LEC 70
ثم شرع المصنف في التقسيم الرابع فقال، "وأما الاستدلال بعبارة النص فهو العمل بظاهر ما سيق الكلام له. إنما عد الاستدلال من أقسام النظم تسامحًا؛ لأنه فعل المستدل والذي هو من أقسام الكتاب هو ذات عبارة النص، وما ثبت به هو الحكم الثابت بعبارة النص".
ثم شرع المصنف في التقسيم الرابع، "ثم شرع المصنف في التقسيم الرابع" ينشروا مصنف تقسیمِ رابع کے اندر بھئی۔ تین تقسیمات مکمل ہوئیں اور آج چوتھی تقسیم بیان کر رہے ہیں۔ چوتھی تقسیم کے اعتبار سے بھی آپ نے پڑھا تھا چار قسمیں ہیں: عبارۃ النص، اشارۃ النص، دلالۃ النص اور اقتضاء النص بھئی۔ وہ چاروں اب بیان کریں گے۔ کہتے ہیں، "وأما الاستدلال بعبارة النص" اور باقی استدلال کرنا عبارۃ النص سے، "فهو العمل" تو وہ عمل کرنا ہے، "بظاهر ما سيق الكلام له" اس کے ظاہر پر جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے۔
"وأما الاستدلال بعبارة" استدلال بعبارة النص کیا ہے؟ وہ عمل کرنا ہے اس لفظ کے ظاہر پر جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے بھئی۔ دیکھیے، آگے تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ "إنما عد الاستدلال من أقسام النظم تسامحاً" بھئی، یہاں سے شارح بتلا رہے ہیں کہ ہم یہ جو تقسیم پڑھ رہے ہیں، یہ نظم کی اقسام پڑھ رہے ہیں بھئی۔ اب انہوں نے کہا "وأما الاستدلال بعبارة النص"، عبارۃ النص سے استدلال کرنا، بھئی، استدلال تو مجتہد کا کام ہے بھئی۔ کس کا کام ہے؟ مجتہد کا کام ہے، یہ مجتہد کی صفت ہے، یہ تو نظم کی قسم نہیں ہے بھئی۔ تو مصنف نے اس کو یہاں ذکر کیا، حالانکہ یہ کس کی صفت نظم کی قسم نہیں ہے بلکہ یہ تو کس کی صفت ہے؟ مجتہد کی صفت ہے بھئی۔ تو شارح آپ کو بتلائیں گے کہ یہ علامہ فخر الاسلام کا تسامح ہے، اور وہ مختلف قسم کی عبارتیں جگہ جگہ لے کر آتے ہیں۔ لیکن کہتے ہیں کوئی حرج نہیں اس طرح کی عبارت لانے میں بھی، کیونکہ مقصد کیا ہے؟ واضح ہے بھئی۔
"إنما عد الاستدلال من أقسام النظم" شمار کیا گیا ہے استدلال کو نظم کی اقسام میں سے، "تسامحاً" تسامح کے طریقہ پر، "لأنه فعل المستدل" اس لیے کیونکہ یہ تو استدلال کرنے والے کا فعل ہے، "والذي هو من أقسام الكتاب" اور وہ جو کتاب کی اقسام میں سے ہے، یعنی نظم کی اقسام میں سے، "هو ذات عبارة النص" وہ تو عبارۃ النص کی ذات ہے بھئی۔ انہوں نے کہا استدلال بعبارۃ النص، عبارۃ النص سے استدلال کرنا۔ عبارۃ النص سے استدلال کرنا، یہ نہیں ہے نظم کی قسم، بلکہ نظم کی قسم تو خود کیا ہے؟ عبارۃ النص ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں وہ جو کتاب کی اقسام میں سے ہے، وہ تو عبارۃ النص کی ذات ہے بھئی، "وما ثبت" یعنی وہ ذاتِ عبارۃ النص، یعنی وہ کلام بھئی، کلام۔ اسی کا کیا نام ہے؟ وہ نظم ہی نظم ہی کا کیا نام ہے؟ عبارۃ النص، نظم ہی کا نام ہے بھئی۔ "وما ثبت به هو الحكم الثابت بعبارة النص" اور وہ جو ثابت ہو اس کے ذریعے، وہ حکم ہے جو ثابت ہوتا ہے عبارۃ النص سے۔
بھئی، دیکھیے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں بھئی: "فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ"، یہ الفاظ، یہ جو نظم ہے نظم، یہ ہے عبارۃ النص۔ یہ کیا ہے؟ تو یہ جو عبارۃ النص، یہ ذات ہے بھئی۔ یہ یہ کلام ہی کا نام ہے۔ اور اس کے ذریعے حکم ثابت ہوتا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ کہ یہ حکم ثابت ہے کس سے؟ عبارۃ النص سے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وما ثبت به هو الحكم الثابت بعبارة النص" اور وہ جو اس کے لیے ثابت ہو، وہ حکم ہے جو ثابت ہوتا ہے عبارۃ النص سے۔
"والاستدلال هو الانتقال من الأثر إلى المؤثر" اور استدلال جو ہے، یہ استدلال وہ منتقل ہونا ہے اثر سے مؤثر کی طرف، "أو بالعكس" یا اس کا عکس بھئی، یعنی مؤثر سے اثر کی طرف۔
استدلال اس کو کہتے ہیں کہ ایک چیز کے سمجھنے سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استدلال کہتے ہیں۔ یعنی ایک چیز سے یوں کہئے، دوسری چیز کا علم ہو جائے، اس کو کہتے ہیں استدلال۔ مثلاً، آپ نے دور سے دھواں دیکھا آسمان پر، تو آپ کو علم ہو گیا کہ نیچے کیا ہے؟ نیچے آگ ہے۔ تو دیکھو، یہاں آگ مؤثر ہے اور دھواں اس کا اثر ہے۔ تو آپ نے کس سے کس پر استدلال کیا؟ دھوئیں سے آگ پر۔ آپ نے کہا نیچے معلوم ہوا آگ لگی ہوئی ہے، تو دھوئیں سے آگ پر استدلال کیا۔ تو یہ مؤثر سے اثر پر يا اثر سے مؤثر پر استدلال کیا ہے؟ اثر سے مؤثر پر استدلال کیا ہے۔ اور کبھی مؤثر سے اثر پر استدلال کیا جاتا ہے، جیسے آپ آگ کو آپ نے دیکھا، تو آپ نے کہا بھئی آگ ہے تو یقیناً اس کا پھر دھواں بھی ہو گا۔ تو یہ دیکھو، مؤثر سے کس کی طرف منتقل ہوئے آپ؟ اثر کی طرف، اس کو استدلال کہتے ہیں بھئی، استدلال۔
تو کہتے ہیں: "والاستدلال هو الانتقال من الأثر إلى المؤثر أو بالعكس" استدلال وہ منتقل ہونا ہے اثر سے مؤثر کی طرف یا اس کا عکس۔ تو دھوئیں سے آگ کا ذہن منتقل ہوا کس کی طرف؟ آگ کی طرف، یا آگ سے آپ کا ذہن کس کی طرف منتقل ہوا؟ دھوئیں کی طرف، یہ ہے استدلال بھئی۔ "والأخير هو المراد هاهنا" اور آخر والا ہی یہاں پر مراد ہے۔ آخر والا کون سا؟ مؤثر سے، یہ جو بالعکس میں آیا بھئی، مؤثر سے اثر کی طرف ذہن کا منتقل ہونا بھئی۔ مؤثر سے اثر کی طرف۔
دیکھو، عبارۃ النص سے، نظم ہے نا، کلام ہے، کلامِ الٰہی۔ اس سے جب اس سے کو دیکھا، اس سے ذہن کس کی طرف منتقل ہوا جب اس کو سنا؟ اس سے ثابت ہونے والے حکم کی طرف۔ یہ کلام آیا، اس سے کیا سمجھ میں آیا؟ اس کا معنی۔ تو کلام سے پھر ذہن کس کی طرف منتقل ہوا؟ اس کے معنی کی طرف بھئی۔ تو یہ ہے مؤثر سے اثر کی طرف انتقال بھئی۔ یہ معنی کہاں سے آیا بھئی؟ یہ حکم کہاں سے آیا؟ عبارۃ النص سے آیا، تو یہ ہے مؤثر سے اثر کی طرف انتقال۔
تو کہتے ہیں: "والأخير هو المراد هاهنا" اور آخر والا وہ مراد ہے یہاں پر، "والنص هو عبارة القرآن" اور نص جو ہے، وہ قرآن کی عبارت ہے بھئی۔ ایک تو وہ نص جو آپ پہلے پڑھ چکے: ظاہر، نص، مفسر اور محکم۔ نص کس کو کہتے تھے؟ وہ مقصد جس کے لیے کلام کو چلایا جائے، اسے کیا کہتے ہیں؟ نص کہتے ہیں۔ نص کہتے ہیں، اور اس کلام کو کیا کہتے ہیں؟ عبارۃ النص۔ وہ مقصد جس کے لیے کلام کو چلایا گیا، وہ ہے نص، اور جس کیا بات کی میں نے؟ کلام کو جس مقصد کے لیے چلایا گیا، وہ مقصد کیا ہے؟ نص، اور یہ کلام کیا کہلائے گا؟ عبارۃ النص کہلائے گا۔
تو کہتے ہیں: "والنص هو عبارة القرآن"، بھئی، میں نے نص کا کیا معنی کیا؟ جس مقصد کے لیے کلام کو چلایا جائے، اور یہ کیا بتلا رہے ہیں؟ "والنص هو عبارة القرآن"، نص وہ کیا ہے؟ عبارتِ قرآن ہے۔ بھئی، یاد رکھیے، یہ جو ہم عام معنی ایک میں نص کا لفظ بولتے ہیں، نص کا لفظ فقہاء، طلباء استعمال کرتے ہیں عام بھئی۔ اگر آپ پوچھتے ہیں کسی مسئلے کے بارے میں کہ یہ مسئلہ کس طرح ہے؟ آپ کو بتایا جاتا ہے یہ مسئلہ اس طرح ہے۔ آپ پوچھتے ہیں نص میں ہے یہ؟ نص آئی ہے اس کے بارے میں کوئی؟ کیا معنی ہوتا ہے نص آنے کا؟ یعنی قرآن یا حدیث میں یہ آیا ہے یا نہیں؟ تو اب دیکھو، نص سے الفاظِ قرآن یا الفاظِ حدیث مراد ہوتے ہیں، اور یہ عام شائع ہے بھئی فقہاء کے اندر بھئی۔
تو ایک وہ والا نص ہے جو وہ ظاہر، نص، مفسر میں پڑھا، وہ وہ مقصد جس کے لیے کلام کو چلایا جائے، اور ایک یہ نص ہے جس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ قرآن اور حدیث کے الفاظ مراد لیتے ہیں، اور یہ بھی عام شائع اور شائع ہے، اسی کو ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "والنص هو عبارة القرآن" اور نص جو ہے، وہ قرآن کی عبارت ہے، "أعم من أن يكون نصاً أو ظاهراً أو مفسراً أو خاصاً" اس حال میں کہ یہ عام ہے اس سے کہ وہ نص ہو یا ظاہر ہو یا مفسر ہو یا خاص ہو، یا ہو یا عام ہو، جو بھی ہو بھئی۔ بس قرآن کے اندر یا حدیث کے اندر جب ہم پوچھیں بھئی نص ہے اس کے بارے میں؟ تو کیا مراد ہوتی ہے ہماری؟ کہ قرآن کے الفاظ میں یہ ذکر ہے یا حدیث کے اندر اس کا ذکر ہے یا نہیں؟ تو وہ معنی مراد ہے بھئی، چاہے وہ نص ہو، چاہے ظاہر ہو، چاہے مفسر ہو، یا خاص، عام، ساری قسمیں اس کے اندر آ گئیں بھئی۔
