Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-043

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 149
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔43 و اما المفسر فما ازداد وضوحاً على النص على وجه لا يبقى معه احتمال التأويل و التخصيص. سواء انقطع ذلك الاحتمال ببيان النبي عليه السلام بأن كان مجملاً فلحقه بيان قاطع بفعل النبي عليه السلام أو بقوله فصار مفسرا، أو بإيراد الله تعالى كلمة زائدة ينسد بها باب التخصيص والتأويل كما سيأتي. ظاہر اور نص کی بات گزر گئی۔ اج مفسر کے بارے میں ہم پڑھیں گے بھئی۔ کہتے ہیں مفسر جو ہے وہ کلام ہے جو بڑھ جائے وضاحت کے اندر علی النص نص پر۔ وضاحت اور ظهور میں وہ کیا ہے نص پر بڑھ جائے. بھئی سب سے پہلی قسم ظاہر پڑھی تھی، دوسری قسم نص تھی بھئی، اور نص میں اپ نے پڑھا تھا کہ اس کے اندر ظهور ظاہر سے زیادہ ہوگا اور مفسر کے اندر نص سے بھی زیادہ ہوگا۔ تو کہتے ہیں مفسر جو ہے وہ کلام ہے جو بڑھ جائے وضاحت کے اندر نص پر علیٰ وجہٍ ایسے طریقے پر کہ لا يبقى معه احتمال التأويل والتخصيص کہ باقی نہ رہے اس کے ساتھ تاویل اور تخصیص کا احتمال. بھئی نص کے اندر تاویل اور تخصیص کا احتمال ہو سکتا ہے لیکن مفسر کے اندر بھئی تاویل اور تخصیص کا دروازہ بھی کیا ہوتا ہے؟ بند ہوتا ہے۔ جی، کہتے ہیں سواء انقطع ذلك الاحتمال ببيان النبي عليه السلام برابر ہے کہ منقطع ہو جائے وہ احتمال حضور علیہ السلام کے بیان کی وجہ سے. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی بیان ا جائے جس کی وجہ سے وہ تاویل اور تخصیص کا احتمال کیا ہوا؟ منقطع ہو گیا۔ بأن كان مجملاً بعینہِ طور کہ وہ مجمل تھا فلحقه بيان قاطع بفعل النبي عليه السلام تو مل گیا اس کے ساتھ کوئی قطعی بیان حضور علیہ السلام کے فعل کی وجہ سے أو بقوله یا حضور علیہ السلام کے قول کی. حضور علیہ السلام کی کسی فعل یا قول کے ذریعے اس کی پوری وضاحت ہو گئی اس طریقے پر کہ اب اگے اس میں تاویل اور تخصیص کا احتمال نہیں، فصار مفسراً تو مفسر ہو گیا۔ أو بإيراد الله تعالى كلمة زائدة ينسد بها باب التخصيص والتأويل. ایراد کا معنی لانا۔ یا اللہ تعالی کے کوئی زائد کلمہ لانے کے ذریعے، ایسا زائد کلمہ ينسد بها باب التخصيص والتأويل کہ جس کی وجہ سے بند ہو گیا تخصیص اور تاویل کا دروازہ كما سيأتي جیسے کہ عنقریب ا جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ مفسر یا تو حضور علیہ السلام کا بیان ساتھ مل گیا، اس بیان کی وجہ سے تخصیص اور تاویل کا دروازہ بند ہوا. یہ بیان حضور علیہ السلام کے فعل کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور حضور علیہ السلام کے قول کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے یا اسی کے ساتھ ہی اللہ تعالی کوئی زائد لفظ لے ائے، زائد کلمہ لے ائے، اس زائد کلمے کی وجہ سے کیا ہوا، تخصیص اور تاویل کا دروازہ بند ہو گیا، تو یہ مفسر کہلاتا ہے۔ وحكمه وجوب العمل به على احتمال النسخ. علیٰ بمعنی مع کے ہے. اور اس کا حکم جو ہے مفسر کا وجوب العمل به اس پر عمل کا واجب ہونا ہے على احتمال النسخ اي مع احتمال النسخ، ساتھ نسخ کے احتمال کے. ہاں، نسخ کا احتمال اس میں باقی ہوتا ہے بھئی. تخصیص اور تاویل کا احتمال تو نہیں لیکن نسخ کا احتمال ہے بھئی. اگے محکم ائے گا مولانا، محکم کے اندر تخصیص، تاویل اور نسخ تینوں کا احتمال نہیں ہوتا، وہ اس سے بڑھ کر ہے قوت کے اندر بھئی. البتہ مفسر میں نسخ کا کیا ہے؟ احتمال ہے بھئی. البتہ تخصیص اور تاویل کا نہیں ہے۔ کہتے ہیں اي حكم مفسر وجوب العمل به مع احتمال أن يصير منسوخاً. اور حکم مفسر کا اس پر عمل کا واجب ہونا ہے با وجود احتمال اس احتمال کے کہ وہ منسوخ ہو جائے۔ کہتے ہیں وهذا في زمن النبي عليه السلام فأما فيما بعده فكل القرآن محكم لا يحتمل النسخ. اور یہ جو ہم نے کہا کہ نسخ کا احتمال ہوگا اس کے اندر، یہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں ہے بھئی. باقی حضور علیہ السلام کے زمانے کے بعد اب سارا قرآن محکم ہے، وہ نسخ کا احتمال نہیں رکھتا. اس لیے کیونکہ قرآن وحی ہے مولانا، وحی. اور وحی کے نسخ کے لیے وحی ہی چاہیے بھئی، وحی کے بغیر وحی کا نسخ نہیں ہو سکتا. اور یہ وحی دو صورتوں میں ہو سکتی تھی، یا تو قرآن کی صورت میں ائے یا سنت کی صورت میں ائے، حدیث کی صورت میں ائے بھئی. سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دو ہی صورتوں میں اس کا نسخ ہو سکتا تھا کہ یا تو کتاب نازل ہو یا حضور علیہ السلام کی کسی حدیث کے ذریعے کیا ہو اس کو منسوخ کر دیا جائے، لیکن یہ اب حضور علیہ السلام کے انتقال کے بعد اب ان دونوں کا کوئی امکان نہیں بھئی. تو اب سارا قرآن محکم ہے. البتہ حضور کے زمانے کے اندر دیکھا جائے تو اس میں نسخ ہونے کا احتمال ہے۔ وأما المحكم فما أحكم المراد به عن احتمال النسخ والتبديل. اور محکم جو ہے وہ کلام ہے کہ مضبوط کر دیا گیا ہو اس کی مراد کو عن احتمال النسخ والتبديل نسخ اور تبدیل کے احتمال سے. اس میں یعنی نسخ اور تبدیل کا احتمال نہ ہو، اس طرح قوی مضبوط کلام ہے کہ وہاں کسی بھی درجے میں نسخ اور تبدیل کا احتمال نہیں۔ نسخ اور تبدیل کا ایک معنی ہے بھئی۔ تعدية عنه هاهنا. بھئی یہاں أحكم المراد به عن احتمال عن لفظ ایا بھئی. تو احکم يحکم احکاماً اس کا صلہ عن نہیں اتا. تو پھر یہ عن صلہ کیوں ایا؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ یہاں تضمین ہے بھئی. کیا ہے؟ تضمین. یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے، میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنی کی رعایت رکھی جاتی ہے۔ بعینہِ، سمجھ میں ایا، دوسرے فعل کے معنی کی رعایت رکھی جاتی ہے اور اس پر پھر انے والا صلہ دلالت کرتا ہے. تو احکم عن کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا. اس کے ساتھ عن ایا. اس عن نے بتلایا کہ یہ احکم امتناع کے معنی کو متضمن ہے. احکم کس معنی کو متضمن ہے؟ امتناع کے معنی کو، رکنا، باز رہنا بھئی. اور اس امتناع کا صلہ عن اتا ہے. تو عن نے بتلایا یہاں کون سے معنی کی رعایت ہے؟ امتناع کے معنی کی۔ سمجھ میں ایا؟ تضمین سمجھ میں اگئی بھئی؟ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنی کی رعایت رکھنا. بعینہِ دوسرے فعل کے معنی میں نہیں ہوگا بھئی ورنہ تو پھر وہ مجاز بن جائے گا. ہاں، اس کا اپنا معنی بھی ہے اور ساتھ ساتھ کس کی رعایت رکھی ہے؟ دوسرے فعل کے معنی کی رعایت بھی. تو یہی بات بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں تعدية عنه هاهنا عن کا تعدیہ یہاں پر بتضمين معنى الامتناع امتناع کے معنی کی تضمین کی وجہ سے ہے۔ أي أحكم المراد به حال كونه ممتنعاً عن احتمال النسخ والتبديل یعنی مضبوط کر دیا گیا ہو اس کی مراد کو اس حال میں کہ وہ ممتنع ہو بھئی، رکنے والا ہو، کس چیز سے؟ نسخ اور تبدیل کے احتمال سے. تو دیکھو ممتنعاً کو حال بنا کر لے ائے صفت کے طور پر اسی احکم کے ساتھ بھئی. سواء كان انقطاع احتمال النسخ لمعنى في ذاته. تو وہاں نسخ اور تبدیل کا احتمال نہیں ہوتا. اب برابر ہے کہ وہ جو نسخ کے احتمال کا منقطع ہونا ہے لمعنى في ذاته وہ کسی ایسے معنی کی وجہ سے ہو جو اس کلام کی ذات میں پایا جائے بھئی. اس کلام کی ذات ہی میں کیا ہے؟ ایسا معنی اور ایسا سبب پایا جا رہا ہے جس سے پتہ چلتا ہے یہ نسخ اور تبدیل کا احتمال نہیں رکھتا بھئی. یعنی عقلاً، عقل بتلا دیتی ہے کہ یہ کلام نسخ کا احتمال نہیں رکھتا كآيات التوحيد والصفات، جیسے کہ توحید اور صفات کی ایات ہیں بھئی. وہ ایاتِ توحید بیان ہے، توحید کا حکم ہے بھئی. اور اللہ کی صفات بیان ہیں. تو عقل خود بتلاتی ہے بھئی، یہ تو عقیدے سے ان کا تعلق ہے بھئی. اس میں اور توحید اور صفات کا ذکر ہے، ان میں کسی قسم کے نسخ کا کوئی احتمال نہیں ہے بھئی. ويسمى محكماً لعينه، اور اسے محکم لعینہِ کہتے ہیں بھئی. تو اس وجہ سے ان عقل خود بتلاتی ہے کہ ان میں کسی قسم کے تبدیل اور نسخ کا احتمال نہیں۔ أو بوفاة النبي صلى الله عليه وسلم ويسمى محكماً لغيره یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے نسخ کا احتمال منقطع ہو گیا ہے اور اس کو محکم لغیرہِ کہتے ہیں بھئی. کیا کہتے ہیں؟ تو محکم دو قسم پر ہوا، ایک محکم لعینہِ، ایک محکم لغیرہِ. محکم لعینہِ وہ ہے جس کی ذات ہی بتلا دیتی ہے کہ کیا ہے اس کے اندر نسخ کا احتمال نہیں ہے اور محکم لغیرہِ وہاں اس کلام کے اندر تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے لیکن حضور علیہ السلام کے وفات کی وجہ سے اب وہاں نسخ کا احتمال باقی نہیں رہا اور اس کو محکم لغیرہِ کہتے ہیں. اور بہ ایں لحاظ مولانا پورا قرآن کیا ہے؟ محکم لغیرہِ ہے بھئی. اس میں کسی قسم کے نسخ کا اب احتمال نہیں۔ اوپر بتلا چکے ہیں یہ بھئی. ولم يذكر في تعريف لفظ ازداد كما ذكر فيما سبق. اچھا بھئی، نص کی تعریف میں بھی ازداد کا لفظ لائے تھے مصنف، مفسر کی تعریف میں بھی ازداد کا لفظ لائے تھے، محکم کی تعریف میں ازداد کا لفظ نہیں لائے بھئی. کہتے ہیں یہ اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے کہ ظهور کے درجے مفسر پر ختم ہو گئے. پہلا درجہ کس کا تھا؟ ظاہر کا. نص ظهور میں اس سے بڑھ کر ہے. یہ دوسرا درجہ ہے. مفسر اس سے بڑھ کر ہے ظهور میں، یہ تیسرا درجہ ہے. اور محکم، وہ ظهور میں مفسر سے بڑھ کر نہیں ہے بھئی. سمجھ میں ایا؟ مفسر اخری درجہ تھا ظهور کا اور محکم بھی اسی درجے کا ہے، اس سے بڑھ کر، ہاں قوت میں اس سے بڑھ کر ہے. ظهور میں تو نہیں بڑھ کر، لیکن قوت میں اس سے بڑھ کر ہے کہ مفسر میں نسخ کا احتمال تھا اور محکم میں نسخ کا احتمال نہیں ہے. تو بہ ایں اعتبار قوت میں اس سے بڑھ کر ہے، البتہ ظهور میں اس سے بڑھ کر نہیں. تو اسی لیے ازداد کا لفظ نہیں بڑھایا یہاں پر کیونکہ یہ اس سے بڑھ کر نہیں ہے ظهور میں. کہتے ہیں ولم يذكر في تعريف لفظ ازداد اور ذکر نہیں کیا مصنف نے تعریف کے اندر ازداد کے لفظ کو كما ذكر فيما سبق جیسے کہ انہوں نے ماقبل کے اندر ذکر کیا تھا تنبيهاً على اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے أن المحكم ما ازداد وضوحاً على المفسر بشيء کہ محکم یہ ما نافیہ ہے بھئی، کہ محکم وہ نہیں بڑھا ہوا وضوح اور ظهور کے اندر مفسر پر کچھ بھی وإنما ازداد عليه بقوة فيه اور یہ اس پر زائد ہے اس میں قوت ہونے کے اعتبار سے. کس وجہ سے؟ کہ اس محکم میں کیا ہے؟ قوت ہے. وهو عدم احتمال النسخ اور وہ کیا ہے؟ نسخ کے احتمال کا نہ ہونا ہے. فمراتب الظهور قد تمت على المفسر. تو ظهور کے مراتب تحقیق وہ پورے ہو چکے ہیں مفسر پر. تو محکم بھی اسی درجے کا ہے، البتہ قوت میں اس سے زائد ہے۔ وحكمه وجوب العمل به من غير احتمال. اور محکم کا حکم جو ہے اس پر عمل کا واجب ہونا ہے من غير احتمال بغیر کسی احتمال کے. یہاں کسی قسم کا کوئی احتمال نہیں، نہ تخصیص کا احتمال، نہ تاویل کا احتمال اور نہ نسخ کا احتمال. تو کہتے ہیں بغیر کسی احتمال کے، لا احتمال التأويل والتخصيص ولا احتمال النسخ نہ تو تاویل کا احتمال ہوگا نہ نسخ کا اور نہ تاویل کا، نہ تخصیص کا اور نہ نسخ کا فهو أتم القطعيات في إفادة اليقين. تو یہ سب سے تام ہے قطعیات میں سے یقین کا فائدہ دینے میں. تمام قطعیات میں سے یہ کیا ہے؟ سب سے زیادہ تام، سب سے کامل ہے یقین کا فائدہ دینے میں. ثم شرع في بيان أمثلة كل هؤلاء، پھر شروع ہوئے مصنف ان سب کی مثالیں بیان کرنے میں فقال كقوله تعالى، پس فرماتے ہیں جیسے اللہ کا یہ قول ہے: وأحل الله البيع وحرم الربوا اور اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام قرار دیا ہے۔ هذا مثال الظاهر والنص، کہتے ہیں یہ ظاہر اور نص کی مثال ہے، ظاہر مولانا، ایت پڑھتے ہی کیا پتہ لگ گیا اپ کو؟ کہ بیع حلال اور ربا حرام. تو کہتے ہیں فإنه ظاهر في حق حل البيع وحرمة الربوا، اس لیے کہ یہ ایت جو ہے، یہ کلام جو ہے یرحمک اللہ، اس لیے کیونکہ یہ کلام ظاہر ہے بیع کی حلت اور ربا کی حرمت کے حق میں. لیکن اس کے لانے کا مقصد کیا ہے؟ تفرقہ بین البيع والربا بھئی. بیع اور ربا میں فرق بیان کرنا بھئی. بیع اور ربا میں کیا کرنا؟ فرق بیان کرنا بھئی. وجہ یہ کہ کفار جو تھے وہ ربا کو بھی بیع کی طرح سمجھتے تھے بھئی کہ جیسے بیع جائز ہے، بیع کے اندر انسان کیا کرتا ہے؟ نفع حاصل کرتا ہے، اسی طرح ربا میں بھی کیا کرتا ہے؟ نفع حاصل کرتا ہے، تو وہ ربا کو بھی حلال سمجھتے تھے اور کہتے تھے بھئی یہاں تک کہ دیکھو تشبیہ ہے، تشبیہ کے اندر ایک چیز کو دوسرے کے ساتھ جب تشبیہ دی جائے تو جو مشبہ بہ ہوتا ہے وہ اعلیٰ ہوتا ہے اس وصف کے اندر جس کے اندر تشبیہ دی. مثلاً میں زید کی بہادری بیان کرنا چاہتا ہوں، زید کی، اچھا، تو زید کی بہادری بیان کرنا چاہتا ہوں، تو میں کیا کہوں گا؟ زيد كالأسد في الشجاعة، زید شیر کے مثل ہے بہادری کے اندر. تو زید ہوا مشبہ، جس کو تشبیہ دی جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ مشبہ. جس کے ساتھ تشبیہ دی جائے وہ مشبہ بہ، تو یہاں شیر کیا ہے؟ مشبہ بہ. اور آگے جو ایا فی الشجاعۃ، یہ وجہِ تشبیہ ہے. کس چیز کے اندر میں نے زید کو شیر کے ساتھ تشبیہ دی ہے؟ بہادری، شجاعت کے اندر بھئی، شجاعت کے اندر. تو یاد رکھیے تشبیہ کے اندر ہمیشہ ادنیٰ کو اعلیٰ کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے. معلوم ہوا شیر کی بہادری زیادہ ہے، اس کی شہرت زیادہ ہے، جبھی میں نے زید کو کس کے ساتھ تشبیہ دی ہے بہادری میں؟ شیر کے ساتھ. معلوم ہوا شیر اصل ہے. سمجھ میں ایا بھئی؟ تو جس میں وہ صفت زیادہ ہوگی اس کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے، جس میں کم ہو اس کے ساتھ تشبیہ نہیں، ورنہ تو یہ تو تعریف نہ ہوئی، وہ تو اپ پھر کمی کر رہے ہیں بھئی جب اپ اس کو ایک ادنیٰ کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہیں. تو یہاں بھی کفار جو تھے وہ کیا تھے؟ ان کا یہ گمان تھا کہ جس طرح ربا ربا بھی بیع کی طرح ہے بھئی، ربا بھی بیع، جیسے ربا جائز ہے اسی طرح جس طرح بیع جائز ہے اسی طرح ربا بھی جائز ہے بل جائز ہے. اور اس حد تک اس کے حلال ہونے کے معتقد تھے کہ انہوں نے ربا ہی کو اصل قرار دے دیا اور بیع کو اس کے ساتھ تشبیہ دے دی. وہ کیا کہتے تھے؟ إنما البيع مثل الربوا، بیع تو ربا ہی کی طرح ہے. بیع تو، بھئی ربا کی حلت بیان کرنی ہے تو کیسے کہنا چاہیے تھا؟ إنما الربوا مثل البيع، ربا کس کی طرح ہے؟ بیع، لیکن انہوں نے ربا ہی کو اصل بنا دیا، اس کو مشبہ بہ بنا دیا کہ وہ کیا ہے؟ حلت کے اندر اصل ہے۔ تو اس حد تک اس کی حلت کے قائل تھے کہ تشبیہ کے اندر بھی انہوں نے کیا کر دیا؟ بیع کو مشبہ بنا دیا اور ربا کو مشبہ بہی بھئی۔ تو گویا یہ دعویٰ کر دیا کہ حلت میں اصل تو ربا ہے اور بیع کیا ہے اس کے مشابہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں تو یہ آیت جو ہے ظاہر ہے بیع کے حلال ہونے میں اور ربا کے حرام ہونے میں، نصٌ في بيان التفرقة بينهما اور ان دونوں میں فرق بیان کرنے کے اندر یہ نص ہے، یعنی اس مقصد کے لیے لائی گئی ہے کہ ان دونوں میں فرق بیان کیا جائے، لأن الكفار كانوا يعتقدون حل الربا اس لیے کہ کفار وہ اعتقاد رکھتے تھے ربا کے حلال ہونے کے، حتى شبهوا البيع به یہاں تک کہ انہوں نے بیع کو اس کے ساتھ تشبیہ دے دی یعنی اس کو اصل ہی بنا دیا حلت میں، فقالوا پس انہوں نے کہا إنما البيع مثل الربا کہ بیع تو ربا ہی کی طرح ہے، فرد الله عليهم وقال كيف يكون ذلك پس اللہ نے ان پر رد فرمایا اور فرمایا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، وأحل الله البيع وحرم الربا اور اللہ نے تو بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام قرار دیا ہے، تو تم کیسے کہتے ہو یہ ایک جیسے ہیں بھئی۔ ومثاله المذكور في عامة الكتب اور اس کی مثال جو ہے مولانا عام کتابوں کے اندر جو مذکور ہے، یہ ظاہر اور نص کی مثال جو مذکور ہے عام کتابوں کے اندر، قوله تعالى ولہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: فأنكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورُباعَ پس نکاح کرو تم ان ان وہ عورتیں جو تمہیں پسند وہ جو تمہیں پسند ہوں من النساء عورتوں میں سے مثنى دو دو سے، وثلاث اور تین تین سے، ورُباعَ اور چار چار سے۔ فإنه ظاهر في إباحة النكاح اس لیے کیونکہ یہ آیت ظاہر ہے نکاح کی اباحت کے سلسلے میں۔ آیت پڑھتے ہی کیا پتہ لگ گیا بھئی؟ نکاح جائز ہے، فأنكحوا بھئی نکاح جائز ہے معلوم ہوا امر آ رہا ہے۔ ہاں نصٌ في العدد اور یہ آیت نص ہے کس کے اندر؟ عدد کے اندر، لأنه سيق الكلام له اس لیے کہ کلام کو اسی کے لیے چلایا گیا ہے، كما سيأتي جیسے کہ عنقریب آ جائے گا۔ بھئی نکاح کی اباحت تو آیت سے ظاہر ہے لیکن اس کا لانے کا مقصد کیا ہے؟ عدد کو بیان کرنا کہ زیادہ سے زیادہ ایک شخص کتنے نکاح کر سکتا ہے اور اسی مقصد کے لیے اس کلام کو لایا گیا بھئی، اسی مقصد کے لیے۔ وجہ اس کی یہ مولانا کہ یہاں امر آیا اور امر کے ساتھ قید آ گئی مولانا۔ نکاح کرو عورتوں سے کتنی؟ دو دو، تین تین اور چار چار، تو قید آ گئی۔ جب امر آئے اور وہ وجوب کے لیے نہ ہو اور اس کے ساتھ کوئی قید ہو تو اصل مقصود وہ قید ہوا کرتی ہے بھئی۔ کیا ہوا کرتی ہے؟ قید۔ تو امر خود جو مقید ہے وہ مقصود نہیں ہے بلکہ وہاں مقصود کیا ہوتی ہے؟ قید ہوتی ہے۔ بلکہ یہ عام کلام کے اندر بھی ہے جب کہ کلام کے اندر کسی قید کو ذکر کیا جائے بلغاء کے کلام کے اندر، تو وہاں پر قید مقصود ہوا کرتی ہے، وہ اصلِ کلام مقصود نہیں ہوتا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: جاءني زيدٌ راكباً، میرے پاس زید سوار ہو کر آیا۔ تو یہاں میرے زید کی مجیئت کو بیان کرنا مقصد نہیں ہے بلکہ وہ جو راكباً قید آ رہی ہے وہ وہ میں آپ کو بتلانا چاہتا ہوں، وہ مقصودِ کلام ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کہ زید جو میرے پاس آیا وہ پیدل نہیں آیا بلکہ سوار ہو کر آیا ہے بھئی۔ بھئی یہاں سوال یہ آیت آئی: فأنكحوا ما طاب لكم ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورُباعَ، نکاح کرو وہ ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں دو دو سے، تین تین سے اور چار چار سے۔ بھئی ایک کا ذکر نہیں آیا۔ دو دو کا بھی آیا، تین تین کا بھی آیا، چار چار کا بھی آیا۔ ایک کا ذکر کیوں نہیں آیا بھئی؟ وجہ یہ مولانا کہ یہاں فأنكحوا نکاح کا ذکر آ گیا، نکاح کرو۔ اور نکاح کے لیے کم از کم کتنی عورتیں چاہئیں؟ ایک تو ضرور چاہیے، تو ایک کا پتہ فأنكحوا ہی سے چل گیا تھا لہذا اس کو علیحدہ ذکر نہیں کیا گیا بھئی۔ کیونکہ نکاح کے لیے ایک عورت تو کم از کم ضرور ہو بھئی۔ پھر اس پر مولانا اشکال ہوتا ہے، مثنى کا معنی ہے دو دو۔ مثنى کا معنی دو نہیں، دو دو۔ ثلاثاء کا معنی تین تین، اچھا ربُاع کا معنی چار چار۔ یہ آپ پڑھ چکے ہیں مولانا عدل کے اندر ثلاث اور ربُاع وغیرہ کی بحث بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو مثنى کا معنی ہوا دو دو، دو دو کتنی ہو گئیں؟ چار۔ اچھا، اور واؤ جمع کے لیے آیا کرتا ہے آپ جانتے ہیں بھئی۔ واؤ کس کے لیے ہے؟ آگے آیا تین تین کتنی ہو گئیں؟ چھ۔ اور آگے چار چار، چار چار کتنی ہوئیں؟ آٹھ۔ تو چار، چھ اور آٹھ کتنی ہو گئیں؟ 18 سے جائز ہونا چاہیے بھئی۔ تو جواب یہ مولانا کہ یہ واؤ بمعنی او کے ہے۔ دو دو سے یا تین تین سے یا چار چار سے نکاح کرو بھئی۔ پھر اشکال ہوتا ہے بھئی پھر بھی دو اور دو کتنی ہیں؟ چار۔ اچھا، تین اور تین چھ، چار اور چار آٹھ۔ چلو معلوم ہوا چار سے کرو یا چھ سے کرو یا آٹھ سے بھئی، تو آٹھ سے تو کم از کم پھر بھی ہونا چاہیے۔ تو جواب یہ مولانا کہ بھئی تقسیم کے موقع پر کلام اسی طرح کیا جاتا ہے۔ تقسیم کے موقع پر مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کہ درجہ رابعہ والے طلباء کو سو سو روپیہ دے دینا، تو آپ فی طالب علم کو کتنے پیسے دیں گے؟ سو دیں گے یا دو سو دیں گے؟ سو، حالانکہ میں نے تو کہا تھا سو سو۔ تو اس کے دو سو ہونا چاہیے تھا لیکن نہیں، دو سو کوئی بھی نہیں دے گا، کتنے دے گا؟ سو سو، کیونکہ یہ تقسیم کا محل ہے اور محلِ تقسیم میں کیا کیا جاتا ہے؟ کلام اسی طرح کیا جاتا ہے۔ وقوله تعالى اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول جو ہے: فسجد الملائكة كلهم أجمعون إلا إبليس، پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے أجمعون اکٹھا إلا إبليس سوائے ابلیس کے۔ مثالٌ للمفسر یہ مثال ہے مفسر کی، فإن قوله فسجد ظاہرٌ في سجود الملائكة اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا قول فسجد یہ ظاہر ہے ملائکہ کے سجدے میں۔ بھئی فسجد الملائكة یہ سنتے ہی کیا پتہ لگ گیا کہ فرشتوں نے کیا کیا تھا؟ سجدہ، یہ ظاہر ہے مولانا۔ لیکن اس آیت کے لانے کا مقصد کیا ہے؟ حضرت آدم علیہ السلام کی تعظیم ہے بھئی، ان کی تعظیم بیان کرنا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ عظمت کو ان کی بیان کرنا ہے۔ تو یہ آیت نصٌ في تعظيم آدم عليه السلام، حضرت آدم علیہ السلام کی تعظیم میں کیا ہے؟ نص ہے بھئی نص ہے۔ ان کی عظمت بیان ہو رہی ہے کہ ان کے لیے فرشتے سجدہ کر رہے ہیں۔ تعظیم ہے۔ ولكنه يحتمل التخصيص لیکن یہاں تخصیص اور تاویل کا احتمال تھا، تخصیص کا احتمال تھا۔ کیا آیا؟ فرشتوں نے سجدہ کیا۔ تو احتمال تھا ہو سکتا ہے ساروں فرشتوں نے نہیں کیا ہو گا، جو آسمان پہ ہیں صرف انہی فرشتوں نے کیا ہو گا سجدہ، زمین والوں نے نہیں کیا ہو گا، یا بعض نے نہیں کیا ہو گا۔ آگے لفظ آیا كلهم، سب نے سجدہ کیا تمام فرشتوں نے، تو كلهم کے لفظ نے کیا کیا؟ تخصیص کے دروازے کو بند کر دیا، معلوم ہوا کوئی ایک بھی باقی نہیں رہا سب نے سجدہ کیا۔ پھر بھی اس کے بعد تاویل کا احتمال باقی تھا۔ کہ الگ الگ کیا ہو، ہو سکتا ہے اکٹھا کیا ہو۔ تو جب أجمعون آیا اس نے بتلا دیا کہ نہیں بھئی سارے فرشتوں نے اکٹھا سجدہ کیا تھا، الگ الگ سجدہ نہیں کیا بھئی۔ اس لیے کیونکہ الگ الگ سجدہ کرنے میں اتنی تعظیم نہیں ہے جتنے اکٹھا سجدہ کرنے کے اندر تعظیم ہے بھئی۔ اکٹھا سجدہ کرنے میں تعظیم کیا ہے؟ زیادہ ہے۔ اسی لیے تو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا 25 گنا زیادہ ثواب ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا اکٹھا سجدہ کرنے میں کیا ہے تعظیم؟ زیادہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ولكنه يحتمل التخصيص لیکن یہ کلام جو ہے تخصیص کا احتمال رکھتا تھا اي سجود بعض الملائكة یعنی بعض کہ بعض فرشتوں کے سجدے کا، بأن يكون الملائكة عاماً مخصوص البعض بعین طور کہ وہ ملائکہ جو ہیں ایسا عام ہو مخصوص البعض جس سے بعض کو کیا کر لیا گیا ہو؟ مخصوص کر لیا گیا ہو۔ ويحتمل التأويل اور تاویل کا احتمال بھی ہے بأن سجدوا متفرقين أو مجتمعين کہ انہوں نے سجدہ کیا ہو جدا جدا أو مجتمعين یا اکٹھے، فأنقطع احتمال التخصيص بقوله كلهم پس منقطع ہو گیا تخصیص کا احتمال اللہ تعالیٰ کے قول كلهم کی وجہ سے، واحتمال التأويل بقوله أجمعون اور تاویل کا احتمال منقطع ہو گیا اللہ کے قول أجمعون کی وجہ سے، فصار مفسراً تو یہ کلام کیا ہو گیا؟ مفسر ہو گیا۔ ولا يقال اور یہ اعتراض یہ نہ کہا جائے یعنی یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ إنه يبقى احتمال كونهم متحلقين أو متصففين، ہاں یہاں سے ایک اعتراض اور اس کا جواب ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں بھئی یہ آپ اعتراض نہ کریں کہ آپ نے کیا کہا؟ الگ الگ سجدہ کیا کیا تھا یا اکٹھے کیا تھا، وہ احتمال تو ٹھیک ہے ہم تسلیم کرتے ہیں أجمعون سے ختم ہو گیا، لیکن پھر بھی یہ احتمال تو ہے کہ بھئی ہو سکتا ہے فرشتوں نے حلقے بنائے ہوں أو یا انہوں نے صفیں بنائی ہوں انہوں نے، تو صفیں بنانے کا بھی احتمال موجود ہے اور حلقے بنانے کا احتمال بھی موجود ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں جواب دیں گے بھئی، کہتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لیے کیونکہ یہ ایسا احتمال ہے جو اس کلام کے مفسر ہونے کے منافی نہیں ہے بھئی۔ یہ ایسا احتمال ہے جو اس کلام کے مفسر ہونے کے منافی مفسر ہونے کے منافی وہ احتمال ہوتا ہے جو مقصودِ کلام کے خلاف ہو اور جو احتمال مقصودِ کلام کے خلاف نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ احتمال رہے بھی تو کوئی حرج نہیں ہے۔ مقصودِ کلام کیا تھا بھئی؟ کس لیے اس کلام کو ذکر کیا گیا؟ حضرت آدم علیہ السلام کی تعظیم بیان، عظمت بیان ہو رہی ہے بھئی، تو اس کے لیے ذکر کیا گیا۔ اور تعظیم پر کوئی اثر نہیں پڑتا چاہے فرشتوں نے حلقے بنا کر سجدہ کیا ہو اکٹھا یا صفیں بنا کر کیا کیا ہو اکٹھا سجدہ کیا گیا ہو، دونوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ مقصود کے منافی نہیں ہے یہ بھئی۔ ان میں سے کوئی بھی مقصود کے منافی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ولا يقال یہ نہ کہا جائے إنه يبقى احتمال كونهم متحلقين أو متصففين کہ باقی رہا احتمال ان کے ان کے متحلقین یا متصففین ہونے کا، یعنی کہ انہوں نے حلقہ بنائے ہوئے حلقے بنائے ہوں یا صفیں بنائی ہوں، لأنه لا يضر في بيان التعظيم اس لیے کیونکہ یہ احتمال کوئی نقصان نہیں دیتا تعظیم کے بیان کے اندر، على أنا لا ندعي أنه مفسر من جميع الوجوه اور علاوہ اس کے کہ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ یہ کلام مفسر ہے من جميع الوجوه تمام وجوہ کے اعتبار سے، ہمارا یہ دعویٰ بھی نہیں ہے۔ یہ دوسرا جواب دے رہے ہیں بھئی، اس کے علاوہ بھئی ایک جواب تو کہ یہ کہ یہ احتمال آ بھی جائے کوئی نقصان نہیں کیونکہ یہ مقصودِ کلام کے خلاف نہیں ہے۔ باقی دوسرا جواب یہ دیتے ہیں کہ اگر آپ کی بات تسلیم بھی کر لیں، ٹھیک ہے یہ احتمال اب بھی باقی ہے، کہتے ہیں لیکن کوئی حرج نہیں، ہم نے یہ کب دعویٰ کیا ہے کہ یہ کلام ہر اعتبار سے کیا ہے؟ مفسر ہے۔ ہاں وہ جو احتمال ہم نے بیان کیا اس اعتبار سے یہ کلام مفسر ہے، باقی اعتبارات سے مفسر نہیں ہے بھئی، اور احتمال ہیں بھئی۔ تو ہم کہتے ہم نے کب یہ دعویٰ کیا ہے کہ مفسر ہے ہر تمام وجوہ کے اعتبار سے، بل من بعضها بلکہ بعض وجوہ کے اعتبار سے ہے، وكذا لا يقال اور اسی طرح یہ بھی نہ کہا جائے کہ إنه استثنى فيه إبليس کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ابلیس کا استثناء فرمایا ہے، فكيف يصير مفسراً تو یہ مفسر کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ کہتے ہیں یہ اعتراض بھی نہ کیا جائے کہ یہاں پہ تو ابلیس کا استثناء ہوا ہے إلا إبليس بھئی، ابلیس کا استثناء ہوا ہے بھئی۔ تو یہ کیا بن گیا؟ عام مخصوص البعض ہو گیا، اور عام مخصوص البعض آپ جانتے ہیں ظنی ہوتا ہے، اس میں مزید تخصیص کا بھی احتمال ہوتا ہے بھئی، تو یہ قطعی ہی نہ رہا، مفسر رہا ہی نہیں، مفسر تو قطعی ہوتا ہے اور یہ تو کیا بن گیا مخصوص البعض بن گیا جس میں اور بھی تخصیص ہو سکتی ہے۔ تو جواب دیں گے مولانا کہ نہیں بھئی، استثناء تخصیص کی قبیل سے نہیں ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، کیونکہ تخصیص وہ مستقل کلام ہوتا ہے جب کہ استثناء کیا ہے؟ مستقل کلام نہیں ہے، لہذا یہ تخصیص کی قبیل سے نہیں ہے، اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، یہ کلام پھر بھی مفسر ہی رہے گا۔ اور دوسری بات یہ، دوسرا جواب یہ دیتے ہیں کہ اگر آپ کی بات یاد رکھیے، استثناء کے اندر اصل ہے متصل ہونا کہ اصل کیا ہے؟ متصل، کہ مستثنیٰ کیا ہونا چاہیے؟ متصل بھئی، آپ جانتے ہیں مستثنیٰ دو قسم پر ہے: یا متصل ہو گا یا منقطع۔ مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں؟ جو استثناء سے پہلے داخل تھا، استثناء کے ذریعے اس کو کیا کر دیا گیا؟ متعدد سے نکال دیا گیا۔ جاءني القوم إلا زيداً، یہ کیا ہے؟ مستثنیٰ متصل، زید پہلے اس قوم میں داخل تھا پھر اس کو کیا کر دیا گیا؟ ہاں، تو القوم کے ذریعے ایسی قوم کی طرف اشارہ ہے جس میں زید شامل تھا۔ اور بعینہِ یہی کلام جاءني القوم إلا زيداً، یہ مستثنیٰ منقطع کی بھی مثال آپ بنا سکتے ہیں، کیسے؟ القوم سے ایسی قوم مراد لے لیں جس میں زید داخل ہی نہیں تھا۔ تو اب زید جب ان میں داخل ہی نہیں تھا تو نکالنے کا کیا معنیٰ؟ تو یہ دراصل استثناء ہے ہی نہیں بھئی، اس کو مجازاً استثناء مستثنیٰ منقطع دراصل استثناء نہیں ہوتا، اس کو مجازاً کیا کہتے ہیں؟ استثناء کہتے ہیں، جیسے نحو کی واضح، زیادہ واضح مثال پھر وہی ہے جو نحو کی کتابوں میں آتی ہے: جاءني القوم إلا حماراً بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو حمار تو پہلے بھی اس قوم کے اندر ان لوگوں کے اندر شامل نہیں تھا، تو یہ صورت چونکہ استثناء کی بن گئی اس لیے اس کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ مستثنیٰ، دراصل تو یہ استثناء ہے ہی نہیں پہلے داخل تھا ہی نہیں یہ بھئی۔ اسی طرح یہاں بھی کہتے ہیں یہاں مستثنیٰ منقطع ہے بھئی، ابلیس جو ہے وہ داخل ہی نہیں ہے ملائکہ کے اندر، اس کیونکہ اس لیے کیونکہ ملائکہ کی تخلیق ہوئی ہے نور سے مولانا اور ابلیس جن ہے اور جنات کی تخلیق ہوئی ہے آگ سے بھئی، تو یہ جنس ہی الگ ہے بھئی، کیا ہے؟ جنس ہی الگ ہے۔ اور باقی جو فرشتوں کے اندر اس کو شمار کیا گیا، کہتے ہیں بطورِ تغلیب کے شمار کیا گیا، تغلیب میں ایک فرد کو دوسرے پر غلبہ دے کر اس دوسرے پر بھی اسی لفظ کا اطلاق کر دیا جاتا ہے، جیسے مولانا والدین۔ والدین آپ کہتے ہیں، کون کون مراد ہوتے ہیں اس سے؟ والد اور والدہ، حالانکہ یہ تو والد کی تثنیہ ہے: والدٌ، اس کی تثنیہ بناؤ حالتِ رفعی میں والدان، حالتِ نصبی جری میں والدین، تو یہ تو والد کی تثنیہ ہے مولانا، لیکن اس کو غلبہ دیا گیا اور والدہ پر بھی کس کا اطلاق کر دیا گیا؟ والد ہی کا، تو اب اس اعتبار سے والدین ہوا تثنیہ ہو گئے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے کہتے ہیں بھئی قمرین۔ ایک قمر ہے ایک شمس ہے مولانا، اور شمس پر بھی کس کا اطلاق کر دیا گیا؟ قمر کہ یہ بھی قمر ہے، تو دو قمر ہوئے تو قمرین۔ اسی طرح جیسے کہتے ہیں عمرین، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، دونوں مراد لیتے ہیں عمرین بول کر، تو یہاں بھی تغلیب ہے مولانا کہ حضرت عمر تو ایک ہیں لیکن اسی لفظ کو غلبہ دے کر کس پر اس کا اطلاق کر دیا گیا؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بھی عمر کا اطلاق کر دیا گیا، تو بعینہِ لحاظ یہ تثنیہ ہوا عمرین بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی حکم ہوا تھا فرشتوں کو، لیکن ابلیس بھی کیا ہے؟ بطورِ تغلیب کہ ان میں داخل ہے اس پر بھی ملائکہ کا اطلاق کر دیا گیا، بطورِ تغلیب کے۔ حقیقتًا وہ ملائکہ کے افراد میں سے نہیں۔ اچھا، کہتے ہیں "وکذا لا یقال" اور اسی طرح یہ نہ کہا جائے یعنی یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ "انہ استثنیٰ فیہ ابلیس فکیف یصیر مفسرا" کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کا استثنا فرمایا ہے تو یہ کلام مفسر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں "لان الاستثناء لیس من قبیل التخصیص" اس لیے کیونکہ استثنا جو ہے وہ تخصیص کے قبیل سے ہی نہیں ہے "فلا یضر لکون الکلام مفسرا" تو یہ کلام کے مفسر ہونے کو کوئی نقصان نہیں دیتا۔ "علی انہ استثناء منقطع" علاوہ اس کے یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ کیوں؟ داخل ہی نہیں ہے پہلے سے ہی۔ "او مبنی علی التغلیب" یا یہ کیا ہے مبنی بر تغلیب کے ہے، تغلیب پر مبنی ہے کہ وہ اس میں غلبہ دے کر ان کو اس پر اس کا اطلاق کر دیا گیا، بائی ملائکہ کے لفظ کا۔ "وکذا لا یقال انہ خبر لا یحتمل النسخ" کہتے ہیں اسی طرح یہ اعتراض بھی نہ کیا جائے کہ یہ جو آپ نے مثال ذکر کی، یہ تو کوئی شرعی حکم نہیں ہے بھئی، یہ تو کوئی حکم نہیں ہے، یہ تو ایک خبر ہے۔ "فسجد الملائکۃ کلہم اجمعون" تمام فرشتوں نے کیا کیا؟ سجدہ۔ اس میں کوئی حکم دیا جا رہا ہے یا ایک بات بتلا رہے ہیں اللہ تعالیٰ بھئی؟ ایک بات بتلائی جا رہی ہے کہ تمام فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس میں نسخ کا احتمال ہی نہیں، کیونکہ یہ خبر کے قبیل سے ہے۔ اگر یہ چیز منسوخ ہو جائے، یہ تو خبر بتلائی اللہ نے کہ تمام فرشتوں نے کیا کیا؟ سجدہ۔ اگر اس کو منسوخ کر کے کہا جائے بعد میں، تمام فرشتوں نے سجدہ نہیں کیا تھا، اس کا تو مطلب ہے پہلا کلام کذب تھا۔ کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب تو پہلا کلام کذب تھا، جھوٹ تھا۔ اس صورت میں اللہ کی طرف کس چیز کی نسبت نازل کرنا لازم آئے گی، کذب یا کذب کی نسبت کرنا یا غلطی کی نسبت کرنا لازم آئے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات بے انتہا بلند ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کذب اور غلطی سے اللہ کی ذات بے انتہا بلند ہے مولانا، وہاں اس چیز کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ اخبار کی قبیل سے ہے، تو یہ کہتے ہیں، جب اخبار کی قبیل سے ہے، تو اخبار میں کبھی بھی نسخ نہیں ہو سکتا بھئی۔ نسخ نہیں ہو سکتا۔ حکم میں تو نسخ ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ حکم دیں: "نماز پڑھو"، پھر حکم آ جائے: "نہ پڑھو" بھئی۔ حکم میں تو ٹھیک ہے، لیکن خبر کے اندر کیا ہے؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ نماز کا جیسے حکم آیا: "نماز پڑھو"، لیکن حائضہ ہے، تو حکم آیا اس پر نماز ہے ہی نہیں بھئی۔ یہ نہ پڑھے بھئی۔ سمجھ؟ تو حکم کے اندر تو نسخ کا احتمال ہوتا ہے، لیکن خبر کے اندر نسخ کا احتمال نہیں ہوتا۔ جی، تو کہتے ہیں یہ اعتراض بھی نہ کرے کوئی کہ یہ جو آپ نے مثال بیان کی، یہ تو خبر کی قبیل سے ہے، اور خبر وہ نسخ کا احتمال نہیں رکھتی۔ لہٰذا اس کو محکم کی مثال کے طور پر ذکر نہیں کرنا چاہیے، کوئی شرعی حکم ذکر کرنا چاہیے جو نسخ کی احتمال نسخ کا احتمال نہ رکھے بھئی۔ کہتے ہیں پڑھیے بھئی، کہتے ہیں "لا یقال انہ خبر لا یحتمل النسخ" یہ نہ کہا جائے کہ یہ تو خبر ہے، تو خبر ہے نسخ کا احتمال نہیں رکھتی۔ "فینبغی ان یکون مثالا للمحکم" تو مناسب یہ ہے کہ یہ محکم کی مثال ہونی چاہیے۔ کس کی مثال؟ محکم کی۔ ہاں، ہاں، یہ کہ یہ اعتراض نہ کرو بھئی، آپ مثال کس کی ذکر کرنا چاہتے ہیں، مفسر کی؟ تو یہ مفسر کی مثال نہیں، اسے تو محکم کی مثال ہونا چاہیے۔ مفسر تو وہ ہوتا ہے جو نسخ کو کیا کر جہاں نسخ کا بھی احتمال ہوتا ہے، اور یہ تو خبر کی قبیل سے ہے اور خبر میں نسخ کا احتمال ہی نہیں ہوتا، تو یہ کس اس کو کس میں ذکر کرنا چاہیے؟ محکم کی مثال کے طور پر اس کو ذکر کرنا چاہیے۔ کہتے ہیں "لان" یہ اعتراض بھی نہ کیا جائے، کہتے ہیں "لان اصل ہذا الکلام کان محتملا للنسخ" اس لیے کیونکہ اس کلام کی اصل جو ہے، وہ نسخ کا احتمال رکھتی تھی، رکھتی ہے۔ اصل کیا ہے؟ دو جوابات دیے ہیں بھئی علماء نے اس کے۔ ایک جواب تو یہ، تو ایک جواب یہ دیتے ہیں مولانا، کہ مفسر من حیث المفسر وہ نسخ کا احتمال رکھتا ہے بھئی۔ پہلا جواب کیا دیتے ہیں؟ کہ مفسر من حیث المفسر، مفسر ہونے کی حیثیت سے نسخ کا احتمال رکھتا ہے، اگرچہ یہاں ایک عارض پیش آ گیا، اور عارض کیا ہے کہ یہ خبر ہے، اس وجہ سے یہ اب نسخ کا احتمال نہیں رکھتا بھئی۔ تو یہ خبر خبر ہونے کا جو عارض پیش آیا، اس کی وجہ سے نسخ کا احتمال ختم ہوا، ورنہ مفسر من حیث المفسر کس چیز کا احتمال رکھتا ہے؟ نسخ کا احتمال رکھتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں ایک عارض پیش آیا، اور وہ یہ کہ یہ کلام خبر کی قبیل سے ہے، اور خبر تو کبھی بھی نسخ کو قبول نہیں کرتی، ورنہ اس صورت میں کیا خرابی لازم آئے گی، اللہ کی طرف کذب یا غلطی کی نسبت کرنا لازم آئے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کذب یا غلطی سے بے انتہا بلند ہے بھئی، وہاں اس چیز کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ یہ دوسرا جواب یہ کہ کہ اس کلام کی جو اصل ہے، وہ نسخ کا احتمال رکھتی ہے۔ یعنی اصل میں تو یہ امر تھا، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم سب حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو، اور یہ ایک حکم تھا، اور حکم کیا ہے، نسخ کا احتمال رکھتا ہے۔ لیکن پھر جب سجدہ کر لیا، تو یہی اب چیز اب خبر بن گئی۔ کیا بن گئی؟ اب اس میں نسخ کا احتمال نہ رہا۔ البتہ اس کی جو اصل ہے یعنی وہ حکمِ الٰہی جو تھا، وہ کس چیز کا احتمال رکھتا تھا؟ نسخ کا احتمال رکھتا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ کہتے ہیں "لان اصل ہذا الکلام کان محتملا للنسخ" اس لیے کیونکہ اس کلام کی جو اصل ہے، وہ نسخ کا احتمال رکھتا تھا۔ "وانما ارتفع ہذا الاحتمال بعارض کونہ خبرا" اور اٹھ گیا یہ احتمال یعنی ختم ہو گیا یہ احتمال "بعارض کونہ خبرا" اس کلام کے خبر ہونے کے عارض کی وجہ سے۔ کلام کے خبر ہونے کے خبر ہونے کا عارض پیش آ گیا جس کی وجہ سے اب وہ احتمال ختم ہو گیا۔ "فلا ضیر فیہ" تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ "ولہذا قال فی التوضیح" اور اسی وجہ سے توضیح میں کہا ہے علامہ صدر الشریعہ نے کہ "ان اولیٰ فی مثال المفسر ہو قولہ تعالیٰ" کہ زیادہ بہتر جو ہے مفسر کی کی مثال کے اندر، وہ اللہ کا یہ قول ہے: "وقاتلوا المشرکین کافۃ" اور اے مسلمانوں، تم قتال کرو، جہاد کرو تمام مشرکین کے ساتھ۔ "لانہ من احکام الشرع" اس لیے کیونکہ یہ احکامِ شریعت میں سے ہے "بخلاف قولہ تعالیٰ فسجد الملائکۃ فانہ من الاخبار والقَصَص" بخلاف اللہ تعالیٰ کے قول "فسجد الملائکۃ" کے اس لیے کیونکہ وہ اخبار اور قصص کی قبیل سے ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ خبر اور واقعات کی قبیل سے ہے۔ تو لہٰذا شرعی حکم ذکر کر دیا بھئی صاحبِ توضیح نے: "وقاتلوا المشرکین کافۃ"۔ بھئی "قاتلوا المشرکین کافۃ" یہ شرعی حکم ہے اور مفسر ہے، اس میں یہاں کسی قسم کی تخصیص کا احتمال نہیں ہے بھئی۔ اس لیے کیونکہ جب حکم آیا "قاتلوا المشرکین"، مشرکین سے کیا کرو؟ جہاد کرو، لڑائی کرو ان سے۔ تو احتمال تھا کہ ہو سکتا ہے بعض کی کیا کر دی جائے؟ تخصیص کر دی جائے، لیکن آگے "کافۃ" نے آ کر کیا کیا، اس کا اس تخصیص کا دروازہ بند کر دیا بھئی۔ "وقولہ تعالیٰ" "وقولہ تعالیٰ ان اللہ بکل شیء علیم" یقیناً اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں "مثال للمحکم" یہ مثال ہے محکم کی "لانہ نص فی مضمونہ" اس لیے کیونکہ یہ آیت نص ہے اپنے مضمون کے بارے میں۔ "فلم یحتمل التاویل والنسخ" تو یہ تاویل نسخ کا کا احتمال نہیں رکھتی "اذ ہو من باب العقائد فی بیان التوحید والصفات" اس لیے کیونکہ یہ عقائد کے باب میں ہے توحید اور صفات کے بیان کے اندر بھئی۔ اس آیت میں کیا بیان ہوا؟ اللہ کی صفتِ علم بیان ہو رہی ہے مولانا عقائد کی قبیل سے ہے، اور آپ نے پہلے پڑھا ہے کہ عقائد اور توحید، صفات کے باب سے جو چیز ہو، وہ نسخ کا احتمال نہیں رکھتی مولانا۔ توحید اور صفاتِ الٰہیہ میں کسی قسم کا نسخ ممکن نہیں بھئی۔ تو یہاں بتلایا گیا کہ اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں، ہر چیز کو جاننے والے ہیں بھئی۔ اب یہاں نہ کسی تخصیص کا احتمال، نہ تاویل کا احتمال، اور نہ ہی نسخ کا احتمال بھئی۔ کسی تخصیص، تاویل کا احتمال نہیں۔ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو علمِ الٰہی سے باہر ہو بھئی، بلکہ اللہ کے علم نے ہر ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ تو یہ توحید اور صفات کی قبیل سے ہے، اور عقل خود بتلاتی ہے کہ یہاں کسی نسخ کا کوئی امکان نہیں۔ "ولما لم یکن ہذا من احکام الشرع" اور جب یہ احکامِ شریعت میں سے نہیں ہے "فقال صاحب التوضیح ہاہنا ایضا" تو صاحبِ توضیح یہاں بھی فرماتے ہیں: کہ "ان الاولیٰ فی مثال المحکم قولہ علیہ السلام" کہ زیادہ بہتر محکم کی مثال میں حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: "الجہاد ماضٍ الیٰ یوم القیامۃ" جہاد جاری رہے گا قیامت کے دن تک "لانہ من باب الاحکام" اس لیے کیونکہ یہ احکام کے باب سے ہے "ولم یحتمل النسخ" اور یہ نسخ کا احتمال نسخ کا احتمال بھی نہیں رکھتا۔ کیوں؟ "لما فیہ من توقیت او تابد ثبت نصا" توقیت کہتے ہیں وقت کے ساتھ مقید کرنا۔ تابد کہتے ہیں ہمیشگی بیان کرنا، ہمیشہ کے لیے۔ اور یہاں یہ جو "او" آیا، یہ بمعنی "بل" کے ہے۔ اس وجہ سے کہ اس کلام کے اندر توقیت ہے، وقت بیان کیا گیا ہے کہ جہاد کب تک جاری رہے گا؟ قیامت تک جاری رہے گا۔ "بل تابد" بلکہ تابد ہے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حکم بیان ہو گیا، کیونکہ قیامت آ جائے گی، اس وقت تو یہ کائنات یہ جو دنیا ہے اس کا نظام ختم ہو جائے گا۔ تو گویا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلا دیا، اور یہ بات نص سے ثابت ہے، نص ہی میں حضور کیا فرما رہے ہیں: "ماضٍ الیٰ یوم القیامۃ" قیامت کے دن تک جہاد جاری رہے گا۔ تو نص کے اندر خود تابد آ گئی، معلوم ہوا اس کے اندر کسی قسم کے نسخ کا احتمال نہیں ہے بھئی۔ تو یہ شرعی حکم کی مثال ذکر کی صاحبِ توضیح نے بھئی۔ "ویظهر التفاوت عند التعارض لیصیر الادنیٰ متروکا بالا علیٰ" اور فرق جو ہے تعارض کے وقت ظاہر ہو گا تاکہ ادنیٰ جو ہے وہ متروک ہو جائے اعلیٰ کی وجہ سے۔ بھئی دیکھیے، یہ چار قسمیں ہیں: ظاہر، نص، مفسر، محکم۔ اور چاروں قطعی ہیں مولانا، آپ نے پڑھا کہ چاروں کیا ہیں؟ قطعی ہیں۔ تو ان میں فرق کیسے پتہ لگے گا؟ کہتے ہیں بھئی ویسے تو ان میں فرق کا پتہ نہیں چلے گا، کیونکہ سارے کے سارے کیا ہیں؟ قطعی ہیں۔ ہاں البتہ جب ان میں تعارض آئے گا، نص سے ایک بات ظاہر ہو رہی ہے ایک بات کا پتہ چل رہا ہے، ظاہر سے دوسری بات کا پتہ چل رہا ہے، تو اب نص اور ظاہر میں تعارض آیا، اور نص اور ظاہر میں سے قوی کون اعلیٰ کون ہے؟ نص اعلیٰ ہے، تو اس صورت میں نص پر عمل کیا جائے گا اور ظاہر کو چھوڑ دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر نص اور مفسر کے اندر تعارض آیا، تو اس صورت میں اعلیٰ کون؟ مفسر، مفسر پہ عمل کیا جائے گا، نص کو چھوڑ نص کو چھوڑ دیا جائے گا۔ اور اگر مفسر اور محکم کے اندر تعارض آیا، تو اعلیٰ کون؟ محکم، محکم پر عمل کیا جائے گا اور مفسر کو چھوڑ دیا جائے گا۔ کہتے ہیں "یعنی لا یظهر التفاوت بین ہذہ الاربعۃ فی الظنیۃ والقطعیۃ" فرق ظاہر نہیں ہو گا ان چاروں کے بیچ ظنی اور قطعی ہونے میں "لان کلها قطعیۃ" اس لیے کیونکہ یہ سارے کے سارے ہی قطعی ہیں "وانما یظهر التفاوت عند التعارض" اور فرق جو ہے وہ تعارض ہی کے وقت ظاہر ہو گا "فیعمل بالا علیٰ دون الادنیٰ" پس عمل کیا جائے گا اعلیٰ پر نہ کہ ادنیٰ پر "فاذا تعارض بین الظاهر والنص فیعمل بالنص" جب تعارض آئے ظاہر اور نص کے بیچ، تو عمل کیا جائے گا نص پر "واذا تعارض بین النص والمفسر فیعمل بالمفسر" جب تعارض آئے نص اور مفسر کے درمیان، تو مفسر پر عمل کیا جائے گا "واذا تعارض بین المفسر والمحکم فیعمل بالمحکم" جب تعارض آئے مفسر اور محکم کے درمیان، تو عمل کیا جائے گا محکم پر۔ "ولکن ہذا التعارض انما هو تعارض صوری لا الحقیقی" یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی تعارض جو آئے گا، دراصل یہ تعارضِ صوری ہے، صورتاً تعارض ہے، حقیقتاً تعارض نہیں۔ مثلاً ظاہر سے ایک بات کا ایک چیز کا اثبات معلوم ہو رہا ہے اور نص سے اس کی نفی ہو رہی ہے، نص سے اس کی نفی ہو رہی ہے۔ تو ان میں تعارض آیا، کہتے ہیں یہ تعارضِ صوری ہے، حقیقی تعارض نہیں، صورتاً تعارض ہے۔ اس لیے کیونکہ تعارضِ حقیقی اس کو کہتے ہیں کہ دو ایسی دلیلوں کا آپس میں ٹکراؤ اور مقابلہ ہو جو برابر درجے کی ہوں۔ جو کیا ہوں؟ برابر درجے کی دو دلیلیں ہوں اور ان میں مقابلہ آ جائے، اس کو تعارض کہتے ہیں۔ اور یہاں پر تو ایسا نہیں ہے، یہاں دونوں دلیلیں برابر درجے کی نہیں ہیں، ایک اعلیٰ ہے اور ایک ادنیٰ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تعارض دراصل حقیقتاً تعارض نہیں ہے، لیکن صورت کس کی بن جاتی ہے؟ تعارض کی بن جاتی ہے بھئی۔ تعارض کے اندر تو ضروری ہوتا ہے بھئی کہ دونوں دلیلیں ہم پلہ ہوں بھئی، برابر کی ہوں، پھر تعارض ہے حقیقتاً۔ کہتے ہیں "ولکن ہذا التعارض انما هو تعارض صوری لا الحقیقی" لیکن یہ جو تعارض ہے، وہ تعارضِ صوری ہی ہے، حقیقی نہیں ہے "لان التعارض الحقیقی هو التضاد بین الحجتین علی السواء لا مزید لاحدهما" اس لیے کیونکہ تعارضِ حقیقی وہ تضاد کا پایا جانا ہے دو ایسی دلیلوں کے درمیان علی السواء جو برابری پر ہوں، "لا مزید لاحدهما" ان میں سے کسی ایک کو ایک بھی زائد نہ ہو بھئی، کوئی ایک بھی زائد نہ ہو۔ حالانکہ یہاں ایسا نہیں۔ "وہاہنا لیس کذالک" اور یہاں پر ایسا نہیں ہے۔ "مثال تعارض الظاهر مع النص" جی، اب تعارض کی مثالیں ذکر کریں گے: نص کا ظاہر کے ساتھ، نص اور پھر اسی طرح مفسر اور نص میں اور مفسر اور محکم وغیرہ میں بھئی۔ دیکھیے: "مثال تعارض الظاهر مع النص" ظاہر کے تعارض کی مثال نص کے ساتھ "قولہ تعالیٰ واحل لکم ما وراء ذالکم ان تبتغوا باموالکم" اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "واحل لکم ما وراء ذالکم ان تبتغوا باموالکم" اور حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے ان کے علاوہ عورتوں کو بشرطیکہ تم تلاش کرو ان کو اپنے مالوں کے بدلے یعنی مہر کے ساتھ ان کو کیا کرو، تلاش کرو، مہر دو ان کا بھئی۔ تو اس سے ماقبل کے اندر محرمات کا ذکر ہوا، اس کے بعد اللہ فرما رہے ہیں: "واحل لکم ما وراء ذالکم" کہ حلال کر دی گئی ہیں ان کے سوا عورتیں تمہارے لیے "ان تبتغوا باموالکم" بشرطیکہ تم ان کو تلاش کرو اپنے مالوں کے بدلے۔ "مع قولہ" تو اس اللہ کے اس قول کا جی تعارض آیا بھئی "مع قولہ تعالیٰ" اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ: "فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ وثلاث ورباع" پس نکاح کرو وہ عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں دو دو، تین تین اور چار چار سے۔ "فان الاول ظاہر فی حل جمیع المحللات من غیر قصر علی الاربعۃ" اس لیے کیونکہ پہلی آیت جو ہے، وہ ظاہر ہے تمام عورتوں کے حلال ہونے کے اندر، تمام محللات کے حلال ہونے میں "من غیر قصر علی الاربعۃ" چار پر بند ہوئے کیے بغیر ہی۔ یعنی وہاں پر ہے تمام ان کے علاوہ جو عورتیں تمہیں پسند ہوں، ان سے کیا کرو؟ بھئی پہلے اس سے پہلے ذکر آیا محرمات کا، کچھ عورتیں جن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نکاح کو حرام قرار دے دیا گیا۔ ان کے بعد اللہ فرماتے ہیں: ان کے علاوہ اور جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے کیا کر سکتے ہو تم؟ نکاح کر سکتے ہو بشرطیکہ کیا کرو انہیں ان کو مال کے بدلے تلاش کرو یعنی مہر دو ان کو، مہر دو ان کو۔ تو اس آیت سے تو یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ان محرمات کے علاوہ باقی تمام حلال عورتیں کیا ہو گئیں؟ محللات کیا ہوئی انسان کے لیے؟ ان سے نکاح کرنا حلال ہے، جتنی مرضی سے نکاح کرے۔ یہ اس اس آیت سے ظاہر ہو رہا ہے، کیا ہے؟ ظاہر ہے یہ اس آیت کا۔ لیکن دوسری آیت جو ہے فنكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع. اس آیت میں نَص کیا ہے؟ بیانِ عدد۔ اس آیت کو لایا ہی کس مقصد کے لیے گیا ہے؟ عدد کو بیان کرنے کے لیے۔ تو ظاہر سے معلوم ہوا جتنے مرضی نکاح کرے اور نَص نے بتلایا زیادہ سے زیادہ کتنے کر سکتے ہو؟ چار۔ تو تعارض آیا ظاہر اور نَص میں، ترجیح کس کو دی جائے گی؟ نَص کو۔ لہٰذا چار سے زائد نکاح جائز نہیں۔ فان الأول ظاہر في حل جميع المحلات من غير قصر على الأربعة فسبق الأولى أولى آيت جو ہے پہلا حکم جو ہے وہ ظاہر ہے في حل جميع المحلات تمام محلات کے حلال ہونے کے اندر من غير قصر على الأربعة چار پر بند کیے بغیر ہی فینبغي أن تحل الزائدة عليها تو مناسب یہ ہے کہ اس سے زائد بھی حلال ہونا چاہیے، والثاني نَص اور دوسرا جو ہے وہ نَص ہے في أنه لا يجوز التعدي عن الأربعة کہ چار پر سے زیادتی کرنا جائز نہیں ہے لأنه سيق لأجل العدد اس لیے کیونکہ وہ آیت چلائی ہی کس لیے گئی ہے؟ عدد کے لیے عدد بیان کرنے کے لیے فتعارض بینهما تو ان دونوں کے درمیان تعارض آیا فترجح النَص ويقتصر عليها تو ترجیح پا لی نَص نے اور اکتفا کیا جائے گا انہی چار پر۔ وقيل الأول نَص في حق اشتراط المهر والثاني ظاهر في عدم اشتراطه بعض علماء کہتے ہیں کہ پہلی آیت جو ہے نَص ہے في حق اشتراط المهر مہر کے شرط ہونے میں پہلی آیت کیا تھی؟ ان تبتغوا باموالكم آیا اس کے اندر بھئی یہ بشرط ہے کہ تم ان کو تلاش کرو کس کے ذریعے؟ مال کے بدلے تو وہاں مہر کا ذکر آیا مولانا تو وہ آیت چلائی ہی اس مقصد کے لیے گئی ہے کہ نکاح کے اندر مہر شرط ہے بھئی یہ بیان کرنے کے لیے۔ اور دوسری آیت کا جو ہے ظاہر وہ مہر کی شرط کا نہ ہونا ہے بھئی۔ دوسری آیت مثنی وثلاث ورباع والی آیت کے اندر مہر کا کوئی ذکر نہیں ہے وہ مہر کے ذکر سے ساکت ہے یا مطلق ہے مولانا تو اس آیت کا ظاہر بتلا رہا ہے دوسری آیت کا کہ مہر ہو یا مہر نہ ہو نکاح ہو جانا چاہیے اور پہلی آیت کا نَص کیا ہے؟ کہ مہر کا ہونا ضروری ہے تو ظاہر اور نَص میں تعارض آیا، کس کو ترجیح دیں گے؟ نَص کو تو مہر ضروری ہوگا بھئی۔ وقيل الأول نَص في حق اشتراط المهر وپھر کہا گیا ہے کہ پہلی آیت جو ہے وہ نَص ہے مہر کی شرط لگانے کے اندر والثاني ظاهر في عدم اشتراطه اور دوسری جو ہے وہ ظاہر ہے اس مہر کی شرط کے نہ ہونے میں لأنه ساكت عن ذكره اس لیے کیونکہ یہ جو ثانی جو ہے یہ اس مہر کے ذکر سے خاموش ہے ومطلق عنه اور اس سے مطلق ہے فتعارض بینهما تو تعارض آیا ان دونوں کے بیچ فترجح النَص ويجب المال تو نَص راجح ہو جائے گی اور مال واجب ہوگا ومثال تعارض النَص مع المفسر قوله عليه السلام المستحاضة تتوضأ لكل صلاة اس کا حضور علیہ السلام کے اس قول کا تعارض ہے ما قوله علیہ السلام المستحاضة تتوضأ لوقت كل صلاة کہ مستحاضہ وضو کرے گی ہر نماز کے وقت کے لیے۔ بھئی پہلی حدیث کیا آئی؟ المستحاضة تتوضأ لكل صلاة مستحاضہ کیا کرے گی؟ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً ظہر کی نماز کے لیے وضو کیا کرے گی۔ پھر ظہر کی نماز کے بعد اس کا ارادہ ہوا کچھ نفل پڑھ لوں تو نفلوں کے لیے پھر وضو کرے گی۔ پھر ارادہ ہوا میں کچھ قضا نمازیں پڑھ لوں ان کے لیے پھر کیا کرے گی؟ وضو کرے گی۔ پہلی حدیث سے یہ معلوم ہوا المستحاضة تتوضأ لكل صلاة مستحاضہ کیا کرے گی؟ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔ اور دوسری حدیث میں کیا آرہا ہے؟ المستحاضة تتوضأ لوقت كل صلاة مستحاضہ وضو کرے گی ہر نماز کے وقت کے لیے۔ معلوم ہوا ظہر کے وقت کے لیے ایک ہی وضو کافی ہے۔ ظہر کے وقت وضو کر لیا اور ظہر کی نماز بھی پڑھ لی نفل پڑھنا چاہتی ہے وہ بھی پڑھ لے قضا نمازیں بھی پڑھنا چاہتی ہے وہ بھی پڑھتی رہے ہاں جو ہی ظہر کا وقت نکلے گا عصر کا آئے گا اسے پھر نیا وضو کرنا پڑے گا۔ تو پہلی آیت سے کیا پتہ چلا پہلی حدیث سے کیا پتہ لگا؟ ہر نماز کے لیے کیا کرے گی؟ نیا وضو اور دوسری آیت دوسری حدیث سے کیا پتہ لگا؟ نماز کے وقت کے لیے کرے گی یعنی ایک وقت کے اندر وہ ایک ہی پورے وقت کے لیے ایک ہی وضو کافی ہے بھئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا دونوں کے اندر؟ تو کہتے ہیں فان الأول نَص يقتضي الوضوء والجديد لكل صلاة پہلی حدیث جو ہے وہ نَص ہے تقاضا کرتی ہے نئے وضو کا ہر نماز کے لیے اداء كان أو قضاء چاہے وہ نماز ادا ہو یا قضا ہو فرضا كان أو نفلا فرض ہو یا نفل ہو لكنه يحتمل يحتمل تأويلا أن يكون اللام بمعنی الوقت لیکن وہ تاویل کا احتمال رکھتی ہے کہ ہو سکتا ہے یہ لام بمعنی الوقت ہو پہلی حدیث میں ہے نا لكل صلاة اس میں یہ جو لام آیا اس میں احتمال ہے ہو سکتا ہے یہ لام کس معنی میں ہو؟ وقت کیونکہ لام ہمارے وقت کے استعمال ہوتا رہتا ہے کلام عرب کے اندر تو ہو سکتا ہے یہ لام ہمارے وقت کے ہو تو پھر وہی ترجمہ بن جائے گا جو دوسری حدیث کا ہے کہ مستحاضہ وضو کرے گی ہر نماز کے وقت کے لیے۔ تو ہو لیکن یہ اس تاویل کا احتمال رکھتی ہے کہ یہاں ہو سکتا ہے لام وقت کے معنی میں ہو فيكفي الوضو الواحد في كل وقت تو پھر اس صورت کے اندر ایک ہی وضو کافی ہوگا پورے وقت کے لیے فتؤدي به ما شاءت من فرض ونفل تو پس مستحاضہ ادا کرے گی اسی ایک وضو کے لیے جو چاہے فرض اور نفل میں سے یہ احتمال ہے۔ والثاني مفسر اور دوسری حدیث مفسر ہے لا يحتمل التأويل وہ تاویل کا احتمال نہیں رکھتی لوجد ان لفظ الوقت فيه صريحا اس لیے کہ اس کے اندر وقت کا لفظ صراحتاً پایا جا رہا ہے فإذا تعارض بينهما پس جب ان دونوں کے درمیان تعارض آیا صار الى ترجيح المفسر تو رجوع کیا جائے گا کس کی طرف؟ مفسر کی ترجیح کی طرف فيكفي الوضوء الواحد في كل وقت صلاة مرة واحدة پس کافی ہوگا ایک ہی وضو ہر نماز کے وقت میں مرتبہ ایک مرتبہ ایک ہی وضو کافی ہوا ہر نماز کے وقت کے اندر بھئی ایک مرتبہ میں۔ والشافعي رحمه الله لم يتنبأ بهذا فأعمل بالحديث الأول اور کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ اس بات پر متنبہ نہ ہو سکے یعنی انہیں اس بات کا پتہ نہ چلا فعمل بالحديث الأول پس انہوں نے کس پر عمل کیا؟ حدیث اول پر ان کے نزدیک ہر نماز کے لیے الگ وضو کرے گی۔ ومثال تعارض المفسر مع المحكم قوله تعالى واشهدوا ذوي عدل منكم اور مفسر کے محکم کے ساتھ تعارض کی مثال اللہ تعالی کا یہ قول ہے واشهدوا ذوي عدل منكم اور تم گواہ بنا لو اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو مع قوله تعالى اس کا قول اللہ کے اس قول کا تعارض ہے اللہ کے اس اس قول کے ساتھ ولا تقبلوا لهم شهادة ابدا تم قبول نہ کرو اس کی شہادت کبھی بھی یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کی شہادت اب قبول نہ کرو۔ یعنی جس شخص پر حد لگ گئی محدود في القذف ہوا ان کی شہادت اب کبھی بھی قبول نہ کرو۔ تو کہتے ہیں فان الأول مفسر يقتضي قبول شهادة محدودين في القذف بعد التوبة لأنهما صار عدلين حينئذ پہلا جو ہے وہ مفسر ہے تقاضا کرتا ہے کہ شہادت کو قبول کیا جائے کس کی شہادت کو؟ محدودين في القذف وہ ان دو آدمیوں کی شہادت کو جو محدود في القذف ہیں بعد التوبة توبہ کے بعد کیونکہ وہ دونوں عادل ہو گئے اس وقت جب توبہ کر لی تو کیا بن گئے؟ عادل بھئی عادل کی گواہی قبول کی جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ کیا فرما رہے ہیں واشهدوا ذوي عدل منكم تم کیا کرو اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو۔ تو جو شخص محدود في القذف ہے محدود في القذف ہے اس کی گواہی قابل قبول نہیں لیکن جب وہ توبہ کر لے تو توبہ کے بعد وہ کیا بن جاتا ہے؟ عادل بن جاتا ہے جب عادل بن گیا تو عادل کی گواہی کو کیا کرنا چاہیے؟ قبول کرنا چاہیے بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں فان الأول مفسر يقتضي قبول شهادة محدودين في القذف بعد التوبة لأنهما صار عدلين حينئذ پہلا جو ہے وہ مفسر ہے وہ تقاضا کرتا ہے کہ دو محدود في القذف کی شہادت کو قبول کرنا چاہیے توبہ کے بعد کیونکہ اس جو توبہ کے وقت وہ عادل بن گئے جب انہوں نے توبہ کر لی تو اس وقت وہ عادل بن گئے۔ والثاني محكم يقتضي عدم قبول حال وجود التأويل فيه صريحا اور دوسری جو آیت ہے وہ محکم ہے وہ تقاضا کرتی ہے شہادت کے قبول نہ کرنے کا لِوجود تأويل فيه صريحا بوجہ اس میں ہمیں صراحتاً تأبید کا ذکر ہے اللہ کیا فرما رہے ہیں ولا تقبلوا لهم شهادة ابدا ان کی شہادت ہمیشہ کے لیے قبول نہ کرو۔ अच्छा তো یہ مولانا یہ محکم ہے بھئی تأبید کے ساتھ مقید ہے بھئی تو اذا تعارض بينهما تب جب ان دونوں میں تعارض آیا تو مفسر تقاضا کرتا ہے گواہی قبول کرنی چاہیے محکم تقاضا کر رہا ہے گواہی کو قبول نہیں کرنا چاہیے جب ان دونوں کے درمیان تعارض آیا يعامل على المحكم تو عمل کیا جائے گا محکم پر۔ وہاک اچھا ہذا في كتب الأصول اسی طرح ہے کتب اصول کے اندر کتب اصول میں اس طرح ہی لکھا ہوا ہے۔ وما قيل إنه لم يوجد مثال تعارض المفسر مع المحكم فمن قلة تتبع اور وہ جو کہا گیا ہے بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ بھئی مفسر کی محکم کے ساتھ تعارض کی کوئی مثال نہیں پائی جاتی تو شارح فرماتے ہیں یہ جو کہا گیا ہے کہ تعارض مفسر کی محکم کے ساتھ تعارض کی مثال نہیں پائی جاتی تو من قلة تتبع یہ قلتِ تتبع کی وجہ سے ہے انہوں نے پوری جستجو نہیں کی بھئی پوری تحقیق نہیں کی تو قلتِ جستجو کی وجہ سے انہوں نے یہ قول کیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس مولانا ہذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام
142 approved lectures · 43 of 142