درس نمبر۔66
والى انتهاء الغاية أي انتهاء المسافة أطلق عليها الغاية إطلاقا للجزء على الكل على ما قيل، ثم بيان قاعدة أنه أي أي موضع تدخل الغاية فيه وأي موضع لا تدخل فقال:
گذشتہ سبق میں ہم نے الی کی بحث شروع کی تھی، حروفِ معانی میں سے الی بھئی۔ مصنف نے آپ کو بتلایا والى انتهاء الغاية الی جو ہے وہ انتہائے غایت کے لیے آتا ہے۔
اس پر اشکال ہوا تھا بھئی کہ غایہ بھی انتہا کو کہتے ہیں، تو معنا کلام کیا ہوا کلام الی و الی انتہائے انتہائے یہ تو کوئی بامعنا کلام نہ ہوا۔
تو شارح نے آپ کو بتلایا تھا الی انتہائے المسافات کہ غایہ سے کیا مراد ہے؟ مسافت مراد ہے۔ تو غایہ جو ہے انتہا کو کہتے ہیں اور یہ مسافت کا جز ہے بھئی۔ مسافت کا جز تو جز بول کر کل مراد ہے، یعنی غایہ بول کر مسافت مراد ہے۔ غایہ بول کر مسافت مراد ہے۔ یہ معنا ہے أطلق عليها الغاية إطلاقا للجزء على الكل على ما قيل۔
ثم بیان قاعدة، پھر مصنف نے ایک قاعدہ بیان کیا کہ کس مقام پر غایہ جو ہے مغیا میں یعنی میں داخل ہوگا اور کس مقام پر غایہ مغیا میں داخل نہیں ہوگا۔ بھئی الی آتا ہے غایہ کے لیے، الی کا ما بعد ہے غایہ اور الی سے ما قبل ہوا مغیا۔ تو کس مقام پر الی کا ما بعد ما قبل کے حکم میں داخل ہوگا اور کس مقام پر داخل نہیں ہوگا۔
یاد رکھیے! یہاں پر چار مذاہب ہیں بھئی اس بارے میں۔ چار مذاہب یہ آپ کے حاشیہ میں بھی دیے ہوئے ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ الی کا ما بعد مطلقاً الی کے ما قبل کے حکم میں داخل ہوگا۔ یعنی ہمیشہ غایہ مغیا کے حکم میں داخل ہوگا مطلقاً۔
بعض علماء اس طرف گئے کہ غایہ کبھی بھی مغیا میں داخل نہیں ہوگا، یعنی پہلے مذہب کا عکس۔ پہلوں نے تو کہا تھا کہ غایہ ہمیشہ مغیا میں داخل ہوتا ہے۔ اور بعض کیا کہتے ہیں کہ غایہ کبھی بھی مغیا میں داخل نہیں ہوتا، نہیں ہوتا۔
اور تیسرا بھی, بعض علماء اس طرف گئے کہ اگر غایہ مغیا کی جنس میں سے ہے، تو پھر غایہ مغیا کے حکم میں داخل ہوگا اور اگر غایہ مغیا کی جنس سے نہیں ہے تو پھر اس صورت میں غایہ مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہوگا۔
جبکہ چوتھا مذہب یہ ہے کہ غایہ مغیا کے اندر داخل ہونا یا نہ ہونا، اس کا اس کا پتہ الی سے نہیں چلے گا۔ اس کے لیے مستقل کوئی الگ دلیل چاہیے بھئی۔ الگ کوئی دلیل آکر بتلائے گی کہ غایہ مغیا کے حکم میں داخل ہے یا غایہ مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہے بھئی، یہ کسی الگ دلیل خارجی سے پتہ چلے گا، الی سے پتہ نہیں چل سکتا اس کا۔
اور مصنف کا بھی پسندیدہ مذہب یہی ہے، اسی کی یہ تفصیل بیان کر رہے ہیں آگے بھئی کہ الی کا ما بعد ما قبل کے حکم میں کب داخل ہوگا اور کب داخل نہیں ہوگا، اس کے لیے اب وہ ضابطہ بیان کرنے لگے ہیں۔
ضابطے کا خلاصہ گزشتہ سبق کے آخر میں بھی کچھ میں نے مختصرًا بیان کیا تھا کہ بھئی غایہ پر نظر کریں، اگر غایہ اپنی ذات کے اعتبار سے قائم ہو، یعنی قائم بنفسه ہو تو اس صورت میں غایہ مغیا میں داخل نہیں ہوگا۔ یعنی غایہ میں دو صورتیں بنتی ہیں: یا وہ قائم بنفسه ہوگا یا قائم بنفسه نہیں ہوگا۔ اگر قائم بنفسه ہے، تو پھر وہ داخل نہیں۔ और اگر اگر وہ قائم بنفسه نہیں، تو پھر اس صورت میں پھر دیکھیں کہ غایہ صدر کلام غایہ کو شامل تھا یا شامل نہیں؟ اگر شامل تھا، پھر تو یہ داخل ہوگا اور اگر شامل نہیں تھا یا اس کے شامل ہونے میں شک تھا، تو پھر بھی داخل نہیں ہوگا۔
یعنی خلاصہ کیا ہوا؟ غایہ اگر قائم بنفسه ہو، تو پھر بھی داخل نہیں۔ اگر قائم بنفسه نہیں ہے، تو پھر وہ صدر کلام اس کو شامل ہوگا یا شامل نہیں؟ اگر شامل ہے، پھر تو داخل ہوگا اور اگر شامل نہیں ہے یا شامل ہونے میں شک ہے، تو اس صورت میں بھی غایہ مغیا میں داخل نہیں ہوگا بھئی۔
يہي بات بيان كر رهے ہیں، کہتے ہیں فأن كانت الغاية قائمة بنفسها اگر غایہ جو ہے وہ خود ہی قائم ہو كقوله جیسے کسی شخص کا یہ قول من هذه الحائط إلى هذه الحائط اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک۔
تو دیکھیے! اس میں ایک شخص نے دوسرے کے لیے مثلاً اقرار کرتا ہے لزيد من هذه الحائط إلى هذه الحائط زید کے لیے اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک ہے، تو دیوار کے دو دیواروں کے درمیان کی جگہ کا تو اس نے زید کے لیے اقرار کر لیا۔ اب یہ دو دیواریں بھی داخل ہوں گی یا داخل نہیں ہوں گی بھئی؟ یہ بھی زید کی ہو جائیں گی یا زید کی نہیں ہوں گی؟ اگر یہاں غایہ مغیا میں داخل ہے، پھر تو یہ بھی زید کی ہوئیں۔ اور غایہ مغیا میں، یعنی مسافت میں ایک ہے ابتدائے غایہ، ایک ہے انتہائے غایہ۔ کہا نا یہاں سے یہاں تک، تو ایک کس کے لیے ہے؟ ابتدائے غایہ ہے ابتدا والی، ایک غایہ ہے انتہا والی۔
تو اب یہ داخل ہوگی یا داخل نہیں بھئی؟ تو کہتے ہیں، اگر آپ وہی ضابطہ ذہن میں رکھیں کہ غایہ اگر قائم بنفسه ہو، تو داخل ہے، داخل نہیں! اور اگر قائم بنفسه نہیں تو پھر صدر کلام اس کو شامل ہے یا شامل نہیں؟ اگر شامل ہے تو داخل ہوگا، اور اگر شامل نہیں ہے یا اس کے شامل ہونے میں شک ہے، تو بھی داخل نہیں ہوگا۔
تو کہتے ہیں یہاں پر غایہ جو ہے قائم بنفسه ہے، دیوار خود قائم ہے بھئی۔ دیوار خود قائم ہے، تو لہذا لا تدخل الغايتان في الإقرار، اس صورت میں یہ دونوں غایہ، دونوں غایہ، کون کون سے دونوں غایہ؟ ایک غایہ ابتدا اور ایک غایہ انتہا، یہ دونوں داخل ہوں داخل نہیں ہوں گے اقرار کے اندر، تو ان دو دیواروں کے درمیان کی جگہ تو زید کے لیے ثابت ہو گئی، لیکن یہ دو دیواریں زید کے لیے ثابت نہیں بھئی۔
دیکھیے خود آگے تفصیل بھی کر رہے ہیں، کہتے ہیں فإن الحائط فأن الحائط غاية قائمة بنفسها اس لیے کیونکہ دیوار وہ ایسی غایہ ہے جو قائم بنفسه ہے، خود قائم ہے۔ بھئی! قائم بنفسه کا کیا معنی؟ خود قائم ہے۔ خود شارح تفصیل بیان کر رہے ہیں ای موجودۃ قبل التکلم کہ وہ تکلم سے پہلے ہی موجود ہو۔
اور اس شخص کے یہ کہنے سے من هذه الحائط الى هذه الحائط کیا پہلے دیوار کا وجود تھا یا نہیں تکلم سے پہلے؟ تکلم سے پہلے بھی اس کا وجود تھا۔ تو ایک تو یہ شرط ہے۔ قائم بنفسه کس کو کہیں گے کہ ایک تو یہ کہ موجودۃ قبل التکلم کہ وہ تکلم سے پہلے ہی موجود ہو۔ دوسری شرط غیر مفتقرۃ في وجودها إلى المغيا وہ محتاج نہ ہو اپنے وجود کے اندر مغیا کی۔ وہ اپنے وجود کے اندر مغیا کی محتاج نہ ہو۔ یعنی اس کا اپنا الگ وجود ہو۔
آگے مثال آئے گی جیسے بھئی کہونیاں، کہونیاں۔ قران میں اللہ کیا فرماتے ہیں: فاغسلو وجوهکم و أيديکم إلى المرافق۔ اب یہاں مرافق ایدی کے اندر داخل ہیں یا داخل نہیں دھونے کے اندر؟ تو دیکھیے ایدی ان کا وجود تو ہے، لیکن الگ نہیں ہے، ید کا اطلاق یاد رکھیے! انگلیوں کے سرے سے لے کر کندھے تک جو بازو ہے سارا، اس سارے بازو کو ید کہتے ہیں عربی میں۔ تو غایہ یعنی کہونیاں اپنے وجود میں ید کی محتاج ہوئیں، ید ہے تو کہونی ہے، ید نہیں تو کہونی بھی نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہاں پر جب کہ یہاں پر یہ جو دیوار ہے، یہ اس زمین کی محتاج نہیں اپنے وجود میں بھئی۔ یہ زمین ہے تو دیوار ہے، یہ زمین نہیں تو دیوار بھی نہیں، ایسا نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو دو شرطیں ذکر کیں موجودۃ قبل التکلم، قائم بنفسه کا کیا معنی؟ کہ وہ تکلم سے پہلے موجود ہو اور وہ اپنے وجود میں مغیا کی محتاج نہ ہو، یعنی اس کا اپنا الگ وجود ہو۔ یہ ہے قائم بنفسه کا معنی۔
تو یہ دیواروں کی دیوار کے اندر یہ دونوں شرطیں پائی جا رہی ہیں، تکلم سے پہلے بھی موجود ہیں اور اپنے وجود میں مغیا کی محتاج بھی نہیں فلا تدخلان في المغيا تو یہ دونوں غایہ جو ہیں یعنی ابتدائے غایہ اور انتہائے غایہ یا غایہ ابتدا اور غایہ انتہا یہ دونوں داخل نہیں ہوں گی مغیا کے اندر۔