"وهذا الإطلاق شائع في عرف الفقهاء من غير نكير" اور یہ اطلاق شائع ہے، شائع ہے، یہ اطلاق کیا بھئی؟ یہ جو نص کا اطلاق کرتے ہیں کہ ہم کس پر؟ قرآن کی عبارت پر۔ یہ اطلاق شائع ہے فقہاء کے عرف میں "من غير نكير" بغیر کسی انکار کے بھئی، سب اس کو استعمال کرتے ہیں، کوئی انکار اس کا نہیں کرتا۔ "ولذا جاء في التعريف بقوله ما سيق الكلام له دون ما سيق النص له" اسی وجہ سے جاء فی التعريف بقولہ، مصنف تعریف کے اندر اپنا یہ قول لے کر آئے: "ما سيق الكلام له"، اوپر کیا آیا تھا؟ "بظاهر ما سيق الكلام له"، "دون ما سيق النص له"، نص کا لفظ نہیں لائے بلکہ نص کے بجائے کیا لفظ لے آئے؟ کلام کا لفظ لے کر آئے، کیونکہ نص اور کلام کیا ہیں یہاں پر؟ مترادف ہیں، نص سے بھی کیا مراد ہوتا ہے؟ وہی عبارتِ قرآن، کلام ہی مراد ہوتا ہے۔
"والعمل هو"، اب دیکھئیے بھئی، اوپر متن میں جو لفظ آئے تھے، ان کی تشریح کرنے لگے ہیں۔ "والعمل هو عمل المجتهد"، "فهو العمل بظاهر ما سيق الكلام له" متن میں آیا تھا بھئی۔ بھئی، اس عمل سے اعضاء کے ذریعے کوئی عمل مراد نہیں۔ آپ ہاتھ پاؤں سے کوئی عمل کرتے ہیں، وہ والا عمل مراد نہیں ہے بھئی، جیسے نماز پڑھتے ہیں آپ، خاص تو ارکان سرانجام دیتے ہیں باقاعدہ عمل کرتے ہیں، وہ عمل مراد نہیں ہے جو اعضاء کے ذریعے سرانجام دیا جائے۔ بلکہ "هو عمل المجتهد"، وہ کیا ہے؟ مراد ہے؟ مجتہد مجتہد کا عمل ہے بھئی۔ اور مجتہد کا کیا عمل ہوتا ہے؟ "أعني الاستنباط"، یعنی کہ استنباط، "دون عمل الجوارح"، نہ کہ جوارح، جوارح اعضاء بھئی، نہ کہ اعضاء کا عمل بھئی۔
معلوم ہوا اوپر متن میں جو عمل کا لفظ آیا، اس سے مراد عملِ مجتہد یعنی استنباط مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ استنباط۔ "فيصير حاصل"، "فيصير حاصل المعنى"، تو حاصلِ معنی یہ ہوا، جو آگے ذکر کر رہے ہیں۔ بھئی، دیکھیے، اسی متن کو ذکر کریں گے سارے متن کو، لیکن ہر ہر لفظ کو کھول کر بیان کرتے جائیں گے۔ متن میں کیا آیا تھا؟ "وأما الاستدلال"، استدلال بتایا انہوں نے کس کو کہتے ہیں؟ اثر سے مؤثر یا مؤثر سے اثر کی طرف جو انتقال ہوتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اور یہاں کون سا مراد ہے؟ مؤثر سے اثر کی طرف انتقال، یہی بیان کر رہے ہیں۔ "وأما انتقال الذهن من عبارة القرآن إلى الحكم"، اور باقی ذہن کا منتقل ہونا قرآن کی عبارت سے حکم کی طرف۔
عبارتِ قرآن مؤثر ہے، اور اس کے ذریعے کس کا پتہ چلے گا آگے؟ آگے اس سے حکم کا پتہ چلے گا بھئی۔ تو یہ جو ذہن منتقل ہوتا ہے عبارتِ قرآن سے حکم کی طرف، "فهو استنباط المجتهد"، تو وہ مجتہد کا استنباط ہے، "من ظاهر ما سيق الكلام له"، اس کے ظاہر سے۔ ظاہر کے بعد لفظ مضاف محذوف ہے، "من ظاهر لفظ ما سيق الكلام له"، وہ مجتہد کا استنباط کرنا ہے "من ظاهر لفظ ما سيق الكلام له"، "ما سيق الكلام له" کیا معنی؟ جس کے لیے کلام کو چلایا گیا، یعنی وہ معنی، وہ معنی جس کے لیے کلام کو۔ اس سے پہلے لفظ مضاف نکالا آپ نے، اس معنی کا جو لفظ ہے، اس معنی کا جو، اور اس سے پہلے مضاف ہے ظاہر، کیا معنی ہو گیا؟ وہ مقصد جس کے لیے کلام کو چلایا گیا، اس لفظ کے ظاہر سے اجتہاد مجتہد کا استنباط کرنا۔ وہ مقصد جس کے لیے کلام کو چلایا گیا، اس کے جو لفظ ہیں، یعنی عبارۃ النص جو ہے، اس کے ظاہر سے مجتہد کا استنباط کرنا بھئی، کوئی مسئلہ معلوم کرنا۔
معنی اوپر سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اوپر ذرا متن پہ آئیے، "وأما الاستدلال بعبارة النص فهو العمل بظاهر ما سيق الكلام له"، اور باقی استدلال جو ہے، یعنی عبارۃ النص سے منتقل ہونا ذہن کا کس کی طرف؟ حکم کی طرف، تو استدلال بعبارۃ النص کا کیا معنی ہوا؟ عبارۃ النص کے ذریعے ذہن کا منتقل ہونا اس کے حکم کی طرف۔ عبارۃ النص کے ذریعے ذہن کا منتقل ہونا اس کے حکم کی طرف، "فهو العمل بظاهر ما سيق الكلام له"، تو وہ استنباط کرنا ہے مجتہد کا "بظاهر لفظ ما سيق الكلام له"، وہ معنی جس کے لیے کلام کو چلایا گیا، اس کا جو لفظ ہے، یعنی جو عبارۃ النص ہے، اس کے ظاہر سے استنباط، ظاہر سے استنباط کرنا۔ ان لفظوں کے ظاہر سے استنباط کرنا، کوئی مسئلہ نکالنا بھئی۔
"والمراد من هذا السوق أعم مما يكون في النص"، بھئی، اس یہ جو متن میں آیا نا "ما سيق الكلام"، جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہو، اس سے مقصودِ اصلی مراد نہیں ہے۔ مقصودِ اصلی نہیں مراد۔ ایک ہوتا ہے مقصودِ اصلی، اور ایک ہے غیر مقصود، اور ایک ہے محض مقصود بھئی۔ ایک ہے مقصودِ اصلی، ایک ہے غیر مقصود، اور ایک کیا ہے؟ محض مقصود، یعنی نہ وہ مقصودِ اصلی بھی نہیں اور غیر مقصود بھی نہیں، ہاں مقصود ہے بھئی، وہ بھی کیا ہے؟ مقصود ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ یہاں پر سوق جو ہے وہ عام ہے۔ سوق یہاں پر، یعنی جس مقصد کے لیے کلام کو چلایا گیا ہو، تو کہتے ہیں آپ اس سے یہ نہ سمجھیں کہ اس سے مراد صرف مقصودِ اصلی مراد ہے۔ بلکہ مقصود ہونا چاہیے اس کو، چاہے مقصودِ اصلی ہو یا مقصودِ محض مقصودِ اصلی نہ ہو یوں کہیں بھئی، چاہے مقصودِ اصلی ہو چاہے مقصودِ اصلی نہ ہو بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "والمراد من هذا السوق أعم مما يكون في النص"، اور مراد اس سوق سے، سوق کا کیا معنی؟ چلانا، چلاؤ بھئی عبارت کا، "أعم مما يكون في النص"، اس سے عام ہے۔ اس سوق سے مراد وہ سوق ہے جو عام ہے اس سوق سے جو کس کے اندر ہوتا ہے؟ نص کے اندر، کیونکہ نص میں جو ہم ذکر کرتے ہیں، وہ کیا ہوتا ہے؟ مقصودِ اصلی، تو یہ مقصودِ اصلی تو نہیں، لیکن بہرحال مقصود ہوتا ہے۔ "فإن السوق في النص ما يكون مقصوداً أصلياً"، اس لیے کیونکہ سوق جو ہوتا ہے نص کے اندر، وہ ہے جو مقصودِ اصلی ہے، "وفي عبارة النص ما كان مقصوداً أصلياً أو لا"، جبکہ عبارۃ النص کے اندر چاہے وہ مقصودِ اصلی ہو یا مقصودِ اصلی نہ ہو۔ مقصود تو ہو گا۔ چاہے مقصودِ اصلی ہو، چاہے مقصودِ اصلی نہ ہو بھئی۔
"فإذا تمسك أحد لإباحة"، دیکھیے، ابھی اور وضاحت آ جائے گی بھئی، جب مثالیں آئیں گی، بات خوب واضح ہو جائے گی انشاءاللہ بھئی۔ "فإذا تمسك أحد لإباحة النكاح بقوله تعالى"، بھئی، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ"، کہ نکاح کرو تم اور ان عورتوں سے جو تمہارے نزدیک پاکیزہ ہوں، دو دو سے، تین تین سے اور چار چار سے۔ اب اس آیت کے لانے کا مقصودِ اصلی کیا ہے؟ عدد کو بیان کرنا کہ ایک مرد کتنے نکاح کر سکتا ہے بھئی؟ عدد بیان کرنا ہے بھئی، دو بھی کر سکتا ہے، تین بھی اور چار بھی، لیکن اس سے زیادہ نہیں کر سکتا، تو یہ آیت کس لیے لائی گئی؟ اس کا مقصودِ اصلی کیا ہے؟ عدد کو بیان کرنا۔
لیکن اس کے ساتھ ایک اور چیز کا پتہ بھی چل گیا کہ نکاح جائز ہے۔ کس چیز کا پتہ چل گیا؟ بھئی، تو لہٰذا مقصودِ اصلی تو ہوا عدد کو بیان کرنا، لیکن جوازِ نکاح بھی مقصود ہوا، کیونکہ جوازِ نکاح ذکر ہو گا تو اس کے ساتھ عدد بیان ہو سکتا ہے، جوازِ نکاح نہ ہو تو اس کے بغیر تو عدد بھی بیان نہیں ہو سکتا۔ یعنی جوازِ نکاح بھی مقصود ہے، لیکن اس جوازِ نکاح کا ذکر کس اعتبار سے آ گیا؟ وہ کس اعتبار سے مقصود ہوا؟ اسی دوسرے معنی کو، مقصودِ اصلی کو پورا کرنے کے لیے۔ اسی مقصودِ اصلی کو، وہ تبھی پورا ہو گا نا، جوازِ نکاح آئے گا تو اس کے ساتھ پھر عدد کا بھی پھر پتہ لگے گا کہ دو یا تین یا چار کر سکتے ہیں۔ تو اس میں جوازِ نکاح بھی مقصود ہوا، عدد ہے مقصودِ اصلی، اور جوازِ نکاح کیا ہے؟ مقصود، یعنی اس کو اس لیے لایا گیا، یہ بھی مقصود ہے اس اعتبار سے کہ اس کی وجہ سے وہ مقصودِ اصلی وہ والا معنی پورا ہو رہا ہے بھئی، وہ والا معنی کیا ہو رہا ہے؟ پورا ہو رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اب کوئی شخص استدلال کرتا ہے "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم" سے، کس چیز پر؟ اباحتِ نکاح پر کہ نکاح کرنا جائز ہے، کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم"، اس سے وہ استدلال کر رہا ہے۔ تو اصل میں تو یہ ہے عدد کے لیے، لیکن وہ استدلال کس پر کر رہا ہے؟ اباحتِ نکاح پر، تو اس صورت میں کہتے ہیں یہ عبارۃ النص ہو گا بھئی، کیا ہو گا؟ عبارۃ النص ہو گا بھئی۔
اباحتِ نکاح کے لیے یہ عبارۃ النص ہے۔ کیا ہے؟ اباحتِ نکاح تو اس کا مقصودِ اصلی نہیں ہے، تو اگر آپ کہیں نا مقصودِ اصلی کے اعتبار سے کلام کو عبارۃ النص کہیں گے۔ تو پھر عدد کے اعتبار سے تو اس کو عبارۃ النص کہہ سکتے ہیں، اباحتِ نکاح کے اعتبار سے اس کو عبارۃ النص نہیں کہہ سکتے بھئی۔ مقصودِ اصلی جس مقصد کے لیے کلام کو چلایا گیا، وہ معنی مثلاً کیا ہے یہاں پر؟ عدد، تو آپ عدد کے لیے کہیں، یہ عدد کے لیے عدد ہے نص، نص کس کو کہتے ہیں؟ جس مقصد کے لیے کلام کو چلایا جائے۔ تو بیانِ عدد ہوا نص، اور اس کی عبارت کیا ہے؟ عبارۃ النص، "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم"، تو یہ مقصودِ اصلی کے اعتبار سے تو عبارۃ النص آپ نے بنا دیا۔ تو معلوم تو پھر جو مقصودِ اصلی نہیں ہے، اس کے اعتبار سے اس کو عبارۃ النص نہیں کہیں گے؟ کہتے ہیں: نہیں۔ مقصود اگر ہے، چاہے وہ مقصودِ اصلی نہیں ہے، لیکن بہرحال مقصود تو ہے، تو اس کے اعتبار سے بھی اس کو کیا کہیں گے؟ عبارۃ النص ہی کہیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
