مالداری کے ذریعے بے نیاز کر دے تو بے نیازی سے رہ کسی سے کوئی چیز طلب نہ کر
اور جب
توجہ پر تنگ دستی بھی آ جائے فتجمل تو اپنے آپ کو آراستہ کر لے کس کے ذریعے
صبر کے ذریعے یعنی کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلا بھئی صبر کے ساتھ بھئی اپنے آپ کو آراستہ اور خوبصورت رکھ بھئی صبر کرتا رہ بھئی معنی سمجھ میں آگیا
مقام استشہاد ہے
تو وإذا تصیبك
اصل میں تھا إذا تصیبك
یا تو ساکن تھی
پھر اذا کی وجہ سے با بھی کیا ہو گئی؟ ساکن تو اجتماع ساکنین آیا تو یا گر گئی اذا تصیبك
دیکھو اذا نے فعل مضارع کو جزم دیا۔
اور فتحمل آگے جزا پر کیا آئی؟ فا بھی آئی بھئی فا بھی آئی
اور پے اور کیا شرط تھی؟
اول سبب ثانی جب تجھ پر تنگ دستی آئے تو اسے برداشت کر تو دیکھو تنگ دستی کا آنا سبب ہے
اس کو برداشت کرنا مسبب ہے بھئی
تو یہاں دیکھیے اذا شرط کے طور پر استعمال ہو رہا ہے
وَمِثَالُ الثَّانِي اور دوسرے کی مثال
وإذا تكون كريحةٍ ادْعَى لها
وإذا يحاسُ الحيث يُدْعَى جندبُ
وإذا تكون كريهةً
كريهةً کہتے ہیں
سخت جنگ بھئی
اور اسی طرح مصیبت اور تکلیف کو بھی کہتے ہیں بھئی
اور یہ کانہ تامّہ ہے بھئی
کان تامّہ ویسے تو کان ایک اسم کو چاہتا ہے ایک خبر کو لیکن کبھی صرف اسم پر ہی بات پوری ہو جاتی ہے صرف اسم کا تقاضا کرتا ہے اسے کیا کہتے ہیں کان تامّ
إذا تكون كريهةً
جب جنگ ہوتی ہے
ادْعَى لها
دعا یتدعو کے معنی کیا ہوتے ہیں؟
بلانا ادعی لہا
تو میں بلایا جاتا ہوں اس کے لیے
جب جنگ ہوتی ہے تو مجھے اس کے لیے بلایا جاتا ہے وإذا يحاسُ الحيث
حيث یہ عرب کا کوئی
خاص میٹھا
پکوان میٹھا کھانا تھا
کھجور
پنیر اور دیسی گھی سے وہ بنایا کرتے تھے بھئی
کھجور
پنیر اور دیسی گھی سے تو ایک خاص کوئی
خاص ڈش ہوتی تھی ان کی بھئی تو
اور یحاس
اسی سے اسی وہ حیض کو پکانا اسی کو کیا کہتے ہیں یحاس
وإذا يحاسُ الحَيْصُ
اور جب حیض پکایا جاتا ہے جب حیض تیار کیا جاتا ہے
يُدْعَى جندبُ
تو طلب کیا جاتا ہے جندب کو جندب کو بلا لیتے ہیں
جندب کسی آدمی کا نام ہے بھئی
شاعر کہتا ہے جب کوئی لڑائی تکلیف مصیبت آتی ہے اس وقت تو سارے دوڑے دوڑے میرے پاس آتے ہیں کہ آؤ بھئی ہماری مدد کو آؤ ہم مجھے اس وقت بلایا جاتا ہے اور جب کوئی خوشی اور راحت اور
کھانے پینے کا معاملہ ہوتا ہے تو اس وقت مجھے کوئی پوچھتا ہی نہیں جندب کو بلا کر لے آتے ہیں بھئی
تو یہ گلے کے طور پر تو یہ شعر اس موقع پر بولا جاتا ہے
جب
کوئی کسی کو غم میں تو یاد رکھے تکلیف میں تو یاد رکھے اور خوشی پر بھلا دے تو یہ شعر اس موقع پر بولتے ہیں بھئی
تو دیکھیے یہاں پر بھئی وإذا تكون
دیکھو تكون
اس کو جزم نہیں دیا اذا نے ورنہ تو تکون ہونا چاہیے تھا واو کو گرنا چاہیے تھا
اور پھر اسی آگے ادعی لہا پر فا بھی نہیں لائی گئی
اسی طرح وإذا يحاسُ دیکھو
يحاسُ یہاں پر بھی
اذا نے جزم نہیں دیا اور یُدعٰی جندب پر فا بھی نہیں داخل کی گئی
تو یہ دوسری کی مثال بھئی جس میں یہ صرف ظرف کے طور پر استعمال ہو رہا ہے
وإذا جوزی بها سقط عنها الوقت
اور جب اس کی جزا لائی جائے
سقط عنها الوقت
تو اسے وقت کا معنی ساقط ہو جائے گا
بھئی کوفہ والے کیا کہتے تھے کہ یہ وقت کی بھی اس میں صلاحیت ہے اور شرط کی بھی بھئی
