درس نمبر۔65
وقال الشافعي رحمه الله تعالى الباء في قوله تعالى وامسحوا برؤوسكم للتّبعيض، فيكون المعنى وامسحوا بعض رؤوسكم والبعض مطلق بين أن يكون شعرا أو ما فوقه حتّى قريب الكل فعلى أيّ بعض يمسح يكون آتيا بالمأمور به.
حروف معانی کی بحث ہم پڑھ رہے ہیں بھئی۔ گزشتہ سبق میں باء کے بارے میں پڑھا آپ نے کہ باء جو ہے الصاق کے لیے آتی ہے بھئی۔
آج اسی پر متفرع ہونے والے ایک اختلاف کو ذکر کر رہے ہیں بھئی۔
اور یہ جو اللہ تعالی قرآن میں جو فرماتے ہیں وامسحوا برؤوسكم تو یہاں پر ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی وہ فرماتے ہیں یہ باء تبعیض کے لیے ہے تو وامسحوا برؤوسكم یہ باء تبعیض کے لیے ہے تو معنی ہوا وامسحوا بعض رؤوسكم، کیا کرو اپنے بعض رأس پر مسح کرو، یعنی سر کے کچھ حصے پر۔
اور پھر یہ باء مطلق ہے ایک بال ہو، دو ہوں، تین بال ہوں، یعنی کل کے قریب کل سے کم جتنا بھی ہے وہ اس باء کے اندر داخل ہے بھئی۔ کل سے جتنا بھی کم ہو تھوڑا سا کم ہو تو بس یہ سارا کیا ہے؟ باء ہے، ایک بال سے لے کر قریب الکل تک بھئی، قریب الکل تک۔ یہ سارا باء کے اندر داخل ہے تو لہذا ان کے نزدیک باء رأس پر مسح فرض ہوا، کیونکہ امر آیا اور امر آتا ہے وجوب کے لیے تو باء رأس پر مسح فرض ہوا اور باء مطلق ہے، ایک بال پر کرلیں مسح تو بھی ٹھیک، تین بالوں پر کرلیا تو بھی ٹھیک یا جتنے حصے پر بھی کرلیا بھئی۔
جبکہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ باء زائدہ ہے بھئی، یہ باء کیا ہے؟ زائدہ ہے اور تو گویا معنی یہ ہوا وامسحوا رؤوسكم، مسح کرو اپنے سروں۔ یہ باء زائدہ ہے اس لیے کیونکہ مسح خود متعدی ہوتا ہے، مفعول کو نصب دیتا ہے بھئی۔ وہ جب مفعول کو نصب دیتا ہے اور باء کو لایا گیا معلوم ہوا یہ باء زائد ہے تو اپنے سر کا مسح کرو۔
اور سر، سر تو سارے کو کہتے ہیں لہذا سارے سر پر مسح فرض ہوگا بھئی۔ تو ان کے نزدیک استعاب فرض ہے یعنی مسح کے اندر سارے سر کا گھیرنا فرض ہے۔
جبکہ ہم کہتے ہیں کہ بھئی یہ تبعیض کے لیے باء کو بنانا یہ خلاف الأصل ہے، اس اس کو زائد قرار دینا یہ بھی خلاف الأصل ہے، اصل تو یہ ہے کہ لفظ اپنے معنی کا فائدہ دے نہ کہ یہ کہ وہ زائد ہو۔ چنانچہ ہم کہتے ہیں کہ باء اصل میں الصاق کے لیے ہے اور یہاں پر بھی باء جو ہے وہ الصاق کے لیے ہے، اور پھر یہ باء جو ہے یہ عموما آلہ اور وسیلے پر داخل ہوتی ہے۔ جیسے کتبتُ بالقلم بھئی، باء کس پر داخل ہے؟ آلہ اور وسیلے۔ تو یہاں پر بھی مسح کے اندر بھی جو باء داخل ہوتی ہے یہ آلہ اور وسیلے پر داخل ہوتی ہے۔ عربی میں کہتے ہیں مثلا دیوار کو آپ نے ہاتھ سے چھویا تو کہتے ہیں مسحتُ الحائطَ بالیدِ، مسحتُ الحائطَ یا مسحتُ الجدارَ بالیدِ، میں نے دیوار کو چھوا ہاتھ سے بھئی، ہاتھ سے۔
تو یہ مفعول کی طرف متعدی ہو بغیر واسطے کے، تو اس صورت میں وہ مفعول، یعنی وہ ممصوح کل کا کل ہوگا بھئی، یعنی مسحتُ الجدارَ بالیدِ کا کیا معنی؟ مفعول کون ہے؟ الجدار معلوم ہوا پوری دیوار کو آپ نے ہاتھ سے چھوا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ پوری دیوار کو۔
جبکہ بالید جس پر باء داخل ہوئی وہ تو آلہ ہے، آلہ۔ اور آلہ کا کل ہونا ضروری نہیں، پورے ہاتھ سے دیوار کو چھونا ضروری نہیں، ہاتھ کے بعض حصے سے بھی دیوار کو چھولیں تو درست ہے بھئی۔ کیونکہ آلہ مقصود نہیں ہوتا بھئی، اس کے آلہ میں اتنا جز کافی ہے جس سے وہ فعل سر انجام دیا جاسکے۔ تو یہاں بھی بعضِ ید کے ذریعے دیوار کو چھولیا مقصود حاصل ہوگیا تو آلہ کے اندر کل مراد نہیں ہوتا، ہاں مفعول کے اندر کیا مراد ہوتا ہے؟ کل مراد ہوتا ہے بھئی۔
تو باء کس مسح کے اندر کس پر داخل ہوتی ہے؟ آلہ پر اور آلہ تو کل مراد نہیں ہوتا۔
اور یہاں پر باء جو ہے وہ داخل ہوئی ہے رؤوس پر بھئی۔ یعنی مفعول پر۔ تو یہ آلہ کے مشابہ ہوگیا، اصل میں تو باء کو کس پر داخل ہونا چاہیے تھا؟ آلہ پر، لیکن یہاں کس پر داخل ہے؟ مفعول یعنی ممصوح پر داخل ہے اور جب اس پر باء داخل ہوئی تو یہ اس آلہ کے مشابہ ہوگیا اور تو جب آلہ کے مشابہ ہوگیا تو اسی کی طرح حکم آ ثابت ہو جائے گا آلہ کا تو کل مراد نہیں ہوتا تھا لہذا یہ جب آلہ کے مشابہ ہوا تو اس کا بھی کل مراد نہیں ہوگا۔ معلوم ہوا جب کل مراد نہیں، تو بعضِ رأس جو ہے وہ اس طرح ثابت ہو جائے گا بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو بہرحال بحث یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ اس باء کو تبعیض کے لیے بناتے ہیں، امام مالک رحمہ اللہ اس کو زائدہ قرار دیتے ہیں، جبکہ ہمارے نزدیک یہ باء الصاق کے لیے ہے اپنے حقیقی معنی پر بھئی۔ دیکھیے بھئی اب کتاب پر!
وقال الشافعي رحمه الله تعالى الباء في قوله تعالى وامسحوا برؤوسكم، اِس میں یہ جو باء آئی للتبعيض یہ تبعیض کے لیے ہے، فيكون المعنى تو معنی ہوگا وامسحوا بعض رؤوسكم، مسح کرو اپنے بعض رؤوس کا، یعنی کچھ سر کا، والبعض مطلق، اور یہ باء کیا ہے؟ مطلق ہے بين أن يكون شعرا أو ما فوقه، یہ مطلق ہے کس چیز کے درمیان؟ ایک بال یا ایک سے زیادہ حتی قريب الكل، یہاں تک کہ کل کے قریب تک۔ کل تو نہ ہو، کل سے تھوڑا سا بھی کم ہو تو بس یہ سب بعض کے اندر داخل ہیں۔ فعلى أيّ بعض يمسح يكون آتيا بالمأمور به، فِس جس بعض پر بھی اس نے مسح کر لیا تو یہ مامور بہ کو ادا کرنے والا ہوگا یہ شخص بھئی، کیا کہلائے گا یہ شخص کہ اس نے کیا کیا؟ مامور بہ کو ادا کر لیا ہے بھئی۔
وقال مالك رحمه الله تعالى إنه صلة، اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ باء صلة ہے أي زائدة یعنی زائدہ ہے بھئی۔ قرآن کے اندر زائد کا کوئی حروف وغیرہ آئیں تو زائد کے لفظ کے بجائے صلة کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ کیا لفظ استعمال کیا جاتا ہے؟ صلة کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے کیونکہ زائد سے شبہ پڑتا ہے کہ یہ شاید یہ لفظ بالکل ہی بیکار ہے، زائد ہے بھئی، حالانکہ ایسا نہیں بھئی، بالکل زائد نہیں، تو بلکہ وہ کلام کے اندر یہ زائد حروف حسن پیدا کرتے ہیں اور تعقید کا فائدہ دیتے ہیں۔
اور تو ان سے کلام کا حسن بہت بڑھ جاتا ہے، تو ان کو زائد کہنا مناسب نہیں، لہذا کیا لفظ استعمال کیا جاتا ہے؟ صلة۔
تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں إنها صلة أي زائدة یہ صلة ہے یعنی زائد ہے، فكان المعنى تو معنی ہوا وامسحوا رؤوسكم مسح کرو تم اپنے سروں کا، والظاهر منه الكل، اور ظاہر اس سے کل ہی ہے، گویا یوں کہا گیا وامسحوا رؤوسكم اپنے سروں کا مسح کرو۔ اور ظاہر کیا ہے؟ الكل کہ اس سے کیا مراد ہے؟ کل، کیونکہ رأس کس کو کہا جاتا ہے؟ کل کل سر کو۔ فيكون مسح كلّ الرأس فرضا، تو سارے سر کا مسح فرض ہوگا بھئی۔ وليس كذالك، اور ایسا نہیں ہے، مصنف فرما رہے ہیں أليس للتبعيض والزيادة یہ باء جو ہے تبعیض اور زیادتی کے لیے نہیں ہے، لانّ التبعيض مجاز، اس لیے کیونکہ تبعیض جو ہے وہ مجاز ہے، فلا يصار إليه، لہذا اس کی طرف رجوع نہیں کیا جائے گا، ولو كان التبعيض حقيقة، اور اگر تبعیض جو ہے وہ حقیقت ہو، وهو موجب مين، اور وہ تو کس کا موجب ہے؟ مين کا۔ باء کا حقیقی معنی تو الصاق ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کس لیے بناتے ہیں اس کو؟ تبعیض کے لیے اور تا تبعیض تو اس کا مجازی معنی ہے اور مجازی معنی کی طرف نہیں جایا جائے گا جب حقیقی معنی ممکن ہو، اور اگر اس کو باء کا حقیقی معنی تسلیم کیا جائے دو ہی احتمال ہیں نا، انہوں نے کہا باء کس لیے ہے؟ تبعیض کے لیے، یا تو یہ مجازی معنی یا حقیقی۔ اگر مجازی معنی ہے پھر تو مجازی معنی کی طرف رجوع نہیں کریں گے جب حقیقی معنی ممکن ہو۔ اور اگر اس کو وہ حقیقت قرار دیتے ہیں، تو پھر بھئی تبعیض یہ تو مقتضى ہے مین کا، کس کا؟ مین کا مین تبعیض کے لیے آتا ہے بھئی۔ تو تبعیض یہ تو مین کا موجب ہے، مین جو ہے وہ تبعیض کے لیے آیا کرتا ہے، أخذتُ من الدّراهم کیا معنی کرتے ہیں؟ أخذتُ بعض الدراهم، بعض دراہم اٹھائے، تو یہ موجب ہے مین کا، تو اس صورت میں لزم الاشتراك والتّرادفُ، اگر اس کو باء کا بھی یہ باء بھی تبعیض کے لیے ہو جائے اس سے حقیقی معنی ہوجائے، حالانکہ یہ تو حقیقی معنی کس کا ہے؟ مین کا لزم الاشتراك والتّرادفُ، تو اس صورت میں اشتراک اور ترادف لازم آئے گا، وكلاهما خلاف الأصل اور وہ دونوں کیا ہیں؟ خلاف الأصل۔ اشتراک بھی لازم آئے گا اور ترادف بھی، اشتراک کس طرح؟ بھئی ہم نے بتایا باء کا حقیقی معنی ہے الصاق۔ اور اگر ان کی یہ بات مان لی جائے کہ باء تبعیض کے لیے یہ بھی اس کا حقیقی معنی ہے، تو باء مشترک ہوا دو معانی کے درمیان بھئی، مشترک اسی کو کہتے ہیں نا لفظ ایک اور معنی کئی ہوں۔ لفظ ایک ہوا اور معنی کئی ہوئے تو یہ اشتراک لازم آیا کہ باء الصاق کے لیے بھی اور باء تبعیض کے لیے بھی بھئی۔
اور نیز ترادف بھی لازم آتا ہے بھئی۔ ترادف کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ کئی ہوں اور معنی ایک ہو، تو یہاں پر بھی باء کا باء کا معنی بھی تبعیض، مین کا معنی بھی تبعیض، تو لفظ دو ہوئے اور معنی ایک ہوا تو ترادف لازم آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں لزم الاشتراك والتّرادفُ اشتراک اور ترادف لازم آئے گا، وكلاهما خلاف الأصل، اور یہ دونوں خلاف الأصل ہیں۔ اصل تو یہ ہے ان کی نفی ہونی چاہیے اشتراک اور ترادف کی بھئی۔ وكذلك الزّيادةُ أيضاً خلاف الأصل، اور اسی طرح زیادہ ہونا زیادتی جو ہے یہ بھی خلاف الأصل ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس کو زائد قرار دیا حالانکہ اور یہ بھی کیا ہے خلاف الأصل ہے، اصل تو یہ ہے کہ لفظ اپنے معنی کا فائدہ دے بھئی۔
