اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
وإذا قيل لهم اتقوا ما بين أيديكم وما خلفكم لعلكم ترحمون
وما تأتيهم من آية من آيات ربهم إلا كانوا عنها معرضين
وإذا قيل لهم اور جب ان سے کہا جاتا ہے جب ان مکہ والوں سے کہا جاتا ہے اتقو ڈرو تم
کہ ڈرو تم ما وہ چیز بین أيديكم جو تمہارے سامنے ہے وما خلفكم اور وہ جو تمہارے پیچھے ہے لعلكم ترحمون تاکہ تم پر رحم کیا جائے
وإذا قيل لهم اتقوا ما بين أيديكم وما خلفكم لعلكم ترحمون اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ ڈرو تم اس سے جو تمہارے سامنے ہے اور وہ جو تمہارے پیچھے ہے لعلكم ترحمون تاکہ تم پر رحم کیا جائے
شرط ہے مولانا یہ جزا محذوف ہے جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم ڈرو اس سے جو تمہارے سامنے اور پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے
اعرضوا یہ کیا کرتے ہیں اعراض کرتے ہیں جزا محذوف ہے بھئی
اور اس جزا پر اگلی آیت دلالت کر رہی ہے وما تأتيهم من آية من آيات ربهم إلا كانوا عنها معرضين بھئی تو یہ اگلی آیت اس جزا محذوف پر دلالت کر رہی ہے
کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو تم وہ جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو یہ اعراض کرتے ہیں منہ موڑتے ہیں اس سے
بھئی ڈرو تم وہ جو تمہارے سامنے ہے اور وہ جو تمہارے پیچھے ہے اس سے کیا مراد ہے
تو ما بین أيديكم جو تمہارے سامنے ہے
ما سے مراد ہے عذاب عذاب
وہ عذاب جو تمہارے سامنے ہے
یعنی دنیاوی عذاب بھئی
وما خلفكم اور وہ جو تمہارے پیچھے ہے یعنی اخروی عذاب
دنیاوی عذاب بھئی جو مختلف صورتوں میں آتا ہے آ سکتا ہے جیسے
بدر کے دن ان کے بڑے بڑے رؤسا کو کیا کر دیا گیا قتل کر دیا گیا بھئی
اور تو جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم ڈرو اس عذاب سے جو تمہارے سامنے ہے یعنی دنیا میں وما خلفكم اور جو تمہارے پیچھے ہے یعنی آخرت میں اس سے ڈرو اور نیک عمل کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو یہ اعراض کرتے ہیں اور منہ موڑتے ہیں اس سے
معنی سمجھ میں آگیا بھئی
وإذا قيل لهم اور جب ان سے کہا جاتا ہے اتقوا ما بين أيديكم وما خلفكم کہ ڈرو تم اس عذاب سے جو تمہارے سامنے ہے وما خلفكم اور اس عذاب سے جو تمہارے پیچھے ہے لعلكم ترحمون تاکہ تم پر رحم کیا جائے
تو یہ اعراض کرتے ہیں
وما تأتيهم من آية من آيات ربهم وما تأتيهم اور نہیں آتی ان کے پاس
من آية کوئی آیت
اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی آیت من آيات ربهم ان کے رب کی آیتوں میں سے
إلا كانوا عنها معرضين مگر یہ لوگ اس سے اعراض کرتے ہیں
یعنی ان کے پاس اس کے ان کے رب کی آیتوں میں سے جو بھی آیت آتی ہے یہ اس سے کیا کرتے ہیں یہ اس سے اعراض کرتے ہیں منہ موڑتے ہیں اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے
یعنی کوئی بھی حکم آتا ہے
ان کے پروردگار کے احکامات میں سے تو یہ اس سے روگردانی کرتے ہیں