و احترزنا بقولنا موجودۃ قبل التکلم، شارح فرماتے ہیں کہ ہاں یہ جو ہم نے دو قیدیں ذکر کیں، دونوں کے ذریعے کچھ چیزوں سے احتراز کیا۔ پہلی جو ہم نے قید ذکر کی کون سی؟ موجودۃ قبل التکلم کہتے ہیں ہم نے احتراز کیا اپنے قول موجودۃ قبل التکلم کے ذریعے، کس سے احتراز کیا؟ عن الآجال المضروبۃ للديون والثمانِ۔ مغروب۔ ضرب کا ایک معنی بیان کرنے کے بھی آتے ہیں، یہاں مضروب بمعنی بیان کیا ہوا، آحال اجل کو کہتے ہیں مدت بھئی، مقررہ وقت۔ تو کہتے ہیں ہم نے موجودۃ قبل التکلم کے ذریعے احتراز کیا ان مدتوں سے المضروبۃ جو بیان کی جائیں للديون والثمانِ ديون اور ثمن کے لیے۔ بھئی! ديون اور ثمن میں کبھی مدت بیان کی جاتی ہے کہ آپ سے مثلاً میں بیٹھ کرتا ہوں کہ یہ کتاب میں نے آپ کو 100 روپے میں بیچ دی۔ اور مدت مقرر کر لیتے ہیں کہ ٹھیک ایک مہینے بعد آپ اس کے پیسے ادا کر دیں گے۔ تو یہ جو مدت بیان کی گئی دیون اور ثمن کے لیے۔ ان سے احتراز کیا۔ ان سے کیا کیا؟ کس قول کے ذریعے؟ موجودۃ قبل التکلم۔ اب بھئی دیکھیے یہ جو مدت ہے، مثلاً میں کہتا ہوں بھئی آپ رمضان کے مہینے تک پیسے دیں گے۔ کب تک دیں گے؟ اب رمضان کا اپنا الگ وجود ہے، اپنا کیا ہے؟ لیکن قبل التکلم یہ موجود ہے جو بیان ہو رہا ہے وہ تو آنے والے رمضان کی بات ہو رہی ہے، وہ تو وہ تکلم سے پہلے اس کا وجود ہی نہیں، وہ تو بعد میں وجود آئے گا تو اس سے ہم نے احتراز کیا بھئی۔ ان کا اگرچہ اپنا مستقل وجود تو ہے۔ ہم نے یہی کہا تھا کہ مستقل اپنا وجود بھی ہو اور تکلم سے پہلے بھی موجود ہو۔ ان کا ایک شرط تو اس میں پوری ہے یہ، ان کا اپنا الگ وجود تو ہے، لیکن دوسری شرط پوری نہیں، کیا شرط تھی؟ تکلم سے پہلے تو یہ تکلم سے پہلے ان کا وجود ہونا چاہیے اور ان کا وجود تو تکلم سے پہلے نہیں ہے، تو ان سے ہم نے احتراز کیا بھئی۔ یہ قید اسی لیے لگائی تاکہ یہ بھی اس سے نکل جائیں، کیونکہ یہ تکلم سے یہ ا لہذا یہ قائم بنفسه نہیں کہیں گے ان کو۔ ان کو قائم بنفسه نہیں کہیں گے، اگرچہ ان کا اپنا الگ وجود ہے، لیکن تکلم سے پہلے یہ موجود نہیں ہیں۔
تو کہتے ہیں واحترازنا بقولنا موجودة قبل التکلم کہتے ہیں اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ کے ضابطے کے مطابق تو اس کو داخل نہیں ہونا چاہیے تھا اس اسرا میں، لیکن یہ تو اس اسرا میں داخل ہے بھئی۔
تو جواب دیں گے آگے، کہ بھئی، یہ جو مسجد الاقصیٰ کے اندر، بیت المقدس کے اندر حضور صلى الله عليه وسلم تشریف لے گئے، یہ اس آیت سے نہیں ثابت، آیت سے تو ضابطے کے مطابق یہی بات ثابت، ظاہر ہو رہی ہے کہ اندر تشریف نہیں لے گئے، لیکن اس کا ثبوت احادیثِ مشہورہ سے ہے۔ کس کے ذریعے؟ احادیثِ مشہورہ کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ حضور، آیت سے اس کا علم نہیں ہوتا ضابطے کے مطابق بھئی۔
تو کہتے ہیں: "واما دخول المسجد دخُولُ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى"، اور باقی مسجدِ اقصیٰ کے اندر داخل ہونا "فِي قَوْلِهِ تَعَالَى" اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر: "سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى"، پاک ہے وہ ذات جو رات کے وقت لے گئی، اسرا کہتے ہیں رات کا سفر جو ہے اس کو اسرا کہتے ہیں۔ جو رات کے وقت لے گئی "بِعَبْدِهِ"، اپنے بندے کو، "لَيْلًا"، یہ تقلیل کے لیے ہے بھئی۔ تنوین آئی اور کس لیے ہے؟ تقلیل کے لیے، قِلت، کمی بتلانے کے لیے، یعنی رات کے ایک چھوٹے سے حصے کے اندر۔ "مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ"، مسجدِ حرام سے، "إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى"، کنا، دور کی مسجد تک۔
بھئی، اس کا معنیٰ میں نے دور کی مسجد تک کا کیا بھئی۔ اب اگرچہ وہاں مسجدِ اقصیٰ موجود ہے بھئی، لیکن اس کا معنیٰ مسجدِ اقصیٰ کے نہیں کیے، میں نے کیا معنیٰ کیا؟ دور کی۔ وجہ یہ بھئی، کہ مسجدِ اقصیٰ، اسی قرآنی لفظ کو دیکھتے ہوئے اس مسجد کا نام مسجدِ اقصیٰ رکھا گیا۔ اس وقت مسجدِ اقصیٰ وہاں موجود، بیت المقدس تو تھا، لیکن اس کا نام مسجدِ اقصیٰ نہیں، مسجدِ اقصیٰ بعد میں، بعد میں بنی ہے بھئی، اور اس کا نام اسی آیت سے اخذ کرتے ہوئے مسجدِ اقصیٰ رکھا گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو بس، تو اس لیے دور کی مسجد بھئی۔
فبال، تو کہتے ہیں یہ جو باق، مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہونا "فَبِالْأَخْبَارِ الْمَشْهُورَةِ لَا بِالنَّصِّ"، یہ اخبارِ مشہورہ کے ذریعے ہے، یعنی احادیثِ مشہورہ کے ذریعے ہے، "لَا بِالنَّصِّ"، نص کے ذریعے، یعنی آیت کے ذریعے نہیں ہے ثابت یہ۔
"وَإِنْ لَمْ تَكُنْ قَائِمَةً بِنَفْسِهَا"، اور اگر غایہ وہ قائم بنفسہا نہ ہو، خود قائم نہیں ہے، تو پھر دیکھیں گے کہ صدرِ کلام اس کو شامل تھا یا شامل نہیں تھا۔
تو کہتے ہیں: "فَإِنْ كَانَ صَدْرُ الْكَلَامِ مُتَنَاوِلًا لِلْغَايَةِ"، پس پھر اگر صدرِ کلام جو ہے وہ شامل ہوا غایہ کو، "كَانَ ذِكْرُهَا لإِخْرَاجِ مَا وَرَاءَهَا فَتَدْخُلُ"، تو اس کا ذکر، غایہ کا ذکر، وہ نکالنے کے لیے ہے اس کے مابعد کو، اس کے، اس کے بعد والوں کو، اس کے پیچھے والوں کو نکالنے کے لیے ہے، "فَتَدْخُلُ"، تو غایہ خود داخل ہو جائے گی بھئی، مغیا کے حکم میں۔
بھئی دیکھیے، ادھر دیکھیے بھئی۔ انہوں نے کہا اگر غایہ خود قائم نہ ہو، یعنی اس کا اپنا الگ وجود نہ ہو۔ جیسے بھئی کہنیاں، کہنیوں کا اپنا الگ وجود نہیں، ید جس کا اطلاق ہاتھ کی انگلیوں کے سرے سے لے کر کندھے تک جو بازو ہے سارا، اس سار ے کو ید کہتے ہیں عربی میں، اور اسی کا ایک جز کہنی بھی ہے، تو یہ ید ہے تو کہنی ہے، یہ ہاتھ نہیں تو کہنی بھی نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ قائم بنفسہا نہیں۔ جب قائم بنفسہا نہیں تو پھر دیکھیں گے کہ یہ صدرِ کلام اس غایہ کو شامل تھا یا شامل نہیں تھا۔
یعنی جو الیٰ سے ماقبل تھا، اس میں یہ داخل تھے، غایہ اس میں داخل تھا یا داخل نہیں تھا۔ تو جب قرآن میں اللہ نے فرمایا: "فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ"، تم دھوؤ اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو، تو اب بتائیے بھئی، ایدی کے اندر کہنی آگئی یا نہیں آگئی؟ آگئی، تو یہ صدرِ کلام اس کو شامل تھا۔ تو پھر اس کے بعد جب غایہ کے بعد اس کو ذکر کیا گیا، تو یہ بتلانے کے لیے کہ اس کے مابعد، اس سے جو پیچھے کا حصہ ہے، یعنی کہنی سے اوپر بازو کی طرف کا جو حصہ، کندھے کی طرف کا جو حصہ ہے، وہ اس کو نکالنے کے لیے اس کو ذکر کیا جاتا ہے۔
جب یہ پہلے خود صدرِ کلام میں شامل تھی، پھر اس کو، پہلے سے شامل ہے، پھر غایہ کے طور پر اس کو ذکر کیا جا رہا ہے، تو کیا مقصد ہوگا اس کو ذکر کرنے کا؟ کہ اس کے پیچھے والا باقی حصہ خارج ہے، یہ انتہا ہے دھونے کی، یعنی کہنیوں، تو خود تو یہ داخل رہے گا، لیکن اس سے پیچھے والا، اس سے آگے والا حصہ، یعنی جو کندھے تک باقی بازو کا حصہ ہے، وہ دھونے کے حکم سے خارج، اور خود یہ کہنیاں شامل ہیں، داخل ہیں۔ یہی بات کر رہے ہیں: "فَإِنْ كَانَ صَدْرُ الْكَلَامِ مُتَنَاوِلًا لِلْغَايَةِ"، پس اگر صدرِ کلام وہ شامل ہوا غایہ کو، "كَانَ ذِكْرُهَا لإِخْرَاجِ مَا وَرَاءَهَا"، تو اس غایہ کا ذکر اس کے پیچھے، اس کے مابعد والوں کو نکالنے کے لیے ہے، "فَتَدْخُلُ بِنَفْسِهَا"، پس یہ خود کیا ہے؟ داخل رہے گی، "كَمَا فِي الْمَرَافِقِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى"، جیسے کہ مرافق کے اندر ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر: "وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ"، "فَإِنَّهَا لَيْسَتْ قَائِمَةً بِنَفْسِهَا"، اس لیے کیونکہ مرافق جو ہیں وہ خود قائم نہیں ہیں۔
یہ خود ان کا اپنا، ید کے الگ ان کا اپنا وجود نہیں ہے۔ "وَصَدْرُ الْكَلَامِ"، اور صدرِ کلام بھئی وہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: "وَهُوَ الْأَيْدِي"، وہ ایدی ہے، "مُتَنَاوِلٌ لَهَا"، وہ اس کو شامل ہے، "لِأَنَّهَا مُتَنَاوِلٌ إِلَى الْإِبْطِ"، اس لیے کیونکہ ید، ایدی جو ہیں وہ شامل ہے "إِلَى الْإِبْطِ" بغلوں تک بھئی، بغل تک کے سارے حصے کو یہ شامل ہے، ابط بغل کو کہتے ہیں۔
"لِأَنَّهَا مُتَنَاوِلٌ إِلَى الْإِبْطِ"، اس لیے کیونکہ ید جو ہے وہ شامل ہے ابط تک، "فَيَكُونُ ذِكْرُهَا لإِخْرَاجِ مَا وَرَاءَهَا"، پس یہ جو مرافق کا ذکر کیا گیا، یہ اس کے پیچھے کو، بعد والے حصے کو نکالنے کے لیے ہے، "فَتَدْخُلُ بِنَفْسِهَا"، تو خود کہنیاں جو ہیں وہ داخل رہیں گی، "فَبَطَلَ مَا قَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ كُلَّ غَايَةٍ لَا تَدْخُلُ تَحْتَ الْمُغَيَّى"، پس باطل ہو گیا وہ جو فرمایا امام زفر رحمہ اللہ نے کہ ہر غایہ جو ہے وہ داخل نہیں ہوگی مغیا میں۔
