أَعُوذُ بِاِ اللَّهِ مِنَ اِ الشَّيْطَانِ اِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اِ اللَّهِ اِ الرَّحْمٰنِ اِ الرَّحِيمِ وَقَالُوا اِلْحَمْدُ لِلَّهِ اِ اللَّذِي اِ أَذْهَبَ عَنَّا اِ الْحَزْنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ
اِلَّذِي اِ أَحَلَّنَا دَارَ اِ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ
وَقَالُوا اور وہ کہیں گے صِیغَہ ماضی کا ہے، لیکن بمَعنے مُضارَعے کے ہے بھئی۔ اہل ایمان کہیں گے، جب جنت میں جائیں گے بھئی، تو جنت میں وہ کہیں گے بات مستقبل کی ہے، لیکن کس صِیغَہ کون سا ذکر کیا گیا؟ ماضی کا۔ کیوں؟ کیونکہ اس کا وقوع یقینی ہے بھئی، جس طرح ماضی یقینی ہوتی ہے، ایک گزری ہوئی بات ہے، اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح چونکہ یہ بھی یہ نہایت یقینی بات ہے، تو اس لیے اس کو ماضی کے ساتھ تعبیر کر دیا گیا۔
وَقَالُوا اِلْحَمْدُ لِلَّهِ اور وہ کہیں گے کون؟ مومنین بھئی۔ اور وہ کہیں گے اِلْحَمْدُ لِلَّهِ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اِلَّذِي اِ أَذْهَبَ عَنَّا اِ الْحَزْنَ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو ہم سے لے گیا (یرحمك الله) اِلَّذِي اِ أَذْهَبَ عَنَّا جو لے جو ہم سے لے گیا اِلْحَزْنَ غم کو یعنی جس نے ہم سے دور کر دیا غم کو، جس نے ہم سے غم کو
وَقَالُوا اور وہ کہیں گے اِلْحَمْدُ لِلَّهِ اِ اللَّذِي اِ أَذْهَبَ عَنَّا اِ الْحَزْنَ کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا، جنت میں کوئی غم نہیں ہوگا بھئی، کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوگی، خوشیاں ہی خوشیاں، راحتیں ہی راحتیں ہوں گی وہاں پر بھئی۔
تو وہ کہیں گے اللہ کا شکر اس پر ادا کریں گے مومنین وہاں پر، کہ اللہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا، ہر قسم کے غم کو ختم کر دیا، اب آئندہ کبھی کوئی غم نہیں آئے گا۔
إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ یقيناً ہمارا پروردگار البتہ بخشنے والا ہے، قدردان ہے۔
إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ شَكُورٌ کا کیا معنی کریں گے؟ قدردان۔ یقيناً ہمارا پروردگار البتہ بخشنے والا ہے، پُر قدردان ہے۔
اِلَّذِي اِ أَحَلَّنَا دَارَ اِ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ وہ جس نے کہ ہمیں اتارا دَارَ اِ الْمُقَامَةِ مقامہ یہ مَصْدَر ہے بھئی، اقامت کے معنی میں۔ اِلَّذِي اِ أَحَلَّنَا دَارَ اِ الْمُقَامَةِ جس نے ہمیں اتارا رہنے کے گھر میں مِنْ فَضْلِهِ اپنے فضل سے، رہنے کے گھر یعنی جنت مراد ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی! یہ دنیا اس میں تکالیف، پریشانیاں، غم یہی بتلا دیتے ہیں کہ یہ دنیا رہنے کی جگہ نہیں ہے۔
اِلَّذِي اِ أَحَلَّنَا دَارَ اِ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ وہ جس نے کہ ہمیں اتارا رہنے کے گھر یعنی جنت میں مِنْ فَضْلِهِ اپنے فضل سے
جنت اللہ کے فضل سے ملے گی بھئی، انسان کے اپنے اعمال کی بدولت نہیں بھئی۔ ہاں یہ اعمال ان کا سبب تو بنیں گے، لیکن دراصل یہ جنت کیا ہے؟ اللہ اپنے فضل سے دیں گے، ورنہ تو اگر اللہ حساب لینے پر آ جائیں تو انسان نے چاہے تمام زندگی اللہ کی عبادت میں بسر کی ہو، ایک لمحہ بھی گناہ نہ کیا ہو، تو اللہ کی نعمتوں کا وہ شکریہ پھر بھی ادا نہیں کر سکتا جو اللہ نے اس کو دی ہیں۔ تو اگر اللہ حساب لینے پر آ جائیں تو ان نعمتوں کے بدلے ہی ساری عبادتیں ختم ہو جائیں اور پھر بھی وہ جنت کا مستحق نہ بن سکے بھئی۔