تو وہی بات بیان کر رہے ہیں کہ جب اس کی جزا لائی جائے
یعنی اسے شرط کے طور پر استعمال کیا جائے تو سقط عنها الوقت
تو اسے وقت کا معنی ساقط ساقط ہو جائے گا کا انھا حرف شرط گویا کہ یہ حرف
شرط ہے
وقت والا معنی ہے ہی نہیں صرف یہ حرف شرط ہے وہ قول ابی حنیفہ رحمه اللہ اور یہ قول ہیں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا
وہ فرماتے ہیں کہ اذا
جب حرف شرط کے طور پر استعمال ہوگا
اس کی جزا جب آگے آئے گی تو یہ صرف حرف شرط ہے اس میں وقت والا معنی نہیں ہے
لانہ لما كانت
جی وجہ ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ یہ صرف حرف شرط کیوں ہوگا
وقت والا معنی کیوں نہیں ہوگا کہتے ہیں بھئی دیکھیے ابھی بیان ہو چکا
کہ یہ ظرف کے لیے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور شرط
معلوم ہوا یہ دونوں معنی میں مشترک ہیں اس کے دونوں معنی آتے ہیں
اور مشترک کا ایک وقت میں ایک ہی معنی مراد ہوتا ہے سارے معنی تو مراد نہیں ہوتے ورنہ تو عموم مشترک لازم آئے گا اور وہ تو جائز نہیں ہے تو یہاں بھی ایک ہی معنی مراد ہوگا اور جب یہ شرط کے لیے ہے تو پھر لازمی بات ہے ظرف والے معنی سے خالی ہوگا
لانہ لما كانت مشتركة بين الشرط والظرف ولا عموم للمشترك
و تعين عند إرادة أحد المعنيين بطلان الآخر بطلان الآخر ضرورة يقينية بديهية
وعند نحاة البصرة هي للوقت حقيقةً فقط
اور بصرہ کے نحویوں کے نزدیک یہ وقت کے لیے ہی ہے حقیقت صرف
یعنی یہ صرف کس کے لیے وضع ہے
وقت ہی کے لیے وضع ہے وہی اس کی حقیقت ہے
وقد تستعمل للشّرط من غير سقوط الوقت عنها
اور کبھی کبھار اس کو استعمال کیا جاتا ہے شرط کے لیے بھی من غير سقوط الوقت عنها
اس سے وقت کے معنی کے
ساقط ہوئے بغیر ہی علی سبيل المجاز
کس طریقے پر
مججاز
بھئی
بصرہ کے نحوی کہتے ہیں کہ اصل میں تو یہ وضح ہے وقت کے لیے لیکن کبھی کبھار اس کو کس معنی کے لیے استعمال کر لیتے ہیں شرط کے لیے بھی اور یہ اس کا مجازی معنی ہے لیکن جب شرط کے لیے استعمال ہوگا تو اس وقت بھی
اس میں وقت کا معنی ہوگا
وقت کے معنی سے یہ خالی
نہیں جبکہ امام صاحب کا مسلک اوپر گزر گیا کہ جب یہ شرط کے لیے ہوگا تو اس وقت وقت کے معنی سے یہ کیا ہوگا
خالی ہوگا
تو کہتے ہیں وقد تستعمل للشرط من غير سقوط الوقت عنها
اس سے وقت کے معنی کو ساقط کیے بغیر ہی علی سبيل المجاز
اس کو استعمال کیا جاتا ہے شرط کے لیے علی سبيل المجاز
کس طریقے پر
مجاز کے طریقے پر تو اس کا تعلق تستعمل لشرط سے ہے بھئی مثل متا متا کی طرح
متا کی طرح
فإنھا للوقت
اس لیے کیونکہ متا بھی کس کے لیے آتا ہے
وقت کے لیے آتا ہے لا يسقط عنها ذلك بحال
اور یہ وقت اس سے ساقط نہیں ہوتا کسی بھی حال میں
بھئی دیکھیے
متا
یہ اس کے ذریعے
کبھی سوال بھی کیا جاتا ہے
اور کبھی اس کو شرط کے طور پر استعمال کرتے ہیں
اور
یہ اصل میں وضع ہے وقت کے معنی کے لیے
اصل میں تو یہ وضح ہے وقت کے معنی کے لیے اور اس کو استعمال کس کے لیے کرتے ہیں
شرط کے لیے بھی اور استفہام سوال کے لیے بھی مثلاً سوال کی مثال
آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں مَتا تَجِيءُ
آپ کب تشریف لائیں گے؟
تو یہ سوال کر رہے ہیں آپ
اور کبھی کبھار شرط کے لیے آتا ہے
مَتا تَجْلِسْ أجْلِسْ
