درس نمبر۔41
وقوله والله لا أقربكما إلا يوما أقربكما فيه، مثال ثان لعموم النكرة الموصوفة وهو خطاب لامرأتيه، فإن قوله يوما نكرة موضوعة ليوم واحد، فلو لم يصفه بقوله أقربكما فيه لكان م وليا بعد قربان يوم واحد.
بھئی بحث یہ چل رہی تھی کہ نکرہ جو ہے تحت النفی آئے تو عموم کا فائدہ دیتا ہے لیکن اگر وہ محل اثبات کے اندر آئے تو پھر وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ خصوص کا فائدہ دے گا۔ ہاں اگر یہ نکرہ جو اثبات کے اندر آیا ہے اس کی کوئی صفت عامہ آ جائے، تو اس صورت میں پھر یہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا فائدہ دے گا، یہ عام ہو جائے گا بھئی۔
اس کی دوسری مثال ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ کوئی شخص مثلاً کہتا ہے اس کی دو بیویوں ہیں ان سے کہتا ہے والله لا أقربكما، کہ واللہ میں تم دونوں سے صحبت نہیں کروں گا۔ قرب يقرب قربان کے معنی صحبت کرنے کے ہیں بھئی، قریب ہونے کے بھی آتے ہیں، معنی صحبت کے بھی۔ تو کوئی شخص اپنی دو بیویوں سے کہتا ہے والله لا أقربكما کہ واللہ میں تم دونوں سے صحبت نہیں کروں گا إلا يوما أقربكما فيه، مگر ایسے دن کہ جس میں، میں تم دونوں سے صحبت کروں۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ عبارت سمجھ میں آگئی؟ کہ واللہ میں تم دونوں سے صحبت نہیں کروں گا مگر ایسے دن میں کہ جس میں، میں تم دونوں سے صحبت کروں۔ تو یہاں دیکھو يوما نکرہ آیا اور آگے میں نے آپ کو پہلے بتلایا ہے کہ جملہ جو ہوتا ہے یہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے بھئی۔ تو لہذا جملہ نکرہ کی صفت تو بن سکتا ہے، معرفہ کی صفت نہیں بن سکتا۔ تو یہاں يوما نکرہ آیا اور أقربكما فيه یہ آگے آنے والا جملہ جو ہے اس يوما کے لیے صفت بنے گا کیونکہ جملہ بھی کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ کے حکم میں۔
تو دیکھو سب سے پہلے تو یہاں ایلاء سمجھ لو۔ بھئی ایلاء فقه کے اندر آپ نے پڑھا ہوگا۔ ایلاء لغت میں تو، لغت میں اس کا معنی ہے قسم کھانا، لیکن اصطلاح شریعت میں بیوی کے ساتھ چار ماہ یا اس سے زیادہ تک، زیادہ کے عرصے تک صحبت نہ کرنے کی قسم اٹھانا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ ایلاء کہلاتا ہے۔
تو کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے کہ میں اپنی بیوی سے چار ماہ تک صحبت نہیں کروں گا یا اس سے زیادہ تک تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ ایلاء۔ تو چار ماہ سے کم کی قسم بھی اٹھائے تو یہ بھی ظلم ہے بیوی پر، لیکن اس کی باقاعدہ شریعت میں کوئی سزا مقرر نہیں، لیکن اگر چار ماہ یا اس سے زیادہ کی قسم اٹھاتا ہے تو پھر یہ ایلاء ہے اور اگر یہ مدت پوری ہو جائے اور اس دوران وہ صحبت نہ کرے تو بیوی بائنہ ہو جائے گی مولانا، یہ طلاق کے حکم میں ہے، کس کے حکم میں ہے؟ طلاق بھئی، تو اسے طلاق بائن شمار کیا جاتا ہے بھئی، تو وہ بائنہ ہو جائے گی بھئی۔ اور اگر اس سے پہلے صحبت کر لیتا ہے تو اس صورت میں پھر قسم کا کفارہ دینا پڑے گا کہ اس نے اپنی قسم توڑ دی بھئی۔
تو لہذا جو شخص ایلاء کرتا ہے یا قسم اٹھا لیتا ہے اسے دو ناپسندیدہ چیزوں میں سے ایک ضرور پیش آئے گی، یا تو اسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا یا اس کی بیوی اس سے کیا ہو جائے گی؟ بائنہ، جدا ہو جائے گی بھئی۔
پھر یہ ایلاء مولانا دو قسم پر ہے، ایک مؤقت ہے، ایک مؤبد ہے۔ مؤقت جو وقت کے ساتھ مقید ہو مولانا، مؤبد جو ہمیشہ کے لیے ہے جس میں اس نے وقت کی کوئی قید نہیں رکھی بھئی۔ مثلاً ایلاء مؤقت کی مثال، اس نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اپنی بیوی سے چار ماہ تک صحبت نہیں کروں گا یا پانچ ماہ تک نہیں کروں گا یا ایک سال تک نہیں کروں گا، تو یہ سب کیا ہیں؟ مؤقت ہیں مولانا، وقت کے ساتھ اس نے مقید کیا ہے۔
اور اگر کہتا ہے میں ہمیشہ کے لیے، کبھی بھی اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہیں، تو یہ مؤبد ہے یا کوئی وقت کی قید نہیں لگاتا یوں کہتا ہے میں اپنی بیوی کے ساتھ، میں قسم اٹھاتا ہوں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہیں کروں گا۔ تو یہ بھی مؤبد شمار ہوتا ہے جب وہ وقت ساتھ ذکر نہ کرے۔ مثلاً دیکھیے بھئی ایک آدمی ہے وہ آپ کے سامنے کہتا ہے میں زید سے کلام نہیں کروں گا، اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ ایک دن نہیں کروں گا، دو دن نہیں کروں گا یا بالکل نہیں کروں گا کبھی بھی؟ آپ کیا معنی اس کا مراد لیتے ہیں؟ آپ خود اس کا کیا، بتائیں بھئی؟ یہی مراد ہوتی ہے کہ مطلب ہے جب اس نے وقت متعین کے ساتھ اس کو قید نہیں کیا معلوم ہوا میں کبھی بھی اس سے بات نہیں کروں گا۔ تو یہاں بھی اسی طرح جب وہ وقت کے ساتھ مقید نہیں کرے گا تو اس کو کیا شمار کیا جاتا ہے؟ مؤبد ہی شمار کیا جاتا ہے۔
ایلاء کا پتہ چل گیا بھئی؟ اب دیکھیے مولانا، مثال پر پھر آئیے بھئی۔ ذرا يوما کی صفت ہٹا دو، والله لا أقربكما إلا يوما، کہ واللہ میں تم دونوں سے صحبت نہیں کروں گا مگر ایک دن، کوئی وقت کی قید لگائی اس نے؟ جی؟ تو صحبت نہ کرنے کی قسم اٹھا لی ہاں ایک دن کا استثناء کر لیا، کیا کر لیا؟ تو ایک دن میں صحبت جب وہ کر لے گا جس دن بھی اس کے بعد وہ ایلاء کرنے والا ہو گیا کیونکہ اس نے تو ایک دن کا استثناء کیا تھا اور وہ ہو گیا مولانا، اس دن اس نے صحبت کر لی، اس کے بعد اب یہ کیا شمار ہے؟
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کیا کہا تھا اس نے کہ واللہ میں تم دونوں سے صحبت نہیں کروں گا مگر ایک دن، اب جب وہ ایک دن کسی دن اس نے کیا کر لی؟ صحبت کر لی، تو وہ استثناء پہ تو ہو گیا عمل بھئی، تو اب باقی قسم اسی طرح، وہ اب ایلاء کرنے والا ہے، تو اب صحبت نہیں کرے گا تو طلاق بائن ہو جائے گی مولانا، اور اگر کر لے گا تو کیا کرنا پڑے گا؟ قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ تو دیکھو يوما نکرہ آیا مولانا، اور کس میں آیا؟ اثبات میں آیا، نفی میں آیا؟ اثبات میں، کیونکہ إلا کیا کر چکا ہے؟ نفی کو، نفی کو ختم کر چکا ہے، توڑ چکا ہے بھئی۔
تو لہذا اگر یہ نکرہ اکیلا ہوتا تو پھر یہ خصوص کا فائدہ دیتا اور ایک دن کی تفصی، ایک دن کا استثناء تھا اس صورت میں کہ ایک دن کیا کروں گا؟ تم دونوں سے صحبت کروں گا۔ لیکن جب اس کی صفت یہ أقربكما فيه، صفت لے آئے بھئی صفت عامہ، تو اب یہ نکرہ عام ہوا مولانا، عموم کا فائدہ دے گا بھئی۔ تو ہر وہ دن جس میں وہ ان دونوں سے صحبت کرتا ہے وہ مستثنیٰ ہو گیا۔
يوما أقربكما فيه، مگر ایسا دن جس میں، میں تم دونوں سے صحبت کروں، تو ہر وہ دن مستثنیٰ ہو گیا جس کے اندر وہ کیا کرتا ہے دونوں سے صحبت کر لیتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو ایک کے ساتھ اگر کسی دن صحبت کرے گا پھر بھی قسم ٹوٹ جائے گی، کیونکہ اس نے استثناء کس کا کیا ہے؟ ایسے دنوں کا جن میں وہ کیا کرے گا؟ دونوں سے صحبت کرے گا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو ایک سے اگر صرف کرے گا تو قسم ٹوٹ جائے گی بھئی، اور ایلاء یہ نہیں ہے اس لیے کیونکہ یہاں عموم ہے مولانا، ہر وہ دن مستثنیٰ ہوا جس کے اندر وہ کیا کر رہا ہے دونوں کے ساتھ صحبت کر رہا ہے، اس نے خود اپنے کلام کے ذریعے اس کا استثناء کیا ہے۔
جی، اب دیکھیے کتاب پر، وقوله والله لا أقربكما إلا يوما أقربكما فيه، کہ واللہ میں تم دونوں سے صحبت نہیں کروں گا مگر ایسے دن میں کہ جس میں، میں تم دونوں سے صحبت کروں۔ مثال ثان لعموم النكرة الموصوفة، یہ دوسری مثال ہے اس اس نکرہ کے عموم کی جو موصوف ہو یعنی صفت عامہ کے ساتھ موصوف ہو۔ وهو خطاب لامرأتيه، اور یہ خطاب ہے اس کا اپنی دو بیویوں کو۔ فإن قوله يوما نكرة موضوعة ليوم واحد، اس لیے کہ يوما جو ہے، صرف يوما کا لفظ جو ہے وہ نکرہ ہے جس کو وضع کیا گیا ہے کسی ایک دن کے لیے۔ فلو لم يصفه بقوله أقربكما فيه لكان موليا بعد قربان يوم واحد، اگر وہ اس کو موصوف نہ کرتا اپنے قول أقربكما فيه کے ساتھ، اس کے ساتھ اس کو موصوف نہ کرتا لكان موليا، تو وہ ایلاء کرنے والا ہوتا بعد قربان يوم واحد، ایک دن کی صحبت کے بعد بھئی، کیونکہ ایک دن کا استثناء کیا ہے تو ایک دن کی صحبت کے بعد وہ کیا ہو جاتا؟ ایلاء کرنے والا ہوتا لأن هذا إيلاء مؤبد، اس لیے کیونکہ یہ کیا ہے؟ ایلاء مؤبد ہے، کیونکہ اس نے کوئی وقت کی قید نہیں لگائی اور جب وقت کی کوئی قید نہ لگائی جائے تو وہ کیا شمار ہوتا ہے کلام؟ وہ کلام مؤبد شمار ہوتا ہے۔ وليس مؤقتا بأربعة أشهر حتى تنقص الأشهر الأربعة بيوم، اور یہ کوئی ایلاء مؤقت نہیں ہے، مؤقت چار مہینے کے ساتھ مقید نہیں ہے یہ ایلاء یہاں تک کہ کم ہو جائیں وہ مہینے وہ چار مہینے ایک دن سے بھئی، ایک دن کے ساتھ۔
بھئی دیکھیے، اگر یہ چار ماہ کی قسم اٹھاتا، اس کو مقید کر دیتا کتنے کے ساتھ؟ چار ماہ کے ساتھ، اور پھر آگے استثناء کر رہا ہے إلا يوما، تو ایک دن کا استثناء کرے گا تو چار ماہ سے ایک دن کیا ہو جائے گا؟ کم ہو جائے گا، تو لہذا یہ ایلاء، کیونکہ چار ماہ سے کم کی قسم اٹھائے پھر تو یہ ایلاء ہے ہی نہیں میں نے بتایا، تو یہ ایلاء مؤقت ہے ہی نہیں چار ماہ کے ساتھ مقید یہ ہے ہی نہیں کہ وہ چار ماہ ایک دن کی وجہ سے کیا ہو جائیں؟ کم ہو جائیں، تو یہ تو کیا ہے؟ ایلاء مؤبد پر اس نے قسم اٹھائی ہے تو ایک دن کا صرف استثناء کیا ہے اور اس دن کے بعد پھر وہ کیا ہو جائے، کیا بن جائے گا؟ ایلاء کرنے والا بن جائے گا۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آ رہا ہے کہ مشکل ہے بھئی؟
بھئی یہ جو اگر وہ کیا کرتا؟ صرف، یہ صرف يوما تک بات کرتا، آگے أقربكما فيه نہ کہتا، والله لا أقربكما إلا يوما، واللہ میں تم سے دونوں سے صحبت نہیں کروں گا مگر ایک دن، تو ایک دن کا استثناء کر لیا، اور ایک دن پر عمل کرنے کے بعد تو یہ کیا بن جائے گا؟ ایلاء مؤبد بن جائے گا۔ یہ کوئی چار ماہ کی قسم تو اس نے نہیں اٹھائی کہ ایک دن کا استثناء کرنے سے وہ ایلاء رہے ہی نہ۔ مثلاً اگر وہ یوں کہتا، کہ واللہ میں تم سے چار ماہ تک صحبت نہیں کروں گا إلا يوما مگر ایک دن کا، استثناء کس نے کا کیا؟ اور قسم کتنے کی اٹھائی تھی؟ اور چار ماہ کی قسم تو ہوتی ہے ایلاء، لیکن یہ ایک دن جب اس نے کم کر دیا تو یہ ایلاء نہیں ہے۔
تو اگر چار ماہ کی قسم اٹھائی ہوتی اور پھر ایک دن کا استثناء کیا ہوتا تو پھر تو اس نے ایلاء نہیں بننا تھا، لیکن یہاں تو اس نے کوئی چار مہینے کی قید ذکر نہیں کی تو یہ گویا کہ ہمیشہ کی بات کر رہا ہے اور ہمیشہ میں سے کتنے کا استثناء کیا تھا اس نے؟ ایک دن کا، تو اس ایک دن پر جب وہ عمل کر لیتا تو پھر یہ کیا بن جاتا؟ ایلاء مؤبد بن جاتا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟
یہ وہ صورت ذکر ہو رہی ہے جس میں أقربكما فيه کو ساتھ ذکر نہیں کیا تھا، اگر کرے گا تو اس کی بات آگے آ رہی ہے۔
تو کہتے ہیں وليس مؤقتا بأربعة أشهر، اور یہ مؤقت نہیں تھا چار ماہ کے ساتھ، حتى تنقص الأشهر الأربعة بيوم، یہاں تک کہ کم ہو جاتے چار ماہ ایک دن سے۔
ولما وصفه بقوله، اور جب اس نے موصوف کر دیا اپنے اس قول، یعنی يوما کو اس نے موصوف کر دیا کس کے ساتھ؟ أقربكما فيه کے ساتھ، لم يكن موليا أبدا، تو یہ کبھی بھی ایلاء کرنے والا نہیں ہے، یعنی یہ اب ایلاء نہ رہا بھئی، یہ ایلاء نہیں ہوگا، کبھی بھی ایلاء نہیں کہلائے گا، کیونکہ اب ہر وہ دن مستثنیٰ ہو گیا جس میں وہ دونوں سے کیا کر لیتا ہے؟ صحبت۔