امام زفر کیا فرماتے ہیں؟ کوئی بھی غایہ مغیا کے تحت داخل نہیں ہوتی، میں نے تین چار مذاہب ذکر کیے تھے، ایک مذہب کس کا ہے؟ امام زفر کا، امام زفر فرماتے ہیں کہ غایہ کبھی بھی مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہوتی، تو کہتے ہیں ان کا وہ قول باطل ہو گیا۔
"وَتُسَمَّى هَذِهِ غَايَةَ الْإِسْقَاطِ"، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ غایہ اسقاط۔ اس کو غایہ اسقاط کہتے ہیں بھئی۔ یہ کہنیوں کو کیا کہیں گے؟ غایہ اسقاط بھئی۔
اب بھئی یہ غایہ اسقاط، یہ تو علماء نے ذکر کیا اپنی کتابوں میں کہ ان کہنیوں کو، یہ کیا ہے؟ غایہ اسقاط ہیں، غایہ اسقاط بھئی۔ لیکن آگے اس غایہ اسقاط کا کیا معنیٰ بھئی؟ شارح دو معنیٰ بیان کریں گے۔
پہلے والے علماء نے کیا ذکر کیا کہ کہنیاں کیا ہیں؟ غایہ اسقاط ہیں، آگے تفصیل نہیں بیان کی۔ اب شارح بتلائیں گے کہ غایہ اسقاط کا کیا معنیٰ ہو سکتا ہے، دو معنیٰ بیان کریں گے۔
دیکھیے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ"، یہ "إِلَى الْمَرَافِقِ" الیٰ ہے حرفِ جار اور مرافق ہے مجرور، جار مجرور کے لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی متعلق چاہیے۔ تو اب پہلی تقریر کے مطابق یہ جار مجرور متعلق ہیں "فَاغْسِلُوا" کے ساتھ، امر کے ساتھ، فاغسلوا جو امر آیا اس کے ساتھ متعلق ہیں، دھوؤ تم۔
دھوؤ تم بھئی، کہاں تک دھوؤ؟ کہنیوں تک۔ تو یہ، اور یہ اس سے متعلق ہے۔
اور دوسرا معنیٰ بیان کریں گے، کہ یہ "إِلَى الْمَرَافِقِ"، یہ متعلق ہے اسقاط کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ دو تقریریں کریں گے بھئی، توجہ سے سن لینا۔
ایک تقریر کے مطابق کیا بتلائیں گے؟ یہ کس کے ساتھ؟ یہ غسل سے متعلق ہیں، اور ایک تقریر کے مطابق یہ اسقاط کے ساتھ متعلق ہیں بھئی۔
تو غسل کے ساتھ متعلق ہوں، تو پھر اس صورت میں یہ غایہ اسقاط ہیں، کیا معنیٰ غایہ اسقاط ہونے کا؟ متعلق تو یہ کس سے ہیں؟ غسل سے، پھر غایہ اسقاط کا کیا معنیٰ؟ بھئی، یہ متعلق ہیں غس، یہ غایہ غسل ہے، یعنی یہ کس کا غایہ ہے؟ یہ غسل کا غایہ ہے "لِأَجْلِ إِسْقَاطِ مَا وَرَاءَهَا"، اس کے پیچھے کو ساقط کرنے کے لیے، اس سے اوپر والے حصے کو، اس کو غایہ اسقاط کیوں کہتے ہیں؟ متعلق تو یہ غسل سے ہے، پھر بھئی اس کو غایہ اسقاط کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے، کہ یہ اپنے سے پیچھے والے حصے کو کیا کر دیتی ہے؟ ساقط کرنے کے لیے ہے، یعنی کہنی سے اوپر کی طرف، کندھے کی طرف جو بازو کا حصہ جا رہا ہے، یہ باقی سارا بازو کیا ہے؟ یہ ساقط ہے کس چیز سے؟ دھونے سے، غسل سے ساقط ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اس لیے اس کو غایہ اسقاط کہتے ہیں بھئی۔
جی دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: "وَتُسَمَّى هَذِهِ غَايَةَ الْإِسْقَاطِ"، اور اس کو غایہ اسقاط کہتے ہیں، "أَيْ غَايَةَ الْغَسْلِ لِأَجْلِ إِسْقَاطِ مَا وَرَاءَهَا"، یعنی یہ غسل کا غایہ ہے "لِأَجْلِ إِسْقَاطِ مَا وَرَاءَهَا"، اس کے اس سے پیچھے والے حصے کو ساقط کرنے کے لیے، یعنی اس نے یہ بتلا دیا کہ خود اس کو تو دھو لو، لیکن اس سے اوپر کا باقی کا جو حصہ ہے وہ دھونے کے حکم سے ساقط ہے، خارج ہے بھئی۔
یہ ایک معنیٰ۔ "أَوْ غَايَةَ لَفْظِ الْإِسْقَاطِ"، یا یہ کس کا غایہ ہے؟ لفظِ اسقاط کا غایہ ہے۔ کیا معنیٰ؟ یعنی یہ اسقاط سے متعلق ہے، تو کس طرح ہوا کلام گویا؟ "فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ" آگے ہے "مُسْقِطِينَ إِلَى الْمَرَافِقِ"، "فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ مُسْقِطِينَ إِلَى الْمَرَافِقِ"، تم دھوؤ اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو اس حال میں کہ تم ساقط کرنے والے ہو دھونے کو "إِلَى الْمَرَافِقِ"، کہاں تک؟ کہنیوں تک بھئی، معنیٰ سمجھ میں آگیا بھئی؟
تو معلوم ہوا یہ غایہ ہوا، کس سے متعلق ہے؟ مسقطین۔ جب مسقطین سے متعلق ہوا، اسقاط کے لیے یہ غایہ ہوا، "فَهِيَ خَارِجَةٌ عَنِ الْإِسْقَاطِ"، تو اس صورت میں یہ کیا ہوگی؟ اسقاط سے خارج ہوگی۔ اسقاط سے خارج، جب اسقاط سے خارج ہے، یعنی ان کو نہیں ساقط کرنا، جب نہیں ساقط کرنا تو کیا کرنا ہے؟ دھونا ہے، معلوم ہوا یہ کس میں داخل ہیں؟ دھونے کے حکم میں داخل ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو دو تقریریں کیں شارح نے کہ ہمارے بڑے علماء نے ذکر کیا تھا کہ یہ غایہ اسقاط ہے، اب غایہ اسقاط کا کیا معنیٰ؟ دو معنیٰ ذکر کیے بھئی، کہ یا تو یہ غایہ معنیٰ یہ ہے متعلق تو یہ غسل سے ہی ہے، لیکن معنیٰ کیا ہوا؟ کہ اس غسل کو، اس کو کیوں ذکر کیا گیا؟ تاکہ اس سے پیچھے والے حصے سے غسل کو کیا کر دے؟ ساقط کر دے بھئی، ساقط کر دے، تو یعنی خود یہ داخل ہیں اور پیچھے والا حصہ دھونے سے ساقط۔ یا یہ متعلق ہی اسقاط سے ہیں بھئی، اور جب متعلق ہی اسقاط سے ہیں، تو معنیٰ کیا ہوا؟ اس حال میں کہ تم دھونے کو کیا کر دو؟ ساقط کر دو، کہاں تک؟ کہنیوں تک، تو اس صورت میں یہ خود کیا ہوئیں؟ خود اسقاط سے خارج ہوئیں، اسقاط سے خارج، ان کو نہیں ساقط کرنا، یہ اسقاط سے خارج ہیں، جب اسقاط سے خارج ہیں تو کس میں داخل ہیں؟ غسل میں، یعنی دھونے کے حکم میں داخل ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
"وَيَنْتَقِضُ هَذَا بِقَوْلِهِ: قَرَأْتُ هَذَا الْكِتَابَ إِلَى بَابِ الْقِيَاسِ"، اب یہ ایک اعتراض کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: "وَيَنْتَقِضُ هَذَا"، اور ٹوٹ جاتا ہے یہ ضابطہ "بِقَوْلِهِ"، کسی شخص کے اس قول سے: "قَرَأْتُ هَذَا الْكِتَابَ إِلَى بَابِ الْقِيَاسِ"، میں نے پڑھا اس کتاب کو باب القیاس تک بھئی، باب القیاس تک۔ اب دیکھیے بھئی، ایک آدمی آپ سے، آپ کا ساتھی آپ کو آ کر بتاتا ہے کہ میں نے اس کتاب کو باب القیاس تک پڑھ لیا ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں؟ باب القیاس کو بھی پڑھا ہے یا اس سے پہلے تک پڑھا ہے؟ اس سے پہلے تک پڑھا ہے، حالانکہ کتاب کے اندر باب القیاس داخل تھا یا داخل نہیں تھا؟ داخل تھا، تو یہ معلوم ہوا قائم بنفسہا نہیں ہے، جب قائم بنفسہا نہیں ہے تو ہم نے ضابطہ ذکر کیا تھا کہ صدرِ کلام اس کو شامل ہوگا یا شامل نہیں ہوگا، اگر شامل ہے پھر تو غایہ بھی حکم میں داخل، اور یہاں بھی کتاب صدرِ کلام کیا ہے؟ "قَرَأْتُ هَذَا الْكِتَابَ"، تو اس کتاب کے اندر باب القیاس بھی تھا یا نہیں؟ تو صدرِ کلام اس میں اس کو شامل ہوا، جب صدرِ کلام اس کو شامل ہو تو پھر کیا بتلایا تھا آپ نے؟ غایہ مغیا کے حکم میں داخل ہے، تو معلوم ہوا باب القیاس کو بھی پڑھا ہو اس صورت میں، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ کلام کس وقت کرتے ہیں جب باب القیاس نہ پڑھا ہو بھئی، تو دیکھو غایہ مغیا سے خارج ہوا حالانکہ آپ کے ضابطے کے تحت اس کو کیا ہونا چاہیے تھا؟ داخل ہونا چاہیے تھا۔
تو کہتے ہیں: "وَيَنْتَقِضُ هَذَا بِقَوْلِهِ"، یہ ٹوٹ جاتا ہے آپ کا ضابطہ کسی شخص کے اس قول سے: "قَرَأْتُ هَذَا الْكِتَابَ إِلَى بَابِ الْقِيَاسِ"، میں نے پڑھا اس کتاب کو باب القیاس تک، "فَإِنَّ بَابَ الْقِيَاسِ خَارِجٌ عَنِ الْقِرَاءَةِ"، پس یہ باب القیاس جو ہے وہ قرأت سے خارج ہے، "وَإِنْ كَانَ الْكِتَابُ مُتَنَاوِلًا لَهُ"، اگرچہ کتاب یعنی صدرِ کلام اس کو شامل ہے، کہتے ہیں: یہ باب القیاس سے خارج ہے کیوں؟ اوہ یہ یہ باب القیاس قرأت سے خارج ہے، ضابطے کے خلاف ہوا، کہتے ہیں: "عَمَلًا بِالْعُرْفِ"، یہ کس پر عمل کرتے ہوئے؟ عرف پر عمل کرتے، ضابطہ تو یہی ہے کہ صدرِ کلام جب شامل ہو مغیا کو، تو پھر اس صورت میں غایہ حکم میں داخل ہوتا ہے، اس کو بھی داخل ہونا چاہیے تھا، لیکن ایک اس سے بھی بڑھ کر قوی دلیل آگئی، اور وہ ہے عرف بھئی، لوگ عام عادت میں کیا سمجھتے ہیں اس سے؟ کہ یہ شامل نہیں، تو لہٰذا اس قوی دلیل کی وجہ سے اب یہ شامل نہیں، ورنہ ضابطے کے مطابق اس کو کیا ہونا چاہیے تھا؟ تو جب قوی دلیل آگئی تو اس کی وجہ سے اب یہ خارج ہو گیا بھئی۔