جب آپ بیٹھیں گے تو میں بیٹھوں گا
جب آپ بیٹھیں گے تو میں بیٹھوں گا
تو یہ شرط کے لیے ہے
لکین
چاہے استفہام کے لیے ہو
چاہے شرط کے لیے ہو
اس میں ظرف والا معنی
پھر بھی موجود ہے
مَتا تَجِيءُ
آپ کب آئیں گے
استفہام ہے
لیکن کس چیز کا پوچھ رہے ہیں
وقت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں
مَتا تَجْلِسْ أجْلِسْ
آپ جب بیٹھیں گے میں بیٹھوں گا
دیکھیے
شرط ہے
لیکن
کیا ذکر ہو رہا ہے مَتا تَجْلِسْ
اس میں وقت
جس وقت آپ بیٹھیں گے اس وقت میں بیٹھوں گا
تو جس طرح متا سے
وقت کا معنی جدا نہیں ہوتا
اسی طرح اذا کو جب شرط کے لیے استعمال کر لیں تو اس سے بھی وقت کا معنی جدا
نہیں ہوگا
تو کہتے ہیں یہ متا کی طرح ہے تو اس لیے کیونکہ وہ وقت کے لیے ہے لا يسقوط عنها ذلك بحال
اور وہ وقت اس سے ساقط نہیں ہوتا کسی بھی حال میں
وإذا لم يسقُطْ ذلك عن متا
مع وجود لزوم المجازات لها
باوجود اس کے کہ متا کے ساتھ مجازات لازم ہے
بھئی متا کو کس طریقے پر استعمال کرتے ہیں کبھی استفہام کے لیے کبھی شرط کے لیے تو
اصلی معنی کو چھوڑ کر جب مجازی معنی میں استعمال کرتے ہیں تو اسے کیا کہتے ہیں لزوم المجازات
تو متا کے ساتھ تو مجازات لازم ہے
پھر بھی اس سے وقت والا معنی ساقط
نہیں ہوتا
تو اذا جو ہے اس کے ساتھ تو مجازات لازم بھی نہیں ہے
تو اذا سے تو بطریقہ اولی وقت والا معنی جدا نہیں ہوگا بھئی
تو کہتے ہیں
وإذا لم يسقُطْ ذلك عن متا
اور جب یہ وقت والا معنی متا سے ساقط نہیں ہوتا مع وجود لزوم المجازات لها
باوجود اس کے کہ متا کے ساتھ مجازات لازم ہے
فالاولى أن لا يسقط ذلك عن إذا
تو بطریقہ اولی یہ وقت والا معنی اذا سے ساقط نہ ہو
مع عدم لزوم المجازات لها
باوجود اس کے کہ اذا کے ساتھ مجازات لازم
نہیں ہے
وھو قولھما
اور یہی قول ہے صاحبین کا بھی
أي أبى يوسف ومحمد رحمهما الله تعالی
یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ تعالی کا
ولكن يرد عليهما
لیکن ان پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے
أنَّه إذا لم يَسْقُطِ الوقت عنها
کہ جب إذا سے وقت کا معنی ساقط نہیں ہوا
يلزم الجمع بين الحقيقة والمجاز
تو لازم آئے گا جمع بین الحقیقت والمجاز
بصرہ والوں نے کہا
اصل میں تو اذا کس کے لیے ہے؟
وقت کے لیے اور وقت اس کا کیا ہے؟
حقیقی معنی ہے
اور جب اس کو شرط کے لیے استعمال کریں گے تو یہ کیا ہو جائے گا؟
مجاز ہو جائے گا
اور جب صاحبین فرماتے ہیں کہ اذا کو جب شرط کے لیے استعمال کریں گے تو اس میں وقت والا معنی بھی موجود رہے گا تو اس کا مطلب ہے اس میں
حقیقی معنی بھی پایا گیا اور مجازی معنی بھی پایا گیا تو یہ کیا بن گیا
جمع بین الحقیقت والمجاز
تو نحویوں نے صاحبین پر یہ اعتراض کیا کہ اگر تم اذا کو شرط کے لیے استعمال ہونے کے وقت بھی اس میں وقت کا معنی مانتے ہو تو اس کا مطلب ہے اس میں حقیقت اور مجاز دونوں جمع ہو گئے اور جمع بین الحقیقت والمجاز درست نہیں ہے
والجواب
اور جواب یہ
جواب یہ دیں گے
بھئی کہ حقیقت اور مجاز کا جمع کرنا
ارادے کے اعتبار سے جائز نہیں ہے
اگر بغیر ارادے کے جمع ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں
آپ ایک ہی وقت میں ایک لفظ سے اس کے حقیقی معنی کا بھی ارادہ کریں اور مجازی معنی کا بھی ارادہ کریں یہ درست نہیں
