درس نمبر۔64
ومنہ حروف الجر وهو معطوف على مضمون الكلام السابق كأنه قال أولا منها حروف العطف ثم بعد الفراغ منها عطف هذا عليه، فالباؤ للالتصاق، فما دخل عليه الباؤ هو الملصق به هذا هو أصلها في اللغت والبواقي مجاز فيها.
ومنہ حروف الجر، اور حروف معانی میں سے حروف جر ہیں۔ بھئی، حروف معانی کی بحث شروع کی تھی، حقیقت اور مجاز کی بحث کے بعد کیونکہ ان کا حقیقت اور مجاز کے ساتھ اتصال ہے، یہ حروف بھی اب کبھی اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی مجازی معنی میں۔ پھر ان میں سے سب سے پہلے حروف عاطفہ کو ذکر کیا، حروف عاطفہ جو عطف کے لیے آئیں بھئی، یعنی جو عمل نہیں کرتے، صرف کس چیز کا فائدہ دیتے ہیں؟ عطف کا عمل لفظوں میں نہیں کرتے۔ اور پھر اس کے بعد اب حروف عاملہ بیان کرنے لگے ہیں، تو سب سے پہلے حروف جارّہ بیان کر رہے ہیں۔
جی تو مصنف فرماتے ہیں: ومنہ حروف الجر، اور حروف معانی میں سے حروف جر ہیں۔ وہو معطوف على مضمون الكلام السابق، یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں بھئی، سوال مقدر کا۔ سوال یہ کہ ماتن نے کہا ومنہ، واؤ لے کر آئے اور واؤ تو عطف کے لیے آتا ہے، تو ما قبل میں یہ کس جملے پر عطف ہے بھئی؟ ما قبل میں تو کوئی ایسا جملہ نہیں گزرا جس پر اس کا ہم عطف کر سکیں۔ حقیقت اور مجاز کے بعد مصنف نے کہا کہ انہی کے ساتھ متصل ہیں حروف معانی اور پھر فورا شروع کر دیا فالواو، واؤ کی بحث شروع کر دی بھئی۔ تو یہ کس پر عطف ہے؟ ما قبل میں اگر یہ ہوتا ومنہ حروف العطف تو ہم اس کو بھی اس پر کیا کر دیتے؟ عطف کر دیتے، لیکن یہاں ما قبل میں تو ایسا کوئی جملہ نہیں گزرا تو کس پر یہ عطف ہوگا؟ یہ واؤ عطف کے لیے، اب کس پر عطف کریں اس کا؟ تو شارح فرما رہے ہیں بھئی کہ یہ ما قبل کے کلام کے مضمون پر عطف ہے بھئی۔ کس پر عطف ہے؟ مضمون پر۔ بھئی ما قبل کے اندر حروف عطفہ کی بحث آئے تو گویا کہ مصنف نے یوں کہا: ومنہ حروف العطف۔ حروف عطفہ کی بحث آ گئی تو گویا کیا کہا مصنف نے؟ حروف معانی میں سے حروف عطفہ ہیں، اور اب اسی پر عطف کر رہے ہیں ومنہ حروف الجر۔ تو یہ ما قبل کا جو کلام تھا، اس کا مضمون یعنی یوں کہیں جو حاصل کلام تھا، اس پر کیا کیا جا رہا ہے؟ عطف کیا جا رہا ہے۔ تو کہتے ہیں وهو معطوف على مضمون الكلام السابق، اور یہ عطف ہے سابقہ کلام کے مضمون پر، كأنه قال أولا، گویا کہ مصنف نے پہلے یوں فرمایا: ومنہ حروف العطف، یوں فرمایا۔ ثم بعد الفراغ منها، پھر ان سے فارغ ہونے کے بعد عطف هذا عليه، اس پر یہ، یہ عطف کر دیا بھئی۔
فالباء للالتصاق، پس باء جو ہے وہ التصاق کے لیے ہے۔ التصاق کا معنی اتصال بھئی، اتصال۔ ملنا، ملنا۔ ایک چیز کا دوسری کے ساتھ ملنا، یہ کیا ہے؟ اتصال ہے، یہ التصاق ہے۔ تو کہتے ہیں باء جو ہے وہ التصاق کے لیے آتی ہے، فما دخل عليه الباء، پس وہ جس پر باء داخل ہو جائے هو الملصق به، وہ ملصق بہ ہے۔ هذا هو اصلها في اللغت، یہ ہے باء کی اصل لغت کے اندر، یعنی عربی زبان میں۔ کہتے ہیں بھئی عربی زبان میں اصل یہ ہے کہ باء جو ہے التصاق کا فائدہ دے گا، اتصال کا فائدہ دے گا، ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملا دے گا۔ اور یاد رکھیے، پھر جس پر باء داخل ہو، وہ ہے ملصق بہ، جس کے ساتھ ملایا گیا۔ اور کس کو ملایا گیا؟ ما قبل کو۔ باء کا ما بعد جو ہے اس کے ساتھ ملایا گیا، اور کس کو ملایا گیا؟ ما قبل کو۔ ما قبل کو ملایا گیا، تو وہ ہوا ملصق۔ مدخول باء ہوا ملصق بہ، جس کے ساتھ ملایا گیا، اور جانب آخر کو کیا کہیں گے؟ ملصق کہیں گے۔ مثلا میں کہتا ہوں: مررت بزیید، میں زید کے پاس سے گزرا۔ اب دیکھیے باء کس پر داخل ہوئی ہے؟ زید پر، تو جس پر باء داخل ہو وہ کیا ہے؟ ملصق بہ، اس کے ساتھ ملایا گیا۔ کس چیز کو ملایا گیا ہے، کس چیز کے ساتھ؟ مرور کو، مرور وہ جو متكلم کا مرور ہے، گزرنا، اس کو باء نے کس کے ساتھ ملا دیا؟ زید کے ساتھ ملا دیا، باء نے یہ فائدہ دیا التصاق کا۔ تو مرور متكلم جو ہے، وہ کیا ہوا؟ ملصق، اور زید کون ہوا؟ ملصق بہ بھئی۔
कहते हैं: هذا هو اصلها في اللغت، یہ اصل ہے باء کی لغت کے اندر، یعنی عربی میں یہ اصل میں التصاق کے لیے ہی ہے، التصاق کے لیے وضع ہے۔ والبواقي مجاز فيها، اور باقی جو ہیں وہ اس کے اندر مجاز ہیں، یعنی باء کے اور جتنے معانی آتے ہیں بھئی نحْو کی کتابوں میں آپ نے باء کے بہت سے معانی پڑھے ہوں گے، کہتے ہیں ان میں التصاق اصل ہیں، اصل ہیں اور باقی معانی مجاز ہیں بھئی، مجاز ہیں۔
باء آتا ہے التصاق کے لیے۔ پھر یہ التصاق یہ جو ملنا ہے، یہ کبھی حقیقتا ہوگا اور کبھی مجازاً ہوگا۔ حقیقتاً مثلاً آپ کہتے ہیں: بہ داء، فلاں کو کیا ہے؟ مرض ہے۔ اب دیکھیے، یہاں التصاق حقیقتاً ہے بھئی، مرض حقیقتاً اس کے ساتھ ملا ہوا ہے، حقیقتاً۔ اور کبھی التصاق کیا ہوگا؟ یعنی حکماً ہوگا، کبھی حقیقتاً ہوگا اور کبھی حکماً التصاق ہوگا، جیسے میں نے مثال ذکر کی بھئی: مررت بزیید۔ یہاں متكلم کا مرور حقیقتاً تو زید کے ساتھ نہیں ملا ہوا بھئی، لیکن حکماً کیا ہے؟ ملا ہوا ہے، اس کے پاس سے ہی گزرے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی۔ تو حقیقتاً تو مرور اس کے ساتھ جڑا نہیں ہوا بھئی زید کے ساتھ، پچھلی مثال میں تو مرض حقیقتاً فلاں کے ساتھ جڑا ہوا تھا، جبکہ یہاں حقیقتاً مرور اس کے ساتھ جڑا نہیں ہے بھئی۔
وتصحب الاسمان، اور یہ ساتھ آتی ہے زمنوں کے، یعنی زمنوں پر داخل ہوتی ہے، بھئی مراد کیا ہے؟ زمنوں پر داخل ہوتی ہے۔ بھئی دیکھیے، سونا، چاندی، اور کرنسی، یہ ہیں زمن بھئی، زمن۔ ان کو، ان کی وضع کا مقصد ہی کیا ہے؟ زمن، زمن کے طور پر ان کو وضع کیا گیا ہے: سونا، چاندی اور کرنسی کرنسی۔ اور یہ سونا، چاندی اور کرنسی، یہ جو زمن ہیں، یاد رکھیے یہ وسیلہ اور ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ کیا ہوتے ہیں؟ وسیلہ اور ذریعہ ہوتے ہیں۔
تو یہ زمن جو ہیں، یہ سونا چاندی وغیرہ، ان کو ان کو بنایا کس لیے بنایا گیا ہے؟ بطور زمن کے، بطور زمن کے۔ اور زمن جو ہوتا ہے وہ ذریعہ ہوتا ہے، اس کے ذریعے مبیع تک پہنچا جاتا ہے، کسی چیز کو خریدا جاتا ہے۔ جس طرح دیکھیے، آپ کنویں سے پانی نکالنا چاہتے ہیں، تو رسّی اور ڈول کی آپ کو ضرورت پڑے گی، رسّی اور ڈول ذریعہ ہے، اور اس کے ذریعے آپ کس کو حاصل کر لیں گے؟ پانی کو۔ تو یہاں بیع کے اندر بھی یہ جو زمن ہوتی ہے، یہ ذریعہ اور وسیلہ ہوتا ہے، اس کے ذریعے مبیع تک پہنچا جاتا ہے بھئی۔ تو یہ جو سونا، چاندی اور کرنسی ہیں، یہ آپ کے پاس ہوں، تو یہ آپ کو کوئی نفع نہیں دیں گے۔ ہاں جب یہ آپ کے ہاتھ سے نکلیں گے، آپ ان کو خرچ کریں گے، تو پھر یہ آپ کو نفع دیں گے، ان کے ذریعے آپ کھانے کی چیز بھی خرید سکتے ہیں، پہننے کی چیز بھی خرید سکتے ہیں، رہنے کی جگہ بھی خرید سکتے ہیں۔ تو یہ بھی ذریعہ ہیں، کس تک پہنچنے کا؟ مبیع تک پہنچنے کا۔ تو لہٰذا جب یہ ذریعہ ہیں، تو ان پر باء داخل کی جاتی ہے، کیونکہ یہ وسیلہ اور ذریعہ ہیں، اور باء بھی جو ہے، وہ وسیلہ اور ذریعہ ہے، اور یہ وسیلہ اور ذریعوں پر داخل ہوتی ہے، مثلاً آپ عربی میں کہتے ہیں: كتبْتُ بالقلم، میں نے کس کی مدد سے لکھا؟ قلم کی مدد سے لکھا، تو دیکھو قلم ذریعہ ہے، جس کے ذریعے لکھا جاتا ہے، تو باء، باء کس پر داخل ہوتی ہے؟ ذریعہ اور وسیلے پر داخل ہوتی ہے، تو زمن میں، زمن بھی باء کے اندر وسیلہ اور ذریعہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے کس تک ہم پہنچتے ہیں؟ مبیع تک پہنچتے ہیں بھئی۔ تو اسی لیے باء جو ہے، وہ کس پر داخل ہوتی ہے؟ وسیلے، وسیلے یعنی زمن پر داخل ہوگی باء کے اندر۔ بھئی آپ عام بیوع کرتے ہیں، پیسے وغیرہ دے کر کوئی چیز خریدتے ہیں، اس میں تو زمن واضح ہیں، جو آپ پیسے دے رہے ہیں، وہ زمن ہے، جو چیز خرید رہے ہیں وہ مبیع ہے۔ لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دونوں طرف سامان وغیرہ ہوتا ہے، سامان۔ مثلاً آپ کتاب دے کر قلم خریدتے ہیں، کسی ساتھی سے۔ اب یہاں دونوں ایک طرف کتاب ہے، دوسری طرف قلم ہے، نہ سونا ہے، نہ چاندی، نہ کرنسی۔ کس کو، اب ان میں سے کس کو مبیع بنایا جائے گا، اور کس کو زمن قرار دیا جائے، تو چنانچہ آپ نے فقہ میں پڑھا ہوگا، کہ جس پر باء داخل کی گئی ہے، وہ ہے زمن، اور جو دوسری جانب چیز ذکر ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ مبیع کہیں گے۔ چنانچہ جو زمن ہوگا، اس پر زمن کے احکام لاگو ہوں گے، اور جو مبیع ہے، اس پر مبیع کے احکام لاگو ہوں گے، پڑھا یا نہیں آپ نے فقہ میں بھئی؟ تو باء کس پر داخل ہوتی ہے؟ زمن پر، تو جس پر باء داخل ہوگی اس کو زمن قرار دیا جائے گا اور اس کے مطابق باء کے احکامات جاری ہوں گے بھئی۔ تو یہی بات کر رہے ہیں بھئی وتصحب الاسمان، اور یہ باء داخل ہوتی ہے زمنوں پر، حتى لو قالها، یہاں تک کہ اگر کسی شخص نے یوں کہا: اشتريت منك هذا العبد ببرم من حنطة جيدة، اشتريت منك، میں نے خرید لیا تجھ سے، هذا العبد، یہ غلام، ببرم من الحنطة الجيدة، کس کے بدلے میں؟ ایک عم، ایک کر عمدہ گندم کے بدلے میں۔ ایک کر عمدہ گندم کے بدلے میں۔ اچھا بھئی، یہاں کر کا لفظ آیا، اس کو پہلے سمجھ لیں۔ یاد رکھیے یہ قدیم پیمانہ تھا۔ قدیم ایک پیمانے کا نام ہے، کر بھئی۔ ایک کر کتنا ہوتا ہے بھئی؟ اوزان شرعیہ یاد ہیں یا بھول گئے بھئی؟ بھئی یاد رکھیں، پھر یاد کر لیں، بار بار میں چیزیں، ایسی ضروری چیز ہے، بار بار دہراتا ہوں تاکہ آپ کو یاد ہو جائیں۔ یاد رکھیے آٹھ چاول کے دانے ہوں، تو یہ ایک ماشہ بنتا ہے۔ ایک رتی! آٹھ چاول کے دانے ہوں، تو یہ برابر ہیں ایک رتی کے۔ آٹھ رتیاں ہوں، تو یہ برابر ہیں ایک ماشے کے۔ جلدی جلدی لکھیے بھئی۔ آٹھ چاول کے دانے، ایک رتی۔ آٹھ رتیاں ہوں، تو ایک ماشہ۔ بارہ ماشے ہوں، تو یہ ایک تولہ بنتا ہے بھئی، ایک تولہ۔ اور آج کل بھئی، ہمارے ہاں کلو چلتے ہیں، تو یاد رکھیے، یہ کلو جو ہے، اس میں ہزار گرام ہوتے ہیں، ہزار۔ اور تولہ جو ہے، تولہ، وہ 11.664 گرام ہوتا ہے۔ تولہ کتنے کے برابر ہے؟ 11.664 یاد رکھیے یہ اشاریہ کے بعد جو عدد ہوتے ہیں، ان کو الگ الگ پڑھا جاتا ہے، تو اس کو 11.664 نہیں پڑھنا بھئی، یہ غلط ہے حساب کے قوانین کے اعتبار سے، اور بڑے بڑے لوگ اس میں غلطی کرتے ہیں بھئی۔ یہ قطعی قوانین میں سے ہے کہ ان کو الگ الگ پڑھا جائے گا بھئی۔ 11.664 گرام۔ 11.664 گرام ہوں تو یہ ایک تولہ بنتا ہے بھئی، ایک تولہ۔ اور 80 تولے ہوں تو یہ ایک سیر بنتا ہے۔ 80 تولے ہوں تو یہ ایک سیر بنتا ہے۔ پہلے ہمارے ہاں بھئی سیر رائج تھے، بھئی، اب تو کلو چلتے ہیں، کلو سیر سے کچھ بڑا ہوتا ہے، تو اگر آپ ہزار کلو میں کتنے گرام ہوتے ہیں؟ ہزار، ہزار کو اگر آپ 11.664 سے تقسیم کریں، تو کلو میں تولے نکل آئیں گے کہ اتنے تولے ہوتے ہیں، اور تقریبا یہ 86 تولے کے لگ بھگ بنتا ہے کلو بھئی۔ 86 تولے تقریباً ایک کلو میں ہوتے ہیں بھئی۔ یعنی سیر اور کلو میں چھ تولے کا فرق ہے بھئی، تقریباً چھ تولے کا کلو چھ تولے تقریباً زیادہ ہوتا ہے سیر سے۔ اچھا بھئی، بات ہماری کر کے بارے میں چل رہی ہے، تو صرف اس سے متعلقہ بحث کرتے ہیں۔ تو آٹھ چاول کے دانے ہوں، تو یہ کتنا ہوا؟ ایک رتی، آٹھ رتیاں ہوں، تو ایک ماشہ، بارہ ماشے ہوں، تو ایک تولہ۔ اور یاد رکھیے پونے 34 تولے ہوں، تو یہ ایک مد بنتا ہے بھئی۔ پونے 34 تولے، مد نہیں، رتل، رتل، پونے 34 تولے ہوں، تو یہ ایک رتل بنتا ہے، را، وا، لام، رتل۔ پونے 34 تولے، ایک رتل۔ دو رتل ملیں، تو یہ بنتا ہے ایک مد، میم، دال بھئی۔ مد۔ دو رتلوں تو کتنا بن گیا؟ ایک مد بن گیا، ایک مد بن گیا، اور چار مد ہوں، تو یہ بنتا ہے ایک صاع بھئی۔ چار مد ہوں، تو یہ بنتا ہے ایک صاع، ایک صاع۔ معلوم ہوا ایک صاع میں آٹھ رتل ہو گئے، کیونکہ صاع میں چار مد ہیں، نا، اور مد میں دو رتل ہیں تو، ایک صاع میں آٹھ رتل ہو گئے، اور ایک رتل کتنے کا تھا؟ پونے 34 تولے تو یہ جمع کریں پونے 34، آٹھ مرتبہ ہو، اس کو آٹھ سے ضرب دیں، کیلکولیٹر نہیں کسی کے پاس۔ جلدی جلدی کیجیے بھئی۔ پونے 34، پونے 34 لکھیں گے کیسے؟ 33.75 33.75 کو آٹھ سے ضرب دیں بھئی۔ 270 264 270 تولے بن، 270 تولے معلوم ہوا ایک صاع 270 تولے کا ہوتا ہے بھئی 270 تولے اور سیروں کے حساب سے بھئی صاع تو جگہ جگہ آتا ہے، یہ تو آپ کو ویسے ہی یاد ہونا چاہیے، ایک صاع 270 تولے کا ہوتا ہے۔ اور آج کل کے سیروں کے، سیروں کے حساب سے، یہ تین سیر چھ چھٹانک کا بنے گا بھئی۔ تین سیر، یعنی چھ چھٹانک، یعنی ڈیڑھ پاؤ۔ ایک پاؤ میں چار چھٹانک ہوتے ہیں نا۔ تین سیر چھ چھٹانک، یعنی ڈیڑھ پاؤ، تین سیر، ڈیڑھ پاؤ۔ اگر یہ، دو چھٹانک اور ہوتا تو ساڑھے تین بن جاتا بھئی۔ یعنی یہ ساڑھے تین سے تھوڑا سا کم ہوتا ہے سیر سے۔
آچھا! اور ساڑھے تین کا آدھا کتنا ہوتا ہے؟
پونے دو۔
تین کا آدھا کتنا؟
ڈیڑھ۔
اور آدھے کا آدھا کتنا؟
پاؤ۔
پاؤ، تو پونے دو۔
تو اسی لیے آپ پڑھتے ہیں بھئی صدقۂ فطر کی مقدار کتنی ہے؟
پونے دو کلو گندم کہہ دیتے ہیں پونے یا اس کی قیمت دیں بھئی، تو یہ پونے دو کلو نہیں، پونے دو سیر نہیں ہے پونے دو سیر سے بھی ایک چھٹانک کم ہے بھئی،
کیونکہ
آدھے کا آدھا
تین سیر چھ چھٹانک کا آدھا ہے نا؟
جی۔
حساب سمجھ میں آ گیا؟
جی۔
آچھا! تو بہرحال چونکہ وہ تھوڑا سا فرق ہے تو اسی کا ذکر کر دیتے ہیں کہ پونے دو سیر، یہ نصفِ صاع کی مقدار بیان کی جاتی ہے، نصفِ صاع۔ تو ایک صاع وہی تین سیر چھ چھٹانک۔
آچھا! یہ صاع ہوا۔
60 صاع ہوں،
تو یہ ایک وسق بنتا ہے، وسق۔
60 صاع ہوں، تو یہ ایک وسق بنتا ہے، واؤ س ق، دو نقطوں والا۔
واؤ س ق، دو نقطوں والا بھئی وسق، س ساکن ہے۔
یہ ایک وسق ہوا۔ کتنے صاع؟
60 صاع۔
60 صاع بھئی۔
آچھا! تو اس میں 60 صاع ہوئے، اس میں... تو ایک صاع کتنے کا تھا؟
تین سیر۔
تین سیر چھ چھٹانک کا۔
اب اگر آپ حساب کریں گے، 60 سے ضرب دیں گے،
16 ہزار 200 تولے۔
16 ہزار 200 تولے بن گئے، اچھا! یہ تولوں کا انہوں نے حساب نکال لیا۔
تین سیر
چھ چھٹانک
آچھا!
تو بہرحال آپ یہ بعد میں حساب کر لیجیے گا بھئی۔
یہ جب آپ اس کو تین
سیر چھ چھٹانک کو 60 سے ضرب دیں گے،
60 گنا کر لیں گے،
تو یہ ایک وسق سیروں میں نکل آئے گا، کتنے میں؟
سیروں میں۔
اور اچھا، ایک من میں کتنے سیر ہوتے ہیں؟
40۔
40، تو جو نکلے گا اس کو 40 سے تقسیم کرنا، تو من نکل آئیں گے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ یہ نکلے گا بھئی، 5 من اڑھائی سیر۔
ایک وسق کی مقدار کتنی ہے؟
5 من اڑھائی سیر۔
5 من اڑھائی سیر۔
یعنی دو اور آدھا،
دو سیر اور آدھا سیر،
5 من اڑھائی سیر۔ یہ ایک وسق نکلا بھئی۔
اور 12 وسق ہوں، تو یہ ایک کُر بنتا ہے بھئی۔
12 وسق ہوں، تو یہ ایک کُر بنتا ہے۔
ایک کُر بھئی۔
تو 5 کو ذرا 12 سے ضرب دیں، 12 پنجے 60۔
60 من اور اڑھائی سیر کو بھی 12 سے ضرب دیں،
30 سیر۔
30 سیر بن جائے گا، تو یہ
پونے 61 من کا ہے ایک کُر بھئی۔
پونے 61 من۔
تو یہ بڑا پیمانہ تھا سب سے بڑا بھئی،
پیمائش کا بھئی۔
آچھا بھئی! کُر کی مقدار پتہ چل گئی بھئی؟
جی۔
آچھا! اب دیکھیے،
"حَتَّى لَوْ قَالَ" یہاں تک کہ اگر کسی نے یہ کہا: "اشْتَرَيْتُ مِنْكَ هَذَا الْعَبْدَ بِكُرٍّ مِنْ حِنْطَةٍ جَيِّدَةٍ" میں نے خرید لیا تم سے یہ غلام عمدہ گندم کے ایک کُر کے بدلے میں،
"يَكُونُ الْكُرُّ ثَمَنًا" بھئی! اب دیکھیے اس جملے کے اندر بھئی: "اشْتَرَيْتُ مِنْكَ هَذَا الْعَبْدَ بِكُرٍّ مِنْ حِنْطَةٍ جَيِّدَةٍ" اب دیکھیے، ایک طرف غلام ہے، ایک طرف گندم ہے، ثمن کی جنس میں سے کوئی بھی نہیں ہے، تو اب کیسے پتہ چلے گا کہ کیا ثمن ہے اور کیا مبیع؟ کس کو دیکھنا پڑے گا؟
باء کو۔
باء کو دیکھیں، باء کس پر داخل ہو رہی ہے؟
کُر۔
"كُرٍّ مِنْ حِنْطَةٍ" پر داخل ہو رہی ہے، تو معلوم ہوا یہ گندم یہ ہے ثمن اور غلام کیا ہے؟ مبیع۔
تو کہتے ہیں: "يَكُونُ الْكُرُّ ثَمَنًا" تو کُر جو ہے وہ ثمن ہو گا، "فَيَصِحُّ الِاسْتِبْدَالُ بِهِ" جی، یہاں سے ایک اور ضابطہ بیان کر رہے ہیں۔ بھئی! آپ نے بیع کے باب میں پڑھا ہو گا،
کہ
مبیع جو ہے،
مبیع میں قبل القبض تصرف جائز نہیں، جبکہ ثمن میں قبل القبض تصرف جائز ہے۔
مبیع میں قبل القبض، قبضے سے پہلے مبیع کے اندر تصرف کرنا جائز نہیں ہے، جبکہ ثمن میں قبضے سے پہلے تصرف کرنا جائز ہے۔ تصرف مثلاً بھئی،
میں نے آپ سے کہا
کہ یہ کتاب میں نے آپ کو 100 روپے میں بیچ... بلکہ خریدنے کی صورت بناتے ہیں بھئی، میں نے یہ کتاب آپ سے 100 روپے میں خرید لی،
آپ نے کہا: مجھے منظور ہے، بس۔ ایجاب و قبول ہوتے ہی، میں کتاب کا مالک بن گیا۔ کتاب ابھی آپ کے پاس ہے، لیکن میں اس کا... ایجاب و قبول ہوتے ہی مشتری اس کا مالک بن جاتا ہے، تو کتاب کا میں مالک بن گیا اگرچہ ابھی آپ کے پاس ہے، ہاں! اور میرے ذمے آپ کے 100 روپے لازم اور واجب ہو گئے بھئی،
میں نے 100 روپیہ آپ کا دینا ہے۔
اور تو کتاب... اب آپ بتائیے، اس میں مبیع کیا؟
کتاب۔
کتاب، اور ثمن کتنا ہے؟
100 روپیہ۔
100 روپیہ۔ اب تو کتاب ہوئی مبیع، اور مبیع کے اندر قبل القبض تصرف جائز؟ نہیں۔
یہ کتاب آپ مجھے دے دیں، میں اس پر قبضہ کر لوں، پھر میری مرضی ہے اس میں جو بھی تصرف کروں، کسی کو تحفہ دینا چاہتا ہوں تحفہ دے دوں، میں کسی کو... کے ہاتھ بیچنا چاہتا ہوں تو بیچ بھی سکتا ہوں، لیکن قبضے سے پہلے میں اس میں کوئی تصرف کرتا ہوں، مثلاً کتاب ابھی آپ کے پاس ہے، میں زید سے کہتا ہوں: بھئی! وہ کتاب اس کے پاس ہے، ابھی میں نے لی تو نہیں لیکن میں اس کا مالک ہوں، میں خرید چکا ہوں، وہ کتاب میں آپ کو 120 روپے میں بیچتا ہوں، نہیں بھئی! یہ میں کیا کر رہا ہوں؟ مبیع میں قبل القبض تصرف کر رہا ہوں اور مبیع میں قبل القبض تصرف جائز نہیں۔
یا اس میں دوسری صورت تصرف کی بنا لیں، کتاب آپ نے دینی ہے، کتاب ابھی آپ کے پاس ہے، میں آپ سے کہتا ہوں: بھئی! یوں کرو کتاب نہ دو، کتاب کے بدلے مجھے اپنا قلم دے دو، تو یہ میں کیا کر رہا ہوں؟ مبیع میں تصرف کر رہا ہوں قبل القبض، لہٰذا یہ تو جائز نہیں، یا تیسری صورت بھئی تصرف کی بنا لیں، مبیع آپ کے پاس ہے ابھی، میں زید سے کہتا ہوں: بھئی! وہ کتاب اس کے پاس ہے، میں اس کا مالک ہوں، میں نے تمہیں وہ کتاب تحفے کے طور پر دے دی، جاؤ اس سے جا کر لے لو۔
بھئی! یہ میں کیا کر رہا ہوں؟ مبیع میں قبل القبض تصرف کر رہا ہوں اور مبیع میں تو قبل القبض تصرف کی اجازت نہیں،
جبکہ ثمن کے اندر قبل القبض تصرف کی اجازت ہوتی ہے، لہٰذا میں نے آپ کا 100 روپیہ دینا ہے، ابھی دیا نہیں، آپ مجھے کہتے ہیں: بھئی! یوں کرو وہ 100 روپیہ آپ نے مجھے دینا ہے، وہ 100 آپ رکھیں اس کے بدلے مجھے اپنا قلم دے دیں، تو یہ آپ کر سکتے ہیں، کیونکہ آپ کس میں تصرف کر رہے ہیں؟ ثمن میں، اور ثمن میں قبل القبض بھی تصرف جائز ہے۔ تو یہ مبیع منقولی کے اندر ہے بھئی، دیکھو چیزیں دو قسم پر ہیں، کچھ منقولی ہیں، کچھ غیر منقولی ہیں، منقولی جن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل کیا جا سکتا ہے، غیر منقولی جن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل نہیں کیا جا سکتا، یہ کتاب ہے، قلم ہے، گاڑی ہے، موٹر سائیکل ہے، یہ سب چیزیں منقولی ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں گھر،
گھر، گھر کو اب آپ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کر سکتے، گھر ہے،
کھیت ہے، زمین ہے، وغیرہ یہ چیزیں غیر منقولی ہیں، تو یہ ضابطہ کس کا بیان ہو رہا ہے؟ مبیع منقولی کا، مبیع منقولی میں قبل القبض تصرف جائز نہیں۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مبیع منقولی میں قبل القبض تصرف جائز نہیں اور ثمن کے اندر قبل القبض بھی تصرف جائز ہے، تو یہاں پر بھی دیکھیے بھئی! ب...