اسی لیے کہا اوپر جو "سيق" کا لفظ آیا تھا، وہاں سوق سے مراد مقصودِ اصلی نہیں ہے بلکہ مقصود ہو بھئی، وہ مقصودِ اصلی سے عام ہے، لیکن بہرحال مقصود ہونا چاہیے، چاہے مقصودِ اصلی ہو یا مقصودِ اصلی نہ ہو، اسے عبارۃ النص کہیں گے بھئی، مقصود۔
"فإذا تمسك أحد"، بس جب استدلال کیا کسی نے، "لإباحة النكاح"، نکاح کے جائز ہونے کے لیے، "بقوله تعالى"، اللہ تعالیٰ کے اس قول سے: "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم"، "كان عبارة النص"، تو یہ آیت کیا ہو گی؟ یہ قول کیا ہو گا اللہ کا؟ یہ عبارۃ النص ہو گا بھئی۔ "وإن لم يكن نصاً فيه"، اگرچہ یہ اس کے اندر نص نہیں ہے، "بل ظاهراً"، بلکہ ظاہر ہے۔ یہ معنی، یہ نکاح اس سے جب عدد بیان ہو رہا ہے، تو جوازِ نکاح بھی سمجھ میں آ رہا ہے اس سے۔ تو جو معنی ظاہر سمجھ میں آئے، لیکن اس کے لیے کلام کو چلایا نہ گیا ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظاہر۔ بھئی، ظاہر، نص، مفسر، محکم۔ ظاہر کس کو کہتے تھے؟ وہ معنی جو کلام سے سمجھ میں آئے۔ اور نص کسے کہتے تھے؟ جس کے مقصد کے لیے کلام کو چلایا جائے۔ تو کس مقصد کے لیے اس آیت کو چلایا گیا؟ بیانِ عدد کے لیے، تو بیانِ عدد ہوا نص۔ اور ایک اور معنی جو اس سے سمجھ میں آیا، وہ کیا ہے؟ اباحتِ نکاح، اس کو کیا کہیں گے؟ ظاہر کہیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: یہ اس کے اندر عبارۃ النص ہو گا اباحتِ نکاح کے اندر، "وإن لم يكن نصاً فيه بل ظاهراً"، اگرچہ یہ اس میں نص نہیں ہے بلکہ، یہ آیت اس میں کے میں ظاہر ہے، یعنی یہ معنی اس سے ظاہر ہو رہا ہے۔ "بخلاف العدد فإنه نص فيه"، بخلاف عدد کے کہ وہ اس میں یہ آیت کیا ہے؟ نص ہے بھئی، نص ہے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آئی؟ کیا کہا ہے انہوں نے؟ اوپر پھر متن پہ آئیے، "وأما الاستدلال بعبارة النص فهو العمل بظاهر"، لفظ، یہاں لفظ مضاف محذوف نکالیں۔ "بظاهر لفظ ما سيق الكلام له"، اور باقی عبارۃ النص سے استدلال کرنا، عبارۃ النص سے استدلال کا کیا معنی تھا؟ عبارۃ النص سے ذہن کا منتقل ہونا کس کی طرف؟ حکم کی طرف، "فهو العمل"، وہ کیا ہے؟ وہ مجتہد کا عمل ہے، یعنی اس کا استنباط کرنا ہے "بظاهر ما سيق الكلام له"، "ما سيق الكلام له" وہ مقصد جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے، چاہے وہ مقصدِ اصلی ہو یا مقصدِ اصلی نہ ہو۔ وہ مقصد جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے، اس کے جو لفظ ہیں، اس کے ظاہر سے، دیکھو، ظاہر سے، اس کے ظاہر سے استنباط کرنا ہے بھئی۔ اب بات واضح ہو گئی سب پر؟
جی، اس بحث کا خلاصہ بھئی دوبارہ سن لیں۔ اوپر متن پہ ذرا نظر رکھیے: "وأما الاستدلال بعبارة النص فهو العمل بظاهر ما سيق الكلام له"، باقی استدلال کرنا عبارۃ النص سے، تو وہ عمل کرنا ہے "بظاهر لفظ ما سيق الكلام له"، وہ معنی جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے، اس کے لفظ کے ظاہر پر، وہ عمل کرنا ہے اس معنی کے لفظ کے ظاہر پر بھئی، جس کے اس معنی کا جس کے لیے کلام کو چلایا گیا۔
بھئی، انہوں نے آپ کو بتلایا کہ اولاً تو انہوں نے آپ کو یہ بتلایا کہ شارح ماتن جو ہیں، ماتن سے تسامح ہوا، یہ نظم کی اقسام ہم پڑھ رہے ہیں اور یہاں پر انہوں نے استدلال لفظ ذکر کر دیا: "وأما الاستدلال بعبارة النص"، حالانکہ استدلال کرنا یہ مجتہد کا کام ہے، تو استدلال مجتہد کی صفت ہوئی، نظم کی قسم نہیں بھئی، اور ہم تو یہاں کیا پڑھ رہے ہیں؟ نظم کی قسمیں پڑھ رہے ہیں۔ اور پھر انہوں نے آپ کو استدلال کا معنی بتلایا کہ استدلال کہتے کس کو ہیں؟ اثر سے مؤثر کا کی طرف منتقل ہونا، یا مؤثر سے اثر کی طرف منتقل ہونا۔ اور مؤثر سے اثر کی طرف منتقل ہونا، یہ یہاں پر مراد ہے۔
مؤثر کیا چیز ہے؟ وہ عبارۃ النص ہے بھئی، عبارۃ النص، نص کی جو عبارت ہے، وہ ہے مؤثر، اور اس کا اثر کیا ہے؟ اس سے حکم معلوم ہو گا، حکم آئے گا اس سے۔ تو عبارۃ النص ہوئی مؤثر، اور اس کا حکم جو اس سے ثابت ہوا، وہ اس کا اثر ہے۔
تو استدلال کا کیا معنی ہوا؟ ذہن کا منتقل ہونا عبارۃ النص سے اس کے حکم کی طرف۔ استدلال کا کیا معنی ہوا؟ عبارۃ النص سے بھئی، عبارۃ النص تو اس میں کوئی نہ کوئی حکم ہو گا، وہ اس کا اثر ہے۔ تو عبارۃ النص ہوئی مؤثر، حکم ہوا اس کا اثر۔ اور استدلال ہم نے کیا کہا تھا؟ مؤثر سے اثر پر کی طرف ذہن کا منتقل ہونا۔ تو یہاں بھی استدلال کس کو کہتے ہیں؟ کہ اس عبارت سے مجتہد کا ذہن منتقل ہوتا ہے حکم کی طرف، حکم کا اس کو پتہ چلتا ہے۔
تو بات کر رہے ہیں "وأما الاستدلال بعبارة النص"، اور باقی استدلال بعبارۃ النص، یعنی اس کلام سے ذہن کا منتقل ہونا کس کی طرف؟ حکم کی طرف۔ سمجھ میں آیا بھئی کیوں، کیا کہا؟ استدلال بعبارۃ النص، عبارۃ النص سے استدلال کرنا، یعنی عبارۃ النص سے اس کے حکم کی طرف ذہن کا منتقل ہونا، اور عبارۃ النص کے اندر انہوں نے آپ کو بتلایا کہ نص جو ہے، وہ عبارتِ قرآن مراد ہے، وہی کلام مراد ہے بھئی۔ ایک نص کا وہ معنی تھا جو آپ نے پہلے پڑھا تھا کہ ظاہر، نص، مفسر، محکم، وہاں نص کا کیا معنی پڑھا تھا؟ وہ معنی جس کے لیے کلام کو چلایا جائے، وہ مقصودِ اصلی جس کے لیے کلام کو چلایا جائے، اور یہاں پر یہ جو نص آیا، نص فقہاء کے ہاں شائع ہے، وہ کس پر اطلاق کرتے ہیں اس کا؟ قرآن کے الفاظ پر اس کا اطلاق کرتے ہیں، تو یہ عبارۃ النص یعنی وہ جو کلام کی عبارت ہے، کلام اللہ کی جو عبارت، اس سے استدلال کرنا۔
وہاں لفظوں پہ نظر رکھو، "وأما الاستدلال بعبارة النص"، نص کیا ہے؟ وہ عبارتِ قرآن یعنی کلام ہے۔ تو استدلال بعبارۃ النص، ای بعبارۃ الکلام، استدلال کرنا کس سے؟ کلام کی عبارت سے، یعنی کلام اللہ کی عبارت سے استدلال کرنا، استدلال کا کیا معنی کیا؟ ذہن کا اس سے منتقل ہونا کس کی طرف؟ حکم کی طرف، تو کلام اللہ کی عبارت سے استدلال کرنا، یعنی ذہن کا منتقل ہونا اس کے حکم کی طرف۔ یہ کسے اس کا کیا معنی ہے؟ کہتے ہیں: "فهو العمل بظاهر ما سيق الكلام له"، پس وہ عمل کرنا ہے، عمل کا کیا معنی کیا انہوں نے؟ مجتہد کا جو استنباط ہے، استدلال ہی کا معنی ہے نا، استدلال ہی کو اسی میں آگے بیان کر رہے ہیں۔ استدلال بعبارۃ النص ہی کو آگے بیان کر رہے ہیں، استدلال کرنا عبارۃ النص سے، یعنی عبارۃ النص سے جو ذہن کا منتقل ہونا ہے حکم کی طرف، وہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: "فهو العمل بظاهر ما سيق الكلام له"، وہ استنباط کرنا ہے، یعنی مسئلہ نکالنا ہے "بظاهر لفظ ما سيق الكلام له"، "ما سيق الكلام"، "ما" سے کیا مراد ہے؟ وہ معنی، وہ معنی "سيق الكلام له" جس کے لیے اس کلام کو چلایا گیا۔ وہ معنی جس کے لیے اس کلام کو چلایا گیا، اس کے لفظ سے، اس کے لفظ کے ظاہر سے۔ کس سے؟ وہ معنی جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے، تو اس کا جو کلام ہے، اس کا جو لفظ اس کے جو لفظ ہیں، ان لفظوں کے ظاہر سے ہی مجتہد کا استنباط کرنا، یہ کہلاتا ہے استدلال بعبارۃ النص۔
معنی سمجھ میں آیا؟ مجتہد کیا کرتا ہے؟ وہ معنی جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے، اس کے جو لفظ ہیں، یعنی وہی عبارت، اس کے جو لفظ ہیں، یعنی جو عبارۃ النص ہے، اس کے ظاہر سے استنباط کرنا، ان لفظوں کے ظاہر سے استنباط کرنا، کوئی مسئلہ نکالنا بھئی۔
"استنباط" بھی وہی شے ہے نا، مسئلہ نکالنا، مسئلہ معلوم کرنا، جو وہ استدلال ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی استدلال بعبارۃ النص کا معنی بیان کر رہے ہیں کہ عبارۃ النص سے استدلال کرنے کا کیا معنی ہے؟ بتلایا کہ "ما سيق الكلام له" کا جو لفظ ہے، یعنی اس نص کے جو لفظ ہیں، ان لفظوں کے ظاہر سے ہی ایک مسئلہ نکالنا بھئی، مسئلہ معلوم کرنا۔