لیکن آپ ارادہ کریں ایک معنی کا اور دوسرا معنی خود بخود ساتھ آ جائے تو اس میں کوئی حرج
نہیں
والجواب اور جواب یہ
کہ أنَّها لم تستعمل إلا في الوقت الذي هو معنًى حقيقي لها
تو کہتے ہیں کہ یہ استعمال نہیں ہوتا مگر اس وقت کے اندر جو اس کا حقیقی معنی ہے
(يعني اس کو ہمیشہ وقت ہی کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے اور وقت کیا ہے اس کا حقیقی)
وشرط إنما لزم تضمنا
اور شرط جو ہے وہ اس کے ساتھ ضمنناً لازم ہو جاتی ہے
من غير إرادة
بغیر کسی ارادے کے
كالمبتدأ المتضمن لمعنى الشرط
جیسے کہ وہ مبتدأ
جو متضمن ہوتا ہے شرط کے معنی کو
جیسے کہ وہ مبتدأ جو کس کو متضمن ہوتا ہے
شرط کے معنی کو متضمن ہوتا ہے
بھئی یاد رکھیے
کبھی کبھار مبتدأ بھی متضمن ہوتا ہے شرط کے معنی کو
(یعنی اس میں شرط والا معنی آ جاتا ہے
جب مبتدأ میں شرط والا معنی آ جائے تو پھر اس کی خبر پر فا داخل کرنا جائز ہوتا ہے
اور یہ دو قسم کے
مبتدأ ہیں بھئی
قافیہ میں آپ تفصیل پڑھ چکے ہوں گے)
ایک وہ نکرہ جس کی صفت
فعل یا ظرف آئے
وہ نکرہ جس کی صفت کیا آئے؟
فعل یا ظرف
یہ مبتدأ متضمن ہوگا معنی شرط کو
اس کی خبر پر فا کا لانا جائز
مثسن میں کہتا ہوں
کل رجل
یہ ہے مبتدأ
اور اس کی صفت لائی گئی
کیا میں نے ذکر کیا تھا؟
وہ مبتدأ جس کی صفت کیا ہو؟
فعل یا ظرف
تو کل رجل
يأتينِي
یہ دیکھو کیا صفت آ گئی
فعل آ گیا
نکرہ کے بعد فعل آئے اس کے لیے کیا بنتا ہے عموماً صفت
تو یہ
کل رجل
يأتيني
فله درهم
تو آپ اس فا کو دیکھ کر شرط اور جزا والی ترکیب میں نہ شروع ہو جائیں یہ کل رجل
يأتيني
یہ موصوف صفت مل کر مبتدأ
اور
فله درهم
یہ پورا جملہ اس کی خبر ہے یہ خبر ہے
اور یہ فا کیوں لائے؟ کیونکہ مبتدا میں شرط والا معنی ہے جو شخص بھی میرے پاس آئے گا جو شخص بھی میرے پاس آئے اس کے لیے ہر وہ شخص جو میرے پاس آئے اس کے لیے ایک درہم ہے۔ اسی طرح کل رجل فی الدار، دیکھو کل رجل کی صفت کیا آئی؟ فی الدار ظرف، تو اس میں بھی کون سا معنی آ گیا؟ شرط والا، تو اس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے، کل رجل فی الدار فلہ درہم۔
اسی طرح وہ اسم موصول جس کا صلہ فعل یا ظرف ہو۔ وہ موصول کے لیے کیا چاہیے؟ صلہ۔ وہ مبتدا ایسا اسم موصول ہو جس کے صلہ فعل یا ظرف ہو، تو اس کے، وہ بھی متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، اس کی خبر پر بھی فا کا لانا جائز ہے۔
وہی مثال، الذی یاتینی فلہ درہم، الذی فی الدار فلہ درہم بھئی۔ تو کہتے ہیں، كالمبتدأ المتضمن لمعنى الشرط، جیسے کہ وہ مبتدا جو متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، یعنی اس میں خود بخود بلا ارادہ ہی کیا ہو جاتے ہیں؟ شرط والے معنی آ جاتے ہیں۔ اصل میں تو وہ مبتدا ہے لیکن اس میں شرط والے معنی آ جاتے ہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح "إذا" کو استعمال تو وقت کے معنی میں ہم کر رہے ہیں لیکن خود بخود اس میں کون سے معنی آ گئے؟ شرط والے بھی۔
