درس نمبر۔50
وَالِاتِّصَالُ فِي مَعْنَى الْمَشْرُوعِ كَيْفَ شُرِعَ نَظِيرُ الْمَعْنَى، أَيِ الْعَلَاقَةُ فِي الْمَعْنَى الَّذِي شُرِعَ الْمَشْرُوعُ لِأَجْلِهِ حَالَ كَوْنِهِ بِأَيَّتِ كَيْفِيَّةٍ شُرِعَ نَظِيرٌ لِلِاتِّصَالِ الْمَعْنَوِيِّ فِي الْمَحْسُوسَاتِ.
گزشتہ سبق میں بھئی مصنف رحمہ اللہ آپ کو یہ بتلا رہے تھے استعارے کے بارے میں، کہ استعارے کا طریقہ کیا ہے؟ دو چیزوں کے درمیان اتصال کا پایا جانا اور وہ اتصال باعتبار صورت کے ہو گا یا وہ اتصال باعتبار معنیٰ کے ہو گا بھئی۔
باعتبار صورت کے اتصال سے کیا مراد تھا؟ کہ جہاں علاقہ غیر تشبیہ کا ہو۔ اور باعتبار معنیٰ کے اتصال کا کیا معنیٰ؟ جہاں علاقہ کیا ہو؟ تشبیہ والا ہو۔ اور پھر بتلایا تھا کہ جس طرح صورت اور معنیٰ کے اعتبار سے اتصال پایا جاتا ہے محسوسات کے اندر، یعنی ان چیزوں میں جو آنکھوں سے نظر آتی ہیں، اسی طرح اتصال پایا جاتا ہے شرعی احکام کے اندر بھی بھئی۔ تو بعض جگہ اتصال صورت کے اعتبار سے ہے جیسے سبب اور مسبب میں، علت اور معلول کے اندر بھئی۔ تو یہاں اتصال صورت اور مجاورت کے اعتبار سے ہے۔
اب اتصال معنیٰ کے اعتبار سے وہ ذکر کرنے لگے ہیں شرعی احکام کے اندر۔ کہتے ہیں: وَالِاتِّصَالُ فِي مَعْنَى الْمَشْرُوعِ كَيْفَ شُرِعَ نَظِيرُ الْمَعْنَى، اور اتصال کا پایا جانا دو چیزوں میں فِي مَعْنَى الْمَشْرُوعِ اس معنىٰ کے، اس مشروع کے معنیٰ کے اندر كَيْفَ شُرِعَ جیسے بھی وہ مشروع ہوا ہو، نَظِيرُ الْمَعْنَى یہ نظیر ہے کس کی؟ معنیٰ کی۔ یعنی جس طرح بھئی محسوسات کے اندر اتصالِ معنوی پایا جاتا ہے محسوسات میں کیا ہوتا ہے؟ اتصالِ معنوی پایا جاتا ہے، یعنی وہ دو چیزیں ہوتی ہیں جو ایک معنیٰ کے اندر مشترک ہوتی ہیں، ان میں اشتراک ہوتا ہے۔ اسی طرح بھئی، شریعت کے اندر بھی دو چیزوں کے اندر اتصال پایا جاتا ہے اس معنیٰ کے اعتبار سے جس کے اعتبار سے وہ چیز مشروع ہوئی تھی، جاری ہوئی تھی بھئی۔ جس معنیٰ کے اعتبار سے وہ چیز مشروع ہوئی ہے، جاری ہوئی ہے، كَيْفَ شُرِعَ جس کیفیت پر بھی مشروع ہو، بس اس معنیٰ کے اندر کیا پایا جائے اگر وہ معنیٰ جس کے لیے وہ چیز وہ چیز مشروع ہوئی ہے اگر اس معنیٰ کے اندر اتصال پایا جائے دو چیزوں میں، یعنی ایک کے اندر وہ معنیٰ تھا، دوسری کے اندر بھی وہی معنیٰ پایا جا رہا ہے تو اس صورت میں استعارہ جائز ہو گا، یعنی ایک بول کر دوسری چیز مراد لینا جائز، کیونکہ اس معنیٰ کے اندر دونوں میں اتصال ہے، جو معنیٰ ایک میں پایا جا رہا ہے وہی معنیٰ دوسرے کے اندر بھی پایا جا رہا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: وَالِاتِّصَالُ فِي مَعْنَى الْمَشْرُوعِ كَيْفَ شُرِعَ اور اتصال کا پایا جانا فِي مَعْنَى الْمَشْرُوعِ مشروع کے معنیٰ کے اندر كَيْفَ شُرِعَ جس کیفیت پر بھی وہ مشروع ہوا ہو، نَظِيرُ الْمَعْنَى یہ کس کی نظیر ہے؟ معنیٰ کی، یعنی اتصالِ معنوی، جس طرح محسوسات میں اتصالِ معنوی تھا اسی طرح یہ شرعی چیزوں کے اندر بھی یہ کیا آ گیا؟ اتصالِ معنوی آ جائے گا۔
أَيِ الْعَلَاقَةُ فِي الْمَعْنَى الَّذِي شُرِعَ الْمَشْرُوعُ لِأَجْلِهِ، یعنی وہ یعنی علاقہ وہ علاقہ جو کہ اس معنیٰ کے اندر ہے شُرِعَ الْمَشْرُوعُ لِأَجْلِهِ جس کے لیے وہ مشروع شروع ہوا تھا، جس کے لیے وہ مشروع جاری کیا گیا تھا، حَالَ كَوْنِهِ بِأَيَّتِ كَيْفِيَّةٍ شُرِعَ یہ بتلا رہے ہیں متن میں جو كَيْفَ شُرِعَ آیا یہ حال واقع ہو رہا ہے بھئی۔ اس حال میں کہ وہ جس کیفیت پر بھی مشروع ہوا ہو، یہ تعمیم کے لیے، یعنی جس کیفیت پر بھی مشروع ہوا ہو، جس کیفیت پر بھی جاری ہوا ہو، اگر وہ معنیٰ دوسری چیز کے اندر پایا جا رہا ہے تو ایک کا استعارہ دوسری کے ساتھ جائز ہے بھئی۔ یعنی وہ معنیٰ جو ایک کے اندر پایا جا رہا تھا جس کیفیت پر وہ مشروع ہوا تھا، وہی معنیٰ دوسرے کے اندر بھی پایا جا رہا ہے اسی کیفیت پر وہی مشروع ہے تو ایک بول کر دوسرا مراد لینا جائز ہے بھئی۔
جیسے مولانا محسوسات کے اندر بھئی بہادری والا معنیٰ شیر کے اندر تھا، اسی طرح وہ بہادری والا معنیٰ رجلِ شجاع میں آیا تو اسد بول کر رجلِ شجاع کیا ہوا؟ مراد لینا جائز ہوا، یہاں بھی اسی طرح ہے۔ جب ایک معنیٰ وہ معنیٰ ایک میں پایا جا رہا ہے اور دوسرے کے اندر بھی وہی معنیٰ پایا جا رہا ہے تو اتصال موجود ہے، تو ایک بول کر ایک مثلاً عقد میں ہو گا، ایک عقد بول کر دوسرا عقد مراد لینا جائز ہو گا بھئی۔ دیکھیے، خود مثال بھی آگے ذکر کریں گے۔
تو کہتے ہیں: نَظِيرٌ لِلِاتِّصَالِ الْمَعْنَوِيِّ فِي الْمَحْسُوسَاتِ یہ نظیر ہے اتصالِ معنوی فی المحسوسات کی، یعنی جس طرح محسوسات میں اتصالِ معنوی ہوتا ہے اسی طرح یہ اس کی نظیر ہے۔
كَالِاتِّصَالِ بَيْنَ الْكَفَالَةِ وَالْحَوَالَةِ جیسے کہ اتصال کا پایا جانا کفالہ اور حوالہ کے اندر۔ کفالہ اور حوالہ جانتے ہو یا نہیں بھئی؟ کفالہ ضمانت کو کہتے ہیں بھئی، ضمانت۔
