درس نمبر۔59
فَتَطْلُقُ ثَلَاثًا إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ الْمَوْطُوءَةِ أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَلْ ثِنْتَيْنِ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَمْلِكْ إِبْطَالَ الْأَوَّلِ فَيَقَعَانِ، تَفْرِيعٌ عَلَى كَوْنِهِ لِلْإِعْرَاضِ عَمَّا قَبْلَهُ، يَعْنِي أَنَّ الْإِعْرَاضَ عَمَّا قَبْلَهُ إِنَّمَا يَصِحُّ إِذَا كَانَ مَا قَبْلَهُ صَالِحًا لِلْإِعْرَاضِ.
أچھا بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے بل کی بحث شروع کی تھی بھئی۔
صاحب منار نے آپ کو بتلایا تھا کہ بل ما بعد کے اثبات اور ما قبل سے اعراض کے لیے آتا ہے بھئی، علی سبیل التدارک۔ کس طریقہ پر؟ تدارک کے طریقہ پر۔ تلافی یعنی غلطی ہوئی، اس غلطی کی تلافی کے لیے بل کو لے کر آتے ہیں۔
تو حکم جو ہے ثانی کے لیے ثابت ہو جائے گا اور ما قبل جو ہے وہ مسکوت عنہ کے حکم میں ہوگا، یہ کلام مثبت میں ہے۔ جبکہ کلام منفی کے اندر بھئی، کلام منفی کے اندر
عند البعض وہی کلام، حکم منفی ما بعد کے لیے ثابت ہوگا۔ جبکہ بعض کے نزدیک حکم منفی مثبت سے بدل جائے گا اور پھر وہ حکم مثبت کس کے لیے ثابت ہو جائے گا؟ ما بعد کے لیے ثابت ہوگا۔
جی، آج آپ کو بتلا رہے ہیں کہ بل چونکہ ما قبل سے اعراض کے لیے آتا ہے، تو اعراض وہی ہوگا جہاں پر اعراض جو جو اعراض کی کلام صلاحیت بھی رکھے بھئی۔ یعنی اخبار میں تو اعراض ممکن ہے ما قبل سے، لیکن انشاء کے اندر اعراض درست نہیں۔
مثلاً کوئی شخص جو ہے، کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے، ایسی بیوی جس سے وہ صحبت کر چکا ہے، اسے کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَلْ ثِنْتَيْنِ" (تجھے ایک طلاق ہے، بلکہ دو)۔ "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَلْ ثِنْتَيْنِ" تجھے
تو، تجھے طلاق ہے ایک، بلکہ دو۔
تو دیکھو بل لے کر آیا، اور بل کس لیے آتا ہے؟ اعراض کے لیے۔ معلوم ہوا وہ ما قبل میں جو اس نے ایک طلاق دی تھی، اس سے اعراض کر کے کیا کرنا چاہتا ہے؟ کتنی طلاقیں واقع کرنا چاہتا ہے؟ دو طلاقیں واقع کرنا چاہتا ہے، تو علماء فرماتے ہیں، فقہاء فرماتے ہیں: اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ اس لیے کیونکہ جب اس نے کہہ دیا "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً" تو یہ کلام یہ جو ہے، انشاء طلاق ہوا اس سے، اور طلاق واقع ہو گئی۔ اب بل کے ذریعے وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس طلاق سے اعراض کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی، اعراض ہو ہی نہیں سکتا، "أَنْتِ طَالِقٌ" پر تکلم کرتے ہی کیا واقع ہو گئی؟ طلاق واقع ہو گئی۔ پھر اس کے بعد "بَلْ ثِنْتَيْنِ" جب اس نے کہا، تو دو اور واقع ہو گئیں۔ تو کتنی طلاقیں ہو گئیں؟ تین، تو تینوں طلاقیں اس کی بیوی پر واقع ہو جائیں گی۔
کیونکہ یہاں اعراض صحیح نہیں ہے بھئی۔ اخبار میں تو اعراض ہو سکتا ہے، انشاء کے اندر اعراض نہیں ہو سکتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: "فَتَطْلُقُ ثَلَاثًا" تو وہ عورت تین طلاق والی ہو جائے گی، "إِذَا قَالَ" جب کہا کس خاوند نے "لِامْرَأَتِهِ الْمَوْطُوءَةِ" اپنی موطوءہ بیوی سے "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَلْ ثِنْتَيْنِ" تجھے تو تجھے طلاق ہے ایک، بلکہ دو، "لِأَنَّهُ لَمْ يَمْلِكْ إِبْطَالَ الْأَوَّلِ" اس لیے کیونکہ وہ مالک ہی نہیں ہے پہلی طلاق کے باطل کر دینے کا، "فَيَقَعَانِ" تو یہ کیا ہو جائیں گی؟
دونوں، یعنی ما قبل والی بھی واقع ہو جائیں گی اور ما بعد والی بھی واقع ہو جائیں گی۔