بل هي للالْصَاقِ بلکہ یہ جو باء ہے یہ الصاق کے لیے ہے حقيقةً على أصل وضعها، باعتبار حقیقت کے اپنی اصل وضع پر، یہ باء کس لیے ہے؟ الصاق کے لیے ہے اپنی اصل وضع کے مطابق بھئی، وإنما جاء التبعيضُ یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔
سوال یہ کہ اے احناف آپ کہتے ہو یہ باء الصاق کے لیے ہے، تبعیض کے لیے نہیں۔ حالانکہ تمہارے نزدیک بھی کل سر کا مسح فرض نہیں، بعضِ رأس کا مسح فرض ہے، اور وہ چوتھائی سر ہے یا مقدارِ ناصیہ ہے۔ ناصیہ سر کا اگلا حصہ بھئی، سر کا اگلا حصہ جو ہے چوتھائی سر یہ ناصیہ کہلاتا ہے بھئی۔ تو اے احناف جب آپ نے باء کو تبعیض کے لیے نہیں بنایا، الصاق کے لیے بنایا، تو پھر یہ آپ تبعیض کہاں سے ثابت کرتے ہو مسحِ رأس کے اندر؟ تو اس کا جواب دینے لگے ہیں کہ بھئی ہم تبعیض ثابت کرتے ہیں لیکن باء کے ذریعے نہیں، بلکہ دوسرے طریقے سے جو آگے ذکر کر رہے ہیں بھئی۔
کہتے ہیں وإنما جاء التبعيض في مسحِ الرّأسِ بطريقٍ آخر، اور تبعیض جو مسحِ رأس کے اندر آئی ہے وہ دوسرے طریقے سے ہے، كما قال، جیسے کہ مصنف نے فرمایا۔ ولكنها إذا دخلتْ في آلَةِ المسح كان الفعل متعدّياً إلى محلّه فيتداول كلّه، لیکن جب یہ باء داخل ہو جائے کس کے اندر؟ في آلَةِ المسحِ، آلاتِ مسح میں كان الفعل متعدّياً إلى محلّه، تو فعل جو ہے وہ متعدی ہوگا اپنے محل کی طرف، فيتداول كله، تو یہ شامل ہوگا سارے کے سارے کو، كما إذا قيل مسحتُ الحائطَ بيدي، اب دیکھیے مسح فعل ہے اور یہ متعدی ہے اپنے محل کی طرف، یعنی الحائطَ کی طرف، اس کی طرف متعدی ہے، یعنی اس کو نصب دے رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ نصب دے رہا ہے، متن میں آیا فيتداول كله، تو یہ سارے کو شامل ہوگا، تو مسحتُ الحائطَ بيدي کا کیا معنی ہوگا؟ میں نے ساری دیوار کو ہاتھ سے چھوا، میں نے ساری دیوار کو ہان کیونکہ فعل متعدی ہے کس کی طرف؟ اپنے محل، یعنی محلِ مسح کی طرف، اور اس کو نصب دے رہا ہے براہ راست، اور باء کس پر داخل ہے؟ آلے پر داخل ہے، تو جب فعلِ مسح متعدی ہو اپنے محل کی طرف، تو کیا مراد ہوتا ہے؟ سارا محل مراد ہوتا ہے، معلوم ہوا کہ مسحتُ الحائطَ بيدي کا کیا معنی؟ میں نے ساری دیوار کو ہاتھ سے چھوا، ساری دیوار کا مسح کیا۔
فالحائط محلّ الفعل، پس حائط جو ہے وہ محلِ فعل ہے، یعنی مسح کا، ومفعول له، اور مفعول له نہ کہنا اس کا ترجمہ، ومفعولٌ له، اور مفعول ہے لہو اِس فعل کے لیے۔ مسح کے لیے کیا ہے بھئی؟ مسح کیا کر رہا ہے؟ الحائط کو نصب دے رہا ہے نا تو اس کے لیے کیا ہوا؟ مفعول ہوا یعنی مفعول بہي۔ تو کہتے ہیں فالحائط محلّ الفعلِ، پس دیوار جو ہے وہ محلِ فعل ہے، ومفعولٌ له، اور مفعول ہے اس فعلِ مسح کے لیے، يراد به كلُّه، اس کے ذریعے ساری کی ساری دیوار مراد ہوگی، واليد آلة، اور ہاتھ جو ہے وہ آلہ ہے، دخل عليها الباء، اِس پر کیا داخل ہوئی ہے؟ باء داخل ہوئی ہے مسحتُ بيدي، تو دیکھو ید پر داخل ہوئی ہے باء۔ ويراد بها البعض، اور اس کے ذریعے بعض مراد ہے، یعنی آلے کا بعض مراد ہے، إذ المُعتبر في الآلة قدرُ ما يحصل به المقصود، اس لیے کیونکہ معتبر جو ہے وہ آلے کے اندر اتنی مقدار جس کے ذریعے مقصود حاصل ہو جائے بھئی، آلہ کل مراد نہیں ہوتا، آلے میں کتنا حصہ مراد ہوتا ہے؟ جس کے ذریعے مقصود حاصل ہو جائے، یعنی جس کے ذریعے وہ فعل سرانجام دیا جاسکے بھئی، اب ہاتھ کے کچھ حصے کے ذریعے بھی مسح کا فعل سرانجام دیا جاسکتا ہے، تو اتنی مقدار جس سے وہ مقصود حاصل ہو جائے وہ کافی ہے، تو کہتے ہیں إذ المُعتبر في الآلةِ قدرُ ما يحصل به المقصود، اس لیے کیونکہ معتبر جو آلے کے اندر ہے وہ اتنی مقدار ہے جس کے ذریعے مقصود حاصل ہو جائے، یعنی وہ فعل سرانجام دیا جاسکے، وإذا دخلتْ في محلّ المسحِ، اور جب یہ باء داخل بھئی یہ تو صورت تھی، باء کس پر داخل ہوئی تھی؟ آلے پر۔ اور فعل براہ راست مفعول کو کیا کر رہا تھا؟ نصب۔ اب اس کا اگر عکس ہو، وإذا دخلتْ في محلّ المسح، اور جب یہ باء داخل ہو جائے محلِ مسح میں، جیسے قرآن میں کیا آیا؟ وامسحوا برؤوسكم، تو یہ رأس محلِ مسح ہے، اس پر کیا داخل ہوگئ؟ باء۔ تو بقي الفعلُ متعدّياً إلى الآلَةِ، تو فعل باقی رہے گا متعدی ہوکر آلہ کی طرف، بھئی دیکھیے پہلے کیا تھا؟ مثال کیا تھی؟ مسحتُ الحائطَ بيدي، فعل کس کو نصب دے رہا ہے؟ حائط کو۔ اور باء کس پر داخل؟ آلے پر۔ لیکن اگر باء داخل کردی حائط پر اور یوں کہا گیا، مسحتُ بالحائط، تو معلوم ہوا اب کیا مفعول ہے بھئی؟ فعل کس کو نصب دے رہا ہے؟ پہلے تو حائط کو نصب دے رہا تھا، اب اس پر تو باء آگئی، کہتے ہیں اب وہ آلہ مسح کے محل کی جگہ آگیا، أي مسحتُ يدي بالحائط، مسحتُ يدي مفعول چاہیے یا نہیں اس کے لیے؟ تو فعل اب متعدی ہو جائے گا معلوم ہوا آلہ، آلے کو مفعول بنا دیا گیا، اور مفعول کو کس کی جگہ لے گئے؟ آلے کی جگہ لے گئے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، قرآن میں اللہ کس طرح فرماتے ہیں؟ وامسحوا برؤوسكم، تو رؤوس تو ہے محلِ مسح، لیکن اس پر باء داخل کر دی گئی، جب اس پر باء داخل ہوئی، تو اب مفعول کون بن جائے گا؟ آلہ، گویا کیا کہا گیا؟ وامسحوا أيديكم برؤوسكم، وامسحوا أيديكم برؤوسكم، جیسے کیا تھا مسحتُ أيديكم برؤوسكم،
مسحت يدي بالحائط، صورت سمجھ میں بھی آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ تو مفعول تو ایسا ہی ہے، تو گویا پہلے مفعول محل مسح تھا اب اس پر با آ گئی وہ آلے کی جگہ چلا گیا اور آلہ اس کی جگہ پر آ گیا وہ منصوب ہوا، تو گویا کس طرح ہو گیا آ گیا گویا وامسحوا أيديكم برؤوسكم۔
تو کہتے ہیں اس صورت "وإذا دخلت في محل المسح"، اور جب با داخل ہو گئی محل مسح میں "بقي الفعل متعديا إلى الآلة"، تو فعل متباقی رہا متعدی ہو کر اس آلے کی طرف "كما إذا قيل"، جیسے کہ کہا جائے مسحت بالحائط، مسحت بالحائط، تو یہ کس معنی میں ہوا؟ مسحت يدي بالحائط۔ یا "أو قيل"، یا کہا جائے "وامسحوا برؤوسكم فحينئذ يكون المسح متعديا إلى الآلة"، تو اس صورت میں مسح کا فعل جو ہے وہ متعدی ہو گیا آلے کی طرف "فکأنه قيل"، گویا کہ یوں کہا گیا "مسحت اليد بالحائط فيشبه المحل بالوسائل"، تو یہ محل مشابہ ہوا کس کے؟ وسائل کے مشابہ، آلو کے مشابہ ہو گیا "في أخذ بعضه"، کس چیز کے اندر؟ بعض کے لینے میں، یعنی اس میں بھی جیسے آلے کے اندر اوپر گزرا بعض مراد ہوتا ہے کل آلہ نہیں، تو یہاں بھی اب یہ با اس پر داخل ہوئی یہ آلے کے مشابہ ہوا اور آلے کا تو بعض کافی ہوتا ہے تو اس کا بھی بعض کافی ہے۔
"فلا يقتضي استيعاب الرأس"، تو لہٰذا یہ استیعابِ راس کا تقاضا نہیں کرتا۔ استیعاب کا معنی گھیرنا گھیرنا، سارے سر کو گھیر لینا مسح میں۔ "فلا يقتضي استيعاب الرأس"، لہٰذا یہ مسح جو ہے وہ تقاضا نہیں کرتا پورے سر کے گھیرنے کا "وإنما يقتضي إلساق الآلة بالمحل"، اور یہ تقاضا کرتا ہے کس چیز کا؟ "إلساق الآلة بالمحل"، کہ آلہ کس کے ساتھ مل جائے؟ محل کے ساتھ مل جائے۔ "وذلك لا يستوجب الكل"، کیونکہ بھئی قرآن میں آیا "وامسحوا برؤوسكم"، تو گویا تم سے کیا کہا گیا؟ "وامسحوا أيديكم برؤوسكم"۔ تو آلے کی طرف فعل براہِ راست متعدی ہوا نا؟ "وامسحوا أيديكم"، اور اس کو جب نصب دے رہا ہے اور جس کو نصب دیتا تھا وہ تو کل مراد ہوتا تھا، لیکن یہ ہے آلہ لہٰذا یہاں کل مراد نہیں ہو گا بھئی۔ یہ معنی ہے "وإنما يقتضي إلساق الآلة بالمحل"، کہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ آلے کے ملنے کا محل کے ساتھ "وذلك لا يستوجب الكل عادة"، اور وہ واجب نہیں کرتا کل کو عادةً۔ کل عادةً وہ کل مراد اس کو واجب نہیں کرتا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ سارا ہاتھ ویسے بھی سر کے ساتھ نہیں لگ سکتا بھئی، ممکن نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی مسح کی آ جائے بھئی۔
"فصار المراد به أكثر اليد"، تو اس کے ذریعے اکثر ید مراد ہو گا۔ بھئی جس کی طرف براہِ راست متعدی ہوتا تھا فعل اس کا تو کل مراد ہوتا تھا، لیکن یہاں کل مراد نہیں ہو گا عادةً کل مراد نہیں ہوتا، لہٰذا اس کے ذریعے اکثر ید مراد ہو گا، یعنی اپنے ہاتھ کے اکثر حصے سے کیا کر لو؟ بعض راس پر کیا کر لو؟ مسح، اور اکثر کا اعتبار بھئی ہاتھ میں پانچ انگلیاں ہیں تو اکثر کتنی ہوں گی؟ تین، چار بھی اکثر ہیں تین بھی اکثر، لیکن تین سے کم ہوئے دو تو پھر تو یہ اکثر نہیں، لہٰذا کم از کم کتنی انگلیوں سے مسح ہو؟ تین انگلیوں سے مسح ہو بھئی، کم از کم۔
تو اس کے ذریعے اکثر ید مراد ہو گا "وذلك مقدار ثلاث أصابع"، اور وہ تین انگلیوں کی مقدار ہے "لأن الأصابع أصل في اليد والكف تابع"، اس لیے کیونکہ انگلیاں ہاتھ میں اصل ہیں اور ہتھیلی تابع ہے بھئی۔ "لأن الأصابع أصل في اليد والكف تابع"، اس لیے کیونکہ انگلیاں ہاتھ میں اصل ہیں اور ہتھیلی تابع۔ چنانچہ بھئی! اگر کوئی شخص کسی کی ہاتھ کی انگلیاں کاٹ دے تو پانچوں انگلیاں کاٹیں ہتھیلی نہیں کاٹی، تو بھی ہاتھ کی پوری دیت دینا پڑے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اور کتنا ہے وہ؟ 50 اونٹ دینے پڑیں گے، کتنے اونٹ؟ 50 بھئی۔ اور اگر ہتھیلی بھی ساتھ کاٹ دی؟ پھر بھی وہی 50 اونٹ ہی آئیں گے، معلوم ہوا اصل کیا ہیں؟ انگلیاں ہیں، ہتھیلی ان کے تابع ہے۔