وما تأتيهم من آية من آيات ربهم إلا كانوا عنها معرضين اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی آیت ان کے رب کی آیتوں میں سے إلا كانوا عنها معرضين مگر یہ لوگ عنها اس آیت سے معرضين اعراض کرتے ہیں
وإذا قيل لهم اور جب کہا جاتا ہے ان سے أنفقوا انفقا ينفقو کے معنے خرچ کرنا أنفقو کہ تم خرچ کرو مما اس میں سے رزقكم الله جو رزق دیا ہے تمہیں اللہ نے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا ہے تمہیں اللہ نے
قال الذين كفروا للذين آمنوا تو کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا للذين آمنوا ان لوگوں سے جو ایمان لے کر آئے
تو یعنی کافر کہتے ہیں ایمان والوں سے
قال الذين كفروا للذين آمنوا تو کہتے ہیں کفر کرنے والے ایمان لانے والوں سے أنطعم من لو يشاء الله أطعمه
أنطعم کیا ہم کھلائیں من اس کو لو يشاء الله اگر اللہ چاہتے أطعمه تو اس کو کھلاتے
بھئی مکہ والوں میں سے
جو ایمان لے آئے مومنین
تو
بہت سے ان میں غریب غربا تھے
اور ان کے جو جب یہ ایمان لے آتے تو ساری ان کی قوم والے ان کے دشمن ہو جاتے ان کے قبیلے والے
اور
یہ ان سے کہتے کہ ہماری کچھ مدد کرو اور ان کے اپنے رشتے دار تھے قریبی تھے صرف یہ ایمان لے آئے اور وہ ایمان نہیں لاتیں تو ان کے ہر بات میں ان کو تکلیف دینے کی پھر وہ کوشش کرتے
یہ ان سے کہتے کہ جو تمہیں اللہ نے رزق دیا ہے مال دیا ہے غریبوں کو بھی دو ان پر بھی خرچ کرو تو وہ جواب میں کہتے بھئی
کیا
ہم اس کو کھلائیں اگر اللہ چاہتا تو اللہ اس کو کھلا دیتا
جن کو اللہ نے نہیں دیا معلوم ہوا اللہ ان کو دینا نہیں چاہتے تو ہم کیوں اس کو دیں بھئی
حالانکہ غریب کی مدد کے وہ بھی قائل تھے بھئی وہ بھی کہتے تھے کہ غرباء اور مساکین پر کیا کرنا چاہیے
خرچ جیسے ہر انسان کہتا ہے بھئی کیا کرنا چاہیے غریب اور مسکین کی مدد کرنی چاہیے تو یہ تو ہر انسان اس بات کو مانتا ہے وہ بھی اس بات کو مانتے تھے لیکن ان کے ضد اور تعصب کا عالم دیکھیں کہ جب وہ ایمان والے ان کو یہ بات کہتے ہیں تو اب ضد میں آ کر کیا کہتے ہیں
کہ ہم کیوں کھلائیں اس کو بھئی جس کو اللہ نے نہیں کھلایا اگر اللہ چاہتا تو اس کو کھلا دیتے
تو اس کو
کھلا دیتے بھئی
قال الذين كفروا کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا للذين آمنوا ان لوگوں سے جو ایمان لے کر آئے أنطعم من لو يشاء الله أطعمه کہ کیا ہم کھلائیں اس کو لو يشاء الله کہ اگر اللہ چاہتے أطعمه تو اس کو کھلاتے
تو جب اللہ نے نہیں کھلایا اللہ نے نہیں دیا تو ہم کیوں کھلائیں ہم کیوں ان کو
کچھ دیں
إن أنتم إلا في ضلال مبين إن نفی کے لیے إن أنتم نہیں ہو تم
إلا مگر في ضلال مبين واضح گمراہی میں
نہیں ہو تم مگر واضح گمراہی میں یعنی تم تو واضح گمراہی ہی میں ہو
اگر
یہ قول ہو کفار ہی کا
پچھے بھی انہی کی بات چل رہی تھی أنطعم من لو يشاء الله أطعمه
کفار کا قول ہو
