Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-057

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 142
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔57 والفاء للوصل والتعقيب أي لكون المعطوف موصولاً بالمعطوف عليه متعقباً له بلا مهلة، فيتراخى المعطوف عن المعطوف عليه بزمان وإن لطف أي قل ذلك الزمان بحيث لا يدرك إذ لو لم يكن الزمان فاضلاً أصلاً كان مقارناً تستعمل فيه كلمة مع. حروفِ معانی کی بحث چل رہی ہے، سب سے پہلے آپ نے واؤ کے بارے میں پڑھا کہ واؤ جو ہے وہ عطف کے لیے آتا ہے۔ یہ اس کا حقیقی معنیٰ اور کبھی کبھار یہ کس کے لیے آئے گا؟ حال کے لیے اور یہ اس کا مجازی معنیٰ۔ آج ہم حروفِ معانی میں سے فا کے بارے میں پڑھیں گے۔ تو مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: والفاء للوصل والتعقيب، کہ فا جو ہے وصل اور تعقیب کے لیے ہے، وصل اور تعقیب۔ تعقیب کا معنیٰ ہے پیچھے آنا بھئی، ایک چیز کے پیچھے آنا دوسری چیز کا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: جاءني زيد فعمرو، واؤ کے بجائے کیا استعمال کرتا ہوں؟ فا، تو یہ فا جس پر داخل ہوئی معلوم ہوا یہ جو ماقبل ہے اس کے بعد آیا ہے۔ جاءني زيد فعمرو، معلوم ہوا عمرو زید کے بعد آیا ہے، یہ ہے تعقیب بھئی تعقیب، کہ عمرو زید کے پیچھے آیا اس کے بعد آیا، اس کے عقب میں آیا۔ اور وصل کا معنیٰ ہے ملا ہونا، ملا ہونا۔ تو یہ جو عمرو زید کے بعد آیا یہ اس عمرو کا آنا زید کے آنے کے ساتھ ملا ہوا ہے، یعنی زید کے آتے ہی فوراً عمرو بھی آ گیا بھئی۔ عمرو ہے تو اس سے مؤخر لیکن درمیان میں مہلت نہیں بھئی، زمانہ نہیں ہے بھئی، قلیل زمانہ ہے بہت قلیل۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور اگر درمیان میں مہلت ہو تو پھر اس کے لیے ثم آتا ہے جس کی بحث آگے آ جائے گی بھئی۔ تو فا کس لیے آتا ہے؟ تعقیب مع الوصل کے لیے، یعنی فا کا مدخول ایک تو کیا ہوگا؟ پیچھے ہوگا اور دوسرا ملا ہوا ہوگا، یعنی درمیان میں مہلت نہیں، درمیان میں مہلت نہیں ہوگی بھئی، وصل کا معنیٰ ہے یہ بھئی، مہلت نہ ہونا بھئی ملا ہوا ہو۔ معنیٰ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: والفاء للوصل والتعقيب فا جو ہے وصل اور تعقیب کے لیے ہے، أي لكون المعطوف موصولاً بالمعطوف عليه یعنی اس کے لیے کہ معطوف جو ہے وہ ملا ہوا ہو، ملایا گیا ہو معطوف علیہ کے ساتھ متعقباً له اس سے پیچھے ہو بلا مهلة بغیر کسی مہلت کے، ملا ہوا ہے اس کے پیچھے ہے بغیر مہلت کے۔ فيتراخى المعطوف عن المعطوف عليه بزمان وإن لطف پس مؤخر ہوگا معطوف بھئی، کون مؤخر ہوگا؟ معطوف، کس سے مؤخر ہوگا؟ معطوف علیہ سے، تو کہتے ہیں پس معطوف جو ہے پیچھے ہوگا، مؤخر ہوگا معطوف علیہ سے بزمان کچھ زمانے کے سے، کچھ تھوڑے سے زمانے کے ساتھ اس سے پیچھے ہوگا بھئی، یعنی وہ زمانے کے اعتبار سے مقدم اور یہ اس کے بعد ہے بھئی، وإن لطف اگرچہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔ وإن لطف اگرچہ یعنی زمانے کے اعتبار سے معطوف معطوف علیہ سے پیچھے ہوگا، مؤخر ہوگا، چاہے یہ زمانہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو، اتنا تھوڑا کہ اس کا ادراک ہی نہ ہو سکے بھئی، لیکن ہوگا بہرحال پیچھے ہی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے خود معنیٰ کر رہے ہیں لطف کا: أي قل ذلك الزمان بحيث لا يدرك یعنی قلیل ہو وہ زمانہ اس طور پر کہ اس کا ادراک ہی نہیں ہو سکتا، یعنی ایک چیز دوسرے سے زمانے کے اعتبار سے مؤخر ہے، زمانے کے اعتبار سے، چاہے یہ مؤخر ہونے کا زمانہ یہ اتنا قلیل ہی کیوں نہ ہو کہ اس کا ادراک بھی نہیں ہو سکتا بھئی، اتنا قلیل ہی کیوں نہ ہو لیکن بہرحال کیا ہوگا؟ معطوف، معطوف علیہ سے پیچھے ہوگا، مؤخر ہوگا زمانے کے اعتبار سے۔ تو کہتے ہیں: إذ لو لم يكن الزمان فاضلاً أصلاً كان مقارناً تستعمل فيه كلمة مع، تو زمانہ ضرور فاصل ہوگا بھئی، زمانے کے اعتبار سے ضرور مؤخر ہوگا۔ اگر زمانے کے اعتبار سے مؤخر نہ ہو پھر تو ساتھ ملا ہوا ہوگا اور اس کے لیے تو پھر کلمۂ مع آیا کرتا ہے بھئی، فا اس کے لیے نہیں آتا۔ جاءني زيد فعمرو، اس فا نے کیا بتلایا کہ عمرو زید سے آنے میں مؤخر ہے، پیچھے ہے۔ اور اگر زمان، تو زمانے کے اعتبار سے، اگر ساتھ ہوتا پھر تو ہم مع کلمہ استعمال کرتے: جاءني زيد مع عمرو، تو آیا زید عمرو کے ساتھ بھئی، تو یہ پھر اس صورت میں زمانہ فاصل نہ ہوتا، دونوں اکٹھے آئے ہوتے، لیکن یہ فائدہ تو مع دیا کرتا ہے اور جبکہ یہاں ہم بات کس کی کر رہے ہیں؟ فا کی، اس فا کے اندر فاصل زمانے کا ہونا ضروری ہے۔ إذ لو لم يكن الزمان فاضلاً أصلاً اگر نہ ہو زمانہ فاصل سِرے سے ہی، كان مقارناً پھر تو کیا ہوگا؟ وہ اس کے ساتھ ملا ہوا ہوگا، تستعمل فيه كلمة مع جس میں استعمال کیا جاتا ہے کلمۂ مع۔ بھئی پھر تو ملا ہوا ہوگا اور اس میں تو کلمۂ مع استعمال ہوتا ہے فا استعمال نہیں ہوتا۔ وإطلاق التراخي هاهنا بالمعنى اللغوي لا الاصطلاحي الذي كان مدلول ثم، اور تراخی کا جو یہاں، بھئی سوال، یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ متن نے اوپر کہا: فيتراخى المعطوف عن المعطوف عليه، اور تراخی کا لفظ استعمال کیا کہ فا کے اندر، فا جب استعمال کریں گے تو معطوف وہ اس میں تراخی ہوگی، کس سے؟ معطوف علیہ سے، تو تراخی کا لفظ استعمال کیا۔ اور تراخی تو کہتے ہیں تأخیر بمهلة، یرحمک اللہ، تأخیر بمهلة، یعنی مؤخر ہو اور کس کس، کس طرح مؤخر ہو؟ مہلت کے ساتھ، درمیان میں کچھ وقت بھی ہو فاصل بھئی، مہلت ہو بھئی درمیان میں۔ تو تو تراخی کا تو یہ معنیٰ ہے تأخیر ہو اور کس کے ساتھ ہو؟ مہلت کے ساتھ بھئی، تو جواب اس کا، تو یہ تو ثم کے اندر ہوتا ہے تراخی بھئی، ثم کے اندر آتی ہے کہ تأخیر کس کے ساتھ ہوتی ہے؟ مہلت کے ساتھ ہوتی ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ متن میں جو تراخی کا لفظ آیا یہ وہ تراخیِ اصطلاحی یہاں نہیں مراد بلکہ تراخیِ لغوی مراد ہے بھئی۔ یعنی عربی زبان کے اعتبار سے جو تراخی جسے کہتے ہیں یعنی مؤخر ہونا، کیا معنیٰ ہے اس کا؟ ہاں، تو اس میں عربی زبان میں تراخی کا معنیٰ ہوتا ہے مؤخر ہونا ایک چیز کا بھئی، تو اب، اور تراخیِ اصطلاحی کیا تھی؟ مؤخر ہو کس کے ساتھ؟ مہلت کے ساتھ، اور تراخیِ لغوی کا کیا معنیٰ؟ مؤخر ہونا ایک چیز دوسری کے پیچھے ہو بس، مہلت کی قید وہاں پر نہیں ہے، تو لہٰذا یہاں تراخیِ لغوی مراد ہے، یعنی یہ معطوف معطوف علیہ سے کیا ہوگا؟ مؤخر ہوگا بھئی مؤخر ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وإطلاق التراخي هاهنا بالمعنى اللغوي لا الاصطلاحي اور یہاں پر تراخی کا جو اطلاق ہوا وہ معنیٰ لغوی کے اعتبار سے ہے نہ کہ معنیٰ اصطلاحی کے، معنیٰ، وہ معنیٰ اصطلاحی الذي كان مدلول ثم جو کس کا مدلول ہے؟ ثم کا، تو تراخیِ اصطلاحی وہ تو ثم کا مدلول ہے وہ یہاں مراد نہیں ہے بلکہ یہاں تراخیِ لغوی مراد ہے۔ فإذا قال: إن دخلت هذه الدار فهذه الدار فأنت طالق، پس جب کہا خاوند نے اپنی بیوی سے: إن دخلت هذه الدار فهذه الدار فأنت طالق، اگر تو داخل ہوئی اس گھر میں پھر اس گھر میں تو تجھے طلاق ہے۔ تو فا لے کر آیا: فهذه الدار بھئی، تو لہٰذا اب طلاق کس صورت میں ہوگی؟ پہلے والے گھر میں پہلے جائے اور پھر فوراً کس میں چلی جائے؟ دوسرے گھر میں بلا مہلت کے تو پھر اسے طلاق واقع ہوگی، اس کے علاوہ باقی صورتوں کے اندر طلاق واقع نہیں ہوگی باقی صورتوں میں۔ مثلاً کن صورتوں میں طلاق نہیں ہوگی؟ کسی گھر میں بھی وہ جائے، ان دونوں گھروں میں سے کسی میں بھی نہ جائے تو بھی طلاق نہیں، یا جائے تو لیکن صرف ایک گھر میں جائے، دوسرے میں جائے ہی نہ تو بھی طلاق نہیں۔ یا یا درمیان میں وقفہ، پہلے گھر میں پہلے گئی اور دوسرے میں کچھ دیر ٹھہر کر گئی تو پھر اس صورت میں بھی طلاق نہیں ہوگی، یا دوسرے والے گھر میں پہلے گئی اور پہلے والے گھر میں بعد میں گئی تو اس صورت میں بھی طلاق نہیں ہوگی۔ فإذا قال، جب کہا خاوند نے: إن دخلت هذه الدار فهذه الدار فأنت طالق، کہ اگر تو گئی اس گھر میں پھر اس گھر میں تو تجھے طلاق ہے، فالشرط تو شرط یہ ہے، اب طلاق کی شرط یہ ہے، أن تدخل الثانية بعد الأولى کہ وہ عورت داخل ہو اس دوسرے گھر میں بعد الأولى کس کے بعد؟ پہلے گھر کے بعد داخل ہو اور بلا تراخٍ بغیر کسی مہلت کے، پھر طلاق ہوگی۔ فإن لم، فإن فإن لم تدخل الدارين، اب یہ وہ صورتیں ذکر کرنے لگے ہیں جن میں طلاق نہیں ہوگی، کئی صورتیں شارح اکٹھی ذکر کریں گے اور آخر میں آ کر کہیں گے: لم تطلق، ان تمام صورتوں میں اسے طلاق نہیں ہوگی جو میں نے ابھی آپ کو گنوا دیں۔ کہتے ہیں: فإن لم تدخل الدارين اگر وہ عورت دونوں گھروں میں داخل نہ ہوئی، تو اس صورت میں بھی طلاق نہیں، أو دخلت إحداهما فقط یا داخل ہوئی ان دو گھروں میں سے صرف ایک میں، تو بھی طلاق نہیں ہوگی، أو دخلت الأولى بعد الثانية یا پہلے گھر میں داخل ہوئی دوسرے کے بعد، یعنی پہلے دوسرے میں گئی پھر پہلے میں، اس صورت میں بھی طلاق نہیں ہوگی، أو دخلت الثانية بعد الأولى بتراخٍ یا داخل دوسرے گھر میں ہوئی پہلے گھر کے بعد لیکن بتراخٍ، کس کے ساتھ؟ مہلت کے ساتھ، تو ان تمام صورتوں میں لم تطلق، وہ اس عورت کو طلاق نہیں ہوگی، لأنه لم يوجد الشرط اس لیے کیونکہ شرط نہیں پائی گئی۔ وتستعمل في أحكام العلل، اور کہتے ہیں یہ فا استعمال ہوتی ہے احکامِ علل کے اندر، علتوں کے احکام میں بھی بھئی۔ یہ فا جو ہے علتوں کے احکام میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ بھئی ایک ہے علت، ایک معلول، علت ہے تو معلول ہے، علت نہیں تو حکم بھی، معلول نہیں بھئی، تو معلول یعنی حکم بھئی، تو جب علت آئے گی تو حکم بھی آ جائے گا، علت نہیں تو حکم بھی، تو علت دیکھو مقدم ہوتی ہے اور حکم مؤخر ہوتا ہے ذات کے اعتبار سے، ذات کے اعتبار سے۔ بھئی علت یاد رکھیے جیسے ہی علت آتی ہے ساتھ ہی معلول بھی آ جاتا ہے، زمانہ دونوں کا ایک ہوتا ہے۔ جیسے ہی سورج نکلا ساتھ ہی دن ہو جائے گا بھئی، سورج کچھ پہلے نکلے اور دن ایک آدھ سیکنڈ بعد ہو، نہیں نہیں، جیسے ہی علت ویسے ہی معلول بھی، تو زمانے کے اعتبار سے ان میں تأخیر نہیں ہوتی زمانے کے اعتبار سے، البتہ ذات کے اعتبار سے علت مقدم ہوتی ہے اور معلول مؤخر، معلول مؤخر، اس کو کہتے ہیں تقدمِ ذات، تقدمِ ذاتی। تو یہاں تقدمِ زمانی تو کوئی نہیں، زمانہ تو دونوں کا ایک ہی ہے، ادھر علت اس کے ساتھ ہی معلول بھی اور حکم بھی، بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ تو یہاں زمانے کے اعتبار سے اگرچہ حکم جو ہے وہ علت سے مؤخر نہیں ہوتا لیکن ذات کے اعتبار سے تو علت مقدم ہوتی ہے، علت ہے تو حکم ہے، علت نہیں تو حکم بھی نہیں، تو چونکہ علت مقدم ہوتی ہے تو لہٰذا اور حکم مؤخر ہوتا ہے اس لیے فا لے کر آتے ہیں، فا لے کر آتے ہیں۔ اچھا اور نیز میں نے بتایا کہ زمانے کے، زمانے کے اعتبار سے فرق نہیں ہوتا، جیسے علت اس کے ساتھ ہی حکم بھی، تو تقدمِ زمانی تو یہاں پر نہیں ہے، زمانے کے اعتبار سے علت مقدم نہیں، مقدم ہے صرف ذات کے اعتبار سے، علت کی ذات مقدم ہوتی ہے معلول کی ذات پر، تو یہاں صرف تقدمِ ذاتی ہے تقدمِ زمانی نہیں ہے، نہیں ہے، اس کی مثال میں پہلے بھی وضاحت کر چکا ہوں جیسے تالے کے چابی گھمائیں تو تالا کھل جاتا ہے، اب یہ چابی کا گھمانا یہ علت ہے اور تالے کا کھلنا یہ معلول ہے بھئی، معلول ہے، اور چابی کے گھمانا، چابی کا گھمانا اور تالے کا کھلنا یہ ایک ہی زمانے میں ہے، زمانے کے اعتبار سے چابی کا گھمانا یہ مقدم نہیں ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ آپ کہیں گے بھئی ہم تو چابی پہلے گھماتے ہیں تالا بعد میں کھلتا ہے، نہیں نہیں بھئی ایسا نہیں ہے، جوں جوں چابی گھومتی چلی جا رہی ہے تالا کھلتا چلا جا رہا ہے، چابی آخری حد کو پہنچے گی تالا بھی پورا کھل جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو چابی کا گھمانا ہے علت، تالے کا کھلنا ہے معلول، اور یہاں زمانے کے اعتبار سے یہاں تقدم نہیں ہے، صرف ذات کے اعتبار سے ہے، چابی کا گھمانا یہ ذات کے اعتبار سے مقدم اور تالے کا کھلنا یہ ذات کے اعتبار سے مؤخر، زمانے کے اعتبار سے کوئی تقدم و تآخر نہیں ہے بھئی، صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: وتستعمل في أحكام العلل اور یہ فا جو ہے وہ استعمال کی جاتی ہے علتوں کے احکام کے اندر بھی، على سبيل الحقيقة حقیقت کے طریقے پر، یعنی یہ وہی فا کا حقیقی معنیٰ ہی چل رہا ہے بھئی، یہاں تو یہ بھی حقیقت، حقیقی معنیٰ ہے فا کا، لأن الفاء للتعقيب اس لیے کیونکہ فا تعقیب کے لیے آتی ہے، والأحكام تعقب العلل اور احکام جو ہیں وہ علتوں کے بعد پیچھے آتے ہیں، تو تعقیب والا معنیٰ یہاں آ گیا، لہٰذا حکم پر فا داخل کرنا صحیح، ماقبل میں علت اور حکم پر کیا داخل کر دیتے ہیں؟ فا۔ وتترتب عليها بالذات، اور یہ جو احکام ہیں یہ مرتب ہوتے ہیں علتوں پر بالذات، کس اعتبار سے؟ ذات کے اعتبار سے، یعنی ان پر مرتب ہوتے ہیں، یعنی علت پہلے ہوتی ہے اور حکم اس کے بعد آتا ہے، وإن كانت مقارنة لها بالزمان اگرچہ یہ احکام ملے ہوئے ہوتے ہیں علتوں کے ساتھ زمانے کے اعتبار سے، زمانے کے اعتبار سے تو حکم علت کے بعد نہیں بلکہ علت ہی کے زمانے میں ہے، جیسے علت ہے اس کے ساتھ ہی حکم بھی ہے، لیکن ذات کے اعتبار سے کیا ہے؟ علت مقدم ہے اور حکم مؤخر۔ فإذا قال: بعت منك هذا العبد بكذا، صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کہا: بعت منك هذا العبد بكذا، میں نے یہ غلام آپ کے ہاتھ بیچ دیا اتنے درہم میں، دوسرے نے فوراً کہا: فهو حر، فا لے کر آیا جواب میں، اور فا کس لیے لائی جاتی ہے ایک چیز کو دوسری پر مرتب کرنے کے لیے، کرنے، کیا کرنے کے لیے؟ مرتب کہ ایک چیز دوسری سے مؤخر ہے اس کے بعد آ رہی ہے، تو یہاں فا لے کر آیا، معلوم ہوا یہاں وہ حریت کو مرتب کر رہا ہے ایجاب پر۔ بھئی بیع و شراء کے اندر جو پہلا قول ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ایجاب، اور دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ قبول، تو اب وہ شخص جس، جو فهو حر کہہ رہا ہے اس نے یہ تو نہیں کہا میں نے قبول کیا، صرف کیا کہا اس نے؟ فهو حر، معلوم ہوا یہ غلام کی آزادی کو کس پر مرتب کر رہا ہے؟ ایجاب پر، کس پر؟ ایجاب پر، اور ایجاب پر صرف ایجاب پر تو غلام کی حریت مرتب نہیں ہو سکتی، کیونکہ جب ایجاب کیا تو اس کا مالک ابھی وہی بیچنے والا ہے، یہ دوسرا مشتری یہ ابھی اس کا مالک ہی نہیں بنا تو آزاد کیسے کر سکتا ہے اس کو بھئی؟ لہذا یہاں پر چونکہ وہ اس حریت کو مرتب کر رہا ہے کس پر؟ ایجاب پر اور یہ حریت تو ایجاب پر مرتب نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کی طرف سے قبول نہ پایا جائے۔ جب قبول پایا جائے گا تو پھر یہ مالک بن جائے گا اور پھر اس کے لیے آزاد کرنا جائز ہو گا۔ تو چنانچہ وہ ایجاب پر حریت کو مرتب کر رہا ہے اور ایجاب پر حریت مرتب تو ہو، حریت ویسے تو مرتب ہو نہیں سکتی لہذا ہمیں کیا کرنا پڑے گا؟ یہاں اقتضاءً قبول کو ماننا پڑے گا۔ گویا اس نے یوں کہا: قبلت فہو حر۔ قبلت فہو حر، میں نے قبول کیا پس وہ آزاد ہے۔ تو چنانچہ وہ غلام فوراً اسی وقت آزاد ہو جائے گا۔ تو یہاں یہ "قبلت" نکالنے کے لیے ہم مجبور ہوئے، کیوں مجبور ہوئے؟ کیونکہ وہ فا لے کر آیا تھا اور "فہو حر" کو وہ کس پر مرتب کر رہا تھا؟ ایجاب پر اور ایجاب پر اسی صورت میں کیا مرتب ہو سکتا ہے "فہو حر" جب اس کے بعد کیا مانا جائے؟ "قبلت" کو مانا جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہذا ہم نے "قبلت" کو مان لیا اقتضاءً۔ "فہو حر" نے تقاضا کیا کہ یہاں کیا مان لو؟ "قبلت" مان لو بھئی۔ صورت بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ کیا صورت ہوئی؟ کہ وہ فا، فہو حر، یہ غلام کی حریت کو کس پر مرتب کر رہا ہے؟ ایجاب پر اور صرف ایجاب پر تو مرتب ہو نہیں سکتی اور مرتب کرنا ہے ہم نے، تو لہذا مجبورا ًکیا ماننا پڑے گا؟ "قبلت" ماننا پڑے گا، پھر مرتب ہو گیا اور پھر وہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: فإذا قال، بس جب کہا کسی شخص نے دوسرے سے: بعت منك، میں نے بیچ دیا منک آپ کے ہاتھ پر، هذا العبد، اس غلام کو، بكذا، اتنے درہم کے بدلے، وقال الآخر، اور دوسرے نے کہا: فهو حر، تو پھر پس وہ آزاد ہے، يكون قبولا للبيع، تو یہ بیع کو قبول کرنا ہے۔ أي قبلت فحررت، یعنی میں نے قبول کیا پس آزاد کر دیا۔ لأنه رتب الإعتاق على الإيجاب، اس لیے کیونکہ اس نے اعتاق کو مرتب کیا ایجاب پر، ولا يترتب عليه إلا بعد ثبوت القبول بطريق الإقتضاء، اور یہ جو اعتاق ہے، یہ تو مرتب نہیں ہو سکتا ایجاب پر مگر بعد جب کہ قبول ثابت ہو جائے بطریق الاقتضاء، کس طریقے پر؟ اقتضاء کے طریقے پر بھئی۔ ولو قال: وهو حر أو وهو حر، بھئی! یہ تو وہ صورت تھی جب اس نے "فہو حر" کہا، تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ اور اس سے پہلے کیا ماننا پڑے گا؟ "قبلت" ماننا پڑے گا، غلام آزاد ہو جائے گا۔ دوسری صورت یہ کہ وہ واؤ استعمال کرتا ہے: وهو حر، یا کوئی بھی حرفِ عطف نہیں لاتا ویسے ہی کہہ دیتا ہے: هو حر، تو اس صورت میں غلام آزاد نہیں ہوگا بھئی۔ کیوں؟ کیوں نہیں آزاد ہوگا؟ وجہ یہ کہ بھئی! اس نے جواب میں کہا: هو حر، یا کہا: وهو حر، تو احتمال ہے۔ شاید یہ اس کی آزادی کی خبر دے رہا ہے، وہ یعنی یہ کہہ رہا ہے ماضی گزشتہ آزادی کی کہ بھئی! یہ تو آزاد ہے۔ یہ تو پہلے سے ہی کیا ہے یہ آدمی جس کو تم میرے ہاتھ غلام بنا کر بیچ رہے ہو، یہ تو کیا ہے؟ آزاد ہے، کیسے اس کو تم میرے ہاتھ بیچ رہے ہو بھئی؟ تو ہو سکتا ہے اس کے کہنے کا یہ مطلب ہو۔ اس نے کہا: یہ غلام میں نے تمہیں اتنے پیسوں میں بیچ دیا، کہتا ہے: هو حر، وہ تو کیا ہے؟ آزاد ہے، یعنی کیسے بیچ رہے ہو میرے ہاتھ اس سے؟ وہ تو آزاد آدمی ہے۔ تو "هو حر" میں بھی یہی احتمال اور "وهو حر" میں بھی، تو ہو سکتا ہے یہ اس کی گزشتہ آزادی ہی کی خبر دے رہا ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے اس کے کہنے کا مطلب یہ ہو کہ ہاں بھئی! میں نے قبول کر لیا اور قبول کرنے کے بعد اب یہ کیا ہے؟ آزاد ہے۔ تو دو احتمال آ گئے، ایک کیا احتمال؟ ہو سکتا ہے وہ اس کی گزشتہ آزادی ہی کی خبر دے رہا ہو اور ہو سکتا ہے وہ کیا کر رہا ہو؟ قبول کرنے کے بعد اس کو کیا کرنا چاہتا ہے؟ تو دو احتمال آ گئے مولانا، جب دو احتمال آ گئے تو پتہ نہیں یہ والا احتمال ہے یا یہ والا، شک آ گیا کون سی مراد ہے اس کی اور شک کی وجہ سے اب غلام آزاد نہیں، قبول بھی نہیں ثابت ہو سکتا اور غلام بھی آزاد نہیں ہو سکتا کیونکہ شک آ گیا، دو احتمال ہیں۔ ایک ہوتا تو پھر تو یقینی بات تھی ہم فیصلہ کر لیتے ہیں۔ ولو قال: هو حر أو وهو حر، اور اگر اس شخص نے کہا: هو حر، وہ آزاد ہے، أو، یا یوں کہا: وهو حر لا يكون قبولا، تو اس صورت میں یہ قبول نہیں ہوگا، للبيع، بیع کے لیے۔ فيحتمل أن يكون إخبارا عن الحرية الثابتة قبل الإيجاب، پس یہ احتمال رکھتا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ خبر ہو، اخبار بمعنی خبر کے، یہ خبر ہو عن الحرية، کس سے؟ یہ خبر دے رہا ہو حرية، اس حریت سے الثابتة قبل الإيجاب، جو ایجاب سے پہلے سے ہی ہے، یعنی یہ بتلانا چاہ رہا ہے کہ بھئی! یہ تو آزاد ہے پہلے سے ہی، یہ بھی احتمال ہے۔ وأن يكون إنشاء للحرية بعد القبول، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ انشاء، یہ انشاء ہے حریت کے لیے قبول کرنے کے بعد، قبول کرنے کے بعد کیا کر رہا ہے؟ انشاءِ حریت کر رہا ہے، یعنی حریت کو وجود دے رہا ہے، یعنی اس غلام کو کیا کر رہا ہے؟ آزاد، یہ بھی احتمال ہے، اس میں دونوں احتمال آ گئے۔ فلا يثبت القبول والإعتاق بالشك، تو لہذا قبول اور اعتاق دونوں، یہ شک کی وجہ سے ثابت نہیں ہوں گے۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آ گیا؟ اچھی طرح؟ وقد تدخل على العلل إذا كانت مما تدوم، اور کبھی کبھار فا داخل ہوتی ہے علتوں پر بھی إذا كانت مما تدوم، جب وہ علت جو ہے مما ان علتوں میں سے ہو تدوم، جو دائم، دائمی رہتی ہیں، جن میں دوام ہوتا ہے۔ بھئی دیکھیے! علت مقدم ہوتی ہے اور حکم کیا ہوتا ہے؟ مؤخر۔ اور فا مقدم پر داخل کرتے ہیں یا مؤخر پر؟ فا تو مؤخر پر داخل کرتے ہیں۔ لہذا علت مقدم ہے تو اس پر فا کا داخل کرنا جائز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ فا تو مؤخر پر داخل ہوا کرتی ہے، مقدم پر نہیں۔ لیکن کہتے ہیں کبھی کبھار علت پر بھی فا داخل کر دیتے ہیں۔ بھئی علت پر فا کیسے داخل ہوئی؟ علت تو مقدم ہوتی ہے! تو بتلا رہے ہیں بھئی! ایسی علت پر فا کو داخل کرتے ہیں جو بعد میں بھی موجود رہے۔ جو بعد میں بھی موجود رہے۔ جب بعد میں بھی ہے تو مؤخر بھی ہو گئی یا نہیں؟ مقدم تو تھی ہی، مؤخر بھی ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ ہو گئی، جب بعد میں بھی اس کا وجود ہے، تو لہذا اس پر فا کا داخل کرنا صحیح ہوا۔ صورت سمجھ، جیسے اس کی مثال وہ آگے مثال ذکر کریں گے: ایک آدمی سخت تکلیف میں ہے، مصیبت میں ہے، آپ نے کہا: أبشر! خوش ہو جاؤ یا خوشخبری قبول کرو، فقد أتاك الغوث، تحقیق تمہارے پاس مددگار پہنچ گیا، مددگار آ گیا۔ اب دیکھیے! مددگار کا آنا یہ ایک آنی چیز ہے، ایک زمانے کے اعتبار، ایک لمحے میں، جیسے ہی اولِ نظر پڑ گئی فوراً کیا کہہ دیتے ہیں؟ آ گیا بھئی! تو مددگار کا آنا یہ تو آنی چیز ہے۔ اور لیکن اس شخص مددگار کا وجود تو بعد میں بھی رہے گا یا نہیں بھئی؟ اس کا وجود تو بعد میں بھی رہے گا۔ تو جیسے یہاں پر فا کو داخل کیا گیا، اسی طرح علت ہوتی تو مقدم ہے، لیکن اگر ایسی علت ہے جس میں دوام ہے، اس کے اس حکم کے بعد بھی اس کا وجود رہتا ہے باقی، تو اس صورت میں اس علت پر بھی کیا کر دیتے ہیں؟ فا کو داخل کر دیتے ہیں کیونکہ یہ مؤخر بھی ہوئی، کیا ہوئی؟ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں: وقد تدخل على العلل إذا كانت مما تدوم، اور کبھی فا علتوں پر بھی داخل ہوتی ہے إذا كانت، جب وہ عل، جب وہ علت جو ہے مما، ان علتوں میں سے ہو تدوم، جن میں دوام ہوتا ہے، جو دائمی ہوتی ہیں، فتكون موجودة بعد الحكم، تو وہ علت حکم کے بعد بھی موجود رہے گی۔ دیکھیے بھئی! ادھر دیکھیے۔ علت ہے تو مقدم، علت آئے گی تو کیا آئے گا؟ حکم آئے گا۔ تو فا کو کس پر داخل ہونا چاہیے؟ حکم پر۔ لیکن کبھی کبھار فا کو کس پہ داخل کر دیتے ہیں؟ علت، بھئی! علت تو مقدم ہے اور فا تو مقدم پر داخل نہیں ہوتی بلکہ کس پر داخل ہوتی ہے؟ مؤخر پر۔ کہتے ہیں بھئی! دیکھیے! یہ ان علتوں میں ہوگا جو دیکھ، یہ علت آئی، اس علت کے بعد کون آیا؟ معلول یعنی حکم آیا، اور حکم آنے کے بعد بھی وہ علت اس میں دوام ہے، وہ اسی طرح موجود ہے۔ جب اسی طرح موجود ہے تو حکم کے بعد بھی علت ہے یا نہیں؟ ہے، پہلے تو تھی ہی، بعد میں بھی ابھی تک باقی ہے یا باقی نہیں؟ باقی ہے، تو مؤخر ہو گئی یا نہیں ہو گئی مؤخر؟ تو مؤخر ہو گئی، جب مؤخر ہو گئی تو جو مؤخر ہو اس پر کیا داخل کرتے ہیں؟ فا، تو اس وجہ سے پھر فا کا داخل کرنا جائز ہوتا ہے کہ حکم کے بعد بھی وہ علت پائی جا رہی ہے، اسی طرح موجود ہے۔ یہ معنی: فتكون موجودة بعد الحكم، تو وہ علت جو ہے حکم کے بعد بھی موجود ہوتی ہے، كما كانت موجودة قبل الحكم، جیسے کہ وہ حکم سے پہلے موجود تھی، فيحصل التعقيب الذي كان مدلول الفاء، پس حاصل ہو جائے گی وہ تعقیب جو کہ فا کا مدلول، تعقیب والا معنی آ گیا یا نہیں بھئی یہاں پر؟ تو وہ تعقیب والا معنی حاصل ہو جائے گا جو فا کا مدلول ہے، وإن لم يشترط الدوام في العلة، اور اگر دوام کی شرط نہ ہو علت کے اندر، یعنی علت میں دوام نہ ہو، تو کہتے ہیں: لا يحسن دخول الفاء عليها، تو پھر اس پر فا کا داخل کرنا پسندیدہ نہیں، لأنها تتقدم الحكم، اس لیے کیونکہ یہ تو حکم پر مقدم ہوتی ہے، فكيف تكون محل الفاء؟ تو پھر یہ فا کا محل یہ تو مقدم ہوتی ہے، پھر فا کا محل کیسے بن سکتی ہے؟ وهذا كما يقال: اور یہ اس طرح ہے جیسے کہا جائے: أبشر فقد أتاك الغوث، خوشخبری قبول کرو یا ابھی تمہیں بشارت ہو، فقد أتاك الغوث، تحقیق تمہارے پاس مددگار آ گیا۔ غوث کہتے ہیں فریاد رس بھئی! مددگار۔ خوش، خوش ہو جاؤ پس تحقیق تمہارے پاس مددگار آ گیا، فإن إتيان الغوث وإن كان آنيا، اگرچہ غوث کا آنا، مددگار کا آنا اگرچہ وہ آنی ہے، بھئی اس کو کہہ رہا ہے: خوش ہو جاؤ! علت کیا؟ خوش ہو جاؤ، اس کی علت کیا ہے؟ مددگار کا آنا، اور مددگار کا آنا، آنا، آنا اس کا، آنا تو ایک لمحے میں ہے۔ کس میں ہے؟ جیسے ہی اولِ نظر پڑتی ہے، کیا کہہ دیتے ہیں؟ فلاں آ گیا، تو یہ تو ایک آن، ایک لمحے کی چیز ہے۔ تو لہذا یہ تو مؤخر نہیں ہو سکتا۔ یہ تو مؤخر نہیں ہو سکتا۔ لیکن مددگار، وج، مدد کرنے والا جو ہے، اس کا وجود بعد میں بھی ہے یا بعد میں نہیں ہے؟ اس میں تو دوام ہے، وہ بعد میں بھی باقی رہے گا۔ اس کے خوش ہو جانے کے، اس نے کہا نا: أبشر خوش ہو جاؤ، خوش ہو جانے کے بعد بھی اس کا وجود باقی رہے گا۔ تو مددگار کا آنا یہ تو کیا ہے؟ علت، کس چیز کے لیے؟ اس کے خوش، اس کے بشارت کے لیے بھئی، اس کے خوش ہونے کے لیے۔ لیکن یہ مددگار کا وجود جیسے پہلے تھا، اس خوش ہو جانے کے بعد بھی ہے، تو یہ حکم سے مؤخر بھی ہوا، جب مؤخر ہوا تو اب اس پر فا کا داخل کرنا درست ہے، ورنہ فا کا داخل کرنا صحیح نہیں تھا بھئی، کیونکہ یہ تو کیا ہے؟ علت ہے اور علت تو کیا ہوتی ہے؟ مقدم ہوتی ہے اور جو صرف مقدم ہو، مؤخر کسی بھی لحاظ سے نہ ہو، اس پر فا کا داخل کرنا پسندیدہ نہیںے۔ تو کہتے ہیں: فإن إتيان الغوث وإن كان آنيا، اس لیے کیونکہ مددگار کا آنا اگرچہ وہ ایک آنی چیز ہے، ایک آن کی، ایک لمحے کی میں ہوگا، اگرچہ وہ آنی ہے، لیکن، لیکن ذاته دائمة، لیکن اس کی ذات جو ہے وہ تو دائمی ہے، تبقى إلى مدة، باقی رہے گی ایک مدت تک، فيكون سابقا على البشارة، تو یہ بشارت پر مقدم بھی ہوا، ولا حقا عنها، اور اس سے مؤخر بھی ہوا، اس سے پیچھے بھی ہوا، فيتحقق معنى التعقيب، تو لہذا تعقیب کا معنی متحقق ہو گیا، ثابت ہو گیا، فيدخل عليه الفاء، تو لہذا اس پر کیا داخل ہو جائے گی؟ فا داخل ہو جائے گی بھئی۔ هذا مما شرطه فخر الإسلام احتيالا لمعنى التعقيب، یہ وہ، ان چیزوں میں سے ہے، یہ جو دوامِ علت کی شرط لگائی نا، علت پر تو کبھی بھی فا نہیں داخل ہونی چاہیے، لیکن علامہ فخر الاسلام رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ علت پر فا داخل ہو سکتی ہے جب کہ وہ علت اس میں دوام ہو اور حکم کے بعد بھی اس کا وجود باقی رہے، جب باقی رہے گا تو وہ مؤخر بھی ہو گئی اور مؤخر ہوئی تو اس پر فا کا داخل کرنا صحیح۔ تو کہتے ہیں: هذا، یہ جو ہے، کس کی طرف اشارہ ہے؟ یہ جو دوامِ علت ہے۔ یہ جو دوامِ علت ہے، مما ان چیزوں میں سے ہے شرطه فخر الإسلام، جس کی شرط لگائی ہے علامہ فخر الاسلام رحمہ اللہ نے، احتيالا لمعنى التعقيب، تعقیب کے معنی کا حیلہ کرنے کے لیے، تعقیب تاکہ تعقیب کا معنی پایا جائے تو یہ حیلہ کیا کہ علت کے اندر چونکہ دوام ہے، یہ بعد میں بھی موجود ہے، لہذا اس وجہ سے اس پر اب فا کا داخل کرنا صحیح ہے۔ وذكر صاحب التوضيح وغيره، اور ذکر کیا ہے صاحبِ توضیح یعنی علامہ صدر الشریعہ اور با، اور دیگر علماء نے کہ أنها إنما تدخل على العلة، کہ فا جو ہے یہ داخل ہوگی علت پر إذا كانت علة غائية، جب یہ کون سی علت ہو؟ علتِ غائی۔ بھئی دیکھیے! علتیں چار قسم پر ہیں۔ ایک علتِ فاعلی ہے، ایک علتِ مادی ہے، ایک علتِ صوری ہے اور ایک علتِ غائی ہے۔ یہ اور جگہ بھی آپ پڑھ چکے ہوں گے، مثلاً کرسی ہے یا یوں کہئے چارپائی ہے۔ چارپائی اس کے بنانے کے لیے اس کے لیے کوئی بنانے والا چاہیے، مثلاً وہ ترکھان یا کوئی بڑھئی جو ہے، وہ ہے اس کے لیے علتِ فاعلی، بنانے والا۔ اور چارپائی کے بننے کے لیے بھئی لکڑی چاہیے، رسی وغیرہ چاہیے، یہ چیزیں جو ہوئیں یہ علتِ مادی ہیں جن سے مل کر وہ چیز بنتی ہے۔ اور پھر جب وہ بنانے والا ان چیزوں کو، لکڑی کو، لکڑیوں کو جوڑ دے گا اس طریقے سے اور پھر ان میں اسی طرح رسی لگا دے گا، تو اب ایک خاص صورت حاصل ہوگی اور اسے ہم چارپائی کہیں گے۔ اگر وہ صورت نہیں تو چارپائی کا وجود بھی نہیں، تو یہ علتِ صوری ہے بھئی، علتِ صوری۔ سمجھ میں آیا؟ یہ علت، یہ صورت علت ہے، یہ صورت ہے تو چارپائی ہے، یہ صورت نہیں تو چارپائی بھی نہیں۔ اور پھر اس کے بعد اس چارپائی پر بیٹھا جاتا ہے، لیٹا جاتا ہے، یہ ہے علتِ غائی، علتِ غائی۔ تو علتِ فاعلی بڑھئی وغیرہ، علتِ مادی وہ لکڑی اور رسی، اور علتِ صوری وہ اس کی چارپائی کی جو صورت ہے، اور علتِ غائی جو اس پر مقصد ہے اس کے بنانے کا، اس پر بیٹھا جاتا ہے، لیٹا جاتا ہے، تو یہ چار علتیں ہیں بھئی! چار علتیں۔ اور یہ جو علتِ غائی ہے یاد رکھیے! یہ وجود کے اعتبار سے سب سے مؤخر ہے۔ بنانے والا ہو پہلے، پھر وہ چیزیں بھی بن، جن سے چارپائی بنی وہ بھی موجود ہوں، پھر وہ ان کو جوڑے بھی، بنائے بھی، اور وہ صورت بھی دے دے، تو پھر سب سے آخر میں اب چارپائی پر بیٹھا جائے گا اور اس پر لیٹا جائے گا۔ تو یہ علتِ غائی وجود میں سب سے مؤخر ہوتی ہے، لیکن ذہن میں سب سے مقدم ہوتی ہے۔ وہ جب چارپائی بنانے لگا تو اسی وقت اس کے ذہن میں کیا تھا، کس لیے بنا رہا ہوں؟ اس پر بیٹھنے یا لیٹنے کے لیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو علتِ غائی خارج میں سب سے مؤخر، ذہن میں سب سے مقدم بھئی۔ تو علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں بھئی! بات چل رہی ہے کہ کبھی کبھار فا جو ہے علتوں پر بھی داخل ہو جاتی ہے۔ علامہ صدر الشریعہ رحمہ اللہ اور بعض دیگر علماء فرماتے ہیں کہ فا علت پر صرف اس وقت داخل ہو گی جب وہ علت علت غائی ہو گئی، اور علت غائی تو سب سے مؤخر ہوا کرتی ہے لہٰذا اس پر فا کا داخل کرنا ٹھیک ہے بھئی۔ تو علامہ فخر الاسلام نے کیا حیلہ کیا کہ اس علت میں کیا ہونا چاہیے؟ دوام ہونا چاہیے، اور صاحب توضیح کیا فرماتے ہیں کہ وہ علت کون سی ہونی چاہیے جس پر فا داخل کر رہے ہیں؟ علت غائی ہونی چاہیے تاکہ تعقیب کا معنی پایا جائے۔ تو کہتے ہیں: "وذکر صاحب التوضیح وغیرہ" اور ذکر کیا صاحب توضیح وغیرہ نے کہ "انھا انما تدخل علی العلة اذا کانت علة غائیة لیکون وجودھا مؤخرا عن المعلول" تاکہ اس علت کا وجود جو ہے معلول سے مؤخر ہو جائے۔ جب مؤخر ہو جائے گا "فیتحقق معنی التعقیب" تو اس صورت میں تعقیب کا معنی پایا جائے گا اور پھر اس پر فا کا داخل کرنا صحیح ہوگا۔ "والکلام فیہ طویل" اور اس کے اندر کلام بڑا... طویل کلام ہے بھئی، جو بڑی کتابوں میں مذکور ہے وہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ "کقولہ" جیسے کسی شخص کا یہ قول بھئی: "أد إلي ألفا فأنت حر" تو ادا کر مجھے ایک ہزار فا أنت حر کیونکہ تو آزاد ہے۔ ترجمے پہ نظر ہے؟ فا کا ترجمہ میں "کیونکہ" کے ساتھ کر رہا ہوں۔ "أد إلي ألفا" ادا کر تو مجھے ایک ہزار "فأنت حر" کیونکہ تو آزاد ہے۔ دیکھیے خود ترجمہ کر رہے ہیں آگے، "أي أد إلي ألفا لأنك حر" تو مجھے ایک ہزار ادا کر کیونکہ تو آزاد ہے۔ "فيعتق في الحال" تو وہ غلام فی الحال اسی وقت آزاد ہو جائے گا۔ اب دیکھیے، یہاں فا داخل کی کس پر؟ أنت حر پر، اور یہ حریت جو ہے یہ علت ہے اداء الف کے لیے۔ فا کس پر داخل ہو رہی ہے؟ علت پر۔ آزاد ہے اس لیے مجھے کیا کر؟ ایک ہزار ادا کر، تو آزادی علت ہے کس کے لیے؟ اداء الف کے لیے، اور علت پر تو فا کا داخل کرنا پسندیدہ نہیں تھا کیونکہ علت تو مقدم ہوتی ہے، پھر لیکن اس پر فا کو داخل کیا گیا تو ہم نے بتلایا تھا، کب داخل کریں گے علت پر فا کو؟ جب اس میں دوام ہو، تو دیکھو حریت کے اندر بھی دوام ہے کہ وہ ادا سے پہلے بھی آ گئی، حریت علت ہے ادا کی اور علت کیا ہوتی ہے؟ مقدم، تو حریت پہلے آئی اس کے بعد کیا آئے گا؟ ادا، اور ادا کے بعد بھی علت رہے گی یا نہیں؟ حریت اس کے بعد بھی یہ رہے گی، ادائیگی کے بعد بھی، تو حریت ادا سے جس طرح مقدم ہے اسی طرح مؤخر بھی تو ہے، اور جب مؤخر ہے تو تعقیب والا معنی آ گیا، جب تعقیب والا معنی آ گیا تو أنت حر پر فا کا داخل کرنا صحیح ہوا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ "فالحرية دائمة الوجود حيث كانت موجودة قبل الأداء وتبقى بعده" پس حریت جو ہے وہ اس کا وجود دائمی ہے اس حیثیت سے کہ وہ ادا سے پہلے بھی موجود تھی اور "وتبقى بعده" اور اس کے ادا کے بعد بھی موجود رہے گی "إلى مدة" ایک مدت تک، "فلا تتوقف على أداء الألف" پس لہٰذا یہ حریت اداء الف پر موقوف نہیں ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ادا کرے گا تو آزاد ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ جی۔ "بل يكون حرا" بلکہ وہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا "ويصير الألف دينا عليه" اور یہ الف اس پر ایک ہزار اس پر دین ہو جائے گا، دین ہو جائے گا۔ تو لہٰذا اس مثال کے اندر فا کس پر داخل ہوئی ہے؟ علت پر یا حکم پر؟ علت پر داخل ہوئی ہے، اور حکم کیا ہے اس کا؟ أد إلي ألفا بھئی، حریت ہے اس وجہ سے اب کیا کرو؟ ایک ہزار ادا کرو بھئی، ایک ہزار ادا کرو۔ "فإن قيل لم لا يجوز أن يكون تقديره" تو یہ ایک اعتراض اور اس کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ "فإن قيل" کہتے ہیں اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ "لم لا يجوز أن يكون تقديره" کہ یہ کیوں نہیں جائز کہ اس کلام کی تقدیر یوں ہو بھئی: "إن أديت فأنت حر"۔ "إن أديت فأنت حر" تقدیر کلام یوں کر لو بھئی، گویا اس نے کہا تو یہ ہے "أد إلي ألفا فأنت حر" لیکن کلام کی تقدیر تقدیراً کیا ہے کس طرح گویا اس نے کہا؟ "إن أديت فأنت حر" یوں تقدیر کر لیں۔ کہتے ہیں اس صورت میں پھر یہ جوابِ امر بن جائے گا۔ "أد إلي ألفا" تو مجھے ایک ہزار... بھئی دیکھیے ادھر، آپ نے کل کے سبق میں بھی جوابِ امر کی بات آئی تھی بھئی، جوابِ امر۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ وہ امر... امر کے بعد اگر کیا آ جائے؟ فعل مضارع آ جائے، تو پھر وہ... اور اس پر فا اور واؤ نہ ہو، تو وہ مجزوم ہوگا اور اسے کیا کہتے ہیں؟ جوابِ امر کہتے ہیں اور یہاں پر پھر کیا محذوف نکالتے ہیں؟ یہ مجزوم کیوں ہوتا ہے؟ اس کی کیا وجہ میں نے بتائی تھی؟ کہ وہ جو پیچھے امر گزرا اسی کے مطابق یہاں شرط مع إن کے محذوف نکال لیتے ہیں، إن یہاں مقدر ہوتا ہے، اور إن صرف اکیلا مقدر ہوتا ہے یا ساتھ شرط بھی ہوتی ہے؟ شرط، اور شرط کون سی بناتے ہیں؟ وہی جو پیچھے امر ذکر تھا اسی کے مطابق شرط بنا لیا کرتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے "أد إلي ألفا" یہ امر آیا، اس کے بعد کیا آگے آیا؟ "فأنت حر" تو معترض اعتراض کرتا ہے کہ آپ نے کہا فی الحال آزاد ہو جائے گا اور پیسے بعد میں ادا کرے۔ بھئی اس کے بجائے آپ یوں کر لیں، یہاں یہ فا کو جزائیہ بنا لیں اور یعنی اس کو جوابِ امر بنا لیں، پیچھے امر آیا اس فأنت حر کو کیا کر لیں؟ جوابِ امر، اور یہاں پر کیا محذوف نکال لیں؟ إن مع شرط إن، تو کلام کس طرح ہو جائے گا؟ "أد إلي ألفا إن أديت ألفا فأنت حر"۔ "أد إلي ألفا إن أديت ألفا فأنت حر" یوں کلام بنا لیں، اب بغیر کسی تعقیب کا معنی بھی آئے گا، تعقیب کا معنی بھی آ گیا، کس طرح؟ "إن أديت ألفا فأنت حر" تو اگر تو ہزار ادا کرے گا تو تو آزاد ہے، تو اداء الف پہلے ہوگا، آزادی بعد میں آئے گی، تو دیکھو فا کا بھی کیا معنی تھا؟ تعقیب والا، اب تعقیب والا معنی بغیر کسی تکلف کے صحیح ہو جائے گا۔ ابھی تو آپ نے بڑا تکلف کیا بھئی کہ حریت اسی وقت آ گئی، بھئی اگر اسی وقت آ گئی تو پھر تو یہ مقدم ہوئی، آپ نے کہا بھئی آئی تو اس وقت ہے لیکن اس میں دوام ہے ادائیگی کے بعد بھی یہ چلتی جا رہی ہے اسی طرح اپنی حالت پر، تو اس اعتبار سے مؤخر ہے، آپ نے تاویل کی تھی، اس کے بجائے کیا کر لیں؟ اس کو... جوابِ امر بنا لیں، پھر کوئی تاویل نہیں کرنا پڑے گی بھئی۔ "أد إلي ألفا" آپ مجھے ایک ہزار ادا کریں "إن أديت ألفا فأنت حر" اگر آپ نے ایک ہزار ادا کر دیے تو آپ کیا ہیں؟ آزاد، تو اس صورت میں دیکھو اداء الف پہلے ہوگا اور آزادی بعد میں، اور آزادی پر کیا داخل کی ہے؟ فا، اور اس کو ہونا بھی کیا چاہیے؟ مؤخر، تو ابھی اداء الف مؤخر ہو گئی فا کا معنی بالکل صحیح ہو گیا اپنی جگہ پر بھئی، تعقیب کا فائدہ دے رہی ہے، ادائیگی پہلے اور جس پر فا داخل ہے یعنی أنت حر وہ اس کے بعد، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی۔ تو کہتے ہیں "فإن قيل لم لا يجوز أن يكون تقديره: إن أديت فأنت حر" اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ کیوں نہیں جائز کہ اس کلام کی تقدیر یوں ہو "إن أديت فأنت حر"، اس سے إن أديت سے پہلے وہی کلام موجود ہے بھئی "أد إلي ألفا إن أديت ألفا فأنت حر" اگر تو نے ادا کر دیے تو تو آزاد ہے "فيصير جوابا للأمر" تو اس صورت میں یہ جواب بن جائے گا کس کا؟ امر کا "وتتوقف الحرية على الأداء" اور حریت موقوف ہو جائے گی ادا پر "ويتحقق معنى التعقيب بلا تكلف" اور تعقیب کا معنی بھی پایا جائے گا بغیر کسی تکلف کے۔ "أجيب" تو اس کا جواب دیا گیا۔ کہتے ہیں بھئی، جوابِ امر جو ہوتا ہے جوابِ امر وہاں إن کو مقدر نکالنا پڑتا ہے، وہاں إن کیا ہوتا ہے؟ مقدر، إن مقدر ہوتا ہے۔ اور یہ جو إن ہے، یہ جس جملے پر داخل ہوتا ہے اس کو مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں "إن ضربتني ضربتك"، "إن ضربتني ضربتك"، ضربتَ یہ ماضی کا صیغہ ہے "إن ضربتني"، ضربتُک ضربتُ یہ بھی کون سا صیغہ ہے؟ ماضی، لیکن إن ان کو مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے، تو ترجمہ کیا کریں گے "إن ضربتني ضربتك"؟ اگر آپ میری پٹائی کریں گے تو میں بھی آپ کی پٹائی کروں گا، تو دیکھو اس نے ماضی کو کس معنی میں کر دیا؟ مستقبل کے معنی میں، تو إن جو ہے ماضی کو بھی مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے اور مضارع... مضارع اس کو خاص کر دیتا ہے، مضارع میں مستقبل کا معنی تھا لیکن ساتھ ساتھ حال کا بھی احتمال تھا، لیکن جب إن آیا اس کو صرف کس کے ساتھ خاص کر دیا؟ مستقبل کے ساتھ، اور اسی طرح جملہ اسمیہ کو جو ہے اس کو بھی إن کس معنی میں کر دیتا ہے؟ مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے۔ یہ إن معنی کے اندر عمل کرتا ہے۔ یہ کیا کرتا ہے إن؟ معنی کے اندر، ماضی کو بھی مستقبل کے معنی میں، جملہ اسمیہ کو بھی مستقبل کے معنی میں اور مضارع کو بھی خاص کر دیتا ہے کس کے ساتھ؟ مستقبل کے ساتھ، لیکن کہتے ہیں یہ اس وقت کرتا ہے جب یہ لفظوں میں موجود ہو۔ إن یاد رکھیے کبھی لفظوں میں موجود ہوتا ہے اور کبھی مقدر نکالتے ہیں، جیسے ابھی جوابِ امر کی صورت میں ہم نے کیا کیا تھا؟ إن کو مقدر نکالا تھا، تو کہتے ہیں إن وہ فعل مضارع جو ہے اس کے اندر تو مستقبل والا معنی پہلے ہی موجود تھا، تو إن مقدرہ اس میں تو عمل کر لیتا ہے اور اس کو خاص کر دیتا ہے کس کے ساتھ؟ مستقبل کے ساتھ، لیکن ماضی اور جملہ اسمیہ جو ہو اس میں إن مقدرہ اس کے معنی کو نہیں بدل سکتا، یعنی وہ اس کے معنی کو حال سے یا ماضی سے مستقبل کی طرف نہیں بدل سکتا۔ إن لفظوں کے اندر ظاہراً ہو پھر تو وہ ماضی کے معنی کو بھی مستقبل کی طرف بدل دے گا اور جملہ اسمیہ کے معنی کو بھی کس کی طرف بدل دے گا؟ مستقبل کی طرف، لیکن اگر إن مقدر ہو پھر وہ ان کے معنی کو مستقبل کی طرف نہیں بدل سکتا بھئی، اور یہاں آیا "أنت مکرم" یہ کیا ہے؟ جملہ اسمیہ، اگر یہاں آپ إن مقدر نکالیں پھر بھی یہ اس کے معنی کو مستقبل کی طرف نہیں بدل سکتا، لہٰذا اس کو جوابِ امر ہم بنا ہی نہیں سکتے کیونکہ جوابِ امر تو ہوتا ہی مستقبل میں ہے۔ اگر یہ کرو گے تو پھر... مطلب "أد إلي ألفا" مجھے کیا کرو؟ ایک ہزار ادا کرو، اگر ادا کرو گے تو آپ آزاد ہو گے، تو یہ تو مستقبل والا معنی ہے اور مستقبل والا معنی إن کس کا کر رہے ہیں؟ جملہ اسمیہ کا، کس کی وجہ سے؟ إن مقدرہ کی وجہ سے؟ نہیں بھئی، إن مقدرہ وہ جملہ اسمیہ کے معنی کو اور اسی طرح ماضی کے معنی کو مستقبل کی طرف نہیں بدلتا، لہٰذا وہ یہاں کام نہیں دے گا بھئی۔ جواب سمجھ میں آیا؟ جی۔ "أجيب بأن الأمر إنما يستحق الجواب بتقدير كلمة إن" جواب دیا گیا کہ امر جو ہے وہ مستحق ہوتا ہے جواب کا تقدیرِ کلمہ إن کے ساتھ، یعنی کلمہ إن وہاں مقدر ہوتا ہے "وكلمة إن إنما تجعل الماضي والجملة الاسمية بمعنى المستقبل إذا كانت ظاهرة" اور کلمہ إن جو ہے یہ ماضی کو اور جملہ اسمیہ کو مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے جب یہ کلمہ إن کیا ہو؟ ظاہر ہو، یعنی لفظوں میں موجود ہو "أما إذا كانت مقدرة فلا تجعلهما بمعنى المستقبل" اور اگر یہ کلمہ إن مقدر ہو تو پھر یہ ان کو... "فلا تجعلهما بمعنى المستقبل" تو پھر وہ ان کو مستقبل کے معنی میں نہیں کرتا "فلا يقال" پس یہ نہیں کہا جاتا، یوں نہیں کہتے عربی میں: "ائتني أكرمتك" "ائتني أكرمتك" کیونکہ جوابِ امر میں کیا لے کر آ رہے ہیں؟ ماضی بھئی، اور ماضی... اور تو یہاں پر إن مقدر ہے، تو وہ إن مقدر أكرمتُ کو ماضی کے صیغے کو مستقبل کی طرف نہیں بدل سکتا۔ جی، تو یہ... اور اسی طرح آگے "وأنت مكرم"، یہاں بھی ائتني نکال لیں "ائتني أنت مكرم" تو یہاں بھی جملہ اسمیہ ہے تو إن اکرم... ائتني "إن ائتني أنت مكرم" یہ نہیں کہتے بھئی، کیونکہ إن جو ہے وہ مقدر ہے اور وہ اس جملہ اسمیہ اور ماضی کے معنی کو مستقبل کی طرف نہیں بدلتا، تو یہاں پھر فعل مضارع ہی لے کر آتے ہیں: "ائتني أکرمک"۔ سمجھ میں آ گئی بات؟ "فلا يقال ائتني أكرمتك وأنت مكرم" پس یہ نہیں کہا جاتا ائتني أكرمتك اور اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جاتا ائتني أنت مكرم بھئی، یہاں ائتني ایک اور دو مثالیں ہیں الگ الگ بھئی۔ "وتستعار بمعنى الواو في قوله له علي درهم فدرهم حتى لزمه درهمان" اور کبھی مستعار لیا جاتا ہے... ہوتا ہے فا واؤ کے معنی میں بھئی، بطورِ استعارہ کے استعمال ہوتا ہے فا واؤ کے معنی میں "في قوله" کسی شخص کے اس قول کے اندر: "له علي درهم فدرهم"۔ بھئی ایک آدمی ہے دوسرے کے بارے میں کہتا ہے، بتلاتا ہے: "له علي"، مثلاً "لزيد علي درهم فدرهم" زید کا مجھ پر ایک درہم ہے پس ایک درہم، تو یہاں کہتے ہیں فا جو ہے وہ واؤ کے معنی میں لیں گے، اور یہ فا کو کس معنی میں لیں گے؟ اور یہ یعنی مطلقِ عطف کے لیے ہے فا بھئی، تعقیب کے لیے نہیں، اور واؤ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ جمع کا فائدہ دیتا ہے، تو اس شخص پر کتنے درہم واجب ہو جائیں گے؟ دو درہم واجب ہو جائیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں "له علي درهم فدرهم" یہ کلام کہا "حتى لزمه درهمان" یہاں تک کہ اس شخص پر دو درہم لازم ہو جائیں گے "بيان للمعنى المجازي في الفاء بعد بيان حقيقتها" یہ فا کے مجازی معنی کا بیان ہے اس کی حقیقت کے بیان کے بعد، یعنی پہلے حقیقی معنی بیان کر دیا اب اس کے مجازی معنی بیان کر رہے ہیں "لأن الفاء في قوله فدرهم لا يمكن أن تكون للتعقيب" اس لیے کیونکہ وہ فا جو کسی شخص کے اس قول کے اندر ہو "فدرهم"، یہ فا تعقیب کے لیے نہیں ہو سکتی "لا يمكن" ممکن نہیں ہے کہ یہ فا تعقیب کے لیے ہو "إذ التعقيب إنما يكون في الأعراض دون الأعيان" اس لیے کیونکہ تعقیب جو ہے وہ اعراض کے اندر ہوتی ہے اعیان کے اندر نہیں ہوتی مولانا، سمجھ میں آیا؟ افعال ہیں بھئی، افعال کے اندر تو تعقیب ہو سکتی ہے ایک فعل دوسرے کے بعد ہو مولانا، اعیان کے اندر تعقیب نہیں ہو سکتی۔ "والدرهم عين" اور درہم کیا ہے؟ عین ہے مولانا، تو لہٰذا یہاں پر تعقیب تو ہو نہیں سکتی کیونکہ فا عین پر داخل ہو رہی ہے، تو کہتے ہیں "والدرهم عين لا يتصور فيه التعقيب إلا بسبب الوجوب في الذمة" درہم عین ہے اس میں تصور نہیں کیا جا سکتا تعقیب کا مگر بوجہ واجب ہونے کے ذمہ کے اندر بھئی۔ وجوب فی الذمہ کے اندر تو درہم مؤخر ہو سکتا ہے، ذات کے اعتبار سے دوسرے درہم سے مؤخر نہیں ہو سکتا بھئی۔ اور وجوب فی الذمہ یہ کیا ہے؟ فعل ہی ہے نہ، واجب ہونا ذمہ میں، ایک شخص پر ایک درہم واجب ہو بعد میں اس نے اس سے کوئی اور چیز خریدی تو ایک اور درہم بھی واجب ہوا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ایک درہم پہلے واجب تھا دوسرا درہم اس کے بعد واجب ہوا ہے، بعد میں واجب ہوا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ درہم عین ہے ولا يتصور فيه تعقيب اس کے اندر تعقيب کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا الا بسبب وجوب بسبب الوجوب في الذمة مگر ذمّت میں وجوب کے سبب سے والمال انه لم يباشر سببا آخرا بعد التكلم بالدرهم الاول اور حال یہ ہے کہ اس نے سر انجام نہیں دیا لم يباشر سر انجام نہیں دیا۔ حال یہ ہے کہ اس نے سر انجام نہیں دیا سببا آخرا کوئی دوسرا سبب بعد التكلم بالدرهم الاول پہلے درہم پر تکلم کے بعد بھئی جب اس نے کہا لہ علي درهم فدرهم یہ فا کیا چاہتا ہے؟ دوسرے درہم کو کہ وجوب کب ہونا چاہیے؟ پہلے کے بعد اور پہلے کے بعد فوراً ہی فدرہم دوسرا درہم بھی آ گیا درمیان میں اس نے کوئی ایسا کام کیا جس کی وجہ سے یہ دوسرا درہم کا وجوب مؤخر ہو جاتا؟ جی؟ نہیں۔ تو اس نے کوئی ایسا کام سر انجام ہی نہیں دیا جس کی وجہ سے اس کا وجوب مؤخر ہوتا۔ تو یہ معنی ہے والحال حال یہ ہے کہ انہ لم يباشر سببا آخرا بعد التكلم بالدرهم الاول کہ اس نے سر انجام نہیں دیا کوئی دوسرا سبب درہم اول پر تکلم کے بعد حتی يكون وجوب هذا عقيب الأول یہاں تک کہ اس درہم کا وجوب جو ہے پہلے کے بعد میں ہوتا فلا بد ان يكون بمعنی الواو پس ضروری ہے کہ وہ فا فا کس معنی میں ہو؟ واو کے معنی میں ہو فیلزمه درهمانی تو گویا اس نے یوں کہا لہ علي درهم ودرهم بھئی۔ تو اس پر دو درہم واجب ہو جائیں گے وقال شافعي رحمه الله تعالی لما لم يستقيم معنی الفاء جعل تأكيدا لما قبله امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ جب درست نہیں رہتا فا کا معنی یہاں پر جعل تأكيدا لما قبله تو اس کو ما قبل کے لیے تأكيد بنا دیا گیا کہنہ قبلہ گویا کہ یوں کہا گیا فدرهم نہیں کہا گیا گویا کہ کیا کہا گیا؟ فھو درهم یہ پہلے ہی کی تأكيد ہو گئی ایک آدمی کہتا ہے فلان علي درهم فلان کا مجھ پر ایک درہم ہے فھو درهم پس وہ ایک درہم ہے اسی کی تأكيد کر دی کوئی الگ فائدہ نہیں آیا الگ درہم واجب نہیں۔ فیلزمه درهم واحد تو اس صورت میں کیا لازم ہوگا؟ ایک ہی درہم کے نزدیک جبکہ ہمارے نزدیک دو درہم واجب ہوں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگ گئی بھئی؟ جی۔ مواشی لکھتے ہیں بھئی کہ ہمارا ہماری ہمارا مذہب اولی ہے مولانا اس لیے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ کے تقریر کو اگر تسلیم کیا جائے تو اس صورت میں محذوف نکالنا پڑتا ہے فہو اور وہ کلام جس میں جو محذوف سے سالم ہو وہ اولی ہوتا ہے کس کی نسبت جس میں کیا کرنا پڑے؟ محذوف نکالنا پڑے۔ نیز امام شافعی رحمۃ اللہ نے اس کو تأكيد کے لیے بنایا اور ایک ہے تأكيد، ایک ہے تأسيس۔ اور تأسيس اولی ہے تأكيد سے۔ ایک ہے تأسيس اور ایک کیا ہے؟ تأكيد اور تأسيس اولی ہے تأكيد سے۔ تأسيس کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ کوئی نیا معنی دے۔ تأسيس کہتے ہیں وہی معنی دے لفظ جو پہلے سے حاصل تھا اس کو کہتے ہیں تأكيد۔ تأسيس کسے کہتے ہیں لفظ اسی معنی کا فائدہ دے جس کا معنی پہلے لفظ سے حاصل ہوا تھا اس دوسرا لفظ بھی اسی معنی کا فائدہ دے اسے کیا کہتے ہیں؟ تأكيد اور اگر دوسرا لفظ اگر نیا معنی کا فائدہ دے یہ کیا کہلاتا ہے؟ تأسيس اور یہ مولانا عند البلاغہ مولانا تأسيس اولی ہے تأكيد سے لفظ کو نئے معنی پر جدید فائدے پر محمول کرنا یہ اولی ہے کہ اس کو اس کو کس پر محمول کیا جائے؟ اسی تأكيد والے پہلے ہی معنی پر محمول کیا جائے یعنی تأكيد پر بھئی تو امام شافعی رحمۃ اللہ کی صورت میں تأكيد ہے اور ہماری فدرہم اسی پہلے درہم کی تأكيد ہے اور ہمارے نزدیک فدرہم کیا ہے؟ تأسيس ہے نیا فائدہ دیا پہلے ایک درہم واجب تھا اس نے ایک نیا فائدہ دیا کیا کہ ایک اور درہم اس پر واجب ثابت ہو گیا مولانا بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس مولانا هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
142 approved lectures · 57 of 142