مثلاً بھئی زید نے آپ کا دین دینا ہے اور عقد کرتا ہے اس پر، اب دین ہے، آپ اس پر اعتماد کے لیے تیار نہیں ہیں کہ پتہ نہیں تم اتنے عرصے بعد دین ادا کرو گے یا نہیں کرو گے، تو وہ اپنے ایک ساتھی کو لے آتا ہے جس پر آپ کا اعتماد ہے۔ وہ ساتھی آپ کو ضمانت دے دیتا ہے کہ: "میں ضمانت دیتا ہوں کہ زید کیا کرے گا؟ آپ کا یہ دین ادا کر دے گا فلاں تاریخ تک اور اگر اس نے ادا نہ کیا تو پھر مجھ سے طلب کر لینا، میں ادا کر دوں گا بھئی۔" اس کو کیا کہتے ہیں؟ کفالہ کہتے ہیں بھئی، کفالہ۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ کفالہ نفس میں بھی ہوتا ہے، مال کے اندر بھی ہوتا ہے۔ نفس کے اندر کفالہ کہ اس کو میں حاضر کروں گا، یہ کہیں بھاگے گا نہیں بھئی، اور مال کے اندر کہ اگر یہ ادا نہیں کرتا تو میں ادا کر دوں گا۔ تو یہ اردو میں اس کو ضمانت کہتے ہیں بھئی۔ اور کفالہ میں یاد رکھیے بھئی، اصیل جو تھا جس پر دین تھا، اس سے بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور جس نے ضمانت دی ہے اس سے بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ مطالبہ کیا جا سکتا ہے دونوں سے بھئی۔ تو ضمانت دینے کا یہ معنیٰ نہیں کہ اصیل جس پر دین تھا وہ بری ہو گیا، اب اس سے آپ مطالبہ نہیں کریں گے بلکہ صرف کفیل سے جا کر مطالبہ کریں گے، نہیں، کفیل سے بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے وقت آنے پر اور اصیل سے بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے، دونوں سے مطالبہ ہو سکتا ہے۔
اور دوسرا ہے حوالہ، حوالہ۔ حوالہ کہتے ہیں دین کو ایک ذمہ سے دوسرے ذمہ کی طرف نقل کرنا بھئی۔ مثلاً آپ پر دین تھا، آپ اپنے ساتھی کو لے آئے اور وہ قرض خواہ سے کہا بھئی: "میں دین ادا نہیں کروں گا بلکہ میری جگہ میرا یہ ساتھی دین ادا کرے گا بھئی۔" آپ کے ساتھی بھی تیار ہے اور اس شخص نے جس کا قرض تھا وہ بھی راضی ہو گیا: "ٹھیک ہے بھئی، آپ کی جگہ کون دین ادا کرے گا؟ یہ آپ کا ساتھی دین ادا کرے گا۔" تو بس مولانا، یہ حوالہ ہے۔ اب وہ آپ سے مطالبہ نہیں کر سکتا، بلکہ کس سے مطالبہ کرے گا؟ جس جس پر آپ نے حوالہ کیا ہے، جس پر جس نے دین کی ذمہ داری اٹھا لی کہ میں ادا کروں گا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ حوالہ۔ تو کفالہ کے اندر اصیل بری نہیں ہوتا جبکہ حوالہ کے اندر اصیل کیا ہو جاتا ہے؟ بری ہو جاتا ہے، اس سے مطالبہ نہیں ہوتا پھر بھئی۔
تو یہ دیکھیے، كَالِاتِّصَالِ بَيْنَ الْكَفَالَةِ وَالْحَوَالَةِ جیسے کہ اتصال کا پایا جانا کفالہ اور حوالہ کے اندر بھئی، کس چیز میں اتصال کا پایا جانا؟ کہتے ہیں: فِي كَوْنِهِمَا تَوْثِيقًا لِلدَّيْنِ اس معنیٰ کے اندر کہ دونوں توثیق للدین ہیں، دونوں دین کی مضبوطی کے لیے ہیں، پختگی کے لیے ہیں بھئی۔ دیکھو بھئی، کسی نے ضمانت دے دی یا کوئی شخص دوسرا آپ کی طرف سے دین ادا کر رہا ہے تو مضبوطی آ گئی بھئی، معلوم ہوا اب اس کا دین کیا ہو جائے گا؟ اس شخص کو تسلی ہو گئی کہ میرا دین اب ضرور کیا کر دیا جائے گا؟ ادا کر دیا جائے گا بھئی۔ تو یہ کس لیے ہوا کرتے ہیں؟ دین کی دین کی مضبوطی کے لیے، توثیق کے لیے ہوتے ہیں۔ تو دونوں دین کی توثیق کے لیے ہیں، تو اس معنیٰ کے اندر دونوں میں اتصال آ گیا۔ کفالہ میں بھی اور حوالہ میں بھی۔ جیسے کفالہ دین کی مضبوطی کے لیے ہے اسی طرح حوالہ بھی کس لیے ہے؟ دین کی مضبوطی کے لیے ہے، تو دونوں کے اندر یہ معنیٰ پایا گیا جس کے لیے یہ مشروع ہوئے تھے۔ کفالہ بھی دین کی مضبوطی کے لیے مشروع ہوا، حوالہ بھی دین کی مضبوطی کے لیے اور توثیق کے لیے مشروع ہوا بھئی۔ تو لہٰذا جب دونوں کے اندر اس معنیٰ کے اندر اتصال آ گیا، وہی معنیٰ جو ایک میں پایا جا رہا ہے وہی معنیٰ دوسرے میں پایا جا رہا ہے، تو لہٰذا یہاں پر ایک بول کر دوسرے کا استعارہ کرنا جائز ہے، کفالہ بول کر حوالہ مراد لینا اور حوالہ بول کر کفالہ مراد لینا درست ہے مولانا۔
چنانچہ اگر کوئی شخص آپ سے کہتا ہے کہ: "میں اس کی ضمانت دیتا ہوں، یہ کیا کرے گا؟ فلاں تاریخ تک دین ادا کر دے گا۔ اور اگر اس نے ادا نہ کیا تو پھر کیا کرو؟ پھر آپ اس تاریخ کے بعد مجھ سے مطالبہ کرنا، اس سے آپ نے جا کر مطالبہ نہیں کرنا، کس سے کرنا ہے؟ مجھ سے، میں ضمانت دیتا ہوں اس بات کی۔" معلوم ہوا یہ کفالہ بول کر کیا مراد لے رہا ہے؟ حوالہ، کہ اصیل بری اصیل کو بری کر رہا ہے، اس سے مطالبہ نہیں کرنا بلکہ کس سے کرنا ہے؟ مجھ سے کرنا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ لفظوں کے اندر تو وہ کفالہ بول رہا ہے لیکن مراد اس کی کیا ہے؟ حوالہ، اور کفالہ بول کر حوالہ مراد لینا یہ استعارہ جائز ہے کیونکہ دونوں میں کیا موجود ہے؟ اتصال موجود ہے بھئی۔ جیسے اسد بول کر رجلِ شجاع مراد لینا درست ہے مولانا، کیونکہ دونوں کے اندر کیا موجود ہے؟ اتصالِ معنوی موجود ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اسی طرح اگر حوالہ کروایا بھئی، حوالہ کہ بھئی: "یہ فلاں تاریخ تک کیا کرے گا؟ دین ادا کر دے گا یا ہاں، فلاں تاریخ تک میں بلکہ اس کا دین میں ادا کروں گا فلاں تاریخ تک، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ بھی بری نہیں ہو گا، آپ مجھ سے بھی مطالبہ کر سکتے ہو اور اس سے بھی کیا کر سکتے ہو؟ مطالبہ کر سکتے ہو، دین دونوں میں سے جس سے چاہیں آپ وصول کر سکتے ہیں۔" معلوم ہوا وہ لفظوں میں تو حوالہ ذکر کر رہا ہے لیکن ساتھ شرط لگا رہا ہے کہ اصیل بھی بری نہیں، معلوم ہوا حوالہ بول کر کیا مراد ہے؟ کفالہ مراد ہے اور استعارہ درست ہے اس لیے کیونکہ دونوں کے اندر اتصالِ معنوی موجود ہے، دونوں کس معنیٰ کے لیے مشروع ہوئے ہیں؟ توثیق للدین کے لیے، دین کی توثیق کے لیے، مضبوطی، پختگی کے لیے بھئی۔