"وَإِنْ لَمْ يَتَنَاوَلْهَا"، اور اگر صدرِ کلام جو ہے وہ غایہ کو شامل نہ ہو، "أَوْ كَانَ فِيهِ شَكٌّ"، یا اس کے داخل ہونے میں شک ہو، "فَذِكْرُهَا لِمَدِّ الْحُكْمِ إِلَيْهَا"، تو پھر اس کا ذکر جو ہے حکم کو اس تک کھینچنے کے لیے ہوگا، "فَلَا تَدْخُلُ"، تو پھر پس یہ داخل نہیں ہوگا، "كَاللَّيْلِ فِي الصَّوْمِ"، جیسے کہ رات روزے میں۔ بھئی یہ تو پچھلی صورت کا تھا کہ اگر غایہ قائم بنفسہا نہ ہو، تو پھر صدرِ کلام اس کو شامل ہوگا یا شامل نہیں، اگر شامل ہے پھر تو وہ داخل ہوگا، اگر شامل نہ ہو یا اس کے شامل ہونے میں شک ہو، تو کہتے ہیں پھر اس صورت میں یہ داخل نہیں ہوگا، پھر اس کا، اس کو اس لیے ذکر کیا گیا تاکہ حکم کو کھینچ کر اس تک پہنچا دے، کیا کرے؟ کھینچ کر حکم کو اس تک پہنچا دے، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ" بھئی، اب دیکھیے، روزہ، روزہ تو رکنے، کھانے پینے اور صحبت سے رکنے کا نام ہے، کچھ دیر کے لیے بھی رکے تو یہ صوم تو پایا گیا، اس کو بھی صوم کہیں گے کچھ دیر کے لیے رک جائے، تو لہٰذا رات اس کے اندر تو داخل نہیں تھی، تو جب رات کو غایہ کے طور پر ذکر کیا گیا، تو مقصد کیا تھا؟ روزے کے حکم کو کھینچ کر کہاں تک پہنچانا ہے؟ رات تک، یعنی رات تک یہ امساک ہونا چاہیے پھر یہ روزہ کہلائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھو، جب اس کے داخل، داخل نہ ہو تو اس صورت میں صرف حکم کو کھینچنے کے لیے ہے اس تک۔
"فِي قَوْلِهِ تَعَالَى"، اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر: "ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ"، پھر پورا کرو تم روزوں کو رات تک، "مِثَالٌ لِمَا لَمْ يَتَنَاوَلْهَا الصَّدْرُ"، یہ مثال ہے اس غایہ کی جس کو صدرِ کلام شامل نہیں، "فَإِنَّ الصَّوْمَ لُغَةً الْإِمْسَاكُ سَاعَةً"، پس روزہ جو ہے لغةً یعنی عربی زبان کے اعتبار سے وہ امساک، رکنے کا نام ہے ساعتًا، ایک گھڑی، ایک گھڑی ہی ہو چاہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک گھڑی رکنے کا نام ہے، "فَذِكْرُ اللَّيْلِ لِأَجْلِ مَدِّ الصَّوْمِ إِلَى نَفْسِهِ"، پس رات کا جو ذکر ہے وہ روزے کو اپنے تک کھینچنے کے لیے ہے، اس کی ذات، رات کا، "فَذِكْرُ اللَّيْلِ"، پس رات کا ذکر جو ہے "لِأَجْلِ مَدِّ الصَّوْمِ إِلَى نَفْسِهِ"، کس لیے ہے؟
ہیں ہم نے اپنے قول موجودہ قبل التکلم کے ذریعے احتراز کیا عن الاجال المضروبتہ للدیون والثمان ان مدتوں سے جن کو بیان کیا جائے دیون اور ثمن کے لیے فی قوله کسی شخص کے اس قول کے اندر بعثو هذا واجلتو الثمن الى شهر میں نے یہ چیز بیچی اور مدت دی ثمن کی ایک مہینے تک أو اجلته الى رمضان أو الى الغدی یا میں نے کرائے پر دی یہ چیز رمضان تک کے لیے یا الی الغدی یا کل تک کے لیے ونحوه اس جیسے قول جو ہیں، ان کے اندر یہ جو مدت بیان کی، ان سے ہم نے احتراز کیا اپنے کون کون سی قید ذکر کی؟ موجودۃ قبل التکلم کے ذریعے، فان كل هذه وإن كانت قائمة بنفسها اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک اگرچہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے قائم ہے، ظاہراً باعتبار ظاہر کے، لیکنها وجدات بعد التکلم لیکن یہ کب پائی گئی ہیں؟ تکلم کے بعد پائی جائیں پائی جاتی ہیں۔
واحترازنا واحترازنا نا ہے آپ کی کتابوں میں؟ نا ہونا چاہیے بھئی۔ واحترازنا بقولنا اور احتراز کیا ہم نے بقولنا اپنے قول غیر مفتقرة في وجودها این جو ہم نے قید لگائی تھی کہ جو اپنے وجود میں محتاج نہ ہو، تو اپنے اس قول کے ذریعے ہم نے احتراز کیا عن الليل عن اللیلِ کس سے؟ رات سے، فإنه مفتقر في وجوده إلى النهار اس لیے کیونکہ رات جو ہے وہ محتاج ہے اپنے وجود کے اندر نہار کی، رات اپنے وجود میں کس کی محتاج ہے؟ نہار کی، کیونکہ دن گزرے گا تو رات آئے گی بھئی۔ رات کہتی کس کو ہے، غروبِ شمس سے لے کر طلوع تک بھئی۔ تو یہ جو غروبِ شمس سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت ہے اس کو رات کہتے ہیں، لیکن یہ رات اپنے وجود میں کس کی محتاج؟ دن کی محتاج، دن گزرے گا سورج ڈوبے گا تو رات آئے گی۔ بھئی! صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو لہذا رات بھی معلوم ہوا قائم بنفسه نہیں ہے، قائم بنفسه نہیں ہے، لہذا اللہ فرماتے ہیں ثم أتموا الصيام الى الليل تو معلوم ہوا یہ جو ليل ہے یہ قائم بنفسه نہیں ہے، یہ قائم بنفسه نہیں ہے بھئی، تو یہ معلوم ہوا داخل ہو گئی کس کے اندر؟ غیر قائم بنفسه میں، یہ جب قائم بنفسه نہیں ہے تو کیا ہوئی؟ غير قائم بنفسها میں داخل ہو گئی، اس کی بات آگے وہ کریں گے بھئی۔
و أما دخول المسجد الأقصى في قوله تعالى اب یہ اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، اعتراض یہ کہ آپ نے کہا، قائم بنفسه کا معنی یہ کہ وہ غایہ وہ تکلم سے پہلے موجود ہو اور اپنے وجود میں مغیا کا محتاج نہ ہو، اس کا اپنا الگ وجود ہو۔ تو پھر اس صورت میں غایہ مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہوتا۔ یہی بات ہوئی نا؟ کہتے ہیں ہم آپ کو دکھاتے ہیں، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں سبحان الذي أسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو لیلاً رات کے ایک چھوٹے سے حصے میں من المسجد الحرام کہاں سے؟ مسجد الحرام سے، إلى المسجد الأقصى کنارے کی مسجد تک، دور کی مسجد تک۔ پاک ہے وہ ذات جو رات کے ایک حصے کے اندر اپنے بندے کو لے گئی مسجد الحرام سے لے کر دور کی مسجد تک بھئی۔
اب یہاں دیکھیے الی آیا اور الی کے بعد آیا المسجد الأقصى اور المسجد الأقصى اس کا وجود یعنی وہ بیت المقدس ہے بھئی، مراد۔ کیا مراد ہے؟ بیت المقدس، بیت المقدس کا وجود قبل التکلم ہے۔ اس کا وجود پہلے سے ہی تھا۔ اور نیز وہ اپنے وجود میں مغیا کی محتاج بھی نہیں، اس کا اپنا الگ وجود ہے۔ تو لہذا آپ کے ضابطے کے تحت جب غایہ قائم بنفسه ہو، تو وہ مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہوتا۔
تو معلوم ہوا اسراء وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو سفر مکہ مکرمہ سے لے کر بیت المقدس تک تھا، اس کو اسراء کہتے ہیں۔ اور پھر بیت المقدس سے لے کر جو آسمانوں تک سفر تھا، اس کو معراج کہا جاتا ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا آپ کے ضابطے کے مطابق بیت یہ بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ جو ہے، یہ اسرا سے خارج ہے۔ یہ اسرا سے خارج ہے، معلوم ہوا اس کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے کر گئے بھئی، اس سے ما قبل میں اسرا کا ذکر ہے ناں! اور آپ نے بتایا کہ غایہ جب قائم بنفسه ہو تو وہ مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہوتا، تو معلوم ہوا وہ مغیا کے حکم میں داخل نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر تشریف نہیں لے گئے، لیکن یہ بات تو قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہے وہ بیت المقدس کے اندر تشریف لے گئے تھے اور آپ نے وہاں باقاعدہ تمام انبیاء کی امامت فرمائی بھئی۔
روزے کو کھینچنے کے لیے اس کے ذات تک، روزے کو اس کی ذات تک کھینچنے کے لیے ہے رات کا ذکر۔ فلا يدخل هو تحت الصوم، پس وہ رات جو ہے، وہ صوم کے تحت داخل نہیں۔ ومثال ما فيه شک، فيه شک، اور مثال اس چیز کی جس میں شک ہو کہ جہاں غایہ کے صدر کلام میں داخل ہونے میں شک ہو۔ اس کی مثال کہتے ہیں، مثل الأجال في الأيمان، جیسے کہ مدتیں ہیں قسموں میں۔ بھئی، ایک مدتیں آئی تھیں ثمن اور دیون کے اندر۔ ثمن اور دیون کے اندر بھئی۔
اس میں کیا بتلایا تھا؟ اس میں تو بھئی، یقین ہے خارج ہونے میں کیا ہے؟ یقین ہے۔ اور یہ جو قسم کی جو مدتیں ہیں، ان کے اندر شک ہے بھئی۔