مبیع منقولی ہی ہے، گندم کس میں سے ہے؟
منقولی۔
گندم بھی منقولی ہی ہے بھئی،
س... یہ تو ثمن ہے اور غلام بھی کیا ہے؟ منقولی ہے، ایک جگہ سے دوسری جگہ اس کو نقل کیا جا سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: "يَكُونُ الْكُرُّ ثَمَنًا" تو کُر جو ہیں وہ ثمن ہوں گے، "فَيَصِحُّ الِاسْتِبْدَالُ بِهِ" تو صحیح ہے اس کو بدلنا، یعنی اس کی جگہ دوسری چیز لینا صحیح ہے بھئی، اس کو بدل لینا جائز ہے، کیونکہ ثمن ہے اور ثمن کے اندر قبل القبض تصرف جائز ہے بھئی، تو آپ اس کو... یہ وہ خریدار کہتا ہے بھئی! آپ نے میری گندم تو دینی ہے آپ کے ذمے ہے، اس گندم کے بجائے آپ مجھے جو دے دیں اتنی اتنی، تو یہ تصرف اس کے لیے جائز ہو گا۔
"لِأَنَّهُ لَمَّا كَانَ مَدْخُولُ الْبَاءِ هُوَ الثَّمَنَ" اس لیے کیونکہ جب باء کا مدخول وہ ثمن ہے، "كَانَ الْعَبْدُ مَبِيعًا" تو اس... مبیع کیا ہو گا؟ اوہ! غلام کیا ہو گا؟ غلام مبیع ہو گا، "وَكُرُّ الْحِنْطَةِ ثَمَنًا" اور حنطہ کا کُر وہ ثمن ہو گا، "فَيَكُونُ الْبَيْعُ حَالًّا" تو بیع کون سی ہو گی؟ حالی ہو گی، یعنی اوہ! جو
حالی یعنی اسی وقت نقد بھئی کہہ لیں، نقد بیع جو ہو رہی ہے۔
اور ایک آگے بیعِ سلم آ رہی ہے بھئی، اس کا ذکر آ گیا آئے گا بھئی، بیعِ سلم بھئی، تو جی، چلیے آگے وہ تفصیل آ رہی ہے، تو یہ بیع حالی ہو گی یعنی بیعِ سلم نہیں ہو گی۔ "وَيَصِحُّ اسْتِبْدَالُ كُرِّ الْحِنْطَةِ بِكُرِّ الشَّعِيرِ" اور صحیح ہو گا بدلنا گندم کے کُر کو کس کے ساتھ؟ جو کے کُر کے ساتھ، "قَبْلَ الْقَبْضِ"
کس... قبضے سے پہلے، "إِذْ يَجُوزُ الِاسْتِبْدَالُ فِي الثَّمَنِ قَبْلَ الْقَبْضِ" اس لیے کیونکہ بدلنا جائز ہے ثمن میں قبضے سے پہلے ہی، "وَلَوْ كَانَ مَبِيعًا لَمْ يَجُزْ ذَلِكَ" اور اگر یہ مبیع ہوتا تو پھر جائز نہ ہوتا، "بِخِلَافِ مَا إِذَا أَضَافَ الْعَاقِدُ إِلَى الْكُرِّ" برخلاف اس کے کہ جب اس شخص نے نسبت کر دی عقد کرنے والے نے عقد کی "إِلَى الْكُرِّ" کس کی طرف؟ کُر کی طرف عقد کی نسبت کی، یوں "بِأَنْ قَالَ" طور پر کہ اس نے یوں کہا: "اشْتَرَيْتُ مِنْكَ كُرًّا مِنْ حِنْطَةٍ بِهَذَا الْعَبْدِ" میں نے تم سے खरीदा ایک کُر گندم کا "بِهَذَا الْعَبْدِ" اس غلام کے بدلے میں، بس ذرا سے عبارت بدلی، مسئلہ ہی سارا بدل گیا بھئی! پہلے باء داخل کی تھی کُر پر، اب باء کس پر داخل کر دی؟ عبد پر داخل کر دی، کہتے ہیں: "حَيْثُ يَكُونُ هَذَا الْعَقْدُ عَقْدَ السَّلَمِ" اس حیثیت سے کہ یہ عقد جو ہوا، یہ اب عقدِ... یہ عقدِ سلم ہوا بھئی، یہ عقدِ سلم ہو گا۔
بھئی! یاد رکھیے عقدِ سلم،
عقدِ سلم اسے کہتے ہیں
کہ
جس میں آپ
کوئی چیز لینے جاتے ہیں،
مثلاً گندم وغیرہ،
اور ثمن اسی مجلس میں دے دیتے ہیں اور گندم وغیرہ وہ آپ کو چار چھ مہینے بعد دے گا بھئی،
اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقدِ سلم کہتے ہیں، عقدِ سلم۔
عقدِ... اس میں ثمن اسی مجلس میں دیے جاتے ہیں اور مبیع کچھ مدت کے، متعینہ مدت کے بعد ملتا ہے۔
تو یہ عقدِ سلم ہے،
اور عقدِ سلم کے ذ... تو یہ جو غلام... یہ جو اس شخص نے عقد کیا، اس نے باء کو کس پر داخل کر دیا؟ عبد پر، تو وہ ثمن بن گیا، اور کُر من الحنطہ جو ہے وہ مبیع بن گئی، اور کیا کہا؟
"اشْتَرَيْتُ مِنْكَ كُرًّا مِنْ حِنْطَةٍ" میں نے تم سے خریدا ایک کُر گندم کا، تو کُر نکرہ ہے،
اور نکرہ
ذاتِ معین پر دلالت کرتا ہے یا غیر معین پر؟
ذاتِ غیر معین پر، معلوم ہوا کُر وہاں موجود نہیں ہے، اور وہ اس کی اس کے ساتھ بیع کر رہا ہے، معلوم ہوا کُر اس کے ذمے ہو جائیں گے، اس کو بعد میں دینے پڑیں گے۔
متعین ہوتے تو پھر تو یہ کہتا نا: "هَذَا الْكُرَّ" یہ والا کُر جو ہے، میں یہ... اور الغلام اس کے پاس موجود ہے،
غلام اس کے... اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے "بِهَذَا الْعَبْدِ" یہ والا غلام بھئی، یہ میں اس کے بدلے میں خرید رہا ہوں تم سے، کتنے... کیا خرید رہا ہوں؟
ایک کُر۔
ایک کُر گندم کا خرید رہا ہوں،
تو یاد رکھیے،
اب یہ بیعِ سلم بن گئی، کیونکہ مبیع غیر متعین ہوا، بیعِ سلم میں بھی مبیع غیر متعین ہوتا ہے۔
بھئی! وہ چھ مہینے بعد گندم لا کر دے گا تو کوئی متعین گندم تھی؟ یہ والی گندم جو آپ کے پاس پڑی ہے، یہ چھ ماہ بعد میرے حوالے کرنا، نہیں بھئی! نہیں چھ... جہاں سے بھی وہ اس جیسی گندم لائے، انتظام کرے اور آپ کے حوالے کر دے، تو اس کے اندر مبیع متعین نہیں ہوتا، جبکہ ثمن اس کے اندر متعین ہوتے ہیں، اسی مجلس میں حوالے کرنا پڑتے ہیں۔
اسی مجلس میں بیعِ سلم کی شرائط میں سے ہے بھئی کہ ثمن اسی مجلس میں دیے جائیں گے، اسی لیے
اسے... اس کے اندر
چلیے وہ آگے آ رہی ہے بات، تو یہ عقدِ سلم بن جائے گا، کیا بن جائے گا؟
عقدِ سلم۔
اور لہٰذا جب یہ عقدِ سلم ہو گیا، تو اس صورت میں عقدِ سلم کی شرائط کا لحاظ رکھنا پڑے گا، اور عقدِ سلم کی شرائط آپ فقہ کی کتابوں میں پڑھ چکے ہیں، کہ اس کے اندر جو مبیع ہے جو چھ ماہ بعد ملنا ہے، اس کی جنس کی بھی متعین ہونی چاہیے، کہ کیا چیز گندم خریدنی ہے یا جو خریدنی ہے یا چاول، وہ بھی متعین ہو، اس کی نوع بھی متعین ہو، اور اسی طرح اس کے صفت بھی ہو، اعلیٰ درجے کا، متوسط درجے کا یا ادنیٰ درجے کا، یہ بھی متعین ہو، اور اسی طرح اس کی مقدار بھی معلوم ہونی چاہیے کتنی مقدار ہے، جیسے یہاں ایک کُر مقدار ذکر کی گئی بھئی،
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اسی مجلس کے اندر ثمن کی ادائیگی بھی ضروری ہے کہ اس پر وہ قبضہ کر لے جو بیچنے والا ہے، اور نیز وہ محل بھی، وہ جگہ بھی متعین ہونی چاہیے جہاں پر وہ گندم کی ادائیگی کرے گا،
جبکہ... یہ اس وقت جگہ کی تعیین ضروری ہے اگر جو چیز خریدی گئی ہے وہ وزنی ہے وزنی،
اس کی بھی تعیین ضروری، ورنہ تو بعد میں جھگڑا ہو گا، وہ آپ کو کہے گا: آؤ بھئی! گندم آ کر لے... فلاں جگہ، کراچی میں، میں نے منگوا کر خرید کر رکھ لیا ہے، جاؤ جا کر کراچی سے لے لو،
آپ کہیں گے بھئی! عجیب بات ہے، یہاں تو لے جا... لانے لے جانے میں ہی میرا پتہ نہیں کتنے ہزار خرچہ ہو جائے گا، گندم مجھے یہاں میرے گھر پر چاہیے،
تو اب جھگڑا آئے گا، یا وہ کہے گا: آؤ بھئی! میری دکان سے آ کر لے کر جاؤ، آپ کہیں گے: نہیں بھئی نہیں! مجھے اپنے گھر پر چاہیے، دکان سے گھر تک میرا خرچہ ہو گا، وہ تم میرے اوپر کیوں ڈال رہے ہو؟ تو لہٰذا جب وزنی چیز ہو تو پہلے سے متعین ہونا چاہیے فلاں جگہ پر ادائیگی ہو گی اس چیز کی بھئی،
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ عقدِ سلم کے اندر یہ شرائط وغیرہ کا لحاظ رکھنا پڑے گا بھئی شرائط، اور پھر یاد رکھیے!