"تَفْرِيعٌ عَلَى كَوْنِهِ لِلْإِعْرَاضِ عَمَّا قَبْلَهُ" یہ تفریع ہے بھئی، بل کے ما قبل سے اعراض کے لیے ہونے سے، "يَعْنِي أَنَّ الْإِعْرَاضَ عَمَّا قَبْلَهُ إِنَّمَا يَصِحُّ" یعنی کہ ما قبل سے اعراض اس وقت صحیح ہے "إِذَا كَانَ مَا قَبْلَهُ صَالِحًا لِلْإِعْرَاضِ" جبکہ ما قبل صلاحیت بھی رکھتا ہو اعراض کی، "كَمَا فِي الْإِخْبَارِ" جیسے کس کے اندر؟ اخبار، یعنی خبر کے اندر۔ اخبار بمعنی خبر کے آتا ہے بھئی۔
"أَمَّا فِي الْإِنْشَاءَاتِ فَلَا يُمْكِنُ ذَلِكَ" باقی انشاء انشاءات جو ہیں، ان کے اندر یہ ممکن نہیں ہے، "فَيَقَعُ الْأَوَّلُ وَالثَّانِي جَمِيعًا" تو اول اور ثانی دونوں کیا ہو جائیں گی؟ واقع ہو جائیں گی۔
"فَفِي مَسْأَلَةِ الطَّلَاقِ" پس مسئلہ طلاق کے اندر "أَرَادَ أَنْ يُضْرِبَ عَنِ الْوَاحِدَةِ إِلَى اثْنَتَيْنِ" اس نے ارادہ کیا خاوند نے کہ وہ ایک سے اعراض کرے دو کی طرف، "فَالْقِيَاسُ يَقْتَضِي أَنْ لَا يَقَعَ الْأَوَّلُ بَلِ الْآخَرُ" پس قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ پہلی واقع نہ ہو، بلکہ
دوسری واقع ہو، کیونکہ بل اعراض کے لیے آتا ہے، تو دوسری ہونی چاہیے، پہلی نہیں، پہلی سے تو اس نے اعراض کیا۔ "وَلَكِنْ لَمَّا لَمْ يَصِحَّ الْإِعْرَاضُ" لیکن جب اعراض صحیح نہیں ہے "عَنِ الطَّلَاقِ" طلاق سے، "لَا جَرَمَ يُعْمَلُ بِالْأَوَّلِ وَالْآخَرِ مَعًا" تو یقیناً پہلی اور بعد والی، دوسری جو ہے، ان سے اکٹھا عمل کیا جائے گا، "فَيَقَعُ الثَّلَاثُ" تو کیا ہوں گی؟
تین واقع ہو جائیں گی۔
"بِخِلَافِ قَوْلِهِ لَهُ عَلَيَّ أَلْفٌ بَلْ أَلْفَانِ" بر خلاف کسی شخص کے یہ کہنے کے: "لَهُ عَلَيَّ أَلْفٌ بَلْ أَلْفَانِ"۔
بھئی دیکھیے! ایک شخص اقرار کرتا ہے کسی کے لیے بھئی کہ "لَهُ عَلَيَّ أَلْفٌ بَلْ أَلْفَانِ" فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں، بلکہ دو ہزار۔
تو ہمارے نزدیک یاد رکھیے، اس پر دو ہزار واجب ہو جائیں گے بھئی۔ کیونکہ یہ اقرار ہے، اور اقرار میں کیا کیا اقرار کس قبیل سے ہے؟ اخبار کی قبیل سے ہے، وہ غیر کے حق کی خبر دے رہا ہے اپنے اوپر بھئی۔
تو لہذا یہاں اعراض درست ہے، تو اول سے اعراض کر کے اس نے کیا کہا؟ ایک ہزار نہیں ہے، بلکہ دو ہزار ہیں بھئی، دو ہزار ہیں۔
تو اس پر دو ہزار ہوں گے، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نہیں، اس پر تین ہزار واجب ہو جائیں گے بھئی، تو یہ گویا اس نے تین ہزار کا اقرار کر لیا بھئی۔
تو وہ اس مسئلہ اقرار کو قیاس کرتے ہیں مسئلہ طلاق پر۔ مسئلہ طلاق میں جیسے تین طلاقیں واقع ہو گئی تھیں، تو یہاں یہاں بھی اسی طرح کی عبارت ہے، یہاں بھی کتنے پیسے اس پر لازم ہو جائیں گے؟ تین ہزار ہوں گے بھئی۔
جی، تو ہم جواب دیتے ہیں کہ اقرار اخبار کی قبیل سے ہے، وہاں تو تدارک ہو سکتا ہے، اعراض ہو سکتا ہے، لیکن طلاق انشاء کی قبیل سے ہے، وہاں پر تدارک اور اعراض نہیں ہو سکتا، تو اس طلاق پر اقرار کو قیاس کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔
امام زفر رحمہ اللہ بھئی، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے
ذہین ترین شاگرد تھے مولانا، ذہین ترین بھئی۔ قیاس میں اتنے ماہر تھے کہ کوئی ان کے قریب، باقی شاگرد وہی امام ابو یوسف، امام محمد رحمہ اللہ سے بھی بہت آگے تھے قیاس کے اندر بھئی۔
جب شاگردوں کا ذکر آتا ہے، کہتے ہیں قیاس میں سب سے ماہر امام زفر رحمہ اللہ تھے ان کے بھئی۔
لیکن بس تقدیر کے فیصلے دیکھو، ان کی مسائل بتلائے ہوئے،
ان کو وہ مقبولیت نہیں بھئی، یعنی ان پر آپ دیکھتے ہیں فتویٰ نہیں دیا جاتا۔