مثل الأجال في الأيمان، جیسے کہ مدتیں ہیں قسموں کے اندر۔ كما إذا حلف، جیسے کہ کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے، لا أكلم إلى رجب، کہ وہ کلام نہیں کرے گا، کب تک؟ اس رجب تک۔ فإن في دخول رجب فيما قبله شكا، پس بے شک جو ہے رجب کے ماقبل کے اندر داخل ہونے میں شک ہے، کیونکہ صدر کلام مطلق ہے، اس نے کہا، لا أكلم إلى رجب، میں کلام نہیں کروں گا۔ اب لا أكلم، تو یہ مطلق ہے بھئی، کیا ہے؟ مطلق ہے۔ اس میں کوئی قید نہیں، کہ یہ بات وہ ہمیشہ کے لیے کر رہا ہے یا دو چار دن کی بات کر رہا ہے، دو چار دن بات نہیں کرے گا یا ہمیشہ نہیں کرے گا، کوئی قید نہیں۔ تو نہ اس میں تآبید ہے اور نہ کوئی مدت ہے، تو یہ کلام مطلق ہوا بھئی، کیا ہوا؟ جب یہ مطلق ہوا، بھئی دیکھیں یہاں دو صورتیں بنائیں گے، یاد رکھنا۔ ایک صورت میں یہاں تآبید کریں گے۔ لا أكلم، جب کوئی کہے تو اس کا مطلب کہتے ہیں ہمیشہ کے سمجھا جاتا ہے۔
آپ کا ایک ساتھی مثلاً کہتا ہے، بھئی میں زید سے بات نہیں کروں گا۔ آپ کیا سمجھتے ہیں اس کا معنیٰ؟ کہ کبھی بھی، ہمیشہ کی وہ بات کر رہا ہے کہ اب کبھی بھی بات نہیں کرے گا۔ تو یہاں اس بارے میں آگے دو قول آئیں گے بھئی۔ ایک قول یہ کہ یہ صدر کلام مطلق ہے، اس میں کسی قسم کی قید نہیں۔ جب کسی قسم کی قید نہیں تو پھر اس صورت میں صدر کلام مطلق ہوا، تو غایہ پتہ نہیں اس کے اندر داخل ہے یا داخل نہیں، شک آ گیا۔
تآبید ہوتی، پھر ہمیشہ کے اندر تو رجب نے آ جانا تھا یا نہیں آ جانا تھا؟ اس میں تو رجب نے آ جانا تھا۔ وہ تو اس، اس صورت میں تو صدر کلام اس میں شامل ہے، لیکن کون سی صورت ہم بنا رہے ہیں؟ کہ یہاں صدر کلام مطلق ہے، مطلق، جب مطلق ہے تو غایہ کے اس میں داخل ہونے کے اندر کیا آیا؟ شک آیا، جب شک آیا، تو اس صورت میں بتلا دیا اوپر ضابطہ کہ اس صورت میں بھی یہ داخل نہیں ہے بھئی۔
فإن في دخول رجب فيما قبله شكا، اس لیے کیونکہ رجب کے اپنے ماقبل کے اندر داخل ہونے میں شک ہے، فلا يدخل في ظاهر الرواية عنه، پس یہ داخل نہیں ہو گا اس کے قسم میں، ظاہر روایت کے میں عنه ای عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ، جو ظاہر روایت ہے، جو مشہور روایت ہے کس سے؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، اس کے مطابق یہ رجب، یہ وسعتِ عدم تکلم میں داخل نہیں۔ لہذا رجب شروع ہوتے ہی پھر کلام کر سکتا ہے۔ پھر قسم نہیں ٹوٹے گی بھئی۔ کیونکہ ماقبل کے داخل ہونے میں، اس کے رجب کے داخل ہونے میں کیا تھا؟ شک تھا، اور جب شک ہوا تو ہم نے کیا کہا کہ غایہ مغیا میں داخل نہیں، اس نے کیا کہا، لا أكلم إلى رجب، تو رجب کے ماقبل میں داخل ہونے میں شک اور جب شک ہے تو یہ اس کے اندر داخل نہیں، جب داخل نہیں تو یہ قسم میں داخل نہیں، لہذا رجب تک کسی وقت کلام کر لیے، پھر تو حانث ہو جائے گا، رجب میں کرے گا تو حانث نہیں، کیونکہ یہ اس میں داخل نہیں ہے بھئی۔
یہ ہے امام صاحب کی مشہور روایت، ظاہر روایت بھئی۔ وهو قولهما، اور یہی قول ہے صاحبین کا بھی، یہی قول ہے صاحبین کا بھی۔ وفي رواية الحسن عنه، اور حسن ابن زیاد سے جو روایت ہے عنه ای عن ابی حنیفۃ، کس سے؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے جو حسن ابن زیاد روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں، أنه يدخل، یہ رجب بھی کیا ہو گا؟ داخل ہو گا، لأن أول الكلام كان للتأبيد، کیونکہ اول کلام کس لیے تھا؟ تآبید کے لیے تھا، پہلے کے مطابق وہ مطلق تھا تو داخل ہونے میں شک، اب مطلق کلام کیا جائے تو اس کو کس پر محمول کرتے ہیں؟ تآبید پر، تو تآبید کے اندر تو رجب بھی داخل ہے آنے والا، تو اول کلام تآبید کے لیے تھا، فلا تخرج الغاية عما قبلها، تو اس صورت میں غایہ ماقبل سے نہیں نکلے گا بھئی۔ اوپر ضابطہ بیان ہوا بھئی، اگر صدر کلام میں غایہ داخل تھا، تو پھر مرافق ید کے اندر داخل تھیں، تو اس کے حکم میں بھی داخل ہیں، تو رجب بھی ماقبل میں پہلے سے ہی داخل تھا، تو اس کو غایہ کے طور پر ذکر کر دیا گیا، تو یہ اب بھی ماقبل کے حکم میں داخل ہے، لہذا اب رجب میں بھی بات کرنا ممنوع، رجب کے بعد بات کر سکتا ہے، رجب کے اندر نہیں، اگر رجب کے اندر بات کر لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔
تو یہ معنیٰ ہے، فلا تخرج الغاية عما قبلها، پس غایہ اپنے سے ماقبل سے خارج نہیں ہو گی، وتسمى هذه غاية الامتداد، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ غایہ امتداد، بھئی غایہ امتداد کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں، لأن الغاية مدت الحكم إلى نفسها، اسی لیے کیونکہ غایہ نے کھینچا حکم کو، لمبا کیا حکم کو، إلى نفسها، اپنی ذات تک، اپنی ذات تک کھینچ کر لمبا کر دیا حکم کو۔ وبقيت بنفسها خارجة عنه، اور خود اس سے خارج رہی، یہ پہلے قول کے مطابق۔ پہلے قول کے مطابق کیا تھا؟
بھئی یہ جو اوپر آیا نہ متن میں، اگر یہ اس کو دوسری روایت لیں، پھر تو یہ دوسری قسم کی میں داخل ہو جائے گی، صدر کلام جس کو شامل تھا۔ تیسری صورت ذکر کر رہے ہیں، تیسری صورت کیا تھی؟ اگر غایہ مغیا میں پہلے سے داخل، صدر کلام غایہ کو پہلے سے شامل نہ ہو یا شک ہو، تو پھر اس صورت میں غایہ کیا ہوتا ہے؟ مغیا کے حکم میں داخل، یہ متن میں آیا یا نہیں بھئی؟ متن کی بات کر رہا ہوں، یہ متن میں آیا تھا، کہ اگر غایہ صدر کلام کے اندر داخل نہیں تھا یا اس کے داخل ہونے میں شک تھا، تو پھر خود یہ حکم سے خارج رہے گا، یہ جو ہے غایہ، اس غایہ کو کیا کہتے ہیں؟ غایہ امتداد، غایہ امتداد کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ کس لیے ہے یہ غایہ؟ یہ حکم کو لمبا کرنے کے لیے اپنی ذات تک حکم کو کھینچ کر لمبا کر دیتی ہے، اپنی ذات تک پہنچا دیتی ہے، لیکن خود اس سے خارج رہتی ہے بھئی، خود یہ اس غایہ مغیا کے حکم میں داخل۔ صورت سمجھ بھی آئی کہ نہیں بھئی؟
بھئی درمیان میں یہ جو ایک روایت آئی تھی نہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی، اس روایت کو اگر لیا جائے، تو پھر لا أكلم إلى رجب، یہ کس کے ساتھ ہونا چاہیے؟ یہ وہ في المرافق کے ساتھ یہ اس جیسی مثال بن جائے گی۔ سمجھ بھی آ رہی ہے کہ آپ خاموش کیوں بیٹھے ہیں؟ سمجھ آ رہی ہے بات؟ امام صاحب سے دو روایتیں آئیں نہ؟ غایہ کے اندر بھئی الٰی کے غایہ کے اندر تین چار صورتیں جو انہوں نے ذکر کیں، سب سے پہلے بتلایا تھا کہ غایہ قائم بنفسہا ہو گا یا قائم بنفسہا نہیں ہو گا۔ اگر قائم بنفسہا ہے تو پھر اس صورت میں غایہ مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہے۔ اگر قائم بنفسہا نہیں، تو پھر صدر کلام اس، اس کو شامل ہو گا یا شامل نہیں، اگر صدر کلام اس کو شامل ہے تو پھر غایہ مغیا کے حکم میں داخل، تو امام صاحب کی یہ والی روایت لیں تو اس کے مطابق بھی دیکھو، کلام کو کس پر محمول کیا، لا أكلم کو تآبید پر، اور تآبید کے اندر تو کیا داخل ہے؟ رجب بھی داخل ہے، تو لہذا اس کو اوپر والی اس میں ذکر ہونا چاہیے تھا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ایک روایت ساتھ ذکر کر دی، لیکن ظاہر روایت یہی ہے، کہ یہ کلام جو اس نے کہا، لا أكلم، یہ مطلق ہے اور جب مطلق ہو تو اس میں تآبید کی شرط نہیں، تو لہذا آگے رجب کے اس میں داخل ہونے میں کیا آ گیا؟ شک آ گیا بھئی، تو لہذا رجب داخل نہیں ہو گا اس کے اندر۔
تو یہ وہ صورت ذکر ہو رہی ہے، جب غایہ، مغیا، غایہ، مغیا کے اندر یعنی صدر کلام میں داخل نہیں یا اس کے داخل ہونے میں شک ہو، تو یہ جو الٰی کے بعد جو غایہ ذکر ہو رہا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ غایہ امتداد، یہ کیا ہوتا تھا؟ داخل ہوتا تھا یا نہیں؟ یہ داخل نہیں ہوتا تھا، تو اس کو بھی اسی لیے غایہ امتداد کہتے ہیں کہ یہ حکم کو کھینچ کر اپنے تک تو پہنچا دیتا ہے، لیکن خود خارج رہتا ہے۔