عقدِ سلم کے اندر
نہ مبیع میں تبدل جائز ہے،
نہ مبیع میں استبدال جائز ہے، اور نہ ثمن میں استبدال جائز، عام بیع میں تو... بھئی! مبیع میں تو قبل القبض تصرف جائز ہی نہیں ہوتا،
اور وہ کُر گندم کا کیا ہے؟ وہ مبیع ہے، آپ اس کو کہتے ہیں بعد میں بھئی! ایک کُر گندم کے بجائے یوں کرو مجھے ایک کُر جو کا دے دینا ہے، نہیں بھئی! یہ آپ کس میں تصرف کر رہے ہیں؟
مبیع میں۔
مبیع میں، قبل القبض مبیع میں تصرف جائز نہیں،
نیز یہاں پر ثمن میں بھی تصرف جائز نہیں ہے عقدِ سلم کے اندر، مثلاً عقد کر لیا، اب وہ آپ سے کہتا ہے: بھئی! تم نے یہ غلام مجھے دینا تھا، یوں کرو اس غلام کے بجائے مجھے ایک گاڑی دے دو،
کیا کرو؟ فرض کرو کوئی صورت، کوئی چیز کر لیں، تو اب غلام کے بجائے وہ گاڑی لینا چاہتا ہے، ثمن میں تصرف کر رہا ہے، اور کون سے عقد کے اندر؟ عقدِ سلم کے اندر، بھئی! ثمن میں ویسے تصرف کی اجازت تھی، لیکن عقدِ سلم کے اندر اجازت نہیں۔
کیوں؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ اس کی یہ کہ عقدِ سلم میں اسی مجلس کے اندر ثمن پر قبضہ شرط ہے۔
مبیع تو ملنا ہے چھ مہینے کے بعد، لیکن ثمن تو ابھی ادائیگی ضروری ہے، تو اسی مجلس میں ثمن پر قبضہ شرط ہے کہ بائع کیا کر لے؟ اسی مجلس میں ثمن پر قبضہ کر لے، اور اگر وہ بدل لیتا ہے، غلام کے بجائے گاڑی لیتا ہے، تو غلام پر قبضہ پایا گیا؟
اس نے تو گاڑی پر قبضہ کیا، غلام پر تو قبضہ نہیں کیا، تو شرط پوری نہیں ہوئی، لہٰذا عقد ہی فاسد ہو جائے گا، تو اس میں ضروری ہے کہ اسی عقد... اسی جگہ پر کیا کرے؟
ثمن پر قبضہ کرے، تو لہٰذا اس میں بھی استبدال جائز نہیں ہے، اسی وجہ سے۔ بھئی! بات سب کو سمجھ میں آئی کہ نہیں؟
تو کہتے ہیں: "حَيْثُ يَكُونُ هَذَا الْعَقْدُ عَقْدَ السَّلَمِ" اس حیثیت سے کہ یہ عقد جو ہے، عقدِ سلم ہو گا، "إِذِ الْعَبْدُ مُشَارٌ إِلَيْهِ مَوْجُودٌ" اس لیے کیونکہ غلام جو ہے، وہ مشارٌ الیہ ہے، موجود ہے، "فَيُسَلِّمُهُ فِي الْمَجْلِسِ" تو وہ اس کے سپرد کر دے گا اسی مجلس میں، "وَالْكُرُّ غَيْرُ مُعَيَّنٍ" اور کُر جو ہے، وہ غیر متعین ہے، کیونکہ اس نے کیا ذکر کیا تھا؟ "كُرًّا مِنْ حِنْطَةٍ" نکرہ ذکر کیا تھا، تو کُر غیر متعین ہے، "فَيَكُونُ مَبِيعًا غَيْرَ مُعَيَّنٍ" تو وہ ایسا مبیع ہے جو متعین نہیں ہے، "فَلَا بُدَّ فِيهِ أَنْ تُوجَدَ شَرَائِطُ السَّلَمِ" پس ضروری ہے اس کے اندر کہ... سلم کی شرائط پائی جائیں، "حَتَّى يَصِحَّ" تاکہ یہ صحیح ہو جائے، شرائطِ سلم پائی جائیں یہ ضروری ہے تاکہ یہ عقد کیا ہو جائے؟ صحیح، ورنہ تو فاسد ہو جائے گا۔ "فَلَا يَجُوزُ اسْتِبْدَالُهُ" تو لہٰذا اب اس کُر کو بدلنا جائز نہیں،
کُر کو بدلنا؟
جائز نہیں۔
کیوں؟ جائز کیوں نہیں؟ کہتے ہیں: "إِذْ لَا يَجُوزُ الِاسْتِبْدَالُ فِي الْمُسْلَمِ فِيهِ" اس لیے کیونکہ مسلم فیہ میں استبدال جائز نہیں ہے، بھئی! یاد رکھیے، یہ عقدِ سلم کے اندر، یہ جو خریدار ہے، اس کو کہتے ہیں رب السلم،
خریدار کو کیا کہتے ہیں؟
رب السلم۔
رب السلم، اور جو وہ ثمن حوالے کرے گا اسی مجلس میں، اس کو کہتے ہیں راس المال،
اور جس وہ جو بائع ہے، جس کے ساتھ یہ عقد کر رہا ہے، اس کو کہتے ہیں مسلم علیہ۔ مسلم علیہ۔ اور وہ چیز جس کو وہ ادا کرے گا 6 مہینے بعد، یعنی مبیعہ، اس کو کہتے ہیں مسلم فیہ۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہی بات کہہ رہے ہیں، لا يجوز الاستبدال في المسلم فيه، اس لیے کیونکہ جائز نہیں ہے مسلم فیہ، یعنی مبیعہ کے اندر استبدال۔ کیونکہ مبیعہ کے اندر ہم ضابطہ ذکر کر چکے کہ اس میں قبل القبض تصرف جائز نہیں۔ تو پچھلے مسئلے میں کر کا، و النم کا جو کر تھا، وہ ثمن تھا، اس میں استبدال جائز تھا، لیکن یہاں پر وہ کیا بن چکا؟ مبیعہ بن چکا، اس میں استبدال جائز نہیں بھئی۔ اور نیز میں نے یہ بھی ذکر کر دیا کہ یہاں غلام کے اندر، یعنی ثمن میں بھی اب تصرف جائز نہیں، کیونکہ اسی مجلس میں اس پر قبضہ ضروری ہے۔ اگر اس میں استبدال کر لے گا تو قبضہ تو نہ پایا گیا، وہ تو شرط تھی عقدِ سلم کے لیے۔
فلو قال إن أخبرتني بقدوم فلان فعبدي حر يقع على الحق، پس اگر کہا کسی شخص نے إن أخبرتني، کسی سے کہتا ہے بھئی کہنے والا، إن أخبرتني بقدوم فلان، اگر تو نے مجھے خبر دی فلاں کے آنے کی، فعبدي حر، تو میرا غلام آزاد ہے۔ يقع على الحق، تو یہ جو قسم ہے اس کی، یہ واقع ہوگی حق پر بھئی، کس پر؟ حق، یعنی سچی خبر پر۔ یہ اس کا، کلام کس پر محمول ہوگا؟ سچی خبر پر، یعنی سچی خبر دے گا تو تب اس کا غلام آزاد ہوگا، اگر جھوٹی خبر دی تو غلام آزاد نہیں۔ بھئی اس نے کیا کہا تھا؟ اگر تو نے مجھے خبر دی کہ زید آگیا ہے تو میرا غلام آزاد۔ اور خبر اس میں لفظ کیا استعمال کیا؟ أخبرتني بقدوم، باء کو لے کر آیا اور باء کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ الصاق کا، معلوم ہوا خبر دینا وہ ملا ہوا ہو کس کے ساتھ؟ آنے کے ساتھ۔ اور آنے کے ساتھ خبر کا دینا تب ہی مل سکتا ہے جب وہ آئے اور پھر یہ خبر دے، تو خبر دینا مل گیا کس کے ساتھ؟ آنے کے ساتھ۔ اور اگر وہ آیا ہی نہ ہو اور یہ خبر، جھوٹی خبر دے دے، تو جھوٹی خبر، اب خبر تو دے رہا ہے لیکن کیا یہ خبر ملتصق ہے اس کے آنے کے ساتھ؟ نہیں، وہ تو آیا ہی نہیں ہے تو ملتصق کہاں سے ہو؟ تو لہذا یہ صرف سچی خبر ہی کی صورت میں اس کا غلام، وہ سچی خبر دے گا تو پھر غلام آزاد ہوگا، جھوٹی خبر دینے پر غلام آزاد نہیں ہوگا۔ وجہ سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ اس نے کیا لفظ استعمال کیا ہے؟ باء اور باء کس کے لیے آتی ہے؟ الصاق کے لیے، معلوم ہوا خبر دینا ملا ہو کس کے ساتھ؟ آنے کے ساتھ۔ اور خبر دینا آنے کے ساتھ تب ہی مل سکتا ہے جب وہ آئے، جب آیا بھی ہے، پھر اس نے خبر بھی دی تو خبر مل گئی کس کے ساتھ؟ آنے کے ساتھ۔
فلو قال إن أخبرتني بقدوم فلان، اگر تو نے مجھے خبر دی فلاں کے آنے کی، فعبدي حر، تو میرا غلام آزاد ہے، يقع على الحق، تو یہ قسم واقع ہوگی سچی خبر پر، أي على الخبر الواقع في نفس الأمر، حق کا معنی بیان کر رہے ہیں، أي على الخبر الواقع في نفس الأمر، یعنی وہ خبر جو نفس الامر میں واقع ہو، یعنی نفس الامر میں بھی ثابت ہو بھئی، یعنی ایسا ہوا ہو پھر وہ خبر دے۔ وذلك، اور یہ اس وجہ سے، لأن الباء لما كانت للإلصاق، اس لیے کیونکہ باء جب وہ الصاق کے لیے ہے، فكان المعنى، تو کلام کا معنی یہ ہوا، إن أخبرتني خبرا ملتصقا بقدوم فلان، اگر تو نے مجھے خبر دی ایسی خبر جو ملی ہوئی ہو فلاں کے آنے کے ساتھ، فلاں کے آنے کے ساتھ، تو پھر میرا غلام آزاد ہے۔ ولا يكون ملتصقا بالقدوم إلا إذا وقع قدوم فلان، اور یہ خبر جو ہے وہ ملتصق بالقدوم نہیں ہو سکتی إلا مگر اس وقت، إذا وقع قدوم فلان، جب دوسرے کا آنا واقع بھی ہو بھئی۔ فإن أخبر بالقدوم خبرا صادقا يحنث المتكلم، اگر اس نے خبر دی آنے کی خبرا صادقا، کس قسم کی خبر؟ اگر اس نے آنے کی سچی خبر دی تو يحنث المتكلم، تو متکلم حانث ہو جائے گا، یعنی اس کا غلام آزاد ہو جائے گا، وإلا فلا، ورنہ نہیں ہوگا۔ بخلاف ما إذا قال إن أخبرتني أن فلانا قدما، بخلاف اس کے اگر اس نے یہ لفظ استعمال کیا اور یوں کہا، إن أخبرتني أن فلانا قدما فعبدي حر، جزا محذوف ہے، پچھلے کلام میں آگئی تھی اس کو دوبارہ ذکر نہیں کیا۔
بھئی ایک آدمی پہلی صورت میں اس نے کہا تھا، إن أخبرتني بقدوم فلان، اب کیا کہتا ہے؟ باء نہیں لاتا، إن أخبرتني أن فلانا قدما، اگر تو نے مجھے خبر دی کہ فلاں آگیا ہے، فعبدي حر، تو میرا غلام آزاد۔ اب اس نے باء جب استعمال نہیں کی، پہلے تو باء تھی، باء کی موجودگی کی صورت میں خبر کے الصاق ضروری تھا آنے کے ساتھ، الصاق، اب اس نے باء استعمال نہیں کی، لہذا اب الصاق بھی ضروری نہیں، جب الصاق نہیں تو اب چاہے وہ سچی خبر دے، چاہے جھوٹی خبر دے، دونوں صورتوں میں اس کا غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ وہ جا کر بھئی ابھی وہ زید آیا ہی نہیں جس کی اس نے آنے کی بات کی تھی، وہ جا کر کہتا ہے بھئی زید آگیا، خبر دے دی یا نہیں؟ اس نے بھی کہا تھا کہ اگر اس نے زید کے آنے کی خبر دے دی، چاہے جھوٹی ہی صحیح، لیکن خبر تو دے دی اور اس نے بھی کہا تھا اگر تو نے مجھے زید کے آنے کی خبر دی تو میرا غلام، تو غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو یہاں خبر کا اس کے آنے کے ساتھ ملا ہونا ضروری نہیں، کیونکہ باء لے کر نہیں آیا وہ کلام میں۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں؟
فإنه يقع على الصدق والكذب معا، اس لیے کیونکہ یہ قسم واقع ہوگی سچی اور جھوٹی دونوں پر، یعنی سچی اور جھوٹی دونوں خبروں پر، لأن مقتضى الخبر هو الإطلاق، اس لیے کیونکہ خبر کا مقتضا یہاں پر اطلاق ہے۔ یہاں خبر مطلق ہے، پچھلے میں خبر کس کے ساتھ تھی؟ باء الصاق، وہ باء تھا نا، وہ الصاق ہونا چاہیے تھا اس کا قدومِ فلاں کے ساتھ اور یہاں الصاق کی قید نہیں، کیونکہ باء نہیں ہے۔ تو یہاں خبر مطلق ہوگی بھئی، چاہے آنے کے ساتھ دے یا چاہے آنے کے بغیر ہی دے دے، یعنی جھوٹی خبر ہی دے دے۔ ولا مقتضي للعدول عنه، تو یہاں خبر کا مقتضا وہ اطلاق ہے، یعنی وہ مقید نہیں ہوگی آنے یا نہ آنے کے ساتھ، یعنی آنے کے ساتھ وہ مقید نہیں ہوگی۔ ولا مقتضي للعدول عنه، اور اس اطلاق سے عدول کا کوئی مقتضی بھی نہیں ہے۔ خبر کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ باء جب اس نے استعمال نہیں کی تو خبر کیا تقاضا کر رہی ہے؟ کیا آنے کے ساتھ ملی ہونی چاہیے یا مطلق ہو؟ مطلق ہو، تو یہاں خبر تقاضا کر رہی ہے اطلاق کا اور اطلاق سے ہم عدول کر کے کس کی طرف چلے جائیں؟ قید کی طرف، کہ خبر کس کے، اس کے آنے کے ساتھ دے گا تو آزاد ہوگا ورنہ آزاد، تو یہ اطلاق سے ہم عدول کر کے الصاق کی طرف چلے جائیں، اس کا کوئی مقتضی بھی نہیں ہے، تو اس کو اپنے اطلاق پر ہی باقی رکھیں گے، خبر اپنے اطلاق پر ہے، اب وہ چاہے سچی خبر دے، چاہے جھوٹی خبر دے، بس جب خبر دے گا کہ فلاں آگیا، یہ کہتے ہی دوسرے کا غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے، لأن مقتضى الخبر هو الإطلاق، اس لیے کیونکہ خبر کا مقتضا وہ اطلاق ہے، ولا مقتضي للعدول عنه، اور اس سے عدول کا کوئی مقتضی بھی نہیں ہے کہ ہم اطلاق سے چھوڑ کر تقیید کی طرف جائیں۔