وَبَيْنَ الصَّدَقَةِ وَالْهِبَةِ فِي كَوْنِهِمَا تَمْلِيكًا بِغَيْرِ عِوَضٍ اور اسی طرح اتصال کا پایا جانا صدقہ اور ہبہ کے اندر، ہبہ اور صدقہ میں کیا ہے؟ اتصال پایا جاتا ہے بھئی، کس چیز کے اندر؟ کہتے ہیں: فِي كَوْنِهِمَا تَمْلِيكًا بِغَيْرِ عِوَضٍ اس معنیٰ کے اندر کہ یہ دونوں تملیک بغیر عوض ہیں، دوسرے کو مالک بنانا ہے بغیر عوض کے، بغیر بدلے کے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ایک صدقہ ہے، ایک ہبہ۔ ہبہ جس کو آپ اردو میں تحفہ کہتے ہیں، تحفہ دینا دوسرے کو بھئی، اس کے اندر دوسرے سے بدلہ نہیں لیا جاتا بھئی۔ تو لہٰذا صدقہ میں بھی کیا ہے؟ صدقہ کے اندر بھی فقیر کو مال کا مالک بنایا جاتا ہے بغیر عوض کے، اور ہبہ کے اندر بھی اپنے دوست کو مال کا مالک بنایا جاتا ہے بغیر کسی عوض کے، تو دونوں کے اندر اتصالِ معنوی آ گیا، ایک معنیٰ کے اندر دونوں میں اشتراک ہے اور وہ معنیٰ کیا ہے؟ کہ اس میں دوسرے کو مالک بنایا جاتا ہے بغیر عوض کے، تو یہ معنیٰ دونوں کے اندر موجود ہے لہٰذا صدقہ بول کر ہبہ مراد لینا اور ہبہ بول کر صدقہ مراد لینا یہ دونوں یہ استعارہ کیا ہے؟ درست ہے، صحیح ہے بھئی، درست ہے۔
لہٰذا اگر غریب کو ہبہ کہہ کر مال دیا تو یاد رکھیے یہ صدقہ ہے۔ معلوم ہوا غریب کو دے رہے ہیں بھئی، ہبہ کہہ کر دے رہے ہیں لیکن دراصل کیا مقصد ہے؟ اللہ کی رضا مقصود ہے تو یہاں پر کیا ہے؟ ہبہ بول کر صدقہ مراد ہے۔ اور اپنے خوشحال ساتھی کو، جو غریب نہیں ہے بھئی خوشحال ہے، اس کو مال دے رہا ہے اور صدقہ کہہ کر دے رہا ہے معلوم ہوا صدقہ بول کر کیا مراد ہے؟ ہبہ مراد ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اور استعارہ جائز ہے کیونکہ دونوں کے اندر اتصالِ معنوی موجود ہے، ایک کے اندر جو معنیٰ پایا جا رہا ہے وہی معنیٰ دوسرے کے اندر بھی پایا جا رہا ہے بھئی۔
لہٰذا دونوں کی شرائط کا لحاظ رکھنا ہو گا، یعنی ان دونوں کی مثلاً بھئی فقیر کو یا ہاں، یاد رکھیے بھئی، ہبہ کے اندر رجوع ہو سکتا ہے۔ ہبہ کے اندر رجوع ہو سکتا ہے۔ مثلاً آپ نے کسی اپنے کسی ساتھی کو کوئی چیز ہبہ کی، بعد میں آپ رجوع کرنا چاہتے ہیں، رجوع کر سکتے ہیں۔ لیکن ویسے رجوع نہیں کہ آپ جائیں اور جا کر وہ چیز لے لیں۔ دونوں کی رضامندی ضروری ہے، وہ بھی راضی ہو بھئی واپس لوٹانے پر چیز، تو پھر رجوع کر سکتے ہیں۔ اگر وہ راضی نہیں ہے پھر قاضی کے پاس جانا پڑے گا۔ تو آپ پڑھتے رہتے ہیں کہ ہبہ کے اندر رجوع ہو سکتا ہے، اس کا یہ معنیٰ نہیں ہوتا کہ آپ ایک ہی شخص جس نے ہبہ کیا تھا وہ جائے اور چیز واپس لے لے، نہیں، دوسرے کی رضامندی بھی ضروری ہوتی ہے، اگر راضی ہے تو ٹھیک، اگر راضی نہیں ہے تو قاضی کے پاس جانا پڑے گا، ہاں قاضی پھر وہ چیز واپس دلوا دے گا۔ لیکن ہبہ کے اندر یاد رکھیے، اگر بدل دے دیا پھر رجوع نہیں ہو سکتا۔ مثلاً آپ نے اپنے ایک ساتھی کو ایک گاڑی تحفے کے طور پر دی بھئی، اللہ آپ سب کو خوب وسیع حلال رزق دے بھئی۔ (آمین) تو آپ نے اپنے ایک ساتھی کو بھئی، ایک عالم تھا آپ کا ساتھی تھا، آپ نے علم کی قدر کرتے ہوئے اسے گاڑی بطورِ تحفے کے پیش کی، اس نے بھئی قدوری پڑھی ہوئی تھی، شرح وقایہ پڑھی ہوئی تھی، اس نے کہا یہ نہ ہو بعد میں کہیں رجوع کر لے۔ چنانچہ اس نے کیا کیا؟ آپ کو اپنا ایک قلم دیا۔ کہتا ہے: "لو بھئی، آپ نے مجھے گاڑی تحفے کے طور پر دی ہے، بدلے میں میری طرف سے بھی یہ قلم رکھو۔" بس مولانا، جیسے ہی آپ نے قلم لیا فوراً رجوع ختم ہو گیا، اب آپ رجوع نہیں کر سکتے کسی صورت میں۔ اس لیے کیونکہ یہاں صورتاً تو ہبہ ہے لیکن دراصل یہ گویا کہ بیع ہو گئی، کیا ہو گئی؟ بیع ہو گئی، کیونکہ دونوں طرف سے عوض آیا، حالانکہ ہبہ میں تو دونوں طرف سے عوض نہیں ہوتا۔ تو ہبہ کے اندر جب عوض لے لیا جائے پھر اس میں رجوع جائز نہیں رہتا۔ تو سمجھ میں آیا؟ ویسے ہبہ میں رجوع ہو سکتا ہے۔
جبکہ صدقہ کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔ صدقہ کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا، بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ یہ بھی تملیک بغیر عوض کے ہے، پھر اس میں رجوع کیوں نہیں ہو سکتا؟ وجہ یہ ہے مولانا کہ ابھی ضابطہ بتلایا: جب عوض لے لیں تو پھر رجوع نہیں ہو سکتا، اور صدقہ میں بھی جیسے ہی آپ نے فقیر کو مال دیا، فوراً ثواب آپ کو مل گیا، عوض آپ کو مل گیا۔ جب عوض مل گیا تو اب رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔
تو لہٰذا کسی شخص کو کیا کیا؟ فقیر کو ہبہ کہہ کر مال دیا، لیکن کہہ ہبہ رہا ہے، لیکن دراصل یہ کیا ہے؟ صدقہ ہے، اور اب اس میں رجوع نہیں ہو سکتا۔ اور کسی امیر کو، خوشحال کو مال دیا، صدقہ کہا تو دراصل یہ کیا ہے؟ ہبہ ہے، اس میں رجوع ہو سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: كَالِاتِّصَالِ بَيْنَ الْكَفَالَةِ وَالْحَوَالَةِ فِي كَوْنِهِمَا تَوْثِيقًا لِلدَّيْنِ، وَبَيْنَ الصَّدَقَةِ وَالْهِبَةِ فِي كَوْنِهِمَا تَمْلِيكًا بِغَيْرِ عِوَضٍ جیسے کہ اتصال کا پایا جانا کفالہ اور حوالہ کے اندر اس معنیٰ کے اندر کہ دونوں توثیق للدین ہیں، اور اتصال کا پایا جانا صدقہ اور ہبہ کے اندر اس معنیٰ کے اندر کہ دونوں میں مالک بنانا ہے بغیر عوض کے، وَأَمْثَالُهُ اور اس کی مثل اور اتصالات اور عقود کے اندر۔
ثُمَّ بَعْدَ ذٰلِكَ تَرَكَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَفْصِيلَ الِاتِّصَالِ الْمَعْنَوِيِّ وَذَكَرَ بَعْضَ أَنِوَاعِ الِاتِّصَالِ الصُّورِيِّ لِيَبْتَنِيَ عَلَيْهَا.