تو یہ اللہ اپنے فضل سے دیں گے۔
لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ
لَا يَمَسُّنَا نہیں پہنچتی فِيهَا اس جنت میں نَصَبٌ مشقت، نصب کہتے ہیں مشقت کو۔
نہیں پہنچتی ہمیں اس جنت میں کوئی مشقت، وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ اور نہیں پہنچتی فِيهَا اس میں ہمیں لُغُوبٌ تھکن، تھکن بھئی۔
تو اس جنت کے اندر مومنین ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا ہمیشہ کے لیے اور اس نے ہمیں جنت کے اندر اپنے فضل سے اتارا یعنی جنت میں، جنت ہمیں عطا فرما دی۔
لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی مشقت، ہمیں یہاں کسی قسم کی کوئی مشقت نہیں پہنچتی۔
وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تھکن، تھکن نتیجہ ہوتی ہے مشقت کا بھئی۔
کوئی مشقت والا کام آپ کو کرنا پڑے، تو پھر اس کے بعد کیا ہوتی ہے؟ تھکن ہوتی ہے۔
تو جب مشقت کی نفی ہو گئی، تو ساتھ ہی خود بخود لُغُوب کی بھی نفی ہو گئی، ایک تو ضمنن پتہ چل رہا تھا کہ مشقت جب نہیں ہے، تو یقیناً پھر تھکن بھی نہیں ہے، لیکن پھر ساتھ اس کو صراحتًا ذکر بھی کر دیا۔
نصب مشقت جو ہے وہ سبب ہوتی ہے تھکن کا۔
مشقت وہ سبب ہے اور تھکن مسبب ہے، مشقت ہوگی تو پھر تھکن آئے گی، مشقت نہیں تو تھکن بھی نہیں۔
تو جب نصب کی نفی کر دی گئی، تو تھکن کی نفی بھی خود بخود ہو گئی، لیکن اس کے باوجود اس کو ذکر کر دیا گیا تاکہ خوب صراحت ہو جائے بات کی بھئی، خوب تصریح ہو جائے، وضاحت ہو جائے بھئی۔
لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ نہ تو ہمیں پہنچتی ہے اس جنت کے اندر کوئی مشقت، فِيهَا ها ضمیر راجع ہے یا دار المقامہ کو بھئی۔ یہ رہنے کا گھر یعنی جنت بھئی۔
لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ نہ تو ہمیں پہنچتی ہے اس جنت کے اندر کوئی مشقت وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ اور نہ ہمیں پہنچتی ہے اس کے اندر کوئی تھکن۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ یہ مومنین کا حال تھا، اب کفار کا حال بیان ہونے لگا۔ قرآن کا یہ طریقہ ہے کہ جہاں مومنین کا ذکر آتا ہے، تو ساتھ کفار کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے۔
اور جہاں کفار کا ذکر آتا ہے، تو پھر ساتھ ساتھ مومنین کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے۔
جہاں جہنم کا ذکر آتا ہے، تو پھر اس کے ساتھ جنت کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ نہ تو فیصلہ کیا جائے گا ان پر فَيَمُوتُوا تو وہ مر جائیں، نہ تو ان پر فیصلہ کیا جائے گا (یعنی نہ تو ان پر موت طاری ہوگی فَيَمُوتُوا تو کہ پس وہ مر جائیں بھئی)۔
يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ کیا معنی؟ کون سا فیصلہ؟ موت کا فیصلہ، یعنی انہیں پھر وہاں موت بھی نہیں آئے گی بھئی، عذاب میں ہوں گے ہر وقت بھئی۔
لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ نہ تو ان پر موت کا فیصلہ کیا جائے گا فَيَمُوتُوا کہ پس وہ مر جائیں، وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا
خَفَّفَ کے معنی کم کرنے، وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ اور نہ کم کیا جائے گا ان سے مِنْ عَذَابِهَا اس جہنم کے عذاب میں سے۔
ترجمہ سمجھ میں آیا؟
كَذَالِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ اسی طرح ہم بدلا دیتے ہیں کلَّ كَفُورٍ ہر کفر کرنے والے کو
یا ہر ناشکرے کو، جی دونوں ترجمے آپ کر سکتے ہیں۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ نہ تو ان پر موت کا فیصلہ کیا جائے گا فَيَمُوتُوا کہ پس وہ مر جائیں وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا اور نہ کم کیا جائے گا ان سے اس جہنم کے عذاب میں سے، كَذَالِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ اسی طرح ہم بدلا دیتے ہیں ہر کفر کرنے والے کو۔
وَهُمْ يَصْتَرِخُونَ فِيهَا اِسْتَرْفَحَ کے معنی ہوتے ہیں چیخنا، چلانا بھئی زور شور سے۔
وَهُمْ يَصْتَرِخُونَ فِيهَا اور وہ چلائیں گے فِيهَا اس جہنم کے اندر، کفار چلائیں گے، چیخیں ماریں گے،
کہ اور کیا کہیں گے؟ یہ آگے ذکر آ رہا ہے: رَبَّنَا أَخْرِجْنَا رَبَّنَا اِ يَارَبَّنَا اے ہمارے پروردگار! أَخْرِجْنَا ہمیں نکال لیجیے۔
نَعْمَلْ صَالِحًا ہم عمل کریں گے اچھا، غَيْرَ اِ اللَّذِي علاوہ اس کے کُنَّا نَعْمَلُ جو ہم عمل کیا کرتے تھے، یعنی جو دنیا میں ہم عمل کیا کرتے تھے، اس کے علاوہ
یعنی وہ کفر والا عمل اب ہم نہیں کریں گے، بلکہ اس کے علاوہ نیک عمل، اچھے عمل ہم کریں گے۔
يرحمك الله۔
وَهُمْ يَصْتَرِخُونَ فِيهَا اور وہ چلائیں گے جہنم میں رَبَّنَا أَخْرِجْنَا اے ہمارے پروردگار! ہمیں نکال لیجیے۔ نَعْمَلْ صَالِحًا ہم اچھے عمل کریں گے، نیک عمل کریں گے۔
نَعْمَلُ بھئی، یہ مجزوم ہے، کیوں؟
کیونکہ جوابِ امر ہے بھئی، جوابِ امر بھئی۔ میں نے بتلایا تھا کہ چھ چیزوں کے بعد فعلِ مضارع آئے تو وہ کیا ہوگا؟ مجزوم ہوگا، اور اِسی چھ چیزوں کے بعد اگر مضارع آئے اور اس سے پہلے واو یا فا آ جائے تو پھر منصوب ہوگا، أن مقدر ہوگا۔
یہ مجزوم کیوں ہوتا ہے؟
وجہ اس کی یہ کہ یہاں
شرط محذوف ہوتی ہے بھئی، شرط۔
اِن، اِن محذوف ہوتا ہے اِن، ماء شرط کے۔ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا اے ہمارے پروردگار ہمیں نکال لیجیے۔
إِنْ تُخْرِجْنَا
نَعْمَلْ صَالِحًا، إِنْ تُخْرِجْنَا اگر آپ ہمیں نکال لیں گے نَعْمَلْ صَالِحًا تو ہم کیا کریں گے؟ اچھا عمل کریں گے، تو یہ جزم اِن دے رہا ہے یہاں پر بھئی، اور یہ نَعْمَل اس کی جزا ہے، إِنْ تُخْرِجْنَا یہ شرط ہے اور نَعْمَل اس کی جزا ہے، یہ اس لیے مجزوم ہوا کرتا ہے کہ وہاں پر اِن ماء شرط کے محذوف ہوتا ہے بھئی۔
رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اے ہمارے پروردگار ہمیں نکال لیجیے، نَعْمَلْ صَالِحًا ہم اچھے عمل کریں گے، غَيْرَ اِ اللَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ علاوہ اس کے جو ہم عمل کیا کرتے تھے۔
علاوہ اس کے جو ہم یہ کس کا ترجمہ کیا میں نے؟
غَيْرَ اِ اللَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ علاوہ اس کے جو ہم عمل کرتے تھے۔
یعنی اِلَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ، اِلَّذِي كُنَّا وہ جو ہم عمل کیا کرتے تھے، غَيْرَہ اس کا غیر کریں گے، یعنی وہ نہیں کریں گے، وہ عمل ہم اب نہیں کریں گے کفر و شرک والا۔