بھئی، دیکھیے، پھر ہاں، آگے انہوں نے پھر آپ کو بتلایا کہ بھئی دیکھیے، کلام کے اندر ایک ہوتا ہے مقصودِ اصلی اور اس کے ساتھ باوقات کوئی اور چیز بھی مقصود ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ مقصودِ اصلی نہیں، مگر ہوتی کیا ہے؟ مقصود۔ جیسے اس کی مثال ذکر کی، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ"، پس تم نکاح کرو وہ جو تمہیں پسند ہوں عورتوں میں سے، کس سے؟ کتنی؟ دو دو، اور تین تین، یا چار چار سے نکاح کرو۔ اب دیکھیے، یہ آیت چلائی گئی عدد بیان کرنے کے لیے کہ ایک شخص کتنے نکاح کر سکتا ہے۔ بتلایا: دو بھی کر سکتا ہے، تین بھی کر سکتا ہے اور چار بھی، ایک کو ذکر نہیں کیا، کیونکہ ایک "فَانكِحُوا" کے لفظ سے ہی معلوم ہو رہا تھا، نکاح کے لیے کم از کم ایک عورت تو ضرور چاہیے۔ تو لہٰذا اس کو آگے دوبارہ ذکر نہیں کیا گیا۔
اب دیکھیے، یہ آیت چلائی گئی عدد بیان کرنے کے لیے۔ لیکن اسی سے جوازِ نکاح کا بھی پتہ چلا۔ کس کا پتہ چلا؟ تو مقصودِ اصلی تو ہوا بیانِ عدد، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جوازِ نکاح بھی مقصود ہو گیا، کیوں؟ کیونکہ عدد تبھی آئے گا جب پہلے جوازِ نکاح آئے گا۔ تو جوازِ نکاح جو ہے، اس کو ذکر کیا وہ مقصود ہوا اس اعتبار سے کہ اسی کی وجہ سے وہ مقصودِ اصلی والا معنی پورا ہو گا۔ عدد تبھی آئے گا نا، جب کیا ہے پہلے؟ جوازِ نکاح، تو جوازِ نکاح سے وہی بیانِ عدد والا معنی پورا ہو رہا ہے، اس کے بغیر وہ پورا ہی نہیں ہوتا بھئی۔
تو بیانِ عدد ہوا مقصودِ اصلی، اور جوازِ نکاح بھی مقصود ہوا، اگرچہ مقصودِ اصلی نہیں، لیکن مقصود ہے، مقصود ہے بھئی۔
انہوں نے کیا کہا؟ وہ مقصد جس کے لیے کلام کو چلایا گیا، اس کے لفظ کے ظاہر سے استنباط کرنا، اس کے ظاہر سے۔ بھئی، بتلا یہ رہے ہیں، تفصیل یہ بیان کر رہے ہیں شرح کے اندر کہ آپ یہ نہ سمجھنا کہ جو مقصودِ اصلی ہو، اس کی عبارت جو ہے، اس کو کہیں گے عبارۃ النص۔ اس کو کیا کہیں گے؟ عبارۃ النص۔ آپ یہ نہ، اگر اگر صرف مقصودِ اصلی کو مدِ نظر رکھا جائے، پھر تو صرف یہ کہہ سکتے ہیں: بھئی، یہ یہ آیت جو ہے اس سے کیا، یہ آیت کس لیے لائی گئی؟ بیانِ عدد کے لیے، تو بیانِ عدد کے لیے یہ عبارۃ النص ہے۔ اور کسی چیز کے لیے عبارۃ النص نہیں۔ کس کے لیے مسئلہ یہ عبارۃ النص ہے؟ صرف بیانِ عدد کے لیے عبارۃ النص ہے، لیکن شارح نے آپ کو بتلایا کہ اگر اس کے ذریعے استدلال کیا جائے اباحتِ نکاح پر، تو بھی یہ یوں ہی کہیں گے کہ یہ اس کے لیے عبارۃ النص ہے۔ کیا کہیں گے؟ تو آپ کے ذہن میں شبہ آئے گا: بھئی، یہ اس کے لیے عبارۃ النص کیسے ہوئی؟ یہ تو اس کا مقصودِ اصلی نہیں۔ جواب دے دیا کہ بھئی، مقصود ہونا عام ہے، چاہے اصلی ہو یا اصلی مقصود ہونا چاہیے، تو چاہے بیانِ عدد کے لیے بھی کہیں گے، یہ عبارۃ النص ہے۔ جوازِ نکاح کے لیے بھی اس کو کیا کہیں گے؟ یہ عبارۃ النص ہے بھئی، کیونکہ دونوں مقصود ہیں، ہاں یہ ہے ایک مقصودِ اصلی ہے، تو ایک مقصود مقصودِ اصلی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں صورتوں میں کہیں گے، یہ استدلال ہے بعبارۃ النص۔ اس نے کہا: بھئی، یہ آیت لائی گئی ہے بیانِ عدد کے لیے، ایک مجتہد نے کہا، آپ نے کہا: یہ استدلال ہوا کس سے؟ عبارۃ النص سے۔ دوسرا کہتا ہے: بھئی، یہ آیت اس کے دوسرا کوئی شخص اس کے ذریعے استدلال کرتا ہے اباحتِ نکاح پر، آپ کیا کہیں گے؟ یہ بھی کیا ہے؟ استدلال ہے بعبارۃ النص بھئی، عبارۃ النص ہی سے یہ استدلال ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ مقصد جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے، اس کے جو لفظ ہیں، ان لفظوں کے ظاہر ہی سے استنباط کرنا، اس کو کہتے ہیں استدلال بعبارۃ النص کہتے ہیں بھئی۔ بحث اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟
آگے دیکھیے بھئی: "وأما الاستدلال بعبارة النص"، "وأما الاستدلال بإشارة النص فهو العمل بما ثبت بنظمه لغة ولكن غير مقصود ولا سيق له النص وليس بظاهر من كل وجه"، اور باقی استدلال کرنا اشارۃ النص سے۔ استدلال باشارۃ النص کا کیا معنی کریں گے؟ اوپر بیان ہو چکا۔ اشارۃ النص سے ذہن کا منتقل ہونا اس کے حکم کی طرف۔ آپ سے کوئی پوچھے، استدلال باشارۃ النص کا کیا معنیٰ؟ کیا کہیں گے؟ اشارۃ النص سے ذہن کا منتقل ہونا کس کی طرف؟ اس کے حکم کی طرف منتقل ہونا بھئی۔ اچھا، یہ کس کو کہتے ہیں کہ اشارۃ النص سے ذہن کا حکم کی طرف منتقل ہونا، اس کا کیا معنی ہے؟ کہتے ہیں: "فهو العمل بما ثبت بنظمه لغة"، پس وہ عمل کرنا ہے، عمل کا کیا معنی کیا انہوں نے؟ استنباط، یعنی وہ مجتہد کا استنباط کرنا ہے "بما ثبت بنظمه"، "بما ثبت بنظمه"، "ما" سے کیا مراد ہے؟ معنی۔ تو وہ معنی جو نظم سے ثابت ہے۔ یہاں پر بھی لفظ مضاف محذوف نکالیں گے، جیسے اوپر "بظاهر لفظ ما سيق الكلام"، ظاہر کے بعد کیا لفظ نکالا تھا؟ "ما" سے پہلے لفظ کا یہ محذوف نکالا تھا۔ یہاں پر "بما"، یہ "ما" سے پہلے کیا نکالیں گے؟ لفظ۔ "بلفظ ما ثبت بنظمه"، وہ معنی جو نظم سے ثابت ہے، اسی کے لفظ سے استدلال، لفظ سے استنباط کرنا۔ استدلال باشارۃ النص کس کو کہتے ہیں؟ وہ استنباط کرنا ہے "بلفظ ما ثبت بنظمه"، وہ معنی جو نظم سے ہی ثابت ہے، اس کے لفظ سے، لفظ ہی سے استنباط کرنا۔ کس سے؟ لفظ ہی سے استنباط کرنا، اور وہ معنی ثابت ہے نظم سے باعیتبار لغت کے۔ باعیتبار لغت ہی کے ثابت ہے بھئی، باعیتبار لغت ہی کے بھئی، شرعاً یا عقلاً نہیں، آگے تفصیل آ رہی ہے بھئی۔ یعنی عربی جاننے والا بھی اس معنی کو سمجھ لیتا ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو عربی زبان کے اعتبار سے جو معنی ثابت ہے، اس کے لفظ سے جو استنباط کیا جائے، اسے کہتے ہیں استدلال باشارۃ النص۔ معنی سمجھ میں آیا؟ "وأما الاستدلال بإشارة النص"، بھئی، کوئی آپ سے پوچھے، اشارۃ النص سے استدلال کرنے کا کیا معنی؟ آپ کیا کہیں گے؟ وہ معنی جو عربی زبان کے اعتبار سے نظم سے ثابت ہو رہا ہے، اسی معنی کا جو لفظ ہے، یعنی جس سے یہ معنی آیا، اسی لفظ سے کیا کرنا؟ استنباط کرنا، یعنی لفظ ہی سے استنباط کرنا، یہ کیا ہو گا؟ یہ استدلال باشارۃ النص ہے، اس کے یہ اشارۃ النص سے استنباط استدلال کر رہا ہے۔
بھئی، دیکھیے۔ اشارۃ النص، ایک ہے اشارہ، ایک ہے اشارۃ النص۔ اشارۃ النص وہ نص کے الفاظ، ان کو کیا کہتے ہیں؟ جیسے عبارۃ النص کس کو کہتے تھے؟ وہ نص کی عبارت ہی کو کیا کہتے تھے؟ عبارۃ النص کہتے تھے، کیا کہتے تھے؟ عبارۃ النص کہتے تھے، اور اس سے کوئی حکم معلوم ہو، تو اس کو کہتے تھے استدلال بعبارۃ النص۔ یہاں پر بھی استدلال کہا جا رہا ہے اشارۃ النص سے، ایک ہے اشارۃ النص، اشارۃ النص وہ نص کے جو الفاظ ہیں جو اشارہ کر رہے ہیں کسی بات کی طرف، اس کو کیا کہیں گے؟ یہ الفاظ جو ہیں، یہ نظم جو ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو کہیں گے اشارۃ النص، اور جو معلوم ہوا، اس کو کہیں گے اشارہ، اس کو کیا کہیں گے؟ جو نظم ہے، اس کو کہیں گے اشارۃ النص، اور جو اشارہ ہوا، اس کو کیا کہیں گے؟ جو معلوم ہوا، اس کو کیا کہیں گے؟ اشارہ کہیں گے۔ تو بات چل رہی ہے استدلال استدلال کرنا اشارۃ النص سے، یعنی اشارۃ النص سے ذہن کا منتقل ہونا اس کے حکم، یعنی اشارے کی طرف۔ اشارۃ النص سے ذہن کا منتقل ہونا کس کی طرف؟ اشارے کی طرف، یہ کس کو کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: "فهو العمل بما ثبت بنظمه لغة"، وہ استنباط کرنا ہے، وہ معنی جو نظم ہی سے باعیتبار عربی زبان کے ثابت ہے، اسی کے لفظ سے استنباط کرنا، نظم کے اس معنی کے لفظ ہی سے عبارت ہی سے استدلال کرنا، یہ ہے اشارۃ النص۔ "ولكنه غير مقصود"، لیکن یہ مقصود نہیں ہوتا۔ اوپر جو آیا تھا استدلال بعبارۃ النص، وہاں پر وہ معنی کیا ہوا کرتا تھا؟ مقصود، ہاں، وہ تھا عام، چاہے مقصودِ اصلی ہو، چاہے محض مقصود ہو، مقصودِ اصلی تو نہیں، لیکن مقصود ہے بہرحال، لیکن اس کے بارے میں بتایا کہ یہ مقصود نہیں ہوتا، یہ معنی کیا ہے؟ مقصود نہیں ہوتا، "ولا سيق له النص"، اور نہ اس کے لیے نص کو چلایا گیا ہوتا ہے، غیر مقصود معنی ہے۔ "وليس بظاهر من كل وجه"، اور نیز یہ ہر اعتبار سے ظاہر بھی نہیں ہوتا، بلکہ من وجہ ظاہر ہوتا ہے اور من وجہ غیر ظاہر ہوتا ہے۔ من وجہ من وجہ ظاہر ہوتا ہے اور من وجہ غیر ظاہر ہوتا ہے۔