فتویٰ امام صاحب اور صاحبین کے قول پر ہوتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟
پوری فقہ میں دو یا تین مسئلے ہیں غالباً جس میں امام زفر کے قول پر فتویٰ دیا گیا ہے بھئی۔ باقی سب میں ان کے اختلاف کو تو ذکر کیا جاتا ہے، لیکن
فتویٰ ان کے قول پر نہیں ہوتا بھئی۔
تو انہوں نے مسئلہ اقرار کو مسئلہ طلاق پر کیا کیا؟ قیاس کیا۔ اب یہ نہیں ان کے پاس جواب نہیں ہے، ان کے پاس بڑے جواب ہوں گے، لیکن اب تو وہ گزر چکے بھئی، اب وہ جواب کہاں سے دیں بھئی؟
یہ تو ایک ظاہر سی بات ہے، جب آپ بھی جانتے ہیں اقرار اخبار کی قبیل سے ہے اور طلاق انشاء کی قبیل سے ہے بھئی، یہ تو عام سی بات ہے۔
حضرت شیخ رحمہ اللہ ایک واقعہ ذکر فرماتے تھے، حضرت شیخ کا چونکہ مطالعہ بے انتہا وسیع تھا، کسی کتاب میں
دیکھا کہتے ہیں: کیا وجہ ہے ان کی فقہ کو
مقبولیت کیوں نہیں حاصل ہوئی بھئی؟
یک عجیب واقعہ پھر ذکر کیا۔
کہتے ہیں: ایک مرتبہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ درس کے لیے تشریف لائے بھئی۔
امام تمام تلامذہ کھڑے ہوئے، امام زفر غالباً مطالعے میں یا کس میں مصروف تھے، توجہ نہ رہی، وہ کھڑے نہیں ہوئے بھئی۔
امام صاحب بھئی، امام دنیا تشریف لا رہے ہیں بھئی۔ امام صاحب کہیں اس وقت غصے میں ہوں گے یا کیا، فرمایا، زفر کی طرف دیکھا، وہ کھڑے نہیں ہوئے بھئی، استاد کا ادب بھئی! امام صاحب کے تو خود اپنے ادب کا یہ حال تھا کہ ساری زندگی اپنے استاد کے گھر کی طرف پاؤں کر کے بھی نہیں سوئے تھے۔
پاؤں کر کے بھی۔
اور غالباً یہ واقعہ بھی امام صاحب کے بارے میں آتا ہے،
درس دیتے دے رہے تھے، درس دیتے دیتے درمیان میں کھڑے ہو جاتے۔ غالباً شاید امام صاحب کے بارے میں، یا پورا ذہن میں نہیں، کھڑے ہو جاتے، پھر بیٹھ جاتے۔ پھر درس دیتے دیتے، پھر اچانک کھڑے ہو جاتے، پھر بیٹھ جاتے۔
بعد میں کسی نے کہا کہ حضرت! کیا بات تھی؟ آج تو آپ درس میں کئی مرتبہ کھڑے ہوئے اور پھر بیٹھ گئے۔
تو فرمایا: میں درس دے رہا تھا، سامنے دروازہ کھلا ہوا تھا، میرے استاد کا بیٹا چھوٹا سا تھا، وہ کھیلتے کھیلتے سامنے آ جاتا تھا، تو میں ادب کی وجہ سے کھڑا ہو جاتا تھا، پھر وہ کھیلتے کھیلتے ایک طرف چلا جاتا، پھر وہ میں بیٹھ جاتا، پھر جب وہ سامنے آتا، میں پھر کھڑا ہو جاتا بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو دین سارا ادب کا نام ہے مولانا، ادب کا۔
تو چنانچہ امام صاحب غصے میں تھے غالباً، شاید انہوں نے،
تو فرمایا، امام زفر سے اس بات پہ ناراض ہوئے، غصے میں کہا: اے زفر! یاد رکھو، تمہارے علم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔
باقی تو اللہ پورے احوال سے واقف ہیں، لیکن بہرحال امام زفر کے احوال پڑھیں تو یہ ضرور آتا ہے، قیاس میں سب سے بڑے ماہر امام زفر تھے امام صاحب کے شاگردوں میں بھئی۔
جی، اب دیکھیے کتاب پر: "بِخِلَافِ قَوْلِهِ لَهُ عَلَيَّ أَلْفٌ بَلْ أَلْفَانِ" بر خلاف کسی شخص کے اس قول کے کہ "لَهُ عَلَيَّ أَلْفٌ بَلْ أَلْفَانِ" کہ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں، بلکہ دو ہزار، "جَوَابٌ عَنْ قِيَاسِ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً" یہ جواب ہے امام زفر رحمہ اللہ کے قیاس سے، "فَإِنَّهُ يَقِيسُ مَسْأَلَةَ الْإِقْرَارِ عَلَى مَسْأَلَةِ الطَّلَاقِ" اس لیے کیونکہ وہ قیاس کرتے ہیں مسئلہ اقرار کو مسئلہ طلاق پر، "فَيَقُولُ: يَلْزَمُهُ فِي هَذَا الْمِثَالِ ثَلَاثَةُ آلَافٍ" پس فرماتے ہیں: لازم آتے ہیں لازم ہوں گے اس شخص پر اس مثال کے اندر تین ہزار،
