Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-046

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 152
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔46 وَلِهَذَا جَعَلْنَا لَفْظَ الصَّاعِ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا عَامًّا فِيمَا يَحِلُّهُ. أَيْ لِأَجْلِ أَنَّ الْمَجَازَ يَكُونُ عَامًّا جَعَلْنَا لَفْظَ الصَّاعِ فِي حَدِيثٍ رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا عَنِ الرَّسُولِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ قَوْلُهُ: ”لَا تَبِيعُوا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ“ عَامًّا فِي كُلِّ مَا يَحِلُّ الصَّاعَ وَيُجَاوِرُهُ. کل ہم نے حقیقت اور مجاز کی بحث شروع کی تھی۔ حقیقت کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو معنى موضوع لہ کے اندر استعمال کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ حقیقت۔ اور لفظ کو اگر معنى غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے کسی مناسبت کی وجہ سے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجاز کہتے ہیں بھئی، مجاز کہتے ہیں۔ اور مناسبت کی قید کے ذریعے بتلایا تھا شارح نے آپ کو کہ کوئی زمین بول کر آسمان مراد لے، اس کو نکال دیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں مناسبت نہیں ہے بھئی۔ مناسبت نہیں، تو اس کو غلطی کہیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا زمین بول کر کیا مراد لیتا ہے؟ آسمان، تو یہ خطا ہے۔ اور اس کے ذریعے ہزل، مذاق کو بھی نکال دیا، کیونکہ مذاق کے اندر بھی کبھی لفظ بول کر معنى غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا جاتا ہے، لیکن وہاں پر کوئی مناسبت نہیں ہوتی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی، اس کے بعد بتلایا تھا خاص، حقیقت کا حکم بھئی۔ کہ حقیقت کا حکم یہ ہے کہ یہ اس معنى موضوع لہ کو ثابت کر دے گا کہ معنى موضوع لہ وہاں ثابت ہو جائے گا عام ہو یا خاص بھئی۔ عام ہو، تو اس عام کو ثابت کر دے گا۔ خاص ہو، تو اس خاص کو ثابت کر دے گا۔ اسی طرح مجاز بھی ہے، اگر عام ہو تو وہ معنى عام کو ثابت کر دے گا، اگر خاص ہو تو اس خاص کو ثابت کر دے گا۔ حقیقت بتلایا تھا عام کو بھی اس حقیقت جو ہے اس معنى کو ثابت کر دے گی اس معنى موضوع لہ کو چاہے عام ہو چاہے خاص، اس کی مثال ذکر کی تھی: ”وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا“. تو دیکھو زنا سے یہاں اس کا حقیقی معنى مراد ہے، وہ کہ محل حرام کے اندر وطء کرنا، اور یہی معنى یہاں مراد ہے، اور یہ خاص ہے مولانا کہ افراد نہیں یہاں پر بھئی، تو اس معنى کو اس نے ثابت کر دیا۔ تو دیکھو حقیقت کس کے ساتھ جمع ہو گئی؟ خاص کے ساتھ۔ اور ”وَلَا تَقْرَبُوا“، یہاں یہ جو واؤ آیا بھئی، یہ واؤ جمع مذکر مخاطب کی ضمیر ہے، اور تو اس کے ایک مراد لیتے ہیں یا جمع مراد لیتے ہیں بھئی؟ جمع۔ اور یہ جمع مذکر مخاطب ہی یہاں پر مراد ہیں یا کوئی اور معنى مراد ہے؟ جمع مذکر مخاطب ہی مراد ہیں یہاں پر بھئی۔ تو دیکھو یہ لفظ استعمال ہوا کس کے اندر؟ معنى موضوع لہ کے اندر، اور اس ایک فرد پر اطلاق ہے یا مجموعے پر بھئی، زیادہ پر؟ ہاں جمع، افراد زیادہ ہیں مولانا، جمع کے لیے یہ لاتا ہے یہ، یہ ضمیر آتی ہے۔ تو دیکھو یہ حقیقت ہے اور کس کے ساتھ جمع ہو گئی؟ عام کے ساتھ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ حقیقت اس ما، حقیقت جو ہے کا حکم یہ ہے کہ وہ معنى ثابت ہو جاتا ہے، چاہے خاص ہو چاہے عام بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب بیان کیا گیا تھا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مجاز کے اندر عموم نہیں، اس لیے کیونکہ مجاز بناء بر ضرورت کے ہے اور ضرورت خصوص میں پوری ہو جاتی ہے، تو عموم کی طرف جانے کی ضرورت نہیں بھئی۔ جی، اب آگے فرماتے ہیں: وَلِهَذَا جَعَلْنَا لَفْظَ الصَّاعِ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا عَامًّا فِيمَا يَحِلُّهُ. اور اسی وجہ سے قرار دیا ہم نے لفظ صاع کو جو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں آیا ہے بھئی۔ کیا اس کو قرار دیا؟ عاماً، اس کو ہم نے عام بنایا، عام قرار دیا فِيمَا يَحِلُّهُ اس چیز کے اندر يحلُّهُ جو اس صاع کے اندر ڈالی جاتی ہے، اس میں اترتی ہے، نازل ہوتی، یعنی اس صاع کے ذریعے جس کو ماپا جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ لفظ صاع کو ہم نے کیا قرار دیا؟ عام قرار دیا اس چیز کے اندر جو اس کے اندر ڈلتی ہے چیز بھئی۔ اب دیکھیے، حدیث آگے آ رہی ہے، حدیث میں آیا: ”لَا تَبِيعُوا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ“ نہ بیچو تم ایک درہم کو دو درہم کے بدلے میں ”وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ“ اور نہ بیچو تم ایک صاع کو دو صاع کے بدلے میں۔ تو یہاں پر بالاتفاق صاع سے وہ لکڑی کا پیمانہ مراد نہیں ہے بھئی بالاتفاق۔ سمجھ میں آیا بالاجماع بھئی، بالاجماع۔ تو ایک لکڑی کے پیمانے کو دو لکڑی کے پیمانوں کے بدلے بیچنا اور خریدنا جائز ہے بھئی، اس پر اجماع ہے تمام علماء کا۔ تو معلوم ہوا اس سے صاع مراد نہیں، حقیقت مراد نہیں بھئی۔ جب حقیقت مراد نہیں، تو اب مجازی معنى کی طرف جائیں گے کہ محل بول کر حال مراد ہے۔ محل بول کر؟ حال، وہ چیز جو اس میں آتی ہے، وہ مراد ہے۔ اور وہ عام ہے، جو چیز بھی اس صاع میں ڈالی جاتی ہے، اس کے ذریعے اس کا اندازہ کیا جاتا ہے اور اس کو ماپا جاتا ہے، وہ تمام چیزیں اس میں داخل ہو گئیں بھئی۔ ”لَا تَبِيعُوا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ“، ایک صاع کو دو صاع کے بدلے نہ بیچو۔ تو جو چیز بھی صاع کے ذریعے ماپ کر بیچی جاتی ہے، اس کا ایک صاع دو صاع کے بدلے بیچنا جائز نہیں! تو یہاں ہم نے وہ محل مراد لیا ہے یا حال بھئی؟ محل بول کر حال مراد دیا، اور یہ حقیقی معنى ہے یا مجازی معنى؟ مجازی معنى، اور یہ معنى عام ہے مولانا، جو بھی چیز اس کے ذریعے ماپی جاتی ہے اور بیچی جاتی ہے، اس کا ایک صاع دو صاع کے بدلے بیچنا جائز نہیں، چاہے وہ غلہ ہو، چاہے چونا وغیرہ کوئی اور چیز، جو بھی اس کے ذریعے ماپ کر بیچی جاتی ہے، تو ایک صاع کے بدلے وہاں دو صاع بیچنا جائز نہیں، بلکہ مساوات ضروری ہے، ایک صاع کے بدلے ایک ہی صاع ہوگا۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، یہی اب بیان کریں گے۔ وَلِهَذَا جَعَلْنَا لَفْظَ الصَّاعِ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا عَامًّا فِيمَا يَحِلُّهُ. اور اسی وجہ سے ہم نے بنایا لفظ صاع کو حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اندر عام، اس کو عام بنایا فِيمَا يَحِلُّهُ اس چیز کے اندر جو اس کے اندر آتی ہے۔ أَيْ لِأَجْلِ أَنَّ الْمَجَازَ يَكُونُ عَامًّا یعنی اس وجہ سے کہ مجاز جو ہے وہ عام ہوگا جَعَلْنَا لَفْظَ عام ہو سکتا ہے یعنی جَعَلْنَا لَفْظَ الصَّاعِ فِي حَدِيثٍ رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ہم نے لفظ، وہ لفظ صاع جو آیا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیث کے اندر جو انہوں نے روایت کی حضور علیہ السلام سے، وَهُوَ قَوْلُهُ اور حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”لَا تَبِيعُوا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ“ نہ بیچو تم ایک درہم کو دو درہم کے بدلے ”وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ“ اور نہ ایک صاع کو دو صاع کے بدلے۔ تو اس لفظ صاع کو ہم نے کیا بنایا؟ بھئی شروع میں آیا تھا شرح کے اندر: جَعَلْنَا لَفْظَ الصَّاعِ عَامًّا، سمجھ میں آیا؟ یہ مفعول ثانی آ گیا جعلنا کے لیے۔ تو اس لفظ صاع کو اس حدیث کے اندر جس کو روایت کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس لفظ کو ہم نے عام بنایا فِي كُلِّ مَا يَحِلُّ الصَّاعَ يَحِلُّ يَحُلُّ دونوں طرح پڑھنا درست ہے۔ ہر اس چیز کے اندر جو صاع کے اندر ڈالی جاتی ہے، وَيُجَاوِرُهُ اور اس کے ساتھ ملتی ہے، لِأَنَّ الْحَقِيقَةَ لَيْسَتْ بِمُرَادَةٍ اتِّفَاقًا اس لیے کہ حقیقت مراد نہیں ہے بالاتفاق بھئی۔ إِذْ نَفْسُ الصَّاعِ الَّذِي يَكُونُ مِنَ الْخَشَبِ يَجُوزُ بَيْعُهُ بِالصَّاعَيْنِ فِي الشَّرِيعَةِ اس لیے کیونکہ نفس صاع جو ہے جو کہ لکڑی کا ہوتا ہے، اس کی اس کے ایک کی بیع جائز ہے دو صاع کے بدلے فِي الشَّرِيعَةِ شریعت کے اندر۔ ایک لکڑی کا صاع بیچ کر دو لکڑی کے صاع خریدنا جائز، ان کے بدلے بیچنا جائز ہے۔ فَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ مَجَازًا عَمَّا يَحِلُّهُ پس تو حقیقی معنى مراد نہیں، تو ضروری ہوا کہ مجاز ہو عَمَّا اس چیز سے يَحِلُّهُ جو اس کے اندر ڈالی جاتی ہے۔ فَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ پس امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں يُقَدِّرُ لَفْظَ الطَّعَامِ فَقَطْ وہ صرف لفظ طعام کو مقدر نکالتے ہیں بھئی! أَيْ لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ الْحَالَّ فِي الصَّاعِ نہ بیچو تم اس غلے کو جو ڈالا جاتا ہے کس کے اندر؟ صاع کے اندر، بِالطَّعَامِ اس طعام کے بدلے الْحَالِّ فِي الصَّاعَيْنِ جس کو ڈالا گیا ہو کس کے اندر؟ دو صاع میں۔ أَيْ لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ الْحَالَّ فِي الصَّاعِ نہ بیچو تم اس غلے کو جو ڈلا ہوا ہو ایک صاع کے اندر، بِالطَّعَامِ الْحَالِّ فِي الصَّاعَيْنِ اس غلے کے بدلے جو ڈلا ہوا ہو دو صاع کے اندر، لِأَنَّ الْمَجَازَ لَا يَكُونُ إِلَّا خَاصًّا اس لیے کہ مجاز نہیں ہوگا مگر خاص ہی، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ وَنَحْنُ نُقَدِّرُ كُلَّ مَا يَحِلُّ اور ہم مقدر کیا نکالتے ہیں؟ ہر وہ چیز جو اس میں ڈلتی ہے۔ أَيْ لَا تَبِيعُوا الشَّيْءَ الْمُقَدَّرَ بِالصَّاعَيْنِ سَوَاءٌ كَانَ طَعَامًا أَوْ غَيْرَهُ تم نہ بیچو وہ چیز جس کو فرض کیا گیا ہے دو صاع کے بدلے، یعنی وہ چیز جس کو فرض کیا گیا، کون سی چیز جس کا جس کی پیمائش کس کے ذریعے کی جاتی ہے؟ صاع کے ذریعے، اس کو تو اس کا ایک صاع نہ بیچو بِالصَّاعَيْنِ دو صاع کے بدلے سَوَاءٌ كَانَ طَعَامًا أَوْ غَيْرَهُ چاہے وہ طعام غلہ ہو أَوْ غَيْرَهُ یا غلے کے علاوہ ہو، هَذَا مَا قَالُوهُ یہ وہ جو علماء نے فرمایا ہے۔ وَقَدِ اعْتُرِضَ عَلَيْهِ فِي التَّلْوِيحِ اور تحقیق اس پر اعتراض کیا گیا ہے تلویح کے اندر بِأَنَّ عَدَمَ الْقَوْلِ بِعُمُومِ الْمَجَازِ افْتِرَاءٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمْ نَجِدْهُ فِي كُتُبِهِ کہ یہ عموم مجاز کے قائل نہ ہونا، یہ افتراء ہے، یہ جھوٹ باندھا گیا ہے عَلَى الشَّافِعِيِّ امام شافعی رحمہ اللہ پر، لَمْ نَجِدْهُ فِي كُتُبِهِ ہم نے اس کو نہیں پایا ان کی کتابوں میں۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ پر ویسے ہی الزام ہے کہ وہ عموم مجاز کے قائل نہیں ہیں، بلکہ ایسی بات نہیں ہے، یہ قول جو ذکر کیا گیا کہ وہ عموم مجاز کے قائل ہیں قائل نہیں ہیں، کہتے ہیں ہم نے ان کی کتابوں میں جستجو کی، طلب کیا، لیکن کہیں ہمیں ان کا یہ قول نظر نہیں آیا، یہ معلوم ہوا یہ ویسے ہی کسی کی غلطی سے ان کی طرف اس قول کی نسبت ہو گئی ہے۔ نسبت ہو گئی ہے۔ تو حق یہی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ بھی بھئی مجاز کے عموم کے قائل ہیں احناف کی طرح، اگر خاص ہوگا تو خاص ثابت ہو جائے گا معنى، اور اگر عام ہوا تو عام ثابت ہو جائے گا۔ اس پر پھر اشکال ہوتا ہے، اچھا! اگر وہ عموم کے قائل ہیں مجاز کے، تو پھر وہ صرف طعام کو مقدر کیوں نکالتے ہیں بھئی؟ ہم نے تو کہا جو بھی چیز صاع کے اندر ماپ کر بیچی جاتی ہے، ایک صاع کے بدلے دو صاع کا بیچنا صحیح نہیں، اور وہ کہتے ہیں صرف طعام میں ہے، وجہ اس کی یہ، وہ جواب ذکر کر رہے ہیں، وجہ یہ بھئی کہ ان کے نزدیک ربا کی علت کیا ہے؟ طعم اور ثمنیت ہے، طعم اور ثمنیت ہے۔ تو لہٰذا ثمنیت، ثمن تو کیا ہے؟ سونا اور چاندی، وہ تو لازمی بات ہے اس کے اندر نہیں ماپے جاتے بھئی، تو باقی چیزیں اس کے اندر صاع کے اندر، سونے اور چاندی کے پیمانے تو چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں بھئی، تو اس کے اندر لازمی بات ہے اور کون سی چیز ماپی جا سکتی ہے؟ جو بھی چیز ماپی جا سکتی ہے، لیکن اس میں ربا ان کے نزدیک ہے ہی نہیں، ربا صرف کس چیز کے اندر آئے گا؟ طعام، جو کھانے والی چیزیں ہیں، اسی لیے انہوں نے طعام کو یہاں مقدر نکالا ہے، کیونکہ اسی میں ربا آتا ہے، تو ایک صاع کو دو صاع کے بدلے نہ بیچا جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: وَأَمَّا تَقْدِيرُ الطَّعَامِ فِي الْحَدِيثِ اور باقی طعام کی تقدیر حدیث کے اندر فَبِنَاءً عَلَى أَنَّ الطُّعْمَ عِلَّةٌ لِحُرْمَةِ الرِّبَا عِنْدَهُ پس بناء بر اس کے کہ طعم جو ہے وہ علت ہے حرمت ربا کی ان کے نزدیک، فَلَا يَحْرُمُ التَّفَاضُلُ فِي الْجَصِّ وَالنَّوْرَةِ پس حرام نہیں ہوگی زیادتی جسّ اور نورة کے اندر، لَا بِنَاءً عَلَى أَنَّ الْمَجَازَ لَا يَعُمُّ نہ کہ بناء بر اس کے کہ مجاز میں عموم نہیں ہے۔ اس بناء پر نہیں کہ انہوں نے یا کہ ان کے نزدیک مجاز میں عموم نہیں ہے، اس بناء پر انہوں نے طعام کو مقدر نہیں نکالا، بلکہ اس بناء پر انہوں نے طعام کو مقدر نکالا ہے کیونکہ ان کے نزدیک ربا کی علت ہی کیا ہے؟ طعم ہے یہاں پر بھئی۔ تو لہٰذا جسّ اور نورة کے اندر تفاضل حرام نہیں ہوگا۔ ایک صاع جسّ دے کر دو صاع جسّ لینا درست ہے ان کے نزدیک، اسی طرح ایک صاع نورة دے کر دو صاع نورة کے درست ہیں۔ یاد رکھیے جسّ اور نورة یہ دونوں چونے کو کہتے ہیں، لیکن جسّ ہے وہ عمارتی چونا ہے، اور نورة جو ہے یہ قلعی کا، یہ سفیدی والا چونا ہے۔ جسّ کہتے ہیں عمارتی چونے کو، بھئی یہ چونے سے ایک خاص قسم کا مصالحہ تیار کیا جاتا تھا اور سیمنٹ کی طرح کام دیتا تھا، جیسے آج کل سیمنٹ اینٹوں کے درمیان جوڑنے کا کام دیتا ہے، اسی طرح یہ مصالحہ بھی کیا کرتا تھا؟ یہ تیار کیا جاتا ہے، اب قدیم زمانے میں تو عام تھا، اب معلوم نہیں بھئی، تو یہ جس طرح سیمنٹ اینٹوں میں رکھتے ہیں اور مضبوطی سے ان کو آپس میں جوڑ دیتا ہے، یہ مصالحہ بھی اسی طرح کیا کرتا تھا؟ اینٹوں وغیرہ کو جوڑ دیتا تھا مضبوطی سے، چونے سے تیار ہوتا تھا، اس کو جسّ کہتے ہیں بھئی، عمارتی چونا۔ وَالْحَقِيقَةُ لَا تَسْقُطُ عَنِ الْمُسَمَّى بِخِلَافِ الْمَجَازِ. اور حقیقت وہ ساقط نہیں ہوگی مسمى سے بخلاف مجاز کے۔ حقیقت سے مراد یہاں معنى حقیقی ہے، یعنی معنى حقیقی جو ہے وہ ساقط نہیں ہوتا اپنے مسمى سے بخلاف مجاز کے کہ وہ اپنے مسمى سے ساقط ہو جاتا ہے، یعنی اس کی نفی کرنا درست ہے، لیکن معنى حقیقی کی نفی کرنا درست نہیں ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے، یاد رکھیے یہ جو معنى حقیقی ہے، یہ جس پر صادق آ رہا ہے، اس سے اس کی نفی کرنا درست نہیں ہے۔ اور معنى مجازی جو ہے، اس کی نفی کرنا اس سے جس پر وہ صادق آ رہا آ رہا ہے، یہ درست ہے مولانا۔ یہ کیا ہے؟ یہ علامت ہے حقیقت اور مجاز کا پتہ اس سے چلتا ہے بھئی۔ کہ حقیقت کی نفی کرنا ما صدق علیہ سے، یعنی جس پر وہ صادق آ رہا ہے، وہ درست نہیں ہوتا، لیکن مجاز کی نفی کرنا ما صدق علیہ سے، یہ درست ہوتا ہے۔ مثال سے دیکھو بات واضح ہوگی۔ مثلاً دیکھیے بھئی، شیر بھئی، اسد کا لفظ، اسد کا حقیقی معنى کیا ہے؟ شیر۔ ہم کہیں گے شیر نظر آیا، آپ نے کہا: هَذَا أَسَدٌ، یہ شیر ہے، لیکن یہ کہنا درست نہیں: هَذَا لَيْسَ بِأَسَدٍ، یہ شیر نفی کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ تو حقیقی معنى جس پر صادق آ رہا ہے اس سے حقیقی معنى کی نفی کرنا صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو شیر اس کا حقیقی معنى ہے، تو شیر کے بارے میں یہ کہنا تو صحیح: هَذَا أَسَدٌ، لیکن یہ کہنا صحیح نہیں: هَذَا لَيْسَ بِأَسَدٍ۔ جبکہ مجاز میں یہ جائز ہے مولانا، بہادر آدمی آیا، آپ نے کہا: هَذَا أَسَدٌ، یہ کیا ہے؟ شیر ہے۔ اور آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں: هَذَا لَيْسَ بِأَسَدٍ۔ بہادر آدمی آیا، آپ نے کہا: هَذَا أَسَدٌ، یہ بہادر آدمی ہے، تو دیکھو اطلاق بھی صحیح ہوا، اور نفی بھی صحیح، آپ کہہ سکتے ہیں: هَذَا لَيْسَ بِأَسَدٍ، یہ شیر نہیں ہے بھئی، تو دیکھو نفی بھی صحیح ہوئی۔ لیکن معنى حقیقی کے اندر ایسا نہیں، اس میں صادق تو آئے گا، لیکن نفی کرنا صحیح نہیں ہے، اور جبکہ مجازی معنى کے اندر نفی کرنا بھی صحیح ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ کہتے ہیں: فَهَذِهِ عَلَامَةٌ لِمَعْرِفَةِ الْحَقِيقَةِ وَالْمَجَازِ یہ علامت ہے حقیقت اور مجاز کی پہچان کے لیے، وَالْمُرَادُ أَنَّ الْمَعْنَى الْحَقِيقِيَّ لَا يَسْقُطُ وَلَا يَنْتَفِي عَمَّا صَدَقَ عَلَيْهِ مراد یہ ہے کہ معنى حقیقی وہ ساقط نہیں ہوتا اور منتفی نہیں ہوتا اس سے جس پر وہ صادق آتا ہے، بِخِلَافِ الْمَعْنَى الْمَجَازِيِّ بخلاف معنى مجازی کے، فَإِنَّهُ يَصِحُّ أَنْ يَصْدُقَ عَلَيْهِ وَيَصِحَّ أَنْ يُنْفَى عَنْهُ کیونکہ اس میں صحیح ہے کہ وہ صادق آئے اس پر، وَيَصِحَّ أَنْ يُنْفَى عَنْهُ اور صحیح ہے کہ اس سے اس کی نفی کی جائے، يُقَالُ لِلْأَبِ اب سے کے بارے میں کہا جاتا ہے: أَبٌ، یہ کیا ہے؟ اب ہے، باپ ہے، وَلَا يَصِحُّ أَنْ يُقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِأَبٍ اور یہ درست نہیں ہے کہ کہ یہ کہا جائے لَيْسَ بِأَبٍ کہ یہ باپ نہیں ہے۔ بِخِلَافِ الْجَدِّ بخلاف جد کے، فَإِنَّهُ يَصِحُّ أَنْ يُقَالَ إِنَّهُ أَبٌ اس لیے کہ صحیح ہے اس کے بارے میں کہ یوں کہا جائے کہ یہ اب ہے، وَيَصِحُّ أَنْ يُقَالَ اور یہ بھی صحیح ہے کہ یوں کہا جائے: إِنَّهُ لَيْسَ بِأَبٍ کہ یہ اب نہیں ہے۔ نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دادا پر مجازاً اب کا اطلاق ہوا ہے، تو لہٰذا کہہ سکتے ہیں: هَذَا أَبٌ اور چونکہ مجازاً ہے تو لہذا نفی بھی کر سکتے ہیں۔ ہذا لیس بب اب یہ حقیقت میں اب نہیں، مثلاً اب لزيد نہیں ہے۔ وكذا الهيكل المعلوم يصح أن يقال عليه إنه أسد اور اسی طرح ہیکل کہتے ہیں مولانا ہر بھاری بھرکم چیز کو بھئی۔ اسی طرح بڑا کوئی قد آور جانور ہو تو اس کو بھی ہیکل کہتے ہیں۔ اور یہاں یہی معنی ہے، بڑا قد آور جانور، بھاری بھرکم جانور بھئی۔ وكذا الهيكل المعلوم اور اسی طرح وہ معلوم قد آور جانور جو ہے يصح أن يقال عليه یہ صحیح ہے کہ اس پر یہ کہا جائے کہ إنه أسد کہ وہ کیا ہے؟ شیر ہے۔ ولا ينفى عنه اور اس سے نفی نہیں کی جا سکتی، اپ یہ نہیں کہہ سکتے یہ شیر نہیں ہے کیونکہ اپ کا یہ کلام صحیح نہیں بھئی، وہ شیر ہی ہے۔ تو ولا ينفى اس سے نفی نہیں کی جا سکتی بان يقال کہ بعید طور پر یوں کہا جائے إنه ليس بأسد کہ یہ اسد نہیں ہے۔ بخلاف الرجل الشجاع بخلاف رجل شجاع کے، بہادر آدمی کے، فإنه يصح أن يقال إنه أسد کیونکہ صحیح ہے کہ یوں کہا جائے کہ یہ شیر ہے وأن يقال اور یہ بھی صحیح ہے کہ یوں کہا جائے کہ إنه ليس بأسد کہ یہ شیر نہیں ہے یعنی وہ درندہ نہیں ہے یہ۔ ومتى أمكن العمل بها سقط المجاز اور جب تک ممکن ہو عمل کرنا حقیقت پر مجاز ساقط ہو جائے گا۔ بھئی یہ ہمارا بڑا ضابطہ ہے کہ جب تک حقیقت پر عمل ہو سکے یعنی معنی حقیقی مراد لیا جا سکے اس وقت تک معنی حقیقی ہی مراد لیا جائے گا اور مجاز کی طرف نہیں جائیں گے، مجاز ساقط ہو جائے گا بھئی۔ ہاں جب حقیقی معنی لینا ممکن نہ ہو تو پھر کس کی طرف ہم جائیں گے؟ مجاز کی طرف جائیں گے۔ ومتى أمكن العمل بها سقط المجاز اور جب تک ممکن ہو عمل کرنا حقیقت پر، مجاز ساقط ہو جائے گا۔ هذا أصل كبير لنا یہ ہمارا بڑا ضابطہ ہے، يتفرع عليه كثير من الأحكام اس پر متفرع ہوتے ہیں بہت سے احکام۔ أي ما دام أمكن العمل بالمعنى الحقيقي سقط المعنى المجازي یعنی جب تک ممکن ہو عمل کرنا معنی حقیقی پر، مجازی معنی ساقط ہو جائے گا، لأنه مستعار اس لیے کہ یہ معنی مجازی جو ہے یہ تو مستعار ہے والمستعار لا يزاحم الأصل اور مستعار جو ہے وہ اصل کے مزاحم اور مقابل نہیں ہو سکتا۔ فيكون العقد لما ينعقد دون العزم پس عقد کا لفظ جو آ رہا ہے آیت کے اندر، وہ ما ينعقد کے لیے ہو گا دون العزم نہ کہ عزم یعنی پختہ ارادے کے لیے۔ عقد کا لفظ آگے آ رہا ہے مولانا، نیچے سطر میں آیت آ رہی ہے بھئی، ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان لیکن اللہ تمہارا مؤاخذہ فرمائیں گے وہ جو تم نے، کیا کیا ہے؟ مضبوط باندھی ہیں قسمیں بھئی، وہ جو قسمیں جو تم نے مضبوط باندھی ہیں، ان کا تم سے مؤاخذہ فرمائیں گے بھئی۔ جی، تقریر یہیں سمجھ لیجیے بھئی۔ یاد رکھیے، قسم تین قسم پر ہے۔ ایک یمینِ لغو ہے، ایک یمینِ غموس ہے، ایک یمینِ منعقدہ ہے بھئی۔ یمینِ لغو اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص جو ہے ماضی کے کسی فعل پر قسم اٹھاتا ہے اور وہ یہ گمان کرتا ہے کہ میں سچا ہوں اس بات کے اندر، حالانکہ بات اس طرح نہیں ہوتی۔ مثلاً وہ ماضی کے، وہ کہتا ہے مثلاً فلاں دن زید آیا تھا، اس بات پر وہ قسم اٹھاتا ہے اور اس کا یہ گمان بھی ہے کہ واقعی اس دن کیا تھا، زید آیا تھا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، اس دن زید نہیں آیا تھا۔ تو وہ اپنے آپ کو سچا گمان کرتے ہوئے اس بات پر قسم اٹھا لیتا ہے ماضی کی اس بات پر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ یمینِ لغو کہتے ہیں۔ یاد رکھیے، اس کا گناہ بھی نہیں اور اس پر مؤاخذہ بھی نہیں ہو گا بھئی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ماضی کی کسی بات پر جھوٹی قسم اٹھا لیتا ہے، اسے پتہ ہے ایسا نہیں ہے اور پھر اس پر قسم اٹھا لیتا ہے کہ ایسا ہی ہے، ایسا ہی ہوا تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس کو یمینِ غموس کہتے ہیں مولانا، اور یہ بہت بڑا گناہ ہے بھئی، آخرت میں عظیم مؤاخذہ ہو گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ہاں، بس اس میں گناہ ہے، لیکن کفارہ کوئی نہیں بھئی، کفارہ کوئی نہیں۔ اور تیسری قسم ہے یمینِ منعقدہ بھئی۔ یمینِ منعقدہ اس کو کہتے ہیں کہ مستقبل میں آنے، مستقبل میں کسی کام پر قسم اٹھائے کہ میں یہ کام ضرور کروں گا یا نہیں کروں گا بھئی۔ تو لہذا یہ جو یہ قسم ہے، یہ یمینِ منعقدہ ہے۔ اب اس کو اگر پورا کرے گا تو ٹھیک، اگر پورا نہ کیا تو حانث ہوا تو اس صورت میں گناہ بھی ہو گا اور کفارہ بھی دینا پڑے گا بھئی۔ تینوں قسموں کا پتہ لگ گیا؟ یمینِ لغو میں نہ گناہ ہے نہ کفارہ، یمینِ غموس کے اندر بھئی، گناہ تو ہے، کفارہ نہیں، اور یمینِ منعقدہ کے اندر اگر حانث ہو گیا تو گناہ بھی ہے اور کفارہ بھی ہے۔ اب دیکھیے، اس بارے میں دو آیتیں آتی ہیں بھئی، دو آیتیں۔ اللہ تعالی سورہ بقرہ میں فرماتے ہیں، آگے شرح کے اندر آ جائے گی تفصیل بھئی ساری، لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم اللہ مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے تمہارا وہ جو لغو ہیں تمہاری قسموں میں سے، یعنی یمینِ لغو پر تمہارا مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے۔ ولكن يؤاخذكم بما كسبت قلوبكم لیکن تمہارا مؤاخذہ کریں گے جس کا ارادہ کیا ہو تمہارے دلوں نے، پختہ عزم کیا ہو جس کا تمہارے دلوں نے۔ اور وہ کس کے اندر ہے بھئی؟ ارادہ، ارادہ کس کے اندر ہے؟ یمینِ غموس میں بھی ہے پختہ عزم، جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھا رہا ہے، اور کس کے اندر ہے؟ یمینِ منعقدہ کے اندر، اس میں بھی ارادہ کرتا ہے ایک مستقبل کے کام کا بھئی۔ تو لہذا معلوم ہوا بھئی اس آیت سے کہ مؤاخذہ کون کون سی قسموں پر ہو گا؟ یمینِ غموس پر بھی ہو گا اور یمینِ منعقدہ پر بھی ہو گا اگر پوری نہ کی۔ اور پھر اس کے بعد دوسری جگہ سورہ مائدہ میں اللہ تعالی فرماتے ہیں، ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان کہ اللہ تعالی تمہارا مؤاخذہ کریں گے وہ جو تم نے مضبوط باندھی ہیں قسمیں بھئی، وہ قسمیں جو تم نے مضبوط باندھی ہیں، تو یہاں عقدتم کا لفظ آیا، اور عقد کا لفظ بھئی، اور عقد کا لفظ یمینِ منعقدہ کے اندر تو حقیقت ہے بھئی، کیا ہے؟ حقیقت ہے، اور یمینِ غموس جو ہے اس کے اندر مجاز ہے بھئی۔ اگر یہ یعنی اس سے ہم عزم ارادے کا معنی لے لیں، یہ مجازی معنی ہے، اس صورت کے اندر یمینِ غموس بھی اس میں داخل ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مضبوط باندھا ہے بھئی، اس میں صرف اس سے کیا مراد ہے؟ حقیقی معنی کیا ہے؟ یمینِ منعقدہ جو منعقد ہو گئی۔ تو عقد کا لفظ آیا تو اس سے یمینِ منعقدہ آئی بھئی، جس میں ربط آ جاتا ہے مولانا، مستقبل کے ایک فعل کے بارے میں، قسم کے ساتھ ربط آ گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ منعقد ہو گئی۔ تو لہذا حقیقی معنی کیا ہوا اس کا؟ یمینِ منعقدہ، اور اگر اس کا معنی کیا کر لیں؟ عزم، پختہ عزم کے کر لیں، پختہ جیسے بما كسبت قلوبكم بھئی، وہاں بھی کیا معنی تھا كسبت کا؟ جس کا پختہ عزم کیا ہے، پختہ ارادہ کیا ہے تمہارے دلوں نے، تو وہاں بھی وہاں كسبت کا معنی تھا پختہ ارادہ، اور وہ شامل تھا کس کس کو؟ یمینِ غموس کو بھی اور یمینِ منعقدہ کو بھی شامل تھا، اور یہاں پر جو آیا عقدتم الأيمان، یہ عقد کس کے کس میں حقیقت کس کے اندر ہے؟ بھئی دیکھو نا، عقد کا سے آتا ہے ربط بھئی، کیا آتا ہے؟ جڑ جاتی ہیں دو چیزیں۔ اپ عقد کرتے ہیں، بیع و شراء کرتے ہیں، ربط آ جاتا ہے یا نہیں بھئی؟ جیسے نکاح کیا جاتا ہے عقد، ربط آ گیا یا نہیں آ گیا میاں بیوی میں؟ جی، تو اسی طرح یہاں پر بھی قسم اس عقد کی وجہ سے یمین یعنی قسم اور مقسم علیہ میں ربط آ جاتا ہے، اب اس کو پورا کرنا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پورا کرنا، تو یمینِ منعقدہ عقد ما ينعقد کے معنی میں ہے اور ما ينعقد کون سی قسم منعقد ہو جاتی ہے جسے پھر پورا کرنا پڑتا ہے؟ یمینِ منعقدہ، تو یہ یمینِ منعقدہ کے اندر یہ حقیقت ہے۔ اور اس کا معنی مجازی کیا ہے؟ عزم، پختہ ارادہ بھئی۔ تو اگر معنی حقیقی لیں تو کون سی قسم اس میں صرف داخل ہے؟ یمینِ منعقدہ، اور اگر معنی مجازی لیں تو پھر یمینِ غموس بھی اور یمینِ، جیسے بما كسبت قلوبكم کے اندر بھئی وہ عزم کا معنی تھا وہاں كسبت کا تو کتنی کون کون سی قسمیں داخل ہوئی تھیں؟ یمینِ غموس اور یمینِ منعقدہ بھئی۔ تو یہاں پر جو قسم لفظ آیا کیا لفظ آیا؟ بما عقدتم، تو یہاں اس سے ہم کیا کون سا معنی مراد لیتے ہیں؟ یمینِ منعقدہ، اس لیے کیونکہ جب تک حقیقت پر عمل ممکن ہو، مجاز کی طرف نہیں جائیں گے، اور یہاں کیا ہے؟ حقیقت پر عمل ہو سکتا ہے کہ معنی حقیقی مراد لے لیا جائے۔ ہاں اگر وہ مراد لینا صحیح نہ ہو تو پھر اس صورت میں کس کی طرف جاتے ہیں؟ مجاز کی طرف بھئی۔ تو یہاں پر صرف کس کا ذکر آیا؟ یمینِ منعقدہ کا بھئی، یمینِ منعقدہ کا۔ تو لہذا کس طرح کی آیت کس طرح ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان فكفارته آگے کفارے کا ذکر آ رہا ہے اس کے، کہ مؤاخذہ کرتے ہیں اس قسم کا جو منعقد ہو گئی پس اس میں یہ کفارہ ہے۔ معلوم ہوا کفارہ صرف کون سی قسم کے اندر آئے گا؟ یمینِ منعقدہ میں آئے گا، کیونکہ ما عقدتم سے کیا مراد ہے؟ یمینِ منعقدہ مراد ہے، یمینِ غموس مراد نہیں ہے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کی تقریر بھی آئے گی، ذکر ہو گی، وہ فرماتے ہیں کہ جیسے بما كسبت کا معنی تھا عزم کے، یہاں عقدتم کا بھی کیا معنی ہے؟ عزم کا، اور جیسے وہاں وہ یمینِ غموس اور یمینِ منعقدہ دونوں کو شامل تھا، یہاں بھی یمینِ غموس اور یمینِ منعقدہ دونوں کو شامل ہے۔ لہذا یہاں دونوں کے ساتھ کفارہ ذکر ہے، یہاں مقید ہیں دونوں کفارے کے ساتھ، مؤاخذہ مقید ہے کس کے ساتھ؟ مؤاخذے کے ساتھ کیا ہو گا؟ کفارہ بھی ہے، اور وہاں پر مؤاخذے کا ذکر تو ہے، کفارے کا ذکر بما كسبت قلوبكم میں مؤاخذے کا ذکر تو ہے لیکن کفارے کا ذکر تو ایک تو ایک ہی حکم دونوں جگہ بیان ہو رہا ہے، البتہ ایک جگہ مطلق ہے، ایک جگہ مقید ہے، تو اس صورت کے اندر جب حکم ایک ہی ہو اور ایک جگہ مطلق ہو، ایک جگہ مقید ہو تو مطلق کو بھی مقید پر محمول کر لیتے ہیں۔ تو لہذا تو اس صورت میں لہذا یمینِ منعقدہ اور یمینِ غموس دونوں کے اندر کیا آ جائے گا؟ کفارہ بھی آئے گا، گناہ بھی ہو گا، مؤاخذہ بھی ہو گا اور کفارہ بھی آئے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لیکن ہمارے نزدیک یمینِ منعقدہ کے اندر تو کفارہ آئے گا، یمینِ غموس کے اندر کفارہ نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ یہاں پر جہاں کفارے کا ذکر ہے وہاں صرف یمینِ منعقدہ ذکر کی گئی ہے، اور جہاں یمینِ غموس کا ذکر تھا وہاں کفارے کا ذکر ہی نہیں ہے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں فيكون العقد لما ينعقد دون العزم پس عقد کا لفظ آیت کے اندر جو ہے لما ينعقد اس قسم کے لیے ہو گا جو منعقد ہو جائے، دون العزم نہ کہ عزم کے معنی کے لیے عقد کا لفظ ہو گا، عقدتم کا لفظ جو آیا وہ ما ينعقد کے معنی میں ہو گا نہ کہ عزم کے معنی میں، أي يكون العقد المذكور في قوله تعالى ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان محمولاً على ما ينعقد وهو المنعقدة فقط یعنی وہ لفظِ عقد جو مذکور ہے اللہ تعالی کے اس قول کے اندر ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان، یہ لفظ محمول ہے علی ما اس قسم پر ينعقد جو منعقد ہو جاتی ہے وهو المنعقدة فقط اور وہ صرف کون سی یمین ہے؟ یمینِ منعقدہ ہی ہے، لأنه حقيقة هذا اللفظ دون معنى العزم اس لیے کیونکہ یہ ما ينعقد حقیقت ہے اس لفظ کی یعنی عقد کی، دون معنى العزم نہ کہ معنی عزم وہ اس کی حقیقت نہیں ہے۔ حتى يشمل الغموس والمنعقدة جميعها یہاں تک کہ یہ شامل ہو جاتا غموس اور منعقدہ دونوں کو۔ بات سمجھ میں آئی؟ یہ جو ما ينعقد ہے، یہ حقیقت ہے اس عقد کے لفظ کی، عزم کا معنی جو ہے وہ اس کی حقیقت نہیں ہے، اگر وہ حقیقت ہوتا تو مشتمل ہوتی یہ غموس اور منعقدہ دونوں کو دونوں کو شامل ہوتی بھئی، تو یہ تو حقیقی معنی ہی نہیں ہے، یہ تو اس کا کون سا معنی ہے؟ معنی مجازی ہے، لہذا یہ شامل بھی نہیں ہو گی غموس اور منعقدہ دونوں کو شامل نہیں ہو گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں لأنه حقيقة هذا اللفظ اس لیے کیونکہ یہ ما ينعقد حقیقت ہے اس لفظ کی، دون معنى العزم نہ کہ معنی عزم اس کی حقیقت ہے کہ حتى يشمل الغموس والمنعقدة جميعها یہاں تک کہ یہ شامل ہوتا غموس اور منعقدہ سب کو، لأنه مجازٌ کیونکہ یہ جو ہے مجاز ہے بھئی، عزم اس کا معنی مجازی ہے، والمجاز لا يزاحم الحقيقة اور مجاز جو ہے وہ مزاحم نہیں ہوتا حقیقت کے، وتحقيقه تحقيق اس کی یہ ہے، أن اليمين ثلاثٌ کہ قسمیں تین قسم پر ہیں، لغوٌ وغَموسٌ ومُنْعَقِدَةٌ ایک یمینِ لغو ہے، ایک یمینِ غموس ہے اور ایک یمینِ منعقدہ ہے، فاللغو أن يحلف على فعلٍ ماضٍ كاذباً ظاناً أنه حقٌ پس یمینِ لغو یہ ہے کہ قسم اٹھائے کوئی شخص کسی ایسے فعلِ ماضی پر، کسی فعلِ ماضی پر اس حال میں کہ وہ شخص جھوٹا ہو، ظاناً اس حال میں کہ اس کا یہ گمان ہو کہ أنه حقٌ کہ وہ کیا ہے؟ کہ وہ برحق ہے۔ ولا إثم فيه اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے اندر گناہ بھی نہیں ہے، ولا كفارةً اور اس میں کفارہ بھی نہیں، والغموس اور یمینِ غموس جو ہے أن يحلف على فعلٍ ماضٍ كاذباً عمداً کہ قسم اٹھائے کسی فعلِ ماضی پر اس حال میں کہ وہ جھوٹا ہو جان بوجھ کر بھئی، جان بوجھ کر کیا کرے؟ جھوٹی قسم اٹھائے، وفيه الإثم دون الكفارة اور اس کے اندر گناہ ہو گا نہ کہ کفارہ، عندنا ہمارے نزدیک، وعند الشافعي رحمه الله فيه الكفارة وإظهارٌ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کے اندر بھی کفارہ ہو گا، والمنعقدة اور تیسری قسم یمینِ منعقدہ ہے أن يحلف على فعلٍ آتٍ فإن حنث فيه يجب الإثم والكفارة جميعاً بالاتفاق تیسری قسم یمینِ منعقدہ ہے وہ یہ کہ قسم اٹھائے کوئی شخص على فعلٍ آتٍ کسی آنے والے فعل پر یعنی مستقبل کے فعل پر، فإن حنث فيه پس اگر اس کے اندر وہ حانث ہو گیا يجب الإثم والكفارة جميعاً تو واجب ہو گا گناہ بھی اور کفارہ دونوں بالاتفاق بھئی، وذلك لأن الله تعالى ذكر هذه المسألة في موضعين اس لیے کہ اللہ تعالی نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا ہے دو جگہ پر، فقال في سورة البقرة پس اللہ تعالی سورہ بقرہ میں فرماتے ہیں لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم ولكن يؤاخذكم بما كسبت قلوبكم اللہ مؤاخذہ نہیں فرماتے وہ جو لغو ہیں تمہاری قسموں میں سے ان کا، ولكن يؤاخذكم لیکن مؤاخذہ فرماتے ہیں بما كسبت قلوبكم ان قسموں کا جن کا تمہارے دلوں میں پختہ عزم کیا ہو۔ وقال في سورة المائدة عوضه تو یہ تو سورہ بقرہ میں اللہ یوں فرماتے ہیں، اور سورہ مائدہ میں اس کے بدلے میں یوں فرماتے ہیں ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان فكفارته مگر مؤاخذہ فرماتے ہیں جن کا پختہ جو تم نے مضبوط باندھی ہیں قسمیں، پس اس کا کفارہ یہ ہے، آگے کفارہ بیان ہوتا ہے، الآية أي الآية معروفة يا اقرأ الآية۔ فالشافعي رحمه الله يقول پس امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بأن قوله بما عقدتم الأيمان معناه فرماتے ہیں کہ بأن قوله کہ اللہ تعالی کا یہ جو قول ہے بما عقدتم الأيمان معناه اس کا معنی ومعنى بما كسبت قلوبكم واحدٌ اور بما كسبت قلوبكم کا معنی واحدٌ یہ کیا ہے؟ ہاں، دونوں آیتوں کا معنی ایک ہی ہے، فيشمل كلا الآيتين الغموس والمنعقدة جميعاً پس دونوں آیتیں شامل ہوں یمینِ غموس کو بھی اور یمینِ منعقدہ کو بھی، والمؤاخذة في المائدة مقيدةٌ بالكفارة اور وہ مؤاخذہ جو سورہ مائدہ کے اندر ذکر ہوا وہ مقید ہے کفارے کے ساتھ، جبکہ دوسرا کیا ہے؟ کفارے کے ساتھ مقید وہ مطلق ہے، فتعمل عليها المؤاخذة المطلقة المذكورة في البقرة پس اسی پر محمول کیا جائے گا وہ مؤاخذہ جو مطلق ہے مذکور ہے سورہ بقرہ کے اندر، کیونکہ ایک ہی حکم بیان ہو رہا ہے لہذا مطلق کو کس پر محمول کر لیا جائے گا؟ مقید پر محمول کر لیا جائے گا، فيكون الإثم والكفارة في كليهما پس گناہ اور کفارہ ان دونوں کے اندر ہو گا، فيطبق اور ایک وضع عرفِ عام ہے یا وضعِ عرفی کہتے ہیں اس کو بھئی، کہ عام لوگوں نے ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے کیا کر لیا ہو؟ متعین کر لیا ہو۔ جیسے مولانا دابہ، دابہ زمین پر چلنے والے ہر جانور کو کہتے ہیں لغت میں، لیکن عام لوگوں نے اب اس کو عام لوگ اس کو صرف کس کے اندر انہوں نے متعین کر لیا؟ چوپائے کے لیے جس کے چار پاؤں ہوں مولانا، اس کے لیے متعین کر لیا، تو وہ جب بھی عام لوگ دابہ بولتے ہیں اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ کوئی چوپایا مراد لیتے ہیں بھئی۔ معلوم ہوا انہوں نے اس معنی کو، اس لفظ کو اس معنی کے لیے متعین کر دیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "فإن كان ذلك" تو بس وضع کہتے کس کو ہیں؟ کسی لفظ کو کسی معنی کے لیے متعین کر دینا، یہ وضع ہے۔ تو کہتے ہیں: "فإن كان ذلك التعيين من جهة واضع اللغة فوضع لغوي وإن كان من الشارع فوضع شرعي وإن كان من قوم مخصوصين فوضع عرفي خاص وإلا فوضع عرفي عام" "والمعتبر في الحقيقة هو الوضع بشيء من الأوضاع المذكورة" اور معتبر حقیقت کے اندر وہ وضع ہے "بشيء من الأوضاع المذكورة" ان مذکورہ وضعوں میں سے کوئی بھئی۔ ان مذکورہ وضعوں میں سے کوئی ایک ہونی چاہیے بس وہ حقیقت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کوئی ایک وضع ہو بھئی۔ "وفي المجاز عدمه" اور مجاز کے اندر وہ عدمِ وضع معتبر ہے، کہ وہ لفظ اس معنی کے لیے وضع نہیں ہونا چاہیے یعنی متعین نہیں ہونا چاہیے۔ "فهما في الحقيقة من عوارض ألفاظ" یہاں سے فائدہ بیان کر رہے ہیں کہ متن کے اندر جو لفظ آیا، لفظ کا آیا بھئی، "لكل لفظ" تو بتلا رہے ہیں بھئی کہ ماتن نے مصنف نے لفظ ذکر کیا اس لیے کیونکہ یہ حقیقت اور مجاز دراصل کس کے عوارض میں سے ہیں؟ الفاظ کے عوارض میں سے ہے۔ لفظ موصوف ہو گا حقیقت کے ساتھ یا لفظ موصوف ہو گا کس کے ساتھ؟ لفظ کے بارے میں کہیں گے یہ لفظ حقیقت ہے یا یہ لفظ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ "وقد يوصف بهما المعاني والاستعمال" اور کبھی کبھار ان کے ساتھ معانی اور استعمال کو بھی موصوف کر دیا جاتا ہے، کہہ دیتے ہیں یہ معنی حقیقت ہے یا یہ معنی مجازی ہے، اسی طرح یہ استعمال حقیقت ہے یا یہ استعمال مجاز ہے مولانا۔ تو ان کے ذریعے کبھی کبھار معانی اور استعمال کو بھی موصوف کر دیا جاتا ہے۔ "إما مجازاً" تو ان کو یہ حقیقت اور مجاز کے ساتھ جو معنی اور استعمال کو موصوف کیا جاتا ہے یا تو یہ مجازاً ہے "أو على أنه من خطأ العوام" یا یہ کس میں سے ہے؟ عوام کی غلطیوں میں سے ہے۔ یہ تو لفظ کے عوارض میں سے ہے، لفظ کو اس کے ساتھ موصوف ہونا چاہیے، معنی اور استعمال کو موصوف نہیں ہونا چاہیے۔ تو یا تو مجاز کے قبیل سے ہے مولانا، یا یہ کیا ہے؟ عوام کی غلطیوں میں سے۔ مجاز کے قبیل سے ہے بھئی۔ یاد رکھو معنی حقیقی اور مجاز کے درمیان مناسبت کا ہونا ضروری ہے۔ تو حقیقت کس کے عوارض میں سے ہے اصل میں؟ حقیقت اور مجاز، الفاظ کے۔ لیکن کبھی کبھار کس میں استعمال کر لیتے ہیں؟ معنی اور استعمال کے لیے بھی۔ بھئی لفظ دلالت کرتا ہے معنی پر، اور اسی طرح لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے کسی معنی کے لیے، تو مناسبت موجود ہے۔ لہذا اس کو محشی کہتے ہیں اس کو مجاز ہی کہنا چاہیے اور یہ جو شارح نے فرمایا کہ یہ عوام کی غلطیوں میں سے ہے، کہتے ہیں اس کو عوام کی غلطی قرار دینا یہ خواص کی غلطی ہے۔ یہ کیا ہے؟ خواص کی غلطی ہے بھئی، کیونکہ مناسبت موجود ہے، جب مناسبت موجود ہے تو اس کو مجاز کہا جائے، غلطی نہ کہا جائے اور علماء نے اس کو غلطی کہا ہے تو انہوں نے خود غلطی کی ہے۔ "وحكمها وجود ما وضعت له خاصاً كان أو عاماً" اور حقیقت کا حکم کیا ہے؟ وجود بمعنی یہاں ثبوت کے ہے۔ یعنی ثبوت ما وضعت له، کہ یہ ثابت کرتا ہے، کہ ثابت ہونا ہے اس معنی کا جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے خواہ وہ خاص ہو یا عام۔ حقیقت کا حکم کیا ہے مولانا؟ کہ وہ معنی ثابت ہو جائے گا جو معنی موضوع لہ ہے۔ چاہے خاص ہو وہ یا عام ہو، یعنی اس کے اندر عموم ہو۔ معلوم ہوا حقیقت خاص اور عام دونوں کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے۔ دیکھیے خود بیان کر رہے ہیں: "فإن الحقيقة تجتمع مع الخاص والعام جميعاً" پس حقیقت جو ہے وہ جمع ہو جاتی ہے خاص اور عام دونوں کے ساتھ۔ "فإن قوله تعالى" اس لیے کیونکہ اللہ کا یہ قول جو ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا" اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم رکوع کرو۔ اور اسی طرح "وقوله تعالى" اللہ کا یہ قول جو ہے: "وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى" اور تم قریب نہ جاؤ زنا کے۔ "خاص باعتبار الفعل" یہ خاص ہیں کس اعتبار سے؟ فعل کے اعتبار سے بھئی، وہ کیا ہے؟ "وهو الركوع والزنى" وہ رکوع اور زنا۔ "وعام باعتبار الفاعل" اور یہ عام ہیں کس اعتبار سے؟ فاعل کے اعتبار سے، "وهم المكلفون" اور وہ کون ہیں؟ مکلف بھئی، مکلف بھئی۔ بھئی دیکھیے، یہ دو مثالیں ذکر کیں شارح نے، بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ جو حقیقت ہے یہ خاص اور عام دونوں کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے۔ یعنی ایک ہی لفظ خاص بھی ہو اور حقیقت بھی ہو۔ یہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک ہی لفظ عام بھی ہو اور وہی لفظ کیا ہو؟ حقیقت بھی ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے۔ بھئی خاص کس کو کہتے تھے؟ جو ایک معنی یا ایک فرد پہ دلالت کرے۔ ایک ایک معنی یا ایک فرد پہ دلالت کرے۔ اب دیکھیے، یہاں "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا"، رکوع کیا ہے؟ رکوع کا معنی ہے جھکنا، اس کا ایک ہی معنی ہے، دو یا تین معانی نہیں۔ تو رکوع کا لفظ آیا اور اس سے وہی جھکنے والا معنی مراد ہے یا کوئی اور معنی مراد ہے؟ وہی معنی مراد ہے، تو یہ حقیقت ہوا، کیا ہوا؟ وہی معنی موضوع لہ مراد ہے۔ اور یہی لفظ خاص بھی ہے۔ کیونکہ رکوع کا کیا معنی ہے؟ جھکنا، کوئی اور معنی تو نہیں، ایک ہی معنی ہے اور ایک ہی معنی ہو تو اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ خاص۔ تو یہی رکوع کیا ہے؟ خاص بھی ہے اور یہی کیا ہے؟ حقیقت بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو خاص اور حقیقت جمع ہو گئے بھئی، ایک ہی لفظ خاص بھی ہے اور... اسی طرح زنا، زنا کسے کہتے ہیں؟ محلِ حرام میں وطی کرنا، غیرِ ملک میں وطی کرنا۔ غیرِ ملک میں وطی کرنا، اور یہاں ہے "وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى"، زنا کا یہی معنی مراد ہے یا کوئی اور معنی مراد ہے؟ تو یہ حقیقت ہے، لفظ کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ معنی موضوع لہ میں، حقیقت ہے۔ اور یہی لفظ خاص بھی ہے۔ کیونکہ زنا کا یہی ایک معنی ہے یا دو تین معانی ہیں؟ ایک ہی معنی ہے اور ایک ہی معنی کے لیے ایک ہی معنی ہو تو اس کو کیا کہا جاتا ہے لفظ کو؟ خاص کہا جاتا ہے۔ تو یہی لفظ خاص بھی ہے اور حقیقت بھی ہے، تو دیکھو خاص اور حقیقت کیا ہو رہے ہیں؟ جمع، معلوم ہوا خاص اور حقیقت جمع ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح عام اور حقیقت بھی جمع ہو سکتے ہیں۔ وہ کس اعتبار سے؟ وہ فاعل کے اعتبار سے ان جملوں میں جو آیا۔ دیکھو، "ارْكَعُوا" واؤ آیا، اور واؤ ضمیر ہے، کون سی ضمیر؟ جمع مذکر مخاطب کی بھئی، "ارْكَعُوا" جمع مذکر مخاطب کا صیغہ ہے نا؟ تو یہ جمع مذکر مخاطب کی ضمیر ہے۔ اور اس سے جمع مذکر مخاطب ہی مراد ہیں یا کوئی اور مراد ہیں؟ وہی مراد ہیں، تو یہ لفظ حقیقت ہوا بھئی۔ اور ایک فرد مراد ہے یا مجموعہ افراد مراد ہیں؟ افراد مراد ہیں، اور افراد خاص میں ہوتے ہیں کہ عام میں؟ عام میں، معلوم ہوا یہ عام بھی ہے اور حقیقت بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح "وَلَا تَقْرَبُوا"، اس میں بھی واؤ آیا بھئی۔ تو "لَا تَقْرَبُوا" نہی ہے اور اس میں یہ واؤ آیا اور واؤ ضمیر ہے کون سی؟ جمع مذکر مخاطب کی، اور اس سے وہی جمع مذکر مخاطب ہی مراد ہیں یا کوئی اور مراد؟ وہی مراد، تو یہ حقیقت بھی ہے۔ اور ایک فرد مراد ہے یا مجموعہ افراد ہیں بھئی؟ کئی افراد مراد ہیں، مجموعہ افراد مراد ہیں، تو یہی عام بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا حقیقت خاص کے ساتھ بھی جمع ہو جاتی ہے اور حقیقت مجاز کے ساتھ بھی جمع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے کہا کہ "خاص باعتبار الفعل" یہ دونوں خاص ہیں کس اعتبار سے؟ فعل کے اعتبار سے بھئی، فعل کیا؟ "وهو الركوع والزنى" بھئی، کیونکہ ان کا ایک ایک ہی معنی آتا ہے۔ "وعام باعتبار الفاعل" اور یہ عام ہیں کس اعتبار سے؟ فاعل کے اعتبار سے، اور فاعل کون؟ "وهم المكلفون" بھئی، جن کو مکلف بنایا گیا، جن کو حکم دیا جا رہا ہے، یعنی مومنین بھئی۔ "وأما المجاز فاسم لما أريد به غير ما وضع له لمناسبة بينهما" اور مجاز جو ہے وہ نام ہے "لما" اس ما سے مراد لفظ ہے، وہ نام ہے اس لفظ کا "أريد به" کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے "غير ما وضع له" غیر اس معنی کا جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، یعنی غیر موضوع لہ معنی کا ارادہ کیا جائے "لمناسبة بينهما" بوجہ ان دونوں کے درمیان مناسبت پائے جانے کے، جن دونوں کے درمیان؟ معنی موضوع لہ اور معنی غیر موضوع لہ۔ "وأما المجاز فاسم لما أريد به غير ما وضع له لمناسبة بينهما" باقی مجاز جو ہے پس نام ہے اس لفظ کا کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے غیر موضوع لہ معنی کا بوجہ ان دونوں کے درمیان مناسبت کے پائے جانے کے، یعنی معنی موضوع لہ اور معنی غیر موضوع لہ میں مناسبت ہو گی۔ "أي اسم لكل لفظ أريد به غير ما وضع له لأجل مناسبة بين المعنى الموضوع له وغير الموضوع له" یعنی نام ہے ہر اس مجاز نام ہے ہر اس لفظ کا کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے غیر موضوع لہ معنی کا بوجہ مناسبت پائے جانے کے معنی موضوع لہ کے درمیان اور معنی غیر موضوع لہ کے۔ "واحترز به عن مثل استعمال لفظ الأرض في السماء" اور احتراز کیا اس کے ذریعے، جو مناسبت کا لفظ ذکر کیا نا کہ ان دونوں کے درمیان کیا ہو گی؟ اس کے ذریعے کہتے ہیں احتراز کیا "عن مثل استعمال لفظ الأرض في السماء"، لفظِ ارض کو سماء کے اندر استعمال کرنے جیسی مثالوں سے کیا کیا؟ اس سے احتراز کیا۔ مثلاً کوئی شخص لفظِ ارض بولتا ہے اور آسمان مراد لیتا ہے مولانا، زمین بول کر کیا مراد لیتا ہے؟ آسمان بھئی، کہتے ہیں کیونکہ ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے بھئی، ما... سمجھ میں آیا؟ "مما لا مناسبة بينهما" ان میں سے جن کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے، "وعن الهزل" اور اسی طرح یہ مناسبت کے ذریعے احتراز کیا ہزل سے یعنی مذاق سے، بھئی مذاق کے اندر بھی بعض اوقات انسان کیا کرتا ہے ایک لفظ بول کر دوسرے معنی کا ارادہ کرتا ہے اگرچہ ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہوتی بھئی۔ "فإنه وإن أريد به غير ما وضع له لكن لا مناسبة بينهما" اس لیے کہ اس کے ذریعے اگرچہ ارادہ کیا گیا ہے معنی غیر موضوع لہ کا لیکن اس کے ساتھ اس کی کوئی مناسبت نہیں ہے، کوئی مناسبت نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً بھئی، ایک بڑا ہی آپ کا سست ساتھی آیا بھئی، یا یوں کہو، آپ کا ایک بڑا ہی بزدل ساتھی آیا مولانا، آپ نے کہا لو بھئی شیر آ گیا، شیر آ گیا بھئی۔ اچھا، شیر بول کر کیا مراد لیا آپ نے؟ بزدل مراد لیا، کیا مراد لیا؟ تو یہ بطورِ مذاق کیا آپ نے، معنی موضوع لہ میں استعمال کیا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں استعمال کیا، لیکن اس کو مجاز نہیں کہیں گے کیونکہ ان دونوں کے درمیان شیر اور بزدلی کے درمیان کوئی مناسبت موجود نہیں۔ یہ معنی ہے کہ ہزل سے بھی احتراز کیا کیونکہ اگرچہ اس کے ذریعے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا جاتا ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے۔ اسی طرح پچھلی مثال میں تھا ارض بول کر کیا مراد لینا؟ سماء، ان میں بھی کوئی مناسبت نہیں ہے۔ "ولم يذكر قيد كونه عند قيام القرينة" اور مصنف نے ذکر نہیں کیا کہ یہ کسی قرینے کے قائم ہوتے وقت ہو گا بھئی۔ یعنی معنی موضوع لہ کا ارادہ کیا جائے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا جائے گا اور ساتھ کیا ہونا چاہیے؟ کوئی قرینہ بھی ہونا چاہیے، یہ قید انہوں نے ذکر نہیں کی، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہاں پر مجاز کو متکلم کے اعتبار سے بیان کیا جا رہا ہے، متکلم کے ارادے کے اعتبار سے۔ متکلم ایک لفظ بولتا ہے اور اس کے ذریعے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کرتا ہے، کس کا ارادہ کرتا ہے؟ تو متکلم کو کسی قرینے کی ضرورت نہیں، ہاں، مخاطب کو قرینہ چاہیے کہ اس کو پتہ لگے کہ یہاں معنی موضوع لہ مراد نہیں ہے بلکہ کیا مراد ہے؟ معنی غیر موضوع لہ۔ تو قرینہ مخاطب کے سمجھنے کے لیے ضروری ہے، متکلم کے بولنے کے لیے ضروری نہیں۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ جی؟ ہاں، متکلم ایک لفظ بولتا ہے اور اس کے ذریعے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کرتا ہے، دونوں میں مناسبت موجود ہے، تو اس کے لیے کسی قرینے کی حاجت نہیں، ہاں کس کے لیے قرینہ چاہیے؟ مخاطب، مخاطب میں اس کلام کو اس کو سمجھنے کے لیے کہ یہ لفظ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہے کوئی قرینہ چاہیے، بغیر قرینے کے اسے کیا پتہ لگے گا بھئی؟ وہ تو کیا سمجھے گا اس سے کون سا معنی مراد ہے؟ معنی موضوع لہ، لیکن وہ قرینہ اسے بتلا دے گا کہ کون سا معنی مراد ہے؟ غیر موضوع لہ بھئی۔ تو یہاں پر جو مصنف ذکر کر رہے ہیں وہ متکلم کے ارادے کے اعتبار سے مجاز کو ذکر کر رہے ہیں اور متکلم کے ارادے کے اعتبار سے کسی قرینے کی ضرورت نہیں بھئی، ہاں مخاطب کے اعتبار سے ضرورت ہے لیکن وہ الگ بات ہے اس کو بعد میں وہ پھر جا کر آخر میں ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: "ولم يذكر قيد كونه عند قيام القرينة لأن الغرض هاهنا بيان المجاز بحسب إرادة المتكلم" اور ذکر نہیں کیا قرینے کے قائم ہونے کے وقت کے قید کو، اس لیے کیونکہ یہاں پر غرض جو ہے وہ متکلم کے ارادے کے اعتبار سے مجاز کو بیان کرنا ہے "وقد تم به" اور تحقیق اس تعریف کے ذریعے وہ کیا ہوا؟ تام ہوا، جو تعریف بیان کر دی اس کے ذریعے پورا بیان ہو گیا بھئی مجاز۔ "والقرينة إنما يحتاج إليها لأجل فهم السامع" اور قرینہ جو ہے اس کی احتیاج ہوتی ہے سامع کے سمجھنے کے لیے وجہ سے، سامع کے سمجھنے کے لیے، "وهو أمر زائد" اور وہ ایک زائد چیز ہے "على أنه سيأتي ذكرها في آخر بحث المجاز" بناء بر اس کے کہ عنقریب اس کا ذکر آ جائے گا بھئی مجاز کی بحث کے آخر کے اندر، یہ قرینے کا ذکر آ جائے گا۔ "وأما المجاز بالزيادة" یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں کہ کبھی کبھار بھئی مجاز بالزیادة ہوتا ہے بھئی، ایک لفظ ایک معنی کے لیے وضع ہے اور اس معنی کے کلام میں آپ استعمال کرتے ہیں۔ بھئی آپ نے کلامِ عرب نحو میں پڑھا ہے، بعض اوقات کیا ہوتا ہے؟ کوئی حرف وغیرہ لاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ حرف زائد ہے، یہ کیا ہے؟ زائد ہے، جیسے كَفَى بِاللَّهِ، كَفَى فعل اور بَا کیا ہے؟ زائدہ ہے۔ تو یہ مجاز بالزیادة ہے، یہ کیا ہے؟ تو یہ معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے یا غیر موضوع لہ میں تاکید کے لیے آیا ہے بھئی؟ یہ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے۔ تو لہذا کہتے ہیں چونکہ یہ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا اور مجاز بھی کس کو کہتے تھے؟ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کو کہتے تھے، لہذا یہ بھی کیا ہے؟ مجاز کی تعریف کے اندر داخل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وأما المجاز بالزيادة فمثل قوله تعالى: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" اور باقی مجاز بالزیادة جو ہے "مثل قوله تعالى" جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ اب یہاں دیکھو، کَاف بھی کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؟ مثل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، تو لہذا علماء فرماتے ہیں یہاں یہ کَاف زائد ہے کیونکہ مثل کا لفظ آگے خود آ رہا ہے۔ اگر کَاف کو بھی مثل کے معنی میں لیں تو پھر اس صورت میں خرابی لازم آئے گی۔ پھر کلام یوں ہو جائے گا: "لَيْسَ مِثْلَ مِثْلِهِ شَيْءٌ" اللہ کے مثل کے مثل کوئی چیز نہیں ہے، تو معنی یہ ہوا کہ یوں مفہوم ہوا اس سے کہ گویا کہ اللہ کا مثل تو موجود ہے لیکن اللہ کے آگے مثل کا مثل کوئی نہیں، حالانکہ یہ مراد نہیں ہے بھئی، تو لہذا کہتے ہیں یہ کَاف زائد ہے مولانا تا تشبیہ کی تاکید کے لیے آیا ہے۔ "فيصدق عليه أيضاً" تو اس پر بھی صادق آتا ہے "أنه أريد به غير ما وضع له" کہ اس کے اس کے ذریعے ارادہ کیا گیا ہے غیر موضوع لہ کا "لأن ما وضع له هو التشبيه لا التأكيد والزيادة" اس لیے کہ معنی موضوع لہ جو ہے وہ تشبیہ ہے نہ کہ تاکید اور زیادت بھئی، لیکن بہرحال یہ کس میں استعمال ہوا ہے؟ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے، تو یہ مجاز میں داخل ہے۔ لیکن اس پر اعتراض ہوتا ہے مولانا کہ وہاں تو "لمناسبة" کی قید بھی موجود تھی بھئی، کہ دونوں معنی موضوع لہ اور غیر موضوع لہ میں کیا ہو؟ مناسبت موجود ہو۔
142 approved lectures · 46 of 142