تو پھر اس صورت میں یہ وہ مومنین کو کہہ رہے ہیں بھئی کہ تم تو گمراہی ہی میں پڑے ہوئے ہو بھئی کیسی باتیں کرتے ہو جسے اللہ نے نہیں دیا اسے ہم کیوں کھلائیں بھئی
جسے اللہ نے نہیں دیا اسے ہم کیوں کھلائیں تم گمراہی میں پڑے ہو گمراہی کی باتیں کر رہے ہو
اور گمراہی کے راستے کو تم نے اختیار کیا ہے یہ وہ کفار کہتے تھے مومنین سے
لیکن ظاہر یہی ہے کہ یہ اللہ کا قول ہے بھئی
وہ مسلمانوں کو یوں کہا کرتے تھے اللہ آگے فرما رہے ہیں ان مکہ والوں سے ان أنتم إلا في ضلال مبين نہیں ہو تم مگر واضح گمراہی کے اندر پڑے ہوئے ہو
کس طرح کی باتیں کرتے ہو
اگرچہ تم خود بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ غرباء کی کیا کرنی چاہیے مدد کرنی چاہیے ان پر مال خرچ کرنا چاہیے مگر یہ جب لوگ ایمان لے آئے تو تم ان کے ایسے دشمن بن گئے ہو کہ اب ان کو کچھ دینا بھی تم مناسب نہیں سمجھتے
ويقولون متى هذا الوعد إن كنتم صادقين
ويقولون اور وہ کہتے ہیں
مکہ والے متى هذا الوعد کب ہوگا یہ وعدہ إن كنتم صادقين اگر تم سچے ہو
اور وہ مکہ والے کہتے ہیں بھئی مومنین
مومن کیا کہتے ہیں
کہ بھئی
قیامت قائم ہوگی اور جس میں ہر شخص کو اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا پڑے گا ایمان والے جنت میں جائیں گے اور کفار جو ہیں جہنم کے اندر جائیں گے
تو وہ بطور مذاق کے کہتے تھے بھئی کب ہوگا وہ وعدہ بھئی جو جن سے تم ہمیں ڈراتے رہتے ہو کہ اس طرح کا دن آئے گا اور
اس میں جزا و سزا ہوگی کب آئے گا وہ دن ہمیں بتاؤ تو صحیح کب آئے گا وہ دن اگر تم سچے ہو تو ہمیں بتاؤ کب آئے گا
ويقولون متى هذا الوعد إن كنتم صادقين اور وہ کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو
ما ينظرون إلا صيحة واحدة
ما ينظرون نہیں انتظار کرتے یہ لوگ إلا صيحة واحدة مگر ایک چیخ کا صحہ کہتے ہیں چیخ کو
اسی طرح جو سخت آواز ہو بھئی
سخت آواز
تو
یہ انتظار نہیں کرتے
یہاں سخت آواز کا ترجمہ کر لیں بھئی ما ينظرون یہ انتظار نہیں کرتے إلا صيحة واحدة مگر ایک سخت آواز کا
تأخذهم
کہ وہ ان کو پکڑ لے
وہم يخصمون
اس حال میں کہ یہ جھگڑ رہے ہوں
کہ وہ ان کو پکڑ لے وہ سخت آواز کیا کرے ان کو پکڑ لے وہم يخصمون اس حال میں کہ یہ آپس میں یہ کیا کر رہے ہوں جھگڑ رہے ہوں
يخصمون
یہ باب افتعال سے ہے اصل میں تھے يختصمون يختصمون
پھر
قوانین آپ نے صرف میں پڑھے ہیں تا کو ص کر کے ص میں ادغام کیا گیا
تا کی حرکت خا کو دے دی گئی اور پھر اس کو ص کر کے ص میں ادغام کیا گیا کیا بن گیا
يخصمون يخصمون
سمجھ میں آیا بھئی تا کا فتحہ کس کو دے دیا خا کو
اور تا کو ص کر کے ص میں ادغام کر دیے گئے يخصمون
پھر
ص کے کسرے کی وجہ سے ما قبل خا کو بھی کسرہ دے دیا گیا کیا بن گیا
يخصمون
يخصمون
ما ينظرون إلا صيحة واحدة
یہ انتظار نہیں کر رہے مگر ایک سخت آواز کا تأخذهم کہ جو ان کو پکڑ لے وہم يخصمون اور یہ یہ جھگڑ رہے ہوں گے
یہ جھگڑ رہے ہو رہے ان کو ایک سخت آواز پکڑ لے
صيحۃ واحدہ سے مراد بھئی