"وَنَحْنُ نَقُولُ: إِنَّهُ إِقْرَارٌ وَإِخْبَارٌ" اور ہم کہتے ہیں: یہ اقرار اور اخبار ہے، "وَهُوَ يَحْتَمِلُ لِلْإِضْرَابِ وَتَدَارُكِ الْغَلَطِ" اور یہ احتمال رکھتا ہے اعراض اور غلطی کے تدارک کا، "فَيُعْمَلُ عَلَى أَصْلِهِ" پس اس کی اصل پر عمل کیا جائے گا،
"وَالطَّلَاقُ إِنْشَاءٌ" اور طلاق انشاء ہے، "لَا يَحْتَمِلُ التَّدَارُكَ" وہ تدارک کا احتمال نہیں رکھتا، "فَجَاءَتْ فِيهِ الضَّرُورَةُ الدَّاعِيَةُ إِلَى الْعَمَلِ بِهَا" تو اس کے اندر ضرورتِ داعیہ آ گئی کہ دونوں پر عمل کیا جائے۔ "فَجَاءَتْ فِيهِ" تو آ گئی اس کے اندر، یعنی کس میں؟ طلاق میں، "الضَّرُورَةُ الدَّاعِيَةُ إِلَى الْعَمَلِ بِهَا" وہ ضرورت جو داعی ہے، جو بلانے والی ہے کہ کس چیز کی طرف؟ کہ ان دونوں پر عمل، تو وہاں پر ان دونوں پر عمل کیا جائے گا اس ضرورت کی بناء پر، کیونکہ وہ انشاء ہے، اور انشاء میں غلطی کے تدارک کا امکان نہیں، لہذا وہاں دونوں پر عمل ہوگا اور دونوں، یعنی بل سے ما قبل اور بل کے ما بعد دونوں واقع ہو جائیں گی۔
"وَلَكِنْ لِلِاسْتِدْرَاكِ بَعْدَ النَّفْيِ" ولکن اور ولکنّ دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔
آگے آپ کو بتائیں گے بھئی، یہ حروفِ عطف کی بحث چل رہی ہے اور لکن ہے حروفِ عاطفہ، حروفِ عاطفہ میں سے ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ لیکنّ کو بھی ذکر کر دیا جاتا ہے، اگرچہ وہ حروفِ عاطفہ میں سے نہیں ہے، وہ تو حروفِ مشبہ بالفعل میں سے ہے، لیکن چونکہ جیسے وہ، لیکن عاطفہ جو ہے وہ جیسے استدراک کے لیے آتا ہے، اسی طرح لیکنّ حروفِ مشبہ بالفعل وہ بھی کس لیے آتا ہے؟ استدراک کے لیے، لہذا اس کے ساتھ، اس کو بھی یہاں پر ذکر کر دیا جاتا ہے۔
اور لیکن استدراک کے لیے آتا ہے، بعد النفی، نفی کے بعد، نفی کے بعد آئے گا بھئی۔
لیکن بھئی، استدراک کسے کہتے ہیں بھئی؟ استدراک کہتے ہیں ما قبل کلام سے ایک جو وہم پیدا ہو، یا وہم پیدا ہونے کا امکان ہو، اس وہم کو دور کرنا، یہ لیکن، یہ استدراک کہلاتا ہے۔
لیکن اور لیکنّ کے ذریعے اس وہم کو دور کیا جاتا ہے مولانا، یہ اس ما قبل کلام سے جو وہم پیدا ہوا، اس وہم کو دور کرنا کیا کہلاتا ہے؟ یہ استدراک کہلاتا ہے۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا: "مَا جَاءَنِي زَيْدٌ" (میرے پاس نہیں، "مَا جَاءَنِي زَيْدٌ" میرے پاس زید نہیں آیا بھئی)۔
تو آپ کے ذہن میں وہم پڑا بھئی، جب زید نہیں آیا تو عمرو بھی نہیں آیا ہوگا، کیونکہ عمرو اس کا گہرا دوست ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے، جب زید نہیں آیا تو یقیناً پھر عمرو بھی نہیں آیا ہوگا، تو ایک وہم پیدا ہوا تھا، تو چنانچہ اس وہم کو میں دور کرتا ہوں۔
میں کیا کہتا ہوں؟
"وَلَكِنْ عَمْرٌو" (لیکن عمرو، یعنی عمرو آیا ہے بھئی)۔
تو کہتے ہیں: "وَلَكِنْ لِلِاسْتِدْرَاكِ بَعْدَ النَّفْيِ" لیکن استدراک کے لیے آتا ہے نفی کے بعد، "أَيْ دَفْعِ تَوَهُّمٍ نَاشِئٍ مِنَ الْكَلَامِ السَّابِقِ" یعنی وہ وہم جو پیدا ہوا ہے سابقہ کلام سے، اس کو دور کرنے کے لیے، "كَقَوْلِكَ مَا جَاءَنِي زَيْدٌ" جیسے آپ کا کہنا: "مَا جَاءَنِي زَيْدٌ" کہ میرے پاس زید نہیں آیا،
"فَأَوْهَمَ" پس اس کلام نے یہ وہم ڈالا "أَنَّ عَمْرًا أَيْضًا لَمْ يَجِئْ" کہ عمرو بھی نہیں آیا "لِمُنَاسَبَةٍ وَمُلَازَمَةٍ بَيْنَهُمَا" بوہ دونوں میں مناسبت اور ملازمت کے پائے جانے کے، کہ ان میں مناسبت ہے اور ملازمت ہے بھئی، دوست ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔
تو ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہونے کی وجہ سے "فَاسْتَدْرَكْتَ بِقَوْلِكَ" پس آپ نے اس سے کیا کیا؟ استدراک کیا اپنے اس قول کے ساتھ: "لَكِنَّ عَمْرًا"
لیکن عمرو آیا ہے۔