پھر آگے دو قسمیں تو مصنف نے پہلے ذکر کر دیں یہاں کہ اتصال یا صورتاً ہو گا یا معناً، اتصال صورتاً جیسے سببیت اور تعلیل میں ہے، اور اتصالِ معنوی کی مثال بھی ذکر کر دی شارح نے۔
اب آگے اتصالِ معنوی کی تفصیل بیان نہیں کریں گے مصنف بھئی جو ماتن ہیں، البتہ اتصالِ صوری کی بعض انواع ذکر کریں گے بھئی آگے،
اتصالِ صوری کی بعض انواع ذکر کریں گے۔ کیونکہ وہ دراصل سبب اور علت میں فرق بتلانا چاہتے ہیں۔ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ سبب اور علت کے درمیان سببیت اور تعلیل کے درمیان فرق بتلانا چاہتے ہیں تو وہ اور ان میں اتصالِ صوری ہوتا ہے، تو لہذا اس کی تفصیل بیان کر رہے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ثم بعد ذلك ترك المصنف رحمه الله التفصيل للاتصال المعنوي. پھر اس کے بعد مصنف رحمہ اللہ نے اتصال معنوی کی تفصیل کو چھوڑ دیا۔ وذكر بعض انواع للاتصال الصوري. اور ذکر کیے اتصالِ صوری کی بعض انواع کو۔ ليجتني عليه الفرق بين العلة والسبب. تاکہ بنیاد ہو جائے اس پر فرق کی بین العلة والسبب علت اور سبب کے درمیان۔
تاکہ اس پر کیا ہو جائے؟ علت اور سبب کے درمیان فرق کی بنیاد ہو جائے بھئی۔ تو اتصالِ صوری کی یہ بعض انواع ذکر کرنے لگے ہیں۔ فقال: پس مصنف فرماتے ہیں۔ والأول على نوعين: اور پہلی قسم یعنی وہ اتصالِ صوری جو ہے على نوعين دو قسم پر ہے۔
أي الاتصال من حيث السببية والتعليل يتنوع على نوعين: یعنی وہ اتصال جو سببیت اور تعلیل کی حیثیت سے ہے، وہ تقسیم ہوتا ہے على نوعين دو قسم پر۔ لأن السببية نوع آخر والتعليل نوع آخر. اس لیے کہ سببیت ایک دوسری نوع ہے اور تعلیل دوسری نوع ہے۔ ولما كان علاقة التعليل أشرف من السببية قدمها حيث قال: اور جب تعلیل کا علاقہ جو ہے، وہ افضل ہے سببیت سے، لہذا اس کو مقدم کر دیا اس طور پر کہ یوں فرمایا۔
بھئی دیکھیے، اب دو قسمیں بیان کرنی ہیں۔ ایک میں علاقہ سببیت والا ہے، ایک میں علاقہ تعلیل والا ہے، لیکن تعلیل کا علاقہ افضل ہے اس لیے کیونکہ علت جو ہے وہ، علت پر حکم کا دارومدار ہوتا ہے بھئی۔ اگر علت ہے تو حکم بھی ہے۔ علت نہیں تو حکم بھی نہیں، تو حکم جو ہے وجود اور عدم کے اعتبار سے اس کا دارومدار علت پر ہے۔ جبکہ سبب کے اندر ایسا نہیں ہے مولانا، کہ سبب ہو تو مسبب ہو، سبب نہ ہو تو مسبب نہ ہو۔ وہاں ایسا نہیں ہے، تو یہ علاقہ جو تعلیل والا ہے چونکہ افضل ہے، کیونکہ اس میں حکم کے وجود اور عدم کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ علت کی طرف کی جاتی ہے، لہذا اس کو پہلے ذکر کر رہے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: قدمها، اسی لیے اس کو کیا کر دیا؟ تعلیل کا علاقہ چونکہ افضل تھا اس لیے اس کو مقدم کر دیا۔ حيث قال: اس طور پر کہ فرمایا۔
أحدهما اتصال الحكم بالعلة: ان دو علاقوں میں سے ایک علاقہ کیا ہے؟ حکم کا اتصال کس کے ساتھ؟ علت کے ساتھ۔ كاتصال الملك بالشراء: جیسے ملک کا اتصال شراء کے ساتھ۔ بھئی! شراء علت ہے، خریدنا علت ہے اور ملکیت کیا ہے؟ اس کا معلول ہے، اس کا حکم ہے مولانا۔
تو ان دونوں کے درمیان اتصال ہے مولانا۔ تو یہ، جی، تو یہ علت و معلول والا اتصال ہوا، وإنه يوجب الاستعارة من الطرفين. اور یہ ثابت، یوجب أي یثبت، اور یہ جو اتصال ہے یہ ثابت کرتا ہے استعارہ طرفین سے، یعنی دونوں طرف سے استعارہ صحیح ہے۔ یعنی علت بول کر معلول مراد لینا بھی صحیح اور معلول بول کر علت مراد لینا بھی صحیح ہے۔ دونوں طرف سے استعارہ ہو سکتا ہے۔
جی، کہتے ہیں: فيجوز أن تذكر العلة ويراد الحكم. پس جائز ہے کہ علت کو ذکر کیا جائے اور حکم کا ارادہ کیا جائے۔ وأن يذكر الحكم وتراد العلة. سمجھ میں آیا؟ أن تذكر، یہ یراد کا عطف اسی پر ہے، اس کو بھی منصوب پڑھیں: أن تذكر العلة ويراد الحكم، وأن يذكر الحكم وتراد العلة. پس جائز ہے کہ علت کو ذکر کیا جائے اور حکم کا ارادہ کیا جائے، اور یہ بھی جائز ہے کہ حکم کا ذکر کیا جائے اور علت کا ارادہ کیا جائے۔
لأن الحكم يحتاج إلى العلة. جی، یہاں سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ یاد رکھیے کہ استعارے کے اندر اصل یہ ہے کہ محتاج الیہ کو ذکر کیا جائے اور محتاج کا ارادہ کیا جائے بھئی۔ محتاج الیہ بول کر کس کا ارادہ کیا جائے؟ محتاج کا ارادہ کیا جائے بھئی۔
اور کہتے ہیں علت اور معلول دونوں کے اندر بھئی، محتاج الیہ ہونے کا معنی بھی موجود اور محتاج ہونے کا معنی بھی موجود۔ کس طرح؟ دیکھیے: حکم جو ہے، وہ ہے محتاج۔ کس کا محتاج ہے؟ علت کا۔ علت ہوگی تو حکم ہے، علت نہیں تو حکم بھی نہیں۔ تو حکم کون ہوا؟ محتاج۔ اور علت کیا ہوئی؟ محتاج الیہ ہوئی بھئی۔
اور علت محتاج ہے حکم کی، اپنے مشروع ہونے کے اعتبار سے۔ کیونکہ وہ علت مشروع ہی کس لیے ہوئی ہے؟ اس حکم کے لیے، شراء مشروع ہی کس لیے ہوئی ہے؟ اس کی، جائز ہی کس وجہ سے ہے؟ جاری کس لیے کی گئی ہے؟ کیا مقصد ہے شراء کا؟ ملکیت کا حاصل ہونا، تو ملکیت حکم ہے مولانا، شراء کا۔ تو اس علت، تو یہ علت اپنے مشروع ہونے میں کس چیز کی محتاج ہوئی؟ حکم کی، حکم ہے تو یہ علت بھی ہے، حکم نہیں تو یہ علت بھی نہیں۔ چنانچہ لہذا، شراء، مثلاً اپ کوئی چیز خریدتے ہیں، شراء جب بھی پائی جائے گی، فوراً کیا ا جائے گی؟ ملکیت ا جائے گی۔
کیوں؟ کیونکہ شراء یہ جو علت ہے، یہ مشروع ہی کس لیے ہوئی تھی؟ ملکیت کا فائدہ دینے کے لیے، اور یہ ملکیت کا فائدہ دے رہی ہے۔ لہذا یہ بھی معتبر، شراء بھی معتبر، اور اس کی وجہ سے پھر کیا پایا جائے گا؟ ملکیت والا حکم بھی۔ لیکن اگر حکم نہ پایا جائے تو وہ سوری، وہ علت بھی لغو ہے، مثلاً ایک شخص دوسرے سے آزاد آدمی کو خریدتا ہے، اب آزاد تو مال نہیں۔