"لأن الأصابع أصل في اليد والكف تابع"، اس لیے کیونکہ انگلیاں ہاتھ میں اصل ہیں اور ہتھیلی تابع ہے "والثلاث أكثرها"، اور تین جو ہیں وہ اکثر ہیں انگلیوں کی "فأقيم مقام الكل"، تو ان کو سب کے قائم مقام کر دیا گیا "فصارت التبعيض مراداً بهذا الطريق"، تو تبعیض جو ہے وہ اس طریقے سے مراد ہوئی "لا كما زعم الشافعي رحمه الله من أن الباء للتبعيض"، نہ کہ وہ جیسے کہ گمان کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے کہ با کس کے لیے ہے؟ تبعیض۔ تو ہم بھی تبعیض کے قائل، لیکن ہم تبعیض اس طریقے پر ثابت کرتے ہیں با کے ذریعے نہیں بھئی۔
آگے شارح فرماتے ہیں "هذا إحدى روايتى أبي حنيفة رحمه الله"، یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دو روایتوں میں سے ایک روایت ہے "ولم يتعرض للرواية الأخرى"، اور درپے نہیں ہوئے مصنف دوسری روایت کے، یعنی پیچھے نہیں پڑے دوسری روایت کے یعنی اسے ذکر نہیں کیا، دوسری روایت کے پیچھے نہیں پڑے یعنی اسے ذکر نہیں کیا۔ بھئی وہ کیا ہے؟ دوسری بھئی دوسری روایت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی یہ ہے کہ آیت میں مسحِ راس کا ذکر آیا، کس کا؟ مسحِ راس کا، اور مسحِ راس ہمیں اتنا تو پتہ چل گیا سر پر مسح کرنا ہے، محل کا تو علم ہوا لیکن کتنی مقدار پر کرنا ہے اس اعتبار سے آیت مجمل ہے اور اس کے لیے بیان چاہیے اور پھر حدیث کے ذریعے اس کا بیان آیا کہ کم از کم وہ کتنی مقدار ہے؟ ناصیہ کی مقدار ہے بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وضو کے لیے تشریف لائے، حدیث آپ پڑھ چکے قدوری وغیرہ میں بھی، اور آپ نے ناصیہ کی مقدار پر وضو میں مسح فرمایا۔ معلوم ہوا کل راس فرض نہیں ورنہ حضور علیہ السلام فرض کو نہ چھوڑتے کبھی بھی بھئی، کل راس۔ اور نیز کم سے کم جو مسح کی مقدار احادیث میں ملتی ہے وہ ناصیہ کی مقدار ہے۔ معلوم ہوا کم از کم اتنی مقدار یہ فرض ہے، اگر اس سے کم ہوتا فرض تو کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ تعلیمِ امت کے لیے ضرور فرما دیتے بھئی۔ ویسے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارکہ تو یہی تھی کہ وہ پورے سر کا مسح فرماتے تھے، پورے سر کا مسح، لیکن وہ ہمارے نزدیک سنت پر محمول ہے، سنت یا استحباب پر بھئی، اور ایک مرتبہ یا چند مرتبہ جو ناصیہ پر مسح فرمایا یہ تعلیمِ امت کے لیے، بتلانے کے لیے کہ یہ مقدار تو ضرور فرض ہے باقی پورے سر کا مسح بہتر ہے، سنت ہے، مستحب ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک یا تین بال۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ایک یا تین بال ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ تعلیمِ امت کے لیے ضرور فرما دیتے بھئی، لیکن ناصیہ سے کم مقدار ثابت نہیں معلوم ہوا کم از کم اتنا ضرور کرنا پڑے گا مسح، معلوم ہوا یہ فرض ہے، یہ مقدار کیا ہے؟ فرض ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ہمارے پاس بہت دلائل بہت ہیں مولانا، احناف کے پاس دلائل کے انبار موجود ہیں لیکن یہاں اس وقت لمبی بحث نہیں بس با کے بارے میں بات آئی، با کے ذریعے بھی دلائل ہم بناتے ہیں، ایک دلیل نہیں کئی دلائل بناتے ہیں کئی صورتیں بنتی ہیں بھئی، جی۔ تو بس ایک مختصر تقریر کرتے جاتے ہیں کتاب کے اصولِ فقہ کے مطابق بھئی، کسی مسئلے پر مفصل بحث یہاں مقصود نہیں ہوتی بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دوسری روایت کو مصنف نے ذکر ہی نہیں، ماتن نے ذکر ہی نہیں کیا شارح نے صرف مختصر اشارہ کر دیا اس کی طرف کہ دوسری روایت یہ ہے کہ آیت جو ہے اس میں یہ محل یہ مقدارِ مسح کے اندر کے اعتبار سے یہ آیت مجمل ہے، محلِ مسح تو معلوم کہاں کرنا ہے؟ سر پر، لیکن مقدارِ مسح میں یہ آیت مجمل اس کا پتہ نہیں، امام مالک رحمہ اللہ فرما رہے ہیں سارے سر کا مسح فرض، امام شافعی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں ایک یا تین بال کر لو تب بھی کافی، تو اب کیا کریں؟ تو معلوم ہوا یہ آیت کیا ہے؟ مقدارِ مسح کے اعتبار سے مجمل ہے اور مجمل کے لیے بیان چاہیے اور بیان پھر اس کے لیے کیا بن جائے گی؟ حدیث بن جائے گی بھئی۔
اور وہ روایت یہ ہے کہ "أنه مجمل في حق المقدار"، کہ یہ آیت مجمل ہے مقدار کے حق میں "لأنه لم يعلم أن المراد كل الرأس أو بعضه"، اس لیے کیونکہ یہ معلوم نہیں ہے کہ اس سے مراد سارا سر ہے یا بعض راس ہے یعنی کچھ حصہ "فيكون فعل النبي عليه الصلاة والسلام"، تو پھر اس صورت میں حضور علیہ السلام کا فعل بھئی وہ کیا بھئی؟ "وهو أنه مسح على ناصيته"، وہ یہ کہ حضور علیہ السلام نے مسح فرمایا اپنی ناصیہ پر "بياناً له"، یہ کیا بن جائے گا اس کے لیے؟ بیان بن جائے گا، اور ناصیہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں "والناصية هي مقدار ربع الرأس"، ناصیہ جو ہے چوتھائی سر کی مقدار ہے "فيكون مسح ربع الرأس فرضا سواء كان بثلاث أصابع أو كلها"، تو اس صورت میں چوتھائی سر کا مسح جو ہے وہ فرض ہو گا برابر ہے چاہے وہ تین انگلیوں کے ذریعے ہو "أو كلها"، یا سب انگلیوں کے ذریعے، تین انگلیوں سے کم از کم مسح ہو یا سارے ہاتھ کے ذریعے ہو۔
اچھا، مصنف نے کیا کہا؟ "ولم يتعرض للرواية الأخرى"، دوسری روایت کے پیچھے مصنف نہیں پڑے، کیوں؟ آگے علت ذکر کر رہے ہیں "لأن الكلام فيها طويل"، کیونکہ اس کے اندر کلام بڑا طویل ہے، اس میں بڑی بحثیں ہیں اس قول کی تفصیل کے اندر اعتراضات و جوابات وغیرہ بڑی لمبی بحث ہے تو اس کو انہوں نے ذکر نہیں کیا بھئی، تو "لأن الكلام فيها طويل" کس سے تعلق ہے اس کا؟ "ولم يتعرض للرواية الأخرى" اس سے تعلق ہے بھئی۔
"وإنما يثبت استيعاب"، جی یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں سوالِ مقدر کا، سوال یہ: کہ اے احناف! آپ نے کہا "وامسحوا برؤوسكم" یہاں پر با داخل ہوئی ہے راس پر، محلِ مسح پر با داخل ہو گئی تو یہ آلے کے مشابہ ہوا اور آلے میں تو کل نہیں مراد ہوتا تو یہاں بھی کل مراد نہیں۔ یہ تو بعینہٖ اسی طرح آیتِ تیمم کے اندر بھی آیا ہے بھئی، آیتِ تیمم میں، اس میں کس طرح اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں؟ "وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ"۔ تو آیتِ تیمم میں دیکھیے اسی طرح آیا بھئی "فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ"، "فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ"، جیسے آیتِ وضو میں آیا تھا "وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ"، وہاں آیا "فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ"، بعینہٖ ایک جیسی عبارت بھئی ایک جیسا کلام ہے دونوں جگہ، اور اے احناف! و آیتِ وضو کے اندر تو آپ نے اس کے ذریعے کیا ثابت کیا؟ تبعیض کو ثابت کیا کہ راس پر با داخل ہوئی اور راس مشابہ ہو گیا آلہ آلے کے اور آلے میں بعض کل مراد نہیں ہوتا تو بعض مراد ہو گا۔ تو بعینہٖ اسی طرح آیتِ تیمم کے اندر بھی با جو ہے کس پر داخل ہے؟ وجوہ پر، اور اسی پر عطف ہے أيدي کا بھی تو اس پر بھی با گویا داخل ہے، اور تو لہٰذا یہاں پر بھی بعضِ وجہ یا بعضِ أيدي جو ہیں وہ ان کا مسح فرض ہونا چاہیے، لیکن آپ کیا کہتے ہیں؟ کہ تیمم کے اندر پورے چہرے کا مسح اور اسی طرح کہنیوں تک ہاتھوں کا مسح ضروری ہے۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ یہاں آپ با کے ذریعے اسی طرح آپ نے تقریر کی اور تبعیض ثابت کی اور وہاں پر آپ جو ہے تبعیض کو نہیں مانتے تو اس کی کیا وجہ ہے؟
تو جواب دے رہے ہیں "وإنما يثبت استيعاب مسح الوجه واليد في التيمم لقوله تعالى فامسحوا بوجوهكم وأيديكم"، ثابت ہے چہرے اور ہاتھوں کے مسح کا استیعاب یعنی پورا ان کو گھیر لینا کس کے اندر؟ تیمم، تیمم میں ہاتھوں اور چہرے کے مسح کا استیعاب بھئی، وہ "لقوله تعالى"، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے ہے "فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم"، "لأنه خلف عن الوضوء"، اس لیے کیونکہ یہ کیا ہے؟ وضو کا خلیفہ ہے، وضو کا نائب ہے "فيعامل معاملته في الوجه واليد"، لہٰذا اس کے ساتھ بھی اسی کا معاملہ کیا جائے گا بھئی چہرے اور ہاتھوں میں۔ بھئی دیکھیے! جواب ہم یہ دیتے ہیں کہ ٹھیک ہے وہ آیت بھی اسی آیت کی طرح ہے وہاں سے بھی تبعیض ثابت ہونی چاہیے تھی، لیکن کہ یہ جو تیمم ہے یہ خلیفہ ہے کس کا؟ وضو کا، اور وضو کے اندر تو چہرے کا، پورے چہرے کا دھونا اور ہاتھوں کا کہنیوں سمیت دھونا فرض تھا تو خلیفہ کا بھی وہی حکم ہو گا اور وہاں بھی استیعابِ وجہ اور استیعابِ ید کیا ہو گا؟ ضروری ہو گا۔
اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی، جو انہوں نے کہا کہ تیمم چونکہ وضو کا خلیفہ ہے اس کا نائب ہے اس کا قائم مقام ہے اور قائم مقام کا وہی حکم ہوا کرتا ہے جو اصل کا ہے تو اصل یعنی وضو کے اندر استیعاب چہرے اور ہاتھوں کے دھونے کا ضروری تھا، تو تیمم جو اس کا قائم مقام ہے اس کے اندر بھی چہرے اور ہاتھوں کے مسح کا استیعاب ضروری ہو گا۔
تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ خلیفہ ہے قائم مقام ہے اور اس کا حکم اصل کی طرح نہیں، جیسے بھئی مسح علی الخفین، مسح علی الخفین یہ قائم مقام ہے غسل کا دھونے کا اور غسلِ رجلین میں کیا کیا جاتا ہے؟ پورے پاؤں کو دھویا جاتا ہے، لیکن جو اس کا قائم مقام ہے جو اس کا خلیفہ ہے یعنی مسح علی الخفین اس میں استیعاب ضروری نہیں، پورے موزے پر مسح ضروری نہیں بلکہ بعض موزے پر بھی مسح کافی ہے بھئی۔ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر بھی تو استیعاب کا حکم ہونا چاہیے کیونکہ آپ نے ہمیں بتایا کہ خلیفہ کا وہی حکم ہوتا ہے جو اصل کا ہوتا ہے۔
تو جواب اس کا یہ: کہ یہ موزوں پر جو مسح ہے یہ غسلِ رجلین کا خلیفہ نہیں اس کا بدل ہے بھئی، اگر خلیفہ ہوتا تو اس کا بھی وہی حکم ہوتا لیکن یہ خلیفہ ہے ہی نہیں یہ تو اس کا بدل ہے۔ بدل اور خلیفہ میں یہ فرق ہے کہ خلیفہ وہاں آئے گا جہاں اصل ممکن نہ ہو، تیمم اسی وقت جائز ہو گا جب وضو ممکن نہ ہو، پانی آپ کے پاس ہے ہی نہیں یا کسی عذر کی وجہ سے پانی کے استعمال پر قادر نہیں۔ تو لہٰذا آپ کیا کر لیں گے؟ مجبوری ہے تو اب تیمم کرنا پڑے گا بھئی، تو یہاں پر اصل ممکن نہیں تھا اس لیے ہم کس کی طرف چلے گئے؟ خلیفہ یعنی نائب کی طرف چلے گئے۔ جبکہ موزہ پر مسح وہ خلیفہ نہیں ہے وہ بدل ہے، بدل کے اندر مبدل منہ بھی ممکن ہوتا ہے کیونکہ یہاں پر آپ موزوں پر مسح کر رہے ہیں اور یہ بھی جائز ہے آپ موزے اتار دیں اور پاؤں دھو لیں بھئی، تو یہاں پر بدل کے اندر مبدل منہ بھی ممکن ہوتا ہے اصل بھی ممکن ہوتا ہے جبکہ خلیفہ کے اندر اصل ممکن ہی نہیں ہوتا تو دونوں میں فرق ہے بھئی، تو جو خلیفہ ہے اس میں تو اصل والا حکم آئے گا جبکہ بدل کے اندر یہ بدل ہے بدل میں اصل والا حکم نہیں ضروری بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو موزوں پر مسح وہ خلیفہ نہیں ہے پاؤں دھونے کا بلکہ وہ اس کا بدل ہے بھئی۔
"ولأنه ثبت الاستيعاب فيه بالسنة المشهورة"، اور نیز اس لیے کیونکہ استیعاب جو ہے اس تیمم کے اندر ثابت ہے "بالسنة المشهورة"، کس کے لیے سنتِ مشہورہ یعنی حدیثِ مشہورہ کے ذریعے ثابت ہے ہم جواب دیتے ہیں کہ وہاں دوسرا جواب ہم کیا دیتے ہیں؟ پہلا جواب تو ہم نے یہ دیا کہ یہ خلیفہ ہے وضو کا تو وضو والا ہی حکم یہاں بھی آئے گا، وضو میں استیعاب ضروری تھا تو یہاں بھی استیعاب ضروری ہو گا، دوسرا جواب دے رہے ہیں کہ یہاں پر جو استیعاب ہے یعنی پورے چہرے کا مسح کرنا یا پورے ہاتھوں کا مسح کرنا کہنیوں تک اس کو ہم کس کے ذریعے ثابت کرتے ہیں؟ سنتِ مشہورہ یعنی خبرِ مشہور کے ذریعے "وهي قوله عليه الصلاة والسلام لِعَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ"، اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے جو آپ نے حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا، فرمایا "يَكْفِيكَ ضَرْبَتَانِ"۔
پانی، تمہارے لیے دو ضربیں کافی ہیں: ضربۃ للوجہ وضربۃ للذراعین، ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب [unclear] الذراعین، ذراع کہتے ہیں کوہنی تک کوہنی سے انگلیوں تک، یہ جو ہاتھ کا حصہ ہے اس کو ذراع کہتے ہیں، تو ذراعین کے لیے ایک ضرب کافی ہے اور چہرے کے لیے ایک ضرب کافی ہے، یہ حدیث میں آیا۔
حدیث میں بھئی، حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سفر میں تھے اور سفر کے اندر صحرا کے اندر قدیم زمانے میں تو سفر بڑا مشکل ہوتا تھا، اب تو اللہ نے بڑی سہولتیں بنا دیں بھئی، تو صحرا کے اندر جنگل میں سفر کر رہے تھے، تو کہیں پر جنابت کی حالت پیش آ گئی بھئی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی اور حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی بھئی، آیتِ تیمم نازل ہو چکی تھی بھئی۔
اب حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حدثِ اصغر سے صورت میں تیمم کس طرح کرتے ہیں، وہ طریقہ تو معلوم تھا، لیکن حدثِ اکبر میں تیمم کیسے کیا جائے گا، پانی کہیں مل نہیں رہا، اب کیا کریں؟ نماز کا وقت ہو گیا، تو حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں وہی وہ ریت پر جو ہے لوٹ پوٹ ہوا بھئی، ریت میں الٹے الٹے، پوری ریت کو پورے بدن پر لگا لیا کہ وضو کے اندر جب چہرے پر اور ہاتھوں پر مسح کافی تھا وضو کی طرح ہی، تو یہاں غسل میں بھی اسی طرح لازمی بات ہے تیمم ہو گا، تو اس طرح پھر اس کے بعد انہوں نے نماز پڑھی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز کو مؤخر فرمایا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ تیمم وضو کے قائم مقام تو ہو سکتا ہے، غسل کے قائم مقام نہیں ہو سکتا۔
بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب تشریف لائے سفر سے واپسی ہوئی، تو واقعہ ذکر فرمایا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: یکفیک الضربتان، ضربۃ للوجہ وضربۃ للذراعین، تمہارے لیے دو ضربیں کافی تھیں، دو ضربیں کافی ہیں: ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب ذراعین کے لیے بھئی، یعنی ایک مرتبہ مٹی پر ہاتھ مار کر انسان جھاڑ لے اور پورے چہرے کا مسح کر لے اور دوسری مرتبہ مٹی پر ہاتھ مارے اور جھاڑ لے اور پھر کیا کر لے؟ دونوں ہاتھوں کا کوہنیوں تک مسح کر لے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہوا کہ جنابت کی حالت میں بھی تیمم اسی طرح کیا جائے گا جس طرح بے وضو ہونے کی حالت میں تیمم کیا جاتا تھا بھئی۔
تو یہ حدیثِ عمار ہے رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مشہور حدیث ہے بھئی، مسلم، ترمذی، ابو داؤد وغیرہ کئی کتابوں میں مذکور ہے، تو یہ حدیثِ مشہور ہے اور کہتے ہیں: حدیثِ مشہور کے ذریعے [unclear] کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے بھئی، کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے، یعنی کتاب اللہ سے تو استیعاب معلوم نہیں ہو رہا تھا، کتاب اللہ میں تو مطلق تھا، لیکن حدیث کے ذریعے استیعاب کا پتہ چلا، تو لہٰذا کتاب اللہ پر زیادتی کرتے ہوئے استیعاب کا حکم لگا دیا جائے گا کہ پورے چہرے کا مسح اور ہاتھوں کا کوہنیوں سمیت مسح کیا ہے؟ ضروری ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: والزیادۃ بمثلہ جائز، اور زیادتی کرنا اس قسم کی حدیث کے ذریعے، اس جیسی حدیث کے ذریعے جائز، یہ جائز ہے، یعنی کتاب اللہ پر زیادتی کرنا۔
وعلی للإلزام، اور علی الزام کے لیے آتا ہے بھئی، دوسرا حروفِ جارہ میں سے اب علی کے بارے میں بتلا رہے ہیں، علی الزام کے لیے آتا ہے لازم کر دینے کے لیے ایک شخص پر دوسری چیز کو لازم کرنے کے لیے بھئی۔
فقولہ، پس کسی شخص کا یہ قول: لہ علی ألف درہم، بھئی ایک شخص کہتا ہے: لہ علی ألف درہم، کیا لفظ اس نے کیا کلمہ استعمال کیا بھئی؟ علی، اور علی کس لیے آتا ہے؟ الزام کے لیے، تو اس پر ایک ہزار دین لازم ہو جائے گا، اس نے کیا کر لیا؟ اقرار کر لیا اپنے اوپر لازم۔
یکون دیناً، تو اس صورت میں یہ ہزار درہم کس چیز کے ہوں گے؟ دین کے ہوں گے بھئی، کس چیز کے؟ دین کے، کیونکہ اس نے علی کلمہ استعمال کیا ہے دین ہے، ہاں البتہ اگر اس کے ساتھ ودیعت کا لفظ ملا دیا اس نے، لزید علی ألف درہم ودیعۃً، اب یہ جو درہم ہوئے یہ باعتبار ودیعت یعنی امانت کے طور پر ہوئے، اگر یہ ودیعت کا لفظ اس کے ساتھ نہ ملتا تو علی الزام کے لیے آتا ہے اور لہٰذا معلوم ہوا وہ جو درہم ہیں اس پر وہ کس طریقے پر ہیں؟ دین کے طریقے پر ہیں بھئی، دین کے۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دین آپ جانتے ہیں ذمے سے ساقط نہیں ہوتا، جبکہ ودیع امانت جو ہوتی ہے امانت اگر آپ کے پاس کسی شخص نے رکھوائی اور آپ نے اس کی حفاظت کا پورا بندوبست کیا ہے، پھر کوئی چرا کر لے گیا، تو بس بھئی اب آپ پر وہ پیسے اپنی طرف سے دینا ضروری نہیں، امانت تھی، آپ نے بھی کوئی کمی نہیں کی، اپنی طرف سے حفاظت کی، پھر کوئی چور اٹھا کر لے گیا، تو آپ سے کیا ہو گئی؟ ساقط ہو گئی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ فرق ہے دونوں کے اندر، جبکہ دین جو ہے وہ ساقط نہیں ہوتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: وعلی للإلزام فقولہ لہ علی ألف درہم یکون دیناً، تو کسی شخص کا یہ قول جو ہے کہ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں، یکون دیناً، تو یہ دین ہو گا، إلا أن یتصل بہا الودیعۃ، مگر اس کے ساتھ یہ کہ ودیعت مل جائے یعنی ودیعت کا لفظ مل جائے، لأن حقیقت علی فی اللغۃ الاستعلاء، اس لیے کیونکہ علی کی حقیقت کیا ہے لغت میں عربی زبان میں؟ علی استعلاء کے لیے آتا ہے، ایک چیز دوسری کے اوپر ہو، استعلاء کا معنی اوپر ہونا۔
پھر کہتے ہیں: والاستعلاء قد یکون حقیقۃ، کبھی تو استعلاء حقیقۃً ہو گا، جیسے زید علی السطح، زید چھت پر ہے، دیکھو حقیقۃً زید کیا ہے؟ چھت کے اوپر ہے، تو دیکھو علی نے استعلاء کا فائدہ دیا، اور کبھی استعلاء جو ہے حکماً ہوتا ہے۔
جیسے اس شخص نے ابھی کہا: لہ علی ألف درہم، تو یہ دین کیا شمار مراد لیں گے ہم اس سے؟ دین، دین اس سے ہے مراد دین آئے گا، اس پر ایک ہزار بطورِ دین کے واجب ہو جائیں گے، کیونکہ دین بھی انسان کے اوپر ہوتا ہے، گویا ان اس پر سوار ہوتا ہے بھئی، کیا ہوتا ہے؟ اس پر سوار ہوتا ہے، اس پر بوجھ ہے بھئی۔
تو معلوم ہوا استعلاء دو قسم پر ہے: کبھی حقیقۃً ہو گا جیسے زید علی السطح، اور کبھی کیا ہو گا؟ حکماً ہو گا، جیسے دین کے اندر۔