حتی إذا قال لامرأته، یہاں تک کہ کہا اگر خاوند نے اپنی بیوی سے، إذا لم اطلقك فانت طالق، إذا لم اطلقك فانت طالق، اب بتائیے بھئی! امام صاحب کے نزدیک بھئی، یہ کس لیے "إذا" استعمال ہو رہا ہے؟ شرط، اور جب شرط کے لیے ہو تو اس میں ظرف والا معنی نہیں، تو ترجمہ کیا کریں گے؟ إذا لم اطلقك، إن لم اطلقك، اگر میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق، اور إن لم اطلقك فانت طالق کا مسئلہ پیچھے گزر چکا، کب ہوگی طلاق؟ موت کے بالکل قریب، جب دونوں میں سے کوئی مرنے لگے، اس وقت طلاق ہوگی۔ یہ کس کے نزدیک؟ امام صاحب کے نزدیک۔
جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ اگرچہ شرط کے لیے ہے، لیکن اس میں کون سا معنی ہے؟ وقت والا۔ وہ کہتے ہیں اس کا ترجمہ ہوگا: جب میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے۔ اور چنانچہ کہتے ہیں یہ بات کہتے ہی فوراً طلاق ہو جائے گی۔ امام صاحب کے نزدیک طلاق آخرِ عمر میں ہوگی، صاحبین کے نزدیک فوراً ہو جائے گی، کیونکہ اس میں وقت والا معنی ہے۔ گویا اس نے یوں کہا، ترجمہ میں نے کیا کیا؟ جب میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے۔ معلوم ہوا جب بھی ایسا مفہوم کیا ہوا؟ جب بھی کوئی ایسا زمانہ پایا گیا جس میں میں نے تجھے طلاق نہ دی ہو تو تجھے طلاق، تو جیسے ہی یہ بات کہہ کر فارغ ہوگا، ایک لمحہ گزر گیا، اس ایک لمحہ ایک زمانہ پایا گیا اور اس میں اس نے طلاق دی ہے؟ نہیں، تو اس نے کیا کہا تھا، جب بھی میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق، تو اگلے ہی لمحے میں فوراً کیا ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔
حتی إذا قال لامرأته، یہاں تک کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا، إذا لم اطلقك فانت طالق، جب میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے، لا يقع الطلاق عنده، تو طلاق واقع نہیں ہوگی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، ما لم يمت أحدهما، جب تک ان دونوں میں سے کوئی ایک مر نہ جائے، لأنه عنده بمنزلة حرف الشرط، اس لیے کیونکہ ان کے نزدیک یہ حرف شرط کے درجے میں ہے، وسقط معنى الوقت، اور اس سے وقت کا معنی ساقط ہو گیا، فصار كأنه، تو یہ اسی طرح ہو گیا، كأنه قال، گویا کہ اس نے یوں کہا ہے، إن لم اطلقك فانت طالق، وفي هذا، اور اس صورت کے اندر تو، لا يقع، طلاق واقع نہیں ہوتی، ما لم يمت أحدهما، جب تک ان دونوں میں سے کوئی ایک مر نہ جائے، یہ پیچھے گزر چکا۔
وقالا، صاحبین فرماتے ہیں، يقع، کہ طلاق واقع ہو جائے گی، كما فرغ، جیسے ہی وہ فارغ ہوگا۔ یہ "کاف" کس لیے ہے؟ کاف، یہ کبھی مفاجات کے لیے بھی آتا ہے، مفاجات کے لیے، یعنی فوراً ہی جیسے ہی وہ فارغ ہوگا بھئی فوراً ہی اس کو، وقالا يقع كما فرغ، صاحبین فرماتے ہیں طلاق واقع ہو جائے گی جیسے ہی وہ اس کلام سے فارغ ہوگا، مثل متى، کس کی طرح؟ "متى" کی طرح، اگر کوئی یہ شخص کہے: متى لم اطلقك فانت طالق، جب میں تجھے، وہی معنی، جب میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق، تو ایک لمحہ بھی بعد میں پایا گیا جس کے اندر طلاق نہ دی تو خود بخود کیا ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔
لأنه عنهما لا يسقط عنه معنى الوقت، اس لیے کیونکہ صاحبین کے نزدیک "إذا" سے وقت کا معنی ساقط نہیں ہوتا، فصار المعنى، تو کلام کا معنی یہ ہو گیا، في زمان لم اطلقك فانت طالق، کہ اس زمانے کے اندر جس میں میں نے تجھے طلاق نہ دی تو تجھے طلاق ہے، فإذا فرغ من هذا الكلام، پس جب خاوند اس کلام سے فارغ ہوا، وجد زمان لم يطلقها فيه، تو پایا گیا ایسا زمانہ جس میں اس خاوند نے اسے طلاق نہیں دی، ایک لمحہ ایسا پایا گیا، فيقع في الحال، تو طلاق فی الحال ہی واقع ہو جائے گی، كما في متى، جیسے کس کے اندر تھی؟ "متى" کے اندر، والدليل عليه، اور دلیل اس پر یہ ہے، صاحبین کی دلیل بھئی، أنه لو قال، کہ اگر اس خاوند نے یوں کہا ہو، أنت طالق إذا شئت، تجھے طلاق ہے إذا شئت، جب تو چاہے، لا يتقيد بالمجلس، تو یہ اختیار جو ہے، یہ مقید نہیں ہوگا مجلس کے ساتھ، كما شئت، جیسے کہ "متى شئت" کے اندر۔
بھئی دیکھیے! بعض اوقات کسی کو اختیار دیا جاتا ہے، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: أنت طالق إن شئت، تجھے طلاق ہے اگر تو چاہے، معلوم ہوا خاوند کیا کر رہا ہے؟ بیوی کو اختیار دے رہا ہے، اور یاد رکھیے! اختیار اختتامِ مجلس تک ہوا کرتا ہے۔ کب تک ہوتا ہے؟ اختتامِ مجلس تک۔ کیا معنی اختتامِ مجلس؟ جب تک وہ بیوی وہاں بیٹھی ہے، مثلاً تین گھنٹے وہاں بیٹھی رہی تو؟ نہیں نہیں، ایسا نہیں، یہ معنی نہیں مجلس کا۔ آپ بھی پڑھتے ہیں، اختیار مجلس تک باقی رہتا ہے، مجلس سے مراد وہ پورے جب تک وہ بیٹھا ہے وہ مراد نہیں ہوتا، مجلس سے مراد ہوتی ہے حالت، حالت، سمجھ میں آئی بات؟ حالت، یعنی جب تک کوئی ایسی چیز نہ پائی جائے، بھئی مجلس کہتے ہیں نا، خاوند نے بیوی کو اختیار دیا اور بیوی اٹھ کر چلی گئی، آپ کیا کہتے ہیں؟ اختیار ہے کہ ختم ہو گیا؟ ختم ہو گیا۔ کیوں؟ آپ کیوں کہتے ہیں اختیار ختم ہو گیا؟ وجہ یہ، کہ آپ نے اس کو اختیار دیا تھا، پھر وہ اٹھ کر جا رہی ہے، اس کا اٹھ کر جانا دلیل ہے اس بات کی کہ اس کو یہ بات پسند نہیں، وہ اس سے اعراض کر رہی ہے، اسی لیے، جب اس نے اعراض کیا، اس کا اختیار ختم ہو گیا بھئی۔
لہٰذا جب بھی وہ کوئی ایسا کام کرے چاہے وہیں بیٹھے بیٹھے کر لے، جو اعراض پر دلالت کرے، جیسے اٹھ کر جانا اعراض پر دلالت کرتا تھا، وہاں بیٹھے بیٹھے بھی کوئی ایسا عمل کر لے جو اعراض پہ دلالت کرے تو اختیار ختم ہو جائے گا۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا تجھے طلاق ہے اگر تو چاہے، اب اسے اختیار مل گیا طلاق کا، لیکن اس نے کیا کیا؟ بیوی نے وہیں بیٹھے بیٹھے بھئی موبائل نکالا اپنی سہیلی سے گپ شپ لگانا شروع کر دی۔ بھئی اس کا دوسرے کام میں مشغول ہونا معلوم ہوا اسے یہ بات پسند نہیں، وہ اس سے منہ موڑ رہی ہے، اگر اسے یہ بات پسند ہوتی تو اس سے کبھی بھی منہ نہ موڑتی، تو اس نے اعراض کیا، اب اگرچہ وہ وہیں بیٹھی ہے لیکن اس کا اختیار کیا ہوا؟ ختم ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
ہاں، اگر سہیلی سے اس نے اسی بات کے بارے میں مشورہ شروع کر دیا کہ مجھے اختیار دیا ہے بتاؤ میں کیا کروں؟ اب یہ اب یہ اعراض نہیں ہے، وہ تو اسی بات کے بارے میں کیا کر رہی ہے؟ مشورہ، تو لہٰذا جب بھی کوئی ایسا کام پایا جائے جو اعراض پر دلالت کرے تو اختیار ختم ہو جائے گا، تو مجلس سے مراد وہ بیٹھنا نہیں مراد ہوتا بلکہ وہ حالت مراد ہوتی ہے بھئی وہ حالت بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