یہ بات کر رہے ہیں، لأن الغاية مدت الحكم إلى نفسها، اس لیے کیونکہ غایہ نے لمبا کر دیا حکم کو اپنی ذات تک، وبقيت بنفسها خارجة عنه، اور خود اس سے باہر ہی، خارج ہی رہی۔ وفي للظرفية، اور فی جو ہے، وہ ظرفیت کے لیے آتا ہے، وهذا هو اصل معناه في اللغة، اور یہ اس کا اصل معنیٰ ہے لغت میں، عربی زبان میں، فی کس لیے ہے؟ ظرفیت، بھئی فی یہ بتلانے کے لیے آتا ہے، کہ اس کا مابعد ماقبل کے لیے ظرف ہے، زيد في الدار، زید گھر میں ہے، معلوم ہوا کہ دار پر کیا داخل ہوا؟ فی، تو معلوم ہوا یہ دار کیا ہے؟ ظرف ہے، کس کے لیے؟ زید کے لیے، زید اس کے اندر ہے بھئی، گھر کے اندر، یہ معنیٰ کس نے دیا؟ فی نے بھئی، تو یہ فی ظرفیت کے لیے آتا ہے اور یہ اس کا اصل معنیٰ ہے عربی زبان میں۔ واتفق اصحابنا في هذا القدر، اور اتفاق ہے ہمارے فقہاء کا اتنی مقدار میں، اتنا تو سب کا اتفاق ہے، امام صاحب بھی یہی فرماتے ہیں کہ فی ظرفیت کے لیے آتا ہے، یہ بتلاتا ہے کہ مابعد کیا ہے؟ ظرف، اور صاحبین بھی فرماتے ہیں کہ فی آئے تو بتلائے گا کہ مابعد کیا ہے؟ ظرف، لیکن کبھی کبھار فی کو ذکر کرتے ہیں، کبھی فی کو ذکر نہیں کرتے، اس صورت میں اختلاف ہے بھئی۔
اس صورت میں اختلاف ہے، صاحبین فرماتے ہیں کہ فی کو ذکر کریں یا نہ کریں۔ بھئی، ایک ہوتا ہے معیار، پہلے معیار اور ظرف سمجھ لیں۔ معیار آپ جانتے ہیں بھئی کہ جہاں زائد وقت نہ بچتا ہو، اس کو کیا کہیں گے؟ معیار۔ جیسے دن معیار ہے روزے کے لیے، روزہ ادا کریں تو دن کا کچھ حصہ بھی باقی نہیں بچتا، دن کیا کر لیتا، روزہ کیا کر لیتا ہے؟ پورے دن کا استیعاب کر لیتا ہے، گھیر لیتا ہے بھئی، تو معیار کے اندر زائد وقت نہیں بچتا، اور ایک ہوتا ہے ظرف، ظرف کے اندر زائد وقت بچ جاتا ہے، جیسے ظہر کا وقت ظہر کی نماز کے لیے ظرف ہے، تو کیا ظہر کی نماز پورے ظہر کے وقت کا احاطہ کر لیتی ہے یا اس کے ایک حصے میں ادا ہو جاتی ہے؟ تو دیکھو یہاں اس کے حصے میں ادا ہو گئی، زائد وقت بچ گیا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظرف، تو جہاں وقت باقی نہیں بچتا اس کو کیا کہتے ہیں؟ معیار، اور جہاں وقت بچ جاتا ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ ظرف۔
اب صاحبین کا اور امام صاحب کا اختلاف ہے بھئی کہ فی ذکر کرنے یا نہ کرنے کی صورت میں، صاحبین فرماتے ہیں کہ فی کو ذکر کریں یا فی کو ذکر نہ کریں، یہ، یہ جو فعل ہے اپنے اس فی کے مابعد سارے کا احاطہ کر لے گا، فعل کیا کر لے گا؟ مابعد سارے کا احاطہ کر لے گا، چاہے فی لفظوں میں ذکر ہو یا فی لفظوں میں ذکر نہ ہو۔
لہذا ایک شخص یہ کہتا ہے، اپنی بیوی سے مثلاً کہتا ہے، أنت طالق غدا، ایک یہ صورت غدا کو بغیر فی کے ذکر کیا، اور ایک یہ صورت ہے کہتا ہے، أنت طالق في غد، أنت طالق في غد، کہتے ہیں، دونوں صورتوں میں اولِ طلوع ہوتے ہی، طلوعِ فجر ہوتے ہی عورت کو طلاق ہو جائے گی، کیونکہ فی کو ذکر کریں یا حذف کریں، دونوں صورتیں برابر ہیں بھئی، یہ کس کے نزدیک؟ صاحبین کے نزدیک۔
ہاں، البتہ اگر وہ شخص جب اس نے فی ذکر کیا تھا، أنت طالق في غد، اس صورت میں وہ کہتا ہے، بھئی میں نے تو عصر کی نیت کی تھی، تو کہتے ہیں دیانتاً اس کی تصدیق کی جائے گی، دیانتاً یعنی یہ اللہ اور اس کے، اس شخص کا معاملہ ہے، وہ کہہ رہا ہے میں نے یہ نیت کی تھی، نیت پر تو ہم مطلع نہیں ہو سکتے، لیکن اللہ جانتے ہیں، تو یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے، دیانتاً اس کی تصدیق کریں گے، یعنی مفتی کے پاس جا کر فتویٰ پوچھے گا کہ میں نے یہ نیت کی تھی، اس کے مطابق کیا فتویٰ ہے؟ تو مفتی اس کی نیت کے مطابق فتویٰ دے گا کہ اگر یہ نیت کی تھی تو یہ مسئلہ اس طرح ہے، عصر ہی کے وقت طلاق ہو گی، اس سے پہلے طلاق نہیں ہو گی، یہ صاحبین فرماتے ہیں۔
جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، دونوں میں فرق ہو گا۔ فرق یہ، کہ اگر یعنی صاحبین کے قول کا خلاصہ کیا ہوا؟ فی کو ذکر کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں مابعد معیار بنے گا، کیا بنے گا؟ وہ فعل پورے اس وقت کے احاطہ کرنے کا تقاضا کرے گا، تقاضا کرے گا، لہذا جب غدا کہا، اس صورت میں بھی اولِ، جب تقاضا أنت طالق غدا، تمہیں، تمہیں طلاق ہے کل، تو یہ أنت طالق، طلاق کیا تقاضا کرتی ہے؟ کہ کل کے سارے دن کا احاطہ کر لے، سارے دن وہ عورت طلاق والی رہے، تو یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے، جب کیا ہو؟ اولِ جز میں طلاق واقع ہو گئی، تو اب سارے دن وہ متصف ہے کس کے ساتھ؟ طلاق کے ساتھ، طلاق کے ساتھ متصف ہے، تو وہ کہتے ہیں، صاحبین فرماتے ہیں کہ فی کو ذکر کریں یا نہ کریں، یہ کیا تقاضا کرتا ہے کہ مابعد اس کا وہ اس کے لیے معیار، معیار ہو، یعنی یہ اس کا احاطہ کر لے، استیعاب کر لے، استیعاب کر لے، البتہ فی کے خود جب اس نے ذکر کر دیا، اور پھر کہتا ہے، میں نے یہ نیت کی تھی عصر کی، تو پھر چونکہ اس کا بھی احتمال ہے اس کے اندر بھئی، ظرفیت کا بھی اس میں فی کو جب لفظوں میں ذکر کر دیا، اب ظرفیت، پہلے تو تھا معیار ہی، لیکن اب ظرفیت کا بھی احتمال آ گیا، لہذا جب اس نے کہا کہ میں نے یہ نیت کی تھی، تو دیانتاً کیا کی جائے گی اس کی؟ تصدیق کی جائے گی، لیکن اگر قاضی کے پاس گیا تو قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا بھئی، کیونکہ معلوم ہوا وہ طلاق کو مؤخر کرنا چاہتا ہے، اپنے لیے آسانی پسند کر رہا ہے، اور تو اس میں بدگمانی دلوں میں آتی ہے، کہ یہ اپنے لیے کیا کر رہا ہے؟ آسانی پسند کر رہا ہے، اس لیے یہ عصر کی بات کر رہا ہے بھئی، تو لہذا قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا، قاضی یہی کہے گا اولِ صبح طلوع ہوتے ہی کیا ہو گئی؟ طلاق ہو گئی، البتہ مفتی کے پاس جائے گا تو پھر وہ اس کی نیت کے مطابق فتویٰ دے دے گا بھئی۔
جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، أنت طالق غدا اس صورت میں تو طلاق تقاضا کرتی ہے اگلے دن کے استیعاب کا، لیکن جب فی کو ذکر کر دیا اور یوں کہا، أنت طالق في غد، تو فی آتا ہے ظرفیت کے لیے، لہذا یہ طلاق تقاضا کرے گی کہ اگلا دن اس کے لیے ظرف ہو، معیار نہ ہو، یعنی یہ اس کا استیعاب نہ کرے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہذا اب اگر وہ کہتی ہے، وہ شخص کہتا ہے کہ أنت طالق في غد، اس کے اندر کہتا ہے میں نے نیت کی تھی عصر کے وقت کی، تو کہتے ہیں دیانتاً بھی تصدیق کی جائے گی اور قضاءً بھی کیا کی جائے گی اس کی؟ تصدیق، کیونکہ فی آتا ہی کس لیے ہے؟ ظرفیت کے لیے آتا ہے، تو جب کہ اس کے کسی ایک جز کے اندر وہ فعل پایا جائے، تو کل کے کسی بھی جز کی وہ نیت کر لے، وہ، اس کی نیت کرنا صحیح ہے، مسئلہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں بھئی؟ اچھی طرح؟
کہتے ہیں، وفي للظرفية، فی ظرفیت کے لیے آتا ہے، وهذا هو اصل معناه في اللغة، اور یہ اس کا اصل معنیٰ ہے عربی زبان میں، واتفق اصحابنا في هذا القدر، اور اتفاق ہے ہمارے فقہاء کا اتنی مقدار میں، ولكنهم اختلفوا في حذفه وإثباته في ظرف الزمان، لیکن انہوں نے اختلاف کیا ہے اس کے حذف کرنے میں اور اس کے ثابت رکھنے میں ظرفِ زمان کے اندر، یعنی جب یہ ظرفِ زمان پر داخل ہو بھئی، تو پھر اس صورت میں اختلاف کیا ہے ظرفِ زمان پر، یہ اختلاف نہیں ہے کہ اس کو ثا، حذف کرنا یا ثا، حذف کرنا جائز ہے یا جائز نہیں، اس کو ثابت ہی رکھنا پڑے گا، یہ اختلاف نہیں، اختلاف کس چیز میں ہے؟ کہ مابعد کیا ہو گا؟ معیار ہو گا یا ظرف ہو گا، اس میں اختلاف کیا ہے بھئی۔
ای في كون ما بعده معيارا لما قبله اس بات کے اندر کہ اس کا ما بعد معیار ہوگا ما قبل کے لیے غیر فاضل عنه اس سے زائد نہیں ہوگا جب معیار ہوا تو زائد وقت نہیں ہے اور کون اور کونہی ظرفا فاضلا عنه یا اس وقت کے
ظرف ہونے میں اس کے فضل جو زائد ہو اس سے
ایسا ظرف جو اس سے زائد ہو اس کے اندر اختلاف کیا ہے کہ یہ ما بعد جو ہے معیار ہوگا یا ظرف ہوگا فقا تو صاحبین فرماتے ہیں ہما سواء دونوں برابر ہیں ف کو ذکر کریں یا ف کو حذف کریں
دونوں برابر ہیں بھئی کس چیز میں کہتے ہیں فی انہ يستوعب جمیعا ما بعده کہ یہ گھیر لے گا اپنے سارے ما بعد کو
یعنی استیعاب کر لے گا یعنی وہ کیا تقاضا کرے گا کہ ما بعد اس کے لیے کیا بنے معیار بنے
فإن قال أنت طالق غدا اگر خاوند نے یوں کہا أنت طالق غدا أو في غد يا کیا کہا خاوند نے أنت طالق في غد ولم ينوي اور اس نے کوئی نیت نہیں کی واقع فی اول الغد تو واقع ہو جائے گی طلاق اول غد میں اگلے دن کے شروع میں ہی وانما آخر النهار اور اگر اس نے نیت کی کس کی