تو کہتے ہیں: وقد یکون حقیقۃ، کبھی استعلاء حقیقۃً ہو گا جیسے زید علی السطح، وقد یکون حکماً، اور کبھی استعلاء حکماً ہو گا، بأن یلزم علی ذمتہ، بایں طور کہ وہ اس کے ذمے لازم ہو جائے، مثل، مثال کے طور پر جیسے شخص کا یہ قول ہے: لہ علی ألف درہم فکانہ یعلوہ ویرکبہ، گویا کہ یہ جو ہیں یہ مال جو ہے یعلوہ، یہ اس پر یہ الفِ درہم کیا ہیں اس پر؟ اس کے اوپر چڑھ گئے، ویرکبہ، اور اس پر سوار ہیں بھئی، فیجب علیہ، پس اس پر واجب ہوں گے۔
فإن یصل بہا لفظ الودیعۃ، پس اگر وہ ملا دے اس کے ساتھ لفظِ ودیعت کو، وہ کہنے والا اس کے ساتھ کس کو ملا دے؟ فإن یصل بہا لفظ الودیعۃ، پس اگر وہ ملا دے اس کے ساتھ لفظِ ودیعت کو، بأن یقول، بایں طور کہ وہ یوں کہتا ہے: لہ علی ألف ودیعۃً، کہ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں باعتبار ودیعت کے، لم تخرج عن معنی الإلزام، تو اب بھی یہ الزام کے معنی سے نہیں نکلا، اب بھی اس پر کیا ہے؟ ایک ہزار لازم ہیں،ولکن یجب علیہ حفظہ لا أدائہ، لیکن اس پر ان کی حفاظت واجب ہے، ادا واجب نہیں، یعنی معلوم ہوا یہ جو پیسے ہیں اس پر بطورِ امانت کے ہیں، اور امانت کی کیا کی جاتی ہے؟ حفاظت کی جاتی ہے، یہ اس پر دین نہیں، اس پر الگ سے واجب نہیں ہے بھئی۔
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
فإن دخلت فی المعاوضات المحضۃ کانت بمعنی الباء، پس اگر یہ علی داخل ہو جائے معاوضاتِ محضہ کے اندر، تو یہ کانت بمعنی الباء، تو یہ علی با کے معنی میں ہو گا۔ بھئی با بھی آپ نے پڑھی معاوضات پر داخل ہوا کرتی ہے بھئی۔
بعت ہذا الکتاب بألف روبیۃ، دیکھا؟ با کس پر داخل ہوئی؟ عوض پر داخل ہوئی ہے۔
تو جب علی داخل ہو جائے معاوضاتِ محضہ پر، تو اس صورت میں یہ علی بھی کس معنی میں ہو گا؟ با کے معنی میں ہو گا، اور معلوم ہوا جس پر یہ داخل ہوا وہ عوض ہے بھئی، وہ کیا ہے؟ عوض ہے۔
معاوضاتِ محضہ کہا، معاوضاتِ محضہ کسے کہتے ہیں؟ آگے آپ کو بتلائیں گے، کہتے ہیں: معاوضاتِ محضہ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن میں عوض اصلی ہوتا ہے اور ان سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔
وہ معاملات جن کے اندر عوض کیا ہوتا ہے؟ اصلی ہوتا ہے اور ان سے جدا نہیں ہوتا، وہ عوض کے بغیر ہو ہی نہیں سکتیں بھئی، مثلاً جیسے بیع ہے، بیع میں بھی کیا ہوتا ہے؟ دونوں طرف سے عوض ہوتا ہے بھئی، اسی طرح اجارہ ہے، اجارے کے اندر آپ ایک چیز کرائے پر دیتے ہیں تو اس کا عوض لیتے ہیں بھئی، اس میں اجارہ بغیر عوض کے نہیں ہے بھئی، اسی طرح نکاح ہے بھئی، نکاح کے اندر جب بھی نکاح کریں گے مہر ضروری ہے بھئی، اگر ذکر نہ کریں تب بھی خود بخود مہر آ جائے گا بھئی۔
تو معاوضاتِ محضہ سے کیا مراد ہیں؟ وہ معاملات جن کے اندر عوض اصلی ہوتا ہے اور ان سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: فإن دخلت فی المعاوضات المحضۃ کانت بمعنی الباء، پس اگر یہ علی داخل ہو جائے معاوضاتِ محضہ کے اندر، کانت بمعنی الباء، تو یہ با کے معنی میں ہو گا، بأن یقول، بایں طور کہ یوں کہتا ہے مثلاً، مثال کے طور پر کوئی شخص بعت ہذا، بیع کی بات کی بھئی، تو اس میں بھی دیکھو عوض آئے گا، أو أجرت ہذا، یا یہی چیز میں نے کرائے پر دی، تو اجارے کے اندر بھی کیا آئے گا؟ عوض آئے گا، أو نکحتہا، یا میں نے اس سے کیا کیا؟ نکاح، علی ألف درہم، اس کا تعلق تینوں سے ہے بھئی۔
تو با، اول دو کے اندر اس کو حذف کر دیا، کیونکہ آخر والا آنے والا اس پر دلالت کر رہا تھا، گویا پہلی مثال یوں ہوئی: بعت ہذا علی ألف درہم، تو یہ کس معنی میں ہوا؟ علی آیا اور کس کے اندر آیا؟ معاوضاتِ محضہ کے اندر، تو یہ کس کے معنی میں ہے؟ با کے معنی میں، گویا اس نے یوں کہا: بعت ہذا بألف درہم، دوسری مثال: أجرت ہذا علی ألف درہم، یہاں علی عوض پر داخل ہوئی بھئی، تو لہٰذا کس معنی میں ہے علی؟ با کے معنی میں، یعنی أجرت ہذا بألف درہم، تیسرے میں: نکحتہا علی ألف درہم، میں نے اس عورت سے نکاح کیا ایک ہزار درہم پر، تو یہ علی کس معنی میں ہو گا؟ عوض پر داخل ہوئی ہے با کے معنی میں ہے، تو یہ الفِ درہم معلوم ہوا مہر ہے بھئی۔
فکان بمعنی بألف درہم، تو اس صورت میں یہ کس معنی میں ہو گا؟ بألف درہم کے معنی میں ہو گا، مجازاً، مجازی طریقے پر، لأن الباء للإلصاق، اس لیے کیونکہ با کس لیے آتی ہے؟ الصاق کے لیے آتی ہے، وعلی للإلزام، اور علی کس لیے ہے؟ الزام کے لیے ہے، جیسے ابھی انہوں نے اوپر بتایا، فالإلصاق يناسب اللزوم، پس الصاق جو ہے لزوم کے مناسب ہے۔
یہ بھئی حقیقی اور مجازی معنی کے درمیان مناسبت ذکر کر رہے ہیں، علی کا حقیقی معنی تو کیا؟ الزام، اور مجازاً یہاں کس معنی میں ہے؟ با، اور با کس لیے آتی ہے؟ الصاق، تو معلوم ہوا یہ الصاق کے معنی میں ہیں یہاں، کس معنی میں؟ الصاق کے معنی میں، اور دونوں میں مناسبت بھی ہے بھئی۔
الصاق کا کیا معنی؟ ایک چیز کا دوسری کے ساتھ مل جانا، اور لزوم جہاں ہو گا وہاں بھی کیا ایک چیز دوسری کے ساتھ لازم ہو گئی، اس کے ساتھ جڑ گئی بھئی، لازم ہو گئی۔
تو دونوں میں مناسبت بھی ہے۔
تو یہی بات کر رہے ہیں: فالإلصاق يناسب اللزوم، پس الصاق جو ہے وہ لزوم کے مناسب ہے، والمراد من المعاوضات، میں نے آپ کو بتلایا معاوضات سے کیا مراد ہیں جن میں عوض کیا ہوتا ہے؟ اصلی ہوتا ہے اور ان کا ان سے کبھی جدا نہیں، وہی معنی بیان کر رہے ہیں: والمراد من المعاوضات ما یکون العوض فیہ أصلیاً، اور معاوضات سے مراد ما وہ وہ عقد ہیں، یکون العوض فیہ أصلیاً، جن کے اندر عوض اصلی ہوتا ہے، ولا ینفک قط عن العوض، اور وہ کبھی بھی جدا نہیں ہوتے عوض سے، فیحمل علی أن المسمی عوضہ، پس اس کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ یہ جو مسمیٰ ہے جو ذکر کیا گیا یعنی جس پر کیا داخل ہوا ہے؟ علی داخل ہوا، عوضہ، یہ اس کا عوض ہے۔
وکذا إذا استعملت فی الطلاق عندہما، اور اسی طرح جب علی کو استعمال کیا جائے طلاق کے اندر عندہما، صاحبین کے نزدیک بھئی۔
صاحبین کے نزدیک اگر طلاق کے مسئلے کے اندر بھی طلاق کے ساتھ علی کا لفظ آ جائے اور ساتھ عوض بھی ذکر ہے، تو اس صورت میں بھی علی بمعنی با کے ہو گا، جیسے معاوضات کے اندر علی کس معنی میں ہوتا تھا؟ با کے معنی میں، تو طلاق کے اندر بھی علی کس معنی میں ہو گا؟ با کے معنی میں ہو گا۔
با کے معنی میں، تو معلوم ہوا مثلاً کوئی عورت ہے، وہ اپنے خاوند سے کہتی ہے: طلقنی ثلاثاً علی ألف درہم، کیا لفظ لے کر آئی؟ علی، اور علی کس پر داخل کیا ہے؟ عوض پر، لہٰذا یہ علی کس معنی میں ہے؟ با کے معنی میں، اور یہ عوض ہے بھئی، عوض، صاحبین کے نزدیک، تو یہ علی بھی با کے معنی میں ہے اور اور یہ عوض پر داخل ہو رہی ہے۔
جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب آگے آئے گا، وہ فرماتے ہیں کہ یہ علی جو ہے، یہ شرط کے معنی میں ہے۔
شرط کے معنی میں، تو ترجمہ کیا ہو گا صاحبین کے نزدیک؟ طلقنی ثلاثاً علی ألف درہم، یہ کس معنی میں ہوا؟ طلقنی ثلاثاً بألف درہم، تو مجھے تین طلاقیں دے دے ایک ہزار درہم کے بدلے میں، بدلے میں۔
تو معلوم ہوا یہ جو ایک ہزار درہم ذکر کر رہی ہے، یہ عوض ہے بھئی، عوض ہے، اور طلاق کیا ہے؟ معوض ہے بھئی۔
اور عوض کے اندر تقسیم آتی ہے معوض میں تقسیم سے۔
جی، چلیں یہ آگے میں بیان کرتا ہوں، یہ تو صاحبین کا مذہب ہوا کہ طلقنی ثلاثاً علی ألف درہم کس معنی میں ہے؟ تو مجھے طلاق دے دے ایک ہزار درہم کے بدلے میں، امام صاحب فرماتے ہیں: یہ علی شرط کے لیے ہے، تو معنی ہوا: طلقنی ثلاثاً، تو مجھے تین طلاقیں دے دے، علی ألف درہم، ایک ہزار درہم کے شرط پر، تو یہ آپس میں شرط اور مشروط ہوئے، جبکہ صاحبین کے نزدیک عوض اور معوض ہوئے، اور اس پر پھر ثمرۂ اختلاف یہ نکلے گا کہ صاحبین کے نزدیک اگر وہ خاوند ایک طلاق دے دیتا ہے، تو کل کتنی طلاقیں ہیں؟ تین، اس نے تین طلاقوں پر ہزار کہے تھے، اب ایک طلاق اس نے دی ہے، تو ایک ہزار درہم کا تیسرا حصہ اب خاوند کو دینا پڑے گا اور طلاقِ بائن ہو گی۔
کون سی طلاق ہو گی؟ کیونکہ طلاق عوض طلاق کے مقابلے میں جب عوض آ جائے، تو کون سی طلاق آیا کرتی ہے؟ طلاقِ بائن آیا کرتی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ طلاقِ بائن آیا کرتی ہے بھئی۔
تو لہٰذا ایک ہزار کا تیسرا حصہ بیوی پر واجب ہو جائے گا جب خاوند ایک طلاق دے، اور طلاق بھی کون سی ہو گی؟ بائن، کیونکہ عوض اور معوض میں معوض کے اندر تقسیم آئے تو عوض کے اندر بھی تقسیم آتی ہے، مثلاً بھئی، میرے سامنے تین کتابیں ہیں، میں نے آپ سے کہا: یہ تین کتابیں بھئی تین سو روپے کی ہیں، تو اگر تین کتابیں کتنے کی؟ تین سو، تو آپ اگر ایک لیں گے تو پھر کتنے دیں گے؟ ایک سو دیں گے، لازمی بات ہے، کیونکہ معوض میں تقسیم آئے گی تو عوض کے اندر بھی کیا آئے گی؟ تقسیم، لہٰذا خاوند نے ایک طلاق دی ہے تو عوض میں بھی کیا آئے گی؟ تقسیم آئے گی، ایک ہزار کا تیسرا حصہ خاوند بیوی پر ضروری ہو جائے گا، وہ دے گی بھئی، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ شرط اور مشروط کے معنی میں ہے، اور شرط کے اندر تقسیم سے مشروط میں تقسیم نہیں آتی بھئی۔
شرط کے اندر تقسیم سے مشروط میں تقسیم نہیں آتی، کس طرح؟ بھئی دیکھیے، آپ بھی جانتے ہیں یہ بات، آپ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ بھئی اگر آپ 20 روٹیاں کھا لیں، یہ جو سامنے 20 روٹیاں پڑی ہیں، تو میں آپ کو دو ہزار روپے انعام دوں گا، دو ہزار انعام ہے کس شرط پر بھئی؟ 20 روٹیاں کھانے پر، اس نے دو روٹیاں کھائیں اور کہا: لاؤ بھئی دو سو روپے دے دو، آپ دیں گے؟ نہیں، نہیں!