لہذا ملکیت والا حکم آئے گا؟ نہیں، مالک نہیں بنے گا۔ جب مالک نہیں بنے گا، تو یہ شراء بھی لغو ہے، اس علت کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔ کیونکہ یہ علت تو مشروع ہی کس مقصد کے لیے ہوئی تھی؟ ملکیت کا فائدہ دینے کے لیے، تو جب وہ حکم نہیں آ رہا، تو یہ علت تو محتاج ہے حکم کے، کس چیز میں؟ اپنے مشروع ہونے میں، یہ مشروع ہی حکم کے لیے ہوئی تھی، تو لہذا جب حکم نہیں تو یہ علت بھی لغو ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
تو یہ شراء جو آزاد آدمی کی کی، یہ شراء بھی کیا ہو گئی؟ لغو ہو گئی۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ تو لہذا علت اپنے مشروع ہونے میں کس چیز کی محتاج ہے؟ حکم کی محتاج ہے۔ حکم ہے، تو علت بھی معتبر ہے۔ اگر حکم نہیں ایا، تو علت کیا ہو گئی؟ لغو ہو گئی، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
تو علت کیا ہوئی؟ محتاج، اپنے مشروع ہونے میں، کس کی محتاج ہوئی؟ حکم، تو حکم کیا ہوا؟ محتاج الیہ۔ تو دیکھو پہلے حکم تھا محتاج اور علت کیا تھی؟ محتاج الیہ، اب بتلایا علت ہے محتاج اور حکم کیا ہے؟ محتاج الیہ۔ تو دونوں میں محتاج والا معنی بھی پایا جاتا ہے اور دونوں میں محتاج الیہ والا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ اور استعارہ کے اندر بھی اصل کیا ہے؟ کہ محتاج الیہ کو بول کر کیا، کس کا ارادہ کیا جائے؟ محتاج کا، اور دونوں کے اندر محتاج والا معنی ہے اور دونوں کے اندر محتاج الیہ والا معنی ہے، لہذا ایک بول کر دوسرے کو مراد لینا درست ہے۔ لہذا ملک بول کر شراء مراد لینا اور شراء بول کر ملک مراد لینا درست ہے۔ لہذا ایک آدمی کہتا ہے: إن اشتريت عبدا فهو حر، اگر میں نے کوئی غلام خریدا تو وہ آزاد ہے۔ بعد میں وہ کہتا ہے شراء بول کر میرا کیا ارادہ تھا؟ ملکیت کا ارادہ تھا، کہتے ہیں استعارہ صحیح ہے مولانا، استعارہ کیا ہے؟ کیونکہ شراء اور ملک میں کون سا علاقہ ہے؟ علت معلول والا علاقہ ہے اور وہاں جانبين سے استعارہ صحیح، لہذا شراء بول کر ملک مراد لینا صحیح۔ اور اسی طرح ایک آدمی کہتا ہے: إن ملكت عبدا فهو حر، بعد میں وہ کہتا ہے ملک بول کر کیا مراد تھی؟ شراء مراد تھی، کہتے ہیں یہ استعارہ بھی صحیح، کیونکہ جانبين سے یہاں استعارہ صحیح، تو ملک بول کر شراء مراد لینا اور شراء بول کر ملک مراد لینا دونوں صحیح ہیں بھئی۔
تو انہوں نے کہا دونوں طرف سے استعارہ صحیح ہے، لأن الحكم يحتاج إلى العلة، اس لیے کیونکہ حکم جو ہوتا ہے وہ محتاج ہوتا ہے علت کا من حيث الثبوت، اپنے ثبوت کی حیثیت سے، ثابت ہونے کی حیثیت سے۔ حکم تبھی ثابت ہوگا جب کیا پائی جائے؟ علت پائی جائے، والعلة محتاجة إلى الحكم، اور علت کیا ہے؟ محتاج ہے کس کی؟ حکم کی، من حيث الشرعية، مشروع ہونے کی حیثیت سے، إذ لم تشرع العلة إلا للحكم، اس لیے کیونکہ علت مشروع نہیں ہوئی إلا للحكم مگر اس حکم کے لیے ہی، فجاء الافتقار من الطرفين، تو احتیاج ا گئی دونوں طرف سے، دونوں طرف سے احتیاج ا گئی۔ والأصل في الاستعارة أن يذكر المفتقر إليه ويراد المفتقر، اور اصل استعارہ میں یہ ہے کہ مفتقر علیہ، مفتقر الیہ کو ذکر کیا جائے اور مفتقر کا ارادہ کیا جائے، یعنی محتاج الیہ کا ذکر کیا جائے اور محتاج کا ارادہ کیا جائے۔ فتصح الاستعارة من الجانبين، تو استعارہ صحیح ہے دونوں جانب سے، کیونکہ دونوں میں مفتقر الیہ اور دونوں میں مفتقر والا معنی موجود ہے۔
حتى إذا قال: یہاں تک کہ اگر کسی شخص نے یوں کہا: إن اشتريت عبدا فهو حر، اگر میں نے کوئی غلام خریدا تو وہ آزاد ہے، یہ کسی شخص نے کہا، ونوى به الملك، اور اس کے ذریعے اس نے نیت کس کی کی؟ ملکیت کی، أو قال، یا کسی شخص نے یوں کہا: إن ملكت عبدا فهو حر، اگر میں کسی غلام کا مالک ہوا تو وہ آزاد ہے، ونوى به الشراء، اور اس نے نیت کس کی کی؟ شراء کی، یعنی ملک بول کر شراء کی نیت کی، کہتے ہیں: يصدق فيهما ديانة، تو اس کی تصدیق کی جائے گی ان دونوں کے اندر دیانۃً۔ دیانۃً کیا کی جائے گی اس کی؟ تصدیق کی جائے گی مولانا۔
دیانۃً کیا معنی؟ یعنی یہ اس کے اور اللہ کے درمیان معاملہ ہے بھئی، ہم تو نیت نہیں جانتے لیکن وہ کہہ رہا ہے کہ میری نیت کیا تھی؟ شراء بول کر ملک یا ملک بول کر شراء کی، تو اور استعارہ تو دونوں طرف سے صحیح ہے، لہذا اب یہ اس کے اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے، دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی بھئی۔ کسی مفتی سے جا کر اگر وہ فتویٰ پوچھتا ہے کہ میں نے شراء بول کر ملک مراد لی تھی یا ملک بول کر شراء مراد لی تھی، تو مفتی اس کے مطابق اس کو فتویٰ دے دے گا بھئی، اس کی دیانۃً کیا کی جائے گی؟ تصدیق کی جائے گی۔ مفتی سے اگر پوچھتا ہے تو مفتی کہے گا بھئی، کہ اگر اپ کی نیت یہ تھی، یہ نیت کی جائے، تو پھر مسئلہ اسی طرح، اس طرح ہوگا۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ اس کی نیت کے مطابق اس کو فتویٰ بتلا دے گا بھئی۔
سمجھ میں ایا؟ دیانۃً کا کیا معنی ہوا؟ کہ یہ اللہ اور اس کے بیچ کا معاملہ ہے بھئی، اللہ جانتے ہیں اس کی نیت کو ہم نہیں جانتے، ہاں ہمیں وہ اس طرح بتلا رہا ہے کہ میری نیت یہ تھی، تو لہذا ہم اس کی نیت کے مطابق کیا کریں گے اسے؟ فتویٰ، مفتی اسے اس کی نیت کے مطابق فتویٰ دے دے گا، باقی اس کے اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے، اللہ جانتے ہیں اس کی نیت تھی یا نیت نہیں تھی۔ تو دیانۃً کہا قضاءً نہیں کہا بھئی، سمجھ میں ایا؟ قضاءً یعنی اگر قاضی کے پاس چلا جائے پھر اس طرح نہیں بھئی، قاضی کے پاس چلا جائے تو پھر اس طرح نہیں، ہر صورت میں تصدیق نہیں ہوگی، آگے شرح کے اندر ذکر ا جائے گا بھئی، تفصیل ا جائے گی۔
تفريع لاستعارة العلة للحكم وعكسه: یہ تفریع ہے مولانا علت کے حکم کے لیے استعارے کی اور اس کے عکس کی، یعنی حکم کے علت کے لیے استعارے کی تفریع ہے، دونوں بھئی، ایک جگہ علت بول کر کیا مراد ہے؟ حکم، دوسری جگہ حکم بول کر علت مراد ہے۔ فإن الشراء علة والملك معلول، اس لیے کہ شراء علت ہے اور ملک معلول ہے، والأصل في الشراء أن لا يشترط اجتماع الكل في الملك، والأصل في الملك أن يشترط الاجتماع عرفا.