اب دیکھیے، پھر تعریف پہ نظر ڈالیے۔ اشارۃ النص سے، اشارۃ النص کس کا نام ہے؟ لفظ کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ اور اس سے جو معنی نکلے گا، اس کو کیا کہیں گے؟ اشارہ۔ تو اشارۃ النص یعنی وہ جو کلام ہے، اس کے اشارے سے استدلال کرنے کا معنی یہ ہے، کیا معنی ہے؟ "فهو العمل بما ثبت بنظمه لغة"، وہ معنی جو نظم ہی سے عربی زبان کے اعتبار سے ثابت ہے۔ ایک معنی ثابت ہو رہا ہے کس سے؟ نظم ہی سے، کس سے؟ یعنی لفظ ہی سے، اور کس اعتبار سے ثابت ہو رہا ہے؟ عربی۔ تو یہ معنی ان اس لفظ ہی سے ثابت ہو رہا ہے۔ تو اس کا جو لفظ ہے، اس کا جو لفظ ہے، اس سے استنباط کرنا، یعنی یہی والا معنی نکالنا، جو اس سے معلوم ہو رہا ہے، اس سے استنباط کرنا، یعنی یہی والا معنی اس سے نکالنا، اس کو کیا کہیں گے؟ استدلال باشارۃ النص۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ باریک سی بات ہے۔ "ولكنه غير مقصود"، لیکن یہ غیر مقصود ہوتا ہے، غیر مقصود۔ عبارۃ النص میں بھی نظم ہی سے ایک معنی نکالا جاتا تھا، معنی معلوم ہوتا تھا، لیکن وہ معنی کیا ہوتا تھا؟ مقصود ہوتا تھا، تو ہم کہتے ہیں کہ یہ استدلال ہے بعبارۃ النص کہیں گے۔ اور اگر ایسا معنی ایک نکالا گیا، تو پھر وہ معنی عربی زبان کے اعتبار سے سمجھ میں تو آ رہا ہے اس سے، لیکن نص کو اس کے لیے چلایا نہیں گیا، تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ نص میں اس کی طرف اشارہ ہے، نص میں اس کی طرف، تو یہ نص اس کے لیے کیا ہوئی؟ اشارۃ النص، یہ کیا ہوئی؟ اشارۃ النص، تو معنی جو معلوم ہوا، وہ ہوا اشارہ، اور یہ نص اس کے لیے کیا ہوئی؟ اشارہ۔ تو جب یہ معنی نکالا اس لفظ سے، تو کیا کہیں گے؟ استدلال کیا کس سے؟ اشارۃ النص سے استدلال کیا، اب معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
تو یہی کہہ رہے ہیں کہ "ولكنه غير مقصود"، لیکن یہ غیر مقصود ہوتا ہے، "ولا سيق له النص"، اور نہ اس کے لیے نص کو چلایا گیا ہوتا ہے، "وليس بظاهر من كل وجه"، اور یہ ہر اعتبار سے ظاہر بھی نہیں ہوتا، یعنی من وجہ ظاہر ہوتا ہے، تو من وجہ غیر ظاہر کہہ لیں یا خفی کہہ لیں بھئی، تو یہ من وجہ غیر ظاہر ہوتا ہے۔
"فقوله بنظمه"، اب فوائدِ قیود ذکر کر رہے ہیں بھئی، چار قسمیں ہیں: عبارۃ النص، اشارۃ النص، دلالۃ النص اور اقتضاء النص۔ ان سب کو اب صرف اشارۃ النص کی چونکہ تعریف ہے، تو باقی سب کو تعریف سے خارج کرنا ہے مختلف قیودات کے ذریعے، بتلا رہے ہیں کون سی قسم کون سی قید کے ذریعے نکلے گی اور کون سی نہیں نکلے گی۔ کہتے ہیں: "فقوله بنظمه"، ماتن کا قول "بنظمه" جو ہے، "شامل للعبارة والإشارة"، یہ عبارت کو بھی شامل ہے، عبارۃ النص کو بھی، اور اشارۃ النص کو بھی، کیونکہ یہ کس کس میں ہیں؟ نظم ہی کے قسمیں ہیں نا، تو انہوں نے بھی متن میں کیا قید لگائی تعریف کے اندر؟ "بنظمه"، تو عبارۃ النص بھی اب داخل ہے اور اشارۃ النص بھی داخل ہے اس کے اندر۔ "ولكن تخرج به دلالة النص"، لیکن اس قید کے ذریعے دلالۃ النص نکل گئی، "لأنه ليس بثابت بالنظم"، اس لیے کیونکہ دلالۃ النص جو ہے، وہ نظم سے نہیں ثابت، "بل بمعنى النظم"، بلکہ معنی نظم سے ثابت ہے۔ بھئی، دیکھیے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں، دلالۃ النص کو سمجھ لیں، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں والدین کے بارے میں: "فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ"، والدین کو "أُفٍّ" بھی نہ کہو، والدین کو "أُفٍّ" بھی نہ کہو۔ اب بھئی، کیا مقصد ہے "أُفٍّ" نہ کہنے سے؟
والدین کو اف بھی نہ کہو۔ اب بھئی کیا مقصد ہے اف نہ کہنے سے؟ یعنی ان کو تکلیف نہ دو، ان کو تکلیف نہ دو۔ تو اف کہنے سے منع کیا گیا، معلوم ہوا والدین کو اف کہنا حرام ہے۔ والدین کو اف کہنا حرام ہے، یہ معنی ہمیں معلوم ہوا۔ کس سے معلوم ہوا؟ "فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ"، تو یہ اس کے لیے کیا ہے؟ عبارۃ النص۔ "فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ"، یہ جو ہم نے معنی نکالا، والدین کو اف کہنا حرام ہے، یہ کس سے نکالا؟ "فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ"۔ تو یہ اس کے لیے کیا ہوئی؟ عبارۃ النص، یہ نظم اس کے لیے عبارۃ النص کیونکہ اسی مقصد کے لیے چلائی گئی ہے کہ والدین کو اف بھی نہ کہو، یعنی انہیں معمولی درجے کی تکلیف بھی نہ دو۔ اس سے ایک اور معنی معلوم ہوا بھئی۔
آیت میں تو صرف اتنا کہا گیا کہ، "انہیں اف بھی نہ کہو"۔ اور تو معلوم ہوا اف کہنے سے جب منع کیا گیا ہے، کیونکہ اس میں والدین کی تکلیف ہے، تو جس چیز میں اس سے بڑھ کر تکلیف ہو گی، وہ بطریقِ اولیٰ حرام ہو گی۔ یعنی والدین کو مارنا یا ان کو گالی دینا بھئی۔ جب اف کہنے سے منع کیا گیا ہے، اف کہنا حرام ہے، تو مارنا یا گالی دینا بطریقِ اولیٰ حرام ہو گا بھئی۔ تو یہ جو مارنے اور گالی دینے کی حرمت معلوم ہوئی، یہ کس سے معلوم ہوئی؟ وہ جو معنی ہم نے نکالا تھا، کون سا معنی؟ کہ والدین کو اف کہنا حرام ہے، اس سے معلوم ہوا۔ تو دیکھو، دلالۃ النص جو ہے، وہ نظم کے معنی سے ثابت ہوتی ہے۔ کس کے ذریعے؟ نظم کے معنی سے ثابت ہوتی ہے۔ نظم سے ایک معنی سمجھ میں آتا ہے کہ بھئی نچلے درجے والوں کا جب یہ حکم ہے، تو جب نچلے درجے والوں کا یہ حکم آ گیا نا، حکم کی بات آ گئی۔ حکم کیا ہے؟ معنی کا نام ہے۔ جب نچلے درجے والوں کا یہ حکم ہے، تو معلوم ہوا اوپر والے درجے کا بطریقِ اولیٰ یہ حکم ہے۔ تو یہ کس کے ذریعے استدلال نکالا گیا؟ استدلال کس کے ذریعے کیا گیا؟ معنی کے ذریعے استدلال کیا گیا۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ کیا معنی آیت سے سمجھ میں آئے تھے؟ والدین کو اف کہنا حرام ہے۔ معلوم ہوا انہیں ادنیٰ درجے کی تکلیف دینا بھی جائز نہیں۔ جب ادنیٰ درجے کی تکلیف دینا جائز نہیں، تو معلوم ہوا کہ اعلیٰ درجے کی تکلیف دینا بطریقِ اولیٰ جائز نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو معنی نکالا گیا بھئی کہ اعلیٰ درجے کی تکلیف بھی جائز نہیں، یعنی پٹائی کرنا یا گالی دینا بھی جائز نہیں، یہ کس سے معلوم ہوا؟ وہ نظم کا جو معنی نکلا تھا، اس معنی سے پھر یہ بات بھی سمجھ میں آ گئی۔ اف کہنے سے منع کیا گیا، کیوں منع کیا گیا؟ کیونکہ اس سے ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ تو اس سے ان کو تکلیف ہوتی ہے، اس لیے منع کیا گیا۔ اسی اس معنی سے، یہ معنی ہے نا؟ اف کہنے سے منع کیا گیا، کیونکہ اس سے ان کو کیا ہوتی ہے؟ تکلیف۔ تو اس معنی سے ایک اور معنی بھی سمجھ میں آ گیا کہ جب اف کہنے سے روکا گیا ہے، تو لازمی بات ہے ضرب اور پٹائی، ضرب اور گالی دینے سے بطریقِ اولیٰ روکا گیا ہے بھئی۔ تو یہ کیا ہے؟ دلالۃ النص بھئی۔ آگے تفصیل بھی آ جائے گی، مختصراً میں نے کہا یہاں بیان کر دوں۔
تو فوائدِ قیود ذکر کر رہے تھے۔ کہتے ہیں "بنظمه" جب کہا، تو اس میں عبارۃ النص بھی داخل ہے اور اشارۃ النص بھی داخل ہے، کیونکہ وہ بھی نظم کی اقسام ہیں۔ "ولكن تخرج به دلالة النص"، لیکن اس کے لیے دلالۃ النص نکل گیا، "لأنه ليس بثابت بالنظم"، اس لیے کیونکہ وہ نظم کے ذریعے نہیں ثابت، "بل بمعنى النظم"، بلکہ نظم کے معنی سے ثابت ہے بھئی۔
"وقوله لغة"، اور ماتن نے جو کہا "لغة"، کہ یہ معنی جو ثابت ہے نظم سے عربی زبان کے اعتبار سے، تو یہ جو "لغة" کی قید لگائی، کہتے ہیں: "يخرج به المقتضى"، اس کے ذریعے مقتضیٰ بھی خارج ہوا۔ اقتضاء النص کا بھی آگے بیان آ رہا ہے۔ بھئی، اقتضاء النص یہ ہے کہ مذکور کی تصحیح کے لیے غیرِ مذکور کو ماننا۔ مذکور کی تصحیح کے لیے، مذکور کی صحت کے لیے غیرِ مذکور کو ماننا۔ مثلاً بھئی، آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں: "أَعْتِقْ عَبْدَكَ عَنِّي بِأَلْفٍ"، "أَعْتِقْ عَبْدَكَ عَنِّي بِأَلْفٍ"، آپ اپنے غلام کو میری طرف سے آزاد کر دیجیے ایک ہزار درہم کے بدلے میں۔ بھئی، غلام تو اس کا ہے، وہ آپ کی طرف سے کیسے آزاد کرے گا؟ یہ تو جب بھی آزاد کرے اس کی طرف سے ہونا چاہیے، آپ کی طرف سے آزاد نہیں۔ لیکن یہاں پر کہتے ہیں محذوف ماننا پڑے گا آپ کی طرف سے ہونے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہاں بیع کو مقدر مانا جائے اور اس کے ساتھ پھر توکیل کو بیع کو بھی مانا جائے اور اس کے ساتھ توکیل کو بھی مانا جائے، تو اس صورت میں پھر اعتاق کہنے والے کی طرف سے ہو جائے گا۔ اس نے تو صرف اتنا کہا: "اپنے غلام کو میری طرف سے آزاد کر دو"، بھئی، غلام اس کا اس کی طرف سے تو آزاد ہو ہی نہیں سکتا۔ تو اس کے ان لفظوں کو "أَعْتِقْ عَبْدَكَ عَنِّي بِأَلْفٍ"، اس کو صحیح کرنے کے لیے کیا ماننا پڑے گا؟ بیع کو بھی ماننا پڑے گا اور توکیل کو بھی، گویا اس نے یوں کہا ہے کہ تم اپنا یہ غلام میرے ہاتھ ایک ہزار کے بدلے فروخت کر دو، پھر اس کے بعد جب فروخت کر دو، تو تم میری طرف سے وکیل بن جاؤ اور وکیل بن کر پھر اس کو میری طرف سے کیا کر دو؟ آزاد کر دو۔ گویا اس نے یوں کہا بھئی۔