تو دیکھو شرط کے اندر تقسیم سے مشروط کے اندر تقسیم نہیں آتی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا امام صاحب کے نزدیک یہاں تین طلاقیں دے گا تو تین ایک ہزار درہم تو واجب ہو جائیں گے، لیکن اگر ایک طلاق دی تو پھر ایک ہزار کا تیسرا حصہ عورت پر واجب نہیں ہو گا، اور جب واجب نہیں ہے، تو طلاق بھی کون سی ہو گی؟ طلاقِ رجعی ہو گی، کیونکہ عوض نہیں آیا طلاق کے مقابلے میں، تو اس نے طلاق دی ہے، ہاں بائن کا لفظ کہہ دے وہ تو الگ بات ہے، ہماری اس سے بحث نہیں، صرف خاوند اسے کیا کہتا ہے: میں نے تجھے طلاق دے دی، تو صاحبین کے نزدیک چونکہ عوض آ رہا ہے تو طلاق کون سی ہو جائے گی؟ بائن ہو گی، اور امام صاحب کے نزدیک عوض نہیں آ رہا تو کون سی طلاق ہو گی؟ رجعی، فرق سمجھ میں آ گیا دونوں مسائل میں؟
وکذا إذا استعمالت في الطلاق عندهما، واسی طرح جب الاء استعمال ہو طلاق کے میں عندهما، صاحبین کے نزدیک بأن تقول المرأة لزوجها بعي ٹور کے عورت کہتی ہے اپنے خاوند سے طلقتني ثلاثا علی ألف درهم تو مجھے طلاق دے دے علی ألف درهم۔
یک ہزار درہم پر، فاحند هما هو بمعنى بألف درهم તો صاحبین کے نزدیک یہ کس معنی میں ہوا؟ بمعنى ألف بألف درهم के معنی میں ہوا كما کان في البیع والإجارة، جیسے کس کے اندر تھا بیع اور اجارہ میں تھا لأن طلاق إذا دخله عوض صار في معنى المعاوضات، اس لیے کیونکہ طلاق جب اس کے اندر عوض داخل ہو جائے تو وہ معاوضات کے معنی میں ہو جاتی ہے، وإن لم یکن في الأصل منها، اگرچہ اصل میں تو طلاق کیا ہے معاوضات میں سے نہیں ہے، اب بھئی طلاق تو اب طلاق کو عموماً معاوضہ لیا جاتا ہے؟ نہیں، اصل میں تو یہ معاوضات میں سے نہیں ہے لیکن جب اس کے ساتھ آلاء کے ساتھ عوض آئے تو پھر یہ معاوضات میں سے ہو جائے گی۔
فإن طلقها الزوج واحدة، پس اگر طلاق دے دی اس عورت کو اس کے خاوند نے ایک طلاق، یجب ثلث ألف، ایک ہزار کا تیسرا حصہ واجب ہو جائے گا لأن اجزاء العوض تنقسم على اجزاء المعوض، اس لیے کیونکہ عوض کے جو اجزاء ہیں وہ تقسیم ہوتے ہیں معوض کے اجزاء پر، وعند أبي حنيفة رحمه الله تعالى رحمة واسعة للشرط، اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ علی شرط کے لیے ہوگا في هذا المثال، اس مثال کے اندر لأن طلاق لم یکن من المعاوضات في الأصل، اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے اصل میں معاوضات میں سے نہیں ہے، وإنما العوض فيه عارض، اور عوض جو ہے اس کے اندر وہ عارضی ہے، وہ عارض ہے، فلم يلحق بها، فلم يلحق الطلاق بها أي بالمعاوضات، تو لہذا طلاق معاوضات کے ساتھ ملحق نہیں ہوگی۔
فكأنها قالت، گویا بیوی نے یوں کہا علی شرط ألف درهم، ایک ہزار، ایک ہزار درہم کی شرط پر، وكلمة علی تستعمل بمعنى الشرط، اور کلمہ علی شرط کے معنی میں استعمال بھی ہوتا ہے، قال الله تعالى اللہ تعالی فرماتے ہیں قرآن میں، يَبَايِعْنَكَ عَلَى أَن لاَّ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئاً، یہ عورتیں بیعت کرتی ہیں آپ کی اس شرط پر کہ وہ شریک نہیں ٹھہرائیں گی اللہ کے ساتھ کسی چیز کو۔ دیکھو یہاں علی کس معنی میں ہے؟ شرط کے معنی میں۔
جزا لازم للشرط، اس لیے کیونکہ جزا جو ہے وہ لازم ہے شرط کے لیے، جزا شرط کے ساتھ لازم ہے بھئی، یہ مناسبت ذکر کر رہے ہیں حقیقی معنی کی مجازی معنی کے ساتھ، بھئی حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی کی طرف جب جاتے ہیں تو دونوں میں مناسبت ضروری ہے، پیچھے صاحبین کے پی- پیچھے علی کبھی کس معنی میں آتا تھا؟ با کے معنی میں وہاں بھی مناسبت ذکر ہوئی تھی، تو یہاں امام صاحب جو علی کے شرط کے معنی میں لیتے ہیں تو مناسبت ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی دیکھیے علی بھی آتا ہے الزام کے لیے ایک چیز کو دوسری کے ساتھ لازم، جب ایک چیز کو دوسری کے ساتھ لازم کریں گے تو اس کے ساتھ لازم ہو گئی۔ اسی طرح شرط کے ساتھ بھی جزا لازم ہے، شرط کے ساتھ بھی جزا لازم ہے تو دونوں میں دیکھو لزوم والا معنی آ گیا۔
فيكون أقرب إلى معنى الحقيقة من معنى البائع، تو لہذا یہ جو ہے شرط یہ زیادہ قریب ہوئی إلى معنى الحقيقة، حقیقی معنی کے، من معنى البائع، کس کے مقابلے میں؟ با کے مقابلے میں، با کے معنی کے مقابلے میں۔
بھئی با تھی الٰصاق کے لیے، اور علی ہے الزام کے لیے، تو وہاں علی ہے الزام کے لیے اور اس کو کس معنی میں لے لیا؟ الٰصاق کے معنی میں، اور یہاں علی کو الزم- علی ہے کس لیے؟ الزام کے لیے، اور یہاں بھی وہی لزوم والا ہی معنی ہے ابھی بھی کہ شر- جزا کیا ہوتی ہے شرط کے ساتھ لازم ہوتی ہے، تو یہ اس معنی کے مقابلے میں یہ معنی حقیقت کے زیادہ قریب ہوا۔
علی کا کیا معنی؟ علی کس لیے آتا ہے؟ الزام کے لیے، اور جزا بھی شرط کے ساتھ لازم ہے، تو دیکھو وہ لازم والا معنی ہے، اور ایک معنی علی کا کس معنی میں لے لیا تھا؟ الٰصاق کے، تو کون سا زیادہ قریب ہوا؟ یہ شرط والا معنی زیادہ قریب ہوا۔
فإن طلقها واحدة، پس اگر خاوند نے طلاق دے دی اسے ایک ہی، لا یجب شيء، تو پھر کوئی چیز اس عورت پر واجب نہیں ہوگی لأن اجزاء الشرط لا تنقسم على اجزاء المشروط، اس لیے کیونکہ شرط کے جو اجزاء ہیں وہ تقسیم نہیں ہوتے مشروط کے اجزاء پر، ھاکذا قالوا، اسی طرح علماء نے فرمایا ہے۔
ومن للتبعیض، اور حروف معانی میں سے من جو ہے للتبعیض وہ تبعیض کے لیے آتا ہے، یعنی تبعیض کا فائدہ دیتا ہے بعض کا، بعضییت کا فائدہ، هذا أصل وضعها، یہ اس کی اصل وضع ہے، والبواقي من المعاني مجاز فيها، اور اس کے جو باقی معانی ہیں وہ اس میں مجاز ہیں بھئی، من کے بعض علماء بھئی! بعض علماء کہتے ہیں کہ من جو ہے ابتدائے غایت کے لیے آتا ہے، سرت من البیت الی المسجد، میں کمرے سے کہاں تک گیا؟ مسجد تک، تو یہ چلنے کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ بیت سے، کمرے سے اور یہ کس نے بتلایا؟ من نے تو وہ کہتے ہیں من ابتدائے غایت کے لیے آتا ہے، جبکہ علماء اصول فرماتے ہیں کہ من جو ہے اس کا حقیقی معنی ابتدائے غایت نہیں ہے بلکہ تبعیض ہے بھئی، اسی طرح اور بھی بعض اقوال ہیں اس کے اندر، تو کہتے ہیں باقی معنی اس کے مجاز ہیں، اصل وضع میں یہ کس لیے ہے؟ تبعیض کے لیے ہے، فإذا قال، پس جب کہا کسی شخص نے من شئت من عبیدی عتقه فأعتقه، جس کو بھی تو چاہے میرے غلاموں میں سے، جس کو بھی تو چاہتا ہے میرے غلاموں میں سے کیا چاہتا ہے؟ عتقه اس کی آزادی کو، میرے غلاموں میں سے جس کی آزادی کو آپ چاہتے ہو فأعتقه تو اسے کیا کر دو؟ آزاد کر دو، له أن يعتقهم إلا واحدا منهم عند أبي حنيفة رحمه الله، تو اس مخاطب کے لیے جائز ہے کہ وہ آزاد کر دے ان سب کو سوائے ایک کے ان میں سے، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، امام صاحب فرماتے ہیں بھئی! ایک غلام کو چھوڑ کر باقی تمام غلاموں کو وہ مخاطب آزاد کر سکتا ہے۔
بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ آگے ذکر کریں گے کہ بھئی دیکھیے کہنے والے نے کیا کہا تھا؟ من شئت من عبیدی، من لے کر آیا اور من لے کر آیا، من ہے عموم وہ عموم کا فائدہ دے گا اور من تبعیض کا فائدہ دے گا، تو لہذا ضروری ہوا کہ ایسی صورت اختیار کی جائے کہ عموم بھی آ جائے من کا، اور من کی تبعیض بھی آ جائے، دونوں پر عمل ہو جائے تو لہذا ہم یوں کہیں گے کہ من کی تبعیض پر کس طرح عمل ہوگا؟ ایک غلام کو چھوڑ دیں گے، یہ نہیں آئے، جب ایک رہ گیا تو سارے آزاد کیے یا بعض کیے بھئی؟ بعض، ایک کو چھوڑ کر بعض آزاد ہوئے، تو دیکھو من کی تبعیض پر عمل ہوا اور من کے عموم پر بھی عمل ہو گیا کہ اس ایک کے علاوہ باقی سارے وہ کیا کر سکتا ہے؟ آزاد، تو دیکھو دونوں پر عمل ہو گیا۔
وذلك لأن كلمة من للعموم، اور یہ اس وجہ سے کہ کلمہ من جو ہے وہ عموم کے لیے ہے، وكلمة من للتبعیض، اور کلمہ من جو ہے وہ تبعیض کے لیے ہے، فيجب أن يحمل على بعض عام، پس واجب ہوا کہ اس کو محمول کیا جائے بعض عام پر، کس پر محمول کیا جائے؟ بعض عام، یہ بعض کس کا ترجمہ؟ من کا اور یہ عام کس کا ترجمہ؟ من کا تو دیکھا دونوں پر تاکہ عمل ہو جائے۔ پس واجب ہوا کہ اس کو محمول کیا جائے بعض عام پر ليستقيم العمل بهما، تاکہ درست ہو جائے عمل ان دونوں پر، فللمخاطب أن يعتق من شاء من أي بعض عام، پس مخاطب کے لیے جائز ہوگا کہ وہ آزاد کر دے من شاء جس کو بھی چاہے من أي بعض عام، بعضے جون سے بھی بعض عام میں سے جس کو بھی چاہے وہ آزاد کر دے، فیبقى الواحد منهم، تو ان میں سے ایک باقی رہے گا۔