آخر نہار کی ہاں دونوں صورتوں میں دونوں میں بھئی صرف فی والی صورت میں نہیں دونوں میں کہتے ہیں اگر اس نے نیت کی آخر نہار کی صدق فیه دیانتا তো اس شخص کی تصدیق کی جائے گی فیهما دونوں صورتوں میں چاہے فی کو ذکر کرے یا فی کو ذکر نہ کرے دونوں صورتوں میں اس کی تصدیق کی جائے گی دیانتا نہ کہ قضاء اسی کیونکہ یہ خلاف ظاہر ہے اسی کیونکہ فی ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں ما قبل کیا تقاضا کرتا ہے وہ ما بعد کا استیعاب کر لے
فإن الأصل فیه اس لیے کیونکہ اصل اس کے اندر یہ ہے استیعاب الطلاق جمیع الغد کہ استیعاب کر لے طلاق پورے کل کا سواء كان بذكر فی أو بحذفه برابر ہے کہ وہ فی کے ذکر کے ساتھ ہو یا اس کے حذف کے ساتھ و فرق ابو حنیفہ رحمه اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ بینهما اور فرق کیا ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ان دونوں کے درمیان
فیما اذا نوى آخر النهار اس صورت میں جب اس نے کس وقت کی نیت کی آخر نہار دن کے آخری حصے کی فإن قال أنت طالق غدا پس اگر خاوند نے یوں کہا أنت طالق غدا ولم ينوي اور اس نے کوئی نیت نہیں کی واقع فی اول النهار تو طلاق واقع ہو جائے گی اول نہار میں
وان نوا آخر النهار یصدق دیانتا لا قضاء تو اور اگر اس نے آخر نہار کی نیت کی تو اس کی دیانتا تو تصدیق کی جائے گی قضاء تصدیق نہیں کی جائے گی
وان قال أنت طالق فی غد تجھے کل کے دن میں طلاق ہے پہلی میں کیا ترجمہ تھا أنت طالق غد تمہیں کل طلاق ہے ترجمہ کیا ہوگا
انت طالق غدا تمہیں کل طلاق اور اگر کہا أنت طالق فی غد کیا ترجمہ تمہیں کل کے دن میں طلاق ہے
تو واقع فی اول النهار تو اس صورت میں بھی طلاق اولی نہار میں واقع ہوگی الا من اگر اس نے نیت نہ کی کیونکہ اس نے کہا ہے تمہیں کل کے دن میں طلاق ہے
تو دن کے کسی بھی جز میں طلاق واقع ہو سکتی ہے لیکن جونہی پہلا جز آئے گا کوئی مقابل تو ہے نہیں وہاں پر لہٰذا اسی میں کیا ہو جائے گی طلاق واقع ہو جائے گی بھئی کیونکہ وہ بھی تو
اگلے دن کا حصہ ہے بھئی
وان نوا آخره اور اگر اس نے آخر دن کی نیت کی صدق دیانت و قضا تو دیانتا بھی اس کی تصدیق کی جائے گی اور قضا بھی
لأن ذكر فی لا يقتضي الاستیعاب عنده اس لیے کیونکہ فی کا ذکر وہ استیعاب کا تقاضا نہیں کرتا امام صاحب کے نزدیک بھئی
صاحبین کے نزدیک فی کا ذکر ہو یا نہ ہو کس کا تقاضا کرتا ہے استیعاب کا امام صاحب کے نزدیک فی کا ذکر استیعاب کا تقاضا نہیں کرتا
ونظیر هذا اور اس کی مثال جو ہے
لا صومن الدہر کوئی شخص کہتا ہے کہ واللہ لا صومن الدہر واللہ میں ضرور بضرور پورا زمانہ روزے رکھوں گا
بغیر فی کے دہر کو ذکر کیا
وفی الدہر اور ایک کیا کہتا ہے
واللہ لا صومن فی الدہر واللہ میں زمانے میں روزہ رکھوں گا تو دونوں میں امام صاحب فرماتے ہیں فرق ہوگا
جس نے بغیر فی کے کہا تھا لا صومن الدہر اسے کیا کرنا پڑے گا سارا زمانہ اب ہمیشہ روزے رکھنے پڑیں گے اور جس نے کہا تھا لا صومن فی الدہر تو یہ ایک گھڑی کا بھی انساک پایا جائے تو اس نے کیا کیا اپنی قسم کو پورا کر لیا
فإن الاول يقتضي استيعاب العمر فبخلاف الثانی بخلاف ثانی کے کہ وہاں ایک گھڑی کیا انساک بھی کافی ہے
بات سمجھ میں آگئی
خلاصہ کلام کیا ہوا کہ فی ظرفیت کے لیے آتا ہے امام صاحب کا بھی یہی قول صاحبین کا بھی یہی قول لیکن پھر آگے جب ظرف زمان پر بعض اوقات فی کو لاتے ہیں بعض اوقات حذف کرتے ہیں
صاحبین فرماتے ہیں ظرف زمان پر فی کو لاؤ یا حذف کرو دونوں صورتوں کے اندر
یہ استیعاب کا فائدہ دے گا
ما قبل تقاضا کرے گا کہ ما بعد کا کیا کر لے استیعاب کر لے
جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر فی کو ذکر نہیں کیا پھر تو یہ استیعاب کا تقاضا کرے گا ما قبل کس کا استیعاب کر لے ما بعد کا لیکن اگر فی کو ذکر کیا تو پھر اس صورت میں ما قبل ما بعد کے استیعاب کا تقاضا نہیں کرے گا
صاحبین کے نزدیک دونوں صورتوں میں چاہے فی کو ذکر کرے یا فی کو ذکر نہ کرے دونوں صورتوں میں اگر اس نے
کیا کہا
موصن کہتے ہیں أنت طالق غدا یا أنت طالق فی غدن دونوں صورتوں میں اگلے دن کے شروع میں ہی طلاق واقع ہوگی
یہ بھی وہیں پر وہاں پر بھی بالکل یہی بحث تھی اور ایک ڈیڑھ صفحے بعد یہ اَيُّ عَبِيْدِيْ کی بحث آئی تھی۔
اَيُّ عَبِيْدِيْ ضَرَبَكَ "میرے جس غلام نے بھی تمہاری پٹائی کی فَهُوَ حُرٌّ تو وہ آزاد ہے۔"
لِأَنَّ الْمَشِيْئَةَ صِفَةٌ عَامَّةٌ فِيْهِ اسی کیونکہ اس کے اندر مشیت کیا ہے؟ صفت عامہ ہے، نُسِبَتْ اِلٰى كَلِمَةِ "مَنْ" جس کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ کلمہ من کی طرف، فَيَعُمُّ پس یہ کیا ہو جائے گا؟ یہ کلام عام ہوگا بِعُمُوْمِ الصِّفَةِ کس کی وجہ سے؟ عموم صفت کی وجہ سے، یعنی من عام ہوگا فَيَعُمُّ پس من عام ہو جائے گا بِعُمُوْمِ الصِّفَةِ عموم صفت کی وجہ سے، بِخِلَافِ "مَنْ شِئْتَ" بخلاف "من شئت" کے، فَاِنَّهٗ نُسِبَتْ فِيْهِ الْمَشِيْئَةُ اِلَى الْمُخَاطَبِ دُوْنَ "مَنْ" اس لیے کیونکہ اس کے اندر مشیت کی نسبت جو ہے مخاطب کی طرف ہے دُونَ مَنْ نہ کہ من کی طرف، فَلَا يَعُمُّ لہٰذا من عام نہیں ہوگا، وَلِأَنَّ الْعَمَلَ بِالتَّبْعِيْضِ اَيْضًا مُمْكِنٌ ثَمَّ اور اس وجہ سے کہ عمل تبعیض پر بھی ممکن ہے ثَمَّ وہاں پر۔
"مَنْ شَاءَ مِنْ عَبِيْدِيْ عِتْقَهٗ فَاعْتِقُوْهُ" توجہ ہے سبق کی طرف؟ اس کے اندر بھی تبعیض پر عمل ممکن ہے۔
بھئی ہم نے کہا سب غلاموں نے چاہا تو سب آزاد ہو جائیں گے، یہ کہتے ہیں یہاں پر بھی تبعیض پر عمل ممکن ہے، بھئی کس طرح؟ یہاں تو تبعیض نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں بھئی: مثلاً اس کے پانچ غلام ہیں، ہر ایک نے چاہا تو سب آزاد ہو جائیں گے، تو عموم پر بھی عمل ہوا اور تبعیض پر بھی عمل، بھئی عموم پر تو عمل ہوا تبعیض پر کیسے عمل ہوا؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے! ایک غلام نے چاہا آزادی کو، تو یہ ایک باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا ہے؟ بعض ہے۔ تو یہ آزاد۔ دوسرے نے چاہا یہ بھی باقی سب کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا ہے؟ بعض۔ تو ہر غلام باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض ہے، تو لہٰذا یہاں تبعیض پر بھی عمل ہو گیا اور عموم پر بھی عمل ہوا کہ سارے غلام آزاد ہو جائیں گے بھئی، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟
یہ معنی ہے لِأَنَّ الْعَمَلَ بِالتَّبْعِيْضِ اَيْضًا مُمْكِنٌ ثَمَّ اس لیے کیونکہ تبعیض پر عمل ممکن ہے وہاں پر، فَاِنَّ كُلَّ عَبْدٍ بَعْضٌ مَعَ قَطْعِ النَّظَرِ عَنْ غَيْرِهٖ اس لیے کیونکہ ہر غلام بعض ہے قطع نظر کرتے ہوئے غیروں سے، باقی غلاموں سے، بِخِلَافِ "مَنْ شِئْتَ" بخلاف "من شئت" کے، فَاِنَّهٗ لَا يُمْكِنُ التَّبْعِيْضُ فِيْهِ اِلَّا بِاِخْرَاجِ وَاحِدٍ مِّنْهُمْ کیونکہ وہاں جو ہے وہ ممکن نہیں ہے تبعیض پر عمل کرنا مگر یہ کہ ان میں سے ایک کو نکال دیا جائے، ایک کو کیا کیا جائے؟ وہاں تبعیض پر عمل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہاں چاہنے والے غلام ہیں اور ہر جس غلام نے بھی چاہا وہ باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض ہے، جبکہ وہاں چاہنے والا کون ہے؟ مخاطب ہے، تو مخاطب جب چاہے گا سب کو چاہے گا تو عموم آ جائے گا مولانا، تبعیض پر عمل نہ ہو سکے گا بھئی، چاہنے والا ایک ہی ہے بھئی۔ وہاں تو چاہنے والا ہر ایک غلام الگ الگ تھا اور ہر غلام باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا ہے؟ بعض، اور یہاں چاہنے والا ایک ہی ہے تو لہٰذا وہ ایک اگر سب کو چاہتا ہے پھر تو عموم ہی عموم آ جائے گا تبعیض پر تو عمل ممکن نہیں رہے گا، تو لہٰذا یہاں تبعیض پر عمل کے لیے ضروری ہوا کہ کیا کہا جائے؟ ایک غلام کو چھوڑ کر باقی غلام کیا ہو جائیں گے؟ آزاد ہو جائیں گے۔ صورت بھی سمجھ میں آگئی کہ نہیں آئی بھئی؟
وَاِلٰى لِلِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ اور "إِلَى" جو ہے وہ انتہائے غایت کے لیے آتا ہے، إِلَى بھئی یاد رکھیے إِلَى حروف معانی میں سے کسی مسافت کی انتہا بیان کرنے کے لیے آتا ہے، سِرْتُ مِنَ الدَّارِ اِلٰى الْمَسْجِدِ، میں گھر سے مسجد تک گیا، تو یہ آپ کے چلنے کی انتہا کہاں پر ہوئی؟ مسجد پر، اور یہ فائدہ کس نے دیا؟ یہ إِلَى نے دیا بھئی۔