جی، شراء کے اندر یاد رکھیے مولانا، اصل یہ ہے، ضابطہ یہ ہے کہ کل کا اجتماع، کل کے اجتماع کی شرط نہیں ہے جی، کل کے اجتماع کی ملکیت میں ساری چیز کی مجتمع ہونے کی، اکٹھا ہونے کی شرط نہیں ہے شراء میں۔ جبکہ ملکیت کے اندر یہ ہے کہ کل چیز ملکیت میں اکٹھی ہونی چاہیے، عرف میں، لوگوں کے عرف میں یہ سمجھا جاتا ہے بھئی۔
مثلاً بھئی دیکھیے، ایک ادمی ہے، اس نے پہلے ایک چیز خریدی، پھر اس کو آگے بیچ دیا۔ پھر دوسری چیز خریدی، اس کو آگے بیچ دیا، پھر تیسری چیز خرید لی اس نے بھئی، تو اب کیا کہیں گے اپ؟ وہ ان تینوں چیزوں کا مالک ہے؟ جی؟ نہیں، تینوں چیزوں کا مالک نہیں ہے، کیونکہ دو چیزیں وہ اس کی ملکیت میں ساری چیزیں اس وقت اکٹھی نہیں، دو کو تو وہ خرید کر بیچ چکا ہے۔ معلوم ہوا عرف کے اندر مالک کب کہا جاتا ہے؟ جب وہ ساری چیز کسی کی ملکیت کے اندر اکٹھی ہو جائے، تو تینوں چیزیں اس کی ملک میں اکٹھی ہوتیں، تو پھر اس کو ہم کہتے یہ تینوں چیزوں کا مالک ہے۔ لیکن اس وقت تو تینوں چیزیں اس کی ملک میں اکٹھی نہیں، لہذا کبھی بھی یہ نہیں کہیں گے یہ تینوں چیزوں کا مالک ہے، کوئی بھی نہیں کہے گا اس کو بھئی عرف کے اندر، سمجھ میں ایا؟ معلوم ہوا ملک کے اندر کیا ضابطہ ہے؟ کہ ساری چیز کا ملکیت کے اندر اکٹھا ہونا، پھر مالک کہیں گے، ساری چیز کا اکٹھا ہونا ضروری۔ جبکہ شراء میں ملکیت کے اندر ساری چیز کا اکٹھا ہونا ضروری نہیں ہے، اب اس نے دیکھو تین چیزیں خریدی ہیں اور دو کو آگے خرید کر بیچ چکا ہے، لیکن پھر بھی کہیں گے، یہ تینوں چیزوں کا خریدنے والا ہے، یہ تینوں چیزیں خرید چکا ہے، خریدی ہیں یا نہیں اس نے تینوں چیزیں؟ خریدی ہیں، معلوم ہوا حالانکہ اب ان میں سے دو کو آگے بیچ چکا ہے، اس وقت صرف ایک چیز اس کی ملکیت میں ہے، پھر بھی اپ کہتے ہیں یہ تینوں چیزیں خرید چکا ہے، تینوں چیزوں کا یہ خریدار ہے۔ معلوم ہوا شراء کے اندر ساری چیز کا ملکیت میں اکٹھا ہونا ضروری، ملکیت میں اس وقت صرف ایک چیز ہے، پھر بھی ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ تینوں چیزیں خرید چکا ہے۔ صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: والأصل في الشراء، اور شراء کے اندر اصل یہ ہے کہ أن لا يشترط اجتماع الكل في الملك، کہ شرط نہیں ہے ساری چیز کی جمع ہونے کی ملکیت کے اندر، والأصل في الملك، اور ملک کی، ملکیت کے اندر اصل یہ ہے کہ أن يشترط الاجتماع عرفا، کہ ساری چیز کا اکٹھے ہونے کی شرط ہے عرفاً، عرف میں یعنی عام لوگوں کے اندر بھئی۔
فإن اشترى نصف عبد، اگر کسی نے خریدا نصف غلام کو، دیکھیے بھئی، اس نے کیا کہا تھا؟ پہلی صورت میں: إن اشتريت عبدا فهو حر، اگر میں نے کوئی غلام خریدا تو وہ آزاد، اس نے پہلے ادھا غلام خریدا اور پھر اس کو بیچ دیا ادھے کو آگے، پھر بقایا کے ادھے غلام خرید لیا، وہی والا غلام باقی نصف بھی خرید لیا، کہتے ہیں یہ دوسرا نصف جیسے ہی خریدے گا، آزاد ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ اس نے کیا کہا تھا؟ اگر میں نے کوئی غلام خریدا، تو پورے غلام کا خریدنا پایا گیا یا نہیں بھئی؟ ملکیت میں تو اس وقت ادھا ہے، لیکن شراء کے اندر ملکیت میں سارے اکٹھے ہونے کی شرط ہی نہیں ہے، شراء کے اندر ساری چیز کا خریدنا بس ضروری ہے، تین چیزیں اگر خریدی ہیں، تو ہم کہیں گے ان تین چیزوں کا خریدنے والا ہے، غلام اس نے ادھا ادھا کر کے دو حصوں میں خریدا ہے، یا 10 حصوں میں بےشک خرید لے، تو آگے خریدتا گیا اور جو پہلے خریدا تھا، وہ حصہ آگے بیچ دیتا ہے، تو جب غلام پورا ہو جائے گا، شراء کے اندر پورا غلام ا جائے گا، تو اس وقت جو حصہ اس کی ملکیت میں ہے، وہ آزاد ہو جائے گا۔ تو لہذا اس وقت اس نے ادھا غلام تو پہلے ہی آگے بیچ دیا تھا، اور ادھا غلام اب اس کی ملکیت میں ہے، تو اب پورا غلام خرید لیا یا نہیں خرید لیا؟ اور اس نے بھی کہا تھا: إن اشتريت عبدا فهو حر، کہ میں جب پورا ایک غلام خرید لوں گا تو وہ آزاد ہے، لہذا اس وقت ادھا غلام تو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، وہ تو پہلے بیچ چکا ہے، وہ تو آزاد نہیں ہوگا، لیکن یہ جو ادھا ہے جو اس کی ملکیت میں ہے، یہ کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟
لیکن اگر اس نے یہ کہا تھا: إن ملكت عبدا فهو حر، اگر میں کسی غلام کا مالک ہوا تو وہ آزاد ہے، چنانچہ اس نے پہلے ادھا غلام خریدا، پھر اس کو آگے بیچ دیا، پھر بقایا ادھا غلام بھی اس نے وہی والا خرید لیا اور اب مولانا، اس نے کیا یہ نصف ثانی آزاد ہوگا یا نہیں ہوگا بھئی؟ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ سارے غلام کا مالک نہیں، اس نے تو کہا تھا: إن ملكت عبدا، اگر میں ایک غلام کا کیا ہوا؟ مالک ہوا، اور یہ ایک غلام کا مالک ہے؟ نہیں، یہ تو ادھے غلام کا اس وقت مالک ہے، تو ملکیت کے اندر پوری چیز کا جمع ہونا ضروری ہے۔
تو کہتے ہیں: "فَإِنِ اشْتَرَى نِصْفَ عَبْدٍ" پس اگر خریدا کسی نے نصف، اس اس شخص نے اگر خرید لیا نصف غلام کو، "وَبَاعَهُ" اور اسے بیچ دیا، "ثُمَّ اشْتَرَى النِّصْفَ الْآخَرَ" پھر باقی دوسرے نصف کو بھی خرید لیا، "يَعْتِقُ هَذَا النِّصْفُ" تو آزاد ہو جائے گا یہ والا نصف، "فِي صُورَةِ الشِّرَاءِ" کس کے اندر؟ شراء کی صورت میں، خریدنے کی صورت میں۔ "لَا فِي صُورَةِ الْمِلْكِ" ملکیت کی صورت میں یہ آدھا باقیہ آزاد نہیں، یعنی اگر اس نے 'إِنْ مَلَكْتُ' کہا تھا پھر یہ آدھا آزاد نہیں ہوگا۔
اور یہ جی، تو یہ جو الشراء کی صورت میں آدھا دوسرا آدھا کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ اور ملکیت کی صورت میں دوسرا آدھا آزاد نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں یہ "بِاعْتِبَارِ الْمَعْنَى الْحَقِيقِيِّ" کس اعتبار سے ہے؟ معنی حقیقی کے اعتبار سے ہے، یعنی شراء بول کر شراء ہی مراد ہو، ملک بول کر ملک ہی مراد ہو تو اس وقت یہ مسئلہ اس طرح ہے بھئی۔
"فَإِنْ قَالَ" اگر اس نے یوں کہا "أَرَدْتُ بِأَحَدِهِمَا الْآخَرَ" کہ میں نے ارادہ کیا ہے ان دونوں میں سے ایک کے ذریعہ دوسرے کا، یعنی ملک بول کر شراء مراد ہے اور شراء بول کر ملک مراد ہے، کہتے ہیں: "يُصَدَّقُ فِي الصُّورَتَيْنِ دِيَانَةً" تو اس کی تصدیق کی جائے گی دونوں صورتوں میں دیانۃً بھئی۔ یہ اللہ اور اس کے درمیان کا معاملہ ہے، مفتی سے مسئلہ پوچھے گا تو مفتی کیا کرے گا؟ اس کی نیت کے مطابق اسے فتویٰ دے دے گا۔