وعندهما من للبيان، اور صاحبین کے نزدیک یہ من بیان کے لیے بنائیں گے، یہ تبعیض کے لیے نہیں بلکہ بیان کے لیے تو یہ من بیان کے لیے ہوگا، فل دیکھیے تو صاحبین کے نزدیک بھئی من بیان کے لیے ہوگا، امام صاحب کے نزدیک کیا ترجمہ ہوگا؟ من شئت من عبیدی عتقه، جس کو بھی تو آزاد کرنا چاہے میرے غلاموں میں سے، فأعتقه پس تو اسے کیا کر دے، میرے غلاموں میں سے جس کو چاہے، اور صاحبین کے نزدیک ترجمہ کیا ہوگا؟ اے من کو بیان کے لیے بنائیں گے، من شئت من عبیدی عتقه، جس کی آزادی کو جس کسی کی آزادی کو بھی تو چاہتا ہے، یعنی کہ من کا ترجمہ یعنی سے کرتے ہیں، یعنی کہ میرے غلام۔
جس کی تو آزادی کو کیا ترجمہ کریں بھئی؟ جس کی آزادی کو میرے غلاموں میں سے تو چاہے۔ میں میں سے نہیں لانا۔ تو صاحبین کے نزدیک پھر ترجمہ یوں ہوگا بھئی دیکھیے من شئت من عبیدی عتقه، من شئت ذرا من عبیدی کو ختم کریں، من شئت عتقه جس کی تو آزادی کو چاہے، جس کی تو اور من بیان آیا، من عبیدی یعنی کہ میرا میرے غلام۔
تو دیکھیے یہ من کا بیان آیا، جس کو تو آزاد کرنا چاہے۔ یہ من کیا آیا؟ من بیان ہے، یعنی کہ میرے غلام، تو اس کو اسی کی جگہ پر لے جائیں، من کا ترجمہ یعنی سے کرتے ہیں، لیکن یہاں مناسب نہیں بن رہا تو اس کو اسی کی جگہ پر لے جائیں۔
میرے جس غلام میرے جن غلاموں کو تم آزاد کرنا چاہو فأعتقه اسے کیا کر دو؟ آزاد کر دو، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی مفصل تقریر پہلے گزر چکی، یہ مختصراً میں نے بیان کر دی بھئی۔
تو صاحبین فرماتے ہیں کہ من للبيان، یہ من بیان کے لیے ہے، فله أن يعتق كل منهم، تو اس کے لیے جائز ہوگا کہ وہ آزاد کر دے کل منھم ان میں سے سب کو، كما في قوله، جیسے کہ کسی شخص کے اس قول کے اندر تھا من شاء من عبیدی عتقه فأعتقه جو کوئی چاہتا ہے میرے غلاموں میں سے آزادی کو فأعتقه تو میں اسے آزاد کرتا ہوں، میرے غلاموں میں سے جو کوئی آزادی کو چاہتا ہے فأعتقه میں اسے کیا کرتا ہوں؟ آزاد کرتا ہوں، فان شاء الكل عتقوا جميعا، اگر ان سب نے چاہا، سب غلاموں نے چاہا عتقوا جميعا، تو وہ سب کے سب کیا ہو جائیں گے؟ آزاد ہو جائیں گے بھئی، سب آزاد ہو جائیں گے۔
بھئی یہ بحث پہلے بھی گزر چکی اچھا، یہ بحث پیچھے گزر چکی میری کتاب میں تو ہے صفحہ 75 بھئی، عام کی بحث بھئی۔
من اور ما کی بحث جہاں آئی تھی وہاں پر، مل گئی بھئی جگہ؟ بتاؤ صفحہ بتاؤ دوسروں کو اگر جس کو مل گئی ہے۔
84 صفحہ ہوگا آپ کی کتاب میں بھئی۔
فإذا قال من شاء من عبيد العتق فهو حر فشاءوا عتقوا، متن مل گیا بھئی؟ جی مفتی۔ بھئی دیکھیے یہاں پر یہی بحث ہوئی تھی کہ کسی شخص نے اگر یہ کہا کہ من شاء من عبيد العتق جس نے بھی چاہا میرے غلاموں میں سے آزادی کو فهو حر تو وہ آزاد ہے، فشاؤوا তো ان سب نے چاہا عتقوا وہ سب کیا ہو جائیں گے؟ آزاد۔
وجہ اس کی انہوں نے ذکر کی تھی کہ یہاں پر دیکھیے من ہے عموم کے لیے، اور اس کے آگے شاء مشیت کی صفت آئی اور اس مشیت کا اسناد بھی کس کی طرف ہے؟ من کی طرف، تو من کا عموم پکا ہو گیا، پختہ ہو گیا۔
من کے اندر بھی عموم تھا آگے اس کی صفت جو شاء آئی اس میں بھی کیا تھا؟ اس میں بھی عموم تھا تو اس صفت کی وجہ سے من کا عموم کیا ہوا؟ پکا ہو گیا، جب من کا عموم پکا ہو گیا تو اب ہم من کو تبعیض پر محمول نہیں کریں گے بلکہ بیان پر محمول کریں گے کیونکہ عموم پکا ہو چکا بھئی، اب من کو تبعیض پر محمول نہیں کیا جائے گا بھئی، کس پر محمول کریں گے؟ بیان پر، لہذا یہ من بیان کے لیے ہے تبعیض کے لیے نہیں، تو تبعیض والا معنی یہاں ہے ہی نہیں، جب تبعیض والا معنی ہی نہیں ہے تو سب غلام چاہیں تو سب کیا ہو جائیں گے؟ آزاد ہو جائیں گے۔
اس کے بجاے اگر وہ یوں کہتا، مخاطب کی طرف نسبت کرتا من شئت من عبيدي، جس کے بارے میں تو چاہے میرے غلاموں میں سے آزادی کو تو وہ کیا ہے؟ آزاد ہے یا تو اسے آزاد کر دے، تو اب دیکھیے یہاں پر من تو عموم کے لیے ہے لیکن آگے مشیت صفت جو لائی گئی اس کا اسناد من کی طرف نہیں ہے بلکہ مخاطب کی طرف ہے، تو من کے میں تھا عموم، آگے صفت عامہ نہیں آئی بھئی تو اس کا عموم پکا نہ ہوا، جب عموم اس کے عموم میں تاکید نہ آئی تو آگے من کو اسی طرح تبعیض پر ہم محمول کریں گے۔ پچھلے مثال میں مشیت کا اسناد کس کی طرف تھا؟ اسی من کی طرف یعنی غلاموں ہی کی طرف تھا، تو لہذا ان میں عموم تھا تو یہاں عموم پکا ہو گیا تھا لہذا ہم نے من کو کس پر محمول کیا تھا؟ بیان پر، لیکن یہاں من شئت من عبيدي جب کہا تو یہاں مشیت کی اسناد کس کی طرف کر دیا؟ مخاطب کی طرف کر دیا، تو مشیت میں عموم نہ آیا، مشیت صرف کس کی مراد ہے؟ مخاطب کی جب کہ پہلے مشیت کس کی مراد تھی؟ جو بھی چاہے ان غلاموں میں سے تو وہ مشیت عام تھی، تو من میں بھی عموم تھا آگے مشیت صفت بھی عام آ گئی تو من کا عموم کیا ہو گیا پکا، لہذا من کو اب ہم نے تبعیض پر محمول نہیں کیا تھا بلکہ کس پر محمول کیا تھا؟ بیان پر، جبکہ جب کہ اسناد مخاطب کی طرف کیا من شئت اب من کے اندر تو عموم ہے لیکن شیتا کے آگے جو مشیت ہے صفت جو اس کی اس کے اندر عموم نہیں، لہذا من کا عموم پکا نہ ہوا، تو اب من کو کس پر محمول کریں گے؟ تبعیض پر ہی محمول کریں گے اور دونوں پر عمل کیا جائے گا۔
من کے عموم پر بھی عمل کیا جائے گا اور من کی تبعیض پر بھی۔
والفرق لأبي حنيفة مثل ما مر في أي عبيد ضربك، اور امام صاحب کے نزدیک فرق وہی ہے جو گزر گیا اس مثال کے اندر ای عبید ضربك۔
اچھا انہوں نے اي عبيد کو ذکر کر دیا۔
یہ بھی وہیں پر وہاں پر بھی بالکل یہی بحث تھی اور ایک ڈیڑھ صفحے بعد یہ اَيُّ عَبِيْدِيْ کی بحث آئی تھی۔
اَيُّ عَبِيْدِيْ ضَرَبَكَ "میرے جس غلام نے بھی تمہاری پٹائی کی فَهُوَ حُرٌّ تو وہ آزاد ہے۔"
لِأَنَّ الْمَشِيْئَةَ صِفَةٌ عَامَّةٌ فِيْهِ اسی کیونکہ اس کے اندر مشیت کیا ہے؟ صفت عامہ ہے، نُسِبَتْ اِلٰى كَلِمَةِ "مَنْ" جس کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ کلمہ من کی طرف، فَيَعُمُّ پس یہ کیا ہو جائے گا؟ یہ کلام عام ہوگا بِعُمُوْمِ الصِّفَةِ کس کی وجہ سے؟ عموم صفت کی وجہ سے، یعنی من من عام ہوگا فَيَعُمُّ پس من عام ہو جائے گا بِعُمُوْمِ الصِّفَةِ عموم صفت کی وجہ سے، بِخِلَافِ "مَنْ شِئْتَ" بخلاف "من شئت" کے، فَاِنَّهٗ نُسِبَتْ فِيْهِ الْمَشِيْئَةُ اِلَى الْمُخَاطَبِ دُوْنَ "مَنْ" اس لیے کیونکہ اس کے اندر مشیت کی نسبت جو ہے مخاطب کی طرف ہے دُونَ مَنْ نہ کہ من کی طرف، فَلَا يَعُمُّ لہٰذا من عام نہیں ہوگا، وَلِأَنَّ الْعَمَلَ بِالتَّبْعِيْضِ اَيْضًا مُمْكِنٌ ثَمَّ اور اس وجہ سے کہ عمل تبعیض پر بھی ممکن ہے ثَمَّ وہاں پر۔
"مَنْ شَاءَ مِنْ عَبِيْدِيْ عِتْقَهٗ فَاعْتِقُوْهُ" توجہ ہے سبق کی طرف؟ اس کے اندر بھی تبعیض پر عمل ممکن ہے۔
بھئی ہم نے کہا سب غلاموں نے چاہا تو سب آزاد ہو جائیں گے، یہ کہتے ہیں یہاں پر بھی تبعیض پر عمل ممکن ہے، بھئی کس طرح؟ یہاں تو تبعیض نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں بھئی: مثلاً اس کے پانچ غلام ہیں، ہر ایک نے چاہا تو سب آزاد ہو جائیں گے، تو عموم پر بھی عمل ہوا اور تبعیض پر بھی عمل، بھئی عموم پر تو عمل ہوا تبعیض پر کیسے عمل ہوا؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے! ایک غلام نے چاہا آزادی کو، تو یہ ایک باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا ہے؟ بعض ہے۔ تو یہ آزاد۔ دوسرے نے چاہا یہ بھی باقی سب کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا ہے؟ بعض۔ تو ہر غلام باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض ہے، تو لہٰذا یہاں تبعیض پر بھی عمل ہو گیا اور عموم پر بھی عمل ہوا کہ سارے غلام آزاد ہو جائیں گے بھئی، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟
یہ معنی ہے لِأَنَّ الْعَمَلَ بِالتَّبْعِيْضِ اَيْضًا مُمْكِنٌ ثَمَّ اس لیے کیونکہ تبعیض پر عمل ممکن ہے وہاں پر، فَاِنَّ كُلَّ عَبْدٍ بَعْضٌ مَعَ قَطْعِ النَّظَرِ عَنْ غَيْرِهٖ اس لیے کیونکہ ہر غلام بعض ہے قطع نظر کرتے ہوئے غیروں سے، باقی غلاموں سے، بِخِلَافِ "مَنْ شِئْتَ" بخلاف "من شئت" کے، فَاِنَّهٗ لَا يُمْكِنُ التَّبْعِيْضُ فِيْهِ اِلَّا بِاِخْرَاجِ وَاحِدٍ مِّنْهُمْ کیونکہ وہاں جو ہے وہ ممکن نہیں ہے تبعیض پر عمل کرنا مگر یہ کہ ان میں سے ایک کو نکال دیا جائے، ایک کو کیا کیا جائے؟ وہاں تبعیض پر عمل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہاں چاہنے والے غلام ہیں اور ہر جس غلام نے بھی چاہا وہ باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بعض ہے، جبکہ وہاں چاہنے والا کون ہے؟ مخاطب ہے، تو مخاطب جب چاہے گا سب کو چاہے گا تو عموم آ جائے گا مولانا، تبعیض پر عمل نہ ہو سکے گا بھئی، چاہنے والا ایک ہی ہے بھئی۔ وہاں تو چاہنے والا ہر ایک غلام الگ الگ تھا اور ہر غلام باقیوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا ہے؟ بعض، اور یہاں چاہنے والا ایک ہی ہے تو لہٰذا وہ ایک اگر سب کو چاہتا ہے پھر تو عموم ہی عموم آ جائے گا تبعیض پر تو عمل ممکن نہیں رہے گا، تو لہٰذا یہاں تبعیض پر عمل کے لیے ضروری ہوا کہ کیا کہا جائے؟ ایک غلام کو چھوڑ کر باقی غلام کیا ہو جائیں گے؟ آزاد ہو جائیں گے۔ صورت بھی سمجھ میں آگئی کہ نہیں آئی بھئی؟