تو ایک تو یا تو یوں ترجمہ کر لیں: غَيْرَ اِ اللَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ علاوہ اس کے جو ہم عمل کیا کرتے تھے۔
یا یہ ترجمہ کر لیں:
غَيْرَ اِ اللَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ نہ کہ وہ جو وہ عمل جو ہم کیا کرتے تھے، کہ وہ نہیں جو ہم عمل کیا کرتے تھے۔
وہ نہیں جو ہم
نَعْمَلْ صَالِحًا ہم اچھے عمل کریں گے، غَيْرَ اِ اللَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ وہ نہیں جو ہم عمل کیا کرتے، ہم اچھے عمل کریں گے، وہ عمل نہیں جو ہم پہلے جو ہم کیا کرتے تھے۔
أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ
میں نے بتلایا تھا ہمزہ استفہام کے بعد واو آئے تو یہ واو اور یا فا آئے، یہ کیا ہوتے ہیں؟ عاطفہ اور ان سے ماقبل عبارت کیا ہوتی ہے؟ محذوف ہوتی ہے جو موقع کے مطابق مفسرین پھر بیان کرتے ہیں کہ یہاں یہ عبارت ہوگی بھئی۔ بس آپ اتنا یاد رکھیے کہ یہ واو اور فا کس لیے آتے ہیں؟ عطف کے لیے آتے ہیں، اور ان سے ماقبل عبارت محذوف ہوتی ہے۔
أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ یہ اب جواب دیا جائے گا ان کو بھئی، اللہ کی طرف سے جواب دیا جائے گا۔
تو اللہ جواب دیں گے یا فرشتے جواب دیں گے اللہ کی طرف سے۔
أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ عَمَّرَ يُعَمِّرُ کے معنی عمر دینا۔ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ کیا ہم نے تمہیں عمر نہیں دی تھی، ما اتنی يَتَزَكَّرُ
يَتَزَكَّرُ کے معنی نصیحت قبول کرنا۔ يَتَزَكَّرُ کہ نصیحت قبول کرے فِيهِ اس میں مَنْ تَزَكَّرَا کون نصیحت قبول کرے؟ مَنْ تَزَكَّرَا جو نصیحت قبول کرنا چاہے۔
جو نصیحت قبول کرنے والا ہو وہ کیا کر لے؟
اللہ کی طرف سے جواب آئے گا، وہ کہیں گے ہمیں نکال لیجیے، ہم اچھے عمل اب کریں گے، فرشتے جواب میں کہیں گے، یا اللہ فرمائیں گے، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ کیا ہم نے تمہیں عمر نہیں دی تھی اتنی عمر کے جس میں نصیحت قبول کرنے والا نصیحت قبول کر سکے۔
تو یہ کتنی عمر مراد ہے؟ مختلف اقوال ہیں بھئی اس بارے میں۔
بعض کہتے ہیں چالیس سال۔
بعض کہتے ہیں ساٹھ سال۔
وغیرہ مختلف اقوال ہیں بھئی۔
سمجھ میں آئے تو
مفسرین حضرات لکھتے ہیں بھئی کہ جس کو ساٹھ سال کی عمر دے دی گئی، اس کا تو کوئی عذر اللہ کے سامنے نہیں چلے گا، کوئی عذر۔
ساٹھ سال کی بڑی طویل زندگی ہے، کیا اتنی لمبی طویل زندگی میں تمہیں اتنا موقع نہیں ملا کہ تم غور و فکر خود کر لیتے کہ یہ یقیناً یقیناً اس کائنات کا کو بنانے والی اور اس کا نظام چلانے والی ایک ہی ذات ہے، یہ اور بت وغیرہ جو تم نے معبود بنا رکھے ہیں یہ اس کے ساتھ شریک نہیں بھئی۔
أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَزَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَزَكَّرَ کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ نصیحت قبول کر لے اس کے اندر جو نصیحت قبول کرنا چاہے۔
وَجَاءَكُمُ اِ النَّذِيرُ اور آئے تمہارے پاس ڈرانے والے،
اور آیا تمہارے پاس ڈرانے والا بھئی، آیا تمہارے پاس ڈرانے والا، یعنی پیغمبر بھی تمہارے پاس آئے تھے۔
ہم نے عمر بھی دی تھی، اس عمر میں خود بھی غور و فکر کر کے تم یہ جان سکتے تھے کہ