ولا يقال، اور یہ نہ کہا جائے، یہ اعتراض نہ کیا جائے، کہ إن، یہ بھئی ایک اعتراض اور اس کا پھر آگے جواب دے رہے ہیں بھئی۔ اعتراض یہ ہوتا ہے، معترض اعتراض کرتا ہے کہ بھئی یہ کلام کیا ہے؟ إن أخبرتني أن فلانا قدما، بھئی أخبرتني، أخبرتَ فعل با فاعل ہے، نون وقایہ کا ہے اور یاء ضمیر مفعولِ اول، اور أن فلانا قدما، یہ کیا ہے؟ مفعولِ ثانی، مفعولِ ثانی۔ تو أخبرَ کے دو مفعول آئے اور دوسرے مفعول کی طرف یہ باواسطہ باء کے متعدی ہوتا ہے۔ أخبرَ پہلے ایک مفعول کو تو براہِ راست نصب دیتا ہے، دوسرے کو وہ نصب نہیں دے سکتا، وہ کس کے ذریعے متعدی ہوتا ہے؟ باء کے ذریعے، تو گویا کلام یوں ہوا، إن أخبرتني بأن فلانا، تو مفعولِ اول کو تو یہ براہِ راست نصب دے گا اور مفعولِ ثانی کی طرف کس کے واسطے سے متعدی ہوگا؟ باء کے واسطے سے، تو باء کو وہاں مقدر نکالنا پڑے گا، کیا کرنا پڑے گا؟ أن سے پہلے باء کو مقدر، جب باء کو مقدر نکالیں گے تو باء پھر وہی الصاق کا فائدہ دے دے گی، معلوم ہوا سچی خبر دینے کی صورت میں غلام آزاد ہوگا، ورنہ غلام آزاد نہیں ہوگا۔ اشکال سمجھ میں آیا؟
تو جواب دیں گے بھئی، کہ بھئی یہ جو باء کو ہم مقدر نکالتے ہیں، ٹھیک ہے آپ کی بات، ہم باء کو مقدر یہاں نکالیں گے، لیکن یہ جو باء کو مقدر نکالیں گے، یہ معنی میں ربط کے لیے ہوگا، تاکہ معنی میں ربط پیدا ہو جائے، باقی اس کے دوسرے اثرات نہیں پڑیں گے بھئی، یعنی یہاں وہ الصاق والا معنی پیدا نہیں ہوگا بھئی، صورت، یہ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟
ولا يقال، اور یہ نہ کہا جائے، یعنی یہ اعتراض نہ کیا جائے، أن تأدية الأخبار لا يكون إلا بالباء، کہ اخبار جو فعل ہے، یہ اس کو متعدی کرنا نہیں ہوگا مگر باء کے ذریعے ہی، یعنی یہ دوسرے مفعول کی طرف کس کے ذریعے متعدی ہوگا؟ باء کے ذریعے، فيكون التقدير، تو تقدیرِ کلام یوں ہوئی، إن أخبرتني بأن فلانا قدما، دیکھو باء نکال لی، فكان كالأول، تو یہ کلام بھی پہلے کلام کی طرح ہوا، وہاں باء تھی، یہاں بھی باء آگئی، تو وہاں پر سچی خبر کے ساتھ مقید تھی خبر، تو یہاں بھی سچی خبر ہونی چاہیے۔ تو جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں یہ اعتراض نہ کیا جائے، لأنا نقول، اس لیے کیونکہ ہم کہتے ہیں، تقدير الباء لا يكفي إلا لسلاسة المعنى دون تأثيراته الأخر، کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ باء کو مقدر نکالنا وہ کافی نہیں ہے مگر لسلاسة المعنى، سلاست کہتے ہیں روانی کو، ربط کو، روانی اور ربط، کہتے ہیں تقدیرِ باء وہ کافی نہیں ہے مگر معنی کے ربط کے لیے، یہ ہم باء کیوں نکالتے ہیں؟ معنی میں ربط دینے کے لیے، دون تأثيراته الأخر، نہ کہ اس کی دوسری تاثیر، دوسری چیزوں میں یہ اثر انداز نہیں ہوگا بھئی، الصاق وغیرہ کے یہاں معنی کا فائدہ نہیں دے گا۔
یہ ایک جواب دیا مصنف نے، کہ معترض نے کہا تھا بھئی باء کو یہاں مقدر نکالنا پڑے گا کیونکہ أخبرَ کیا کرتا ہے؟ ایک مفعول کو نصب دیتا ہے اور دوسرے پر کیا لے کر آتے ہیں؟ باء، اس کو وہ نصب نہیں دیتا، وہاں باء لانی پڑتی ہے۔ مصنف شارح نے اعتراض بھی کیا اور پھر جواب دیتے ہوئے تسلیم کر لیا کہ ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے، باء نکالنا پڑے گی، لیکن اس سے کوئی الصاق وغیرہ کے معنی کا فائدہ نہیں ہوگا، وہ صرف معنی میں ربط دینے کے لیے ہے۔ یہ تو تسلیمی جواب تھا، اعتراض تسلیم کیا اور پھر اس کا جواب دیا۔ لیکن محشی جواب دیتے ہیں بھئی کہ نہیں، باء کو نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، أخبرَ براہِ راست بھی دو مفعولوں کو نصب دے دیتا ہے۔ أخبرَ کیا کرتا ہے؟ بھئی ایک مفعول تو یاء ضمیر متکلم کی ہے، اس کو تو نصب دے رہا ہی ہے، أن فلانا قدما، اس کو بھی کیا کرے گا؟ نصب دے دے گا، کیونکہ أخبرَ جیسے باء کے ذریعے متعدی ہوتا ہے مفعولِ ثانی کی طرف، اس طرح بغیر باء کے بھی متعدی ہو جاتا ہے بھئی۔ جواب سمجھ میں آیا؟ جی، تو یہ محشی جواب دیتے ہیں بھئی، اور لغت وغیرہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے بھئی، لغت میں بھی دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ أخبرَ واقعی کبھی دوسرے مفعول کی طرف باواسطہ باء کے متعدی ہوتا ہے اور کبھی بغیر باء کے ہی اس کو سیدھا نصب دے دیتا ہے۔
ولو قال، اور اگر یہ کہا، إن خرجت من الدار إلا بإذني، خاوند بھئی اپنی بیوی سے کہتا ہے، إن خرجت من الدار، اگر تو اس گھر سے نکلی، إلا بإذني، مگر میری اجازت سے، تو آگے جزا محذوف کر دی کہ پھر تجھے طلاق ہے۔ تو اب دیکھیے، بإذني میں خاوند کیا لے کر آیا؟ باء، اور باء کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ الصاق، معلوم ہوا، اس عورت کا خروج جب بھی گھر سے پایا جائے، اس کو ملا ہوا ہونا چاہیے کس کے ساتھ؟ اجازت کے ساتھ، بإذني، خاوند کی اجازت سے، یعنی خاوند سے اجازت جب بھی نکلنے لگے، اجازت کو اس خروج کے ساتھ ملا ہوا ہونا چاہیے، پہلے اجازت لے پھر نکل جائے، تو اب اجازت جب لے لے گی اور پھر خروج آیا، تو خروج کا الصاق کس کے ساتھ ہوا؟ اجازت، دونوں پائے جا رہے ہیں اکٹھے ہی بھئی۔ تو جب بھی نکلے گی اجازت لینا ضروری، اگر بغیر اجازت کے جب بھی نکلے گی، تو خروج تو پایا گیا اور الصاقِ اجازت ہے؟ نہیں، اجازت کا ملنا نہیں، تو فوراً کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔ معنی سمجھ میں آگیا؟
تو کہتے ہیں اگر یوں کہا خاوند نے، إن خرجت من الدار إلا بإذني، اگر تو اس گھر سے نکلی مگر میری اجازت کے ساتھ، يشترط تكرار الإذن لكل خروج، تو شرط لگائی جائے گی اجازت کے تکرار کی ہر خروج، ہر نکلنے کے لیے، جب بھی نکلے گی کیا ضروری؟ اجازت۔ لأن معناه، اس لیے کیونکہ اس کلام کا معنی یہ ہوا، إن خرجت من الدار فأنت طالق إلا خروجا ملتصقا بإذني، إن خرجت من الدار، اگر تو گھر سے نکلی، فأنت طالق، تو تجھے طلاق ہے، إلا خروجا ملتصقا بإذني، مگر ایسا نکلنا جو ملا ہوا ہو میری اجازت سے، اس کا استثناء کر دیا، اس صورت میں تجھے طلاق نہیں۔ جب بھی مجھ سے اجازت لے کر نکلے گی تو تجھے طلاق نہیں، اس کا إلا کے ذریعے اس کا استثناء کر دیا، جبکہ اس کے بغیر، بغیر اجازت کے جب بھی نکلے گی اسے کیا ہو جائے گی؟ طلاق۔
دیکھیے، إلا کے بعد بإذني تھا صرف متن میں، شارح نے کیا کیا؟ إلا خروجا ملتصقا بإذني بھئی، اس کو نکالا اس سے پہلے بھئی، اور خروج نکرہ ہے، اور نکرہ ہے اور اس کی صفت کیا لائے؟ ملتصقا بإذني، یہ کیا ہے اس کی؟ صفت۔ تو خروج نکرہ ہے اور نکرہ کی صفت، صفتِ عامہ آگئی، اور آپ پہلے پڑھ چکے کہ نکرہ سیاقِ اثبات میں جب اس کی صفت، صفتِ عامہ لائی جائے تو وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ نکرہ کہاں آئے؟ بھئی نکرہ تحت النفی تو عموم کا فائدہ دیتا ہی ہے، وہ تو مشہور ضابطہ ہے، سیاقِ اثبات میں، اثبات کے مقام میں اگر نکرہ آئے اور کیا ا جائے اس کی؟ صفتِ عامہ، تو وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا۔ بھئی پیچھے مثال گزری تھی، مثلاً ایک شخص کہتا ہے، واللہ لا أكلم أحدا إلا رجلا كوفيا، چلو پہلے كوفيا کو ذرا ہٹاؤ، واللہ لا أكلم أحدا إلا رجلا، واللہ میں کسی ایک سے بھی بات نہیں کروں گا إلا رجلا سوائے ایک آدمی کے، تو اب استثناء کتنے کا ہوا؟ ایک آدمی، ایک آدمی سے بات کرنے کی اجازت ہے، جب وہ ایک آدمی سے بات کر لے گا، قسم پوری ہوگئی، اب اگر کسی اور سے کرے گا، فوراً کیا ہو جائے گی؟ قسم ٹوٹ جائے گی، حانث ہو جائے گا۔ لیکن تو یہ رجلا آیا، اور یہ رجلا مقامِ اثبات میں ہے، مقامِ نفی میں ہے؟ بھئی یہ مقامِ اثبات میں ہے، ماقبل میں تو نفی ہے، واللہ لا أكلم أحدا، لیکن إلا نے کیا کیا اس نفی کو؟ اس نے توڑ دیا اس نفی کو، ختم کر دیا اس نفی کو۔ تو اور کسی سے بات کی اجازت نہیں، ایک آدمی سے بات کی اجازت ہے، تو دیکھو مقامِ اثبات میں آیا، اب اس کی صفتِ عامہ لے آئیں ذرا، كوفيا، تو اب دیکھیے کیا ہوا کلام؟ واللہ لا أكلم أحدا إلا رجلا كوفيا، واللہ میں کسی سے بات نہیں کروں گا مگر کس سے؟ کوفہ والے آدمی سے، اب صفتِ عامہ آئی تو اب یہ عموم کا فائدہ، پہلے صرف ایک آدمی سے کلام کی اجازت تھی، اب کوفہ کے ہر آدمی سے کلام کی اجازت ہوگئی، میں کسی سے کلام نہیں کروں گا سوائے کوفہ کے مردوں سے، تو اب صرف کس سے کلام کر سکتا ہے؟ اب کوفہ کے تمام مردوں سے وہ کلام کر لے پھر بھی حانث نہیں ہوگا، کیونکہ وہ ان کا استثناء کر چکا ہے، تو معلوم ہوا نکرہ موضعِ اثبات میں آئے اور اس کی صفتِ عامہ ا جائے، تو اس میں کیا ا جاتا ہے؟ عموم۔ تو یہاں بھی خروج نکرہ ہے اور مقامِ اثبات میں ہے، نفی تو یہاں کہیں ذکر ہی نہیں ہے، نہ ماقبل میں اور نہ مابعد میں۔ تو لہذا خروجا إلا کے بعد آیا، اب یہ مقامِ اثبات میں ہے اور اس کی صفات ملتصقا بإذني صفتِ عامہ لائی گئی، تو یہ عموم کا فائدہ دے گا، معلوم ہوا کہ ہر وہ خروج مستثنیٰ ہوگیا جس میں اجازت ہو۔
و عورت کو خروج پر طلاق ہے لیکن ہر وہ خروج مستثنی ہے جس کے ساتھ کیا ملی ہوئی ہو؟ معلوم ہوا اس صورت میں طلاق نہیں۔ جب بھی وہ اجازت لے کر نکلے گی اسے طلاق نہیں۔ اور اگر اجازت کے بغیر نکلی پھر کیا ہو جائے گی؟ طلاق۔ تو کہتے ہیں و وہ نکرۃ موصوفہ فی الاثبات اور یہ نکرہ ہے، موصوفہ ہے اثبات کے اندر۔ فتح عموم بمعموم صفت، پس یہ عام ہوگا عموم صفت کے ساتھ، فیحرم ما سواہ۔ پس حرام ہوں گی اس کے علاوہ یعنی اس خروج کے علاوہ۔ اس خروج کے علاوہ باقی خروج حرام ہوں گے اور اس پر طلاق واقع ہوگی۔ اس خروج کے علاوہ، کون سے خروج کے علاوہ؟ جس میں اجازت ہو۔ ان کے علاوہ۔ فیحیث ما تغترج خروج بلا اذنہ تکون طالقا، پس جب بھی وہ نکلے گی اس کی اجازت کے بغیر تو وہ طلاق والی ہو جائے گی۔ و لعلہ فیما لم توجد قرینہ یمین الفور۔ شارح فرما رہے ہیں کہ شاید یہ اس صورت میں ہے جب یمین الفور کا قرینہ نہ پایا جائے۔ یمین الفور یاد ہے یا نہیں بھئی؟ سخت غضب کی حالت میں اگر خاوند کوئی قسم وغیرہ اٹھاتا ہے تو اس کو اسی حالت پر محمول کیا جاتا ہے۔ لڑائی جھگڑے کے اندر عورت گھر سے نکلنے لگی، خاوند نے کہا اگر تو گھر سے نکلی تو تجھے طلاق ہے۔ اگر لفظوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کلام تو عام اس نے کیا۔ گھر سے نکلی تو تجھے طلاق۔ ابھی نکلے، پھر بھی طلاق ہوگی۔ دس دن بعد نکلے، پھر بھی کیا ہوگی؟ طلاق۔ کیونکہ اس نے طلاق کو کس سے معلق کر دیا ہے؟ گھر سے نکلنے سے۔ لیکن علماء کیا فرماتے ہیں کہ یہ یمین فور ہے، یعنی جو سخت غوسے اور غضب کی حالت میں کھائی ہے خاوند نے اور یہ اسی حالت پر محمول ہوتی ہے۔ معلوم ہوا یہ خاوند ہر خروج کو نہیں روکنا چاہتا، صرف اس وقت یہ جو نکل رہی ہے متعین خروج ہے اس کو روکنا چاہتا ہے۔ لہذا اسی پر محمول ہوگی اور لہذا وہ عورت اگر کچھ دیر ٹھہر گئی یہاں تک کہ خاوند کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا پھر نکلے گی تو اسے طلاق نہیں ہوگی بھئی۔ تو شارح فرما رہے ہیں کہ یہاں انہوں نے یمین فور کی بات ہی نہیں کی۔ خاوند نے کیا کہا؟ ان خرجت من الدار الا باذنی۔ تو یہاں اگر یمین فور پر محمول کرتے تو کیا معنی ہوتا کلام کا؟ کہ ایک مرتبہ نکلنے سے لے کر جائے تو طلاق ہو۔ اس وقت جو تو نکل رہی ہے، اس وقت اگر تو میری اجازت کے بغیر نکلی تو تجھے طلاق۔ بعد والوں کی بات ہی کوئی نہیں۔ صرف اس متعین خروج کی بات ہو رہی ہے۔ یہ کس صورت میں ہے؟ یمین فور۔ تو شارح فرماتے ہیں ماتن نے یمین فور کی بات ہی نہیں کی۔ کہتے ہیں شاید یہ اس صورت میں ہے جب یمین فور کا کوئی قرینہ موجود نہ ہوگا۔ پھر اس صورت میں یہ با اپنا فائدہ دے گی اور ہر خروج کا ملحق بلسن ہونا ضروری ہو جائے گا۔ جب یمین فور کا کوئی قرینہ نہ ہو۔ یعنی غضب غصے والی حالت ہی نہیں ہے، لڑائی ہے ہی نہیں تو اس وقت بھئی۔ یا یمین فور کا بھی قرینہ ہو، لیکن با کا جو با جو ہے، اس کی رعایت غالب ہو اس پر۔ یمین فور پر کس کی رعایت غالب ہو؟ با کی رعایت غالب ہو تو اس صورت میں ہوگا۔ بھئی ایک طرح یمین فور ہے وہ کہتی ہے بتلاتی ہے کہ صرف اسی خروج میں کیا ہوگی؟ بغیر اجازت کے نکلی تو طلاق، بعد والوں کی بات ہی نہیں۔ اور ایک طرف با، با بتلا رہی ہے کہ نہیں جب بھی نکلنا ہو، کس کے ساتھ نکلنا ضروری ہوگا؟ اجازت سے۔ تو یہ کہتے ہیں اس صورت میں ہے جب با کی رعایت یمین فور پر غالب ہو بھئی۔ پھر یہ مسئلہ اس طرح ہوگا۔ کہتے ہیں و لعلہ فیما لم توجد قرینہ یمین الفور، اور شاید یہ مسئلہ جو ہے یہ صورت جو ہے اس وقت ہے جب نہ پایا جائے یمین فور کا قرینہ، یعنی صرف یمین فور کا قرینہ ہی نہ ہو، یعنی خاوند کا غصہ ہی نہ ہو۔ او تکون رعایت رعایت البائی او تکون رعایت البا غالبۃ علیہا، یا جس وقت کہ با کی رعایت اس یمین فور کے قرینے پر غالب ہو۔ بخلاف قولہ، الا ان آذن لکی۔ بخلاف خاوند کے اس قول کے اندر الا ان آذن لکی۔ بھئی الا باذنی کی بجائے خاوند کیا کہتا ہے؟ الا ان آذن لکی۔ مثلاً یوں کہتا ہے ان خرجت من الدار فانت طالق الا ان آذن لکی۔ تو کہ تو گھر سے نکلی تو تجھے طلاق ہے، مگر یہ کہ میں تجھے اجازت دے دوں۔ اب با کو لے کر آیا؟ با کو نہیں لایا۔ لہذا اب ہر خروج کا ملحق بلسن ہونا ضروری نہیں۔ لہذا جب ایک دفعہ اجازت لے لے گی تو خاوند کی بات پوری ہو گئی۔ اب وہ نکلی ہے، اجازت لے کر نکلی ہے یا بغیر اجازت کے؟ اجازت لے کر نکلی ہے، لہذا اس کو طلاق نہیں ہوگی۔ اور خاوند نے بھی یہی کہا تھا کہ اگر میری اجازت کے بغیر نکلی تو طلاق ہے، میری اجازت کے ساتھ نکلی تو پھر طلاق نہیں۔ وہ قسم پوری ہو گئی۔ اس کے بعد اب وہ بغیر اجازت کے بھی نکلے، تو قسم پوری ہو چکی ہے۔ لہذا اب پھر اس پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔ ایقول یعنی یوں کہے خاوند ان خرجت من الدار اگر تو گھر سے نکلی الا ان آذن لکی مگر یہ کہ میں تجھے اجازت دے دوں۔ فانت طالق تو تجھے طلاق ہے۔ تو فانہ لا یشترط تکرار الاذن فیہ لکل خروج، پس اس صورت میں شرط نہیں لگائی جائے گی اجازت کے تکرار کی ہر خروج کے لیے۔ بل اذا وجد الاذن مرۃ یکفی، بلکہ جب پائی جائے اجازت ایک مرتبہ تو یہ کافی ہے لعدم الحنث، حانث نہ ہونے کے لیے۔ بھئی قسم پوری ہو جائے گی نا۔ خاوند نے کیا کہا تھا؟ اگر تو نکلی تو تجھے طلاق ہے مگر یہ کہ تو مجھ سے اجازت لے۔ اس نے اجازت لے لی یا نہیں لے لی؟ اجازت لے لی تو بات پوری ہو گئی، اب طلاق پھر بعد میں نکلتی بھی رہے بغیر اجازت کے تو پھر حانث نہیں ہوگا وہ۔ لان البا لیست بموجودۃ فیہ، اس لیے کیونکہ با اس کے اندر موجود نہیں ہے، والاستثناء لیس بمستقیم، اور یہاں استثناء بھی ہم نہیں کر سکتے بھئی۔ الا ان آذن لکی، اس کا استثناء بھی درست نہیں ہے بھئی۔ اچھا کیونکہ ما قبل میں خروج کا ذکر ہے اور الا کے بعد اجازت کا ذکر ہے، بھئی مستثنی تب صحیح استثناء تبھی صحیح ہوتا ہے نا جب مستثنیٰ، مستثنیٰ منہ کی جنس میں سے ہو۔ اگر یہ اس کی جنس سے ہی نہ ہو تو مستثنیٰ بھی صحیح نہیں۔ تو یہاں ما بعد میں کس چیز کا ذکر؟ اجازت کا۔ اور ما قبل میں کس چیز کا ذکر؟ خروج کا ذکر تو دو الگ الگ چیزیں ہیں، تو استثناء بھی صحیح نہیں بنتا۔ والاستثناء لیس بمستقیم، اور استثناء بھی درست نہیں ہے، لان الاذن لا یجانس الخروج، اس لیے کیونکہ اجازت وہ خروج کے مجانس نہیں ہے یعنی اس کی جنس میں سے نہیں ہے۔ فیکون بمعنی الغایۃ، تو لہذا یہاں پر است الا ان کس معنی میں ہو جائے گا؟ غایت کے معنی میں ہو جائے گا۔ والغایۃ یکفی وجودہا مرۃ، اور غایت کا وجود ایک مرتبہ بھی کافی ہے۔ فترتفع حرمۃ الخروج بوجود الاذن مرۃ، پس خروج کی حرمت وہ اٹھ جائے گی ایک مرتبہ کی پا اجازت کے پائے جانے سے بھی۔ ایک مرتبہ بھی اجازت پائی جائے، پائی جائے تو خروج کی حرمت اٹھ جائے گی۔ بھئی یہ الا کو پھر الی کے معنی میں لے لیں گے۔ آپ نے پڑھا ہے یا نہیں پیچھے مسائل کے اندر بھئی؟ کہ او کبھی کبھار حتی یا الا ان کے معنی میں آتا ہے غایت بتلانے کے لیے بھئی، کیا بتلانے کے لیے؟ غایت بتلانے کے لیے لالتزمنک او تعطیانی حقی میں تیرے ساتھ لازم رہوں گا یہاں تک کہ تو مجھے میرا حق دے دے۔ یہاں او کو ہم نے کس معنی میں لیا تھا؟ حتی یا الا ان کے معنی میں بھئی۔ غایت بتلانے کے لیے، تو یہاں پر بھی الا جو ہے وہ کس معنی کا فائدہ پھر دے گا؟ استثناء کے لیے تو یہ ہو نہیں سکتا، تو پھر کس معنی میں لے لیں گے؟ غایت کے معنی میں لے لیں گے یعنی تجھے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں۔ تیرا گھر سے نکلنا حرام ہے اور اس کی غایت کیا ہے؟ انتہا کس پر ہوگی؟ کہ تو مجھ سے اجازت لے لے تو جب اجازت لے لے گی تو غایا پایا گیا لہذا بات کیا ہوئی خاوند کی؟ پوری ہو گئی، اب عورت نکلے گی تو اسے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی فیکون بمعنی الغایۃ، تو یہ الا جو ہے یہ غایہ کے معنی میں ہوگا۔ غایہ کے معنی میں۔ والغایۃ یکفی وجودہا مرۃ، اور غایہ کا وجود ایک مرتبہ بھی کافی ہے۔ فترتفع حرمۃ الخروج بوجود الاذن مرۃ، پس اٹھ جائے گی خروج کی حرمت ایک مرتبہ بھی اجازت کے پائے جانے سے۔ و یعتراض علیہ، اور اس پر اعتراض کیا گیا ہے بانہ تقدیر الغایۃ تکلف کہ غایہ کی تقدیر یہ تکلف ہے، والاولٰی تقدیر البا، اور بہتر کیا ہے؟ تقدیر البا۔ بھئی آپ نے تکلف کیا الا کو استثناء کے معنی میں لینے کے بجائے غایہ کے معنی میں لے گئے بھئی۔ کس کے معنی میں؟ غایہ کے معنی میں لے گئے اور بہتر تو تھا تقدیر البا کیا کون سی تقدیر بہتر تھی؟ کہ یہاں با مقدر نکالتے فیکون تو ای الا ان آذن لکی کس معنی میں ہوتا؟ الا بن آذن لکی۔ با کو مقدر نکالتے۔ جب با کو نکالتے تو فیکون المعنی پھر بھی عینی وہی اوپر والی صورت بن جاتی۔ باذنی، باذنی کے لیے ہم نے کیا نکالا تھا؟ خروجا ملصقا تو یہاں بھی با جب مقدر نکالیں گے الا بن آذن لکی تو پھر اس با کے لیے بھی کیا نکالنا پڑے گا؟ خروجا ملصقا نکالنا پڑے گا۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں فیکون المعنی تو کلام کا معنی یہ ہو جائے گا الا خروجا بن آذن لکی، مگر ایسا خروج کہ جس ملحق ہو میری اجازت کے ساتھ۔ فیکون مالہ و مال قولہ الا باذنی واحدا، تو اس صورت میں اس قول کا مال اور مصنف کے اوپر اس شخص کے اس قول کا مال جو اوپر ذکر ہوا تھا الا باذنی ان دونوں کا مال کیا ہو جائے گا؟ ایک بھئی۔ مال لوٹنے کی جگہ یعنی نتیجہ یوں کہو نتیجہ، دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہوگا الا باذنی کے اندر کیا سورۃ تھی؟ کہ ہر مرتبہ نکلتے ہوئے اجازت ضروری تھی۔ یہاں بھی با نکال لی تو یہاں بھی ہر مرتبہ نکلتے ہوئے اجازت ضروری ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ایک اعتراض کیا گیا۔ فیشترط تکرار الاذن لکل خروج، تو جب دونوں کا مال ایک ہوا تو شرط لگ جائے گی اجازت کے تکرار کی لکل خروج ہر نکلنے کے لیے۔ او یقال، یا یوں کہا جائے کہ ان المضارع مع ان بتأویل المصدر، کہ فعل مضارع مع ان کس کے ساتھ؟ ان کے ساتھ بتأویل المصدر یہ مصدر کی تاویل میں۔ آپ جانتے ہیں بھئی فعل پر جب ان داخل ہو جائے تو اس کو کس معنی میں کر دیتا ہے؟ مصدر، تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ یہ ان کے ساتھ مصدر کی تاویل میں ہے والماستر قد یقع حین، اور مصدر کبھی کبھار وقت بھی واقع ہوتا ہے۔ کیا واقع ہوتا ہے؟ وقت۔ کما یقال، جیسے عربی میں کہتے ہیں آتیک خفوق النجم۔ خفوق کا معنی غروب ہونا، ڈوبنا۔ میں آؤں گا تیرے پاس خفوق النجم ستارے کا ڈوبنا، کیا معنی ستارے کا ڈوبنا؟ ای وقت خفوق خفوق النجم، یعنی ستارے کے ڈوبنے کے وقت میں، تو دیکھو یہاں پر بھی مصدر میں وقت کا معنی آیا، تو جب مضارع بھی اوپر ان کے ساتھ کس تاویل میں ہوا؟ مصدر کی تاویل میں ہوا تو وہاں بھی کون سا معنی آ جائے گا؟ وقت والا معنی آ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ دیکھیے ابھی مزید تفصیل آ رہی ہے۔ تو کہتے ہیں مصدر بھی کبھی کبھار وقت واقع ہوتا ہے کما یقال آتیک خفوق النجم ای وقت خفوقہ، اس کے ڈوبنے کے وقت آؤں گا۔ فیکون المعنی، تو معنی کلام کا یہ ہوا لا تخرج کہ تو نہ نکل وقتا کسی بھی وقت الا وقت الاذن۔ ان آذن کو کیا بنا دیا؟ مصدر۔ اذن۔ اور اس کے ساتھ کیا لفظ نکال لیا؟ وقت، کیونکہ مصدر کس معنی میں ہوتا ہے کبھی؟ وقت کے معنی میں تو الا وقت الاذن، مگر میری اجازت کے۔ یعنی تو نہ نکل گھر سے مگر میری اجازت کے وقت، یعنی جب بھی نکلے گی، جس وقت بھی نکلے گی، کیا ضروری میری؟ میری اجازت ضروری۔ تو بات تو وہی ہو گئی تو ایک صورت یہ ہے کہ یہاں تو ان آذن لکی سے پہلے با نکال لو، جب با نکال لیں گے تو پھر اس صورت میں یہ کلام بعینہ پہلے کلام کی طرح ہو جائے گا۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ ان آذن لکی یہ مصدر بن جائے گا اور مصدر کا بھی کس معنی میں ہوتا ہے؟ وقت کے معنی میں تو یہاں وقت کا معنی آ جائے گا ای لا تخرج فی لا تخرج وقتا تو نہ نکل کسی بھی وقت بھئی مستثنی منھ نکالنا ہے یا نہیں؟ ما بعد میں تو ہم نے وقت نکال لیا تو اس کے لیے ما قبل میں کیا نکالیں گے پھر؟ وقت اسی کے جنس سے عام مستثنی منھ نکالا جاتا ہے۔ اصل میں تو یوں بن گیا نا، لا تخرج الا وقت الاذن۔ اور وقت الاذن، یہ مستثنی ہے، مستثنی کے لیے کیا چاہیے؟ مستثنی منھ، تو وہ اسی کی جنس سے ما قبل میں ایک عام مستثنی منھ بنا لیتے ہیں۔ تو ما قبل میں بھی وقتا نکرہ نکال لیا، عام۔ تو یہ، تو اس صورت میں بھی اب کلام کا وہی معنی ہوا کہ تو کسی بھی وقت گھر سے نہ نکل، مگر اس وقت جب جب میری اجازت ہو۔ تو ہر خروج کے لیے کیا ضروری ہو گئی؟ اجازت، یہ اعتراض ہوئے۔
وُأُجِيبَ عَنِ الْأَوَّلِ اور جواب دیا گیا پہلے اعتراض سے، بِأَنَّ تَقْدِيرَ قَوْلِهِ قَوْلِهِ إِلَّا خُرُوجًا بِأَنْ آذَنَ لَكِ كَلَامٌ مُخْتَلٌّ لَا يُعْرَفُ لَهُ وَجْهُ صِحَّةٍ.