لأن كل يوم يقربهما فيه، اس لیے کیونکہ ہر وہ دن جس میں وہ ان دونوں سے صحبت کرتا ہے، يكون مستثنى من اليمين، وہ مستثنیٰ ہوا یمین سے، لهذه الصفة العامة، اس صفت عامہ کی وجہ سے، فلا يحنث به، پس وہ حانث اس، اس سے حانث نہیں ہوگا۔
وكذا إذا قال أي عبيدي ضربك فهو حر فضربوه إنهم يعتقون، اور اسی طرح جب کہا کسی شخص نے أي عبيدي ضربك، میرے جس غلام نے بھی ضربك، تمہاری پٹائی کی، اے مخاطب! میرے جس غلام نے بھی تمہاری پٹائی کی فهو حر، تو وہ آزاد ہے، فضربوه، تو سب غلاموں نے اس مخاطب کی پٹائی کی، إنهم يعتقون، وہ سب کیا ہو جائیں گے؟ آزاد ہو جائیں گے۔
مثال ثالث لكون النكرة عامة، یہ تیسری مثال ہے اس نکرہ کے عام ہونے کی، بعموم الوصف، کس کی وجہ سے؟ عموم وصف، عموم وصف کی وجہ سے نکرہ کے عام ہونے کی یہ تیسری مثال ہے، على سبيل التشبيه للقاعدة، اس ضابطے کے لیے تشبیہ کے طریقے پر، اس ضابطے کے لیے تشبیہ کے طریقے پر ہے مولانا اس ضابطے کی مثال ہے۔
بھئی تشبیہ کے طریقے پر کیوں ہے؟ کہتے ہیں بھئی یہ درحقیقت، حقیقتاً نکرہ کی مثال نہیں ہے، کیونکہ أي عبيدي، دیکھو أي عبيدي اس کی صفت لائی گئی ضربك، اور أي عبيدي، أي مضاف ہو رہا ہے عبید کی طرف، اور عبید مضاف ہو رہا ہے یائے متکلم کی طرف، تو یہ معرفہ کی طرف أي گویا کہ مضاف ہوا مولانا، کیونکہ عبیدی کیا ہے؟ عبید کا لفظ یا کی طرف مضاف، مضاف ہونے کی وجہ سے معرفہ بن چکا، تو أي کی اضافت ہوئی جب عبیدی کی طرف تو وہ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا، تو لہذا یہ تو نکرہ ہے ہی نہیں اور ہماری بحث تو کس کے اندر چل رہی ہے؟ نکرہ کے اندر چل رہی ہے، تو یہ بعینہٖ اس کی حقیقتاً اس کی مثال نہیں ہے، لیکن اس جیسی ہے، نکرہ جیسی ہے، اس لیے کیونکہ جیسے نکرہ کے اندر ابہام ہوتا ہے وہ کسی فردِ معین پر دلالت نہیں کرتا، اسی طرح أي کے اندر بھی ابہام ہے وہ کسی فردِ معین پر دلالت نہیں کرتا۔ اس کی ترجمے میں آپ نے خود غور کیا أي عبيدي، میرے جس غلام نے بھی، کوئی متعین غلام ہوا؟ آپ کو پتہ لگا اس کے کہنے سے کون سا غلام مراد ہے؟ نہیں بھئی، اس سے سننے والے کو پتہ نہیں چلتا تو ابہام ہے، تو اس اعتبار سے یہ نکرہ جیسا ہوا۔
نکرہ جیسا، تو اس کی صفت ضربك لائی گئی مولانا، تو یہ نکرہ تھا اور نکرہ کی صفت جب عام لائی جائے تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ عموم کا، تو یہ بھی کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا فائدہ دے گا، لہذا اگر اس مخاطب، وہ اس متکلم کے سارے غلام اس مخاطب کو ماریں، چاہے اکٹھے اس کی پٹائی کریں، چاہے الگ الگ اس کی پٹائی کریں، تو وہ سارے کے سارے ہی کیا ہو جائیں گے؟ آزاد ہو جائیں گے بھئی، تو یہ عموم آیا مولانا، کس کی وجہ سے آیا؟ صفت عامہ کی وجہ سے بھئی، صفت عامہ کی وجہ سے۔
بات سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ دیکھیے بھئی، خود وضاحت کریں گے شارح۔
تو دیکھیے سب سے پہلے کیا بات ذکر کی کہ یہ اس قاعدے کی مثال ہے لیکن کس طریقے پر ہے؟ تشبیہ کے، کیسے تشبیہ کے طریقے پر ہے؟ خود بتلا رہے ہیں، فإن قوله أي عبيدي ليس بنكرة نحوية، اس لیے کہ یہ متکلم کا کلام أي عبيدي، یہ نکرہ نہیں، یہ نکرہ نحویہ نہیں ہے بھئی، نحوی اعتبار سے یہ نکرہ نہیں ہے، لكونه مضافا إلى المعرفة، بموجہ اس کے مضاف ہونے معرفہ کی طرف، ولكن يشبه النكرة في الإبهام، لیکن یہ نکرہ کے مشابہ ہے ابہام کے اندر جیسے نکرہ کے اندر ابہام ہوتا ہے، اسی طرح اس کی مراد کے اندر بھی کیا ہے؟ ابہام ہے بھئی، کون سا کوئی متعین غلام مراد نہیں ہے یہاں پر، تو ابہام ہے۔
وصف بصفة عامة موصوف کیا گیا ہے اس کو صفت عامہ کے ساتھ۔ بھئی، وہ کون سی صفت ہے؟ کہتے ہیں: وهو قوله ضربك اور وہ متکلم کا، اس کہنے والے کا یہ قول ہے: ضربك۔ یہ اس کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے اس کو۔ فيعم بعموم الصفة، تو یہ نکرہ عام ہو گا عموم صفت کی وجہ سے۔ فیعتق کل منهم إن ضربوا المخاطب جملة مجتمعين أو متفرقين، تو آزاد ہو جائے گا ان میں سے ہر ایک اگر ان سب نے پٹائی کی مخاطب کی ان ضربوا المخاطب جملة اگر ان انہوں نے پٹائی کی مخاطب کی، سب نے بھئی، ان سب نے کیا کی؟ مخاطب کی پٹائی کی، مجتمعین اکٹھے، أو متفرقين یا متفرق طور پر، الگ الگ بھئی۔ بخلاف ما إذا قال بخلاف اس کے اگر اس نے یوں کہا کہنے والے نے، اب تھوڑا کلام بدلیں گے دیکھو مسئلہ ہی بدل جائے گا، کہتے ہیں: أي عبيدي ضربته فهو حر مخاطب کو کہہ رہا ہے: أي عبيدي ضربته فهو حر کہ میرے جس غلام کی بھی تو پٹائی کرے تو وہ آزاد ہے۔ میرے جس غلام کی بھی تو پٹائی کرے تو وہ آزاد ہے۔ تو اب دیکھیے یہ کلام وہ کہتا ہے: بإضافة الضرب إلى المخاطب کہ ضرب کی إضافة کس کی طرف ہے؟ مخاطب کی طرف بھئی، اس طور پر وہ کہتا ہے۔ وجعل العبيد مضروبين اور عبید، غلاموں کو کیا بنا دیا اس نے؟ مضروبین بنا دیا، مضروب بنا دیا حالانکہ پچھلی مثال میں غلام کیا تھے؟ ضارب تھے۔ فإنهم لا يعتقون كلهم، تو اس صورت کے اندر وہ سب آزاد نہیں ہوں گے إذا ضرب المخاطب جميعهم جب پٹائی کرے مخاطب ان سب کی، بل إن ضربهم بالترتيب تو پھر یہاں دو صورتیں بنتی ہیں۔ وہ یا تو سب کی ترتیب کے ساتھ پٹائی کرے گا بھئی، ایک کی کرے گا، دوسرے کی، تیسرے کی، چوتھے کی مولانا۔ ایک صورت یہ، یا ساروں کی اکٹھی پٹائی کرے گا، تین غلام تھے یا چار غلام تھے مثلاً بھئی، ساروں کی کیا کرتا ہے؟ اکٹھی۔ اگر وہ ترتیب سے پٹائی کرے گا تو اس صورت میں پہلا غلام آزاد ہو جائے گا۔ جیسے ہی پہلے غلام کی پٹائی کرے گا وہ کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا اس لیے کیونکہ آقا نے خود کیا کہا تھا؟ میرے جس غلام کی بھی تم پٹائی کرو وہ کیا ہے؟ آزاد ہے۔ تو جب پہلے کی پٹائی کی تو کوئی اور مقابل موجود ہے یہاں غلام؟ جس کی پٹائی ہوئی ہو اور وہ بھی کس کا تقاضا وہاں بھی کیا آ جائے آزادی کا؟ امکان آئے مولانا، تو وہاں ابھی صرف ایک ہی غلام ہے تو کوئی مزاحم موجود نہیں، جب مزاحم موجود نہیں تو وہی پہلا غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، اور جب وہ سب کی پٹائی اکٹھی کرے تو پھر اس صورت کے اندر بھی ایک ہی غلام آزاد ہو گا اور تعئین کا اختیار آقا کو ہو گا بھئی۔ کہ کون سا غلام آزاد ہے بھئی، وہ تعئین کون کرے گا؟ آقا کرے گا بھئی، اس لیے کیونکہ آزادی کا آزادی کس کی طرف سے آ رہی ہے؟ آقا کی طرف سے، لہٰذا اختیار بھی اسی کو ہو گا کہ وہ چن لے، منتخب کر لے کون سا غلام آزاد ہے۔
تو کہتے ہیں: بل إن ضربهم بالترتيب عتق الأول لعدم المزاحم، اگر پٹائی کی اس نے ان سب کی ترتیب کے ساتھ تو پہلا غلام آزاد ہو جائے گا لعدم المزاحم مزاحم کے نہ ہونے کی وجہ سے۔ وإن ضربهم دفعة اور اگر اس نے ان سب کی پٹائی کی ایک ہی مرتبہ میں، یعنی اکٹھی، فيخير المولى في تعيين واحد منهم، تو اختیار دیا جائے گا آقا کو بھئی، في تعيين واحد منهم ان میں سے کسی ایک کو متعین کرنے میں۔ ووجه الفرق على ما هو المشهور اور فرق کی وجہ ان دونوں مثالوں میں بناء بر اس قول کے جو مشہور ہے وہ یہ ہے: أن في الأول وصفه بالضاربية کہ پہلے پہلی صورت کے اندر کہ پہلی مثال کے اندر وصفه بالضاربية أيا کو موصوف کیا ہے بھئی، أيا کو کیا کیا ہے؟ موصوف کیا ہے بالضاربية ضاربیت کے ساتھ، فيعم بعموم الصفة تو وہ عام ہو گا عموم صفت کی وجہ سے۔ وفي الثاني اور دوسری مثال کے اندر قطع عن الوصفية اس أيا کو منقطع کر دیا گیا ہے وصفیت سے لكونه مسندا إلى المخاطب بوجہ اس ضاربیت کے مسند ہونے مخاطب کی طرف، کیونکہ دوسری میں ضاربیت کا اسناد کس کی طرف کیا گیا ہے؟ مخاطب کی طرف کیا گیا ہے بھئی، مخاطب کی طرف۔
تو مخاطب کی طرف ضاربیت کا اسناد کیا گیا ہے، دون أي نہ کہ أيا کی طرف بھئی، کیونکہ دوسری میں کیا کہا تھا؟ أي عبيدي ضربته، تو ضرب کی نسبت کس کی طرف کر دی مولانا؟ مخاطب کی طرف اسناد کر دیا اس کا۔ تو اس وجہ سے کہ وہ ضاربیت کا اسناد کیا گیا ہے مخاطب مخاطب کی طرف، دون أي نہ کہ أيا کی طرف، فلا يعم تو وہ عام بھی نہیں ہو گا۔ وإذ يصار إلى أخص الخصوص اور رجوع کیا جائے گا أخص الخصوص کی طرف، اور وہ ایک ہے مولانا، وہ کیا ہے؟ ایک ہے، ایک فرد مراد ہو گا، ایک غلام آزاد ہو گا مولانا۔
فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ پہلے میں تھا: أي عبيدي ضربك، تو ضربك کے اندر ضمیر ہے، وہ أيا کو راجع ہے۔ وہ کس کو راجع ہے؟ تو ضاربیت کی نسبت گویا کس کی طرف کر دی؟ أيا کی طرف، اور دوسرے کے اندر ضربت ہے، تو اس میں ضرب کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ مخاطب کی طرف کر دی، تو پہلے میں جب اسناد أيا کی طرف ہوا، وہ وہ غلام کیا ہوئے؟ ضارب ہوئے، اور ضرب کا اس اسناد ان کی طرف کیا تو ان کی صفت عامہ آ گئی، جبکہ یہاں پر ضرب کا اسناد کس کی طرف کیا ہے؟ مخاطب کی طرف، اور وہ جو غلام ہیں وہ کیا ہیں؟ مضروب ہیں، تو ان کو گویا کہ ضارب وہ مخاطب ہے اور غلام کیا ہیں؟ مضروب، تو یہ ضاربیت ان مضروب کی صفت نہیں بن سکتی بھئی، کیونکہ وہ تو مضروب ہیں بھئی، اور یہاں کیا ذکر ہو رہی ہے؟ ضاربیت آگے ذکر ہو رہی ہے، تو ضاربیت کا اسناد مخاطب کی طرف ہوا تو وہ مخاطب کی صفت ہوئی، نہ کہ غلاموں کی، أيا کی صفت نہ ہوئی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
واعترض عليه بأنكم إن أردتم الوصف النحوية فليس شيء من المثالين من قبيل الوصف. اچھا، یہ جو وجہ فرق بیان کی گئی، اس پر مولانا اعتراض کیا گیا بھئی، اعتراض۔ کہ بھئی، آپ نے کیا کہا کہ پہلے کے اندر وصف لائے، دوسرے کے اندر وصفیت سے اس کو أيا کو وصفیت سے کیا کر دیا گیا؟ منقطع کر دیا گیا۔ پہلے میں أيا کے لیے صفت عامہ لائی گئی، دوسرے میں أيا کو کیا کیا گیا؟ صفت عامہ سے صفت سے منقطع کر دیا گیا، کہتے ہیں: آپ کی صفت سے کیا مراد ہے؟ صفت نحوی مراد ہے یا صفت معنوی مراد ہے؟ اگر صفت نحوی مراد ہے تو وہ تو یہاں موجود ہی نہیں ہے، اور اگر صفت معنوی مراد ہے تو وہ تو دونوں کے اندر موجود ہے بھئی۔
اعتراض سمجھ میں آیا؟ کہ آپ کی صفت سے وصفیت سے کیا مراد ہے بھئی؟ اگر اس وصف سے مراد وصف نحوی ہے تو پھر تو دونوں میں نہیں ہے وصف نحوی، اور اگر وصف سے مراد آپ کی وصف معنوی ہے تو پھر تو وہ دونوں کے اندر موجود ہے۔ بھئی، پہلے یہ وصف نحوی کسے کہتے ہیں؟ وصف معنوی کسے کہتے ہیں؟ وصف نحوی مولانا آپ نے پڑھا ہے، صفت نحوی کسے کہتے ہیں؟ نحو میں صفت کسے کہتے ہیں؟ ایسا تابع جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو اس کے متبوع کے اندر پایا جائے، اسے کیا کہتے ہیں؟ صفت، مثلاً میں نے کہا: جاءني رجل عالم، تو رجل موصوف عالم اس کی صفت ہے مولانا نحو کے اعتبار سے، تو اور تو دیکھو، یہاں عالم ہونے کا معنی کس کے اندر پایا جا رہا ہے؟ رجل کے اندر، تو یہ ایسا تابع ہے جو ایسے معنی پر دلالت کر رہا ہے جو کس کے اندر پایا جا رہا ہے اس کے متبوع کے اندر بھئی، یعنی موصوف کے اندر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ وصف معنوی کہتے ہیں وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو بھئی۔ وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو، مثلاً میں کہتا ہوں: زيد شجاع بھئی، زید کیا ہے؟ بہادر ہے۔ اب یہ بہادری کس کے ساتھ قائم ہے؟ زید کے ساتھ، تو یہ زید کے لیے صفت ہے مولانا، اور یہ وصف معنوی ہے، نحوی اعتبار سے تو یہ صفت نہیں، نحوی اعتبار سے تو شجاع کیا ہے؟ خبر بن رہی ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے کیا ہے؟ صفت ہے، کیونکہ یہ معنی کس کے اندر یہ غیر کے ساتھ قائم ہے مولانا، کیا ہے؟ غیر کے ساتھ قائم ہے۔