تو یہ معنی ہے وَاِلٰى لِلِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ اور إِلَى جو ہے انتہائے غایت کے لیے آتا ہے، اَيْ اِنْتِهَاءِ الْمُسَافَةِ بھئی بتلایا یہ غایت کا لفظ جو متن میں آیا ہے یہ مسافت کے معنی میں ہے بھئی، مسافت کے معنی میں۔
بھئی وجہ یہ کہ غایت کسے کہتے ہیں؟ انتہا کو، اور متن میں کیا آیا؟ لِلِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ، تو غایت کا معنی بھی انتہا، تو غایت کی جگہ ذرا اٹھا کر انتہا کا لفظ رکھیں کیا عبارت بن گئی؟ اِلٰى لِلِانْتِهَاءِ الْاِنْتِهَاءِ، إِلَى کیا ہے انتہا کی انتہا کے لیے، تو یہ تو کوئی معنی نہیں بنتا بھئی، تو جواب دے رہے ہیں شارح کہ یہاں غایت کس معنی میں ہے؟ مسافت کے معنی میں ہے، تو اِلٰى لِلِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ کا کیا معنی ہوا؟ إِلَى انتہائے مسافت کے لیے، مسافت کی انتہا کے لیے ہے۔
مسافت کا کی انتہا، یہ مسافت کا جز ہوا، ایک چیز کل ہے ایک اس کی انتہا ہے آخری کنارہ ہے، تو یہ انتہا کل کا کیا ہوئی؟ جز، اور بعض اوقات آپ جانتے ہیں جز بول کر کل مراد لیتے ہیں، کبھی کل بول کر جز مراد لیتے ہیں بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ مجازاً مجازاً کل بول کر کبھی جز مراد لیتے ہیں اور کبھی جز بول کر کل مراد لیتے ہیں، تو یہاں بھی ذکر ہے غایت کا اور غایت تو جز ہے اور مراد کل ہے یعنی مغیا، غایت بول کر کیا مراد ہے؟ مغیا، یعنی جز بول کر کل مراد ہے، یہاں متن میں جو غایت کا لفظ آیا اس سے مسافت مراد ہے اور انتہا اس کا ایک جز ہے تو جز بول کر کیا مراد ہوا؟ کل مراد ہوا۔
سمجھ میں آئی بات کہ نہیں؟
وَاِلٰى لِلِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ اَيْ لِلِانْتِهَاءِ الْمُسَافَةِ، إِلَى جو ہے وہ انتہائے مسافت کے لیے ہے، اُطْلِقَ عَلَيْهَا الْغَايَةُ اِطْلَاقًا لِّلْجُزْءِ عَلَى الْكُلِّ اس مسافت پر اطلاق کیا گیا غایت کا اِطْلَاقًا لِّلْجُزْءِ عَلَى الْكُلِّ جز کا کل پر اطلاق کرتے ہوئے، عَلٰى مَا قِيْلَ بناء پر اس کے جو کہا گیا ہے، ثُمَّ بَيَّنَ قَاعِدَةً پھر مصنف نے وہ ضابطہ بیان کیا كَاَنَّهٗ اَيُّ مَوْضِعٍ تَدْخُلُ الْغَايَةُ فِيْهِ وَاَيُّ مَوْضِعٍ لَّا تَدْخُلُ کہ کس مقام پر غایت جو ہے وہ مغیا میں داخل ہوگا اور کس مقام پر غایت مغیا میں داخل نہیں ہوگا۔ بھئی دیکھیے! إِلَى آتا ہے غایت کے لیے یعنی إِلَى کے ما بعد غایت ذکر ہوگی اور إِلَى سے ما قبل مغیا ذکر ہوگا، اب کس مقام پر غایت مغیا کے حکم میں داخل ہوگا اور کس مقام پر غایت مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہوگا؟ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلٰى الْمَرَافِقِ، تو إِلَى کے بعد المرافق کا ذکر ہے، تو یہ آپ ما قبل کا حکم کیا ہے؟ دھونے کا، تو کیا یہ کہنیاں بھی دھونے میں داخل ہیں یا داخل نہیں؟ اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ، پھر روزوں کو پورا کرو کہاں تک؟ رات تک، تو روزہ رات کو بھی ہوگا یا نہیں؟ یہ ما قبل کا کیا حکم ہے؟ اس میں روزہ ہے، تو إِلَى کے بعد کس کا ذکر؟ لیل کا ذکر، تو یہ بھی ما بعد بھی ما قبل کے حکم میں داخل ہے، کیا رات کو بھی روزہ ہوگا یا رات تک روزہ ہوگا؟ تو یہ جو غایت ہے یہ ما قبل کے حکم میں داخل کہاں داخل ہوگی اور کہاں داخل نہیں ہوگی؟ دیکھو اِلَى الْمَرَافِقِ کے اندر ہم نے کیا کہا؟ غایت مغیا کے حکم میں داخل ہے، کہنیوں کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ دھونا پڑے گا، کہنیوں کا دھونا بھی فرض ہے اگر چھوڑ دیا تو وضو ہی نہیں ہوگا، اور ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ، یہاں پر ہم کیا کہتے ہیں کہ روزہ کہاں تک ہوگا؟ رات تک ہوگا، رات روزے میں داخل نہیں، تو دیکھو بعض جگہ ہم غایت کو مغیا میں داخل کرتے ہیں بعض جگہ داخل نہیں کرتے، اب اس کا ضابطہ چاہیے بھئی، کس جگہ پر غایت مغیا میں داخل ہوگا اور کس جگہ غایت مغیا میں داخل نہیں ہوگا، اس کے لیے اب ضابطہ بیان کرنے لگے ہیں مصنف بھئی۔
چنانچہ کہتے ہیں یہی بات شارح بیان کر رہے ہیں: ثُمَّ بَيَّنَ قَاعِدَةً کہ پھر مصنف نے ضابطہ بیان کیا كَاَنَّهٗ اَيُّ مَوْضِعٍ تَدْخُلُ الْغَايَةُ فِيْهِ کہ کس مقام پر غایت داخل ہوگا فِيْهِ کس کے اندر؟ مغیا میں، وَاَيُّ مَوْضِعٍ لَّا تَدْخُلُ اور کس مقام پر غایت مغیا میں داخل نہیں ہوگا، فَقَالَ پس فرمایا: فَاِنْ كَانَتِ الْغَايَةُ قَائِمَةً بِنَفْسِهَا یاد رکھیے بھئی! اگر غایت خود قائم ہو اپنی ذات کے اعتبار سے، غایت کیا ہو؟ خود قائم ہو اپنی ذات کے اعتبار سے یعنی اس کا الگ وجود ہے مغیا سے، خود اپنا الگ وجود ہے، تو اس صورت میں غایت مغیا میں داخل نہیں ہوگا بھئی۔
کیا صورت میں نے بیان کی؟ اگر غایت کا اپنا الگ مستقل وجود ہے تو اس صورت میں غایت مغیا میں داخل نہیں، اور اگر غایت کا اپنا مستقل وجود نہیں تو پھر اس صورت میں صدر کلام پہلے سے غایت کو شامل تھا یا شامل نہیں تھا، اگر وہ صدر کلام پہلے سے غایت کو شامل تھا تو اس صورت میں غایت مغیا کے حکم میں داخل ہوگا، اور اگر صدر کلام غایت کو شامل نہیں تھا یا اس کے شامل ہونے میں شک تھا تو اس صورت میں غایت مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہوگا۔
خلاصہ کلام ذکر کر رہا ہوں بھئی آگے ساری تفصیل خود بھی آ جائے گی بھئی، اگر غایت خود قائم ہو، غایت خود قائم ہوگا یا خود قائم نہیں ہوگا، اگر خود قائم ہے تو پھر غایت مغیا کے حکم میں داخل نہیں، اب اگر خود قائم نہیں ہے تو پھر صدر کلام غایت کو شامل ہوگا یا شامل نہیں ہوگا، اگر شامل ہے تو پھر غایت مغیا میں داخل ہوگا اس کے حکم میں، اور اگر صدر کلام جو ہے غایت کو داخل غایت اس میں داخل نہیں یا اس کے داخل ہونے میں شک ہے تو اس صورت میں پھر داخل نہیں ہوگا بھئی، غایت مغیا میں داخل نہیں ہوگا، بات سمجھ میں آئی؟ کیا ہوا خلاصہ؟ اگر غایت کا اپنا مستقل وجود ہے تو اس صورت غایت مغیا میں داخل نہیں، اور اگر پھر اگر مستقل وجود نہیں تو پھر غایت صدر کلام میں شامل ہوگا یا شامل نہیں داخل ہوگا، اگر داخل تھا تو اس صورت میں داخل رہے گا، اور اگر داخل نہیں تھا یا اس کے داخل ہونے میں شک تھا تو پھر اس صورت میں بھی داخل نہیں ہوگا بھئی، دیکھیے آگے سب کی مثالیں بھی آ رہی ہیں۔
کہتے ہیں: فَاِنْ كَانَتِ الْغَايَةُ قَائِمَةً بِنَفْسِهَا اگر غایت جو ہے وہ قائم بنفسہا ہو یعنی خود قائم ہو كَقَوْلِهِ جیسے کسی شخص کا یہ قول: مِنْ هٰذِهِ الْحَائِطِ اِلٰى هٰذِهِ الْحَائِطِ، "اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک"، لَا تَدْخُلُ الْغَايَتَانِ فِي الْاِقْرَارِ تو یہ دونوں غایت جو ہیں وہ اقرار میں داخل نہیں ہوں گے۔
الگ کسی دلیل سے ہو جائیں وہ الگ بات ہے، ہم لفظوں صرف ان لفظوں کے اعتبار سے کہہ رہے ہیں، ایک شخص کہتا ہے: لِزَيْدٍ زید کے لیے مِنْ هٰذِهِ الْحَائِطِ اِلٰى هٰذِهِ الْحَائِطِ اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک یہ زید کا ہے، اقرار کر لیا بھئی۔ اب بھئی یہ درمیان کی جگہ تو زید کی ہو گئی، زید کی ہو گئی، اور یہ جو دیواریں ہیں ایک غایت ہے ابتداء کا اور ایک غایت ہے انتہا کا، یہ بھی داخل ہیں یا داخل نہیں؟ یہ بھی زید کی ہو گئیں یا نہیں؟ تو ضابطہ ذکر کر دیا انہوں نے کہ اگر غایت خود قائم ہو تو دیواریں بھی خود کیا ہیں؟ قائم ہیں، آگے تفصیل آ رہی ہے، اس صورت میں یہ اقرار میں داخل نہیں ہوں گی، فَاِنَّ الْحَائِطَ غَايَةٌ قَائِمَةٌ بِنَفْسِهَا اس لیے کیونکہ دیوار جو ہے وہ ایسا غایت ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے قائم ہے، بھئی اپنی ذات کے اعتبار سے قائم ہونے کا کیا معنی؟ شارح اب تفصیل بیان کر رہے ہیں: اَيْ مَوْجُوْدَةً قَبْلَ التَّكَلُّمِ غَيْرَ مُفْتَقِرَةٍ فِيْ وُجُوْدِهَا اِلَى الْمُغَيَّى موجودة قبل التكلم، یہ وہ کہ یعنی کہ وہ غایت تکلم سے پہلے کا موجود ہو۔ غایت تکلم سے پہلے چلیے بس کریں بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ اَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