"وَهِيَ إِنْ كَانَتْ مُخَفَّفَةً فَهِيَ عَاطِفَةٌ" اور یہ لیکن اگر یہ مخففہ ہو تو یہ عاطفہ ہے، "وَإِنْ كَانَتْ مُشَدَّدَةً فَهِيَ مُشَبَّهَةٌ" اور اگر یہ مشددہ ہو، یعنی لیکنّ ہو تو یہ مشبہ ہے، یعنی مشبہ بالفعل ہے، "مُشَارِكَةٌ لِلْعَاطِفَةِ فِي الِاسْتِدْرَاكِ" جو شریک ہے عاطفہ کے ساتھ استدراک کے اندر۔
بھئی جیسے لیکن مخففہ بتلایا وہ عاطفہ ہوگا، اور لیکنّ جو مشددہ ہے، وہ حروفِ مشبہ بالفعل میں سے ہے، تو وہ بھی اسی کے اندر ذکر کر دیتے ہیں، اس کا بھی یہی حکم ہے، کیونکہ یہ وہ بھی اس عاطفہ کے ساتھ شریک ہے استدراک میں، یعنی جیسے عاطفہ استدراک کے لیے آتا ہے ما قبل کلام سے پیدا ہونے والے وہم کو دور کرنے کے لیے، اسی طرح وہ لیکنّ جو حرفِ مشبہ بالفعل ہے، وہ بھی اسی کے لیے آتا ہے، تو دونوں اس میں استدراک میں دونوں کیا ہو گئے؟ شریک ہو گئے۔ یہ معنی ہے "وَإِنْ كَانَتْ مُشَدَّدَةً فَهِيَ مُشَبَّهَةٌ" اور اگر وہ مشددہ ہو لیکنّ تو یہ مشبہ بالفعل ہے، "مُشَارِكَةٌ لِلْعَاطِفَةِ فِي الِاسْتِدْرَاكِ" جو عاطفہ کے ساتھ استدراک میں شریک ہے۔ عاطفہ کون سا؟ لیکن عاطفہ مراد ہے۔
"ثُمَّ إِنْ كَانَ عَطْفُ مُفْرَدٍ عَلَى مُفْرَدٍ يُشْتَرَطُ وُقُوعُهَا بَعْدَ النَّفْيِ" پھر اگر عطف مفرد علی المفرد ہو، تو شرط لگائی جائے گی اس کے واقع ہونے کے اس کے واقع ہونے کی نفی کے بعد بھئی۔
بھئی دیکھیے! اس کے لیے لیکن
جو عاطفہ ہے اس کے ذریعے مفرد کا عطف مفرد پر بھی ہو سکتا ہے، جملے کا عطف جملے پر بھی ہو سکتا ہے۔
لیکن عطفِ مفرد علی المفرد کے لیے جب یہ استعمال ہو تو ماقبل میں نفی کا ہونا ضروری، جیسے میں نے ذکر کیا تھا: ما جاءنی زیدٌ و لٰکن عمرٌو۔ تو ماقبل میں نفی کا ہونا ضروری۔ اور اگر عطفِ جملہ علی الجملہ ہو تو اس صورت کے اندر بھئی نفی کے بعد بھی آ سکتا ہے اور اثبات کے بعد بھی آ سکتا ہے، لیکن اول اور ما بعد میں نفی اور اثبات میں کیا ہونا چاہیے؟ فرق۔ ایک میں اثبات ہے تو دوسرے میں کیا ہونا چاہیے؟ نفی ہونی چاہیے، دونوں جملے الگ الگ ہوں۔
یہ معنی کہ اگر یہ عطفِ مفرد علی المفرد کے لیے ہو: یشترط وقوعھا بعد النفی، تو شرط لگائی جائے گی اس کے واقع ہونے کی نفی کے بعد۔ و ان کان عطف جملۃ علی جملۃ، اور اگر عطفِ جملہ علی الجملہ کے لیے ہو: یقع بعد النفی و الاثبات جمیعاً، تو نفی اور اثبات دونوں کے بعد واقع ہو سکتا ہے۔ غیر ان العطف إنما یصح عند اتساق الکلام و إلا فھو مستأنفٌ، علاوہ اس کے کہ عطف جو ہے وہ صحیح ہو گا جب کلام میں اتساق ہو، ورنہ وہ کلامِ مستأنف ہو گا۔
بھئی و لٰکن، لٰکن آتا ہے عطف کے لیے، لیکن کہتے ہیں عطف اسی وقت صحیح ہو گا جب کلام میں اتساق ہو، متسق ہو کلام۔ اگر متسق نہیں ہے تو پھر اس صورت میں یہ استئناف کے لیے ہو گا بھئی، نیا کلام اس کے بعد شروع ہو گا۔ عطف کے لیے یہ نہیں ہو گا۔
اتساق کا معنی ہے ارتباط مولانا، ربط ہو۔ ربط ہو مولانا۔ اور اس کے لیے دو شرطیں ہیں ربط کے لیے۔ شرطِ اول: اتصال ہونا چاہیے، انفصال نہ ہو۔ یعنی متصل ہو، درمیان میں سکوت نہ کیا ہو۔ تو اتصال ہونا چاہیے بھئی، اتصال ہو گا۔
دوسرا یہ کہ آپ نے پڑھا ماقبل میں نفی ہے، مابعد میں اثبات ہے، تو اب محلِ نفی، محلِ اثبات سے الگ ہونی چاہیے، یعنی کہ ایک ہی چیز کی نفی ہو اور اسی چیز کا اثبات ہو، پھر تو اول اور آخر میں تناقض آ جائے گا، وہ صحیح نہیں۔ ماقبل میں زید ہی کے آنے کی نفی ہے اور مابعد میں زید ہی کے آنے کا اثبات ہے، یہ تو ایک ہی چیز کی کیا کر دی؟ اس سے نفی بھی اسی سے، اثبات بھی اسی سے، یہ تو کلام میں تناقض آ گیا۔ لہذا کیا ضروری ہے؟ کہ محلِ نفی، محلِ اثبات سے غیر ہو۔ تو اتساق کا معنی ربط بھئی، اور اس کے لیے کتنی شرطیں ہیں؟ دو۔ ایک تو اتصال ہونا چاہیے، کلام ملا ہوا ہو، انفصال نہ ہو، درمیان میں سکوت نہ کرے، دوسری شرط کیا؟ محلِ نفی، محلِ اثبات سے غیر ہو۔ اثبات ایک چیز کا ہے تو نفی دوسری چیز کی ہونی چاہیے بھئی۔