پہلی مرتبہ صور کا پھونکنا
اس سے کیا مراد ہے
پہلی مرتبہ جو صور پھونکا جائے گا وہ مراد ہے
پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور سب ہلاک ہو جائیں گے بھئی
اور پھر چالیس سال کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا اور پھر سب زندہ ہو جائیں گے بھئی
سمجھ میں آیا بھئی پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا پھر کیا ہوگا
سب مر جائیں گے بھئی
اور اس وقت جب پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا کوئی مومن اس وقت زندہ نہیں ہوگا روئے زمین پر صرف کفار ہوں گے
صرف کفار بھئی
سمجھ میں آیا حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لائیں گے
اور پھر وہ دجال کو قتل کریں گے اور پھر پوری دنیا میں اسلام ہی اسلام ہوگا کفر
ختم ہو جائے گا ایک بھی کافر روئے زمین پر باقی نہ رہے گا
फिर उसके बाद ज़माना कुछ गुज़रے گا پھر آہستہ آہستہ لوگ کفر کی طرف جانے لگیں گے اور گمراہیاں اختیار کرنے لگیں گے
اور
جب کفر کچھ بڑھ جائے گا پھر اس کے بعد مومنین کم رہ جائیں گے پھر اس کے بعد
جو ہیں مومنین جو ہیں ان کا انتقال ہو جائے گا ان کو اللہ موت دے دیں گے اور صرف کفار رہ جائیں گے بھئی دنیا میں تو پھر اس وقت جب تک بھئی آپ جانتے ہیں جب تک زمین پر اللہ کا نام لیا جاتا رہے گا یہ قائم رہے گی جب اللہ کا نام لینے والا کوئی نہ رہے گا
تو پھر اس نظام کو لپیٹ دیا جائے گا ختم کر دیا جائے گا چنانچہ مومنین ختم ہوئے اب اللہ کا نام لینے والا کوئی نہ رہا صرف کفار رہ گئے تو پھر اس وقت صور پھونکنے کا حکم دیا جائے گا اللہ کی طرف سے
اور تمام لوگ تمام کفار اسی وقت مر جائیں گے
اور جیسے پہلے بیان ہو چکا کہ پھر اس کے بعد
چالیس سال کا عرصہ گزرے گا
چالیس سال کا عرصہ گزرے گا اور پھر اس کے بعد عرش کے نیچے سے ایک بارش ہوگی
اور اس سے تمام جسم زمین سے اگ آئیں گے جس طرح کے زمین سے پودے اگتے ہیں
اور پھر
صور پھونکا جائے گا
اور روحوں کو چھوڑ دیا جائے گا تو جسم اگ چکے ہر روح اپنے اپنے جسم کو پہنچ جائے گی بھئی
سب زندہ ہو جائیں گے اور پھر وہ
قیامت قائم ہوگی اور حساب کتاب کا وہ نظام شروع ہو جائے گا
جس سے بار بار انسان کو ڈرایا جا رہا ہے
کہ انسان اس کے لیے تیاری کر لے دعا کرو اللہ تعالی
قیامت کے دن ہمارا شمار ان مومنین میں فرمائے جن پر وہ دن نماز کے وقت کی طرح جلدی گزر جائے گا بھئی
آمین
بہت ہولناک دن ہوگا بھئی
اتنا ہولناک دن
کہ
ما جو اپنی جان تو دے دیتی ہے اپنے بچے کی حفاظت کرتی ہے اللہ بطور مثال کے فرماتے ہیں کہ اس دن
ما اپنے بچے سے بھی غافل ہو جائے گی اتنی سختی والا وہ دن ہوگا
تو یہ صيحۃ واحدہ سے کیا مراد ہے
پہلی مرتبہ جو صور میں پھونکا جائے گا
بھئی یہ کائنات اتنی عظیم ہے اتنی عظیم ہے جوں جوں سائنس ترقی کر رہی ہے انسان کی حیرت
بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اتنی بڑی کائنات بھئی۔ بھئی دیکھیے یہ زمین جو ہے زمین پہلے بھی ذکر ہو چکا یہ گیند کی طرح ہے، ہاں خود بین سے تھوڑی بالکل گول نہیں ہے، تھوڑی سی پچکی ہوئی ہے اور دبی ہوئی ہے اور اس زمین جو ہے مطلب ایک طرف اگر پاکستان ہے تو امریکہ بالکل دوسری جانب آتا ہے۔
اور آج کل جو بہترین سواریاں، تیز ترین سواریاں ہوائی جہاز ہیں، ان کے ذریعے بھی مسافر جاتے ہیں یہاں سے امریکہ تو ان کو تقریبا چوبیس گھنٹے لگ جاتے ہیں، چوبیس گھنٹے، یہ تیز ترین سواری میں۔
اور پھر واپس آئیں تو چوبیس گھنٹے اور لگ جائیں گے یعنی ایک چکر پہ کتنا ہے، دو دن لگیں گے، دو دن، دو دن ایک چکر میں لگیں۔
اور اس وقت تک سائنسدانوں نے جو تیز ترین چیز ابھی تک معلوم کی ہے اس کائنات کے اندر وہ روشنی ہے۔
روشنی ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر کرتی ہے۔
ایک سیکنڈ میں تین لاکھ، ہر سیکنڈ میں یہ تین لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی چلی جاتی ہے، اتنی رفتار ہے اس کی بھئی۔
روشنی اتنی رفتار اندازہ لگائیے کہ یہ جو زمین کا تیز تر سواریوں، تیز ترین سواری میں چکر لگانے میں اٹھتالیس گھنٹے لگ گئے، روشنی اس ایک سیکنڈ میں دنیا کے گرد بارہ مرتبہ گھوم جاتی ہے بھئی۔
اگر یہ گھوم سکے، گھومتی تو روشنی نہیں، سیدھی جاتی ہے لیکن اگر اسی رفتار سے یہ گھومے دنیا کے گرد تو ایک سیکنڈ میں بارہ چکر، ہمیں ایک چکر میں اٹھتالیس گھنٹے لگے تھے، یہ ایک سیکنڈ میں بارہ چکر، ہر سیکنڈ کے اندر تو یہ اس کی رفتار کا اندازہ لگائیں بھئی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ۔
اور میلوں میں ہو تو میل بڑا ہوتا ہے، ایک لاکھ چھاسی ہزار میل فی سیکنڈ اس کی رفتار ہے۔
اور یہ کائنات اتنی وسیع ہے انسان کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہتی بھئی اس کے انسان جب غور کرے پھر۔
کہ جب اوپر کی طرف ہم جاتے ہیں تو پھر میلوں کے ذریعے پیمائش کوئی حیثیت ہی نہیں رہتی، پھر میلوں کو وہ چھوڑ دیتے ہیں۔
پھر پیمائش، پھر پیمائش کی بنیادی اکائی وہ مقرر کرتے ہیں جو سائنسدان وہ نوری سال ہے بھئی نوری سال۔
نوری سال، یہ نوری سال وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے فی سیکنڈ تین لاکھ کلومیٹر کی رفتار سے۔
اب آپ ضربیں دیں، پتہ نہیں کہاں سے کہاں بات پہنچے، ایک سیکنڈ میں تین لاکھ ہے تو ساٹھ سیکنڈ یعنی ایک منٹ میں کتنا ہوگا۔
ایک سو اسی لاکھ یعنی تقریبا پونے دو کروڑ میں، یہ ایک منٹ میں چلی جائے گی روشنی۔
ساٹھ منٹ میں کتنی ہوگی؟ پھر اسی کو ساٹھ سے ضرب دیں۔
پھر چوبیس گھنٹے میں کتنی ہوگی؟ جو جواب آئے اس کو پھر چوبیس سے ضرب دیں۔
وہ پتہ نہیں کتنا ہوگا۔
پھر چوبیس یہ تو ایک دن کا فاصلہ ہوگا، اس کو پھر تین سو پینسٹھ سے ضرب دیں تو ایک سال کا فاصلہ نکلے گا۔
پھر تو شاید اتنے صفر بن جائیں ایک صفحے پر وہ پورے بھی نہ آئیں آپ کے۔
تو یہ دیکھو تو فاصلہ اتنا بڑھ جائے تو لہٰذا وہ میلوں میں تو یہاں حساب ہو ہی نہیں سکتا تو وہ پھر نوری سال سے حساب کرتے ہیں، ایک نوری سال، دو نوری سال، تین نوری سال، چار نوری سال۔