تو کہتے ہیں: اگر آپ نے وصف نحوی کا ارادہ کیا ہے تو وصف نحوی تو یہاں ہے ہی نہیں، اس لیے کیونکہ أي آمد مولانا، اور أي یا تو اس میں موصول ہوتا ہے یا شرط کے لیے آتا ہے مولانا، جب یہ اسم موصول ہے تو اس صورت میں آگے جو آیا وہ اس کا صلہ بنتا ہے، صفت نہیں، اور شرط کے لیے ہو تو اس سے آگے پھر شرط آتی ہے، صفت نہیں، تو دونوں صورتوں میں یا تو صلہ بن سکتا ہے یا شرط بن سکتا ہے آگے آنے والا فعل، صفت نہیں بن سکتا، تو وصف نحوی کسی میں بھی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ یہ کیا ہو گا؟ یا تو اسم موصول ہو گا یا کیا ہو گا؟ اسم شرط بھئی، اسم موصول ہو تو اس موصول کے بعد کیا آیا کرتا ہے؟ صلہ، تو وہ ضربك کا کیا بنے گا اس کے لیے؟ صلہ بنے گا، کیا بنے گا؟ صلہ، اور اگر شرط کے لیے ہو تو وہ کیا بنے گا؟ شرط، وہ شرط بنے گا، تو صفت آئی؟ صفت نحوی؟ صفت نحوی دونوں مثالوں میں نہیں آتی بھئی، وہ آگے صلہ یا شرط بنیں گے بھئی۔ تو صفت نحوی تو یہاں نہیں ہے۔
تو پھر یقیناً کیا مراد لینا پڑے گا؟ وصف نحوی، اور وصف نحوی تو وصف نہیں، وصف نحوی نہیں، صفت صفت معنوی مراد لیں گے، اور وصف (یعنی وصف معنوی) مراد لیں گے، اور وصف معنوی دونوں صورتوں میں پایا جا رہا ہے، کیونکہ پہلے کے اندر اس کو موصوف کیا ہے، کس کو؟ أي عبيدي کو کس کے ساتھ موصوف کیا ہے؟ وصف ضاربیت کے ساتھ، اور دوسرے میں أي عبيدي کو موصوف کیا ہے وصف مضروبیت کے ساتھ۔ وہ کیا ہوں گے؟ مضروب ہیں نا، مخاطب ضارب ہوا تو وہ کیا ہوئے؟ مضروب، تو پہلے میں ان کو کس کے ساتھ موصوف کیا ہے؟ پہلی مثال میں ضاربیت کے ساتھ، دوسری میں مضروبیت کے ساتھ، تو دونوں میں وصف موجود ہے۔
تو آپ کی یہ بات کہ ایک صورت کے اندر وہ صفت وصف ہے ان کا، دوسری صورت میں وہ وصف سے منقطع ہیں، آپ کی یہ بات درست نہیں رہتی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے ذرا بھئی، کتاب پر دیکھیے۔
واعترض عليه اور اس پر اعتراض کیا گیا ہے، یہ جو وجہ فرق بیان کی گئی اس پر اعتراض کیا گیا ہے: بأنكم أنكم إن أردتم الوصف النحوية فليس شيء من المثالين من قبيل الوصف کہ اگر آپ نے ارادہ کیا ہے وصف نحوی کا فليس شيء من المثالين من قبيل الوصف تو کوئی ایک چیز بھی نہیں ہے دونوں مثالوں میں سے وصف کے قبیل میں سے، لأن أي موصولة أو شرطية اس لیے کہ أيا أي جو ہے وہ موصولہ ہو گا یا شرطیہ ہو گا، اگر موصولہ ہو تو ما بعد کیا بنے گا؟ صلہ، شرطیہ ہو گا تو ما بعد شرط بنے گی، تو صلہ تو وصف نحوی تو نہ آیا، وإن أردتم الوصف المعنوية اور اگر آپ نے وصف معنوی کا ارادہ کیا ہے ففي كل من المثالين حاصل تو وہ تو دونوں مثالوں کے اندر حاصل ہے بھئی وہ، لأنه في الأول وصفه بالضاربية اس لیے کہ پہلی مثال کے اندر موصوف کیا ہے أيا کو کس کے ساتھ؟ ضاربیت کے ساتھ، وفي الثاني بالمضروبية اور دوسری مثال میں مضروبیت کے ساتھ کیا کیا ہے؟ موصوف کیا ہے، تو کیونکہ وصف معنوی کا فاعل ہونا ضروری نہیں ہے بھئی، تو پہلی میں کس کے ساتھ موصوف کر دیا گیا؟ ضاربیت، تو دوسری میں کس کے ساتھ موصوف کر دیا گیا؟ مضروبیت کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ وصف معنی کی کی کیونکہ وصف معنوی کے لیے کیا ضروری نہیں ہے؟ فاعل ہونا ضروری نہیں ہے بھئی، بلکہ فاعل کے علاوہ بھی وصف معنوی آ سکتا ہے مولانا، جیسے پچھلی مثال میں آیا تھا۔ إلا يوما أقربكما فيه، تو يوما کی کیا آئی تھی؟ صفت آئی تھی، اور يوما کیا ہے؟ مفعول فیہ ہے بھئی، زمانہ ہے بھئی، مفعول فیہ ہے، تو جب وہ جب وہ موصوف ہو سکتا ہے مولانا، تو مفعول بہ بھی کیا ہو سکتا ہے؟ موصوف بھئی، آپ کے کلام سے تو آپ نے تو کہا کہ پہلی مثال میں اس کو موصوف کیا گیا وصف ضاربیت کے ساتھ، دوسری مثال میں ان کو موصوف نہیں کیا گیا، تو آپ کے کہنے کا گویا یہ مطلب ہوا کہ فاعل ہو تو وہ موصوف ہو سکتا ہے صفت معنوی کے ساتھ، فاعل نہ ہو، یعنی مضروب ہو، مفعول ہو تو صفت کے ساتھ موصوف نہیں ہو سکتا، کہتے ہیں: نہیں بھئی، فاعل کے علاوہ بھی کیا ہو سکتے ہیں؟ صفت کے ساتھ موصوف ہو سکتے ہیں، کیا آپ نے دیکھا نہیں پچھلی مثال کے اندر يوما؟ وہ فاعل نہیں تھا بلکہ وہ تو کیا تھا؟ مفعول فیہ تھا، لیکن اس کے باوجود وہ کیا ہوا تھا؟ وصف کے ساتھ موصوف ہو گیا تھا بھئی، وصف کے ساتھ۔
ألا ترى کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں؟ أن في قوله کہ اس قول کے اندر بھئی، شخص کے اس قول کے اندر: إلا يوما أقربكما فيه وجد العموم اس کے اندر کیا پایا گیا؟ عموم پایا گیا، کس وجہ سے عموم آیا تھا؟ کیونکہ اس کی صفت عامہ لائی گئی تھی، تو معلوم ہوا موصوف ہوا تھا، تو یہاں پر اس صفت عامہ کی وجہ سے عموم آیا، یعنی وہ موصوف ہوا تھا، اس کی صفت لائی گئی تھی، مع أن يوما وقع مفعولا فيه لا فاعلا باوجود اس کے کہ يوما مفعول فیہ واقع ہوا ہے نہ کہ فاعل، معلوم ہوا فاعل کے علاوہ بھی کیا آ سکتی ہے؟ وصف معنوی آ سکتا ہے۔
فينبغي أن يكون في المفعول به كذلك، تو مناسب ہے کہ مفعول بہ کے اندر بھی اسی طرح ہونا چاہیے، یعنی اسے بھی کیا ہونا چاہیے؟ صفت کے ساتھ موصوف ہونا چاہیے، جب وہ صفت کے ساتھ موصوف ہو گا تو اس کے اندر بھی عموم آئے گا، اور جب عموم آئے گا تو پھر تمام غلام کیا ہونے چاہئیں؟ آزاد ہونے چاہئیں، جب مخاطب تمام غلاموں کی پٹائی کرے تو تمام غلام کیا ہونے چاہئیں؟ آزاد ہونے چاہئیں۔
وأجيب اور جواب دیا گیا ہے کہ بأن الضرب يقوم بالضارب فلا يقوم بالمضروب کہ ضرب جو یہاں ذکر ہوئی ہے اور ضرب ضارب کے ساتھ قائم ہوتی ہے، فلا يقوم بالمضروب پس وہ مضروب کے ساتھ قائم نہیں ہو سکتی، اس لیے کیونکہ یہ بات محال ہے مولانا کہ ایک ہی وصف دو شخصوں کے ساتھ قائم ہو جائے بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ ایک ضرب ہے تو وہ ایک ہی شخص کے ساتھ کیا ہو گی؟ قائم ہو گی، دوسرے شخص کے ساتھ اگر قائم ہو تو وہ دوسری ضرب ہو گی، وہ والی ضرب نہیں ہو گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ زید نے بھی پٹائی کی، عمر نے بھی پٹائی کی، تو جو زید کی ضرب ہے وہ زید کے ساتھ قائم ہے، جو عمر کی ضرب ہے وہ عمر کے ایک ہی ضرب زید اور عمر دونوں کے ساتھ قائم نہیں ہو سکتی، تو یہاں پر آگے ضرب کا ذکر آیا اور ضرب ضارب کے ساتھ قائم ہوا کرتی ہے، مضروب کے ساتھ قائم نہیں ہو سکتی، کیونکہ اگر مضروب کے ساتھ بھی آپ قائم مانیں تو اس صورت میں کیا لازم آئے گا؟ کہ ایک ہی وصف کس کے ساتھ قائم ہے؟ دو شخصوں کے ساتھ، حالانکہ ایک ہی وصف دو شخصوں کے ساتھ قائم نہیں ہو سکتا بھئی، تو وہاں پر اسناد مخاطب کی طرف کیا گیا ہے دوسری مثال کے اندر، تو وہ ضرب مخاطب کے ساتھ کیا ہے؟ قائم ہے مولانا، اور أي عبيدي جو ذکر ہوئے وہ مضروب ہیں، ان کے ساتھ وہ قائم نہیں ہو سکتی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: وأجيب اور جواب دیا گیا ہے کہ بأن الضرب يقوم بالضارب فلا يقوم بالمضروب تو کہ ضرب جو ہے وہ ضارب کے ساتھ قائم ہوتی ہے تو وہ مضروب کے ساتھ قائم نہیں ہوتی، جب تو جب مضروب کے ساتھ قائم نہیں ہوتی، تو لہٰذا مثال ثانی میں جو ضرب ذکر ہوئی وہ مخاطب کے ساتھ قائم ہے، وہ مضروب یعنی أي عبيدي کے ساتھ قائم نہیں، جب ان کے ساتھ قائم نہیں تو وہ بغیر صفت کے ہوئے، اور جب بغیر صفت کے ہوئے تو پھر وہ نکرہ کی طرح ہے، اور نکرہ سیاق اس بات میں آئے تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ خصوص کا، ہاں صفت عامہ آ جائے تو پھر کس کا فائدہ دے گا؟ لیکن یہاں صفت آئی؟ نہیں، تو لہٰذا وہ بھی کس چیز کا فائدہ دے گا؟ خصوص ہی کا فائدہ دے گا۔
لہٰذا ایک کے غلام اگر وہ سب کی پٹائی کرتا ہے مخاطب، تو پھر ایک کے غلام آزاد ہوں گے اور اختیار کس کو دیں گے؟ اگر اکٹھی پٹائی کی ہے، آقا کو اختیار ہو گا۔
باقی جو آپ نے کیا کہا بھئی؟ آپ نے مفعول بہ کو مفعول فیہ پر قیاس کیا، کہتے ہیں آپ کا یہ قیاس درست نہیں ہے بھئی! اس لیے کیونکہ دونوں میں فرق ہے بھئی، دونوں میں فرق ہے۔ جب دونوں میں فرق ہوا، تو یہ قیاس مع الفارق ہوا بھئی۔ دونوں میں فرق کس طرح ہے؟ آگے بتلا رہے ہیں بھئی، دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: "والمفعول به فضلة لا يتوقف الفعل عليه" کہ مفعول بہ فضلہ ہوتا ہے، زائد چیز ہوتی ہے، "لا يتوقف الفعل عليه" فعل اس پر موقوف نہیں ہوتا۔ "بخلاف يوما" بخلاف کس کے؟ "یوماً" کے، "وهو مفعول فيه" اور وہ مفعول فیہ ہے، "فإنه جزء من الفعل" اس لیے کیونکہ مفعول فیہ کیا ہوتا ہے؟ فعل کا جز ہوتا ہے، "لأنه عبارت عن الحدث مع الزمان"۔ بھئی، آپ نے پڑھا ہے فعل کا مفہوم تین چیزوں سے مرکب ہے۔ فعل کس پر دلالت کرتا ہے مولانا؟ معنی مصدری اور زمانہ اور نسبت الی الفاعل۔ معنی مصدری، زمانہ اور نسبت الی الفاعل ہے۔ اس میں تو زمانہ تو فعل کا جز ہوا۔ زمانہ کیا ہوا؟ فعل کا جز ہوا۔ تو زمانہ اور فعل ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں مولانا۔ جب بھی کوئی فعل پایا جائے گا، ضرور کسی نہ کسی زمانے میں پایا جائے گا، بغیر زمانے کے نہیں ہو سکتا۔ تو زمانہ اور فعل ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں مولانا۔ جبکہ مفعول بہ تو فضلہ ہے مولانا، اسے کیا کر لیا جاتا ہے کلام کے اندر؟ حذف کرنا بھی جائز ہے، حذف کر دیا جائے، اسے ذکر ہی نہ کیا جائے سرے سے۔ بلکہ فعل لازم جو ہوتا ہے، اس کے لیے تو مفعول بہ سرے سے آتا ہی نہیں ہے مولانا۔ فعل لازم تو کہتے ہی کس کو ہیں؟ جہاں صرف فاعل پر ہی کیا ہو جائے؟ بات پوری ہو جائے۔ تو معلوم ہوا، مفعول بہ فضلہ ہے جبکہ مفعول فیہ کیا ہے؟ وہ فعل کا جز ہے۔ تو لہٰذا یہ فعل کے ساتھ لازم ہے۔ تو یہ جب جز کی طرح ہوا، تو اس کو اس مفعول فیہ پر مفعول بہ کو قیاس کرنا صحیح نہیں بھئی، کیونکہ دونوں میں فرق ہے۔ اگر آپ قیاس کرتے ہیں، تو یہ تو قیاس مع الفارق ہے، جو درست نہیں ہے، یہ فرق ہے دو چیزوں میں اور آپ ایک کو دوسری پر قیاس کر رہے ہیں۔
تو کہتے ہیں بھئی: "فإنه جزء من الفعل" اس لیے کہ مفعول فیہ جو ہوتا ہے، وہ جز ہوتا ہے فعل سے، "لأنه عبارت عن الحدث مع الزمان" اس لیے کہ فعل جو ہے، وہ عبارت ہے حدث سے۔ حدث کہتے ہیں وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو، یعنی وہ معنی مصدری بھئی۔ حدث کسے کہتے ہیں؟ وہ معنی جو غیر کے ساتھ، یعنی معنی مصدری مراد ہے، کیونکہ مصدر بھی کیا ہوتا ہے؟ غیر کے ساتھ قائم ہوتا ہے، اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کوئی ضارب ہے تو ضرب ہے، کوئی عاقل ہے تو عقل ہے، کوئی شارب ہے تو شرب ہے۔ اس مصدر کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہوتا، یہ کسی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔
تو فعل وہ عبارت ہے حدث سے، یعنی وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو، یعنی کہ وہ معنی مصدری "مع الزمان" زمانے کے ساتھ، "فيتلازمان" تو لہٰذا یہ مفعول فیہ اور فعل کیا ہیں؟ ایک دوسرے کے ساتھ باہم لازم ہیں۔ تو یہ قیاس آپ کا لہٰذا صحیح نہیں۔