تو اس صورت میں جب اتساق ہو گا، ربط ہو گا تو یہ عطف کے لیے ہو گا ورنہ عطف کے لیے نہیں ہو گا۔ یہ معنی: غیر ان العطف إنما یصح عند اتساق الکلام، علاوہ اس کے کہ عطف وہ صحیح ہوتا ہے کلام کے اتساق کے وقت، و إلا فھو مستأنفٌ، ورنہ وہ کیا ہے کلام؟ مستأنف ہے، نیا کلام ہے۔
یعنی ان لٰکن و إن کانت للعطف، کہ لٰکن اگرچہ عطف کے لیے ہے، لیکن العطف إنما یصح إذا کان الکلام متسقاً مرتبطاً، لیکن عطف صحیح ہو گا اس وقت جبکہ کلام متسق اور مرتبط ہو۔ و نعنی بالاتساق، اور ہماری مراد اتساق سے یہ ہے کہ ان یکون لٰکن موصولاً بالکلام السابق، کہ لٰکن وہ ملا ہوا ہو سابقہ کلام کے ساتھ، و لا یکون نفی فعل و اثباتہ بعینہٖ، اور نفیِ فعل اور اثباتِ فعل بعینہٖ نہ ہو، یعنی ایک ہی فعل کا معین فعل کا اثبات، ایک ہی معین فعل کی نفی اور اسی معین فعل کا اثبات نہ ہو بھئی، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ بل یکون النفی راجعاً إلی شیء و الاثبات إلی شیء آخر، بلکہ نفی راجع ہونی چاہیے ایک چیز کی طرف اور اثبات راجع ہونا چاہیے دوسری چیز کی طرف۔ و إن فقد احد الشرطین فحینئذ یکون الکلام مستأنفاً مبتدأً، اور اگر دونوں شرطوں میں سے کوئی ایک بھی نہ پائی گئی تو اس وقت کلام کیا ہو گا؟ مستأنف ہو گا، نیا کلام ہو گا بھئی نئے سرے سے، لا معطوفاً، معطوف نہیں ہو گا۔
و لما کان امثلۃ الاتساق ظاھرۃً فیما بین الاصولیین، اور جب اتساق کی مثالیں ظاہر تھیں اصولیین کے درمیان، یعنی علمائے اصول کے درمیان، لم یتعرض لھا، تو مصنف ان کے پیچھے نہیں پڑے، یعنی انہیں ذکر نہیں کیا، و ذکر مثال عدم الاتساق خاصۃً، اور عدمِ اتساق کی مثال خاص طور پر ذکر کی، فقال، پس انہوں نے فرمایا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ اتساق کی مثالیں تو ظاہر ہیں مولانا، جیسے ابھی گزشتہ مثال میں نے ذکر کی تھی: ما جاءنی زیدٌ و لٰکن عمرٌو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اتصال بھی ہے اور نفی ایک چیز کی ہے تو اثبات دوسری نفی کس چیز کی ہے؟ مجیئتِ زید کی، تو اثبات کس چیز کا ہے؟ مجیئتِ عمر کا۔
تو لہذا اب عدمِ اتساق کی مثال ہی صرف وہ ذکر کر رہے ہیں، فقال، پس انہوں نے فرمایا: کالأمۃ إذا تزوجت بغیر إذن مولاھا بمائۃ درھم، جیسے ایک باندی ہے، اس نے نکاح کیا آقا کی اجازت کے بغیر بمائۃ درھم، سو درہم پر، فقال، یعنی سو درہم مہر پر، فقال، آقا کو پتہ چلا، اس نے کہا: لا أُجیز النکاح، میں نکاح کی اجازت نہیں دیتا، و لٰکن أُجیزہ بمائۃ و خمسین درھماً، لیکن میں اس کی اجازت دیتا ہوں 150 درہم پر۔
کتنے پر؟ 150 درہم پر۔ کہتے ہیں: إن ھٰذا فسخٌ للنکاح، یہ کیا ہے؟ نکاح کا فسخ ہے بھئی، کیونکہ کلام میں اتساق نہیں ہے۔
بھئی اتصال تو ہے، پہلی شرط تو پوری، ملا کر کہا آقا نے: لا أُجیز النکاح و لٰکن أُجیزہ، ملا کر کہا۔ لیکن دوسری شرط کیا تھی؟ کہ محلِ نفی اور محلِ اثبات ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے چاہئیں بھئی، لیکن یہاں محلِ نفی اور محلِ اثبات ایک ہی ہیں۔ پہلے کہا: لا أُجیز النکاح، کس چیز کی اجازت نہیں دیتا؟ نکاح کی۔ و لٰکن أُجیزہ، آگے کیا کہتا ہے؟ کس چیز کی اجازت دیتا ہوں؟ نکاح کی۔ تو ماقبل میں اسے نکاح کی اجازت نہیں دیتا، مابعد میں اس نکاح کی اجازت دیتا ہوں، تو لہذا محلِ نفی اور اثبات ایک ہی ہوا، اس لیے کلام میں اتساق نہ پایا گیا، تو لہذا جب "لا أُجیز النکاح" کہا، تو پہلے نکاح کی اجازت نہ دی، وہ نکاح تو باطل ہوا، ختم ہوا مولانا، اور بعد میں جب کہا: "و لٰکن أُجیزہ بمائۃ و خمسین درھماً"، تو اب یہ نئے نکاح کی اجازت دے رہا ہے۔ سابقہ نکاح کو کیا کر دیا اس نے؟ ختم کر دیا ہے، تو وہ فسخ ہوا اور یہ دوسرے نکاح کی اس نے اجازت دی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یرحمک اللہ۔