تو اختیار اختتامِ مجلس تک ہوتا ہے یہ آپ پڑھتے آئے ہیں بھئی، لیکن یہ کب؟ اگر خاوند نے یوں کہا: تجھے طلاق ہے اگر تو چاہے۔ اور اگر خاوند یوں کہتا ہے: تجھے طلاق ہے إذا شئت، جب تو چاہے، اب؟ کہتے ہیں اب یہ اختیار مجلس کے بعد بھی رہے گا، کیونکہ خاوند نے کیا کہہ دیا؟ "إذا"، جب تو چاہے، جس وقت تو چاہے، خود ہی کھلی چھٹی دے دی اس کو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جیسے "متى شئت" کے اندر مجلس کے بعد بھی اختیار رہتا تھا، أنت طالق متى شئت، جب تو چاہے، تو جیسے "متى" کے اندر وقت والا معنی تھا، معلوم ہوا یہاں "إذا" کے اندر بھی کون سا معنی ہے؟ وقت والا معنی ہے، جبھی، جبھی فقہاء فرماتے ہیں کہ مجلس کے بعد بھی اسے اختیار رہے گا۔ معلوم ہوا یہاں "إذا" بھی کس معنی میں ہے؟ "متى" کے معنی میں ہے، اور "متى" میں تو کیا تھا؟ وقت کا معنی تھا، معلوم ہوا "إذا" میں بھی وقت کا معنی ہے، اور حالانکہ یہاں پر یہ شرط کے طور پر ہے، معلوم ہوا شرط کے طور پر بھی جب "إذا" استعمال ہو تو اس سے وقت کا معنی جدا نہیں ہوتا، یہ صاحبین کی دلیل ہے۔
والجواب، جواب یہ، جواب سمجھ لیجیے بھئی! جواب اس کا امام صاحب کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ بھئی دیکھیے، کہ جب کہا أنت طالق إذا شئت، ہاں، ہمارے نزدیک بھی اس صورت میں اختیار مجلس کے بعد بھی اسے رہے گا، لیکن اس وجہ سے نہیں کہ "إذا" "متى" کے معنی میں ہے، کس معنی میں ہے؟ وجہ اس کی ہے کہ یہاں علماء کے دو قول آ گئے، بعض نے کہا کہ یہ اس وقت اس میں وقت والا معنی نہیں، بعضوں نے کیا کہا؟ اس میں وقت والا معنی ہے۔ اب عورت کا، عورت کو اختیار تو مل گیا بالاتفاق، دونوں گروہوں کے نزدیک جب کہا نا أنت طالق إذا شئت، عورت کو اختیار ملا یا نہیں؟ تو اختیار کا ملنا تو یقینی ہے، لیکن مجلس کے اختتام پر یہ اختیار ختم ہوگا یا نہیں؟ اس میں شک آ گیا۔
کیا آ گیا؟ شک آ گیا۔ اگر اس کو "إن" کے معنی میں لیں تو مجلس کے اختتام پر اختیار بھی ختم، اور اگر "إذا" کو "متى" کے معنی میں لیں تو مجلس کے بعد بھی باقی رہے گا۔ تو اختیار کے ملنا تو یقینی ہے اس میں تو کسی قسم کا شک نہیں، اور اختیار کے ختم ہونے میں شک آ گیا، اور شک کی وجہ سے ایک یقینی چیز ختم نہیں ہو سکتی، لہٰذا اس لیے بعد میں بھی اس کا اختیار باقی رہے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اختیار کے منقطع ہونے میں شک آیا اس لیے، کیونکہ اليقين لا يزول إلا باليقين، یقین زائل نہیں ہوتا مگر کس کی وجہ سے؟ یقین ہی کی وجہ سے، یا یوں کہیں اليقين لا يزول بالشك، شک کی وجہ سے یقین زائل نہیں ہوتا، یعنی یقینی چیز زائل نہیں ہوتی، تو یہاں اختیار کا ملنا تو یقینی، لیکن اختیار کے ختم ہونے میں شک، اگر "إن" کے معنی میں لیں تو اختیار ختم، "إذا" کو "متى" کے معنی میں لیں تو اختیار ختم نہیں، تو اب شک آ گیا دونوں طرف علماء گئے ہیں کہ پتہ نہیں اختیار ختم ہوا یا ختم نہیں ہوا، تو اختیار کا ملنا تو یقینی تھا، تو شک کی وجہ سے وہ انقطاع نہیں آئے گا، انقطاع میں شک ہے تو شک کی وجہ سے انقطاع نہیں آئے گا، بعد میں بھی اختیار رہے گا بھئی۔