تو چنانچہ فاصلہ پھر بیان ہوتا ہے نوری سالوں کے ذریعے بھئی۔
کہ مثلاً بھئی یہ ستارہ ہم سے، ان کا فاصلہ نوری سالوں میں بتایا جاتا ہے، اتنے نوری سال دور ہے، اتنے نوری سال دور ہے، قطبی تارا آپ نے سنا ہوگا نام بھئی۔
قطبی تارا، اس کی روشنی یہ اتنے فاصلے پر ہے کہ اس کی روشنی زمین کو پچاس ہزار نوری سال، پچاس ہزار سال میں پہنچتی ہے بھئی۔
اسی رفتار سے روشنی چلے تو پچاس ہزار سال بعد وہ زمین کو پہنچے گی، کتنا فاصلہ ہے بھئی۔
کتنا فاصلہ؟ اور پھر بعض ستارے اور کہکشاں ایسی جن کی روشنی لاکھوں سال میں پہنچتی ہے زمین تک بھئی، لاکھوں سال۔
بھئی روشنی تو ان سے چلی مسلسل پہنچ رہی ہے، لیکن اس وقت جو پہنچ رہی ہے یہ وہ روشنی ہے مطلب قطبی تارے کی جو پچاس ہزار سال پہلے اس سے چلی تھی۔
تو یہ ہم اس کی پچاس ہزار سال پہلے والی حالت دیکھ رہے ہیں اس وقت۔
اس وقت وہ ہے یا فنا ہو چکا ہے، ہمیں یہ بھی نہیں پتہ۔
روشنی تو چلتی آ رہی ہے، جب فنا ہوگا تو روشنی روکے گی۔
سمجھ میں آیا؟ تو آخری کنارہ تو روشنی کا چلتا آ رہا تھا بھئی، تو وہ پچاس ہزار سال بعد جب پہنچے گا پھر ہمیں پتہ لگے گا، اوہ، یہ ستارہ تو کدھر چلا گیا، غائب ہوا۔
لیکن وہ اس وقت نہیں ختم ہوا، وہ کس وقت ختم ہوا تھا؟ پچاس ہزار سال پہلے ختم ہوا تھا، اور میں نے بتایا بعض ستاروں کہکشاؤں کی روشنی لاکھ سال میں، بات کی کئی لاکھ سال میں، بعضوں کی پچاس لاکھ سالوں میں پہنچتی ہے۔
بعضوں کی کروڑ سال میں پہنچتی ہے یہ زمین تک روشنی بھئی۔
بعضوں کی روشنی عرب سال میں پہنچتی ہے بھئی، عرب سال تک روشنی چلے پھر جا کر زمین کو پہنچے، کئی کئی عرب نوری سال کے فاصلے پر ستارے اور کہکشائیں اتنی وسیع کائنات ہے کہ تصور نہیں کر سکتے۔
آپ قطبی تارے کی طرف چلیں ایک جہاز کے اندر جس کی رفتار روشنی جتنی ہو، اسی سال بعد آپ مر جائیں گے۔
اگر اسی سال عمر ہو گئی آپ کی، اسی سال اور جہاز چلتا رہے تو یہ پچاس ہزار سال بعد جا کر اس کو پہنچے گا اسی رفتار سے۔
اتنی وسیع کائنات ہے۔
اور سائنسدانوں کو ابھی تک پہلا آسمان نظر نہیں آیا، کیونکہ پہلا آسمان ان ستاروں سے اوپر ہے بھئی، ابھی اتنی طاقتور دوربینیں ہی نہیں بنی کہ اس سے آگے کچھ نظر آ سکے بھئی۔
کئی عرب نوری سال کے فاصلے پر پہلا آسمان ہے بھئی۔
کئی عرب ہوگا یا کئی کھرب ہوگا، یہ بھی ہم نہیں جانتے۔
پھر جتنا پہلا آسمان ادھر سے دور ہے، اتنا ہی موٹا بھی ہے۔
اس کی موٹائی بھی اتنی ہے۔
اور پھر اس سے اگلا آسمان اس سے اتنا ہی دور ہے جتنا یہاں سے پہلا آسمان دور ہے۔
اور وہ بھی پھر اتنا ہی موٹا ہے جتنا اس سے دور ہے بھئی، اندازہ تو لگاؤ اللہ کی کائنات کتنی وسیع ہے بھئی، انسان کی کوئی حیثیت ایک ذر، یہ دنیا کی حیثیت صحرا میں جیسے ذرے کی ہوتی ہے، وہ حیثیت بھی نہیں رہتی بھئی، ذرے کی بھی کچھ نہ کچھ حیثیت ہے صحرا کے اندر، زمین کی اس کائنات میں وہ حیثیت بھی نہیں ہے۔