جواب دیا گیا بھئی پہلے اعتراض کا کہ اس شخص، اس خاوند کے قول کی تقدیر کس طرح کرنا إِلَّا خُرُوجًا بِأَنْ آذَنَ لَكِ، یہ کیا مقدر نکالو، با اور با سے پہلے پھر کیا نکالنا پڑے گا خروج۔ تو یہ جو تقدیر ہے إِلَّا خُرُوجًا بِأَنْ آذَنَ لَكِ، كَلَامٌ مُخْتَلٌّ، یہ کلام اختل ہے اس میں خلل ہے، خرابی ہے۔ لَا يُعْرَفُ لَهُ وَجْهُ صِحَّةٍ، اس کے صحیح ہونے کی صورت معلوم نہیں ہوتی بھئی۔ یہ صحیح ہونے کی صورت معلوم نہیں ہوتی۔
یعنی کوئی صورت نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے یہ کلام صحیح ہو جائے۔ کوئی ایسی صورت نہیں، یہ کلام مختل ہے، اس میں خلل ہے، اس کے صحیح ہونے کی صورت معلوم نہیں، یہ کس طرح صحیح ہو سکتا ہے، یہ کلام ہی درست نہیں ہے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ کلام ذکر کیا کہ یہ یہ جو بات ذکر کی نا کہ یہ کلام مختل ہے۔ اپ با نکالیں اور پھر با سے پہلے خروج نکالیں تو یہ کلام کیا ہے؟ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔ وہ فرماتے ہیں یہ کلام کیا ہے؟ مختل ہے اور وہ جیسے فقہ کے امام، اسی طرح عربی لغت کے بھی امام ہیں، وہ فرما رہے ہیں یہ کلام مختل ہے بھئی۔ اور ان کی بات معمولی نہیں۔ ان سے ہی تو ہم لغت کی باتیں لیتے ہیں، وہ تو امام ہیں لغت کے بھئی۔ تمام علماء کا اتفاق ہے بھئی۔
تو وہ فرما رہے ہیں یہ کلام مختل ہے۔ انہوں نے صرف اتنا ذکر کیا اور کچھ نہیں ذکر کیا۔ کیا خرابی کیا ہے اس کلام کے اندر، کس وجہ سے یہ مختل ہے، یہ ذکر نہیں کیا۔ تو علماء نے مختلف صورتیں ذکر کیں۔ ایک صورت جو محشی ذکر کرتے ہیں کہ بھئی دیکھیے! پیچھے جو کلام تھا نا إِلَّا بِإِذْنِي، وہاں ہم نے خُرُوجًا کو نکالا تھا، اس لیے کیونکہ با آئی ہے اور با کے لیے کیا چاہیے، ملتصق تو ضرور چاہیے، تو وہاں ہمیں خروج کو پہلے نکالنا پڑا، خُرُوجًا مُلْتَصِقًا بِالْإِذْنِ، تو وہاں، لیکن یہاں پر تو با ہے ہی نہیں۔ جب با ہے ہی نہیں، تو لہٰذا یہاں پر اب جب با نہیں ہے، تو ملتصق کو نکالنے کی ضرورت بھی نہیں ہے بھئی۔
اچھا، تو لہٰذا یہاں وہاں پر جب خروج نکالا تھا، تو استثناء صحیح ہوا تھا اور یہاں با ہے ہی نہیں۔ اور اپ خروج نکالتے ہیں، گویا کہنا یہ چاہتے ہیں اپ کہ یہاں خروج کو بھی حذف کیا گیا اور با کو بھی کیا کیا گیا؟ حذف۔ بھئی پچھلی مثال میں تو خروج کو حذف کرنا ٹھیک تھا، کیوں؟ کیونکہ با اس پر دلالت کر رہی تھی۔ با چاہتی تھی میرے لیے کوئی ملتصق چاہیے، با ہی بتلا رہی تھی یہاں ایک ملتصق محذوف ہے، وہ ہم نے کیا نکالا تھا؟ خروج۔ یہاں تو کوئی ایسی چیز ہی نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرے کہ یہاں کیا حذف ہوا ہے؟ خروج حذف ہوا ہے، پھر اپ کیا کرتے ہیں، تو لہٰذا یہاں پر خروج کو نکالنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ تقریر سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو لہٰذا اگر اپ یہ کہتے ہیں کہ بھئی یہاں پر بھی خروج محذوف ہے، تو پھر اس کی تو کوئی دلیل نہیں ہے، کس دلیل کی بنیاد پر اپ کہتے ہیں کہ خروج محذوف ہے؟ پچھلی مثال میں تو با دلیل موجود تھی، با بتلا رہی تھی کہ یہاں کیا محذوف ہے؟ با کے لیے ملتصق ضرور چاہیے، تو اس ملتصق کو خروجاً ہم نے نکالا وہاں، یہاں تو کوئی دلیل نہیں، کس بناء پر اپ کہتے ہیں کہ خروج کیا ہے؟ محذوف ہے۔ پہلے با کو نکالتے ہیں، پھر با کے لیے آگے کیا نکالتے ہیں، خروج کو نکالتے ہیں، تو یہ درست نہیں ہے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ یہ تو پہلے اعتراض کا جواب تھا بھئی، انہوں نے کہا با نکالیں اور پھر یہ اس صورت میں خروجاً، ہر خروج کے ساتھ اجازت ضروری ہو جائے گی۔
اور دوسرا اشکال کیا تھا؟ کہ یہاں کون سا لفظ نکال لیں؟ وقت والا لفظ نکال لیں، وقت کا لفظ نکال لیں یا یہ مصدر ہی وقت کے معنی میں ہوا تو اس میں بھی اجازت ضروری ہوئی، تو کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے، اپ کی بات مان لیں۔
تو یہاں گویا دو صورتیں بن گئیں۔ ایک صورت یہ بنتی ہے کہ وقت کو نکالا جائے، ایک صورت بنتی ہے کہ وقت کو مصنف نے تقریر کی کہ وقت نہیں نکالیں گے۔ اپ نے کیا کہا، کیا نکال لیں؟ وقت نکال لیں۔ اگر وقت نہ نکالیں تو صرف ایک دفعہ اجازت کے بعد دوبارہ بغیر اجازت کے نکلے گی تو طلاق واقع نہیں ہوگی، اور اگر وقت کو نکالیں تو پھر دوسری دفعہ بغیر اجازت کے نکلے گی تو کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو طلاق میں شک اگیا، اس قول کی طرف دیکھیں تو طلاق واقع ہوتی ہے، دوسرے قول کی طرف دیکھیں تو طلاق واقع نہیں ہوتی، ایک قول کے اعتبار سے طلاق واقع ہوتی ہے، ایک اعتبار کی سے طلاق واقع نہیں ہوتی، تو وقوع طلاق میں شک اگیا اور شک کی وجہ سے تو طلاق واقع نہیں ہوتی، نتیجہ پھر بھی وہی رہے گا بھئی کہ دوسری مرتبہ نکلنے کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی۔
اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی؟
وَعَنِ الثَّانِي اور دوسرے جواب اعتراض سے یہ جواب دیا، بِأَنَّهُ يَحْنَثُ حِينَئِذٍ إِنْ خَرَجَتْ مَرَّةً بِلَا إِذْنٍ کہ اس صورت میں وہ خاوند کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا اس وقت، إِنْ خَرَجَتْ مَرَّةً بِلَا إِذْنٍ اگر وہ نکلی ایک مرتبہ بغیر اجازت کے۔ وَعَلَى التَّقْدِيرِ الْأَوَّلِ یہ تو کون سی صورت میں ایک مرتبہ بغیر اجازت کے نکلی، جب کون سا لفظ نکالا اپ نے؟ وقت والا۔ وَعَلَى التَّقْدِيرِ الْأَوَّلِ اور پہلی تقدیر پر، جب وقت کا لفظ ہم نے نہیں نکالا تھا جیسا متن میں ذکر ہوا، تو لَا يَحْنَثُ، اس صورت میں خاوند حانث نہیں ہو گا۔ تو ایک اعتبار سے حانث ہو رہا ہے، دوسرے اعتبار سے حانث نہیں ہو رہا، شک اگیا، فَلَا يَحْنَثُ بِالشَّكِّ، تو شک کی وجہ سے وہ حانث نہیں ہوگا۔
اب پھر اعتراض کرتے ہیں کوئی، کس نے اعتراض کیا، اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ بعینہ یہی عبارت ہے جو اپ کے متن میں آئی، کہ داخل نہ ہو تم پیغمبر کے گھروں میں إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ، الا کے بعد کیا آیا؟ أَنْ يُؤْذَنَ، اور وہاں پر علماء لکھتے ہیں کہ پیغمبر کے گھر میں جب بھی داخل ہونے لگیں، اجازت ضروری۔ دیکھو ہر دخول کے لیے کیا ضروری؟ اجازت، تو یہاں بھی ہر خروج کے لیے کیا ہونی چاہیے؟ اجازت ہونی چاہیے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟
تو اس کا جواب دے رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: وَأَمَّا وُجُوبُ الْإِذْنِ لِكُلِّ دُخُولٍ اور باقی اجازت کا واجب ہونا ہر دخول کے لیے فِى قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر، لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ کہ اے مومنو! داخل نہ ہو پیغمبر کے گھروں میں إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ مگر یہ کہ تمہیں اجازت دے دی جائے۔ تو اس کے اندر جو اجازت کا وجوب آیا ہے فَمُسْتَفَادٌ مِنَ الْقَرِينَةِ الْعَقْلِيَّةِ وَاللَّفْظِيَّةِ، یہ حاصل ہو رہا ہے، معلوم ہو رہا ہے قرینہ عقلیہ اور قرینہ لفظیہ سے۔
یہ لفظوں سے نہیں، إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ، اس سے یہ ہر دخول کے لیے اجازت ضروری، یہ اس سے نہیں معلوم ہو رہا، بلکہ کس سے معلوم ہو رہا ہے؟ قرینہ عقلیہ اور قرینہ لفظیہ۔ قرینہ عقلیہ یہ کہ بھئی ہر شخص جانتا ہے کہ کسی کے گھر میں بغیر اجازت کے جائیں گے تو وہ پسند نہیں کرے گا، یا یوں کہیں، ہر شخص، کوئی بھی شخص وہ اپنے گھر میں کسی کے بغیر اجازت داخل ہونے کو پسند نہیں کرتا، یہ قرینہ عقلیہ بتلا رہا ہے کہ اجازت لینی چاہیے۔ اور دوسرا قرینہ لفظیہ ہے، ایک لفظی قرینہ بھی بتلا رہا ہے کہ ہر مرتبہ داخل ہوتے وقت کیا ضروری ہے؟ اجازت۔ وہ لفظی قرینہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: وَهِيَ قَوْلُهُ تَعَالَى وہ اللہ کا یہ قول ہے: إِنَّ ذَالِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ، یہ جو ہے، یہ تکلیف، یہ بات تکلیف دیتی ہے پیغمبر کو، الآیۃُ یا الآیۃَ، الآیۃُ أي الآیۃُ معروفۃٌ، یا الآیۃَ أي اقرأ الآیۃَ۔
یہ بات پیغمبر کو تکلیف دیتی ہے، یہ قرینہ لفظیہ یہ بتلا رہا ہے کہ معلوم ہوا اس سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی ہے، تب تکلیف ہوتی ہے، معلوم ہوا ہر مرتبہ کیا لینی چاہیے؟ اجازت لینی چاہیے، ورنہ پیغمبر کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔
تو یہ قرینہ عقلیہ اور قرینہ لفظیہ کے ذریعے معلوم ہوا کہ ہر دخول کے لیے اجازت ضروری ہے، إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ اس سے یہ معلوم نہیں ہوا بھئی۔ جواب سمجھ میں اگیا بھئی؟
وَفِي قَوْلِهِ أَنْتِ طَالِقٌ بِمَشِيئَةِ اللهِ تَعَالَى بِمَعْنَى الشَّرْطِ اور کسی شخص خاوند کے اس قول کے اندر، انت کوئی خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ بِمَشِيئَةِ اللهِ تَعَالَى، تجھے طلاق ہے اللہ کی مشیت کے ساتھ، اللہ کے چاہنے کے ساتھ۔