اس کائنات کو بنانے اور چلانے والی ذات ایک ہی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ تمہارے پاس پیغمبر بھی آیا تھا، فَذُوقُوا پس چکھو تم، فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ نَصِيرٍ
پس نہیں ہوگا ظالموں کے لیے کوئی مددگار۔
فَذُوقُوا پس چکھو تم، یعنی اسی عذاب کو اب چکھو، اپنے اعمال کا بدلہ چکھو۔ فَذُوقُوا پس چکھو تم، فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ نَصِيرٍ پس نہیں ہوگا ظالموں کے لیے کوئی مددگار۔
إِنَّ اِ اللَّهَ عَالِمُ غَيْبِ اِ السَّمَاوَاتِ وَاِ الْأَرْضِ يقيناً اللہ
جاننے والا ہے زمین اور آسمان کی پوشیدہ باتوں کو۔ ان اللہ یقیناً اللہ عالم غیب السماوات والارض جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو یعنی سب کچھ اللہ جاننے والا ہے۔ انہ علیم بذات الصدور یقیناً وہ جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کو۔ ذات الصدور سینوں کی باتوں کو، دلوں کی باتوں کو۔ انہ علیم بذات الصدور یقیناً وہ جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کو۔ یہ اللہ فرما رہے ہیں بھئی آگے، یقیناً اللہ زمین اور آسمان کی پوشیدہ چیزوں کو پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے اور وہ دلوں کی باتوں کو جاننے والا ہے۔ یعنی یہ کہہ رہے ہیں کہ اے اللہ ہمیں نکال دیجیے، ہم اچھے عمل کریں گے جیسے پہلے عمل کرتے تھے ویسے عمل نہیں کریں گے۔ لیکن اللہ جانتے ہیں دلوں کی باتوں کو بھی جانتے ہیں، کہ یہ اگر ان کو دنیا میں پھر بھیج دیا جائے تو یہ پھر اسی طرح فساد کرنے لگیں گے، اسی طرح فساد مچانے لگیں گے جس طرح یہ پہلے فساد مچایا کرتے تھے۔ ان کی طبیعت ہی فساد کو پسند کرنے والی ہے۔ چنانچہ قرآن میں دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: ولو ردوا لعادوا لما نھو عنہ، اگر ان کو واپس لوٹا دیا جائے، لعادوا تو یہ پھر لوٹیں گے لما نھو عنہ اسی چیز کی طرف جس سے ان کو منع کیا گیا تھا۔ یعنی یہ پھر اسی طرح عمل کرنے لگیں گے اگر ان کو لوٹا دیا جائے۔
ھوالذی جعلکم خلائف فی الارض، ھوالذی اللہ ہی وہ ذات ہے جعلکم کہ بنایا اس نے تمہیں خلائف، خلائف جمع ہے خلیفہ کی بھئی نائب کو کہتے ہیں، قائم مقام کو بھئی۔ ھوالذی اللہ ہی وہ ذات ہے جعلکم خلائف کہ بنایا اس نے تمہیں خلیفہ، قائم مقام فی الارض زمین میں۔ کیا بنایا تمہیں؟ قائم مقام بنایا بھئی زمین میں۔ یعنی تمہیں خلیفہ بنایا گزشتہ امتوں کا۔ وہ امتیں ختم ہوئیں تم ان کے کیا ہو گئے؟ قائم مقام ہو گئے۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ اور اللہ وہ ذات ہے جعلکم بنایا کہ بنایا اس نے تمہیں خلائف فی الارض زمین کے اندر نائب بنایا، قائم مقام بنایا۔ اور ہمارے بعض علماء نے یوں ترجمہ کیا بھئی۔ ھوالذی جعلکم اور اللہ وہ ذات ہے جعلکم خلائف فی الارض کہ اس نے بنایا تم، کہ اس نے تمہیں آباد کیا زمین میں۔ تمہیں کیا کیا؟ آباد کیا زمین میں۔
فمن کفر فعلیہ کفرہ، پس جس شخص نے کفر کیا فعلیہ کفرہ تو اسی پر اس کے، اس کا کفر ہے یعنی اس کے کفر کا وبال ہے۔ فمن کفر، پس جس شخص نے کفر کیا فعلیہ کفرہ تو اسی پر اس کے کفر کا وبال ہے، یعنی اس کے کفر کا نقصان اسی کو ہے، اس کا وبال اسی پر ہے۔ ولا یزید الکافرین کفرہم عند ربھم الا مقتا، اور نہیں زیادہ، نہیں بڑھاتا ولا یزید اور نہیں بڑھاتا الکافرین کافروں پر۔ نہیں بڑھاتا کافروں پر کفرھم یہ فاعل ہے یزید کے لیے بھئی۔ کون نہیں بڑھاتا ان کا کفر بھئی۔ ولا یزید الکافرین اور نہیں بڑھاتا کافروں پر کفرھم ان کا کفر عند ربھم ان کے پروردگار کے پاس الا مقتا، مگر ناراضگی۔ مقت کہتے ہیں ناراضگی کو بھئی، غضب کو۔ یعنی کافروں کا کفر ان کے پروردگار کے پاس غضب ہی کو بڑھاتا ہے، ناراضگی ہی کو بڑھاتا ہے بھئی۔ جس سے اللہ کی ناراضگی میں اور اضافہ ہوتا ہے ان کے کفر سے بھئی۔