تو "أَعْتِقْ عَبْدَكَ عَنِّي بِأَلْفٍ" یہ ہے مذکور، اس مذکور کے صحیح رکھنے کے لیے کیا ضروری ہوا؟ ہاں، تو اس مذکور نے تقاضا کیا کہ مجھ سے پہلے دو اور چیزیں مان لینا، پھر یہ میں صحیح ہوں، ورنہ صحیح نہیں۔ تو یہ کلام اس کا تقاضا کر رہا ہے، یہ کلام ہوا اس کا "أَعْتِقْ عَبْدَكَ عَنِّي بِأَلْفٍ"، یہ ہوا مقتضی، اور اس نے کس چیز کا تقاضا کیا؟ بیع کا بھی اور توکیل کا بھی، تو بیع اور توکیل ہوئے مقتضىٰ، وہ کیا ہوئے؟ مقتضىٰ۔ اور یہ جو مقتضىٰ ہے، یہ شرعاً یا عقلاً ثابت ہوتے ہیں عربی زبان کے اعتبار سے نہیں۔ کس اعتبار سے ثابت ہیں؟ شریعت نے کہا بھئی اس کے کلام کو صحیح کرنے کے لیے اس سے پہلے کیا مان لو؟ بیع کو بھی مان لو اور توکیل کو بھی مان لو، پھر اس کی یہ بات صحیح ہو جائے گی، اگر نہیں مانو گے تو اس کی یہ بات صحیح نہیں، غلام تو پھر اس کی طرف سے آزاد نہیں ہو گا بھئی۔ تو لہٰذا، یہ جو اقتضاء النص ہے، یہ جو مقتضىٰ ہے، اس کا پتہ کس نے بتلایا؟ شریعت نے بتلایا۔
تو جب انہوں نے اوپر متن کے اندر قید لگا دی، وہ معنی جو معلوم ہو رہا ہے باعتبار لغت کے، باعتبار عربی زبان، باعتبار زبان کے، تو وہ اس سے اقتضاء النص بھی خارج ہوا، کیونکہ اقتضاء النص کس کے ذریعے ثابت ہے؟ شریعت کے اعتبار سے وہ ثابت ہے يا عقل کے اعتبار سے وہ ثابت ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو جب دوبارہ دیکھیے فوائدِ قیود، جب "بنظمه" کہا، تو اس کے ذریعے عبارۃ النص بھی ابھی تک داخل ہے اور اشارۃ النص بھی داخل ہے۔ لیکن دلالۃ النص خارج ہو گیا، کیونکہ دلالۃ النص جو ہے، وہ نظم کے ذریعے نہیں ثابت، بلکہ وہ معنی نظم کے ذریعے ثابت ہوتا ہے، تو دلالۃ النص تو نکل گیا۔ آگے جب "لغة" کی قید لگائی کہ وہ "ما ثبت بنظمه لغة" وہ معنی نظم سے ثابت ہو عربی لغت کے اعتبار سے، نظم سے ثابت ہو لغت کے اعتبار سے، تو اس کے ذریعے اقتضاء النص خارج ہوا، کیونکہ وہ نظم سے ثابت ہوتا ہے، لیکن عربی زبان کے اعتبار سے نہیں، بلکہ شریعت کے اعتبار سے بھئی، تو وہ بھی نکل گیا۔
اب صرف کیا رہ گئے؟ عبارۃ النص اور اشارۃ۔ دلالۃ النص "بنظمه" کی قید سے نکل گیا، اور اقتضاء النص "لغة" کی قید کے ذریعے نکل گیا۔ اب رہ گئے عبارۃ النص، اس کو نکالنا ہے، اور اشارۃ النص اسی کی تو تعریف ہو رہی ہے۔ تو اس کو نہیں نکالنا، صرف کس کو نکالنا ہے؟ عبارۃ النص کو۔ تو اس کو آگے نکالیں گے، دیکھیے بھئی۔
"وقوله لغة يخرج به المقتضى لأنه ليس بثابت لغة بل شرعاً أو عقلاً"، اور "لغة" کی جو قید ہے، ماتن کا قول جو ہے "لغة"، اس کے ذریعے مقتضىٰ نکل گیا، اس لیے کیونکہ وہ لغت سے نہیں ثابت، بلکہ شرعاً یا عقلاً ثابت ہے۔ "وقوله ولكنه غير مقصود ولا سيق له النص"، لیکن وہ معنی جو ہوتا ہے، وہ غیر مقصود ہوتا ہے، اور نص کو اس کے لیے چلایا نہیں گیا ہوتا، "تخرج به العبارة"، اس کے ذریعے آگے جو انہوں نے کہا، "لیکن وہ مقصود نہیں ہوتا اور نہ اس کے لیے نص کو چلایا گیا نہیں ہوتا"، تو اس سے عبارۃ النص بھی خارج بھئی۔ کیا ہوئی؟ عبارۃ النص، کیونکہ اوپر عبارۃ النص میں آپ نے پڑھا تھا کہ وہ معنی کیا ہو گا؟ مقصود ہو گا، چاہے وہ مقصودِ اصلی ہو، چاہے مقصودِ اصلی نہ ہو، لیکن بہرحال مقصود ہو گا۔ اور جب انہوں نے کہہ دیا کہ وہ معنی غیر مقصود ہو گا اور نہ اس کے لیے نص کو چلایا گیا ہے، تو عبارۃ النص اس قید کے ذریعے خارج ہوا بھئی۔
تو چار قسموں میں سے تین کو نکالنا تھا، اشارۃ النص کو باقی رکھنا تھا، کیونکہ اس کی تعریف ہو رہی ہے۔ تو تین قسمیں نکل گئیں اور صرف اب کیا باقی رہ گیا؟ اشارۃ النص۔ جب تینوں قسمیں نکل گئیں، اچھا چلیے، وہ آگے آ رہا ہے۔
تو کہتے ہیں: "وقوله ولكنه غير مقصود ولا سيق له النص تخرج به العبارة"، لیکن یہ کہ وہ غیر مقصود ہوتا ہے، نہ اس کے لیے نص کو چلایا گیا ہوتا ہے، اس کے ذریعے عبارۃ النص اس قید سے عبارۃ النص خارج ہو گئی، "لأنها مقصودة ومسوقة"، اس لیے کیونکہ وہ مقصود ہوتی ہے اور وہ چلائی گئی ہوتی ہے۔
یہ مصنف کی عبارت بھئی، محشی بھی لکھتے ہیں کہ یہ عبارت میں سستی کی ہے مصنف نے۔ یہ عبارت اس طرح نہیں ہونی چاہیے بھئی۔ عبارۃ النص مقصود نہیں ہوتی، عبارۃ النص کا معنی مقصود ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ معنی مقصود ہوتا ہے۔ تو معنی ہوتا ہے مقصود، اور عبارۃ النص خود مسوقۃٌ، چلائی گئی ہوتی ہے۔ معنی ہوتا ہے مقصود۔
دیکھیے، حاشیے میں کہہ رہے ہیں کہ یوں "والأولى أن يقول"، بہتر یہ تھا کہ یوں فرماتے مصنف: "لأنها أي العبارة مسوقة لمدلولها"، اس لیے کیونکہ وہ عبارت جو ہے، وہ چلائی گئی ہوتی ہے اپنے مدلول یعنی اپنے معنی کے لیے، "وهو مقصود منها"، اور وہ معنی اس سے کیا ہوتا ہے؟ مقصود ہوتا ہے، "أصالة أو لا أصالة"، چاہے اصالۃً مقصود ہو، چاہے غیر اصالۃً مقصود، لیکن ہوتا مقصود ہے اس سے معنی۔
"وقوله وليس بظاهر من كل وجه زيادة تأكيد في إخراج العبارة وتوضيح للتعريف وإن لم يكن محتاجاً إليه"۔ اچھا بھئی، تعریف کر رہے ہیں۔ آگے جو آیا "وليس بظاهر من كل وجه"، اور وہ معنی ہر اعتبار سے ظاہر بھی نہیں ہوتا، من وجہ ظاہر ہوتا ہے اور من وجہ ظاہر نہیں ہوتا۔ شارح فرما رہے ہیں کہ یہ جو قید ذکر کی مصنف نے، یہ تاکید کی زیادتی ہے عبارۃ النص کو نکالنے کے لیے۔ اس کو زائد لے کر آئے بطورِ تاکید کے، کس کو نکالنے کے لیے؟ عبارۃ النص کو نکالنے کے لیے۔ بھئی، کس طرح عبارۃ النص کو نکالا؟ کہتے ہیں بھئی، دیکھیے، عبارۃ النص میں اوپر آپ کو بتلایا تھا کہ وہ معنی نص سے ظاہر ہو گا۔ استدلال بعبارۃ النص کا کیا معنی تھا؟ "فهو العمل بظاهر لفظه"، وہ کیا ہو گا؟ ظاہر ہو گا بھئی، لفظ کے ظاہر سے ہو گا، یعنی وہ معنی کیا ہو گا اس سے؟ ظاہر ہو گا بھئی، ظاہر، "بظاهر لفظ ما سيق الكلام له"۔ وہ معنی جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے، اس کے لفظ کے ظاہر سے ہی کیا کرنا؟ استدلال کرنا۔ تو اس کے ظاہر سے استدلال کی وہاں قید تھی، اور یہاں پر انہوں نے انہوں نے "بما ثبت" کہا، "بظاهر ما ثبت" نہیں اسی لیے کہا، کیونکہ یہ پورے طور پر اس سے ظاہر نہیں ہوتا۔ تو چونکہ عبارۃ النص جو ہے، وہ پورے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جبکہ یہ اشارۃ النص پورے طور پر ثابت نہیں ہوتا، پورے طور پر ظاہر نہیں ہوتا۔ تو جب انہوں نے کہہ دیا: "وليس بظاهر من كل وجه"، کہ یہ ہر اعتبار سے ظاہر نہیں ہوتا، تو کون نکل گیا؟ عبارۃ النص نکل گیا، کیونکہ وہ تو پورے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔
لیکن عبارۃ النص تو پہلے ہی نکل چکا تھا، تو بتلایا اس کو تاکید کے طور پر بڑھا دیا مصنف نے۔ عبارۃ النص پہلے ہی سے "غير مقصود ولا سيق له النص" کی قید کے ذریعے خارج ہو رہا تھا، تو اس کو بھی اسی کی تاکید کے طور پر لے آئے کہ جیسے اس سے وہ خارج ہو رہا تھا، اس کے ذریعے بھی کیا ہے؟ وہ خارج ہو رہا ہے۔ تو اس کو اس کی تاکید کے طور پر لائے بھئی، اسی معنی کو اور پکا کرنے کے لیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسی یعنی اخراج کو پکا کرنے کے لیے، عبارۃ النص کا جو اخراج تھا، اسی کو پکا کرنے کے لیے بھئی، اس کی تاکید کے طور پر لے آئے۔ "وتوضيح للتعريف"، "أي زيادة توضيح" بھئی، اس کا عطف تاکید پر ہے، اور تعریف کی مزید وضاحت کے لیے اس کو لے کر آئے، تاکہ تعریف اور واضح ہو جائے بھئی، اور واضح ہو جائے۔
"وإن لم يكن محتاجاً إليه"، اگرچہ محتاج الیہ نہیں تھا، یعنی اس کی ضرورت نہیں تھی، لیکن انہوں نے اس کو بس تاکید کے طور پر اور تعریف کی مزید وضاحت کے لیے، تاکہ خوب بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ بھئی، اشارۃ النص جو ہوتا ہے، وہ پورے طور پر ظاہر نہیں ہوتا بھئی، بلکہ من وجہ ظاہر ہوتا ہے اور من وجہ ظاہر نہیں ہوتا بھئی۔