اور پھر اسی طرح تیسرا آسمان بھی اس سے اتنا ہی دور اور پھر اتنا ہی موٹا، پھر چوتھا، پانچواں، چھٹا، ساتواں۔
ساتواں۔
اور پھر اس کے اوپر عرش ہے مولانا عرش الٰہی۔
اور عرش کے یہ عالم کتنا بڑا ہے، آپ تصور تو کریں بھئی۔
اور عرش کے سامنے اس عالم کی یہ حیثیت ہے جیسے ایک بہت بڑے جنگل میں چھوٹا سا چھلا پھینکیں آپ بھئی۔
انگوٹھی وغیرہ کا کوئی چھلا ہو چھوٹا سا یہ پھینکیں اس کے جنگل میں کیا حیثیت۔
عرش۔
یہ بھی بطور مثال کے پتہ نہیں عرش کتنا ہوگا تمہارے تصور سے بھی بالا۔
اور صور پھونکنے کے لیے حضرت اسرافیل علیہ السلام منتظر ہیں بھئی۔
حضرت اسرافیل علیہ السلام وہ صور پھونکیں گے، اور۔
وہ صور منہ لیے منتظر کھڑے ہیں۔
कब আল্লাহ की तरफ से हुकुम आता है और वह صور پھونکیں بھئی، تو وہ صور منہ لیے ہوئے منتظر کھڑے ہیں جیسے ہی حکم ہوگا فوراً حکم الٰہی کی تعمیل ہوگی۔
اور وہ خود کتنے بڑے ہوں گے، اس کا تو اندازہ چھوڑو، ان کے صور کا اندازہ لگاؤ۔
کہ ان کا صور جس کو وہ پھونکیں گے، وہ اتنا بڑا ہے کہ اس کا جو منہ ہے یا اس میں جو سوراخ ہیں، یہ پورا عالم اس میں سے آرام سے گزر جائے بھئی، وہ صور اتنا بڑا۔
اور اس کو پھونکنے والے تھے حضرت اسرافیل علیہ السلام وہ کتنے عظیم ہوں گے جن کو اللہ نے بنایا بھئی۔
کہتے ہیں حضرت اسرافیل علیہ السلام اتنا بڑا وجود ہے ان کا کہ گردن کے درمیان سے لے کر کان کی لو تک، یہ کان کا جو نچلا کنارہ ہے بھئی گردن کا نچلا کنارہ جو کندھے سے جڑا ہوا ہے، یہاں سے لو تک کتنا ہے؟ تین چار انچ کا فاصلہ ہے۔
اس کا آدھا، یعنی آدھی گردن سے کان کی لو تک جو فاصلہ ہے وہ حضرت اسرافیل علیہ السلام کا اتنا ہے کہ آٹھ سو سال کی مسافت ہے بھئی، آٹھ سو سال۔
آٹھ سو سال۔
کہ اللہ کی کائنات اتنی بڑی، اتنی وسیع اور پھر کتنے عالم ہیں، یہ بھی نہیں جانتے بھئی۔
تو حضرت اسرافیل علیہ السلام انتظار میں ہیں بھئی۔
اتنی بڑی کائنات ہے، اور اپنے بعض اساتذہ سے میں نے سنا جب میں سکول وغیرہ میں پڑھتا، پڑھتا تھا تو اسلامیات کے تھے استاد۔
اور انہوں نے بیان کیا بھئی ابھی تک میں نے خود تو کہیں نہیں دیکھا، لیکن انہوں نے یہ بیان کیا۔
کہتے ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔
کہ اے جبرئیل تمہاری رفتار کتنی ہے؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ میری رفتار کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام جو ہیں، ان کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں ڈالا تو اس وقت میں ساتویں آسمان کے اوپر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس تھا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کو انہوں نے گرایا، میں وہاں پر تھا، یوسف علیہ السلام نصف تک پہنچ گئے گرتے ہوئے، میں وہیں سدرۃ المنتہیٰ پر تھا، نصف سے بھی آگے چلے گئے، میں سدرۃ المنتہیٰ پر ہی تھا، عین جب وہ نیچے پانی کو لگنے لگے تھے، بالکل لگنے لگے تو اس وقت میں اللہ کی طرف سے حکم آیا مجھے، کہ اے جبرئیل میرے بندے کا خیال رکھنا، کہتے ہیں یا رسول اللہ پانی کو لگنے سے پہلے میرا پر ان کے نیچے پہنچ چکا تھا۔