إن ھٰذا فسخٌ للنکاح و جعلُ لٰکن مبتدأً، لأن ھٰذا نفیُ فعل و اثباتہ بعینہٖ، تو یہ فسخ ہے نکاح کے لیے اور لٰکن کو کیا بنانا ہے؟ مبتدأً، مستأنفاً، یعنی نیا کلام کے لیے قرار دینا ہے، کیونکہ یہ نفیِ فعل ہے اور اثباتِ فعل ہے بعینہٖ، یعنی اسی ایک ہی فعل کی نفی ہے اور اسی فعل کا اثبات ہے۔ فإن نفی ھٰذا المثال لما قال المولی اولاً "لا أُجیز النکاح" فقد قلع النکاح عن اصلہٖ، اس لیے کیونکہ اس مثال کے اندر جب آقا نے پہلے یہ کہا کہ "لا أُجیز النکاح"، تو تحقیق اس نے اکھاڑ دیا نکاح کو اس کی اصل سے ہی، اس کی جڑ سے ہی، کیا کر دیا اس کو؟ اکھاڑ، یعنی ختم کر دیا اس نے بھئی، جب "لا أُجیز" کہہ دیا۔ و لم یبق لہٗ وجہُ صحۃٍ، اب کوئی صورت نہ رہی اس کے صحیح ہونے کی، جب "لا أُجیز" کہا، اسی کی اجازت پر موقوف تھا اور جس نے جب اس نے "لا أُجیز" کہا، فوراً نکاح کیا ہو گیا؟ ختم۔ اب بعد میں دوبارہ اجازت دیتا بھی رہے، اب نہیں ہو سکتا بھئی۔ وہ پچھلا رد ہو گیا، خلاصہ کلام یہ، پچھلا نکاح کیا ہو گیا؟ رد ہو گیا، اب اگر اب "و لٰکن أُجیزہ بمائۃ و خمسین درھماً"، یہ نکاح کی اجازت نہیں ہے، اس نکاح کی اجازت نہیں ہے وہ جو گزر گیا، وہ تو کیا کر دیا اس نے؟ رد کر دیا ہے، یہ نئے نکاح کی اجازت دے رہا ہے، اب دوبارہ جا کر ایجاب و قبول کرنا پڑے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہاں پر اس کو ہم عطف پر محمول نہیں کر سکتے کیونکہ کلام میں اتساق نہیں، اتساق کے لیے کتنی شرطیں تھیں؟ دو، ایک تو کلام ملا ہوا ہو اور دوسرا نفی ایک شے کی ہے تو اثبات دوسری شے کا ہو۔
تو اس کے صحیح ہونے کی کوئی صورت باقی نہ رہی، ثم لما قال بعدہٗ، پھر جب اس کے بعد اس نے کہا: "و لٰکن أُجیزہ بمائۃ و خمسین"، لیکن میں اس کی اجازت دیتا ہوں نکاح کی 150 پر، یلزم ان یکون اثبات ذٰلک الفعل المنفی بعینہٖ، کہ اسی فعلِ منفی بعینہٖ اسی فعلِ منفی کا کیا ہو؟ یہ اس کا اثبات ہو مولانا، کیا ہو؟ اثبات ہو۔
کیوں؟ بھئی اس کے ساتھ تو 150 مہر ذکر ہے، وہ تو الگ نکاح ہے؟ کہتے ہیں: نہیں نہیں، لأن المھر فی النکاح تابعٌ لا اعتبار لہٗ، مہر تو نکاح میں تابع ہوا کرتا ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، چنانچہ بغیر مہر ذکر کرے بھی، کیے بھی کوئی نکاح کرے تو ہو گا یا نہیں ہو گا؟ نکاح تو ہو جائے گا، ہاں پھر مہرِ مثل آ جائے گا بھئی، تو اس کا، وہ تابع ہے، اس کا اعتبار نہیں ہے۔ فی تناقض اول الکلام بآخرہٖ، پس مناقض ہوا اولِ کلام آخرِ کلام کے ساتھ، فحملناہ علی ابتداء النکاح بمھرٍ آخر، پس ہم نے اس کو محمول کیا ابتداءِ نکاح پر دوسرے مہر کے ساتھ، و فسخ النکاح الاول الذی عقدتہ، اور ہم نے اس کو محمول کیا کس پر؟ پہلے نکاح کے فسخ پر، وہ نکاح عقدتہ جو باندی نے کیا تھا، فیکون لٰکن للاستئناف لا للعطف، تو لٰکن جو ہو گا وہ استئناف کے لیے ہو گا، عطف کے لیے نہیں ہو گا۔
و لو قال المولی فی جوابھا، اور اگر کہتا آقا اس کے جواب کے اندر: "لا أُجیز النکاح بمائۃٍ و لٰکن أُجیزہ بمائۃٍ و خمسین"، اگر یوں کہتا، پہلی صورت میں "بمائۃٍ" اس نے ذکر نہیں کیا تھا، اب "بمائۃٍ" کا لفظ بھی پہلے نکاح کے ساتھ ذکر کر رہا ہے: "لا أُجیز النکاح بمائۃٍ و لٰکن أُجیزہ بمائۃٍ و خمسین"، تو پھر کہتے ہیں: یہ اتساق کی مثال بن جائے گی، کیونکہ محلِ نفی، محلِ اثبات سے غیر ہو جائے گا۔