کیوں بھئی؟ کیوں دیانۃً اس کی تصدیق کیوں کی جائے گی دونوں صورتوں میں؟ کہتے ہیں: "لِصِحَّةِ الِاسْتِعَارَةِ" بوجہ استعارہ کے صحیح ہونے کے، کیونکہ استعارہ دونوں طرف سے صحیح ہے بھئی، دونوں میں اتصالِ علت معلول والا ہے اور اس میں دونوں طرف سے استعارہ صحیح ہوتا ہے۔
"فَيَعْتِقُ نِصْفُ الْعَبْدِ الْبَاقِي فِي صُورَةِ مَا نَوَى الشِّرَاءَ بِالْمِلْكِ" پس آزاد ہو جائے گا باقی کا نصف غلام بھی اس صورت کے اندر جب اس نے نیت کس چیز کی کی تھی؟ شراء کی کی تھی، کس کے ذریعہ؟ ملکیت کے ذریعہ۔ اس نے کہا تو یہ تھا 'إِنْ مَلَكْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ'، اس کلام کا حقیقی معنی کیا تقاضا کرتا ہے؟ بقیہ نصف غلام کو خریدے تو آزاد ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے؟ ملکیت بول کر کیا ارادہ، کون سی صورت ہے؟ ہاں، ملکیت بول کر شراء کا ارادہ کیا۔ بقیہ نصف غلام آزاد ہوگا یا نہیں؟ ہو جائے گا، کیونکہ ملکیت کہہ تو 'إِنْ مَلَكْتُ' رہا ہے لیکن ارادہ کس کا؟ شراء، اور شراء میں تو سارے کا جمع ہونا ضروری نہیں، لہٰذا نصف غلام جو باقی کا ہے وہ آزاد ہو جائے گا۔
"وَلَنْ يَعْتِقَ فِي صُورَةِ مَا نَوَى الْمِلْكَ بِالشِّرَاءِ" اور آزاد نہیں ہوگا غلام اس صورت کے اندر جبکہ اس نے ملکیت کی نیت کی ہے شراء کے ذریعہ۔ کیسے؟ اس نے کہا تو 'إِنِ اشْتَرَيْتُ' تھا، لہٰذا 'إِنِ اشْتَرَيْتُ' میں لیکن ارادہ کس کا کیا اس نے؟ ملکیت کا، لہٰذا نصفِ ثانی جو خریدے گا وہ آزاد نہیں، کیونکہ ارادہ کس کا ہے؟ ملکیت کا، اور ملکیت کے اندر کیا ضروری ہے؟ سارے غلام کا ملکیت میں جمع ہونا، اور اس وقت آدھا غلام اس کی ملکیت میں ہے، سارا غلام ملکیت میں جمع نہیں ہے۔
کہتے ہیں: "وَلَكِنَّ الْقَاضِيَ لَا يُصَدِّقُهُ فِي هَذَا الْأَخِيرِ" لیکن قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا اس اخیر آخر دوسرے آخری والے میں بھئی۔ کون سی صورت میں قاضی تصدیق نہیں کرے گا؟ کہ شراء بول کر کس کا ارادہ کرے؟ ملکیت کا۔
بائی دیکھیے، دو صورتیں بنیں۔ پہلی صورت کیا؟ شراء بول کر کس کا ارادہ، پہلی صورت کیا تھی؟ ہاں، ملکیت بول کر کس کا ارادہ کیا؟ شراء کا۔ ملکیت بول کر شراء، اب ملکیت بول کر جب شراء کا ارادہ کیا ہے اس نے تو نصفِ ثانی غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ لیکن اگر ملکیت کو حقیقی معنی پر رکھتے تو نصفِ ثانی نے آزاد ہونا تھا؟ نہیں، اور اس نے کس کی ملکیت بول کر کس کی نیت کی ہے؟ شراء کی، لہٰذا نصفِ ثانی کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ تو اس مسئلے کے اندر اس کا فائدہ ہے یا نقصان ہے؟ نقصان ہے، اس کا کیا ہے؟ نقصان ہے، لہٰذا اس صورت میں چونکہ اس کا نقصان ہے کسی قسم کی بدگمانی دلوں میں نہیں آ سکتی، لہٰذا قاضی کے پاس اگر وہ اس صورت میں کیا کرے گا قاضی اس کی؟ قاضی بھی تصدیق ہی کرے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
لیکن اگر وہ کہتا ہے کہ میں نے شراء بول کر کس کا ارادہ کیا ہے؟ ملکیت کا، پھر قاضی تصدیق نہیں کرے گا۔ شراء بول کر، اس نے کیا کہا تھا؟ 'إِنِ اشْتَرَيْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ'، اگر میں نے کوئی غلام خریدا تو وہ آزاد ہے۔ لہٰذا غلام آدھا خرید کر اس نے بیچ دیا، پھر بقیہ کا آدھا خرید لیا، شراء کا اگر حقیقی معنی ہو تو پھر کیا ہوتا ہے؟ یہ نصفِ ثانی آزاد ہو جاتا ہے، لیکن وہ کیا کہتا ہے؟ میں نے تو شراء بول کر کس کا ارادہ کیا تھا؟ ملکیت کا، اب غلامِ ثانی آزاد نہیں، چنانچہ غلام کو بھی پتا تھا اس نے یہ تعلیق کی ہوئی ہے بھئی، یہ قسم اٹھائی ہوئی ہے، لہٰذا وہ کہتا ہے بھئی آپ نے کیا کہا تھا؟ 'إِنِ اشْتَرَيْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ'، تو اب میں آزاد ہو گیا بھئی میرا نصف بھئی۔ وہ کہتا ہے: نہیں نہیں بھئی، میں نے تو شراء بول کر کس کا ارادہ کیا ہے؟ ملکیت کا ارادہ کیا تھا، ملکیت میں پورے تم جمع نہیں ہوئے میری ملکیت میں، وہ قاضی کے پاس چلا جاتا ہے، تو کہتے ہیں: یاد رکھیے قاضی اس صورت قاضی اسے بلاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ شراء بول کر میں نے کس کا ارادہ کیا تھا؟ ملکیت کا، قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا، اس کے خلاف فیصلہ دے دے گا، کیوں؟ تهمت کی وجہ سے مولانا، تهمت کا معنی بدگمانی، بدگمانی۔ تو دیکھو اگر شراء بول کر شراء ہی رکھتے تو نصفِ ثانی آزاد ہونا چاہیے تھا، لیکن وہ شراء بول کر کیا مراد لے رہا ہے؟ ملکیت مراد لے رہا ہے، اور اس صورت میں نصفِ ثانی آزاد نہیں، تو اس میں اس کا فائدہ ہے۔ اس کا فائدہ، معلوم ہوا یہ غلام یہ چاہتا ہے غلام میرے ہاتھ سے نہ نکلے، غلام میرے ہاتھ سے نہ نکلے۔ تو یہ اپنے فائدے والی صورت اختیار کر رہا ہے تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ لگتا ہے یہ اپنے نفع کے لیے کیا کر رہا ہے؟ جھوٹ بول رہا ہے، تو لہٰذا اس صورت میں چونکہ اس کے لیے آسانی ہے، اس کا فائدہ ہے تو قاضی تهمت کی وجہ سے اس کی تصدیق نہیں کرے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَلَكِنَّ الْقَاضِيَ لَا يُصَدِّقُهُ فِي هَذَا الْأَخِيرِ" لیکن قاضی تصدیق اس کی نہیں کرے گا اس آخری صورت کے اندر، "لِأَنَّهُ نَوَى تَخْفِيفًا عَلَيْهِ" اس لیے کیونکہ اس نے اپنے لیے یہ تخفیف کی نیت کی ہے، "فَيَصِيرُ مُتَّهَمًا فِي هَذِهِ النِّيَّةِ" تو وہ کیا ہو جاتا ہے؟ متہم ہو جاتا ہے اس نیت کے اندر، یعنی اس کے بارے میں بدگمانی آتی ہے مولانا۔
"هَكَذَا قَالُوا" اسی طرح علماء نے فرمایا ہے، شارح فرماتے ہیں: یہ علماء اسی طرح اس مقام پر یہی تقریر کرتے ہیں جو میں نے کی ہے۔ "وَاُعْتُرِضَ عَلَيْهِ" لیکن اس پر اعتراض کیا گیا ہے، بھئی دیکھیے! پہلی صورت کے اندر تصدیق کرے گا قاضی، دوسری صورت کے اندر قاضی تصدیق نہیں کرے گا کیونکہ وہ اپنے لیے کیا طلب کر رہا ہے؟ آسانی اور سہولت کو، غلام اس کے ہاتھ سے نہ نکلے، شراء بول کر وہ کس کا ارادہ کر رہا ہے؟ لہٰذا قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا، اور پہلی صورت کون سی تھی؟ ملکیت بول کر شراء کا ارادہ کر رہا ہے، اس میں چونکہ اس پر سختی ہے، تو لہٰذا قاضی اس میں تصدیق کرے گا۔
