Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-044

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 153
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔44 ثم ان المصنف رحمه الله ذكر مثالا لتعارض النص مع المفسر من المسائل الفقهية على سبيل التفريع فقال: ”حتى قلنا انه اذا تزوج امرأة الى شهر انه متعة“. يريد ان قوله ”تزوج“ نص في النكاح، لكنه يحتمل تاويل ان يكون نكاحا الى اجل فيكون متعة. کہتے ہیں پھر اس کے بعد ثم ان المصنف رحمه الله ذكر مثالا لتعارض النص مع المفسر. پھر اس کے بعد مصنف رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے ایک مثال کو نص کے ساتھ مفسر کے تعارض کے لیے۔ من المسائل الفقهية. کس میں سے؟ مسائل فقہیہ میں سے ایک مثال کو ذکر کیا ہے نص کے مفسر کے ساتھ تعارض کی نص کے مفسر کے ساتھ تعارض کی مثال کے طور پر۔ على سبيل التفريع. تفریع کے طریقہ پر، تفریع کرتے ہوئے۔ فقال. پس مصنف فرماتے ہیں۔ دیکھو مصنف فرما رہے ہیں: حتى قلنا. یہ نہیں فرمایا: مثاله. سمجھ رہے ہیں؟ ہے تو یہ مثال ہی، لیکن اس کو تفریع کے طریقہ پر ذکر کیا ہے۔ حتی قلنا، یہاں تک کہ ہم نے کہا: انه اذا تزوج امرأة الى شهر کہ جب نکاح کیا کسی عورت سے کسی شخص نے ایک مہینے تک کی مدت کے لیے، تو انه متعة. یہ کیا ہے؟ متعة ہے۔ دیکھیے بھئی، ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے اور ان لفظوں کے ساتھ کرتا ہے: تزوجتك الى شهر. "میں نے تجھ سے نکاح کیا ایک ماہ تک کے لیے، ایک ماہ کی مدت کے لیے।" اب تزوج کا لفظ نص ہے نکاح کے باب میں۔ اس کا مقصد ہی کیا ہے؟ کس لیے لایا جاتا ہے؟ نکاح کرنے کے لیے۔ لیکن اس کے اندر احتمال تھا کہ ہو سکتا ہے یہ نکاح ایک مدت تک کے لیے ہو۔ آگے ”إلى شهر“ کے ذریعے اس نے کیا کر دی اس کی؟ تفسیر کر دی، بتلا دیا کہ یہ نکاح کتنی مدت کے لیے کر رہا ہے؟ ایک ماہ کے لیے کر رہا ہے۔ تو یہ نکاحِ مؤقت ہوا مولانا، اور نکاحِ مؤقت فاسد ہے، درست نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ نکاح مؤبد ہونا چاہیے، ہمیشہ کے لیے ہونا چاہیے۔ تھوڑی مدت کے لیے کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح متصہ ہے مولانا، وہ بھی کچھ وقت کے لیے کیا جاتا ہے، وہ بھی جائز نہیں ہے بھئی، دونوں حرام ہیں بھئی حرام۔ نکاحِ مؤقت بھی حرام، متصہ بھی حرام۔ تو یہاں نکاحِ مؤقت پر متصہ کا اطلاق کر دیا گیا بھئی، کیونکہ دونوں کچھ مدت کے لیے ہوتے ہیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ نکاحِ مؤقت کے اندر تزوجتُ وغیرہ کے الفاظ ذکر ہوتے ہیں، جبکہ متصہ کے اندر اتَمتَّعُ بكِ یا استمتِعُ بكِ، "میں تجھ سے نفع اٹھاؤں گا ایک ماہ تک"، یہ لفظ ذکر ہوتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ نکاحِ مؤقت ہے، تو اس کو متصہ کہہ دیا۔ تو حکم دونوں کا ایک ہی ہے، دونوں جائز نہیں ہیں مولانا، دونوں حرام ہیں۔ تو لہٰذا یہاں پر تعارض آیا بھئی، نص اور مفسر کے درمیان بھائی। تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ مفسر کو ترجیح دی جائے گی، اور مفسر کو ترجیح دی گئی تو پتہ چلا یہ تو متصہ ہے، لہٰذا اس پر کس چیز کا حکم لگایا جائے گا؟ فاسد ہونے کا اور حرام ہونے کا بھائی। تو کہتے ہیں: يريد ان قوله ”تزوج“ نص في النكاح. مصنف نے یہ ارادہ کیا کہ خاوند کا قول ”تزوج“ یہ نص ہے کس کے اندر؟ نکاح کے اندر۔ لكنه يحتمل تاويل ان يكون نكاحا الى اجل فيكون متعة. لیکن یہ اس تاویل کا احتمال رکھتا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ نکاح ہو ایک مدت کے لیے، تو یہ متصہ ہوگا۔ وقوله ”الى شهر“ مفسر في هذا المعنى. اور اس کا قول، خاوند کا قول ”الى شهر“، یہ مفسر ہے اس معنی کے اندر। یعنی یہ جو نکاح ایک مدت کے لیے ہے، اس کے اندر یہ مفسر ہے۔ ”الى شهر“ سے کس چیز کا پتہ لگ رہا ہے بھئی؟ مدت کا، تو اس معنی کے اندر یہ مفسر ہے۔ لا يحتمل الا كونه متعة. اور یہ احتمال نہیں رکھتا مگر اس کے متصہ ہی ہونے کا। بھئی! مفسر اسے کہتے ہیں نا جس میں کوئی اور احتمال نہ ہو بھئی، اور احتمال نہ ہو۔ تو یہاں بھی متصہ کے علاوہ اور کوئی احتمال نہیں ہے۔ فيحمل على المتعة. تو اس کو محمول کیا جائے گا متصہ پر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں تک شرح پوری ہوئی بھئی اس کی، متن کی। آگے اب اس پر اعتراض کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ولكن لا يخلو هذا من المسامحة. مگر یہ مصنف کی یہ بات مسامحت سے خالی نہیں ہے بھئی، اس میں سستی کی ہے۔ لان قوله ”الى شهر“ متعلق بقوله ”تزوج“ وليس كلاما مستقلا بنفسه حتى يكون مفسرا يصلح معارضا له. کہتے ہیں: اس لیے کہ یہ قول جو ہے ”الى شهر“، یہ متعلق ہے کس چیز کے ساتھ؟ تزوج... بھئی، جار مجرور ہے نا، جار مجرور کس سے متعلق ہوتا ہے؟ تو یہ متعلق ہے ”تزوج“ کے ساتھ۔ وليس كلاما مستقلا بنفسه. اور یہ خود کوئی مستقل کلام نہیں ہے بھئی، ”الى شهر“ اکیلا کہتے رہیں، کسی کو کبھی کچھ پتہ نہیں چلے گا بھئی کیا مراد ہے اس سے। تو یہ کوئی مستقل کلام نہیں ہے کہ حتى يكون مفسرا يصلح معارضا له. یہاں تک کہ یہ مفسر ہو سکے، ایسا مفسر ہو سکے جو اس نص کے معارض ہو سکے۔ یہ پورا کلام ہے ہی نہیں، اس کو مفسر قرار دینا درست ہی نہیں ہے بھئی۔ مفسر تو وہ پورا کلام ہوگا، پورا کلام ہوگا اس کے بعد اس کا کیا کیا آئے گا؟ نص کے ساتھ تعارض آئے گا۔ فكانه اراد ان هذا الكلام دائر بين كونه نكاحا وبين كونه متعة فرجحت المتعة. تو گویا کہ مصنف نے یہ ارادہ کیا کہ ان هذا الكلام دائر بين كونه نكاحا وبين كونه متعة. کہ یہ جو کلام ہے، یہ دائر ہے اس کے نکاح ہونے میں اور اس کے متصہ ہونے میں کہ یہ نکاح ہے یا متصہ ہے، اس کے درمیان دائر ہے۔ فرجحت المتعة. پھر متصہ کیا ہوا؟ راجح ہو گیا بھئی، متصہ راجح ہو گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ”تزوج“، دیکھو، ”تزوج“ کے اندر احتمال تھا کہ یہ نکاح ہو، ہو سکتا ہے یہ متصہ ہو۔ پھر ”الى شهر“ کی قید کی وجہ سے کون سا احتمال راجح ہوا؟ متصہ ہونے کا احتمال راجح ہوا، تو تزوجتُ دائر تھا نکاح اور متصہ ہونے میں، پھر ”الى شهر“ کی قید کی وجہ سے متصہ راجح ہو گیا۔ ثم بعد الفراغ عن بيان الاقسام الاربعة شرع في مقابلاتها. پھر چاروں قسموں کے بیان سے فارغ ہونے کے بعد شروع ہوئے مصنف فی مقابلاتها، ان کے جو مقابل ہیں بھئی چار قسمیں۔ کون کون سی چار قسمیں گزری ہیں؟ ظاہر، نص، مفسر اور محکم، ان کو بیان کر دیا، اب ان کے مقابلات بیان کرنے لگے ہیں جو خفا کے اندر ہیں۔ فقال: ”فاما الخفي فما خفي مراده بعارض غير الصيغة لا ينال الا بالطلب“. باقی خفی جو ہے وہ وہ کلام ہے کہ خفی ہو اس کی مراد بعارض کسی ایسے عارض کی وجہ سے غير الصيغة جو صیغے سے غیر ہو، لا ينال کہ اس کو پایا نہیں جا سکتا الا بالطلب مگر طلب کے ذریعہ۔ خفی کسے کہتے ہیں؟ خفی اس کلام کو کہتے ہیں جس کی مراد کیا ہو؟ جس کی مراد خفی ہو کسی ایسے عارض کی وجہ سے جو صیغے کے علاوہ ہو بھئی، صیغے سے نہ ہو وہ خفا صیغے سے نہیں آ رہا بلکہ کسی اور عارض کی وجہ سے آ رہا ہے، اور اس کی مراد کو پایا نہیں جا سکتا مگر طلب کے ذریعہ، اس میں طلب کرنا پڑے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ طلب کرنا پڑے گی۔ يعني ان الخفي اسم لكلام خفي مراده بسبب عارض نشأ من غير الصيغة. یعنی خفی اسم ہے اس کلام کا جس کے کہ اس کی مراد خفی ہو کسی ایسے عارض کے سبب سے جو پیدا ہوا ہے صیغے کے علاوہ سے۔ اذ لو كان منشؤه الصيغة لكان فيه خفاء زائد ويسمى بالمشكل والمجمل. اس لیے کیونکہ اگر اس کا سبب وہ صیغہ ہو، اس خفا کا سبب اگر صیغہ ہو، لكان فيه خفاء زائد. تو اس کے اندر زائد خفا ہوگا، ويسمى بالمشكل والمجمل. اور اس کو مشکل اور مجمل کہیں گے بھئی۔ یاد رکھیے، خفی کے اندر خفا صیغے کی وجہ سے نہیں آتا بھئی۔ خفی کے اندر خفا صیغے کی وجہ سے نہیں، کسی اور عارض کی وجہ سے خفا آئے گا، مراد کا پتہ نہیں چلے گا بھئی۔ جبکہ باقی جو مشکل، مجمل وغیرہ ہیں، ان کے اندر خفا نفسِ لفظ سے آتا ہے بھئی، نفسِ لفظ ہی کے اندر کیا ہوتا ہے؟ خفا ہوتا ہے، صیغے میں۔ تو کہتے ہیں: اگر اس کے اندر خفا صیغے کی وجہ سے ہی ہوتا تو اس میں خفا زائد ہو جاتا اور اس کو مشکل اور مجمل کہتے، فلا يكون مقابلا للظاهر. تو اس صورت میں یہ ظاہر کے مقابل نہ ہوتا، وہ ظاہر الذی فيه ادنى ظهور. جس کے اندر کیا ہے؟ ادنیٰ درجے کا ظہور ہے۔ بھئی، اگر صیغے کی وجہ سے اس میں خفا ہوتا تو اس میں خفا زائد ہو جاتا، حالانکہ ہم اس کو خفا کی کون سی قسم بنایا ہے؟ ادنیٰ درجہ، جس میں ادنیٰ درجے کا خفا ہو۔ تو اس کو جس کے اندر ادنیٰ درجے کا ظہور تھا، یہ اس کے مقابل ہے، یعنی خفی کس کے مقابل ہے؟ ظاہر کے مقابل ہے۔ تو اگر اس کے اندر خفا صیغے کی وجہ سے آتا تو خفا اس کے اندر بڑھ جاتا، تو لہٰذا یہ وہ ظاہر کے مقابلے میں نہ رہتا بھئی، وہ ظاہر جس کے اندر سب سے ادنیٰ درجے کا ظہور ہے، تو خفا اس کا بڑھ جاتا، تو یہ اس کے مقابلے کا نہ رہتا۔ تو اس کے اندر بھی ادنیٰ خفا ہونا چاہیے، اور ادنیٰ خفا وہ ہے جو صیغے کی وجہ سے نہ آئے بلکہ کسی اور وجہ سے آئے بھئی۔ فان كلا من هؤلاء مترتب في الخفاء ترتب الاصل في الظهور. اس لیے کہ یہ سارے ترتیب وار ہیں خفا کے اندر ترتب الاصل في الظهور، جیسے اصل ظہور کے اندر ترتیب وار ہیں۔ جیسے اصل کون تھے؟ ظاہر، نص، مفسر اور محکم، اور یہ تو ان کے مقابلات ہیں بھئی۔ تو وہ ظاہر، وہ جو اصل جیسے ظہور کے اندر ترتیب وار تھے، سب سے ادنیٰ درجہ ظاہر کا، اس سے بڑھ کر نص، اس سے مفسر، اور اس سے بڑھ کر محکم ہے۔ اسی طرح یہ جو مقابلات ہیں، یہ بھی خفا کے اندر ترتیب وار ہیں۔ سب سے ادنیٰ درجے کا خفا خفی کے اندر، اس سے زیادہ خفا مشکل کے اندر، اس سے بڑھ کر خفا مجمل کے اندر، اور سب سے بڑھ کر خفا متشابہ کے اندر۔ لہٰذا ادنیٰ ادنیٰ کے مقابلے میں ہوگا اور اعلیٰ اعلیٰ کے مقابلے میں، متوسط متوسط کے مقابلے میں۔ لہٰذا یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جس کے اندر ادنیٰ درجے کا ظہور ہے، اس کے مقابلے میں وہ قسم آئے جس کے اندر ادنیٰ درجے کا خفا ہے، اور ادنیٰ درجے کا خفا اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ وہ نفسِ لفظ سے نہ آئے بلکہ کسی اور عارض... اگر نفسِ صیغے سے خفا آئے گا تو وہ خفا بڑھ جائے گا، تو وہ ادنیٰ درجے کے ظہور کے اعتبار سے جو ادنیٰ قسم ہے، اس کے مقابل نہیں بن سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ فاذا كان في الظاهر ادنى ظهور فلا بد ان يكون في الخفي ادنى خفاء. پس جب ظاہر کے اندر ادنیٰ درجے کا ظہور ہے تو ضروری ہوا کہ خفی کے اندر بھی ادنیٰ خفا ہونا چاہیے۔ وهكذا القياس. اور اسی طرح قیاس ہے۔ فلا ينال مراده الا بالطلب. پس نہیں پایا جا سکتا اس کی مراد کو مگر طلب ہی کے ذریعہ۔ فصار كمن اختفى في المدينة بنوع حيلة عارضة من غير تغيير لباس وهيئة. تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کوئی شخص کسی شہر میں چھپ جائے کوئی عارضی حیلہ کرتے ہوئے بھئی۔ بھئی، دیکھیے بھئی، کئی صورتیں بنائیں گے۔ خفی میں صرف طلب کرنا پڑتی ہے۔ مشکل کے اندر طلب بھی کرنا پڑتی ہے اور پھر غور و فکر بھی کرنا پڑتا ہے۔ مجمل کے اندر استفسار بھی کرنا پڑتا ہے، طلب بھی کرنی پڑتی ہے اور غور و فکر بھی کرنا پڑتا ہے، تین چیزیں۔ پہلے کی مثال ذکر کرتے ہیں: مثلاً کوئی شخص جو ہے، وہ بھاگا اور لوگوں کے درمیان چھپ گیا، ان میں گھل مل گیا۔ تو آپ چونکہ اس کو پہچانتے ہیں، شکل و صورت کا پتہ ہے، آپ صرف طلب کریں گے، لوگوں کے اندر اس کو تلاش کریں گے اور اس کو پہچان لیں گے۔ دوسری صورت: کہ ایک شخص لوگوں میں بھی گھل مل گیا اور اپنا حلیہ بھی ان کے مطابق اس نے بنا لیا۔ اب آپ کو دو کام کرنا پڑیں گے: طلب بھی کرنا پڑے گی اور پھر غور و فکر بھی کرنا پڑے گا کہ یہ وہ والا آدمی ہے وہ یا یہ والا آدمی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ مشکل میں اس طرح ہوگا۔ اور ایک تیسرا مجمل آئے گا جس میں استفسار کرنا، پوچھنا بھی پڑے گا بھئی۔ مثلاً ایک آدمی یہاں سے بھاگا، کسی دوسرے شہر میں جا کر لوگوں میں گھل مل گیا اور اپنا حلیہ بھی بدل لیا۔ اب پہلے آپ کو پوچھنا پڑے گا کہ کدھر گیا وہ، کس شہر میں گیا؟ پھر جب شہر کا پتہ چلے گا پھر وہاں آپ کو طلب کرنا پڑے گی اس کی۔ پھر جب طلب کر لیں گے تو پھر اس نے تو حلیہ بھی بدلا ہوا ہے، آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ غور و فکر بھی کرنا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا مجمل کے اندر استفسار بھی ہے، طلب بھی ہے اور تامل بھی، اس میں خفا بہت زیادہ۔ اور اس سے کم خفا کس کے اندر؟ مشکل کے اندر، تو وہاں صرف کیا کرنا پڑے گا؟ طلب اور تامل کرنا پڑے گا۔ اور سب سے کم خفا جو ہے وہ خفی کے اندر، اس میں صرف کیا کرنا پڑے گا؟ طلب کرنا پڑے گی۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں۔ وهكذا القياس کا معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح قیاس ہے، یعنی ادنیٰ کے مقابلے میں ادنیٰ آیا ہے، تو جس میں اس سے... نص، نص کے اندر ظہور اس سے بڑھ کر ہے تو اس کے مقابلے میں جو خفا کی قسم آ رہی ہے، خفی... خفا جس کے اندر ہے اس میں خفا کے آنا چاہیے؟ ذرا زیادہ۔ پھر مفسر کے مقابلے میں کون آیا؟ مجمل، تو مفسر میں ظہور اس پچھلے کس مفسر... نچلی قسموں سے بڑھ کر ہے، تو لہٰذا مجمل کے اندر خفا بھی نچلی قسموں سے بڑھ کر، اس طریقے پر۔ فلا ينال مراده الا بالطلب. پس نہیں پایا جا سکتا اس کی مراد کو مگر طلب ہی کے ذریعہ۔ فصار كمن اختفى في المدينة. تو یہ ہو گیا اس شخص کی طرح جو چھپ گیا ہو شہر کے اندر بنوع حيلة عارضة ایک نوع کے عارضی حیلے کے ساتھ، ایک نوع کے عارضی حیلے کے ذریعہ چھپ جائے شہر کے اندر من غير تغيير لباس وهيئة بغیر تبدیل کیے لباس اور ہیئت کو۔ ثم في قوله ”بعارض غير الصيغة“ مسامحة. پھر ماتن کا جو قول ہے اوپر مولانا، متن میں آیا تھا: بعارض غير الصيغة، اس کے اندر مسامحت ہے مولانا، سستی کی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ چشم پوشی ہے بھئی، مسامحت بھئی۔ مسامحت کو سمجھ لیجیے کیا مسامحت ہے یہاں پر بھئی۔ دراصل ”غير الصيغة“ کی قید لگا کر ماتن احتراز کرنا چاہتے تھے مشکل، مجمل اور متشابہ سے بھئی۔ ”غير الصيغة“ کی قید لگا کر کیا کرنا چاہتے ہیں؟ احتراز کرنا چاہتے ہیں، کس سے؟ مشکل، مجمل اور متشابہ سے بھئی۔ یعنی خفی کی باقی تین قسموں کو نکالنا چاہتے ہیں یہ قید لگا کر۔ باقی قسموں کو نکالنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان باقی صیغوں کے اندر میں نے آپ کو بتلایا خفا کس کی وجہ سے آئے گا؟ نفسِ لفظ کی وجہ سے، یعنی صیغے کی وجہ سے آئے گا۔ تو ”غير الصيغة“ کی قید لگا کر کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ان ساروں کو اس تعریف سے نکالنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ جو عبارت لے کر آئے ”بعارض غير الصيغة“، عارض کو موصوف بنایا اور ”غير الصيغة“ کو کیا کیا؟ صفت بنایا۔ تو یہ ایسا عارض جو صیغے سے صیغے کے علاوہ ہو بھئی۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ باقی تین کے اندر خفا عارض کی وجہ سے آئے گا اور وہ عارض وہ صیغہ ہے۔ اس سے کیا بات سمجھ میں آئی؟ اس کے اندر جو عارض ہے وہ غیر صیغہ ہے، معلوم ہوا باقیوں کے اندر عارض صیغہ ہوگا، حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ صیغے پر عارض کا اطلاق صحیح نہیں مولانا۔ صیغے پر عارض کا اطلاق صحیح نہیں ہے بھئی، تو لہٰذا اس... عبارت سے یہ وہاں پڑتا ہے کہ باقیوں کے اندر جو خفا آئے گا وہ عارض کی وجہ سے جو ہے، عارض کی وجہ سے آئے گا اور وہ عارض کیا ہوگا؟ صیغہ، تو صیغے پر عارض کا اطلاق لازم آئے گا، حالانکہ صیغے پر تو عارض کا اطلاق صحیح نہیں ہے۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ بعارض من غیر صیغۃ وہ کہتے، بھئی من کا لفظ درمیان میں لے آتے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں والأظہر اور زیادہ ظاہر یہ ہے، زیادہ ظاہر یہ أن یقول کہ یوں کہتے بعارض من غیر صیغۃ۔ ایسا عارض، بعارض من غیر صیغۃ أي نشأ من غیر صیغۃ من غیر صیغۃ۔ اوپر شرح کرتے ہوئے بھی انہوں نے اسی طرح عبارت ذکر کی تھی، عارض نشأ من غیر صیغۃ، ایسا عارض جو پیدا ہوا ہے کس سے؟ صیغہ کے علاوہ سے۔ اب اس کے مخالف قسم ذرا نکالو۔ ایسا وہ جو مشکل، متشابہ اور مجمل تھا، اس میں کیا ہوگا؟ خفا آئے گا ایسے عارض کی وجہ سے، نشأ من الصیغۃ جو کس سے پیدا ہوا ہے؟ صیغہ سے ہی پیدا ہوا ہے۔ معلوم ہوا صیغہ خود عارض نہیں ہے بلکہ صیغے سے عارض پیدا ہوا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا اب وہ اشکال باقی نہیں رہے گا بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور شارح نے والأظہر کہا، یہ نہیں کہا صواب، صواب درست یوں ہے کہ یوں کہتے۔ کیونکہ مصنف کے کلام میں بھی اگر غیر صیغہ کو صفت کے بجائے بدل بنا دیا جائے، مصنف جواب دے سکتے ہیں کہ یہ جو غیر صیغہ ہے، یہ صفت نہیں ہے عارض کی بلکہ کیا ہے اس سے؟ بدل ہے۔ تو اس صورت کے اندر ان کی عبارت بھی درست ہو جاتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی لیے صواب نہیں کہا، اظهر کہا کہ زیادہ ظاہر یہ کہ أن یقول یوں کہتے بعارض من غیر صیغۃ، ایسے عارض کی وجہ سے جو صیغے کے علاوہ سے پیدا ہوا ہو، کما في عبارت شمس الأئمۃ الحلواني جیسے کہ شمس الأئمہ حلوانی کی عبارت کے اندر ہے۔ انہوں نے اس طرح کی ہے بھئی۔ وقولہ لا ینال إلا بالطلب لیس قیدا احترازیا بل بیان للواقع وتأکید للخفاء، اور مصنف کا قول لا ینال إلا بالطلب کہ اس مراد کو پایا نہیں جا سکتا مگر طلب کے ذریعے ہی، لیس قیدا احترازیا یہ کوئی قید احترازی نہیں ہے بھئی، کیونکہ باقی تینوں قسموں میں تو غیر صیغہ کی قید سے نکل گئی تھیں بھئی۔ تو اب یہ قید احترازی نہیں ہے، بل بیان للواقع بلکہ یہ کیا ہے؟ واقعہ کا بیان ہے کہ آپ کو کیا کرنا پڑے گا اس کی مراد پر مطلع ہونے کے لیے؟ طلب کرنی پڑے گی، واقعہ میں اس طرح ہے۔ وتأکید للخفاء اور یہ تاکید ہے کس کے لیے؟ خفا کے لیے۔ خفا ہے تو اب بغیر طلب کے آپ مطلع نہیں ہو سکتے۔ وحکمہ النظر فیہ، اور اس خفی کا حکم کیا ہے؟ کہتے ہیں النظر فیہ کہ اس کے اندر غور و فکر کیا جائے گا، لیعلم تاکہ یہ جان لیا جائے کہ أن خفاءہ لمزیت أو نقصان کہ اس کے اندر جو خفا ہے، اس کا جو خفا ہے لمزیت کسی زیادی کی وجہ سے ہے أو نقصان یا نقصان یا کمی کی وجہ سے ہے، فیظہر اس کا عطف لیعلم پر ہے، فیظہر تاکہ یہ بات ظاہر، فیظہر المراد بہ تاکہ اس کی مراد کیا ہو جائے؟ ظاہر ہو جائے۔ کہتے ہیں أي حکم الخفي النظر فیہ، خفی کا حکم جو ہے اس کے اندر غور و فکر کرنا ہے، وہو الطلب الأول اور یہ ہے وہ طلب اول، لیعلم تاکہ جان لیا جائے أن خفاءہ لأجل زیادۃ المعنى فیہ على الظاہر أو نقصانِہ تاکہ جان لیا جائے کہ اس کا خفا جو ہے اس کے معنی کے اندر زیادی کی وجہ سے ہے ظاہر پر اس کے معنی کی زیادی کی وجہ سے ہے أو نقصانِہ فیہ یا اس میں اس کے أو نقصانِہ فیہ یا اس کے اندر اس معنی کی کمی کی وجہ سے ہے۔ دیکھیے آگے مثال سے بات آپ کو واضح ہو جائے گی۔ فحینئذ یظہر المراد، تو اس وقت مراد ظاہر ہو جائے گی، فیحکم في الزادۃ على حسب ما یعلم من الظاہر، تو حکم لگایا جائے گا زیادی کی صورت میں اسی کے اعتبار سے جو معلوم ہوا تھا ظاہر سے، ولا یحکم في النقصان قط، اور حکم نہیں لگایا جائے گا کمی کی صورت میں کبھی بھی۔ کآیۃ السرقۃ في حق الطرار والنباش، جیسے کہ سرقہ کی آیت ہے مولانا، چوری کا ذکر جس میں، کہ چوری کرنے والے مرد، السارق والسارقۃ فاقطعوا أیدیہم، بھئی اس کی طرف اشارہ۔ في حق الطرار والنباش، طرار کہتے ہیں جیب قطرا مولانا اور نباش کہتے ہیں کفن چور بھئی، کفن چور۔ طرار کسے کہتے ہیں؟ جیب قطرے کو کہتے ہیں بھئی، اور نباش کہتے ہیں کفن چور کو بھئی۔ بھئی آج کل تو کپڑا مشینوں پر بنتا ہے، سستا مل جاتا ہے آپ کو۔ قدیم زمانے میں یہ ہاتھ سے بنتا تھا اور بڑا مہنگا ہوتا تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آسانی سے ہر ایک نہیں لے سکتا تھا، اور تو لہذا جو نباش کفن چور ہوتے تھے، یہ قبریں کھود کر جو کفن کا کپڑا ہوتا تھا اس کو چوری کر لیتے تھے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ خصوصاً امیروں کے کفن تو بڑے مہنگے مہنگے کفن ہوتے بھئی، اعلیٰ کپڑے لگاتے، تو وہ چوری کر لیتے اور پھر اس طرح ان کو بیچ کر پیسے اکٹھے کرتے بھئی۔ تو اب ان کے بھئی آیت سرقہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآن میں کیا فرماتے ہیں؟ السارق والسارقۃ فاقطعوا أیدیہما، چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت، بس ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، ان کا حکم بیان ہوا۔ اب چور چوری کرنے والا مرد چوری کرنے والا کیا کرتا ہے؟ کسی دوسرے کے مال کو خفیہ طور پر چرا کر لے جاتا ہے بھئی۔ اب اس کا تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اب سوال پیدا ہوا کہ یہ جیب قطرے کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ اور یہ کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ تو ان کے بارے میں یہ آیت خفی ہے مولانا، آیت کیا ہے؟ خفی ہے۔ اور یہ خفا صیغے کی وجہ سے نہیں آیا بھئی، صیغے کی وجہ سے۔ کیونکہ سارق اور سارقہ کا معنی تو ظاہر ہے مولانا۔ سارق کا معنی چوری کرنے والا مرد، سارقہ کا معنی چوری کرنے والی عورت، اس میں کسی قسم کا خفا نہیں ہے۔ بلکہ ایک اور عارض کی وجہ سے یہاں خفا آیا اور وہ عارض یہ کہ جیب قطرے کا نام الگ ہے بھئی، جیسے اردو میں بھی جیب قطرے کو کوئی چور نہیں کہتا بلکہ اسے کیا کہتے ہیں؟ جیب قطرا، الگ نام ہے۔ اسی طرح عربی میں بھی اس کا نام طرار ہے، اسے سارق کوئی نہیں کہتا۔ اور اسی طرح کفن چرانے والے کو نباش کہتے ہیں عربی میں، سارق اسے کوئی نہیں کہتا۔ تو ان کا یہ نام الگ ہے، کوئی بھی انہیں سارق نہیں کہتا، تو یہ نام ان کا الگ نام ہونا یہ عارض بن گیا خفا کا، کہ ان کا کیا حکم ہے؟ بھئی یہ تو اس کو تو کوئی سارق کہتا ہی نہیں ہے۔ تو ان کا الگ نام ہونا یہ عارض ہے۔ یہ کیا ہے؟ عارض ہے۔ اگر انہیں سارق اور سارقہ کہتے، پھر تو آسان تھا۔ ان کا بھی یہی حکم تھا جو بیان ہو چکا آیت کے اندر بھئی۔ لیکن عارض کیا پیش آ گیا؟ ان کا نام الگ ہے، انہیں کوئی بھی سارق اور سارقہ نہیں کہتے بھئی۔ تو اب ہمیں غور کرنا پڑے گا کہ ان کے اندر سرقہ والا معنی پایا جاتا ہے یا نہیں پایا جاتا؟ اس نام کیوں ان کا الگ ہے؟ کہتے ہیں جب ہم نے غور کیا تو طرار کے اندر سرقہ کے معنی کی زیادی پائی گئی۔ اور نباش کے اندر سرقہ کے معنی کی کمی پائی گئی۔ سرقہ کے معنی کی؟ اس لیے کیونکہ آگے بتلائیں گے آپ کو چوری اس کو کہتے ہیں کہ کسی کے مال متقوم کو خفیہ طور پر لے جانا، کسی کے مال محفوظ کو خفیہ طور پر اٹھا کر لے جانا بھئی، اس کو کہتے ہیں سرقہ۔ مال محفوظ کو لے کر جانا اور کس طریقے پر؟ خفیہ طور پر بھئی۔ تو اب ہم نے طرار کے معنی میں غور کیا، تو ہمیں پتہ لگا اس میں سرقہ کے معنی کی زیادی ہے۔ اس لیے کیونکہ سارق جو ہے وہ مال کو لے کر جاتا ہے جبکہ وہ مال والا غفلت کی حالت میں ہوتا ہے، سویا ہوا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ غفلت کی حالت میں ہے، سویا ہوا ہے۔ جبکہ طرار تو بیداری کی حالت میں مال لے جاتا ہے، جیب کے اندر مال رکھا ہوا ہے، مال متقوم ہے، محفوظ ہے، اور یہ اس کو خفیہ طور پر لے کر جا رہا ہے اس کی جیب سے نکال کر، لیکن معنی کی زیادی ہے، کہ سارق جو تھا وہ تو حالت غفلت میں مال لے کر جاتا تھا اور یہ تو غفلت نہیں بیداری کی حالت میں کیا کر رہا ہے مال کو، وہ سویا ہوتا تھا اور یہ تو جاگ رہا ہے اور اس کی، تو سمجھ میں آیا؟ تو لہذا اس میں کیا ہوا؟ سرقہ کے معنی کی زیادی پائی گئی بھئی۔ اور نباش کے اندر سرقہ کے معنی کی کمی پائی گئی۔ اس لیے کیونکہ وہ جو زندہ چوری جس سے چوری کرنے والا ہے، وہ تو ایسے شخص کا مال لے کر جا رہا ہے جو اگرچہ سویا ہوا ہے لیکن اس کے مال کی حفاظت کا ارادہ ہے بھئی، مال کے پاس ہی سویا ہوا ہے بھئی، مال کی حفاظت کا ارادہ ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جبکہ نباش جو ہے، میت کا کفن اتار کر لے کر جا رہا ہے اور میت حفاظت کا ارادہ نہیں کر سکتی بھئی، تو یہاں سرقہ کے معنی کی کمی پائی گئی۔ لہذا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں طرار کا ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ اس میں سرقہ کے معنی کی زیادی پائی گئی اور جب ادنیٰ کے لیے، عام سارق کے لیے حکم ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے، تو جس کے اندر سرقہ کے معنی کی زیادی پائی جا رہی ہے اس کا حکم بطریق اولیٰ پتہ لگ گیا کہ اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نباش کے اندر چونکہ سرقہ کے معنی کی کمی ہے تو بڑے کا حکم تو معلوم ہو گیا مولانا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن جس میں معنی کی کمی ہے، وہاں یہ ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں لگائیں گے کیونکہ شبہ آ گیا اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے الحدود تندرأ بالشبہات، حدود کیا ہوتی ہیں؟ شبہ کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں، تو شبہ آ گیا، حد ساقط ہو جائے گی، اس پر حد نہیں آئے گی۔ دیکیھیے مولانا کتاب پر، کآیۃ السرقۃ في حق الطرار والنباش، جیسے کہ سرقہ کی آیت ہے طرار اور نباش کے حق میں۔ فإن قولہ تعالى السارق والسارقۃ فاقطعوا أیدیہما، اللہ تعالیٰ کا یہ قول السارق والسارقۃ فاقطعوا أیدیہما، ظاہر في حق وجوب قطع الید لکل سارق، لکل سارق یہ آیت ظاہر ہے مولانا ہر سارق کے لیے ہاتھ کے کاٹنے کے واجب ہونے کے حق میں، کہ ہر سارق کے ہاتھ کو کاٹنا واجب ہے۔ خفي في حق الطرار والنباش، البتہ یہ آیت جو ہے، خفی ہے طرار اور نباش کے حق میں، لأنہما اختصا باسم آخر غیر السارق، اس لیے کیونکہ یہ دونوں خاص ہیں دوسرے نام کے ساتھ سارق کے علاوہ، في عرف أہل اللسان، اہل لسان کی، اہل لسان کے عرف میں بھئی، اہل زبان یعنی عرب والوں کے عرف میں۔ فتأملنا، پس ہم نے غور و فکر کی ان میں، طلب کی، فوجدنا، پس ہم نے پایا، أن اختصاص الطرار باسم آخر لأجل زیادۃ معنى السرقۃ، کہ طرار کا اختصاص ہونا دوسرے اسم کے ساتھ، اس وجہ سے ہے کہ اس کے اندر سرقہ کے معنی کی زیادی ہے، إذ السرقۃ ہو أخذ مال محترم محرز خفیۃ، اس لیے کہ سرقہ وہ لے لینا ہے ایسے مال کو جو محترم ہو، یعنی قیمت والا ہو۔ مال محترم کا کیا معنی ہے؟ قیمت والا ہو، یعنی شریعت نے اس سے نفع اٹھانے کو جائز قرار دیا ہو، محرز محفوظ کیا ہوا ہو بھئی، محرز محفوظ مال ہو، محفوظ مال ہو، خفیۃ اور کس طریقے پر لے لینا اس کو؟ خفیہ، تو وہ لینا ہے ایسے مال کو جو قیمت والا ہے، محفوظ ہے، خفیہ طور پر۔ وہو یسرق ممن ہو یقظان، اور یہ جو طرار ہے، یہ تو چوری کرتا ہے من من اس شخص سے جو کیا ہے؟ بیدار ہے، قاصد لحفظ المال، اور ارادہ کرنے والا ہے اپنے مال کی حفاظت کا، بزرِ غفلۃ وفترۃ تعتریہ، ایک نوع کی غفلت اور وفترۃ تعتری، ایک نوع کی غفلت اور ایک فترہ کہتے ہیں سستی اور کوتاہی، تعتریہ جو اسے پیش آئی ہے، جو اسے پیش آئی ہے۔ ایک پیش آمدہ سستی اور غفلت، ایک نوع کی غفلت اور پیش آمدہ سستی کی وجہ سے، سستی کے ساتھ، بزرِ غفلۃ وفترۃ تعتریہ، ایک نوع کی غفلت اور ایک نوع کی سستی جو اسے پیش آئی ہے بھئی، اس کے ساتھ وہ مال کی حفاظت کا ارادہ کر رہا ہے۔ بھئی دیکھو اسے مال کی حفاظت کا ارادہ تو ہے، لیکن کچھ سستی کوتاہی ہوئی ہے جبھی تو اس کی جیب سے مال لے اڑا اور اسے پتہ بھی نہیں چلا بھئی۔ تو وہ ارادہ کرنے والا ہے مال کی حفاظت کا، بزرِ غفلۃ، ایک نوع کی غفلت، وفترۃ، اور ایک نوع کی سستی تعتریہ جو اسے پیش آئی ہے بھئی، اس پر طاری ہوئی ہے۔ واختصاص النباش بہ، اور جو واختصاص، اس کا عطف بھی ماقبل میں اختصاص آیا تھا، فوجدنا أن اختصاص الطرار، واختصاص النباش بہ، اور اب نباش کو جو اختصاص ہے اس نام کے ساتھ کہ اس کا دوسرا نام رکھا گیا، لأجل نقصان معنى السرقۃ فیہ، بوجہ اس میں سرقہ کے معنی کی کمی کے ہے، لأنہ یسرق من الموتى، اس لیے کیونکہ وہ چوری کرتا ہے مردوں سے، الذی ہو غیر قاصد للحفظ، جو ارادہ نہیں کرنے والا حفاظت کا، فعدینا حکم القطع إلى الطرار لأجل الزبادۃ فیہ بدلالۃ النص، پس ہم نے متعدی کر دیا قطع کے حکم کو طرار کی طرف، اس کی طرف کیا کر دیا قطع کے حکم کو؟ متعدی کر دیا کہ طرار کے ہاتھ کو بھی کاٹا جائے گا، لأجل الزبادۃ فیہ، بوجہ اس میں اس معنی کے زائد ہونے کی وجہ سے، بدلالۃ النص، کس کے ذریعے؟ دلالۃ النص کے ذریعے کہ جب ادنیٰ جس کا جرم ہے اس کا ہاتھ کاٹا جا رہا ہے، تو جس کا بڑا جرم ہے اس کا بطریق اولیٰ ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جب چوری کرنے والا جو غفلت کی حالت میں کیا کر رہا ہے مال کو لے جا رہا ہے اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، تو جو بیداری کی حالت میں کسی کا مال لے اڑے اس کا بطریق اولیٰ کیا کیا جائے گا؟ ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ولم نعد إلى النباش، اور ہم نے اس قطع کے حکم کو متعدی نہیں کیا، إلى النباش، کس کی طرف؟ نباش کی طرف، لأجل النقصان فیہ، بوجہ اس میں کمی کے ہونے کے، یعنی اس میں چوری کے معنی کی کمی ہے بھئی۔ ولو کان القبر في بیت مقفل قیل لا یقطع النباش لما ذکرنا، اور کہتے ہیں کہ اگر، اگر قبر جو ہے وہ في بیت مقفل، ایک ایسے کمرے میں ہو جس کو تالا لگا ہوا ہے، قیل لا یقطع النباش، کہا گیا کہ اس صورت میں بھی نباش کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لما ذکرنا، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کی۔ وہ وجہ جو ہم نے ذکر کی کہ اس کے اندر کیا ہے؟ سرقہ کے معنی کی کمی ہے بھئی، اس لیے کیونکہ مردہ جو ہے وہ اپنے مال کی حفاظت کا ارادہ نہیں کرتا بھئی۔ وقیل یقطع، اور بعض، اور کہا گیا ہے کہ اس صورت میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، لوجود الحرز بالمکان، اس لیے کہ حرز بالمکان پایا جا رہا ہے۔ یاد رکھیے حرز حفاظت کرنا دو طریقے سے ہوتا ہے، کبھی حرز بالحافظ ہوتا ہے، کبھی حرز بالمکان ہوتا ہے۔ یعنی کسی حفاظت کرنے والے کے ذریعے حفاظت کی جاتی ہے یا کسی مکان کے ذریعے کیا کی جاتی ہے؟ حفاظت کی جاتی ہے۔ تو آپ کے پاس کوئی مال ہے، آپ کہیں جاتے ہیں، تو آپ اپنے مال پر نظر رکھتے ہیں مولانا، تو یہ کیا ہوا؟ حرز بالحافظ، اور اگر آپ اس مال کو اپنے کمرے میں رکھتے ہیں تو اب آپ کیا کرتے ہیں؟ کمرے کو تالا لگا کر جاتے ہیں۔ اب کمرہ خالی ہے، حفاظت کرنے والا کوئی نہیں، لیکن پھر بھی حرز موجود ہے، اور یہ حرز حافظ کے لیے، حفاظت کرنے والے کے ذریعے نہیں ہے بلکہ کس کے ذریعے ہے؟ مکان کے ذریعے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو حرز دو قسم پر ہے، ایک حرز بالحافظ اور ایک حرز بالمکان۔ تو کہتے ہیں یہاں اب جب تالالا لگا ہوا کمرہ ہے، اس کے اندر قبر ہے، یہاں سے کوئی کفن چور کفن لے اڑا ہے، تو اس صورت میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ حرز بالحافظ تو اگرچہ یہاں نہیں ہے لیکن حرز بالمکان موجود ہے تالا لگا ہوا ہے کمرے کو۔ تو کہتے ہیں: وقيل کاٹا جائے گا لوجود الحرز بالمكان، حرز بالمکان کے پائے جانے کی وجہ سے، وإن لم يوجد بالحافظ، اگرچہ حرز بالحافظ نہیں پایا گیا، وهذا كله عندنا، اور یہ ساری تفصیل ہمارے نزدیک ہے، وقال أبو يوسف والشافعي رحمه الله يقطع النباش على كل حال، جبکہ امام ابو یوسف اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ کاٹا جائے گا نباش کے ہاتھ کو علی کل حال، ہر حال میں، لقوله عليه السلام، حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: من نبش قطعناه، جس نے کفن چرایا، ہم اس کا... ہم اس سے... اس کا ہاتھ کاٹیں... قطعناه، أي: قطعنا يده، ہم اس کا ہاتھ کاٹیں گے۔ قلنا، ہم جواب میں کہتے ہیں: وهو محمول على السياسة، کہ یہ حدیث محمول ہے سیاست پر۔ کس پر محمول ہے؟ سیاست پر محمول ہے، یعنی انتظامی امور کو چلانے کے سلسلے... پر محمول ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو بعض اوقات بھئی حاکم جو ہے، حاکم مقررہ سزا سے بڑھ کر سزا دے سکتا ہے انتظامی امور کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ مثلاً: آپ کو قاضی بنا دیا جاتا ہے لاہور کے اندر، انشاءاللہ عنقریب ہماری حکومت آئے گی انشاءاللہ، آپ کو قاضی بنائیں گے، تو آپ نے... اب اگر آپ ملاوٹ کرنے والے بھئی... ہر جگہ ہر شخص ملاوٹ کر رہا ہے، دھوکہ دے رہا ہے، اب آپ ملاوٹ کرنے والے کو چند کوڑوں کی سزا دیں گے، وہ کبھی بھی باز نہیں آئے گا بھئی، اس کو اتنا نفع مل رہا ہے، وہ کہے گا: "چلو 10-15 کوڑے کھا لیتا ہوں، کیا ہوتا ہے؟ مال تو بن رہا ہے خوب بھئی۔" سمجھ میں آیا؟ لہٰذا مقررہ سزا سے بڑھ کر سزا دے سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ یوں کر سکتے ہیں مولانا، لوگ باز ہی نہیں آ رہے، جرم بڑھتا ہی... پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے، بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے، آپ ایک دو کو لٹکا دیں مولانا، ایک کو انارکلی چوک میں لٹکا دیں اور ایک کو دوسرے... لاہور کے دوسرے کنارے پر لٹکا دیں، انشاءاللہ آپ دیکھیں گے بھئی دو دن میں سارا لاہور سدھر جائے گا بھئی۔ تو لوگوں کی اصلاح کے لیے حاکم کیا کر سکتا ہے؟ بعض اوقات زیادہ سزا بھی دے سکتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اس کو سیاست کہتے ہیں، یعنی سیاستً ہے یہ سزا، یعنی انتظامی امور کو بہتر طور پر چلانے کے لیے، تاکہ لوگ سدھر جائیں، معمولی سزا سے لوگ ٹھیک ہی نہیں ہوتے۔ لیکن ہمیشہ نہ ہو ایسا بھئی، ہاں، یہ کہ اگر جرم حد سے زیادہ بڑھ کر پھیلتا جا رہا ہے، قابو سے باہر ہو رہا ہے، پھر شریعت اجازت دیتی ہے، ویسے اجازت نہیں مولانا، ورنہ سخت گرفت ہوگی، پکڑ ہوگی بھئی۔ اچھا، تو ہم کہتے ہیں: وهو محمول على السياسة، یہ محمول ہے کس پر؟ سیاست پر، لما روي عنه، اور وجہ اس حدیث کی جو روایت کی گئی ہے حضور علیہ السلام سے: لا قطع على المختفي، مختفی پر قطع نہیں ہے بھئی، دوسری حدیث میں آتا ہے، وهو النباش بلغة أهل المدينة، اور وہ نباش ہی ہے اہل مدینہ کی لغت میں، وہ کیا کہتے تھے نباش کو مدینہ والے؟ مختفی کہتے تھے اور مختفی کے بارے میں حدیث میں آ رہا ہے: اس پر قطع نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی اچھی طرح؟ وأما المشكل فهو الداخل في أشكاله، اور باقی مشکل جو ہے، وہ ہے جو داخل ہو اپنے مثلوں میں بھئی، اپنے جو اس کے مثل ہوں، ان کے اندر جو داخل ہے، وہ مشکل کہلاتا ہے۔ أي: الكلام المشتبه في أمثاله، أي: الكلام... یعنی وہ کلام جو مشتبہ ہے اپنے مثلوں کے اندر، فهو رجل غريب، تو وہ اس ایسے شخص کی طرح ہے جو مسافر ہے، اختلط بسائر الناس، مل گیا وہ تمام لوگوں کے ساتھ، بتغيير لباسه وهيئته، اپنے لباس اور اپنی ہیئت کو بدلتے ہوئے، بدلنے کے ساتھ، ففيه زيادة خفاء على الخفي، تو اس کے اندر زیادہ خفاء ہے خفی سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ شخص کیا ہوا، عام لوگوں کے ساتھ مل گیا بھئی۔ خفی کے اندر تھا... کیا مثال اس کی ذکر کیا تھا؟ وہ کس طرح ہے؟ جیسے کوئی شخص کیا ہو اپنے لباس اور ہیئت بدلے بغیر لوگوں میں مل جائے، تو وہاں صرف طلب کرنا پڑتی ہے۔ جبکہ یہاں پر ذکر کیا کہ مشکل اس طرح... مشکل کے اندر آگے بتلائیں گے دو طلب کرنا پڑتی ہیں، وجہ یہ کہ یہ وہ ایسے شخص کی مثل ہے جیسے کوئی اپنی ہیئت اور لباس بدل کر لوگوں میں گھل مل جائے بھئی، تو وہاں پر پہلے اس کے بارے میں کیا کی جائے گی؟ طلب کی جائے گی اور پھر چونکہ اس نے اپنا حلیہ اور شکل بھی عام لوگوں جیسی بنا لی ہے، تو پھر اس میں غور بھی کرنا پڑے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ففيه زيادة خفاء على الخفي، تو اس کے اندر خفی سے بڑھ کر خفاء ہے، فيقابل النص، تو یہ کس کے مقابل ہوگا؟ نص کے بھئی، الذي فيه زيادة ظهور على الظاهر، جس کے اندر زیادہ ظہور تھا ظاہر پر، فلهذا يحتاج إلى النظرين، اسی وجہ سے یہ محتاج ہوگا دو نظروں کا، اور وہ کیا ہیں؟ الطلب ثم التأمل، طلب اور تأمل، پہلے طلب کی جائے گی، پھر تأمل کیا جائے گا، على ما قال، بنا بر اس کے جو کہا بھئی، وحكمه اعتقاد الحقية فيما هو المراد، اور حکم اس مشکل کا، وہ اعتقاد کرنا ہے... کس چیز کا اعتقاد؟ اعتقاد الحقية، اس کے حق ہونے کا اعتقاد فيما... "ما" سے مراد معنیٰ ہے۔ اس معنیٰ کے حق ہونے کا اعتقاد رکھنا ہے، هو المراد، جو مراد ہے۔ وہ معنیٰ جس کا ارادہ کیا گیا ہے، اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھا جائے، ثم الإقبال على الطلب والتأمل، پھر متوجہ ہونا ہے طلب اور تأمل... على الطلب والتأمل فيه، اس پر طلب اور اس میں تأمل کی طرف، إلى أن يتبين المراد، یہاں تک کہ مراد کیا ہو جائے؟ ظاہر ہو جائے، واضح ہو جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حکم اس کا کیا بیان کیا؟ آگے اسی کی شرح کرنے لگے ہیں کہ بھئی اس میں دو طلب کرنا پڑیں گی۔ تو اولِ سماع کے اندر ہی اللہ کی جو بھی اس سے مراد ہے، اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھا جائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ مراد کا بھی علم نہیں۔ بس اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھا جائے، پھر اس کے بعد اس میں طلب اور تأمل کیا جائے یہاں تک کہ بات پوری واضح ہو جائے، مراد کا پوری طرح پتہ چل جائے۔ أي: حكم المشكل أولاً هو اعتقاد الحقية فيما كان مراد الله تعالى بمجرد سماع الكلام، مشکل کا حکم اولاً وہ اس کے برحق ہونے کا اعتقاد ہے اس معنیٰ کے اندر جو کہ اللہ تعالیٰ کی اس سے مراد ہے محض اس کلام کو سننے سے ہی، تو اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھا جائے۔ ثم الإقبال على الطلب، پھر متوجہ ہونا ہے طلب کی طرف، أنه لأي معان يستعمل هذا اللفظ، کہ کس... کن معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ لفظ، ثم التأمل فيه بأنه أي معنى يراد هاهنا من بين المعاني، پھر تأمل کیا جائے گا اس کے اندر ضمناً طور کے اس کا کون سے... کہ کون سے معنیٰ کا ارادہ کیا گیا ہے یہاں پر اس کے معانی میں سے، فيتبين المراد، تو مراد واضح ہو جائے گی بھئی، مراد واضح ہو جائے گی۔ ومثاله قوله تعالى، اور اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: فأتوا حرثكم أنى شئتم، تم آؤ اپنی کھیتیوں میں أنى شئتم، جیسے تم چاہو، کیف شئتم بھئی۔ اب دیکھیے کہتے ہیں: یہ کلام جو ہے: فأتوا حرثكم أنى شئتم، یہ مشکل ہے مولانا، کیا ہے؟ مشکل ہے، مشکل کی مثال۔ کیوں؟ دیکھیے، خود مولانا تشریح کر رہے ہیں: فإن كلمة "أنى" مشکلة، اس لیے کہ "أنى" کلمہ مشکل ہے، تجيء تارة بمعنى "من أين"، کبھی کبھار تو یہ بمعنیٰ "من أین" کے آتا ہے، جہاں سے چاہو آؤ، یعنی حرثکم سے کیا مراد ہے؟ بیویاں مراد ہیں، تو ان کے پاس جہاں سے چاہو آؤ۔ یہ معنیٰ بنے گا، کیونکہ "أنى" کبھی کس معنیٰ میں آتا ہے؟ "من أین"، جہاں سے، کما في... مثال بھی ذکر کر رہے ہیں: کما في قوله تعالى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے: أنى لك هذا، حضرت مریم کے پاس جب بھی حضرت زکریا علیہ السلام تشریف لاتے، اس کے پاس قسم قسم کا رزق پاتے، تو انہوں نے پوچھا ان سے: أنى لك هذا، أي: من أين لك هذا الرزق الآتي كل يوم، کہاں سے حاصل ہوتا ہے تمہارے لیے یہ جو رزق آنے والا ہے ہر دن؟ کہاں سے تمہارے پاس ہر روز یہ رزق آتا ہے؟ تو یہاں دیکھو "أنى" کس معنیٰ میں آ رہا ہے... آیا؟ "من أین"۔ وتارة بمعنى "كيف"، اور کبھی کبھار یہ "أنى" کس معنیٰ میں آتا ہے؟ "کیف" کے معنیٰ میں آتا ہے، کما في قوله تعالى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر ہے: أنى يكون لي غلام، أي: كيف يكون لي غلام، کیسے میرا لڑکا ہوگا؟ جب حضرت زکریا علیہ السلام کو خوشخبری دی گئی بڑھاپے کے اندر کہ آپ کا بیٹا ہوگا، تو اس وقت انہوں نے فرمایا: أنى لي غلام... أنى يكون لي غلام، کیسے میرا لڑکا ہوگا؟ میں کیا ہو چکا ہوں؟ بوڑھا ہو گیا ہوں، میری بیوی بھی بوڑھی ہو گئی۔ تو یہاں معلوم ہوا "أنى" کن معانی... "من أین" کے معنیٰ میں بھی آتا ہے اور "کیف" کے معنیٰ میں بھی آتا ہے۔ فاشتبه هاهنا، تو اشتباہ ہوا یہاں پر، أنه بأي معنى هو، کہ وہ کس معنیٰ کے اندر ہے "أنى" کا لفظ یہاں پر، فإن كان بمعنى "أين"، اگر یہ "أین" کے معنیٰ میں ہو، يكون المعنى، تو معنیٰ کلام کا یہ ہوگا: من أي مكان شئتم، جس جگہ سے بھی تم آنا چاہو، قبلاً أو دبراً، چاہے قبل میں ہو، چاہے دبر میں، یعنی عورت کے اگلے مقام میں آنا چاہو، وہاں سے بھی آ سکتے ہو، پچھلے مقام میں آنا چاہو، صحبت کرنا چاہو، وہاں بھی کر سکتے ہو، تو یہ معنیٰ لینے کی صورت میں یہ معنیٰ بنتا ہے، تو اس صورت میں: فتحل اللواطة من امرأته، اس صورت میں لواطت حلال ہوتی... حلال ہوتی اس شخص کی اپنی بیوی سے، وإن كان بمعنى "كيف"، اور اگر یہ "کیف" کے معنیٰ میں ہو، فيكون المعنى، تو معنیٰ یہ ہوگا: بأية كيفية شئتم، کہ جس کیفیت میں بھی تم چاہو، جیسے بھی تم چاہو، قائماً أو قاعداً أو مستجعاً، کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر یا لیٹ کر پہلو کے بل، فيدل على تعميم الأحوال، تو اس صورت میں یہ دلالت کرتا ہے کس چیز پر؟ تعمیمِ احوال پر، دون المحال، محل جمع ہے محل کی مولانا، نہ کہ محل کی تعمیم پر بھئی، محل میں پھر اس صورت... پہلی صورت میں کیا ہو... کیا ہو رہا ہے؟ محل میں تعمیم آ رہی ہے اور دوسری صورت میں احوال میں تعمیم ہے، محل میں تعمیم نہیں ہے۔ تو یہاں یہ اشتباہ آیا، فإذا تأملنا، پس جب ہم نے غور کیا، في لفظ الحرث، کس کے اندر؟ حرث، کھیتی کے لفظ کے اندر، حرث کا معنیٰ کھیتی، علمنا، ہم نے جان لیا، أنه بمعنى "كيف"، کہ یہ "أنى" کس معنیٰ میں ہے؟ "کیف" کے معنیٰ میں ہے، لأن الدبر ليس بموضع الحرث، اس لیے کیونکہ دبر جو ہے، وہ موضعِ حرث نہیں ہے، بل موضع الفرث، بلکہ وہ تو گندگی، نجاست کی جگہ ہے بھئی، فرث کی اصل میں کہتے ہیں... گوبر وغیرہ، لید گوبر بھئی، یہاں پاخانہ مراد ہے، بلکہ یہ تو پاخانے کا مقام ہے، فتكون اللواطة من امرأته حراماً، تو اس صورت... تو لواطت جو ہے، اپنی بیوی کے ساتھ کیا ہوئی؟ حرام ہوئی، ولكن حرمتها ظنية، لیکن اس کی یہ حرمت کیا ہے، اس لواطت کی حرمت؟ ظنی ہے، حتى لا يكفر مستحلها، یہاں تک کہ کافر نہیں قرار دیا جائے گا اس کو حلال سمجھنے والے کو بھئی۔ تقریر پوری سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "أنى" کے دو معنیٰ آتے ہیں، "من أین" کے معنیٰ میں بھی آتا ہے، "کیف" کے معنیٰ میں بھی آتا ہے، اگر "أین" کے معنیٰ میں لیں تو پھر محل کے اندر تعمیم آتی ہے اور اگر "کیف" کے معنیٰ میں لیں تو احوال کے اندر کیا ہے؟ تعمیم آتی ہے، تو پہلے ایسا معنیٰ طلب کیا، پہلے طلب کی تو پتہ چلا یہ ان دو معانی میں آتا ہے، پھر اس کے بعد غور کیا کہ یہاں کون سا معنیٰ مراد ہے، تو "حرث" کے لفظ کا جو قرینہ تھا، اس نے بتلا دیا کہ یہاں پر "أین" کے معنیٰ میں نہیں ہے بھئی، اس لیے کیونکہ حرث، کہاں؟ کھیتی کا لفظ استعمال کیا، اور م... اور... اولاد جو ہے... یعنی کی... اولاد کی پیدائش کا مقام یا کھیتی جو ہے، وہ... اگلا محل تو ہے، پچھلا محل نہیں ہے، معلوم ہوا یہ "کیف" کے معنیٰ میں... یعنی آؤ اگلے ہی مقام میں، لیکن جس حالت میں بھی آنا چاہو، جس کیفیت میں بھی آنا چاہو، آ سکتے ہو، عورت سے صحبت کر سکتے ہو بھئی۔ لیکن محلِ صحبت اگلا ہی مقام ہونا چاہیے۔ تو لہٰذا، معلوم ہوا عورت کے ساتھ لواطت حرام ہے، لیکن اس کی یہ حرمت ظنی ہے، اس کو حلال سمجھنے والے کو کافر نہیں کہیں گے، اگر قطعی طور پر اس کی حرمت ہو... پر... پر دلیل ہوتی تو اس صورت میں کیا تھا؟ اس کو حلال سمجھنے والا کافر ہوتا، دائرہ اسلام سے ہی خارج ہوتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ گناہ تو ہے بہت بڑے درجے کا، اور... کیونکہ اور احادیث وغیرہ میں بھی اس کا یہ دلیل بھی ہو گئی مولانا، اور احادیث میں بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ... جو شخص اپنی عورت کے ساتھ لواطت کرتا ہے، اللہ اس کی طرف نظرِ رحمت سے نہیں دیکھتے بھئی۔ وهذه اللواطة هي المقيسة على الوطء في حالة الحيض لعلة الأذى دون التي من الرجال، اور یہی وہ... یہ لواطت جو ہے، یعنی عورت کے ساتھ، یہی وہ لواطت ہے جس کو قیاس کیا گیا ہے على الوطء... وطء... وطء پر في حالة الحيض، حالتِ حیض میں وطء پر اسی کو قیاس کیا گیا ہے لعلة الأذى، گندگی کی علت کی وجہ سے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے مولانا کہ یہ لواطت کو کس پر قیاس کیا گیا؟ حالتِ حیض میں وطء پر، جیسے حالتِ حیض میں وطء کرنا ممنوع ہے، کیونکہ وہاں کیا وجہ... روکنے کی کیا وجہ تھی؟ گندگی تھی، تو یہاں بھی وہی علتِ اذیٰ پائی جا رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: هي المقيسة على الوطء في حالة الحيض لعلة الأذى دون التي من الرجال، یہی وہ لواطت ہے جو قیاس کی گئی ہے وطء فی حالت الحیض پر گندگی کی علت کی وجہ سے، نہ کہ وہ لواطت جو مردوں کے ساتھ، لأن حرمتها قطعية ثابتة بالكتاب والسنة والإجماع، اس لیے کیونکہ اس کی حرمت تو قطعی ہے، ثابت ہے کتاب اللہ سے بھی، سنت سے بھی اور اجماع سے بھی، لہٰذا اس کو حلال سمجھنے والا کافر ہے بھئی۔ على ما كتبنا كل ذلك في تفسير الأحمدي، بنا بر اس کے جو ہم نے تحریر کیا ہے یہ سارا اپنی کِ... تفسیر... اپنی تفسیر "تفسیرِ احمدی" کے اندر۔ فمثل هذا المشكل... فمثل هذا المشكل يمكن أن يدخل في المشترك الذي رجح أحد معانيه بالتأويل فصار مؤولاً، پس اس قسم کا مشکل... شارح فرما رہے ہیں کہ دیکھو یہاں دو معانی آئے تھے، تو اس قسم کا جو مشکل ہے، ممکن ہے کہ وہ مشترک کے اندر داخل ہو جائے، جیسے مشترک کے کیا آتے ہیں؟ دو ما... دو یا دو سے زیادہ معانی، تو ممکن ہے کہ یہ داخل ہو جائے اس مشترک کے اندر الذي رجح أحد معانيه بالتأويل، کہ اس... جس کے معانی میں سے ایک معنیٰ کو ترجیح دے دی جائے تاویل کی وجہ سے، فصار مؤولاً، تو وہ کیا ہو جاتا ہے؟ مؤول ہو جاتا ہے، تو کہتے ہیں: ممکن ہے یہ بھی اسی میں داخل ہو، تو اس صورت میں یہ بھی مؤول ہوگا۔ وقد يكون الإشكال لأجل استعارة بديعة غامضة، اور کبھی کبھار اشکال جو ہوتا ہے، یعنی اشتباہ جو ہوتا ہے، لأجل استعارة، اس... ایسے استعارے کی وجہ سے ہوتا ہے، بديعة غامضة، جو انوکھا ہوتا ہے، غامضة، گہرا ہوتا ہے بھئی، خفی ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ استعارہ سمجھ لیں بھئی... بھئی، لفظ کو کبھی معنیٰ موضوع لہ میں استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی معنیٰ غیر موضوع لہ کے اندر۔ اگر معنیٰ موضوع لہ میں استعمال ہو تو یہ حقیقت کہلاتا ہے، اور اگر معنیٰ غیر موضوع لہ میں استعمال ہو تو یہ مجاز کہلاتا ہے۔ اور پھر معنیٰ موضوع لہ اور غیر موضوع لہ کے درمیان کوئی نہ کوئی مناسبت ہونا ضروری ہے بھئی۔ اگر یہ مناسبت اور یہ علاقہ اور تعلق تشبیہ کا ہو، تو اس صورت میں پھر یہ مجاز استعارہ کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ کہلاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ہے استعارہ۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: رایت اسداً یضحک۔ میں نے ایک بہادر آدمی کو ہنستے ہوئے دیکھا۔ تو اسد کا لفظ بول کر میں نے کس چیز کا ارادہ کیا؟ بہادر آدمی کا۔ اور یہ معنیٰ موضوع لہ ہے، غیر موضوع لہ؟ یہ غیر موضوع لہ ہے۔ اور تو یہ ایک بہادر آدمی اس کا معنیٰ کی لیا مراد لیا اور یہ غیر موضوع لہ ہے اور موضوع لہ کیا ہے؟ شیر۔ تو شیر اور بہادر آدمی بھئی ان میں تعلق دیکھیں۔ دیکھا تو یہ تشبیہ کا تعلق ہے۔ معلوم ہوا اس بہادر آدمی کو میں کس کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہوں؟ شیر کے ساتھ تو یہ استعارہ کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ کہلاتا ہے۔ غیر موضوع لہ اور موضوع لہ کے درمیان علاقہ تشبیہ کے علاوہ کوئی اور ہو تو پھر اس صورت میں مجاز مرسل کہلاتا ہے بھئی۔ تو اگر تشبیہ والا علاقہ ہو تو یہ استعارہ کہلاتا ہے اور اگر غیر تشبیہ والا ہو تو مجاز مرسل کہلاتا ہے۔ تو ایسا استعارہ جو انوکھا ہوتا ہے غامضۃ اور کیا ہوتا ہے؟ گہرا پوشیدہ ہوتا ہے کقولہ تعالیٰ جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔ قواریرا من فضۃ۔ قواریرا من فضۃ۔ قواریرا جمع ہے قارورۃ کی بھئی۔ اور یہ بوتل اور شیشی کو کہتے ہیں کہ جنت میں قواریرا بوتلیں یا شیشیاں ہوں گی یعنی وہ سراہی وغیرہ من فضۃ کس سے؟ چاندی سے فی وصف اوانی الجنۃ۔ اللہ فرماتے ہیں یہ جنت کے برتنوں کے وصف میں یہ فرماتے ہیں کہ وہاں کیا ہوں گے قواریرا من فضۃ چاندی کے ہوں گے۔ فانہ فیہ اشکالاً اس لیے کیونکہ اس کے اندر اشکال ہے یعنی اشتباہ ہے من حيث اس حیثیت سے کہ ان القارورۃ لا یکون من الفضۃ بل من الزجاج کہ قارورۃ جو ہے وہ بوتل نہیں ہوتی مگر چاندی سے کی نہیں ہوتی بل من الزجاج بلکہ کس کی ہوتی ہے؟ شیشے کی ہوتی ہے۔ زجاج، زجاج، زیجاج تینوں حرکتیں زا پر جائز ہیں بھئی تینوں طرح پڑھنا درست ہے۔ تو یہ لفظ مصلث الفاء ہوا۔ کیا ہوا؟ مصلث الفاء یعنی جس کے فاء حرف پر تینوں حرکتیں جائز ہوں تو اس کو مصلث کہتے ہیں۔ تو وہ شیشے کی ہوتی ہے تو اللہ تو فرما رہے ہیں قواریرا من فضۃ کہ وہ کس سے ہوگی؟ چاندی کی ہوگی وہ شیشی فذا طلبنا پس جب ہم نے طلب کی وجدنا للقارورۃ صفتین تو ہم نے پایا قارورۃ کے لیے دو صفتیں ہم نے پائیں حمیدۃ ایک کیا ہے؟ قابل تعریف صفت ہے وھی شفافات اور وہ کیا ہے؟ شفاف ہونا بھئی۔ بھئی یعنی اس کے اندر جو چیز ہوتی ہے باہر سے دکھائی دیتی ہے شفاف ہونا۔ وذمیمتا اور دوسری صفت کیا ہے؟ ذمیمہ ہے قابل مذمت ہے وھی السواد اور وہ سیاہی ہے بھئی وہ کیا ہے؟ سیاہی ہے۔ समझ में आया؟ یہ سواد یہاں معلوم غالباً قدیم شاید اس طرح ہوگا شیشے میں کچھ سیاہی ہوتی ہوگی بھئی جس سے بوتل یہ شیشے وغیرہ بنائی جاتی تھی اس میں سیاہی ہوگی بھئی۔ اندر کی چیز تو نظر آرہی ہے لیکن پھر بھی کچھ شیشے کا رنگ کس قسم کا ہے؟ آجکل تو شیشے بالکل سفید آگئے ہیں بھئی۔ جی؟ ہاں جیسے آجکل بھی دوا وغیرہ کی شیشیاں بعض کیا ہوتی ہیں؟ ان میں کچھ سیاہی ہوتی ہے۔ अच्छा تو تو شارع فرماتے ہیں کہ ان کی دو صفتیں ایک قابل تعریف ہے ایک قابل مذمت ہے بھئی۔ اور قابل تعریف صفت کیا ہے کہ یہ شفاف ہوتی ہیں اس سے پتہ لگتا ہے اندر کیا ہے اور ایک سیاہی ہے ان کی قابل مذمت ہے ووجدنا للفضۃ صفتین اور چاندی کے لیے بھی ہم نے دو صفتیں پائیں حمیدتاً ایک قابل تعریف ہے وھی البیاض اور وہ اس کی سفیدی ہے چاندی کیا ہوتی ہے سفید چمکدار ہوتی ہے قابل تعریف صفت ہے۔ وزمیمتاً اور دوسری صفت کیا ہے قابل مذمت ہے وھی عدم الصفاء وہ صفا کا نہ ہونا ہے یعنی شفاف نہ ہونا ہے کہ یہ اس میں پتہ نہیں چلتا اندر کیا چیز ہے۔ فلما تاملنا تو یہ تو طلب کی ہم نے تو ہمیں شیشی کی بھی دو صفتوں کا پتہ لگا اور چاندی کی بھی ان دو صفات کا علم ہوا۔ فلما تاملنا پس پھر جب ہم نے غور کیا یہ اب دوسرا غور آگیا پہلے طلب آئی پھر تامل آیا تو غور کیا علمنگ ہم نے جان لیا کہ ان اوانی الجنۃ فی صفاء القارور فی صفاء القارورۃ و بیاض الفضۃ۔ يا سمجھ میں آیا بھئی کہ جنت کے برتن کیا ہوں گے؟ صفائی کے اندر یعنی شفاف ہونے کے اندر کیا ہوں گے؟ القارورۃ کیا ہوں گے؟ قارورہ ہوں گے و بیاض اور جنت کے برتن سفیدی کے اندر الفضۃ کیا ہوں گے؟ چاندی ہوں گے چاندی کی طرح ہوں گے۔ تو انہوں نے بھئی بین السطور والے نے القارورہ کو خبر بنایا ان کی اور اسی طرح بیاض کا عطف بیاض کا عطف کیا صفا پر تو یہ مجرور ہے اور الفضۃ کا عطف کیا کس پر؟ القارورہ پر اور القارورہ ان کی خبر ہے مرفوع ہے تو الفضۃ بھی کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ جب ہم نے غور کیا ہم نے یہ جانا کہ جنت کے برتن صفا کے اندر صفا کے اندر اس میں کی طرح ہوں گے کیا ہوں گے؟ قارورہ کی طرح ہوں گے اور سفیدی کے اندر چاندی کی طرح ہوں گے۔ بلکہ ان کو اگر اضافت کر دو پھر بھی درست بنتا ہے بھئی سمجھ میں آیا؟ فی صفاء القارورۃ و بیاض الفضۃ بھئی یوں کر لو تو یہ فی صفاء القارورۃ و بیاض الفضۃ یہ ساری خبر بن جائے گی ان کی کہ جب ہم نے غور و فکیر کیا تو جان لیا کہ جنت کے جو برتن ہیں وہ قارورہ کی صفا اور چاندی کی سفیدی میں ہوں گے یعنی اس قسم کے ہوں گے۔ فتامل آپ اس مقام پر غور کر لیجئے اب پڑھنے والے۔ تو استعارہ سمجھ میں آیا یہاں پر بھئی انوکھا ہے ایک انوکھی صورت اخذ کی گئی بھئی چاندی اس شیشے کی شفاف شفاف ہونے اور چاندی کی سفیدی کو ملا کر ایک ایک انوکھی نئی صورت بنائی گئی۔ واما المجمل فما ازدحمت فیہ المعانی واشتبہ المراد بہ اشتباہاً لا یدرک بنفس العبارۃ بل بالرجوع الی الاستفسار ثم الطلب ثم التامل۔ اور باقی مجمل جو ہے وہ کلام ہے کہ جس کے اندر معانی کا ازدحام ہو جائے معانی کا ہجوم ہو جائے یعنی کئی معانی اس میں جمع ہو جائیں واشتبہ المراد بہ اور مراد مشتبہ ہو جائے اس کی اشتباہاً ایسا مشتبہ ہونا کہ لا یدرک لا یدرک بنفس العبارۃ کہ ان کو پایا نہ جا سکے نفس عبارت سے بل بالرجوع الی الاستفسار بلکہ رجوع کرنے کے ذریعے کس کی طرف؟ استفسار کی طرف استفسار کا معنی ہے وضاحت چاہنا بھئی وضاحت چاہنا۔ بلکہ اس میں رجوع کیا جائے گا وضاحت چاہنے کی طرف یعنی وضاحت چاہی جائے گی مجمل سے مجمل تو وہ کلام جس میں اجمال ہے اور مجمل جس نے اس میں اجمال پیدا کیا یعنی وہ متکلم مراد ہے تو اس صورت میں متکلم سے کیا کی جائے گی وضاحت چاہی جائے گی کہ کیا مراد ہے تمہاری اس سے بھئی سمجھ میں آیا؟ وہاں مراد کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ تو وہاں نفس عبارت سے مراد کو نہیں پایا جا سکتا بل بالرجوع الی الاستفسار ثم الطلب ثم التامل بلکہ رجوع کرنے کے ذریعے استفسار کی طرف پھر طلب کی طرف اور پھر تامل کی طرف یعنی پہلے استفسار کیا جائے گا پھر طلب کی جائے گی پھر تامل کیا جائے گا بھئی بات سمجھ میں آگئی بھئی تو تین طلبیں آگئیں یہاں پر۔ ایک طلب کس سے ہے؟ مجمل سے پوچھا جائے۔ پھر اس میں کیا پھر کیا کیا جائے گا؟ طلب پھر دوسری طلب آئے گی پھر تامل پھر کیا کیا جائے گا؟ غور و فکر کیا جائے گا۔ تو مصنف کی عبارت سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر مجمل کے اندر یہ تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے استفسار کے بعد پھر طلب اور تعامل کا ہونا بھی ضروری ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے مولانا محشی لکھتے ہیں ایسا نہیں ہے۔ جب اس کے بارے میں وضاحت چاہی جائے اور مجمل اس کی وضاحت کر دے تو وہ پوری طرح اس کی وضاحت اگر کر دیتا ہے پھر طلب اور تعامل کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور اگر وہ پوری طرح وضاحت نہیں کرتا پھر اس صورت میں طلب اور تعامل کی ضرورت ہے بھئی معلوم ہوا یہ سمن طلب اور سمن تعامل یہ کس وقت ہوگا؟ جب وضاحت پوری طرح کامل اور شافی نہ ہو اس وقت ہوگا ہمیشہ نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کہتے ہیں ازدحام المعانی عبارت عن اجتماعہا علی اللفظ من غیر رجحان لأحدھا معانی کا امتحان یا عبارت ہے ان معانی کے اجتماع سے علی اللفظ لفظ پر یعنی لفظ پر معانی کا اجتماع ہو جائے من غیر رجحان بغیر کسی رجحان کے علی احدھا کسی ایک کے لیے بھی بھئی ان میں سے یعنی کسی ایک کے لیے بھی رجحان نہیں ہے یعنی کسی ایک کو بھی راجح قرار نہیں دیا جا سکتا کوئی ایک معنی بھی ان میں سے راجح نہیں ہے کما اذا سد باب الترجيح فی المشترک جیسے کہ بند ہو جائے ترجیح کا دروازہ مشترک کے اندر۔ بھئی مشترک ہے اس کے دو یا تین یا چار معنی آتے ہیں تو اس میں سے ایک لفظ کو ایک معنی کو کیا کرتے ہیں؟ راجح قرار دیتے ہیں لیکن اگر رائے کوئی قرینہ ہی نہیں ہے کوئی چیز ہی نہیں ہے ترجیح دینے کی تو معلوم ہوا ترجیح کا دروازہ بند ہو گیا۔ تو مشترک بھی کیا بن گیا وہ؟ مجمل بن گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ او يكون باعتبار غرابة اللفظ یا وہ جیسے کہ کما اذا جیسے کہ بند ہو جائے ترجیح کا دروازہ مشترک میں او يكون يكون باعتبار غرابة اللفظ یا وہ استحبام معنی کس وجہ سے ہوگا؟ لفظ کے غرابت کے اعتبار سے ہوگا یعنی لفظ غریب ہے اس کا معنی ہی معلوم نہیں۔ لفظ کا معنی ہی معلوم نہیں ہے بھئی آگے مثال آرہی ہے اور بات واضح ہو جائے گی۔ بھئی یاد رکھیے یہ جو ازدحام معانی ہے یہ دو قسم پر ہے کبھی تو حقیقتاً ہوتا ہے اور کبھی تقدیرن ہوگا مولانا معانی کا جمع ہونا کبھی حقیقتاً ہوگا اور کبھی تقدیرن ہوگا حقیقتاً کی مثال جیسے انہوں نے ذکر کر دی بھئی مشترکہ ہے اس مشترک کے دو تین یا چار معنی ہیں تو دیکھو کئی معنی جمع ہو گئے یا نہیں ہو گئے؟ کئی معنی جمع ہو گئے۔ اور کوئی اس کسی ایک کو بھی راجح نہیں قرار دے سکتے کوئی قرینہ وغیرہ موجود نہیں ترجیح کا دروازہ بند ہوا تو لہذا یہ کیا بن گیا؟ مجمل ہوا کیا بن گیا؟ مجمل ہوا بھئی۔ او يكون باعتبار غرابة اللفظ یا وہ کس طریقے پر ہوگا استحبام معانی لفظ کے غرابت کے اعتبار سے یعنی لفظ میں غرابت ہے یعنی اس کا معنی کسی کو معلوم نہیں۔ اہل لغت کو بھی نہیں معلوم بھئی اس کا معنی بھئی۔ समझ में आया؟ غریب ہے یعنی اس کا معنی ہی نہیں معلوم۔ بہت قلیل الاستعمال ہے یعنی۔ تو یہاں پر بھی مولانا جیسے مثال دیکھو پہلے کلس الحلو المذكور فی قولہ تعالیٰ جیسے حلو کا لفظ جو کہ مذکور ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر۔ ان الانسان خلق حلو۔ انسان کو کیا پیدا کیا گیا ہے؟ حلو پیدا کیا گیا ہے۔ حلو کا معنی ہے سخت حریص اور انتہائی بے صبرا بھئی۔ حلو کسے کہتے ہیں؟ جو سخت حریص ہو بھئی اور لالچی اور سخت بے صبرا ہو گئی اس کو حلو کہتے ہیں۔ تو یہ لفظ اللہ فرما رہے ہیں ان الانسان خلق حلو انسان کو کیا پیدا کیا گیا ہے؟ حلو پیدا کیا گیا اس کا معنی معلوم نہیں تھا آگے اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دیا کہ جب اس کو کوئی شر پہنچتا ہے کوئی تکلیف پہنچتی ہے جزوع تو یہ بے تاب ہو جاتا ہے۔ بے صبرا ہو جاتا ہے بے قرار ہو جاتا ہے و جب اسے کوئی خیر پہنچتی ہے کوئی نفع حاصل ہوتا ہے منوع تو یہ کیا بن جاتا ہے؟ روکنے والا ہوتا ہے کسی اور کو نہیں دیتا اپنے پاس ہی روک لیتا ہے حرص کرتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ معنی بیان کر دیا گیا۔ فانہ قبل بیان تعالی کان مجمل اس لیے کیونکہ یہ حلو کا لفظ اللہ کے بیان سے قبل مجمل تھا لم یعلم مرادہ اصلا اس کی مراد ہی معلوم نہیں تھی سر سے فبینہ بقولہ تعالیٰ جب بیان کیا اس کو اللہ تعالی نے اپنے اس قول کے ذریعے جب اس کے ذریعے بھئی اس ایت کے ذریعے بات سمجھ میں آگئی بھئی تو دیکھو یہاں پر حلو کا لفظ جو ہے اس کے اندر ازدحام معانی ہے تقدیرن بھئی۔ کیا ہے ازدحام معانی؟ کیونکہ حلو لفظ آیا اور لفظ کا معنی معلوم نہیں۔ اب عقلاً ہو سکتا ہے یہ معنی ہو یہ معنی ہو یہ معنی ہو یہ معنی ہو کئی معنی کا احتمال آ گیا یا نہیں آ گیا؟ دیکھا تو تقدیرن کیا ہوا ازدحام معنی ہوا حقیقتاً نہیں بھئی کہ یعنی کئی معنی کا احتمال آ گیا کوئی بھی معنی ہو سکتا ہے اس کا تو بہت سے معنی کا احتمال آ گیا تو یہ تقدیرن ہوا مولانا ازدحام معانی۔ فہو جنس شامل للمشترك والخفی والمشکل۔ تو یہ جو فما ازدحمت فیہ المعانی یہ جو ہے یہ جنس ہے مولانا یہ شامل ہے مشترک خفی اور مشکل کو بھی۔ समझ में आया؟ بھئی مجمل کے صفا وہ جس کے اندر معنی کا ازدحام ہو جائے معنی جمع ہو جائیں اور مراد کیا ہو جائے؟ مشتبہ ہو جائے۔ अच्छा وہ تو آگے آگے فصل بنائے اشتباہ کو تو یہ جو معنی کا ازدحام ہو جائے معنی جمع ہو جائیں یہ جنس ہے شامل ہے مشترک کو بھی خف خفی کو بھی اور مشکل کو بھی۔ فخرج بقولہ اور تو یہ نکل جائیں گے اب مصنف کے اس قول کی وجہ سے واشتبہ المراد بہ اشتباہاً الی اخر آخر تک جو قول ہے اس سے پھر باقی تینوں خارج ہو جائیں گے۔ کون کون سے تین؟ خفی مشکل اور متشابہ وہ نکل جائیں گے صرف مجمل رہ جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فان الخفی اس لیے کیونکہ خفی جو ہے یدرک بمجرد الطلب والمشترک والمشکل بالتعامل بعد الطلب اس لیے کہ خفی جو ہے اس کو پایا جاتا ہے صرف طلب سے ہی انہوں نے تو کہا استفسار بھی ہوگا، طلب بھی ہوگی پھر تعامل ہوگا مولانا تین چیزیں ہیں جبکہ خفی میں تو صرف کیا تھی؟ طلب تھی وہاں استفسار اور تعامل کی ضرورت نہیں تو لہذا خفی خارج ہوا استفسار کے اور اس کے ایسے ہی۔ اور مشترک اور مجمل ان میں تو تعامل ہوگا بعد طلب طلب کے وہاں طلب کے بعد صرف تعامل ہوگا بھئی مشکل اور مشکل کے اندر۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو وہاں پر لہذا استفسار کی قید کے ذریعے وہ دونوں بھی کیا ہو گئے؟ خارج ہو گئے۔ بخلاف المجمل بخلاف مجمل کے فانہ قد يحتاج الى ثلاثة طلبات اس لیے کیونکہ ایک تحقیق محتاج ہوتا ہے تین طلبات کا تین طلبیں۔ الاول الاستفسار عن المجمل پہلی کیا ہے طلب کہ وضاحت چاہی جائے مجمل سے جس نے اجمال رکھا ثم طلب للاصعاف الاوصاف بعدہ پھر اس کے بعد اوصاف کو طلب کیا جائے گا ثم تعامل للتعیین پھر تعین کے لیے غور و فکیر کیا جائے گا فھو رجل غریب خرج عن وطنہی پس یہ ایسے مسافر شخص کی طرح ہوا جو نکلا اپنے وطن سے ووقع فی جملۃ من الناس اور وہ واقع ہو گیا مجموعہ لوگوں کے اندر یعنی ان لوگ عام لوگوں کے اندر کیا ہوا؟ تمام لوگوں کے اندر وہ واقع ہوا یعنی تمام لوگوں کے اندر وہ گھل مل گیا لا یقف علیہ اس پر واقف نہیں ہوا جا سکتا الا بالاستفسار عن الانامی مگر یہ کہ مخلوق سے اس کے بارے میں میرا پوچھا جائے لوگوں سے کیا کیا جائے؟ اس کے بارے میں بھئی دیکھو ایک مسافر ہے اپنے وطن سے نکلا، دوسرے علاقے میں گیا اور لوگوں میں گھل مل کر رہنے لگا بھئی۔ گھل مل کر رہنے لگا۔ اب اس کے بارے میں کیا کیا جائے گا؟ اس نے اپنی ہیئت وغیرہ بھی تبدیل کر لی، لباس بدل لیا۔ سب سے پہلے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا لوگوں سے بھئی، کِدھر گیا یہ آدمی؟ بتائیں گے بھئی، فلاں جگہ چلا گیا ہے۔ تو یہ استفسار آیا، پھر وہاں جا کر اس کی طلب کی جائے گی بھئی، پتہ چلا جی فلاں جگہ فلاں لوگوں میں ہے، وہاں آپ پہنچے مولانا، تو طلب بھی ہو گئی، پھر اس کے بعد اس نے اپنی ہیئت بھی بدلی ہوئی ہے، حلیہ بھی بدلا ہوا ہے، اب آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ غور اور فکر کرنا پڑے گا بھئی، تو یہ تین طلبیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: "فَفِيْهِ زِيَادَةُ خَفَاءٍ عَلَى الْمُشْكِلِ" تو اس کے اندر زیادہ خفاء ہے مشکل سے "فَيُقَابِلُ الْمُفَسَّرَ الَّذِيْ فِيْهِ زِيَادَةُ ظُهُوْرٍ عَلَى النَّصِّ" تو یہ اس مفسر کے مقابلے میں ہوا جس میں زیادہ ظهور ہے نص سے۔ "ثُمَّ لَمَّا عُلِمَ الْمُجْمَلُ بَعْدَ ثَلَاثِ طَلَبَاتٍ خَرَجَ مِنْهُ الْمُتَشَابِهُ" پھر جب علم ہو گیا مجمل کا تین طلبات کے بعد تو متشابہ اس سے نکل گیا، کیونکہ متشابہ کا پتہ ہی نہیں چل سکتا، "لِأَنَّهُ لَا يَجُوْزُ طَلَبُهُ" اس لیے کیونکہ اس کی طلب جائز ہی نہیں ہے "وَلَا تُعْلَمُ حَقِيْقَتُهُ بِأَيِّ طَلَبٍ كَانَ" اور اس کی حقیقت کو نہیں جانا جا سکتا جو بھی طلب ہو اس کے ذریعے، جونسی بھی طلب کر لی جائے اس کی حقیقت کو جانا نہیں جا سکتا متشابہ کو مولانا، آگے متشابہ کا بیان آنے والا ہے بھئی، اس کا علم نہیں ہو سکتا۔ اب مجمل کا حکم بیان کر رہے ہیں: "وَحُكْمُهُ اعْتِقَادُ الْحَقِّيَّةِ فِيْمَا هُوَ الْمُرَادُ" وہ اس کا حکم جو ہے وہ "فِيمَا"، "ما" سے مراد معنی ہے، وہ معنی جو مراد ہے اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھنا ہے، جو معنی بھی ہے اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھا جائے "وَالتَّوَقُّفُ فِيْهِ" اور اس میں توقف کیا جائے "إِلَى أَنْ يَّتَبَيَّنَ بِبَيَانِ الْمُجْمِلِ" یہاں تک کہ وہ واضح ہو جائے کس کے بیان کی وجہ سے؟ مجمل کے، مجمل جس نے اجمال بھئی جس نے وہ کلام کیا تھا اس میں اجمال پیدا کیا تھا اسی کے کلام سے اس کا کیا ہو جائے؟ اس کا پتہ چل جائے۔ "سَوَاءً كَانَ بَيَانًا شَافِيًا" برابر ہے کہ وہ کیا ہو، بیانِ شافی ہو "كَالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ" جیسے کہ صلاة اور زکاة ہے۔ تو کبھی میں نے بتلایا اس کا بیان شافی ہو گا، کبھی بیان شافی نہیں ہو گا بھئی۔ اگر بیان شافی ہو تو پھر طلب اور تامل کی ضرورت نہیں، اور اگر بیان شافی نہیں تو پھر اس صورت میں طلب اور تامل کی ضرورت بھی پڑے گی بھئی۔ تو بیانِ شافی جس میں آیا ہے اس کی مثال صلاة اور زکاة ہیں "فِيْ قَوْلِهِ تَعَالَى" اللہ تعالی کے اس قول کے اندر "أَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ" نماز قائم کرو اور زکاة دو، بھئی نماز، نماز تو دعا کو صلاة، صلاة تو دعا کو کہتے ہیں، کیا معنی؟ "آتُوا الزَّكَاةَ" زکاة کا معنی تو نما ہے، زیادتی، بڑھوتری، افزائش، کیا معنی؟ تو بیان چاہیے اس کے لیے مولانا۔ دیکھیے خود شارح کہہ رہے ہیں "فَإِنَّ الصَّلَاةَ فِي اللُّغَةِ الدُّعَاءُ" اس لیے کہ صلاة جو ہے عربی زبان کے اندر وہ دعا ہے "وَلَمْ يُعْلَمْ أَيُّ دُعَاءٍ يُّرَادُ" اور یہ معلوم نہیں ہے کہ کون سی دعا مراد ہے "فَاسْتَفْسَرْنَا" تو ہم نے اس کی وضاحت چاہی "فَبَيَّنَهَا النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَفْعَالٍ بَيَانًا شَافِيًا مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا" پس بیان کیا اس کو حضور علیہ السلام نے اپنے افعال کے ذریعے بیانًا شافیًا، کیسا بیان کرنا؟ شافی بیان کرنا "مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا" اول سے اس کے اول سے لے کر اس کے آخر تک بھئی، پوری تفصیلات آتی ہیں۔ "ثُمَّ طَلَبْنَا" جی، دیکھا؟ یہ ہے مولانا۔ محشی حضرات اس مقام پر لکھتے ہیں کہ شارح کو یہاں اس کلام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ بیانِ شافی آ گیا مولانا اور بیانِ شافی کی بات پھر طلب اور تامل کی حاجت نہیں، حالانکہ شارح یہ سمجھے ہیں کہ ہر جگہ استفسار، طلب، تامل تینوں کا ہونا ضروری تھا، حالانکہ یہ بات بیان ہو چکی کہ استفسار ضروری ہے اس کے اندر البتہ پھر دیکھا جائے گا بیانِ شافی ہے یا بیانِ غیرِ شافی، اگر بیانِ شافی ہے پھر طلب اور تامل کی کوئی ضرورت نہیں، ہاں اگر بیان غیرِ شافی ہے پھر کس کی ضرورت ہے؟ طلب اور تامل کی ضرورت ہے، تو یہاں تو خود بتلا دیا ہے انہوں نے کہ شافی بیان آ گیا۔ تو شارح فرماتے ہیں: "ثُمَّ طَلَبْنَا" پھر ہم نے طلب کیا "أَنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ عَلَى أَيِّ مَعَانٍ تَشْتَمِلُ" کہ یہ نماز کن معانی پر مشتمل ہے "فَوَجَدْنَاهَا شَامِلَةً" کہ ہم نے اس کو پایا کہ یہ شامل ہے "عَلَى الْقِيَامِ وَالْقُعُوْدِ وَالرُّكُوْعِ وَالسُّجُوْدِ وَالتَّحْرِيْمَةِ وَالْقِرَاءَةِ وَالتَّسْبِيْحَاتِ وَالْأَذْكَارِ" کہ یہ شامل ہے قیام پر، قعود، رکوع، سجدے، تحریمہ، قرائت، تسبیحات، ذکر و اذکار وغیرہ، "فَلَمَّا تَأَمَّلْنَا" پس جب ہم نے غور کیا "عَلِمْنَا" دیکھو تامل کو بھی ذکر کر رہے ہیں "فَلَمَّا تَأَمَّلْنَا" پس جب ہم نے غور و فکر کیا "عَلِمْنَا" ہم نے جان لیا "أَنَّ بَعْضَهَا فَرْضٌ وَبَعْضَهَا وَاجِبٌ وَبَعْضَهَا سُنَّةٌ وَبَعْضَهَا مُسْتَحَبَّةٌ" کہ ان میں سے بعض چیزیں فرض ہیں، بعض واجب ہیں، بعض سنت ہیں اور بعض مستحب ہیں "فَصَارَ مُفَسَّرًا بَعْدَ أَنْ كَانَ مُجْمَلًا" پس یہ مفسر ہو گیا بعد اس کے کہ یہ مجمل تھا "وَهٰكَذَا الزَّكَاةُ" اور اسی طرح زکاة ہے "مَعْنَاهَا فِي اللُّغَةِ النَّمَاءُ" عربی زبان میں اس کا معنی نما، بڑھوتری کے ہیں، زیادتی اور افزائش کے ہیں "وَذٰلِكَ غَيْرُ مُرَادٍ" اور وہ تو مراد نہیں ہے "فَبَيَّنَهَا النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ" لہٰذا ہم نے کیا چاہا؟ اس کی وضاحت چاہی، تو بیان کیا اس کو حضور علیہ السلام نے "بِقَوْلِهِ" اپنے اس قول کے ذریعے "هَاتُوْا رُبْعَ عُشْرِ أَمْوَالِكُمْ" تم نہ اپنے مالوں کا چالیسواں حصہ دو، ربعِ عشر، عشر کس کو کہتے ہیں؟ عشر دسواں حصہ، اور ربعِ عشر دسویں کا چوتھا حصہ، یہ چالیسواں بن جاتا ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ جی؟ سمجھ میں آ گئی بات سب کو؟ دیکھو 40 کا دسواں حصہ نکالو، 40 کے 10 حصے کرو، ایک میں کتنے درہم ہوں گے؟ 4 درہم، اور چار یہ ہے عشر، اس عشر کا چوتھا حصہ نکالو، ایک، تو دیکھو چالیسواں حصہ ہی ہے۔ "هَاتُوْا" ادا کرو، دو، "هَاتُوْا رُبْعَ عُشْرِ أَمْوَالِكُمْ" دو تم، ادا کرو تم اپنے مالوں کا چالیسواں حصہ، "وَقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ" اور اس قول کے ذریعے حضور علیہ السلام نے اس کو بیان فرمایا: "لَيْسَ عَلَيْكَ فِي الذَّهَبِ شَيْءٌ حَتَّى يَبْلُغَ عِشْرِيْنَ مِثْقَالًا" نہیں ہے تم پر سونے کے اندر کوئی چیز یعنی زکاة تم پر نہیں ہے "حَتَّى يَبْلُغَ عِشْرِيْنَ مِثْقَالًا" یہاں تک کہ وہ 20 مثقال تک پہنچ جائے۔ یاد رکھیے مثقال اور دینار ایک وزن کا نام ہے بھئی، سمجھ میں آئی؟ یہ اوزان میں پہلے بیان کر چکا ہوں بھئی، یاد ہیں یا بھول گئے ہیں بھئی؟ ایک دینار یا ایک مثقال ایک ہی وزن ہے، ساڑھے چار ماشے کا مولانا، تو 20 مثقال یہ ساڑھے سات تولے بن جاتے ہیں۔ "وَلَيْسَ عَلَيْكَ فِي الْفِضَّةِ شَيْءٌ" اور تم پر چاندی میں کوئی چیز نہیں ہے "حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ" یہاں تک کہ یہ کہاں تک پہنچ جائے؟ 200 درہم تک پہنچ جائے، اور یہ ساڑھے باون تولے بنتی ہے مولانا، اس لیے کیونکہ ایک درہم کیا ہے؟ تین ماشے ایک رتی اور خمس رتی کے برابر ہے، یاد ہیں یا سارے بھول گئے ہیں بھئی؟ جی؟ بھول گئے ہو؟ دیکھو 8 چاول کے دانے ہوں تو ایک رتی بنتی ہے بھئی، اور 8 رتیاں ہوں تو یہ ایک ماشہ بنتا ہے، 12 ماشے ہوں تو ایک تولہ بنتا ہے بھئی، 12 ماشے ہوں تو ایک تولہ بنتا ہے، چلیے پھر آپ حساب لگا لیجیے گا۔ "وَهٰكَذَا قَالَ فِيْ بَابِ السَّوَائِمِ" اور اسی طرح حضور علیہ السلام نے سوائم کے باب میں فرمایا، سوائم وہ جانور جو سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارتے ہیں، تو یہی حدیث نہیں ہے مولانا، یہ تو ایک بطورِ مثال کے انہوں نے ذکر کر دی، بہت سی احادیث ہیں جن کے اندر وضاحت اس طرح موجود ہے بھئی، ایک ایک تو پوری پوری تفصیل موجود ہے۔ اچھا، تو پھر "ثُمَّ طَلَبْنَا الْأَسْبَابَ وَالشُّرُوْطَ وَالْأَوْصَافَ وَالْعِلَلَ" پھر ہم نے طلب کیا اس زکاة کے اسباب کو، اس کی شرطوں کو، اس کے اوصاف کو، اس کی علتوں کو، "فَعَلِمْنَا" ہم نے جان لیا "أَنَّ مِلْكَ النِّصَابِ عِلَّةٌ" کہ نصاب کا مالک ہونا یہ کیا ہے؟ علت ہے، "وَحَوَلَانَ الْحَوْلِ شَرْتٌ" حَولانِ حول، سال کا گزرنا شرط ہے، "وَهٰكَذَا الْقِيَاسُ" اور اسی طرح قیاس ہو گیا، تمام یعنی تمام چیزیں معلوم ہو جاتی ہیں۔ "أَوْ لَمْ يَكُنِ الْبَيَانُ شَافِيًا" یا وہ بیان جو مجمل کی طرف سے آیا وہ شافی نہیں تھا "كَالرِّبَا" جیسے کہ ربا ہے مولانا، "فِيْ قَوْلِهِ تَعَالَى" اللہ تعالی کے اس قول میں "وَحَرَّمَ الرِّبَا" اللہ نے ربا کو حرام قرار دیا ہے، سود کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے، "فَإِنَّهُ مُجْمَلٌ" اس لیے کیونکہ یہ مجمل ہے، "بَيَّنَهُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِقَوْلِهِ" بیان کیا اس کو حضور علیہ السلام نے اپنے اس قول کے ذریعے: "الْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيْرُ بِالشَّعِيْرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ" کیا معنی؟ "الْحِنْطَةَ" منصوب کیوں ہے مولانا؟ کیا؟ "بِيْعُوا" ہاں، "بِيْعُوا" لفظِ امر محذوف نکالیں گے، "بِيْعُوا" بیچو تم گندم کو گندم کے بدلے اور جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، نمک کو نمک کے بدلے، سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے "مِثْلًا بِمِثْلٍ" مثل کے بدلے مثل یعنی برابر کے بدلے برابر بیچو، کمی بیشی نہ ہو، "يَدًا بِيَدٍ" اور ہاتھوں ہاتھ ہو یعنی نقد ہو، ادھار اس میں سے نہ ہو، "وَالْفَضْلُ رِبًا" اور جو زائد زیادتی ہے وہ ربا ہے۔ اس سے پتہ لگا مولانا۔ تو یہ استفسار، یہ بیان آیا اس کا، "ثُمَّ طَلَبْنَا الْأَوْصَافَ لِأَجْلِ هٰذَا التَّحْرِيْمِ" پھر ہم نے طلب کیا وہ اوصاف جن کی وجہ سے یہ تحریم آئی ہے، ان کو حرام قرار دیا گیا بھئی ربا کو، "حَتَّى يُعْلَمَ حَالُ مَا بَقِيَ سِوَى الْأَشْيَاءِ السِّتَّةِ" یہاں تک کہ جان لیا جائے باقی جو چیزیں ہیں ان کے حال کو، ان چھ چیزوں کے علاوہ، ان چھ چیزوں کے علاوہ، ان چھ چیزوں میں تو پتہ لگ گیا، باقی کے علاوہ اس کے لیے ہمیں پھر طلب کرنے پڑی۔ "فَعَلَّلَ بَعْضُهُمْ بِالْقَدْرِ وَالْجِنْسِ" تو تعلیل کی ہے بعض فقہاء نے قدر اور جنس کے ساتھ یعنی امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے، اور بعض فقہاء نے "بِالطَّعْمِ وَالثَّمَنِيَّةِ"، بعض فقہاء نے طعام اور ثمنیت کے ساتھ کہ کھانے کی چیز ہو اور ثمنیت ہو یہ سونے چاندی سے، یہ امام شافعی رحمہ اللہ ہیں مولانا، "وَبَعْضُهُمْ بِالِاقْتِيَاتِ وَالِادِّخَارِ" اور بعضوں نے اس کی تعلیل کی ہے اختیات اور ادخار کے ساتھ یعنی اسے اختیات کا معنی خوراک بنانا، ادخار کا معنی ذخیرہ کرنا یعنی اسے خوراک کے لیے ذخیرہ کیا جاتا ہو، لیکن یہ علت چار چیزوں سے معلوم ہوئی مولانا، سونے اور چاندی کو تو خوراک کے لیے ذخیرہ نہیں کیا جاتا بھئی، ان کے اندر علت ثمنیت ہے، میں پہلے بیان کر چکا ہوں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو شارح نے پہلے بھی صرف اختیات اور ادخار کو بیان کیا تھا، یہاں ثمنیت کو بھی ساتھ بیان کرنا چاہیے تھا بھئی، ماقبل میں بھی بیان کرنا چاہیے تھا یہاں بھی، ہاں یہاں پر محشی وہاں پر محشی نے بھی نہیں چھیڑا، زیادہ تفصیل نہیں کی، یہاں محشی نے کہا نقديت کہہ دیا، سونے اور چاندی سے کیا اخذ کیا امام مالک رحمہ اللہ نے؟ نقدیت، نقدی ہونا یعنی وہی ثمنیت جو میں بیان کر رہا ہوں ثمنیت بھئی۔ "وَفَرَّعَ كُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمْ تَفْرِيْعًا عَلَى حَسَبِ تَعْلِيْلِهِ" اور پھر تفریع کی ان میں سے ہر ایک نے اپنے تعلیل کے مطابق بھئی، اپنی تعلیل کے مطابق جو جو علت نکالی تھی اسی کے مطابق تفریعات کی اور جزئی مسائل نکالے، جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی مولانا، لوہے کو لوہے کے بدلے بیچا جائے تو ہمارے نزدیک جنس ایک ہے مولانا اور قدر بھی ہے، سونا کیا ہے؟ لوہے کو لوہے کے بدلے بیچا جائے تو قدر بھی موجود ہے، وزن کیا جاتا ہے اس کو، لہٰذا برابری ضروری ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ان کے نزدیک علت کیا ہے؟ طعام اور ثمنیت ہے، نہ یہ کھانے کی چیز ہے نہ یہ ثمن ہے یعنی سونا چاندی بھی نہیں ہے، لہٰذا کمی بیشی سے بیچنا ان کے نزدیک جائز ہے، امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھی کمی بیشی کے ساتھ بیچنا جائز ہے بھئی، کیونکہ یہ اس کو خوراک کے لیے ذخیرہ بھی نہیں کیا جاتا، یہ تو خوراک ہی نہیں ہے سرے سے اور نیز یہ ثمنیت یعنی سونا اور چاندی بھی نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جبکہ اس کے مقابلے میں انڈے کے بدلے انڈے بیچ رہے ہیں بھئی، اب اس میں کمی بیشی ہمارے نزدیک جائز ہے، کیوں؟ اس لیے کیونکہ یہاں اگرچہ جنس تو ہے لیکن قدر نہیں، نہ اس کو ماپا جاتا ہے اور نہ اس کا وزن کیا جاتا ہے بلکہ اس کو تو گنا جاتا ہے بھئی، ہمارے نزدیک کمی بیشی، ہاں امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز نہیں، کیوں؟ کیونکہ خوراک ہے، طعام ہے مولانا، سمجھ رہے ہیں؟ علت بتلا دی، اب آپ خود غور کر کے ہر چیز کا حکم آپ خود نکال سکتے ہو. "وَبِالْجُمْلَةِ لَمْ يَكُنِ الْبَيَانُ شَافِيًا" اور بالجمعلہ یعنی حاصل یہ کہ بیان شافی نہیں تھا، بیان شافی اس میں نہیں تھا اسی لیے ہر فقیہ نے اس میں غور کیا اور علت نکالی، "وَخَرَجَ مِنْ حَيِّزِ الْإِجْمَالِ إِلَى حَيِّزِ الْإِشْكَالِ" بیان شافی نہیں تھا اور وہ نکلا وہ یہ ربا حیزِ اجمال سے نکل کر کس میں آ گیا؟ حیز کا معنی محل، محلِ اجمال سے نکل کر کس میں آ گیا؟ محلِ اشکال میں آیا، چنانچہ وہاں پھر غور اور طلب کرنا پڑی۔ "وَلِهٰذَا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ" اور اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: "خَرَجَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ" کہ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے "وَلَمْ يُبَيِّنْ لَّنَا أَبْوَابَ الرِّبَا" اور بیان نہیں کیا ہمارے لیے ربا کے ابواب کو یعنی پوری تفصیل بیان نہیں فرمائی، "هٰكَذَا قَالُوا" اسی طرح علماء نے فرمایا ہے، یہ تقریر جو کی انہوں نے کہتے ہیں اسی طرح علماء نے فرمایا ہے جیسے ہم نے تقریر کی، چلیے بس مولانا، ھذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
142 approved lectures · 44 of 142