تو یہ جو کفر ہے یہ ان کے کوئی نفع نہیں دے رہا، یہ ان کے لیے نقصان ہی نقصان ہے اور اس سے اللہ کے ہاں بھی ان کے اوپر ناراضگی ہی بڑھتی ہے بھئی۔ ولا یزید الکافرین اور نہیں بڑھاتا کافروں پر کفرھم ان کا کفر عند ربھم ان کے پروردگار کے پاس الا مقتا، مگر ناراضگی۔ جی، یہ تو ترجمہ کیا لا اور الا کے ساتھ، نہیں بڑھاتا با محاورہ کیسے کریں گے ترجمہ بھئی؟ صرف کا لفظ لے آئیں یا ہی کا لفظ لے آئیں بھئی۔ اور کافروں کا کفر تو ان پر ان کے پروردگار کے پاس صرف ناراضگی ہی کو بڑھاتا ہے۔ ولا یزید الکافرین اور نہیں بڑھاتا کافروں پر کفرھم ان کا کفر الا خسارا، مگر نقصان ہی۔ کافروں کا کفر ان پر نقصان ہی بڑھاتا ہے، ان کے لیے کافروں کا کفر ان کے لیے نقصان ہی بڑھاتا ہے، نقصان ہی میں صرف اضافے کا باعث بنتا ہے اور کچھ فائدہ نہیں پہنچاتا ان کو۔ ولا یزید الکافرین کفرھم الا خسارا، اور کافروں کا کفر جو ہے ان پر کافروں کا کفر ان پر نقصان، صرف نقصان ہی کو بڑھاتا ہے۔ قل ارایتم، اے قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے: ارایتم ارایتم کیا ترجمہ کریں گے بھئی؟ ارایتم، اس کا ترجمہ کریں گے تم مجھے بتلاؤ تو سہی۔
ارایتم، ترجمہ کیا کریں گے اس کا؟ کیا مفہوم ہوتا ہے اس کا؟ تم مجھے بتلاؤ تو سہی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ ترجمہ با محاورہ اردو میں یہ ترجمہ اس کا مفہوم اس کا یہ ہوتا ہے۔ ارایتم، کیا تم نے دیکھا؟ یہ معنی نہیں کرنا بھئی۔ کیا مفہوم کریں گے اس کا؟ ہاں اس سے یہ مراد ہوتی ہے اس سے کہ تم مجھے بتلاؤ تو سہی۔ قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ارایتم کہ تم مجھے بتلاؤ تو سہی قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ارایتم یعنی ان مشرکین سے کہیے پیغمبر آپ ان سے کہیے ارایتم کہ تم مجھے بتلاؤ تو سہی شرکاءکم الذین تو اپنے وہ شریک الذین تدعون جن کو تم پکارتے ہو من دون اللہ اللہ کے علاوہ قل ارایتم اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ارایتم تم مجھے بتلاؤ تو سہی شرکاءکم الذین تدعون من دون اللہ اپنے وہ شریک جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ ارونی، تم مجھے دکھلاؤ۔ ما ارونی، یا متکلم کی ہے ساتھ بھئی۔ ارونی، تم مجھے دکھلاؤ بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ رای کا معنی ہوتا ہے دیکھنا اور ارا کا معنی دیکھانا۔ ارونی، تم مجھے دکھاؤ ماذا خلقوا من الارض، کیا پیدا کیا ہے انہوں نے زمین میں سے؟ ام لھم شرک فی السماوات، یا ان کے لیے شرکت ہے آسمانوں میں؟ اے پیغمبر آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم مجھے دکھلاؤ تو سہی اپنے وہ شریک جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو، ارونی تم مجھے دکھلاؤ ماذا خلقوا من الارض، انہوں نے زمین میں سے کیا پیدا کیا ہے؟ تم انہیں اللہ کا شریک قرار دیتے ہو، تم مجھے دکھاؤ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں سے؟ ام لھم شرک فی السماوات، یا ان کی شرکت ہے آسمانوں کے اندر بھئی، یعنی یا یہ آسمانوں کے بنانے میں اللہ کے ساتھ شریک تھے، تم مجھے ذرا دکھاؤ تو سہی، کس بنا پر تم ان کی عبادت کرتے ہو اور ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو؟