تو کہتے ہیں: بِمَعْنَى الشَّرْطِ، تو یہ کس معنی میں ہوگی؟ شرط کے معنی میں، گویا وہ یہ کہنا چاہتا ہے: أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى کہ تجھے طلاق ہے اگر اللہ نے چاہا اور اللہ کی مشیت، اللہ کی چاہت کا علم ہو سکتا ہے؟ کیا اللہ چاہتے ہیں یا نہیں چاہتے؟ اللہ کی مشیت کا تو علم نہیں ہو سکتا، چنانچہ طلاق اس صورت میں واقع نہیں ہوگی بھئی، کیونکہ اپ نے پڑھا ہے کہ انشاء اللہ کہہ دیا جائے ساتھ ملا کر تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی، تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔
تو یہ با کس چیز کا فائدہ دے گی؟ شرط کا، یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ خاوند کے اس قول کے اندر أَنْتِ طَالِقٌ بِمَشِيئَةِ اللهِ تَعَالَى بِمَعْنَى الشَّرْطِ، یہ با کس معنی میں ہوگی؟ شرط کے معنی میں، فَيَكُونُ تَقْدِيرُهُ تو تقدیر کلام یوں ہو گئی: أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، اس طرح ہوا کلام، فَلَا يَقَعُ تو لہٰذا طلاق واقع نہیں ہوگی۔
وَلَا يُرِيدُ یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں، سوال یہ بھئی کہ اپ نے کہا کہ جب بمشیت اللہ کے اندر یہ با کس معنی میں ہے؟ شرط کے، بھئی ہم نے تو اج تک کسی کتاب میں با کا یہ معنی نہیں پڑھا کہ وہ شرط کے لیے آئے، شرط کے لیے آئے۔
تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی مصنف کے کہنے کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ با کس معنی میں ہے؟ شرط کے معنی میں ہے، ہاں یہ شرط کے معنی کا فائدہ دے رہی ہے۔ شرط کے معنی کا فائدہ دے رہی ہے، کیوں؟ کیونکہ با آتی ہے الصاق کے لیے، تو معنی کیا ہوا، تجھے طلاق ہے اللہ کی مشیت کے ساتھ، کہ اللہ کی مشیت ساتھ ملی ہو، تجھے پھر طلاق ہے، تو اللہ کی مشیت ساتھ ملی ہوئی ہوگی تو طلاق ہے، اور اس سے خود بخود وہی شرط والا معنی اگیا، معلوم ہوا اگر اللہ کی مشیت نہیں تو طلاق بھی نہیں، تو بعینہ وہی شرط والا معنی اگیا، صورت سمجھ میں اگئی؟
تو کہتے ہیں: وَلَا يُرِيدُ بِهَذَا اور یہ ارادہ نہیں کیا مصنف نے اس کلام کے ذریعے، أَنَّ الْبَاءَ بِمَعْنَى الشَّرْطِ کہ با جو ہے وہ شرط کے معنی میں ہے، لِأَنَّهُ لَمْ يَرِدْ فِيهِ اسْتِعْمَالٌ کیونکہ اس میں یہ استعمال وارد نہیں ہوا، با میں یہ استعمال نہیں آیا بھئی کہ با کس معنی میں آئی ہو؟ شرط، عربوں نے کبھی اس طرح ہم نے نہیں سنا استعمال کیا ہو، تو بَلْ مَعْنَاهُ بلکہ معنی یہ ہے، أَنَّ الْبَاءَ لِلْإِلْصَاقِ عَلَى أَصْلِهَا کہ با جو ہے وہ الصاق کے لیے ہی ہے اپنی اصل پر ہی، فَيَكُونُ الْمَعْنَى تو کلام کا معنی یہ ہوا، أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا مُلْتَصِقًا بِمَشِيئَةِ اللهِ تَعَالَى کہ تجھے طلاق ہے ایسی طلاق جو ملی ہوئی ہو اللہ کی مشیت کے ساتھ، وَلَا يَكُونُ مُلْتَصِقًا بِهَا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ تَعَالَى اور طلاق تو ملتصق نہیں ہو سکتی اللہ کی مشیت کے ساتھ مگر یہ کہ اللہ چاہیں، اللہ چاہیں گے تو طلاق کیا ہوئی؟ ملتصق ہوئی، وَهِيَ لَا تُعْلَمُ قَطُّ اور اس کو کبھی بھی نہیں جانا جا سکتا کہ اللہ کی مشیت ہے یا اللہ کی مشیت نہیں۔
تو اس وجہ سے فَلَا يَقَعُ الطَّلَاقُ بِهِ، تو اسی وجہ سے طلاق اس کے ذریعے واقع نہیں ہوگی، وَلَكِنَّهُ تُؤُرِّضَ عَلَيْهِ لیکن اس پر اعتراض کیا گیا، بِأَنَّهُ لِمَ لَا يَجُوزُ أَنْ تَكُونَ الْبَاءُ لِلسَّبَبِيَّةِ کہ یہ کیوں نہیں جائز کہ یہ با سببيت کے لیے ہو؟ اس با کو کس لیے بنا لیں بھئی، با سببیت کے لیے تو آتی ہے، تو اس با کو کس معنی میں لے لیں؟ سببیت کے معنی میں لے لیں، وَيَكُونُ الْمَعْنَى اور کلام کا معنی یوں کر لیں: أَنْتِ طَالِقٌ بِسَبَبِ مَشِيئَةِ اللهِ تَعَالَى کہ تجھے طلاق ہے اللہ کی مشیت کی وجہ سے، پھر تو طلاق واقع ہو جائے گی، تجھے طلاق ہے کس کی وجہ سے؟ اللہ کی مشیت کے سبب سے، فَيَقَعُ الطَّلَاقُ تو طلاق واقع ہو جائے گی، كَمَا فِى قَوْلِهِ جیسے کہ اس قول کے اندر: بِعِلْمِ اللهِ۔
فقہاء لکھتے ہیں، اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے یوں کہا: أَنْتِ طَالِقٌ بِعِلْمِ اللهِ، تجھے طلاق ہے اللہ کے علم کی وجہ سے، تو طلاق ہو جائے گی، یا یوں کہا: أَنْتِ طَالِقٌ بِقُدْرَةِ اللهِ، یا یوں کہا: أَنْتِ طَالِقٌ بِأَمْرِ اللهِ، یا یوں کہا: أَنْتِ طَالِقٌ بِحُكْمِ اللهِ، تو ان سب صورتوں میں کیا ہوگی؟ فقہاء لکھتے ہیں طلاق واقع ہو جائے گی اور یہ با کون سی ہوگی؟ سببیت والی ہوگی۔
جی، تو یہی بات کر رہے ہیں کہ پس طلاق واقع ہونی چاہیے، كَمَا فِى قَوْلِهِ جیسے کہ اس قول کے اندر: بِعِلْمِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ اللہ کے علم کے سبب سے وَقُدْرَتِهِ اور اللہ کی قدرت کے سبب سے وَأَمْرِهِ اور اللہ کے امر کے سبب سے وَحُكْمِهِ اور اللہ کے حکم کے سبب سے، جی، تو یہاں بھی با کو سببیت کے لیے بنا لو، یہاں بھی طلاق ہو جانی چاہیے، جواب دے رہے ہیں: وَالْجَوَابُ، جواب یہ دے رہے ہیں: أَنَّ الْأَصْلَ فِى الطَّلَاقِ الْحَظْرُ کہ اصل کیا ہے طلاق کے اندر؟ منع ہے، حظر کا کیا معنی؟ منع، اصل طلاق کے اندر منع ہے بھئی، احادیث میں آتا ہے کہ اللہ کے نزدیک مباح چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ اور مبغوض چیز اللہ کے نزدیک وہ طلاق ہے، مباح جن کی اجازت ہے لیکن اللہ کو سخت ناپسند ہے، وہ کیا چیز ہے؟ طلاق ہے بھئی۔
تو مباح چیزوں میں سب سے ناپسند اللہ کو طلاق ہے، معلوم ہوا کہ طلاق نہیں دینی چاہیے بھئی، طلاق الا بہت ہی حد سے زیادہ کوئی ضرورت پیش آ جائے، پھر طلاق دینی چاہیے، تو کہتے ہیں اصل جو ہے طلاق کے اندر منع ہے، فَيَنْبَغِي أَنْ لَا يَقَعَ تو مناسب یہ کہ واقع نہیں ہونی چاہیے۔
أَمَّا وُقُوعُهُ فِي عِلْمِ اللهِ تَعَالَى وَنَحْوِهِ وَنَحْوِهِ باقی طلاق کا واقع ہونا فِي عِلْمِ اللهِ تَعَالَى وَنَحْوِهِ، علم اللہ اور اس جیسی اور مثالوں کی صورت میں یہ جو طلاق واقع ہو جاتی ہے، فَلِأَنَّهُ لَمْ يَجِئْ بِمَعْنَى، اچھا، پہلے وہ جواب سمجھ لیں۔
بھئی طلاق کے اندر اصل ہے منع، سو مناسب یہ ہے کہ واقع نہیں ہونی چاہیے، تو اب دو صورتیں آ گئیں، اگر ہم با کو بنائیں أَنْتِ طَالِقٌ بِمَشِيئَةِ اللهِ میں با کو الصاق کے لیے بنائیں تو طلاق واقع نہیں ہوتی، اور اگر ہم اس با کو سببیت کے لیے بنائیں تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، تو کون سی صورت پر عمل کرنا اولیٰ ہے؟ الصاق پر، تاکہ عورت کو طلاق واقع نہ ہو بھئی، وہ بچ جائے، کیونکہ طلاق کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے بھئی۔
یہ معنی ہے، باقی کہتے ہیں یہ جو بِعِلْمِ اللهِ وغیرہ کی صورتوں میں طلاق واقع ہو جاتی تھی، کہتے ہیں اس لیے کہ أَنْتِ طَالِقٌ بِعِلْمِ اللهِ، یہ اس یہاں با کو الصاق کے معنی میں نہیں لے سکتے، کیونکہ الصاق کے معنی میں لیں گے تو معنی کیا ہو جائے گا؟ پچھلی کا کیا معنی ہوا تھا أَنْتِ طَالِقٌ بِمَشِيئَةِ اللهِ، اس کا کیا معنی ہوا تھا؟ أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللهُ، تو یہاں بھی وہی صورت بنانی پڑے گی، أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ عَلِمَ اللهُ، تجھے طلاق ہے اگر اللہ جانتے ہیں، یہ کیا معنی ہوا، اگر اللہ جانتے ہیں؟ اللہ کو تو ہر چیز کا علم ہے، وہ شرط بنتی ہی نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
فَلِأَنَّهُ لَمْ يَجِئْ، جی، کہتے ہیں: أَمَّا وُقُوعُهُ فِي عِلْمِ اللهِ تَعَالَى وَنَحْوِهِ باقی طلاق کا واقع ہونا اللہ کے علم میں اور اس جیسی صورتوں میں، فَلِأَنَّهُ لَمْ يَجِئْ بِمَعْنَى إِنْ عَلِمَ اللهُ اس لیے کیونکہ یہ کلام اس معنی میں نہیں آیا إِنْ عَلِمَ اللهُ، اگر اللہ جانتے ہیں، اس معنی میں نہیں آیا، فَلَا مَصَاغَ فِيهِ تو اس کے اندر اس کی گنجائش نہیں ہے، إِلَّا بِجَعْلِهِ بِمَعْنَى السَّبَبِيَّةِ وَوُقُوعِ الطَّلَاقِ بِهِ فَتَأَمَّلْ مگر یہ کہ اس کو بنایا جائے کس معنی میں؟ بھئی اس میں الصاق والا معنی نہیں بن سکتا کیونکہ إِنْ عَلِمَ اللهُ نہیں آیا، اس کی گنجائش نہیں ہے، مگر یہ کہ پھر اس کو کیا بنایا جائے گا بمشیت؟ جی، بِعِلْمِ اللهِ کو پھر با کو کس لیے بنائیں گے؟ ہاں، اس کو جب ہم با الصاق کے لیے نہیں بنا سکتے تو پھر اس کو سببیت کے معنی میں بنانا پڑے گا، وَوُقُوعِ الطَّلَاقِ بِهِ اور اس کے لیے طلاق کے واقع کرنے کیا جائے گا، فَتَأَمَّلْ پر آپ اس میں کیا کر لیجیے؟ غور کر لیجیے۔
الا بجعله بمعني السببية ووقوع الطلاق به مگر یہ کہ اس کو قرار دیا جائے سببیّت کے معنی میں اور اس کے ذریعے طلاق کا واقع ہونا قرار دیا جائے۔
مگر یہ کہ اس کو سببیّت کے معنی میں اور او کے معنی میں قرار دیا جائے اور اس کے ذریعے طلاق کے واقع ہونا واقع ہونے قرار دیا جائے طلاق کے واقع ہونے کے لیے اس کو بنایا جائے۔
فتأمل پس آپ اس میں کیا کر لیجیے۔ غور کر لیجیے۔ چلیے بس یہی خلاصہ کلام ہے واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