Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-030

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ إن المسلمين والمسلمات والمؤمنين والمؤمنات والقانتين والقانتات والصادقين والصادقات والصابرين والصابرات والخشعين والخشعات والمتصدقين والمتصدقات والمتصدقين والمتصدقات والصائمين والصائمات والحافظين فروجهم والحافظات والذاكرين اللہ کثیراً والذاكرات أعد اللہ لہم مغفرةً وأجراً عظیما۔ إن المسلمين والمسلمات یقیناً اسلام لانے والے مرد اور اسلام لانے والی عورتیں یا بعض علماء نے جیسے اس کا ترجمہ کیا، یقیناً اسلام کا کام کرنے والے مرد اور اسلام کا کام کرنے والی عورتیں۔ والمؤمنين والمؤمنات اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں۔ والقانتين والقانتات اور فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں۔ والصادقين والصادقات اور سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں۔ والصابرين والصابرات اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں۔ والخشعين والخشعات اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں۔ والمتصدقين والمتصدقات اور صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ تو صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں۔ یہ یوں ترجمہ کر لیں خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں۔ والصائمين والصائمات اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں۔ والحافظين فروجہم والحافظات اور حفاظت کرنے والے فروجہم اپنی شرمگاہوں کی اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد والحافظات اور حفاظت کرنے والی عورتیں۔ والذاكرين اللہ کثیراً والذاكرات اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ والحافظين فروجہم والحافظات اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں۔ والذاكرين اللہ کثیراً والذاكرات اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں۔ أعد اللہ لہم مغفرةً وأجراً عظيما۔ تیار کر رکھا ہے اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم۔ اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ شان نزول بھئی، اس آیت کا شان نزول۔ مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ یہ بعض ازواج مطہرات نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ یا رسول اللہ، قران میں ہر جگہ مردوں ہی کا ذکر ہے، عورتوں کا کہیں ذکر نہیں، تو اس پر یہ آیات عورتوں کی تسلی کے لیے نازل ہوئیں کہ عورتوں کا بھی وہی حکم ہے جو مردوں کا ہے۔ جو اللہ کے راستے پر چلنے والے مرد ہیں، ان کے لیے جیسے اللہ نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے، اسی طرح اللہ کے اور نبی کے احکامات پر چلنے والی جو عورتیں ہیں، ان کے لیے بھی اللہ نے عظیم اجر تیار کر رکھا ہے۔ اور بعضوں نے لکھا کہ یہ اور اور عورتیں تھیں، انہوں نے یہ یہ بات ذکر کی تھی کہ قران کے اندر جو ہے عورتوں کا ذکر نہیں معلوم ہوتا ہے، عورتوں میں کوئی خیر اور بھلائی کی بات نہیں ہے، تو اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں بھئی۔ یہ ہو سکتا ہے دونوں واقع ہوئے ہوں بھئی، امہات المومنین میں سے بھی کسی نے ذکر کیا ہو اور عورتوں نے بھی ذکر کیا ہو، تو پھر عورتوں کی تسلی کے لیے یہ آیات نہ یہ آیت نازل ہوئی بھئی، جس میں عورتوں کا ہر جگہ مردوں کے ساتھ عورتوں کا بھی ذکر آ گیا۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا یہاں تک؟ وما كان لمؤمن ولا مؤمنةٍ إذا قضى اللہ ورسوله أمراً أن يكون لہم الخيرة من أمرهم۔ جب اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں، تو پھر کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کو اس معامل اپنے معاملے کے اندر، اس بات میں، جب اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں، تو پھر کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کو اس معامل اپنے معاملے کے اندر کوئی اختیار نہیں رہتا بھئی۔ جیسا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، اسی طرح کرنا پڑے گا۔ اگر ایمان لے کر آئے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم کیا ہے، اللہ کی وحدانیت کو مان لیا ہے، تو اب اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلنا پڑے گا، جو وہ فیصلہ کر دیں، اسی طرح کرنا پڑے گا، اس معاملے میں کسی قسم کا کسی کو کسی کو اختیار نہیں ہوگا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس آیت کا شان نزول بھئی۔ اس سے پہلے ذکر ہو چکا ادعوہم لآبائہم کے تحت کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یہ عرب تھے، اصل کے اعتبار سے یہ غلام نہیں تھے، مگر کسی ظالم نے ان کو بچپن میں پکڑ کر یا یوں کہیں جیسے اغوا کر لیا ہوگا، پکڑا اور غلام بنا کر بیچ ڈالا، اور مکہ میں فروخت کیا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خریدا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش فرما دیا، اور تو یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے۔ کچھ عرصے کے بعد بھئی ادھر ان کے گھر والے پریشان تھے کہ ہمارا بچہ کدھر چلا گیا، پھر کسی نے طرح ان کو علم ہوا کہ ان کا بیٹا تو مکہ میں ہے، چنانچہ اس کے ان کے بھئی، والد اور چچا ان کو لینے کے لیے آئے۔ پتہ لگا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں، ان کے پاس آئے کہ ہمارا بیٹا اس طرح کسی نے وہ غلام نہیں ہے، کسی نے اس کو اس طرح پکڑ کر آپ لوگوں کے ہاتھ بیچ دیا ہے، ہم اسے لینے آئے ہیں، آپ تو بڑے نیک ہیں، ہم نے آپ کی بڑی تعریف سنی ہے اور اس طرح باتیں کیں، تو آپ اس کو ہمارے حوالے کر دیجیے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتلاؤں، اسی کو بلا کر اس سے پوچھ لیتے ہیں، وہ آپ لوگوں کے ساتھ جانا چاہتا ہے تو میری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ چنانچہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوایا گیا، تو انہوں نے وہ چچا اور والد وغیرہ کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا کہ نہیں، میں انہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہوں گا، وہ کہنے لگے بھئی تم غلامی کو ترجیح دے رہے ہو آزادی پر۔ غلامی تو اس زمانے میں بہت بڑا عیب سمجھا جاتا تھا، ان غلام کو تو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تھا، اتنا ادنیٰ اور معمولی اور گھٹیا اس کو سمجھا جاتا تھا۔ تو تم غلامی کو ترجیح دے رہے ہو آزادی پر؟ انہوں نے کہا کہ یہ میرا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں، حد سے بڑھ کر میرا خیال رکھتے ہیں، میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پاس رہوں گا۔ تو چنانچہ جانے سے انکار کر دیا جب تو ان کے والد، چچا اور بھائیوں نے بھی جب دیکھا کہ یہ یہیں پر خوش ہیں، تکلیف میں نہیں ہیں، تو کہنے لگے ہم بھی اسی پر پھر راضی ہیں، اگر یہ یہاں رہنا چاہتا ہے آپ کے پاس۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس بات سے اتنے خوش ہوئے کہ ان کو آزاد کر دیا، اور پھر اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا کہ زید میرا بیٹا ہے آج سے۔ اور اس زمانے میں جو منہ بولا بیٹا ہوتا تھا، وہ حقیقی بیٹے کی طرح ہی سمجھا جاتا تھا۔ حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ وہ لوگوں کے اندر بھی زید ابن محمد کے نام سے مشہور ہو گئے بھئی، کیونکہ منہ بولے بیٹے کو بھی کس کی طرح سمجھا جاتا تھا؟ حقیقی، تو سب ہر ایک ان کو زید ابن محمد ہی کہنے لگا۔ پھر اس کے بعد وہ پڑھا تھا، اپنے اللہ کی طرف سے آیات نازل ہوئیں کہ ادعوہم لآبائہم کہ منہ بولے بیٹوں کو ان کے اپنے باپ کی نسبت کی نسبت سے بلایا کرو، تو پھر زید ابن محمد کے بجائے پھر ان کو صحابہ وغیرہ کس نام سے پکارنے لگے؟ زید بن حارثہ کے نام سے۔ تو یہ زید بن حارثہ جو ہیں، ان کے نکاح کا پیغام بھجوایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت جحش کی طرف بھئی۔ حضرت زینب بنت جحش، حضرت زینب بنت جحش اور اسی طرح ان کے بھئی تھے عبداللہ ابن جحش بھئی، تو والدین وغیرہ انتقال کر چکے، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں بھئی امیمہ بنت عبدالمطلب۔ امیمہ بنت عبد المطلب بھئی۔ تو ان کی ان کی اولاد تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپی زاد بھئی بہن تھے، تو ان کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کے نکاح کے لیے حضرت زینب کی طرف پیغام بھجوایا۔ وہ حضرت زینب بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے تھیں، قریش سے تھیں، پورے عرب میں سب سے معزز خاندان جو سمجھا جاتا تھا، اس خاندان یعنی سب سے اونچے خاندان سے تھیں، تو وہ سمجھیں شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نکاح کے لیے پیغام بھیجا ہے، وہ اور ان کے بھئی تیار ہو گئے، لیکن پھر پتہ چلا کہ نہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو حضرت زید کے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے، تو ان دونوں نے اس کو پسند نہیں کیا اور انکار کر دیا بھئی۔ کیا کیا؟ کیونکہ بھئی حضرت زینب میں نے بتلایا قریش سے تعلق ہے، سب سے اونچا خاندان اور حضرت زید ان پر تو غلامی کا داغ لگ چکا تھا، اگرچہ وہ اب آزاد تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر دیا لیکن ایک مرتبہ نام تو آ گیا، وہ شروع میں کیا تھے؟ غلام تھے، اور غلام کو تو میں نے بتلایا بالکل انسان ہی نہیں سمجھا جاتا، یوں سمجھو آج کل کم ترین جس کو سمجھا جاتا ہو کوئی اس طرح سمجھا جاتا تھا اس کو بھئی۔ تو انہوں نے انکار کر دیا بھئی اس وجہ سے۔ اس پر پھر یہ آیت نازل ہوئی بھئی اللہ کی طرف سے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں، تو پھر کسی مسلمان مرد، مومن مرد اور مومنہ عورت کو ان کے معاملے میں کوئی اختیار نہیں رہتا، جو اللہ نے حکم دے دیا اسی پر عمل کرنا پڑے گا۔ چنانچہ جب یہ آیت نازل ہوئی، انہیں اس کا پتہ چلا تو وہ دونوں راضی ہو گئے، چنانچہ حضرت زینب بنت جحش کا نکاح کر دیا گیا حضرت زید ابن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھئی۔ تو اللہ فرماتے ہیں وما كان لمؤمن ولا مؤمنةٍ اور نہیں ہے کسی مومن مرد کے لیے اور نہ مومنہ عورت کے لیے إذا قضى اللہ ورسوله أمراً جب فیصلہ فرما دیں اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا، أن يكون لہم الخيرة یہ کہ ہو ان کو اختیار من أمرهم اپنی بات میں۔ اپنی بات میں پھر ان کو کوئی اختیار نہیں رہتا۔ ومن يعص اللہ ورسوله فقد ضل ضلالاً مبینا۔ اور جو نافرمانی کرتا ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی، فقد ضل تو تحقیق وہ گمراہ ہوا ضلالاً مبینا واضح گمراہ ہونا۔ تو ترجمہ کیا ہوگا؟ فقد ضل ضلالاً مبینا پس تحقیق وہ واضح گمراہ ہو گیا، جو نافرمانی کرتا ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی وہ واضح گمراہ ہو گیا۔ وإذ تقول للذي أنعم اللہ عليه وأنعمتا عليه۔ اور یاد کیجیے اے پیغمبر بھئی، إذ ظرف ہے، اور ظرف کے لیے عامل چاہیے، کس کے لیے یہ ظرف ہے بھئی؟ ظرف مفعول فیہ کو کہتے ہیں نا، مفعول فیہ تو کس کے لیے یہ مفعول فیہ ہے اس کے اس کے لیے عامل چاہیے بھئی۔ تو عامل یہاں اذکر محذوف ہے بھئی، اذکر یاد کیجیے۔ خطاب ہے پیغمبر علیہ السلام کو۔ اور یاد کیجیے اے پیغمبر! إذ تقول للذی جس وقت آپ کہہ رہے تھے اس شخص سے کہ انعم اللہ علیہ کہ انعام کیا اللہ نے ان پر وأنعمتا علیہ اور آپ نے بھی انعام کیا اس پر۔ جس پر اللہ نے بھی انعام کیا یعنی اللہ نے بھی احسان کیا اور آپ نے بھی احسان کیا، جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے: أمسك عليك زوجك، أمسك روک لے تو عليك اپنے اوپر زوجك اپنی بیوی کو واتق اللہ اور اللہ سے ڈر (یعنی اپنی بیوی کے معاملے میں اللہ سے ڈر، اس پر کوئی سختی وغیرہ نہ کر)۔ وتخفي اور آپ چھپ رہے تھے اے پیغمبر! وتخفي اور آپ چھپ رہے تھے في نفسك اپنے نفس میں یعنی اپنے دل میں، ما وہ چیز اللہ مبدیہ کہ اللہ اسے ظاہر کرنے والے تھے، یعنی بالاخر آخر میں، آخر میں اللہ اسے ظاہر کرنے والے تھے، وتخش الناس اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے، واللہ أحق أن تخشاه اور اللہ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ اس سے ڈریں۔ اللہ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ اس سے ڈریں۔ فلما قضى زيدٌ منها وطرا، پس جب پورا کر لیا زید نے منھا ان سے یعنی اپنی بیوی سے وطرا، وتر حا جت کو کہتے ہیں۔ تو پس جب پورا کر لیا زید نے اپنی بیوی سے اپنی حاجت کو، زوجناھاك، زوجنا ہم نے نکاح کر دیا کا آپ سے، ھا ان کا۔ فلما قضى زيدٌ منھا وطراً جب پورا کر لیا زید نے ان سے اپنی حاجت کو زوجناھاك ہم نے آپ سے ان کا نکاح کر دیا لكي لا يكون على المؤمنين حرج تاکہ نہ ہو مومنوں پر کوئی حرج فی ازواج أدعیائهم، ادعیاء منہ بولے بیٹے، فی ازواج أدعيائهم اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں، تاکہ مومنین پر کوئی حرج نہ ہو اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں اذا قضو منهن وطراً، جب وہ پورا کر لیں ان سے اپنی حاجت کو (یعنی جب ان کے منہ بولے بیٹے ان سے اپنی حاجت کو پورا کر لیں) وكان أمر اللہ مفعولا، اور اللہ کا حکم تو ہونا ہی تھا، اللہ کا حکم تو ہونا ہی تھا، جو اللہ حکم فرما دیں وہ ہو ہی ہو کر ہی رہتا ہے، کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ تو یہ معنی ہے وكان أمر اللہ مفعولا اور اللہ کا حکم تو ہونا ہی تھا (یعنی اسے کوئی روک نہیں سکتا)۔ تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح ہو گیا حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے۔ تو حضرت زینب کا چونکہ تعلق تھا قریش کے اعلیٰ ترین خاندان سے، اور حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ہیں، ان پر غلامی کا داغ لگ چکا تھا، تو حضرت زینب نکاح کے لیے تیار تو ہو گئیں، نکاح بھی ہو گیا لیکن پھر بھی ان کے آپ اپس میں مزاج نہ مل سکے بھئی۔ مزاج نہ مل سکے، آپس میں جھگڑا وغیرہ ہوتا، حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے کہ اس طرح میرا ان کے ساتھ گزارا مشکل ہو گیا ہے اور وہ بہت سخت باتیں کرتی ہیں، مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امسِک علیک زوجک، اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو۔ واتق اللہ اور اللہ سے ڈرتے رہو اس کے بارے میں، اس پر کوئی اسے کوئی تکلیف وغیرہ نہ دو، اسے کوئی تکلیف وغیرہ نہ دو۔ تو آگے اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ وتخفی فی نفسک اور آپ اپنے نفس میں، اپنے دل میں چھپا رہے تھے، ما وہ بات اللہ مبدیہ جسے اللہ آخر میں ظاہر کرنے والے تھے۔ اس کا کیا معنی؟ کیا مراد ہے؟ تو مفسرین نے کئی باتیں ذکر کیں۔ لیکن سب سے بہترین قول اور پسندیدہ قول یہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس بات کو چھپا رہے تھے، جسے اللہ نے، جو اللہ ظاہر کرنے والے تھے؟ کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ لگا کہ حضرت زید اور حضرت زینب کے درمیان جو ہیں وہ لڑائی جھگڑا رہتا ہے، ناراضگی رہتی ہے، اور ہوتے ہوتے جب یہ بات اتنی واضح ہو گئی کہ معلوم ہوا اب دونوں کا نباہ نہیں ہو سکے گا۔ جب نباہ نہیں ہو سکتا تو لازمی بات ہے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طلاق دینی پڑے گی، تو وہ پہلے ہی ان کے ساتھ نکاح کے لیے تیار نہیں تھیں، اور پھر اللہ اور اس کے رسول کا جب حکم آ گیا تو وہ تیار ہو گئیں، اور اب اس کے بعد جب حضرت زید ان کو طلاق دیں گے، تو ان کو پھر بے انتہا تکلیف ہوگی یقیناً۔ تو ان کی دل جوئی اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتی کہ میں ان کے ساتھ پھر خود نکاح کر لوں، کیا کر لوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ بات آئی کہ اب زینب کی دل جوئی زید جب طلاق دے دیں گے تو پھر اسی طرح ہو سکتی ہے کہ میں خود کیا کر لوں؟ ان کے ساتھ نکاح کر لوں، پھر ان کے جو تکلیف پہنچی ہے، پھر اسی صورت میں اس کا ازالہ ہو سکتا ہے کہ میں کیا کر لوں خود ان کے ساتھ نکاح کر لوں۔ لیکن اس بات کو ظاہر نہیں کر رہے تھے، وجہ یہ تھی کہ میں نے بتلایا کہ منہ بولے بیٹوں کو اس زمانے میں کس طرح سمجھا جاتا تھا؟ حقیقی بیٹوں کی طرح اور جس طرح حقیقی بیٹے کی بیوی کے ساتھ نکاح کی کوئی صورت نہیں، جیسے آج بھی شریعت کا حکم ہے بھئی، کہ حقیقی بیٹے کی جو بیوی ہے، اگر بیٹا اس کو طلاق بھی دے دے، پھر بھی بیٹے کا جو والد ہے وہ کسی صورت میں اس کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا۔ تو اس وقت بھی منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا، تو اس کی بیوی کے ساتھ بھی کوئی شخص جیسے حقیقی بیٹے کی نکاح بیٹے کی بیوی کے ساتھ نکاح کو جائز نہیں سمجھتا تھا تو منہ بولے بیٹے کی بیوی کے ساتھ بھی نکاح کو جائز نہیں سمجھتے تھے بھئی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ بات تھی کہ جو ان کو غم اور تکلیف پہنچے گی اس کا ازالے کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ میں اس سے نکاح کر لوں، لیکن ادھر لوگوں کا بھی خوف تھا کہ لوگ تو پھر بڑی باتیں کریں گے، بڑا پروپیگنڈا میرے خلاف ہوگا کہ دیکھو بھئی اس شخص کو اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر لیا بھئی، کبھی ہم نے آج تک سنا ہی نہیں ہے کہ اس طرح کسی نے کیا ہو، اس شخص نے یہ نبوت کا بھی دعویٰ کرتا ہے اور دیکھو اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے اس نے نکاح کر لیا ہے، تو اس بات سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ڈرتے تھے، تو اسی پر اللہ نے فرمايا کہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ، کہ آپ چھپاتے تھے اپنے نفس میں وہ بات جسے اللہ بالآخر ظاہر کرنے والے تھے، وتخش الناس واللہ أحق أن تخشاہو، اور اللہ زیادہ حق دار ہیں کہ ان سے آپ اللہ سے آپ ڈریں۔ جی، معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ معنی ہے لوگوں سے ڈرتے تھے، یعنی ان کی باتوں سے ڈرتے تھے کہ وہ باتیں کریں گے۔ اور بعضوں نے کہا، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلا دیا تھا، طلاق سے پہلے ہی اللہ نے بتلا دیا تھا کہ یہ زید یہ زینب کو طلاق دے دیں گے، اور پھر زینب آپ کے عقد میں آئیں گی۔ یہ اللہ نے بتا دیا تھا تو لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرتے ہوئے ڈرتے تھے بھئی۔ کہ لوگ پھر اس طرح کی باتیں کریں گے تو ظاہر نہیں کیا تھا، باقی اللہ کا جو حکم ہے وہ تو ہونا ہی تھا، لیکن اس وقت تک ابھی ظاہر نہیں کیا تھا، تو اس پر اللہ نے فرمايا وتخفی فی نفسک کہ آپ اپنے دل میں چھپاتے تھے ما اللہ مبدیہ وہ بات جسے اللہ آخر میں ظاہر کرنے والے تھے۔ وتخش الناس واللہ أحق أن تخشاہو، اور اللہ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ ان سے ڈریں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ دو باتیں میں نے ذکر کر دیں، ایک یا تو یہ معنی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ خیال تھا کہ اس صورت کے علاوہ زینب کی دل جوئی اور تسلی نہیں ہو سکے گی، کہ یہ کہ میں خود کیا کر لوں؟ ان کے ساتھ نکاح کر لوں۔ دوسرا یہ کہ بعد میں کیا کہا کہ اللہ نے پہلے بتلا دیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے لوگوں کے سامنے ابھی حضور نے ظاہر نہیں کیا تھا۔ سمجھ میں آیا تو اور بھی بعض روایتیں مفسرین نے ذکر کیں لیکن وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے، منصب کے، منصبِ نبوت کے لائق نہیں بھئی کہ ان کو ذکر کیا جائے، وہ مثلاً بعضوں نے یہ یہ ذکر کرتے ہیں بہت سے اکثر تفاسیر والے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں ایک مرتبہ حضرت زید کے گھر تشریف لے گئے، گھر تشریف لے گئے زید کے پاس تو پہنچے تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں گھر سے باہر تشریف لے گئے تھے اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سوئی ہوئی تھیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اندر جب داخل ہوئے تو ان پہ نظر پڑی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ان کی محبت آ گئی کیونکہ کہتے ہیں حضرت زینب بڑے حسن و جمال والی تھیں تو یہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر اختیاری محبت اچانک دل میں آ گئی اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم چھپا رہے تھے کہ جب زید ان کو طلاق دے دیں گے تو میں کیا کر لوں گا اس سے ان سے نکاح کر لوں گا لیکن یہ مناسب نہیں ہے بھئی، یہ منصبِ نبوت کے یہ تفسیر مناسب نہیں ہے تو لہٰذا یہ اس کو ذکر نہیں کرنا چاہیے بھئی، اس واقعے سے ہی اندازہ لگا لیں، اسی سے ویسے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ درست ہے، بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں جب پھوپھی زاد ہیں تو اور نظر اب پڑ رہی ہے ان پر کہ پہلے کبھی ان کو دیکھا ہی نہیں بھئی، یہ کیسے ہو سکتا ہے، پردے کا حکم تو بہت آخر میں آیا، اس سے پہلے تو پردے کا حکم نہیں تھا بھئی اور پھوپھی زاد قریبی رشتہ دار ہیں اور کبھی دیکھا ہی نہیں اس وقت نظر پڑی بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جو میں نے بتلایا ان دو قولوں کو آپ یاد رکھیں بھئی۔ جی دیکھیے اب دوبارہ، وتقول للذی اور جس وقت آپ کہہ رہے تھے اس شخص سے، یعنی حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد ہیں، ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نا امسِک علیک زوجک واتق اللہ، اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو، یعنی انہیں کوئی تکلیف وغیرہ نہ دو۔ واتقول للذی انعم اللہ علیہ وأنعمتا علیہ، اور یاد کیجیے اے پیغمبر جس وقت آپ کہہ رہے تھے اس شخص سے انعم اللہ علیہ کہ اللہ نے بھی ان پر انعام کیا، وأنعمتا علیہ اور آپ نے بھی ان پر انعام کیا یعنی احسان کیا۔ اللہ نے انعام کیا بھئی، اللہ کی نعمتیں تو بہت زیادہ ہیں، اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور اسی طرح سب سے بڑی نعمت جو اللہ نے دی، یعنی اسلام کی توفیق دے دی انہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی توفیق دی، جن پر اللہ نے بھی انعام کیا، یعنی انہیں اسلام لانے کی توفیق دی وأنعمتا علیہ اور اے پیغمبر آپ نے بھی ان پر احسان کیا یعنی کہ غلامی سے آزادی دی، اور ان کو آزاد کر دیا اور اپنا بیٹا قرار دے دیا۔ تو جب آپ ان سے فرما رہے تھے امسِک علیک زوجک، آپ روک لی، آپ روکیے اپنے اوپر اپنی بیوی کو (یعنی انہیں طلاق نہ دیجیے، وہ آئے تھے نا حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کہ میں میرا ان کے ساتھ گزارا نہیں، میں انہیں طلاق دینے لگا ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا کہ امسِک علیک زوجک کہ اپنے اوپر اپنی بیوی کو روک لیجیے، یعنی انہیں طلاق یعنی اسے طلاق نہ دو)۔ واتق اللہ اور اللہ سے ڈریے، وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ، اور اے پیغمبر آپ چھپا رہے تھے اپنے جی میں وہ بات جسے اللہ ظاہر کرنے والے تھے، وتخش الناس واللہ أحق أن تخشاہو، اور اللہ آپ اور آپ لوگوں سے ڈرتے تھے واللہ أحق أن تخشاہو اور اللہ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ ان سے ڈریں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ معنی ہے لوگوں سے ڈرتے تھے، یعنی ان کی باتوں سے ڈرتے تھے کہ وہ باتیں کریں گے۔ اور بعضوں نے کہا، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلا دیا تھا، طلاق سے پہلے ہی اللہ نے بتلا دیا تھا کہ یہ زید یہ زینب کو طلاق دے دیں گے، اور پھر زینب آپ کے عقد میں آئیں گی، یہ اللہ نے بتا دیا تھا تو لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرتے ہوئے ڈرتے تھے بھئی۔ کہ لوگ پھر اس طرح کی باتیں کریں گے تو ظاہر نہیں کیا تھا، باقی اللہ کا جو حکم ہے وہ تو ہونا ہی تھا، لیکن اس وقت تک ابھی ظاہر نہیں کیا تھا، تو اس پر اللہ نے فرمايا وتخفی فی نفسک کہ آپ اپنے دل میں چھپاتے تھے ما اللہ مبدیہ وہ بات جسے اللہ آخر میں ظاہر کرنے والے تھے۔ وتخش الناس واللہ أحق أن تخشاہو، اور اللہ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ ان سے ڈریں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو باتیں میں نے ذکر کر دیں، ایک یا تو یہ معنی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ خیال تھا کہ اس صورت کے علاوہ زینب کی دل جوئی اور تسلی نہیں ہو سکے گی کہ یہ کہ میں خود کیا کر لوں ان کے ساتھ نکاح کر لوں۔ دوسرا یہ کہ بعد میں کیا کہا کہ اللہ نے پہلے بتلا دیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے لوگوں کے سامنے ابھی حضور نے ظاہر نہیں کیا تھا۔ سمجھ میں آیا تو اور بھی بعض روایتیں مفسرین نے ذکر کیں لیکن وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے، منصب کے، منصبِ نبوت کے لائق نہیں بھئی کہ ان کو ذکر کیا جائے، وہ مثلاً بعضوں نے یہ یہ ذکر کرتے ہیں بہت سے اکثر تفاسیر والے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں ایک مرتبہ حضرت زید کے گھر تشریف لے گئے، گھر تشریف لے گئے زید کے پاس تو پہنچے تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں گھر سے باہر تشریف لے گئے تھے اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سوئی ہوئی تھیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اندر جب داخل ہوئے تو ان پہ نظر پڑی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ان کی محبت آ گئی کیونکہ کہتے ہیں حضرت زینب بڑے حسن و جمال والی تھیں تو یہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر اختیاری محبت اچانک دل میں آ گئی اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم چھپا رہے تھے کہ جب زید ان کو طلاق دے دیں گے تو میں کیا کر لوں گا اس سے ان سے نکاح کر لوں گا لیکن یہ مناسب نہیں ہے بھئی، یہ منصبِ نبوت کے یہ تفسیر مناسب نہیں ہے، تو لہٰذا یہ اس کو ذکر نہیں کرنا چاہیے بھئی، اس واقعے سے ہی اندازہ لگا لیں، اسی سے ویسے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ درست ہے، بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں جب پھوپھی زاد ہیں تو اور نظر اب پڑ رہی ہے ان پر کہ پہلے کبھی ان کو دیکھا ہی نہیں بھئی، یہ کیسے ہو سکتا ہے، پردے کا حکم تو بہت آخر میں آیا، اس سے پہلے تو پردے کا حکم نہیں تھا بھئی، اور پھوپھی زاد قریبی رشتہ دار ہیں اور کبھی دیکھا ہی نہیں اس وقت نظر پڑی بھئی۔ समझ में आया भाई؟ تو جو میں نے بتلایا ان دو قولوں کو آپ یاد رکھیں بھئی۔ جی دیکھیے اب دوبارہ، وتقول للذی اور جس وقت آپ کہہ رہے تھے اس شخص سے، یعنی حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد ہیں، ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نا امسِک علیک زوجک واتق اللہ، اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو، یعنی انہیں کوئی تکلیف وغیرہ نہ دو۔ واتقول للذی انعم اللہ علیہ وأنعمتا علیہ، اور یاد کیجیے اے پیغمبر جس وقت آپ کہہ رہے تھے اس شخص سے انعم اللہ علیہ کہ اللہ نے بھی ان پر انعام کیا، وأنعمتا علیہ اور آپ نے بھی ان پر انعام کیا یعنی احسان کیا۔ اللہ نے انعام کیا بھئی، اللہ کی نعمتیں تو بہت زیادہ ہیں، اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور اسی طرح سب سے بڑی نعمت جو اللہ نے دی، یعنی اسلام کی توفیق دے دی انہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی توفیق دی، جن پر اللہ نے بھی انعام کیا، یعنی انہیں اسلام لانے کی توفیق دی وأنعمتا علیہ اور اے پیغمبر آپ نے بھی ان پر احسان کیا یعنی کہ غلامی سے آزادی دی، اور ان کو آزاد کر دیا اور اپنا بیٹا قرار دے دیا۔ تو جب آپ ان سے فرما رہے تھے امسِک علیک زوجک، آپ روکیے آپ روکیے اپنے اوپر اپنی بیوی کو (یعنی انہیں طلاق نہ دیجیے، وہ آئے تھے نا حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کہ میں میرا ان کے ساتھ گزارا نہیں، میں انہیں طلاق دینے لگا ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا کہ امسِک علیک زوجک کہ اپنے اوپر اپنی بیوی کو روک لیجیے، یعنی انہیں طلاق یعنی اسے طلاق نہ دو)۔ واتق اللہ اور اللہ سے ڈریے، وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ، اور اے پیغمبر آپ چھپا رہے تھے اپنے جی میں وہ بات جسے اللہ ظاہر کرنے والے تھے، وتخش الناس واللہ أحق أن تخشاہو، اور اللہ آپ اور آپ لوگوں سے ڈرتے تھے واللہ أحق أن تخشاہو اور اللہ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ ان سے ڈریں۔ فلما قضى زید منھا وطرا جب پوری کر لی زید نے ان سے حاجت جب زید نے ان سے کیا کر لی اپنی حاجت پوری کر لی، یہ کنایہ ہے طلاق سے (یعنی جب زید نے انہیں طلاق دے دی، زید نے انہیں طلاق دے دی بھئی)۔ فلما قضى زید منھا وطرا اور جب زید نے اپنی حاجت ان سے پوری کر لی، تو بعضوں نے ترجمہ اس کا کیا جب زید کا ان سے جی بھر گیا (یعنی اب جدائی کی نوبت آ گئی بھئی، یعنی طلاق دے دی)۔ تو یہ کنایہ ہے کس سے؟ فلما قضى زید منھا وطرا طلاق سے کنایہ ہے کہ جب طلاق دے دی۔ فلما قضى زید منھا وطرا جب پوری کر لی زید نے ان سے حاجت، زوجناھاك نکاح کر دیا ہم نے آپ کے ساتھ ان کا۔ اللہ یہ نہیں فرما رہے کہ آپ ان سے نکاح کر لیں۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ ہم نے آپ سے ان کا نکاح کر دیا۔ چنانچہ بھئی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے اور اپنی ازواج کے ساتھ باقاعدہ نکاح کیا تھا اس طرح حضرت زینب سے نکاح نہیں کیا، بس پھر اطلاع دی اور ان کے پاس تشریف لے گئے کہ اللہ نے میرا تمہارے ساتھ نکاح کر دیا ہے۔ چنانچہ حضرت زینب پھر باقی بیویوں پر اس بارے میں فخر فرماتی تھیں اور کہتی تھیں کہ تم لوگوں کا نکاح تو تمہارے گھر والوں نے کروایا ہے، جبکہ میرا نکاح اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت زینب جو ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتی تھیں کہ میں تین چیزوں کے اعتبار سے مجھے آپ کی باقی بیویوں پر فضیلت حاصل ہے، ایک تو یہ کہ میرے نکاح جو ہے اللہ نے خود فرما دیا آپ کے ساتھ۔ دوسرا یہ کہ میرے جد اور آپ کے جد ایک ہی تھے بھئی، میرے جد اور آپ کے جد ایک ہی تھے، یعنی عبدالمطلب۔ عبدالمطلب حضور کے دادا تھے تو حضرت زینب کے نانا تھے، اور جد عرب میں دادا اور نانا دونوں کے لیے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تو دوسری بات یہ کہ میرے جد اور آپ کے جد ایک ہی تھے، اور تیسرا یہ کہ میرے نکاح کے سفیر حضرت جبریل علیہ السلام تھے۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے پھر آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پر یہ آیات نازل فرمائیں کہ جس میں کیا ذکر آیا کہ اللہ نے حضرت زینب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کر دیا۔ فلما قضى زید منھا وطرا جب پورا کر لیا زید نے ان سے حاجت کو، زوجناھاك نکاح کر دیا ہم نے آپ کے ساتھ ان کا لكي لا يكون على المؤمنين حرج تاکہ نہ ہو مومنوں پر کوئی حرج فی ازواج أدعیائهم اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں (یعنی مومنین پر کوئی حرج نہ ہو، یعنی ان پر کوئی تنگی نہ ہو، وہ بھی اگر ان کے منہ بولے بیٹے اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں اور وہ ان کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکیں بھئی)۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وہ لوگ اس زمانے میں منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹوں کی طرح سمجھتے تھے اور اس کی بیوی کے ساتھ وہ چاہے طلاق بھی دے دیتا، نکاح کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو ختم فرمانا چاہا اور صرف حکم ہی نہیں دیا بلکہ باقاعدہ پیغمبر کے ذریعے اس پر عمل کر کے دکھلا دکھلایا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تاکہ نہ رہے مومنین پر کوئی حرج فی ازواج أدعیائهم ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں (یعنی ان سے نکاح کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے، وہ بعد میں ان کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں تو نکاح کر سکیں)۔ اذا قضو منهن وطراً، جب پورا کر لیں وہ، کون وہ؟ منہ بولے بیٹے، جب منہ بولے بیٹے جو ہیں وہ پورا کر لیں منہنہ اپنی بیویوں سے وطراً حاجت کو (یعنی جب منہ بولے بیٹے اپنی بیویوں سے اپنی حاجت پوری کر لیں، یعنی انہیں طلاق دے دیں، تو پھر مومنین پر ان کے ساتھ نکاح میں کوئی تنگی نہ رہے)۔ وكان أمر اللہ مفعولا اور اللہ کا حکم تو ہونے ہی والا تھا، یعنی ہونا ہی تھا اللہ کا قطعی طور پر کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ جی تو یہاں آیا بھئی، فلما قضى زید، جب پورا کر لیا زید نے۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قران میں آیا ہے، بھئی۔ اور کسی صحابی کو یہ شرف حاصل نہیں جو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل ہے کہ ان کے باقاعدہ نام کو اللہ نے قران میں ذکر فرما دیا۔ اور شاید یہ اسی تلافی کے طور پر ہو کہ پہلے وہ زید ابن محمد کے نام سے مشہور تھے، کتنا بڑا شرف تھا ان کے لیے کہ ہر شخص انہیں پیغمبر کا بیٹا کہہ کر پکارتا تھا، اور پھر جب اللہ کا حکم آ گیا کہ اب بس اپنے ماں باپ کے اپنے اصل والد کی نسبت سے کرتے ہوئے پکارو، تو پھر لوگوں نے زید ابن حارثہ کہنے لگے، تو دیکھو ایک بہت بڑی فضیلت جو تھی جو ان کے نام کے ساتھ پیغمبر کا نام جڑا ہوا تھا، وہ کٹ گیا ختم ہو گیا بھئی، تو شاید پھر اسی کی تلافی کے طور پر اللہ نے ان کا نام باقاعدہ قران میں ذکر فرما دیا بھئی۔ ما كان علی النبي من حرج نہیں نہیں طلاق کے بعد عدت ہوتی ہے، عدت گزارنے کے بعد۔ سمجھ میں آیا عدت کو ذکر نہیں کیا، عدت تو وہ ظاہری بات ہے بھئی، طلاق کے بعد کیا کرنا پڑتی ہے؟ عورت کو عدت گزارنا پڑتی ہے، تو اس عدت کے بعد پھر نکاح اللہ نے فرما دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔ جی؟ اچھا شاباش، یہ پوچھ رہے ہیں کہ بھئی اس سے پہلے تو ابھی کل کے سبق میں گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا تھا کہ ان عورتوں کے بعد اب اور عورتیں آپ کے لیے نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے، بھئی، وہ بعد کا واقعہ ہے۔ جس وقت وہ آیت نازل ہوئی کہ اب ان عورتوں کے بعد اور کسی عورت کے نکاح کی عورتوں کسی اور عورت کے ساتھ آپ کو نکاح کی اجازت نہیں، یہ بعد کا واقعہ ہے، یہ اس سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہ اس سے پہلے کا واقعہ ہے۔ تو جس وقت وہ آیت نازل ہوئی لا تحل لك النساء من بعده، اس وقت حضرت زینب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں، بھئی، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب ناراض ہوئے تھے اور اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے علیحدہ ہوئے تھے، تو حضرت زینب بھی ان میں شامل تھیں، وہ بھی ان نو ازواج میں سے تھیں۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ ما كان علی النبي من حرج فیما فرض اللہ لہ، نہیں ہے پیغمبر پر کوئی حرج، یعنی کوئی الزام نہیں ہے، نہیں ہے پیغمبر پر کوئی الزام فیما اس چیز کے اندر فرض اللہ لہ جو اللہ نے مقرر کر دی ہے ان پر۔ اللہ نے جو حکم دے دیا، جو چیز ان پر مقرر کر دی، اس میں پیغمبر کوئی الزام نہیں ہے بھئی۔ تو یہ اللہ نے ان کے لئے یہ حکم نازل کر دیا کہ یہ منہ بولے بیٹوں کی بیویاں کیا ہیں، انسان پر حرام نہیں ہوتیں بلکہ حلال رہتی ہیں بھئی۔ تو ما كان على النبي من حرج نہیں ہے نبی پر کوئی الزام فیما اس چیز کے اندر فرض اللہ لہو جو اللہ نے ان پر فرض کر دی، جو اللہ نے ان پر مقرر کر دی ہے۔ سنت اللہ فی الذین خلوا من قبل سنت اللہ کی سنت ہے، اللہ کا طریقہ ہے فی الذین ان میں خلوا من قبل جو گزر چکے ہیں اس سے پہلے۔ یہ اللہ کی سنت یعنی اللہ کا طریقہ ہے ان انبیاء کے اندر بھی جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں۔ الذین سے کیا مراد ہیں؟ انبیاء مراد ہیں۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے ان انبیاء میں بھی جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں۔ یعنی جب اللہ کسی کام کا حکم دے دیں، کوئی چیز ان کے لئے حلال کر دیں تو ان پر کوئی الزام نہیں ہوتا بھئی۔ ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اللہ نے ان کے لئے ایک چیز کو حلال کر دیا ہے اور حکم دے دیا۔ یہ اسی طرح نکاح کے باب میں جیسے اللہ وسعت دے دیتے ہیں انبیاء کو۔ عام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج جو ہیں جیسے آپ نے کل کے واقعے میں بھی پڑھا کہ اس وقت جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے، نو ازواج تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں بھئی۔ جبکہ عام مومن کو چار نکاح سے زیادہ یعنی چار بیویوں سے زیادہ بیک وقت رکھنے کی اجازت نہیں۔ تو یہ اللہ کا حکم ہے، اللہ نے ان کے لئے حلال کیا ہے بھئی۔ تو سنت اللہ اللہ کا طریقہ ہے فی الذین ان پیغمبروں میں بھی خلوا من قبل جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں۔ سنت اللہ یہ مفعول مطلق ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ مفعول مطلق ہے۔ اصل میں یوں تھا سن اللہ سنتا سن اللہ سنتا اللہ نے طریقہ فرمایا سنتا طریقہ فرمانا اللہ نے تو یہ جی۔ پھر کیا کیا گیا؟ فعل کو اور فاعل کو حذف کر لیا گیا۔ تو کیا رہ گیا؟ سنتا اور پھر فاعل کی طرف اس کی اضافت کر دی گئی۔ سنت اللہ۔ تو سنت اللہ فی الذین خلوا من قبل اللہ کی سنت ہے ان لوگ پیغمبروں میں بھی ان میں بھی خلوا من قبل جو پہلے گزر چکے ہیں۔ وكان أمر اللہ قدرا مقدورا اور اللہ کا حکم مقدر ہے، مقرر ہے اور اللہ کا حکم تو مقرر ہوتا ہے۔ اور اللہ کا حکم تو مقرر ہوتا ہے۔ قدرا اور مقدورا کا ایک ہی معنی ہے۔ تو یہ مقدورا صفت ہے قدرا کی۔ تاکید کے طور پر۔ یہ اس کی تاکید ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ قدرا کا بھی وہی معنی جو مقدورا کا کیا معنی؟ قدر بھئی وہی جسے آپ تقدیر کہتے ہیں، اللہ کی قضا و قدر بھئی تقدیر بھئی۔ یعنی اللہ کی طرف سے جو چیز مقرر ہو گئی تو وكان أمر اللہ قدرا مقدورا اللہ کا حکم تو مقرر ہوتا ہے یعنی مقدر ہوتا ہے جیسا وہ فرماتے ہیں اسی طرح ہوتا ہے۔ تو قدرا اور مقدورا کا ایک ہی معنی ہے تو یہ اس کی صفت ہے اور اسی کے معنی میں تاکید پیدا کر رہا ہے، اسی کے لئے تاکید ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے عربی میں کہتے ہیں ظل ظلیل۔ ظل ظا ہے، ط ز جو ہے۔ ظل ظلیل۔ دونوں جگہ ظ ہے، گھنا سایہ ہو تو اسے کہتے ہیں ظل ظلیل۔ ظل کا معنی ہے سایہ۔ اور ظلیل کا معنی ہے سایہ دار۔ تو ترجمہ کیا ہوا؟ ظل ظلیل۔ سایہ دار سایہ۔ دیکھو! وہ بھی سایہ کا معنی اس میں بھی ہے، اس میں بھی سایہ کا معنی ہے، تو اسی کے معنی کو پکا کر رہا ہے تو ظل ظلیل کا معنی ہوتا ہے گھنا سایہ۔ یا جیسے اسی کی مثال ہے لیل علیل۔ لیل علیل۔ علیل کے شروع میں الف ہے، حمزہ بھئی حمزہ۔ تو لیل علیل کا معنی ہے خوب سیاہ رات۔ خوب تاریک رات، خوب اندھیری رات۔ لیل کا معنی رات اور رات ہوتی ہی اندھیری ہے۔ اور علیل کا معنی اندھیری رات بھئی۔ تو خوب اندھیری رات۔ تو یہ اسی کے معنی میں تاکید پیدا کر رہا ہے بھئی۔ تو لیل علیل کا معنی خوب اندھیری رات۔ تو یہاں بھی اسی طرح قدرا مقدورا۔ قدر کا معنی بھی وہی مقدر جو ہے مقدر ہے مقرر ہے تا۔ اور مقدور کا بھی وہی معنی۔ وكان أمر اللہ قدرا مقدورا اور اللہ کا حکم تو مقرر ہوتا ہے۔ اللہ کا حکم تو مقرر ہی ہے۔ الذین یبلغون رسالات اللہ ویشعونہ ولا یخشون أحدا إلا اللہ۔ وہ لوگ وہ یہ الذین وہ جو پہلے الذین آیا تھا یہ اسی کی صفت ہے بھئی۔ اللہ کا طریقہ ہے ان لوگوں میں جو اس سے پہلے گزر چکے۔ کون مراد ہیں وہ لوگ؟ انبیاء۔ تو اللہ کا طریقہ ہے ان انبیاء کے بارے میں جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں، یعنی ان پر بھی جو چیز اللہ حلال کر دیں، جو اللہ حکم دے دیں، ان پر کوئی ال کوئی الزام یا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ وہ لوگ الذین یبلغون رسالات اللہ، وہ انبیاء جو پہنچاتے ہیں رسالات اللہ، اللہ کے پیغامات، اللہ کے احکام۔ وہ انبیاء جو کہ پہنچاتے ہیں اللہ کے پیغامات کو ویشعونہ اور اللہ سے ڈرتے ہیں ولا یخشون أحدا اور کسی ایک سے بھی نہیں ڈرتے إلا اللہ سوائے اللہ کے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ وكفا باللہ حسیبا اور اللہ کافی ہے بہ اعتبار حساب لینے کے۔ وكفا باللہ حسیبا اور اللہ کافی ہے بہ اعتبار حساب لینے والے کے۔ یعنی اللہ حساب لینے کے اعتبار سے کافی ہیں بھئی۔ اللہ حساب لینے کے اعتبار سے کافی ہیں۔ ما كان محمد أبا أحد من رجالکم ولكن رسول اللہ وخاتم النبین۔ ما كان محمد نہیں ہے محمد أبا أحد من رجالكم تم مردوں میں سے کسی کے باپ۔ محمد نہیں ہے تم مردوں میں سے کسی کے باپ ولكن رسول اللہ مگر اللہ کے رسول ہیں وخاتم النبین اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ نبیوں کی مہر ہیں۔ خاتم کہتے ہیں یہ اس میں آلے کا صیغہ ہے بھئی خاتم۔ ای ما یختم بہ جس کے ذریعے جس کے ذریعے مہر لگائی جائے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ خاتم کیا ہے؟ اس میں آلہ کا صیغہ ہے ما یختم بہ جس کے ذریعے ختم کیا جائے، جس کے ذریعے مہر لگائی جائے۔ جس طرح بھئی قدیم زمانے میں بادشاہ جیسے خط کسی کو لکھتے تھے تو خط لکھنے کے بعد، جیسے آج کل بھی اس طرح کا طریقہ رائج ہے بھئی، آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب بعض خط وغیرہ یا کتابیں وغیرہ پیک کی جاتی ہیں، ڈاک کے ذریعے ان کو بھیجا جاتا ہے، تو اس پر وہ ایک چیز لگا کر وہ اوپر مہر وغیرہ کے ساتھ سختی سے جوڑ دیتے ہیں، وہ پھر کھلتا نہیں ہے بھئی۔ دیکھا ہوا ہے نا دیکھا آپ لوگوں نے بھئی۔ وہ مہر سی اوپر لگ جاتی ہے مضبوط سی۔ اب اس کو کوئی نہیں کھول سکتا۔ جو بھی کھولے گا پھر پتہ لگ جائے گا کہ کسی نے اس کو کھولا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ مہر بادشاہ جب کسی کو خط بھیجتے تھے تو اس طرح کی وہ مہر لگا دیتے تھے، بند ہو جاتا تھا اوپر وہ مادہ سا لگ جاتا، مہر لگ جاتی۔ اب کوئی کھولے گا تو پھر پتہ لگ جائے گا کہ کس نے کھولا ہے تو اس سے پتہ لگتا تھا کہ کس نے ابھی تک اس کو کھولا نہیں۔ تو آج کل بھی یہ طریقہ رائج ہے۔ تو یہاں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم ہیں یعنی وہ مہر ہیں تمام انبیاء کی جیسے مہر بالکل آخر میں لگائی جاتی ہے اور چیز کے اختتام کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تمام انبیاء کو ختم کرنے والے ہیں۔ آپ کے بعد اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا بھئی۔ اور بعض قراتوں میں خاتم النبین آیا ہے تو خاتم ہو تو ختم کرنے والے ہیں، وہاں اور بات واضح ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ختم کرنے والے ہیں۔ وكان اللہ بکل شيء علیما اور اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ ما كان محمد أبا أحد من رجالكم નહીં ਹੈ محمد باپ کسی ایک کے تم مردوں میں سے ولاك رسول اللہ لیکن رسول ہیں اللہ کے۔ ولاك رسول اللہ لیکن اللہ کے رسول ہیں وخاتم النبیین اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں، تمام نبیوں کی مہر ہیں۔ خاتم اس میں آلہ کا صیغہ ہے، خاتم فاعل وزن ہے بھئی۔ خاتم ما یختم بہ جس کے اوپر ساتھ مہر لگائی جائے بھئی۔ تو یہ اس میں آلہ کا صیغہ ہے۔ تو جس طرح خط لکھنے کے بعد اس کو بند کر کے اس پر مہر لگا دی جاتی ہے، بند کر دیا جاتا ہے اسی طرح آپ پر بھی نبوت ختم ہو گئی، بند ہو گئی، آپ آخری پیغمبر ہیں، آپ کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ یا جس طرح خط کے آخر میں مہر لگا دی جاتی ہے اور اس کا معنی کیا ہوتا ہے کہ خط مکمل ہو گیا، پورا ہو گیا اسی طرح آپ بھی تمام انبیاء کو ختم کرنے والے ہیں، پورا کرنے والے ہیں، اللہ کے آخری پیغمبر ہیں۔ آپ پر نبوت کا دروازہ بند ہو گیا اب آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر نہیں آ سکتا۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ آپ کے بعد اور کوئی پیغمبر نہیں آ سکتا۔ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو قیامت کے قریب تشریف لائیں گے۔ تو جواب یہ بھئی کہ معنی یہ ہے آپ کے بعد کوئی نیا پیغمبر نہیں آ سکتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ان کو تو نبوت آپ سے پہلے ملی تھی اور نبوت آپ سے پہلے ملی تھی اور پھر اللہ نے انہیں آسمانوں پر اٹھا لیا اور اس وقت وہ آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور قیامت کے قریب پھر تشریف لائیں گے تو وہ آپ سے پہلے کے پیغمبر ہیں آپ کے بعد نہیں بھئی تو پھر ان کو البتہ دوبارہ آئیں گے اور یاد رکھیے وہ دوبارہ آئیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی حیثیت سے جب وہ آئیں گے تو اپنی شریعت پر عمل نہیں کریں گے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی تو آپ آخری پیغمبر ہیں۔ بھئی نبوت کا دروازہ بند ہو چکا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آ سکتا۔ تو یہ مرزا قادیانی بہت بڑا دجال اور کذاب گزرا ہے۔ اور قادیانیت کا فتنہ آج کل پھیل رہا ہے۔ اس کے لئے اپنے آپ کو خوب تیار رکھیں بھئی۔ خود بھی تیاری کریں اور اس سلسلے میں ختم نبوت کے جو دلائل ہیں اس کو ان کو یاد کریں کثرت بڑی کثرت سے احادیث میں ختم نبوت کا ذکر ملتا ہے۔ تمام مسلمانوں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آ سکتا۔ تو اس فتنے کے لئے خوب تیاری کریں اور دوسرے مسلمانوں کو، لوگوں کو آگاہ کرتے رہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ آپ ہی لوگ ہیں آپ ہی علماء ہیں اور ابھی سے جو جو فتنے ہیں ان کے لئے تیاری کریں، ان کا اس کے لیے کوشش کریں۔ آپ کی وجہ سے اگر کوئی ایک بھی قادیانیت سے بچ جاتا ہے یا قادیانیت سے نکل آتا ہے تو یہ بہت عظیم اجر ہوگا آپ کے لئے بھئی بہت عظیم اجر۔ وہ ہر طرح کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، لیکن اللہ تعالی علماء امت کو اجر نصیب فرمائے کہ انہوں نے وہ ہر مقام پر ان کا مقابلہ کر رہے ہیں اور لگے ہوئے ہیں تو آپ بھی اس کے لئے ابھی سے تیاری بھی رکھیں اور احادیث وغیرہ اور دلائل یاد کرتے رہیں اور وہ جو جو اشکالات کرتے ہیں ان کے جوابات کوئی بھی فتنہ ہو اس کا مقابلہ الحمدللہ علماء نے اتنی کتابیں لکھ دی ہیں کہ مقابلہ ذرا بھی مشکل نہیں۔ بس ذرا کوشش اور ہمت کی ضرورت ہے بھئی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ بھئی۔ اچھا بھئی اللہ آیت میں فرما رہے ہیں ما كان محمد أبا أحد من رجالكم محمد نہیں ہے تم مردوں میں سے کسی کے باپ۔ یاد رکھیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کو اللہ تعالی نے تین بیٹے عطا فرمائے لیکن ان سب کا بچپن میں ہی انتہائی ابتدائی عمر کے ابتدائی عمر ہی میں ان کا انتقال ہو گیا، تین بیٹے حضرت قاسم، حضرت ابراہیم اور حضرت عبداللہ انہی کا لقب طیب اور طاہر بھی ہے۔ طیب اور طاہر بھی ہے تو تین بیٹے تھے اور یہ بالکل ابتدائی عمر ہی میں ان کا انتقال ہو گیا ان میں سے حضرت ابراہیم جو ہیں ان کی عمر کچھ ایک ڈیڑھ سال تک ہوئی اور پھر اس کے بعد ان کا انتقال ہوا باقیاں کا تو بالکل ابتدا ہی میں انتقال ہو گیا بھئی۔ جی تو یہاں اللہ کیا فرما رہے ہیں محمد تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ تو رجل جو ہے رجل رجل جو ہے وہ وہ مذکر انسان جو بالغ ہونے کی عمر کو پہنچ جائے اسے رجل کہا جاتا ہے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو تین بیٹے تھے وہ تو انتہائی کم سنی ہی میں ان کا انتقال ہو گیا تھا تو کم سنی میں انتقال ہو گیا تھا اس لئے اللہ فرما رہے ہیں کہ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں کیونکہ وہ بالغ ہونے کی حد تک پہنچے ہی نہیں بھئی۔ ولكن رسول اللہ لیکن اللہ کے رسول ہیں اللہ کے رسول ہیں ایک ہوتا ہے رسول اور ایک ہے نبی بھئی۔ بعض علماء لکھتے ہیں یہ دونوں مترادف ہیں لیکن جمہور ان دونوں میں فرق کرتے ہیں رسول وہ نبی ہے جسے الگ کتاب دی گئی ہو اور شلگ شریعت دی گئی ہو جبکہ نبی عام ہے چاہے الگ شریعت اور کتاب ہو چاہے الگ شریعت اور کتاب نہ ہو بھئی تو نبی عام ہے اور رسول خاص ہے تو اللہ فرما رہے ہیں ولكن رسول اللہ کہ محمد کیا ہیں اللہ کے رسول ہیں ان کو الگ کتاب بھی دی گئی اور الگ شریعت بھی دی گئی اور آگے اللہ نے یہ نہیں فرمایا وخاتم الرسل بلکہ اللہ کیا فرما رہے ہیں خاتم النبیین تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں بھئی تمام نبیوں کے تو اس میں رسل بھی آ گئے کیونکہ نبی عام ہے تو سب کو ختم کرنے والے ہیں اب نہ آپ کے بعد کوئی نبی آ سکتا ہے اور نہ رسول آ سکتا ہے۔ وكان اللہ بکل شيء علیما اور اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام۔ واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔
69 approved lectures · 30 of 69