Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-068

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Ammar Ahsan
📍 Location Karachi, Pakistan
📅 Approved Date 25 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 266
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
"وَلَوْ" لِلشَّرْطِ، وَرُوِيَ عَنْهُمَا أَنَّهُ إِذَا قَالَ: "أَنْتِ طَالِقٌ لَوْ دَخَلْتِ الدَّارَ" فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، يَعْنِي... يَعْنِي أَنَّ "لَوْ" لَمْ يَبْقَ عَلَى مَعْنَاهُ الْأَصْلِيِّ، وَهُوَ مَعْنَى الْمَاضِي۔ حروفِ شرط کی بحث چل رہی تھی۔ اس میں سے آج "لو" کو بیان کر رہے ہیں۔ یاد رکھیے! "ان" بھی شرط کے لیے آتا ہے اور "لو" بھی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ "ان" وہ مستقبل کے لیے ہوتا ہے، جبکہ "لو" ماضی کے لیے۔ "ان" اگر ماضی پر بھی داخل ہو، اس کو مستقبل کے معنیٰ میں کر دے گا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: "إنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ"، "إنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ"، "اگر آپ پٹائی کریں گے تو میں بھی پٹائی کروں گا"۔ اب دیکھیے، صیغے ماضی کے ہیں، لیکن ترجمہ کون سا کر رہے ہیں آپ؟ مستقبل والا۔ "ضربتَ" ماضی کا صیغہ ہے، لیکن آپ کیا ترجمہ کر رہے ہیں؟ "إنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ"، "اگر آپ پٹائی کریں گے تو میں بھی پٹائی کروں گا"، تو معنیٰ مستقبل والا۔ تو "ان" ماضی پر بھی داخل ہو، تو اسے مستقبل کے معنیٰ میں کر دیتا ہے۔ جبکہ "لو" ماضی کے لیے ہے، اگر یہ مـ... مضارع پر بھی داخل ہو، تو اسے کس معنیٰ میں کر دے گا؟ ماضی کے معنیٰ میں کر دے گا بھئی۔ تو "لو" ماضی کے لیے آتا ہے۔ جیسے: "لو جئتَني لأكرمتُك" "لو جئتَني لأكرمتُك" "اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے، "لأكرمتُك"، تو میں نے آپ کا اکرام کیا ہوتا"۔ دیکھو، ماضی کا معنیٰ کر رہے ہیں۔ "اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے، تو میں نے آپ کا... اکرام کیا ہوتا"۔ اور میں نے آپ کا... معلوم ہوا میں نے آپ کا اکرام نہیں کیا۔ کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ آپ آئے نہیں۔ تو ثانی منتفی ہوتا ہے، کس وجہ سے؟ کیونکہ اول کیا ہے؟ منتفی ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ "اگر آپ آئے ہوتے، تو میں نے اکرام کیا ہوتا"۔ یعنی میں نے اکرام نہیں کیا، کیوں نہیں کیا؟ ثانی منتفی ہے اکرام، کیوں منتفی ہے؟ کیونکہ اول کیا ہے؟ وہ منتفی ہے، وہ موجود نہیں بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: "وَلَوْ لِلشَّرْطِ"، اور "لو" جو ہے وہ شرط کے لیے ہے، "وَرُوِيَ عَنْهُمَا"، اور روایت کیا گیا ہے صاحبین سے، "أَنَّهُ إِذَا قَالَ"، کہ جب کہا خاوند نے مثلاً اپنی بیوی سے: "أَنْتِ طَالِقٌ لَوْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، یہ خاوند نے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ لَوْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، تو صاحبین فرماتے ہیں: "فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ""، تو یہ "لو" کس معنیٰ میں ہے؟ "ان" کے معنیٰ میں ہے، گویا خاوند نے یوں کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ"۔ تو لہذا، یہ عورت جب اس گھر میں داخل ہو گی، تو اسے پھر طلاق ہو گی۔ تو یہاں "لو"، "ان" کے معنیٰ میں ہوا۔ "يَعْنِي أَنَّ "لَوْ" لَمْ يَبْقَ عَلَى مَعْنَاهُ الْأَصْلِيِّ"، یعنی کہ "لو"، لفظِ "لو" "لَمْ يَبْقَ عَلَى مَعْنَاهُ الْأَصْلِيِّ"، وہ اپنے اصلی معنیٰ پر باقی نہ رہا۔ بھئی، اصلی معنیٰ کون سا؟ کہتے ہیں: "وَهُوَ مَعْنَى الْمَاضِي"، اور وہ ماضی کا معنیٰ ہے، کیونکہ "لو" کس لیے آتا ہے؟ ماضی کے لیے آتا ہے۔ تو یہ اپنے اصلی معنیٰ پر باقی نہ رہا، بلکہ کس معنیٰ میں ہو گیا؟ "ان" کے معنیٰ میں ہو گیا۔ بھئی، اس کے بعد ایک سطر چھوڑ کر اس سے نیچے آ رہا ہے: "بَلْ صَارَ بِمَعْنَى "إِنْ""۔ تو یہ "لو" اپنے ماضی کے معنیٰ میں نہ رہا، "بَلْ صَارَ بِمَعْنَى "إِنْ""، بلکہ کس کے معنیٰ میں ہو گیا؟ "ان" کے معنیٰ میں ہو گیا، "فِي حَقِّ الِاسْتِقْبَالِ فِي عُرْفِ الْفُقَهَاءِ"، یعنی استقبال یعنی مستقبل کے حق میں فقہاء کے عرف میں۔ فقہاء کے عرف میں یہ کس معنیٰ میں ہو گیا؟ مستقبل کے معنیٰ میں ہو گیا بھئی۔ درمیان میں بتلا رہے ہیں، ماضی کے معنیٰ میں ہوتا ہے اور کس طرح ہوتا ہے، وہ بیان کر رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں... وہ پھر اوپر دیکھیے کہ یہ وہ معنیٰ ماضی کا معنیٰ ہے، "بِمَعْنَى"، بعین معنیٰ، "أَنَّ انْتِفَاءَ... أَنَّ انْتِفَاءَ الْجَزَاءِ فِي الْخَارِجِ فِي الزَّمَانِ الْمَاضِي بِانْتِفَاءِ الشَّرْطِ"، کہ جزا کا انتفاء ہے خارج میں، یعنی خارج میں جزا نہیں۔ "لو جئتَني لأكرمتُك"، جزا کیا ہے؟ "لأكرمتُك"، اور خارج میں یہ جزا نہیں ہے، منتفی۔ کیا ترجمہ میں نے کیا تھا؟ "لو جئتَني لأكرمتُك"، "اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے، تو میں نے آپ کا اکرام کیا ہوتا"۔ تو معلوم ہوا اکرام کیا ہے؟ منتفی ہے۔ کیوں منتفی ہے؟ کیونکہ شرط یعنی اول کیا ہے؟ منتفی ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں: "بِمَعْنَى أَنَّ انْتِفَاءَ الْجَزَاءِ فِي الْخَارِجِ فِي الزَّمَانِ الْمَاضِي بِانْتِفَاءِ الشَّرْطِ"، یعنی کہ جزا کا انتفاء جو ہے، یعنی جزا کا منتفی ہونا خارج میں ہے، "فِي الزَّمَانِ الْمَاضِي"، کس زمانے میں؟ زمانۂ ماضی میں ہے، "بِانْتِفَاءِ الشَّرْطِ"، بوجہ شرط کے منتفی ہونے کے۔ "كَمَا هُوَ عِنْدَ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ"، جیسے کہ یہ اہل طریقہ... اہل عربیت کے نزدیک ہے۔ اہل عربیت بھئی، یعنی عربی زبان والوں کے نزدیک بھئی۔ "أَوْ"، یا پھر یہ، "أَنَّ انْتِفَاءَ الشَّرْطِ فِي الْمَاضِي لِأَجْلِ انْتِفَاءِ الْجَزَاءِ"، یا بعین معنیٰ، اس کا عطف بھی اوپر والے "أن انتفاء الجزاء" پر ہے، "أَنَّ انْتِفَاءَ الشَّرْطِ فِي الْمَاضِي"، کہ شرط منتفی ہے ماضی میں، "لِأَجْلِ انْتِفَاءِ الْجَزَاءِ"، بوجہ جزا کے منتفی ہونے کے۔ "كَمَا هُوَ عِنْدَ أَرْبَابِ الْمَعْقُولِ"، جیسے کہ یہ اہل معقول کے نزدیک ہے، یعنی منطقہ وغیرہ کے نزدیک بھئی۔ کس کے نزدیک؟ بھئی دیکھیے، اہل عربیت کہتے ہیں "لو" آتا ہے انتفاءِ ثانی کے لیے بوجہ انتفاءِ اول کے۔ یعنی اول سبب ہوتا ہے ثانی کا۔ اول سبب اور ثانی مسبب۔ بھئی، مسبب منتفی ہے، کیوں منتفی ہے؟ اول یعنی سبب منتفی ہے، جب سبب نہیں ہے تو مسبب بھی نہیں۔ جبکہ اربابِ عقول یعنی مناطقہ وغیرہ جو ہیں، وہ کہتے ہیں "لو" آتا ہے انتفاءِ اول کے لیے بوجہ انتفاءِ ثانی کے، وہ عکس کرتے ہیں۔ پہلوں نے کیا کہا تھا؟ انتفاءِ ثانی ہوتا ہے، کس وجہ سے؟ انتفاءِ اول کی وجہ سے۔ یہ اس کا عکس کرتے ہیں، کہتے ہیں: انتفاءِ اول ہوتا ہے، کس کی وجہ سے؟ انتفاءِ ثانی کی وجہ سے۔ یعنی، کیا معنیٰ کریں گے؟ بھئی دیکھیے! یہ ان میں فرق اس لیے، کہ ایک کہتا ہے ثانی... اول سبب ہے ثانی کے انتفاء کے لیے۔ دوسرے کہتے ہیں منا... مناطقہ کہتے ہیں کہ اـ... ثانی سبب ہے اول کے انتفاء... بھئی، یہ سبب... یہ استدلال کے طور پر "لو" کو لیتے ہیں بھئی، ایک "لو" استدلالی ہے۔ یعنی، استدلال کیا جائے، جسے بطورِ دلیل کے ذکر کیا جائے بھئی، دلیل کے طور پر۔ دلیل کے طور پر "لو" کو استعمال کیا جاتا ہے اور اس وقت اول پر دلیل بنائی جاتی ہے ثانی کی انتفاء کی وجہ سے، کہ اول منتفی ہے اس لیے کہ ثانی... تو یہ بـ... یہ "لو" استدلالی ہے بھئی۔ دونوں میں فرق، وہ "لو" عام شرط کے لیے ہے، تو شرط میں تو اول شرط منتفی ہوتی ہے، اور سبب بھی کیا ہو... جزا بھی کیا ہوتی ہے؟ اور یہ "لو" استـ... استدلالی ہے، استدلال کے طریقے پر کہ یہاں پر ثانی کے انتفاء کے ذریعے استدلال کیا جاتا ہے اول کے انتفاء پر۔ جیسے دیکھیے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں بھئی، بطورِ دلیل کے ذکر کر رہے ہیں بھئی اللہ تعالیٰ: "لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا"، اگر زمین و آسمان میں اور آلہہ ہوتے اللہ کے علاوہ، "لَفَسَدَتَا"، تو ان کا نظام فاسد ہو جاتا۔ اور فساد تو منتفی ہے، ثانی کیا ہے؟ منتفی ہے، معلوم ہوا تعددِ آلہہ بھی منتفی، معلوم ہوا اور آلہہ بھی نہیں ہیں، اللہ کے علاوہ اور معبود نہیں ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ فساد کے انتفاء کو دلیل بنایا گیا کس چیز پر؟ تعددِ آلہہ کے منتفی ہونے پر، زیادہ معبودوں کے نہ ہونے پر، تو یہ کیا ہے "لو" استدلالی ہے، استدلال کے لیے بھئی۔ جی، تو یہاں درمیان میں یہ اے... "لو" کے معنیٰ بیان کر دیے۔ اب پھر وہی بات، میں نے بھئی "بَلْ صَارَ"، آگے جو آ رہا ہے: "بَلْ صَارَ بِمَعْنَى "إِنْ""، میں نے بتایا تھا اس کا تعلق کس سے ہے؟ یعنی "أَنَّ "لَوْ" لَمْ يَبْقَ عَلَى مَعْنَاهُ الْأَصْلِيِّ بَلْ صَارَ بِمَعْنَى "إِنْ"" بھئی۔ درمیان میں انہوں نے کچھ اس کے معـ... یہ ماضی کے معنیٰ میں ہوتا ہے اور کس کس طرح ہوتا ہے، وہ بیان کیا تھا۔ میں نے اسی لیے پہلے یہ سمجھا دیا تاکہ ربط رہے عبارت میں بھئی۔ تو بلـ... تو یہ اپنے معنیٰ اصلی میں نہ رہے گا، بلکہ ہو جائے گا "ان" کے معنیٰ میں، "فِي حَقِّ الِاسْتِقْبَالِ"، زمانۂ مستقبل کے حق میں، "فِي عُرْفِ الْفُقَهَاءِ"، کس کے حـ... عرف میں؟ فقہاء کے عرف میں۔ یہ تو صاحبین کے نزدیک ہے، وہ فرماتے ہیں اگر کسی نے یوں کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ لَوْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، تو اس صورت میں یہ "لو" کس معنیٰ میں ہو گا؟ "ان" کے معنیٰ میں ہو جائے گا بھئی، اور مسئلہ اسی طرح بنے گا جیسے "ان" کی صورت میں ہوتا تھا۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ان سے اس بارے میں کوئی روایت نہیں ہے بھئی، کہ "لو" کی صورت میں مسئلہ کس طرح ہو گا بھئی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: "وَلَمْ يُرْوَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ أَصْلًا"، اور روایت نہیں کیا گیا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اس باب کے اندر "شَيْءٌ" کوئی چیز، "أَصْلًا"، سِرے سے۔ ان سے سِرے سے اس باب میں کوئی چیز روایت ہی نہیں کی گئی۔ "وَ"كَيْفَ" لِلسُّؤَالِ عَنِ الْحَالِ"، اور "كَيْفَ" جو ہے وہ سوال کے لیے آتا ہے حالت کے بارے میں۔ حالت کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آتا ہے "كَيْفَ"، "فِي أَصْلِ وَضْعِ اللُّغَةِ"، اصلِ وضعِ لغت میں بھئی۔ یعنی اس کو اس لیے وضع کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سوال کیا جائے حالت کے بارے میں۔ اور یاد رکھیے! ایسی حالت مراد ہو گی جو اپنے اختیار میں نہ ہو، جو اپنے اختیار میں نہ ہو۔ "تَقُولُ"، آپ کہتے ہیں: "كَيْفَ زَيْدٌ؟"، زید کا کیسا ہے؟ یعنی اس کا کیا حال ہے؟ "أَصَحِيحٌ أَمْ سَقِيمٌ؟"، یعنی تندرست ہے یا بیمار ہے؟ تو میں نے بتایا، کس حال کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے جو انسان کے اپنے اختیار میں نہ ہو۔ بعض احوال انسان کے اختیار میں ہیں، بعض احوال انسان کے اختیار میں نہیں۔ چنانچہ آپ کہتے ہیں: "متى تجلسْ أجلسْ"، جب آپ بیٹھو گے، میں بھی بیٹھوں گا، یہ بیٹھنا، یہ حالت ہے، یہ آپ کے اختیار میں ہے بھئی۔ لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے: "كيف تكن أكن"، جیسے آپ جس حال میں ہو گے، میں بھی اس حال میں ہو جاؤں گا، کیونکہ یہ تو آپ کے اختیار میں ہی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس کے لیے بس حالت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ "فَإِنِ اسْتَقَامَ"، اگر درست رہے، بھئی کیا درست رہے؟ بتلا رہے ہیں بھئی: "أَيِ السُّؤَالُ عَنِ الْحَالِ"، یعنی حالت کے بارے میں سوال۔ "فَبِهَا"، تو اچھی بات ہے، "وَإِلَّا بَطَلَ"، اور اگر ایسا نہ ہو، تو پھر یہ کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا۔ یہ "وَإِلَّا" کون سا ہے بھئی اس... مستثنیٰ متصل کے بنے گا یا منقطع بھئی؟ مرکب "إِنْ" اور "لَا" سے... ہاں، شاباش! یہ "إِلَّا" سے پہلے "واؤ" آ جائے، تو یہ دراصل وہ "إِلَّا" استثناء والا نہیں ہے، بلکہ یہ "إنْ" اور "لا" سے مرکب ہوتا ہے۔ "إِلَّا"، "أي وإنْ لم يكن كذلك"، اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی اس کے ذریعے سوال درست نہ ہو، "بَطَلَ"، تو "كَيْفَ" کا لفظ کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا بھئی، لغو چلا جائے گا۔ لفظِ "كَيْفَ"، بتلا رہے ہیں لفظِ "كَيْفَ"، یہ بتـ... نکال کر بتلا دیا کہ "بَطَلَ" کے اندر ضمیر کس کو راجع ہے؟ "كَيْفَ" کے لفظ کو راجع ہے، تو بـ... لفظِ "كَيْفَ" باطل ہو جائے گا۔ "وَالْمُرَادُ بِاسْتِقَامَةِ السُّؤَالِ عَنْهَا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ الـ..."، بھئی، یہاں پر تو مسئلہ ذکر کریں گے، سوال تو نہیں ذکر کریں گے؟ مثلاً ایک آدمی اپنے غلام سے کہتا ہے: "أَنْتَ حُرٌّ كَيْفَ شِئْتَ"، اب یہاں تو سوال نہیں کیا جا رہا ہے۔ تو یہاں انہوں نے تو کہا اگر سوال کرنا صحیح ہو، تو پھر اچھی بات ہے، "كَيْفَ" اپنے معنیٰ میں رہے گا، بھئی یہاں تو سوال ہے ہی نہیں۔ نظر ہے مسئلے پر بھئی؟ "أَنْتَ حُرٌّ كَيْفَ شِئْتَ"، تو یہاں تو سوال تو وہ نہیں کر رہا، نہ سوال کے بارے میں ہماری بحث ہے بھئی۔ مسائل کے بارے میں بحث کر رہے ہیں کہ اگر یہ کہا کسی نے، تو کس طرح مسئلہ ہو گا، یہ لفظ استعمال کیا، تو کس طرح مسئلہ ہو گا۔ تو پھر یہاں سـ... درست سوال کے درست ہونے کا کیا معنیٰ؟ بتلا رہے ہیں بھئی، کہ سوال کے درست ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ جس چیز کو ذکر کیا جا رہا ہے اس "كَيْفَ" کے ساتھ، اس کی کئی حالتیں ہوں بھئی، وہ حالتوں والی ہو، وہ کیفیتوں والی ہو۔ اگر وہ حالتوں اور کیفیت والی ہے، تو معلوم ہوا سوال کرنا صحیح ہے، تو معلوم ہوا "كَيْفَ" اپنے معنیٰ میں ہو گا، اپنا معنیٰ کا فائدہ دے گا۔ اگر اس چیز کے احوال ہی نہیں ہیں، تو پھر "كَيْفَ" بھی لغو چلا جائے گا۔ بھئی، ایک چیز کے احوال ہوں، تو "كَيْفَ" کے ذریعے سوال کیا جا سکتا ہے، اگر ایک چیز کے احوال ہی نہیں ہیں، تو "كَيْفَ" کے ذریعے سوال کرنا بھی صحیح نہیں۔ تو لہذا، سوال کے درست ہونے کا معنیٰ کیا ہوا کہ وہ چیز جس کو "كَيْفَ" کے ساتھ ذکر کیا جا رہا ہے، وہ کیا ہونی چاہیے؟ احوال والی ہونی چاہیے، مختلف اوحال، مختلف صفات والی ہونی چاہیے بھئی۔ چاہے سوال ہو وہاں پر یا نہ ہو بھئی۔ دیکھیے: "وَالْمُرَادُ بِاسْتِقَامَةِ السُّؤَالِ عَنْهَا"، اور اس چیز کے بارے میں سوال کے درست ہونے کا اس سے مراد یہ ہے: "أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ الشَّيْءُ ذَا كَيْفِيَّةٍ وَحَالٍ"، کہ وہ چیز کیفیت والی ہو، "وَحَالٍ"، "حالٍ" کا عطف "كيفيةٍ" پر ہے، "أي ذا حالٍ"، کہ وہ چیز کیفیت والی اور حال والی ہو، "مَعَ الْقَطْعِ النَّظَرِ عَنْ أَنْ يَكُونَ ثَمَّ سُؤَالٌ أَوْ لَا"، قطعِ نظر کرتے ہوئے اس بات سے کہ وہاں پر کوئی سوال ہو یا سوال نہ ہو۔ سوال ہو، سوال کیا جائے یا سوال نہ کیا جائے، اس سے بحث نہیں، بس وہ چیز کیا ہونی چاہیے؟ احوال والی ہونی چاہیے، کیفیتوں والی ہونی چاہیے، اس میں کئی کیفیتیں ہوں، یعنی اس کے بارے میں سوال کرنا صحیح ہو، اگرچہ آپ اس وقت سوال نہیں کر رہے، اس وقت، لیکن بہرحال وہاں سوال کیا جا سکے، اس کے مختلف احوال ہوں بھئی۔ مثال آگے ذکر کریں گے۔ بھئی دیکھیے، کہتے ہیں اگر کوئی شخص اپنے غلام کو کہتا ہے: "أَنْتَ حُرٌّ كَيْفَ شِئْتَ"، "تو آزاد ہے كَيْفَ شِئْتَ"۔ اب یہاں کہتے ہیں، جب آزادی آ جائے، واقع ہو جائے، تو اس کے کوئی احوال نہیں ہیں۔ مختلف احوال نہیں ہیں، ایک ہی آزادی آئے گی بھئی۔ کیفیتیں نہیں ہیں۔ تو لہذا، یہاں "كَيْفَ" کا لغو... لفظ جو ہے، وہ لغو چلا جائے گا اور غلام اسی وقت آزاد ہو جائے گا، کس قول کے اندر؟ "أَنْتَ حُرٌّ كَيْفَ شِئْتَ"، کیونکہ آزادی جب واقع ہو جائے، تو اس کے کوئی احوال نہیں ہیں، تو مختلف وہ ایک آزادی دوسری طرح کی ہو، ایک آزادی دوسری طرح کی ہو، نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اگرچہ پہلے مختلف ہو سکتی ہے، آقا غلام کو کہتا ہے: "مال لے کے آ، تو پھر آزاد کروں گا"، یا کہتا ہے: "میں ویسے ہی آزاد کرتا ہوں"، یا کہتا ہے: "میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے"، وہ پہلے کی باتیں ہیں، جب آزادی آئی، اس کے بعد اس کے احوال مختلف نہیں، سب میں ایک ہی جیسی آزادی آئے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں طلاق کے احوال ہیں۔ واقع ہونے کے بعد بھی طلاق ہو سکتا ہے کیا ہو؟ رجعی ہو، ہو سکتا ہے کیا ہو؟ بائن ہو، ہو سکتا ہے ایک ہو، ہو سکتا ہے دو ہوں، ہو سکتا ہے تین ہوں وغیرہ۔ تو واقع ہونے کے بعد بھی طلاق کے احوال مختلف ہیں، لیکن آزادی کے احوال مختلف نہیں۔ لہذا، آزادی کے ساتھ "كَيْفَ" کا لفظ ذکر کرے گا، تو وہ لغو چلا جائے گا، کوئی فائدہ نہیں دے گا اور غلام تو اسی وقت آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر بیوی کو کوئی شخص یوں کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ"، "أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ"، تو آگے بتلائیں گے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں دو چیزیں ہیں، ایک اصل، ایک وصف۔ اصل یعنی اصلِ طلاق، طلاق تو ابھی واقع ہو جائے گی، جبکہ کیفیت، "كَيْفَ شِئْتِ"، "جیسے تو چاہے"، کس چیز کو عورت کے سپرد کر رہا ہے؟ کیفیت کو اس کے سپرد کر رہا ہے، تو کیفیت عورت کے سپرد ہو گی، اصلِ طلاق ابھی واقع ہو جائے گی۔ وہ جس کیفیت پر چاہے، یعنی... رجعی تو ہو گی ہی، وہ بائنہ چاہتی ہے یا نہیں؟ اور تین چاہتی ہے یا نہیں؟ لیکن پھر خاوند کی بھی نیت کا اعتبار کرنا پڑے گا، اس لیے کیونکہ یہ حق دینے والا اس کو کون ہے؟ خاوند، لہذا ضروری ہے کہ عورت کی نیت خاوند کی نیت کے موافق ہو جائے، تو پھر اس کے مطابق طلاق ہو جائے گی۔ اور اگر عورت کی نیت خاوند کی نیت کے مطابق نہ ہوئی، تو خاوند کی نیت اور عورت کی نیت اور، "وإذا تعارضا تساقطا"، دونوں کیا ہو جائیں گی؟ ساقط ہو جائیں گی، تو وہ "كَيْفَ شِئْتِ" کا فائدہ ختم ہو گیا۔ "تعارضا تساقطا" کی وجہ سے "كَيْفَ شِئْتِ" کا فائدہ کیا ہوا؟ ختم، اور "أَنْتِ طَالِقٌ" سے تو ایک طلاق ہو چکی تھی، وہ اسی طرح رہے گی یعنی رجعی ہو کر رہے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے بھئی۔ "وَالْمُرَادُ بِاسْتِقَامَةِ السُّؤَالِ عَنْهَا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ الشَّيْءُ ذَا كَيْفِيَّةٍ وَحَالٍ مَعَ الْقَطْعِ النَّظَرِ عَنْ أَنْ يَكُونَ ثَمَّ سُؤَالٌ أَوْ لَا"، قطعِ نظر اس بات سے کہ وہاں پر کوئی سوال ہو یا نہ ہو، "كَمَا فِي الطَّلَاقِ"، جیسے کس کے اندر ہے؟ طلاق کے اندر، کہ طلاق کیفیت والی اور حال والی ہے، یعنی واقع ہونے کے بعد بھی اس کے احوال ہیں۔ "وَبِعَدَمِ اسْتِقَامَتِهِ"، اور یہ سوال کے اس... اس چیز کے بارے میں سوال کے درست نہ ہونے کا معنیٰ یہ ہے: "أَنْ لَا يَكُونَ ذَلِكَ الشَّيْءُ ذَا كَيْفِيَّةٍ وَحَالٍ"، کہ وہ چیز کیفیت اور حال والی نہ ہو، "كَمَا فِي الْعَتَاقِ"، جیسے کس کے اندر؟ عتاق، بھئی یہ لفظ عتاق رائج ہے، لیکن میں پہلے بھی بتا چکا ہوں صحیح لفظ کیا ہے؟ عتاق ہے۔ "كَمَا فِي الْعَتَاقِ"، جیسے کہ آزادی کے اندر ہے، "عَلَى رَأْيِهِ"، "أي على رأي أبي حنيفة رحمه الله"، کس کی رائے میں؟ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے، ان کے نزدیک عتاق کیفیت والی نہیں، لہذا "كَيْفَ" کا لفظ لغو چلا جائے گا، اور طلاق کیفیت والی ہے، لہذا وہاں "كَيْفَ" کا لفظ لغو نہیں جائے گا۔ "ثُمَّ بَيَّنَ كِلَا الْمِثَالَيْنِ عَلَى غَيْرِ تَرْتِيبِ اللَّفْظِ"، پھر بیان کیا مصنف نے دونوں مثالوں کو، پھر مصنف نے دونوں مثالیں بیان کی "عَلَى غَيْرِ تَرْتِيبِ اللَّفْظِ"، لفظ کی ترتیب کے بغیر، یعنی اس کے ترتیب نہیں رکھی، کیونکہ پہلے کیا کہا تھا؟ "فَإِنِ اسْتَقَامَ"، اگر سوال درست ہو سکے، یعنی وہ چیز میں کیفیتیں ہوں، اور کیفیتیں کس میں ہیں؟ طلاق میں ہیں، لہذا طلاق کو پہلے ذکر ہونا چاہیے تھا اس کی مثال کو، "وَإِلَّا بَطَلَ"، ورنہ کیا ہو جائے گا؟ وہ "كَيْفَ" کا لفظ باطل ہو جائے گا، اور یہ کس میں باطل ہو رہا تھا؟ عتاق کے اندر، تو پہلے طلاق کی مثال آنی چاہیے تھی، پھر عتاق کی، لیکن مصنف نے پہلے عتاق کی مثال ذکر کی اور پھر طلاق کی، تو یہ غیرِ ترتیبِ لفظ ہوا بھئی۔ "فَقَالَ"، پس مصنف فرماتے ہیں: "وَلِذَلِكَ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي قَوْلِهِ: "أَنْتَ حُرٌّ كَيْفَ شِئْتَ": إِنَّهُ إِيقَاعٌ"، اور اسی وجہ سے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کسی شخص کے اس قول میں: "أَنْتَ حُرٌّ كَيْفَ شِئْتَ"، اس میں فرماتے ہیں: "إِنَّهُ إِيقَاعٌ"، یہ مقولہ آ گیا قول کا بھئی، اور قول کے بعد کیا پڑھتے ہیں؟ "إنَّ" پڑھتے ہیں، تو "إنَّ" یہاں پڑھیں گے۔ کہ یہ قول... یہ جو ہے "إِيقَاعٌ"، طلاق کا... یہ عتاق کا... عتاق کا یہ واقع کرنا ہے۔ "مِثَالٌ لِبُطْلَانِ لَفْظِ "كَيْفَ""، یہ "كَيْفَ" کے لفظ کے بطلان کی مثال ہے، جس میں "كَيْفَ" کا لفظ کیا ہو رہا ہے؟ باطل۔ "فَإِنَّ الْعِتْقَ لَيْسَ ذَا حَالٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، اس لیے کیونکہ آزادی وہ حال والی نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک۔ "وَكَوْنُهُ مُدَبَّرًا وَمُكَاتَبًا وَعَلَى مَالٍ وَغَيْرِ مَالٍ عَوَارِضُ لَهُ"، اور اس کا... غلام کا مدبر ہونا یا مکاتب ہونا یا مال پر یا... مال پر ہونا اس کی آزادی کا یا غیرِ مال پر ہونا، "عَوَارِضُ لَهُ"، یہ تو اس آزادی کے عوارض ہیں، یہ احوال نہیں ہیں، یہ عوارض ہیں۔ یہ آزادی سے پہلے کے ہیں، تو اس لیے ان کو عوارض کہا، اور بعد میں اس کے کوئی احوال نہیں، سب صورتوں میں ایک ہی جیسی آزادی آئے گی۔ "فَلَا يُعْتَبَرُ"، تو ان کا کوئی اعتبار... ان کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، "فَيَلْغُو "كَيْفَ""، تو "كَيْفَ" فـ... "فَيَلْغُو "كَيْفَ شِئْتَ""، تو "كَيْفَ شِئْتَ" کا لفظ لغو ہو جائے گا، "وَيَقَعُ الْعِتْقُ فِي الْحَالِ"، اور آزادی فی الحال واقع ہو جائے گی۔ "وَفِي الطَّلَاقِ تَقَعُ الْوَاحِدَةُ"، اور طلاق کی صورت میں ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ میں نے بتلایا بھئی، اگر خاوند نے کیا کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ"، تو ایک طلاق تو اسی وقت واقع ہو جائے گی اور کیفیت کس کے سپرد ہو گئی؟ عورت کے سپرد ہو گئی، اس میں اس کا اختیار ہو گا۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ طلاق کے اندر ایک طلاق واقع ہو جائے گی، "وَيَبْقَى الْفَضْلُ فِي الْوَصْفِ وَالْقَدْرِ مُفَوَّضًا إِلَيْهَا"، اور باقی رہے گی زیادتی۔ بھئی، ایک تو ہے اصل، اور ایک ہے وصف۔ تو اصل تو واقع ہو جائے گی اور جو زائد چیز ہے، یعنی وصف اور مقدار، وہ عورت کے سپرد ہو جائے گی، کہ وہ بائنہ چاہتی ہے یا بائنہ نہیں چاہتی، اور... تـ... تعداد تین چاہتی ہے یا نہیں؟ وہ عورت کے سپرد ہو گا۔ تو یہ زیادتی... ایک ہے اصلِ طلاق اور یہ باقی وصف اور قدر کیا ہیں؟ زائد ہیں اس پر، یہ احوال ہیں۔ تو یہ معنیٰ ہے: "وَيَبْقَى الْفَضْلُ"، اور فضل جو زیادتی ہے وہ باقی رہے گی۔ بھئی، کس چیز میں زیادتی؟ کہتے ہیں: "فِي الْوَصْفِ وَالْقَدْرِ"، وصف اور... قدر مقدار کے اندر، یہ باقی رہیں گے "مُفَوَّضًا إِلَيْهَا"، اس عورت کے سپرد ہو کر۔ "بِشَرِيطَةِ نِيَّةِ الزَّوْجِ"، خاوند کی نیت کی شرط کے ساتھ۔ میں نے بتایا کہ کیا ضروری ہے؟ اس عورت کی نیت کس کے مطابق ہو؟ خاوند کی نیت کے مطابق ہو، تو پھر اس کے مطابق طلاق ہو گی، ورنہ نہیں بھئی۔ "مِثَالٌ لِاسْتِقَامَةِ الْحَالِ"، یہ مثال ہے حال کے درست ہونے کی، یعنی جس میں حال درست ہے بھئی، کیونکہ طلاق کیفیت والی ہے۔ "فَإِنَّ الطَّلَاقَ ذُو حَالٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، پس بے شک طلاق جو ہے، وہ حال والی ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ بھئی، حال والی ہے، کیا معنیٰ؟ "مِنْ"، بیانیہ ہے، "مِنْ كَوْنِهِ رَجْعِيًّا أَوْ بَائِنًا"، یعنی اس کا رجعی یا بائن ہونا، "خَفِيفَةً أَوْ غَلِيظَةً"، اس کا خفیفہ یا غلیظہ ہونا۔ خفیفہ ہلکی، غلیظہ سخت، یعنی تین طلاقیں ہیں ان کو غلیظہ کہتے ہیں۔ اس کا خفیفہ یا غلیظہ ہونا، "عَلَى مَالٍ أَوْ غَيْرِ مَالٍ"، اس کا مال پر یا غیرِ مال پر ہونا، یہ احوال ہیں اس کے۔ "فَيَقَعُ نَفْسُ الطَّلَاقِ بِمُجَرَّدِ التَّكَلُّمِ"، تو نفسِ طلاق محض تکلم سے ہی واقع ہو جائے گی، "بِقَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ"، "أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ" کے ذریعے ہی کیا ہو جائے گی؟ نفسِ طلاق کو اسی سے واقع ہو جائے گی۔ "وَيَكُونُ بَاقِي التَّفْوِيضِ إِلَيْهَا"، اور باقی تفویض کس کو ہو گی؟ عورت کے باقی سپرد ہو جائے گی، "فِي حَقِّ الْحَالِ"، کس کے حق میں؟ اس حال کے حق میں، "الَّذِي هُوَ مَدْلُولُ "كَيْفَ""، جو کس کا مدلول ہے؟ "كَيْفَ"۔ یعنی "كَيْفَ" کا جو مدلول ہے، اور "كَيْفَ" کس لیے آتا ہے؟ حال کے لیے، تو احوال عورت کے سپرد ہو جائیں گے اور نفسِ طلاق واقع ہو جائے گی۔ "وَهُوَ"، بھئی خود بتلا رہے ہیں وہ "كَيْفَ" کا مدلول وہ کیا ہے، وہ حال۔ کہتے ہیں: "وَهُوَ فَضْلُ الْوَصْفِ"، وہ کیا ہے؟ وصف کی زیادتی، وہ جو زائد وصف ہے، "أَعْنِي كَوْنَهُ بَائِنًا"، یعنی اس کا بائن ہونا طلاق کا۔ "وَالْقَدْرِ"، اس کا عطف ہے "وَصْفِ" پر بھئی، "فَضْلُ الْوَصْفِ وَفَضْلُ الْقَدْرِ"، وصف اور مقدار کی جو زیادتی ہے۔ بھئی، وصف کی زیادتی، وصف کی بتلا دیا، کیا ہے؟ یعنی اس طلاق کا بائن ہونا۔ اور مقدار کیا ہے؟ کہتے ہیں: "أَعْنِي كَوْنَهُ ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ"، یعنی اس طلاق کا تین ہونا اور دو ہونا۔ تو یہ عورت کے سپرد ہے، "إِذَا وَافَقَ نِيَّةَ الزَّوْجِ"، جبکہ وہ کس کے موافق ہو؟ خاوند کی نیت کے مطابق ہو۔ "فَإِنِ اتَّفَقَ نِيَّتُهُمَا"، اگر پس اگر متفق ہو گئیں دِینـ... دونوں کی نیتیں، جو خاوند نے نیت کی ہے، وہی عورت نے بھی نیت کر لی، "يَقَعُ مَا نَوَيَا"، تو واقع ہو جائے گا وہ جس کی ان دونوں نے نیت کی ہے۔ "وَإِنِ اخْتَلَفَتَا"، اور اگر دونوں نے اختلاف... اختلاف ہوا، ایک کی نیت اور ہے، دوسرے کی نیت اور، "فَلَا بُدَّ مِنْ اعْتِبَارِ النِّيَّتَيْنِ"، تو پھر ضروری ہے دونوں نیتوں کا اعتبار کرنا۔ جب دونوں نیتوں کا اعتبار کیا، تو ایک نیت کچھ اور ہے، دوسری نیت کچھ اور ہے، تو دونوں میں کیا آ گیا؟ تعارض، اور "وإذا تعارضا تساقطا"، دونوں کیا ہو جائیں گی؟ ساقط ہو جائیں گی، تو وہ "كَيْفَ شِئْتِ" کا فائدہ ختم ہو گیا۔ "تعارضا تساقطا" کی وجہ سے "كَيْفَ شِئْتِ" کا فائدہ کیا ہوا؟ ختم، اور "أَنْتِ طَالِقٌ" سے تو ایک طلاق ہو چکی تھی، وہ اسی طرح رہے گی یعنی رجعی ہو کر رہے گی بھئی۔ یہی بیان کر رہے ہیں، تو کہتے ہیں جب دونوں مختلف ہو جائیں: "فَلَا بُدَّ مِنْ اعْتِبَارِ النِّيَّتَيْنِ"، تو ضروری ہے دونوں نیتوں کا اعتبار کرنا، "فَإِذَا تَعَارَضَتَا تَسَاقَطَتَا"، پس جب دونوں متعارض ہوں گی، تو ساقط ہو جائیں گی دونوں۔ "فَبَقِيَ أَصْلُ الطَّلَاقِ الَّذِي هُوَ الرَّجْعِيُّ"، تو باقی رہے گی وہ اصلِ طلاق جو کہ رجعی ہے۔ "فَإِنْ نَوَتِ اثْنَتَيْنِ"، اگر بیوی نے نیت کی دو طلاقوں کی، "وَنَوَاهُمَا أَيْضًا"، اور خاوند نے بھی ان دو کی نیت کی، بیوی نے بھی دو طلاقوں کی نیت کی اور خاوند نے بھی... "لَا يَقَعُ"، پھر واقع نہیں ہوں گی۔ وہی ایک ہی ہو گی رجعی۔ بھئی کیوں؟ اب تو دونوں کی نیت موافق ہے ایک دوسرے کے؟ کہتے ہیں بھئی، خاوند کے لفظوں کو دیکھیں ذرا، خاوند نے کیا کہا تھا؟ "أَنْتِ طَالِقٌ"، "أَنْتِ طَالِقٌ"۔ تو "تجھے طلاق ہے"، تو اس نے طلاق کا لفظ استعمال کیا، اور طلاق یہ اسمِ جنس ہے۔ کیا ہے؟ "طَالِقٌ" تو طلاق والی ہے، تو طلاق مصدر پر دلالت ہوئی یا نہ ہوئی؟ طلاق مصدر پر دلالت ہوئی، "تو طلاق والی ہے"، اور طلاق ہے مصدر، اور مصدر اسمِ جنس ہے، اور اسمِ جنس کا اطلاق قلیل اور کثیر پر ہوتا ہے۔ قلیل پر یعنی ایک فرد پر بھی ہوتا ہے، اور کثیر یعنی تمام افراد پر بھی ہوتا ہے۔ تو ایک طلاق بھی اس سے مراد لے سکتے ہیں، اور تینوں طلاقیں بھی مجموعہ بھی مراد لے سکتے ہیں، لیکن کوئی عدد مراد نہیں لے سکتے۔ یہ بحث پیچھے گزر چکی ہے بھئی، کہ اس میں جنس کے ذریعے ایک کی نیت بھی صحیح، اور سارے مجموعے کی بھی نیت صحیح۔ بھئی، اس لیے کیونکہ لفظ مفرد ہے۔ طلاق مصدر آیا نا؟ تو اس نے ایک پہ دلالت کرنی ہے۔ تو ایک جو ہے ہی ایک، وہ تو حقیقی اس کا فردِ حقیقی ہوا، اور جو تین طلاقیں ہیں، وہ سارا مجموعہ ہے، تو وہ بھی فردِ حکمی ہے۔ تو ایک فردِ حقیقی ہوا، ایک فردِ حکمی۔ تو اس طلاق مصدر ہے اور مصدر مفرد ہے، اس میں جنس ہے، اس نے ایک فرد پہ دلالت کرنی ہے۔ عدد پہ یہ دلالت نہیں کرے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور فرد دو قسم پر ہیں، ایک فردِ حقیقی، حقیقتاً جو ایک ہو، اور ایک فردِ حکمی، کہ سارے افراد کو ملایا یہ... یہ بھی ایک ہے۔ بھئی، کس طرح ایک ہے؟ یعنی یہ سارا ایک ہی جنس ہے یہ ساری بھئی، یہ ساری کیا ہے؟ جنس، تو اس یہ ایک ہی جنس ہے، اس اعتبار سے دیکھو، ایک ہونے کا معنیٰ آ گیا یا نہیں؟ تو یہ حکماً فردِ مـ... ایک فرد ہے، اگرچہ حقیقتاً تو نہیں، لیکن یہ سارا مجموعہ کیا ہے؟ بھئی، یہ مثال پہلے بھی گزر چکی، یہاں چونکہ طلاق کے افراد ہی تین ہیں، اس لیے بات ذرا سمجھنا مشکل ہو جاتی ہے۔ فرض کرو، 10 طلاقیں ہوتیں، فرض کر لو کتنی ہوتیں؟ 10۔ اب دیکھو، ایک تو ہوا اس کا فردِ حقیقی، اور جو مجموعہ کتنا؟ 10، تو یہ ایک ہی جنس ہے ساری، یہ بھی کیا ہے؟ فرد ہے، لیکن یہ حقیقتاً تو نہیں فرد، یہ کیا ہے؟ اور درمیان والے سارے عدد ہیں، درمیان والے سارے عدد ہیں۔ تو لہذا، اس میں جنس لائے اور اس میں جنس اس کا... یہ اس کے لیے کیا، اس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر۔ قلیل سے مراد فردِ حقیقی، کثیر سے مراد ساروں کا مجموعہ۔ لہذا، ایک تو قطعی مراد ہے اس سے، ایک طلاق تو ضرور آئے گی۔ سارا مجموعہ مثلاً فرض کریں کتنی تھیں؟ 10۔ کل کتنی فرض کیں آپ نے؟ 10۔ تو سـ... 10 کا بھی اگر وہ نیت کرتا، وہ 10 بھی آ جاتیں، کیونکہ وہ بھی ایک ہی ہے، لیکن کون سا فرد ہے؟ فردِ حکمی۔ لیکن درمیان والے وہ کسی کی بھی نیت کرتا، تو کوئی بھی طلاق واقع نہ ہوتی، کیونکہ یہ اس میں جنس ہے، اس میں جنس ایک پر بھی دلالت کرتا ہے، سارے مجموعے پر بھی دلالت کرتا ہے، لیکن درمیان والے کسی پر یہ دلالت نہیں کرتا، نہ اس کا احتمال ہے۔ جب لفظ میں ایک چیز کا احتمال ہی نہیں ہے، تو اس کی نیت کرنا بھی درست نہیں۔ نیت کر بھی لو، بھئی، اس پہ دلالت ہی نہیں کر رہا، کہہ اس کا... اس کا اس میں احتمال ہی نہیں ہے، تو لہذا نیت کرنا بھی صحیح نہیں۔ تو یہاں پر دیکھو، تین طلاقیں ہیں۔ اب، ایک نیت خاوند ایک کی نیت کر رہا ہے، تو ایک تو فردِ حقیقی ہے۔ تینوں کی نیت کر لے، تو یہ کیا ہے؟ ایک فردِ حقیقی اور تین فردِ... تو وہ تین کی نیت کرنا بھی صحیح، لیکن دو تو ایک محضِ عدد ہے درمیان والا، جس کا لفظ میں کوئی احتمال ہی نہیں ہے، جب لفظ میں احتمال نہیں ہے، تو نیت کر بھی لیں، تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ لہذا، اسی لیے ہـ... انہوں نے بتلایا آپ کو، کہ اگر دو کی نیت کی، خاوند اور بیوی دونوں نے کر لی، پھر بھی یہ... یہ یہ صحیح نہیں، دو واقع نہیں ہوں گی، اس لیے کیونکہ دو ایک محضِ عدد ہے، لفظ میں اس کا احتمال ہی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ نَوَتِ اثْنَتَيْنِ"، اگر نیت کر لی اس بیوی نے دو طلاقوں کی، "وَنَوَاهُمَا أَيْضًا"، اور خاوند نے بھی ان دو کی نیت کر لی، "لَا يَقَعُ"، تو پھر تـ... دو واقع نہیں ہوں گی، "لِأَنَّهُ عَدَدٌ مَحْضٌ"، اس لیے کیونکہ وہ کیا ہے؟ عددِ محض۔ نہ تو وہ فردِ حقیقی ہے، نہ فردِ حکمی، یہ تو عددِ محض ہے۔ "لَيْسَ مَدْلُولًا لِلَّفْظِ"، یہ مـ... لفظ کا مدلول نہیں ہے۔ "وَأَمَّا الثَّلَاثُ"، باقی تین، بھئی خاوند نے بھی تین کی نیت کی، بیوی نے بھی تین کی نیت کی، آپ کہتے ہیں تین واقع ہو جائیں گی۔ تو یہ بھی تو لفظ کا مدلول نہیں ہے؟ تو میں نے ابھی بیان کر دیا کہ ٹھیک ہے لفظ کا مدلول تو نہیں، لیکن احتمال تو ہے، کیونکہ یہ فردِ حکمی تو ہے۔ تو لہذا، اس میں نیت صحیح ہو جائے گی، وہی اب شارح بھی بیان کر رہے ہیں: "وَأَمَّا الثَّلَاثُ"، اور باقی تین جو ہیں طلاقیں، "فَإِنَّهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَيْضًا مَدْلُولًا لِلَّفْظِ"، اگرچہ یہ بھی لفظ کا مدلول نہیں ہے، "لَكِنَّهُ وَاحِدٌ اعْتِبَارِيٌّ"، لیکن یہ کیا ہے؟ واحدِ اعتباری ہے، یعنی ہم نے اس کو کیا اعتبار کر لیا؟ واحد، یعنی فردِ حکمی ہے۔ "بِمَا احْتَمَلَهُ اللَّفْظُ عِنْدَ وُجُودِ الدَّلِيلِ هَاهُنَا"، جس کا لفظ احتمال رکھتا ہے دلیل کے پائے جانے کے وقت میں ہاہنا یہاں پر۔ یہاں پر دلیل کے پائے جانے کے وقت میں بھئی، لفظ میں اس کا احتمال تو تھا اور یہاں دلیل بھی موجود ہے، دلیل کیا؟ "كَيْفَ" کا لفظ ہے بھئی، "كَيْفَ" کا لفظ بھئی۔ لفظ میں احتمال بھی تھا، اور اس پر پھر دلیل بھی آ گئی، تو وہی احتمال ثابت ہو جائے گا بھئی۔ دلیل ہے یہاں پر: "وَهُوَ لَفْظُ "كَيْفَ""، وہ کیا ہے؟ "كَيْفَ" کا لفظ ہے بھئی، "كَيْفَ" کا لفظ بھئی۔ "جیسے تو چاہے بھئی، جس طرح تو چاہے"۔ "وَإِنَّمَا احْتَاجَ إِلَى مُوَافَقَةِ نِيَّةِ الزَّوْجِ"، یہ سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ خاوند کی نیت کی موافقت کی کیا ضرورت ہے؟ خاوند نے تو سپرد کر دیے احوال کس کے؟ بیوی کے، تو صرف بیوی کی نیت کا اعتبار کرنا چاہیے، خاوند کی نیت کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ کہتے ہیں، بھئی خاوند کی نیت کا بھی اعتبار کرنا پڑے گا، وجہ یہ کہ خاوند نے کہا: "جیسے تو چاہے"، "جیسے تو چاہے"۔ اب دو چیزیں ہیں یہاں پر، خاوند کی کیا مراد ہے؟ رجعی اور بائنہ ہونے کے اعتبار سے وہ وہ اختیار دے رہا ہے، یا ایک، دو اور تین ہونے کے اعتبار سے وہ اختیار دے رہا ہے بھئی؟ تو دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ سمجھ میں آئی بات؟ وہ کس اعتبار سے اختیار دے رہا ہے؟ رجعی اور بائنہ ہونے کے اعتبار سے اختیار دے رہا ہے، یا عدد کے اعتبار سے اختیار دے رہا ہے؟ تو اس کا پتہ ہی کس سے چلے گا؟ خاوند کی نیت سے پتہ چلے گا، اس لیے ہم نے کہا خاوند کی نیت کا اعتبار بھی ضروری ہے۔ "وَإِنَّمَا احْتَاجَ إِلَى مُوَافَقَةِ نِيَّةِ الزَّوْجِ"، اور یہ محتاج ہے خاوند کی نیت کے موافقت کا بھی، "مَعَ أَنَّهُ فَوَّضَ الْأَحْوَالَ بِيَدِهَا"، باوجود اس کے کہ اس نے سپرد کر دیے احوال عورت کے، "لِأَنَّ حَالَةَ مَشِيئَتِهَا مُشْتَرِكَةٌ"، اس لیے کیونکہ عورت کے مشیئت کی حالت، عورت کے چاہنے کی حالت وہ مشترک ہے، "بَيْنَ الْبَيْنُونَةِ وَالْعَدَدِ"، بینونة اور عدد، دو چیزوں کے درمیان بھئی۔ "مُحْتَاجَةٌ إِلَى"، اس "محتاجةٌ" کا عطف ہے "مشتركةٌ"۔ اس عورت کی مشیئت کی حالت مشترک ہے ان دو میں اور محتاج ہے نیت کی، "مُحْتَاجَةٌ إِلَى النِّيَّةِ"، اور محتاج ہے اس کے خاوند کی نیت کی، "لِيَتَعَيَّنَ أَحَدُ مُحْتَمَلَيْهِ"، تاکہ متعین ہو جائیں اس کے دو احتمالوں میں سے ایک بھئی، کہ وہ کس چیز میں اختیار دے رہا ہے؟ بینونة میں یا عدد کے اندر بھئی۔ "وَهَذَا كُلُّهُ إِذَا كَانَتْ مَدْخُولًا بِهَا"، کہتے ہیں یہ سارا مسئلہ، یہ ساری صورت اس وقت ہے "إِذَا كَانَتْ مَدْخُولًا بِهَا"، جب وہ عورت کیا ہو؟ مدخول بہا، یعنی اس سے صحبت کر چکا ہے۔ "فَإِنْ لَمْ تَكُنْ مَدْخُولًا بِهَا"، اگر وہ عورت مدخول بہا نہ ہوئی، یعنی اس سے صحبت نہیں کی، اور اسے کہا خاوند نے: "أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ"، کیا مسئلہ تھا؟ طلاق تو ایک اسی وقت واقع ہو جاتی تھی، احوال عورت کے سپرد ہوتے تھے، اور یہ تو غیرِ مدخول بہا ہے، تو جیسے ہی ایک طلاق واقع ہوئی، یہ فوراً کیا ہو گئی؟ بائنہ ہو گئی، جدا ہو گئی، نکاح ختم۔ اب فوراً چاہے کہیں نکاح کر سکتی ہے، عدت بھی کوئی نہیں۔ لہذا "كَيْفَ شِئْتِ" کیا ہوا؟ لغو ہو جائے گا۔ یہی بات کہہ رہے ہیں: "فَإِنْ لَمْ تَكُنْ مَدْخُولًا بِهَا"، اگر عورت مدخول بہا نہ ہوئی، "تَقَعُ الْوَاحِدَةُ"، تو ایک طلاق واقع ہو جائے گی، "وَتَبِينُ بِهَا"، اور اس ایک کے ذریعے وہ بائنہ ہو جائے گی، "وَيَلْغُو قَوْلُهُ: كَيْفَ شِئْتِ"، اور لغو ہو جائے گا خاوند کا قول "كَيْفَ شِئْتِ"، "لِعَدَمِ الْفَائِدَةِ"، بوجہ فائدے کے نہ ہونے کے۔ "وَقَالَا"، اور صاحبین... یہ تو تھا امام صاحب کا مذہب۔ "وَقَالَا"، اور صاحبین فرماتے ہیں: "مَا لَمْ يَقْبَلْ الْإِشَارَةَ"، وہ چیز جو اشارے کو قبول نہ کرے۔ بھئی، کچھ چیزیں ہیں ظاہراً ہمیں آنکھ سے نظر آتی ہیں، ان کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب ہے، آپ کے سامنے پڑی ہے، آپ اس کی طرف اشارہ کر کے کہہ سکتے ہیں: "یہ کتاب ہے"۔ قلم آپ کے سامنے... بلکہ دور ایک چیز نظر آ رہی ہے، آپ ہاتھ سے اشارہ کر سکتے ہیں: "وہ فلاں چیز ہے"۔ اور کچھ معانی ہیں جن کی طرف اشارہ نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ عقل میں تو وہ چیز آتی ہے، لیکن خارج میں اس کا اپنا کوئی وجود نہیں۔ خارج میں اپنا وجود نہیں۔ مثلاً، اوصاف میں دیکھ لیں، اوصاف۔ بہادری ہے، بہادری۔ بہادری، آپ خارج میں اس کی طرف انگلی سے اشارہ کر سکتے ہیں بھئی؟ اس کا الگ کوئی وجود نہیں، وہ تو ایک وصف ہے کسی کی ذات کے ساتھ قائم ہے بھئی۔ اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں۔ تو بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں، ان کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے، جن کا اپنا الگ وجود ہوتا ہے، اور بعض چیزیں جن کو جن کی طرف اشارہ نہیں ہو سکتا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: وہ چیز جس جو اشارے کو قبول نہ... جو چیز اشارے کو قبول نہ کرے، یعنی جس کی طرف اشارہ نہ کیا جا سکے، "فَحَالُهُ وَوَصْفُهُ بِمَنْزِلَةِ أَصْلِهِ"، تو اس کا حال اور وصف "بِمَنْزِلَةِ أَصْلِهِ"، اس کے اصل کے درجے میں ہے۔ بھئی دیکھیے! طلاق، طلاق کی طرف آپ اشارہ کر سکتے ہیں؟ جی؟ خارج میں کوئی طلاق کا جسم آپ نے دیکھا ہو؟ نہیں بھئی، یہ تو ایک معنیٰ ہے قائم ہے اس عورت کے ساتھ جس کو طلاق ہوئی۔ وہ ہے طلاق والی، اس کے ساتھ یہ وصف قائم ہے، لیکن اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں۔ معلوم ہوا اس کی طرف اشارہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور جس چیز کی طرف اـ... اب آپ پچھلے مسئلہ جیسے ذکر ہوا بھئی، طلاق ہے اصل اور اور رجعی یا بائنہ ہونا، ایک یا دو یا تین ہونا، یہ اس کے اوصاف ہیں۔ طلاق کیا ہے؟ اصل، اور یہ دو تین کیا ہیں؟ اوصاف۔ اور طلاق جو اصل ہے، اس کی طرف خاص سے اشارہ ہو سکتا ہے؟ اس کی طرف اشارہ نہیں ہو سکتا۔ تو جب اس... جب کوئی ایسی چیز ہو جس کی طرف اشارہ نہ ہو سکے، تو وہ اصل اور وہ جو اس کے اوصاف ہیں، سب ایک ہی چیز کے درجے میں ہیں۔ سب کیا ہیں؟ ایک ہی چیز کے درجے میں، ایک جیسے ہی ہیں بھئی۔ ایک جیسے ہی ہیں۔ معنیٰ سمجھ میں آئی بات؟ ایک جیسے ہیں۔ بھئی، کس طرح ایک جیسے ہیں؟ بھئی دیکھیے! ایک ہے اصل، ایک ہے وصف۔ اصل... وصف جو ہوتا ہے، وصف محتاج ہوتا ہے اصل کا۔ اصل ہے تو اس کے ساتھ والا وصف بھی ہے، اصل ہی نہیں، تو اس کے ساتھ والا وصف بھی نہیں۔ مثلاً، آپ کہتے ہیں: "زید بہادر ہے"، تو زید ہے، تو یہ بہادری اس کے ساتھ ہے۔ زید نہیں، تو بہادری بھی نہیں۔ تو اصل جو... وصف جو ہوتا ہے، وہ محتاج ہوتا ہے کس کا؟ اصل کا۔ یہ بات تو طے ہے، کہ اصل... وصف محتاج ہوتا ہے اصل کا۔ اور یہاں پر اصل ایسا ہے جس کی طرف اشارہ نہیں کیا جا سکتا، یعنی وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا، تو اس اس قسم کے اصل کا پتہ اس کے اوصاف سے چلتا ہے۔ وہ اصل جس کی طرف اشارہ نہ ہو سکے، اس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ اوصاف سے چلتا ہے۔ مثلاً نکاح ہے، نکاح آپ نے کبھی خارج میں نکاح کا کوئی الگ وجود دیکھا؟ نہیں، نکاح کا اپنا وجود نہیں۔ ہاں، نکاح کا پتہ ہمیں اس کے اوصاف سے چلے گا، کیا؟ کہ خاوند کے لیے بیوی وہ حلال ہو جائے گی۔ یہ حلال ہونے سے پتہ چلا رہا ہے کہ نکاح ہے۔ تو دیکھو، اصل کا پتہ کس سے چل رہا ہے؟ وصف سے۔ معلوم ہوا اصل بھی اپنی معرفت میں، اپنی پہچان کے اندر محتاج ہو گیا، کس کا؟ وصف کا۔ وصف اپنے وجود میں محتاج تھا، کس کا؟ اصل کا، اور اصل اپنی معرفت میں پہچان ہوا، کس کا؟ وصف کا۔ تو دونوں ایک جیسے ہو گئے، دونوں محتاج ہو گئے ایک دوسرے کے۔ جب دونوں ایک درـ... ایک دوسرے کے محتاج ہو گئے، تو ایک چیز کی طرح ہو گئے۔ جب ایک چیز کی طرح ہو گئے، تو جب خاوند نے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ كَيْفَ شِئْتِ"، تو احوال سپرد کر رہا ہے عورت کے، اور احوال عورت کے سپرد ہیں، تو اصل بھی تو وصف کی طرح ہے یہاں۔ تو او... اصل بھی عورت کے سپرد ہو جائے گا، صاحبین فرماتے ہیں۔ طلاق واقع... امام صاحب نے تو فرمایا تھا طلاق واقع ہو جائے گی، صاحبین فرماتے ہیں طلاق واقع نہیں، طلاق بھی کس کے سپرد ہو گئی؟ عورت کے سپرد ہو گئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: "وَقَالَا: مَا لَمْ يَقْبَلْ الْإِشَارَةَ فَحَالُهُ وَوَصْفُهُ بِمَنْزِلَةِ أَصْلِهِ"، تو اس کا حال اور وصف کیا ہیں، کس کے درجے میں ہیں؟ اصل کے درجے میں ہیں۔ "فَيَتَعَلَّقُ الْأَصْلُ بِتَعَلُّقِهِ"، تو اصل بھی وہ کیا ہو جائے گا؟ متعلق ہو جائے گا، "بِتَعَلُّقِهِ"، "أي بتعلق الوصف"، وصف کے متعلق ہونے سے۔ وصف کے متعلق ہونے سے، وصف کس سے متعلق ہو گیا؟ وصف تو عورت سے متعلق ہو گیا نا؟ کس کے سپرد ہو گیا؟ عورت کے سپرد۔ تو جب وصف اس کے سپرد ہوا، تو اصل بھی کیا ہوا اس کے... یہ معنیٰ ہے "فَيَتَعَلَّقُ الْأَصْلُ بِتَعَلُّقِهِ"، تو اصل بھی متعلق ہو جائے گا وصف کے متعلق ہونے کی وجہ سے۔ "يعْنِي أَنَّ عِنْدَهُمَا كُلَّ مَا كَانَ مِنَ الْأُمُورِ الشَّرْعِيَّةِ الْغَيْرِ الْمَحْسُوسَةِ كَالطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ وَنَحْوِهِمَا"، یعنی صاحبین کے نزدیک ہر وہ چیز جو امورِ شرعیہ غیر محسوسہ میں سے ہو، شرعی امور میں سے ہے، طلاق، عتاق وغیرہ بھئی۔ اور کس میں سے ہو؟ غیر محسوس، یعنی آنکھوں سے دکھائی نہ دیتے ہوں، یعنی جس کی طرف اشارہ نہ ہو سکے، جیسے کہ طلاق اور عتاق ہیں، "وَنَحْوِهِمَا"، اور اس جیسی اور چیزیں ہیں جیسے نکاح وغیرہ۔ "فَالْحَالُ وَالْأَصْلُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ"، تو حال اور اصل کیا ہیں؟ ایک ہی درجے میں ہیں بھئی، ایک ہی چیـ... ایک چیز کے درجے میں ہیں۔ "إِذْ هُمَا غَيْرُ مَحْسُوسَيْنِ"، اس لیے کیونکہ دونوں کیا ہیں؟ تو "إِذْ هُمَا غَيْرُ مَحْسُوسَيْنِ"، جب دونوں جو ہیں وہ غیر محسوس ہیں، "فَلَا مَعْنَى لِجَعْلِ أَحَدِهِمَا وَاقِعًا وَالْآخَرِ مَوْقُوفًا"، تو کوئی معنیٰ نہیں ہے کہ ایک کو تو "لِجَعْلِ أَحَدِهِمَا وَاقِعًا"، کہ ایک تو کو تو واقع قرار دیا جائے، "وَالْآخَرِ مَوْقُوفًا"، اور دوسرے کو... امام صاحب نے ایک طلاق کو تو واقع قرار دیا تھا، اور وصف کو موقوف قرار دیا تھا۔ صاحبین فرماتے ہیں، جب دونوں غیر محسوس ہیں، تو ایک کو واقع قرار دینا اور دوسرے کو موقوف قرار دینے کا کوئی معنیٰ نہیں ہے۔ جب ایک موقوف ہے، تو لازمی بات ہے دوسرا بھی کیا ہو گا؟ موقوف ہو گا۔ "بَلْ يَتَعَلَّقُ الْأَصْلُ"، بھئی "يَتَعَلَّقُ" ہونا چاہیے یہاں پر بھئی۔ سمجھ میں آیا، "يَتَعَلَّقُ"؟ لیکن چلیے "يُعَلَّقُ" کا... "يَتَعَلَّقُ" ہی ہونا چاہیے بھئی۔ "يَتَعَلَّقُ" ہونا چاہیے بھئی۔ "بَلْ يَتَعَلَّقُ الْأَصْلُ بِالْمَشِيئَةِ"، بلکہ اصل بھی متعلق ہو جائے گا اس عورت کی مشیئت کے ساتھ، "كَمَا تَعَلَّقَ الْوَصْفُ بِهَا"، جیسے کہ وصف اس عورت کی مشیئت سے متعلق ہو گیا تھا۔ جیسے وصف کیا ہے؟ اس عورت کی مشیئت سے متعلق ہوا تھا، اسی طرح اصل بھی عورت کی مشیئت سے متعلق ہو جائے گا۔ "فَلَا يَقَعُ مَا لَمْ تَشَأْ"، پس طلاق واقع نہیں ہو گی "ما لم تشأ" یہ جب تک وہ عورت نہ چاہے۔ "وَذَلِكَ لِئَلَّا يَلْزَمَ التَّرْجِيحُ بِلَا مُرَجِّحٍ"، تاکہ کہیں ترجیح بلا مرجح لازم نہ آئے۔ ہم نے یہ جو کہا نا کہ طلاق بھی واقع نہیں ہو گی جب تک وہ عورت نہ چاہے، تاکہ کہیں ترجیح بلا مرجح لازم نہ آئے۔ اس لیے، کیونکہ ادھر دیکھیے بھئی! ابھی ہم نے بیان کیا، وصف اور اصل دونوں کیا ہو گئے؟ ایک دوسرے جیسے ہو گئے، جب دونوں ایک جیسے ہیں، ایک دوسرے کی طرح ہے، تو ایک کو کہا جائے وہ عورت کے سپرد اور دوسرا واقع ہو گیا۔ یہ تو آپ نے کیا کیا؟ ترجیح بلا مرجح... ایک دونوں ایک جیسی چیزیں ہیں اور ایک کو آپ کیا کر رہے ہیں؟ ترجیح دے رہے ہیں دوسرے پر، اور کوئی مرجح موجود نہیں ہے، کس دلیل کی بناء پر ایک کو آپ کیا کر رہے ہیں؟ کہہ رہے ہیں واقع ہوا اور صرف ایک کیا ہوا اس کے سپرد ہوا۔ تو یہی باـ... تو کہتے ہیں: "لِئَلَّا يَلْزَمَ التَّرْجِيحُ بِلَا مُرَجِّحٍ"، تاکہ ترجیح بلا مرجح لازم نہ آئے۔ "لَا لِأَنَّ الْقِيَامَ بِالْعَرَضِ بِالْعَرَضِ مُمْتَنِعٌ"، "عَرَض" لفظ ہے بھئی، "را" پر بھی فتحہ۔ اس وجہ سے نہیں کہ عرض کا قیام عرض کے ساتھ ممتنع ہے۔ بھئی، یہ بعض اور شارحین نے اس مقام پر تقریر کی تھی، شارح ان کو رد فرما رہے ہیں۔ شارح ان کو... رد فرما رہے ہیں۔ عام عرض کے ساتھ ممتنع ہے۔ بھئی، یہ بعض اور شارحین نے اس مقام پر تقریر کی تھی، شارح ان کو رد فرما رہے ہیں۔ شارح ان کو... رد فرما رہے ہیں۔ اور شارحین کہتے ہیں بھئی، کہ بھئی دیکھیے، یہاں پر طلاق عورت کی صفت ہے، طلاق کیا ہے؟ تو یہ صفت ہوئی، یہ عرض ہوا۔ بھئی عرض اور جوہر جانتے ہو کہ نہیں؟ جوہر اور عرض بھئی، منطق میں آپ پڑھ چکے ہوں گے۔ جوہر وہ جس کا اپنا الگ وجود ہو، جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج نہ ہو۔ اور عرض وہ جو جوہر کے ساتھ قائم ہو۔ تو جوہر، جس کا اپنا الگ وجود ہے۔ بھئی، یہ جو چیزیں آپ کو خارج میں نظر آ رہی ہیں، یہ سب کیا ہیں؟ جوہر ہیں۔ اور وصف جو ان کے ساتھ قائم ہو۔ جیسے بہادری، بہادری کا کوئی اپنا الگ وجود ہے؟ نہیں، مثلاً آپ نے کہا: "زید بہادر ہے"، تو زید ہے تو یہ بہادری ہے زید کی۔ زید نہیں تو یہ بہادری بھی نہیں۔ ہاں، زید کا اپنا الگ وجود ہے، وہ اس بہادری وغیرہ کا محتاج نہیں۔ تو جوہر وہ جس کا اپنا الگ وجود ہو، اور عرض وہ جس کا اپنا الگ وجود نہ ہو، وہ وصف ہوتا ہے بھئی، کیا ہوتا ہے؟ وصف ہوتا ہے غیر کے ساتھ قائم ہوتا ہے اوصاف کا۔ تو وصف کا اپنا الگ وجود نہیں ہوتا۔ وہ تو خود غیر کا محتاج ہے، تو اس وصف کے ساتھ کوئی اور وصف قائم ہو جائے، وصف کا وصف، یہ ممتنع ہے مولانا، یہ کیا ہے؟ وصف کا وصف نہیں ہو سکتا۔ کیوں؟ کیونکہ وصف تو محتاج ہوتا ہے کس کا؟ جوہر... جو کسی ایسی چیز کا جس کے ساتھ قائم ہو سکے۔ اور اگر وصف کا وصف ہو، تو وہ وصف محتاج ہوا اس دوسرے وصف کا کہ اس کے ساتھ قائم ہو، اور یہ تو خود بیچارہ محتاج ہے، اس کا اپنا الگ وجود نہیں ہے، یہ غیر کا محتاج ہے، تو وصف کے ساتھ وصف بھی قائم نہیں ہو سکتا۔ تو بس، بعض شارحین کہتے ہیں کہ یہ جو ماتن نے تقریر کی کہ "فيتعلق الأصل بتعلق..." کہ "فحاله ووصفه بمنزلة أصله"، تو اس کا حال اور وصف کس کے درجے میں ہو جائیں گے؟ اصل کے درجے میں ہو جائیں گے، بھئی یہ کیوں کہا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ کہ معنیٰ یہ ہے کہ ان میں سے ایک کو عرض اور دوسرے کو اصل نہیں بنا سکتے، بلکہ دونوں ہی عرض ہیں۔ دونوں ہی... ایک کو اصل بناؤ گے تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ "قیام العرض بالعرض" لازم آئے گا۔ ایک کو اصل آپ طلاق کو اصل بنا رہے ہیں، طلاق تو خود عرض ہے اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں، آپ اس کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں کوئی الگ وجود ہو؟ اس کا اپنا الگ وجود نہیں، یہ تو خود غیر کے ساتھ قائم ہے، تو لہذا اـ... اگر طلاق کو اصل بناؤ گے اور احوال کو وـ... صفت بناؤ گے، تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ "قیام العرض بالعرض" لازم آئے گا، لہذا ان کو اصل اور وصف بناؤ ہی نہ، یہ سب ایک جیسی چیزیں ہیں، سب اوصاف ہیں۔ سب کیا ہیں؟ سب اوصاف ہیں۔ طلاق بھی وصف ہے اور جو بـ... بائن اور مقدار وغیرہ، وہ بھی سارے اوصاف ہیں۔ سارے اوصاف ہیں، اور یہ سب کس کے ساتھ قائم ہوتے ہیں؟ عورت کی ذات کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ ہاں، تو یہ سب اوصاف ہیں، ان میں ایسا نہ کہو کہ طلاق اصل ہے اور باقی چیزیں اوصاف، ورنہ تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ "قیام العرض بالعرض"، حالانکہ وہ تو ممتنع ہے، ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ دوسرے شارحین کی تقریر چل رہی ہے، وہ کہتے ہیں کہ طلاق کو اصل اور باقیوں کو وصف نہ بناؤ۔ جب اصل اور وصف نہیں بناؤ گے، سب کیا ہوئے؟ سب اوصاف ہو گئے، جب سب اوصاف ہو گئے، تو ایک جیسے ہو گئے، جب ایک جیسے ہو گئے، تو جب احوال تو وہ کس کے سپرد کر رہا ہے؟ عورت کے، تو سارے احوال کس کے سپرد ہو گئے؟ عورت کے، اور طلاق بھی کس میں سے ہے؟ احوال میں سے، وہ بھی کس کے سپرد ہو گئی؟ وہ بھی عورت کے سپرد ہو گئی۔ شارح فرماتے ہیں: نہیں بھئی، یہ تقریر درست نہیں ہے۔ یہ تقریر نہ کی جائے اس مقام پر، بھئی کیوں نہ کی جائے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ماتن کی عبارت کے خلاف ہے یہ تقریر۔ ماتن متن میں کہہ رہے ہیں: "فحاله ووصفه بمنزلة أصله"، معلوم ہوا ایک کو وہ اصل بنا رہے ہیں اور باقیوں کو وصف بنا رہے ہیں، تو ایسی تقریر کرو جو ماتن کے قول کے مطابق ہو، یہ تو آپ ایسی تقریر کر رہے ہیں جو ماتن کے قول کے ہی... ماتن نے متن میں کیا کہا؟ ایک کو طلاق کو کیا کہا؟ اصل، کہا یا نہیں؟ "بمنزلة أصله"، اصل کو وہ خود ذکر کر رہے ہیں، معلوم ہوا طلاق کو وہ اصل بنا رہے ہیں اور احوال باقی چیزوں کو حال اور وصف بنا رہے ہیں، تو اگر آپ کی بات مانی جائے پھر تو یہ ماتن کا کلام ہی غلط ہمیں قرار دینا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہذا یہ تقریر نہ کی جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ... دیکھیے بھئی کتاب پر، یہ اس وجہ سے تاکہ ترجیح بلا مرجح لازم نہ آئے، "لا لأن قیام العرض بالعرض ممتنعٌ"، یہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ عرض کا قیام عرض کے ساتھ ممتنع ہے، جیسا کہ بعض شارحین نے تقریر کی۔ "فینبغی أن یقوما معاً بالمحل"، یہ وہ دوسرے شارحین کی تقریر ہی چل رہی ہے، وہ کہتے ہیں انہوں نے کیا کہا تھا؟ کہ عرض کا قیام عرض کے ساتھ ممتنع ہے، پس مناسب یہ ہے کہ "أن یقوما معاً بالمحل"، کہ یہ دونوں قائم ہو جائیں اکٹھے ہی محل کے ساتھ۔ یعنی طلاق بھی اور وصف بھی، دونوں کس کے ساتھ قائم ہو جائیں؟ محل یعنی عورت کے ساتھ، محل کیا ہے؟ عورت کے ساتھ وہ قائم ہو جائیں بھئی۔ "علیٰ ما ظنوا"، بناء پر اس کے جو انہوں نے گمان کیا ان شارحین نے، "وبنوا علیہ النکات"، اور بنیاد رکھی اس پر نکات کی بھئی، کئی باریک باتیں بھی انہوں نے، باریک مسائل بھی اس پر نکال دیے، لیکن شارح فرماتے ہیں کہ یہ تقریر نہ کی جائے، ان کی یہ بات متن کے مطابق درست نہیں ہے بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ اچھی طرح؟ "وبما حررنا اندفع ما قيل"، اور یہ جو شارح فرماتے ہیں: "وبما حررنا"، اور وہ جو ہم نے تحریر کر دیا، اس کی وجہ سے "اندفع ما قيل"، دور ہو گیا، یعنی اٹھ گئے... اٹھ گیا وہ جو کہا گیا ہے کہ "إن في كلام المصنف مسامحة القلب"، کہ مصنف کے کلام کے اندر قلب کی مسامحت ہے۔ قلب کی... بھئی، شارح فرماتے ہیں: بعض علماء نے متن پر اعتراض کیا تھا کہ متن کے اندر قلب ہے، ماتن سے تسامح ہو گیا، سستی ہو گئی، کوتاہی ہو گئی بھئی۔ کہنا چاہیے تھا، متن میں انہوں نے کیا کہا: "فحاله ووصفه بمنزلة أصله"، حال اور وصف کا ایک معنیٰ یاد رکھیں، ایک کو ختم کریں ذرا، "فحاله بمنزلة أصله"۔ "فحاله بمنزلة وصفه"، تو میں نے بتلایا بھئی، وـ... حال اور وصف کا ایک معنیٰ ہے، یہ عطف عطفِ تفسیری ہے بھئی، "حال" کے بعد جو "وصفه" آیا، یہ اسی کی تفسیر بیان کر رہا ہے۔ اچھا، تو بات یہ چل رہی تھی کہ بعضوں نے کیا کہا؟ متن میں قلب ہوا ہے، متن میں کیا آیا: "فحاله بمنزلة أصله"، اس کا حال کس کے درجے میں ہے؟ اصل... نہیں، یوں نہ کہو، یوں کہنا چاہیے تھا: اصل کس کے درجے میں ہے؟ حال کے درجے میں ہے بھئی، یوں کہنا چاہیے تھا۔۔ کیا کہنا چاہیے تھا؟ بھئی، ایک تو ہے اصل اور ایک ہے وصف، وصف تو کس کے سپرد ہیں؟ امام صاحب بھی فرماتے ہیں، صاحبین بھی فرماتے ہیں، وصف کس کے سپرد؟ عورت کے سپرد، اختلاف صرف کس میں ہے؟ اصل میں۔ اصل امام صاحب کے نزدیک عورت کے سپرد نہیں، صاحبین کے نزدیک یہ عورت کے سپرد، کیوں؟ یہ عورت کے سپرد کیوں؟ کہـ... کیونکہ "أصله بمنزلة وصفه"، کہ اصل بھی کس کے درجے میں ہے؟ وصف کے درجے میں ہے، اور وصف تو سپرد ہو رہا ہے، لہذا اصل کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ اب سمجھ میں آئی عبارت؟ تو کہتے ہیں: شارح... ماتن کی عبارت میں قلب ہے، اصل میں ہونا چاہیے تھا: "فأصله بمنزلة حاله" یا "بمنزلة وصفه" بھئی۔ شارح کہتے ہیں: نہیں بھئی، جو تقریر ہم نے کر دی، اس تقریر کے مطابق یہ اعتراض واقع ہی نہیں ہو گا۔ ہم نے کیا تقریر کی؟ ہم نے یہ تقریر کی کہ اصل اور وصف ایک چیز کے درجے میں ہو گئے۔ اصل اور وصف ایک چیز کے درجے میں ہو گئے، جس طرح وصف محتاج تھا اپنے وجود میں کس کا؟ ہاں، وصف محتاج تھا اپنے وجود میں اصل کا، اسی طرح اصل اپنی معرفت میں محتاج ہے کس کا؟ وصف کا محتاج ہے، تو دونوں ایک چیز کی طرح ہو گئے، تو اب اب جس طرح بھی کہنا چاہیں، کہہ سکتے ہیں۔ آپ یوں کہیں، جب دونوں ایک چیز کے درجے میں ہو گئے، تو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ uـ... پس اس کا حال کس کے درجے میں ہے؟ اصل کے درجے میں، یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کا اصل کس کے درجے میں ہے؟ وصف کے درجے میں، کیونکہ دونوں کیا ہوئے؟ ایک چیز کے درجے میں ہو گئے۔ تو کہتے ہیں: "وبما حررنا اندفع ما قيل"، تو کہتے ہیں جو وہ جو ہم نے تحریر کیا اس کی وجہ سے "اندفع ما قيل"، دور ہو گیا وہ اعتراض جو کیا... جو کہا گیا ہے کہ "إن في كلام المصنف مسامحة القلب"، کہ مصنف کے کلام میں قلب کی مسامحت ہے، "والأولى"، اور بہتر یہ تھا "أن يقول"، کہ وہ یوں کہتے، اب دیکھو وہ متن کو جو بعض نے اعتراض کیا نا کہ قلب ہے، وہ کہتے ہیں یوں ہونی چاہیے تھی عبارت، وہی متن اب چلے گا: "فأصله بمنزلة حاله ووصفه فيتعلق الأصل بتعلقه"، دیکھا؟ وہی سارا متن ہے، صرف کیا کیا؟ جنہوں نے کہا تھا کہ قلب ہے، انہوں نے کیا کیا؟ حال اور وصف کی جگہ کس کو لے آئے؟ اصل کو، اور اصل کی جگہ کس کو لے آئے؟ حال اور وصف کو لے آئے، تو وہ یوں کہنا چاہیے تھا: "فأصله بمنزلة حاله ووصفه"، کہ اس کا اصل جو ہے اس کے حال اور وصف کے درجے میں ہے، "فيتعلق الأصل بتعلقه"، پس اصل متعلق ہو جائے گا وصف کے متعلق ہونے کی وجہ سے۔ جی، کہتے ہیں یہ ہم... یہ اعتراض بھی اٹھ گیا ہماری تقریر سے، کیوں اٹھ گیا؟ خود بتلا رہے ہیں: "وذلك لأنه إذا جعل الحال والأصل بمنزلة الشيء الواحد"، اس لیے کیونکہ جب قرار دے دیا گیا حال اور وصف کو ایک چیز کے درجے میں، "أخذ كل منها حكم الآخر"، تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کا حکم لے لیا، ہر ایک نے... دونوں ایک دوسرے جیسے ہو گئے، تو وہ حکم جو حال کا تھا وہ وصف کا ہوا، اور جو وصف کا حکم ہے وہ حال کا ہوا، تو دونوں طرح کہنا صحیح ہے کہ حال اور وصف اصل کے درجے میں ہے، یا اصل کس کے درجے میں ہے؟ حال اور وصف کے درجے میں۔ "وأبو حنيفة رحمه الله يقول:"، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "يلزم من هذا اتباع الأصل للوصف"، کہ اس صورت میں لازم آتا ہے اصل کا تابع ہونا وصف کے، "وهو خلاف القياس"، اور یہ خلافِ قیاس۔ امام صاحب کی طرف سے اب جواب دیا گیا بھئی، صاحبین کو۔ امام صاحب نے تو کہا تھا طلاق واقع ہو گی، اور وصف سپرد ہو گا۔ صاحبین نے کیا کہا؟ کہ اس... اصل کے وصف تو سپرد ہے ہی، ساتھ ساتھ اصل بھی سپرد ہو جائے گا۔ امام صاحب فرماتے ہیں: اس صورت میں تو یہ خرابی لازم آتی ہے کہ اصل وصف کے تابع ہو گیا۔ اصل کس کے تابع ہو گیا؟ ہونا تو یہ چاہیے وصف کو اصل کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ اصل کو وصف کے تابع۔ آپ نے کہا چونکہ احوال اس کے سپرد ہو رہے ہیں، تو اصل کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ اس کے... تو آپ نے اصل کو کس کے تابع کر دیا؟ وصف کے تابع کر دیا، "وهو خلاف القياس"، اور یہ کیا ہے؟ خلافِ قیاس ہے، "فلا يعتبر"، لہذا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ "و"كم" اسم للعدد الواقع"، اور "کم" جو ہے وہ نام ہے اس عدد کے لیے جو واقع ہو بھئی۔ بھئی دیکھیے، "کم" کے ذریعے کبھی کبھار سوال کیا جاتا ہے، "کم" کنایہ ہوتا ہے عدد سے بھئی۔ کبھی اس کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے اور کبھی اس کے ذریعے خبر دی جاتی ہے۔ اگر سوال کیا جائے، تو اس کو "کمِ استفہامیہ" کہتے ہیں۔ اگر خبر دی جائے، تو اس کو "کمِ... اس کو "کمِ خبریہ" کہتے ہیں۔ "کم خبریہ" اور "کم استفہامیہ" دو قسمیں ہیں۔ اور میں نے بتلایا یہ کنایہ ہوتا ہے کس سے؟ عدد سے، تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ "کم اسم للعدد الواقع"، "کم" جو ہے وہ نام ہے اس عدد کا جو واقع میں ہو۔ "فإذا قال"، پس جب کہا کسی شخص نے یوں اپنی بیوی سے: "أنتِ طالقٌ كم شئتِ"، "لم تطلق ما لم تشأ"، تو عورت کو طلاق نہیں ہو گی جب تک وہ نہ چاہے۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں: "لأنه لما كان اسماً للعدد الواقع الموجود في الخارج"، اس لیے کیونکہ یہ جب "کم" جو ہے، وہ نام ہے اس عدد کا جو واقع ہو، موجود ہو خارج میں، "کم" کس چیز کا نام ہے؟ ایسا عدد جو خارج میں موجود ہو، اور خاوند کیا کہہ رہا ہے؟ "أنتِ طالقٌ كم شئتِ"، تو "کم" تو آتا ہے ایسے عدد کے لیے جو خارج میں موجود ہو، واقع ہو، اور یہاں کوئی عدد ہے پہلے سے؟ یہاں تو کوئی عدد پہلے سے... ایک یا دو یا تین کوئی بات کی اس نے پہلے؟ کوئی ایسا عدد نہیں، تو لہذا تو جب یہ نام ہے ایسے عدد کا جو واقع ہو، موجود ہو خارج میں، "ولم يكن في الخارج هاهنا عددٌ"، اور یہاں پر خارج میں کوئی ایسا عدد نہیں ہے، "حتى يسأل عنه أو يخبر عنه"، یہاں تک کہ اس کے بارے میں کیا کیا جائے؟ سوال کیا جائے "أو يخبر عنه" یا اس کے بارے میں خبر دی جائے، کیونکہ یہ "کم" کس لیے آتا ہے؟ سوال یا خبر دینے کے لیے آتا ہے، اور عدد کے لیے ہے، تو کوئی عدد ہو گا تو اس کے بارے میں ہم سوال کریں گے یا کوئی عدد ہو گا تو ہم اس کے بارے میں خبر دیں گے، یہاں تو کوئی ایسا عدد ہی نہیں ہے۔ تو لہذا جب یہ یہاں پر خارج میں کوئی ایسا عدد نہیں ہے، یہاں تک کہ اس کے بارے میں سوال کیا جائے "أو يخبر عنه" یا اس کے بارے میں خبر دی جائے، "لتكون استفهامية أو خبرية"، تاکہ یہ کیا ہو جائے؟ استفہامیہ یا خبریہ ہو جائے۔ سوال کریں گے تو استفہامیہ ہو جاتا، خبر دیتے تو کون سا ہو جاتا "کم"؟ خبریہ ہو جاتا۔ "فلا بد من أن يستعار بمعنى"، تو مناسب... ضروری ہوا کہ اس کو مستعار لیا جائے کس معنیٰ میں؟ "أيِّ عددٍ شئتِ" کے معنیٰ میں۔ یعنی یہ مجازاً "أيِّ عددٍ... أيِّ عددٍ شئتِ" کے معنیٰ میں ہو گا۔ گویا خاوند نے یوں کہا: "أنتِ طالقٌ على أيِّ عددٍ شئتِ"، "تجھے طلاق ہے جس عدد پر تو چاہے"، "تجھے طلاق ہے جس عدد پر تو چاہے"۔ "وهو تمليكٌ"، اور یہ تو کیا ہے؟ جو... یہ کہنا "جس عدد پر تو، تو چاہے"، معلوم ہوا خاوند کیا کر رہا ہے؟ اس کو اختیار دے رہا ہے۔ اسے عدد کا مالک بنا رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو "وهو تمليكٌ"، اور یہ تو تملیک ہے، یعنی مالک بنانا یعنی اختیار دینا ہے، "يقتصر على المجلس"، یہ تو ایسی تملیک ہے "يقتصر على المجلس"، جو اسی مجلس پر بند رہے گی۔ یعنی اختیار ہے، لیکن کب تک رہے گا؟ مجلس تک، کیونکہ اختیار مجلس تک رہتا ہے۔ "فكأنه قال"، تو گویا کہ خاوند نے یوں کہا: "إن شئتِ واحدةً فواحدةٌ وإن شئتِ ما زاد فما زاد عليها"، یعنی اگر تو ایک چاہتی ہے تو ایک، یعنی خاوند نے کیا کہا؟ یوں کہا گویا: "أنتِ طالقٌ إن شئتِ واحدةً فواحدةٌ وإن شئتِ ما زاد فما زاد عليها"، "تجھے طلاق ہے اگر تو چاہے تو، اگر تو ایک چاہتی ہے تو ایک طلاق، اور اگر تو زیادہ چاہتی ہے تو جو اس ایک پر زیادہ ہے وہ ہے تجھے طلاق"۔ "فإن شاءت في المجلس"، پس اگر چاہا اس عورت نے مجلس ہی کے اندر، "يقع الطلاق على حسب نية الزوج وإلا فلا"، تو طلاق واقع ہو جائے گی "على حسب نية الزوج وإلا فلا"، اور خاوند کی نیت کے مطابق، "وإلا فلا"، ورنہ نہیں ہو گی۔ لیکن ظاہر یہ ہے مولانا، کہ یہاں خاوند کی نیت کا اعتبار نہیں ہو گا بھئی۔ خاوند کی نیت کا اعتبار نہیں ہو گا بھئی۔ وجہ، اوپر ہم نے اعتبار کیا تھا۔ وجہ یہ کہ وہاں دو چیزیں تھیں۔ کیا کون کون سی؟ ایک وصف تھا بائنہ ہونا اور ایک مقدار تھی، دو چیزیں تھیں، تو پتہ تو چلے خاوند نے کس چیز کا ارادہ کیا ہے ان دو میں سے؟ وہ بینونت کا اختیار دے رہا ہے یا عدد کا اختیار دے رہا ہے؟ اس لیے ہم نے کیا کہا تھا؟ خاوند کی نیت کا بھی اعتبار۔ اور یہاں تو صرف وہ عدد کا اختیار دے رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہذا یہ ظاہر یہی ہے، جیسے کہ اور بعض علماء نے بھی اس کو ذکر کیا، کہ خاوند کی نیت پر دار و مدار نہیں ہو گا یہاں پر۔ "وَ"حَيْثُ" وَ"أَيْنَ" اسْمَانِ لِلْمَكَانِ"، اور "حیثُ" اور "أینَ" جو ہیں یہ مکان کے نام ہیں، مکان کے لیے یعنی آتے ہیں۔ "فَإِذَا قَالَ"، پس جب کہا کہ شخص نے اپنی بیوی سے یوں کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ حَيْثُ شِئْتِ"، کہ تجھے طلاق ہے "حَيْثُ شِئْتِ"، جہاں، یہ جگہ کے لیے آتے ہیں نا؟ جہاں تو چاہے، "أَوْ أَيْنَ شِئْتِ"، یا جہاں تو چاہے، ایک ہی معنیٰ دونوں کا۔ تو اس صورت میں "أنه لا يقع"، طلاق واقع نہیں ہو گی "ما لم تشأ"، جب تک وہ عورت نہ چاہے۔ بھئی دیکھیے! "حیثُ" اور "أینَ" مکان کے لیے آتے ہیں۔ "حيث تجلسْ أجلسْ"، جہاں آپ بیٹھیں گے وہاں میں بیٹھوں گا، جگہ کے لیے۔ "أين تجلسْ أجلسْ"، جہاں آپ بیٹھیں گے وہاں میں بیٹھوں گا، دونوں جگہ کے لیے ہیں۔ اور طلاق آپ پڑھ چکے، جگہ کے ساتھ مقید نہیں ہوتی۔ ایک جگہ طلاق ہو، تو ساری دنیا میں ہی کیا ہو گی؟ طلاق، کسی دوسرے شہر میں چلی جائے وہاں طلاق نہ ہو، ایسا نہیں۔ تو طلاق جگہ کے ساتھ، یعنی مکان کے ساتھ مقید نہیں ہو سکتی، ہاں زمانے کے ساتھ مقید ہو جاتی ہے۔ مثلاً خاوند بیوی کو آج طلاق دیتا ہے، تو آج کے زمانے میں بھی طلاق ہے، مستقبل میں بھی طلاق اس کے ساتھ ہے، لیکن ماضی میں تو یہ طلاق نہیں تھی۔ یا خاوند کیا کہتا ہے بیوی کو کہ "میں تجھے 10 دن بعد طلاق دوں گا"، تو دیکھو، آج بھی یہ طلاق نہیں، گزشتہ ماضی میں بھی نہیں تھی، اور مستقبل میں آئے گی، تو دیکھو یہ طلاق زمانے کے ساتھ کیا ہے؟ مقید ہے، طلاق زمانے کے ساتھ تو مقید ہو جاتی ہے، جگہ کے ساتھ مقید نہیں، اور اس نے تو "حیثُ" اور "أینَ" کو ذکر کیا یہاں پر خاوند نے، "أَنْتِ طَالِقٌ حَيْثُ شِئْتِ"، "أَنْتِ طَالِقٌ أَيْنَ شِئْتِ"، تو جگہ کے ساتھ مقید ہو نہیں سکتی، تو لہذا یہ "حیثُ" اور "أینَ" "إن" کے معنیٰ میں ہو جائیں گے، کس کے معنیٰ میں؟ "إن" کے معنیٰ میں۔ تو گویا یوں کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ"، تو جب وہ چاہے گی تب ہو گی، اس سے پہلے نہیں ہو گی۔ "لأنهما لما كانا للمكان"، اس لیے کیونکہ یہ دونوں جب مکان کے لیے ہیں، "والطلاق مما لا يختص بالمكان أصلاً"، اور طلاق ان چیزوں میں سے ہے جو مکان کے ساتھ مختص نہیں ہوتی سِرے سے ہی، "فيحمل على معنى "إنْ شئتِ""، تو اس کو ان... اس کو محمول کیا جائے گا کس معنیٰ پر؟ "إنْ شئتِ" کے معنیٰ پر، "فلا يقع ما لم تشأ"، تو طلاق واقع نہیں ہو گی جب تک وہ نہ چاہے، "وتتوقف مشيئتها على المجلس بخلاف إذا ومتى"، اور یہ طلاق موقوف رہے گی اس عورت کی مشیئت پر، اس عورت کے چاہنے پر "على المجلس"، اس مجلس پر... میں، اس مجلس پر ہی اس... موقوف رہے گی اس عورت کی مشیئت پر بھئی، "بخلاف إذا ومتى"، بخلاف "إذا" اور "متى" کے۔ "لأنهما لما جعلا بمعنى "إنْ""، اس لیے کیونکہ جب حیثـ... "إنهما" کی ضمیر "حیثُ" اور "أینَ" کو راجع، اس لیے کیونکہ جب ان کو بنا دیا گیا کس معنیٰ میں کر دیا گیا؟ "إن" کے معنیٰ میں کر دیا گیا، "وَ"إِنْ" يَقْتَصِرُ عَلَى الْمَجْلِسِ"، اور "إن" تو کیا ہے؟ "إن" یہ لفظِ "ان" مراد ہے یہاں پر، دو دفعہ "ان" آیا اور دونوں سے لفظِ "ان" مراد ہے، اس لیے کیونکہ ان دونوں کو جب کر دیا گیا "بمعنى "إنْ""، کس کے معنیٰ میں؟ "ان" کے معنیٰ میں، "وَ"إِنْ" يَقْتَصِرُ عَلَى الْمَجْلِسِ"، اور لفظِ "ان" تو بند رہتا ہے کہاں پر؟ مجلس پر، اس میں مجلس تک ہی اختیار ہوتا ہے، "فكذا هما"، تو اسی طرح یہ دونوں بھی ہوں گے، یعنی اس میں بھی اختیار مجلس تک رہے گا۔ "وإذا ومتى يدلان على عموم الزمان"، جبکہ اس کے مقابلے میں "إذا" اور "متى" وہ دونوں دلالت کرتے ہیں کس پر؟ عمومِ زمان پر۔ دیکھو، "إذا" اور "متى" عمومِ زمانے کے لیے آتے ہیں۔ "متى تجلسْ أجلسْ"، جب تو بیٹھے گا، تو میں بیٹھوں گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس دیکھو عمومِ زمانہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لہذا "إذا" اور "متى" کے اندر جو اختیار رہے گا، وہ مجلس کے بعد بھی رہے گا، کیونکہ "إذا" اور "متى" آتے ہی کس لیے ہیں؟ زمانے کے عموم کے لیے آتے ہیں، اس لیے ان میں مجلس کے بعد بھی اختیار رہے گا۔ تو کہتے ہیں: "وإذا ومتى يدلان على عموم الزمان وكليته"، اس لیے کیونکہ "إذا" اور "متى" جو ہیں، یہ دونوں دلالت کرتے ہیں زمانے کے عموم پر اور اس کے کلی ہونے پر، "فلا يتوقف"، "فلا يتوقف المشيئة فيهما على المجلس"، لہذا ان دونوں میں، یعنی "إذا" اور "متى" میں مشیئت جو ہے مجلس پر موقوف نہیں رہے گی، "وإنما لم يجعلا بمعنى إذا ومتى"، اور بھئی، یہ "حیثُ" اور "أینَ"، ان کو ہم نے کس معنیٰ میں لے لیا؟ "ان" کے معنیٰ میں، بھئی ان کو "إذا" اور "متى" کے معنیٰ میں کیوں نہیں لے لیتے؟ وہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "وإنما لم يجعلا بمعنى إذا ومتى"، ان کو "إذا" اور "متى" کے معنیٰ میں نہیں قرار دیا گیا، "لأنهما إذا خلَصا عن معنى المكان"، اس لیے کیونکہ جب یہ دونوں خالی ہو گئے مکان کے معنیٰ سے، پہلے تو ان میں کون سا معنیٰ تھا "حیثُ" اور "أینَ" میں؟ مکان والا بھی، شرط کے ساتھ ساتھ مکان والا معنیٰ بھی تھا، تو جب مکان والا معنیٰ سے خالی کر دیے، تو صرف کیا رہ گئے؟ شرط، شرط کے معنیٰ میں کر دیا۔ تو کہتے ہیں: "إذا خلَصا عن معنى المكان"، اس لیے کیونکہ تو جب یہ دونوں خالی ہو گئے مکان کے معنیٰ سے، "فالأقرب إليهما هو "إنْ""، تو ان کے سب سے قریب کون سا ہوا؟ "ان"، کلمۂ "ان" ان کے قریب ہوا، "الدالة على"، یہ صفت ہے "ان" کی بھئی، "ان" سے لفظِ "ان" مراد ہے، یہ علم کے درجے میں ہے، اس لیے اس کی صفت بھی معرفہ لائی گئی۔ تو ان کے سب سے قریب جو ہے وہ لفظِ "ان" ہے، وہ "ان" "الدالة على مجرد الشرط"، جو صرف کس پر دلالت کرتا ہے؟ صرف شرط پر دلالت کرتا ہے، "ولا يناسب أن يجعل عموم المكان مستعاراً من عموم الزمان"، اور یہ مناسب نہیں ہے کہ عمومِ مکان کو مجاز قرار دیا جائے عمومِ زمان سے۔ بھئی، "حیثُ" اور "أینَ"، جب ان کو ہم نے مکان کے معنیٰ سے خالی کیا، تو کس معنیٰ میں کر لیا؟ شرط، یعنی "ان" کے معنیٰ میں کر لیا، اور ان کو "إذا" اور "متى" کے معنیٰ میں نہیں کیا، کیونکہ یہ مناسب نہیں ہے۔ کہ یہ آتے تو مکان کے لیے ہیں، اور اس کو کس معنیٰ میں لے لیا جائے؟ زمانے کے معنیٰ میں لے لیا جائے، یہ مناسب نہیں، تو قریب جو تھا، وہ "ان" تھا، ہم نے اسی کے معنیٰ میں اس کو کر دیا۔ یہ معنیٰ ہے یہ مناسب نہیں ہے کہ ان کو کر دیا جائے... کہ کر دیا جائے یا قرار دیا جائے۔ "ولا يناسب"، اور یہ مناسب نہیں ہے، "أن يجعل عموم المكان"، کہ قرار دیا جائے عمومِ مکان کو، یہ کس کے اندر تھا عمومِ مکان؟ "حیثُ" اور "أینَ"، ان میں جو عمومِ مکان تھا، اس کو قرار دیا جائے "مستعاراً"، "أي مجازاً"، "من عموم الزمان"، کس سے مجاز قرار دیا جائے؟ عمومِ زمان سے، یعنی کہ "إذا" اور "متى" سے۔ تو یہ مناسب نہیں ہے، "فلكل واحد من كيف وكم وحيث وأين مشابهة من معنى الشرط"، یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ یہاں "كيفَ" کو کیوں ذکر کیا؟ "حیثُ" کو کیوں ذکر کیا؟ "أینَ" کو کیوں ذکر کیا؟ "کم" کو کیوں ذکر کیا؟ جواب دے رہے ہیں: کہ بھئی بات یہ کہ حروفِ شرط کی بحث چل رہی تھی، کس کی؟ اور حروفِ شرط کے لیے کئی ظروف بھی آتے ہیں، تو ان ظروف بھی آ گئے، اور یہ سارے بھی ان کی ظرف کے ساتھ مناسبت ہے، اس لیے ان کو بھی ساتھ ذکر کر دیا۔ کس طرح؟ "کیفَ"، یاد رکھیے "کیفَ" قائم مقامِ ظرف کے ہے، کس کے قائم مقام ہے؟ ظرف کے قائم مقام۔ اور "کم"، "کم" جو ہے، یاد رکھیے یہ کبھی ظرف واقع ہوتا ہے، "کم" کے اندر اس کے ما بعد کو دیکھتے ہیں، جو ما بعد ہوتا ہے، وہی "کم" ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس کے بعد اگر ظرف آئے، تو یہ خود بھی کیا ہو گا؟ ظرف ہو گا۔ اور اسی طرح "حیثُ" اور "أینَ"، یہ تو ہیں ہی ظرف بھئی، اس لیے تو اس چونکہ پیچھے "إذا" ظرفیہ کی بات آئی تھی، ظرف کی جب بات آئی، تو ساتھ ان کو بھی ذکر کر دیا، کیونکہ یہ بھی کیا ہیں؟ کوئی قائم مقامِ ظرف ہے، کوئی ظرف کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "فلكل واحد من كيف وكم وحيث وأين مشابهة من معنى الشرط"، ہاں تو یہ ظرف کے... تو یہ ان کی ترـ... یہ ان کی شرط کے معنیٰ کے ساتھ مناسبت ہے بھئی، ان میں ظرف والا معنیٰ ہے، اور ظرف کے میں "إذا" جو ہے اس کی تو کس کے ساتھ مناسبت؟ وہ شرط کے لیے استعمال ہوتا ہے، تو اس لیے ان کو یہاں ذکر کر دیا۔ تو کہتے ہیں: "فلكل واحد من كيف وكم وحيث وأين"، یہ جو سب ہیں "مشابهة من معنى الشرط"، ان کی مشابہت ہے کس کے ساتھ؟ معنیٰ... شرط کے ساتھ، تو یہ سب مشابہ ہوئے "إذا" شرطیہ کے ساتھ، تو لہذا کیونکہ یہ بھی ظرف، وہ بھی ظرف، تو اس کی... اور وہ اس کا ذکر تھا، تو اس کو بھی ذکر کر دیا۔ "فلذلك ذكرت فيها"، اسی وجہ سے ان میں ان حروفِ معانی میں ان کو بھی ذکر کر دیا۔ "ثم بعد ذلك"، پھر اس کے بعد "ذكر الجمع في بحث حروف المعاني"، ذکر کیا جمع کو مصنف نے حروفِ مـ... آگے بھئی جمع کی بحث کرنے لگے ہیں۔ جمع، "مسلمون"، "مسلمات"، "واؤ"، "نون" اور "الف"، "تا" کے ساتھ جو جمع آتی ہے۔ تو اشکال... سوال پیدا ہوا، بھئی جمع کو یہاں کیوں ذکر کر رہے ہیں؟ یہاں تو حروفِ معانی کی بحث چل رہی تھی، جواب دیں گے کہ بھئی جمع کے لیے جو ہیں، جمع پر دلالت حروف کرتے ہیں، "مسلمون" میں "واؤ" کس پر دلالت کر رہا ہے؟ "واؤ"، "نون" جمع پر، "مسلمات" میں "الف"، "تا"، تو یہ "الف"، "تا" اور "واؤ" کیا ہیں؟ حروف ہی تو ہیں، اور ہم بھی کس کی بحث کر رہے ہیں؟ حروفِ معانی کی، اس لیے ان کو یہاں ذکر کیا۔ کہتے ہیں: "ثم بعد ذلك ذكر الجمع في بحث حروف المعاني"، اس کے بعد مصنف نے جمع کو ذکر کر دیا حروفِ معانی کی بحث میں، "باعتبار"، اس اعتبار سے "أن الواو والياء والألف والتاء كلها حروف دالة على معنى الجمعية"، یہ "واؤ"، "یاء"، "الف" اور "تا" یہ سب کے سب جو ہیں وہ ایسے حروف ہیں جو دلالت کرتے ہیں جمع ہونے کے معنیٰ پر۔ "فقال"، پس مصنف نے فرمایا: "الجمع المذكور بعلامة الذكور عندنا يتناول الذكور والإناث"، جو ضابطہ یہ بتائیں گے بھئی دیکھیے! جمع مذکر کی جو علامت ہے، وہ جمع جو جس کے ساتھ کون سی علامت آئے؟ مذکر والی، یعنی "مسلمون"۔ تو یاد رکھیے، یہ وضع ہے کس کے لیے؟ مذکر کے لیے، اور "الف"، "تا" کے ساتھ ہو، تو یہ کس کے لیے وضع؟ مونث کے لیے۔ یاد رکھیے، جب "مسلمون" کا لفظ بولا جائے، تو یہ وضع تو ہے مذکر کے لیے، لیکن تبعاً مونث بھی اس میں داخل ہو جائیں گے۔ تبعاً کیا؟ مونث بھی داخل ہو جائیں گے۔ یعنی، یہاں پر بھی دیکھو، افراد "مسلم" کے بہت سارے افراد تھے، مسـ... اس اہل اسلام بہت زیادہ، آپ ان میں سے کچھ مرد ہیں، کچھ عورتیں، تو ہم نے مردوں کو عورتوں پر غلبہ دے کر کیا لفظ بول دیا؟ مذکر والا لفظ ہی سب پر بول دیا، تغلیب پڑھ چکے ہیں یا نہیں اس سے پہلے آپ؟ تو یہاں پر بھی غلبہ دیا گیا، تو لہذا جب مرد اور عورت سب ہوں، اور لفظ بولا جائے کون سا؟ مذکر والا، جمع کا، تو وہ ان سب کو شامل ہو گا۔ لیکن اگر صرف عورتیں ہوں، پھر "مسلمون" کا لفظ ان پر صادق نہیں، وہ اس میں داخل نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ بھئی، پہلے عورتوں کو ہم نے کس طریقے پر داخل کیا تھا؟ تغلیب کے طریقے پر داخل کیا تھا، مرد بھی ساتھ تھے، لیکن ہم نے مردوں کو کیا کیا؟ غلبہ... اب تو مرد کوئی ہے ہی نہیں، صرف عورتیں ہیں، ان پر آپ تغلیب کیسے کریں گے یہاں پر بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مرد اور عورت کا اختلاط ہو، تو وہاں مذکر والا لفظ سب پہ بولا جا سکتا ہے، لیکن صرف عورتیں ہوں، تو وہاں مذکر والا لفظ ان پر نہیں بولا جا سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "الجمع المذكور بعلامة الذكور"، وہ جمع جو ذکر کی جائے مذکر کی علامت کے ساتھ، "عندنا يتناول الذكور والإناث"، وہ ہمارے نزدیک شامل ہو گا مذکر اور مونث سب کو، "عند الاختلاط"، کس وقت؟ اختلاط کے وقت، "ولا يتناول الإناث المنفردات"، اور یہ شامل نہیں ہو گا اکیلی مونث کو، عورتیں ہوں صرف اکیلی، تو ان کو شامل نہیں ہو گا۔ "لأن تناول الجمع المذكر..."، "لأن تناول الجمع المذكر للإناث"، اس لیے کیونکہ جمع مذکر کا شامل ہونا مونث کو یعنی عورتوں کو، "إنما هو للتغليب"، یہ کس وجہ سے ہے؟ یہ تغلیب کی وجہ سے ہے، "والتغليب إنما يتحقق عند الاختلاط دون الإناث المنفردات"، اور تغلیب تو وہ پائی جائے گی اختلاط کے وقت، صرف اکیلی عورتوں کے وقت نہیں۔ "وعند الشافعي"، اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک: "لا يتناول الإناث عند الاختلاط أيضاً"، ان کے نزدیک مـ... جمع مذکر کا صیغہ جو ہے، وہ مونث کو شامل نہیں ہو گا "عند الاختلاط"، اختلاط کے وقت بھی۔ مذکر صرف مذکر ہی مراد ہوں گے، مونث مراد نہیں ہوں گے۔ "لأن كل علامة مخصوصة لمعنى"، اس لیے کیونکہ ہر علامت جو ہے وہ مخصوص ہوتی ہے ایک معنیٰ کے ساتھ، "هو حقيقتها"، وہ معنیٰ کیا ہوتا ہے اس کی حقیقت ہوتا ہے۔ تو یہاں معنیٰ اس کی حقیقت ہے، اور عورت پر بول رہے ہیں وہ مجاز ہے، تو اس صورت میں کیا خرابی لازم آئے گی؟ جمع بین الحقیقت والمجاز، اور جو احناف تمہارے نزدیک جائز نہیں ہے۔ "لأن كل علامة مخصوصة لمعنى"، دیکھو "معنىً" نکرہ ہے، "وهو حقيقتها"، اس کے بعد جملہ اسمیہ آیا، تو یہ اس معنیٰ کی صفت بنے گا۔ کیا بنے گا؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ موصوف سے پہلے کیا لاتے ہیں؟ "ایسا"۔ اس لیے کیونکہ ہر ایسی علامت جو مخصوص ہو ہو اس لیے کیونکہ ہر علامت جو ہے وہ مخصوص ہوتی ہے ایسے معنیٰ کے ساتھ جو اس کی حقیقت ہوتا ہے۔ "فلو تناول الإناث"، اگر یہ اناث کو بھی شامل ہو جائے، "لزم الجمع بين الحقيقة والمجاز"، تو لازم آئے گا جمع بین الحقیقت والمجاز، "ولزمت التكرار في قوله:"، اور اسی طرح تکرار لازم آئے گا اللہ کے اس قول میں: "إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ"۔ تکرار اس طرح کہ "مسلمین" جمع مذکر ہے، اور آپ نے کیا کہا؟ کہ یہ دونوں کو شامل ہوتا ہے، دونوں کو شامل، جب مرد اور عورتیں ان کا اختلاط ہو، مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، تو "مسلمون" کا لفظ کیا ہو گا؟ دونوں کو شامل، تو لہذا عورتیں "مسلمین" میں بھی آ گئیں۔ تغلیباً، اور پھر "مسلمات" دوبارہ بھی آیا، تو تکرار آ گیا بھئی، اور تکرار تو پسندیدہ نہیں۔ "قلنا"، ہم جواب میں کہتے ہیں: "نزول الآية في حقهن لتطييب قلوبهن"، بھئی دیکھیے، یہ آیت نازل ہوئی، اس میں مسلمان مردوں اور عورتوں کا مردوں کے ساتھ بار بار عورتوں کا ذکر آتا ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ بعض عورتوں نے آ کر امہات المؤمنین سے ذکر کیا۔ اور بعض اسی طرح امہات المؤمنین جیسے حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں بھی آتا ہے، انہوں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ کہ یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ قرآن میں ہر جگہ مردوں ہی مردوں کا ذکر ہے، عورتوں کا کہیں علیحدہ مستقلاً ذکر نہیں، معلوم ہوا ہم بہت ہی حقیر چیز ہیں، ہماری کوئی ذرہ بھی اہمیت ہی نہیں ہے، اسی لیے ہمارا ذکر بھی نہیں۔ تو اس پر اللہ نے باقاعدہ ان کا قرآن میں ذکر فرمایا بھئی، عورتوں کو۔ تو ان کو خوش کرنے کے لیے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، تو یہ جواب ہم دے رہے ہیں، اور امامِ شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بھئی "مسلمین" میں جب عورتیں آ گئی تھیں، تو "مسلمات" میں تو تکرار لازم آئے گا، تو جواب دے رہے ہیں کہ "نزول الآية في حقهن لتطييب قلوبهن"، کہ آیت کا نزول ان کے حق میں ان کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے تھا، "حيث قلن"، اس حیثیت سے کہ انہوں نے کہا تھا: "ما بالنا"، "بال" کہتے ہیں شان کو، حالت کو، "ما بالنا"، ہماری کیا شان ہے؟ ہماری کیا حالت ہے؟ "لم نذكر في القرآن صريحاً واستقلالاً"، کہ ہمیں ذکر نہیں کیا گیا قرآن کے اندر صراحتاً اور مستقلاً بھئی۔ ہماری کیا شان ہے؟ معلوم ہوا ہماری کوئی حالت نہیں ہے، کوئی اہمیت نہیں۔ "فنزلت الآية في حقهن"، تو آیت یہ آیت نازل ہوئی ان عورتوں کے حق میں "لأجل هذا"، اس وجہ سے، "لا أنهن لم يدخلن في الجمع المذكر"، اس وجہ سے نہیں کہ وہ جمع مذکر میں داخل نہیں تھیں۔ وہ تو داخل ہوتی ہیں جمع مذکر میں تغلیب کے طریقے پر۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ آیت اس لیے نازل ہوئی بھئی۔ یہ آیت اس لیے نازل ہوئی۔ تو یہ عورتیں جہاں مذکر کا صیغہ آئے، تو وہاں عورتیں بھی اس میں کیا ہوں گی؟ شامل ہوں گی۔ تو یہاں ان کو خوش کرنے کے لیے یہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، ہاں! یہاں پر اب پھر جب "مسلمین" اور "مسلمات" ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں، تو اب داخل نہیں ہوں گی بھئی۔ ویسے عام ہو، مقابلہ جہاں نہ ہو، وہاں تو داخل ہوں گی، لیکن یہاں جب صراحتاً الگ الگ ذکر ہیں، تو "مسلمین" سے مسلمان مرد ہی مراد ہوں گے اور "مسلمات" سے مسلمان عورتیں مراد ہوں گی، تو یہاں داخل نہیں، جب داخل نہیں، تو "مسلمات" میں تکرار بھی نہیں۔ "والتغليب باب واسع في القرآن"، اور تغلیب جو ہے وہ ایک وسیع باب ہے قرآن کے اندر، یعنی قرآن میں بکثرت استعمال ہوا ہے، غلبہ دیا گیا ہے ایک چیز کو دوسری چیز پر۔ "وَإِنْ ذُكِرَ بِعَلَامَةِ التَّأْنِيثِ يَتَنَاوَلُ الْإِنَاثَ خَاصَّةً"، اور اگر ذکر کیا جائے جمع کو تانیث کی علامت کے ساتھ، "يتناول الإناث خاصة"، تو یہ شامل ہو گا عورتوں ہی کو، مؤنث ہی کو خاص طور پر۔ یعنی "مسلمات" کہا جائے، تو صرف اس میں عورتیں شامل ہوں گی، مرد شامل نہیں ہوں گے۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ وہاں جو ہم نے عورتوں کو شامل کیا تھا، وہ تغلیب کے طریقے پر تھا، اور یہاں تغلیب پر اـ... نہیں عمل کر سکتے، کیونکہ مرد اعلیٰ ہے، عورت جو ہے وہ ادنیٰ ہے اس کے مقابلے میں، تو مرد کو اصل بنایا، عورت پر غلبہ دے دیا گیا، یہ تو صحیح تھا، اور عورت کو یہاں غلبہ دے کر مرد کو اس میں داخل کرنا، یہ صحیح نہیں۔ یہاں "مسلمات" مؤنث کا لفظ ذکر ہے نا؟ تو معلوم ہوا کس کو غلبہ دے دیا گیا؟ اگر اگر مان لیا جائے کہ مرد بھی اس میں داخل ہیں، تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ مرد کس کے تابع ہو گئے؟ عورتوں کے، حالانکہ یہ درست نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ نے مرد کو بڑی فضیلت دی ہے بھئی، بڑی فضیلت دی ہے۔ ہاں، یہ ہے کہ وہ اپنے مقام کو پہچان لے بھئی، اللہ ہمیں اپنے احکامات پر پوری طرح عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین۔ "وَإِنْ ذُكِرَ بِعَلَامَةِ التَّأْنِيثِ يَتَنَاوَلُ الْإِنَاثَ خَاصَّةً"، اور اگر ذکر کیا جائے جمع کو تانیث کی علامت کے ساتھ، تو یہ شامل ہو گا مؤنث ہی کو خاص طور پر، بس، مردوں کو نہیں، "لأن الرجل لا يكون تبعاً للأنثى"، اس لیے کیونکہ مرد جو ہے وہ عورت کے... مؤنث کے تابع نہیں ہو سکتا، "حتى يدخل في تغليب الأنثى"، یہاں تک کہ وہ داخل ہو جائے کس کے اندر؟ مؤنث کی تغلیب میں۔ "حَتَّى قَالَ فِي السِّيَرِ الْكَبِيرِ"، یہاں تک کہ فرمایا امامِ محمد رحمہ اللہ نے "سیرِ کبیر" میں، "سیرِ کبیر" امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب ہے۔ وہ فرماتے ہیں: "إِذَا قَالَ"، جب کسی شخص نے یوں کہا: "آمِنُونِي عَلَى بَنِيَّ" بھئی، مسلمانوں نے کفار کے قلعے کا محاصرہ کر لیا، ایک آدمی ان میں سے کفار میں سے کہنے لگا: "آمِنُونِي عَلَى بَنِيَّ"۔ "بنيَّ"، بھئی "بَنُونَ"، "بَنُونَ"، "اِبْنٌ" کی جمع ہے "بَنُون"۔ اور اس کے ساتھ "یاء" ملا دی، تو آخری "نون" تو اضافت کی وجہ سے گر گیا، کیا بن گیا؟ "بَنُویَ"، پھر "واؤ" کو "یاء" کر کے "یاء" میں ادغام کر دیا گیا، اور وـ... ما قبل میں کسرہ دیا، کیونکہ "یاء" اپنے سے ما قبل کیا چاہتی ہے؟ کسرہ، تو "بَنِيَّ" ہوا۔ تو وہ کـ... ان میں سے ایک شخص کہتا ہے: "آمِنُونِي عَلَى بَنِيَّ"، "امان دے دو تم مجھے میرے بیٹوں پر"، اور اس کے بیٹے بھی ہیں اور بیٹیاں بھی ہیں، کہتے ہیں اس کے بیٹوں کو بھی امان دے دیا تو بیٹوں کو بھی ہو گا اور بیٹیوں کو بھی ہو گا۔ تو یہ "وَلَهُ بَنُونَ وَبَنَاتٌ"، اور اس کے "وَلَهُ بَنُونَ وَبَنَاتٌ" "وَلَهُ بَنُونَ"، ہاں؟ "بنونَ" بھئی، "مسلمونَ"۔ "وَلَهُ بَنُونَ وَبَنَاتٌ"، اور اس کے بیٹے بھی ہیں اور بیٹیاں بھی ہیں، تو "أنّ الأمان..."، "إنّ" یہ "قال" کا مقولہ آیا، "قال في السير الكبير"، کہ اس صورت میں وہ فرماتے ہیں: "إِنَّ الْأَمَانَ يَتَنَاوَلُ الْفَرِيقَيْنِ"، کہ امان دونوں فریقوں کو شامل ہو گا، بیٹوں کو بھی اور... ذکر تو اس نے بیٹوں کا کیا، لیکن غلبہ دے کر بیٹیاں بھی اس میں شامل ہیں۔ "لِأَنَّ الْجَمْعَ الْمُذَكَّرَ يَتَنَاوَلُ الذُّكُورَ وَالْإِنَاثَ عِنْدَ الِاخْتِلَاطِ"، اس لیے کیونکہ جمع مذکر وہ شامل ہوتا ہے مذکر اور مؤنث دونوں کو "عِنْدَ الِاخْتِلَاطِ"، کس وقت؟ اختلاط کے وقت، جب دونوں ہوں بھئی۔ "وَلَوْ قَالَ: آمِنُونِي عَلَى بَنَاتِي"، اگر کہ اس شخص نے یوں کہا: "آمِنُونِي عَلَى بَنَاتِي"، "امان دے دو تم مجھے میری بیٹیوں پر"، "لَا يَتَنَاوَلُ الذُّكُورَ مِنْ أَوْلَادِهِ"، تو یہ جو اس کی اولاد میں سے مذکر ہیں، ان کو شامل نہیں ہو گا، "لِأَنَّ الْجَمْعَ لِلْمُؤَنَّثِ لَا يَتَنَاوَلُ الذُّكُورَ عَلَى سَبِيلِ التَّغْلِيبِ"، اس لیے کیونکہ جمع مؤنث وہ شامل نہیں ہو گی مذکر کو کس طریقے پر؟ تغلیب کے طریقے پر۔ کیونکہ مؤنث کا لفظ ذکر کیا ہے، تو اس میں مذکر شـ... تغلیباً داخل نہیں ہو سکتے۔ "وَلَوْ قَالَ: عَلَى بَنِيَّ"، اور اگر اس نے کیا کہا؟ "عَلَى بَنِيَّ"، آدھا کلام محذوف، حذف کر دیا، "آمِنُونِي عَلَى بَنِيَّ"، کہ مجھے امان دے دو میرو... میرے بیٹوں پر، "وَلَيْسَ لَهُ سِوَى الْبَنَاتِ"، اور اس کے لیے بیٹیوں کے سوا اور نہیں ہے، یعنی صرف بیٹیاں ہیں، "لَا يَثْبُتُ الْأَمَانُ لَهُنَّ"، تو ان بیٹیوں کے لیے امان ثابت نہیں ہو گی بھئی۔ کیوں؟ کیونکہ جمع مذکر کا صیغہ اختلاط کے وقت تو مؤنث کو شامل ہوتا ہے، صرف مؤنث ہوں تو ان کو شامل نہیں ہوتا۔ "لِأَنَّ الْجَمْعَ الْمُذَكَّرَ إِنَّمَا يَتَنَاوَلُ الْمُؤَنَّثَ عِنْدَ الِاخْتِلَاطِ تَغْلِيبًا دُونَ الِانْفِرَادِ لِعَدَمِ التَّغْلِيبِ"، اس لیے کیونکہ جمع مذکر وہ شامل ہوتا ہے مؤنث کو اختلاط کے وقت تغلیباً، تغلیب کے طریقے پر، "دُونَ الِانْفِرَادِ"، نہ کہ اکیلے ہوتے ہوئے، "لِعَدَمِ التَّغْلِيبِ"، بوجہ تغلیب کے نہ ہونے کے۔ "وَلَوْ ذَكَرَ هَذِهِ الْأَمْثِلَةَ عَلَى سَبِيلِ النَّشْرِ الْمُرَتَّبِ لَكَانَ أَوْلَى وَأَخْصَرَ"، اگر مصنف ان مثالوں کو نشرِ مرتب کے طریقے پر ذکر کر دیتے، تو یہ بہتر ہوتا اور مختصر ہوتا۔ بہتر ہوتا اور مختصر ہوتا۔ بھئی دیکھیے، اوپر تین باتیں ذکر کیں اسی متن میں، کہ جمع مذکر جو ہے، وہ ذکور اور اناث دونوں کو اختلاط کے وقت شامل ہو گا، جہاں جمع کی بحث شروع کی نا؟ جمع مذکر وہ ذکور اور اناث دونوں کو شامل ہو گا کس وقت؟ اختلاط کے وقت، اور آگے مثالوں میں بھی پہلے کہا: "آمِنُونِي عَلَى بَنِيَّ وَلَهُ بَنُونَ وَبَنَاتٌ"، یہ بھی اختلاط والی مثال ذکر کی تھی، تو یہ تو ٹھیک ہے۔ آگے کیا کہا تھا؟ "وَلَا يَتَنَاوَلُ الْإِنَاثَ الْمُنْفَرِدَاتِ"، اور اکیلی عورتیں ہوں تو ان کو شامل نہیں ہو گا۔ دوسری صورت میں مثال کیا ذکر کرنی چاہیے تھی؟ صیغہ مذکر کا ہی ہو اور ہوں صرف کیا؟ بیٹیاں، وہ ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کو تیسرے نمبر پر آگے انہوں نے ذکر کیا، تو ترتیب وہ نہ رہی جو اوپر لف کی ترتیب تھی، نشر کی وہ ترتیب نہ رہی، کہتے ہیں: اگر نشر کی ترتیب پر ذکر... لف کی ترتیب پر نشر کو ذکر کرتے، تو یہ بہتر بھی ہوتا اور کلام بھی مختصر ہو جاتا، دوبارہ "لَوْ قَالَ: عَلَى بَنِيَّ"، یہ کہنے کی ضرورت نہ ہوتی، وہ اسی ایک سے ہی کام چل جاتا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
142 approved lectures · 68 of 142