یہ معنی ہے والجواب عنه، اور جواب اس سے یہ ہے کہ، أنه تعلقت الطلاق بالمشيئة، کہ خاوند نے معلق کر دیا طلاق کو اس عورت کی مشیئت کے ساتھ، فوقع الشك في انقطاعه، تو شک واقع ہو گیا اس کے منقطع ہونے میں، یہ جو طلاق معلق ہے کس کے ساتھ؟ مشیئت کے ساتھ، اس کے منقطع ہونے میں کیا آ گیا؟ شک آ گیا، فلا ينقطع، تو شک کی وجہ سے وہ منقطع نہیں ہوگا۔
وفيما نحن فيه، اور اس صورت میں جس میں ہم ہیں، وقع الشك في الوقوع في الحال، اچھا! اور باقی اس عورت کو بھئی امام صاحب نے کیا فرمایا تھا؟ إذا لم اطلقك فانت طالق، امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ موت کے وقت طلاق ہوگی، اور صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ اس کے فوراً بعد طلاق ہو جائے گی، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں، کہ بھئی کہ یہ "إذا"، یہ "إذا" یا تو "إن" کے معنی میں ہے یعنی اس میں وقت کا معنی نہیں، ایک قول کے مطابق، اور دوسرا قول لیا جائے تو اس میں وقت والا معنی ہے، تو اگر اس کو "إن" کے معنی میں لیں تو طلاق واقع ہوتی ہے آخرِ عمر میں موت کے وقت پر، اور اگر اس میں وقت اس کو "متى" کے معنی میں لیں تو اس صورت میں طلاق اس کلام کے فوراً بعد ہی واقع ہو جائے گی، تو علماء کا اختلاف آ گیا بھئی، اب ایک قول کی طرف دیکھیں تو اس کے فوراً بعد کیا آنی چاہیے؟ طلاق ہونی چاہیے، اور دوسرے قول کو دیکھیں تو موت کے وقت طلاق ہونی چاہیے، تو طلاق کے واقع ہونے میں شک آ گیا، طلاق کے واقع ہونے میں شک آ گیا، لہٰذا شک کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی، یقین ہو پھر تو واقع ہوگی، یقین نہیں تو پھر طلاق بھی واقع، لہٰذا بات وہی جو امام صاحب نے فرمائی کہ طلاق کب واقع ہوگی؟ ہاں، کیونکہ طلاق کے واقع ہونے میں شک آ گیا، تو لہٰذا اب واقع نہیں ہوگی۔
وفيما نحن فيه، اور اس مسئلے میں جس کے اندر ہم ہیں، وقع الشك في الوقوع في الحال، واقع ہوا شک اس طلاق کے واقع ہونے میں فی الحال، فلا يقع بالشك، لہٰذا طلاق واقع نہیں ہوگی شک کی وجہ سے، وهذا كله إذا لم ينو شيئا، اور یہ سارا اس وقت ہے جس وقت خاوند نے کوئی نیت نہ کی ہو، أما إذا نوى الوقت أو الشرط، ہاں، باقی اس وقت جب اگر اس نے نیت کی ہو وقت کی یا شرط کی، فهو على ما نوى، تو یہ اسی پر ہوگا جس کی اس نے نیت کی ہے، یعنی جیسی نیت کی ہے اسی کے مطابق مسئلہ ہوگا، اگر اس نے وقت کی نیت کی ہے تو پھر فوراً ہی طلاق ہو جائے گی، اور اگر اس نے صرف شرط کی نیت کی ہے تو موت کے وقت طلاق ہوگی۔
وإذا ما مثل إذا، بھئی یہ متن نہیں ہے، یہ اس پر لکیر کھینچی ہوئی ہے لیکن یاد رکھیے یہ متن نہیں ہے، یہ شارح بتلا رہے ہیں، کہ "إذا" کے ساتھ کبھی "ما" بھی لگ جاتا ہے، تو وإذا ما مثل إذا، یہ بھی کس کی طرح ہے؟ "إذا" کی طرح ہے، ولكنه لم ينفك عنه معنى المجازاة بالاتفاق، لیکن اس سے جدا نہیں ہوتا مجازات کا معنی بالاتفاق بھئی۔ "إذا" سے تو کبھی مجازات کا معنی جدا ہو جاتا تھا، صرف کس معنی میں آتا تھا؟ ظرفیت کے معنی میں، اور کبھی مجازات کے لیے، لیکن "إذا" کے ساتھ جب "ما" آ جائے یعنی "إذا ما"، تو پھر اس سے مجازات کا معنی کبھی بھی نہیں جدا ہوتا، یعنی جب بھی آئے گا یہ کلمہ مجازات کے طور پر آئے گا یعنی اس کے ساتھ جزا آئے گی بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