"وقيل في الفرق بينهما" جی، دوسرا جواب بھئی بعضوں نے یہ ذکر کیا۔ "قیل" کے ساتھ ذکر کر رہے ہیں بھئی، کمزور جواب۔
اچھا، کیا اعتراض کیا تھا؟ کہ آپ نے دونوں میں فرق کیا ہے، دونوں میں فرق نہیں ہونا چاہیے، اس لیے کیونکہ جیسے پہلے کے اندر ضاربیت کے ساتھ ای عبیدی موصوف ہو رہے ہیں، دوسری مثال میں کس کے ساتھ موصوف ہو رہے ہیں؟ مضروبیت کے ساتھ بھئی۔ تو جواب بعضوں نے یہ دیا: "وقيل في الفرق بينهما" اور ان دونوں صورتوں میں فرق کے اندر کہا گیا ہے: "إن في الصورة الأولى لما علق العتق بضرب العبيد" کہ اس پہلی صورت کے اندر جب معلق کر دیا گیا آزادی کو غلاموں کی ضرب کے ساتھ، کیا تھا؟ پہلی مثال کیا تھی؟ کہ جو بھی میرا غلام اس مخاطب تیری پٹائی کرے، وہ کیا ہے؟ آزاد ہے۔ تو جب آزادی کو معلق کر دیا گیا غلاموں کی ضرب کے ساتھ، "يسارع كل منهم إلى ضربه لأجل عتقه" تو جلدی کرے گا ان میں سے ہر ایک اس کی پٹائی کرنے میں "لأجل عتقه" اپنی آزادی کے لیے، "فلا يمكن التخير فيه للمولى بلا مرجح" لہٰذا یہاں تخیر، تخیر کہتے ہیں مولانا منتخب کرنا، تو اس کے اندر منتخب کرنا آقا کے لیے ممکن نہیں ہو گا "بلا مرجح" بغیر کسی مرجح کے بھئی۔ ہر ایک چاہتا ہے اپنی آزادی کو، ہر ایک جلدی کرے گا۔ ہر ایک کیا ہے؟ اپنی آزادی کو چاہتا ہے تو جلدی کرے گا۔ تو لہٰذا یہاں آقا کو منتخب کرنا، آقا کے لیے منتخب کرنا ممکن نہیں ہو گا بغیر کسی مرجح کے بھئی۔ تو مرجح ہے نہیں، "فيعم" تو لہٰذا وہ کیا ہو جائے گا؟ وہ عام ہو گا۔ "بخلاف الصورة الثانية" برخلاف دوسری صورت کے، "فإنه علق فيها على ضرب المخاطب" وہاں آزادی کو معلق کیا گیا اس صورت کے اندر مخاطب کی ضرب پر، "فلا ينبغي له" تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے "أن يضربهم جميعا" کہ وہ ان سب کی پٹائی کرے "ليعتقوا" تاکہ وہ کیا ہو جائیں؟ تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ سب کی پٹائی کرے کہ وہ آزاد ہو جائیں، "فيخير فيه المولى بين واحد منهم" تو اس میں اختیار دیا جائے گا آقا کو ان میں سے کسی ایک کا، کہ وہ اگر ترتیب سے کرے گا پھر تو ایک ہی آزاد ہو گا پہلا، کیونکہ مزاحم موجود نہیں، لیکن اگر سب کی اکٹھی پٹائی کرتا ہے، تو اس صورت میں ایک آزاد ہو گا اور اسے اختیار کرنے، یہ کس کا حق ہو گا؟ آقا کا حق ہو گا۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو فرق کیا ہوا؟ کہ پہلی صورت کے اندر ہر غلام چاہتا ہے اپنی آزادی کو، تو ہر ایک جلدی کرے گا۔ جبکہ دوسری صورت میں چاہنے والا یا پٹائی کرنے والا ایک ہی ہے مولانا۔ پہلی صورت میں پٹائی کرنے والے کون ہیں؟ سارے غلام، ہر ایک چاہے گا، ہر ایک بڑھ کر جلدی سے جلدی اس کی پٹائی کی کوشش کرے گا تاکہ اسے آزادی حاصل ہو جائے۔ اور دوسری صورت میں پٹائی کرنے والا ایک ہی ہے مولانا پٹائی کرنے والا، تو اسے مناسب نہیں ہے کہ وہ کیا کرے؟ سب کی پٹائی کرے انہیں آزاد کرنے کے لیے۔ تو لہٰذا وہاں جب ہر ایک چاہنے والا ہے، ہر ایک ضرب میں جلدی کرنے والا ہے، تو وہاں پر آقا کو انتخاب کا، چننے کا حق نہیں دیا جائے گا بغیر کسی مرجح کے اور مرجح تو کوئی بھی نہیں ہے، لہٰذا وہاں کیا ہو گا؟ عموم آ جائے گا اور سارے غلام آزاد ہوں گے۔ جبکہ یہاں پر چاہنے والا ایک ہی ہے، لہٰذا اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ کیا کرے؟ سب کی پٹائی کرے۔
"وكذا إذا دخلت لام التعريف فيما يحتمل التعريف بمعنى العهد أوجبت العموم"
بھئی، سب سے پہلے یہاں اب لام تعریف کی بات آئی، لام کی اقسام جان لیں بھئی۔ یاد رکھیے، یہ الف لام جو ہے، جو اسماء پر آتا ہے، یہ دو قسم پر ہے۔ ایک الف لام اسمی کہلاتا ہے، ایک الف لام حرفی۔ الف لام اسمی اس لیے کیونکہ وہ اسم ہے، ہے تو الف لام کی صورت میں لیکن دراصل کیا ہے؟ اسم۔ اور دوسرا الف لام حرفی کیونکہ وہ حرف ہے مولانا۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہوتا ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: الضارب، یہ الف لام جو ہے، یاد رکھیے یہ حرف نہیں ہے، یہ اسم ہے بمعنی الذی کے، تو الضارب بمعنی کس کے ہوا؟ الذی یضرب کے۔ اور المضروب مولانا، یہ کس معنی میں ہوا؟ الذی یضرب کے معنی میں ہوا بھئی، تو یہ اسم ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ الف لام اسمی۔ دوسری قسم الف لام حرفی ہے، الف لام حرفی یاد رکھیے وہ ہے، جسے کسی اسم کو معرفہ بنانے کے لیے لایا جاتا ہے۔ پہلا اسمی تو خود ہی معرفہ تھا، اسم تھا، اسم موصول تھا اور اسم موصول کیا ہے؟ معرفہ۔ اور دوسرا الف لام حرف ہے، اس کو لایا جاتا ہے کسی اسم کو معرفہ بنانے کے لیے اور یاد رکھیے، اس کی تعبیر بہترین تعبیر کہ اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ الف لام حرفی کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ پھر یاد رکھیے، یہ جو الف لام حرفی ہے، یہ جس اسم پر داخل ہوا، تو اس کے ذریعے یا تو اشارہ ہو گا افراد سے قطع نظر اس کی حقیقت اور ماہیت کی طرف۔ اشارہ کس کی طرف ہو گا؟ یا تو نفسِ حقیقت اور ماہیت کی طرف اشارہ ہو گا، یا افراد کی طرف اشارہ ہو گا۔ اگر نفسِ ماہیت کی طرف اشارہ ہے قطع نظر افراد کے، تو یہ الف لام جنسی کہلاتا ہے، جنس اور ماہیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اور اگر اس کے ذریعے اشارہ ہے افراد کی طرف، پھر یہ دو حال سے خالی نہیں، یا تو تمام افراد کی طرف اشارہ ہو گا، یا بعض افراد کی طرف اشارہ ہو گا۔ اگر تمام افراد کی طرف اشارہ ہو، تو یہ الف لام استغراقی کہلاتا ہے۔ اگر بعض افراد کی طرف اشارہ ہو، تو پھر اس صورت میں وہ بعض افراد متعین ہوں گے یا متعین نہیں ہوں گے۔ اگر وہ افراد متعین ہیں، تو یہ الف لام عہد خارجی کہلاتا ہے اور اگر وہ بعض متعین نہیں ہیں، تو پھر اس صورت میں یہ الف لام عہد ذہنی کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ عہد ذہنی کہلاتا ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ الف لام ابتداءً کتنی قسم پر ہوا؟ دو قسم پر، اسمی اور حرفی۔ اسمی کون سا ہے؟ جو اسم فاعل اور اسم مفعول پر داخل ہوتا ہے اور یہ دراصل اسم موصول ہے، یہ اسم ہے، حرف ہے ہی نہیں، تو اور یہ معرفہ ہے خود۔ جبکہ الف لام حرفی خود تو حرف ہے لیکن یہ جب کسی اسم پر داخل ہوتا ہے تو اس کو کیا بنا دیتا ہے؟ معرفہ اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور اشارہ کس کی طرف ہو گا؟ کبھی یا تو نفسِ حقیقت اور ماہیت کی طرف اشارہ ہو گا، اس صورت میں یہ کیا کہلاتا ہے؟ الف لام جنسی۔ اور کبھی افراد کی طرف ہو گا، اگر افراد کی طرف ہو تو پھر تمام افراد اگر مراد ہوں، تو یہ الف لام استغراقی ہے۔ اگر بعض مراد ہوں، تو وہ پھر بعض معین ہوں گے یا غیر معین، اگر معین ہوں تو یہ الف لام عہد خارجی اور اگر غیر معین ہوں تو یہ پھر الف لام عہد ذہنی کہلاتا ہے۔
مثالیں بھی یاد رکھیے سب کی بھئی، مثلاً بھئی الف لام جنسی کی مثال مثلاً، میں کہتا ہوں: "الرجل خير من المرأة"، یہاں الرجل اور المرأة پر جو الف لام آیا، یہ الف لام جنسی ہے بھئی، کلام کا معنی کیا ہوا؟ کہ جنس رجل بہتر ہے جنسِ امراۃ سے، جنسِ عورت سے۔ یہاں حقیقت اور ماہیت مراد ہے مولانا، افراد مراد نہیں ہیں، اگر افراد مراد ہوں تو یہ کلام ہی درست نہیں رہتا اس لیے کیونکہ بہت سی عورتیں مردوں سے بہتر ہیں، مثلاً مومنہ عورت کافر مرد سے بہتر ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا کس کی طرف اشارہ ہے یہ؟ جنس اور ماہیت کی طرف کہ رجل کی جنس کیا ہے؟ عورت کی جنس سے بہتر ہے۔
دوسری، دوسری قسم الف لام استغراق کے لیے آئے، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "إن الإنسان لفي خسر"، یہ الإنسان پر جو الف لام آیا، یہ الف لام استغراقی ہے اور تمام افراد کی طرف اشارہ ہے کہ یقیناً "إن الإنسان لفي خسر" یقیناً تمام انسان کیا ہیں؟ خسارے میں ہیں، "إلا الذين آمنوا" مگر وہ جو ایمان لائے، وہ خسارے میں نہیں ہیں، ان کا استثناء کر لیا گیا۔ تو یہاں الف لام استغراق کے لیے ہو، تبھی استثناء صحیح ہو سکتا ہے ورنہ استثناء صحیح نہیں، تو یہ الف لام استغراقی ہے۔
پھر اس کے بعد الف لام عہد خارجی کی مثال، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، میں کہتا ہوں: "جاءني رجل أمس"، "جاءني رجل أمس" کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا، آپ نہیں جانتے اس کو، کوئی ایک آدمی میں نے ذکر کر دیا، لیکن جب ایک دفعہ ذکر کر دیا تو کیا ہو گیا؟ پتہ لگ گیا یا نہیں آپ کو؟ آگے میں آپ کو یہ بتلانا چاہتا ہوں میں نے اس پھر اس آدمی کا میں نے اکرام کیا، تو میں کہوں گا: "فأكرمت الرجل"، اب الف لام کے ساتھ کہوں گا، کیوں؟ کیونکہ اس الرجل کے ذریعے ہر رجل مراد ہے یا وہی جس کا ابھی میں نے ذکر کیا تھا؟ وہی، وہ متعین ہو چکا ہے، تو اس متعین فرد کی طرف میں الف لام کے ذریعے اشارہ کر رہا ہوں، یہ کیا کہلاتا ہے؟ الف لام عہد خارجی کہلاتا ہے کہ بعض متعین کی طرف اس کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے۔
اور الف لام عہد ذہنی بھئی، جیسے قرآن میں اس کی بہترین مثال بھئی: "أخاف أن يأكله الذئب"، حضرت یعقوب علیہ السلام بھئی اپنے بیٹوں سے فرماتے ہیں، بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے ساتھ لے جانے کی ضد کر رہے ہیں، حضرت یعقوب علیہ السلام فرماتے ہیں: "أخاف" مجھے خوف ہے "أن يأكله الذئب" کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا۔ تو الذئب، الف لام آیا ذئب پر بھئی الف لام، اور آپ مجھے بتلائیے بھئی، کیا اس سے مراد حقیقت اور ماہیت ہو سکتی ہے؟ کیا حقیقت بھیڑیے کی کسی کو کھاتی ہے یا اس کے افراد کسی کو کھاتے ہیں؟ افراد کھاتے ہیں، معلوم ہوا جنس اور ماہیت تو مراد نہیں، پھر افراد میں صورت تھی تمام افراد مراد ہوں، تو کیا یہ خوف تھا کہ ساری دنیا کے بھیڑیے مل کر انہیں کھا لیں گے؟ نہیں، یہ بھی ممکن نہیں، تو استغراقی بھی نہ ہوا، پھر تیسری صورت کہ الف لام عہد خارجی مراد لیں، کیا کوئی متعین بھیڑیا تھا وہاں پر جس کے جس سے ڈر تھا کہ وہ والا بھیڑیا کھا جائے گا؟ نہیں، بلکہ کوئی ایک فرد بھیڑیے کا مجھے خطرہ ہے، خوف ہے کہ وہ اس سے، تو یہ الف لام عہد ذہنی ہے مولانا، یہ کیا ہے؟ الف لام عہد ذہنی ہے کہ اس جنس کے کسی ایک فرد کا ذہن میں تصور کر لیا جائے اور اس کی طرف الف لام کے ذریعے اشارہ کر دیا جائے۔ بھئی الف لام کے ذریعے ہو گا تو ہمیشہ اشارہ بھئی، تو یہاں پر اشارہ کس کی طرف ہوا؟ ذہن میں اس جنس کے بعض افراد کا کیا کر لیا گیا؟ تصور کیا گیا اور اس کی طرف الف لام کے ذریعے کیا کر دیا گیا؟ اشارہ کر دیا گیا۔ اور یاد رکھیے مولانا، یہ جو الف لام عہد ذہنی ہوتا ہے، یہ جب کسی لفظ پر داخل ہوتا ہے، تو اسے معرفہ تو بنا دیتا ہے لفظوں کے اعتبار سے، لیکن معنی کے اعتبار سے وہ پھر بھی نکرہ ہی رہتا ہے، کیا رہتا ہے؟ نکرہ کا نکرہ ہی رہتا ہے، اسی لیے ترجمہ کیا کیا میں نے؟ کوئی بھیڑیا، "أخاف أن يأكله الذئب" مجھے خوف ہے کہ اس کو کھا لے گا، ان کو کھا لے گا کوئی بھیڑیا، تو یہ معنی کے اعتبار سے نکرہ ہی ہے۔
