Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-055

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 152
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔55 وإذا زوج أمتين من رجل بغير إذن مولاهما وبغير إذن الزوج، ثم قال المولى: هذه حرة وهذه متصلًا. جواب سؤال آخر على علمائنا. یہاں سے علمائے احناف پر ہونے والے ایک اور اعتراض اور اس کا جواب ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ بحث ہم نے شروع کی تھی حروفِ عاطفہ کی اور حروفِ عاطفہ میں سب سے پہلے واؤ کے بارے میں احناف کا مذہب ذکر ہوا کہ احناف کے نزدیک واؤ جو ہے مطلقِ جمع کے لیے آتا ہے، یعنی یہ نہ مقارنت کا فائدہ دیتا ہے اور نہ ترتیب کا فائدہ دیتا ہے۔ اس پر ایک اشکال ہوتا ہے، اعتراض ہوتا ہے۔ اعتراض کی صورت یہ ہے مولانا، صورتِ مسئلہ سمجھ لیجیے بھئی۔ سب سے پہلے فضولی سمجھ لیں۔ فضولی جانتے ہو کسے کہتے ہیں بھئی؟ وہ شخص جسے کسی نے نہ وکیل بنایا ہے نہ اس کا ولی ہے، پھر اس کی اجازت کے بغیر اس کی طرف سے کوئی عقد کر دیتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ فضولی۔ جسے نہ تو وکیل بنایا گیا ہے نہ ولی ہے، کوئی تعلق نہیں اور وہ خود ہی اپنی طرف سے کیا کر دیتا ہے؟ دوسرے کی طرف سے کوئی عقد کر دیتا ہے، اس کو فضولی کہا جاتا ہے۔ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص کی دو باندیاں ہیں بھئی اور آپ جانتے ہیں کہ باندی بغیر آقا کی اجازت کے کہیں نکاح نہیں کر سکتی۔ اگر نکاح کر بھی لے تو اس کا نکاح آقا کی اجازت پر موقوف ہوگا بھئی، کس پر؟ آقا کی اجازت پر۔ اور آقا کے لیے باندی سے صحبت کرنا جائز ہوتا ہے، لیکن جب اس کا کسی سے نکاح کروا دے پھر اس کے لیے صحبت کرنا جائز نہیں بھئی، پھر اس کے لیے حرام ہے۔ لہذا صورت یہ کہ دو فضولی تھے، انہوں نے اس شخص کی دونوں باندیوں کا نکاح کروا دیا کسی آدمی سے۔ باندیوں کی رضامندی سے، البتہ یہ شخص فضولی ہے بھئی، آقا سے اجازت نہیں لی، نہ اس کا وکیل ہے، نہ اس سے اجازت لی ہے۔ ایک فضولی بنا کس کی طرف سے؟ یہ باندیوں کے مالک کی طرف سے، باندیوں کا اس نے نکاح کروا رہا ہے باندیوں کی طرف سے۔ اور ایک فضولی ہے خاوند کی طرف سے، وہ شخص جس سے نکاح کروا رہے ہیں اس نے بھی کوئی وکیل کسی کو نہیں بنایا بھئی، کسی کو کہا نہیں۔ اس وقت ولی کوئی نہیں، بلاوجہ یہ دو آپس میں نکاح کرواتے ہیں بھئی۔ ایک کہتا ہے: "میں نے ان دونوں باندیوں کا نکاح مثلاً زید سے کر دیا" دو گواہوں کی موجودگی میں کہتے ہیں۔ دوسرا کہتا ہے: "میں نے زید کی طرف سے اس نکاح کو قبول کر لیا۔" صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ تو وہ ہے جب ایک ہی لفظ سے دونوں کا عقد کروایا۔ ایک ہی لفظ، ایجاب ایک ہی ہوا نہ؟ کہ یہ دونوں جو فلاں فلاں باندیاں ہیں، ان دونوں کا میں نے زید سے عقد کر دیا۔ تو دیکھو ایک ہی ایجاب کے ساتھ دونوں کا عقد کر رہا ہے۔ یا ایک صورت ہے کہ دونوں کا الگ الگ کروائے، مثلاً پہلے کہتا ہے: "یہ جو، وہ جو فلاں باندی ہے، اس کا میں نے زید سے عقد کر دیا" اور دوسرا زید کی طرف سے کہتا ہے: "میں نے زید کے لیے اس کے عقد کو قبول کر لیا۔" پھر دوسرے کی، دوسری باندی کا عقد کرتا ہے کہ: "دوسری کا بھی میں نے زید سے عقد کر دیا" وہ دوسرا فضولی بھی زید کی طرف سے کیا کرتا ہے؟ قبول کرتا ہے کہ: "میں نے زید کی طرف سے اس کو قبول کر لیا۔" صورت سمجھ میں آگئی؟ تو چاہے ایک ہی ایجاب کے ساتھ ہو دونوں کا نکاح، چاہے الگ الگ ایجاب ہوں۔ یعنی ایک ہی عقد کے ساتھ ہو یہ نکاح یا دو الگ الگ عقدوں کے ساتھ ہو بھئی۔ تو یاد رکھیے، اب یہ باندیوں کی طرف سے بھی نکاح کرنے والا، نکاح کروانے والا فضولی اور خاوند کی طرف سے قبول کرنے والا بھی فضولی۔ اور باندی کا نکاح کس پر، کس کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے؟ آقا، تو یہ نکاح موقوف ہوا آقا کی اجازت پر۔ اور زید کی طرف سے بھی چونکہ فضولی نے نکاح کیا ہے، تو یہ نکاح دونوں زید کی اجازت پر بھی موقوف ہیں۔ زید کی اجازت پر بھی موقوف ہیں۔ پھر ایک اور مسئلہ یاد رکھیے۔ یاد رکھیے، کوئی شخص اس کے عقد میں کوئی عورت نہیں ہے، وہ اس کی مرضی ہے، وہ آزاد عورت سے بھی نکاح کر سکتا ہے اور باندی سے بھی نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن اگر آزاد عورت سے نکاح کر لیا، اس کے بعد اب وہ باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی، باندی سے نکاح کی اب گنجائش نہیں رہی بھئی۔ آزاد عورت جب عقد میں ہو تو اس پر باندی کے ساتھ عقد کرنا جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ صورتِ مسئلہ کیا ہوئی؟ ایک فضولی نے ایک شخص کا نکاح کیا اور کس کے ساتھ کروایا؟ کسی شخص کی دو باندیوں کے ساتھ نکاح کروا دیا۔ تو نکاح کروانے والے دونوں کیا ہیں؟ فضولی۔ تو یہ دونوں نکاح موقوف ہوئے آقا کی اجازت پر بھی اور خاوند کی اجازت پر بھی موقوف ہوئے۔ اور یہ بھی آپ نے مسئلہ سن لیا بھئی کہ آزاد عورت جب عقد میں ہو تو پھر باندی کے ساتھ نکاح کی اجازت نہیں بھئی، باندی کے ساتھ نکاح کی اجازت نہیں۔ اب دیکھیے صورتِ مسئلہ بھئی، دیکھیے یہ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں: وإذا زوج أمتين من رجل بغير إذن مولاهما وبغير إذن الزوج اور جب نکاح کروایا، کس کا نکاح کروایا؟ أمتين دو باندیوں کا، من رجل کسی شخص سے، یعنی یہ خاوند مراد ہے، کسی شخص سے کروایا، بغير إذن مولاهما ان دونوں باندیوں کے آقا کی اجازت کے بغیر، وبغير إذن الزوج اور وہ خاوند کی اجازت کے بغیر، ثم قال المولى پھر اس کے بعد آقا نے کہا: هذه حرة وهذه متصلًا یہ باندی آزاد ہے اور یہ متصلاً ملا کر۔ آقا نے کیا کہا؟ یہ باندی آزاد ہے اور یہ آزاد ہے۔ آقا کو نکاح کا پتا ہی نہیں ہے، بس صرف وہ یہ اور کیا کر رہا ہے دونوں باندیوں کو؟ آزاد کر رہا ہے، لیکن کس طریقے سے؟ لفظ کیا بولتا ہے؟ هذه حرة وهذه فقہاء لکھتے ہیں: پہلی باندی کا نکاح آقا کی طرف سے نافذ ہو گیا اور دوسری کا باطل ہو گیا۔ اب خاوند قبول کرے گا تو صرف پہلی سے نکاح ہو سکتا ہے، جس کو پہلے آقا نے "هذه حرة" جس کی طرف پہلے اشارہ کیا، اس سے تو نکاح ہو جائے گا، دوسری کا نکاح کیا ہے؟ باطل ہوا، اب نہیں ہو سکتا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ابھی صورتِ مسئلہ بیان ہو رہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قال المولى هذه حرة وهذه متصلًا تو آقا نے کہا: یہ آزاد ہے اور یہ متصل طور پر ملا کر کہا بھئی، درمیان میں وقف نہیں کیا، رکا نہیں آقا۔ جواب سؤال آخر على علمائنا یہ جواب ہے ایک دوسرے سوال کا، علی علمائنا جو کس پر ہوتا ہے؟ ہمارے علماء پر۔ ہمارے علماء پر وارد ہونے والے ایک اور سوال کا یہ جواب ہے، وهو اور وہ یہ، أنه إذا زوج فضولي امتن لِشَخْصٍ کہ جب نکاح کروا دیا ایک فضولی نے دو باندیوں کا جو کسی شخص کی ہیں، من رجل کس سے نکاح کروایا؟ کسی آدمی سے، من رجل آخر کسی دوسرے آدمی سے، سواء كان بعقد أو بعقدين برابر ہے کہ یہ نکاح ایک ہی عقد سے ہو، یعنی ایجاب ایک ہی ہوا ہو، أو بعقدين یا دو الگ الگ عقدوں سے، یعنی دو الگ الگ ایجاب ہوئے ہوں۔ یہ نکاح کروایا، بغير إذن الزوج اور بغیر خاوند کی اجازت کے، وبغير إذن المولى كليہما بغیر خاوند اور بغیر آقا کی اجازت کے، یعنی دونوں کی اجازت کے بغیر۔ باندیوں کی تو رضامندی تھی، لیکن ان کے آقا سے بھی کوئی اجازت وغیرہ نہیں لی اور جس سے نکاح کروا رہا ہے، جس شخص سے، اس سے بھی اجازت نہیں ہے یا اس کا بھی وکیل نہیں ہے بھئی۔ فقال المولى پس آقا نے کہا: هذه حرة وهذه بكلام متصل آقا نے کہا: یہ بھی آزاد ہے اور یہ بھی، کلامِ متصل کے ساتھ کہا، فإنه يبطل نکاح الثانيةِ بالاتفاق یا یوں کہیں: فإنه يبطل نكاح الثانية تو آقا کا یہ کلام جو ہے یہ باطل کر دے گا دوسری باندی کے نکاح کو بالاتفاق بیننا ہمارے درمیان، یعنی ہمارے تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ اس صورت میں جس دوسری کی طرف اس نے "هذه" کا اشارہ کیا، اس کا نکاح باطل ہو جائے گا۔ اور پہلی، پہلی کا نکاح آقا کی طرف سے نافذ ہو گیا۔ بھئی پہلے تو آقا کی اجازت پر موقوف تھا، لیکن جب آقا نے اس کو آزاد کر دیا تو آقا کا حق اس پر سے ختم ہو گیا بھئی، آقا کا حق کیا ہوا؟ ختم ہوا بھئی، تو وہ اب اس کی گویا آقا کی طرف سے اجازت ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: فعلم پس جان لیا گیا کہ أن الواو للترتيب کہ واؤ کس لیے ہے؟ ترتیب، جبھی تو کہہ رہے ہیں "هذه حرة" آپ نے کہا یہ والا پہلے ہے اور درمیان میں واؤ تھا، معلوم ہوا واؤ ترتیب کا فائدہ دے رہا ہے، جبھی آپ نے کہا کہ یہاں پہلی آزاد ہوئی اور اس کا نکاح کیا ہوا؟ نافذ آقا کی طرف سے اور دوسری "وهذه" بعد میں ہے تو اس میں آپ نے کہا نکاح باطل ہے، معلوم ہوا یہ ترتیب کا فائدہ کس نے دیا؟ واؤ کا۔ تو جان لیا گیا کہ أن الواو للترتيب کہ یہ واؤ ترتیب کے لیے ہے، وإلا لصح نكاحهما ورنہ دونوں کا نکاح صحیح ہوتا، اگر ترتیب نہ ہوتی، واؤ جمع کا فائدہ دیتا پھر تو دونوں کا نکاح نافذ ہونا چاہیے تھا۔ تو یہ عند الاحناف ہے مولانا، بالاتفاق ہمارے نزدیک دوسری کا نکاح باطل ہو جائے گا۔ تو اس پر احناف پر اعتراض ہوتا ہے کہ دیکھا بھئی، یہ معلوم ہوا یہ واؤ نے ترتیب کا فائدہ دیا ہے۔ کس چیز کا؟ ترتیب کا فائدہ دیا ہے، اگر واؤ ترتیب کا فائدہ نہ دیتا تو پھر تو دونوں کا نکاح صحیح ہونا چاہیے تھا، لیکن آپ کہتے ہیں پہلی کا نکاح تو صحیح، لیکن دوسری کا نکاح باطل اور "هذه وهذه" یہاں سے کیا آگئی معلوم ہوا؟ ترتیب آگئی، پہلی کا نکاح صحیح اور دوسری کا نکاح صحیح نہیں۔ فأجاب تو جواب دیا مصنف نے: بأن في هذا المثال کہ اس مثال کے اندر، إنما يبطل نكاح الثانية دوسری باندی کا نکاح باطل ہو جاتا ہے، لأن عتق الأولى يبطل محلية الوقوف في حق الثانية بھئی دیکھیے۔ جیسے آزاد عورت کے ہوتے ہوئے باندی سے نکاح جائز نہیں، آزاد عورت جب عقد میں ہے تو اس کے ہوتے ہوئے باندی کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ اسی طرح آزاد عورت کے نکاح پر باندی کے نکاح کو موقوف ہونا، باندی کے نکاح کا موقوف ہونا بھی صحیح نہیں۔ آزاد عورت پر باندی کے نکاح کا موقوف ہونا بھی صحیح نہیں۔ بھئی دیکھو، جب آقا نے کہا "هذه حرة وهذه"، جیسے اوپر والی ابھی مثال میں آیا تھا: "أنت طالق وطالق وطالق"، وہاں کیا صورت تھی؟ ایک طلاق واقع ہوئی تھی، کیوں؟ کیونکہ "أنت طالق" پہلے پر تکلم کرتے ہی پہلی طلاق ہو گئی اور پہلے ہوتے ہی محل ہی نہ رہا اور وہ دوسری اور تیسری طلاق کیا ہو گئی تھیں؟ لغو۔ مسئلہ سمجھ میں آیا تھا بھئی وہاں؟ بعینہٖ اسی طرح یہاں بھی ہے۔ جب آقا نے کہا "هذه حرة"، ابھی "وهذه" وہ کہہ رہا ہے، رکا نہیں، سانس نہیں لیا، لیکن "هذه حرة" یہ لفظ پورا ہوتے ہی پہلی باندی کیا ہو گئی؟ آزاد، اور جب آزاد ہوئی تو یہاں اس کا نکاح موقوف تھا کس کی اجازت پر؟ خاوند کی اجازت پر بھی موقوف ہے اور آقا کی، تو جب آقا نے آقا کی طرف سے یہ آزاد ہوئی تو آقا کا حق کیا ہو گیا؟ آقا نے اپنے حق کو خود ہی اس پر سے ختم کر دیا، اپنا حق ساقط کر دیا، تو اس کے نکاح کی اجازت ہو گئی، کیونکہ باندی کی اپنی تو رضامندی تھی۔ مانع صرف کیا چیز تھی؟ آقا کا حق مانع تھا، آقا نے اپنا حق ساقط کر دیا، اسے آزاد کر دیا بھئی، اب اس کے ساتھ آقا کا کوئی تعلق نہیں، حق نہیں اس کے ساتھ۔ تو گویا آقا کی طرف سے اس کی کیا ہو گئی؟ اجازت۔ تو اب اس کا نکاح، آزاد عورت کا نکاح موقوف ہوا صرف خاوند کی اجازت پر، کس پر؟ اور دوسری ابھی باندی تھی، "وهذه" کہنے سے پہلے پہلے کی بات ہو رہی ہے، اسی لمحے کے اندر بھئی کیا ہوا؟ دوسری ابھی کیا ہے؟ باندی، پہلی پہلے لمحے میں آزاد ہو چکی، دوسری ابھی باندی ہے، آقا ابھی "وهذه" تک نہیں پہنچا، صورت کیا بن گئی؟ دوسری تو ابھی کیا ہے؟ باندی، تو باندی کا نکاح کس پر موقوف ہوا؟ آزاد عورت کے نکاح پر، اور آزاد عورت کے ہوتے ہوئے جیسے باندی سے نکاح نہیں جائز، اسی طرح آزاد عورت کے نکاح پر باندی کا نکاح موقوف ہونا بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ موقوف ہونے کا فائدہ ہی کوئی نہیں ہے بھئی، کیونکہ جب آزاد نکاح میں ہو تو پھر باندی سے نکاح کی اجازت ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ تو یہاں پر بھی یہ جو دوسری کا نکاح باطل ہوا ہے، وہ اس تکلمِ لسانی کی وجہ سے باطل ہوا ہے بھئی، کیونکہ اس نے پہلے ایک کو آزاد کیا ہے، اس کے بعد دوسری کو آزاد کیا ہے، تو دوسرا محلِ وقف ہی نہ رہا، وہاں اس کا موقوف ہونا ہی صحیح نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: إنما يبطل نكاح الثانية باطل ہو جائے گا دوسری باندی کا نکاح، لأن عتق الأولى اس لیے کیونکہ پہلی کا آزاد ہونا، يبطل محلية الوقوف في حق الثانية یہ باطل کر دیتا ہے وقف کے محل ہی کو، في حق الثانية دوسری باندی کے حق میں۔ بھئی دوسری باندی وہ موقوف ہونے کا محل ہی نہیں بن سکتی اب، کیونکہ وہ ابھی کیا ہے؟ باندی، اور پہلی کیا ہے؟ آزاد۔ تو آزاد عورت پر، آزاد عورت پر باندی کا نکاح کبھی بھی موقوف نہیں ہو سکتا، تو دوسری موقوف ہو اس کا نکاح موقوف ہو ہی نہیں سکتا، وہ موقوف ہونے کے محل سے ہی کیا ہو چکی؟ خارج ہو گئی، اس کا محل اس کا موقوف ہونے کا محل باطل ہوا بھئی۔ تو یہ معنی ہے: لأن عتق الأولى يبطل محلية الوقوف في حق الثانية، فبطلت الثانية قبل التكلم بعتقها تو دوسرے کا، دوسرا نکاح باطل ہو گیا، قبل اس کے کہ تکلم کرتا وہ کس پر؟ اس دوسری کی، دوسری کی آزادی پر تکلم سے پہلے ہی اس کا نکاح کیا ہو گیا؟ باطل ہو گیا بھئی۔ صورت اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ يعني أن هذا الترتيب أيضا لم يجئ من الواو یعنی یہ ترتیب بھی جو ہے واؤ کی وجہ سے نہیں آئی، بل من الكلام بلکہ کس سے آئی ہے؟ کلام سے آئی ہے، لأن نكاح الأمتين كان موقوفا على إجازة المولى اس لیے کیونکہ دو باندیوں کا نکاح جو تھا وہ موقوف تھا آقا کی اجازت پر اور خاوند، آقا اور خاوند دونوں کی اجازت پر۔ كان موقوفا على إجازة المولى وإجازة الزوج جميعا یہ ان کا نکاح موقوف تھا آقا اور خاوند دونوں کی اجازت پر، فإذا أعتق المولى الأولى أولا جب آزاد کر دیا آقا نے پہلی باندی کو پہلے ہی، جب آقا نے پہلی باندی کو پہلے آزاد کر دیا، كانت الثانية موقوفة تو دوسری کیا ہو گئی؟ موقوف ہو گئی، اور وہ موقوف ہو سکتی ہے باندی آزاد عورت پر؟ وہ ہو ہی نہیں سکتی، لہذا خود ہی اس کا نکاح کیا ہو گیا؟ باطل ہو گیا۔ تو کہتے ہیں وہ دوسری موقوف ہوئی والاولى نافذة اور پہلی کیا ہوئی؟ نافذ، یعنی اس کا نکاح نافذ ہوا۔ فَلَزِمَ أَنْ يَتَوَقَّفَ نِكَاحُ الأَمَةِ عَلَى الحُرَّةِ تو لازم آیا کہ نکاح باندی کا وہ موقوف ہو گیا کس پر؟ تو باندی کے نکاح کا آزاد عورت پر موقوف ہونا لازم آیا۔ وَهُوَ غَيْرُ جَائِزٍ اور یہ تو جائز نہیں کَمَا أَنَّ نِكَاحَهَا عَلَى الحُرَّةِ غَيْرُ جَائِزٍ جیسے کہ باندی کا نکاح آزاد عورت پر جائز نہیں ہے، یعنی آزاد عورت کے ہوتے ہوئے باندی سے نکاح جائز نہیں- فَلَمْ يَبْقَ لِلثَّانِيَةِ مَحَلُّ تَوَقُّفٍ إِلَى أَنْ يَتَكَلَّمَ بِعِتْقِهَا تو دوسری باندی جو ہے اس کے لیے باقی ہی نہ رہا محل توقف یہاں تک کہ وہ تکلم کرتا اس کی آزادی پر- اس کی آزادی پر تکلم سے پہلے ہی اس کا محل توقف ہی کیا ہو چکا؟ ختم۔ یہ اس پر موقوف ہو ہی نہیں سکتی۔ بھئی، مسئلہ بھی اچھی طرح سمجھ میں آ رہا ہے یا ویسے سر ہلا رہے ہیں؟ سمجھ میں، بھئی، بڑا پیچیدہ اور مشکل مسئلہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں فَلَمْ يَبْقَ لِلثَّانِيَةِ مَحَلُّ تَوَقُّفٍ إِلَى أَنْ يَتَكَلَّمَ بِعِتْقِهَا تو باقی نہ رہا دوسری کے لیے محل توقف یہاں تک کہ وہ تکلم کرتا اس کی آزادی پر وَيَقُولَ وَهَذِهِ اور یوں کہتا وَهَذِهِ لیکن وَهَذِهِ کہنے سے پہلے ہی دوسری کے لیے محل توقفی باقی نہ رہا- وَهَذَا كُلُّهُ إِذَا قَبِلَ فضولي آخَرُ مِنْ جَانِبِ الزَّوْجِ کہتے ہیں یہ سارا مسئلہ اس وقت ہے جب قبول کیا ہو دوسرے فضولی نے خاوند کی جانب سے۔ بھئی، میں نے آپ کو شروع میں ہی بتا دیا کہ خاوند کی طرف سے کیا کر رہا ہے؟ آقا کی طرف سے دوسرا، باندیوں کی طرف سے دوسرا فضولی تھا اور خاوند کی طرف سے دوسرا فضولی تھا- یہ وہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں یہ سارا مسئلہ اس وقت ہے إِذَا قَبِلَ فضولي آخَرُ مِنْ جَانِبِ الزَّوْجِ جب کسی دوسرے فضولی نے قبول کیا ہو نکاح کو خاوند کی طرف سے لِأَنَّ الفُضُولِيَّ الوَاحِدَ لاَ يَتَوَلَّى طَرَفَيِ النِّكَاحِ اسی لیے کیونکہ ایک ہی فضولی نکاح کی دونوں جانبوں کا متولی نہیں ہو سکتا بھئی۔ ایک ہی فضولی یوں کہے، "میں نے ان دونوں باندیوں کا نکاح کس کے ساتھ کر دیا؟ زید کے ساتھ میں نے کر دیا اور اس کے لیے میں نے قبول کر لیا۔" نہیں بھئی، یہ ایک فضولی دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا- وَقِيلَ اور کہا گیا ہے کہ إِذَا تَكَلَّمَ الفُضُولِيُّ الوَاحِدُ بِكَلاَمَيْنِ بعض علماء کہتے ہیں، کہا کہ ایک فضولی نکاح کے دو جانبوں کا، دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے، لیکن وہ کلام الگ الگ کرے۔ یوں کہے، "فلانی کا میں نے نکاح فلاں سے کر دیا-" دو گواہ بھی تو ضروری ہیں، گواہ تو ہوں گے وہاں پر۔ فضولی کہہ رہا ہے، "میں نے فلانی کا نکاح کر دیا فلاں سے-" اور پھر دوسرے کی طرف سے کہے، "اور پھر میں نے زید کی طرف سے اس نکاح کو کیا کر لیا؟ قبول-" تو الگ الگ کلام کرے ایجاب اور قبول کے، تو پھر اس صورت میں بھی یہ پھر نکاح موقوف رہے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو معلوم ہوا یہ بھی درست ہے یہاں، اگر الگ الگ کلام کرے تو ایک فضولی بھی دو، دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے۔ یہ بعض علماء کا قول ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَقِيلَ إِذَا تَكَلَّمَ الفُضُولِيُّ الوَاحِدُ بِكَلاَمَيْنِ کہ اگر تکلم کیا ایک ہی فضولی نے دو کلاموں پر بِأَنْ قَالَ بعیں طور کہ وہ یوں کہتا ہے زَوَّجْتُ فُلاَنَةَ مِنْ فُلاَنٍ فُلاَنَةَ یہ غیر منصرف ہے، یاد رکھیے بھئی، غیر منصرف- وجہ یہ کہ یہ فلاں جو ہے، یہ کنایہ ہوتا ہے علم سے، تو یہ علم کے درجے میں ہے۔ مثلاً میں آپ کے ساتھ زید کے بارے میں بات چیت کر رہا تھا، اچانک ایک تیسرا شخص آیا، اس کو آتے دیکھ کر اب میں نہیں چاہتا کہ اسے بھی پتہ چلے کہ میں زید کے بارے میں آپ سے کوئی بات کر رہا ہوں۔ تو اب کیا کروں گا؟ تو جب وہ آ گیا، تو اب میں آپ سے یوں کہوں گا کہ، "بھئی، پھر فلاں میرے پاس آیا تھا اور پھر فلاں کو میں نے یوں یوں کہا۔" تو زید کا نام لینے کے بجائے کیا کہنے لگوں گا؟ فلاں فلاں کا لفظ کہوں گا۔ اب دیکھو، اس سے بات مسئلہ بھی حل ہو گیا، آپ بات سمجھ گئے اور دوسرے کو پتہ نہیں چلا کہ یہ کس کی بات ہو رہی ہے۔ تو اب فلاں کے ذریعے جو میں نے کنایہ کیا بھئی، کسی غیر معین ذات سے کنایہ کیا یا کسی معین آدمی کے نام سے؟ معین ذات کے بارے میں کنایہ کیا بھئی۔ تو اس لیے کنایہ کیا جاتا ہے علم سے بھئی، کس سے؟ علم سے، نام کی جگہ اس کو بطورِ کنایہ کے استعمال کرتے ہیں۔ تو یہ علم ہی کے درجے میں ہے۔ کس کے درجے میں ہے؟ علم کے درجے میں، اور پھر جب اس کے ساتھ تا مل گئی، تو ایک علمیت، ایک تانیث، دو اسبابِ منعِ صرف آ گئے، تو یہ کیا ہوا؟ غیر منصرف ہوا بھئی۔ جی، تو کہتے ہیں اگر تکلم کیا ایک فضولی نے دو کلاموں پر بِأَنْ قَالَ بعیں طور کہ یوں کہتا ہے زَوَّجْتُ فُلاَنَةَ مِنْ فُلاَنٍ "میں نے نکاح کر دیا فلانی کا فلاں سے۔" یہ ایجاب کیا۔ وَقَبِلْتُ مِنْهُ اور پھر قبول کیا اس دوسرے شخص کی جانب سے- دیکھو، قبول الگ کیا۔ يَتَوَقَّفُ تو یہ علماء کیا فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی نکاح موقوف رہے گا وَلاَ يَبْطُلُ اور باطل نہیں نہیں- پہلوں نے تو کہا، پہلے عام علماء تو کیا فرماتے ہیں کہ نکاح موقوف رہے گا ہی نہیں، ہوا ہی نہیں، باطل ہے؛ کیونکہ ایک فضولی دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا۔ یہ دوسرے بعض علماء نے کہا کہ نہیں، اس صورت میں بھی یہ صحیح ہے اور اب بھی نکاح موقوف ہوا، باطل نہیں ہوا۔ وَقِيلَ لاَ حَاجَةَ إِلَى قَوْلِهِ بِغَيْرِ إِذْنِ الزَّوْجِ بعض علماء نے کہا کہ بھئی، یہ جو ماتن نے متن میں قید لگائی تھی بھئی، جہاں سے مسئلہ شروع ہوا تھا وَإِذَا زَوَّجَ أَمَتَيْنِ مِنْ رَجُلٍ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلاَهُمَا وَبِغَيْرِ إِذْنِ الزَّوْجِ، کہتے ہیں یہ بِغَيْرِ إِذْنِ الزَّوْجِ کی قید کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس قید کو ویسے ہی مصنف نے ذکر کر دیا، اس کی ضرورت نہیں؛ کیونکہ اس مسئلے کا دار و مدار جو ہے، وہ آقا کے وہ جو الفاظ ہیں جس سے وہ آزاد کر رہا ہے، ان پر دار و مدار ہے۔ خاوند جس سے نکاح کروایا گیا، اس کی بغیر اجازت سے یا اس کی اجازت سے ہو، اس سے مسئلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے مسئلے پر اگر وہ خود ہی ان دو باندیوں سے نکاح کر لیتا ہے، باندیوں کی طرف سے فضولی ہوتا ہے اور دوسری طرف سے کون ہوتا ہے؟ خاوند خود ہوتا، یا خاوند کا وکیل ہوتا، باقاعدہ اس نے وکیل بنا کر بھیجا، تو بھی مسئلے کی یہی صورت ہونی تھی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آقا خاوند، کیونکہ مسئلے میں آپ نے دیکھا، آقا نے جیسے ہی ایک کو آزاد کیا، دوسری کا نکاح خود بخود کیا ہو گیا؟ باطل ہو گیا بھئی، باطل ہو گیا۔ تو آقا خاوند کی اجازت پر یہ نکاح، مطلب مسئلہ موقوف ہی نہیں ہے، تو اس کو مصنف نے ویسے ذکر کر دیا۔ وَقِيلَ لاَ حَاجَةَ إِلَى قَوْلِهِ بِغَيْرِ إِذْنِ الزَّوْجِ اور بعض علماء نے کہا، کہا گیا ہے کہ کوئی حاجت نہیں ہے مصنف کے قول بِغَيْرِ إِذْنِ الزَّوْجِ کی لِأَنَّ حُكْمَ المَسْأَلَةِ لاَ يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ اس لیے کیونکہ مسئلے کا حکم جو ہے وہ اس پر موقوف نہیں ہے بھئی۔ وَلِهَذَا لَمْ يُقَيِّدْهُ شَمْسُ الأَئِمَّةِ بِهَذَا القَيْدِ اور اسی وجہ سے شمس ائمہ رحمہ اللہ نے مقید نہیں کیا اس کو اس اس قید کے ساتھ اس کو مقید نہیں کیا، انہوں نے اپنے کلام کے اندر اس قید کو ذکر نہیں کیا۔ یہی صورتِ مسئلہ بنائی، لیکن اس کے اندر خاوند کی اجازت کے بغیر، اس کو ذکر نہیں کیا۔ وَإِنْ أَعْتَقَهُمَا المَوْلَى بِلَفْظٍ وَاحِدٍ اب اور صورتیں بتا رہے ہیں بھئی، کیسے مسئلہ بدلے گا، دیکھیے۔ کہتے ہیں وَإِنْ أَعْتَقَهُمَا المَوْلَى بِلَفْظٍ وَاحِدٍ اور اگر ان دونوں باندیوں کو ان کے آقا نے ایک ہی لفظ سے آزاد کیا بِأَنْ قَالَ بعیں طور کہ یوں کہتا ہے أَعْتَقْتُهُمَا "میں ان دونوں کو کیا کرتا ہوں؟ أَعْتَقْتُهُمَا میں ان دونوں کو آزاد کرتا ہوں۔" تو کہتے ہیں لاَ يَبْطُلُ نِكَاحُ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ان دونوں میں سے کسی ایک کا بھی نکاح باطل نہیں ہو گا۔ ایک کا بھی نکاح باطل نہیں ہو گا بھئی، کیونکہ پہلے کیا خرابی لازم آئی تھی؟ ایک پہلے آزاد ہو رہی تھی، دوسری بعد میں ہو رہی تھی، تو حرة پر باندی کے نکاح کا موقوف ہونا لازم آ رہا تھا۔ اور یہاں جب دونوں اکٹھی آزاد ہو رہی ہیں، تو حرة پر باندی کے نکاح کے موقوف ہونے کی خرابی لازم نہیں آتی، دونوں نکاح ہو جائیں گے۔ یعنی آقا کی طرف سے دونوں درست ہوئے، باقی وہ خاوند پر کی اجازت کے بغیر تھا اگر، تو پھر اس کی اجازت پر موقوف ہے۔ تو کہتے ہیں بِأَنْ بعیں طور کہ أَعْتَقْتُهُمَا کہتا ہے تو لاَ يَبْطُلُ نِكَاحُ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تو باطل نہیں ہو گا ان دونوں میں سے کسی ایک کا بھی نکاح لِعَدَمِ تَحَقُّقِ الجَمْعِ بَيْنَ الحُرَّةِ وَالأَمَةِ اس لیے کیونکہ لِعَدَمِ تَحَقُّقِ الجَمْعِ کیونکہ جمع نہیں پائی گئی بَيْنَ الحُرَّةِ وَالأَمَةِ کس کے درمیان؟ آزاد اور باندی، کیونکہ آزاد اور باندی کے درمیان جمع کرنا یہ نہیں پایا گیا۔ دونوں اکٹھی آزاد ہوئی ہیں۔ ایک پہلے ہو، ایک بعد میں ہو، پھر تو کیا خرابی لازم آ رہی تھی؟ جمع بین الحرة والامة، ایک باندی اور ایک آزاد ہے۔ اور جب دونوں اکٹھی آزاد ہوئیں، تو یہ خرابی لازم نہیں آتی بھئی۔ تو لِعَدَمِ تَحَقُّقِ الجَمْعِ بَيْنَ الحُرَّةِ وَالأَمَةِ بوجہ نہ پائے جانے جمع کے آزاد اور، آزاد عورت اور باندی کے بیچ، یعنی آزاد اور باندی کے درمیان جمع کرنا نہیں پایا گیا اس وجہ سے۔ وَإِنْ أَعْتَقَهُمَا بِكَلاَمٍ مَفْصُولٍ اور اگر آقا نے ان دونوں باندیوں کو آزاد کیا بِكَلاَمٍ مَفْصُولٍ جدا کلام کے ساتھ، پہلے تو تھا کلامِ متصل ہَذِهِ حُرَّةٌ وَهَذِهِ، اور اگر الگ الگ کلام سے، کیا کہتا ہے؟ پہلے ایک کے بارے میں کہتا ہے ہَذِهِ حُرَّةٌ، پھر کچھ دیر بعد دوسری کے بارے میں کہتا ہے ہَذِهِ حُرَّةٌ- कहते हैं وَإِنْ أَعْتَقَهُمَا بِكَلاَمٍ مَفْصُولٍ اگر آزاد کیا ان دونوں کو آقا نے الگ الگ کلام کے ساتھ فَأَجَازَ الزَّوْجُ نِكَاحَهُمَا پس خاوند نے ان دونوں کے نکاح کی اجازت دے دی أَوْ وَاحِدَةٍ أَيْ نِكَاحَ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ان دونوں میں سے دونوں کی اجازت دی یا ایک کی، دونوں صورتوں میں جَازَ نِكَاحُ المُعْتَقَةِ الأُولَى تو پہلی معتقہ کا نکاح تو جائز ہو جائے گا وَيَبْطُلُ نِكَاحُ الثَّانِيَةِ اور دوسری کا نکاح باطل؛ کیونکہ وہی بات خرابی یہاں بھی آئی۔ جب ایک کو آزاد کیا، دوسری کو ابھی آزاد نہیں کیا، تو کیا خرابی لازم آ رہی تھی؟ باندی کا نکاح کس پر موقوف ہوا؟ حرة پر، تو جیسے ہی آقا نے ایک کو آزاد کیا، یوں سمجھو، یوں سمجھو، جیسے ہی آقا نے ایک کو آزاد کیا، گویا دوسری کے نکاح کو آقا نے اسی وقت خود ہی باطل کر دیا۔ آقا کو پتہ بھی نہیں ہے، لیکن گویا یوں ہے صورت کہ جب ایک کی اس نے آزاد، پہلے ایک آزاد ہوئی، ایک بعد میں، تو بس جیسے ہی پہلی آزاد ہوئی، گویا آقا نے خود کیا کر دیا؟ دوسری کے نکاح کو رد کر دیا۔ تو لہٰذا اب خاوند چاہے دونوں کی اجازت دے یا ایک کی اجازت دے، کہتے ہیں بھئی، پہلی والی سے تو نکاح ہو سکتا ہے، دوسری والی سے نکاح نہیں ہوا، وہ نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں فَأَجَازَ الزَّوْجُ نِكَاحَهُمَا پس خاوند نے اجازت دے دی ان دونوں کے نکاح کی أَوْ وَاحِدَةٍ أَيْ نِكَاحَ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ان دونوں میں سے ایک کے نکاح کی اجازت دے دی جَازَ نِكَاحُ المُعْتَقَةِ الأُولَى تو نکاح جائز ہو جائے گا معتقہ اولیٰ کا وَيَبْطُلُ نِكَاحُ الثَّانِيَةِ اور دوسری کا نکاح کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا فَلَا تَلْحَقُهُ الإِجَازَةُ پس اجازت اس کے ساتھ ملحق نہیں ہو گی، اجازت اس کے ساتھ نہیں ملے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آقا، بھئی خاوند نے تو اجازت دے دی، "दोनों کے ساتھ میں اپنے نکاح جائز قرار دیتا ہوں۔" لیکن اس دوسری کے ساتھ اجازت ملحق ہو ہی نہیں سکتی؛ کیونکہ آقا نے جب ایک کو پہلے آزاد کیا، ایک کو بعد میں، تو گویا اس نے پہلے کی اجازت دی اور پہلے کی اجازت دیتے ہی گویا دوسرے کو کیا کر دیا؟ خود ہی رد کر دیا۔ وہ محل ہی نہ رہا بھئی، محل ہی نہ رہا۔ تو اب اس کے ساتھ اجازت ملحق نہیں ہو سکتی، اب خاوند اجازت دیتا رہے، لیکن دوسری کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ ہاں، اس کے ساتھ بعد میں الگ نکاح کرے، وہ تو الگ مسئلہ ہے۔ ہم اس وقت کی بات کر رہے ہیں جو ایک ہی عقد میں یا ایک ہی یہ آقا کی اجازت سے پہلے جو دونوں کا نکاح کروایا گیا تھا، اس کی بات ہو رہی ہے۔ هَذَا إِذَا كَانَ النِّكَاحَانِ فِي عَقْدٍ وَاحِدٍ کہتے ہیں یہ مسئلہ اس وقت ہے جب دونوں نکاح کس میں ہوں؟ ایک ہی عقد میں، ایک ہی ایجاب کے ساتھ ہوئے ہوں۔ فَأَمَّا إِذَا كَانَا فِي عَقْدَيْنِ اور اگر یہ دونوں نکاح جو ہیں، دو عقدوں میں ہوئے تھے، یعنی دو ایجاب اور دو قبول تھے فَإِنْ كَانَ مَوْلَى الأَمَتَيْنِ وَاحِدًا اگر وہ پھر بھئی اس میں، اگر دونوں باندیوں کا آقا ایک ہی آدمی ہے یا دونوں الگ الگ آدمیوں کی باندیاں ہیں بھئی؟ پھر اس میں مسئلہ بدلے گا۔ کہتے ہیں فَإِنْ كَانَ مَوْلَى الأَمَتَيْنِ وَاحِدًا اگر دونوں باندیوں کا آقا جو ہے وہ ایک ہی شخص ہے، عقد دونوں کے کیا ہوئے؟ الگ الگ۔ الگ الگ ہونے کا کیا معنیٰ؟ ایک عقد پہلے، ایک عقد جب الگ ہوئے تو یہی صورت ہے نا، ایک عقد ذرا پہلے ہو گا، ایک عقد بعد میں اس کے ہو گا۔ تو اگر دونوں باندیوں کا آقا ایک ہی تھا فَالحُكْمُ كَمَا ذَكَرْنَا تو حکم اسی طرح ہے جیسے ہم نے ذکر کیا۔ بھئی، باندی، آقا ایک ہے یا دو ہیں؟ وہی صورت چل رہی ہے بھئی، پیچھے ذکر ہوا تھا، چاہے ایک عقد ہوا ہو، چاہے دو عقد ہوئے ہوں۔ تو کہتے ہیں فَإِنْ كَانَ مَوْلَى الأَمَتَيْنِ وَاحِدًا اگر دونوں باندیوں کا آقا ایک ہی شخص ہے فَالحُكْمُ كَمَا ذَكَرْنَا تو حکم اس طرح ہے جیسے کہ ہم نے ذکر کر دیا۔ وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ اور اگر دونوں کے آقا دو آدمی ہیں الگ الگ فَأُعْتِقَتِ الأَمَتَانِ عَلَى التَّعَاقُبِ پس آزاد کر دیا گیا دونوں باندیوں کو علی التعاقب، ایک دوسرے کے پیچھے، یعنی ایک کو پہلے آزاد کیا گیا اور ایک کو باندیوں کے آقا الگ الگ ہیں اور ایک نے پہلے آزاد کیا اور ایک نے بعد میں۔ کہتے ہیں اب فَالنِّكَاحَانِ مَوْقُوفَانِ تو اب یہ دونوں نکاح موقوف ہیں خاوند کی اجازت پر، خاوند کی اجازت پر۔ فَأَيُّهُمَا أَجَازَ الزَّوْجُ جَازَ پس جس کی بھی خاوند اجازت دے دے گا، وہ جائز ہو جائے گا۔ وَإِنْ أَجَازَهُمَا مَعًا اور اگر اس نے دونوں کی اکٹھی اجازت دی جَازَ نِكَاحُ المُعْتَقَةِ الأُولَى تو پہلی معتقہ کا نکاح جائز ہو جائے گا، دوسری کا جائز نہیں، جو پہلے آزاد ہوئی- بھئی، دو آقا ہیں الگ الگ، دونوں نے کیا کیا پھر باندیوں کو آزاد کر دیا۔ آزاد کرنے کے بعد خاوند نے اب کس کی اجازت پر یہ نکاح موقوف؟ خاوند کی۔ بھئی دیکھیے، جب دونوں آقاؤں نے اپنی اپنی باندی کو آزاد کیا، ایک نے پہلے آزاد کیا، ایک نے بعد میں۔ اب دوسری بعد میں جو آزاد ہوئی، اس کا نکاح باطل نہیں ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کیوں نہیں ہو گا؟ ایک پہلے آزاد ہے، ایک بعد میں آزاد ہے۔ بھئی، دراصل پہلی صورت میں آقا ایک ہی تھا، تو جب اس نے ایک کو پہلے آزاد کیا، ایک کو بعد میں آزاد کیا بھئی، چاہے متصلاً ہو، چاہے مفصولاً ہو بھئی، دونوں صورتوں میں۔ پہلی کو آزاد کرتے ہی گویا آقا نے خود دوسری کے نکاح کو رد کر دیا۔ اس نے رد لفظوں میں نہیں رد کیا، لیکن صورت خود بخود کون سی بن گئی؟ کہ باندی کا نکاح موقوف ہو گیا کس پر؟ آزاد عورت پر، تو گویا، گویا آقا نے پہلے کو آزاد کرتے ہی دوسری کے نکاح کو خود ہی کیا کر دیا؟ رد کر دیا۔ اور یہاں آزاد کرنے والے دو الگ الگ آدمی ہیں، لہٰذا ایک کے نکاح، ایک کا آزاد کرنا دوسرے کے لیے رد نہیں بن سکتا۔ وہاں ایک ہی آقا تھا، تو اس کا ایک کو آزاد کرنا دوسرے کے لیے کیا بن جاتا تھا؟ رد، اور یہاں آقا الگ الگ، لہٰذا ایک پہلے آزاد کر رہا ہے، ایک بعد میں آزاد کر رہا ہے، تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے پہلے نے آزاد اپنی باندی کو آزاد کرتے ہی دوسرے کے باندی کے نکاح کو کیا کر دیا؟ رد، بھئی یہ کون ہوتا ہے کسی دوسری باندی کے نکاح میں دخل دینے والا؟ وہ اس شخص کی باندی ہے۔ تو اس کا ایک کو آزاد کرنا دوسری کے باندی کے نکاح کو رد کرنا نہیں ہے، لہٰذا ابھی بھی یہ دونوں موقوف ہیں، کس پر؟ خاوند کی اجازت پر۔ ابھی اس نے اجازت تو دی نہیں، لہٰذا اب جس کے ساتھ وہ اجازت دے دے گا، جس کے ساتھ چاہے، وہ نکاح اس کا منعقد ہو جائے گا بھئی، جس ایک کے ساتھ بھی چاہے۔ ایک، دونوں میں سے ایک۔ ہاں، دونوں کی وہ اجازت دیتا ہے پھر جو پہلی آزاد، پہلے آزاد کی تھی وہ جس کو اب اس کے آقا نے پہلے آزاد کیا، اس سے تو نکاح ہو جائے گا، دوسری جو بعد میں جس کے آقا نے آزاد کیا اس سے نکاح نہیں، کیوں؟ اس کی کیا وجہ؟ بھئی، وجہ یہ ہے۔ یہ نکاح ابھی سے شمار کرو گے یا اس وقت سے جب وہ عقد کیا گیا تھا۔ یاد رکھو یہ نکاح اس وقت سے شمار ہوگا عقد تو یہ خاوند تو ابھی اجازت دے رہا ہے لیکن ہوا کب تھا؟ جس دن ہوا تھا اس دن سے نکاح شمار ہوگا۔ اس دن سے اور جب اس نے دونوں کی اجازت دی، تو اس دن سے نکاح شمار کیا، تو دیکھو ایک باندی پہلے آزاد تو گویا کس سے نکاح؟ آزاد عورت سے۔ ابھی دوسری آزاد نہیں ہوئی، تو کیا خرابی لازم آئی؟ باندی کا نکاح موقوف ہو گیا کس پر؟ لہٰذا دوسری جو بعد میں آزاد ہوئی جیسے وہ اس کا نکاح خود بخود کیا ہو جائے گا؟ صورت بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ نکاح اسی وقت سے ہم شمار کریں گے جب عقد ہوا تھا اور اس وقت کے اعتبار سے جب نکاح شمار کیا، تو ایک باندی تو پہلے آزاد ہے، تو گویا عقد کس سے ہے؟ آزاد عورت سے۔ دوسری ابھی آزاد بعد میں ہوئی ہے، تو لہٰذا گویا دوسری باندی ہے اور باندی کا نکاح موقوف ہو گیا کس پر؟ آزاد عورت پر، اور آزاد عورت کے ہوتے ہوئے تو باندی کے ساتھ نکاح کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا وہ نکاح باطل ہو جائے گا، تو جس سے پہلے آزاد کیا تھا اس کے آقا نے، اس سے نکاح ہو جائے گا۔ صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ معنیٰ ہے "فَأَيَّهُمَا جَازَ الزَّوْجُ جَازَ"، جس کے ساتھ بھی نکاح دے دے خاوند، "جَازَ" وہ جائز ہے، "وَإِنْ أَجَازَهُمَا مَعًا"، اور اگر اس نے دونوں کی اجازت دے دی اکٹھے ہی، "جَازَ نِكَاحُ الْمُعْتَقَةِ الْأُولَى"، تو معتقہ اولیٰ کا نکاح جائز ہو جائے گا۔ چلیے بس مولانا! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
142 approved lectures · 55 of 142