Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-040

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 152
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔40 وَكُلٌّ لِلْإِحَاطَةِ عَلَى سَبِيلِ الْإِفْرَادِ، أَيْ جَعْلِ كُلِّ فَرْدٍ كَأَنْ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ، فَهَذَا يُسَمَّى عُمُومَ الْأَفْرَادِ، وَهِيَ تَصْحَبُ الْأَسْمَاءَ فَتَعُمُّهَا، أَيْ تَدْخُلُ عَلَى الْأَسْمَاءِ فَتَعُمُّهَا دُونَ الْأَفْعَالِ، لِأَنَّهَا لَازِمَةُ الْإِضَافَةِ، وَالْمُضَافُ إِلَيْهِ لَا يَكُونُ إِلَّا اسْمًا. عموم کے الفاظ چل رہے ہیں بھئی۔ پہلے قوم اور رہط کے بارے میں بتلایا، پھر من اور ما کے بارے میں بتلایا، اب کل کے بارے میں بتلانے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: "وَكُلٌّ لِلْإِحَاطَةِ عَلَى سَبِيلِ الْإِفْرَادِ" اور کل جو ہے وہ احاطے کے لیے آتا ہے افراد کے طریقے پر۔ کل کیا کر لیتا ہے؟ احاطہ کر لیتا ہے، سب کو شامل ہو جاتا ہے لیکن کس طریقے پر؟ افراد کے طریقے پر بھئی۔ افراد کے طریقے سے کیا مراد ہے؟ معنیٰ کر رہے ہیں افراد کا: "أَيْ جَعْلِ كُلِّ فَرْدٍ كَأَنْ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ" یعنی کر دینا ہر فرد کو گویا کہ اس کے ساتھ اور کوئی نہیں ہے بھئی۔ گویا کہ اس کے ساتھ اور کوئی نہیں ہے، "فَهَذَا يُسَمَّى عُمُومَ الْأَفْرَادِ" تو اس کو عموم افراد کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ عموم افراد کہتے ہیں۔ بھئی وہ جو بات پیچھے بیان ہوئی تھی کہ القوم کا لفظ اس میں حکم لگتا ہے مجموعے پر من حيث المجموع، اور کل جو ہے اس میں بھی حکم لگتا ہے مجموعے پر لیکن من حيث كل فرد، ہر ہر فرد پر الگ حکم لگتا ہے۔ تو یہ احاطہ تو کرتا ہے لیکن حکم ہر ہر فرد پر علیحدہ لگا باقیوں سے قطع نظر، گویا اس کے ساتھ اور نہیں ہے صرف ایک۔ اور نہیں ہے کیا معنیٰ؟ یعنی باقیوں سے قطع نظر۔ باقیوں سے قطع نظر۔ مثلاً فرض کرو، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: جاءني كل رجل۔ ویسے تو یہ کلام صحیح نہیں، دنیا کے تمام انسان تو نہیں آ سکتے میرے پاس لیکن فرض کرو انسان کے 10 افراد تھے اور میں نے کیا کہا؟ جاءني كل رجل، تو کیا معنیٰ ہوا؟ کہ 10 میں سے ایک جو ہے، فرض کرو ایک، یہ جو ایک ہے باقی افراد سے قطع نظر کہ وہ گویا اس کے ساتھ ہیں ہی نہیں، یہ ایک یہ میرے پاس آیا، اس کے لیے مجیئت ثابت ہے، پھر دوسرے فرد کو پکڑا، باقی افراد سے قطع نظر صرف یہ جو ہے یہ میرے پاس آیا، پھر تیسرے کے لیے بھی یہی حکم، یہ تیسرا فرد جو ہے باقیوں سے قطع نظر یہ میرے پاس آیا، تو ہر ہر فرد پر حکم لگ رہا ہے لیکن على سبيل الاجتماع یا على سبيل الإفراد؟ على سبيل الإفراد۔ تو ہر ہر فرد، احاطہ یہ بھی کر لے گا لیکن ایک ایک فرد پر الگ الگ حکم لگتا چلا جائے گا اور سب اس میں داخل ہو جائیں گے۔ یہ معنیٰ ہے: "وَكُلٌّ لِلْإِحَاطَةِ عَلَى سَبِيلِ الْإِفْرَادِ" اور کل کا لفظ جو ہے وہ احاطے کے لیے آتا ہے لیکن افراد کے طریقے پر، "أَيْ جَعْلِ كُلِّ فَرْدٍ كَأَنْ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ" یعنی کر دینا ہر فرد کو اس طرح گویا کہ اس کے ساتھ اور کوئی نہیں ہے، "فَهَذَا يُسَمَّى عُمُومَ الْأَفْرَادِ" پس اس کو کیا کہتے ہیں عموم افراد، "وَهِيَ تَصْحَبُ الْأَسْمَاءَ فَتَعُمُّهَا" تصحب: ساتھ ہونا، اور یہ ساتھ آتا ہے اسماء کے، یعنی اسماء پر داخل ہوتا ہے۔ مراد کیا ہے؟ کل کس پر داخل ہوتا ہے؟ اسماء پر داخل ہوتا ہے، "فَتَعُمُّهَا" پس ان کو عام ہو جاتا ہے، یعنی اس کے تمام افراد کو عام ہو جاتا ہے۔ کیا بتلایا کہ کل کس پر داخل ہوگا؟ اسماء پر داخل ہوگا، افعال پر نہیں، وجہ یہ کہ کل مضاف الیہ چاہتا ہے اور مضاف الیہ اسم ہوا کرتا ہے فعل نہیں ہوا کرتا تو اس لیے یہ اسم پر داخل ہوگا، اسم پر۔ کیوں؟ کیونکہ کل کا معنیٰ پورا، ہر ایک، پورا اور ہر ایک۔ بھئی کس چیز کا پورا؟ کس میں سے ہر ایک؟ مضاف الیہ چاہیے یا نہیں بھئی؟ چاہیے، اس کے لیے مضاف الیہ، تو یہ مضاف الیہ اور وہ اسم ہوگا، اور جس پر داخل ہوگا اس کو عام ہو جائے گا یعنی اس کے تمام افراد اس میں داخل ہو جائیں گے ان سب کا احاطہ کر لے گا۔ "أَيْ تَدْخُلُ عَلَى الْأَسْمَاءِ" دیکھیے تصحب کا خود معنیٰ کر رہے ہیں: "أَيْ تَدْخُلُ عَلَى الْأَسْمَاءِ" یعنی یہ داخل ہوتا ہے اسماء پر، "فَتَعُمُّهَا دُونَ الْأَفْعَالِ" پس یہ ان کو عام ہو جاتا ہے یعنی اس کے تمام افراد کو، تو یہ داخل ہوتا ہے اسماء پر نہ کہ افعال پر، "لِأَنَّهَا لَازِمَةُ الْإِضَافَةِ" اسی کیونکہ یہ کلمہ، یہ کل جو ہے یہ لازم الاضافت ہے، "وَالْمُضَافُ إِلَيْهِ لَا يَكُونُ إِلَّا اسْمًا" اور مضاف الیہ نہیں ہوتا مگر اسم ہی۔ فإن قال، اگر کسی شخص نے یوں کہا: كل امرأة اتزوجها فهي طالق۔ غور سے سننا بھئی! "كل امرأة اتزوجها فهي طالق" ہر وہ عورت جس سے میں نکاح کروں تو اسے طلاق ہے۔ کہتے ہیں: يحنث بتزوج كل امرأة، یہ شخص حانث ہو جائے گا ہر عورت سے نکاح کرنے سے، یعنی جس عورت سے بھی نکاح کرے گا اسے طلاق ہو جائے گی۔ جس عورت سے بھی نکاح کرے گا اسے طلاق ہو جائے گی۔ ولا يقع الطلاق على امرأة واحدة مرتين، اور واقع نہیں ہوگی طلاق کسی ایک عورت پر دو مرتبہ۔ یعنی فرض کرو اس کہنے والے نے، اس نے کیا کہا تھا؟ ہر وہ عورت جس سے میں نکاح کروں اسے طلاق، تو جس عورت سے بھی طلاق نکاح کرے گا اسے خود بخود طلاق ہو جائے گی، اور طلاق غير مدخول بہا کو ایک طلاق دی جائے تو وہ بھی بائنہ ہو جاتی ہے بھئی اور اس پر عدت بھی نہیں ہوتی، نکاح ختم ٹوٹ گیا بھئی، تو وہ بائنہ ہو جائے گی۔ تو چنانچہ اس نے ایک سے نکاح کیا اسے طلاق ہو گئی، دوسری سے، تیسری سے، چوتھی سے، پانچویں سے، ہر ایک کو طلاق ہوتی جا رہی ہے۔ پھر ان میں سے جن ایک ایسی عورت جس سے پہلے وہ نکاح کر چکا اور اس پر طلاق واقع ہو چکی ہے اس سے پھر نکاح کر لیتا ہے، کہتے ہیں اب دوسری مرتبہ اس پر طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی، دوسری مرتبہ؟ کیوں؟ وجہ یہ، وجہ توجہ سے سنو، اس لیے کہ ابھی بتایا کہ کل داخل ہوتا ہے اسماء پر، اور اسماء کے افراد میں یہ عموم پیدا کر دے گا، تو كل امرأة پر یہ امراۃ پر داخل ہوا، تو ہر عورت جو ہے وہ اس حکم میں آ گئی اسے کیا ہوگی؟ طلاق، اور ہر عورت کے ساتھ کیا فعل ذکر کیا؟ اتزوجها، جس سے میں کیا کر لوں؟ نکاح، تو اس تزوج کے اندر بھی عموم آئے گا بھئی، یعنی فعل میں بھی عموم آئے گا، لیکن اسم میں عموم تھا اصالۃً اور فعل میں عموم ہے ضمناً، فعل میں عموم ہے؟ کیونکہ کوئی عورت اس کے عقد میں داخل ہی نہیں ہو سکتی جب تک اسے نکاح نہیں کرے گا، نکاح کرے گا تو وہ اس کے عقد میں داخل ہوگی اور پھر طلاق واقع ہوگی، تو لہٰذا عورت جو امراۃ جو ہے اسم، اس کے تمام افراد کا اس نے احاطہ کر لیا اس میں یعنی عموم آ گیا، اسم میں عموم آیا اور وہ ہے اصل، اور فعل میں بھی عموم آئے گا لیکن وہ ضمناً ہے یعنی تبعاً ہے اور ضرورت کی بناء پر آ رہا ہے، کیونکہ جب اسم میں عموم ہر عورت، تو کب؟ جب وہ اس سے نکاح کرے گا تو طلاق واقع ہوگی، تو فعل میں جو عموم آیا وہ ضمناً ہے اور تبعاً ہے اور ضرورت کی بناء پر ہے، والضروري يدر بقدر الضرورة، اور ضروری جو ہو وہ بقدر ضرورت ہی ہوتا ہے بقدر ضرورت ہی، تو جب ایک عورت سے نکاح کیا بھئی، تو یہ نیا فرد تھا، اور کل امراۃ اس نے تو کہا تھا، تو ہر امراۃ اس میں داخل ہو گئی، تو یہ بھی نئی عورت ہے تو فوراً اس کو کیا پڑ جائے گی؟ طلاق، لیکن پھر اسی عورت سے اس نے بعد میں جب دوبارہ نکاح کیا تو یہ نئی عورت ہے یا وہی عورت؟ یہ تو پہلے ہی داخل ہو چکی تھی، پہلے ہی داخل ہو چکی تھی لہٰذا اب تزوج تو دوبارہ آیا، فعل تزوج پایا گیا یا نہیں؟ تو فعل میں تو عموم آ رہا ہے لیکن اسم یعنی امراۃ میں عموم آیا یہاں؟ نہیں، یہ تو وہی عورت ہے، نکاح تو نیا ہے لیکن عورت تو وہی ہے، اور کل میں ہم نے بتایا یہ اسم کے افراد کا تو احاطہ کرے گا اصالۃً اور فعل کے افراد کا احاطہ کرے گا ضمناً، تو اور ضمناً تو یہاں پر جب اسم میں عموم نہیں تو فعل میں بھی عموم فعل میں کے عموم کا بھی اعتبار نہیں ہوگا اور اس عورت کو طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ اسم میں عموم کیا ہے؟ اصل، اور اسم میں جب عموم آئے گا تو ضمناً کس میں تبعاً کس کے اندر عموم آ جائے گا؟ فعل میں بھی، لیکن یہاں پر جب اسی عورت سے دوبارہ نکاح کر رہا ہے تو کوئی نیا فرد آیا؟ کوئی عموم پیدا ہوا؟ اور کوئی نیا فرد تو داخل نہیں امراۃ کے افراد میں سے کوئی نیا فرد نہیں، تو جب اس میں عموم نہیں تو لہٰذا فعل کے اندر بھی پھر یہاں عموم نہیں، لہٰذا اس تزوج پر اب آگے طلاق بھی واقع نہیں، اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بھئی، لہٰذا طلاق بھی واقع نہیں ہوگی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسم میں عموم تھا تو ہمیں فعل میں بھی عموم ماننا پڑا کیونکہ ہر عورت عقد ہی کے ذریعے اس کے نکاح میں آئے گی اور پھر طلاق واقع ہوگی۔ تو لہٰذا ہر نکاح پر کیا ہونی چاہیے؟ طلاق واقع، لیکن اس کے لیے کیا ضروری؟ کہ عورت بھی نئی ہو، اگر اسی عورت سے دوبارہ نکاح کیا تو عورت تو وہی، جب عورت وہی تو اس فعل کے اندر عموم کا ہم تسلیم نہیں کریں گے اگرچہ عموم آ رہا ہے لیکن وہ جب اسم اس میں تو تبعاً آیا تھا عموم، ہم تبعاً اس کا اعتبار کرتے تھے، لہٰذا اب یہاں تبعاً بھی اب اس کا اعتبار نہیں کریں گے، لہٰذا اب اس عورت کو طلاق اس پر طلاق واقع نہیں ہوگی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ معنیٰ ہے: "فَإِنْ قَالَ كُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ، يَحْنَثُ بِتَزَوُّجِ كُلِّ امْرَأَةٍ" اگر کسی شخص نے کہا: ہر وہ عورت جس سے میں نکاح کروں تو اسے طلاق ہے، تو حانث ہو جائے گا وہ شخص ہر عورت سے نکاح کرنے پر، یعنی ہر عورت کے اوپر کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق، "وَلَا يَقَعُ الطَّلَاقُ عَلَى امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ مَرَّتَيْنِ" اور طلاق واقع نہیں ہوگی کسی ایک عورت پر دو مرتبہ، "وَلَمَّا كَانَتْ كَلِمَةُ كُلٍّ لِعُمُومِ مَدْخُولِهَا" "وَلَمَّا كَانَتْ كَلِمَةُ كُلٍّ لِعُمُومِ مَدْخُولِهَا" اور جب کلمہ کل جو ہے وہ اپنے مدخول کے عموم کے لیے آتا ہے، یعنی جس پر یہ داخل ہوتا ہے، جس اسم پر بھی یہ داخل ہوتا ہے اس میں کیا پیدا کر دیتا ہے؟ عموم، تو کہتے ہیں جب کلمہ کل جو ہے اپنے مدخول کے عموم کے لیے آتا ہے "فَإِنْ دَخَلَتْ عَلَى الْمُنَكَّرِ" پس اگر یہ داخل ہو جائے کس پر؟ نکرہ پر، "أَوْجَبَتْ عُمُومَ أَفْرَادِهِ" تو یہ کیا ثابت کر دے گا؟ اس عموم افراد کو ثابت کر دے گا، یعنی اس کے افراد میں عموم کو ثابت کر دے گا، اس کے سارے افراد کا احاطہ کر لے گا، "لِأَنَّهُ مَدْلُولُهَا لُغَةً" کیونکہ یہ کل کا مدلول ہے باعتبار لغت کے، یہ کیا ہے؟ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ کیونکہ یہ کل کا مدلول ہے باعتبار لغت کے، باعتبار زبان کے، عربی زبان میں کل جب بھی نکرہ پر داخل ہو تو کیا مقصد ہوتا ہے اس کا؟ وہ اس کے افراد کا احاطہ کر لیتا ہے ان کو عام ہو جاتا ہے، "وَإِنْ دَخَلَتْ عَلَى الْمُعَرَّفِ" اور اگر یہ کل کا لفظ داخل ہو جائے معرفہ پر "أَوْجَبَتْ عُمُومَ أَجْزَائِهِ" تو ثابت کر دے گا اس کے اجزاء کے عموم کو، یعنی اس کے سارے اجزاء کو عام ہو جائے گا، شامل ہو جائے گا بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھیے: كل رمان، كل آگے مثال آنے والی ہے، كل رمان، کل کس پر داخل ہوا نکرہ پر، معرفہ پر؟ رمان پر، كل رمان، نکرہ پر، نکرہ پر، اور نکرہ پر کل داخل ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تمام افراد کا احاطہ کر لیتا ہے، تو کیا معنیٰ؟ سارے انار، یعنی ہر ہر انار، على سبيل الافراد نہ، ہر ہر انار، اور اگر اس کو معرفہ کر دیں انار کو: كل الرمان، تو یہ عموم کس میں لائے گا؟ اجزاء کے اندر، اس کا کیا ترجمہ کریں گے؟ سارے کا سارا انار، اس کے سارے اجزاء، تمام افراد نہیں بلکہ اس کے تمام اجزاء بھئی انار کے تمام اجزاء، یعنی پورا انار، سارا کا سارا انار۔ معنیٰ فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ معنیٰ ہے عموم اجزاء کا، "لِأَنَّهُ مَدْلُولُهَا عُرْفًا" اس لیے کیونکہ یہ کل کا مدلول ہے عرفاً باعتبار عرف کے، عام لوگوں میں اسی طرح اس کا معنیٰ سمجھا جاتا ہے کہ جب کل کا لفظ معرفہ پر داخل ہو تو اس کے اجزاء کا احاطہ کر لیتا ہے، "وَلِهَذَا لَوْ قَالَ" اسی وجہ سے اگر کسی شخص نے یوں کہا اپنی بیوی سے: أَنْتِ طَالِقٌ كُلَّ تَطْلِيقَةٍ، تجھ کو طلاق ہے کل تطليقة، تو کل کا لفظ کس پر داخل ہو رہا ہے؟ تطلیقہ پر، اور تطلیقہ یہ نکرہ ہے، اور نکرہ پر کل داخل ہو تو کیا کرتا ہے؟ تمام افراد کا احاطہ کر لیتا ہے، تو کیا معنیٰ ہوگا؟ تجھ کو ساری کی ساری طلاقیں ہیں، انت طالق کل تطلیقۃ، تجھے ساری کی ساری طلاقیں ہیں، "يَقَعُ الثَّلَاثُ" کتنی واقع ہو جائیں گی؟ تین، "وَإِنْ قَالَ كُلَّ التَّطْلِيقَةِ" اور اگر اس نے یوں کہا: كل التطليقة، أي انت طالق کل التطليقة، تجھ کو طلاق ہے پوری طلاق، پورے کے پورے طلاق، تو ایک طلاق کے تمام اجزاء کا احاطہ کر لیا اس نے، تو کتنی واقع ہوں گی؟ تو یہ معنیٰ ہے: "يَقَعُ وَاحِدَةٌ" تو ایک طلاق واقع ہوگی، "حَتَّى فَرَّقُوا بَيْنَ قَوْلِهِمْ" یہاں تک کہ فرق کیا ہے علماء نے عربوں کے اس قول کے بیچ میں کہ "كُلُّ رُمَّانٍ مَأْكُولٌ" "وَكُلُّ الرُّمَّانِ مَأْكُولٌ" كل رمان ماكول، کیا معنیٰ ہوگا؟ سارے انار کھائے جاتے ہیں، یعنی اس کا ہر انار کے ہر ہر فرد کو کھایا جاتا ہے، اور یہ صحیح ہے کلام، "وكل الرمان ماكول" اور پورے کے پورے انار کو کھایا جاتا ہے، یہاں دیکھو معرفہ ہے تو پورے کے پورے انار کو کھایا جاتا ہے، یہ صحیح ہے؟ نہیں، انار کے دانوں کو تو کھایا جاتا ہے لیکن چھلکوں کو نہیں، تو لہٰذا یہ کلام درست نہیں بھئی۔ تو فرق کیا ہے علماء نے اس دو قولوں کے درمیان "بِالصِّدْقِ وَالْكَذِبِ" صدق کے ساتھ اور کذب جھوٹ کے ساتھ، کہ ایک صادق ہے اور ایک کاذب ہے، "أَيْ بِصِدْقِ الْأَوَّلِ وَكَذِبِ الثَّانِي" یعنی پہلے کے صدق اور دوسرے کے کذب کے ساتھ فرق کیا ہے کہ پہلے کو صادق کہا دوسرے کو کاذب، "لِأَنَّ مَعْنَى الْأَوَّلِ" اس لیے کیونکہ پہلے کا معنیٰ یہ ہے: "كُلُّ فَرْدٍ مِنَ الرُّمَّانِ مِمَّا يَصْلُحُ أَنْ يُؤْكَلَ" کہ ہر فرد جو ہے رمان میں سے وہ ان چیزوں میں سے ہے کہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اس کو کھایا جائے، یعنی ہر، پہلے کا معنیٰ کر رہے ہیں بھئی، كل رمان ماكول، کہ ہر فرد جو ہے دیکھو افراد کا احاطہ کر رہا ہے، ہر فرد جو ہے رمان میں سے مما وہ ان چیزوں میں سے ہے يصلح ان يؤكل کہ اس کو کھایا یعنی وہ کھائے جانے کے قابل ہے، ہر فرد انار میں سے جو ہے وہ کھائے جانے کے قابل ہے، "وَهُوَ صَادِقٌ" اور یہ کلام صادق ہے، "وَمَعْنَى الثَّانِي" اور دوسرے کا معنیٰ یہ ہے: "كُلُّ أَجْزَاءِ الرُّمَّانِ مِمَّا يُؤْكَلُ" کہ تمام اجزاء جو ہیں رمان کے وہ ان چیزوں میں سے جن کو کھایا جاتا ہے، "وَهُوَ كَذِبٌ" اور یہ جھوٹ ہے، "لِأَنَّ الْقِشْرَ لَا يُؤْكَلُ قَطُّ" اس لیے کیونکہ چھلکا کبھی بھی نہیں کھایا جاتا۔ "وَإِذَا وَصَلَتْ بِـ"مَا"" "وَإِذَا وَصَلَتْ بِـ"مَا"" اور جب مل جائے کلمہ کل بمَا، کس کے ساتھ؟ ما کے ساتھ، "أَوْجَبَتْ عُمُومَ الْأَفْعَالِ" تو یہ ثابت کر دے گا عموم افعال کو۔ کل جب کس کے ساتھ مل جائے ما کے ساتھ تو پھر یہ عموم افعال کو ثابت کر دے گا، بھئی پہلے بات گزری کہ کل اسماء پر داخل ہوتا ہے اور ان میں عموم پیدا کر دیتا ہے، اور اسم میں وہاں پر عموم ہوتا ہے اصلاً، اور فعل ہو تو فعل میں عموم آئے گا ضمناً۔ لیکن اگر اس "کل" کے ساتھ "ما" مل جائے، یعنی "کل" "ما" پر داخل ہو جائے اور کیا بن جائے؟ "کلما"، "کلما"۔ تو پھر اس صورت میں یہ فعل پر داخل ہوگا اور اس فعل کے اندر عموم آئے گا۔ اس میں عموم پیدا کر دے گا۔ اور پھر اس صورت میں صرف فعل ہی پر داخل ہوگا۔ کس پر؟ فعل ہی پر داخل ہوگا۔ تو فعل میں جو عموم آئے گا وہ ہوگا اصلاً، اور اگر اسم میں وہاں عموم آیا تو وہ عموم ہوگا ضمناً ہوگا۔ تو پہلے کا برعکس ہو جائے گا۔ تو "کل" اور "کلما" یہ دونوں ایک دوسرے کے برعکس ہیں۔ "کل" اسم میں عموم پیدا کرتا ہے اصلاً اور فعل میں ضمناً، اور "کلما" فعل میں عموم پیدا کرتا ہے اصلاً اور اسم میں ضمناً۔ وجہ یہ ہے کہ یہ "ما" مصدریہ ہے۔ یہ "ما" کیا ہے؟ تو "کل" تو اس فعل پر داخل ہو نہیں سکتا تھا، تو پھر اس کا طریقہ یہ کہ اس کے ساتھ "ما" مصدریہ ملا دیا، اور "ما" مصدریہ تو آپ جانتے ہیں فعل ہی پر داخل ہوتا ہے اور فعل کو کس معنی میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے۔ تو یہ مصدرِ تاویلی ہوا۔ ایک تو ہے نا حقیقتاً مصدر، اور یہ حقیقتاً مصدر ہوتا ہے یا فعل "ما" کی وجہ سے مصدر کے معنی میں ہو جاتا ہے؟ "ما" کی وجہ سے مصدر کے معنی میں ہو جاتا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ تاویلی مصدر۔ اور یہ وقت کے معنی کو متضمن ہوتا ہے، اس میں وقت کا معنی آ جاتا ہے۔ کون سا معنی؟ وقت کا معنی آ جاتا ہے۔ دیکھیے آگے مثال سے بات واضح ہوگی۔ بان یقول: یعنی طور کے یوں کہتا ہے "کلما تزوجت امراۃ فہی طالق" جب بھی میں نکاح کروں کسی عورت سے تو اسے طلاق ہے۔ فمعناہ: تو اس کلام کا معنی یہ ہے "کل وقت اتزوج"، دیکھو وقت کا معنی آ گیا بھئی، "کل وقت اتزوج امراۃ" جس وقت بھی میں نکاح کروں کسی عورت سے "فہی طالق" تو اسے طلاق ہے۔ فہو قصداً یقع علی عموم التزویجات: تو یہ جو قسم ہے، یہ جو کلام ہے قصداً واقع ہوگا کس پر؟ کس میں عموم اصلاً آئے گا؟ تزوج کے اندر، یعنی تزویجات میں عموم آیا اصلاً، اور امراۃ کے اندر عموم آئے گا ضمناً۔ یہی بات کر رہے ہیں "فہو قصداً یقع علی عموم التزویجات" تو یہ کلام جو ہے واقع ہوگا عمومِ تزویجات پر قصداً "ویثبت عموم الاسماء فیہ ضمناً" اور اسماء یعنی اسم کا جو عموم اس میں ثابت ہوگا وہ ضمناً ہوگا "لان عموم التزوج لا یکون الا بعموم النساء" اس لیے کیونکہ تزوج کا عموم جو ہے وہ نہیں ہو سکتا مگر النساء کے عموم کے ساتھ۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ تزوج میں عموم تبھی آئے گا جب النساء میں بھی عموم ہو، نکاح کے لیے عورت چاہیے، پھر نکاح کے لیے عورت چاہیے، پھر نکاح کے لیے عورت، تو نکاح میں عموم کس طرح آئے گا کہ اب جب عورتوں میں بھی عموم آئے۔ "فیحنث بکل تزوج" پھر تو پس وہ شخص حانث ہو جائے گا ہر نکاح سے "سواء تزوج امراۃ مراراً" برابر ہے کہ چاہے وہ نکاح کرے ایک ہی عورت سے کئی مرتبہ، ایک دفعہ کرے گا تو "کلما" کہا تھا، جس وقت بھی میں نکاح کروں تو اس عورت کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق۔ پھر نکاح اسی عورت سے دوبارہ کیا تو دوبارہ تزوج پایا گیا یا نہیں؟ پایا گیا، تو پھر طلاق ہو جائے گی۔ اور پھر اس سے نکاح کرے تو تزوج پایا گیا یا نہیں؟ اور تزوج میں عموم اصلاً ہے تو اس میں پھر وہاں طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو یہ معنی ہے "سواء تزوج امراۃ مراراً" برابر ہے کہ وہ چاہے نکاح کر لے کسی عورت سے کئی مرتبہ "او تزوج امراۃ بعد امراۃ" یا وہ نکاح کرے ایک عورت سے دوسری کے بعد "کعموم الافعال فی کل" جیسے کہ عمومِ افعال تھا "کل" کے اندر بھئی۔ بھئی وہی بات کر رہے ہیں جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ "کلما" اور "کل" ایک دوسرے کے عکس ہیں۔ "کل" کس میں عموم پیدا کرتا ہے؟ اسماء میں اصلاً اور طبعاً کس میں؟ فعل میں بھی، اور "کلما" اصلاً کس میں عموم پیدا کرتا ہے؟ فعل میں، اور طبعاً کس میں؟ اسماء کے اندر، وہی بات بیان کرنے لگے ہیں، بات چل رہی ہے "کلما" کی، اور "کلما" کا بتلایا کس میں عموم پیدا کرتا ہے؟ افعال میں "کعموم الافعال فی کل" جیسے کہ عمومِ افعال تھا کس میں؟ "کل" کے اندر، "کل" میں عمومِ افعال کس طرح تھا؟ ضمناً تھا۔ تو یہاں بھی عمومِ اسماء کس طرح ہے "کلما" میں؟ ضمناً ہے۔ ای کما ان عموم الافعال یثبت فی لفظ کل ضمناً لعموم الاسماء بعکس کلمۃ کلما: یعنی کہ جس طرح عمومِ افعال ثابت تھا "کل" کے لفظ میں ضمناً لعموم الاسماء، بوجہ عمومِ اسماء کے، تو وہاں اصل میں تو عموم تھا اسماء میں لیکن پھر افعال میں بھی ضمناً عموم آیا، بعکس کلمۃ کلما، کس کے برعکس؟ کلمہء "کلما" کے برعکس، کہ اس میں اصلاً افعال میں عموم ہے اور طبعاً اسماء میں عموم ہے۔ وکلمۃ الجمیع توجب عموم الاجتماع دون الانفراد: اور "جمیع" کا کلمہ جو ہے، اب لفظِ "جمیع" کے بارے میں بتلانے لگے ہیں، یہ بھی عموم کے لیے آتا ہے۔ تو "جمیع" کا کلمہ جو ہے "توجب عموم الاجتماع" یہ ثابت کرتا ہے عمومِ اجتماع کو "دون الانفراد" نہ کہ عمومِ انفراد کو نہیں۔ بھئی "کل" بھی عموم کے لیے آتا ہے لیکن علی سبیل الافراد، اور "الجمیع"، "جمیع" بھی آتا ہے عموم کے لیے لیکن علی سبیل الاجتماع۔ جیسے وہ قوم کی مثال گزری تھی پیچھے بھئی قوم کے اندر بھئی، کہ حکم قوم پر من حیث المجموع لگے گا بعض صورتوں میں اور بعض اوقات خارجی قرینے کی وجہ سے من حیث المجموع حکم نہیں لگتا بلکہ من حیث کل واحد یا کل فرد لگتا ہے، تو "کل" جو ہے وہ بھی احاطہء افراد کرتا ہے اور "جمیع" بھی، یہ بھی احاطہء افراد کرتا ہے، لیکن کل کس طریقے پر کرتا ہے؟ علی سبیل الافراد، اور "جمیع" کس اعتبار سے احاطہ کرے گا؟ علی سبیل الاجتماع، یعنی اکٹھا سب پر وہ حکم لگے گا۔ تو یہ معنی ہے کہ "وکلمۃ الجمیع توجب عموم الاجتماع دون الانفراد" وہ عمومِ اجتماع کو ثابت کرتا ہے نہ کہ عمومِ انفراد کو "کما کان فی لفظ کل" جیسے کہ کس میں تھا؟ لفظِ "کل" میں تھا عمومِ انفراد اس طرح نہیں۔ "فیعتبر جمیع ما صدق علیہ ما بعدہ مجتمعۃ معاً" پس اعتبار کیا جائے گا وہ سب جن کے اوپر یہ صادق آ رہا، جو "فیعتبر" پس اعتبار کیا جائے گا "جمیع ما" ان سب کا مجموعہ "صدق علیہ ما بعدہ" جس پر صادق آ رہا ہے اس "جمیع" کا مابعد۔ بھئی "جمیع رجال"، کس کے افراد کا احاطہ کر رہا ہے "جمیع"؟ رجال کے افراد کا، یعنی جو اس کا مابعد ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہی بات کر رہے ہیں کہ وہ سب جن پر "جمیع" کا مابعد صادق آتا ہے ان کا اعتبار کیا جائے گا کس طریقے پر؟ "مجتمعۃ معاً" کہ وہ سب اکٹھے مجتمع ہوں، جمع ہوں، یعنی مجموعے پر حکم لگے گا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ حتی اذا قال: جمیع من دخل ہذا الحصن اولاً فلہ من النفل کذا، نفل "ف" پر بھی فتحہ پڑھنا بھئی، فدخل عشرۃ معاً ان لہم نفلاً واحداً بینہم. بھئی دیکھیے، صورتِ مسئلہ یہ ہے: یہاں سے اب تفریع بیان، تفریعات کریں گے، تین لفظ انہوں نے ذکر کر دیے، ایک "من"، وہ بھی عموم کے لیے آتا ہے، ایک "کل"، وہ بھی عموم کے لیے آتا ہے لیکن وہ احاطہ کرتا ہے علی سبیل الافراد، اور ایک "جمیع" کا لفظ ہے، وہ بھی احاطہ کرتا ہے لیکن علی سبیل الاجتماع بھئی وہ احاطہ کرتا ہے، تو اب اسی پر تفریع کرتے ہوئے ایک صورت ذکر کریں گے کہ دیکھیے لفظ کے بدلنے سے کس طرح مسئلہ بدلتا ہے۔ مثلاً بھئی مجاہدین تھے، نے ایک جگہ کفار کے قلعے پر حملہ کیا اور اس کو گھیر لیا، اب امیر جو ہے، امیرِ لشکر، وہ مسلمانوں کو، مجاہدین کو ابھارنے کے لیے اعلان کرتا ہے، کیا کہتا ہے؟ "جمیع من دخل ہذا الحصن اولاً فلہ من النفل کذا" وہ سب جو کہ داخل ہوئے اس قلعے کے اندر پہلے تو ان کے لیے اتنا انعام ہے، مالِ غنیمت کے علاوہ الگ انعام کا اعلان کرتا ہے، وہ سب جو اس قلعے کے اندر پہلے داخل ہوئے ان کے لیے اتنا انعام ہے۔ تو کون سا لفظ ذکر کیا؟ "جمیع" کا لفظ ذکر کیا، تو کہتے ہیں فرض کرو دس مسلمان اکٹھے پہلے قلعے میں داخل ہو گئے سب سے پہلے، تو اب کیا ان میں سے دس میں سے مثلاً امیر نے کیا کہا تھا؟ کہ جو وہ سب جو اس قلعے میں پہلے داخل ہوئے ان کے لیے 10 ہزار درہم انعام ہے، 10 ہزار درہم انعام ہے۔ اب 10 افراد اکٹھے داخل ہوئے، تو کیا ہر فرد کو 10 ہزار درہم ملیں گے یا سب کو ملا کر ایک ہی انعام ملے گا؟ کہتے ہیں سب کو ملا کر ایک ہی انعام ملے گا بھئی، اس لیے کیونکہ یہاں لفظِ "جمیع" ذکر کیا امیر نے اور "جمیع" جو ہے وہ افراد کا احاطہ کرتا ہے کس طریقے پر؟ علی سبیل الاجتماع، یعنی علی سبیل الاجتماع پورے مجموعے کے لیے انعام کا اعلان ہوا ہے بھئی، کہ پورے مجموعے کے لیے ایک انعام ہوگا، تو لہٰذا ان کو ایک ہی انعام ملے گا، کتنا انعام تھا مثلاً؟ 10 ہزار، تو پھر وہ اسے آپس میں تقسیم کر لیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس کے مقابلے میں اگر اس نے امیر نے "کل" کا لفظ استعمال کیا "کل من دخل ہذا الحصن اولاً فلہ من النفل کذا" تو یاد رکھیے اس صورت میں "کل" کس لیے آتا ہے؟ احاطہ کرتا ہے لیکن کس طریقے پر؟ علی سبیل الافراد، یعنی ہر ایک کے لیے حکم ثابت ہوتا ہے الگ الگ، جدا جدا، تو لہٰذا 10 اکٹھے داخل ہوئے تو ہر ایک کے کو الگ الگ انعام ملے گا، ہر ایک کو 10، 10 ہزار ملیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تیسری صورت یہ کہ وہ "من" ذکر کرتا ہے، "کل" اور "جمیع" کو ساتھ ذکر نہیں کرتا "من دخل ہذا الحصن اولاً فلہ من النفل کذا" تو یاد رکھیے اس صورت میں کہتے ہیں اگر 10 اکٹھے داخل ہوئے تو کسی ایک کو بھی انعام نہیں ملے گا، اس لیے کیونکہ "من" استعمال کیا، جو بھی اس قلعے کے اندر پہلے داخل ہوگا تو اسے انعام ملے گا۔ تو یہاں اس کو آگے "اولاً" آ رہا ہے، پہلے، جو پہلے داخل ہوا اس کو اتنا انعام ملے گا، اور جب 10 اکٹھے داخل ہوئے تو یہ اول ہیں یا اولون ہیں؟ اور اس نے تو "اولاً" کا لفظ ذکر کیا تھا، تو لہٰذا یہاں پر ایک اگر داخل ہو اسے تو انعام مل جائے گا 10 ہزار، لیکن اگر ایک سے زائد اکٹھے داخل ہوئے تو پھر ان میں سے کسی کو بھی انعام نہیں ملے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ حتی اذا قال: یہاں تک کہ اگر کہا امیرِ لشکر نے "جمیع من دخل ہذا الحصن اولاً فلہ من النفل کذا" وہ سب جو داخل ہوئے اس قلعے کے اندر پہلے تو ان کے لیے انعام ہے اتنا "فدخل عشرۃ معاً" پس داخل ہو گئے 10 افراد اکٹھے، یعنی سب سے پہلے، "ان لہم نفلاً واحداً بینہم" تو ان کے لیے ایک ہی انعام ہوگا ان کے بیچ، یعنی اسی کو پھر آپس میں کیا کریں گے؟ تقسیم۔ "ان لہم نفلاً واحداً بینہم جمیعاً" تو ایک ہی انعام ہوگا ان سب کے درمیان، "والنفل ہو ما یعطیہ الامام زائداً علی سہم الغنیمۃ" نفل کا معنی بیان کر رہے ہیں، میں نے بتلا دیا ہے، انعام بھئی، عطیہ وغیرہ، انعام۔ والنفل اور نفل جو ہے "ہو ما" وہ چیز ہے "یعطیہ الامام" جو امیر عطا کرتا ہے "زائداً علی سہم الغنیمۃ" اس حال میں کہ وہ زائد ہوتا ہے غنیمت کے حصے پر۔ "فان دخل عشرۃ معاً" اگر داخل ہوئے 10 اکٹھے "فی صورت الجمیع" جمیع کی صورت میں، یعنی "جمیع" کے لفظ کی صورت میں "یکون الکل مشترکاً بین ذالک" بین ذالک النفل الموعود" تو وہ سب کے سب مشترک ہوں گے اس انعام کے اندر جو ان کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا "عملاً بحقیقبتہ" عمل کرتے ہوئے اس "جمیع" کے لفظ کی حقیقت پر۔ یعنی ان پر حکم انعام جو ہے وہ من حیث المجموع جو ہے اس کا اعلان ہوا ہے۔ "وان دخلوا فرادیٰ" اور اگر وہ داخل ہوئے اکیلے، یعنی ایک ایک کر کے، "فیستحق نفل الاول" تو مستحق ہوگا انعام کا الاول پہلا "خاصۃً" خاص طور پر "عملاً بمجازہ" عمل کرتے ہوئے "جمیع" کے مجاز پر۔ یعنی مجازی معنی پر عمل کرتے ہوئے "وہو ان یجعل بمعنی کل" اور وہ یہ کہ اس کو کس معنی میں کر دیا جائے گا؟ "کل" کے معنی میں کر دیا جائے گا بھئی۔ بھئی یہاں داخل ہی ایک فرد ہوا ہے، اکٹھے تو داخل ہی نہیں ہوئے، تو اس ایک ہی کو انعام دے دیا جائے گا، بھئی ایک کو کیسے انعام دیا جائے گا؟ کہتے ہیں بھئی یہاں ہم نے "جمیع" کو مجازی معنی میں لے لیا بمعنی "کل" کے، اور "کل" کیا کرتا ہے؟ ہر ہر فرد کے لیے باقیوں سے قطع نظر حکم کو ثابت کرتا ہے، تو جب ایک داخل ہوا تو اس کے لیے بھی انعام ثابت ہو جائے گا، اسے بھی انعام دیا جائے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ "جمیع" کی صورت میں اگر 10 اکٹھے داخل ہوئے تو ان کے لیے کتنے انعام؟ ایک ہی، اور اگر ایک چلا گیا تو؟ اس کے لیے ایک انعام ہو جائے گا، اس پر اشکال ہوتا ہے: یہ تو آپ نے جمع بین الحقیقت والمجاز کر دیا۔ جمع بین الحقیقت والمجاز عند الاحناف جائز نہیں۔ یعنی کلام وہی ایک اس نے امیر نے ایک ہی دفعہ کیا کہا تھا؟ وہ سب جو اس قلعے میں پہلے داخل ہوئے ان کے لیے انعام ہے۔ اب اکٹھے داخل ہوں پھر تو بات ٹھیک ہے، امیر نے بھی "جمیع" کا لفظ ذکر کیا تھا اور یہ سارے بھی اکٹھے داخل ہوئے، لیکن ایک داخل ہو یہ تو "جمیع" نہیں، تو پھر آپ کیا تاویل، کیا کہتے ہیں؟ "جمیع" سے کون سا معنی کر لیں گے؟ مجازی معنی "کل" کے معنی میں۔ تو وہ جو سارے اکٹھے مراد لیے وہ تو تھا حقیقی معنی، اور یہ جو یہاں ایک کو اس میں داخل کر رہے ہیں یہ ہے مجازی معنی، تو ایک ہی لفظ سے آپ حقیقی معنی بھی لے رہے ہیں بعض صورتوں میں اور مجازی معنی بھی لے رہے ہیں، تو یہ تو درست نہیں بھئی۔ تو جواب دیں گے اس کا بھئی جواب، کہ بھئی یہاں ہم مجازی، حقیقت اور مجاز کے درمیان جمع نہیں کرتے بلکہ عمومِ مجاز لے لیتے ہیں، عمومِ مجاز۔ عمومِ مجاز کسے کہتے ہیں؟ بھئی دیکھیے، توجہ کیجیے۔ یہ ہے لفظ کا مثلاً حقیقی معنی، یہ ہے اس کا مجازی معنی۔ ایک ہی لفظ سے حقیقی معنی کا بھی ارادہ کریں اور دوسری صو، پھر اسی لفظ سے مجازی معنی کا بھی ارادہ کریں یہ درست نہیں۔ لیکن اس کے بجائے اگر ہم کوئی ایک ایسا مجازی معنی لے لیں کہ جس میں یہ حقیقت اور یہ مجاز دونوں داخل ہو جائیں، تو اب ہم نے ایک معنی لیا لفظ کا یا دو لیے ہیں؟ معنی ایک ہی ہے اور وہ معنی خود بھی مجازی معنی ہے، لیکن ایسا مجازی معنی لے لیا کہ حقیقت بھی اس میں داخل اور وہ والا پہلا مجازی معنی بھی، تو دونوں صورتوں میں ہم وہی معنی کریں گے، تو اب لفظ کے ہم ایک ہی معنی کر رہے ہیں یا دو معنی؟ ایک معنی، پہلے تو دو معنی تھے، ایک صورت میں حقیقت، دوسری صورت میں مجاز، اب ہم معنی ایک ہی کر رہے ہیں لیکن وہ ایسا معنی ہے کہ حقیقت ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہو جاتی ہے، مجاز ہو تو وہ بھی اس میں، ہم کیا معنی کریں گے؟ کہتے ہیں ہم یہاں معنی کریں گے "جمیع من دخل اولاً" کا معنی کریں گے "السیاب فی الدخول"، سبقت کرنے والا داخل ہونے میں، اور سبقت کرنے والا داخل ہونے میں یہ عام ہے، ایک ہو تو وہ بھی اس کو اس پر بھی یہ صادق آتا ہے، 10 ہوں تو ان پر بھی صادق آتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ فقد اعترض عليه: أورد، اعتراض کیا گیا ہے، بانّه يلزم الجمع بين الحقيقة والمجاز، کہ اس میں تو لازم آئے گا جمع بین الحقیقة والمجاز، حينئذ، اس وقت میں، جب آپ دونوں معنیٰ الگ الگ کریں۔ والجواب، جواب یہ، انه لا يستعار بمعنی کل بعينه، کہ اس کو مستعار نہیں لیا گیا بعینہ کل کے معنیٰ میں، انه لو كان كذلك، اسی کیونکہ اگر اس طرح ہوتا، كان للكل نفل تام فی صورة ما دخلوا معا، پھر تو ان میں سے ہر ایک کے لیے کیا ہوگا؟ بھئی، اگر ہم کیا کرتے کل کے معنیٰ میں بعینہ کل کے معنیٰ میں ہم لے لیتے، پھر تو جب دس اکٹھے داخل ہوئے تھے تو ہر ایک کے لیے انعام ہونا چاہیے تھا۔ معلوم ہوا ہم نے اس کو کل کے بعینہ کل کے معنیٰ میں نہیں لیا۔ تو یہ معنیٰ ہے: انه لو كان كذلك، اگر ایسا ہوتا، یعنی ہم اس کو بعینہ کل کے معنیٰ میں لے لیتے، فكان للكل نفل تام، تو پھر اس صورت میں تو ان میں سے ہر ایک کے لیے پورا پورا انعام ہوتا، فی صورة ما دخلوا معا، اس صورت میں جبکہ وہ داخل ہوئے تھے اکٹھے، بل هو مجاز عن السابق فی الدخول، بلکہ یہ مجاز ہے کس سے؟ سابق فی الدخول سے، یعنی وہ جو سبقت کرنے والا ہے داخل ہونے میں۔ تو یہ کون سا معنیٰ ہے؟ مجازی معنیٰ ہے بھئی، تو یہ عموم مجاز ہے اور اس میں ایک اور وہ مجموعہ سب آ جائیں گے۔ واحدا كان او جماعة، چاہے وہ سابق فی الدخول ایک ہو یا چاہے پوری جماعت ہو، فيكون للجماعة نفل واحد، تو پوری جماعت کے لیے بھی ایک ہی انعام ہوگا، كما هو للأول الواحد، جیسے کہ وہ پہلے ایک کے لیے ایک انعام ہوگا، عملا بعموم المجاز، عمل کرتے ہوئے عموم مجاز پر۔ والأولى ان يقال، شارح فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے، ان الغرض من هذا الكلام، کہ یہ جو اس کلام کے ذریعے غرض جو ہے، امیر کے اس کہنے سے غرض کیا ہے؟ هو اظهار الشجاعة والجلادة، وہ شجاعت اور قوت کا اظہار ہے، تاکہ مجاہدین کیا کریں؟ اپنی قوت اور شجاعت کا مظاہرہ کریں۔ فاذا استحقه جماعة، پس جب ایک پوری جماعت اس انعام کی مستحق ہو جاتی ہے، باعتبار ظاهر معناه الحقيقی، کس اعتبار سے؟ اس جمیع کے حقیقی معنیٰ کے ظاہر کے اعتبار سے، حقیقی معنیٰ کیا ہے؟ پورے مجموعے پر حکم لگتا ہے، تو پورے مجموعے کے لیے ایک ہی انعام ہوگا۔ تو جب ایک پوری جماعت مستحق ہو جاتی ہے اس جمیع کے معنیٰ حقیقی کے ظاہر کے اعتبار سے، فاستحقاق الواحد له بطريق الأولى، تو ایک کا اس انعام کا مستحق ہونا یہ بطریقِ اولیٰ ہوگا۔ بھئی، جب دس افراد، بھئی امیر کے اس کلام کا مقصد کیا ہے؟ تاکہ اظہارِ شجاعت اور جلادت یعنی اظہارِ قوت ہے۔ تاکہ مجاہدین جو ہیں اپنے قوت اور شجاعت کا مظاہرہ کریں۔ تو جب پورے دس افراد مثلاً دس اکٹھے داخل ہوئے، ان کے انعام دیا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے کیا کیا؟ اظہارِ شجاعت کیا ہے، تو جب دس اکٹھے داخل ہونے میں اظہارِ شجاعت ہے، تو اگر ایک اکیلا داخل ہوگا تو اس میں کمالِ شجاعت کا اظہار ہے، تو اس کو تو بطریقِ اولیٰ کیا ملنا چاہیے؟ انعام ملنا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یہ ہے دلالۃ النص بھئی۔ کہ جب دس ایک اکٹھے داخل ہونے پر انعام کے مستحق ہیں بہادری کی وجہ سے، تو ایک تو بطریقِ اولیٰ مستحق ہے بھئی۔ تو ایک کے لیے جو حکم ثابت ہوگا، وہ دلالۃ النص کے طریقہ پر کہ وہ تو بطریقِ اولیٰ اس کے لائق ہے۔ فاستحقاق الواحد له، تو مستحق ہونا ایک شخص کا اس انعام کا، بطريق الأولى، یہ بطریقِ اولیٰ ہوگا، بدلالة النص، دلالۃ النص کی وجہ سے، لانه فيه اظهار کمال الشجاعة، اسی کیونکہ اس کے اندر کمالِ شجاعت کا اظہار ہے۔ وفی كلمة كل، يجب لكل منهم النفل، اور کلمہٴ کل کی صورت میں ثابت ہو جائے گا ان میں سے ہر ایک کے لیے وہ انعام بھئی۔ بھئی، اگر کلمہٴ کل کہا تھا: کل من دخل، تو پھر دس اکٹھے داخل ہوئے تو ہر ایک کے لیے الگ الگ انعام ہو جائے گا بھئی۔ وہ وہی بات جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں بھئی۔ سبق کی طرف توجہ ہے بھئی؟ جی۔ وفی كلمة كل يجب لكل منهم النفل، اور کلمہٴ کل کی صورت میں واجب ہو جائے گا ان میں سے ہر ایک کے لیے پورا انعام، یعنی اذا قال، جب امیر نے جب یوں کہا: کل من دخل هذا الحصن اولا، ہر وہ جو داخل ہوا اس قلعے کے اندر پہلے، فله من النفل كذا، تو اس کے لیے انعام میں سے اتنا ہے، فدخل عشرة معا، تو داخل ہو گئے دس اکٹھے، يجب لكل واحد منهم نفل تام، تو واجب ہو جائے گا ان میں سے ہر ایک کے لیے پورا انعام۔ لان كلمة كل، لان كلمة كل للإحاطة على سبيل الافراد، اسی کیونکہ کلمہٴ کل جو ہے وہ احاطے کے لیے آتا ہے علی سبیل الافراد، فاعتبر كل واحد من الداخلين، پس اعتبار کیا گیا ہر ایک جو ہے داخل ہونے والوں میں سے، كأن ليس معه غيره، گویا کہ اس کے ساتھ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے، تو ہر ایک کے لیے انعام ہے۔ وهو اول بالنسبة الى من تخلف من الناس ولم يدخل، اور وہ اول ہے نسبت کرتے ہوئے ان لوگوں کی طرف جو پیچھے رہ گئے ہیں لوگوں میں سے، ولم يدخل، اس حال میں کہ وہ داخل نہیں ہوئے، لم يدخل، ای قبل دخوله، اس کے داخل ہونے سے پہلے وہ داخل، یہ معنیٰ نہیں کہ جو سرے سے داخل ہی نہیں ہوئے، جو سرے سے داخل ہی نہیں ہوئے ان کے مقابلے میں اول ہونے کا کیا معنیٰ؟ اول تو انہی کے مقابلے میں ہوگا نہ جو باقی بھی داخل ہوئے۔ لیکن یہ ان سے پہلے داخل ہوا۔ تو لہٰذا اس کے ساتھ قید یاد رکھنا۔ تو کہتے ہیں: وهو اول بالنسبة الى من تخلف من الناس، تو یہ اول ہے نسبت کرتے ہوئے ان کی طرف جو پیچھے رہ گئے ہیں لوگوں میں سے، ولم يدخل، اس حال میں کہ وہ داخل نہیں ہوئے، ای قبل دخوله، اس کے داخل ہونے سے پہلے وہ داخل نہیں ہوئے۔ ولو دخل عشرة فرادی، اور اگر داخل ہوئے دس فرادیٰ، اکیلے اکیلے یعنی باری باری ایک ایک کر کے، كان النفل للأول خاصة، تو انعام پہلے ہی کے لیے ہوگا خاص طور پر، لانه الاول من كل وجه، اسی کیونکہ وہ اول ہے ہر اعتبار سے، وكلمة كل يحتمل الخصوص، اور کلمہٴ کل جو ہے وہ خصوص کا بھی احتمال رکھتا ہے، تو یہاں پھر وہ خصوص پر محمول ہو جائے گا۔ وفی كلمة من يبطل النفل، اور کلمہٴ من کی صورت میں انعام باطل ہو جائے گا، اگر صرف من کلمہ استعمال کیا اور کل اور جمیع کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ ای ان قال، یعنی اگر یہ کہا امیر نے: من دخل هذا الحصن اولا، جو کوئی داخل ہوا اس قلعے میں پہلے، فله من النفل كذا، تو اس کے لیے انعام میں سے اتنا ہے، فدخل عشرة معا، تو داخل ہوئے دس اکٹھے، لا يستحق احد منهم، تو مستحق نہیں ہوگا ان میں سے کوئی ایک بھی، لان الاول اسم لفرد سابق، اسی کیونکہ اول کا لفظ آیا تھا، امیر نے کیا کہا؟ اولاً، من دخل هذا الحصن اولاً، تو اول کا لفظ کہا، اور اول اسم لفرد سابق، اور اول نام ہے اس فرد کا، اسم ہے اس فرد کا سابق، جو سبقت کرنے والا ہے، دخل اولاً، اور پہلے داخل ہوا ہے، ولم يوجد، اور وہ تو یہاں پایا نہیں گیا، بل وجدت الداخلون الاولون، بلکہ یہاں تو الداخلون الاولون بھئی مجموعہ پایا گیا ہے اور اس نے مفرد کا لفظ استعمال کیا تھا امیر نے۔ وكلمة من ليست محكمة، اچھا اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ اولاً کا لفظ تو جمیع کی صورت میں بھی تھا، اس وقت آپ نے اس کا اعتبار نہیں کیا، کل کے صورت میں بھی اول کا لفظ تھا اور من کی صورت میں بھی ہے، من کی صورت میں آپ اس کے خصوص پر عمل کرتے ہیں اور کل اور جمیع کی صورت میں خصوص پر عمل نہیں کرتے، جواب دیں گے اب آپ کو کہ بھئی یہ جو کلمہٴ من ہے یہ عموم کے اندر اتنا پختہ نہیں ہے، یہ عموم کے ساتھ ساتھ خصوص کے لیے بھی عام بکثرت استعمال ہوتا ہے، جبکہ جمیع اور کل جو ہیں وہ عموم میں پکے ہیں، تو آگے پچھلی مثالوں میں جمیع چاہتا تھا عموم کو اور آگے اولاً چاہتا تھا خصوص کو، لیکن جمیع کا عموم اتنا پختہ ہے کہ وہ کیا ہو جائے گا؟ اس کے خصوص کو ختم کر دے گا، ختم کر دے گا، تو اس کے خصوص کو بدل دے گا اور اسی طرح کل میں بھی عموم ہے تو اس میں بھی عموم اتنا پختہ پکا ہے کہ وہ اول کے خصوص کو بدل دے گا، جبکہ من کے اندر عموم اتنا پکا نہیں لہٰذا وہ اول کے خصوص کو بدل نہیں سکتا۔ تو یہی بات بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: وكلمة من ليست محكمة فی العموم، اور کلمہٴ من جو ہے وہ محکم نہیں ہے عموم کے اندر، حتى تؤثر فی تغيير لفظ اولا، یہاں تک کہ یہ اثر ڈالے لفظ اولاً کے بدلنے میں، بخلاف كلمة كل والجمیع، بخلاف کلمہٴ کل اور جمیع کے، فانه يتغير بهما قوله اولا، پس ان کی وجہ سے جو ہے بدل جائے گا امیر کا قول اولاً بھئی۔ ولو دخل عشرة فرادی، اور اگر اسی صورت میں، کس صورت میں؟ من کی صورت میں، اگر داخل ہو گئے دس افراد فرادیٰ اکیلے الگ الگ، تو اب کہتے ہیں: يستحق الاول نفل خاصة، اب پہلا جو ہوگا وہ مستحق ہو جائے گا انعام کا خاص طور پر، دون الباقين، نہ کہ باقی، باقی اب، اب دیکھو اب اول ایک داخل ہوا ہے اور اول کا لفظ چاہتا بھی کتنے کو تھا؟ ایک ہی کو چاہتا تھا، تو لہٰذا اب وہ انعام کا مستحق ہو جائے گا۔ باقیین ہے آپ کی کتابوں میں؟ باقیین نہیں ہونا چاہیے، باقین بھئی، باقین۔ ایک یا گر جاتی ہے اس کی اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے بھئی۔ صرف پڑھی ہے یا نہیں پڑھی آپ حضرات نے؟ باقی، بقا مادہ ہے نہ، با، قا اور یا، جی؟ اس میں فاعل کیا آئے گا؟ باقٍ، چلو یہ یا تو اجتماعِ ساکنین سے گر گئی، الف لام ہوتا تو نہ گرتی، الباقی، الباقی، اب اسی پر ذرا اس کی جمع بناؤ واؤ نون کے ساتھ، کیا بن جائے گا؟ الباقیون، کیا بنے گا؟ الباقیون، یا پر ضمہ ثقیل ہے، گر جائے گا، سمجھ میں آیا؟ کیا بن جائے گا؟ الباقیُون، واؤ بھی ہے نہ، اسی طرح پڑھ لو بھئی، الباقیُون، پھر یا بھی ساکن، واؤ بھی ساکن، اجتماعِ ساکنین ہوا مولانا، اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ آیا، اجتماعِ ساکنین جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ دو قسم پر ہے، ایک علی حدہ، ایک علی غیر حدہ، علی حدہ کس کو کہتے ہیں؟ جس میں اول ساکن مدہ ہو، ثانی ساکن مدغم ہو۔ اور یہاں ایسا اول ساکن تو مدہ ہے یعنی یا سے ماقبل کسرہ ہے تو یہ کیا ہے؟ حرفِ مدہ، واؤ سے قبل ضمہ ہو تو وہ کیا ہوتا ہے؟ حرفِ مدہ، الف سے ماقبل فتحہ ہے تو وہ کیا ہے؟ حرفِ مدہ، تو یہاں الباقیُون اول مدہ تو ہے، لیکن ثانی ساکن کو کیا ہونا چاہیے؟ مدغم ہونا چاہیے، وہ دوسری شرط نہیں پوری ہو رہی، تو یہ اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ ہے اور اس صورت کے اندر کیا کرتے ہیں؟ حرفِ مدہ کو گرا دیتے ہیں، تو حرفِ مدہ کو گرا دیا، پھر مولانا واؤ کی وجہ سے ماقبل قاف کو کیا دے دیا؟ ضمہ دے دیا، کیا ہوا؟ الباقون، اور حالتِ نصبی جری میں کیا کہیں گے؟ الباقین۔ تو لہٰذا وہ پہلا جو ہے وہی انعام کا خاص طور پر حقدار ہوگا، دون الباقين، نہ کہ باقی۔ ثم لما فرغ عن بيان العام الصيغی والمعنوی وضعا، پھر جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے عامِ صیغی اور عامِ معنوی کے بیان سے وضعاً، بھئی بتلایا تھا بھئی کہ بعض اوقات عام کیا ہوگا؟ صیغے اور معنیٰ دونوں اعتبار سے ہوگا، اور کبھی صرف کس اعتبار سے ہوگا عام؟ معنیٰ کے اعتبار سے، تو ان کے بیان سے فارغ ہوئے، تو کہتے ہیں: جب فارغ ہوئے مصنف جو ہے عامِ صیغی اور عامِ معنوی وضعاً ان کے بیان سے فارغ ہوئے، ذكر ما يكون عمومه عارضا بدليل خارجی، تو ذکر کیا اس عام کو کہ جس کا عموم کسی عارض کی وجہ سے ہوگا دلیلِ خارجی کے سبب سے، جس کا عموم عارضی ہوگا بدلیل خارجی کسی خارجی دلیل کی وجہ سے، کسی خارجی قرینے وغیرہ کی وجہ سے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب اس کو بیان کرنے لگے ہیں: فقال، تو مصنف فرماتے ہیں: والنكرة فی موضع النفی تعم، اور نکرہ جو ہے نفی کے محل میں، نہی کے، نفی کے مقام میں تعم، عام ہوگا، نکرہ کیا ہوگا؟ بھئی نکرہ آپ نے بھی پڑھا ہے نکرہ تحت النفی آئے تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ عموم کا فائدہ دیتا ہے، وہی بات کر رہے ہیں کہ نکرہ جو ہے فی موضع النفی تعم، نفی کے محل میں جو ہے وہ عام ہوگا۔ وذلک لأنها فی اصل وضعها للماهية او لفرد واحد غير معين على اختلاف القولين، بھئی آپ نے پہلے بھی یہ اختلاف گزر چکا ہے، بعض کہتے ہیں یہ جو نکرہ ہے یہ وضع ہے ماہیت اور حقیقت کے لیے، کس کے لیے وضع ہے؟ ماہیت اور حقیقت کے لیے وضع ہے، اور بعض کا قول ذکر ہوا تھا، بعض علماء فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ فردِ غیر معین کے لیے وضع ہے، کس کے لیے وضع ہے؟ تو مثلاً رجلٌ کا لفظ ہے بھئی، تو بعض علماء کہتے ہیں یہ ماہیت اور حقیقت کے لیے وضع ہے یہ بھئی رجل کا لفظ، اور بعض کہتے ہیں نہیں، یہ فردِ غیر معین کے لیے وضع ہے۔ تو جب اس نکرہ پر نفی داخل ہو، چاہے براہِ راست اس پر داخل ہو، مثلاً آپ کہتے ہیں: لا رجل فی الدار، یا اس فعل پر داخل ہو جس کے تحت یہ آیا ہے نکرہ، مثلاً: ما جاءنی رجلٌ بھئی، ما جاءنی رجلٌ بھئی، تو چاہے نکرہ پر حرفِ نفی اس پر براہِ راست داخل ہو جائے یا اس فعل پر داخل ہو جائے جس کے تحت وہ نکرہ ہے، دونوں صورتوں میں کیا، کس چیز کا فائدہ حاصل ہوگا؟ عموم کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اچھا، تو بات یہ بیان کر رہے ہیں کہ نکرہ وہ ماہیت کے لیے وضع ہے یا فردِ غیر معین کے لیے وضع ہے، لہٰذا جب اس پر حرفِ نفی آئے گا، تو اس صورت میں عموم کا فائدہ دے گا، یعنی تمام افراد سے، ہر ہر فرد سے اس حکم کی نفی کر دے گا، ہر ہر فرد سے کیا کرے گا؟ اس حکم کی نفی کر دے گا، اس لیے کیونکہ اگر ایک بھی فرد باقی رہا، تو ماہیت کی نفی ہوئی؟ ماہیت کی نفی، تو جن کے نزدیک یہ ماہیت کے لیے وضع ہے، تو اس صورت میں کیا ہوگا؟ ایک بھی فرد باقی رہتا ہے، تو پھر بھئی یہ تو نفی کے لیے آیا نہ، حرفِ نفی اس پر آیا یا نہیں آیا؟ تو اس نے کس چیز کی نفی کرنی ہے؟ یہ کس کے لیے وضع ہے؟ ماہیت کے لیے، تو کس کی نفی کرے گا؟ ماہیت کی نفی کرے گا، اور اگر ایک بھی فرد باقی ہو، تو ماہیت کی نفی ہوئی پوری طرح؟ ماہیت کی نفی نہ ہوئی، لہٰذا یہ ہر ہر فرد کی نفی کر دے گا بھئی، اور اگر یہ فردِ غیر معین کے لیے وضع ہو، دوسرے قول کے مطابق بھئی، وہ تسلیم کر لیا جائے، پھر بھی جب اس پر نفی آئے گی، تو یہ ہر ہر فرد کی نفی کر دے گا بھئی، اس لیے کہ اگر ایک بھی فرد باقی رہا، تو فردِ غیر معین کی نفی ہوئی پوری طرح؟ فردِ غیر معین کی نفی نہ ہوئی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو چاہے اس کو آپ ماہیت کے لیے مانیں، چاہے فردِ غیر معین کے لیے مانیں، دونوں صورتوں میں جب اس پر حرفِ نفی آئے گا، تو یہ کیا کرے گا؟ عموم کا فائدہ دے گا اور ہر ہر فرد سے کیا ہو جائے گی؟ اس حکم کی نفی ہو جائے گی۔ وذلک لأنها فی اصل وضعها للماهية او لفرد واحد غير معين على اختلاف القولين، اور یہ اس لیے کہ یہ اصل وضع کے اندر ماہیت کے لیے ہے یا ایسے فردِ واحد کے لیے ہے جو معین نہیں ہے، بناءً دونوں قولوں کے اختلاف کے، فاذا دخل عليها النفی تعم، پس جب اس پر نفی داخل ہو جائے گی تو یہ عام ہوگا، اذ نفی الماهية او الفرد الغير المعين لا يكون إلا كذلك، اس لیے کہ ماہیت کی نفی یا فردِ غیر معین کی نفی نہیں ہوگی مگر اسی طرح کہ ہر ہر فرد کی یہ کیا کر دے؟ نفی کر دے بھئی۔ فإن تضمن معنی من الاستغراقية کان نصا فیه کما فی لا رجل فی الدار وقوله لا إله إلا الله آبتلا رہے ہیں فإن تضمن معنی من الاستغراقية اگر وہ نکرہ متضمن ہو من استغراقية کے معنی کو کان نصا فیه تو وہ نص ہوگا عموم کے اندر بھئی کیا ہوگا؟ اگر وہ نکرہ وہ جو تحت نفی آیا ہے محل نفی میں آیا ہے اگر وہ من استغراقية سے معنی کو متضمن ہو تو اس صورت میں وہ عموم کے اندر کیا ہوگا؟ نص ہوگا بھئی یاد رکھیں کبھی نکرہ جو ہے تحت نفی وہ من استغراقية کے معنی کو متضمن ہوتا ہے بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ لا نفی جنس کا جو اسم ہے جب نکرہ ہو اور اس کے ساتھ ملا ہوا ہو لا کے ساتھ اور مضاف یا مشابہ مضاف نہ ہو تو اس صورت میں وہ مبنی علی الفتح ہوتا ہے پڑھا ہے یعنی نحو میں کہ لا نفی جنس کا اسم جب نکرہ ہو اور لا کے ساتھ ملا ہوا ہو اور مضاف یا مشابہ مضاف نہ ہو تو اس صورت میں وہ مبنی علی الفتح ہوتا ہے جیسے آپ کہتے ہیں لا رجل فی الدار تو یہ مبنی ہے مولانا رجل کیا ہے اس وقت؟ مبنی ہے بھئی بھئی معرب ہوتا تو یہ لا رجلاً تنوین آنی چاہیے تھی بھئی تنوین نہیں آرہی بھئی یہ بات بتلا دیتی ہے کہ یہ اس وقت کیا ہے؟ مبنی ہے بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو یہ مبنی ہوتا ہے بھئی بھئی یہ مبنی کیوں ہے کیا وجہ ہے؟ تو علمائے نحو بتلاتے ہیں جواب دیتے ہیں کہ بھئی دراصل یہ حرف من کو متضمن ہے یعنی من استغراقية اس کے اندر چھپ گیا ہے اور حرف چونکہ مبنی ہوتا ہے تو جس کے اندر وہ چھپ گیا اس کو بھی کیا بنا دیتا ہے؟ مبنی بنا دیتا ہے جیسے آپ نے پڑھا احد عشر احد عشر یہ دونوں جز کیا ہیں اس کے؟ مبنی ہیں بھئی پہلا جز تو چلو درمیان میں آگیا مولانا اس پر تو اعراب نہیں آتا لیکن آخری پر تو کیا آنا چاہیے؟ اعراب آنا چاہیے وہ کیوں مبنی ہوا کیا وجہ ہے؟ تو کیا جواب دیتے ہیں کہ دراصل یہ احد و عشر تھا بھئی پھر کیا ہوا یہ و کس کے اندر چھپ گیا؟ عشرہ کے اندر چھپ گیا اور و ہے حرف اور حرف کیا ہیں؟ مبنی ہے تو جس کے اندر یہ چھپے گا اس کو بھی کیا بنا دے گا؟ مبنی تو عشرہ بھی کیا ہو گیا؟ مبنی ہو گیا بھئی بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جیسے امسی مولانا امسی مبنی علی الکسر ہے بھئی کیوں مبنی علی الکسر ہے؟ کیونکہ دراصل یہ تھا الامسی پھر یہ الف لام جو حرف ہے اس کے اندر چھپ گیا اور حرف کیا ہوتا ہے؟ مبنی اس نے اس کو بھی کیا بنا دیا؟ مبنی بنا دیا تو اسی طرح لا رجل فی الدار یہ لا رجل مبنی ہے کیوں مبنی ہے؟ کیونکہ اس کے اندر کیا چھپ گیا؟ من بھئی من استغراقية اس کے اندر چھپ گیا اور من ہے حرف تو اس کے اندر چھپا اس لیے اس کو بھی کیا بنا دیا اس نے؟ مبنی بنا دیا یہاں تک بات سمجھ میں آگئی تو لا نفی جنس کا اسم جب نکرہ ہو ساتھ ملا ہوا ہو تو مبنی علی الفتح ہوتا ہے کیوں مبنی علی الفتح ہوتا ہے؟ کیونکہ وہ من استغراقية کے معنی کو متضمن ہوتا ہے یعنی وہ من اس کے اندر چھپا ہوا ہے تو لا رجل دراصل ہے لام من رجل بھئی دراصل کیا تھا؟ لام من رجل تھا تو یہ من استغراقية جب نکرہ کے اندر چھپ جائے مولانا تو اس صورت کے اندر یہ نکرہ جو ہے جو تحت النفی آیا یہ عموم کے اندر کیا ہوگا؟ نث ہوگا بھئی من استغراقية اس کے اندر چھپا ہے تو یہ بھی استغراق کا فائدہ دے گا عموم کا فائدہ دے گا اور اس کے اندر نث ہوگا بھئی کیا ہوگا؟ نث ہوگا یعنی اس میں پھر عموم ہی عموم ہے خصوص کا احتمال نہیں ہے یعنی عموم میں یہ نث ہے بھئی اس میں خصوص کا پھر احتمال نہیں ہے تو کہتے ہیں فإن تضمن معنی من الاستغراقية اگر یہ متضمن ہوا من استغراقية کے معنی کو کان نصا کون متضمن ہوا وہ نکرہ جو تحت النفی آیا ہے کان نصا فیه تو یہ نکرہ کیا ہوگا عموم کے اندر نث ہوگا یعنی پھر اس میں عموم ہی عموم ہے خصوص کا احتمال نہیں کما فی لا رجل فی الدار جیسے کس کے اندر ہے؟ اس کلام میں مولانا لا رجل فی الدار تو کیا معنی ہے؟ گھر میں کوئی جنس رجل میں سے کوئی بھی نہیں ہے ایک فرد بھی نہیں ہے اگر ایک بھی پایا جائے تو یہ کلام صحیح نہیں وقوله اور اسی طرح یہ قول مومن کا جیسے لا إله إلا الله یہ بھی لا إله دیکھو یہ الہ کیا ہے مبنی علی الفتح ہے تو یہ لا نفی جنس ہے مولانا یہ لا جو آیا تو یہ بھی من استغراقية کو متضمن ہے تو اللہ کے علاوہ باقی تمام معبودوں کی نفی ہو گئی لا إله بھئی أي لا من إله بھئی کوئی معبود نہیں ہے إلا الله سوائے اللہ کے بھئی تو اللہ کے علاوہ تمام معبودوں کی نفی ہو گئی بھئی وإلا اور اگر ایسا نہ ہو یعنی وہ نکرہ من استغراقية کے معنی کو متضمن نہ ہو لکان ظاہرا فیه تو پھر وہ نکرہ جو تحت النفی آیا ہے وہ عموم میں ظاہر ہوگا وہ محتملا لخصوص اور خصوص کا بھی احتمال رکھے گا اگر من استغراقية کو متضمن ہو پھر تو وہ عموم کے اندر نث ہے اس میں کسی قسم کے خصوص کا احتمال نہیں لیکن اگر من استغراقية کے معنی کا وہ متضمن نہ ہو تو پھر وہ عموم کے اندر نث نہیں ہوگا بلکہ کیا ہوگا؟ ظاہر ہوگا یعنی کہ اس میں عموم کا بھی اس میں خصوص کا بھی خصوص کا احتمال ہوگا اس میں والدلیل علی عمومها الإجماع والاستعمال اور اس دلیل اس کے عموم پر جو ہے اجماع اور استعمال ہے مولانا یہ نکرہ جو تحت النفی آیا مولانا اور کس کو متضمن ہوا من استغراقية کو تو اس کے عموم پر دلیل جو ہے وہ اجماع ہے مولانا اجماع بھئی سمجھ میں آیا؟ جیسے لا إله إلا الله اس پر تمام علماء کا اجماع ہے کہ یہ کلمہ مفید توحید ہے یعنی یہ ہر ہر لحاظ سے دوسرے معبود کی نفی کر دیتا ہے کسی بھی لحاظ سے یہاں تعدد ثابت نہیں ہو سکتا بھئی یہاں توحید ہی توحید ہے اس کلمے کے اندر بھئی اس پر اجماع ہے اسی طرح مولانا استعمال جو عربوں کا ہے عرب کیا کرتے ہیں؟ نکرہ منفيہ کا وہ جب استعمال کرتے ہیں تو کس لیے استعمال کرتے ہیں؟ عموم کے لیے استعمال کرتے ہیں اس سے عموم کا معنی وہ اس سے لیتے ہیں تو عربوں کا استعمال بھی یہ بتلاتا ہے کہ نکرہ جب تحت النفی آئے گا تو کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا فائدہ دے گا وقوله اسی ما قبل قوله لا إله إلا الله اس پر عطف کر لیں وقوله تعالی اور جیسے اللہ کا قول ہے مولانا إذ قالوا جب کہا یہود نے ما انزل الله علی بشر من شيء اللہ نے نازل نہیں فرمایا علی بشر کسی بشر پر دیکھو بشر نکرہ آیا اور پیچھے کیا آیا؟ حرف نفی آیا میں نے بتلایا تھا حرف نفی عام ہے چاہے اس نکرہ کے ساتھ ملا ہوا ہو یا ما قبل کے فعل کے پر داخل ہو رہا ہو اللہ نے نازل نہیں فرمایا علی بشر یہ یہود کہتے ہیں یہود کہتے تھے بھئی اللہ نے نازل نہیں فرمایا علی بشر کسی بشر پر من شيء کوئی چیز اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں فرمائی قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے من انزل الکتاب الذی جاء به موسی کس نے نازل کیا اس کتاب کو جس کو موسی علیہ السلام لے کر آئے تھے جس کو کون لے کر آئے تھے؟ موسی علیہ السلام لے کر آئے تھے بھئی بھئی یہاں ایک بات یاد رکھیے یاد رکھیے سالبہ کلیہ کی نقیض موجبہ جزئی ہوتی ہے سالبہ کلیہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ موجبہ جزئی آتی ہے مثلاً مولانا ایک آدمی یہ دعوی کرتا ہے کسی مرد کے پاس گاڑی نہیں ہے فرض کرو کیا دعوی کرتا ہے؟ تو دیکھو اس نے عموم کے طور پر سب سے نفی کر دی تو یہ کون سا یہ کیا ہے؟ یہ قضیہ سالبہ کلیہ ہے مولانا سب سے اس نے نفی کر دی اب میں اگر ایک فرد کے لیے بھی مرد میں سے کسی کے لیے گاڑی ثابت کر دوں تو اس کا دعوی ٹوٹ جائے گا مولانا مثلاً میں کہہ دوں زید کے پاس گاڑی ہے تو دعوی ٹوٹ گیا یا نہیں اس نے تو کیا کہا تھا؟ کسی مرد کے پاس گاڑی نہیں تو دعوی ٹوٹ جائے گا معلوم ہوا سالبہ کلیه کی نقیض کیا آتی ہے؟ موجبہ جزئیہ تو دیکھو میں کہتا ہوں مثلاً زید کے پاس گاڑی ہے یہ میں ثابت کر دیتا ہوں তো اب زید کے پاس گاڑی ہونا زید بتائیے کلی ہے یا جزی ہے مولانا؟ جزی ہے مولانا ایک فرد ہے بھئی وہ تو کلی نہیں ہے تو اس کے لیے اگر میں ثابت کر دوں اس محمول کو تو اس کا دعوی کیا ہو جائے گا؟ ٹوٹ جائے گا بھئی بات سمجھ میں آگئی تو کیا پتہ لگا آپ کو کہ موجبہ کہ سالبہ کلیہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ موجبہ جزئیہ آتی ہے تو یہاں بھی دیکھیے مولانا یہود کا قول وہ سالبہ کلیہ ہے مولانا انہوں نے کیا کہا؟ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں فرمائی بھئی تو ہر ہر فرد بشر سے پر کسی کتاب کے نازل ہونے کی نفی کر دی بھئی تو جواب میں اللہ کیا فرما رہے ہیں قل من أنزل الکتاب الذی جاء به موسی اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کس نے نازل کیا اس کتاب کو جسے حضرت موسی علیہ السلام لے کر آئے بھئی تو حضرت موسی علیہ السلام بھی جزی ہیں مولانا ان پر جو کتاب نازل ہوئی وہ بھی کیا ہے؟ جزی ہے تو ان کے دعوے کو رد کرنے کے لیے اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ کس کو لے کس کو ذکر کیا اللہ تعالی نے؟ موجبہ جزئیہ کو ذکر کر دیا ہے کہ اس سے ان کا دعوی کیا ہو جاتا ہے؟ ٹوٹ جاتا ہے ختم ہو جاتا ہے کس نے نازل کیا حضرت موسی علیہ السلام پر کتاب کو یعنی حضرت موسی علیہ السلام پر جو کتاب نازل کی گئی اس کو کس نے نازل کیا؟ اللہ تعالی نے بھئی تو یہ موجبہ جزئیہ ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام پر کتاب نازل کی یہ موجبہ جزئیہ ہے اور اس کے ذریعے ان کا وہ جو دعوی تھا کیا سالبہ کلیہ وہ ٹوٹ گیا بھئی بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو دیکھو انہوں نے بشر اور شے یہ دو دو نکرہ تھے دونوں کو تحت النفی ذکر کیا اور نکرہ تحت النفی ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ عموم کا ہی فائدہ دیتا ہے اس آیت سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نکرہ تحت النفی ہو تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ عموم کا فائدہ دیتا ہے اس لیے کیونکہ اللہ تعالی جو ہیں اللہ تعالی ان کو رد فرما رہے ہیں کس طریقے پر؟ ایجاب جزی کے طریقہ پر کس طریقے پر؟ ایجاب جزی اگر ما قبل والا وہ سالبہ کلیہ نہ ہوتا تو اس کی نقیض کیا اس کا رد موجبہ جزئی کے ذریعے نہ ہو سکتا اگر وہ بھی اگر وہ سالبہ جزئیہ ہوتا کیا ہوتا؟ سالبہ جزئیہ سالبہ جزئیہ کی نقیض تو موجبہ جزئیہ نہیں آتی مثلاً بھئی مثال بنا لو میرے مخاطب کا دعوی ہے امر کے پاس گاڑی نہیں ہے یہ کیا ہے؟ سالبہ جزئیہ میں جواب میں کہتا ہوں زید کے پاس گاڑی ہے یہ کیا ہے؟ موجبہ جزئیہ اس کا دعوی ہے سالبہ جزئیہ اور میں اس کو رد کرنا چاہتا ہوں کس کے ذریعے؟ موجبہ جزئیہ کے تو کیا اس سے رد ہوا اس کا؟ ٹھیک ہے امر کے پاس نہیں ہے تو زید کے پاس ہے ان دونوں میں کوئی ٹکراؤ ہے آپس میں؟ نہیں تو دیکھو موجبی سالبہ جزئیہ کی نقیض کے کا رد جو ہے کس کے ذریعے نہیں ہوگا؟ موجبہ جزئیہ کے ذریعے نہیں ہو سکتا پھر یہ دہرالو مولانا کیا بات کی میں نے؟ سالبہ جزئیہ کا رد موجبہ جزئیہ کے ذریعے نہیں ہوتا اور اللہ موجبہ جزئیہ ذکر فرما رہے ہیں معلوم ہوا ما قبل میں سالبہ جزئیہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ سالبہ کلیہ ہے کیونکہ سالبہ کلیہ کا رد کس کے ذریعے ہو سکتا ہے؟ موجبہ جزئیہ اور سالبہ کلیہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب ہم کیا مراد لیں کہ یہ بشر اور شے جو نکرہ تحت النفی آگئے انہوں نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ عموم کا تب یہ سالبہ کلیہ بنے گا اور تبھی آگے ان والے کلام کی ذریعے اس کا رد ہو سکتا ہے تو قران سے بھی پتہ لگ گیا کہ نکرہ تحت النفی ہو تو کس چیز کا فائدہ دیا کرتا ہے؟ عموم کا بات سمجھ میں آگئی سب کو بھئی؟ جی تو کہتے ہیں وقوله تعالی اور اللہ تعالی کا یہ قول اذ قالوا ما انزل الله علی بشر من شيء کہ جب کہا یہود نے کہ نہیں نازل کیا اللہ تعالی نے کسی بھی بشر پر کسی بھی چیز کو قل من أنزل الکتاب الذی جاء به موسی تو اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کس نے نازل کیا اس کتاب کو جس کو حضرت موسی علیہ السلام لے کر آئے یعنی اس کتاب کو حضرت موسی علیہ السلام پر اللہ تعالی نے نازل کیا ہے بھئی یہ ہے موجبہ جزئیہ فلولا لم یکن قوله علی بشر وقوله من شيء مفیدا للسلب الکلی لاما کان قوله قل من أنزل الکتاب ردا له علی سبیل الإجاب الجزی اگر نہ ہوتا یہود کا جو قول تھا علی بشر اور یہود کا جو قول من شین یہ قول نہ ہوتا مفیدا للسلب الکلی سلب کلی کا فائدہ دینے والا لاما کان قوله قل من أنزل الکتاب یہ قول جو ہے یہ نہ ہوتا کیا نہ ہوتا ردا له اس کا رد اگر وہ سالبہ کلیہ نہ ہوتا تو یہ اس کے ذریعے اس کا رد نہ ہوتا علی سبیل الإجاب الجزی کس طریقے پر ایجاب جزی کے طریقے پر لأن السلب الجزی لا یناقض الإجاب الجزی اس لیے کہ سالب جزی وہ لا یناقض وہ مناقض نہیں ہے ایجاب جزی کے (یعنی وہ اس کے مقابل اس کو توڑنے والا نہیں ہے بھئی) و فی الإثبات تخص لکنها مطلقة اور نکرہ جو ہے اثبات کے اندر خاص ہوتا ہے بھئی پہلے تو بات کی نکرہ تحت النفی وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے لیکن اگر نکرہ اثبات کے اندر آئے تو خاص ہوتا ہے یعنی ایک فرد کو شامل ہوتا ہے مثلاً میں نے کہا جاءنی رجل بھئی جاءنی رجل اب رجل کس کے تحت آیا؟ تحت نفی آیا یا اثبات میں آ رہا ہے؟ اثبات میں آ رہا ہے تو یہ خصوص کا فائدہ دے رہا ہے اس کلام کا کیا معنی ہوا؟ میرے پاس ایک مرد آیا میرے پاس ایک مرد آیا تو خصوص کا فائدہ دیا یعنی ایک فرد کو شامل ہوا کس کو؟ ایک فرد کو لا یہی معنی ہے وفي الإثبات تخص اور نکرہ اثبات کے اندر خاص ہوتا ہے لکنها مطلقة لیکن وہ مطلق ہوتا ہے یعنی کسی صفت کے ساتھ مقید نہیں ہو سکتا وہ جو میرے پاس رجل آیا وہ مطلق رجل ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی کوئی بھی کسی بھی کوئی بھی اس کی صفت ہو سکتی ہے مولانا کسی صفت کے ساتھ وہ مقید نہیں ہے تو آنے والا مرد چاہے گورا ہو چاہے کالا ہو چاہے عالم ہو چاہے جاہل ہو صفت مطلق ہے کوئی بھی ہو سکتا ہے البتہ ہے کیا؟ ایک ہی مرد ہے ایک ہی فرد ہے لیکن صفت کے اعتبار سے وہ کیا ہے؟ مطلق ہے صفت کی کوئی قید نہیں ہے اس میں اس میں بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ ای إذا لم یکن تحت النفی بل کانت فی الإثبات فتکون خاصة لفرد واحد غیر معین لکنها مطلقة بحسب الأوصاف یعنی جب نکرہ نہ ہو تحت النفی بلکہ اسبات کے اندر ہو تو وہ خاص ہوگا ایک فرد ایسے ایک ایسے فرد کے لیے جو غیر معین ہو لکنها مطلقة بحسب الأوصاف لیکن وہ مطلق ہوگا اوصاف کے اعتبار سے کما اذا قلت جیسے آپ کہتے ہیں أعتق رقبة ایک گردن (یعنی ایک ذات) کیا کر دو؟ آزاد کر دو اب دیکھو رقبة نکرہ آیا اور تحت النفی ہے یا مولانا اثبات کے اندر ہے؟ اثبات کے اندر ہے تو یہ کتنے رقبہ کو شامل ہوگا؟ ایک ہی تو کہتے ہیں يدل علی عتق رقبة واحدة تو یہ دلالت کرتا ہے ایک ہی رقبة کے آزاد ہونے پر جی محتملت ان محتملة لاوصاف کثیرة اور احتمال رکھتا ہے تو یہ دلالت کرتا ہے علی عتق رقبة واحدة تو یہ دلالت کرتا ہے ایک ایسے رقبة کے آزاد ہونے پر جو محتمل ہے کثیر اوصاف کے لیے یہ دلالت کرتا ہے ایک آزاد ہونے پر جو احتمال رکھتی ہے بہت سے اوصاف کا، "أن يكون سوداء أو بيضاء أو غير ذلك"، بعین طور کے وہ سوداء ہو، سیاہ ہو، یا بيضاء یا سفید ہو، یا غیر ذلك یا اس کے علاوہ کوئی بھی وصف ہو سکتا ہے وہ بہت سے اوصاف کا وہ احتمال رکھتا ہے۔ وإذا قلت: "جاءني رجل"، اور جب آپ کہتے ہیں کہ "جاءني رجل"، "يفهم منه مجيء مجيء واحد مبهم مجهول الوصف"، "مجهول الوصف"، تو سمجھا جاتا ہے اس سے، کیا سمجھا جاتا ہے؟ "مجيء واحد"، ایک ہی کا آنا، ایسا ایک، "مبهم مجهول الوصف"، جو مبہم ہے، مجهول الوصف ہے، کیونکہ وصف کی یہاں کوئی قید نہیں ہے۔ وليس المراد بالمطلق هاهنا هو الدال على الماهية من غير دلالة غير دلالة على الوحـدة والكثرة، اور مطلق سے یہ مراد نہیں ہے یہاں پر کہ وہ نکرہ دلالت کرنے والا ہو، ایسی ماہیت کسی نکرہ دلالت کرنے والا ہو ماہیت پر "من غير دلالة"، بغیر دلالت کیے "على الوحـدة والكثرة"، وحدت اور کثرت کے۔ بھئی، یہاں مطلق جو کہا، مطلق کا معنی بتلا دیا شارح نے کہ مطلق سے کیا مراد ہے؟ "ولكنها مطلقة"، ان کا کیا معنی ہے؟ کہ اوصاف کے اعتبار سے وہ نکرہ کیا ہوگا؟ مطلق ہوگا بھئی! بہت سے اوصاف کا وہ احتمال رکھتا ہے بھئی، ہر وصف کا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو مطلق کا یہ، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ نکرہ کس پر دلالت کرے گا؟ ماہیت پر دلالت کرے گا کثرت اور وحدت پر دلالت نہیں کر رہا، مطلق کا یہ معنی نہیں کہ وحدت اور کثرت کسی پر دلالت نہیں کر رہا، دونوں اس میں داخل ہو جائیں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مطلق کا، بلکہ مطلق کس اعتبار سے ہے؟ وحدت اور کثرت کے اعتبار سے یا اوصاف کے اعتبار سے؟ اوصاف، وحدت اور کثرت کے اعتبار سے یہ اطلاق یہاں مراد نہیں ہے بھئی۔ بل هي دالة على الوحـدة، بلکہ یہ تو کس پر دلالت کرے گا؟ وحدت پر دلالت کرے گا، "ها، من غير دلالة على تعيين الأوصاف"، بغیر دلالت کیے اوصاف کی تعیین پر۔ وهذا هو الذي غر الشافعية رحمه الله تعالى رحمة واسعة في ظنها عامة، اور یہی وہ چیز ہے، یعنی یہ جو اطلاقِ اوصاف ہے، یہی وہ چیز ہے۔ کیا چیز مولانا؟ اوصاف کا مطلق ہونا، ابھی جو بیان ہوا، یہ اوصاف کا مطلق ہونا یہی وہ چیز ہے جس نے دھوکے میں ڈالا امام شافعی رحمہ اللہ کو "في ظنها عامة"، اس نکرہ کو عام گمان کرنے میں۔ اور وہی وہ نکرہ جو اثبات کے اندر آئے وہ کیا ہوتا ہے؟ خاص ہوتا ہے، لیکن اوصاف کے اعتبار سے مطلق، اوصاف کے اعتبار سے مطلق ہونا یہ وہ چیز ہے جس نے امام شافعی رحمہ اللہ کو دھوکے میں ڈال دیا اور انہوں نے اس نکرہ کو بھی کیا گمان کیا؟ عام گمان کیا، حالانکہ ہم نے بتلایا کہ یہ جب اثبات کے اندر آئے تو وہ عام نہیں ہوگا بلکہ خاص ہوگا۔ وهو معنى قوله، اور یہی معنی ہے مصنف کے قول کا، "وعند الشافعي رحمه الله تعم حتى قال بعموم الرقبة المذكورة في الظهار"، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عام ہوگا، کون سے نکرہ کی بات چل رہی ہے بھئی؟ جو اثبات میں آئے، جو اثبات میں آئے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ عام ہوگا، "حتى قال"، یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا ہے "بعموم الرقبة"، عمومِ رقبہ کے بارے میں، "الرقبة المذكورة في الظهار"، وہ رقبہ جو کس کے اندر مذکور ہے؟ ظہار کے اندر مذکور ہے مولانا۔ بھئی، کفارۂ ظہار میں ذکر ہوتا ہے "فتحرير رقبة"، کیا کرو؟ ایک رقبہ آزاد کرو، یعنی ایک غلام یا باندی کوئی ایک آزاد کرو بھئی، تو وہاں رقبة آیا مولانا اور کس کے تحت آیا؟ کس موقع میں آیا؟ اثبات میں آیا، تو ہمارے نزدیک ایک ہی فرد مراد ہے، ہاں اوصاف کے اعتبار سے مطلق ہے، تو چاہے غلام جس کو آزاد کرے وہ کالا ہو، گورا ہو، مرد ہو، عورت ہو، جوان ہو، بوڑھا ہو، بچہ ہو، جس قسم کا بھی ہو، ہر قسم کے رقبہ کو کیا کیا جا سکتا ہے؟ آزاد کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ "فإنه يقول"، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، "إن لفظ رقبة في قوله تعالى: فتعرير رقبة، عامة شاملة للمؤمنة والكافرة والسوداء والبيضاء والزمنة والمجنونة والعمياء والمدبرة وغيرهما"، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو رقبہ ہے، یہ عام ہے، شامل ہے رقبۂ مؤمنہ کو بھی، کافرہ کو بھی، سوداء، سیاہ کو بھی، "والبيضاء"، اور سفید کو بھی، "والزمنة"، اور اپاہج کو بھی بھئی، اپاہج رقبہ کو بھی، "والمجنونة"، اور رقبۂ مجنونہ کو بھی شامل ہے، "والعمياء"، اور جو اندھی ہو، جو اندھا ہو بھئی وہ رقبہ، "والمدبرة"، اور جو مدبرہ ہو رقبہ، مدبر کسے کہتے ہیں بھئی؟ جسے آقا نے کیا کہہ دیا ہو کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، تو یہ عام ہے ان سب، "وغيرهما"، ان سب کو شامل ہے۔ "وقد خصت منها الزمنة والمدبرة ونحوها بالإجماع"، اور تحقیق تخصیص کی گئی ہے ان میں سے اپاہج کی اور مدبرہ اور ان جیسوں کی بھئی، تو اپاہج اور مدبرہ اور ام ولد وغیرہ کی اس سے کیا کر دی گئی ہے؟ تخصیص کر دی گئی ہے کہ ان کو آزاد نہیں کر سکتے، ان کے علاوہ کو کیا کیا جا سکتا ہے؟ بالإجماع مولانا، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اس بات پر اجماع ہے کہ اپاہج ہے کوئی غلام، اس کو اس تحریرِ، اس کو آزاد کرنا صحیح نہیں، کفارہ ادا نہیں ہوگا، اور اسی طرح ام ولد کو آزاد کرتا ہے تو کفارہ ادا نہیں، اس کا آزاد کرنا صحیح نہیں، اسی طرح مدبر کو آزاد کرتا ہے تو کفارہ ادا نہیں ہوا، اس کو، تو کہتے ہیں دیکھو، یہ رقبہ عام تھا، اس میں سے کیا کر لیا گیا؟ اپاہج، مدبر، ام ولد وغیرہ کی کیا کر لی گئی؟ تخصیص کر لی گئی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اور تخصیص دلیل ہے عموم کی۔ تخصیص دلیل ہے کس چیز کی؟ بھئی، تخصیص وہی ہوگی جہاں عموم ہوگا، اگر عموم نہیں تو تخصیص کیسے ہو سکتی ہے بھئی؟ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ قائل ہیں کہ اثبات کے اندر آئے پھر بھی یہ نکرہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا، جیسے یہاں پر تخصیص کی گئی ہے اور یہ تخصیص دلیل ہے کس بات کی؟ عموم کی دلیل ہے۔ تو کہتے ہیں: ان جیسوں کی تخصیص کر لی گئی، "بالإجماع فأخص أنا منها الكافرة"، تو میں اس سے تخصیص، میں بھی اس سے تخصیص کرتا ہوں کس کی؟ رقبۂ کافرہ کی، "بالقياس عليها"، انہی پر قیاس کرتے ہوئے، اسی زمنہ اور مدبرہ پر قیاس کرتے ہوئے میں کافرہ رقبہ کو بھی کیا کر لیتا ہوں؟ تخصیص، معلوم ہوا کافرہ رقبہ کو آزاد کرنا بھی صحیح نہیں بھئی، بلکہ مومن ہونی چاہیے۔ ونحن نقول، ہم جواب دیتے ہیں، "أن إن تخصيص الزمنة ليس بتخصيص"، کہ یہ جو زمنہ کی تخصیص، اپاہج کی تخصیص ہوئی ہے رقبۂ زمنہ کی، "ليس بتخصيص"، یہ تخصیص نہیں ہے، "بل هو غير داخل تحت الرقبة المطلقة"، بلکہ وہ رقبۂ مطلقہ کے تحت داخل ہی نہیں ہے، اپاہج جو ہے وہ رقبۂ مطلقہ کے تحت داخل ہی نہیں، "إذ هو فائق جنس المنفعة"، اس لیے کیونکہ وہ جو زمنہ ہے وہ فوت کر دینے والا ہے جنسِ منفعت کو، اپاہج تو کیا ہے؟ جنسِ منفعت کو کیا کر چکا ہے؟ فوت کر چکا ہے، اس سے اب کسی قسم کا نفع اٹھایا جا سکتا ہے؟ اس غلام سے خدمت لی جا سکتی ہے بھئی؟ وہ تو اپاہج ہے، تو وہ جنسِ منفعت کو فوت کرنے والا ہے۔ تو لہٰذا وہ رقبۂ مطلقہ کے تحت داخل ہی نہیں ہے، "والرقبة المطلقة ما تكون سليمة عن العيب"، اور رقبۂ مطلقہ وہ ہے جو سالم ہو کس سے؟ عیب سے، عیب سے، یعنی عیب سے، عیب اس میں نہ ہو۔ "والمدبرة غير مملوكة من وجه"، اور مدبرہ بھی اس کے اندر داخل نہیں ہے، کیوں بھئی؟ کیونکہ مدبرہ، رقبۂ مدبرہ جو ہے وہ غیر مملوک ہے من وجہ، بھئی اس نے تو ہر حال میں کیا ہونا ہے آقا کے مرنے کے بعد؟ آزاد ہونا ہے، تو لہٰذا اس کے اندر ملکیت کیا ہو گئی؟ ناقص ہو گئی، کیا ہو گئی؟ ناقص۔ تو کہتے ہیں "والمدبرة غير مملوكة من وجه"، وہ غیر مملوک ہے من وجہ، "فلا يتناولها اسم الرقبة"، لہٰذا اس کو رقبہ کا اسم شامل ہی نہیں ہے، ان دونوں کو رقبہ کا اسم شامل ہی نہیں ہے۔ تو مدبرہ غیر مملوک ہے من وجہ، پس اس کو شامل نہیں ہے رقبہ کا اسم، "ولا ينبغي أن يقاس عليها الكافرة في التخصيص"، اور مناسب نہیں ہے کہ ان پر قیاس کیا جائے رقبۂ کافرہ کو تخصیص کے اندر، ان کی تخصیص نہیں کی گئی، یہ تو داخل ہی نہیں ہیں بھئی، لہٰذا ان پر قیاس کرتے ہوئے کافرہ کی تخصیص بھی صحیح، جب ان کی تخصیص نہیں ہے تو کافرہ کی بھی تخصیص نہیں ہوگی۔ ولنا في هذا المقام ضابطان، اور ہمارے لیے اس مقام پر دو ضابطے ہیں، "إحداهما"، ایک ضابطہ تو یہ ہے، "أن المطلق يجري على إطلاقه"، کہ مطلق کیا ہے؟ اپنے اطلاق پر جاری ہوگا، "والثانية"، اور دوسرا یہ، "أن المطلق ينصرف إلى الفرد الكامل"، کہ مطلق جو ہے وہ پھر جائے گا، لوٹ جائے گا فردِ کامل کی طرف۔ کس کی طرف؟ بھئی، یہ دو ضابطے ہیں: "المطلق يجري على إطلاقه"، ایک ضابطہ یہ، دوسرا "المطلق ينصرف إلى الفرد الكامل"، یا دوسرے لفظوں میں جو آپ نے پڑھا ہے: "المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل"، یہ دو ضابطے ہیں، کہاں پر کون سا ضابطہ جاری ہوگا؟ دیکھو، یاد رکھو، جب عام کے تمام افراد آپس میں برابر ہوں، کیا ہوں؟ برابر ہوں، اس وقت ضابطہ جاری ہوتا ہے: "المطلق يجري على إطلاقه"، مطلق کس پر جاری ہوگا؟ اپنے، کوئی ایک فرد بھی ہو وہ اس سے مراد ہو سکتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو جب رقبہ سارے برابر ہیں مولانا، چاہے بچہ ہے، چاہے جوان ہے، چاہے بوڑھا ہے، چاہے عالم ہے، چاہے جاہل ہے، چاہے مرد ہے، چاہے عورت ہے، سارے کیا ہیں؟ رقبہ ہیں، تو رقبہ ہونے میں سارے کیا ہو گئے؟ برابر، لہٰذا کوئی ایک بھی آزاد کر دو، "المطلق يجري على إطلاقه"، کوئی ایک بھی مولانا آزاد کر دو، تو کیا ہو جائے گا؟ کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اور دوسرا ضابطہ کیا ہے؟ "المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل"، یہ ضابطہ اس وقت جاری ہوتا ہے جبکہ مطلق کے افراد میں فرق ہو مولانا، کوئی فرد کامل ہے، کوئی ادنیٰ درجے کا ہے، کوئی اس سے ادنیٰ درجے کا ہے، کوئی اس سے ادنیٰ درجے کا ہے، تو اس صورت میں مطلق آیا، کون سا فرد مراد لیا جائے بھئی؟ تو اب دیکھیے افراد ایک جیسے نہیں ہیں، افراد کیا ہیں؟ فرق ہیں، بعض کامل ہیں اور بعض کامل نہیں، تو ایسے موقع پر "المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل"، اس صورت میں کس کا ارادہ کیا جائے گا؟ جو فردِ کامل ہوگا. "فالأول في حق الأوصاف"، پس پہلا ضابطہ اوصاف کے حق میں ہوگا، کس کے حق میں؟ اوصاف، یعنی اوصاف، جس وصف کا بھی غلام ہو اس سے آزاد کرنا صحیح ہے، "کالإيمان والكفر"، جیسے ایمان اور کفر ہے، تو مومن ہو اسے بھی آزاد کرنا صحیح، کافر ہے اسے بھی آزاد کرنا صحیح، جوان ہے اسے بھی آزاد کرنا صحیح، بوڑھا ہے اسے بھی آزاد کرنا صحیح۔ "والثاني في حق الذات"، اور ثانی، دوسرا ضابطہ کس کے حق میں ہے؟ ذات کے حق میں، ذات کے اعتبار سے ہے، یعنی کس قسم کا غلام آزاد کرنا ضروری؟ جی؟ جو اپنی ذات کے اعتبار سے کامل ہو، جب ذات کے اعتبار سے کامل ہو تو لہٰذا اپاہج اور اندھے کو آزاد کرنا صحیح؟ کیونکہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے کامل نہیں۔ "والثاني في حق الذات"، اور دوسرا ضابطہ جو ہے ذات کے حق میں ہے، یعنی ذات کے اعتبار سے ہے، یعنی کامل ہونا چاہیے، تو لہٰذا غیرِ کامل صحیح نہیں، "كالزمانة والعمى"، جیسے کہ اپاہج ہونا اور اندھا ہونا۔ وقال صاحب التلویح، اور صاحبِ تلویح فرماتے ہیں بھئی، یہ علامہ تفتازانی ہیں بھئی، انہوں نے توضیح کی شرح لکھی تلویح بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ "إن هذا النزاع نزاع لفظي"، کہ یہ جھگڑا لفظی ہے، یہ جھگڑا کس قسم کا ہے؟ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ نکرہ اثبات کے اندر آئے تو خصوص کا فائدہ دے گا اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکرہ اثبات میں آئے تو بھی کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا، کہتے ہیں یہ صرف لفظی جھگڑا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ صرف لفظی جھگڑا ہے۔ "إذ لا يقول الشافعي رحمه الله بتحرير رقبات في الظهار"، اس لیے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نہیں فرماتے، اس بات کے قائل نہیں ہیں، کس بات کے؟ "بتحرير رقبات في الظهار"، کہ ظہار کے اندر بہت سے رقبے آزاد کیے جائیں، وہ بھی اس کے قائل نہیں ہیں، "وإنما يقول بتحرير رقبة واحدة فقط"، اور وہ بھی ایک ہی، صرف ایک ہی رقبہ کے آزاد کرنے کا قول کرتے ہیں، "ونحن ما قلنا إلا بعموم الأوصاف"، اور ہم بھی نہیں کہتے، ما قلنا، الا بعموم الاوصاف، اور ہم بھی نہیں قائل مگر کس کے؟ عمومِ اوصاف کے۔ تو وہ بھی وہاں یہ نہیں فرماتے کہ کئی رقبہ آزاد کرنے ہیں، انہوں نے کہا بھئی نکرہ اثبات کے اندر آئے تو کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا فائدہ دے گا۔ تو لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ کئی رقبہ آزاد کرنے پڑیں گے، بلکہ ان کے نزدیک بھی ایک رقبہ آزاد کر دو تو کیا ہو جائے گا؟ کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اور ہم نے تو کہا ہی یہ کہ نکرہ اثبات میں آئے کس چیز کا فائدہ دے گا؟ خصوص کا، ہاں البتہ اوصاف کے اعتبار سے اس میں عموم ہے، وہ مطلق ہے مولانا۔ "ونحن ما قلنا إلا بعموم الأوصاف"، اور ہم بھی قائل نہیں ہیں مگر عمومِ اوصاف کے ہی، "فسواء أن سمي هذا إطلاقاً أو عموماً"، پس برابر ہے کہ اس کو اطلاق کہا جائے یا عموم کہا جائے، تو ہمارے ہم نے کیا نام رکھا ہے اس کا؟ مطلق، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کا کیا نام رکھا؟ عام رکھا بھئی، تو یہ صرف لفظی نزاع ہے مولانا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وإن وصفت بصفة عامة تعم، اور اگر وہ نکرہ جو کس کے اندر آیا ہے؟ اثبات میں، اگر وہ موصوف ہو جائے کسی صفتِ عامہ کے ساتھ، "تعم"، تو پھر وہ عام ہوگا، پھر کیا ہوگا؟ بھئی نکرہ اثبات کے اندر آئے تو وہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے، لیکن اگر وہ صفتِ عامہ کے ساتھ متصف ہو جائے کہ کوئی صفتِ عامہ اس کے آگے آ جائے، پھر وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا، وہ عام ہو جائے گا مولانا۔ صفتِ عامہ کسے کہتے ہیں بھئی؟ صفتِ عامہ وہ صفت ہے جو کسی ایک فرد کے ساتھ خاص نہیں ہے، اس نکرہ کے کسی ایک فرد کے ساتھ خاص نہ ہو مولانا، تو اسے صفتِ عامہ کہتے ہیں، جیسے عالم ہونا مولانا، میں کہتا ہوں: "جاءني رجل عالم"، تو بتلائیے بھئی، یہ عالم کیا رجل کے ایک ہی فرد کے ساتھ خاص ہے یا اوروں میں بھی یہ صفت پائی جا سکتی ہے؟ اوروں میں بھی پائی جا سکتی ہے عالم، تو اس کو صفتِ عامہ کہتے ہیں جو کسی ایک فرد کے ساتھ خاص نہ ہو۔ تو کہتے ہیں: جب نکرہ جو اثبات میں آیا جب وہ موصوف ہو جائے کسی صفتِ عامہ کے ساتھ، "تعم"، تو وہ عام ہوگا، کہتے ہیں: "هذا بمنزلة الاستثناء مما سبق"، یہ استثناء کے درجے میں ہے اس سے جو گزر گیا، یعنی ماقبل سے کس کے درجے میں ہے یہ کلام؟ استثناء کے درجے میں ہے، "كأنه قال"، گویا کہ مصنف نے یوں فرمایا: "وفی الإثبات تخص"، اور نکرہ اثبات کے اندر خاص ہوگا، "إلا إذا كانت موصوفة بصفة عامة"، مگر یہ کہ جب وہ موصوف ہو کسی صفتِ عامہ کے ساتھ، "فإنها تعم"، پھر اس صورت میں وہ عام ہوگا، "لكل ما وجدت فيه هذه الصفة"، ہر اس فرد کے لیے جس کے اندر یہ صفت پائی جائے، "وإن كانت خاصة في إخراج ما عداها"، اگرچہ وہ خاص ہے اس کے علاوہ کے نکالنے میں، اس کے علاوہ کے نکالنے میں وہ کیا ہے؟ خاص ہے، بھئی دیکھیے، بھئی جب میں لفظِ رجل بولتا ہوں، دنیا کے ہر ہر رجل پر اس کا اطلاق صحیح ہے، لیکن جب میں کہتا ہوں: "رجل لاهوري"، میں کیا لے آیا اس کی؟ صفت لے آیا، اب لاہوری کے علاوہ جتنے افراد تھے وہ کیا ہو گئے؟ خارج، تو اس اعتبار سے خصوص آیا یا عموم آیا؟ خصوص آیا، تو بعینِ اعتبار مولانا یہ خاص ہو گیا ان افراد کی طرف نظر کرتے ہوئے جن میں یہ صفت نہیں پائی جا رہی، جو اس سے نکل رہے ہیں، ان کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کیا بن گیا؟ خاص بن گیا۔ اور ان افراد کے اعتبار سے جن کو یہ شامل ہے یا عام ہے۔ بھئی اب رجل لاہوری ایک ہیں یا بہت سے ہیں؟ بہت سے ہیں۔ تو ان افراد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس میں عموم ہے جو وہ افراد جس کے اندر داخل ہیں ان کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس میں کیا ہے؟ عموم اور ان افراد کی طرف نظر کی جائے جن جو اس صفت کی وجہ سے اس سے نکل گئے جن کو نکال دیا گیا اس اعتبار سے کیا ہے؟ خصوص ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہذا یہ اعتراض نہ کیا جائے یہ تو ایک ہی کلمہ خاص بھی ہوا عام بھی ہوا کیونکہ میں نے بتلایا کہ عموم و خصوص نسبت کے اعتبار سے ہے ان افراد کی طرف دیکھا جائے ان افراد کی نسبت سے جن جن جو اس سے نکلے ہیں اس اعتبار سے یہ خاص اور ان افراد کی نسبت سے جن کو یہ جن میں یہ صفت پائی جا رہی ہے یہ کیا ہے؟ عام۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ جو عموم و خصوص ہے اضافی ہے یعنی نسبت کے اعتبار سے ہے۔ یہی بات کر رہے ہیں کہ فإنها تعم لكل ما وجدت فيه هذه الصفة هي نكرة عام ہوگا ہر اس فرد کے لیے جس میں یہ صفت پائی جائے وإن كانت خاصة في إخراج ما عداها اگرچہ یہ خاص ہے ان کے علاوہ کے نکالنے میں ان کے علاوہ کیا ہو جائیں گے ان سے؟ ان کو یہ نکال دے گا وهذا بحسب العرف والاستعمال شارح فرماتے ہیں یہ عرف اور استعمال کے اعتبار سے ہے وإلا فمفهوم الصفة هو الخصوص والتقييد بحسب الظاهر ورنہ تو صفت کا مفہوم جو ہے وہ خصوص اور تقیید ہی ہے ظاہر کے اعتبار سے بھئی۔ بھئی یہ جو انہوں نے کہا کہ نکرہ کی جب صفت ایسی صفت آجائے جو عام ہو تو اس صورت میں وہ نکرہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا فائدہ دے گا، کہتے ہیں یہ عرف اور استعمال کے اعتبار سے ہے۔ کس اعتبار سے ہے؟ عرف اور استعمال کے اعتبار سے ہے ورنہ صفت جو ہے اس سے خصوص اور تقیید ہی سمجھ میں آتی ہے۔ وہ خصوص اور تقیید وہ خصوص اور تقیید کا فائدہ ہی دیتی ہے جیسے میں نے ابھی مثال ذکر کی رجل کا لفظ دیکھو مولانا پہلے کیا تھا؟ فرض فرض کرو دنیا کے اندر بھئی دو ارب مرد ہیں، کتنے ہیں؟ دو ارب۔ تو رجل کا لفظ کا اطلاق ہر ایک پر ہو سکتا تھا لیکن جب میں نے کہا رجل لاہوری اب کیا ہوا؟ اب فرض کرو مولانا صرف 25 لاکھ کو یہ شامل ہے۔ تو عموم آیا یا خصوص آیا؟ خصوص آیا، تو بھئی صفت تو آتی ہی خصوص اور تقیید کے لیے ہے۔ تو یہ پھر جو آپ نے کہا کہ بھئی صفت عام ہو تو اس صورت میں عموم کا فائدہ دے گا، کہتے ہیں بھئی بتلا تو دیا وہ عرف اور استعمال کے اعتبار سے ہے۔ کس اعتبار سے ہے؟ عرف اور استعمال کے اعتبار سے وہ وہ نکرہ عام ہوگا ورنہ صفت اپنی ذات کے اعتبار سے صفت تو ہمیشہ آتی کس لیے ہے؟ خصوص اور تقیید کے لیے، یہی بات کر رہے ہیں کہتے ہیں وهذا بحسب العرف والاستعمال یہ جو نکرہ وہ نکرہ جو موصوف ہو جائے صفت عامہ کے ساتھ وہ عام ہو جایا کرتا ہے یہ عرف اور استعمال کے اعتبار سے ہے وإلا فمفهوم الصفة هو الخصوص والتقييد بحسب الظاهر ورنہ صفت کا جو مفہوم ہے وہ تو خصوص اور تقیید ہی ہے ظاہر کے اعتبار سے۔ ولهذا لم تكن عامة إذا كانت تلك الصفة في نفسها خاصة اسی وجہ سے وہ نکرہ عام نہیں ہوگا اگر وہ صفت اپنی ذات کے اعتبار سے خاص ہو۔ ہم نے کہا نکرہ جس کی صفت صفت عامہ آجائے وہ عام ہوگا، کیا قید لگائی؟ جس کی صفت کس قسم کی آئے؟ صفت عامہ آئے، معلوم ہوا صفت خاصہ آئے تو پھر وہ عام نہیں ہوگا، وہ خاص ہی ہوگا۔ تو کہتے ہیں ولهذا لم تكن عامة إذا كانت تلك الصفة في نفسها خاصة لہذا وہ نکرہ عام نہیں ہوگا جبکہ وہ صفت اپنی ذات کے اعتبار سے خاص ہو كقولك جیسے آپ کا یہ قول ہے والله لا أضرب إلا رجلا ولدني واللہ جو ہے میں پٹائی نہیں کروں گا مگر اس مرد کی جس نے مجھے جنم دیا یعنی والد کی، یعنی والد کی۔ تو دیکھو اب رجلا نکرہ ہے مولانا، نکرہ ہے اور اس کی صفت لائی گئی ولدني اور یہ صفت عام ہے یا خاص ہے بھئی؟ خاص ہے بھئی، والد ایک ہی ہوا کرتا ہے تو یہ صفت خاص ہوئی لہذا اب یہاں نکرہ کی اگرچہ صفت آگئی لیکن یہ عموم پر عموم کا فائدہ نہیں دے گا۔ فإن الوالد لا يكون إلا واحدا اسی لیے کہ والد نہیں ہوگا مگر ایک ہی ولكن هذا الأصل اکثري لا كلي مگر یہ جو اصل ضابطہ ہے مولانا اکثری ہے، کلی نہیں ہے۔ اکثری ہے، کلی کونسا ضابطہ؟ کہ نکرہ اثبات میں خصوص کا فائدہ دیتا ہے ہاں اگر وہ موصوف ہو جائے کس کے ساتھ؟ صفت عامہ کے ساتھ تو پھر وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا۔ نکرہ اثبات میں خصوص کا فائدہ دیتا ہے لیکن جب وہ موصوف ہو جائے صفت عامہ کے ساتھ تو وہ عموم کا فائدہ دے گا، کہتے ہیں یہ ضابطہ اکثری ہے، کلی نہیں ہے۔ وإلا فقد تعم بدون صفة ورنہ تو نکرہ اثبات کے اندر عام ہو جاتا ہے بغیر صفت کے بھی کبھی کبھار۔ اثبات میں آتا ہے اور بغیر صفت کے ہوتا ہے لیکن پھر بھی کیا ہوتا ہے؟ عام ہوتا ہے كما في قوله جیسا کہ اس قول کے اندر ہے تمرة خير من جرادة کھجور بہتر ہے ٹڈی سے بھئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ قول ہے مولانا، آپ سے پوچھا محرم اگر حالت احرام کے میں ٹڈی کو مار دے تو کیا کرے؟ کیا کرے؟ حالت احرام میں تو کسی کو جانور کو مارنے کی اجازت نہیں ہے بھئی، کسی کو تکلیف دینے کی اجازت نہیں ہے بھئی، آپ اللہ کے گھر جا رہے ہیں حج کے لیے۔ تو حالت احرام میں تو ہر کسی بھی چیز کو تکلیف دینے سے روک دیا گیا تو اب اس حالت میں کوئی ٹڈی کو مار دے تو کیا کرے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تمرة خير من جرادة ایک کھجور بھی ٹڈی سے بہتر ہے، یعنی کھجور کا ہر ہر فرد کیا ہے؟ ٹڈی کے ہر ہر فرد سے بہتر ہے، یعنی ایک کھجور بھی صدقہ کر دو تو بہت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب دیکھیے مولانا، تمرة خير من جرادة تمرۃ اور جرادۃ آئے مولانا اور اثبات میں ہیں، نفی میں ہیں؟ اثبات کے اندر ہیں اور صفت کوئی ذکر کی گئی؟ صفت کوئی نہیں ذکر کی گئی لیکن پھر بھی یہ عام ہے، کیا معنی ہے؟ کھجور کا ہر ہر فرد ٹڈی کے ہر ہر فرد سے بہتر ہے۔ اور جیسے یہ وقوله جیسے کہ اس قول اللہ تعالی کے اس قول میں ہے علمت نفس ما أحضرت جان لے گا ہر نفس ما اس کو أحضرت جو اس نے حاضر کیا ہے، جسے وہ لے کر آیا ہے۔ قیامت کے دن ہر نفس جان لے گا جو کچھ وہ لے کر آیا ہے یعنی جو اچھے برے اعمال لے کر آیا ہے اسے جان لے گا وعلمت نفس ما قدمت اور جان لے گا ہر نفس ما قدمت جو اس نے آگے بھیجا ہے، جو اچھے برے عمل آگے بھیجے ہیں ان کو بھی کیا کرے گا؟ جان لے گا۔ تو اب دیکھیے مولانا، نفسٌ آیا اس اثبات میں ہے، نفی میں ہے؟ اثبات میں ہے لیکن یہ عموم کا فائدہ دے رہا ہے، ہر ہر نفس کیا کرے گا؟ جان لے گا۔ وقد تخص بالصفة اور کبھی کبھار کیا ہوتا ہے؟ خاص ہو جاتا ہے صفت کے ساتھ كما إذا قال جیسے کہا کسی شخص نے والله لا أتزوجن امرأة كوفية کہ واللہ میں کسی میں کوفہ والی عورت سے ضرور بالضرور نکاح کروں گا بھئی، میں کوفہ والی کسی عورت سے ضرور بالضرور کسی کوفہ کی عورت سے ضرور بالضرور نکاح کروں گا۔ تو اب بتائیے مولانا، تمام کوفہ کی عورتوں سے نکاح کرے تب قسم پوری ہوگی یا کسی ایک سے بھی نکاح کر لے تو قسم پوری ہو جائے گی؟ کسی ایک سے بھی نکاح کر لے تو قسم پوری ہو جائے گی، حالانکہ یہاں امرأةً نکرہ ہے مولانا اور اثبات میں ہے اور اس کی صفت کوفیۃً عام لائی گئی بھئی، کوفہ والی ایک ہی عورت ہے یا بہت سی عورتیں ہیں؟ تو اس کی صفت ایسی صفت عام لائی گئی لیکن پھر بھی یہ نکرہ کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ خصوص کا فائدہ دے رہا ہے، ایک عورت سے بھی نکاح کر لے گا تو قسم پوری کرنے والا ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ معنی ہے كما إذا قال جیسے کسی شخص نے کہا والله لا أتزوجن امرأة كوفية کہ واللہ میں ضرور بالضرور نکاح کروں گا کوفہ کی عورت سے بتزوج امرأة واحدة أي يكون بارا بتزوج امرأة واحدة یعنی وہ پورا کرنے والا ہوگا قسم کو بتزوج امرأة واحدة کسی ایک عورت سے نکاح کی وجہ سے ومثل قولك اور جیسے کہ آپ کا یہ قول ہے لقيت رجلا عالما میں نے ملاقات کی ایک عالم شخص سے، اب دیکھیے رجلا نکرہ ہے اثبات میں ہے کہ نفی میں ہے؟ اثبات میں ہے اور اس کی صفت عالما لائی گئی اور یہ عالم صفت عام ہے یا خاص ہے؟ عام ہے مولانا، کیا ہے؟ عام ہے بھئی، رجل عالم ایک ہیں یا اور بہت سے ہو سکتے ہیں بھئی؟ بہت سے ہیں بھئی، تو لہذا لقيت رجلا تو یہ نکرہ ہے اور یہ خصوص کا فائدہ دیتا لیکن اس کی صفت عام آگئی اور اس صورت میں کیا ہونا چاہیے تھا؟ اس نکرہ کو عموم کا فائدہ دینا چاہیے تھا لیکن اس کے باوجود یہ کس کا فائدہ دے رہا ہے؟ خصوص کا، معلوم ہوا اوپر والا ضابطہ کلی نہیں بلکہ اکثری ہے، چنانچہ آپ کا یہ کلام سچا ہوگا اگر ایک بھی رجل عالم سے آپ کی ملاقات ہو تو آپ کہہ سکتے ہیں لقيت رجلا عالما یہ کلام صادق ہوگا، یہ ضروری نہیں کہ رجل عالم کے ہر ہر فرد سے کیا کریں آپ؟ ملاقات کریں۔ كقوله جیسے کسی شخص کا یہ قول والله لا أكلم أحدا إلا رجلا كوفيا کہ واللہ میں کلام کسی سے کلام نہیں کروں گا سوائے ایسے مرد سے جو کوفہ کا ہو۔ اچھا، کہتے ہیں مثال لعموم النكرة الموصوفة یہ مثال ہے کس چیز کی؟ نکرہ موصوفہ کے عموم کی بھئی، کہ نکرہ موصوفہ کس چیز کا فائدہ دے؟ عموم کا فائدہ دے، دیکھو مولانا، مثلاً اگر یہ کلام یوں ہوتا، ایک آدمی یوں کہتا ہے والله لا أكلم أحدا إلا رجلا والله ذرا کوفیا صفت کو ہٹا دو، والله لا أكلم أحدا واللہ میں کسی ایک سے بھی کلام نہیں کروں گا إلا رجلا مگر ایک مرد سے، اب آپ بتائیے یہ رجلا یہ نکرہ ہے، یہ اثبات میں ہے یا تحت النفی ہے؟ اثبات میں ہے کیونکہ إلا نے کیا کر دیا؟ نفی کو ختم کر دیا، توڑ دیا، تو اب ذرا خود اس کا ترجمہ کرو اس کلام کا والله لا أكلم أحدا إلا رجلا کیا ترجمہ کریں گے اس کا؟ کہ واللہ میں صرف ایک آدمی سے کلام کروں گا، دیکھو اب وہ لا وہی لا اور إلا کو ختم کر دیا ہم نے، واللہ میں صرف ایک آدمی سے کلام کروں گا تو یہ عموم کا فائدہ ہوا یا خصوص کا؟ خصوص کا فائدہ دیا، اب دو سے کر لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، قسم ٹوٹ جائے گی بھئی۔ معلوم ہوا کہ یہ نکرہ اثبات میں آیا، یہ کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ خصوص کا، لیکن جب اس کی صفت آگئی کوفیا تو اب یہ عموم کا فائدہ دے گا۔ کیا ترجمہ ہو جائے گا؟ میں کسی سے کلام نہیں کروں گا مگر کس سے صرف؟ کوفہ والے مرد سے، اب کہتے ہیں کوفہ کے تمام مردوں سے بات کر لے پھر بھی حانث نہیں۔ صرف رجلا تھا تو کیا تھا؟ خصوص، لیکن اب صفت آگئی تو کس چیز کا فائدہ دیا؟ کیا مطلب ہوا کلام کا؟ میں کسی ایک سے بھی کلام نہیں کروں گا سوائے کوفہ کے مرد کے، تو اب کوفہ کے جس مرد سے بھی بات کرتا ہے وہ کوفہ کا مرد ہے اور اس نے بھی کیا کہا تھا؟ اس کا استثنا کیا تھا کہ اس سے کیا کروں گا میں بات کروں گا۔ با محاورہ ذرا بناؤ، لا اور إلا کو ذرا ختم کرو، میں صرف کس سے بات کروں گا؟ رجل کوفی سے بات کروں گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ کوفہ والے سے میں صرف بات کروں گا، تو اب کوفہ والے جتنے بھی ہیں ان سے بات کرتا رہے اس نے تو خود کہا تھا میں صرف کس سے بات کروں گا؟ تو دیکھو دیکھو صفت نے کس چیز کا فائدہ دے دیا؟ عموم کا اور پہلے صفت کے بغیر کیا تھا؟ خصوص تھا، مثال سمجھ میں آگئی؟ کہتے ہیں فإن رجلا كان نكرة في الإثبات اس لیے کہ رجل جو ہے وہ نکرہ ہے اثبات کے اندر كان نكرة في الإثبات خاصا برجل واحد اثبات کے اندر وہ خاص تھا کس کے ساتھ؟ رجل واحد کے ساتھ لو لم يتكلم بقوله كوفيا اگر وہ کہنے والا تکلم نہ کرتا اپنے قول کوفیا پر فيحنث تو وہ حانث ہو جاتا إن تكلم رجلين اگر وہ کلام کرتا کتنے مردوں سے؟ دو مردوں سے ولما قال كوفيا اور جب اس نے کوفیا کہا عم جميع رجال الكوفة تو یہ عام ہو گیا یہ کلام یا یہ نکرہ تمام رجال کوفہ کو فلا يحنث بتكلم كل من كان من رجال الكوفة تو وہ حانث نہیں ہوگا کلام کرنے سے کوفہ کے مردوں میں سے ہر ایک سے، ہر ہر فرد سے بات کرنے سے بھی وہ حانث نہیں ہوگا۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
142 approved lectures · 40 of 142