جی، الف لام کی قسموں کا پتہ چل گیا بھئی؟ اب یاد رکھیے مولانا، جب الف لام آئے بھئی حرفی، تو اس صورت میں اصل یہ ہے کہ اس کو الف لام عہد خارجی پر محمول کیا جائے، کس پر؟ کسی متعین فرد کی طرف اس کے ذریعے اشارہ ہو، اگر کوئی متعین فرد نہ ہو، پھر ہم الف لام جنسی یا استغراقی کی طرف جائیں گے، لیکن اولاً کس پر محمول کریں گے؟ کس پر الف لام عہد خارجی؟ کسی متعین فرد کی طرف اشارہ ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے जरा کتاب پر، کہتے ہیں: "وكذا إذا دخلت لام التعريف" اور اسی طرح جب داخل ہو جائے لام تعریف "فيما لا يحتمل التعريف بمعنى العهد" اس لفظ کے اندر جو تعریف کا احتمال نہیں رکھتا بوجہ معنی عہد کے، یعنی معنی عہد کی وجہ سے تعریف کا احتمال نہیں رکھتا، یعنی وہاں پر کوئی معہود متعین نہیں ہے۔ ایک لفظ ہے اس پر الف لام کون سا آیا؟ حرفی اور اس الف لام حرفی کے ذریعے تعریف آئی، لیکن تعریف بمعنی عہد وہاں اس کا احتمال نہیں ہے، کیونکہ کوئی فرد متعین، بھئی سب سے پہلے کون سا مراد لیں گے؟ عہد خارجی، لیکن وہ کس وقت لیں گے جب خارج میں کوئی فرد متعین ہو، لیکن یہاں پر کہتے ہیں اس میں تعریف بمعنی عہد کا احتمال نہیں ہونا چاہیے، یعنی کوئی متعین فرد، جب کوئی متعین فرد نہیں ہو گا تو الف لام عہد خارجی مراد نہیں لیں گے، پھر کس کی طرف چلے جائیں گے؟ الف لام جنسی یا الف لام استغراقی کی طرف، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں جب لام تعریف داخل ہو جائے کسی ایسے لفظ کے اندر جو تعریف بمعنی عہد کا احتمال نہیں رکھتا، یعنی وہاں کوئی معہود متعین نہیں ہے، "أوجبت العموم" تو یہ لام تعریف ثابت کر دے گا عموم کو، کیا کرے گا؟ عموم کو ثابت کرے گا، یعنی اس کو پھر ایک قول کے مطابق الف لام جنسی پر محمول کریں گے اور الف لام جنسی کے اندر آپ جانتے ہیں مولانا کہ جنس کا اطلاق ادنیٰ پر بھی ہوتا ہے اور کل پر بھی ہوتا ہے، قلیل پر بھی اور کثیر پر بھی۔ رجل بول کر ایک فردِ رجل بھی مراد ہو سکتا ہے اور تمام افرادِ رجل بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی جب الف لام جنسی بنائیں گے تو اس میں کل کا استعمال آ گیا، تو عموم آ گیا یا اس کو الف لام استغراقی پر محمول کریں گے دوسرے قول کے مطابق، اور الف لام استغراقی میں بھی تمام افراد کا احاطہ ہوا تو وہاں بھی کیا آیا؟ عموم آ گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یعنی کما ان النکرۃ اذا وصفت بصفۃ عامۃ تعم یعنی جیسے کہ نکرہ جب اس کو موصوف کیا جائے کسی صفتِ عامہ کے ساتھ تو وہ عام ہو جاتا ہے کذالک اذا دخلت لام المعرفۃ فی سورۃ اسی طرح جب داخل ہو جائے لام معرفہ ایسی صورت کے اندر کہ لا یستقیم التعريف العهدی کہ تعریفِ عہدی وہاں پر درست نہیں رہتی تو اوجبت العموم تو وہ لامِ تعریف کیا کرے گا؟ عموم کو ثابت کرے گا سواء کان العموم للجنس برابر ہے کہ وہ عموم کس کے لیے ہو؟ جنس کے لیے ہو کما ذهب الیه فخر الاسلام جیسے کہعلامہ فخر الاسلام اس کی طرف گئے ہیں ان کے نزدیک پھر اس کو جنس پر محمول کریں گے اور پھر بھی عموم ہے اور وتابعوہ اور ان کے متبعین جس کی طرف گئے ہیں او للاستغراق یا وہ عموم جنس کے لیے ہو یا وہ عموم کس کے لیے ہو؟ استغراق کے لیے ہو کما ذهب الیه اهل العربیۃ وجمهور الاصولیین جیسے کہ اس کی طرف گئے ہیں اہل عربیت اور تمام اصولیین، اہل عربیت یعنی اہل لغت جس کی طرف گئے ہیں بھئی۔
وفیہ تنبیہ اور کہتے ہیں مصنف کے اس کلام کے اندر تنبیہ ہے علی اس بات پر کہ ان العهد هو الاصل فی اللام کہ عہد وہ اصل ہے کس کے اندر؟ لام کے اندر، کہ جب لام آئے اصل کیا ہے کس پر محمول کرنا چاہیے؟ عہد پر، میں نے تو عہدِ خارجی کہا، وہ آگے ذکر کرنے لگے ہیں دو قول کہ عہد دو قسم پر ہے عہدِ خارجی اور عہدِ ذہنی، تو بس عہد پر محمول کریں گے، پھر عہد کون سا ہو گا؟ بعضوں نے مطلق رکھا چاہے عہدِ خارجی ہو چاہے عہدِ ذہنی ہو اور بعضوں نے کہا کہ اس کو کس پر محمول کیا جائے؟ عہدِ خارجی ہی پر محمول کیا جائے، اسی لیے کیونکہ عہدِ ذہنی تو نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں مصنف کے اس کلام کے اندر تنبیہ ہے اس بات پر کہ ان العهد هو الاصل فی اللام کہ عہد جو ہے وہ اصل ہے لام کے اندر فما دام يستقيم العهد لا يصار الى معنى آخر تو جب تک عہد درست رہتا ہے تو پھر رجوع نہیں کیا جائے گا کسی دوسرے معنی کی طرف سواء کان عهدا خارجيا او ذهنيا کما ذهب الیه البعض برابر ہے کہ وہ عہدِ خارجی ہو یا عہدِ ذہنی ہو جیسے کہ اس کی طرف گئے ہیں بعض علماء، یعنی انہوں نے مطلق رکھا ہے چاہے عہدِ خارجی ہو یا عہدِ ذہنی، کسی کی طرف بھی کوئی ایک مراد ہو گا۔
وقیل عهدا خارجيا فقط اور کہا گیا ہے کہ اس کے لیے کس کا کیا ہو گا؟ کہ وہ عہدِ خارجی ہی ہو گا صرف فانہ هو الاصل فی التعريف اسی لیے کیونکہ وہی اصل ہے تعریف کے اندر والمعهود الذهني فی المعنى ک النکرۃ اور معہودِ ذہنی جو ہے وہ تو معنی کے اندر کس کی طرح ہے؟ نکرہ کی طرح ہے۔
فان لم يستقم العهد اگر عہد درست نہیں رہتا یعنی وہ عہد والا معنی درست نہیں رہتا بان لم یکن ثَم افرادٌ معہودۃٌ بعن طور کہ نہ ہوں وہاں بھئی ثَم اسم اشارہ ہے میں نے بتلایا پہلے بھی بھئی کہ نہ ہوں وہاں پر افرادٌ معہودۃٌ، کیا نہ ہوں؟ کوئی متعین افراد نہ ہوں، متعین افراد ہوتے پھر تو ہم اس کو کس پر محمول کر لیتے؟ عہدِ خارجی پر، تو جب وہاں کوئی متعین افراد ہی نہیں ہیں او لم يجري ذکرہ فیما سبق یا جاری نہیں ہوا اس کا ذکر ماقبل کے اندر، بھئی ماقبل میں اگر اس کا ذکر آیا ہوتا پھر بھی وہ کیا ہو چکا ہوتا؟ متعین ہو جاتا تو الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کرنا جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی جاءنی رجلٌ، ایک دفعہ ذکر آ گیا تو اب میں کہہ سکتا ہوں فاکرمت الرجل، تو ایک دفعہ ذکر آ چکا ہے تو اب وہ متعین ہو چکا، تو اب الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے، تو جب وہاں کوئی افراد بھی متعین نہیں ہیں اور ماقبل میں اس کا ذکر بھی نہیں گزرا کہ اس کے ذریعے اس طرف پھر الف لام کے ذریعے اشارہ کر دیا جائے، تو اب معلوم ہوا اس کو الف لام کو عہدی پر محمول کرنا صحیح، کیونکہ عہدی تو کسی متعین کی طرف اشارہ ہو گا، کوئی متعین ہے ہی نہیں۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب کوئی متعین نہیں ہے فحمد علی الجنس تو اس کو کس پر محمول کیا جائے گا؟ جنس پر محمول کیا جائے گا فیشتمل الادنى والکل علی حسب قابلیۃ المقام تو احتمال رکھے گا یہ ادنیٰ کا بھی کیونکہ جنس کا اطلاق کیا ہے؟ ادنیٰ پر ہوتا ہے یعنی ایک پر کیونکہ وہ فردِ حقیقی ہے اور کل مجموعہ افراد پر بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ فردِ حکمی ہے، وہ ساری ایک ہی جنس ہے مولانا۔
فیشتمل الادنى والکل تو احتمال رکھے گا ادنیٰ کا یعنی ایک کا بھی والکل اور تمام کا بھی علی حسب قابلیۃ المقام مقام کے قابلیت کے اعتبار سے یعنی مقام جس کا کیا رکھتا ہے؟ کہتے ہیں علی حسب قابلیۃ المقام مقام کی قابلیت کے اعتبار سے یعنی ایسا مقام ہے کہ وہاں اگر ایک ہی مراد لیا جا سکتا ہے سارے نہیں لیے جا سکتے تو وہاں پھر ایک مراد لیں گے اور ایسا مقام ہے جہاں وہ سارے مراد لیے جا سکتے ہیں تو پھر کس پر محمول کر لیں گے؟ ہاں تو مقام کی قابلیت کے اعتبار سے۔
او علی الاستغراق، پیچھے کیا گزرا تھا؟ فحمد علی الجنس او علی الاستغراق یا پھر اس کو دوسرا قول تھا اس کو پھر استغراق پر محمول کیا جائے گا فیشتوعب الکل یقیناً تو وہ احاطہ کر لے گا سب کا یقینی طور پر کما فی قولہ تعالى جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر ہے ان الانسان لفی خسر، یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے جنہوں نے، تو یہاں پر مولانا استثناء اگر تمام الانسان میں الف لام استغراقی نہ ہو تو پھر استثناء ہی صحیح نہیں رہتا، لہٰذا یہ استغراقی ہے۔
وقولہ اور جیسے اللہ کا قول ہے السارق والسارقۃ اور جیسے الزانیۃ والزانی وامثالہ اور اس کے مثل جو ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس پھر استغراق پر محمول کریں گے۔ نیز شارح نے مولانا السارق والسارقۃ ذکر کیا اور الزانیۃ والزانی کو بطورِ مثال کے ذکر کیا کہ حالانکہ سارق اسمِ فاعل ہے اور اسمِ فاعل پر جو الف لام آتا ہے وہ لامِ حرفی نہیں ہے بلکہ وہ تو لامِ اسمی ہے، اسی طرح الزانیۃ والزانی کے اندر بھی الف لام کون سا ہے؟ اسمی ہے، تو وہ اشارہ کر رہے ہیں اس بات کی طرف کہ یہاں پر لام سے مراد عام ہے چاہے وہ حرفِ تعریف ہو یا اسمِ موصول ہو، دونوں اس کا عموم کا فائدہ دیں گے، یعنی تمام افراد مراد ہوں گے بھئی۔
حتی یسقط اعتبار الجمعیۃ اذا دخلت علی الجمع عملا بالدلیلین، یہاں تک کہ ساقط ہو جائے گا جمع ہونے کا اعتبار اذا دخلت علی الجمع جب یہ لامِ تعریف داخل ہو جائے بھئی جمع پر عملا بالدلیلین عمل کرنے کے لیے دونوں دلیلوں پر۔
یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں بھئی، پہلے کیا ذکر کیا؟ کہ جب لامِ تعریف داخل ہو جائے ایسے لفظ پر جہاں پر تعریف بمعنی عہدی کا احتمال نہ ہو تو پھر یہ کیا ثابت کرے گا لامِ تعریف؟ عموم ثابت کرے گا، متن میں آئی تھی بات، کس کو ثابت کرے گا؟ عموم کو اور وہ عموم کبھی بعض کے نزدیک جنس کی صورت میں ہو گا اور بعض کے نزدیک استغراق کی صورت میں ہو گا، کہتے ہیں یہاں تک کہ اگر یہ یہ تو مفرد کے اندر تھا اگر جمع پر الف لام داخل ہو جائے جمع کے صیغے پر بھئی، تو اس صورت میں جمعیت کا اعتبار ساقط ہو جائے گا یعنی اس جمع کے صیغے کی جمعیت باطل ہو جائے گی، باطل ہو جائے گی تاکہ عمل ہو جائے دونوں دلیلوں پر بھئی، کون سی دو دلیلیں بھئی؟ ایک دلیل بھئی تعریف کی دلیل ہے، وہ لام الف لام جو اس پر آیا، الف سمجھ میں آیا؟ تعریف کی، اور دوسری جمع ہونے کی دلیل اور وہ صیغہ ہے بھئی، وہ کیا ہے؟ صیغہ ہے، تو صیغہ کس چیز کی دلیل ہے؟ صیغہ جمع والا ہے وہ جمع کی دلیل ہے اور الف لام کیا آیا کس لیے آتا ہے؟ تعریف کے لیے، تو وہ تعریف کی دلیل ہے، تو ان دونوں پر عمل کرنے کے لیے ہم کہیں گے کہ جب جمع پر الف لام آ جائے تو اس کی جمعیت کیا ہو جاتی ہے؟ باطل ہو جاتی ہے، باطل ہونے کا کیا معنیٰ؟ بھئی جمع کا اطلاق تو تین سے کم پر نہیں ہوتا تھا لیکن اب اس کا اطلاق ایک سے ہی شروع ہو جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ حالانکہ جمع ہونے کا کیا تقاضا تھا؟ کہ کم از کم کتنے پر اطلاق ہو؟ تین پر، لیکن جب اس پر الف لام آ جائے تو کیا ہو جائے گا؟ اس کی جمعیت باطل ہو جائے گی، لہٰذا ایک اور دو پر بھی اس کا اطلاق صحیح ہو جائے گا، بات سمجھ میں آئی بھئی؟
تو دیکھو عموم آیا مولانا، کیا آ گیا؟ عموم آیا، بھئی پہلے ایک اور دو اس جمع کے افراد نہیں تھے وہ خارج تھے، لیکن اب کیا ہو گئے؟ وہ بھی جمع کے اس کے، جس پر الف لام آیا ہے اس جمع پر اس کے افراد میں سے ہو گئے۔
تفریعٌ علی قولہ اوجبت العموم، یہ تفریع ہے مصنف کے قول اوجبت العموم پر کہ عموم ثابت کرے گا وہ لامِ تعریف پر ای هذا القدر اذا کان دخول اللام فی المفرد، یہ جو مقدار ہے یہ اس وقت ہے جبکہ لام داخل ہو مفرد کے اندر کہ عموم کو ثابت کرے گا واما اذا کان علی الجمع اور اگر وہ کس پر داخل ہو؟ جمع پر داخل ہو فثمرۃ عمومہ تو اس کے عموم کا ثمرہ اور نتیجہ یہ ہو گا کہ انہ یسقط معنى الجمع کہ جمع کا معنیٰ کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا فلا یکون اقلہ الثلاثۃ تو اس کے اقل افراد تین نہ رہیں گے بلکہ ایک اور دو پر بھی اس کا اطلاق ہو سکے گا اذ لو بقی جمعا اسی لیے کیونکہ اگر وہ اب بھی الف لام کے آنے کے بعد بھی جمع ہو کر باقی رہے لم یظهر للام فائدۃٌ تو ظاہر نہیں ہو گا لام کے لیے کوئی فائدہ، پھر تو لام کے آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا بھئی، اگر اب بھی اس کی جمعیت باقی رہے مولانا اور تین اور تین سے زیادہ پر ہی اس کا اطلاق ہوتا ہو، تو پھر لام کے آنے کا کوئی فائدہ ہوا؟ پھر تو لام کے آنے کا کوئی فائدہ نہیں بھئی۔