وَاِلٰى لِلِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ اور "إِلَى" جو ہے وہ انتہائے غایت کے لیے آتا ہے، إِلَى بھئی یاد رکھیے إِلَى حروف معانی میں سے کسی مسافت کی انتہا بیان کرنے کے لیے آتا ہے، سِرْتُ مِنَ الدَّارِ اِلَى الْمَسْجِدِ، میں گھر سے مسجد تک گیا، تو یہ آپ کے چلنے کی انتہا کہاں پر ہوئی؟ مسجد پر، اور یہ فائدہ کس نے دیا؟ یہ إِلَى نے دیا بھئی۔
تو یہ معنی ہے وَاِلٰى لِلِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ اور إِلَى جو ہے انتہائے غایت کے لیے آتا ہے، اَيْ اِنْتِهَاءِ الْمُسَافَةِ بھئی بتلایا یہ غایت کا لفظ جو متن میں آیا ہے یہ مسافت کے معنی میں ہے بھئی، مسافت کے معنی میں۔
بھئی وجہ یہ کہ غایت کسے کہتے ہیں؟ انتہا کو، اور متن میں کیا آیا؟ لِلِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ، تو غایت کا معنی بھی انتہا، تو غایت کی جگہ ذرا اٹھا کر انتہا کا لفظ رکھیں کیا عبارت بن گئی؟ اِلٰى لِلِانْتِهَاءِ الْاِنْتِهَاءِ، إِلَى کیا ہے انتہا کی انتہا کے لیے، تو یہ تو کوئی معنی نہیں بنتا بھئی، تو جواب دے رہے ہیں شارح کہ یہاں غایت کس معنی میں ہے؟ مسافت کے معنی میں ہے، تو اِلٰى لِلِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ کا کیا معنی ہوا؟ إِلَى انتہائے مسافت کے لیے، مسافت کی انتہا کے لیے ہے۔
مسافت کا کی انتہا، یہ مسافت کا جز ہوا، ایک چیز کل ہے ایک اس کی انتہا ہے آخری کنارہ ہے، تو یہ انتہا کل کا کیا ہوئی؟ جز، اور بعض اوقات آپ جانتے ہیں جز بول کر کل مراد لیتے ہیں، کبھی کل بول کر جز مراد لیتے ہیں بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ مجازاً مجازاً کل بول کر کبھی جز مراد لیتے ہیں اور کبھی جز بول کر کل مراد لیتے ہیں، تو یہاں بھی ذکر ہے غایت کا اور غایت تو جز ہے اور مراد کل ہے یعنی مغیا، غایت بول کر کیا مراد ہے؟ مغیا، یعنی جز بول کر کل مراد ہے، یہاں متن میں جو غایت کا لفظ آیا اس سے مسافت مراد ہے اور انتہا اس کا ایک جز ہے تو جز بول کر کیا مراد ہوا؟ کل مراد ہوا۔
سمجھ میں آئی بات کہ نہیں؟
وَاِلٰى لِلِانْتِهَاءِ الْغَايَةِ اَيْ لِلِانْتِهَاءِ الْمُسَافَةِ، إِلَى جو ہے وہ انتہائے مسافت کے لیے ہے، اُطْلِقَ عَلَيْهَا الْغَايَةُ اِطْلَاقًا لِّلْجُزْءِ عَلَى الْكُلِّ اس مسافت پر اطلاق کیا گیا غایت کا اِطْلَاقًا لِّلْجُزْءِ عَلَى الْكُلِّ جز کا کل پر اطلاق کرتے ہوئے، عَلٰى مَا قِيْلَ بناء پر اس کے جو کہا گیا ہے، ثُمَّ بَيَّنَ قَاعِدَةً پھر مصنف نے وہ ضابطہ بیان کیا كَاَنَّهٗ كَاَنَّهٗ اَيُّ مَوْضِعٍ تَدْخُلُ الْغَايَةُ فِيْهِ وَاَيُّ مَوْضِعٍ لَّا تَدْخُلُ کہ کس مقام پر غایت جو ہے وہ مغیا میں داخل ہوگا اور کس مقام پر غایت مغیا میں داخل نہیں ہوگا۔ بھئی دیکھیے! إِلَى آتا ہے غایت کے لیے یعنی إِلَى کے ما بعد غایت ذکر ہوگی اور إِلَى سے ما قبل مغیا ذکر ہوگا، اب کس مقام پر غایت مغیا کے حکم میں داخل ہوگا اور کس مقام پر غایت مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہوگا؟ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ، تو إِلَى کے بعد المرافق کا ذکر ہے، تو یہ آپ ما قبل کا حکم کیا ہے؟ دھونے کا، تو کیا یہ کہنیاں بھی دھونے میں داخل ہیں یا داخل نہیں؟ اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ، پھر روزوں کو پورا کرو کہاں تک؟ رات تک، تو روزہ رات کو بھی ہوگا یا نہیں؟ یہ ما قبل کا کیا حکم ہے؟ اس میں روزہ ہے، تو إِلَى کے بعد کس کا ذکر؟ لیل کا ذکر، تو یہ بھی ما بعد بھی ما قبل کے حکم میں داخل ہے، کیا رات کو بھی روزہ ہوگا یا رات تک روزہ ہوگا؟ تو یہ جو غایت ہے یہ ما قبل کے حکم میں داخل کہاں داخل ہوگی اور کہاں داخل نہیں ہوگی؟ دیکھو اِلَى الْمَرَافِقِ کے اندر ہم نے کیا کہا؟ غایت مغیا کے حکم میں داخل ہے، کہنیوں کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ دھونا پڑے گا، کہنیوں کا دھونا بھی فرض ہے اگر چھوڑ دیا تو وضو ہی نہیں ہوگا، اور ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ، یہاں پر ہم کیا کہتے ہیں کہ روزہ کہاں تک ہوگا؟ رات تک ہوگا، رات روزے میں داخل نہیں، تو دیکھو بعض جگہ ہم غایت کو مغیا میں داخل کرتے ہیں بعض جگہ داخل نہیں کرتے، اب اس کا ضابطہ چاہیے بھئی، کس جگہ پر غایت مغیا میں داخل ہوگا اور کس جگہ غایت مغیا میں داخل نہیں ہوگا، اس کے لیے اب ضابطہ بیان کرنے لگے ہیں مصنف بھئی۔
چنانچہ کہتے ہیں یہی بات شارح بیان کر رہے ہیں: ثُمَّ بَيَّنَ قَاعِدَةً کہ پھر مصنف نے ضابطہ بیان کیا كَاَنَّهٗ اَيُّ مَوْضِعٍ تَدْخُلُ الْغَايَةُ فِيْهِ کہ کس مقام پر غایت داخل ہوگا فِيْهِ کس کے اندر؟ مغیا میں، وَاَيُّ مَوْضِعٍ لَّا تَدْخُلُ اور کس مقام پر غایت مغیا میں داخل نہیں ہوگا، فَقَالَ پس فرمایا: فَاِنْ كَانَتِ الْغَايَةُ قَائِمَةً بِنَفْسِهَا یاد رکھیے بھئی! اگر غایت خود قائم ہو اپنی ذات کے اعتبار سے، غایت کیا ہو؟ خود قائم ہو اپنی ذات کے اعتبار سے یعنی اس کا الگ وجود ہے مغیا سے، خود اپنا الگ وجود ہے، تو اس صورت میں غایت مغیا میں داخل نہیں ہوگا بھئی۔
کیا صورت میں نے بیان کی؟ اگر غایت کا اپنا الگ مستقل وجود ہے تو اس صورت میں غایت مغیا میں داخل نہیں، اور اگر غایت کا اپنا مستقل وجود نہیں تو پھر اس صورت میں صدر کلام پہلے سے غایت کو شامل تھا یا شامل نہیں تھا، اگر وہ صدر کلام پہلے سے غایت کو شامل تھا تو اس صورت میں غایت مغیا کے حکم میں داخل ہوگا، اور اگر صدر کلام غایت کو شامل نہیں تھا یا اس کے شامل ہونے میں شک تھا تو اس صورت میں غایت مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہوگا۔
خلاصہ کلام ذکر کر رہا ہوں بھئی آگے ساری تفصیل خود بھی آ جائے گی بھئی، اگر غایت خود قائم ہو، غایت خود قائم ہوگا یا خود قائم نہیں ہوگا، اگر خود قائم ہے تو پھر غایت مغیا کے حکم میں داخل نہیں، اب اگر خود قائم نہیں ہے تو پھر صدر کلام غایت کو شامل ہوگا یا شامل نہیں ہوگا، اگر شامل ہے تو پھر غایت مغیا میں داخل ہوگا اس کے حکم میں، اور اگر صدر کلام جو ہے غایت کو داخل غایت اس میں داخل نہیں یا اس کے داخل ہونے میں شک ہے تو اس صورت میں پھر داخل نہیں ہوگا بھئی، غایت مغیا میں داخل نہیں ہوگا، بات سمجھ میں آئی؟ کیا ہوا خلاصہ؟ اگر غایت کا اپنا مستقل وجود ہے تو اس صورت غایت مغیا میں داخل نہیں، اور اگر پھر اگر مستقل وجود نہیں تو پھر غایت صدر کلام میں شامل ہوگا یا شامل نہیں داخل ہوگا، اگر داخل تھا تو اس صورت میں داخل رہے گا، اور اگر داخل نہیں تھا یا اس کے داخل ہونے میں شک تھا تو پھر اس صورت میں بھی داخل نہیں ہوگا بھئی، دیکھیے آگے سب کی مثالیں بھی آ رہی ہیں۔
کہتے ہیں: فَاِنْ كَانَتِ الْغَايَةُ قَائِمَةً بِنَفْسِهَا اگر غایت جو ہے وہ قائم بنفسہا ہو یعنی خود قائم ہو كَقَوْلِهِ جیسے کسی شخص کا یہ قول: مِنْ هٰذِهِ الْحَائِطِ اِلٰى هٰذِهِ الْحَائِطِ، "اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک"، لَا تَدْخُلُ الْغَايَتَانِ فِي الْاِقْرَارِ تو یہ دونوں غایت جو ہیں وہ اقرار میں داخل نہیں ہوں گے۔
الگ کسی دلیل سے ہو جائیں وہ الگ بات ہے، ہم لفظوں صرف ان لفظوں کے اعتبار سے کہہ رہے ہیں، ایک شخص کہتا ہے: لِزَيْدٍ زید کے لیے مِنْ هٰذِهِ الْحَائِطِ اِلٰى هٰذِهِ الْحَائِطِ اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک یہ زید کا ہے، اقرار کر لیا بھئی۔ اب بھئی یہ درمیان کی جگہ تو زید کی ہو گئی، زید کی ہو گئی، اور یہ جو دیواریں ہیں ایک غایت ہے ابتداء کا اور ایک غایت ہے انتہا کا، یہ بھی داخل ہیں یا داخل نہیں؟ یہ بھی زید کی ہو گئیں یا نہیں؟ تو ضابطہ ذکر کر دیا انہوں نے کہ اگر غایت خود قائم ہو تو دیواریں بھی خود کیا ہیں؟ قائم ہیں، آگے تفصیل آ رہی ہے، اس صورت میں یہ اقرار میں داخل نہیں ہوں گی، فَاِنَّ الْحَائِطَ غَايَةٌ قَائِمَةٌ بِنَفْسِهَا اس لیے کیونکہ دیوار جو ہے وہ ایسا غایت ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے قائم ہے، بھئی اپنی ذات کے اعتبار سے قائم ہونے کا کیا معنی؟ شارح اب تفصیل بیان کر رہے ہیں: اَيْ مَوْجُوْدَةً قَبْلَ التَّكَلُّمِ غَيْرَ مُفْتَقِرَةٍ فِيْ وُجُوْدِهَا اِلَى الْمُغَيَّى موجودة قبل التكلم، یہ وہ کہ یعنی کہ وہ غایت تکلم سے پہلے کا موجود ہو۔ غایت تکلم سے پہلے چلیے بس کریں بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ اَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