"يعني أنه ظاهر من وجه دون وجه"، بتلا رہے ہیں "وليس بظاهر من كل وجه" کا کیا معنی ہے؟ کہتے ہیں: اس کا معنی یہ ہے، "أنه ظاهر من وجه دون وجه"، کہ یہ معنی من وجہ ظاہر ہوتا ہے اور من وجہ ظاہر نہیں، یعنی بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو ظاہر، دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے تو ظاہر نہیں بھئی۔ "كما إذا رأى انسان إنساناً بقصد نظره ومع ذلك يرى من كان عن يمينه وشماله"، بھئی، یہ مثال ذکر کر رہے ہیں، جس سے عبارۃ النص اور اشارۃ النص میں فرق واضح ہوتا ہے۔ کہتے ہیں: دیکھیے، آپ کسی انسان کی طرف جب دیکھتے ہیں، تو وہ انسان تو آپ کو دکھائی دے رہا ہے، اس کے دائیں بائیں کی چیزیں بھی آپ کو دکھائی دیں گی۔ تو یہ جو انسان کو دیکھنا ہے، یہ انسان جو آپ کو دکھائی دیا، یہ کس کے درجے میں ہے؟ یہ عبارۃ النص کے درجے میں ہے، اور دائیں بائیں جو چیزیں نظر آئیں جو غیر مقصود ہیں، وہ اشارۃ النص کے درجے میں ہیں بھئی۔ بات واضح ہو گئی بھئی؟ جو جو بالارادہ دیکھا، وہ دیکھو، مقصود عبارۃ النص میں کیا ہو گا معنی؟ مقصود۔ تو آپ نے بھی اس انسان کو دیکھا کس نیت سے؟ ارادے کے ساتھ دیکھا۔ اور اشارۃ النص کیا ہوتا ہے؟ غیر مقصود۔ تو دائیں بائیں کی چیزیں جو دکھائی دیں، وہ مقصود نہیں تھیں، وہ بھی غیر مقصود تھیں، تو وہ اشارۃ النص کی طرح ہیں بھئی۔
"كما إذا رأى انسان إنساناً"، جیسے جب دیکھے کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو، "بقصد نظره"، اپنی نظر کے ارادے سے، "ومع ذلك يرى"، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ دیکھتا ہے، "من كان عن يمينه وشماله"، جو اس کے دائیں اور بائیں ہیں، یعنی جو دائیں بائیں ہیں وہ بھی اس کو دکھائی دے رہے ہیں، "بموق عينيه"، "مُوقٌ" بھئی، ہمزہ پڑھ لیں، یا ہمزہ کو اسی واؤ سے بدل دیتے ہیں "مُوقٌ"۔ تو یہ گوشۂ چشم کو کہتے ہیں، آنکھ کا کنارہ بھئی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اس کے دائیں اور بائیں بھی دیکھ لیتا ہے، دیکھتا ہے "بموق عينيه"، گوشۂ اپنے گوشۂ چشم سے، "من غير التفات"، بغیر توجہ کے، "من غير التفات وقصد"، بغیر توجہ اور ارادے کے۔ بھئی، اس کو تو دیکھا ہے اپنے ارادے نظر کے ارادے سے، اور دائیں بائیں کی چیزیں جو اس کو گوشۂ چشم سے نظر آئیں، وہ بغیر توجہ اور بغیر ارادے کے ہیں۔ "فالأول بمنزلة العبارة"، تو اول جو ہے جس انسان کو ارادے سے دیکھا، وہ ہوا عبارۃ النص کے درجے میں، "والثاني بمنزلة الإشارة"، اور دوسرا کس کے درجے میں ہے؟ اشارۃ النص کے درجے میں ہے۔ اب دیکھیے، مثال سے اور وضاحت آ جائے گی۔
"كقوله تعالى: وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن"، "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ"، وہ شخص جس کے لیے جنم دیا گیا ہے، "الْمَوْلُودِ لَهُ"، "الْمَوْلُودِ" جنم دیا گیا ہے "لَهُ" اس کے لیے، وہ شخص جس کے لیے جنم دیا گیا ہے، یعنی بچے کو۔ "رِزْقُهُنَّ"، اس پر ہے "رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ"، ان ماؤں کا رزق اور ان کے کپڑے۔ وہ شخص جس کے لیے بچے کو جنم دیا گیا ہے، اس شخص پر ان بچوں کی ماؤں کا نفقہ بھی ہے اور ان کے کپڑے بھی ہیں بھئی، کپڑے بھی ہیں۔ "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ"، وہ شخص جس پر جس کے لیے بچے کو جنم دیا گیا ہے، اس پر ان ماؤں کا رزق بھی ہے، یعنی ان کا نفقہ بھی ہے "وَكِسْوَتُهُنَّ" اور ان کے کپڑے بھی ہے۔ "مثال للعبارة والإشارة معاً"، یہ مثال ہے عبارۃ النص اور اشارۃ النص کی اکٹھی، یہ عبارۃ النص اور اشارۃ النص دونوں کی اکٹھی مثال ہے۔ دیکھیے، کس طرح آگے آ جائے گا۔ "وضميرهن راجع إلى الوالدات المذكورة في قوله تعالى: والوالدات يرضعن أولادهن حولين كاملين"، اور یہ "هن"، جو "رِزْقُهُنَّ" اور "كِسْوَتُهُنَّ" کے ساتھ جو "هن" ضمیر ہے، یہ اس ضمیر کی بات کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "وضميرهن"، اور "هن" کی جو ضمیر ہے، "راجع إلى الوالدات"، یہ راجع ہے ان ماؤں کی طرف، "المذكورة في قوله تعالى"، جو مذکور ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول میں: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ"، اور مائیں دودھ پلائیں اپنی اولاد کو دو سال پورے۔
اب دیکھیے، اس آیت کو کس مقصد کے لیے چلایا گیا؟ یہ بتلانے کے لیے کہ یہ جو مائیں ہیں، ان کا نفقہ اس بچے کے باپ، یعنی ان کے خاوندوں پر ہے۔ ان ماؤں کا نفقہ اور ان کے کپڑے کس پر ہیں؟ وہ جو بچے کا باپ ہے، اس پر ہیں بھئی۔ یہ آیت اس مقصد کے لیے چلائی گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو معنی ہمیں معلوم ہوا کہ وہ بچے کا جو باپ ہے، اس پر ہے ان ماؤں کا نفقہ بھی اور ان کے کپڑے بھی، یہ ہو یہ اس یہ جو معنی ہم نے نکالا، کس سے نکالا؟ "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ"، اور یہ عبارت اسی مقصد کے لیے لائی گئی، تو یہ کیا کہیں گے اس کو؟ استدلال بعبارۃ النص، تو یہ اس حکم کے لیے یہ عبارۃ النص ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
اب بھئی، اشارۃ النص کی مثال آگے اسی میں بتائیں گے آپ کو، وہ آگے آ جائے گی۔ اب کہتے ہیں: یہ جو ماؤں پر ماؤں کا نفقہ اور ان کے کپڑے بچے کے باپ پر واجب کیے گئے، یہ کس وجہ سے ہے؟ یا تو اس وجہ سے واجب کیے گئے کہ یہ ان کی بیویاں ہیں، ان کی منکوحہ ہیں۔ پھر کہتے ہیں: اس میں تو کوئی مضائقہ نہیں، یہ تو مناسب ہے، جب یہ ان کی بیویاں ہیں، تو ان کا نفقہ اور ان کے کپڑے خاوندوں پر ہی ہونے چاہییں۔ اور اگر اس وجہ سے یہ نفقہ اور کسوہ واجب کیے گئے باپ پر کہ یہ ان کے بچوں کو دودھ پلانے والی ہیں، تو یہ اس صورت پر ہم محمول کر لیں گے کہ جب خاوند جو ہے بچے کا باپ، وہ ان عورتوں کو طلاق دے چکا ہے اور ان کی عدت گزر چکی ہے، اب تو ان پر اس کا نفقہ اور کسوہ نہیں تھے، لیکن چونکہ یہ اس کے بچے کو دودھ پلانے والی ہیں، تو اس وجہ سے اب ان کا نفقہ اور کسوہ کس پر ہیں؟ وہ بچوں کے باپ پر ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
تو بہرحال بھئی، آیت چلائی گئی ہے نفقے اور کسوہ کو کس پر واجب کرنے کے لیے؟ بچے کے باپ پر کہ نفقہ اور کسوہ کس پر ہیں؟ بچے کے باپ پر ہے۔ باقی یہ دو احتمال ویسے ذکر کر دیے کہ بھئی کس وجہ سے یہ اس پر واجب کیا گیا؟ یا تو اس وجہ سے واجب کیا گیا، یہ ان کی بیویاں ہیں، یا اس وجہ سے واجب کیا گیا کہ یہ ان کے بچوں کو دودھ پلانے والی ہیں، تو یہ اس کو صورت پر ہم محمول کریں گے بھئی۔ جب وہ طلاق دے چکا ہے اور ان کی عدت گزر چکی ہے، اس پر محمول کر لیں گے بھئی۔ ورنہ پہلی اگر طلاق نہیں دی، پھر تو وہ بیویاں ہیں، وہ پہلے والی صورت میں ہی آ جائیں گی بھئی۔
"فإن كان المراد به إيجاب نفقتها وكسوتها لأجل أنها زوجته ومنكوحته فلا مضايقة فيه"، اگر اس آیت کے ذریعے مراد وہ نفقے اور کسوہ کو واجب کرنا ہے "لأجل أنها زوجته ومنكوحته"، اس وجہ سے کہ یہ اس کی بیوی ہے اور اس کی منکوحہ ہے، "فلا مضايقة فيه"، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، یعنی یہ تو مناسب بات ہے کہ نفس کیونکہ نفقہ اور کسوہ ہونا بھی کس پر چاہیے؟ خاوند پر ہی ہونا چاہیے۔ اور اگر یہ اس وجہ سے واجب کیا جا رہا ہے کیونکہ بچوں کو دودھ پلانے والی ہیں، بھئی بیوی ہونے کی حیثیت سے تو نفقہ تو تھا ہی، تو صرف وہ صورت نکال لیں گے کہ جب نفقہ خاوند پر، جب طلاق دے چکا ہے، اس پر واجب نہیں تھا اور وہ طلاق کے بعد ہے بھئی۔ "وإن كان لأجل أنها مرضعة لولده فيحمل على أنهن مطلقات منقضية عدتهن"، اور اگر یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ دودھ پلانے والی ہے اس کے بچے کو، "فيحمل"، تو اس کو محمول کیا جائے گا اس بات پر کہ وہ ایسی مطلقہ ہیں "منقضية عدتهن"، کہ گزر چکی ہے جن کی عدت۔
مطلقہ موصوف۔ "منقضية عدتهن"، یہ اس کی صفت ہے۔ اور یہ "منقضية" اسمِ فاعل ہے۔ اسمِ فاعل کے لیے فاعل چاہیے، گزر چکی، کیا گزر چکی؟ "عدتهن"، یہ اس کے لیے فاعل ہے۔ تو "عدتهن" کو رفع کون دے رہا ہے؟ "منقضية"۔ اور یہ پھر "منقضية" اپنے فاعل سے مل کر یہ صفت بنے گی مطلقات کی۔ مطلقات کی صفت بھئی۔ اور اس کو صفت بحال متعلقہ کہتے ہیں، آپ نحو کے اندر پڑھ چکے ہیں کہ صفت دو قسم پر ہے: کبھی صفت بحالہٖ اور کبھی صفت بحال متعلقہ۔ اگر وہ صفت والا معنی موصوف کے اندر پایا جا رہا ہے، تو اس کو کہتے ہیں صفت بحالہٖ۔ اور اگر صفت والا معنی موصوف کے متعلق میں پایا جا رہا ہے، تو اس کو صفت بحال متعلقہ۔ مثلاً، میں کہتا ہوں: "رجل شجاع"، یہ شجاعت کس میں ہے؟ اسی رجل میں، تو یہ صفت بحالہٖ ہے۔ اور اگر میں کہوں: "رجل شجاع أبوه"، ایسا شخص کہ بہادر ہے اس کا باپ۔ اب یہ "شجاع" لفظوں میں تو صفت ہے رجل کی، لیکن معنی کے اعتبار سے صفت ہے کس کی؟ اس کے باپ کی۔ تو یہ صفت بحال متعلقہ ہے۔ یہاں پر بھی "منقضية" لفظوں میں تو صفت ہے مطلقات کی، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ صفت ہے عدت کی۔ کیوں؟ بھئی، گزرنے والی وہ مطلقات ہیں یا وہ عدت ہے؟ عدت ہے بھئی "منقضية"۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
