Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-053

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 153
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔53 وقد تتعذر الحقيقة والمجاز معا إذا كان الحكم ممتنعا. يعني قد يتعذر المعنى الحقيقي والمعنى المجازي معا إذا كان كلا الحكمين ممتنعا، فيلغو الكلام حينئذ بالضرورة. یہاں سے آج آپ کو مصنف یہ بتلائیں گے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ معنی حقیقی اور معنی مجاز دونوں ممکن نہیں رہتے، نہ ہم معنی حقیقی پر عمل کر سکتے ہیں اور نہ معنی مجاز پر، یعنی دونوں مراد نہیں لے سکتے۔ اور دو ہی تو احتمال تھے کلام کے اندر کہ یا تو اس کا معنی حقیقی لیا جائے یا معنی مجاز۔ جب دونوں نہیں لے سکتے تو اس صورت میں کلام لغو ہو جائے گا۔ کیا ہو جائے گا؟ کلام لغو ہو جائے گا۔ کہتے ہیں "وقد تتعذر الحقيقة والمجاز معا" اور کبھی کبھار ممکن نہیں رہتے حقیقت اور مجاز اکٹھے، یعنی بیک وقت دونوں ہی ممکن نہیں رہتے بھئی۔ یہاں تعذر کا وہ معنی نہیں ہے جو ماقبل میں گزرا تھا کہ جس پر عمل مشکل ہو، مشکل نہیں بلکہ ممکن ہی نہیں رہتا۔ سو دونوں پر عمل ممکن ہی نہیں رہتا "إذا كان الحكم ممتنعا" جب وہ حکم ممتنع ہو یعنی ممکن نہ ہو، "يعني قد يتعذر المعنى الحقيقي والمعنى المجازي معا" یعنی کبھی کبھار ممکن نہیں رہتا ہے معنی حقیقی اور معنی مجاز دونوں، "إذا كان كلا الحكمين ممتنعا" جب کہ دونوں حکم ممتنع ہوں، ممکن نہ ہوں، "فيلغو الكلام حينئذ" تو کلام لغو ہو جائے گا اس وقت "بالضرورة". جی، "بالضرورة أي بالبداهة وباليقين" بھئی، بالضرورة کا لفظ کتابوں میں آئے تو اس کے معنی بالبداهة اور باليقين کے ہوتے ہیں۔ تو لغو ہو جائے گا کلام اس وقت بھئی یقیناً، یقینی طور پر، بدیہی طور پر کلام کیا ہو جائے گا؟ جی، لغو ہو جائے گا۔ کیونکہ دو ہی تو احتمال تھے یا اس کا معنی حقیقی لیں گے یا مجاز۔ دونوں نہیں لے سکتے تو بدیہی بات ہے، یقینی بات ہے کلام کیا ہو جائے گا؟ لغو ہو جائے گا۔ "كما في قوله لامرأته هذه ابنتي وهي معروفة النسب وتولد لمثله أو أكبر سنا منه حتى لا تقع الحرمة بذلك أبدا" بھئی صورت مسئلہ یہ ہے: ایک شخص ہے، وہ اپنی بیوی کے بارے میں کہتا ہے "هذه ابنتي"، "هذه ابنتي". ایک تو "هذه ابنتي" کا حقیقی معنی ہے کہ یہ میری بیٹی ہے، اور ایک "هذه ابنتي" اس کا مجازی معنی ہے کہ اسے طلاق ہے بھئی، اسے طلاق ہے بھئی۔ کہتے ہیں "هذه ابنتي" کا اگر حقیقی معنی ممکن نہ ہو، مجازی معنی تو ممکن ہے ہی نہیں، حقیقی معنی بھی ممکن نہ ہو مثلاً حقیقی معنی کس طرح ممکن نہ ہو؟ کہ یہ عورت عمر میں بڑی ہو کہ اس کہنے والے کی بیٹی کے مثل نہ ہو بھئی۔ یعنی دونوں میں اتنا فرق نہ ہو کہ یہ اس کی بیٹی ہو سکے۔ یعنی اس کے برابر ہے یا عمر میں بڑی ہے۔ بیوی عمر میں خاوند کے برابر ہے یا اس سے بڑی ہے۔ جب برابر ہے یا بڑی ہے تو اس کی بیٹی ہو سکتی ہے؟ نہیں، بیٹی نہیں ہو سکتی۔ समझ میں آیا؟ تو لہٰذا حقیقی معنی ممکن نہیں۔ جب حقیقی معنی ممکن نہیں تو پھر کس کی طرف جائیں گے؟ مجازی معنی کی طرف۔ لیکن مجازی معنی بھی آگے آپ کو بتائیں گے وہ بھی ممکن نہیں، یہ کلام ہی لغو ہو جائے گا۔ اس سے طلاق بھی مراد نہیں لے سکتے بھئی۔ حقیقی معنی کیوں نہیں ممکن؟ کیونکہ وہ اس سے عمر میں بڑی ہے یا اس کے برابر ہے، یا اتنی بڑی بھی نہیں ہے اس سے چھوٹی ہے لیکن ایک دو سال، تین سال کا فرق ہے اور اولاد، باپ اور اولاد میں اتنا فرق تو نہیں ہوتا، وہاں تو لازمی بات ہے زیادہ فرق ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو لہٰذا یہاں حقیقی معنی ہم کیوں نہیں مراد لے سکتے؟ ہاں، تو یہاں مانع کیا آیا کہ وہ عورت عمر میں اس سے بڑی ہے۔ یا دوسری صورت کہ وہ عورت اس کا نسب معلوم ہے سب کو کہ یہ تو فلاں آدمی کی بیٹی ہے۔ جب فلاں آدمی کی بیٹی ہے، اب چاہے عمر میں چھوٹی ہی کیوں نہ ہو، خاوند میں اور بیوی کی عمر میں فرض کرو 20 سال کا فرق ہے اور وہ اس کو کہتا ہے "هذه ابنتي"، یہ میری بیٹی ہے، تو یہاں حقیقی معنی ممکن نہیں۔ کیوں نہیں ممکن؟ کیونکہ اس کا نسب سب کو معلوم ہے کہ یہ تو اس کی بیٹی نہیں، یہ تو کس کی بیٹی ہے؟ فلاں کی بیٹی۔ تو یہاں بھی دیکھو حقیقی معنی مراد لینا ممکن نہ رہا۔ تو میں نے تفصیل بتا دی، متن میں دو صورتیں آئیں گی حقیقی معنی متعذر ہونے کی: ایک صورت کیا ہوگی؟ کہ وہ عورت معروفة النسب ہوگی اگرچہ عمر میں اس خاوند کی بیٹی کے مثل ہے۔ لیکن معروفة النسب ہے۔ دوسری صورت حقیقی معنی ممتنع ہوگا کس وجہ سے؟ کہ وہ عمر میں اس سے بڑی ہے، تو دو صورتیں بیان ہوں گی متن میں اور دونوں صورتوں میں حقیقی معنی ممکن نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور مجازی معنی بھی ممکن نہیں بھئی، وہ بھی سمجھ لیجیے۔ مجازی معنی کیوں نہیں ممکن؟ مجازی معنی کیا تھا "هذه ابنتي" کا؟ کہ اسے طلاق۔ کہتے ہیں یہ بھی نہیں مراد لے سکتے۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس نے کہا "یہ میری بیٹی ہے" اور بیٹی اور نکاح میں منافات ہے۔ بیٹی تو حرام ہوتی ہے، اس کے ساتھ تو نکاح جائز تھا ہی نہیں، تو بیٹی اور نکاح میں منافات آئی۔ اور جب بیٹی اور نکاح میں منافات ہے، تو یہاں معلوم ہوا نکاح ممکن ہی نہیں، جب نکاح ممکن ہی نہیں ہے، تو پھر طلاق تو آتی ہے نکاح کے بعد، تو معلوم ہوا طلاق بھی ممکن نہیں۔ اگر نکاح ممکن ہوتا تو طلاق بھی ممکن ہو جاتی اور ہم اس کا معنی طلاق کے کر لیتے، لیکن یہاں تو نکاح ہی ممکن نہیں، جب نکاح ممکن نہیں تو طلاق تو نکاح کے بعد آیا کرتی ہے، تو لہٰذا طلاق بھی ممکن نہیں، لہٰذا اس کا معنی طلاق کے بھی ہم نہیں کر سکتے۔ صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا دونوں صورتوں میں چاہے وہ عورت اس سے عمر میں تو چھوٹی ہے لیکن اس کا نسب معلوم ہے، حقیقی معنی مراد نہیں لے سکتے کیونکہ اس کا نسب سب کو معلوم ہے، اور مجازی معنی بھی مراد نہیں لے سکتے، کیوں؟ کیونکہ بیٹی ہونا نکاح کے منافی اور نکاح نہیں تو طلاق بھی نہیں، تو طلاق کا معنی بھی نہیں کر سکتے۔ اور دوسری صورت کیا ذکر کی تھی؟ کہ عورت عمر میں اس سے بڑی، تو "هذه ابنتي" جب کہا تو حقیقی معنی ممکن نہیں کیونکہ یہ تو اس سے عمر میں بڑی ہے بھئی، تو جب حقیقی معنی ممکن نہیں تو ہم مجاز کی طرف جائیں گے، لیکن مجازی معنی بھی ممکن نہیں کیونکہ مجازی معنی کیا تھا کہ اسے طلاق ہے، اور طلاق، طلاق تو آیا کرتی ہے نکاح کے بعد اور یہاں نکاح اور بیٹی ہونے میں کیا ہے؟ منافات ہے بھئی، دونوں جمع ہو ہی نہیں سکتے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ "كما في قوله لامرأته هذه ابنتي" جیسے کسی شخص کے اس قول کے اندر "لامرأته" اپنی بیوی سے، یہ کہا کسی شخص نے اپنی بیوی سے: "هذه ابنتي" یہ میری بیٹی ہے، "وهي معروفة النسب" اس حال میں کہ وہ عورت کیا ہے؟ معروفة النسب ہے، "وتولد لمثله" اس حال میں کہ جنم دیا جاتا ہے اس جیسی عورت کو "لمثله" اس جیسے آدمی کے لیے، "تولد هي" جنم دیا جا سکتا ہے اس عورت کو "لمثله" اس جیسے آدمی کے لیے، یعنی یہ اس کی بیٹی ہو سکتی ہے، یعنی یہ اس کی بیٹی تو ہو سکتی ہے عمر میں تو اتنا فرق، لیکن مانع کیا ہے؟ معروفة النسب ہے۔ اب دوسری صورت: "أو أكبر سنا منه"، یہ "أكبر" کا عطف کس پر ہے؟ "معروفة النسب" پر ہے، "وهي أكبر سنا منه" اور وہ عورت کیا ہے اس سے؟ عمر میں بڑی ہے، تو دو صورتوں میں، یہ دو صورتیں ہیں، تو اور ان میں اس نے کہا ہے "هذه ابنتي"، تو "حتى لا تقع الحرمة بذلك أبدا" تو یہاں تک کہ واقع نہیں ہوگی حرمت اس قول کے ذریعے کبھی بھی، اس کے ذریعے حرمت واقع نہیں ہوگی بھئی، کلام ہی لغو ہو جائے گا، نہ حقیقی معنی ہم مراد لے سکتے ہیں یہاں پر اور نہ مجازی معنی لے سکتے ہیں۔ حقیقی معنی تو کیا؟ کہ یہ اس کی حقیقی بیٹی ہو جاتی، لیکن وہ بھی نہیں ہو سکتا، اور مجازی معنی کیا؟ کہ اس کو طلاق ہے، اور طلاق آئے گی تو حرمت آ جائے گی، لیکن وہ حرمت بھی نہیں آ سکتی کیونکہ طلاق اور بیٹی ہونے میں کیا ہے؟ منافات، کیونکہ طلاق آتی ہے نکاح کے بعد اور نکاح اور بیٹی ہونے میں منافات ہے۔ "فإنه إذا كانت كانت المرأة معروفة النسب" اس لیے کیونکہ جب عورت معروفة النسب ہوگی "استحال أن تكون بنته" تو محال ہے یہ بات کہ وہ اس کی بیٹی ہو "وإن كانت أصغر سنا منه" اگرچہ وہ اس سے عمر میں چھوٹی ہو، پھر بھی اس کی بیٹی ہونا محال ہے کیونکہ اس کا نسب معروف ہے۔ "وكذا إذا كانت أكبر سنا منه" اور اسی طرح اگر وہ عمر میں بڑی ہو "فإنه استحال أن تكون بنته أبدا" تو محال ہے کہ یہ اس کی بیٹی ہو کبھی بھی، "فتعذر المعنى الحقيقي ظاهر" پس معنی حقیقی کا متعذر ہونا یعنی ممکن نہ ہونا، یہ تو ظاہر ہے۔ "وأما تعذر المعنى المجازي" اور باقی معنی مجازی کا ممکن نہ ہونا "فلأنه لو كان مجازا" اس لیے کیونکہ اگر یہ مجاز ہو "لكان من قوله أنت طالق" تو یہ اس شخص کے قول "أنت طالق" سے مجاز ہو، کس سے مجاز ہو؟ "أنت طالق" سے مجاز ہو، "وهو باطل" اور یہ بھی باطل ہے "لأن الطلاق يقتضي سبقية صحة صحة النكاح" اس لیے کیونکہ طلاق تقاضا کرتی ہے ماقبل میں نکاح کے صحیح ہونے کا، نکاح کے صحیح ہونے کے مقدم ہونے کا تقاضا، بھئی ترجمہ "لأن الطلاق يقتضي" اس لیے کیونکہ طلاق تقاضا کرتی ہے، اب آگے آخر سے ترجمہ کریں، کیا تقاضا کرتی ہے؟ نکاح کے صحیح ہونے کے مقدم ہونے کا، کہ نکاح صحیح ہونا مقدم ہو، یعنی نکاح کا صحیح ہونا ہو سکے، ممکن ہو بھئی پہلے نکاح بھی ہو سکے۔ "والبنتية تقتضي أن تكون محرمة أبدا" اور بیٹی ہونا یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو۔ تو طلاق تقاضا کرتی ہے کہ پہلے نکاح صحیح ہونا چاہیے، پہلے نکاح ممکن ہو سکے، اور بیٹی ہونا تقاضا کرتا ہے کہ اس کو اس پر کیا ہونی چاہیے؟ ہمیشہ حرام۔ تو لہٰذا دونوں میں منافات ہے بیٹی ہونے میں اور نکاح کے صحیح ہونے میں۔ "فلا يقع بينه وبينها نكاح ولا طلاق" پس واقع نہیں ہوگی اس آدمی خاوند میں اور اس بیوی کے درمیان، یعنی اس بیٹی میں، پس واقع نہیں ہوگا بیٹی اور اس شخص کے درمیان نکاح بھی واقع نہیں ہو سکتا "ولا طلاق" اور نہ طلاق، طلاق اور نکاح ممکن ہی نہیں ہے جب اگر بیٹی کہہ رہا ہے اس کو بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ "فإذا لم يكن مجازا عنه" پس جب یہ اس سے مجاز بھی نہیں ہو سکتا، کس سے؟ "أنت طالق" سے، جب یہ اس سے مجاز بھی نہیں ہو سکتا تو "فلا تقع الحرمة بذلك القول أبدا" تو پس حرمت واقع نہیں ہوگی اس قول کے ذریعے کبھی بھی، "فيلغو الكلام" تو کلام کیا ہو جائے گا؟ لغو ہو جائے گا۔ "إلا أنهم قالوا" مگر علماء فرماتے ہیں "إذا أصر على ذلك" اگر اس شخص نے اسی پر اصرار کیا، اس پر اصرار کیا، یہی بات کہتا ہے بار بار، "يفرق القاضي بينهما" تو تفریق کروا دے گا قاضی ان دونوں کے درمیان۔ قاضی کیا کر دے گا ان دونوں میں؟ وہ بار بار کہتا ہے "هذه ابنتي"، یہ کیا ہے؟ میری بیٹی ہے۔ تو اب قاضی ان دونوں میں تفریق کروا دے گا، کہتے ہیں کیوں بھئی؟ تفریق کیوں کروائے گا؟ کیا اس لفظ سے حرمت آ گئی؟ کہتے ہیں نہیں نہیں، ہم نے ابھی تو بتایا "هذه ابنتي" کہنے سے حرمت نہیں آ سکتی، بلکہ جب وہ بار بار کہہ رہا ہے "هذه ابنتي"، معلوم ہوا یہ اس پر ظلم کرنے والا ہے یعنی اس سے صحبت نہیں کرتا، کیا نہیں کرتا؟ صحبت نہیں کرتا، اور اس کو اللہ نے عورت پر حاکم بنایا ہے اور یہ اس کے حق جماع کو کیا کر رہا ہے؟ اس سے روک رہا ہے، لہٰذا قاضی ان دونوں میں کیا کروا دے گا؟ تفریق کروا دے گا۔ تو کہتے ہیں اس "يفرق القاضي بينهما" قاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کروا دے گا، "لا لأن الحرمة تثبت بهذا اللفظ" اس وجہ سے نہیں کہ حرمت ثابت ہوئی ہے اس لفظ سے، "بل لأنه بالإصرار صار ظالما" بلکہ اس وجہ سے کیونکہ اصرار کے ذریعے وہ ظالم ہو گیا، "يمنع حقها في الجماع" وہ روکنے والا، روکتا ہے اس کے حق کو جماع میں، "فيجب التفريق" تو لہٰذا دونوں میں تفریق کروانا واجب ہے، "كما في الجب والعنة" جیسے کہ مجبوب ہونے میں اور عنین ہونے کے اندر۔ بھئی جب، جبن یعنی مجبوب ہونا، عنة یعنی عنین ہونا بھئی۔ بھئی مجبوب اس شخص کو کہتے ہیں جس کے آلہ تناسل اور خصیتین دونوں کٹے ہوں، اس کو مجبوب کہا جاتا ہے۔ اور عنین وہ شخص جو عورت سے صحبت پر قادر نہیں۔ یعنی ایسا مرض اس کو لاحق ہوا کہ وہ بیوی سے صحبت پر قادر نہیں۔ اب دیکھیے مجبوب کے اندر اگر عورت قاضی کے پاس جائے اور مطالبہ کرے کہ مجھے اس شخص سے طلاق دلوائی جائے، تو قاضی فوراً ان دونوں میں تفریق کروا دے گا، یہاں اس شخص کو علاج کے لیے مہلت نہیں دی جائے گی۔ کیوں مہلت کیوں نہیں دیں گے؟ کیونکہ ممکن ہی نہیں ہے بھئی، علاج ابھی یہاں ممکن ہی جس کے اعضا ہی کٹے ہوئے ہیں تو وہاں علاج ممکن ہی نہیں، تو مہلت دینے کا کوئی فائدہ نہیں، لہٰذا قاضی فوراً تفریق کروا دے گا۔ اور اگر عنین، ایک شخص ہے وہ نامرد ہے، وہ یعنی عورت کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتا، اس کے بارے میں اگر عورت، بیوی آتی ہے قاضی کے پاس اور مطالبہ کرتی ہے کہ میری اس شخص سے جدائی کروا دی جائے، تو علماء فرماتے ہیں کہ قاضی فوراً تفریق نہیں کروائے گا بلکہ اس شخص کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی کہ جس میں وہ اپنا علاج کروا لے، اگر ایک سال کے اندر وہ عورت سے صحبت پر قادر ہو گیا، ٹھیک ہو گیا، تو پھر تو ٹھیک، ورنہ اس کے بعد اگر ٹھیک نہ ہو سکا تو پھر قاضی کیا کروا دے گا؟ تفریق کروا دے گا بھئی۔ جی، تو کہتے ہیں لہٰذا وہ خاوند ظالم بن گیا، اس کے حق کو روکنے والا ہے جماع کے اندر، "فيجب التفريق" تو لہٰذا جدائی کروانا واجب ہے "كما في الجب والعنة" جیسے کہ مجبوب ہونے اور عنین ہونے کے اندر کیا ہے؟ تفریق واجب ہوتی ہے۔ "فقوله أو أكبر سنا منه" بھئی، متن میں آیا تھا "أكبر سنا منه"، میں نے بتلایا تھا کس پر عطف ہے "أكبر سنا" کا؟ "معروفة النسب" پر، یہی بات بیان کر رہے ہیں۔ "فقوله" مصنف کا قول "أو أكبر سنا منه عطف على قوله معروفة النسب" یہ عطف ہے ان کے قول "معروفة النسب" پر، کس پر عطف ہے؟ "معروفة النسب" پر۔ "وقوله" اور مصنف کا قول "وتولد لمثله حال من قوله معروفة النسب"، "وتولد لمثله" متن میں آیا تھا، یہ کیا ہے؟ حال ہے مَاتِن کے قول "معروفة النسب" سے۔ وہ عورت معروفة النسب ہو اس حال میں کہ پیدا ہو سکتی ہو اس جیسی عورت اس جیسے آدمی کے لیے، جنم دیا جا سکتا ہو اس جیسی عورت کو اس جیسے آدمی کے لیے۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں: "وتولد لمثله حال من قوله معروفة النسب" یہ "وتولد لمثله" یہ حال ہے مَاتِن کے قول "معروفة النسب" سے، "يعني لا بد أن تكون معروفة النسب في حين كونها مولودة في حين كونها مولودة لمثله" یعنی ضروری ہے کہ وہ عورت کیا ہو؟ معروفة النسب ہو "في حين كونها مولودة لمثله" اس وقت جب کہ اس جیسی عورت کو جنم دیا جا سکتا ہو اس جیسے آدمی کے لیے۔ بھئی اس صورت میں، بھئی حقیقی معنی، ہم نے صورتیں بنائیں نا، حقیقی معنی ممکن نہ ہو۔ ایک صورت تو یہ تھی کہ عورت اس سے عمر میں بڑی ہو۔ دوسری صورت عمر میں تو نہیں بڑی، وہ اس کی بیٹی ہو تو سکتی ہے عمر کے اعتبار سے، لیکن وہ کیا ہے؟ معروفة النسب۔ تو جس وقت عمر میں فرق ہو، اس وقت میں وہ معروفة النسب بھی ہو تو اب اس کا بیٹی ہونا ممکن نہیں، جس وقت میں وہ اس کا بیٹی ہونا ممکن ہے اس وقت وہ کیا ہو؟ مانع لانا ہے نا مانع، جس وقت کیا ہو؟ عمر کے اعتبار سے بیٹی ہونا ممکن ہو، تو مانع کیا لے کر آؤ؟ اس وقت وہ معروفۃ النسب ہو۔ یہ بھئی یہی بیان کر رہے ہیں۔ یہ یعنی: لا بد أن تكون معروفة النسب في حين كونها مولودة لمثله، یعنی ضروری ہے کہ وہ معروفۃ النسب ہو کس وقت؟ في حين كونها مولودة لمثله، اس وقت جبکہ اس جیسی عورت کا اس کے لیے مولود ہونا، مولود ہو سکے اس کے لیے اس کو جنم دیا جا سکے۔ أو أن تكون أكبر سنا منه، یا وہ عورت کیا ہو اس سے عمر میں بڑی ہو، یہ دوسرا، دوسری مانع ذکر کیا، حتى تتعذر الحقيقة، یہاں تک کہ حقیقت کیا ہو جائے؟ متعذر ہو جائے، ممکن نہ رہے۔ یہ دو صورتیں بنتی ہیں۔ فلو فقد الشرطان معا، اگر دونوں شرطیں مفقود ہوئیں اکٹھی، فلو فقد الشرطان معا، اگر دونوں ہی شرطیں کیا ہوئیں؟ مفقود، یعنی عمر میں بھی بڑی نہیں، اتنی ہے کہ اس جیسی اس کی بیٹی ہو سکتی ہے اور معروفۃ النسب بھی نہیں ہے، اس کے نسب کا پتہ ہی نہیں کسی کو، تو پھر کہتے ہیں نسب ثابت ہو جائے گا۔ کیا ہوگا؟ نسب ثابت ہو جائے گا۔ اچھا، اور حرمت آ جائے گی بھئی۔ فلو فقد الشرطان معا، اگر مفقود ہوئیں دونوں شرطیں اکٹھی ہی، بأن كانت مجهولة النسب، بأن اس طور کہ وہ عورت مجهولة النسب ہے، ولم تكن أكبر سنا منه، اور عمر میں اس سے بڑی بھی نہیں ہے، يثبت نسبها منه، تو ثابت ہو جائے گا اس عورت کا نسب اس خاوند سے۔ یہاں تک تقریر سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا أكـ اكبر سنا کا عطف کس پر؟ معروفۃ النسب پر، اور یہ تولد لمثله، یہ کیا ہے؟ حال ہے کس سے؟ معروفۃ النسب سے۔ بعض علماء نے کہا یہ اكبر سنا جو ہے، یہ اس کا عطف تولد لمثله پر ہے، کس پر عطف ہے؟ تولد لمثله پر بھئی، شارح فرماتے ہیں کہ یہ وہم ہی ہوا بعض علماء کو، یہ ساقط الاعتبار ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ ہم نے دو صورتیں بنائیں اور وہاں مانع ذکر کرنا ہے، ایک صورت میں جب عمر مانع نہیں ہے، تو پھر کس کو مانع بنایا ہم نے؟ معروفۃ النسب ہونے کو، اور دوسری صورت میں جب عمر خود مانع ہے، تو وہاں معروفۃ النسب کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ فما قيل، پس وہ جو کہا گیا ہے، أن قوله: یا مصنف کا قول جو ہے، أو أكبر سنا منه، عطف على قوله: یہ عطف ہے اس کا مصنف کے قول، وتولد لمثله پر، فتوهم، تو یہ وہم ہے، ساقط، اور ساقط ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ وقيل: الحكم في مجهول النسب كذلك، بعضوں نے کہا مجهول النسب کے اندر بھی حکم اسی طرح ہے، عمر میں بیوی بیٹی ہو سکتی ہے اور نسب کا بھی کسی کو پتہ نہیں، تو حـ ہم نے تو ابھی بتلایا بھئی کہ: هذه بنتي، کہنے سے نسب کیا ہو جائے گا؟ ثابت، بعض علماء کہتے ہیں نہیں، نسب ثابت نہیں ہوگا، کیوں؟ کیونکہ یہ شخص ہے اقرار کرنے والا، یہ ہوا مقر، اور اقرار کس کے لیے کر رہا ہے؟ وہ جو بیوی ہے اس کی، اس کے بارے میں کہہ رہا ہے: یہ میری بیٹی ہے، نسب کا اقرار کر رہا ہے نا، تو یہ وہ شخص ہوا مقر، اور بیوی ہوئی مقر له، جس کے لیے کیا کیا گیا؟ اقرار، تو جب مقر له موجود ہو، تو اس کی تصدیق بھی ضروری ہے، وہ بھی کیا کرے؟ تصدیق کرے کہ ہاں میں واقعی اس کی بیٹی ہوں، صورت سمجھ، تو جب تک وہ اقرار نہیں کرتی، اس وقت تک حرمت بھی نہیں۔ وقيل: الحكم في مجهول النسب كذا، اور کہا گیا ہے حکم مجهول النسب میں بھی اسی طرح ہے، حتى لا تحرم، یہاں تک کہ وہ عورت اس پر حرام نہیں ہوگی، لأن الرجوع عن الإقرار بالنسب صحيح قبل تصديق المقر له إياه، اس لیے کیونکہ اقرار بالنسب سے رجوع کرنا صحیح ہے قبل تصديق المقر له، قبل اس کے کہ تصدیق کرے مقر له إياه، اس شخص کی، قبل اس کے کہ مقر له کیا کرے؟ تصدیق کرے اس شخص کی، یعنی مقر کی، ولا يمكن العمل بموجب هذا اللفظ قبل تأكده بالقبول، اور ممکن نہیں ہے اس لفظ کے مقتضا پر عمل کرنا، قبل تأكده بالقبول، قبل اس کے پختہ ہونے کے قبول کے ذریعے۔ بھئی، جب تک وہ عورت قبول نہ کر لے اس بات کو، مقر له کیا کر دے اس کی تصدیق نہ کر دے، اس وقت تک یہ اس لفظ کے مقتضا، یعنی حکم پر عمل ممکن نہیں، تو جب وہ عورت اس کو قبول کر لے گی، اس کی تصدیق کر لے گی، تو اب یہ یہ، کیا ہوا؟ یہ اس لفظ کا حکم، یعنی کہ اس کا بیٹی ہونا، وہ پختہ ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ پختہ ہو جائے گا، تو تأکد کا معنی پکا ہونا، پختہ ہونا۔ اور لفظ کا مقتضا کیا تھا؟ حکم کیا ہے؟ وہ اس کی بیٹی بنے گی بھئی، کیا بن جائے گی؟ بیٹی، لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس عورت کے قبول کے ذریعے یہ پکا نہ ہو جائے، یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ولا يمكن العمل بموجب هذا اللفظ، اور ممکن نہیں ہے اس لفظ کے مقتضا پر، اس لفظ کے حکم پر عمل کرنا، قبل تأكده بالقبول، قبول کے ذریعے اس لفظ کے پختہ ہونے سے پہلے اس کے مقتضا پر عمل کرنا ممکن نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ثم شرع المصنف رحمه الله بعد ذلك في بيان قرائن العمل بالمجاز وترك الحقيقة، پھر اس کے بعد شروع ہوئے مصنف رحمہ اللہ، عمل بالمجاز کے قرینوں کے بیان میں، وترك الحقيقة، اور حقیقت کے ترک کرنے کے قرینوں کے بیان میں، آگے بھئی مصنف یہ بیان کریں گے کہ مجاز وہ قرینے ذکر کریں گے جن کی وجہ سے مجاز پر عمل کیا جاتا ہے اور حقیقت کو چھوڑ دیا جاتا ہے، تو کہتے ہیں مصنف اس کے بعد شروع ہوئے: في بيان قرائن العمل بالمجاز وترك الحقيقة، مجاز پر عمل کرنے اور حقیقت کو ترک کرنے کے قرینوں کے بیان کے اندر، وهي خمسة، اور یہ پانچ ہیں، على ما زعمه، بنا پر اس کے جو مصنف نے گمان کیا، زعم کہتے ہیں بھئی گمان کو بھئی، یعنی گمان باطل کو بھئی، یعنی مصنف کے، یہ گمان مصنف نے یہ گمان کیا کہ حقیقت کو ترک کیا جاتا ہے اور مجاز پر عمل کیا جاتا ہے کتنے قرینوں کی وجہ سے؟ پانچ قرینے وہ ذکر کریں گے مولانا، پانچ قرینے۔ لیکن شارح نے اشارہ کر دیا کہ نہیں مصنف کی یہ بات درست نہیں ہے، یہ ان کا گمان باطل ہے، صحیح گمان نہیں ہے بھئی۔ فقال، مصنف فرماتے ہیں: والحقيقة تترك بدلالة العادة، اور حقیقت کو چھوڑ دیا جاتا ہے دلالت عادت کی وجہ سے، عادت کی دلالت کی وجہ سے بھئی، کس وجہ سے؟ عادت کی دلالت، یعنی عادت اور عرف میں بھئی، عرف میں ایک لفظ کا ایک معنی لیا جاتا ہے، لہذا وہی معنی مراد لیا جائے گا اور معنی حقیقی کو کیا کر دیا جائے گا؟ چھوڑ دیا جائے گا بھئی، یہ پہلا قرینہ ہے۔ دلالت عادت سے کیا مراد ہے؟ دلالت عرف بھئی، یعنی عرف میں ایک لفظ کا ایک مجازی معنی لیا جاتا ہے تو مجازی معنی ہی لیا جائے گا، حقیقی معنی مراد نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ كالنذر بالصلاة والحج، جیسے منت ماننا نماز اور حج کی۔ اب دیکھیے نماز، صلاۃ کی منت ماننا، عربی زبان میں تو صلاۃ کہتے ہیں دعا کو، دعا کو کہتے ہیں، لیکن یہ نماز نام ہے ارکان مخصوصہ کا بھی، وہ مخصوص عبادت جسے ہم ادا کرتے ہیں قیام، رکوع، سجود کے ساتھ، اسے کیا کہا جاتا ہے؟ صلاۃ کہا جاتا ہے، صلاۃ بھئی۔ تو باعتبار لغت کے، یہ معنی حقیقی ہے یا معنی مجازی ہے؟ یہ باعتبار لغت کے، باعتبار عربی زبان کے اعتبار سے تو معنی مجازی ہے، عربی زبان میں تو اصل میں صلاۃ کس کو کہا جاتا تھا؟ کس کے لیے وضع تھا؟ دعا کے لیے وضع تھا، اب ایک شخص منت مانتا ہے کہ میں، اللہ کے لیے مجھ پر واجب ہے کہ میں کیا کروں گا؟ صلاۃ پڑھوں گا، اب صلاۃ کا معنی کیا؟ دعا اس پر، یہ اس نے منت مانی تو اس پر دعا واجب ہوگی یا نماز واجب ہوگی بھئی؟ نماز واجب ہوگی بھئی، کیونکہ عرف کے اندر، عام عرف کے اندر، صلاۃ کے معنی اب دعا کے نہیں لیے جاتے بلکہ کیا معنی لیے جاتے ہیں؟ نماز کے۔ اسی طرح ایک شخص منت مانتا ہے کہ اللہ کے لیے مجھ پر حج واجب ہے، اب حج عربی زبان میں تو قصد اور ارادے کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ ارادے کو کہتے ہیں، لیکن عام عرف میں بھئی مسلمانوں کے، اس حج سے ارادے مراد نہیں ہوتا بلکہ کیا مراد ہوتا ہے؟ وہ مخصوص عبادت جو سال کے مخصوص ایام کے اندر مکہ مکرمہ اور اس کے پاس ادا کی جاتی ہے، اس کو حج کہا جاتا ہے، تو لہذا اب وہی معنی مراد ہوں گے جو عادتاً استعمال ہوتے ہیں، عرف کے اندر استعمال ہوتے ہیں، تو اس شخص پر اب حج واجب ہوگا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ حج واجب ہوگا۔ تو کہتے ہیں: فإن الصلاة في اللغة الدعاء، اس لیے کہ صلاۃ لغت کے اندر، یعنی عربی زبان کے اندر دعا ہے، كما في قوله تعالى، جیسے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر ہے: یا أيها الذين آمنوا صلوا عليه، اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، دعا، رحمت کی دعا بھیجو کہ کرو کن کے لیے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، ان پر صلاۃ بھیجو، یعنی رحمت کی دعا کرو ان کے لیے، وقوله، اور حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: وإذا كان صائماً فليصل، اور جب وہ روزہ دار ہو فليصل، تو اسے چاہیے دعا کرے، تو یہاں ليصل آیا حدیث کے اندر مولانا، اور کس معنی میں ہے یہاں پر؟ دعا، جیسے صلوا عليه، یہاں صلوا کس معنی میں ہے؟ دعا کے معنی میں ہے۔ فليصل أي ليدع، چاہیے کہ وہ دعا کرے، ثم نقلت إلى الأركان المعلومة، پھر اس کو نقل کر دیا گیا ارکان معلومہ کی طرف، وہ معلوم ارکان جو ہیں بھئی: قیام، رکوع، سجدے وغیرہ، والعبادة المعهودة، اور اس مقررہ عبادت کی طرف، تو اس کو نقل کیا، پھر اس صلاۃ کے لفظ کو نقل کر دیا گیا ارکان معلومہ اور عبادت مقررہ کی طرف، وهجر معناها الأول، اور معنی اول کو چھوڑ دیا گیا، فإن قال أحد، پس اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے: لله علي أن أصلي، اللہ کے لیے مجھ پر واجب ہے کہ میں کیا کروں گا؟ صلاۃ ادا کروں گا، تجب عليه الصلاة، تو اس پر وہ نماز واجب، واجب ہوگی، لا الدعاء، دعا واجب نہیں ہوگی، وكذا الحج لغة القصد مطلقاً، اور اسی طرح حج لغتاً قصد اور ارادے کو کہتے ہیں مطلقاً بھئی، ثم نقل في الشرع إلى المناسك المعهودة في مكة، پھر اس کو نقل کر دیا گیا اصطلاح شریعت کے اندر وہ مناسک کہتے ہیں ارکان حج بھئی، حج کی عبادتیں جو ہیں۔ تو إلى المناسك المعهودة في مكة، وہ حج کے مناسک، مقررہ مناسک في مكة، جو کہاں پر ادا کیے جاتے ہیں؟ مکہ میں، فلو قال، پس اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے: لله علي أن أحج، اللہ کے لیے مجھ پر واجب ہے کہ حج، حج کہ میں حج کروں، تجب عليه العبادة المعهودة، تو اس پر کون سی کیا واجب ہوگی؟ وہ عبادتِ مشہودہ، وہ مقررہ عبادت واجب ہو جائے گی اس پر بھئی۔ وفي حكمها سائر الألفاظ المنقولة شرعاً أو عرفاً عاماً أو خاصاً، اور اسی کے حکم میں ہیں وہ تمام الفاظ جو منقول ہیں شرعاً یا عرفاً عاماً یا عرفاً خاصاً، عرف عام یا عرف خاص یا عرف شریعت کے اندر جو الفاظ جس معنی کی طرف نقل ہوئے، ان کا وہی معنی اس عرف میں مراد لیا جائے گا اور حقیقت کو کیا کر دیا جائے گا؟ چھوڑ دیا جائے گا بھئی، عرف عام، عام لوگ مراد ہیں، عرف خاص، خاص لوگ، جیسے مولانا یہ صلاۃ کا لفظ، صلاۃ، عرف خاص کے اندر یہ نماز کے معنی میں ہے، یعنی مومنین کے عرف میں، کس کے عرف میں؟ مومنین کے عرف میں بھئی، اور ایک ہے تمام لوگوں میں، عرف عام بھئی، یا اپ اس کو عرف عام بھی کہہ سکتے ہیں، اپ تمام مومنین میں بلکہ کفار بھی کیا مراد لیتے ہیں اس سے؟ وہ نماز ہی سمجھتے ہیں، دعا کے معنی میں اب اس کو نہیں استعمال کرتے بھئی۔ وكذا قوله: اور اسی طرح کسی شخص کا یہ قول: لا يضع قدمه في دار فلان، کہ وہ قدم نہیں رکھے گا فلاں کے گھر کے اندر، على ما مر، بنا پر اس کے جو گزر گیا بھئی، کہتے ہیں جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا کہ عرف کے اندر لا أضع قدمي في دار فلان، وضع قدم کا معنی قدم رکھنا نہیں مراد لیا جاتا بلکہ کیا معنی مراد لیا جاتا ہے؟ داخل ہونا مراد لیا جاتا ہے، تو اب وہاں بھی حقیقی معنی کو چھوڑ کر کون سا معنی لیا جائے گا؟ مجازی معنی۔ وبدلالة اللفظ في نفسه، اور لفظ کی دلالت فی نفسہ اپنی ذات کے اعتبار سے، یہ دوسرا قرینہ آیا، پہلا قرینہ کیا تھا؟ کہ کبھی کبھار حقیقت کو چھوڑ دیا جاتا ہے کس کی وجہ سے؟ دلالت عادت کی وجہ سے، اور دوسرا کیا قرینہ آیا؟ بدلالة اللفظ في نفسه، لفظ کی دلالت فی نفسہ اپنی ذات کے اعتبار سے، یعنی لفظ اپنی ذات کے اعتبار سے ایک ایسے معنی پر دلالت کر رہا ہے جس کی وجہ سے حقیقی معنی کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ چھوڑ دیا جاتا ہے، یعنی قرینے وغیرہ اور کسی چیز کو ملانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس لفظ کی ذات میں ہی ایسی، ذات ہی ایسی ہے کہ وہ اس کی وجہ سے اب کیا کر دیا جاتا ہے معنی حقیقی کو؟ چھوڑ، اس کی ذات سے کیا مراد ہے؟ یعنی اس کا ماخذ، اس کا جوادہ ہے، اس کی دلالت ہے اور اس کے ماخذ اور اس کے مادے کی دلالت کی وجہ سے معنی حقیقی کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ چھوڑ دیا جاتا ہے، دیکھیے آگے مثالیں آئیں گی، بات اور واضح ہو جائے گی۔ أي باعتبار مأخذ اشتشقاقه ومادة حروفه، یعنی اس کے اشتقاق کے ماخذ کے اعتبار سے اور اس کے حروف کے مادے کے اعتبار سے، لا باعتبار إطلاقه، اس کے اطلاق اور استعمال کے اعتبار سے نہیں، یعنی استعمال کی وجہ سے اس کے معنی حقیقی کو نہیں چھوڑا گیا بلکہ اس کا لفظ کا جو اشتقاق ہوا ہے جس سے، اس کے اور اس کے حروف کا جو مادہ ہے، اس کے اعتبار سے حقیقت کو کیا کرنا پڑے گا؟ چھوڑ کر مجاز کی طرف جائیں گے بھئی۔ بأن كان اللفظ مثلاً موضوعاً لمعنى فيه قوة، بعیں طور کہ لفظ مثال کے طور پر وضع کیا گیا تھا ایک ایسے معنی کے لیے جس کے اندر قوت تھی، لفظ کے اپنے معنی میں ہی قوت والا معنی پایا جا رہا ہے بھئی، ایسا معنی ہے جس کے اندر کیا ہے؟ قوت پائی جا رہی ہے، قوت والا معنی پایا جا رہا ہے، فيخرج ما وجد فيه ذلك المعنى ناقصاً، تو خارج ہو جائے گا وہ جس کے اندر وہ معنی ناقص پایا گیا، بھئی لفظ کی اپنی دلالت کس پر ہے؟ ایسے معنی پر ہے جس میں کیا پائی جا رہی ہے؟ قوت پائی جا رہی ہے، تو جس کے اندر قوت نہیں ہوگی جس کے اندر، وہ خود بخود کیا ہو جائے گا اس سے؟ خارج، اگرچہ وہ لفظ کے معنی حقیقی ہی ہے لیکن اس کے اندر چونکہ اس معنی کی کی کمی آ گئی، تو کمی کی وجہ سے گویا کہ یہ اس کے افراد میں سے نہیں ہے، وہ اس سے خارج ہو جائے گا، الگ شمار ہے گویا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ أو لمعنى، یا لفظ کو مثلاً وضع کیا گیا تھا ایسے معنی کے لیے: فيه نقصان وضعف، جس میں کیا تھی؟ کمی تھی، جس میں نقصان اور ضعف تھا، فيخرج ما وجد فيه ذلك المعنى زائداً، اور تو نکل جائے گا وہ فرد جس کے اندر وہ معنی زائد پایا جائے، بھئی وہ لفظ تو وضع تھا ایسے معنی کے لیے جس کے اندر کمی اور ضعف والا معنی تھا، جس کے اندر کمی اور ضعف تھا، تو جس کے اندر کمی اور ضعف نہیں بلکہ وہ معنی زائد ہے، تو وہ کیا ہو جائیں گے اس سے؟ خارج۔ مثلاً بھئی سفیدی ہے بھئی۔ سفید۔ سفید بھئی۔ اب یہ سفیدی بعض چیزوں میں زیادہ ہے اور بعض میں کم ہے بھئی سفیدی ہونا۔ تو اس کو کلی مشکک کہتے ہیں بھئی۔ وہ کہتے ہیں ”وعبر عنه صاحب التوضيح بكونه“ "يكون" ہے یا "بكونه" ہے آپ کی کتابوں میں؟ "بكون" با ہے مولانا، یا نہیں۔ اور تعبیر کیا ہے اس کو صاحبِ توضیح نے یعنی علامہ صدر الشریعہ نے، علامہ صدر الشریعہ میں نے بتلایا مولانا انھوں نے جو کتاب لکھی ہے تنقیح متن ہے، پھر اس کی شرح لکھی توضیح بھئی اور فقہِ حنفی کے اصول اس میں انھوں نے ذکر کیے ہیں اور بڑی قوی اور مضبوط کتاب ہے بھئی۔ تعبیر کیا ہے صاحبِ توضیح نے اس کو ”بكون بعض الأفراد فيه زائداً أو ناقصاً“ کہ بعض افراد کے اس معنی کے اندر زائد یا ناقص ہونا۔ ان الفاظ کے ساتھ انھوں نے، کہ بعض الفاظ کے اندر، اس معنی کے اندر زائد ہوں گے۔ زائد ہونے کی وجہ سے وہ خارج ہو جائیں گے اور بعض الفاظ اس معنی کے اندر ان میں کمی ہوگی، کمی کی وجہ سے وہ کیا ہو جائیں گے؟ خارج ہو جائیں گے۔ ”فالأول“ پہلے کی مثال، پہلے کیا مراد ہے؟ بھئی! جب لفظ کو ایسے معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے جس کے اندر قوت پائی جا رہی ہے، ایسا معنی جس کے اندر قوت پائی جا رہی ہے، تو جس کے اندر قوت نہیں ہوگی وہ خود بخود اس سے کیا ہو جائیں گے؟ خارج ہو جائیں گے۔ ”كما إذا حلف لا يأكل لحماً“ جیسے کسی شخص نے قسم اٹھائی "لا يأكل لحماً"، ایک شخص قسم اٹھاتا ہے واللہ! "لا آكل لحماً"، واللہ! میں گوشت نہیں کھاؤں گا، ”فلا يتناول لحم السمك“ تو یہ مچھلی کے گوشت کو شامل نہیں، لہٰذا مچھلی کھانے سے وہ حانث نہیں ہوگا۔ کیوں؟ آگے بتلائیں گے آپ کو کیونکہ لحم التحام سے ہے، التحام کا معنی ہے شدت کے اور شدت شدت جو ہے وہ مچھلی کے گوشت کے اندر نہیں پائی جاتی، کیونکہ اس کے اندر خون نہیں ہوتا بھئی۔ اس کے اندر خون نہیں ہوتا، کیونکہ خون والا جانور پانی کے اندر زندہ نہیں رہ سکتا اور کہتے ہیں جو اس میں بھئی سرخ مادہ نکلتا تو ہے مچھلی میں سے، کہتے ہیں بھئی وہ خون نہیں ہے وہ اس کی علامت یہ ہے کہ اس کو اگر دھوپ میں رکھ دیا جائے تو خون تو کیا ہوتا ہے؟ سیاہ پڑ جاتا ہے پھر، لیکن وہ سفید ہو جاتا ہے، معلوم ہوا وہ خون نہیں ہے بھئی، خون جیسی کوئی اور چیز ہے مگر خون نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فلا يتناول لحم السمك“ تو اس کی یہ قسم شامل نہیں ہے مچھلی کے گوشت کو ”وقوله“ اور اسی طرح کسی شخص کا یہ قول ”كل مملوك لي حر“ ایک آدمی کہتا ہے "میرا ہر مملوک آزاد ہے"، ”لا يتناول المكاتب“ تو اس کی یہ قسم مکاتب کو شامل نہیں۔ اس کے سارے غلام آزاد ہو جائیں گے، لیکن مکاتب آزاد نہیں ہوں گے بھئی۔ جی! اب پہلی قسم کی تشریح کر رہے ہیں بھئی کہ قسم اٹھائی کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا تو مچھلی کے کھانے سے حانث کیوں نہیں ہوگا بھئی؟ وہ کیوں نہیں داخل اس قسم کے اندر؟ وہ بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں ”فإن لفظ اللحم لا يتناول السمك“ اس لیے کہ لحم کا لفظ جو ہے مچھلی کو شامل نہیں ہے، ”إذ هو مشتق من الملتحم“ اس لیے کہ لحم کا لفظ کس سے مشتق ہے؟ التحام سے مشتق ہے، ”وهو الشدة“ اور وہ کسے کہتے ہیں؟ شدت کو کہتے ہیں۔ عربی میں جب جنگ سخت ہو جائے اور شدید ہو جائے تو کہتے ہیں "التحم الحرب"، جنگ کیا ہو گئی؟ شدید۔ معلوم ہوا التحم کے اندر کون سا معنی پایا جا رہا ہے؟ شدت والا، شدت کا نام ہے۔ تو کہتے ہیں یہ لحم مشتق ہے التحام سے ”وهو الشدة ولا شدة بدون الدم والسمك لا دم فيه“ اور شدت بغیر خون کے نہیں ہو سکتی اور مچھلی کے اندر خون نہیں ہے، ”لأن الدموي لا يسكن الماء ولا يعيش فيه“ اس لیے کہ خون والا جو ہے وہ پانی میں نہیں رہ سکتا اور اس میں زندگی نہیں گزار سکتا، ”فلا يتناول هذا الحلف لحم السمك“ پس شامل نہیں ہے یہ قسم مچھلی کے گوشت کو، ”وإن كان أطلق عليه في القرآن في قوله تعالى: لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا“ اگرچہ اس پر اطلاق کیا گیا ہے قرآن کے اندر اللہ کے اس قول کے اندر: "لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا"، "لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا" تاکہ کھاؤ تم اس میں سے تازہ گوشت۔ سمندر میں سے بھئی! اور سمندر میں سے کیا تازہ گوشت کیا مراد ہے، کس کا؟ مچھلی کا ہے بھئی! تو وہ مراد ہے، تو اگرچہ قرآن میں اس پر اطلاق ہوا ہے مولانا! قرآن میں اس پر اطلاق ہوا ہے، لیکن بہرحال انھوں نے تقریر کی اور اس کے مطابق کیا ہوگا؟ یہ اس میں داخل نہیں ہوگا۔ ”وبه تمسك مالك رحمه الله تعالى في أنه يحنث بأكل لحم السمك“ اور اسی کے ذریعے استدلال کیا امام مالک رحمہ اللہ نے اس میں، اس بات میں کہ وہ شخص حانث ہو جائے گا مچھلی کا گوشت کھانے سے بھی بھئی۔ بھئی! قرآن میں چونکہ اس پر لحم کا اطلاق ہوا ہے، چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ اس سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ بھی قسم میں داخل ہے، اس کو بھی قرآن میں لحم کہا گیا ہے، لہٰذا اگر وہ شخص مچھلی کھائے گا تو اس صورت میں بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ ”ونحن نقول: لا يحنث به“ اور ہم کہتے ہیں اس کے کھانے سے حانث نہیں ہوگا ”لأجل مأخذ اللفظ“ لفظ کے مأخذ کی وجہ سے بھئی! کیونکہ لفظ کا مأخذ کیا ہے؟ لحم کا مأخذ کیا ہے؟ التحام، اور التحام کا کیا معنی ہے؟ شدت، اور مچھلی کے گوشت میں شدت نہیں ہے کیونکہ اس میں خون نہیں ہے۔ یہ ایک دلیل مولانا ہماری۔ دوسری دلیل: ”ولأن بايعه لا يسمى في العرف بايع اللحم“ اس لیے کیونکہ اس کے بیچنے والے کو عرف کے اندر گوشت بیچنے والا نہیں کہتے بھئی۔ اور قسم کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے مولانا! کس پر دارومدار ہے؟ عرف پر دارومدار ہے۔ لہٰذا آپ بھی جب بھی بولتے ہیں، آپ کہتے ہیں آج کیا کیا میں نے؟ کیا کھائی ہے؟ مچھلی۔ کوئی بھی نہیں کہتا میں نے مچھلی کا گوشت کھایا، سارے کیا کہتے ہیں؟ میں نے مچھلی کھائی۔ اسی طرح مچھلی بیچنے والے کو سارے کیا کہتے ہیں؟ مچھلی بیچنے والا کہتے ہیں، کوئی بھی اس کو گوشت بیچنے والا نہیں کہتا۔ تو ہمارے عرف کے اندر بھی اس پر گوشت کا اطلاق نہیں ہوتا اور قسم کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے مولانا! یاد رکھیے یہ ضابطہ بھئی۔ تو عرف میں اسے گوشت اس پر گوشت کا اطلاق ہی نہیں ہوتا، لہٰذا مچھلی اس قسم کے اندر داخل نہیں اور اس کے کھانے سے حانث بھی نہیں ہوگا بھئی، یہ دوسری دلیل ہوئی مولانا! بات سمجھ میں آ گئی؟ پہلی دلیل کیا کہ مأخذِ لفظ کی وجہ سے نہیں شامل، اور دوسری وجہ کیا کہ عرف کے اندر اس پر گوشت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کے بعد دوسری قسم ذکر کی تھی، ایک شخص نے کیا کہا تھا؟ ”كل مملوك لي حر“، میرا ہر غلام آزاد ہے، تمام اس کے غلام آزاد ہو جائیں گے لیکن مکاتب آزاد نہیں ہوگا بھئی۔ مکاتب کسے کہتے ہیں؟ جسے آقا نے کہہ دیا کہ بھئی! اگر تم مثلاً پانچ سال کے اندر پانچ لاکھ روپے لے آؤ یا 10 لاکھ روپے لے آؤ تو تم آزاد ہو اور غلام بھی اس کو قبول کر لیتا ہے، یہ دونوں کے درمیان عقد ہو گیا مولانا! یہ عقدِ کتابت کہلاتا ہے۔ اب غلام یاد رکھیے جو مکاتب بن گیا اور اب یہ جو مکاتب ہوتا ہے یہ آزاد آدمی کی طرح ہوتا ہے، یعنی غلام کے ذمے تو ضروری تھا آقا کی خدمت کرے، لیکن اب آقا اس سے خدمت نہیں لے سکتا مکاتب سے، یہ کس کی طرح ہو گیا؟ آزاد آدمی کی طرح، یہ جائے گا پیسے کما کر لائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ تو مکاتب رقبہ کے اعتبار سے تو مملوک ہے، لیکن قبضے کے اعتبار سے مملوک نہیں، اب وہ آقا کا اس پر قبضہ باقی نہیں، وہ آقا کی خدمت نہیں کرے گا بلکہ جائے گا اپنے لیے، تو ذات کے اعتبار سے تو وہ ابھی بھی مملوک ہے، غلام ہے مولانا! غلام ہے۔ لیکن کامل مملوک نہیں ہے، کامل مملوک قبضے کے اعتبار سے وہ مملوک نہیں ہے، میں نے بتلایا کس کی طرح ہے؟ آزاد آدمی کی طرح ہے۔ لہٰذا اسی وجہ سے اس کے اندر مملوکیت والے معنی کی کمی آ گئی مولانا! بھئی کامل مملوک تو کون سا ہے؟ جو ذات کے اعتبار سے بھی مملوک ہو اور قبضے کے اعتبار سے بھی مملوک ہو، اور یہ ذات کے اعتبار سے تو مملوک ہے، لیکن قبضے کے اعتبار سے مملوک نہیں، تو مملوکیت کے معنی کی اس کے اندر کمی آ گئی اور اس کمی کی وجہ سے کیا ہوا؟ وہ قسم کے اندر داخل نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں ”ولفظ مملوك“ اور مملوک کا لفظ جو ہے ”في قوله“ اس شخص کے اس قول کے اندر ”كل مملوك لي حر لا يتناول المكاتب“ یہ مکاتب کو شامل نہیں ہے ”لأنه ما كان مملوكاً كاملاً من جميع الوجوه يداً ورقبة“ اس لیے کیونکہ وہ مملوک کامل مملوک نہیں ہے ہر اعتبار سے، قبضے اور رقبے، قبضے اور ذات کے اعتبار سے یعنی سب کے اعتبار سے وہ کامل مملوک نہیں ہے ”فيتناول المدبر وأم الولد“ پس لہٰذا یہ قسم مدبر اور ام ولد کو تو شامل ہے ”ولا يتناول المكاتب“ لیکن مکاتب کو شامل نہیں۔ مدبر: جس کو آقا نے کہا ہو "میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے"، تو وہ ہر حال میں آقا کے مرنے کے بعد کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ اسی طرح ام ولد: وہ باندی جس سے آقا کی اولاد ہوئی اور پھر آقا نے اس کے نسب کا دعویٰ بھی کیا کہ یہ میری اولاد ہے، اب یہ عورت باندی جو تھی وہ اس کی ام ولد بن گئی اور یہ بھی آقا کے مرنے کے بعد کیا ہو جائے گی؟ آزاد ہو جائے گی۔ تو یہ تو شامل ہو جائیں گے قسم میں ”ولا يتناول المكاتب“ لیکن یہ قسم شامل تو ہوگی مدبر اور ام ولد کو، لیکن ”ولا يتناول المكاتب“ مکاتب کو شامل نہیں ”لأنه مملوك رقبة حر يداً“ اس لیے کیونکہ وہ ذات کے اعتبار سے تو مملوک ہے ”حر يداً“ اور قبضے کے اعتبار سے آزاد ہے ”فكان ناقصاً في معنى المملوكية“ تو وہ ناقص ہوا کس کے اندر؟ مملوکیت کے معنی کے اندر۔ تقریر سمجھ میں آئی بھئی؟ بحث کیا چل رہی ہے؟ کہ کبھی کبھار حقیقت کو ترک کر دیا جاتا ہے کس قرینے کی وجہ سے؟ دلالتِ لفظ کی وجہ سے، یعنی لفظ کی اپنی دلالت، اپنی ذات کے اعتبار سے لفظ دلالت کر رہا ہے اور تو معنیِ حقیقی کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بھئی حقیقی معنی تو یہ تھا کہ یہ لحم کو مچھلی کو بھی شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کے اندر چونکہ کمی آ گئی، جب کمی آئی تو ہم نے یوں شمار کیا گویا یہ اس کے افراد میں سے ہی نہیں، حالانکہ حقیقت میں کیا ہے؟ یہ اس کے افراد، تو لہٰذا بعض افراد، اب مولانا! لحم سے تمام لحم مراد ہوئے یا بعض افراد خارج ہو گئے؟ بعض کیا ہوئے؟ خارج ہو گئے مولانا! صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اطلاق، تو حقیقت تو یہ تھی تمام افراد پر اطلاق ہوتا، اب بعض پر اطلاق ہوا تو یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مجاز۔ اسی طرح مملوک کا لفظ بھئی! یہ تو ہر مملوک کو شامل ہونا چاہیے تھا اور مکاتب بھی مملوک ہے، بعض اعتبار سے ہی صحیح، لیکن بہرحال مملوک ہے، وہ بھی اس میں شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کو کیا کر دیا گیا اس سے؟ خارج। تو مملوک کا اطلاق اپنے تمام افراد پر ہوا یا بعض پر؟ بعض پر، اور بعض پر اطلاق یہ حقیقی معنی ہے یا مجازی معنی؟ مجازی، تو دیکھو حقیقت کو چھوڑ کر کس کی طرف چلے گئے؟ مجاز کی طرف، حقیقت تو یہ تھی سارے افراد اس کے مراد ہوتے، لیکن بعض مراد لیے گئے۔ ”والثاني ما ذكره بقوله“ اور دوسری قسم کو وہ ہے جس کو ذکر کیا مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے، دوسری قسم کیا تھی؟ پہلی تھی کہ لفظ کو ایسے معنی کے لیے وضع کیا گیا تھا جس کے اندر قوت تھی، اب ہے لفظ کو ایسے معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے جس کے اندر ضعف اور کمی ہے، تو لہٰذا جس میں ضعف اور کمی نہیں ہوگی وہ معنی زائد ہوگا، وہ کیا ہو جائے گا؟ خارج ہو جائے گا۔ تو دوسری قسم وہ ہے جس کو ذکر کیا مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے ”وعكسه الحلف بأكل الفاكهة“ اور اس کا عکس ہے قسم اٹھانا فاکھہ کے کھانے کی، فاکھہ کی قسم کھانے کی قسم اٹھانا یہ اس کا عکس ہے مولانا! یعنی یہاں پر فاکھہ میں وہ چیزیں آئیں گی جن کے معنی میں کمی ہے، جن کے معنی میں زیادتی ہے وہ کیا ہو جائیں گی فاکھہ سے؟ خارج ہو جائیں گی۔ جی! ”وعكس المذكور“ ”من المثالين“ ”ما إذا حلف لا يأكل الفاكهة“ اور دو مثالوں میں سے جو جو مثالیں ذکر ہوئیں اس کا عکس ہے وہ صورت کا جب کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ فاکھہ نہیں کھائے گا ”فلا يتناول العنب“ تو یہ قسم انگور کو شامل نہیں۔ انگور کو شامل نہیں، بھئی کیوں نہیں شامل؟ کہتے ہیں ”لأن الفاكهة اسم لما يتفكه به ويتلذذ حال كونه زائداً على ما يقع به قوام البدن“ اس لیے کہ فاکھہ نام ہے اس پھل کا ”يتفكه به“ جس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ ہاں! لذت حاصل کی جاتی ہے ”ويتلذذ“ یہ وہی "یہ" سے تفسیر ہے مولانا! اس کے ذریعے لذت حاصل کی جاتی ہے ”حال كونه زائداً“ اس حال میں کہ وہ زائد ہو ”على ما يقع به قوام البدن“ اس چیز پر جس کے ذریعے کیا ہو؟ بدن کا قوام واقع ہو یعنی حاصل ہوتا ہو، بنتا ہو بھئی۔ قوام کہتے ہیں مولانا! اجزائے ترکیبی جس سے کوئی چیز بنتی، جس سے بدن بنتا ہے مولانا! اجزائے ترکیبی بدن کے بھئی۔ یعنی بدن کا جو خمیر ہے۔ تو یہ جو پھل کھائے جاتے ہیں عام پھل، ان سے بدن کا خمیر نہیں بنتا بھئی! سمجھ میں آیا؟ بدن کے اجزائے ترکیبی نہیں بنتے، جبکہ انگور اس سے بدن کے اجزائے ترکیبی بنتے ہیں، یعنی اس کو بطورِ غذا کے بھی کھایا جاتا ہے بعض علاقوں کے اندر بھئی! معلوم ہوا یہ کیا ہے اس سے؟ جی بھئی! باقی پھل تو وہ ہیں جن کو صرف بطورِ لذت کے کھایا جائے، لیکن انگور لذت کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے اور بطورِ غذا کے بھی، بھئی جس علاقے میں انگور زیادہ ہوں تو وہاں اس علاقے میں بعض اوقات کھانے کے بجائے عموماً کیا کھا لیا کرتے ہیں؟ انگور ہی کھا کر اسی پر اکتفا کر لیتے ہیں، تو پھل تو وہ تھا جس کو صرف بطورِ تفکہ کے، فاکھہ تو وہ تھا جس کو صرف بطورِ تفکہ کے کھایا جائے اور بطورِ غذا کے، اور انگور کے اندر تفکہ کے ساتھ ایک زائد چیز بھی آ گئی اور وہ کیا؟ کہ وہ بطورِ غذا کے بھی کھایا جاتا ہے، تو فاکھہ کا لفظ وضع تھا کس کے لیے؟ ایسے معنی کے لیے جس کے اندر ضعف تھی، کمی تھی۔ کیا ضعف اور کمی تھی؟ کہ وہ صرف لذت کے طور پر کھایا جاتا اس سے قوامِ بدن حاصل نہ ہوتا ہو، اور انگور کے اندر یہ کمی والا معنی نہیں ہے، وہ اس سے تو قوامِ بدن حاصل ہوتا ہے، قوامِ بدن اس سے بنتا ہے بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا وہ اس سے کیا ہو جائے گا؟ خارج ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ فاکھہ نام ہے اس پھل کا جس کے ذریعے لذت حاصل کی جاتی ہے اس حال میں کہ وہ زائد ہوتا ہے اس چیز سے جس کے ذریعے بدن کا قوام بنتا ہو، خمیر بنتا ہو ”فهو موضوع للنقصان“ تو پس یہ فاکھہ کا لفظ وضع کیا گیا نقصان یعنی کمی کے معنی کے لیے ”والعنب والطب والرمان فيها كمال ليس في الفاكهة“ اور عنب بھئی اور انگور ”والرطب“ اور کھجور بھئی! تازہ کھجور ”والرمان“ اور انار جو ہیں ”فيها كمال“ ان کے اندر ایسا کمال ہے ”ليس في الفاكهة“ جو عام پھلوں میں، جو پھلوں میں نہیں ہے مولانا! بھئی وہ کیا کمال ان کے اندر؟ یعنی ان میں کامل ہونے والا معنی وہ کون سا ہے؟ کہتے ہیں ”وهو أن يكون به قوام البدن“ کہ ان کے ذریعے کیا حاصل ہوتا ہے؟ بدن کا خمیر حاصل ہوتا ہے، بدن کے اجزائے ترکیبی ان کے ذریعے ہوتے آتے ہیں ”ويكتفى بها في بعض الأمصار للغذاء“ اور اکتفا کیا جاتا ہے انہی پر بعض شہروں کے اندر غذا کے لیے ”فلا يدخل في الناقص“ لہٰذا یہ ناقص کے اندر داخل نہیں۔ باقیوں میں تو صرف لذت والا معنی تھا، اس میں لذت کے ساتھ ساتھ غذائیت والا بھی معنی ہے، تو یہ وہ ناقص کے اندر داخل نہیں ہوں گے۔ اچھا! ”وأما إدخال الطرار“ یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں مولانا! بھئی اشکال یہ: آپ نے کیا کہا؟ کہ انگور کے اندر اس معنی کی زیادتی پائی گئی لہٰذا وہ فاکھہ کے اندر داخل نہیں، پھر تو مولانا! طرار، جیب تراش جو ہے اس کو بھی سارق کے میں داخل نہیں ہونا چاہیے بھئی! حالانکہ آپ نے ماقبل میں تقریر کر کے ہمیں کیا بتلایا تھا؟ کہ جیب تراش کا بھی کیا کیا جائے گا؟ ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی! اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا، حالانکہ طرار کے اندر سرقہ کے معنی کی زیادتی پائی جا رہی ہے۔ بھئی سارق تو وہ ہے جو غفلت کی حالت میں دوسرے کا مال لے جاتا ہے اور طرار تو بیداری کی حالت میں کیا کرتا ہے؟ جیب سے مال اڑا کر لے جاتا ہے، تو اس کے اندر تو سرقہ کے معنی کی زیادتی آ گئی، لہٰذا اس کو بھی سارق کے حکم میں داخل نہیں ہونا چاہیے تھا، جیسے ابھی آپ نے بتلایا عنب کے معنی کے اندر زیادتی ہے لہٰذا وہ فاکھہ وہ کے اندر داخل جی اس نے قسم اٹھائی ہے فاکھہ نہ کھانے کی اس قسم میں وہ داخل نہیں ہے بھئی، تو اب انگور کے کھانے سے وہ حانث بھی نہیں۔ معلوم ہوا وہ اس حکم کے اندر داخل نہیں ہے اور یہاں پر لہٰذا طرار کے اندر بھی معنی کی زیادتی ہے، اس کو بھی سارق کے حکم کے تحت داخل نہیں ہونا چاہیے تھا بھئی، اعتراض سمجھ میں آیا؟ دیکھیے مولانا کہتے ہیں و اما ادخال السرار فی السارق اور باقی ترار کا داخل کرنا سارق کے اندر و ان کان فیہ کمال ایضا اگرچہ ترار کے اندر بھی ایک کمال پایا جاتا ہے من السارق سارق کے مقابلے میں فل ان ذالک الکمال و الزیادۃ لیس بمغیر لمعنی الاصل اس لیے کہ وہ کمال اور وہ جو زیادتی ہے کس کے اندر؟ ترار کے اندر لیس بمغیر لمعنی الاصل وہ اصل کے معنی کو بدلنے والی نہیں ہے۔ وہ زیادتی اور وہ کمال کیا ہے؟ اصل یعنی سارق کے معنی کو بدلنے والی نہیں۔ ہے؟ جیسے سارق میں سرقہ تھا اسی طرح ترار میں بھی کیا اگیا؟ سرقہ والا معنی آیا۔ کوئی تبدیلی آئی؟ ہاں, سارق میں غفلت کی حالت میں لے گیا تھا یہ کہ اس سے یہ اس سے بڑھ کر کس میں بیداری کی حالت میں ہی مال لے جاتا ہے۔ تو کیا؟ اس سے اس سرقہ کے معنی میں کوئی کمی آئی, کوئی نقصان آیا؟ جی؟ کوئی نقصان نہیں آیا تو کہتے ہیں یہ دلالت نفی کے طور پر اس میں داخل ہوا کہ جب چھوٹے جرم سارق کی یہ سزا ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے تو بڑا جرم کہ جب وہ عین بیداری کی حالت میں مال لے اڑے تو بڑا جرم ہے اس سے تو لہذا اس کا ہاتھ بطریق اولی کیا کیا جائے گا؟ کاٹا جائے گا۔ یہ دلالت نفی ہے کہ جب چھوٹے جرم کی یہ سزا ہے تو بڑے جرم کی بطریق اولی یہ سزا ہوگی تو یہ دلالت نفی کے طریقہ پر اس کا بھی اس کے لیے بھی یہی حکم ثابت ہوا مولانا۔ ہاں, جبکہ اس کے برعکس جو تھا عنب جو تھا عنب وہ تفقه کے معنی کو بدل دیتا ہے اور اس کو نقصان دیتا ہے۔ عنب نے تو اصل کے معنی کو ہی بدل دیا تھا۔ فاختہ کس کو کہتے تھے؟ جو صرف اسے بطور لذت کے کھایا جاتا ہو۔ اور عنب تو لذت اور غذایت دونوں کے لیے کھایا جاتا ہے تو لہذا عنب تو اس کے معنی ہی کو بدل دیتا ہے مولانا فاختہ کے, فاختہ کا تو صرف کس کو کہتے تھے؟ صرف لذت کے طور پر کھایا جاتا اور یہ تو بطور لذت کے بھی اور بطور غذا کے بھی, بطور خوراک کے بھی اس کو کھایا جاتا ہے۔ لہذا یہ اس کے لیے مضر ہے, اس کے معنی ہی کو بدل رہا ہے جبکہ ترار کو سارق میں داخل کریں تو وہ سارق کے معنی میں یا سرقہ کے معنی میں کوئی خرابی نہیں بدل نہیں رہا بھئی۔ تو کہتے ہیں فل ان ذالک الکمال و الزیادۃ لیس بمغیر لمعنی الاصل اس لیے کہ وہ کمال اور وہ زیادتی جو ترار کے اندر ہے وہ اصل کے معنی یعنی سارق کے معنی کو بدلنے والی نہیں ہے بل مکمل لہ من قبیل دلالت النسی بلکہ یہ تو اس کی اس کو اس کی تکمیل کرنے والی ہے دلالت النسی کی قبیل سے فیشملہ کشتمال اف فی قولہ تعالی پس یہ اس کو سارق شامل تو یہ شامل ہے اس کو جیسے کہ اف کا لفظ شامل ہے اللہ کے اس قول میں ولا تقل لہما اف اور والدین کو اف بھی نہ کہو جیسے کہ یہ اف کا لفظ شامل ہے للضرب والشتم کس چیز کو؟ ضرب اور شتم ضرب پٹائی کرنا شتم گالی گلوچ بھئی۔ بھئی قران میں اللہ فرماتے ہیں ولا تقل لہما اف والدین کے بارے میں والدین کو اف بھی نہ کہو۔ یعنی ان کی کسی بات سے تنگ پر ناگواری کا اظہار بھی نہ کرو بھئی ان کے سامنے جس سے ان کو تکلیف ہو بھئی۔ اف تب ہی کہتے ہیں نا جب کوئی ادمی کیا کسی بات سے تنگ ا جائے تو کیا کہتا ہے؟ اف کہتا ہے تو جس سے ان کو ناپ ان کے سامنے ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ ناگواری کے اظہار سے بھی ان کو تکلیف ہوگی تو جب اف کہنے سے روکا گیا ہے تو پٹائی اور گالی گلوچ ان کے ساتھ اس سے تو بطریق اولی کیا ہوا؟ روکا گیا ہے۔ تو لہذا تو جیسے اف کا لفظ ضرب اور شتم دونوں کو شامل تھا جب اللہ اف سے روک رہے ہیں اف کہنے سے تو پھر ضرب اور پٹائی سے بطریق اولی روکا جا رہا ہے تو جیسے اف کا لفظ ضرب اور شتم کو شامل ہے اسی طرح سارق کا لفظ ترار کو شامل ہے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ بخلاف زیادۃ العنب بخلاف عنب کی زیادتی کے فانہ مغیر لمعنی التفقه اس لیے کہ وہ تو تفقه کے معنی ہی کو بدلنے والا ہے و مضر اور اس کے لیے مضر ہے۔ تفقه کا معنی تو تھا صرف لذت کے لیے اور یہ اس کو نقصان پہنچا رہا ہے اس معنی ہی کو بدل رہا ہے نقصان کے طور پر بھی اور غذا کے طور پر بھی اس کو کھایا جاتا۔ و عندہما یہنس بذاک کله اور صاحبین کے نزدیک ان سب کے ذریعے حانث ہو جائے گا چاہے انگور کھا لے, چاہے کھجوریں تازہ کھا لے, چاہے انار کھا لے, لانہ من اعز الفواکی اس لیے کہ یہ معزز سب سے معزز پھلوں میں سے ہیں یعنی سب سے اعلی پھلوں میں سے ہیں, سب سے عمدہ پھلوں میں سے ہیں هذا اذا لم ینوی کہتے ہیں یہ تقریر ہماری اس وقت ہے یہ مسئلہ اس صورت میں ہے اس طرح جب اس نے کوئی نیت نہ کی ہو و اما اذا نوا ذالک اور اگر اس نے اس کی نیت کی ہے تو یحنث اتفاقا تو بالاتفاق کیا ہو جائے گا؟ حانث اگر اس نے انگور کی بھی نیت کی ہے کہ یہ بھی نہیں کھاؤں گا تو اب انگور کھانے سے بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ و بدلالۃ سیاق النظم اور سیاق نظم کی دلالت کی وجہ سے بھی کبھی کبھار حقیقت کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بھئی سیاق اور سباق دو لفظ گزرے تھے بھئی سیاق بھی قرینہ لفظیہ کو کہتے ہیں, سباق بھی قرینہ لفظیہ کو کہتے ہیں لیکن فرق کیا تھا؟ سباق کسے کہتے ہیں؟ ایسا قرینہ لفظیہ جو مقدم ہو اور سیاق کس کو کہتے تھے؟ ایسا قرینہ لفظیہ جو مؤخر ہو لیکن یہاں سیاق بمانی شوق کے ہیں خود اگے شارح اپ کو بتائیں گے۔ لہذا تو سیاق کا یہ معنی نہیں کہ وہ قرینہ لفظیہ ہو مؤخر ہونا چاہیے بس کوئی قرینہ لفظیہ وہاں موجود ہوگا چاہے مقدم ہو چاہے مؤخر حالانکہ سیاق تو صرف کس کو کہتے ہیں؟ ایسا قرینہ لفظیہ جو مؤخر ہو تو معلوم ہوا یہاں اور شارح بتائیں گے نہیں قرینہ لفظیہ مقدم بھی ہو سکتا ہے اور مؤخر بھی تو معلوم ہوا سیاق بمانی شوق کے ہیں یعنی کلام کا چلاؤ بتلاۓ بھئی کلام کے اندر کوئی قرینہ اجائے چاہے وہ قرینہ مقدم ہو چاہے مؤخر اور وہ قرینہ بتلا دیتا ہے کہ یہاں پر حقیقی معنی مراد نہیں تو حقیقی معنی کو چھوڑ دیا جائے گا۔ ای بسبب سوق الکلام یعنی کلام کے چلاؤ کی وجہ سے بقرینۃ لفظیۃ اللتہق بہی ایسے قرینہ لفظیہ جو اس کلام کے ساتھ مل گیا ہے سواء کان سابقۃ او متاخرات برابر ہے کہ وہ قرینہ کیا ہو؟ مقدم ہو یا مؤخر ہو کقولہ جیسے کسی شخص کا یہ قول مولانا طلق امراتی ان کنرا رجلا ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے میری بیوی کو طلاق دو اگر تم مرد ہے۔ کیا کرو؟ اگر تم مرد ہے تو میری بیوی کو طلاق دو بھئی۔ اب دیکھو طلق امراتی صرف پہلے لفظوں پر غور کرو یہ یہ توکیل ہے مولانا صرف یہ لفظوں تو اس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے کسی شخص کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے وکیل بنایا جاتا ہے لیکن اس کے بعد ایک قرینہ لفظی ایا ان کنرا رجلا اگر تم مرد ہے اس قرینے نے بتلایا کہ نہیں وہ اس کو وکیل نہیں بنا رہا بلکہ اس کو اس کے عجز کو ظاہر کرنا چاہتا ہے یعنی تم میری بیوی کو طلاق نہیں دے سکتے بھئی اگر تم مرد ہے تو میری بیوی کو طلاق دے اور یہ ظاہر سی بات ہے مولانا کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا بھئی صورت سمجھ میں آ گئی ورنہ تو مسئلہ بڑا خراب ہو جائے گا بھئی۔ تو دیکھو یہ قرینہ لفظی تھا مولانا جس نے جس نے کیا بتلایا کہ طلق امراتی اس کا حقیقی معنی تو کیا تھا؟ توکیل تھا طلاق کے لیے لیکن اس حقیقی معنی کو ان کنرا رجلا کے قرینہ کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا۔ تو کہتے ہیں کاقولہ کہ جیسے کسی شخص کا قول طلق امراتی تو میری بیوی کو طلاق دے ان کنرا رجلا اگر تم مرد ہے حتی لا یکون حتی لا یکون توکیلا یہاں تک کہ یہ توکیل نہیں ہوگی وکیل بنانا نہیں ہے فانہ حقیقت ہذا الکلام ہو توکیل بالطلاق اس لیے کہ اس کلام کی حقیقت کیا ہے وہ طلاق کا کیا وکیل بنانا ہے لیکن ترک ذالک بقرینۃ قولہ ان کنرا رجلا لیکن اس حقیقی معنی کو چھوڑ دیا گیا اس شخص کے اس قرینے کی اس قرینے کی وجہ سے جو اس شخص کا قول ہے ان کنرا رجلا لأن ھذا الکلام انما یقال عند ارادۃ اظہار عجز المخاطب عن الفعل الذی قرن بہ اس لیے کہ یہ کلام کہا یقال کیا جاتا ہے کہا جاتا ہے عند ارادۃ اظہار عجز المخاطب جب مخاطب کے عاجز کر دینے کا مخاطب کے عجز کا کے اظہار کا مخاطب کے عجز کو ظاہر کرنے کا ارادہ کیا جائے عن الفعل الذی اس فعل سے الذی قرن ای قرن الکلامہ اور ضمیر کس کو راجع ہے کلام وہ فعل کہ جس کو قرن الکلام بہی جس کے ساتھ کیا کیا گیا ہو کلام کو ملایا گیا ہو تو قرنا کی ضمیر کس کو راجع ہے کلام کو اور بہی کی ہا ضمیر یا الذی کو راجع ہے یعنی وہ فعل مراد ہے۔ وہ فعل جس کے ساتھ کلام کو ملایا گیا ہے فیکون الکلام لتوبیخ مجازا تو یہ کلام کس لیے ہوا؟ ڈانٹ ڈپٹ کے لیے ہوا مجازا بھئی۔ حقیقت تو کیا تھی؟ کس کے لیے ہونا چاہیے تھا؟ توکیل بالطہلاق کے لیے لیکن مجازا کس معنی میں لیا گیا اس کو؟ بطور ڈانٹ ڈپٹ کے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اس کو کہہ رہا ہے کہ اگر تم مرد ہے تو میری بیوی کو طلاق دے اس کے عجز کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ و مثله قولہ قولہ تعالی اور اسی کے مثل ہے اللہ تعالی کا قول و من شاء فلیؤمن و من شاء فلیكفر انا اعتدنا للظالمین نارا پس جو چاہتا ہے وہ ایمان لے آئے اور جو چاہتا ہے وہ کفر کر لے یقینا ہم نے تیار کر رکھا ہے ظالموں کے لیے یعنی کافروں کے لیے نار اگ کو ہم نے اگ کیا ہے ظالموں یعنی کافروں کے لیے تیار کر رکھی ہے۔ اب دیکھیے ظاہری اس کلام کا یہ ہے مولانا حقیقی معنی کیا ہے؟ فمن شاء فلیؤمن و من شاء فلیكفر تخییر اختیار دیا جا رہا ہے جو ایمان لانا چاہتا ہے ایمان لے آئے جو کفر کو اختیار کرنا چاہتا ہے وہ کفر کو اختیار کر لے تو ظاہری حقیقی معنی کیا ہے؟ اختیار ہے معلوم ہوا کفر کو اختیار جب اختیار دے دیا گیا معلوم ہوا کفر میں بھی کوئی گناہ نہیں یہ اس کا حقیقی معنی ہے کہ اختیار ایا اور کفر کے اندر بھی گناہ نہیں ہوگا لیکن لیکن آگے ایک قرینہ لفظیہ ہے انا اعتدنا للظالمین نارا ہم نے یقینا ظالموں کے لیے اگ تیار کر رکھی ہے یہ قرینہ لفظیہ بتلاتا ہے کہ نہیں بھئی یہاں پر اختیار نہیں دیا جا رہا اور کفر کو اختیار کرنے کی صورت میں گناہ بھی ہوگا کیا ہوگا یہ نہیں کہ گناہ نہیں ہوگا بلکہ گناہ ہوگا اور اس کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو لہذا اب حقیقی معنی کو چھوڑ دیا گیا اور اس کلام کو کس پر محمول کیا گیا ہے؟ ڈانٹ ڈپٹ پر سمجھ میں آیا بس اللہ تعالی بطور ڈانٹ کے فرما رہے ہیں لوگوں تم ایمان نہیں لاتے بس جو ایمان لانا چاہتا ہے لے آئے جو نہیں لانا چاہتا نہ لے کر آئے ہم بھی تم جو نہیں لے کر آئیں گے ان کے لیے زبردست قسم کی اگ تیار کر رکھی ہے بھئی۔ حیث ترکت حقیقت المشیۃ اس حیثیت سے کہ چھوڑ دیا گیا مشیت کی حقیقت کو مشیت کا معنی چاہنا چاہ یہ مشیت کا لفظ ایسا تھا فمن شاء تو شاء مشیت کے حقیقی معنی کو بھی چھوڑ دیا گیا و حقیقت قولہ فلیكفر اور فلیكفر کے قول جو ہے اس کی حقیقت کو بھی بھئی فلیكفر امر ہے اور امر تو کس لیے ایا کرتا ہے وجوب کے لیے تو اس کے بھی حقیقی معنی کو چھوڑ دیا گیا بقرینۃ قولہ تعالی اللہ تعالی کے اس قول کے قرینہ کی وجہ سے کہ اعتدنا للظالمین نارا ہم نے تیار کر رکھا ہے ظالموں کے لیے اگ کو و حمل علی التوبیخ اور اس کو کس پر محمول کیا گیا؟ توبیخ یعنی ڈانٹ ڈپٹ پر محمول کیا گیا بھئی ڈانٹ ڈپٹ پر۔ چلیے بس مولانا هذا هو المرام والله اعلم بحقیقت الکلام
142 approved lectures · 53 of 142