Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-051

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 154
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔51 تو طلاق سے کیا ہو جائے گی وہ پابندی؟ ختم ہو جائے گی۔ تو رفع قید کا معنی یہاں بھی موجود ہے۔ بھئی، عورت خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتی، عورت کے لیے اب کسی اور مرد سے نکاح کرنا حرام ہو گیا بھئی، جب تک اس شخص کے نکاح میں ہے۔ تو دیکھو! اس پر بھی قید آ گئی تھی، تو طلاق کے ذریعے کیا ہو جاتی ہے وہ قید؟ مرتفع ہو جاتی ہے، اٹھ جاتی ہے، ختم ہو جاتی ہے۔ تو طلاق کا مادہ، عربی میں طلاق کا مادہ کس لیے آتا ہے؟ رفع قید کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور یہاں اس محل کے اندر بھی اس کی صلاحیت، احتمال موجود ہے، لہذا یہاں بھی یہ کس لیے ہے؟ طلاق رفع قید کے لیے، معلوم ہوا طلاق کس کے لیے وضع ہے؟ رفع قید کے لیے، جبکہ عتاق کو وضع ہے اثباتِ قوت کے لیے بھئی۔ بھئی، عربی میں اعتق کا مادہ جو ہے، وہ قوت کے ثابت کرنے کے معنی میں ہے۔ عربی میں کہتے ہیں بھئی، جب کوئی پرندے کا بچہ ذرا بڑا ہو جائے، قوت اس میں آ جائے اور گھونسلے سے اڑنے لگے، تو کہتے ہیں: عتق الطیرُ، عتق الطیرُ۔ سمجھ میں آیا؟ تو معلوم ہوا یہ کس لیے ہے یہ اعتق کا مادہ؟ اثباتِ قوت کے لیے ہے مولانا، کہ قوت ثابت کر دی گئی اس کے لیے، قوت ثابت ہو گئی بھئی۔ اور یہاں پر بھی محل کے اندر اس کا احتمال ہے مولانا، غلام جو تھا غلام، جب اس کو آزاد کریں گے اس کے لیے قوتِ شرعیہ ثابت ہو جائے گی، قوتِ شرعیہ ثابت کر دی جائے گی۔ کیسے بھئی؟ بھئی، پہلے وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہو سکتا تھا، اب مالک بنے گا۔ غلام کے پاس پہلے جو کچھ ہوتا تھا، سارا کس کا ہوتا تھا؟ آقا کا ہوتا تھا، غلام مالک نہیں بن سکتا کسی بھی چیز کا، لیکن جب اسے آزاد کر دیا، تو اس کے لیے قوتِ شرعیہ ثابت کر دی گئی، اب وہ کیا بن سکتا ہے؟ چیزوں کا مالک بن سکتا ہے، اب جو چیز اس کے پاس ہوگی اب وہ اس کی اپنی ہوگی مولانا، وہ کسی اور کی نہیں، تو اعتق کا مادہ عربی میں کس لیے ہے؟ اثباتِ قوت کے لیے، اور یہاں پر جو محل ہے اس کے اندر بھی اس کا احتمال ہے کہ غلام کے لیے پہلے قوتِ شرعیہ ثابت نہیں تھی، اب کیا کر دی گئی اس کے لیے قوتِ شرعیہ، اور کس چیز کی قوتِ شرعیہ ثابت ہوئی ہے؟ کہ پہلے وہ کسی چیز کا مالک نہیں بن سکتا تھا، اب مالک بن جاتا ہے بھئی۔ تو لہذا ایک وضع ہے رفع قید کے لیے، ایک وضع ہے اثباتِ قوت کے لیے، تو دونوں میں کوئی مناسبت ہی نہیں ہے بھئی، طلاق اور عتاق دونوں میں کوئی مناسبت ہی نہیں۔ ولكن يرد على اصل القاعدة ان العتاق انما هو، یہاں سے ایک اعتراض کر رہے ہیں بھئی، اعتراض یہ بھئی، بھئی ہمارے نزدیک کیا ذکر ہوا؟ کہ عتاق بول کر طلاق کا ارادہ صحیح، اسی طرح بیع بول کر نکاح کا ارادہ بھی صحیح، کیونکہ بیع سبب ہے اور اسی طرح عتاق کیا ہے؟ سبب ہے، تو دونوں سبب ہیں اور سبب بول کر مسبب کا ارادہ صحیح ہوتا ہے بھئی، مسبب کا ارادہ۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے، اعتراض یہ ہوتا ہے، کہ بھئی آپ نے پہلے کیا ذکر کیا؟ عتاق بول کر طلاق کا ارادہ صحیح، کیونکہ عتاق کی وجہ سے کیا آئے گا؟ انتِ حرةٌ کہنے سے کیا آئے گا؟ زوالِ ملکِ رقبہ، اور زوالِ ملکِ رقبہ کے واسطے سے پھر کیا آ جائے گا؟ زوالِ ملکِ متعت، تو لہذا انتِ حرةٌ کہنے سے کیا آیا؟ زوالِ ملکِ متعت آیا، اور اسی طرح طلاق بھی ہے وضع ہے کس کے لیے؟ زوالِ ملکِ متعت کے لیے وضع ہے، تو لہذا جب انتِ حرة سے زوالِ ملکِ متعت آ رہا ہے، یہ اس کے لیے سبب ہے، تو لہذا سبب بول کر مسبب کا ارادہ کرنا، یعنی انتِ حرة کہہ کر زوالِ ملکِ متعت کا ارادہ یا یوں کہو طلاق کا ارادہ، یہ صحیح ہے، یہ کیا ہے؟ صحیح ہے، کیونکہ سبب بول کر مسبب کا ارادہ کیا جا رہا ہے، لیکن اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ایک زوالِ ملکِ متعت جو ہے ملکِ یمین کے اندر ہوتا ہے، اور ایک زوالِ ملکِ متعت نکاح کے اندر ہوتا ہے بھئی۔ کس کے اندر؟ نکاح، ایک زوالِ ملکِ متعت ہے ملکِ یمین کے اندر باندھی وغیرہ میں، اور ایک زوالِ ملکِ متعت ہے کس کے اندر؟ نکاح کے اندر، تو عتاق کے ذریعے انتِ حرة کہنے سے کون سا زوالِ ملکِ متعت آتا ہے؟ کس کے اندر؟ ملکِ یمین کے اندر بھئی، یعنی باندھی کے اندر زوالِ ملکِ متعت آتا ہے، نکاح کے اندر جو ملکِ متعت آیا ہے اس کے زوال کے لیے یہ صحیح نہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو لہذا عتاق کے ذریعے استعارۃً کرنا اس زوالِ ملکِ متعت کا جو ملکِ یمین کے طریقے پر ہے، یہ استعارہ تو صحیح ہے بھئی، انتِ حرة کہہ کر کس کا ارادہ کرنا؟ زوالِ ملکِ متعت کا، کون سا زوالِ ملکِ متعت؟ جو کس طریقے پر تھا؟ ملکِ یمین کے طریقے پر تھا، اس کا ارادہ تو کرنا صحیح ہے، لیکن وہ ملکِ متعت جو کس طریقے پر حاصل ہوئی ہے؟ نکاح کے طریقے پر حاصل ہوئی ہے، اس کے زوال کے لیے انتِ حرة کے ذریعے اس کا ارادہ کرنا صحیح نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا اس صورت کے اندر معلوم ہوا کہ عتاق بول کر طلاق کا استعارہ صحیح نہیں ہونا چاہیے بھئی، کیونکہ انتِ حرة کہنے سے کیا آ رہا ہے؟ زوالِ ملکِ متعت، لیکن کون سا زوالِ ملکِ متعت؟ جو نکاح سے حاصل ہوا ہے یا ملکِ یمین سے حاصل ہوا ہے؟ ملکِ یمین سے حاصل ہوا ہے، لہذا اس کے لیے تو استعارہ صحیح ہونا چاہیے، لیکن نکاح کے ذریعے جو حاصل ہوا تھا ملکِ متعت، اس کے زوال کے لیے اس کا استعارہ صحیح نہیں، لہذا عتاق بول کر طلاق کا استعارہ صحیح نہیں ہونا چاہیے بھئی، اشکال سمجھ میں آیا؟ اسی طرح بیع کے ذریعے کیا آتا ہے؟ ثبوتِ ملکِ متعت آتا ہے، لیکن کون سا ملکِ متعت کا ثبوت آئے گا؟ جو ملکِ یمین کے طریقے پر ہو، کس طریقے پر ہو؟ ملکِ یمین کے طریقے پر ہو، اور وہ ملکِ متعت جو نکاح کے ذریعے حاصل ہوتا ہے وہ الگ ہے، لہذا بیع بول کر نکاح کا استعارہ صحیح نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ بیع کے ذریعے بھی کیا آیا؟ ملکِ متعت، لیکن یہ ملکِ متعت کس طریقے پر ہے؟ ملکِ یمین کے طریقے پر، تو لہذا بیع بول کر نکاح کا ارادہ کرنا اور نکاح کا استعارہ کرنا صحیح نہیں ہے بھئی، اعتراض سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی، تو یہ پہلے اعتراض ذکر کریں گے اور پھر اس کا جواب بھئی، دیکھیے۔ ولكن يرد على اصل القاعدة، لیکن اعتراض وارد ہوتا ہے اصل قاعدہ پر کہ ان العتاق انما هو سبب لاعتزالي ملك المتعة التي كانت على وجه ملك اليمين، کہ عتاق جو ہے وہ سبب ہے اس ملکِ متعت کے ازالہ کے لیے جو ملکِ یمین کے طریقے پر تھا، دون المتعة التي كانت في النكاح، نہ کہ وہ ملکِ متعت جو کس طریقے پر تھا؟ جو نکاح میں تھا۔ تو لہذا عتاق کا استعارہ طلاق کے لیے صحیح نہیں ہونا چاہیے۔ وكذا البيع انما هو سبب لثبوت ملك المتعة التي كانت من جهة ملك اليمين، اور اسی طرح بیع وہ سبب ہے اس ملکِ متعت کے ثبوت کے لیے جو ملکِ یمین کے طریقے پر ہے، دون المتعة التي كانت في النكاح، نہ کہ اس ملکِ متعت کے لیے جو کس میں آئی ہے؟ نکاح کے اندر آئی ہے، بیع کے ذریعے ملکِ متعت تو آتی ہے لیکن ملکِ یمین کے طریقے پر آتی ہے نکاح کے طریقے پر نہیں آتی، تو لہذا بیع کا استعارہ نکاح کے لیے صحیح نہیں ہونا چاہیے۔ واوجيب، اور جواب دیا گیا، اب جواب ذکر کر رہے ہیں، واوجيب، کہ جواب دیا گیا اس اعتراض کا بان انه يكفي في هذا كونه سببا في الجملة، کہ اس مجاز کے اندر بھئی کافی ہے اس کا سبب ہونا فی الجملۃ، یعنی مجموعی اعتبار سے بھئی، وہ جو سبب ہے اس کو کیا ہونا چاہیے؟ مجموعی اعتبار سے کیا ہونا چاہیے؟ سبب ہونا چاہیے، لا كونه سببا على وجه مخصوص به، نہ کہ ایسے طریقے پر سبب ہو جو کہ اسی کے ساتھ خاص ہو مولانا، اسی کے ساتھ مخصوص ہو۔ یعنی حاصلِ جواب یہ مولانا، کہ بھئی عتاق جو ہے وہ سبب ہے زوالِ ملکِ متعت کا، عتاق کیا ہے؟ سبب، بس جب یہ بات ثابت ہو گئی بھئی کسی مجموعی اعتبار سے اس کو سبب ہونا چاہیے اور عتاق سبب ہے کس چیز کا؟ زوالِ ملکِ متعت کا، اگرچہ وہ مخصوص زوالِ ملکِ متعت جو نکاح کے ذریعے حاصل ہوا تھا اس کے زوال کے لیے تو یہ سبب نہیں، لیکن مجموعی اعتبار سے یہ کیا ہے؟ زوالِ ملکِ متعت کا سبب ہے، چاہے وہ ملکِ یمین کے طریقے پر کیوں نہ ہو لیکن سبب تو ہو گیا یعنی یہ زوالِ ملکِ متعت کا، جب سبب ہو گیا تو بس اس کا استعارہ صحیح ہے۔ اسی طرح بیع جو ہے وہ سبب ہے کس چیز کا؟ ثبوتِ ملکِ متعت کا، اگرچہ وہ ملکِ یمین کے طریقے پر ہے لیکن مجموعی اعتبار سے کیا ہوا؟ وہ سبب ہوا کس چیز کا؟ ثبوتِ ملکِ متعت کا، بس یہ کافی ہے، جب وہ مجموعی اعتبار سے سبب ہے تو لہذا اب اس کا استعارہ بھی اس کے لیے صحیح ہے، اب اگرچہ اس مخصوص طریقے پر نہیں ہے یعنی جو نکاح کے طریقے پر ہے وہ نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود مجموعی اعتبار سے جب یہ سبب ہے ثبوتِ ملکِ متعت کے لیے، تو اس کا استعارہ بھی کیا ہے؟ ملکِ متعت کے ثبوت کے لیے صحیح ہے مولانا۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
142 approved lectures · 51 of 142