بات یہاں تک اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ "فإن كان المراد به"، یہاں سے کیا بیان کیا؟ یہ ایک زائد بات ذکر کر رہے ہیں شارح، زائد بات۔ یہ آیت چلائی گئی ہے، یہ بتلانے کے لیے کہ جو بچوں کی مائیں ہیں، ان کا نفقہ اور کسوہ کس پر ہے؟ بچے کے باپ پر بھئی۔ اچھا، تو پھر اس میں دو صورتیں ہیں۔ دو صورتیں یہ کہ یا تو وہ عورتیں نکاح میں ہوں گی، یا ان کو کیا دے چکا ہے؟ طلاق دے چکا۔ دونوں صورتوں میں نفقہ اور کسوہ آئے گا۔ اگر نکاح میں ہیں، پھر تو سیدھی سی بات ہے بھئی، وہ اس کی منکوحہ ہے، بیوی ہے، اس پر خاوند پر نفقہ آنا ہی چاہیے۔ لیکن اگر طلاق دے چکا ہے اور عدت گزر گئی، تو اب وہ چونکہ اس کے بچے کو دودھ پلا رہی ہے، تو اب بطورِ اجرت کے اس کا نفقہ اور کسوہ کس پر ہو گا؟ اس بچے کے باپ پر ہو گا بھئی۔
"وعلى كل تقدير سيق لإثبات النفقة"، اور ہر تقدیر پر بھئی، اس آیت کو چلایا گیا ہے نفقے کو ثابت کرنے کے لیے۔ "وفيه إشارة إلى أن النسب إلى الآباء"، اور اس میں اشارہ ہے کہ نسب جو ہے، وہ آباء یعنی باپوں کی طرف ہوتا ہے۔ نسب کس کی طرف؟ باپ کی طرف ہوا کرتا ہے بھئی۔ یہ اس آیت میں اشارہ ہے۔ نفقے کے اثبات کے اعتبار سے یہ عبارۃ النص ہے، اور نسب باپ کے لیے ثابت ہے، اس کے لیے یہ اشارۃ النص ہے بھئی۔
"لأن المعنى"، اس لیے کیونکہ معنی یہ ہوا اس آیت کا: "وعلى الذي ولد الولد لأجله"۔ دیکھیے، آیت میں آیا تھا: "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ"۔ شارح اس کا ترجمہ کر رہے ہیں "الْمَوْلُودِ لَهُ" کا۔ آیت میں کیا تھا؟ "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ"۔ وہ کہتے ہیں: "وعلى الذي ولد الولد لأجله"، وہ شخص، "ولد الولد"، کہ جنم دیا گیا ہے بچے کو "لأجله"، اس کی وجہ سے۔ وہ شخص جس کی وجہ سے بچے کو جنم دیا گیا ہے، یعنی اس کا والد مراد ہوا۔ اس پر "رزق الوالدات"، آیت میں تھا "رِزْقُهُنَّ"، ضمیر کا مرجع بتلا دیا: "رزق الوالدات"، ان پر ان ماؤں کا رزق ہے، ان کا نفقہ ہے "وكسوتهن"، اور ان کے کپڑے ہیں۔ "فالنسبة إليه بلام الاختصاص"، پس نسبت باپ کی طرف جو ہے، وہ لامِ اختصاص کے ذریعے ہے بھئی۔ وہ شخص جس کے لیے بچے کو جنم دیا گیا، اس کی طرف نسبت کس کے ذریعے کی گئی؟ لامِ اختصاص کے ذریعے بھئی۔ بھئی، لامِ اختصاص، جو ایک چیز کے دوسرے کے ساتھ اختصاص پر دلالت کرتا ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں: "المال لزيدٍ"، کیا معنی؟ یہ کس کا مال ہے؟ زید کا، یعنی یہ زید کے ساتھ خاص ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح کیا آیا؟ "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ"، "لَهُ" آیا، لامِ اختصاص آیا۔ معلوم ہوا یہ بچہ اس کا نسب کس کے لیے ہے؟ اس شخص کے لیے ہے جس کے لیے اس کو جنم دیا گیا ہے، اس کا نسب بھی اسی کے لیے ہے بھئی۔ یہ کس نے بتلایا؟ اسی کے ساتھ خاص ہے، "لَهُ" میں جو لام ہے، اس نے بتلایا بھئی۔
"فالنسبة إليه بلام الاختصاص يعلم به أن الأب هو الذي اختص بهذه النسبة"، پس نسبت کی گئی اس شخص کی طرف جو وہ لامِ اختصاص کے ذریعے ہے، "يعرف به"، اس کے ذریعے جان لیا گیا "أن الأب هو الذي اختص بهذه النسبة"، کہ باپ جو ہے، وہی ہے جو خاص ہے اس نسبت کے ساتھ "ولد الولد لأجله"، جس کے لیے کیا کیا بچے کو جنم دیا گیا، یعنی بچہ اس کے لیے ساتھ خاص ہے۔ "بخلاف لفظ الوالد والأب"، بخلاف لفظِ والد اور اب کے۔ "بخلاف لفظ الولد"، "ولد" ہے آپ کی کتابوں میں؟ والد ہونا چاہیے بھئی۔ اگر والد نہیں ہے، ولد ہے، تو پھر الف ڈالیں بھئی، والد ہونا چاہیے۔ "بخلاف لفظ الوالد والأب"، بخلاف والد اور اب کے لفظ کے، "فإنه لا يدل على هذا المعنى"، اس لیے کیونکہ وہ دلالت نہیں کرتا اس معنی پر، یرحمک اللہ۔ "إذ ليس فيه لام الاختصاص"، اس لیے کیونکہ اس کے اندر لامِ اختصاص نہیں ہے۔ بھئی، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں: "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ"، وہ شخص جس کے لیے بچے کو جنم دیا گیا، اس پر ہے ان ماؤں کا رزق اور ان کے کپڑے۔
تو یہ یہ بات اس طرح بھی بیان ہو سکتی تھی: "على الوالد رزقهن وكسوتهن"، والد پر کیا ہے؟ معنی یہی بنتا تھا یا نہیں بھئی اس میں؟ یا یوں کہا جاتا: "على الاب رزقهن وكسوتهن"، باپ پر ان کا رزق اور ان کا کسوہ ہے۔ لیکن اللہ نے کس انداز میں ذکر فرمایا؟ "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ"، اور اس ترکیب کے اندر لامِ اختصاص آ گیا۔ اور اس لامِ اختصاص نے ایک اور فائدہ دیا، وہ یہ کہ اس بچے کا اختصاص ہے اس شخص کے ساتھ، یعنی اس کی نسبت اسی کے ساتھ خاص ہے، یعنی نسب اسی کے لیے ثابت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہاں والد یا اب کے طور پر بھی ذکر کیا جا سکتا تھا، لیکن اس صورت میں لامِ اختصاص نہ آتا اور یہ فائدہ معلوم نہ ہوتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: یہی بات بیان کر رہے ہیں: "بخلاف لفظ الوالد والأب فإنه لا يدل على هذا المعنى إذ ليس فيه لام الاختصاص"، بخلاف والد اور اب کے لفظ کے کہ وہ دلالت نہیں کرتا اس معنی پر، اس لیے کیونکہ اس میں لامِ اختصاص نہیں ہے۔ "وكذا يشير هذا"، اور اسی طرح یہ جو ہے نسبت جو لامِ اختصاص ہے، یہ اشارہ کر رہا ہے اس بات کی طرف "إلى أن للأب حق التملك في مال ولده"، کہ باپ جو ہے، اس کو مالک ہونے کا حق ہے اپنے اپنی اولاد کے حق میں۔ لامِ اختصاص آیا نا؟ لامِ اختصاص۔
لامِ اختصاص تو یہ فائدہ دے رہا تھا کہ اس بچے کو اس شخص کا مملوک ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ لیکن وہاں مملوک تو ہو نہیں سکتا کہ آزاد ہے۔ تو لہٰذا بچے میں تو اثر ظاہر نہیں ہوا اس کا، لیکن بچے کے مال میں اثر ظاہر ہو گا کہ باپ بوقتِ ضرورت، بوقتِ حاجت اس کے مال کو استعمال کر سکتا ہے۔ باپ مثلاً اگر فقیر ہے اور بیٹا اس کا مالدار ہے، مثلاً کسی نے وصیت کر دی اس کے بیٹے کے لیے، اس کو مال مل گیا بہت سارا۔ تو اب اس صورت میں ضرورت اور حاجت کے وقت جو ہے، باپ کیا کر سکتا ہے؟ اس کے مال کو استعمال کر سکتا ہے بھئی، کیونکہ وہ اسی کا مملوک ہے بھئی۔ لیکن حاجت کے وقت بھئی، بغیر حاجت کے نہیں بھئی۔ جبکہ باپ خود فقیر ہے، کچھ کھانے پینے کو نہیں، تو اسی کے ذریعے کھانے پینے کا انتظام کر سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: "وكذا يشير"، یہ اسی طرح یہ لام اشارہ کرتا ہے "إلى أن للأب حق التملك في مال ولده"، کہ باپ جو ہے، اس کو مالک ہونے کا حق ہے "في مال ولده"، اپنی اولاد کے مال میں "عند الحاجة"، ضرورت کے وقت "لأنه مملوكه"، اس لیے کیونکہ وہ اس کا مملوک ہے۔ ہونا تو اس کو مملوک ہی چاہیے تھا، لیکن مملوک تو ہو نہیں سکتا، کیونکہ آزاد ہے، تو پھر کس میں اثر ظاہر ہو گا؟ اثر ظاہر ہو گا اس کے بچے میں تو ظاہر نہیں ہوا، پھر اس کے مال میں اثر ظاہر ہو گا بھئی۔ تو وہ مال اس کا گویا اسی کا کیا ہے؟ مملوک ہے۔ "وإلى أنه لا يشارك الوالد أحد في نفقة ولده"، اور یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے کہ شریک نہیں ہو گا والد کے ساتھ کوئی ایک بھی "في نفقة ولده"، اپنی اولاد کے نفقے میں۔
بھئی، اولاد کا نفقہ والد پر ہے، کیونکہ لامِ اختصاص آیا بھئی۔ تو اس نے بتلایا کہ اس اولاد کا اختصاص اس شخص کے ساتھ ہے۔ تو جب اس کے ساتھ اختصاص ہے، تو اس کا نفقہ بھی انہی پر ہے بھئی۔ اور رشتہ دار بھی ہیں، اور باپ بھی مالدار ہے، اور رشتہ دار مثلاً ماں بھی مالدار ہے۔ اب باپ اس کو کہتا ہے: "تم اس پر خرچ کرو"، نہیں نہیں بھئی، یہ کس کی ذمہ داری ہے؟ باپ کی ذمہ داری ہے، اس کو خرچ کرنا پڑے گا بھئی، جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے بھئی۔
یہ معنی ہے اور اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ "لا يشارك الوالد أحد"، کہ شریک نہیں ہو گا والد کے ساتھ کوئی ایک بھی رشتہ داروں میں سے "في نفقة ولده"، اس کی اولاد کے نفقے میں "كما لا يشاركه في هذه النسبة أحد"، جیسے کوئی اس باپ کے ساتھ شریک نہیں ہے اس نسبت کے اندر۔ "على ما فصلنا كل ذلك في التفسير الأحمدية"، بناء بر اس کے جو ہم نے تفصیل بیان کر دی اس سارے کی تفصیل بیان کر دی تفسیرِ احمدیہ کے اندر بھئی۔
چلیے بس بھئی، "هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام"۔