اذ لا عهد ولا استغراق ولا جنس، اسی لیے کیونکہ کوئی عہد بھی نہیں، کوئی معہود اور متعین بھی نہیں ہے ولا استغراق اور استغراق بھی نہیں ہے ولا جنس اور جنس بھی نہیں ہے اذ لا عهد، تین باتیں ذکر کیں کیونکہ معہود عہد بھی کوئی نہیں، استغراق بھی نہیں اور جنس بھی نہیں ہو سکتی تو جمع لام کا فائدہ ہی نہیں ظاہر ہوا۔
عہد کیوں نہیں؟ کیونکہ بات ہی اس لام کی چل رہی ہے جو تعریف بمعنی عہد کا احتمال نہ رکھتا ہو، کوئی معہود وہاں پر نہ ہو، تو معلوم ہوا اس الف لام سے بھی کا بھی کوئی معہود نہیں ہو گا، معلوم ہوا یہ لامِ عہدی عہد کا فائدہ بھی نہیں دے رہا اور استغراق کا بھی فائدہ نہیں دے رہا، استغراق کا بھی فائدہ نہیں دے گا اسی لیے کیونکہ استغراق کی صورت میں تو یہ جو کلام وغیرہ کیا جائے گا وہ بے فائدہ ہو جائے گا، اگر یہ الف لام ہم کس لیے بنا لیں؟ استغراق کے لیے قرار دے دیں تو پھر تو جو کلام وغیرہ کیا جائے گا وہ لغو ہو جائے گا، مثلاً بھئی، آگے مثال آ رہی ہے متن میں، ایک آدمی اذا حلف لا یتزوج النساء، کسی شخص نے قسم اٹھائی واللہ لا اتزوج النساء، اور آپ اس کو کس پر محمول کر لیتے ہیں الف لام کو؟ استغراق پر، نساء جمع ہے اور اس پر کیا آیا؟ الف لام، اور آپ نے اس کو کس پر محمول کر لیا؟ استغراق پر محمول کر لیا، تو معنیٰ کیا ہوا؟ کہ واللہ میں تمام دنیا کی عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا، اور تمام دنیا کی عورتوں سے کیا نکاح کرنا اس کی قدرت میں ہے؟ جی؟ تو اس کی قدرت میں ہی نہیں ہے تو یہ تو بے فائدہ لغو کلام ہوا، کوئی فائدہ اس کا ظاہر نہیں ہوا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اسی طرح بھئی، کہ آگے اللہ شرح میں مثال آ رہی ہے، اللہ فرماتے ہیں انما الصدقات للفقراء والمساکین کہ صدقات کس کے لیے ہیں؟ فقراء اور مساکین کے لیے، تو صدقات بھی جمع، فقراء بھی جمع، مساکین بھی جمع، آپ الف لام کو کس پر محمول کرنا چاہتے ہیں؟ استغراق پر، تو معنیٰ کیا ہو گا؟ کہ تمام صدقات جو ہیں وہ تمام دنیا کے فقراء اور مساکین کے لیے ہیں، تو کیا تمام صدقات تمام دنیا کے فقراء اور مساکین کو آپ دے سکتے ہیں بھئی؟ ان کو دیے جا سکتے ہیں؟ نہیں بھئی، انسان کی قدرت سے ہی باہر ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو لہٰذا معلوم ہوا اس الف لام کو جو جمع پر آیا ہے استغراق پر بھی محمول نہیں کر سکتے، تو عہد پر بھی اس کو محمول نہیں کر سکتے کیونکہ اس لام کی بات چل رہی ہے جس کو عہد پر محمول کرنا ممکن نہ ہو، استغراق پر بھی محمول نہیں کر سکتے ورنہ تو کیا ہو جائے گا؟ کلام ہی لغو ہو جائے گا فائدہ ہی اس کا کوئی نہیں رہے گا ولا جنس اور جنس پر بھی محمول نہیں کر سکتے کیونکہ ہم نے کیا کہا اذ لا، پیچھے اسی سطر میں آ رہا ہے اذ لو بقی جمعا اگر ابھی بھی وہ جمع ہو کر باقی، جب جمع ہے تو پھر جنس تو نہیں ہے یقینی بات ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ جنس کا اطلاق تو ایک پر ہوتا ہے اور جمع کا اطلاق تو ایک پر نہیں ہوتا، تو معلوم ہوا پھر اس صورت میں اگر اب بھی جمعیت باقی رہے تو لام کا کوئی بھی فائدہ ظاہر نہیں ہو گا نہ تو وہاں کوئی معہود ہے، نہ اس کی وجہ سے استغراق آ رہا ہے اور نہ ہی ہم اسے جنس پر محمول کر سکتے ہیں کیونکہ جمعیت ابھی بھی باقی ہے بھئی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
فیجب پس واجب ہوا ان يحمل علی الجنس کہ اس الف لام کو کس پر محمول کر دیا جائے؟ جنس پر، یعنی جمع کی جمعیت کو باطل قرار دے کر اس کو کیا کیا جائے؟ جنس پر محمول کیا جائے، جمع کے باقی رکھتے ہوئے تو جنس پر محمول نہیں کر سکتے کیونکہ جمع کا اطلاق تین سے زیادہ پر ہوتا ہے ایک پر اس کا اطلاق نہیں اور جنس کا اطلاق ایک پر، تو یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں۔
ہاں جمع کی جمعیت باطل کرتے ہوئے اب ہم اس کو الف لام کو کس پر محمول کر دیں گے؟ جنس پر، لیکون ما دون الثلاثۃ معمولا للجنس وما فوقہ للجمع تاکہ تین سے جو کم ہیں وہ معمول ہو جائیں جنس کے اور جو تین سے زیادہ ہیں وہ معمول ہو جائیں کس کے؟ جمع کے، تو سب پر اس کا اطلاق صحیح ہو گا یعنی ایک سے ہی اس کا اطلاق شروع ہو جائے گا، ایک پر بھی اطلاق صحیح، دو پر بھی، تین پر بھی، چار پر بھی، پانچ پر بھی، تو دونوں پر عمل ہوا۔
دونوں پر کیا ہوا؟ عمل ہوا بھئی، تین سے جو کم ہیں وہ معمول ہیں کس اعتبار سے؟ جنس کے اعتبار سے، اور تین سے جو زیادہ ہیں وہ معمول ہیں کس اعتبار سے؟ جمع ہونے کے اعتبار سے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے اوپر جو متن میں آیا تھا عملا بالدلیلین تاکہ کیا ہو جائے؟ عمل ہو جائے دونوں دلیلوں پر، یہ لامِ تعریف پر بھی عمل ہو جائے اور جمع کی جمعیت پر بھی عمل ہو جائے بھئی، تو یہ عموم آ گیا بھئی، پہلے ایک اور دو اس میں داخل نہیں تھے اب ایک اور دو بھی کیا ہو گئے اس کے اندر داخل ہو گئے۔
فیحنث بتزوج امرأۃ واحدۃ پس وہ شخص حانث ہو جائے گا ایک ہی عورت سے نکاح کرنے سے اذا حلف جب وہ قسم اٹھا لے کہ لا یتزوج النساء کہ وہ کسی عورت سے نکاح، وہ عورتوں عورت سے نکاح کسی عورت سے نکاح نہیں کرے گا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو النساء کیا ہوا؟ لا یتزوج النساء، النساء آیا اور جمع ہے اور جمع پر کیا آیا؟ الف لام، لہٰذا اب اس کو ایک، دو، تین سارے اس کے افراد ہیں مولانا، تو ایک بھی عورت سے نکاح کرے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔
ولو کان معنى الجمع باقیا اگر جمع کا معنیٰ باقی رہتا لما حنث بما دون الثلاثۃ تو وہ حانث نہ ہوتا تین سے کم کے اندر بھئی، پھر تو کم از کم کب حانث ہونا چاہیے تھا؟ کتنی عورتوں سے نکاح پر؟ تین کے ساتھ نکاح پر حانث ہونا ہوتا بھئی۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ جی؟ سب کو؟
ومثلہ قولہ تعالى اور اسی کے مثل اللہ کا یہ قول ہے لا یحل لک النساء من بعد حلال نہیں ہیں آپ کے لیے کوئی عورت اس کے بعد بھئی، اللہ تعالیٰ خطاب فرما رہے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے، ہاں جی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھئی 11 نکاح فرمائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کل، لیکن ایک وقت میں جو زیادہ سے زیادہ آپ کی ازواج جمع ہوئیں وہ نو تھیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ زیادہ سے زیادہ، باقی کا پہلے انتقال ہو چکا، تو ایک ہی وقت میں زیادہ سے زیادہ آپ کی ازواج کتنی تھیں؟ نو تھیں بھئی۔
تو جب ان کے بعد، ان ازواج کے بعد جن سے نکاح فرما چکے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم، ان کے بعد اب آگے اللہ کا حکم آتا ہے لا یحل لک لا یحل لک النساء من بعد آپ کے لیے حلال نہیں ہے کوئی عورت اس کے بعد۔
اب جمع پر آیا، الف لام آیا تو ایک، دو، تین، سارے کیا ہو گئے اس کے اندر داخل ہو گئے، تو لہذا اب ایک بھی عورت معلوم ہوا اس کے بعد حلال نہیں بھئی کیونکہ ایک بھی اس کے افراد میں سے ہے بھئی۔
وقولہ تعالی اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول جیسے انما الصدقات للفقراء والمساکین الآیۃ کہ صدقات کس کے لیے ہیں؟ فقراء اور مساکین کے لیے ہیں۔ تو لہذا آپ صدقہ کیا کریں؟ ایک فقیر کو دے دیں یا ایک مسکین کو دے دیں تو درست ہے۔
تو یہ فائدہ کس نے دیا؟ الف لام نے کس نے دیا؟ آپ دو کو دے دیں پھر بھی ٹھیک ہے، آپ تین کو دے دیں پھر بھی ٹھیک ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ورنہ تو فقراء اور مساکین تو جمع ہیں، کم از کم ورنہ کتنے کو دینا پڑتا؟ تین کو دینا پڑتا، لیکن ایک کو بھی دینا صحیح، دو کو بھی صحیح، تین کو بھی صحیح۔
فتکفی الصدقۃ لجنس الفقیر والمسکین فکافی ہے صدقہ جنس فقیر اور مسکین کے لیے، ان کی جنس میں سے کسی فرد کو دے دیا جائے چاہے ایک کو دیں، دو کو یا تین کو دےوانا، بھئی ایک ہے فقیر، ایک ہے مسکین۔
فقیر وہ ہے جس کے پاس تھوڑا کچھ ہو اور مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ فقیر وہ جس کے پاس کچھ ہو تھوڑا سا اور کوئی چیز ہو کچھ اور مسکین وہ جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
وعند شافعی رحمۃ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ کے نزدیک لا بد ان یصرف الی الفقراء الثلاثۃ والمساکین الثلاثۃ عملا بالجمع ضروری ہے کہ خرچ کیا جائے اس صدقے کو تین فقراء کی طرف یا اس کو پھیرا جائے تین فقراء کی طرف والمساکین الثلاثۃ اور اور تین مسکینوں کی طرف عملا بالجمع عمل کرنے کے لیے جمع پر، تو ان کے نزدیک صدقہ کم از کم تین فقراء اور اسی طرح کم از کم تین مساکین کو دینا ضروری ہے تاکہ کیا ہو جائے جمع پر جمع کے صیغے پر عمل ہو جائے۔
هذا غایۃ ما قیل فی هذا المقام یہ انتہائی درجے کی وہ کلام ہے، انتہا درجے کا قول ہے جو اس مقام میں کیا گیا ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ انتہا درجے کی جو تحقیق اس مقام پر مشارق فرماتے ہیں، وہ میں نے آپ کے یہاں پر ذکر کر دی ہے، وفیہ تأمل اور اس کے اندر تأمل ہے۔
کہ یہ مقام کیا ہے؟ یہ جو شارح ماتن نے کیا ذکر کیا تھا؟ عملا بالدلیلین تاکہ کیا ہو جائے دونوں دلیلوں پر عمل ہو جائے۔
یہ یا یہ جو ہم نے کہا تاکہ تین سے کم وہ معمول ہو جائیں جنس کے اور تین سے زیادہ وہ معمول ہو جائیں کس کے؟ جمع کے۔
تو یہ جو مصنف کا قول عملا بالدلیلین یا جو ہمارا یہ قول ہے اس میں تأمل ہے یعنی یہ قابل غور مقام ہے، یہ قول قابل غور ہے بھئی۔
معلوم ہوا کوئی اشکالات وغیرہ اس پر ہوتے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
ثم انہ لما ذکر افادۃ نکرۃ والمعارفۃ التعمیم اورد فی قریبہ بیان ما ورد النکرۃ والمعارفۃ فی مقام واحد کہتے ہیں بھئی مصنف نے جب یہ بیان کر دیا کہ نکرہ اور معرفہ عموم کا فائدہ دیتے ہیں۔
کس چیز کا؟ نکرہ جب اس کی صفت صفت عامہ لائی جائے تو وہ اس بات میں کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ عموم کا اور اسی طرح جمع جب اس پر الف لام آ جائے تو وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا فائدہ دے گا، تو اب اسی کی مناسبت سے چند اور باتیں نکرہ اور معرفہ کے بارے میں ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ وہ عام کی بحث سے متعلق نہیں ہے، لیکن چونکہ نکرہ اور معرفہ کی بحث آ گئی تھی تو اسی سے متعلق ایک اور فائدہ آپ کو بتلانا چاہتے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
اب ترجمہ دیکھیے! ثم انہ لما ذکر افادۃ نکرۃ والمعارفۃ التعمیم پھر جب مصنف نے یہ ذکر کر دیا کیا ذکر کیا؟ افادۃ نکرۃ والمعارفۃ التعمیم کہ نکرہ اور معرفہ کا فائدہ دینا تعمیم کا کہ نکرہ اور معرفہ کس چیز کا فائدہ دیتے ہیں؟ تعمیم کا، جب یہ ذکر کر دیا انہوں نے اورد تو وہ لے کر آئے یعنی انہوں نے ذکر کیا فی قریبہ اسی کی مناسبت سے فی قریبہ اسی کی مناسبت سے کس چیز کو ذکر کیا؟ بیان ورود نکرۃ والمعارفۃ فی مقام واحد نکرہ اور معرفہ کے ایک ہی مقام میں آنے کے بیان کو۔