قل ارایتم شرکاءکم الذین تدعون من دون اللہ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ تم مجھے دکھلاؤ تو سہی شرکاءکم الذین اپنے وہ شریک تدعون کہ جن کو تم پکارتے ہو من دون اللہ اللہ کے علاوہ۔ ارونی، تم مجھے دکھلاؤ ماذا خلقوا من الارض، کیا پیدا کیا ہے انہوں نے زمین میں سے؟ ام لھم شرک فی السماوات، یا ان کی شرکت ہے آسمانوں میں، یعنی اس کے بنانے میں۔ ام آتینہم کتاباً، یا ہم نے دی ہے ان کو کوئی کتاب، یعنی یہ مشرکین کیا کرتے ہیں؟ اور چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں تو یا تو ہم نے کیا یا ام آتناہم، یا ہم نے دی ہے ان کو کتاباً کتاب فھم علی بینۃ منہ، پس یہ جو ہیں بینہ واضح دلیل پر ہیں منھ، اس میں سے۔ یا تو ہم نے کوئی کتاب یا تو ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہو کہ یہ فھم علی بینۃ منھ، یہ اس پر اس میں سے واضح دلیل پر ہوں۔ کوئی ہم نے کتاب دی ہو جس میں ہم نے ان کو کہا ہو کہ ان چیزوں کو ہمارا شریک ٹھہراؤ، پھر تو یہ واضح دلیل پر ہوں گے، لیکن ہم نے تو ان کو کوئی ایسی کتاب بھی نہیں دی، نہ یہ ہمارے ساتھ زمین اور آسمان کے بنانے میں شریک ہیں اور نہ ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے کہ جس کی دلیل کی بنیاد پر یہ کہتے ہوں کہ یہ اللہ کے ساتھ شریک ہیں، پھر کس طرح یہ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ان چیزوں کو؟ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ ام آتناہم کتاباً یا ہم نے دی ہو ان کو کتاب فھم علی بینۃ منھ، پس یہ واضح دلیل پر ہوں اس سے۔ بل ان یعد الظالمون بعضہم بعضاً الا غروراً، بلکہ ان ان، یہ نفی کے لیے ہے۔ ان یعد الظالمون، نہیں وعدہ کرتے ظالم۔ نہیں وعدہ کرتے ظالم، بعضہم بعضاً، ان میں سے بعض بعض کے ساتھ، الا غروراً، مگر دھوکہ ہی۔ بل ان یعد الظالمون، بلکہ نہیں وعدہ کرتے ظالم۔ بعضہم بعضاً، بعض بعض سے، با محاورہ کیا ترجمہ کریں گے؟ ایک دوسرے سے۔ ایک دوسرے سے، بلکہ نہیں وعدہ کرتے ظالم ایک دوسرے سے، الا غروراً، مگر دھوکہ ہی، یعنی دھوکے ہی کا وعدہ ہے۔ کیا وعدہ کرتے ہیں؟ یہ کہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ یہ جو بت وغیرہ ہم نے بنا رکھے ہیں، یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے بھئی، کیا کریں گے؟ اللہ کو تو یہ بھی مانتے ہیں، لیکن یہ بتوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری سفارش کریں گے۔ اللہ فرماتے ہیں یہ ایک دوسرے سے جھوٹا وعدہ کر رہے ہیں، دھوکے والا وعدہ کر رہے ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ یہ ہمارے پاس ان کی سفارش کریں گے۔
