Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-049

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 147
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔49 ثم لما فرغ المصنف رحمه الله عن التفريعات شرع في بيان علاقات المجاز فقال: وطريق الاستعارة الاتصال بين الشيئين صورة أو معنى. حقيقت اور مجاز كى بحث ہم نے شروع كى تھی مصنف رحمہ اللہ نے آخر میں آپ كو ایک رابطہ بتلايا كہ ہمارے نزديك حقيقت اور مجاز دونوں جمع نہیں ہو سكتے كہ ایک ہی وقت میں دونوں معانی كاا ارادہ كيا جائے، معنى موضوع لہ كا بھی اور معنى غير موضوع لہ كا اور پھر اس پر تفريعات ذكر كين، پھر كچھ اعتراضات اور ان كے جوابات ديے۔ اب آگے مجاز كے علاقے بيان كرنے لگے ہیں بھئی، کہتے ہیں: ثم لما فرغ المصنف رحمه الله، پھر جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے عن التفريعات تفريعات سے شرع في بيان علاقات المجاز تو شروع ہوئے مجاز كے علاقوں كے بيان میں فقال: پس فرمايا وطريق الاستعارة الاتصال بين الشيئين، اور استعارے كا طريقہ جو ہے وہ اتصال كا پايا جانا ہے بين الشيئين دو چيزوں كے درميان صورۃ أو معنى صورت كے اعتبار سے يا معنى كے اعتبار سے۔ اچھا بھئی آگے شارح بھی بيان كریں گے بھئی ياد ركھيے ایک استعارہ اصطلاح ہے علماء اصول فقہ كى اور ایک استعارہ اصطلاح ہے علم بيان والوں كى علم بلاغت والوں كى۔ تو ياد ركھيے علم بلاغت كے اندر استعارہ كى اور تعريف ہے علم اصول فقہ میں اور تعريف ہے۔ علم بلاغت والوں كے نزديك اگر لفظ كو معنى موضوع لہ میں استعمال كيا جائے تو يہ حقيقت ہے، اگر معنى غير موضوع لہ میں استعمال كيا جائے تو يہ مجاز ہے۔ پھر مجاز كى آگے وہ تقسيم كرتے ہیں بھئی، بھئی ایک لفظ كو آپ نے معنى غير موضوع لہ میں استعمال كيا تو اس كى ضرور كچھ نہ كچھ مناسبت ہو گى موضوع لہ كے ساتھ، سمجھ میں آيا بھئی؟ كچھ نہ كچھ مناسبت ہو گى اس معنى غير موضوع لہ كى كس كے ساتھ ہو گى مناسبت؟ موضوع لہ كے ساتھ۔ اب يہ مناسبت اور علاقہ اور تعلق اور ربط جو ہے اگر يہ تشبيہ والا ہو تو پھر يہ كہلاتا ہے استعارہ اور اگر يہ علاقہ تشبيہ كے علاوہ كوئى اور ہو تو پھر يہ كہلائے گا مجاز مرسل بھئی، كيا كہلائے گا؟ مجاز مرسل۔ يعنى معنى موضوع لہ اور معنى غير موضوع لہ میں اگر علاقہ تشبيہ كا ہو تو يہ علم بلاغت والوں كے نزديك يہ كہلائے گا استعارہ اور اگر علاقہ تشبيہ كے علاوہ كوئى اور علاقہ ہو تو اس صورت میں كيا كہلائے گا؟ مجاز مرسل۔ سمجھے؟ مجاز مرسل اس كے بہت سے علاقے ہیں 25 علاقے بيان كریں گے، تو 25 علاقے ہیں۔ مثلاً كل بول كر جز مراد لے لينا اور جز بول كر كل مراد لے لينا، علت بول كر معلول مراد لے لينا، معلول بول كر علت مراد لے لينا، سبب بول كر مسبب كا ارادہ كرنا، مسبب بول كر سبب كا ارادہ كرنا، اسی طرح محل بول كر حال كا ارادہ كرنا، حال بول كر محل كا ارادہ كرنا وغيرہ بھئی بہت سے علاقے ہیں۔ تو يہ سب مجاز مرسل كہلاتے ہیں۔ تو يہ تھا علم بلاغت والوں كے نزديك ليكن علماء اصول فقہ كے نزديك مجاز جو ہے اور استعارہ مترادف ہیں بھئی، مجاز اور استعارہ كيا ہیں؟ مترادف۔ بھئی علم بلاغت والوں نے تو كہا تھا كہ اگر علاقہ تشبيہ كا ہو تب استعارہ ہے ورنہ مجاز مرسل ہے۔ جبكہ علماء اصول فقہ كے نزديك علاقہ چاہے تشبيہ كا ہو چاہے غير تشبيہ كا ہو جو بھی ہو يہ استعارہ كہلائے گا۔ معلوم ہوا ان كے نزديك مجاز اور استعارہ كيا ہیں؟ مترادف ہیں حالانكہ علم بلاغت والوں كے نزديك استعارہ قسم تھی مجاز كى، سمجھ میں آيا؟ مجاز تقسيم ہوتا تھا دو قسموں كى طرف ایک استعارہ اور ایک مجاز مرسل، جبكہ علم اصول فقہ والوں كے نزديك استعارہ اور مجاز مترادف ہیں بھئی، مترادف ہیں۔ تو علاقہ چاہے تشبيہ كا ہو چاہے غير تشبيہ كا ہو دونوں صورتوں میں يہ استعارہ كہلاتا ہے۔ ہاں پھر اس میں فرق وہ یوں كرتے ہیں كہ اگر علاقہ تشبيہ كا ہو تو پھر يہ كہيں گے كہ یہاں يہ جو دو چيزوں میں اتصال ہے وہ معنوى اعتبار سے اتصال ہے اور اگر دو اس كے علاوہ دوسرا ہو تو پھر كہيں گے اتصال باعتبار صورت كے ہے بھئی، كس كے اعتبار سے ہے؟ صورت كے اعتبار سے اتصال ہے، جی یہی اب بيان كریں گے اس حصے میں بھئی۔ ديكھيے تو مصنف فرماتے ہیں: وطريق الاستعارة الاتصال بين الشيئين صورة أو معنى، اور استعارے كا طريقہ وہ اتصال كا پايا جانا ہے دو چيزوں كے درميان صورت كے اعتبار سے يا معنى كے اعتبار سے۔ والاستعارة جی اب خود شارح بھی یہی تفصيل بيان كریں گے، كہتے ہیں: والاستعارة في عرف الأصوليين ترادف المجاز، استعارہ جو ہے علماء اصول كے عرف كے اندر يہ مترادف ہے مجاز كے وعند أهل البيان قسم من المجاز، اور اہل بيان كے نزديك قسم ہے كس میں سے؟ مجاز میں سے۔ فإن المجاز عندهم إن كانت فيه علاقة التشبيه يسمى استعارة بأقسامها، اس ليے كيوں كہ مجاز جو ہے ان كے نزديك اگر اس كے اندر علاقہ تشبيہ كا ہو يسمى استعارة بأقسامها تو يہ كيا كہلاتا ہے؟ استعارہ كہلاتا ہے اپنی اقسام كے ساتھ، سمجھ میں آيا؟ استعارہ پھر كئى قسم پر ہے تو بہرحال علاقہ اگر تشبيہ كا ہو تو پھر يہ استعارہ كہلاتا ہے بھئی۔ پھر يہ استعارہ ياد ركھيے چار قسم پر ہے بلاغت كى بحث ہے، ایک استعارہ بالكبايہ كہلاتا ہے، ایک استعارہ تخييلية كہلاتا ہے، ایک استعارہ ترشيحية ہے، اسی طرح استعارہ تصريحية ہے۔ استعارہ بالكنايہ اسے كہتے ہیں صرف جس میں مشبہ بہ ذكر كيا جائے بھئی یوں کہو، جس میں صرف كس كو ذكر كيا جائے؟ مشبہ بہ كو ذكر كيا جائے۔ جیسے أنشبت المنية أظفارها، موت نے اپنے پنجے گاڑ ديے۔ أنشبت المنية أظفارها، موت نے اپنے پنجے گاڑ ديے۔ يہ استعارہ بالكنايہ ہے مولانا، موت كو تشبيہ دى ہے درندے كے ساتھ، يہ كيا ہے؟ استعارہ بالتشبيہ كس كو دى؟ موت كو، كس كے ساتھ؟ درندے كے ساتھ، تو موت كيا ہے؟ مشبہ، اور درندہ كيا ہے؟ مشبہ بہ، اور عبارت میں صرف كيا ذكر ہے؟ مشبہ ذكر ہے بھئی صرف مشبہ، اس كو استعارہ بالكنايہ كہتے ہیں۔ تو استعارہ بالكنايہ دراصل اس كو كہتے ہیں كہ دل میں ایک چيز كو تشبيہ دى ہے كہنے والے نے دوسرى چيز كے ساتھ اور اپنی عبارت میں صرف اس نے مشبہ كو ذكر كيا مشبہ بہ كو ذكر ہی نہیں كيا۔ بھئی جب دل میں تشبيہ دى ہے تو ہمیں كيسا پتہ چلے گا بھئی؟ كہتے ہیں بھئی قرينہ وہاں موجود ہوگا وہ قرينہ استعارہ تخييلية كہلاتا ہے، كيا كہلاتا ہے؟ تخييلية بھائی। یہاں موت كو درندے سے تشبيہ دى کیسے پتہ چلا ہمیں بھئی؟ موت كے ليے پنجے ثابت كر دیے حالانكہ موت كے تو پنجے نہیں ہوتے پنجے تو درندے كے ہوتے ہیں بھئی، يہ پنجے كا لفظ بتلا رہا ہے معلوم ہوا اس نے موت كو كس كے ساتھ تشبيہ دى ہے؟ درندے كے ساتھ تشبيہ دى ہے اور پنجے تو لازم ہیں درندے كے ساتھ تو اس لازم كو مشبہ كے ليے ثابت كرنا يہ استعارہ تخييلية كہلاتا ہے۔ پنجے كس كا لازم ہے؟ مشبہ بہ كا، اور ثابت كس كے ليے كر ديا؟ مشبہ كے ليے، يہ كيا كہلاتا ہے؟ استعارہ تخييلية كہلاتا ہے، سمجھ میں آيا؟ اور یہی قرينہ ہوتا ہے اس كے ذريعے استعارہ بالكنايہ كا پتہ لگتا ہے بھئی ورنہ ویسے كيا پتہ لگے گا دل كے اندر تشبيہ دى ہے۔ تو مشبہ بہ كے لازم كو مشبہ كے ليے ثابت كرنا يہ استعارہ تخييلية كہلاتا ہے، اور مشبہ بہ كے مناسب كو مشبہ كے ليے ثابت كرنا يہ كيا كہلاتا ہے؟ استعارہ ترشيحية بھئی استعارہ ترشيحية۔ صورت سمجھ میں آگئى بھئی؟ يہ پنجے تو لازم تھے اس كے مناسب كو اگر ثابت كيا جائے تو يہ كيا كہلاتا ہے؟ استعارہ ترشيحية، تو جہاں بھی استعارہ بالكنايہ ہوگا وہاں استعارہ تخييلية ضرور ہوگا كيوں كہ يہ اس كا قرينہ ہوتا ہے۔ ہاں ساتھ ساتھ كبھی استعارہ ترشيحية بھی ہوگا اور كبھی استعارہ ترشيحية نہیں ہوگا، سمجھ میں آئى بات بھئی؟ اور استعارہ تصريحية وہ اس كا عكس ہے كہ مشبہ بہ عبارت میں ذكر ہو اور مشبہ كيا ہو؟ محذوف ہو بھئی، جی آگے ديكھيے بھئی۔ وإن كانت فيه علاقة غير التشبيه من العلاقات الخمس والعشرين مثل السببية والمسببية والحال والمحل واللازم والملزوم وغيرها يسمى مجازا مرسلا، اور اگر علاقہ جو ہے ان چيزوں میں اگر علاقہ تشبيہ كے علاوہ دو معنى میں اگر علاقہ تشبيہ كے علاوہ كوئى اور علاقہ ہو 25 علاقوں میں سے مثال كے طور پر سببیت جو ہے اور مسببیت كا علاقہ، حال اور محل ہے، لازم اور ملزوم وغيرہ يہ علاقے ہوں تو يسمى مجازا مرسلا تو اس كو كيا كہتے ہیں؟ مجاز مرسل كہتے ہیں۔ والمصنف رحمه الله عبر عن علاقات المجاز المرسل كلها بقوله صورة وعن علاقة الاستعارة المسمات بالتشبيه بقوله معنى، اور مصنف رحمہ اللہ نے تعبير كيا ہے مجاز مرسل كے تمام علاقوں كو اپنے قول "صورة" كے ذريعے اور استعارہ كے علاقے جو تشبيہ كہلاتے ہیں ان كو تعبير كيا ہے اپنے قول "معنى" كے ذريعے فكأنه قال، گويا كہ مصنف نے یوں فرمايا ہے۔ ديكھيے متن كى اب شرح كر رہے ہیں انہوں نے متن میں كہا تھا وطريق الاستعارة الاتصال بين الشيئين صورة أو معنى، گويا كہ انہوں نے یوں كہا كہتے ہیں: وطريق المجاز، ديكھو استعارہ كى جگہ كيا لفظ لے آئے؟ مجاز، كيوں كہ مترادف ہیں۔ كہ اور مجاز كا طريقہ جو ہے وجود العلاقة بين المعنى الحقيقي والمجازي، اتصال كا كيا ترجمہ كر رہے ہیں؟ اتصال كا معنى اتصال پايا جائے كيا معنى؟ ان میں كوئى علاقہ ہو۔ تو كہتے ہیں مجاز كا طريقہ علاقے كا پايا جانا ہے بين المعنى الحقيقي والمجازي معنى حقيقى اور معنى مجازى كے درميان بعلاقات المجاز المرسل أو بعلاقات الاستعارة، مجاز مرسل يا استعارے كے علاقوں میں سے كوئى ان میں علاقہ پايا جائے والأول هو الصوري والثاني هو المعنوي، پہلا علاقہ جو ہے يعنى وہ جو علاقہ اگر مجاز مرسل كے علاقوں میں سے ہو تو وہ صورى ہے بھئی، سمجھے؟ والثاني هو المعنوي اور اگر دوسرا علاقہ ہو تو وہ كيا ہے؟ معنوى ہے يعنى اگر تشبيہ والا علاقہ ہو۔ وأراد بالصوري أن تكون صورة المعنى المجازي متصلة بصورة المعنى الحقيقي بنوع مجاورة بأن يكون سببا له أو علة أو شرطا أو حالا أو عكسها، اور صورى كے ذريعے كہ ارادہ كيا مصنف نے كہ معنى مجازى كى جو صورت ہے وہ متصل ہو معنى حقيقى كى صورت كے ساتھ، معنى حقيقى كى صورت كس كے ساتھ يا معنى مجازى كى صورت كس كے ساتھ متصل ہو؟ يعنى معنى مجازى كى صورت كا تعلق اور ربط ہے كس كے ساتھ؟ معنى حقيقى كى صورت كے ساتھ بنوع مجاورة ایک نوع كى مجاورت كا بھئی ساتھ ہونے كا تعلق جیسے بأن يكون سببا له بایں طور كہ اس كے ليے سبب ہو أو علة يا كيا ہو؟ كيا سبب ہو؟ معنى مجازى كس كے ليے سبب ہو؟ معنى حقيقى كے ليے، أو علة يا اس كے ليے كيا ہو؟ علت ہو، أو شرطا يا كيا ہو اس كے ليے؟ شرط ہو، أو حالا يا حال ہو۔ جب يہ معنى مجازى معنى حقيقى كے ليے سبب ہے تو يہ ہوا سبب تو معنى حقيقى كيا ہوا؟ مسبب۔ يا يہ اس كے ليے علت ہو تو يہ علت ہوئی معنى مجازى، معنى حقيقى كيا ہوا؟ معلول۔ يا يہ اس كے ليے كيا ہو؟ شرط ہو تو وہ كيا ہوا؟ معنى حقيقى ہوا مشروط، أو حالا يا يہ كيا ہو معنى مجازى معنى حقيقى كے ليے؟ حال ہو اور معنى حقيقى اس كے ليے؟ محل ہو بھئی كيا ہو؟ محل، أو عكسها يا اس كا عكس كر لیں مولانا كہ معنى حقيقى كيا ہو؟ معنى مجازى كے ليے سبب ہو اور وہ اس كے ليے مسبب، يا معنى حقيقى جو ہے معنى مجازى كے ليے علت ہو اور معنى مجازى كيا ہو اس كے ليے؟ معلول ہو، يا معنى حقيقى شرط ہو اور معنى مجازى مشروط ہو، يا معنى حقيقى حال ہو اور معنى مجازى محل ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئى بھئی؟ حال اور محل كى بات سمجھ میں آئى بھئی؟ حال محل بھئی آپ استعمال كرتے ہیں بھئی، تو كيا مثال بنائيں بھئی اردو میں اس كى؟ ایک تو عام استعمال آپ كہتے ہیں بھئی نہر بہہ رہی ہے، نہر حال ہے نہیں نہر محل ہے تو نہر بہتی ہے يا پانی بہتا ہے اس كے اندر؟ پانی، تو یہاں محل بول كر كيا مراد ہے؟ حال مراد ہے حال مراد۔ اردو میں بھی آپ استعمال كرتے ہیں مولانا محل بول كر حال مراد ليتے ہیں، تو آپ سے آپ كا ساتھی كہتا ہے بھئی مثلاً لیں بھئی آپ چائے پی ليجئے، آپ نے كہا بھئی میں نے ایک كپ پی لی ہے، ایک كپ؟ بھئی آپ نے كپ پيا ہے يا چائے پی ہے؟ چائے، ليكن كپ بول كر كيا مراد ہے؟ يا اسی طرح گلاس میں پانی آپ كہتے ہیں میں نے ایک گلاس پی ليا بھئی پانی پيا ہے يا گلاس پيا ہے آپ نے؟ تو محل بول كر كيا مراد ہے؟ حال۔ وبالمعنوي تو تھا اتصال صورى، تو ديكھو اتصال صورى پايا جا رہا ہے مولانا، ایک سبب ہے دوسرا مسبب ہے يعنى دونوں ساتھ ساتھ ہیں آپس میں كيا ہے ان كى مجاورت ہے بھئی، سمجھ میں آيا؟ صورتاً اتصال ہے معنىً اتصال نہیں، جبكہ آگے آئے گا دوسرے كے اندر معنىً اتصال آئے گا بھئی، پہلے دوسری قسم ديكھ ليجئے: وبالعنوي أن يكونا متشاركين في معنى واحد خاص مشهور به في العرف، اور معنوى سے مراد يہ ہے كہ وہ دونوں معنى يعنى معنى حقيقى اور معنى مجازى متشاركين دونوں شريك ہوں في معنى واحد كس كے اندر؟ ایک معنى كے اندر خاص مشهور به في العرف جو خاص ہو اور مشہور ہو كس كے ساتھ؟ معنى حقيقى كے ساتھ يعنى مشبہ بہ کے ساتھ فی العرف، کس کے اندر؟ عرف کے اندر۔ عرف کے اندر شہرت ہے مولانا مشبہ بہ کی اس معنی کے ساتھ، اس کے ساتھ وہ معنی خاص ہے مولانا۔ جیسے اسد بول کر اپ بہادر ادمی مراد لیتے ہیں۔ اب بہادر ادمی تو اسد کا حقیقی معنی نہیں، حقیقی معنی کیا ہے؟ شیر۔ کیا، حقیقی معنی کیا ہے؟ شیر۔ اور ان دونوں کے، دونوں معنی حقیقی اور معنی مجازی ایک معنی کے اندر شریک ہیں دونوں۔ وہ کیا؟ بہادری۔ جیسے بہادری شیر کے اندر ہے اسی طرح بہادر ادمی میں بھی کیا ہے؟ بہادری موجود ہے۔ تو دونوں اس معنی کے اندر اپس میں شریک ہیں۔ اس معنی کے اندر اور شیر کیا ہے؟ اس معنی کے ساتھ خاص ہے اور اس کی شہرت ہے مولانا، سب لوگوں کو پتہ ہے۔ مثلاً اپ کہتے ہیں فلاں شیر کی طرح ہے، بس، سننے والا فوراً سمجھ جاتا ہے کیا بیان کرنا چاہتا ہے۔ بہادری بیان کرنا چاہتا ہے۔ تو لوگوں میں مشہور اور معروف ہے اس کی بہادری بھئی۔ تو یہاں دیکھو، دونوں معانی، معنی حقیقی اور معنی مجازی جو ہیں ان دونوں کے درمیان اتصال ایا اور کس چیز میں؟ ایک معنی کے اندر جس میں دونوں شریک ہیں اور وہ کیا ہے؟ بہادری ہے بھئی، جرات ہے بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ دونوں اس معنی میں شریک ہیں۔ جبکہ اتصال صوری کے اندر بھئی وہاں پر معنوی اعتبار سے شرکت نہیں ہوتی۔ معنوی اعتبار سے، وہاں صورتاً تو اتصال ہے، دونوں اپس میں ہیں، مجاورت ہے، ملے ہوئے ہیں، ساتھ ساتھ ہیں، لیکن وہاں معنی کے اعتبار سے کوئی شرکت نہیں ہے۔ مثلاً دیکھو، ایک ہے سبب، ایک ہے مسبب۔ سبب کسے کہتے ہیں؟ جو مفضی الی الشیء ہو، کسی چیز تک پہنچانے والا ہو، کسی چیز کا باعث بنتا ہے۔ یہ معنی مسبب میں نہیں ہے۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ علت کسے کہتے ہیں؟ کہ جس کے پائے جانے سے معلول کا پایا جانا ضروری ہو۔ یہ معنی علت میں تو ہے، معلول کے اندر یہ معنی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو وہاں معنوی اعتبار سے کوئی اتصال نہیں ہوتا، جبکہ یہاں پر کیا کس قسم کا اتصال ہے جب تشبیہ والا علاقہ ہو؟ معنوی اعتبار سے اتصال پایا جا رہا ہے دونوں معانی کے اندر، معنی حقیقی میں اور معنی دونوں ایک معنی کے اندر شریک ہوتے ہیں بھئی۔ بحث سمجھ میں اگئی ہے اچھی طرح؟ كما في تسمية الشجاع كما في تسمية الشجاع اسدا والمطر والمطر سماء، جیسے کہ بہادر کا نام شیر رکھنا شیر رکھنا یا بہادر کو شیر کہنا والمطر سماء اور بارش کو اسمان کہنا، سماء کہنا بھئی سماء۔ سماء سے مراد بادل ہے بھئی یہاں۔ بارش کو بادل کہنا بھئی بادل۔ کہتے ہیں، نشر على غير ترتيب اللف، یہ نشر ہے لف کی ترتیب کے پر جو نہیں ہے مولانا، جو لف کی ترتیب۔ بھئی لف کیا ایا تھا اوپر بھئی؟ میں نے بتلایا تھا لف و نشر کسے کہتے ہیں کہ چند چیزوں کو ذکر کیا جائے اور پھر ہر ایک سے متعلقہ اگے کوئی بات ذکر کی جائے اور یہ نہ ذکر کیا جائے پہلی کا تعلق کس سے، دوسری کا کس سے، تیسری کا کس سے ہے، سننے والا خود سمجھ جاتا ہے۔ اور پھر اگر لف کے اندر جو ترتیب تھی، نشر میں بھی وہی ترتیب ہو تو یہ لف و نشر مرتب کہلاتا ہے، اور اگر نشر میں وہ ترتیب نہ ہو تو پھر یہ کیا کہلاتا ہے؟ لف و نشر غیر مرتب۔ تو یہ لف و نشر غیر مرتب ہے اس لیے کیونکہ پہلی مثال کیا ذکر کی؟ شجاع کو کیا، بہادر ادمی کو کیا کہنا؟ شیر کہنا۔ یہ کون سا اتصال ہے ان کے درمیان بھئی؟ معنوی، حالانکہ متن میں کیا ایا تھا؟ صورتا او معنا، صورت کا ذکر پہلے تھا، معنی کا ذکر بعد میں، لیکن مثال کے اندر معنی کی مثال پہلے ذکر کر دی۔ اور بارش کو بادل کہنا مولانا، اب یہ دیکھو بارش حال ہے اور بادل محل ہے بھئی، بادل سے بارش اتر برستی ہے بھئی۔ تو یہاں پر اتصال کون سا ہے؟ معناً ہے یا صورتاً ہے؟ صورتاً اتصال ہے بھئی کہ اہ اہ محل بول کر کیا مراد ہے؟ حال مراد ہے۔ تو یہ صورت کی مثال ہوئی اور صورت متن میں پہلے تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں، نشر على غير ترتيب اللف، یہ نشر ہے غیر ترتیب لف پر، فإن الأول مثال للإتصال المعنوي، اس لیے کیونکہ پہلی جو ہے وہ مثال ہے اتصال معنوی کی، یعنی بہادر کو شیر کہنا، یہ اتصال معنوی کی مثال ہے، إذ الرجل الشجاع والهيكل المعلوم كلاهما متشاركان في المعنى اللازم المشهور المختص بالهيكل المعلوم، اس لیے کہ بہادر ادمی اور ہیکل معلوم، ہیکل کس کو کہتے ہیں؟ میں نے کیا بتلایا تھا؟ بھاری بھرکم جانور، جی۔ اور بھاری بھرکم وہ معلوم، بھاری بھرکم جانور جو ہیں، بہادر ادمی اور وہ بھاری بھرکم معلوم جانور جو ہیں كلاهما متشاركان، دونوں کیا ہیں؟ باہم اپس میں شریک ہیں، في المعنى اللازم المشهور المختص بالهيكل المعلوم، ایک ایسے معنی کے اندر جو لازم ہے، مشہور ہے اور مختص ہے کس کے ساتھ؟ ہیکل معلوم، اس ہیکل معلوم کے ساتھ جو ایک لازم معنی ہے، شیر کے ساتھ جیسے وہ بہادری کیا ہے؟ لازم ہے، مشہور ہے اور اس کے ساتھ مختص ہے۔ اس کے اس میں دونوں شریک ہیں، وهو الشجاعة أعني الجرأة، اور وہ کیا ہے؟ شجاعت یعنی جرات ہے بھئی۔ فلا يسمى الرجل أسدا باعتبار الحيوانية لعدم الاختصاص، اسی وجہ سے کہتے ہیں کسی ادمی کو اسد یہ حیوان ہونے کے اعتبار سے نہیں کہا جاتا۔ مثلاً کسی ادمی کو کہا بھئی یہ تو شیر یہ شیر ہے بھئی، اور کس اعتبار سے کہا؟ حیوان ہونے کے اعتبار سے، کیونکہ شیر جیسے حیوان ہے، یہ بھی کیا ہے؟ حیوان ہے بھئی۔ لیکن اس طرح کوئی بھی نہیں بولتا، وجہ یہ، کیونکہ حیوان ہونا شیر کے ساتھ خاص تو نہیں ہے، حیوان تو گھوڑا بھی ہے، گدھا بھی ہے، اونٹ بھی ہے، تو اس کے ساتھ مختص نہیں، حالانکہ کیا ضروری ہے اس کے ساتھ؟ مختص ہونا چاہیے، بہادری مختص ہے جانوروں میں سے شیر کے ساتھ۔ سمجھ میں ایا؟ تو اسی لیے کہا فلا يسمى الرجل أسدا، اسی وجہ سے کسی شخص کو شیر نہیں کہا جاتا باعتبار الحيوانية، حیوان ہونے کے اعتبار سے، لعدم الاختصاص، بموجب اختصاص کے نہ پائے جانے کے، ولا الأبخرية ہونا چاہیے مولانا، ولا الأبخرية، اس کا عطف حیوانیت پر ہوگا مولانا۔ اچھا جی، ولا الأبخرية، حیوانیت کو اٹھائیں مولانا، وہاں سے اگے یہ عبارت لگا دیں، تو کس طرح عبارت بن گئی؟ فلا يسمى الرجل أسدا باعتبار الأبخرية لعدم الشهرة، عبارت سمجھ میں اگئی بھئی؟ جی۔ اور اسی طرح کسی ادمی کو شیر نہیں کہا جاتا کس اعتبار سے؟ ابخر ہونے کے اعتبار سے، لعدم الشهرة، بموجب شہرت نہ ہونے کے بھئی۔ ابخر کہتے ہیں مولانا، بخر کہتے ہیں منہ کی بدبو کو بھئی۔ یاد رکھیے، شیر کے منہ سے بڑی سخت بدبواتی ہے بھئی۔ سمجھ میں ایا؟ بڑی سخت بدبواتی، اسی طرح شیر ہمیشہ بخار میں مبتلا رہتا ہے بھئی۔ تو شیر کے منہ سے سخت بدبواتی ہے، اب ایک شخص ہے اس کے منہ سے بھی سخت بدبواتی ہے، تو اسے کوئی نہیں اسد کہتا بھئی، حالانکہ یہ بھی اس کے ساتھ شریک ہے اس معنی کے اندر بھئی۔ کیوں نہیں کہا جاتا؟ عدم شہرت کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ عدم، کیونکہ اس شیر کے اہ ابخر ہونے کی شہرت زیادہ نہیں ہے، دیکھیے اپ کو بھی علم نہیں تھا، اج میں نے اپ کو بتلایا بھئی، علم تھا سب کو بھئی؟ ہو سکتا ہے ایک ادھ کو علم ہو، دو کو علم ہو، لیکن سب کو علم نہیں۔ تو یہ معنی مشہور نہیں ہے، حالانکہ ہم نے کیا کہا تھا، اس معنی کا ایک مختص ہونا چاہیے اور دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ مشہور ہونا چاہیے۔ تو لہذا کسی کو ابخر ہونے کے اعتبار سے اسد نہیں کہا جائے گا لعدم الشهرة، بموجب شہرت کے نہ ہونے کے۔ والثاني مثال للإتصال الصوري، اور دوسری مثال جو ہے وہ اتصال صوری کی ہے، یعنی بارش کو بادل کہنا، فإن صورة المطر تتصل بصورة السماء يعني سحابا، اس لیے کیونکہ بارش کی صورت جو ہے وہ متصل ہے اسمان کی صورت کے ساتھ، یعنی سحاب، یعنی کہ بادل۔ بادل یعنی سماء بول کر کیا مراد ہے؟ شارح یعنی سحاب کے ذریعے بتلا رہے ہیں کہ سماء سے مراد بادل ہے بھئی۔ یعنی بارش کی صورت وہ متصل ہے بادل کے ساتھ، فإن العرف يسمي كل ما علاك وأظلك سماء، اس لیے کہ عرف جو ہے یعنی عام لوگ جو ہیں وہ ہر وہ چیز جو اپ کے اوپر ہے اور اپ پر سایہ کیے ہوئے ہے اس کو سماء کہتے ہیں۔ عرب لوگ کیا کہتے ہیں؟ جو بھی چیز اوپر ہو اور سایہ کرنے والی ہو اسے کیا کہہ دیتے ہیں؟ سماء کہتے ہیں، تو لہذا بادل بھی چونکہ اوپر ہوتا ہے، سایہ کیے ہوئے ہے تو لہذا اسے بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ سماء کہہ دیتے ہیں۔ والمطر ينزل من السحاب، اور بارش اترتی ہے، برستی ہے بادل سے، فيكون متصلا به، تو بارش کیا ہوئی اس کے ساتھ؟ متصل ہوئی مولانا، مجاورت اگئی۔ تو لہذا یہاں پر بادل بول کر بارش مراد بھئی لینا۔ یہ مثال ہے اتصال صوری کی۔ ثم بين، پھر شارح پھر مصنف بیان کرتے، پھر مصنف نے یہ بیان کیا کہ أن هذين القسمين كما وجدا في الحسيات والمحاورات كذلك وجدا في الأحكام الشرعية، پھر مصنف رحمہ اللہ نے یہ بیان کیا کہ یہ دونوں قسمیں جو ہیں جس طرح حسیات کے اندر حسیات اور محاورات کے اندر پائی جاتی ہیں اسی طرح یہ احکام شرعیہ میں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ دو قسمیں بھئی، یہ جو اتصال صوری ہے اور اتصال معنوی ہے، یہ یہ اتصال جو ہے کی دونوں قسمیں جس طرح حسیات میں پائی جاتی ہیں، حسیات بھئی، کیا مراد ہے حسیات سے؟ جی؟ بھئی میں نے بتلایا تھا حواس پانچ ہیں مولانا، لیکن عرف میں محسوس سے کسے کہا جاتا ہے؟ جو انکھوں سے نظر ائے، یاد رکھنا ہے کتابوں میں جگہ جگہ ائے گا، اپ نے موقع محل دیکھنا ہے تو اس کے مطابق بھئی۔ تو یہاں پر حسیات کیا سے کیا مراد ہے؟ محسوسات مراد ہے جو انکھوں سے نظر ائے ہیں، اب دیکھیے مولانا جیسے حسیات کے اندر اتصال پایا جاتا ہے، دیکھو بارش حسی چیز ہے، غیر حسی ہے بھئی؟ حسی ہے، دکھائی دیتی ہے، بادل بھی کیا ہے؟ حسی، تو دونوں میں کیا ایا اتصال، اور کون سا اتصال ہے؟ اتصال صوری ہے، کیا ہے اتصال؟ صوری ہے۔ اسی طرح مولانا شیر، شیر بھی کیا ہے؟ حسی ہے، بہادر ادمی جو ہے وہ بھی کیا ہے؟ حسی ہے، تو یہاں بھی اتصال ایا دو حسی چیزوں میں، اور کون سا اتصال ہے؟ اتصال معنوی، تو یہی بات بیان کر رہے ہیں جیسے حسیات اور محاورات کے اندر یہ دونوں اتصال پائے جاتے ہیں اسی طرح یہ دونوں اتصال کس کے اندر پائے جاتے ہیں؟ احکام شرعیہ کے اندر بھی پائے جاتے ہیں، بات سمجھ میں اگئی؟ دیکھیے یہی بات بیان کر رہے ہیں، دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجئے، پھر بیان کیا مصنف رحمہ اللہ نے کہ یہ دونوں قسمیں اتصال کی جو ہیں جس طرح یہ حسیات اور محاورات میں پائے جاتے ہیں، محاورات عام بات چیت گفتگو، جس طرح یہ حسیات اور محاورات کے اندر پائے جاتے ہیں، كذلك وجدا في الأحكام الشرعية، اسی طرح یہ دونوں پائے جاتے ہیں کس کے اندر؟ احکام شرعیہ کے اندر، فقال، پس مصنف فرماتے ہیں، وفي الشرعيات الإتصال من حيث السببية والتعليل نظير الصورة، اور شرعی احکام کے اندر جو جو اتصال کا پایا جانا کس حیثیت سے؟ سببيت اور تعلیل کی حیثیت سے اتصال کا پایا جانا نظير الصورة، یہ کس کی نظیر ہے؟ صورت، اتصال صوری کے یہ نظیر ہے مولانا। بھئی دیکھیے، ایک چیز سبب ہوتی ہے، دوسری مسبب، تو سبب اور مسبب میں کیا ایا؟ اتصال اگیا، کیا ایا؟ اتصال ایا، یا اسی طرح احکام شرعیہ میں ایک چیز علت ہے اور دوسری کیا ہے؟ معلول ہے، تو علت اور معلول کا علاقہ ان دونوں کے درمیان ایا، تو یہ بھی نظیر ہے کس کی؟ جس طرح حسیات کے اندر کیا تھا؟ علاقہ تھا، اسی طرح یہاں ان دونوں کے اندر بھی علاقہ اگیا، تو یہ اس حسی کی نظیر ہو گئی، کیا ہو گئی؟ بھئی حسی تو وہ تھی نا جو انکھوں سے نظر ائے اور شرعی احکام کیا ہیں؟ وہ تو معنی کا نام ہے، اس کی تو کوئی الگ صورت نہیں ہوتی، تو لہذا وہاں یہاں اتصال ایا، وہاں بھی اتصال تھا، وہ تھا حسی، یہ کیا ہے؟ حسی نہیں، یہ تو عقلی ہے، لہذا تو اس اہ عقلی کا یہ عقلی نظیر ہے کس کی؟ ان عقلی اس عقلی چیز کے اندر اتصال کا انا، یہ نظیر ہے کس کی؟ حسی چیز کے اندر اتصال کی، یہ اسی کی طرح ہے، اسی کے مثل ہے بھئی۔ يعني أن العلاقة بين الشيئين، یعنی علاقے کا پایا جانا بين الشيئين دو چیزوں کے درمیان، من حيث كون الأول سببا للثاني، اس حیثیت سے کہ اول جو ہے سبب ہے ثانی کے لیے، اول کیا ہو ثانی کے لیے؟ سبب، أو مسببا عنه، یا اول کیا ہو ثانی سے مسبب ہو، یعنی اول مسبب ہے اور ثانی سبب، أو كون الأول علة للثاني، یا اول کیا ہو مولانا؟ ثانی کے لیے علت ہو، یعنی اول علت، ثانی معلول، أو معلولا له، یا اس کے لیے معلول ہو، یعنی عکس کرو، اول معلول ہو اور ثانی علت ہو۔ تو یہ جو ہے دو لاغ دو چیزوں میں یہ جو علاقہ ایا، یہ نظير للإتصال الصوري من الحسيات، یہ اتصال صوری جو حسیات میں ہے اس کی نظیر ہے، فإن المسبب يتصل بالسبب، اس لیے کیونکہ مسبب کیا ہے؟ متصل ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ سبب کے ساتھ، ويجاورها صورة، اور اس متصل ہوتا ہے ويجاورها صورة، اور اس کے ساتھ ملا ہوتا ہے صورتاً باعبتار صورت کے، وكذا المعلول يتصل بالعلة ويجاورها، اور اسی طرح معلول جو ہوتا ہے وہ متصل ہوتا ہے علت کے ساتھ ويجاورها، اور اس کے ساتھ ملا ہوتا ہے، كالملك يتصل بالشراء، جیسے ملک متصل ہوتی ہے شراء کے ساتھ۔ بھئی دیکھیے، شراء اور ملک، ان میں علت اور معلول والا علاقہ ہے مولانا۔ علت اور شراء، کوئی چیز جب بھی خریدے کوئی شخص وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔ تو شراء ہوئی علت اور ملک کیا ہوئی؟ معلول۔ بھئی یاد رکھیے ایک ہے علت، ایک سبب۔ علت اسے کہتے ہیں کہ جب وہ پائی جائے تو معلول کا پایا جانا ضروری ہو بھئی۔ جب بھی علت پائی جائے گی معلول ضرور پایا جائے گا۔ جیسے جب بھی سورج نکلے گا دن ضرور پایا جائے گا بھئی۔ تو دن کا نکلنا معلول اور سورج کا نکلنا علت، یہ نہیں ہو سکتا سورج نکلے اور دن نہ ہو۔ سور بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو علت کسے کہتے ہیں کہ علت کہ اس کے وجود کے ساتھ کیا لازم ہو؟ معلول کا پایا جانا ضروری ہو، جیسے علت ائی فوراً کیا ا جائے گا؟ معلول، لہذا جیسے شراء ائی فوراً کیا ا جائے گی؟ ملکیت ا جائے گی بھئی، یہ نہیں ہو سکتا شراء تو ہو کامل شراء ہو اور ملکیت نہ پائی جائے، ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو یہ پہلی مثال ہوئی مولانا علت اور معلول کی۔ وملك المتعة يتصل بملك الرقبة، اور ملک متعت جو ہے وہ متصل ہے کس کے ساتھ؟ جی، اور جیسے کہ ملک متعت وہ متصل ہے ملک رقبہ کے ساتھ، یہ مولانا سبب اور مسبب کی مثال ہے۔ ملک رقبہ مولانا یہ سبب ہے، اور ملک متعت کیا ہے؟ مسبب ہے۔ ملک متعت، سمجھ میں ایا؟ کوئی شخص باندی کا مالک ہو اسے ملک رقبہ حاصل ہے، تو اسے ملک رقبہ سبب ہے کس چیز کا؟ ملک متعت کا، تو لہذا اسے کیا حاصل ہوگی؟ ملک متعت بھی حاصل ہوگی، تو ملک رقبہ ہوئی سبب، اور ملک متعت کیا ہوئی؟ مسبب۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو لیکن، یہ علت نہیں ہے مولانا، علت نہیں ہے۔ کیونکہ علت تو وہ ہے کہ اس کے، وہ پائی جائے تو معلول ضرور پایا جائے۔ اگر یہ علت ہوتی، تو جب بھی ملکِ رقبہ پائی جاتی، ملکِ متقہ پایا جانا ضروری تھا۔ جب بھی کیا ہو؟ اگر دونوں علت معلول والا تعلق ہوتا، پھر تو جب بھی ملکِ رقبہ ہوتی، کیا ضروری تھا؟ ملکِ متقہ، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ مثلاً ایک شخص ہے، وہ مشرکہ بانذی کو خریدتا ہے، مشرکہ بانذی۔ اب اسے ملکِ رقبہ تو حاصل ہوئی، لیکن ملکِ متقہ نہیں، کیونکہ مشرکہ ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ اور مشرکہ بانذی کے ساتھ صحبت آقا کے لیے جائز نہیں، یا اسی طرح، بانذی جو خریدی، وہ اس کی رضاعی بہن تھی مولانا، دونوں نے کیا کیا تھا، بچپن میں ایک ہی عورت کا دودھ پیا۔ اب یہ ملکِ رقبہ تو اسے حاصل ہو جائے گی، لیکن ملکِ متقہ حاصل نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو ملک، معلوم ہوا ملکِ رقبہ، وہ علت نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ سبب ہے، کس کے لیے؟ ملکِ، ملکِ متقہ کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو اچھی طرح، بھئی؟ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
142 approved lectures · 49 of 142