یہ اس کو لے کر آئے وہ بھئی اورد لے کر آئے، کیا لے کر آئے؟ بیان ورود نکرۃ والمعارفۃ فی مقام واحد نکرہ اور معرفہ کے ایک ہی مقام پر وارد ہونے کے، ایک ہی مقام پر آنے کے ایک ہی مقام پر نکرہ اور معرفہ آ جائیں، اس بیان کو وہ لے کر آئے اس کے بعد ما قبل کی مناسبت سے بھئی۔
بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ دوبارہ دیکھیے! ترجمہ۔
کہتے ہیں ثم انہ لما ذکر افادۃ نکرۃ والمعارفۃ التعمیم پھر جب مصنف نے یہ ذکر کر دیا کیا ذکر کیا؟ افادۃ نکرۃ والمعارفۃ التعمیم کہ نکرہ اور معرفہ نکرہ اور جب مصنف نے ذکر کر دیا نکرہ اور معرفہ کے تعمیم کے فائدہ دینے کو تو وہ لے کر آئے اسی کی مناسبت سے نکرہ اور معرفہ کے ایک ہی مقام میں آنے کے بیان کو، اس کو وہ لے کر آئے بھئی۔
وال لم يكن ذلک من مباحث العام اگرچہ یہ عام کے مباحث میں سے نہیں ہے۔
آگے بحث بڑی آسان ہے مولانا، یہیں پر پہلے بات سمجھ لیں۔
یہاں آگے آپ کو چار ضابطے بتلائیں گے۔ پہلا ضابطہ یہ کہ اگر ایک مقام پر نکرہ آ جائے اور اس کے بعد وہی لفظ معرفہ ہو کر آ جائے تو ثانی بعینہ اول ہوگا۔
پہلے کیا آئے؟ نکرہ آئے، پھر وہی لفظ کیا ہو؟ معرفہ ہو، الف لام کے ساتھ یا اضافت کے ساتھ معرفہ ذکر کیا جائے تو ثانی سے مراد کیا ہوگا؟ عین اول۔
اور اگر نکرہ کے بعد نکرہ ہی ذکر کیا جائے اس لفظ کو تو ثانی سے مراد غیر اول ہوگا۔
نکرہ کے بعد کیا لایا جائے؟ نکرہ، تو ثانی نکرہ کیا ہوگا؟ اول کا غیر ہوگا، کوئی دوسرا فرد مراد ہوگا۔
دوسرا تیسرا ضابطہ کہ اگر معرفہ کے بعد معرفہ ذکر کیا جائے تو ثانی معرفہ عین اول ہوگا۔ اور اگر معرفہ کے بعد نکرہ ذکر کیا جائے تو ثانی اول کا وہ نکرہ اول کا غیر ہوگا۔ ضابطے سمجھ میں آ گئے؟ کیا ضابطے؟
پہلا ضابطہ کیا تھا کہ اگر نکرہ کے بعد کس کو دوبارہ لایا جائے؟ معرفہ کو تو معرفہ کیا ہے؟ عین اول ہوگا اور اگر نکرہ کے بعد نکرہ کے ذکر کیا جائے تو ثانی نکرہ اول کا غیر ہوگا اور اگر معرفہ کے بعد معرفہ کو لایا جائے تو ثانی معرفہ عین اول ہوگا اور اگر معرفہ کے بعد نکرہ ذکر کیا جائے تو ثانی کیا ہوگا؟ اول سے غیر ہوگا۔
بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ حاصل کلام یہ۔
کہ سارا دارومدار ثانی پر ہے، اول کا کوئی اعتبار نہیں۔ اول چاہے نکرہ ہو، معرفہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ثانی اگر معرفہ ہوا تو وہ عین اول ہوگا۔
اور ثانی اگر نکرہ ہوگا تو وہ اول کا غیر ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بس اب دیکھیے بھئی! صرف ترجمہ ہے۔
فقال پس مصنف فرماتے ہیں والنکرۃ اذا اعیدت معرفۃ کہ نکرہ کا جب اعادہ کیا جائے معرفہ کرتے ہوئے كانت الثانیۃ عین الاولی تو ثانی کیا ہوگا؟ عین اول ہی ہوگا۔
وهذا لا یتصور الا فی التعریف باللام او بالاضافۃ اور اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا مگر لام یا اضافت کے لیے تعریف کی صورت میں۔
کہ وہ دوسرے کو معرفہ کی صورت میں لایا جائے، اسی نکرہ کو آگے معرفہ لا رہے ہیں کس صورت میں لایا جائے؟ لام تعریف کے ساتھ یا اضافت کے ساتھ دون الاعلام ونحوہا اعلام وغیرہ کی صورت میں نہیں ہوگا بھئی، علم کی صورت میں اگر ثانی اس کو لے آؤ یا اس کو اسم موصول کی صورت میں لے آؤ یا اس میں اشارہ کی صورت میں لے آؤ تو اس صورت میں یہ نہیں ہو اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
فاذا اعیدت باللام پس جب اس کا اعادہ کیا جائے اس نکرہ کا باللام کس کے ساتھ؟ لام کے ساتھ، تو لام کے ذریعے کیا ہوتا ہے مولانا؟ اشارہ ہوتا ہے، یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ جب اس نکرہ کا اعادہ کر دیا گیا لام کے ساتھ تو کان ذلک اشارۃ الی ما سبق تو یہ اشارہ ہوگا اسی کی طرح جو ما قبل میں گزرا ہے فیكون عینہ تو اسی کے وہ عین وہی اول ہو گا کقولہ تعالی جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔
انا ارسلنا جی! بھئی نسخوں میں انا ارسلنا آیا ہے، آیت کے اندر کما ارسلنا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کما ارسلنا۔
کما ارسلنا الی فرعون رسولا جیسے کہ ہم نے بھیجا فرعون کی طرف، کس کو بھیجا؟ رسولا ایک پیغمبر کو بھئی، رسول نکرہ آیا۔
فعصا فرعون الرسول الرسول آگے کیا آیا؟ معرفہ آیا، تو ثانی کیا ہے؟ عین اول تو فرعون نے نافرمانی کی اس پیغمبر کی۔
دیکھو! یہ الف لام کے لیے اشارہ میں کس کی کر اشارہ کر رہا ہوں، فرعون نے نافرمانی کی اس رسول کی تو یہ اس کا لفظ لایا یہ اشارہ ہے اس ما قبل کی۔
واعیدت نکرۃ اور جب نکرہ کا اعادہ کیا جائے نکرہ ہی کرتے ہوئے كانت الثانیۃ غیر الاولی تو ثانی کیا ہوگا؟ غیر اول ہوگا، اول کے علاوہ ہوگا۔
لانھا لو کانت عین الاولی اس لیے کہ اگر وہ عین اول ہو۔
اول ادھر دیکھو بھئی! پہلے یہ نکرہ آیا، آگے جا کر پھر ایک نکرہ آیا، یہ ثانی نکرہ اول سے کیا ہوگا؟ غیر۔
کہتے ہیں اگر عین اول ہی مراد دیا جائے تو یہ بات درست نہیں بنتی تو کیوں؟ کیونکہ اس صورت میں تو گویا کہ یہ متعین پر دلالت کر رہا ہے۔
کیا کر رہا ہے؟ جب متعین پر دلالت کر رہا ہے تو یہ نکرہ رہا نہیں اور ہم تو بات کون سی کر رہے ہیں کہ دوسرا بھی کیا ہونا چاہیے؟ نکرہ ہی ہونا چاہیے۔
کہتے ہیں لانھا لو کان عین الاولی اس لیے کہ اگر وہ نکرہ وہ عین اول ہوا تو تو متعنت تعيين تو وہ تو متعین ہو گیا ایک نوع کا تھا متعین ہونا و لم تبق فیہ نکرۃ اور اس میں تو تنکیر باقی ہی نہیں رہی، نکرت تو اس میں باقی ہی نہیں رہی، نکرہ ہونا تو اس میں باقی ہی نہیں رہا۔
والمقدر خلافہ اور جو فرض کیا گیا ہے وہ تو اس کے خلاف ہے، ہم نے تو کیا کہا تھا ثانی بھی کیا ہونا چاہیے؟ نکرہ ہونا چاہیے اور اگر اس کی اسی ما قبل والے کی طرف اشارہ ہوا پھر تو یہ نکرہ ہی نہ رہا اور ہم اور ہم نے کہا کہ ثانی نکرہ ہو، اس صورت میں تو یہ معرفہ ہوا۔
والمارفۃ اذا اعیدت معرفۃ اور معرفہ کا جب اعادہ کیا جائے معرفہ ہی کے طور پر كانت الثانیۃ عین الاولی تو دوسرا عین اول ہی ہوگا لان اللام یشیر الی معہود مذکور اس لیے کہ وہ لام جو ہے یعنی وہ دوسرے کا جو لام ہے وہ اشارہ کرے گا الی معہود مذکور فیما سبق اسی متعین کی طرف جس کا ذکر ہوا ما قبل کے اندر، جس کا ذکر کیا ہوا تھا؟ بھئی دیکھو ادھر پہلا یہ معرفہ لایا گیا، دوسرا معرفہ لایا گیا، الف لام کے ساتھ لایا گیا، تو اس الف لام کے ذریعے اسی متعین کی طرف کیا ہوگا؟ یہ دوسرا معرفہ جو ہے اس کی الف لام کے ذریعے اسی معہود، معہود کا معنی متعین۔
اسی متعین کی طرف اشارہ ہوگا جس کا ذکر کیا ہو چکا؟ پہلے ہو چکا ہے ومثال هاتین القاعدتین اور ان دو قاعدوں کی مثال۔
کون سے دو قاعدے؟
کہ نکرہ کو نکرہ لے کر آئیں تو وہ اول کا غیر ہوگا اور معرفہ کے بعد معرفہ لائیں تو وہ ثانی اول کا عین ہوگا، اس کی مثال اس کی مثال قولہ تعالی اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے ان مع العسر یسرا یقیناً عسر کے ساتھ تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ ان مع العسر یسرا یقیناً تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔
اب دیکھیے مولانا! معرفہ کے بعد معرفہ، العسر پہلے معرفہ آیا، آگے دوبارہ پھر اس کو کیا لایا گیا؟ العسر معرفہ کے بعد معرفہ کا ہی لایا گیا، تو لہذا اس صورت میں عسر ثانی سے کون سا عسر مراد ہوگا؟ وہ عسر اول وہی ایک ہی ہے، ایک ہی مراد ہوگا۔
اور یسرا نکرہ لایا گیا اور آگے پھر دوسری مرتبہ یسرا کو پھر کیا کیا گیا؟ تو نکرہ کے بعد نکرہ لایا گیا اور نکرہ کے بعد نکرہ لایا جائے تو ثانی کیا ہوتا ہے؟ اول کا غیر ہوتا ہے۔
تو معلوم ہوا ہر عسر کے ساتھ کتنے یسر ہیں؟ دو۔
عسر تو وہی ایک ہے اور یسر دو الگ الگ ذکر ہو رہے ہیں معلوم ہوا ہر تنگی کے ساتھ دو آسانیاں ہیں، ایک اس سے پہلے، ایک اس کے بعد ہوئے۔
فان العسر اعید معرفا اس لیے کہ دیکھیے یہ عسر جو ہے اس کا اعادہ کیا گیا معرفہ کرتے ہوئے معرفہ ہی کے طور پر فیکون عین الاول تو وہ عین اول ہوگا والیسر اعید منکرا اور یسر کا اعادہ کیا گیا نکرہ کے طور پر فیکون غیر الاول تو وہ اول کا غیر ہوگا فعم پس یہ جان لیا گیا کہ ان مع کل عسر واحد یسرین کہ ہر ایک عسر کے ساتھ کتنے یسر ہیں؟ دو یسر ہیں۔
وهو معنی قول قول ابن عباس معنی نہیں معنی پڑھنا بھئی، معنی یعنی مراد مراد۔
وهو ما تو یہ معنی کا لفظ بھی عبارتوں میں استعمال ہوتا ہے بعض جگہ بھئی خیال رکھا کریں آپ بھی بھئی کہتے ہیں وہ معنی قول ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اور یہی مراد ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے قول کی مرویا اس حال میں کہ وہ مروی ہے عن النبی علیہ السلام حضور علیہ السلام سے۔
لن یغلب عسر یسرین ہرگز غالب نہیں ہو سکتا ایک عسر دو یسراں پر۔
ہر ایک عسر ہرگز دو یسروں پر غالب کہتے ہیں یہی مراد ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے اس قول کی جو وہ روایت کرتے ہیں کس سے؟ حضور علیہ السلام سے بھئی۔
کہ یہاں یہ جو آیت میں ایک عسر ہے اور کتنے یسر ہیں؟ دو یسر ہیں بھئی۔
وقال الشاعر اور شاعر کہتا ہے دیکھو! شاعر شعر کے اندر بھی شاعر اسی بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے، معلوم وہ بھی اس سے یہی بات سمجھا ہے اذا اشتدت بک البلو۔
ففقر فی الم نشرع جب سخت ہو جائے تجھ پر کوئی تکلیف ففقر فی الم نشرع تو تو غور کر الم نشرع صورت کے اندر فسر بین یسرین پس ایک عسر ہے دو یسروں کے اذا فکرته فافرح جب تو اس میں غور کر لے تو خوش ہو جا کہ ایک عسر کے ساتھ کتنے یسر ہیں؟ دو یسر ہیں۔
وقال فخر الاسلام اور علامہ فخر الاسلام فرماتے ہیں عندی فی هذا المقام نظر کہ میرے نزدیک اس مقام میں نظر ہے یعنی اشکال ہے بھئی۔
لانه یحتمل اس لیے کہ یہ احتمال رکھتا ہے کہ ان تکون الجملۃ الثانیۃ تاکیدا للاول کہ جملہ اولی کا جملہ ثانیہ کیا ہو؟ جملہ اولی کے لیے تاکید ہو کما ان قولنا جیسے کہ ہمارا یہ قول انما زید کتاباً انما زید کتاباً جملہ ثانیہ کیا ہے؟ جملہ اولی کی تاکید اسی طرح قرآن میں آیا انما العسر یسراً فانما العسر یسراً انما العسر یسراً بھئی تو وہاں بھی تاکید کا احتمال ہے۔
تو جیسے ہمارا یہ قول جو ہے انما زید کتابا یقیناً زید کے پاس کتاب ہے انما زید کتاباً یقیناً زید کے پاس کتاب ہے زید کے پاس کتاب ہے یدل لا یدل یہ کلام دلالت نہیں کرتا علی ان معہ کتابین کہ اس کے پاس دو کتابیں ہیں۔
فیکون العسر واحد و اليسر واحدا تو لہذا اس قرآن کی آیت میں بھی عسر بھی ایک ہی ہوگا اور یسر بھی ایک ہی ہوگا۔
و اذا اعیدت نکرۃ كانت الثانیۃ غیر الاولی پہلے کیا بات ذکر کی اس سے ما قبل میں کہ معرفہ کے بعد اگر معرفہ ہی کا اعادہ کیا جائے۔
تو وہ ثانی عينِ اولیٰ ہوگا۔ اب بتلا رہے ہیں "إذا أعيدت نكرة" اگر اس معرفہ کا اعادہ کیا جائے نکرہ کے طور پر "فكانت الثانية غير الأولى" تو ثانی کیا ہوگا؟ اولیٰ سے غیر ہوگا۔ "لأنها لو كانت عين الأولى" اس لیے کیونکہ اگر ثانی کیا ہو پہلے ہے معرفہ اس کے بعد کیا آیا؟ نکرہ، تو وہ نکرہ اس معرفہ سے غیر ہوگا۔ اگر یہ نکرہ کیا ہو؟ عين وہی اولیٰ ہو "لتعينت" تو پھر تو یہ متعین ہو گیا "بلا إشارة حرف يدل عليه" بغیر کسی ایسے حرف کے، اشارے کے، جو اس پر دلالت کر رہا ہو۔