کتنی رفتار بھئی، یہ اللہ کی مخلوقات ہیں بھئی۔
کتنی رفتار ہوگی بھئی؟ اور ان کا اتنا بڑا جسم حضرت جبرئیل علیہ السلام کا کہ وہ اس کائنات میں نہیں سما سکتا، اتنا بڑا جسم ہے۔
تو قیامت کے دن بھئی۔
جب حساب کتاب ہو جائے گا، جنتی جنت میں چلے جائیں گے اور جہنمی جہنم میں تو اس وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام اللہ سے عرض کریں گے۔
کہ یا اللہ آپ نے مجھے کتنا بڑا وجود دیا ہے، آج تک میں نے اس کو کھول کر نہیں دیکھا کہ میرا کتنا وجود ہے، اس عالم میں تو وہ سما تا ہی نہیں۔
تو یا اللہ مجھے اجازت دیجیے، میں ایک مرتبہ اپنے پورے جسم کو کھول کر دیکھنا چاہتا ہوں، میرا کتنا جسم ہے۔
تو اللہ فرمائیں گے جاؤ بھئی، صدیق کی جنت میں چلے جاؤ اور اپنے پورے وجود کو کھول دو وہاں پر۔
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتنی بڑی جنت ہوگی، ذرا تصور تو کریں بھئی۔
کہ وہ جسم جو عالم میں نہیں سما تا، وہ اس کے ایک حصے میں ہی سما جائے گا بھئی آسانی سے۔
अच्छा देखिए भئی، اللہ فرما رہے ہیں ما ینظرون الا صيحۃ واحدۃ تأخذهم وهم يخصمون یہ لوگ انتظار نہیں کرتے مگر ایک سخت آواز کا کہ جو ان کو پکڑ لے اور یہ لڑ رہے ہوں، یہ جھگڑ رہے ہوں۔
احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ۔
صور پھونکا جائے گا، اور ان لوگوں کو ذرا بھی مہلت نہیں مل سکے گی، جو جہاں پر ہوگا، جس حالت میں ہوگا وہیں ڈھیر ہو جائے گا بھئی، وہیں ختم ہو جائے گا۔
دو شخص آپس میں بیع و شراہ میں مشغول ہوں گے، ایک شخص دوسرے کو کپڑے کے تھان کھول کر دکھا رہا ہوگا، اتنا موقع بھی نہیں مل سکے گا کہ اس تھان کو لپیٹ لے اور لپیٹ لے، اس سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے۔
بعض لوگ جانوروں، اونٹنی وغیرہ کا دودھ نکال کر لا رہے ہوں گے، اور اتنا موقع بھی نہیں مل سکے گا کہ اس کو پی لیں بھئی، پی لیں۔
ایک شخص نے روٹی کا لقمہ اٹھا کر منہ میں رکھا ہوگا، اتنا موقع نہیں مل سکے گا کہ اسے کھا لے، جو جس حالت میں ہوگا وہیں پر وہ ختم ہو جائے گا بھئی، وہیں پر ختم ہو جائے گا۔
یہ معنی ہے ما ینظرون الا صيحۃ واحدۃ انتظار نہیں کرتے یہ لوگ مگر ایک سخت آواز کا تأخذهم کہ جو ان کو پکڑ لے وهم يخصمون جبکہ یہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں بھئی، آپس میں حجت بازی میں مشغول ہوں، اور جس کام میں بھی مشغول ہوں، ہر حال جس جہاں جو جہاں ہوگا، وہیں پر ختم ہو جائے گا۔
سمجھ میں آیا بھئی وهم يخصمون وہ کیا کر رہے ہوں گے اس حالت میں کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔
اسی طرح اعتراضات کر رہے ہوں گے۔
تو اسی وقت سب وہیں پر ختم ہو جائیں گے۔
بس بھئی ہذا فہم واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