Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-069

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Ammar Ahsan
📍 Location Karachi, Pakistan
📅 Approved Date 25 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 270
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LEC 69 وَأَمَّا الصَّرِيحُ فَمَا ظَهَرَ المُرَادُ بِهِ ظُهُورًا بَيِّنًا حَقِيقَةً كَانَ أَوْ مَجَازًا، فِيهِ تَنبِيهٌ عَلَى أَنَّ الصَّرِيحَ وَالكِنَايَةَ يَجتَمِعُ مَعَ كُلٍّ مِنَ الحَقِيقَةِ وَالمَجَازِ، فَكَأَنَّهُمَا قِسمَانِ مِنهُمَا. آج ہم صریح اور کنایہ کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ یہ تقسیم چل رہی ہے استعمال کے اعتبار سے۔ کہ استعمال کے اعتبار سے کتنی قسمیں ہیں لفظ کی؟ چار قسمیں ہیں بھئی: حقیقت، مجاز، صریح اور کنایہ۔ حقیقت اور مجاز کی بڑی طویل بحث ختم ہوئی گزشتہ سبق کے اندر، اسی کے اندر حروفِ معانی کی بحث بھی آئی کیونکہ وہ بھی کبھی اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اپنے مجازی معنی میں۔ دو قسمیں حقیقت اور مجاز بیان ہو گئیں اس تقسیم کی، اب صریح اور کنایہ کا بیان کریں گے۔ یاد رکھیے آسان لفظوں میں صریح وہ لفظ ہے جس کا معنی واضح ہو، ظاہر ہو، اس میں اور کسی قسم کا احتمال نہ ہو۔ جبکہ کنایہ وہ ہے جس کے اندر اور بھی احتمالات ہوں۔ مثلاً کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ أَنْتِ طَالِقٌ۔ اب دیکھیے أَنْتِ طَالِقٌ کا ایک ہی معنی ہے کہ "تجھے طلاق ہے"، اس کا اور کوئی معنی نہیں بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر وہ اسے کہتا ہے أَنْتِ بَائِنٌ، تو دیکھیے اب "بائن" کا معنی ہے "جدا"۔ اب اس میں کئی احتمالات آ گئے، ایک تو یہ احتمال ہو سکتا ہے طلاق والا کہ "تو مجھ سے جدا ہے" خاوند اسے کہہ رہا ہے، یا "تو جدا ہے" ہو سکتا ہے اس کا یہ معنی ہو کہ "تو باقی عورتوں سے جدا ہے، تیرے جیسی تو کوئی بھی نہیں بھئی"، یا معنی یہ ہو سکتا ہے "تو حسن و جمال کے اندر جدا ہے، تیرے جیسی حسن و جمال والی کوئی نہیں"، یا یہ بھی معنی ہو سکتا ہے "تو جدا ہے یعنی میرے مال سے جدا ہے، آج کے بعد میرے مال میں میری اجازت کے بغیر تم نے کچھ خرچ نہیں کرنا"، تو دیکھو کئی احتمال آ گئے، "تو جدا ہے"۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں پر صریح جو ہوتا ہے اس میں اور کوئی احتمال نہیں ہوتا، اس کا معنی خوب واضح ہوتا ہے، جبکہ کنایہ جو ہے اس کے اندر اس کا معنی واضح نہیں ہوتا، اس کے اندر کئی احتمال ہوتے ہیں۔ یہ ہے صریح اور کنایہ۔ جی اور یاد رکھیے یہ صریح اور کنایہ جو ہیں حقیقت اور مجاز دونوں کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں۔ حقیقت کسے کہتے تھے؟ کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو۔ مجاز کسے کہتے تھے؟ کہ لفظ اپنے معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہو۔ تو حقیقت جب لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے، تو اس وقت وہ صریح بھی ہو سکتا ہے اور کنایہ بھی۔ اگر اس کا معنی اس کا معنی واضح ہو گا تو ہم کیا کہیں گے؟ یہ حقیقتِ صریحہ ہے۔ اور اگر اس کا معنی ظاہر نہ ہو تو کیا کہیں گے؟ یہ حقیقتِ کنایہ ہے۔ اسی طرح مجاز کے اندر بھی احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے وہ مجاز مشہور ہے، سب کو پتہ ہے، تو اس کا معنی خوب ظاہر ہے، تو اسے کیا کہیں گے؟ صریح۔ اور اگر وہ مشہور نہیں ہے تو پھر اسے کیا کہیں گے؟ کنایہ۔ تو گویا یوں کہو آسان لفظوں میں کہ یہ صریح اور کنایہ حقیقت اور مجاز کی قسمیں ہیں، چنانچہ بعض علماء نے باقاعدہ ان کو حقیقت اور مجاز کی قسمیں بنایا، کہ حقیقت بھی دو قسم پر ہے: صریح اور کنایہ، اور مجاز بھی دو قسم پر ہے: صریح اور کنایہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، تو یہ صریح جس کے معنی میں اور کوئی احتمال نہیں ہوتا، خوب واضح معنی ہوتا ہے، جبکہ کنایہ جو ہے جس کا معنی واضح نہ ہو، اس میں کئی احتمالات ہوں۔ آپ دیکھیے کتاب پر: وَأَمَّا الصَّرِيحُ فَمَا ظَهَرَ المُرَادُ بِهِ ظُهُورًا بَيِّنًا. باقی صریح جو ہے، تو وہ لفظ ہے کہ جس کی مراد ظاہر ہو اس سے، وہ لفظ، "ما" سے مراد کیا ہے؟ لفظ بھئی۔ تو صریح جو ہے، وہ لفظ ہے ظَهَرَ المُرَادُ بِهِ کہ جس کی مراد اس لفظ سے، کہ اس کی مراد اس لفظ سے ظاہر ہو ظُهُورًا بَيِّنًا خوب ظاہر بھئی، واضح بھئی، "بین" کا معنی واضح۔ کس قسم کا ظہور ہو؟ بین ہو، واضح ہو، حَقِيقَةً كَانَ أَوْ مَجَازًا چاہے وہ حقیقت ہو یا مجاز ہو۔ بھئی بتلایا صریح وہ ہے جس کا معنی خوب ظاہر ہو، جس کی مراد، جس کا ارادہ کیا گیا۔ تو جس کی مراد خوب ظاہر ہو چاہے وہ حقیقت ہو چاہے وہ مجاز ہو۔ تو یہ جو کہا نہ "چاہے وہ حقیقت ہو چاہے وہ مجاز ہو"، اس میں گویا اشارہ کر دیا، بتلا دیا کہ صریح حقیقت بھی ہو سکتا ہے اور مجاز بھی ہو سکتا ہے، یہی بات بیان کر رہے ہیں شارح بھی کہ فِيهِ تَنبِيهٌ عَلَى أَنَّ الصَّرِيحَ وَالكِنَايَةَ يَجتَمِعُ مَعَ كُلٍّ مِنَ الحَقِيقَةِ وَالمَجَازِ کہ اس کے اندر تنبیہ ہے، یہ جو انہوں نے کہا نہ حَقِيقَةً كَانَ أَوْ مَجَازًا، مصنف کے اس قول میں تنبیہ ہے اس بات پر کہ صریح اور کنایہ یہ جمع ہو جاتے ہیں ہر ایک کے ساتھ حقیقت اور کنایہ میں سے، فَكَأَنَّهُمَا قِسمَانِ مِنهُمَا تو گویا کہ یہ دونوں جو، یہ دونوں جو ہیں، کون دونوں؟ صریح اور کنایہ، قِسمَانِ مِنهُمَا قسمیں ہیں ان دونوں کی، کن کن دونوں کی بھئی؟ حقیقت اور مجاز کی۔ وَلَمَّا كَانَ ظُهُورُهُ مِنْ وُجُوهِ الاِسْتِعْمَالِ فَلاَ حَاجَةَ إِلَى قَيْدٍ يَخْرُجُ بِهِ النَّصُّ وَالمُفَسَّرُ. بھئی دیکھیے، صریح وہ ہے جس کا معنی، جس کی مراد ظاہر ہوتی ہے، جس کی مراد کیا ہوتی ہے؟ یعنی جس معنی کا ارادہ کیا گیا، مراد سے کیا معنی؟ جس مراد جس کا ارادہ کیا گیا، تو وہ معنی جس کا ارادہ کیا گیا وہ خوب ظاہر ہوتا ہے وہاں پر بھئی۔ اب ظہور کے اعتبار سے بھی آپ چار قسمیں پڑھ چکے ہیں بھئی۔ تو صریح میں بھی ظہور ہے اور وہ ظاہر، نص، مفسر اور محکم میں بھی ظہور ہے بھئی۔ تو اب وہ، وہ اس کے اندر داخل ہو رہی تھیں، ان میں سے ظاہر تو نہیں داخل ہو رہی۔ باقی تین قسمیں اس تعریف میں داخل ہو رہی ہیں۔ ظاہر چار قسمیں تھیں نہ: ظاہر، نص، مفسر اور محکم۔ ادنیٰ درجے کا ظہور کس میں ہے؟ ظاہر میں، اس سے زیادہ ظہور نص میں، اس سے زیادہ ظہور مفسر میں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا ظاہر تو یہاں داخل نہیں ہو رہا کیونکہ انہوں نے کہا ظُهُورًا بَيِّنًا، صریح میں کیا ہو گا؟ ظہورِ بین ہو گا، جبکہ ظاہر کے اندر ظہورِ بین نہیں ہوتا، تو وہ تو اس میں داخل نہ ہوا، لیکن باقی تین قسمیں داخل ہو رہی ہیں بھئی۔ تو ان کو نکالنے کی ضرورت ہے بھئی، کہ ان کو اس میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ شارح بتلائیں گے آپ کو، کہ بھئی کوئی قید نکالنے کی، کوئی قید لگانے کی ضرورت نہیں، نص، مفسر اور محکم کو نکالنے کے لیے، کوئی قید لگانے کی ضرورت نہیں، بھئی کیوں؟ ان کو نکالنا نہیں؟ کہتے ہیں بھئی، یہ ہم تقسیم جب ہم نے بیان کی تھی، اسی وقت وہ نکل گئے تھے۔ وہ قسمیں تھیں ظہور کے اعتبار سے، اور یہاں ہم نے کہا یہ قسمیں ہیں استعمال کے اعتبار سے، یہ حقیقت اور مجاز، صریح، کنایہ کس اعتبار سے قسمیں ہیں؟ استعمال، تو جب ہم نے کہہ دیا یہ استعمال کے اعتبار سے قسمیں ہیں تو وہ خود بخود اس سے کیا ہو گئیں؟ خارج ہو گئیں، لہٰذا کسی قید کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں بھئی۔ دیکھیے، کہتے ہیں وَلَمَّا كَانَ ظُهُورُهُ مِنْ وُجُوهِ الاِسْتِعْمَالِ جب جو ہے، اس کا ظہور جو ہے، استعمال کے طریقوں کے اعتبار سے ہے، کس کا؟ صریح کا، فَلاَ حَاجَةَ إِلَى قَيْدٍ تو کوئی حاجت نہیں ہے کسی ایسی قید کی يَخْرُجُ بِهِ النَّصُّ وَالمُفَسَّرُ جس کے ذریعے نص اور مفسر نکل جائیں، لِأَنَّ ظُهُورَهُ مِنْ حَيْثُ الاِسْتِعْمَالِ اسی لیے کیونکہ صریح کا ظہور جو ہے وہ استعمال کے اعتبار سے ہے، وَظُهُورُهُمَا بِقَصْدِ المُتَكَلِّمِ وَالقَرَائِنِ اور ان دونوں کا ظہور متکلم کے ارادے اور قرائن کے اعتبار سے ہے بھئی، کس اعتبار سے؟ متکلم کے ارادے اور قرائن کے اعتبار سے ہے۔ بھئی دیکھیے، نص کس کو کہتے تھے؟ وہ مقصد جس کے لیے کلام کو چلایا جائے، اسے کیا کہتے تھے؟ نص، اور البتہ اس میں تخصیص اور تاویل کا احتمال ہوتا تھا، جبکہ مفسر جس میں اس سے بھی بڑھ کر ظہور ہے، اس کے اندر تخصیص اور تاویل کا احتمال نہیں ہوتا، تو مفسر کا پتہ اس قرینے سے چلتا ہے کہ اس میں تخصیص اور تاویل کا احتمال نہیں، اور نص کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ متکلم کے ارادے سے، اس نے اس معنی کا ارادہ کیا ہوتا ہے، اسی معنی کے لیے وہ کلام کو لے کر آتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ یہ جو صریح ہے، اس کا ظہور استعمال کے اعتبار سے ہے، وَظُهُورُهُمَا بِقَصْدِ المُتَكَلِّمِ وَالقَرَائِنِ اور نص اور مفسر کا جو ظہور ہے، وہ کس اعتبار سے ہے؟ متکلم کے ارادے، یہ کس سے تعلق ہے اس کا؟ نص سے، وَالقَرَائِنِ اور قرائن کے اعتبار سے ان کا ظہور ہے، اس کا تعلق کس سے؟ مفسر سے۔ كَقَوْلِهِ جیسے کسی شخص کا قول: أَنْتَ حُرٌّ وَأَنْتِ طَالِقٌ۔ کوئی آقا اپنے غلام سے کہتا ہے أَنْتَ حُرٌّ۔ تو دیکھیے، یہاں کوئی اور معنی، کوئی اور احتمال ہے اس لفظ میں؟ نہیں، معلوم ہوا وہ اس کو آزاد کر رہا ہے، اس کا معنی بالکل واضح ہے، تو یہ صریح ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ صریح۔ اسی طرح کوئی خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے أَنْتِ طَالِقٌ، بھئی یہاں طلاق کے علاوہ کوئی اور احتمال ہے؟ یہاں تو اور کوئی بھی احتمال نہیں، لہٰذا ان لفظوں سے، میں کوئی احتمال نہیں تو یہ کیا کہلائیں گے؟ صریح۔ الظَّاهِرُ أَنَّهُمَا مِثَالَانِ لِلصَّرِيحِ مِنَ الحَقِيقَةِ ظاہر یہ ہے کہ یہ دونوں مثالیں ہیں صریح کی مِنَ الحَقِيقَةِ کس میں سے؟ حقیقت میں سے، کیونکہ ابھی بتلایا کہ صریح حقیقت بھی ہو سکتا ہے اور صریح مجاز، تو یہ حقیقت کی مثالیں ہیں، فَإِنَّهُمَا حَقِيقَتَانِ شَرْعِيَّتَانِ فِي إِزَالَةِ الرِّقِّ وَالنِّكَاحِ صَرِيحَانِ فِيهِمَا اس لیے کیونکہ یہ دونوں کا لفظ جو ہیں، کون سے؟ أَنْتَ حُرٌّ اور أَنْتِ طَالِقٌ، حَقِيقَتَانِ شَرْعِيَّتَانِ بھئی ان کو شریعت نے وضع ہی کس لیے کیا ہے؟ بھئی یاد رکھیے، پہلے ہی سمجھ لیں اس کو۔ یہ لفظ اگر دیکھا جائے عربی زبان کے اعتبار سے، تو لغت کے اعتبار سے یہ خبر ہے، أَنْتَ مبتدا اور حُرٌّ اس کی خبر۔ تو خبر دی جا رہی ہے کہ "تو آزاد ہے"۔ تو لغت کے اعتبار سے ان کا حقیقی معنی کیا ہے؟ خبر۔ کیا معنی ہے؟ خبر۔ لیکن شریعت نے اسی أَنْتَ حُرٌّ کو ازالہِ رقیت کے لیے قرار دے دیا، کہ أَنْتَ حُرٌّ کہنے سے غلام آزاد ہو جائے گا بھئی۔ آقا اگر اپنے غلام کو کیا کہے گا؟ أَنْتَ حُرٌّ، لغت تو کہہ رہی ہے یہ خبر دے رہا ہے بھئی، پہلے سے آزادی پہلے سے ہو، اس کے ذریعے صرف کیا دی جاتی ہے؟ خبر، جبکہ شریعت نے بتلایا نہیں، یہ اگر غلام کو کہا تو اس کے ذریعے کیا آ جائے گی، کیا پیدا ہو جائے گی؟ حریت پیدا ہو جائے گی غلام بھئی، انشاءِ حریت ہو گا بھئی، یعنی رقیت ختم ہو جائے گی، غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ تو شریعت کے اعتبار سے یہ ازالہِ رقیت میں حقیقت ہے۔ شریعت نے اس کو معین ہی کس لیے کر دیا؟ ازالہِ رقیت کے لیے، اور اسی میں استعمال ہو رہا ہے تو یہ کس میں استعمال ہوا؟ اپنے معنی موضوع لہ میں، حقیقی میں، تو یہ کیا ہے؟ حقیقت۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح أَنْتِ طَالِقٌ ہے، لغوی اعتبار سے یہ خبر ہے، لیکن شریعت نے اسی أَنْتِ طَالِقٌ کو کس کے لیے مقرر کر دیا؟ جی؟ ازالہِ نکاح کے لیے، کس کے لیے؟ ازالہِ نکاح کے لیے، تو شرعی اعتبار سے أَنْتِ طَالِقٌ جو ہے ازالہِ نکاح میں حقیقت ہے بھئی۔ لیکن لغوی اعتبار سے؟ أَنْتِ طَالِقٌ تو کیا ہے؟ خبر ہے، اور اس کو اگر استعمال کیا جائے ازالہِ نکاح کے لیے، تو پھر یہ لغوی اعتبار سے کیا ہو گا؟ مجاز ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو شارح بیان کر رہے ہیں الظَّاهِرُ أَنَّهُمَا مِثَالَانِ لِلصَّرِيحِ مِنَ الحَقِيقَةِ ظاہر یہی ہے کہ یہ دونوں مثالیں ہیں صریح کی حقیقت میں سے، فَإِنَّهُمَا حَقِيقَتَانِ شَرْعِيَّتَانِ فِي إِزَالَةِ الرِّقِّ وَالنِّكَاحِ اس لیے کیونکہ یہ دونوں حقیقتِ شرعیہ ہیں رقیت اور نکاح کے ازالے میں، رقیت اور نکاح کے ختم کرنے میں، صَرِيحَانِ فِيهِمَا اور اس دونوں میں کیا ہیں وہ؟ صریح ہیں، یعنی ازالہِ رقیت اور ازالہِ نکاح میں یہ دونوں صریح ہیں، یہ معنی ان سے ظاہر ہے بھئی۔ وَيَحْتَمِلُ اور یہ بھی احتمال ہے أَنْ يَكُونَا مِثَالَيْنِ لِلْحَقِيقَةِ وَالمَجَازِ کہ یہ دو مثالیں ہوں حقیقت اور مجاز دونوں کی۔ جہت بدلے گی تو حقیقت اور مجاز بدل جائے گا بھئی۔ اگر لغوی اعتبار سے دیکھیں تو یہ کیا ہیں؟ مجاز ہیں بھئی، ازالہِ رقیت اور ازالہِ نکاح میں، تو یہ مثالیں ہو گئیں مجاز کی لغوی اعتبار سے۔ اور شرعی اعتبار سے دیکھیں تو یہی دو مثالیں کس کی ہو گئیں؟ حقیقت کی بھئی۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَا مِثَالَيْنِ لِلْحَقِيقَةِ وَالمَجَازِ بِاعْتِبَارِ جِهَتَيْنِ اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ دونوں مثالیں حقیقت اور مجاز دونوں کی ہوں بِاعْتِبَارِ جِهَتَيْنِ دو جہتوں کے اعتبار سے، لِأَنَّهُمَا مَجَازَانِ لُغَوِيَّانِ فِي هَذَا المَعْنَى اسی لیے کیونکہ یہ دونوں مجازِ لغوی ہیں اس معنی کے اندر، کس معنی میں؟ ازالہِ رقیت اور ازالہِ نکاح، اس معنی میں یہ دونوں مجازِ لغوی ہیں، حقیقت نہیں ہیں، وَحَقِيقَتَانِ شَرْعِيَّتَانِ فِيهِ اور دونوں اس معنی کے اندر حقیقتِ شرعیہ ہیں، هَكَذَا قِيلَ اس طرح کہا گیا ہے، یعنی علماء نے یہ تقریر کی ہے اس مقام پر۔ وَحُكْمُهُ تَعَلُّقُ الحُكْمِ بِعَيْنِ الكَلاَمِ وَقِيَامُهُ مَقَامَ مَعْنَاهُ حَتَّى اسْتَغْنَى عَنِ العَزِيمَةِ. یاد رکھیے صریح کا حکم اب بیان کر رہے ہیں۔ کہ صریح جو ہے اس میں چونکہ اور کوئی احتمال نہیں ہوتا، لہٰذا صریح کہنے سے خود بخود اس کا معنی ثابت ہو جائے گا۔ اس خود بخود اس کا معنی کیا ہو جائے گا؟ نیت پر اس کا دارومدار نہیں۔ خاوند نے نیت کی ہو یا نہ کی ہو، أَنْتِ طَالِقٌ کہے گا تو بیوی کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔ آقا نے نیت کی ہو یا نیت نہ کی ہو، غلام کو أَنْتَ حُرٌّ کہے گا تو غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ اس میں اور کوئی احتمال ہی نہیں ہے بھئی، ایک ہی ان کا معنی ہے اور وہی معنی کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا، گویا یہ لفظ ہی اپنے معنی کے قائم مقام ہیں۔ لفظ ہی کیا ہیں؟ تو وہ خود جب لفظ ثابت ہو رہے ہیں، گویا کیا ثابت ہو رہا ہے؟ معنی ثابت ہو رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں وَحُكْمُهُ تَعَلُّقُ الحُكْمِ بِعَيْنِ الكَلاَمِ اور حکم اس صریح کا جو ہے، وہ تعلق، حکم کا متعلق ہونا ہے عینِ کلام کے ساتھ، حکم کس سے متعلق ہو گا؟ عینِ کلام سے، یعنی نیت کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہو گا۔ وَقِيَامُهُ مَقَامَ مَعْنَاهُ اور یہ جو کلام ہے، یہ قائم مقام ہو جائے گا اپنے معنی کے، حَتَّى اسْتَغْنَى عَنِ العَزِيمَةِ عزیمت کا معنی ارادہ، یہاں تک کہ یہ بے نیاز ہو گا ارادے سے، نیت اور ارادے کے پر اس کا دارومدار نہیں ہو گا۔ أَيْ لاَ يَحْتَاجُ إِلَى أَنْ يَنْوِيَ المُتَكَلِّمُ ذَلِكَ المَعْنَى مِنَ اللَّفْظِ یعنی یہ محتاج نہیں ہے اس بات کا کہ نیت کرے متکلم اس معنی کی لفظ سے، یعنی متکلم کی نیت کا یہ محتاج نہیں ہو گا۔ فَإِنْ قَصَدَ پس اگر ارادہ کیا کسی شخص نے أَنْ يَقُولَ کہ یوں کہے: سُبْحَانَ اللهِ، ایک شخص تسبیح پڑھ رہا ہے بھئی سُبْحَانَ اللهِ، سُبْحَانَ اللهِ کہتے ہوئے اچانک زبان سے نکلا أَنْتِ طَالِقٌ، تو کہتے ہیں یہ لفظ صریح ہے، اس میں تو اور کسی معنی کا احتمال ہی نہیں، لہٰذا بیوی کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں فَإِنْ قَصَدَ پس اگر کسی نے ارادہ کیا أَنْ يَقُولَ کہ یوں کہے: سُبْحَانَ اللهِ، فَجَرَى عَلَى لِسَانِهِ تو اس کی زبان پر یہ لفظ جاری ہوا أَنْتِ طَالِقٌ، یہ اس کی زبان پر جاری ہو گیا سُبْحَانَ اللهِ کے بجائے، یہ لفظ زبان سے نکل آیا، يَقَعُ الطَّلاَقُ تو طلاق واقع ہو جائے گی بھئی، وَلَوْ لَمْ يَقْصِدْهُ اگرچہ اس نے اس کا ارادہ نہ کیا ہو، وَهَكَذَا قَوْلُهُ: بِعْتُ وَاشْتَرَيْتُ اور اسی طرح اس شخص کا قول بِعْتُ اور اشْتَرَيْتُ ہے بھئی۔ یاد رکھیے، کوئی شخص مثلاً ذکر کر رہا ہے یا کوئی اور بات کرنے لگا، زبان سے نکل آیا أَنْتِ طَالِقٌ، تو یاد رکھیے، انہوں نے بتلایا طلاق واقع ہو جائے گی، لیکن یہ مسئلہ ہے قضاءً، دیانتً نہیں۔ دیانتً یعنی فیما اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان بھئی، اس اعتبار سے طلاق واقع نہیں کیونکہ اس کی نیت نہیں تھی، لیکن اگر قضاءً قاضی کے پاس مسئلہ گیا تو قاضی پھر کیا کہے گا؟ طلاق ہو گئی کیونکہ أَنْتِ طَالِقٌ کا تو ایک ہی معنی ہے اور کوئی معنی نہیں، لہٰذا وہ تسبیح پڑھ رہا تھا، زبان سے اچانک أَنْتِ طَالِقٌ نکل آیا، بیوی پاس ہی بیٹھی تھی، سن لیا اس نے، وہ تو فوراً قاضی کے پاس چلی گئی بھئی، وہ تو پہلے ہی جان چھڑانے کا سوچ رہی تھی، تو اب قاضی کیا فیصلہ کرے گا؟ طلاق ہو گئی بھئی، لیکن اگر اس کی نیت نہیں تھی تو پھر دیانتً طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی۔ وَأَمَّا الكِنَايَةُ فَمَا اسْتَتَرَ المُرَادُ بِهِ اور باقی کنایہ جو ہے، فَمَا پس وہ لفظ ہے اسْتَتَرَ المُرَادُ کہ جس کی مراد، کہ مراد کہ پوشیدہ ہو مراد اس کی بِهِ اس لفظ کے ذریعے، اس لفظ کے ذریعے جس چیز کا ارادہ کیا گیا ہو، جس معنی کا ارادہ کیا گیا ہو وہ پوشیدہ ہو۔ تو کہتے ہیں وَأَمَّا الكِنَايَةُ فَمَا اسْتَتَرَ المُرَادُ بِهِ باقی کنایہ پس وہ لفظ ہے کہ جس کی مراد پوشیدہ ہو، وَلاَ يُفْهَمُ إِلاَّ بِقَرِينَةٍ اور وہ سمجھ میں نہ آئے مگر کسی قرینے کے ذریعے، حَقِيقَةً كَانَ أَوْ مَجَازًا چاہے وہ حقیقت ہو یا مجاز، فِيهِ تَنبِيهٌ أَيْضًا یہ جو مصنف نے کہا حقیقت ہو یا مجاز، اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ کنایہ دونوں کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے، تو کہتے ہیں فِيهِ تَنبِيهٌ أَيْضًا اس کے اندر بھی اس بات پر تنبیہ ہے عَلَى أَنَّ الكِنَايَةَ تَجْتَمِعُ مَعَ الحَقِيقَةِ وَالمَجَازِ کہ کنایہ وہ جمع ہو جاتا ہے حقیقت اور مجاز کے ساتھ۔ وَالمُرَادُ بِالاِسْتِتَارِ هُوَ الاِسْتِتَارُ بِحَسَبِ الاِسْتِعْمَالِ اور استتار انہوں نے کہا کہ اس کی مراد پوشیدہ ہو، یہ پوشیدہ ہونے کا کیا معنی؟ کہتے ہیں هُوَ الاِسْتِتَارُ بِحَسَبِ الاِسْتِعْمَالِ وہ استعمال کے اعتبار سے پوشیدہ ہونا ہے بھئی، اور اعتبارات سے نہیں، صرف استعمال کے اعتبار سے اس کی مراد پوشیدہ ہو۔ وَلاَ حَاجَةَ إِلَى إِخْرَاجِ الخَفِيِّ وَالمُشْكِلِ لِأَنَّ خَفَاءَهُمَا بِحَسَبِ مَانِعٍ آخَرَ. بھئی اس کے کنایہ کے اندر خفا ہوتا ہے، اسی طرح خفی، مشکل، مجمل وغیرہ کے اندر بھی کیا ہوتا ہے؟ خفا۔ تو یہاں کہتے ہیں خفی اور مشکل بھی اس کے اندر داخل ہو رہے تھے، ان میں بھی خفا ہے، اور تو ان کو نکالنے کے لیے قید ہونی چاہیے جس سے وہ نکل جائیں، تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی یہ، یہ خفی اور مشکل تقسیم کے وقت ہی نکل گئے کیونکہ وہاں پر ہی ہم نے بتا دیا تھا کہ یہ قسمیں ہیں کس اعتبار سے یہ صریح وغیرہ؟ استعمال کے اعتبار سے ہیں، اور وہ خفی، مشکل وغیرہ قسمیں تھیں، وہ خفا کے اعتبار سے قسمیں تھیں، تو وہ وہی پر نکل گئے تھے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَلاَ حَاجَةَ إِلَى إِخْرَاجِ الخَفِيِّ وَالمُشْكِلِ اور کوئی حاجت نہیں ہے خفی اور مشکل کو نکالنے کی لِأَنَّ خَفَاءَهُمَا بِحَسَبِ مَانِعٍ آخَرَ اسی لیے کیونکہ ان دونوں کا جو خفا ہے وہ کسی اور مانع کی وجہ سے ہو گا بھئی، استعمال کی وجہ سے نہیں، فَلَوْ وَقَعَ الخَفَاءُ فِي الصَّرِيحِ اگر خفا واقع ہو جائے صریح میں، بھئی صریح تو وہ ہے جس میں ظہور ہو، اور کنایہ تو وہ جس کے اندر خفا ہو، لیکن اگر کبھی کیا ہے؟ خفا واقع ہو جائے کس میں؟ صریح میں، أَوْ الظُّهُورُ فِي الكِنَايَةِ یا ظہور آ جائے کس کے اندر؟ کنایہ میں، بِعَوَارِضَ أُخْرَى دوسرے عوارض کی وجہ سے، لاَ يَضُرُّ ذَلِكَ فِي كَوْنِهِ صَرِيحًا أَوْ كِنَايَةً تو یہ اس کے صریح یا کنایہ ہونے میں کوئی نقصان نہیں دیتا، لِأَنَّ العَوَارِضَ الأُخْرَى لاَ تُعْتَبَرُ اسی لیے کیونکہ دوسرے عوارض کا کوئی اعتبار نہیں ہے، فَالْمَدَارُ فِيهِمَا عَلَى الاِسْتِعْمَالِ ان میں مدار کس چیز پر ہے؟ اس میں ان میں دارومدار استعمال پر ہے، اگر اور عوارض کی وجہ سے صریح ہونا تو ظاہر چاہیے تھا لیکن اس میں کسی اور عارض کی وجہ سے خفا آ گیا، کنایہ اس کی مراد تو پوشیدہ ہوتی ہے لیکن اگر کسی عارض کی وجہ سے ظہور آ گیا، تو اس سے ان کو کوئی نقصان نہیں ہو گا، کیونکہ ان میں دیکھنا آپ نے ان میں دارومدار کس چیز پر ہے؟ استعمال پر ہے بھئی۔ تو استعمال کے اعتبار سے معنی ظاہر ہونا چاہیے، تو وہ صریح ہو گا، اور استعمال کے اعتبار سے مراد پوشیدہ ہو تو وہ کنایہ ہو گا۔ وَلِهَذَا قَالُوا اور اسی وجہ سے علماء نے ذکر کیا ہے، علماء فرماتے ہیں: إِنَّ الحَقِيقَةَ المَهْجُورَةَ كِنَايَةٌ کہ حقیقتِ مہجورہ کنایہ ہے۔ حقیقتِ مہجورہ بھئی وہ حقیقت جس کے حقیقی معنی کو چھوڑ دیا گیا ہو، چھوڑ دیا گیا ہو، تو وہ کنایہ ہے بھئی، کیونکہ جب اس کو چھوڑ دیا گیا، تو اب ذہن اس کی طرف نہیں جائے گا، لوگ اس معنی کو، لوگوں نے اس معنی کو ہی چھوڑ دیا، اس کا ارادہ ہی نہیں کرتے، تو لہٰذا اب اگرچہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو، لیکن اس کو کیا کہیں گے؟ جب اس معنی کا آپ نے ارادہ کر لیا، آپ نے حقیقتِ مہجورہ کا ارادہ کر لیا اگرچہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے، لیکن یہ معنی تو لوگ اس مراد ہی نہیں لیتے، تو لوگ اس معنی کو سمجھیں گے فوراً؟ لوگ اس معنی کو نہیں سمجھیں گے، جب نہیں سمجھیں گے تو یہ صریح ہوا یا کنایہ ہوا؟ یہ کنایہ ہوا بھئی۔ تو کہتے ہیں إِنَّ الحَقِيقَةَ المَهْجُورَةَ كِنَايَةٌ حقیقتِ مہجورہ کنایہ ہے، وَالمُسْتَعْمَلَةَ صَرِيحٌ اور حقیقتِ مستعملہ صریح ہے، کیونکہ اس کا معنی ظاہر ہوتا ہے، لوگ بھی اسی معنی میں استعمال کرتے ہیں اور اسی معنی کو سمجھتے ہیں، اسی طرح وَالمَجَازُ المُتَعَارَفُ صَرِيحٌ وَغَيْرُ المُتَعَارَفِ كِنَايَةٌ مجازِ متعارف کیا ہے؟ جی، وَالمَجَازَ المُتَعَارَفَ پیچھے یہ سب اِنَّ کا اسم جو ہے، اسی پر عطف کر لیں، وَالمَجَازَ المُتَعَارَفَ صَرِيحٌ اور یہ علماء نے فرمایا کہ مجازِ متعارف صریح ہے، وہ مجاز جو مشہور ہے بھئی، سب کو پتہ ہے، تو وہ مجاز بھی کیا ہے؟ یہ صریح ہے، وَغَيْرُ المُتَعَارَفِ كِنَايَةٌ اور مجازِ غیر متعارف جو مشہور نہیں ہے، وہ کیا ہو گا؟ کنایہ ہو گا، مِثْلُ أَلْفَاظِ الضَّمِيرِ جیسے کہ ضمائر کے الفاظ ہیں بھئی، ضمائر ہیں بھئی، كَهَاءِ الكِنَايَةِ جیسے ہائے کنایہ کی۔ بھئی پیچھے گزرا تھا یا نہیں؟ ضمیر کو انہوں نے کیا کہا تھا؟ کنایہ، کیونکہ ایک ہے صراحتاً کسی کا نام لیا جائے کہ زید میرے پاس آیا تھا، تو وہاں، اور ایک ہے صراحتاً نام نہ لیا جائے، ضمیر سے ذکر کیا جائے کہ هُوَ جَاءَنِي، وہ میرے پاس آیا تھا، تو اب صراحتاً نام نہیں لیا، بلکہ اس کے کنایہ کیا، تو اس کو کنایہ انہوں نے کہا تھا یہ جو ضمیر استعمال ہوئی، تو اسی لیے اس کو ہائے کنایہ سے تعبیر کر رہے ہیں، جو پہلے بھی بات گزر چکی ہے، كَهَاءِ الكِنَايَةِ جیسے کہ ہائے کنایہ ہے بھئی، وَأَنَا اور أنا کی ضمیر ہے، وَأَنْتَ اور یعنی متکلم اور مخاطب کی جو ضمیریں، غائب، متکلم، مخاطب ساری ضمیریں ہیں، یہ سب کیا ہیں؟ یہ ان سب کو کنایہ یہ کہہ رہے ہیں بھئی، کنایہ کہتے ہیں۔ فَإِنَّ كُلَّهَا وُضِعَتْ لِيَسْتَعْمِلَهَا المُتَكَلِّمُ عَلَى طَرِيقِ الاِسْتِتَارِ وَالخَفَاءِ اسی لیے کیونکہ ان میں سے سب جو ہیں، ان کو وضع کیا گیا ہے تاکہ استعمال کرے متکلم ان کو استتار اور خفا کے طریقے پر، بھئی متکلم اپنے بارے میں جب بات کرتا ہے تو أنا سے تعبیر کرتا ہے یا نحن سے، اپنا نام نہیں لیتا، تو دیکھو اس نے کنایہ کیا، نام کے بجائے ضمیر لے آیا، اور مخاطب کو کے لیے وہ أَنْتَ کہتا ہے، حالانکہ کہنا کیا چاہیے؟ مخاطب اس کا تو نام ہونا چاہیے، لیکن طریقہ یہی ہے کلام کے اندر کہ اپنے لیے بھی اور مخاطب کے لیے کیا استعمال کی جاتی ہے؟ ضمیر، اور غائب بھی جب ایک شخص کا نام وغیرہ ذکر ایک دفعہ ہو جائے، تو دوبارہ نام ذکر نہیں کیا جاتا، بلکہ ضمیر استعمال کی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں فَإِنَّ كُلَّهَا وُضِعَتْ لِيَسْتَعْمِلَهَا المُتَكَلِّمُ عَلَى طَرِيقِ الاِسْتِتَارِ وَالخَفَاءِ اسی لیے کیونکہ ان میں سے سب جو ہیں، ان کو وضع کیا گیا ہے تاکہ استعمال کرے متکلم ان کو استتار اور خفا کے طریقے پر، وَكَوْنُهُ أَعْرَفَ المَعَارِفِ عِنْدَ النَّحْوِيِّينَ لاَ يَضُرُّ بِكَوْنِهِ كِنَايَةً لِأَنَّ ذَلِكَ شَيْءٌ آخَرُ. بھئی یاد رکھیے نحوی حضرات معرفہ کی چھ سات قسمیں آپ نے نحو میں پڑھی ہوں گی بھئی۔ اور یاد رکھیے ان سب میں تعریف ایک درجے کی نہیں ہے کہ وہ برابر کے معرفہ ہوں، کسی میں تعریف زیادہ ہے اور کسی میں تعریف کم، تو کوئی اعلیٰ درجے کا معرفہ ہے، کوئی ادنیٰ درجے کا معرفہ ہے، ان چھ، سات قسموں کے اندر یا یاد رکھیے سب سے زیادہ تعریف نحوی حضرات ذکر کرتے ہیں کہ ضمائر کے اندر ہے، کس کے اندر ہے؟ ضمائر کے اندر، اور پھر ضمائر کے اندر بھی درجے ہیں، سب سے زیادہ تعریف ضمائر کے اندر بھی متکلم کی ضمیر میں ہے، اس کے بعد درجہ ہے مخاطب کی ضمیر کا، اور پھر تیسرے نمبر پر غائب کی ضمیر، تو متکلم کی جو ضمیر ہے، یہ اعرف المعارف ہے، یہ تینوں ضمیریں باقیوں کے مقابلے میں کیا ہیں؟ اعرف المعارف ہیں۔ بھئی سب سے زیادہ تعریف متکلم کی ضمیر میں اس لیے ہے، کہ تعریف کا معنی ہوتا ہے پہچاننا، معرفہ بھی کسی ایسی ذات پہ دلالت کرتا ہے جس کو آپ پہچانتے ہیں، آپ کے نزدیک متعین ہوتی ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معرفہ، کیونکہ وہ متعین ذات پر دلالت کرتا ہے جس کو آپ پہچانتے ہیں، جانتے ہیں۔ تو یہ جو ضمیر کے اندر، ضمائر کے اندر یہ معرفہ کی اقسام ہیں، ان میں تعریف ہوتی ہے، اور سب سے زیادہ تعریف أنا کی ضمیر میں ہے، متکلم کی ضمائر میں ہے، کیونکہ انسان سب سے زیادہ اپنے آپ کو پہچانتا ہے، سب سے زیادہ اپنے آپ سے واقف ہوتا ہے، اس کے بعد درجہ ہے مخاطب کا، مخاطب کو پہچانتا ہے، کیونکہ مخاطب وہ ہے جو اس کے سامنے موجود ہے، اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں ہے، تو وہ دوسرے درجے پر، اور تیسرے درجے پر کون ہے؟ غائب ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا نحوی حضرات لکھتے ہیں کہ یہ ضمائر جو ہیں، اعرف المعارف ہیں۔ اور شارح یہ ماتن نے تو کیا کہا؟ یہ کیا ہیں؟ یہ کنایات ہیں بھئی، یہ کنایات ہیں، ان میں استتار اور خفا ہے۔ استتار اور خفا۔ تو یہی بات دیکھیے بیان کر رہے ہیں، کہ ضمائر کے اندر جو ہیں، یہ ان میں استتار اور خفا ہوتا ہے، وَكَوْنُهُ أَعْرَفَ المَعَارِفِ عِنْدَ النَّحْوِيِّينَ جبکہ ان کا اعرف المعارف ہونا نحوئیوں کے نزدیک لاَ يَضُرُّ بِكَوْنِهِ كِنَايَةً وہ اس کے کنایہ ہونے میں نقصان نہیں دیتا، لِأَنَّ ذَلِكَ شَيْءٌ آخَرُ اسی لیے کیونکہ وہ دوسری چیز ہے بھئی، دوسری چیز ہے۔ شاید بھئی ضمائر تو اعرف المعارف ہیں، اور کنایہ کنایہ غائب کی ضمیر کو تو قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن شارح نے أنا اور أنت کو بھی اس میں ذکر کر دیا، غائب کی ضمیر تو ٹھیک ہے، اس میں خفا ہوتا ہے، ضمیر کا مرجع آپ ڈھونڈتے ہیں یا نہیں ڈھونڈتے؟ "ہو" سے کون مراد ہے؟ أنا سے تو پتہ ہے متکلم بولنے والا مراد ہے، أنت سے تو سامنے والا مراد ہے، اس میں تو خفا نہیں، ہاں "ہو" کے اندر خفا ہے، تو اس کو تو کنایہ کہنا ٹھیک، لیکن أنا اور أنت؟ لیکن بہرحال شارح نے ان کو بھی ذکر کیا کہ یہ سب کیا ہیں؟ کنایہ ہیں، شاید یہ وضع کے اعتبار سے ان کی مراد ہو بھئی، وضع کے اعتبار سے، کہ دیکھو میں نے کہا هُوَ قَائِمٌ، زید کی طرف اشارہ کیا، پہلے میرے اور آپ کے درمیان زید کا ذکر چل رہا تھا، اب میں نے کہا هُوَ قَائِمٌ، وہ کھڑا ہے، آپ سمجھ گئے کون مراد ہے؟ زید، اچھا، کچھ دیر بعد میرے اور آپ کے درمیان عمرو کی بات چلی، میں نے کہا هُوَ قَائِمٌ، آپ کون سمجھے کون کھڑا ہے؟ عمرو، وہی ہو ضمیر ہے، پہلے زید کے لیے تھی اب عمرو کے لیے ہے بھئی۔ یا اسی طرح متکلم میں دیکھ لیں، میں بات کر رہا ہوں تو میں اپنے لیے کیا ضمیر استعمال کروں گا؟ أنا، اگر آپ بات کر رہے ہیں آپ بھی کیا استعمال کریں گے؟ أنا، تیسرا شخص بات کر رہا ہے وہ متکلم ہو گیا، وہ بھی اپنے لیے کیا بات کیا استعمال کرے گا؟ أنا، دیکھو وہی أنا سب استعمال کر رہے ہیں، یا متکلم مخاطب کی ضمیر دیکھ لو، اگر میں میرے سامنے زید کھڑا ہے تو میں اسے أنت کہہ کر مخاطب کروں گا، اگر عمرو کھڑا ہوا اسے میں أنت کہہ کر مخاطب کروں گا، اگر بکر ہوا تو اسے أنت کہہ کر مخاطب کروں گا، تو دیکھو وہی أنت ہے، میں وہ زید کے لیے بھی استعمال کر رہا ہوں، عمرو کے لیے بھی، اور بکر کے لیے بھی۔ تو یاد رکھیے یہ جو ضمائر ہیں، یہ وضع کے اعتبار سے عام ہیں، استعمال کے اعتبار سے خاص ہیں، وضع کی جیسے مثلاً، ہو کی ضمیر وضع کی گئی ہے ہر غائب کے لیے، ہر مذکر غائب کے لیے آپ اس کو استعمال کر سکتے ہیں، لیکن جب استعمال کریں گے تو کسی ایک خاص کے لیے کریں گے، تو وضع کے اعتبار سے یہ عام، استعمال کے اعتبار سے خاص، أنا ضمیر ہر متکلم کے لیے وضع کی گئی، لیکن جب کوئی استعمال کرے گا تو وہ متکلم کوئی خاص ہو گا بھئی، أنت کی ضمیر ہر مخاطب کے لیے استعمال وضع کی گئی، لیکن جبکہ استعمال کیا جائے گا تو کسی ایک خاص کے لیے استعمال کریں گے آپ، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو شاید اس اعتبار سے کہ ان کو ہر غائب یا ہر متکلم یا ہر مخاطب کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، شاید اس اعتبار سے شارح نے ان کو کیا قرار دیا؟ کنایہ قرار دیا، اس اعتبار سے ان میں خفا ہے، جب تک استعمال نہیں کریں گے، اس وقت تک پتہ نہیں چلے گا۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں یہ جو ضمائر ہیں ان کے اندر استتار اور خفا ہوتا ہے، وَلِهَذَا أَنْكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ دَقَّ بَابَهُ فَقَالَ مَنْ أَنْتَ فَقَالَ أَنَا فَقَالَ أَنَا أَنَا، یہ حدیث ہے بھئی یہاں تک۔ بھئی حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، کہ میں ایک مرتبہ آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: مَنْ أَنْتَ؟ تم کون ہو؟ میں نے کہا أنا، میں ہوں جی، أنا، میں ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناگواری کا اظہار فرمایا اور بولے: أَنَا أَنَا! میں، میں! یعنی یہ "میں" کیا ہوتا ہے بھئی؟ "میں" سے اندر والے کو تو پتہ نہیں چلے گا بھئی، أنا تو ہر متکلم اپنے لیے استعمال کرتا ہے، ہر آنے والا یہی کہے گا "میں ہوں"، تو پتہ تو نہیں چلے گا اندر والے کو، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار فرمایا، کہ بھئی میں نے کیا پوچھا ہے کہ کون ہو، تو میں اپنا نام بتانا چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جس سے اندر والے کو علم ہو سکے کہ کون آیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں چونکہ کہ ضمیر کے اندر استتار ہوتا ہے، وَلِهَذَا أَنْكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ دَقَّ بَابَهُ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان، انکار فرمایا، کس پر؟ عَلَى مَنْ دَقَّ بَابَهُ اس شخص پر جس نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، فَقَالَ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ أَنْتَ؟ تم کون ہو؟ فَقَالَ أَنَا، تو انہوں نے کہا میں ہوں، فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ: أَنَا أَنَا، جی یہاں تک یہ حدیث ہے، آگے شارح بتلا رہے ہیں أَيْ لِمَ تَقُولُ أَنَا أَنَا تم أنا، أنا کیوں کہہ رہے ہو؟ بَلِ اُذْكُرِ اسْمَكَ حَتَّى أَفْهَمَ بلکہ اپنا نام ذکر کرو تاکہ میں سمجھ جاؤں بھئی، یہ مراد تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ تو ترجمہ کیا ہوا؟ وَلِهَذَا أَنْكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ دَقَّ بَابَهُ حضور علیہ السلام نے انکار فرمایا یعنی یوں کہیں ناگواری کا اظہار فرمایا، ناگواری کا اظہار فرمایا اس شخص پر جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ ثُمَّ الظَّاهِرُ أَنَّهُ مِثَالٌ لِلْكِنَايَةِ الحَقِيقِيَّةِ اب شارح فرما رہے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ مثال ہے کنایہِ حقیقیہ کی۔ یہ جو الفاظِ ضمیر ہیں یہ کس کی مثال ہیں؟ جی، تو یہ، وَلَمْ يَذْكُرْ مِثَالَ الكِنَايَةِ المَجَازِيَّةِ اور ماتن نے کنایہِ مجازیہ کی مثال ذکر نہیں کی بھئی۔ وَحُكْمُهَا أَنْ لاَ يَجِبَ العَمَلُ بِهَا إِلاَّ بِالنِّيَّةِ، جی اب کنائے کا حکم بتا رہے ہیں، صریح کا تو حکم بتا دیا کہ اس کا معنی ثابت ہو جائے گا، اس میں کسی نیت کی ضرورت نہیں، جبکہ کنائے کے معنی میں چونکہ استتار ہوتا ہے، لہٰذا وہاں کہنے والے کی نیت ضروری ہے۔ جی، کہتے ہیں وَحُكْمُهَا أَنْ لاَ يَجِبَ العَمَلُ بِهَا إِلاَّ بِالنِّيَّةِ اور حکم کنائے کا یہ ہے کہ واجب نہیں ہے اس پر عمل، أَنْ لاَ يَجِبَ العَمَلُ بِهَا أَيْ بِالكِنَايَةِ کنائے کا حکم یہ ہے کہ اس کنائے پر عمل واجب نہیں ہے إِلاَّ بِالنِّيَّةِ مگر نیت سے، أَيْ بِنِيَّةِ المُتَكَلِّمِ یعنی متکلم کی نیت سے، لِكَوْنِهَا مُسْتَتِرَةَ المُرَادِ اس بوجہ اس کے مستتر المراد ہونے کے، فَلاَ تَطْلُقُ، فَلاَ تَطْلُقُ ہونا چاہیے بھئی۔ فَلاَ تَطْلُقُ، بھئی مونث کا صیغہ نہ، طلاق والی کون ہو گی؟ عورت، فَلاَ تَطْلُقُ لہٰذا عورت کو طلاق نہیں ہو گی فِي أَنْتِ بَائِنٌ، أَنْتِ بَائِنٌ کہنے سے عورت کو طلاق نہیں ہو گی مَا لَمْ يَنْوِ نِيَّتَهُ، مَا لَمْ يَنْوِ نِيَّتَهُ جب تک خاوند طلاق کی نیت نہ کرے، أَوْ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَائِمًا مَقَامَهَا، یا جب تک، یا اور کوئی اور چیز طلاق کے قائم، اس، اس نیت کے قائم مقام نہ ہو۔ ہا ضمیر کس کو لوٹائیں؟ نیت کو۔ بھئی یاد رکھیے دیکھو بھئی، أَنْتِ طَالِقٌ کا تو معنی واضح تھا، اس میں تو نیت کی ضرورت نہیں، لیکن أَنْتِ بَائِنٌ میں میں نے بیان کر دیا، أَنْتِ بَائِنٌ کا کیا معنی؟ "تو جدا ہے"، کئی احتمال تھے کہ "تو حسن و جمال میں جدا ہے"، یا "اپنے گھر والوں سے، خندان، قبیلے والوں سے جدا ہے ذہانت وغیرہ کے اندر"، یا یہ بھی ہو سکتا ہے "تو مجھ سے جدا ہے"، تو کئی احتمال تھے، تو لہٰذا وہاں پر کیا چاہیے؟ کوئی، نیت چاہیے بھئی، نیت بھئی، یا جو چیز نیت کے قائم مقام ہو۔ جیسے دلالتِ حال۔ یعنی حال دلالت کر رہا ہو کہ خاوند نے اس چیز کا ارادہ کیا ہو گا۔ حال کیا کر رہا ہو؟ دلالت کر رہا ہو، تو وہاں کیا ضروری؟ نیت ضروری، یا کوئی ایسی چیز جو نیت کے قائم مقام ہو، كَدَلاَلَةِ حَالَةِ الغَضَبِ أَوْ مُذَاكَرَةِ الطَّلاَقِ جیسے حالتِ غضب کی دلالت یا مذاکرہِ طلاق کی دلالت۔ بھئی دیکھیے، جھگڑے کے اندر میاں بیوی میں لڑائی ہوئی، جھگڑا ہوا، اس جھگڑے کے اندر خاوند نے کہا أَنْتِ بَائِنٌ۔ معلوم ہوا اب اس کا کسی اور معنی کا ارادہ نہیں، جھگڑے کے بیچ میں أَنْتِ بَائِنٌ کہہ رہا ہے، معلوم ہوا اس کے ذریعے اس نے کس چیز کا ارادہ کیا؟ طلاق، تو یہاں اب نیت کی کو دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں، یہ جھگڑا ہی دلالت کر رہا ہے کہ یہ اس نے اس کے ذریعے کس چیز کی نیت کی ہے؟ تو دیکھو یہ نیت کے قائم مقام چیز موجود ہے، یہ حالت دلالت کر رہی ہے، یا اور حالت دیکھو بھئی: مذاکرہِ طلاق، مذاکرہِ طلاق یاد رکھو اس کو کہتے ہیں کہ میاں بیوی میں بحث چل رہی ہے، بیوی طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے اور خاوند اس سے بحث کر رہا ہے بھئی، یہ ہے مذاکرہِ طلاق، بیوی کیا کر رہی ہے؟ طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے کہ "مجھے طلاق دے دو، میں تمہارے پاس ساتھ نہیں رہنا چاہتی بھئی"، اس دوران خاوند نے کہہ دیا أَنْتِ بَائِنٌ، تو یہ مذاکرہِ طلاق نے دلالت کر دی کہ معلوم ہوا خاوند کا کیا ارادہ ہے؟ طلاق ہی کا ارادہ ہے بھئی، تو لہٰذا کوئی نہ کوئی چیز بھئی، کنائے کی مراد پوشیدہ ہوتی ہے، اس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے جس سے پتہ چلے یہ والا معنی مراد ہے، تو وہ قرینہ کبھی نیت ہو گی خاوند کی، یا، یا دلالتِ حال، اور دلالتِ حال میں پھر دو صورتیں آ گئیں، کبھی وہ کیا ہو گی؟ حالتِ غضب، اور کبھی کیا؟ مذاکرہِ طلاق بھئی۔ وَكِنَايَاتُ الطَّلاَقِ سُمِّيَتْ بِهَا مَجَازًا حَتَّى كَانَتْ بَوَائِنَ، حَتَّى كَانَتْ بَوَائِنَ. اور جو طلاق کے کنایات ہیں، کنایاتِ طلاق، سُمِّيَتْ بِهَا أَيْ بِالكِنَايَةِ ان کو کنایہ کہ کہا جاتا ہے، مَجَازًا مجازی طور پر، حَتَّى كَانَتْ بَوَائِنَ یہاں تک کہ یہ کیا ہوں گے؟ بوائن ہوں گے، یعنی ان سے طلاقِ بائن ہو گی، یہ سب طلاقِ بائن ہوں گے۔ یاد رکھیے آپ کو آگے بتلائیں گے کہ جتنے کنایات ہیں، ایک تو صریح لفظ ہے أَنْتِ طَالِقٌ، اور ایک ہے کنایہ أَنْتِ بَائِنٌ کہتا ہے یا أَنْتِ حَرَامٌ کہتا ہے یا أَنْتِ بَتَّةٌ کہتا ہے وغیرہ مختلف سے الفاظ بھئی، جن میں جن کے اور بھی بہت سے معانی آتے ہوں اور طلاق والا معنی بھی آتا ہو بھئی، کوئی بھی ایسا لفظ ہو بھئی۔ تو ان کو کہتے ہیں کنایاتِ طلاق، کیا کہتے ہیں؟ کنایاتِ طلاق، اور جتنے کنایات ہیں ان سب کے ذریعے طلاقِ بائن ہوتی ہے سوائے تین کنایات کے، ان سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے جن کا آگے ذکر آ جائے گا بھئی، تین کنایات ہیں ان سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے۔ اب یہ جو کنایاتِ طلاق ہیں، ان کیا نام ہے ان کا؟ کیا کہتے ہیں أَنْتِ بَائِنٌ وغیرہ کو؟ کنایہِ طلاق، کیا کہتے ہیں؟ کنایہِ طلاق، اچھا، کنایہِ طلاق، معلوم ہوا أَنْتِ بَائِنٌ بول کر کیا مراد ہے؟ أَنْتِ طَالِقٌ مراد ہے، کیا مراد ہے؟ أَنْتِ طَالِقٌ مراد ہے، تو أَنْتِ طَالِقٌ کہنے سے کتنی طلاقیں آتی ہیں؟ اور کون سی؟ یاد رکھیے صریح سے رجعی طلاق آتی ہے، جب تک کوئی اور لفظ نہ بڑھائے طلاق کے ساتھ، تو اس وقت تک، طلاق کون سی ہو گی؟ رجعی ہو گی، ورنہ اگر بائن وغیرہ کا لفظ ساتھ بڑھائے گا تو پھر طلاقِ بائن آئے گی ورنہ نہیں۔ تو اب معلوم ہوا أَنْتِ بَائِنٌ یہ کنایہ ہے کس سے؟ أَنْتِ طَالِقٌ سے، اور أَنْتِ طَالِقٌ کی صورت میں کون سی طلاق آتی ہے؟ رجعی، ایک رجعی، تو أَنْتِ بَائِنٌ سے بھی کیا آنی چاہیے؟ ایک رجعی آنی چاہیے۔ شارح بتل، ماتن بتلا رہے ہیں کہ نہیں بھئی، یہ طلاق لفظِ طلاق سے کنایہ نہیں ہے، پھر بھئی کنایہ نہیں ہے تو ان کو کنایاتِ طلاق کیوں کہتے ہو؟ کہتے ہیں مجازاً ہم ان کو کنایاتِ طلاق کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ أَنْتِ بَائِنٌ، أَنْتِ طَالِقٌ سے کنایہ نہیں ہے، پھر بھئی ان کو آپ کہتے تو ہیں یہ کنایہِ طلاق ہے، کہتے ہیں ہم اس کو مجازاً کہتے ہیں کنایہِ طلاق بھئی۔ تو کہتے ہیں یہی بات دیکھیے وَكِنَايَاتُ الطَّلاَقِ سُمِّيَتْ بِهَا مَجَازًا اور کنایاتِ طلاق جو ہیں ان کو کہا جاتا ہے کنایہ مجازاً، کس طریقے پر؟ مجازاً، حَتَّى كَانَتْ بَوَائِنَ یہاں تک کہ یہ سب بوائن ہوں گے یعنی طلاقِ بائن ہو، ہوگی ان سے، جَوَابُ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ یہ جواب ہے ایک سوالِ مقدر کا، وَهُوَ اور وہ یہ، کہ أَنَّكُمْ قُلْتُمْ کہ تم نے یہ کہا ہے کہ إِنَّ الكِنَايَةَ مَا اسْتَتَرَ المُرَادُ بِهِ کہ کنایہ وہ لفظ ہے جس کی مراد پوشیدہ ہو، وَالحَالُ أَنَّ أَلْفَاظَ الطَّلاَقِ البَائِنِ، البَائِنِ، اور حال یہ ہے کہ طلاقِ بائن کے الفاظ جو ہیں، مِثْلُ قَوْلِهِ جیسے کسی شخص کا یہ قول: أَنْتِ بَائِنٌ، یا بَتَّةٌ، أَيْ أَنْتِ بَتَّةٌ، بھئی سب یہ سب خبر ہیں، مبتدا پہلے میں ذکر کر دیا، باقی سے خود سمجھ میں آ رہا ہے، اس سے حذف کر دیا، وَبَتْلَةٌ أَيْ أَنْتِ بَتْلَةٌ، وَحَرَامٌ أَيْ أَنْتِ حَرَامٌ، وَنَحْوُهُمَا، نَحْوُهَا اور اس جیسی مثالیں جو ہیں، كُلُّهَا مَعْلُومَةُ المَعَانِي یہ سب [unclear] یا بَتَّةٌ ای اَنْتِ بَتَّةٌ، بھی جی سب کے یہ سب خبر ہیں، مبتدا پہلے میں ذکر کر دیا، باقی سے خود سمجھ میں آ رہا ہے، اس سے حذف کر دیا۔ و بَتْلَةٌ ای اَنْتِ بَتْلَةٌ و حَرَامٌ ای اَنْتِ حَرَامٌ و نحوھما نحوُھا اور اس جیسی مثالیں جو ہیں، کُلُّھَا مَعْلُوْمَةُ المَعَانِی یہ سب کیا ہیں؟ ان سب کے معانی معلوم ہیں۔ وَاسْتُعْمِلَتْ فِیْھَا صَرَاحَةً اور اس ان کو اس میں استعمال کیا گیا ہے صراحتًا۔ فکَیْفَ تُسَمُّوْنَھَا کِنَایَةً تو تم اہ آپ ان کو کنایہ کیسے کہتے ہیں؟ بھئی بَائِنٌ کا تو معنی میں نے بتلا دیا، کیا معنی؟ جدا ہے۔ بَتَّةٌ کا بھی یہی معنی جدا ہے، الگ ہے۔ بَتْلَةٌ کا بھی یہی معنی جدا ہے، الگ ہے۔ حرام کا معنی حرام ہے یعنی ممنوع ہے بھئی، روکی گئی ہے بھئی۔ تو ان سب کے کہتے ہیں معانی معلوم ہیں۔ ان سب کے معانی معلوم؟ معنی معلوم ہیں یعنی ابھی میں نے بیان کر دیے، یہ عام ان کے معنی سب کو معلوم ہیں۔ اور ان کو انہی معنی میں استعمال کیا گیا، بائن کے معنی جدا ہونے ہی کے ہیں یہاں پر بھی، تو پھر ان کو کنایہ آپ کس طرح کہتے ہیں، ان کو تو صریح کہنا چاہیے۔ کہتے ہیں بھئی ہم ان کو کنایہ مجازاً کہتے ہیں۔ ان کو کنایہ بھئی وہی میں نے جو اشکال، میں نے دوسرے رنگ میں اشکال ذکر کیا اور اس کا جواب بتلایا۔ میرے میں نے کیا اشکال کیا تھا کہ أَنْتِ بَائِنٌ کنایہ ہے کس سے؟ أَنْتِ طَالِقٌ سے، تو أَنْتِ طَالِقٌ میں رجعی آتی ہے تو اس کے اندر بھی کیا آنی چاہیے؟ رجعی۔ تو انہوں نے کہا اس کو کنایہ مجازاً کہتے ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ اشکال کر رہے ہیں کہ بھئی أَنْتِ بَائِنٌ، اس کا معنی تو ظاہر ہے، أَنْتِ بَائِنٌ کا کیا معنی؟ تو جدا ہے، اور کنایہ تو کس کو کہتے ہیں جس کی مراد کیا ہوتی ہے؟ پوشیدہ ہوتی ہے، تو پھر آپ اس کو صریح کہنا چاہیے، اس کو کنایہ کیوں کہتے ہیں؟ تو جواب دے رہے ہیں کہ اس کو کنایہ ہم مجازاً کہتے ہیں بھئی۔ کہ ان سب کے معانی معلوم ہیں اور ان میں اس کو استعمال کیا گیا صراحتًا فکَیْفَ تُسَمُّوْنَھَا کِنَایَةً تو آپ کیسے ان کو کنایہ کہتے ہیں، فَأَجَابَ تو جواب دیا مصنف نے، بِأَنَّ تَسْمِیَتَھَا کِنَایَةٌ کہ ان کو نام جو کنایہ رکھا گیا، إِنَّمَا ھِیَ بِطَرِیْقِ المَجَازِ یہ مجاز کے طریقے پر ہے، لِأَنَّ مَعْنَى کُلِّ وَاحِدٍ مَّعْلُوْمٌ کیونکہ ان میں سے ہر ایک کا معنی جو ہے وہ معلوم ہے، لَا إِبْھَامَ فِیْهِ اس میں کوئی ابہام نہیں، معنی ہر ایک کا معلوم ہے، إِذْ مَعْنَى البَائِنِ وَاضِحٌ اس لیے کیونکہ بائن کا معنی واضح ہے، لَكِنْ لَا یُعْلَمُ مِنْ أَیِّ شَیْءٍ بَائِنٍ لیکن یہ معلوم نہیں کہ کس چیز سے جدا ہے، أَمِنَ الزَّوْجِ کیا خاوند سے جدا ہے؟ أَوْ مِنَ العَشِیْرَةِ یا خاندان اور قبیلے سے جدا ہے؟ عشیرہ: خاندان، قبیلہ۔ أَوْ مِنَ المَالِ یا کس سے جدا ہے؟ مال سے یعنی خاوند کے مال سے جدا ہے، خاوند کہہ رہا ہے میرے مال سے جدا ہے اس میں کوئی تم نے دخل نہیں دینا، أَوْ الجَمَالِ یا کس چیز میں جدا ہے؟ حسن و جمال میں جدا ہے باقی عورتوں سے، تو اب یہ پتہ نہیں بائن کا تو معنی معلوم ہے لیکن یہ معلوم نہیں کس چیز سے جدا ہے، فَإِذَا نَوَى پس جب اس خاوند نے نیت کی، أَنَّھَا بَائِنٌ عَنِّیْ کہ یہ مجھ سے جدا ہے، زَالَ الإِبْھَامُ تو اس صورت میں ابہام زائل ہو گیا، فَکَانَ عَامِلًا بِمُوجَبِهِ تو لفظ عمل کرنے والا ہوا بِمُوجَبِهِ اپنے مقتضٰى کے ساتھ۔ عمل کرنے والا ہوا اپنے مقتضٰى کے ساتھ عمل کرنے والا ہوا۔ بھئی بَائِنٌ کا مقتضٰى کیا ہے، اس کا معنی کیا ہے؟ جدا، تو یہ جدا ہونے کے ساتھ عمل کرے گا۔ اور جدائی طلاقِ رجعی میں آتی ہے یا طلاقِ بائن میں؟ طلاقِ رجعی میں تو رجوع کر سکتا ہے خاوند بھئی، طلاقِ بائن کے اندر رجوع نہیں کر سکتا، تو اگر پھر اس کو رکھنا چاہتا ہے تو دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا اور اسی خاوند سے نکاح کرنا چاہے عورت تو عدت کے اندر بھی کر سکتی ہے، کیونکہ اسی سے پہلے نکاح تھا، کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو وہ عدت کے بعد کرے گی بھئی۔ تو لہٰذا، تو یہ لفظ اپنے مقتضٰى کے ساتھ عمل کرے گا، کیا معنی اس کا مقتضٰى کیا ہے؟ جدائی، تو یہ بھی کس طرح عمل کرے گا؟ کون سی طلاق آئے گی جس میں جدائی آتی ہو، اور وہ کون سی طلاق ہے؟ تو یہ لفظ عمل کرنے والا ہوا اپنے مقتضٰى کے ساتھ، وَلِذَا وَقَعَتِ الطَّلَاقُ البَائِنُ بِھَا اسی وجہ سے واقع ہو گی طلاقِ بائن اس کے ذریعے، وَلَوْ کَانَتْ کِنَایَةً وَلَوْ کَانَتْ کِنَایَاتٍ حَقِیْقَةً اور اگر یہ کنایہ اگر یہ کنایات کنایات ہوتے حقیقتًا، لَکَانَتْ مِنْ قَبِیْلِ تو وہ اس قبیل سے ہوتے، أَنْ یُّذْکَرَ أَنْتِ بَائِنٌ کہ ذکر کس کو کیا جائے؟ أَنْتِ بَائِنٌ، اگر یہ حقیقتًا کنایہ ہوتے تو یہ اس قبیل سے ہوتے گویا کہ یوں ذکر کیا گیا أَنْتِ بَائِنٌ، وَیُرَادَ بِهِ أَنْتِ طَالِقٌ اور مراد کیا ہے؟ أَنْتِ طَالِقٌ، فَیَقَعُ الطَّلَاقُ الرَّجْعِیُّ تو اس صورت میں کیا واقع ہوتی؟ طلاقِ رجعی، تو حقیقتًا کنایہ ہوتے، دیکھو وہی جو میں نے سوال ذکر میں نے ذکر کیا تھا کہ اگر یہ أَنْتِ طَالِقٌ سے کنایہ ہے تو أَنْتِ طَالِقٌ کے لیے تو کیا آتی ہے؟ طلاقِ رجعی، تو ان سے بھی کیا آنی چاہیے؟ طلاقِ رجعی آنی چاہیے، تو وہی بتلا رہے ہیں کہ یہ حقیقتًا اس سے کنایہ نہیں، اگر حقیقتًا ہونے ہوتے تو واقعی ان سے کیا آتی؟ طلاقِ رجعی آتی، تو یہ اس سے حقیقتًا کنایت نہیں، یہ طلاق والا عمل تو کریں گے لیکن اپنے مقتضٰى کے ساتھ، اپنے معنی کے ساتھ، ان کا معنی بھی اس میں رہے گا اور ان کا معنی تو کیا ہے؟ جدا ہونا، تو وہ جدائی والا معنی آئے گا اور وہ طلاقِ بائن میں آتا ہے، لہٰذا اس نے کیا یہ طلاقِ بائن آئی۔ وَاعْتُرِضَ عَلَیْهِ اور اس پر یہ اعتراض کیا گیا، بِأَنَّ الکِنَایَةَ مَا کَانَ مَعْنَاهُ المُرَادُ بِهِ مَا کَانَ مَعْنَاهُ المُرَادُ بِهِ مُسْتَتِرًا لَا مَعْنَاهُ اللُّغَوِیُّ کہ کنایہ وہ لفظ ہے جس کا معنی مراد جو ہے، وہ مستتر ہو، پوشیدہ ہو، نہ کہ اس کا معنی لغوی، وَھَاھُنَا کَذٰلِکَ اور یہاں پر اسی طرح ہے۔ جی اور اعتراض کر رہے ہیں بھئی۔ کہ کنایہ کس کو کہتے ہیں؟ جس کا معنی مراد، بھئی یہ بعضوں نے اوروں نے اعتراض کیا۔ وہ کہتے ہیں نہیں، یہ آپ نے کہا یہ کنایاتِ طلاق کو ہم کنایہ کہتے ہیں یہ حقیقتًا کہتے ہیں یا مجازاً؟ مجازاً کہتے ہیں، کنایاتِ طلاق کو جو ہم کنایہ کہتے ہیں وہ اب بعضوں نے اعتراض کیا نہیں، یہ مجازاً کنایہ نہیں، یہ حقیقتًا کنایہ ہے۔ یہ کیا ہیں؟ حقیقتًا کنایہ ہے، کس طرح حقیقتًا کنایہ ہیں؟ کہتے ہیں دیکھیے، کنایہ اس کو کہتے ہیں نہ جس کا معنی مراد پوشیدہ ہو۔ معنی لغوی کی بات ہم نہیں کر رہے، کس کی بات کر رہے ہیں؟ اور ان کا جو آپ نے کہا ان کا معنی تو ظاہر ہے، بھئی وہ تو ان کا معنی لغوی ظاہر ہے، بَائِنٌ کا کیا معنی ہے؟ لغت میں بائن کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جدا، تو وہ معنی ظاہر ہے، لیکن خاوند کی جو مراد ہے جس کا ارادہ کیا، وہ تو پوشیدہ ہے جب تک بتلائے گا نہیں، پتہ نہیں چلے گا، تو لہٰذا جب ان کی مراد پوشیدہ ہوئی تو ان کو کنایہ کہنا صحیح ہوا، یہ حقیقتًا کنایہ ہے، مجازاً کنایہ نہیں ہے۔ اعتراض سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں یہاں پر بھی اسی طرح ہے، فَإِنَّ البَائِنَ وَإِنْ کَانَ مَعْنَاهُ اللُّغَوِیُّ وَاضِحًا پس بائن بائن جو ہے، اگرچہ اس کا معنی لغوی واضح ہے، لٰکِنَّ مَعْنَاهُ المُرَادَ بِهِ مُسْتَتِرٌ لیکن اس کا معنی مراد پوشیدہ ہے، وَھُوَ أَنَّھَا بَائِنٌ عَنِ الزَّوْجِ اور وہ یہ کہ وہ خاوند سے جدا ہے، یہ مراد ہے خاوند کی اور یہ پوشیدہ ہے، کیونکہ اور بھی احتمالات موجود ہیں، فَکَانَتْ کِنَایَاتٍ حَقِیْقَةً تو یہ کیا ہوں گے؟ حقیقتًا کنایات ہوں گے۔ وَلِھٰذَا قَالُوْا اور اسی وجہ سے علماء نے فرمایا ہے، إِنَّھَا کِنَایَاتٌ عَلَى مَذْھَبِ عُلَمَاءِ البَیَانِ کہ یہ کنایات ہیں کس کے مذہب پر؟ علماءِ بیان کے مذہب پر، دُوْنَ الأُصُوْلِ نہ کہ علماءِ اصول۔ علماءِ اصول کے نزدیک تو یہ کنایات ہیں ہی نہیں حقیقتًا، بلکہ مجازاً کنایات ہیں، ابھی ماتن نے آپ کو بتایا کہ أَنْتِ بَائِنٌ یہ حقیقتًا کنایہ ہے یا مجازاً کنایہ ہے؟ مجازاً، تو علماءِ اصول کے نزدیک یہ مجازاً کنایہ ہیں، اور علماءِ علمِ بیان جو ہیں، ان علماءِ بیان کے نزدیک یہ حقیقتًا کنایہ ہیں بھئی، جیسے ابھی تقریر کی معترض نے، کہ ان کا معنی مراد تو کیا ہے؟ پوشیدہ ہے، اور کنایہ بھی اس کو کہتے ہیں جس کا معنی مراد پوشیدہ ہو۔ یاد رکھیے علمِ بیان انشاءاللہ اگلے سال آپ پڑھیں گے بھئی۔ مختصر المعانی جس کے اندر تین علوم بیان ہوں گے: علمِ معانی، علمِ بیان اور علمِ بدیع بھئی۔ تو یہ علمِ بیان میں آپ کو کنایہ کے بارے میں بتلائیں گے۔ کنایہ کہتے ہیں ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ مثلاً دیکھیے، ایک شخص کا قد لمبا ہے، میں اسے صراحتًا کہتا ہوں اس کے بارے میں، زَیْدٌ طَوِیْلُ القَامَةِ، زید کیا ہے؟ زید لمبے قد والا ہے، زَیْدٌ طَوِیْلُ القَامَةِ۔ یہ ہے میں نے صراحتًا کہا وہ لمبے قد والا ہے، اور کبھی یہی بات کنایتًا کہی جاتی ہے، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں زَیْدٌ طَوِیْلُ النَّجَادِ۔ اب میں بات وہی کر رہا ہوں زید لمبے قد والا ہے، لیکن میں نے کنایتًا کی، نجاد بھئی، پہلے نجاد کہتے کس کو ہیں یہ سمجھ لیں، بھئی جس طرح یہ آپ نے دیکھا ہو گا بندوق وغیرہ کو گلے میں لٹکانے کے لیے اس کے ساتھ ایک چمڑا سا، پٹی سی لگی ہوتی ہے بھئی۔ اسی طرح قدیم زمانے میں تلوار کو جب لٹکاتے تھے، تو اسی طرح کا ایک چمڑا کندھے پر سے گزار کر اس کے ساتھ پہلو میں تلوار لٹکائی جاتی تھی، اور اس چمڑے کا جو پٹی ہوتی تھی، اس کو نجاد کہتے ہیں عربی میں، اور اردو میں حمائل کہتے ہیں، حمائل، حمائل۔ چنانچہ آپ اردو کی کتابوں میں بھی پڑھیں گے "تلوار حمائل کی اور گھر سے نکلے"، کیا معنی؟ یعنی اس چمڑے میں تلوار لٹکائی اور گھر سے نکل گئے بھئی۔ تو اس کو حمائل کہتے ہیں۔ اب دیکھیے، میں کہنا کیا چاہتا تھا؟ زید لمبے قد والا ہے۔ زید لمبے قد والا ہے۔ اور میں نے کیا کہا؟ زَیْدٌ طَوِیْلُ النَّجَادِ، "زید لمبی حمائل والا ہے"۔ اب بھئی جس کی حمائل لمبی ہے، لازمی بات ہے اس کا قد بھی لمبا ہو گا۔ ہاں جس کا قد لمبا ہو، ضروری نہیں اس کی حمائل بھی لمبی ہو۔ چھوٹی حمائل اس نے بنوائی ہو، ہو سکتا ہے لمبی بنوائی ہو، لیکن حمائل لمبی ہے، تو معلوم ہوا لازمی بات ہے اس کا قد کیا ہے؟ اس کے ساتھ لازم ہے قد کا لمبا ہونا بھئی، چھوٹے قد والا تو لمبی حمائل نہیں بنوائے گا، لازمی بات ہے بڑے قد والا ہی لمبی حمائل بنوائے گا، تو جب میں نے کہا زید لمبی حمائل والا ہے، تو اس کے ساتھ لازم ہوا، کیا؟ جب حمائل لمبی ہے، تو لازم ہے کہ اس کا قد، تو ذکر کیا میں نے ملزوم، یعنی لمبی حمائل کو، اور اس کے ساتھ لازم کیا ہے؟ قد کا لمبا ہونا، اور اس کا میں نے ارادہ کیا۔ تو ملزوم بول کر کس کا ارادہ کرنا؟ لازم کا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ۔ میں نے کہا زید لمبی حمائل والا ہے، بھئی اب میری یاد رکھو، میں کہنا ابھی وہی بات چاہ رہا ہوں، کیا کہنا چاہ رہا ہوں؟ لمبے قد، اگر میرا ارادہ ہی یہی ہے میں بتلانا ہی یہ چاہتا ہوں کہ اس کی حمائل لمبی ہے، پھر نہیں کنایہ بھئی، پھر تو میں حقیقی معنی کا ارادہ کر رہا ہوں، بلکہ کنایہ میں کیا ضروری؟ کہ ملزوم بول کر کس کا ارادہ کیا جائے؟ لازم، تو جب میں بولوں حمائل کے بارے میں اور ارادہ میرا قد کے بارے میں ہو، تو پھر یہ کیا ہو گا؟ کنایہ، ملزوم بول کر لازم کا ارادہ بھئی۔ تو کہتے ہیں فَإِنَّ الکِنَایَةَ عِنْدَھُمْ پس کنایہ جو ہے علماءِ علمِ بیان والوں کے نزدیک، أَنْ یُّذْکَرَ لَفْظٌ کہ ذکر کیا جائے لفظ کو، وَیُرَادَ بِهِ مَعْنَاهُ المَوْضُوْعُ لَهُ اور ارادہ کس کا ہو؟ معنی موضوع لہ جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، لَا مِنْ حَیْثُ ذَاتِهِ اپنی ذات کی حیثیت سے نہیں، بَلْ مِنْ حَیْثُ یَنْتَقِلُ مِنْهُ إِلَى مَلْزُوْمِهِ بلکہ اس حیثیت سے کہ اس معنی موضوع لہ سے منتقل ہوں کس کی طرف؟ اس کے ملزوم کی طرف، اس کے ملزوم کی طرف۔ ملزوم کے بجائے لازم ہونا چاہیے بھئی، ملزوم سے کس کی طرف انتقال ہوتا ہے؟ لازم کی طرف۔ بھئی لمبی حمائل کے ساتھ تو لمبا قد لازم ہے۔ لیکن لمبے قد کے ساتھ لمبی حمائل لازم نہیں، ہو سکتا ہے چھوٹی حمائل ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں اگر دونوں طرف سے ایک جیسا مسئلہ ہو، یہ اس کے ساتھ لازم ہے، تو وہ اس کے ساتھ لازم ہے، پھر ٹھیک ہے، ہر ایک من وجہ لازم ہے اور من وجہ ملزوم، تو اس صورت میں ملزوم کا لفظ درست ہے پھر بھئی۔ بلکہ اس حیثیت سے کہ منتقل ہو اس سے اس کے ملزوم کی طرف، کَمَا فِیْ طَوِیْلِ النَّجَادِ جیسے کہ طَوِیْلُ النَّجَادِ کے اندر، یُرَادُ بِهِ طُوْلُ النَّجَا یُرَادُ بِهِ طُوْلُ النَّجَادِ اس کے ذریعے حمائل کا لمبا ہونا مراد ہے، لَا مِنْ حَیْثُ ذَاتِهِ اپنی ذات کی حیثیت سے نہیں، بَلْ مِنْ حَیْثُ یَنْتَقِلُ مِنْهُ إِلَى مَلْزُوْمِهِ بلکہ اس حیثیت سے کہ اس سے منتقل ہوں گے منتقل ہو کس کی طرف؟ اس کے ملزوم کی طرف، الَّذِیْ ھُوَ طُوْلُ القَامَةِ جو کہ قد کا لمبا ہونا ہے۔ وَھَاھُنَا کَذٰلِکَ اور یہاں پر بھی اسی طرح ہے، فَإِنَّ بَائِنًا مَّحْمُوْلٌ عَلَى مَعْنَاهُ بائنًا یعنی جدا، یہ اپنے ہی معنی پر محمول ہے، بَائِنٌ اپنے ہی معنی یعنی جدا ہونے پر محمول ہے، لٰکِنْ لِیَنْتَقِلَ مِنْهُ إِلَى مَلْزُوْمِهِ لیکن کس طریقے پر؟ کہ منتقل ہو اس سے اس کے ملزوم کی طرف، وَھُوَ الطَّلَاقُ اور وہ طلاق ہے، بِصِفَةِ البَیْنُوْنَةِ کس صفت کے ساتھ؟ بینونت، جدائی کی صفت کے ساتھ، عِنْدَ النِّیَّةِ نیت کے ہوتے وقت، بھئی نیت کے پائے جانے کے وقت بھئی۔ وَھُوَ أَیْضًا لَا یَخْلُوْ مِنْ خَدْشَةٍ فَتَأَمَّلْ شارح فرماتے ہیں کہ علمِ بیان والوں کے نزدیک بھی أَنْتِ بَائِنٌ کو کنایہ کہنا، یہ خدشے سے خالی نہیں۔ یہ خدشے سے خالی نہیں، فَتَأَمَّلْ آپ اس میں کیا کر لیجیے؟ غور کر لیجیے۔ کیوں؟ خدشے سے کیوں نہیں خالی؟ بھئی ابھی میں نے بیان کر دیا۔ علمِ بیان والوں کے نزدیک بھی کنایہ کیا ہوتا ہے؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ، اور یہاں پر یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ لازم سے کس کی طرف انتقال بیان کر رہے ہیں؟ ملزوم کی طرف انتقال بیان کر رہے ہیں بھئی۔ لہٰذا یہ بھی خدشے سے خالی نہیں۔ بلکہ کہتے ہیں یہاں پر اس کے معنی سے کسی اور چیز کی طرف انتقال ہے ہی نہیں بھئی، بَائِنٌ کا اپنا ہی معنی ہے، کسی اور معنی کی طرف یہاں پر بھئی جدا بائن کا کیا معنی؟ جدا ہونا، اور یہاں پر بھی کون سا معنی ہے؟ جدا ہونے والا ہی معنی ہے، اس سے کسی اور معنی کی طرف انتقال نہیں، ہاں البتہ جدائی مخصوص محل میں مخصوص طریقے پر مراد ہے، باقی چیزوں سے جدائی مراد یہاں تو کئی احتمال تھے نہ، پتہ نہیں کس چیز سے جدائی مراد ہے، تو ہاں کہتے ہیں یہ کنایہ کے اندر تو ملزوم سے انتقال ہوتا ہے لازم کی طرف، جبکہ یہاں ملزوم سے لازم کی طرف انتقال نہیں، وہ اپنے ہی معنی موضوع لہ کے اندر استعمال ہو رہے ہیں، البتہ مخصوص مخصوص طریقے پر اور مخصوص محل میں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ إِلَّا اعْتَدِّیْ وَاسْتَبْرِئِیْ رَحِمَكِ وَأَنْتِ وَاحِدَةٌ تو کہتے ہیں پیچھے ذکر ہوا تھا متن میں، پیچھے متن میں ذکر ہوا تھا کہ تمام کنایات وہ بوائن ہیں، إِلَّا اعْتَدِّیْ مگر اعْتَدِّیْ یہ ایک کنایہ جو ہے، اس سے بھی طلاقِ رجعی ہو گی، وَاسْتَبْرِئِیْ رَحِمَكِ تو اپنے رحم کو صاف کر لے، اس سے بھی طلاق یہ کنایہ ہے، لیکن اس سے بھی کون سی ہو گی طلاق؟ طلاقِ رجعی، وَأَنْتِ وَاحِدَةٌ تو اکیلی ہے، تو یکتا ہے، تو ایک ہی ہے، اس سے بھی کون سی طلاق ہو گی؟ طلاق، تو یہ تین کنایات ہیں، ان سے طلاقِ رجعی ہو گی، باقی کنایات سے طلاقِ بائن ہو گی۔ شارح یہی بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں اسْتِثْنَاءٌ مِنْ قَوْلِهِ یہ استثناء ہے ماتن کے قول حَتَّى كَانَتْ بَوَائِنَ سے، یَعْنِیْ أَنَّ أَلْفَاظَ الکِنَایَاتِ کُلَّھَا بَوَائِنُ إِلَّا ھٰذِهِ الأَلْفَاضَ ھٰذِهِ الأَلْفَاظَ السَّلَاثَةَ کہ کنایات کے تمام الفاظ بوائن ہیں سوائے ان تین الفاظ کے، فَإِنَّھَا رَجْعِیَّةٌ بے شک یہ کیا ہیں؟ رجعی ہیں، لِأَجْلِ وُجُوْدِ لَفْظِ الطَّلَاقِ فِیْھَا تَقْدِیْرًا بوجہ ان میں طلاق کے لفظ کے پائے جانے کے تقدیرًا تقدیرًا بھئی، تقدیری طور پر کیا ہے؟ یہاں طلاق کا لفظ موجود ہے، تو جب تقدیرًا طلاق کا لفظ موجود ہے، تو طلاق کے لفظ سے کون سی طلاق آیا کرتی ہے؟ طلاقِ رجعی، تو اس لیے ان میں رجعی آئے گی۔ اب بتلانے لگے ہیں کس طرح۔ أَمَّا فِیْ قَوْلِهِ اعْتَدِّیْ باقی ماتن کے قول اعْتَدِّیْ کے اندر یعنی اس میں طلاقِ رجعی کس طرح آئے گی؟ وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ بھئی دیکھیے اعْتَدِّیْ کا معنی ہے، یہ امر کا صیغہ ہے، مؤنث کا، اعْتَدِّیْ، تو ایک عورت شمار کر لے، تو کیا کر لے؟ شمار کر لے، تو خاوند نے بیوی سے کہا اعْتَدِّیْ تو شمار کر لے، اب پتہ نہیں شمار کرنے سے اس کی کیا مراد ہے، شاید وہ یہ کہنا چاہتا ہے بھئی، تیرے اوپر اللہ کے اتنے احسانات ہیں، تم ذرا شمار تو کرو کتنے احسانات ہیں، تو اللہ کی اپنے اوپر نعمتیں شمار کر لے، یا میرے تمہارے اوپر کتنے احسانات ہیں، ان کو شمار کر لے، یا معنی یہ ہے کہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے، اس لیے تو اپنی عدت کو شمار کر لے، تو طلاق والا معنی بھی ہے اور احتمالات بھی ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فَلِأَنَّهُ یَحْتَمِلُ اعْتِدَادَ نِعْمَةِ اللهِ عَلَیْھَا پس کیونکہ یہ لفظ احتمال رکھتا ہے اس عورت پر اللہ کی نعمتوں کے شمار کرنے کا، وَیَحْتَمِلُ اعْتِدَادَ الحَیْضِ لِلْفَرَاغِ عَنِ العِدَّةِ یا یہ احتمال رکھتا ہے حیض کے شمار کرنے کا تاکہ فارغ ہو جائے عدت سے، یہ دوسرا معنی طلاق والا ہے۔ فَإِذَا نَوَى ھٰذَا جب خاوند نے اس معنی کی نیت کی کہ تو اپنے یعنی حیض شمار کر لے تاکہ عدت سے فارغ ہو جائے، فَإِذَا نَوَى ھٰذَا جب خاوند نے یہ نیت کر لی، یَقَعُ الطَّلَاقُ الرَّجْعِیُّ تو طلاقِ رجعی واقع ہو گی، فَإِنْ کَانَتْ مَدْخُوْلًا بِھَا تو اگر وہ عورت جو ہے مدخول فَإِنْ کَانَتْ مَدْخُوْلًا بِھَا بھئی، اگر وہ عورت کیا ہوئی؟ مدخول بہا ہونا چاہیے بھئی، اگر وہ عورت مدخول بہا ہوئی، یَثْبُتُ الطَّلَاقُ اقْتِضَاءً تو طلاق کس طرح ثابت ہو گی؟ اقتضاءً، بھئی وہ تو کہہ رہا ہے نہ اعْتَدِّیْ، اس سے طلاق والا معنی لیں تو کیا معنی؟ شمار کر یعنی اپنے حیضوں کو شمار کر تاکہ عدت گزرا لے، عدت پوری ہو تیری۔ بھئی حیضوں کو کب عدت کب شمار کرتی ہے عورت؟ طلاق کے بعد، معلوم ہوا اس سے پہلے اقتضاءً ایک طلاق ماننا پڑے گی۔ ورنہ تو خاوند کا یہ کہنا ہی نہیں بنتا، اگر طلاق نہ ہو تو پھر عدت ہے کوئی بھئی؟ نہیں، تو معلوم ہوا وہ کہہ رہا ہے عدت شمار کر جب اس نے نیت طلاق کی کی ہے، تو معلوم ہوا اس اعْتَدِّیْ سے پہلے کیا ماننا پڑے گا؟ ایک طلاق ماننا پڑے گی کہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے، یہ ماننا پڑے گا، اور کون سا لفظ مان رہے ہیں آپ میں نے تجھے فرض کریں کیا نکالا آپ نے کہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے، دیکھو طلاق کا لفظ آیا، صریح ہے، اور صریح سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟ رجعی، کسی وجہ سے اس میں بھی کیا ہو گی؟ رجعی ہو گی۔ تو اس اور فَإِنْ کَانَتْ مَدْخُوْلًا بِھَا اگر عورت مدخول بہا ہوئی یعنی وہ اس سے صحبت کر چکا ہے، یَثْبُتُ الطَّلَاقُ اقْتِضَاءً تو ثابت ہو گی طلاق اقتضاءً اقتضاء کے طریقے پر، کَأَنَّهُ قَالَ گویا کہ خاوند نے یوں کہا: اعْتَدِّیْ تو عدت شمار کر، لِأَنِّیْ طَلَّقْتُكِ کیونکہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں، أَوْ طَلِّقِیْ ثُمَّ اعْتَدِّیْ یا یہ یوں کریں گے، یوں نکالیں گے عبارت: طَلِّقِیْ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے، ثُمَّ اعْتَدِّیْ پھر کیا کر؟ اپنی عدت شمار کر، أَوْ کُوْنِیْ طَالِقًا یا تو طلاق والی ہو جا، ثُمَّ اعْتَدِّیْ پھر تو کیا کر؟ اپنی عدت شمار کر، فَیَقَعُ الطَّلَاقُ تو اس صورت میں طلاق واقع ہو گی، وَتَجِبُ العِدَّةُ اور عدت واجب ہو جائے گی، یہ تو وہ عورت تھی جس کے ساتھ صحبت کر چکا ہے۔ وَإِنْ کَانَتْ غَیْرَ مَدْخُوْلٍ بِھَا اور اگر وہ عورت غیر مدخول بہا ہوئی، فَحِیْنَئِذٍ لَّا عِدَّةَ عَلَیْھَا أَصْلًا تو اس وقت تو اس پر سرے سے کوئی عدت ہی نہیں ہے، پھر بھئی اس پر تو عدت ہی نہیں ہے، پھر اس کو کہنا کہ تو عدت شمار کر، پھر اس صورت میں یاد رکھیے اعْتَدِّیْ یہ مجاز ہو جائے گا کس سے؟ کس سے مجاز ہو گا؟ یہی جو لفظ ذکر کر دیے بھئی، جو انہوں نے پیچھے ذکر کیے، طَلِّقِیْ یا کُوْنِیْ طَالِقًا سے کیا ہو جائے گا؟ مجاز ہو جائے گا بھئی، کیونکہ عدت تو ہے نہیں یہاں، تو اعْتَدِّیْ کا کیا معنی؟ کُوْنِیْ طَالِقًا، اور اعْتَدِّیْ کا یہ معنی موضوع لہ یہ ہے؟ اور ہم نے کس معنی میں استعمال کر رہے ہیں کُوْنِیْ طَالِقًا، تو یہ کون سا معنی ہوا؟ غیر موضوع لہ میں استعمال کر رہے ہیں تو یہ کیا ہو جائے گا؟ مجاز، تو پچھلی صورت میں طلاق کو نکالا ہم نے اقتضاءً، اور یہاں پر طلاق کس طریقے پر ہے؟ مجاز کے طریقے پر بھئی۔ تو کہتے ہیں وَإِنْ کَانَتْ غَیْرَ مَدْخُوْلٍ بِھَا دیکھا بِھَا ہا ضمیر آ گئی بھئی، عورت کو راجع ہے نہ وہ، تو وہ مؤنث کی ضمیر چاہیے، اور اگر وہ عورت غیر مدخول بہا ہوئی، فَحِیْنَئِذٍ لَّا عِدَّةَ عَلَیْھَا أَصْلًا تو اس پر سرے سے کوئی عدت ہی نہیں ہے، فَیَجِبُ أَنْ یُّجْعَلَ قَوْلُهُ اعْتَدِّیْ مُسْتَعَارًا عَنْ قَوْلِهِ کُوْنِیْ طَالِقًا أَوْ طَلِّقِیْ تو واجب ہوا کہ قرار دیا جائے خاوند کے قول اعْتَدِّیْ کو مجاز عَنْ قَوْلِهِ خاوند کے قول کُوْنِیْ طَالِقًا یا طَلِّقِیْ سے، فَقَدْ ذُکِرَ المُسَبَّبُ وَأُرِیْدَ بِهِ السَّبَبُ پس تحقیق مسبب ذکر کیا گیا اور ارادہ کیا گیا اس کے ذریعے سبب کا، بھئی دیکھیے، آپ نے پڑھا تھا، مجاز، لفظ کو اپنے معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے تو یہ کیا ہے؟ مجاز، اور اس کے اندر آپ نے پڑھا تھا اتصال ضروری ہے، دونوں باتوں کے اندر معنی حقیقی اور معنی مجازی میں ربط ضروری ہے، مناسبت ضروری ہے، اگر کوئی مناسبت نہیں ہے تو کتاب بول کر آپ آسمان مراد نہیں لے سکتے، کیونکہ دونوں میں کوئی مناسبت نہیں ہے، تو لہٰذا مناسبت چاہیے، اور وہاں بتلایا تھا پھر بھئی کہ ایک بہت سی مناسبتیں بہت سی ہیں، دو واضح جو انہوں نے ذکر کی تھیں کہ کبھی علت اور معلول والا تعلق ہو گا، اور کبھی سبب اور مسبب، اگر معنی حقیقی اور معنی مجازی کے اندر علت اور معلول والا تعلق ہے، تو پھر علت بول کر معلول کا ارادہ بھی صحیح، اس طریقے پر بھی مجاز صحیح، اور معلول بول کر علت کا ارادہ کرنا اس طریقے پر بھی مجاز صحیح، لیکن اگر سبب مسبب والا تعلق ہو معنی حقیقی اور معنی مجازی میں، تو پھر ایک مثلاً سبب ہے ایک معنی اور دوسرا اس کا مسبب، تو سبب بول کر مسبب کا ارادہ تو صحیح، لیکن مسبب بول کر سبب کا ارادہ صحیح نہیں۔ کیا نکلا خلاصہ؟ مسبب بول کر سبب کا ارادہ صحیح نہیں۔ اب آپ بتائیے، طلاق وہ دیکھیے، دیکھیے طلاق ہے سبب، اور عدت ہے مسبب، طلاق آئے گی تو اس کے بعد کیا آئے گی؟ عدت، تو طلاق ہے سبب، اور عدت ہے مسبب، اور یہاں ذکر کیا کر رہا ہے وہ اعْتَدِّیْ، مسبب ذکر کر رہا ہے اور ارادہ کس کا کر رہا ہے؟ طلاق یعنی سبب کا، حالانکہ مسبب بول کر تو سبب کا ارادہ صحیح نہیں ہے۔ تو جواب پہلے بھی گزر چکا، اگر وہ مسبب خاص ہو اسی سبب کے ساتھ، اس یعنی بھئی بعض اوقات دیکھیے مثلاً یہ ایک چیز ہے، اس کے ہو سکتے ہیں تین سبب ہوں، اس وجہ سے بھی یہ آپ کے ہو جاتی ہے یہ چیز آ جاتی ہے، یہ دوسری وجہ سے بھی یہ چیز آ جاتی ہے، تیسری وجہ سے بھی یہ چیز آ جاتی ہے، تو اس صورت میں دیکھیے، ایک ہی چیز کے تین سبب ہیں، تو لہٰذا یہاں سبب بول کر مسبب کا تو ارادہ صحیح ہو گا، لیکن مسبب بول کر سبب کا ارادہ صحیح لیکن اگر ایک چیز کا ایک ہی سبب ہے، اور کسی طرح سے وہ آتی ہی نہیں، تو پھر وہاں مسبب بول کر سبب کا ارادہ بھی، کیونکہ وہ سبب بھی گویا علت کے درجے میں ہو گیا، جب وہ علت کے درجے میں ہوا تو علت والا حکم، اور علت کے اندر تو علت اور معلول دونوں جانب سے استعارہ صحیح تھا، تو یہاں بھی استعارہ دونوں جانب سے صحیح ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ اگرچہ مسبب بول کر سبب کا استعارہ صحیح نہیں ہوتا، لیکن اگر وہ مسبب خاص ہو اسی سبب کے ساتھ، تو پھر استعارہ صحیح ہو جاتا ہے، اور یہاں بھی اسی طرح ہے، عدت خاص ہے طلاق کے ساتھ، طلاق ہی کی وجہ سے عدت آتی ہے، کسی اور وجہ سے نہیں آتی۔ فَقَدْ ذُکِرَ المُسَبَّبُ وَأُرِیْدَ بِهِ السَّبَبُ پس تحقیق ذکر مسبب کو کیا گیا اور ارادہ سبب کا کیا گیا اس کے ذریعے، وَھُوَ جَائِزٌ اور یہ جائز ہے، إِذَا کَانَ المُسَبَّبُ مُخْتَصًّا بِالسَّبَبِ جبکہ وہ مسبب مختص ہو اس سبب کے ساتھ، اس سبب کے ساتھ خاص ہو، وَالإِعْتِدَادُ فِیْ الأَصْلِ وَبِالذَّاتِ مُخْتَصٌّ بِالطَّلَاقِ اور یہ عدت گزارنا جو ہے اصل کے اندر اور اپنی ذات کے اعتبار سے یہ خاص ہے طلاق کے ساتھ، لِأَنَّھَا مَا شُرِعَتْ إِلَّا لِتُعْرَفَ بَرَاءَةُ الرَّحِمِ اس لیے کیونکہ اس کو مشروع نہیں کیا گیا مگر اسی لیے تاکہ جان لیا جائے رحم کے صاف ہونے کو، بھئی اورت کو طلاق دی جائے تو اس پر عدت گزارنا واجب، اس سے پہلے وہ کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتی، کیوں؟ وجہ اس کی کیا ہے؟ بھئی تاکہ پتہ چل جائے کہ کہیں عورت کے پیٹ میں اس گزشتہ خاوند کی اولاد تو نہیں؟ اگر ابھی سے یہ نکاح کر لے گی، اور یہ پہلے سے ہی حاملہ تھی، تو دوسرا خاوند اس کے ہاں اولاد ہو گی وہ تو سمجھے گا یہ میری اولاد ہے، اس طرح کیا ہو گا؟ نسب وغیرہ کا خلط بیچ میں آ جائے گا، تو اس لیے شریعت نے حکم دیا کہ عورت کیا کرے؟ تین حیض گزارے تاکہ خوب اچھی طرح پتہ لگ جائے کہ اس کے پیٹ میں اس خاوند کی اولاد نہیں ہے بھئی۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ یہ عدت جو ہے لِأَنَّھَا مَا شُرِعَتْ إِلَّا لِتُعْرَفَ بَرَاءَةُ الرَّحِمِ اس یہ مشروع نہیں کیا گیا مگر اس لیے تاکہ جان لیا جائے رحم کے صاف ہونے کو۔ تو جب رحم کے صاف ہونے کو جاننا ہے، تو یہ کس کے بعد آئے گی؟ طلاق کے بعد نہ، طلاق کے بعد، کس کے بعد؟ طلاق کے بعد یہ اسی لیے ہے تاکہ پتہ چل جائے کہ عورت کا رحم کیا ہے؟ صاف ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے، کہ بھئی ہم آپ کو دکھاتے ہیں عدت آ رہی ہے بغیر طلاق کے، آپ نے تو کہا عدت طلاق کے ساتھ ساتھ ہے، ہم دکھاتے ہیں کہ عدت بغیر طلاق کے آ رہی ہے، مثلاً ایک باندی ہے، باندی کا نے آقا کی اجازت سے کسی شخص سے نکاح کر لیا، جب نکاح کر لیا، تو بعد میں آقا نے اس کو آزاد کیا، اب یاد رکھیے جب تک باندی تھی، باندی کی کتنی طلاقیں ہوتی ہیں؟ دو، اور اب یہ جب آزاد ہو جائے گی تو آزاد عورت کی کتنی طلاقیں ہوتی ہیں؟ تین، تو اب دیکھیے پہلے گویا اس کے گلے میں دو رسیاں تھیں، اب تین رسیاں آ گئیں، تو یہ کیسی آزادی ہے جس کی وجہ سے اس کی قید بڑھ رہی ہے، تو چنانچہ شریعت اس کو اختیار دے دیتی ہے، کہ تمہیں اختیار ہے، آزادی ملتے ہی تمہیں اختیار ہے، اگر اس خاوند سے جدائی چاہتی ہو، تو جدائی کو اختیار کر لو، خود بخود فوراً کیا ہو جائے گی؟ خاوند سے جدا ہو جائے گی، اور اس پر پھر عدت واجب ہے، اگر اس نے جدائی کو اختیار کر لیا، تو اس پر کیا واجب ہے؟ اب دیکھو طلاق کوئی نہیں، باندی نے اختیار کیا نہ، طلاق تو خاوند دیتا ہے، باندی تو نہیں دے گی، تو باندی نے یہ جدائی کو اختیار کیا اور فوراً کیا آ گئی اس پر؟ عدت آ گئی، تو یہ عدت بغیر طلاق کے دیکھو آ گئی، یا اسی طرح ایک عورت ہے اس کے خاوند کا انتقال ہوا، اس پر بھی عدت واجب ہوتی ہے، تو دیکھو طلاق کوئی نہیں، اور اس عورت پر کیا آ گئی؟ عدت، اور آپ نے کہا تھا عدت تو صرف کس کے بعد آتی ہے؟ طلاق کے بعد، تو جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں وَأَمَّا فِیْ الأَمَةِ اور باقی باندی کے اندر إِذَا أُعْتِقَتْ جب اس کو آزاد کر دیا جائے، فَإِنَّمَا شُرِعَ عَلَیْھَا العِدَّةُ تو اس پر جو ہے عدت مشروع کی گئی، تَشْبِیْھًا بِالطَّلَاقِ کس کے مشابہ کرنے کے لیے؟ طلاق کے مشابہ کرتے ہوئے بھئی، طلاق کے مشابہ کرتے ہوئے، یہ چونکہ نکاح میں نکاح ٹوٹا ہے، تو یہ کس کے مشابہ ہوا؟ طلاق ہی کے مشابہ، وہ جدائی اختیار کر رہی ہے نہ، نکاح تو نکاح ختم ہو رہا ہے، تو یہ طلاق کے مشابہ کرتے ہوئے، وَفِی المَوْتِ اور باقی موت کے اندر جو عدت آئی، کہتے ہیں إِنَّمَا شُرِعَتْ لِأَجْلِ الإِحْدَادِ إحداد کہتے ہیں سوگ منانا، سوگ منانا۔ تو کہتے ہیں موت کے اندر إِنَّمَا شُرِعَتْ لِأَجْلِ الإِحْدَادِ یہ جو عدت ہے، یہ مشروع ہوئی ہے سوگ منانے کے لیے، کس لیے؟ سوگ منانے کے لیے، فَلَا یَکُوْنُ فِیْ الوَاقِعِ مِنَ العِدَّةِ تو یہ واقع میں عدت ہے ہی نہیں، یہ تو سوگ ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ سوگ ہے، وَلِذَا شُرِعَتْ بِالأَشْھُرِ دُوْنَ الحَیْضِ اسی لیے یہ مشروع ہوئی ہے مہینوں کے ساتھ نہ کہ حیض کے ساتھ، چار مہینے دس دن بھئی خاوند کے انتقال کے بعد عورت عدت گزارتی ہے، تو معلوم ہوا یہ براءتِ رحم کے لیے ہے ہی نہیں، یہ کس مقصد کے لیے ہے؟ سوگ منانے کے لیے ہے، اسی لیے حیضوں کا اعتبار نہیں کرنا، چار مہینے دس دن کا اعتبار کرنا ہے، چاہے اس میں ایک بھی حیض اسے نہ ائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَأَمَّا فِیْ قَوْلِهِ اسْتَبْرِئِیْ رَحِمَكِ جی کنایوں کی تفصیل چل رہی ہے بھئی، اعْتَدِّیْ کی صورت میں بتلایا طلاقِ رجعی آتی ہے، اب اسْتَبْرِئِیْ رَحِمَكِ، اس کے اندر بھی کون سی آئے گی؟ طلاقِ رجعی، اور وَأَنْتِ وَاحِدَةٌ، پھر اس کو بھی بیان کریں گے، اس میں بھی کیا آئے گی؟ طلاقِ رجعی، تو اعْتَدِّیْ کو بیان کر دیا، اب اسْتَبْرِئِیْ رَحِمَكِ کو بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں وَأَمَّا فِیْ قَوْلِهِ اسْتَبْرِئِیْ رَحِمَكِ باقی اس خاوند کے اس قول کے اندر اسْتَبْرِئِیْ رَحِمَكِ، فَلِأَنَّهُ یَحْتَمِلُ أَنْ یَّکُوْنَ تو اس لیے کیونکہ یہ احتمال رکھتا ہے کہ یہ جو ہو أَنْ یَّکُوْنَ طَلَبَ بَرَاءَةِ الرَّحِمِ أَنْ یَّکُوْنَ طَلَبُ بَرَاءَةِ الرَّحِمِ لِأَجْلِ الوَلَدِ بھئی خاوند نے کیا کہا اسْتَبْرِئِیْ رَحِمَكِ، کیا معنی؟ تو اپنے رحم کو صاف کر لے، ہو سکتا ہے اس کی مراد یہ ہو کہ تو اپنے رحم کو صاف کر لے تاکہ میں پھر تجھ سے صحبت کروں، اور پھر اس سے ہمیں اولاد اللہ نصیب فرمائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا تو ہو سکتا ہے خاوند کا یہ معنی ہو، یعنی اولاد کے لیے اپنے رحم کو صاف کر لے، یا ہو سکتا ہے خاوند کا یہ معنی ہو کہ تو اپنے رحم کو صاف کر لے تاکہ پھر کیا کرے، کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لے، تو یہ طلاق والا معنی ہے، اور پہلا معنی طلاق والا نہیں تھا، تو دیکھو اس میں دونوں احتمال آ گئے۔ فَلِأَنَّهُ یَحْتَمِلُ أَنْ یَّکُوْنَ طَلَبُ بَرَاءَةِ الرَّحِمِ لِأَجْلِ الوَلَدِ أَوْ لِنِکَاحِ زَوْجٍ آخَرَ اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے یہ رحم کے صاف کرنے کو جو طلب کر رہا ہے، یہ اولاد کے لیے ہو یا دوسرے خاوند سے نکاح کے لیے ہو، فَإِذَا نَوَى ھٰذَا جب خاوند نے اس معنی کی نیت کی، یعنی دوسرے خاوند سے نکاح کے لیے ہو، یَقَعُ الطَّلَاقُ الرَّجْعِیُّ تو طلاقِ رجعی واقع ہو گی، فَإِنْ کَانَتْ مَدْخُوْلًا بِھَا اگر وہ عورت مدخول بہا ہوئی، کَأَنَّهُ قَالَ تو گویا خاوند نے یوں کہا: کُوْنِیْ طَالِقًا ثُمَّ اسْتَبْرِئِیْ رَحِمَكِ کہ تو طلاق والی ہو جا، پھر اپنے رحم کو صاف کر لے، کیا معنی بھئی، کیا سمجھ میں آیا اس سے؟ طلاق طلاق کس طریقے پر آ رہی ہے؟ اقتضاءً آ رہی ہے بھئی، اسْتَبْرِئِیْ تو اپنے رحم کو صاف کر لے اگلے نکاح کے لیے یعنی اس سے پہلے وہ کیا دے چکا؟ طلاق دے چکا ہے، تو اسی لیے کُوْنِیْ طَالِقًا اقتضاءً طلاق نکالے۔ وَإِنْ لَّمْ تَکُنْ مَدْخُوْلًا بِھَا اور اگر وہ عورت مدخول بہا نہ ہوئی، یعنی اس سے صحبت نہیں کی، یَکُوْنُ قَوْلُهُ اسْتَبْرِئِیْ رَحِمَكِ مُسْتَعَارًا مِنْ قَوْلِهِ کُوْنِیْ طَالِقًا تو ہوگا خاوند کا قول اسْتَبْرِئِیْ رَحِمَكِ یہ مستعار یعنی مجاز ہو گا خاوند کے قول کُوْنِیْ طَالِقًا سے، عَلَى نَحْوِ کُلِّ مَا مَرَّ فِیْ اعْتَدِّیْ وہ سارے اسی طریقے پر جس طرح کہ اعْتَدِّیْ کے اندر گزرا، وہی ساری تقریر یہاں پر بھی ہے۔ وَأَمَّا امّاں ہے لفظ بھئی آپ کی کتابوں میں کہ ما ہے؟ ہاں الف بھی ہونا چاہیے بھئی، وَأَمَّا أَنْتِ وَاحِدَةٌ یہ وہ تیسرا کنایہ بھئی جس سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے، اور باقی أَنْتِ وَاحِدَةٌ بھئی، فَلِأَنَّهُ یَحْتَمِلُ أَنْ یَّکُوْنَ مَعْنَاهُ بھئی دیکھیے أَنْتِ وَاحِدَةٌ یہ کنایہ ہے، کنایہ کس کو کہتے تھے جس میں کئی احتمالات ہوتے ہیں، أَنْتِ وَاحِدَةٌ میں تو تو ایک ہے، تو ایک ہے، اس میں بھی کئی احتمال، ہو سکتا ہے کیا معنی ہو؟ تو ایک ہے اپنی قوم تو اکیلی ہے، الگ ہے اپنی قوم سے، تو ایک ہے اپنی قوم سے، یعنی اکیلی ہے یعنی تجھ جیسی ان میں کوئی ذہین نہیں، یا کیا معنی؟ تو ایک ہے حسن و جمال کے اندر، تیرے جیسے حسن و جمال والی تو کوئی اور ہے ہی نہیں، یا یہ معنی تو اکی ایک ہے یعنی تجھے ایک طلاق ہے بھئی، تجھے ایک طلاق ہے۔ دیکھیے یہ بیان کر رہے ہیں، فَلِأَنَّهُ یَحْتَمِلُ أَنْ یَّکُوْنَ مَعْنَاهُ اس لیے کیونکہ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی یہ ہو، أَنْتِ وَاحِدَةٌ عِنْدَ قَوْمِكِ تو ایک ہے اپنی قوم کے نزدیک، اپنی قوم والوں کے نزدیک تو تو ایک ہی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، أَوْ عِنْدِیْ یا تو میرے نزدیک ایک ہے، فِیْ الجَمَالِ جمال، حسن و جمال کے اندر، أَوْ فِیْ المَالِ یا مال میں، وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَّکُوْنَ مَعْنَاهُ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی یہ ہو، أَنْتِ طَالِقٌ طَلْقَةً وَاحِدَةً کہ تجھے ایک طلاق ہے، یہ بھی معنی ہو سکتا ہے، فَإِذَا نَوَى ھٰذَا پس جب خاوند نے یہ نیت کر لی، فَیَقَعُ الطَّلَاقُ الرَّجْعِیُّ تو اس صورت میں طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی، وَلِھٰذَا قَالَ بَعْضُھُمْ اسی وجہ سے بعض علماء جو ہیں وہ فرماتے ہیں، إِنَّهُ إِنْ قُرِئَ وَاحِدَةٌ بِالرَّفْعِ کہ دیکھیے أَنْتِ وَاحِدَةٌ، اس کے اندر اگر کہتے ہیں أَنْتِ وَاحِدَةٌ پڑھا، تین صورتیں بتائیں گے، ایک کیا کہ وَاحِدَةٌ پہ رفع پڑھیں، أَنْتِ وَاحِدَةٌ، ایک ہے نصب پڑھیں أَنْتِ وَاحِدَةً، ایک کیا ہے کہ اس پر وقف کرے بھئی أَنْتِ وَاحِدَة، نہ رفع پڑھے اور نہ نصب، تو اسی لیے کہا بعض علماء نے، إِنَّهُ إِنْ قُرِئَ وَاحِدَةٌ بِالرَّفْعِ کہ اگر وَاحِدَةٌ کو رفع کے ساتھ پڑھا گیا، لَمْ تَطْلُقْ قَطُّ تو وہ اس عورت کو طلاق نہیں ہو گی کبھی بھی، کیوں؟ طلاق والی عبارت اوپر انہوں نے نکالی تھی، کیا عبارت تھی؟ أَنْتِ طَالِقٌ طَلْقَةً وَاحِدَةً تو وَاحِدَةً کس طرح ہے وہاں پر؟ منصوب، تو لہٰذا اگر رفع کے ساتھ پڑھا، پھر طلاق نہیں ہو گی، کیونکہ پھر یہ عبارت بنتی نہیں وہاں پر بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں اس صورت میں اسے کبھی بھی طلاق نہیں ہو گی، لِأَنَّ مَعْنَاهَا مُنْفَرِدَةٌ عَنْ قَوْمِكِ اس لیے کیونکہ أَنْتِ وَاحِدَةٌ کا تو معنی پھر ہو جائے گا تو ایک ہے، یعنی مُنْفَرِدَةٌ عَنْ قَوْمِكِ تو اپنی قوم سے یکتا ہے، الگ ہے، منفرد ہے، تو اپنی قوم سے منفرد ہے، وَإِنْ قُرِئَ وَاحِدَةً بِالنَّصْبِ اور اگر وَاحِدَةً نصب کے ساتھ پڑھا گیا، یَقَعُ الطَّلَاقُ تو طلاق واقع ہو جائے گی، البَتَّةَ قطعی طور پر، کیوں؟ لِأَنَّ مَعْنَاهَا أَنْتِ طَالِقٌ طَلْقَةً وَاحِدَةً اس صورت میں معنی کیا ہو گا تجھے ایک طلاق ہے، وَإِنْ قُرِئَ بِالوَقْفِ اور اگر اس کو وقف کے ساتھ پڑھا گیا، یا یعنی أَنْتِ وَاحِدَة، فَحِیْنَئِذٍ یَّحْتَاجُ إِلَى النِّیَّةِ تو یہ یہ محتاج ہو گی کس چیز کی؟ نیت کی، فَإِنْ نَوَى اگر خاوند نے نیت کی، تَقَعُ الرَّجْعِیَّةُ عِنْدَنَا تو رجعی طلاق واقع ہو گی ہمارے نزدیک، وَلَا تَقَعُ عِنْدَ الشَّافِعِیِّ رَحِمَهُ اللهُ اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک واقع نہیں ہو گی، وَلٰکِنَّ الأَصَحَّ یہ تو بعض علماء نے کہا کہ رفع پڑھا تو یہ مسئلہ ہو گا، نصب اور وقف کیا تو یہ مسئلہ ہو گا۔ شارح فرماتے ہیں وَلٰکِنَّ الأَصَحَّ أَنْ لَّا اعْتِبَارَ لِلإِعْرَابِ لیکن کہتے ہیں اصح قول یہی ہے کہ اعراب کا کوئی اعتبار نہیں ہے، لِأَنَّ العَوَامَّ لَا یُمَیِّزُوْنَ عَنْ وُجُوْهِ الإِعْرَابِ اس لیے کیونکہ عوام جو ہیں وہ فرق نہیں کرتے اعراب کی اقسام کے اندر، فَعَلَى کُلِّ حَالٍ یَّحْتَاجُ إِلَى النِّیَّةِ تو ہر حال میں یہ کس کا محتاج ہو گا؟ نیت کا، أَمَّا فِیْ الوَقْفِ وَالنَّصْبِ فَظَاهِرٌ وقف اور نصب کی صورت میں تو یہ بات تو ظاہر ہے، أَنَّهُ یَصِحُّ مَعْنَى الطَّلَاقِ بِالنِّیَّةِ کہ طلاق کا معنی نیت کی وجہ سے صحیح ہو جائے گا، وَأَمَّا فِیْ الرَّفْعِ باقی رفع کی صورت میں، فَلِأَنَّهُ یَحْتَمِلُ أَنْ یَّکُوْنَ مَعْنَاهُ اس لیے کیونکہ اس میں یہ بھی احتمال ہے کیونکہ کہ اس کا معنی یہ ہو۔ بھئی انہوں نے کہا تھا رفع کی صورت میں طلاق والا معنی بنے گا ہی نہیں، طلاق والے معنی کے لیے تو کیا ضروری: نصب یا وقف ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں نہیں بھئی، اس صورت میں بھی احتمال یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہو بھئی، دیکھیے، اس کا معنی یہ ہو، أَنْتِ ذَاتُ طَلْقَةٍ وَاحِدَةٍ تو ایک طلاق والی ہے، بھئی آپ کہتے ہیں ذُوْ مَالٍ کیا معنی؟ مال والا، مذکر کے لیے ذو لاتے ہیں، مؤنث کے لیے ذات لاتے ہیں، ذَاتُ مَالٍ کیا معنی؟ مال والی، تو یہاں ذات کا لفظ اسی لیے لائے کہ مؤنث ہے عورت، أَنْتِ ذَاتُ طَلْقَةٍ وَاحِدَةٍ تو ایک طلاق والی ہے۔ دیکھو اب بتلا رہے ہیں کہ رفع کی صورت میں بھی طلاق کی عبارت بن جاتی ہے۔ تو دیکھیے، ذَاتُ مرفوع ہے مضاف اور طَلْقَةٍ کیا ہے؟ مضافٌ علیہ، اور وَاحِدَةٍ اس طَلْقَةٍ کی صفت ہے، تو وہ بھی مجرور، پھر کیا کیا گیا؟ مضاف کو حذف کر کے مضاف علیہ کو اس کا قائم مقام بنا دیا گیا، کیا بن گیا؟ أَنْتِ طَلْقَةٌ وَاحِدَةٌ، پھر طَلْقَةٌ کو بھی حذف کر دیا گیا، کیا رہ گیا؟ أَنْتِ وَاحِدَةٌ، صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں ثُمَّ حُذِفَ المُضَافُ پھر مضاف کو حذف کر دیا گیا یعنی ذات کے کلمے کو، وَأُقِیْمَ المُضَافُ إِلَیْهِ مَقَامَهُ اور مضاف علیہ کو مضاف علیہ کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا، پھر اس کے بعد میں نے پھر بتلایا پھر موصوف کو حذف کر دیا گیا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پھر موصوف کو حذف کر دیا گیا۔ وَالأَصْلُ فِیْ الکَلَامِ الصَّرِیْحُ اور اصل کہتے ہیں کلام کے اندر صریح ہے، فَفِیْ الکِنَایَةِ ضَرَبُ قُصُوْرٍ کیونکہ کنایہ کے اندر ایک نوع کی کمی ہے۔ صریح ہوا ہے نہ جس کا معنی ظاہر ہوتا ہے، اور کنایہ جس میں کئی معانی کا احتمال ہوتا ہے، تو اس کے لیے معنی مراد پر مطلع ہونے کے لیے قرینہ چاہیے ہوتا ہے، اس کے بغیر پتہ نہیں چلتا، تو اسی لیے کہتے ہیں اصل کلام کے اندر صریح ہے، فَفِیْ الکِنَایَةِ ضَرَبُ قُصُوْرٍ کیونکہ کنایہ کے اندر ایک نوع کی کمی ہے۔ ایک نوع کی کمی ہے بھئی۔ لِأَنَّھَا تَحْتَاجُ إِلَى النِّیَّةِ أَوْ دَلَالَاتِ الحَالِ اس لیے کیونکہ کنایہ وہ محتاج ہوتا ہے نیت کا یا دلالتِ حال کا، بِخِلَافِ الصَّرِیْحِ بخلاف صریح کے کہ وہ محتاج نہیں ہے نیت یا دلالتِ حال کے بھئی۔ وَیَظْھَرُ ھٰذَا التَّفَاوُتُ فِیْمَا یُدْرَأُ بِالشُّبُھَاتِ اور ظاہر ہو گا یہ فرق بھئی دونوں میں، یہ اختلاف اور یہ فرق جو ہے فِیْمَا ان چیزوں کے اندر یُدْرَأُ بِالشُّبُھَاتِ جن کو چھوڑ دیا جاتا ہو، جن کو ساقط کر دیا جاتا ہو شبہات کی وجہ سے، یہ فرق ظاہر ہو گا یعنی حدود وغیرہ کے اندر بھئی، حدود کے اندر یہ فرق کیا ہو گا؟ بھئی آپ جانتے ہیں، الحدودُ تُنْدَرِئُ بِالشُّبُھَاتِ، حدود کیا ہیں؟ شبہات کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں، شبہات کی وجہ سے ان کو ساقط کر دیا جاتا ہے۔ تو لہٰذا حدود کے اندر اب بات واضح ہو گی، فرق ظاہر ہو گا دونوں کا، کنایہ کے ذریعے حد ثابت نہیں ہو سکتی، صریح کے ذریعے حد ثابت ہو گی۔ صریح کے ذریعے حد ثابت ہو گی، دیکھیے۔ تو کہتے ہیں یہ فرق ظاہر ہو گا ان چیزوں کے اندر جو شبہات کی وجہ سے ساقط کر دی جاتی ہیں، وَھُوَ الحدودُ وَالکَفَّارَاتُ اور وہ حدود اور کفارات ہیں، فَإِنَّھَا لَا تَثْبُتُ بِالکِنَایَةِ پس یہ جو ہیں حدود اور کفارات، یہ ثابت نہیں ہوں گے کنایہ کے ذریعے، کَمَا إِذَا أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ جیسے کسی شخص نے اپنے خلاف اقرار کیا، بِأَنِّیْ جَامَعْتُ فُلَانَةَ جِمَاعًا حَرَامًا فُلَانَةَ پر تنوین تو نہیں ہے؟ تنوین نہیں ہونی چاہیے، یہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ فُلَانَةَ کیا ہے؟ غیر منصرف ہے، کیونکہ فلاں کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی علم سے کنایہ کیا جاتا ہے، تو یہ علم ہی کے درجے میں ہوتا ہے، اور نیز اس کے ساتھ تائے تانیث بھی مل گئی، تو دو سبب آ گئے: ایک علمیت اور ایک تانیث، تو یہ غیر منصرف ہوا بھئی۔ جیسے کوئی شخص اپنے خلاف اقرار کرتا ہے بِأَنِّیْ جَامَعْتُ فُلَانَةَ جِمَاعًا حَرَامًا لَا یَجِبُ عَلَیْهِ حَدُّ الزِّنَا تو اس پر حدِ زنا واجب نہیں ہو گی۔ بھئی ایک آدمی کہتا ہے إِنِّیْ جَامَعْتُ فُلَانَةَ جِمَاعًا حَرَامًا، میں نے فلانی عورت سے جماع کیا حرام جماع، اب یاد رکھیے، اس صورت میں حد واجب نہیں ہو گی، کیونکہ حد کے حد ادنٰى شبہ سے بھی ساقط ہو جاتی ہے، اور یہ جو اس نے جَامَعْتُ کہا، جامع کا معنی کیا ہے؟ ویسے معنی کرتے ہیں صحبت کرنے کے، لیکن لفظوں کے اعتبار سے دیکھیں، یہ جمع سے ہے، کس سے ہے؟ جمع۔ تو جامع کا معنی ہے باہم جمع ہونا، بابِ مفاعلہ ہے نہ، دونوں جانب سے فعل کو چاہتا ہے، تو جامع کا معنی کیا ہوا؟ باہم جمع ہونا، تو لہٰذا شبہ آ گیا، کہ پتہ نہیں اب اس باہم جمع ہونا اس نے میں نے جماع کیا ہے کیا مراد ہے؟ کہ معلوم نہیں اس کی کیا مراد ہے، زنا مراد ہے اس سے، یا محض جمع ہونا مراد ہے، کیا مراد ہے؟ یعنی زنا تو نہیں کیا، ہاں ایک جگہ پر دونوں جمع ہوئے، اور اس سے زنا سے کم درجے کی اور چیزیں بے شک سب اس کے اندر آ جائیں، لیکن حد تو صرف کس میں آیا کرتی ہے؟ زنا میں آیا کرتی ہے بھئی، تو لہٰذا اس میں احتمال ہے، ہو سکتا ہے اور مجامعت ہو لیکن زنا یعنی دخول وغیرہ نہ ہو، تو شبہ آ گیا اور حد کیا ہوتی ہے؟ ادنٰى شبہ سے ساقط ہو جاتی ہے۔ وَکَذَا إِذَا قَالَ لِأَحَدٍ اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی سے کہا، جَامَعْتَ فُلَانَةَ تو نے فلانی سے جماع کیا، تو نے فلانی سے بھئی اگر یوں کہے کوئی کسی سے زَنَیْتَ فُلَانَةَ، تو نے فلانی سے زنا کیا، پھر تو اس پر کیا آ جاتی؟ حد آ جاتی بھئی حدِ قذف، لیکن یہ کیا کہہ رہا ہے؟ اسی طرح کہا لِأَحَدٍ کسی نے دوسرے سے جَامَعْتَ فُلَانَةَ تو نے کیا کیا؟ فلانی سے جماع کیا ہے۔ لَا یَجِبُ عَلَیْهِ حَدُّ القَذْفِ تو اس شخص پر کہنے والے پر حدِ قذف واجب نہیں ہو گی، مَا لَمْ یَقُلْ جب تک وہ یہ نہیں کہتا نِکْتَھَا کہ تو نے اس سے زنا کیا ہے، أَوْ زَنَیْتَ بِھَا یا تو نے اس سے زنا، تو نِکْتَھَا کہے یہ صریح لفظ ہے زنا کے اندر یا زَنَیْتَ بِھَا کہے، تو اس صورت کے اندر جو ہے وہ اب اس پر حدِ قذف آئے گی بھئی، چار گواہ اس سے طلب کیے جائیں گے نہ پیش کر سکا تو حدِ قذف اس پر لگ جائے گی۔ نِکْتَھَا بھئی یہ حاشیے میں انہوں نے دیا ہوا ہے نَکَحَ المَرْأَةَ سے ہے۔ یعنی عورت سے زنا کرنا، اور عجیب بات لغت کے اندر یہ لفظ مجھے نہیں ملا بھئی، بڑا تلاش کیا۔ تو عام لغات میں یہ لفظ نہیں ہے، معلوم ہوتا ہے یہ کوئی قدیم لفظ ہو گا بھئی، کوئی قدیم لفظ بھئی۔ وَکَذَا إِذَا قَالَ لِآخَرَ اور اسی طرح اگر کسی شخص نے دوسرے سے کہا، دوسرے ایک شخص نے دوسرے سے کہا زَنَیْتَ تو نے زنا کیا ہے، تو دوسرے نے کہا صَدَقْتَ، اب جس پہ الزام تھا وہ کہہ رہا ہے صَدَقْتَ تو نے سچ کہا، اس صورت میں بھی یہ حد جاری یہ جو تصدیق کر رہا ہے اسی پہ زنا کا الزام تھا، صَدَقْتَ سے اس نے تصدیق کر دی کہ ہاں واقعی میں نے زنا کیا ہے، اور اس پر پھر کیا آنی چاہیے؟ حدِ زنا، کہتے ہیں نہیں بھئی حدِ زنا نہیں آئے گی۔ کیونکہ ہو سکتا ہے اس نے یہ تو نہیں کہا، پوری بات تو نہیں کی کہ تو نے یہ جو میرے اوپر زنا کا الزام لگایا ہے، اس میں تو سچ تو نے کہا، اس نے صرف کیا کہا؟ صَدَقْتَ تو نے سچ کہا، ہو سکتا ہے اس کا اور معنی ہو، مثلاً ایک معنی جو یہ ذکر کر رہے ہیں، یہی معنی ضروری نہیں، اور بھی کوئی معنی ہو سکتا ہے، لیکن بہرحال مثلاً اس کا کہنے کا یہ مطلب ہو۔ کہ کیا ہو؟ کہ صَدَقْتَ قَبْلَ ذٰلِکَ فَلِمَ کَذَبْتَ الآنَ، اس سے پہلے تو تو نے سچ کہا تھا اب جھوٹ کیوں بول رہا ہے؟ اب تو نے جھوٹ کیوں بولا بھئی؟ پہلے تو تو نے سچ کہا تھا اب جھوٹ تو نے تو صَدَقْتَ کے ساتھ باقی کلام محذوف جو ہے جو یہ کچھ بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں إِذَا قَالَ لِآخَرَ کسی نے دوسرے سے کہا زَنَیْتَ فَقَالَ صَدَقْتَ اس نے کہا تو نے سچ کہا، لَا یُحَدُّ حَدَّ الزِّنَا تو اس پر حدِ زنا نہیں لگائی جائے گی، لِأَنَّهُ یَحْتَمِلُ أَنْ یَّکُوْنَ مَعْنَاهُ اس لیے کیونکہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی یہ ہو، صَدَقْتَ قَبْلَ ذٰلِکَ فَلِمَ کَذَبْتَ الآنَ کہ تو نے اس سے پہلے تو سچ کہا تھا تو اب جھوٹ کیوں کہا ہے؟ بِخِلَافِ مَا إِذَا قَذَفَ رَجُلًا بِالزِّنَا بخلاف اس کے کہ جب تہمت لگائی کسی شخص پر زنا کی، فَقَالَ الآخَرُ تو دوسرے نے کہا ھُوَ کَمَا قُلْتَ وہ اسی طرح ہے جیسے تو نے کہا، بھئی ایک آدمی نے دوسرے کے بارے میں کہا کسی سے بات کر رہا تھا، زید کے بارے میں بات کسی اور سے کر رہا ہے لیکن کر کس کی رہا ہے؟ زید کی، مثلاً، اور کہتا ہے مثلاً اس پر الزام لگاتے ہوئے کہ اس نے زید نے کیا کیا ہے؟ زنا کیا ہے۔ سننے والے نے کیا کہا؟ ھُوَ کَمَا قُلْتَ، وہ اسی طرح ہے جیسے تو نے کہا۔ اب یہ کہنے والا اس پر تو حدِ قذف آئے گی ہی، جس نے کہا نہ ھُوَ کَمَا قُلْتَ وہ اسی طرح ہے جیسے تو نے کہا، اس پر بھی حدِ قذف آ جائے گی بھئی، اس لیے کیونکہ وہ کاف لے کر آیا کاف بھئی، اور تشبیہ کے بیان کر رہا ہے، اور یہاں تشبیہ ان تمام چیزوں میں آ جائے گی جو اس کے کہنے والے نے کہی تھیں۔ جو مخاطب نے جو جو الزام یا جو جو باتیں کی تھیں، معلوم ہوا یہ سب میں ان کی کیا کر رہا ہے؟ اس کی تصدیق کر رہا ہے، اور انہی کے اندر ایک کیا الزام تھا؟ زنا والا بھی، تو لہٰذا اس نے بھی اس پر زنا کا الزام لگا دیا، تو اس پر بھی کیا آ جائے گی؟ حدِ قذف، دونوں پر حدِ قذف آ جائے گی، الا یہ کہ گواہ پیش کر دیں چار بھئی۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا قَذَفَ رَجُلًا بِالزِّنَا بخلاف اس کے کہ جب تہمت لگائی کسی شخص پر زنا کی، فَقَالَ الآخَرُ تو دوسرے نے کہا ھُوَ کَمَا قُلْتَ وہ ایسا ہی ہے جیسا آپ نے کہا، یُحَدُّ ھٰذَا المُصَدِّقُ حَدَّ القَذْفِ تو حد لگائی جائے گی اس تصدیق کرنے والے پر بھی حدِ قذف، لِأَنَّ کَافَ التَّشْبِیْهِ یُوْجِبُ العُمُوْمَ فِیْ جَمِیْعِ مَا وَصَفَ بِهِ اس لیے کیونکہ کافِ تشبیہ جو ہے وہ ثابت کرتا ہے عموم کو ان فی جَمِیْعِ مَا وَصَفَ بِهِ ان تمام چیزوں میں جن کے ساتھ اس نے اس کا وصف بیان کیا ہے، جن کے ساتھ اس نے اس کو موصوف کیا ہے، ان تمام میں عموم کو ثابت کرتا ہے، فَبَطَلَ کَوْنُهُ کِنَایَةً تو اس کا کنایہ ہونا باطل ہوا بھئی، کنایہ تو تب ہوتا نہ اس میں کئی احتمال ہوتے، یہاں تو کئی احتمال نہیں، وہ تو اس نے جو جو کچھ کہا ان سب کی اس نے تصدیق کر دی بھئی، تو پھر یہ کنایہ رہے گا ہی نہیں بلکہ صریح بن جائے گا، اور جب صریح بن گیا تو اس کے ذریعے حدود کا ثابت کرنا صحیح ہو جائے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، ھٰذَا ھُوَ المَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الكَلَامِ।
142 approved lectures · 69 of 142