اس پر بعض علماء نے اعتراض کیا کہ نہیں، پہلی صورت میں بھی اس پر تخفیف ہے لہٰذا اس صورت میں بھی قاضی کو اس کی تصدیق نہیں کرنی چاہیے۔ تخفیف کیسے ہے بھئی؟ اس نے تو کہا تھا 'إِنْ مَلَكْتُ عَبْدًا'، 'إِنْ مَلَكْتُ عَبْدًا' اور 'إِنْ مَلَكْتُ' کی صورت میں نصفِ ثانی حقیقی معنی کے اعتبار سے آزاد ہوگا یا نہیں؟ نہیں ہوگا، کیونکہ پورا غلام ملکیت میں جمع نہیں، لیکن وہ کہتا ہے ملکیت بول کر کیا ارادہ ہے؟ شراء کا، تو نصفِ ثانی کیا ہو جاتا ہے؟ آزاد ہو جاتا ہے۔ تو 'إِنْ مَلَكْتُ' بول کر معلوم ہوا شراء کے ارادے میں قاضی اس کی کیا کرے گا اس کی؟ تصدیق، کہتے ہیں: نہیں، یہاں پر بھی وہ اپنے لیے تخفیف طلب کر رہا ہے، کہتے ہیں: کیسے بھئی؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ اس نے کہا تھا 'إِنْ مَلَكْتُ' اور کیا کہہ رہا ہے ارادہ کس کا ہے؟ شراء کا، حالانکہ مالک بننے کی کئی صورتیں ہیں۔
مالک وہ کسی غلام کا بن جاتا ہے بطورِ وراثت کے اسے مل جاتا ہے، کوئی اسے ہبہ کر دیتا ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ یا اسے کیا کر لیتا ہے؟ خرید لیتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو یا اسے کوئی وصیت کر دیتا ہے مرنے سے پہلے کسی شخص نے وصیت کر دی کہ یہ میرا غلام فلاں کو دے دینا، تو مالک 'إِنْ مَلَكْتُ' میں کئی صورتیں آ جاتی تھیں، شراء کے ذریعہ بھی مالک بنے تو بھی غلام کیا ہو جاتا ہے؟ آزاد۔ اچھا، ہبہ کے ذریعہ غلام کا مالک بنے، اس نے تو کہا تھا 'إِنْ مَلَكْتُ'، یہ تو نہیں کہا نا 'إِنِ اشْتَرَيْتُ'، 'إِنْ مَلَكْتُ'، تو مالک بنے جس صورت میں بھی مالک بنے غلام کو کیا ہونا چاہیے؟ آزاد ہونا چاہیے، چاہے وہ شراء کے ذریعہ بنے، چاہے وہ ہبہ کے ذریعہ بنے، چاہے وہ وصیت کے ذریعہ بنے، یا چاہے تو وہ وراثت کے ذریعہ بنے بھئی، چاروں صورتوں میں غلام آزاد ہونا چاہیے۔ تو چار صورتیں تھیں 'إِنْ مَلَكْتُ' کے اندر داخل ہو رہی تھیں، لیکن اس نے کیا کہا؟ 'إِنْ مَلَكْتُ' بول کر میرا کس کا ارادہ ہے؟ 'إِنِ اشْتَرَيْتُ' ملک بول کر میرا شراء کا ارادہ ہے، تو ملکیت کی تو چار صورتیں تھیں اس نے ملکیت کو کس صورت میں بند کر دیا؟ شراء میں، تو تخفیف آ گئی یا نہیں آ گئی مولانا؟ جی؟ اس صورت میں چاروں صورتوں میں غلام آزاد ہوتا تھا، اب صرف خریدنے کی صورت میں غلام آزاد ہوگا باقی صورتوں میں آزاد نہیں ہوگا، تو لہٰذا اس صورت میں بھی تو وہ اپنے لیے کیا کر رہا ہے؟ تخفیف کو طلب کر رہا ہے۔
تو شارح جواب دیں گے مولانا، کہتے ہیں: بھئی! ہاں، ٹھیک ہے یہ اعتراض ہوتا ہے، لیکن ماتن پر نہیں ہوتا کیونکہ ماتن نے قضاءً کی بات ہی نہیں کی، انہوں نے صرف دیانۃً کی بات کی ہے کہ دیانۃً کیا کی جائے گی اس کی؟ تصدیق کی جائے گی۔ ہاں، دیگر مصنفین جنہوں نے اس کو ذکر کیا، قضاءً کو بھی ساتھ ذکر کیا ہے، ان پر یہ اعتراض ہوتا ہے۔
لیکن اس کا بھی پھر کہتے ہیں بھئی اکثر کا اعتبار کیا جاتا ہے، اور اکثر جو انسان کسی چیز کا مالک بنتا ہے وہ شراء کے ذریعہ بنتا ہے، وراثت، وصیت اور ہبہ کے ذریعہ کبھی کبھار ہی کسی چیز کا مالک بنتا ہے، تو اکثر کا اعتبار ہے لہٰذا اس صورت میں قضاءً اس کی تصدیق کی جائے گی اور دوسری صورت میں قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی۔
تو کہتے ہیں: "وَاُعْتُرِضَ عَلَيْهِ" اور اس پر اعتراض کیا گیا ہے "أَنَّ فِي الصُّورَةِ الْأُولَى أَيْضًا تَخْفِيفًا عَلَيْهِ" کہ پہلی صورت کے اندر بھی اس پر تخفیف ہی ہے، آسانی ہی ہے "لِأَنَّ الْمِلْكَ كَانَ أَعَمَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ بِالشِّرَاءِ أَوْ بِالْهِبَةِ أَوْ بِالْوَصِيَّةِ أَوْ بِالْإِرْثِ" اس لیے کیونکہ ملکیت جو تھی وہ عام تھی کہ وہ تو یا شراء کے ذریعہ ہو یا ہبہ کے ذریعہ ہو یا وصیت کے ذریعہ ہو "أَوْ بِالْإِرْثِ" یا وراثت کے ذریعہ ہو، "وَالشِّرَاءُ يَخْتَصُّ بِسَبَبٍ مُعَيَّنٍ مِنْهَا" اور شراء تو خاص ہے ان میں سے ایک معین سبب کے ساتھ، "فَيَنْبَغِي أَنْ لَا يُصَدَّقَ قَضَاءً فِي الْأَوَّلِ أَيْضًا" پس مناسب ہے کہ اس کی قضاءً پہلی صورت میں بھی تصدیق نہ کی جائے کیونکہ اس میں بھی وہ اپنے لیے تخفیف کا ارادہ کر رہا ہے۔
کہتے ہیں: "وَلَكِنَّ هَذَا لَا يَرِدُ عَلَى الْمُصَنِّفِ" لیکن یہ اعتراض مصنف پر وارد نہیں ہوتا، "لِأَنَّهُ لَمْ يَتَعَرَّضْ لِذِكْرِ الْقَضَاءِ" اس لیے کیونکہ وہ قضا کے ذکر کے درپے نہیں ہوئے، اس کے پیچھے نہیں پڑے، یعنی اس کو ذکر ہی نہیں کیا انہوں نے سرے سے۔
"وَهَذَا كُلُّهُ إِذَا قَالَ عَبْدًا مُنَكَّرًا" اور یہ سارا مسئلہ اس صورت میں ہے جب اس شخص نے 'عَبْدًا' نکرہ کہا ہو، 'إِنِ اشْتَرَيْتُ عَبْدًا' کیا کہا ہو؟ 'عَبْدًا' کا لفظ نکرہ کہا ہو، اور اگر معرفہ کہا: 'إِنِ اشْتَرَيْتُ الْعَبْدَ' یعنی کوئی معین غلام، کسی معین غلام کی طرف اشارہ کیا کہ اگر میں اس غلام کو میں نے خریدا یا اس غلام کا میں مالک ہوا، تو اس صورت کے اندر یاد رکھیے مولانا! اب اجتماع اور متفرق ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
چاہے 'إِنِ اشْتَرَيْتُ' کہا ہو، چاہے 'إِنْ مَلَكْتُ' کہا ہو، دونوں صورتوں کے اندر غلام کیا ہوگا؟ آزاد ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دونوں صورتوں میں، اس لیے کیونکہ یہ اکٹھا ہونا اور الگ الگ ہونا یہ صفت ہے اور صفت کا اعتبار غائب میں کیا جاتا ہے، اور جو چیز متعین ہے اور سامنے جس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے اس کے اندر صفت کا کوئی اعتبار نہیں، اس کی ذات متعین ہے تو یہاں تفریق اور اجتماع کو نہیں دیکھیں گے۔ وہ تو صفات کا اعتبار نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: یہ سارا اس وقت تھا جب اس نے 'عَبْدًا' نکرہ کہا، "أَمَّا إِذَا قِيلَ هَذَا الْعَبْدُ" اور جس وقت 'هَذَا الْعَبْدُ' یہ معین غلام کہا جائے، "فَالْمِلْكُ وَالشِّرَاءُ سَوَاءٌ" تو پھر ملک اور شراء دونوں برابر ہیں، "فِي أَنَّهُ لَا يُشْتَرَطُ الِاجْتِمَاعُ فِيهِ" اس لیے کہ اس صورت میں اس کے اکٹھا ہونے کی شرط نہیں لگائی جائے گی، شرط نہیں ہوگی، "لِأَنَّ التَّفَرُّقَ وَالِاجْتِمَاعَ وَصْفٌ" اس لیے کہ تفرق اور اجتماع یہ دونوں وصف ہیں، اکٹھا ہونا اور الگ الگ ہونا یہ وصف ہیں، "وَالْوَصْفُ فِي الْحَاضِرِ لَغْوٌ" اور حاضر کے اندر وصف لغو ہے، وصف کا وہاں کوئی اعتبار نہیں، وہ ذات خود موجود ہے وہاں، "وَفِي الْغَائِبِ مُعْتَبَرٌ" اور غائب کے اندر کیا ہے؟ یہ تفرق اور اجتماع معتبر ہے مولانا۔ چلیے بس مولانا، ھذا ہو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام۔