جی، تو یہاں آیا، یہاں غرور کا لفظ آیا۔ غرور، یہ مصدر ہے اور دھوکہ دینا، دھوکہ دینا۔ تو یہاں مراد دھوکہ ہے، کہ نہیں وعدہ کرتے ظالم ایک دوسرے سے، مگر دھوکے کا۔ اور پیچھے آیت نمبر پانچ میں الغرور آیا تھا، ولا یغرنکم باللہ الغرور۔ غرور، یہ صفت کا صیغہ ہے، دھوکہ دینے والا، فعول وزن ہے اور تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والا یعنی شیطان بھئی۔ تو یہ فرق پہ نظر رکھنا بھئی، غرور کیا ہے؟ صفت کا صیغہ اور غرور کیا ہے؟ مصدر ہے بھئی۔ بل ان یعد الظالمون بعضہم بعضاً الا غروراً، بلکہ نہیں وعدہ کرتے ظالم ایک دوسرے سے مگر دھوکے کا۔ ان اللہ یمسک السماوات والارض، یقیناً اللہ، تھام، اللہ تھامتا ہے آسمانوں کو اور زمین کو، ان تزول، کہ وہ ہٹ جائیں، وہ دونوں ہٹ جائیں اپنی جگہ سے۔ زال یزول کے معنے ہوتے ہیں اپنی جگہ سے ٹل جانا، اپنی جگہ سے ہٹ جانا، اپنی جگہ کو چھوڑ دینا۔ تو یہ اللہ فرما رہے ہیں زمین اور آسمان کو اللہ نے تھام رکھا ہے، یہ اپنی جگہ سے اسی لیے نہیں ہٹتے، اگر اللہ نے نہ تھاما ہو تو یہ اپنی جگہ سے اپنی جگہ کو چھوڑ دیں اور سارا نظامِ عالم جو ہے وہ درہم برہم ہو جائے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ امسکہ یمسک کو کیا معنی، کیا معنی ہوتے ہیں؟ تھامنا بھئی، تھامنا، روکنا، روکنا۔ ان اللہ یمسک السماوات والارض، یقیناً اللہ نے تھام رکھا ہے آسمانوں کو اور زمین کو، ان تزول، کہ وہ اپنی جگہ چھوڑ دیں۔ کہ وہ اپنی جگہ چھوڑ دیں، اس سے اللہ نے ان کو تھام رکھا ہے۔ ولا ان زالتا، اور اگر یہ دونوں اپنی جگہ چھوڑ دیں، ولا ان زالتا، اور اگر یہ دونوں اپنی جگہ چھوڑ دیں، ان امسکہما، تو یہ ان نفی کے لیے ہے۔ ان امسکہما، تو نہیں تھام سکتا ان دونوں کو من احد، کوئی ایک بھی من بعدہ، اللہ کے بعد۔ اللہ کے چھوڑنے کے بعد پھر کوئی اور ان کو نہیں تھام سکتا۔ تو اللہ نے ان کو تھام رکھا ہے۔ ان اللہ یمسک السماوات والارض ان تزول، یقیناً اللہ نے تھام رکھا ہے آسمانوں اور زمین کو کہ وہ اپنی جگہ کو چھوڑ دیں۔ مراد سمجھ میں آگئی بھئی کیا معنی ہے؟ تو مرادی ترجمہ کریں، ان تزول ای لامر ان لا تزول کہ اپنی جگہ کس چیز سے اللہ نے تھام رکھا ہے؟ اپنی جگہ چھوڑنے سے تھام رکھا ہے۔ تو یعنی کیا معنی؟ اللہ نے تھام رکھا ہے تاکہ یہ اپنی جگہ نہ چھوڑ دیں، تو ترجمہ بھی اسی طرح کر لو ذرا زیادہ واضح ہو جائے گا۔ ان اللہ یمسک السماوات والارض، یقیناً اللہ نے تھام رکھا ہے آسمانوں کو اور زمین کو ان تزول کہ وہ اپنی جگہ نہ چھوڑ دیں۔ ولا ان زالتا اور اگر یہ دونوں اپنی جگہ چھوڑ دیں، ان امسکہما تو نہیں تھام سکتا ان دونوں کو من احد کوئی ایک بھی من بعدہ، اس اللہ کے بعد۔ اللہ کے چھوڑ دینے کے بعد کوئی اور ان کو نہیں تھام سکتا۔ انہ کان حلیماً غفورا، یقیناً اللہ جو ہیں، حلیماً تحمل والے ہیں، غفورا بخشنے والے ہیں۔ یقیناً اللہ تحمل والے، بخشنے والے ہیں۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذہن میں آیا کہ اللہ تعالی کبھی سوتے بھی ہیں یا نہیں؟ تو اللہ تعالی سے پوچھا۔ اللہ نے فرمایا کہ دو آئینے اپنے ہاتھ میں پکڑ لو۔ وہ انہوں نے دو آئینے اپنے ہاتھ میں پکڑے اور آئینے، ان کا خیال رکھنا ان کو ہاتھ میں پکڑ کے رکھو۔ انہوں نے آئینے ہاتھ میں پکڑے رکھے تو کافی دیر گزر گئی ہوگی پھر ان کو اونگھ آ گئی بھئی۔ نیند آئی اور وہ ایک آئینہ ان کے ہاتھ سے نکلا، نیچے گرا، ٹوٹ گیا۔ تو اللہ فرمانے لگے کہ اگر اللہ بھی سوئے، اللہ کو بھی نیند آ جائے تو یہ کائنات کا نظام لمحہ بھر کے لیے بھی برقرار نہ رہے بھئی۔ ہر آن اللہ جو ہے اس کو سنبھالے ہوئے ہیں اور اس کا نظام جو ہے وہ چلا رہے ہیں اللہ تعالی۔ جی چلیے بس بھئی۔ ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