بغیر کسی حرف کے، اشارے کے، جو اس پر کیا کر رہا ہو؟ نکرہ ہے اور متعین پر دلالت کر رہا ہے، اور اس پر کوئی حرف بھی داخل نہیں ہے اور ایسا نہیں ہو سکتا، یہ باطل ہے مولانا۔ یہ کیا ہے؟ ہاں، مطلب "رجل" ہے، تو وہ کسی متعین پر دلالت نہیں کرے گا، ہاں "الرجل" الف لام لائے، تو اب حرف کے ذریعے کیا ہوگا؟ کسی متعین کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے اور ہم بات کر رہے ہیں کہ ثانی نکرہ لاؤ۔ جب نکرہ لائے اور آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اس سے عینِ اول مراد ہے، تو اس صورت میں گویا یہ نکرہ کیا کر رہا ہے؟ اس متعین پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے اور بغیر کسی ایسے حرف کے، جو کیا کرے؟ اس کی طرف اشارہ کر رہا ہو۔ "وهو باطل" اور یہ بات باطل ہے کہ وہ متعین پر دلالت بغیر حرف کے، اور کسی ایسے حرف کے بغیر وہ دلالت نہیں کر سکتا بھئی۔ یعنی وہ متعین نہیں ہو سکتا بغیر کسی حرف کے، جو اشارہ کرے بھئی اس کی طرف۔
"ولم يوجد" اور ایسا تو کوئی حرف پایا نہیں، نہیں "ولم يوجد لهذا مثال في النص" اور اس کی مثال نہیں پائی گئی نص کے اندر بھئی۔ اس کی مثال نص کے اندر، نصوص میں اس کی مثال نہیں ملی بھئی، کہ پہلے ایک چیز معرفہ ہو اور پھر اس کو کیا ذکر کر دیا جائے؟ نکرہ ذکر کر دیا جائے۔ تو لہٰذا "وقد جعلوا في مثاله ما" تو لہٰذا بنایا علماء نے اس کی مثال کے اندر یہ مسئلہ، کہ "إذا أقر بألف مقيد بصك" کہ جب اقرار کرتا ہے کوئی شخص ایک ایسے ہزار کا "مقيد بصك"، "صك" کہتے ہیں دستاویز کو بھئی۔ دستاویز بھئی، دستاویز جانتے ہو یا نہیں؟ جس میں لکھا ہوا ہو بھئی۔ "إذا أقر بألف مقيد" کہ جب وہ اقرار کرتا ہے "بألف مقيد بصك" ایسے ہزار کا جو مقید ہیں کس کے ساتھ؟ دستاویز کے ساتھ "بحضرة شاهدين" دو گواہوں کی موجودگی میں "في مجلس" کسی مجلس میں "ثم بألف غير مقيد بصك" پھر وہ اقرار کرتا ہے ایسے ہزار کا جو مقید نہیں ہے کسی دستاویز کے ساتھ "بحضرة شاهدين آخرين في مجلس آخر" دو ایسے گواہوں کی موجودگی، دو دوسرے گواہوں کی موجودگی میں، دوسری مجلس میں "يكون الثاني غير الأول" تو ثانی کیا، الف کیا ہوگا؟ اول سے غیر ہوگا "ويلزمه ألفان" اور اس پر کتنے لازم ہو جائیں گے؟ دو ہزار۔
صورت سمجھ لو بھئی۔ صورت یہ، ایک آدمی، دو، تین آدمی ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص نے ایک دستاویز نکالی، اس دستاویز میں لکھا ہوا تھا کہ اس آدمی نے مثلاً زید کے ایک ہزار روپے دینے ہیں، اس نے وہ دستاویز ان کو دکھائی، یہ دیکھو بھئی، انہوں نے دستاویز پڑھ لی، اب ان کے سامنے وہی آدمی اقرار کرتا ہے، کہتا ہے، میں نے زید کے ایک ہزار درہم دینے ہیں، تو کون سے ہزار کا اقرار کر رہا ہے؟ وہی جو کس کے اندر لکھے ہوئے ہیں؟ دستاویز میں، تو معین ہزار کا اقرار کر رہا ہے یا غیر معین؟ معین، تو یہ معرفہ ہوا۔ کیا ہوا؟ معرفہ ہوا، اسی لیے کہا "بألف مقيد بصك" کہ وہ ہزار جو مقید ہوں کس کے ساتھ؟ دستاویز کے ساتھ۔ بعد میں وہ پھر دوسری کسی مجلس میں دوسرے دو گواہوں کے سامنے کہتا ہے، زید کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں، جو میں نے اسے دینے ہیں اور یہاں پر اس نے کوئی دستاویز نہیں دکھائی، تو یہ الف معین ہوئے یا غیر معین؟ غیر معین، تو یہ نکرہ ہوا مولانا اور جب معرفہ کے بعد نکرہ کا اعادہ کیا جائے، تو وہ اول سے غیر، تو لہٰذا اس صورت میں کتنے آئیں گے اس پر؟ دو ہزار آ جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اگر وہی دو گواہ ہوئے، یاد رکھو، مجلس تو دوسری ہے، لیکن گواہ وہی دو ہیں، یاد رکھنا پھر دو ہزار نہیں، پھر ایک ہی ہزار ہوں گے اور دوسری مرتبہ جو اقرار کر رہا ہے، یوں سمجھیں گے یہ اسی پہلے اقرار کی تاکید ہے بھئی، اسی کو پختہ کر رہا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یا مجلس وہی تھی، یہ دو آدمی چلے گئے، دوسرے دو آدمی آ گئے اسی مجلس کے اندر، ان کے سامنے، ان دو کے سامنے بھی اب یہ اقرار کرتا ہے، پھر بھی مجلس تو ایک ہی ہے مولانا، کیا ہے؟ مجلس تو ایک ہی ہے، لہٰذا اب بھی یوں ہی سمجھا جائے گا، وہ کیا کر رہا ہے؟ اسی پہلے اقرار کی، یہ دوسرا اقرار پہلے اقرار ہی کی تاکید ہے بھئی، کیونکہ مجلس بھی متفرق چیزوں کو کیا کر دیا کرتی ہے؟ جمع کر دیتی ہے، تو اس ثانی کو بھی یوں سمجھا جائے گا یہ وہی ہزار کی بات کر رہا ہے بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ دیکھو یہی ذکر کریں گے اور دوسرے مرتبہ میں بتائیں گے، گواہ بھی دوسرے ہونے چاہئیں، مجلس بھی دوسری ہونی چاہیے، ورنہ وہ دوسرا اقرار پہلے کی تاکید بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں مثال اس کی ما وہ مسئلہ کہ "إذا أقر بألف مقيد بصك" کہ جب اقرار کیا کسی شخص نے ایسے ہزار کا جو مقید ہیں دستاویز کے ساتھ "بحضرة شاهدين في مجلس" دو گواہوں کی موجودگی میں کسی مجلس میں "ثم بألف غير مقيد بصك" پھر اس نے ایسے ہزار کا اقرار کیا جو مقید نہیں ہے دستاویز کے ساتھ "بحضرة شاهدين آخرين في مجلس آخر" دوسرے دو گواہوں کی موجودگی میں، دوسری مجلس میں "يكون الثاني غير الأول" تو ثانی جو ہے اقرار وہ اول سے غیر ہوگا، یا ثانی الف اول سے غیر ہوگا "ويلزمه ألفان" اور اس پر دو ہزار لازم ہو جائیں گے۔
"وينبغي أن يعلم" یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو بات بیان ہوئی بھئی، جو بات بیان ہوئی، کہ یہ اس وقت ہے جب کوئی قرینہ وغیرہ موجود نہ ہو، کوئی دلیل موجود نہ ہو۔ اگر قرینہ موجود ہو تو پھر اس کا عکس بھی ہو سکتا ہے۔ نکرہ کے بعد معرفہ لایا جائے تو پہلے کیا ذکر ہوا تھا؟ کہ وہ عینِ، نکرہ کے بعد کس کو لایا جائے؟ معرفہ، تو وہ معرفہ کیا ہوتا ہے؟ عینِ اول ہوتا ہے، کہتے ہیں اس کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ دوسرا ضابطہ ذکر کیا تھا، نکرہ کے بعد نکرہ آئے، تو ثانی کیا ہوگا؟ اول سے غیر، لیکن کہتے ہیں اس کا عکس ہو سکتا ہے کہ ثانی عینِ اول ہی ہو۔ تیسری مثال کیا، تیسرا کیا ضابطہ ذکر کیا تھا؟ معرفہ کے بعد معرفہ ہو، تو ثانی کیا ہوگا؟ اول کا عین، کہتے ہیں اس کا خلاف بھی ہو سکتا ہے، اگر قرینہ موجود ہے۔ چوتھا ضابطہ کیا تھا؟ اگر معرفہ کے بعد نکرہ ہو، تو ثانی اول کا غیر ہوگا، کہتے ہیں یہ اگر کوئی قرینہ ہو تو اس کا خلاف بھی ہو سکتا ہے کہ ثانی عینِ اول ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب یہی بات بیان کریں گے بھئی۔
"وينبغي أن يعلم" اور مناسب ہے کہ یہ جان لیا جائے "أن هذا كله عند الإطلاق وخلو المقام عن القرائن" کہ یہ سارا جب، یہ سارا اطلاق کے وقت ہے اور مقام کے خالی ہونے کے قرینوں سے، یہ اس وقت ہے "وإلا فقد تعاد النكرة معرفة مع المغایرة" ورنہ تحقیق لوٹایا جاتا ہے نکرہ کو معرفہ کر کے "مع المغایرة" کس کے ساتھ؟ مغایرت کے ساتھ "كقوله تعالى" جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "وهذا كتاب أنزلناه مبارك فاتبعوه" اور یہ ایسی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، مبارک، بڑی خیر و برکت والی ہے "فاتبعوه" تم اس کا اتباع کرو، اس پر عمل کرو "واتقوا" اور ڈرتے رہو، پرہیزگاری اختیار کرو "لعلكم ترحمون" تاکہ تم پر رحم کیا جائے "أن تقولوا" یہ علت ہے ماقبل کی۔ اس کتاب کو ہم نے نازل کیا ہے "أن تقولوا" أي لئلا تقولوا تاکہ کہیں تم یہ نہ کہو کہ "إنما أنزل الكتاب على طائفتين" کہ کتاب تو نازل کی گئی تھی ہم سے "على طائفتين" دو گروہوں پر "من قبلنا" ہم سے پہلے، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے دو گروہوں پر تو کتاب نازل کی گئی تھی، ہمارے اوپر کتاب نازل نہیں کی، اس لیے ہم نے یہ مبارک کتاب تم پر نازل کی ہے بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے بھئی، مقام سے شائد کیا ہے؟ کہ "الكتاب" آیا ثانی مولانا، پہلے کتاب نکرہ آیا تھا، پھر اس کے بعد معرفہ آیا اور کیا ضابطہ تھا؟ عینِ اول ہونا چاہیے، لیکن یہاں پر کیا ہے؟ پہلے کتاب سے مراد ہے قرآن، یہ کتاب ہم نے نازل کی، اور دوسرا جو "الكتاب" معرفہ ذکر ہوا، وہ پہلے کے غیر ہے، اس سے کیا مراد ہیں؟ تورات اور انجیل بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تورات اور انجیل بھئی۔
آپ کے ذہن میں اشکال ہوگا کہ "الكتاب" تو مفرد ہے، اس سے دو کیسے مراد ہو گئے بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ تو بھئی یاد رکھو، یہ "الكتاب" میں الف لام جنسی ہے بھئی، الف لام کیا ہے؟ جنسی ہے، ماقبل کی تمام کتابوں کو یہ شامل ہے اور ماقبل کی کتابیں کتنی ہیں؟ تین کتابیں ہیں، تورات، زبور اور انجیل بھئی، تو تینوں مراد ہیں، لیکن "طائفتين" کی مناسبت آگے دو گروہوں کا ذکر کیا اور تو ان تین میں سے دو زیادہ مشہور تھیں مولانا، تورات اور انجیل، اس وجہ سے کہ ان میں احکام زیادہ تھے بھئی، احکام زیادہ تھے، تو اس وجہ سے یہ دو مراد ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
"فالكتاب الأول القرآن" تو پہلی کتاب جو ہے وہ قرآن ہے "والثاني التوراة والإنجيل" اور دوسری تورات اور انجیل ہے "وقد تعاد النكرة نكرة مع عدم المغایرة" اور کبھی لوٹایا جاتا ہے نکرہ کو نکرہ ہی باوجود عدمِ مغایرت کے، حالانکہ ضابطہ تو کیا پڑھا تھا؟ کہ مغایرت ہوگی، لیکن کبھی غیرِ مغایرت، عدمِ مغایرت کے ساتھ لوٹایا جاتا ہے "كقوله تعالى" جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے: "وهو الذي في السماء إله وفي الأرض إله" اور وہی ذات آسمان میں الہ، معبود ہے اور زمین میں معبود ہے، تو دیکھو "إله" پہلے آیا نکرہ، پھر دوبارہ "إله" نکرہ آیا اور دونوں کیا ہیں؟ ان سے مراد، ان کا مصداق ایک ہی ہے مولانا، ذاتِ باری تعالیٰ۔
"وقد تعاد المعرفة معرفة مع المغایرة" اور کبھی لوٹایا جاتا ہے معرفہ کو معرفہ ہی باوجود مغایرت کے "كقوله تعالى" جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے: "وهو الذي أنزل عليك الكتاب بالحق مصدقا لما بين يديه من الكتاب" یہ لکھا ہے بھئی کتاب کے اندر، آیت اس طرح نہیں ہے بھئی، آیت اس طرح ہے: "وأنزلنا إليك الكتاب" "وأنزلنا إليك الكتاب بالحق مصدقا لما بين يديه من الكتاب" اور نازل کیا ہے ہم نے آپ کی طرف کتاب کو حق کے ساتھ، تصدیق کرنے والی ہے "لما بين يديه" وہ جو اس سے پہلے ہیں "من الكتاب" کس میں سے؟ کتاب میں سے، ان کی تصدیق کرنے والی ہے۔ تو پہلے "الكتاب" معرفہ آیا، پھر "الكتاب" دوبارہ معرفہ آیا، تو اس صورت میں ضابطہ کیا تھا؟ عينِ اول ہوگا، لیکن یہاں مغایرت ہے۔ پہلی سے کیا مراد ہے؟ "الكتاب" سے قرآن مراد ہے، "وأنزلنا إليك الكتاب" اور دوسری سے ماقبل والی کتابیں، پہلے والی کتابیں مراد ہیں۔
"وقد تعاد المعرفة نكرة مع عدم المغایرة" اور کبھی لوٹایا جاتا ہے معرفہ کو نکرہ ہی باوجود عدمِ مغایرت کے، حالانکہ قانون تو کیا پڑھا تھا کہ معرفہ کے بعد کس کو لایا جائے؟ معرفہ کے بعد نکرہ کو لایا جائے، تو نکرہ کیا ہوگا؟ معرفہ سے غیر، لیکن کبھی کبھار لوٹایا جاتا ہے معرفہ کو نکرہ ہی باوجود عدمِ مغایرت کے "كقوله تعالى" جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "إنما إلهكم إله واحد" "إلهكم"، "إله" کی اضافت ہوئی "كم" ضمیر کی طرف، تو یہ معرفہ ہوا اور آگے "إله" نکرہ آیا، سمجھ میں آیا؟ تو معرفہ کے بعد اس کا اعادہ کس طرح کیا گیا؟ نکرہ کے طور پر اور دونوں کا مصداق کیا ہے؟ ایک ہی ذات ہے، ذاتِ باری تعالیٰ "وأمثال ذلك" اور اس جیسی مثالیں بھئی، چلیے بس مولانا "هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام"۔