تو اس صورت کے اندر عطف صحیح ہو گا اور جب اس نے کہا: "لا أُجیز النکاح بمائۃٍ و لٰکن أُجیزہ بمائۃٍ و خمسین"، معلوم ہوا وہ نکاح کو سرے سے نہیں رد کر رہا، بلکہ مہر کو رد کر رہا ہے، کہ 100 مہر نہیں بلکہ کتنا مہر ہو؟ ڈیرھ سو مہر ہونا چاہیے۔
تو لہذا اب سرے سے نکاح ہی فسخ نہ ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وہ نکاح نہیں فسخ ہو گا۔ اس لیے کیونکہ نکاح کو اس صورت کے اندر اس کے ساتھ قید ذکر کر دی "بمائۃٍ" کی مولانا، اور آپ نے پڑھا ہے کہ مقید پر جب نفی داخل ہو تو وہ نفی قید کی طرف متوجہ ہوتی ہے، قید کا رفع کرتی ہے، قید کی نفی کرتی ہے، اصلِ کلام کی، اصلِ فعل کی نفی نہیں کرتی۔
مقید پر جب نفی داخل ہو تو نفی قید کی طرف راجع ہوتی ہے۔ کس پر؟ یاد رکھیے جب مقید پر نفی داخل ہو تو وہ قید کی طرف متوجہ ہوتی ہے، قید کی طرف۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "لا آکل خبزاً"، میں روٹی نہیں کھاؤں گا، تو میں نے سرے سے روٹی کھانے ہی کی نفی کر دی۔
لیکن اگر اسی خبز کے ساتھ میں ایک قید بڑھا دوں، مثلاً بارداً کی قید: "لا آکل خبزاً بارداً"، میں ٹھنڈی روٹی نہیں کھاؤں گا، تو بارداً یہ صفت ہے خبزاً کے لیے اور صفت موصوف کے لیے قید ہوا کرتی ہے، تو موصوف ہوا مقید اور صفت ہوئی قید۔ خبز کیا ہے؟ مقید، اور بارد اس کے لیے؟ قید، کیونکہ صفت موصوف کے لیے کیا ہوا کرتی ہے؟ قید ہوا کرتی ہے، اور تو یہ خبز مقید ہے، اور مقید پر جب نفی داخل ہو، تو نفی کس کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ قید کی طرف متوجہ ہوتی ہے، قید کا رفع کرتی ہے، قید کی نفی ہوتی ہے، مقید کی نفی نہیں۔ اب میں نے کہا: "لا آکل خبزاً بارداً"، میں ٹھنڈی روٹی نہیں کھاؤں گا، کیا معنی؟ کیا میں نے مطلق روٹی کھانے کی نفی کی ہے؟ نہیں، بلکہ صرف کون سی روٹی کھانے کی؟ ٹھنڈی، یعنی ٹھنڈی ہو تو نہیں کھاؤں گا، ویسے کھا لوں گا، تو دیکھا نفی کس کی طرف متوجہ ہوئی؟ قید کی طرف، مثال سمجھ میں آ گئی کہ نہیں بھئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح ہے: "لا أُجیز النکاح بمائۃٍ"، یہ نکاح مقید ہے کتنے مہر کے ساتھ؟ سو، سو کے ساتھ مقید ہے، تو نکاح ہوا مقید اور "بمائۃٍ" اس کے لیے کیا ہوئی؟ قید، اور اس پر "لا" آیا بھئی، "میں اجازت نہیں دیتا"، تو یہ نفی کس کی طرف متوجہ ہوئی؟ قید، یعنی "بمائۃٍ" کی طرف متوجہ ہوئی، معلوم ہوا وہ اس "مائۃٍ" کی اجازت نہیں دے رہا، اس پر راضی نہیں ہے، نکاح کی سرے سے نفی نہیں کر رہا، جیسے "لا آکل خبزاً بارداً"، میں سرے سے روٹی کھانے کی نفی نہیں کر رہا تھا بلکہ ٹھنڈی روٹی کھانے کی نفی کر رہا تھا، تو یہاں پر بھی وہ سرے سے نکاح کی نفی نہیں کر رہا بلکہ نکاح "بمائۃٍ" کی کیا کر رہا ہے؟ نفی کر رہا ہے، کہ یعنی وہ اس مہر پر راضی نہیں ہے، نکاح کی اس نے نفی نہیں کی۔ صورت اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: اگر آقا نے یہ اس کے جواب میں کہا ہوتا: لکان ھٰذا بعینہٖ مثالاً للاتساق، تو یہ بعینہٖ اتساق کی مثال ہوتی، فیبقی اصل النکاح، تو اصلِ نکاح باقی رہتا، و یکون النفی راجعاً إلی قید المائۃ، اور نفی راجع ہوتی مائۃ کی قید کی طرف، و الاثبات إلی قید المائۃ و الخمسین، اور اثبات کس چیز کی طرف راجع ہوتا؟ مائۃ و خمسین کی قید کی طرف، فلا یکون نفی فعل و اثباتہ بعینہٖ، تو اس صورت میں فعل، اسی فعل کی نفی اور اسی فعل کا اثبات نہ ہوتا بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
چلیے بس مولانا، ھٰذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