Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تفسير جزء 20 تا جزء 29 · dars-041

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 09 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔ الحمد لله فاطر السماوات والأرض جاعل الملائكة رسلا أولي أجنحة مثنى وثلاث ورباع يزید في الخلق ما يشاء إن الله على كل شيء قدير۔ یہ سورہ فاطر آج ہم شروع کر رہے ہیں۔ الحمد للہ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ فاطر السماوات والأرض، فاطر کا معنی ہے بغیر مثال کے پیدا کرنے والا۔ ایک چیز کی پہلے مثال موجود ہو، نمونہ موجود ہو، تو اس طرح کی چیز بنانا کوئی اتـ اتـ اتنا مشکل کام نہیں، لیکن ایک ہے کہ ایک چیز کا نصـ سرے سے پہلے سے کوئی نمونہ ہی موجود نہ ہو۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ کی ذات وہ ہے جو آسمان اور زمین کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والی ہے، یعنی پہلے ان کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔ الحمد للہ، تمام تعریفیں الـ اللہ کے لیے ہیں، فاطر السماوات والأرض، جو پیدا کرنے والا ہے آسمان اور زمین کو بغیر مثال کے، جو پیدا کرنے والا ہے آسمان اور زمین کو بغیر مثال کے۔ جاعل الملائكة رسلا، بنانے والا ہے فرشتوں کو پیغام رساں۔ جاعل الملائكة رسلا، بنانے والا فرشتوں کو پیغام رساں، رسل، پیغام رساں، پیغام پہنچانے والے۔ أولي أجنحة، پروں والے۔ أولي أجنحة، پروں والے۔ جناح پر کو کہتے ہیں، اس کی جمع اجنہہ آتی ہے۔ أولي أجنحة کا کیا معنی ہوا؟ پروں والے، جیسے ذو مال کہتے ہیں بھئی، ذو مال، کیا معنی؟ مال والا۔ تو یہاں اسی سے ذو کی اس کی جمع جو ہے من غیر لفظہ، یہ اولیٰ آتی ہے بھئی، اولو۔ اور اس کا وہی اعراب ہے اولو کا جیسے مسلمون کا تھا، حالتِ رفعی میں واؤ کے ساتھ آتا ہے، اولو، اور حالتِ نصبی و جری میں جیسے مسلمین بھئی، حالتِ نصبی و جری میں یا کے ساتھ اور حالتِ رفعی میں واؤ کے ساتھ، مسلمون اور مسلمین۔ اسی طرح یہ حالتِ رفعی میں اولو اور حالتِ نصبی و جری میں اولیٰ۔ أولي أجنحة، پروں والے۔ مثنى، دو دو، وثلاث، اور تین تین، ورباع، اور چار چار۔ اور یہ أولي أجنحة، یہ صفت ہے رسل کی۔ تو رسل منصوب ہے، تو یہ اولیٰ بھی دراصل کیا ہے؟ منصوب ہے، البتہ اس کا نصب وہ بھی یا کے ساتھ ہی آتا ہے، جیسے کہ اس کا کسرہ کس کے ساتھ آتا ہے؟ یا کے ساتھ۔ اور یہ مثنى، ثلاث اور رباع، یہ صفت ہے اجنہہ کی بھئی، اجنہہ۔ اور وہ مجرور ہے، تو یہ بھی مجرور ہیں۔ کہ وہ بـ بنانے والا ہے فرشتوں کو ایسے پیغام رساں جو پروں والے ہیں، دو دو پر ہیں، دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ الحمد للہ، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، فاطر السماوات والأرض، جو بغیر مثال کے بـ بنانے والا ہے، بغیر مثال کے پیدا کرنے والا ہے آسمانوں کو اور زمین کو۔ جاعل الملائكة رسلا، بنانے والا ہے فرشتوں کو پیغام رساں۔ أولي أجنحة مثنى وثلاث ورباع، دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے۔ تو اللہ نے جو فرشتے پیدا فرمائے ہیں، اللہ فرما رہے ہیں کہ بعض کے دو دو پر ہیں، بعض کے تین تین ہیں، بعض کے چار چار ہیں۔ اور صرف یہی نہیں کہ دو دو، تین تین یا چار چار ہی ہیں، آگے اللہ فرماتے ہیں: يزید في الخلق ما يشاء، اللہ بڑھاتے ہیں پیدائش میں ما يشاء، جو وہ چاہتے ہیں۔ جو وہ چاہتے ہیں، تو اس سے بھی اور زیادہ پروں والے ہیں، جیسے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دیکھا معراج کی رات، کہ آپ کے 600 پر تھے بھئی، 600 پر، اور جن سے جواہرات اور موتی وغیرہ گر رہے تھے۔ إن الله على كل شيء قدير، یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہیں۔ تو اللہ وہ ذات ہے جس نے بنایا فرشتوں کو پیغام رساں، جو دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے ہیں، اور اللہ بڑھاتے ہیں پیدائش کے اندر جو چاہتے ہیں، یعنی اس سے بھی زیادہ پروں والے ہیں۔ تو اللہ جو چاہتے ہیں، جس طرح چاہتے ہیں، ویسا پیدا فرماتے ہیں۔ تو بس بتلانا مقصد یہ ہے کہ مختلف ہیں بھئی، فرشتے بھی ان میں مختلف ہیں، کسی کے دو پر ہیں، کسی کے تین پر ہیں، کسی کے چار ہیں، کسی کے ان سے بھی زیادہ ہیں، اللہ جس کے چاہتے ہیں پیدائش میں جتنی زیادتی چاہتے ہیں، کرتے ہیں۔ ما يفتح الله للناس من رحمة، جو اـ کھول دیں اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے من رحمة، اـ رحمت میں سے، فلا ممسك لها، تو کوئی نہیں روکنے والا اس رحمت کو۔ جو اللہ کھول دیں لوگوں کے لیے رحمت میں سے، تو اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ وما يمسك، اور جو اللہ روک لیں، فلا مرسل له، تو اسے کوئی بھیجنے والا نہیں۔ جو اللہ رحمت بندوں تک پہنچنے کے لیے کھول دیں، جو بندوں تک پہنچانا چاہیں، اسے کوئی نہیں روک سکتا، اور جس کو روک لیں، پھر اسے کوئی بھیج نہیں سکتا۔ وما يمسك، اور وہ جـ جسے روک لیں، فلا مرسل له، تو کوئی اسے بھیج نہیں سکتا، من بعده، اس اللہ کے بعد۔ اللہ کے بعد پھر کوئی اور کوئی اسے بھیج نہیں سکتا۔ وهو العزيز الحكيم، اور وہ زبردست حکمت والے ہیں۔ ما يفتح الله للناس من رحمة، جو کچھ کھول دیں اللہ لوگوں کے لیے من رحمة، اپنی رحمت میں سے، فلا ممسك لها، تو اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ ما يفتح بھئی، یہ ما يفتح الله للناس من رحمة، یہ ہے شرط، فلا ممسك لها، یہ ہے اس کی جزا۔ اور شرط میں آیا ما يفتح، فعلِ مضارع آیا، تو یہ مجزوم ہے بھئی، مجزوم۔ اور پھر حاء بھی ساکن، آگے لفظِ اللہ کے شروع سے ہمزۃ الوصل تو گر گیا، لام بھی ساکن بھئی۔ حاء بھی ساکن، لام بھی ساکن، تو الساكن إذا حرك حرك بالكسر، تو لہٰذا حاء کے کسرہ نیچے کسرہ آ گیا بھئی، ما يفتح الله للناس۔ جو کھول دیں اللہ لوگوں کے لیے من رحمة، رحمت میں سے، فلا ممسك لها، تو اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ اللہ جس رحمت کو لوگوں تک پہنچانے کا ارادہ کر لیں، جس رحمت کو لوگوں کے لیے کھول دیں، اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ وما يمسك، اور جس کو اـ یہ دیکھو یہ پھر وہی شرط آ گئی بھئی، مجزوم ہے۔ وما يمسك، اور جو کچھ روک لیں اللہ، فلا مرسل له من بعده، تو کوئی نہیں ہے اس کو بھیجنے والا اس من بعده، أي من بعد الله، کس کے بعد؟ اللہ کے بعد، یعنی اللہ کے روکنے کے بعد اس کو کوئی اور بھیجنے والا نہیں ہے، کوئی اور اس کو نہیں بھیج سکتا پھر۔ من بعده، اللہ کے بعد، یعنی اللہ کے روکنے کے بعد، اللہ کے روکنے کے بعد کوئی اسے بھیج نہیں سکتا۔ وهو العزيز الحكيم، اور وہ زبردست ہے، حکمت والے ہیں۔ يا أيها الناس، اے لوگو! اذكروا نعمة الله عليكم، یاد کرو تم اللہ کے احسانات کو عليكم، اپنے اوپر، اللہ کی نعمت کو اپنے اوپر، یعنی اللہ کے احسانات کو اپنے اوپر یاد کرو۔ هل من خالق غير الله، کیا ہے کوئی پیدا کرنے والا اللہ کے علاوہ؟ کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور پیدا کرنے والا ہے؟ يرزقكم من السماء والأرض، رزق دیتا ہے وہ تمہیں آسمان آسمان سے اور زمین سے، آسمان سے بارش برسـ ہے زمین سے پھر نباتات اگتی ہیں۔ فصلیں اگتی ہیں۔ لا إله إلا هو اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ فأنى تؤفكون پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟ کہاں تم پلٹائے جاتے ہو؟ جب یہ تم بھی مانتے ہو کہ رزق دینے والی ذات اللہ کی ہے، پیدا کرنے والی ذات اللہ کی ہے، تو پھر کس طرح اوروں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو؟ کس طرف تم لوٹائے جاتے ہو؟ فأنى تؤفكون تو کس طرف تم لوٹائے جاتے ہو؟ يا أيها الناس اذكروا نعمت الله عليكم اے وہ لوگ، اے لوگوں! یاد کرو اللہ کی نعمت کو اپنے اوپر، اللہ کے احسانات کو اپنے اوپر۔ هل من خالق غير الله کیا ہے کوئی پیدا کرنے والا اللہ کے علاوہ؟ غیر اللہ، یہ صفت ہے خالق کی بھئی۔ خالق، یہ ہے موصوف اور غیر اللہ اس کی صفت ہے۔ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ خالقٍ تو ہے مجرور اور غیر اللہ تو ہے مرفوع، یہ اس کی صفت کیسے؟ جواب یہ کہ یہ جو خالق پر لفظِ من داخل ہے، یہ من زائدہ ہے بھئی۔ یہ من کیا ہے؟ زائدہ ہے، اور تو یہ کلامِ یہ استفہام وغیرہ اور نفی میں کبھی کبھار یہ زائد ذکر کیا جاتا ہے۔ تو ورنہ یہ خالق جو ہے، یہ مبتدا ہے بھئی۔ کیا ہے؟ أي هل خالق غير الله؟ هل خالق غير الله؟ تو یہ من زائد ہے۔ تو خالقٍ لفظوں کے اعتبار سے تو مجرور، لیکن محل کے اعتبار سے یہ مرفوع ہے، یہ مبتدا ہے موصـ تو لہٰذا غیر اللہ، یہ صفت ہے خالق کی باعتبار محل کے بھئی۔ کس اعتبار سے؟ محل کے اعتبار سے، اور محل کے اعتبار سے تو خالقٍ مرفوع ہے، تو صفت بھی کیا لائی گئی؟ مرفوع۔ تو لفظوں کی رعایت بھی رکھنا، وہ بھی درست ہے اور محل کی رعایت رکھنا بھی درست۔ جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے، تو یہاں پر محل کی رعایت کی گئی ہے بھئی۔ هل من خالق غير الله کیا ہے کوئی خالق اللہ کے علاوہ، يرزقكم من السماء والأرض جو رزق دیتا ہو تمہیں آسمان سے اور زمین سے؟ یہ سارا وہ استفہام چل رہا ہے۔ هل من خالق غير الله يرزقكم من السماء والأرض جی، یہ من میں نے بتایا، من جارہ زائدہ ہے، خالقٍ لفظاً مجرور ہے، لیکن محلاً مرفوع دراصل یہ مبتدا ہے اور يرزقكم من السماء والأرض یہ اس کی خبر ہے۔ تو هل من خالق غير الله يرزقكم من السماء والأرض، کیا ہے کوئی اللہ کے علاوہ خالق جو کہ رزق دیتا ہو تمہیں آسمان سے اور زمین سے؟ لا إله إلا هو نہیں ہے کوئی معبود اس کے سوا۔ فأنى تؤفكون پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟ وإن يكذبوك اور اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں آپ کو، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے طور پر، وإن يكذبوك اور اگر جھٹلاتے ہیں وہ لوگ، يكذبوك کس کو؟ آپ کو۔ اور اگر وہ لوگ جھٹلاتے ہیں آپ کو، فقد كذبت رسل من قبلك تو تحقیق جھٹلائے گئے بہت سے رسول من قبلك آپ سے پہلے۔ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا اور ان کی قوم والوں نے ان کی تکذیب کی۔ وإلى الله ترجع الأمور اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کام۔ اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں تمام کام، تمام امور اللہ کی طرف لوٹتے ہیں۔ تمام امور اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے اور پھر وہ ان کا بدلہ دے گا، نیک عمل ہوئے تو اچھا بدلہ دے گا اور برے عمل ہوئے تو اس کے مطابق سزا ملے گی۔ وإلى الله ترجع الأمور اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائے جاتے ہیں تمام امور، یا اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام امور۔ يا أيها الناس إن وعد الله حق اے لوگوں! یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ یہ یہ جو ابھی ذکر ہوا کہ اللہ ہی کی طرف تمام امور لوٹائے جائیں گے۔ وہ پھر نیک عمل کا اللہ بدلہ دیں گے اور برے اعمال کی سزا دیں گے، یہ اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے۔ فلا تغرنكم الحياة الدنيا پس ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے تمہیں یہ دنیاوی زندگی۔ ولا يغرنكم اور تمہیں دھوکے ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے، بالله اللہ کے بارے میں، الغرور دھوکے میں ڈالنے والا، یعنی شیطان۔ يا أيها الناس إن وعد الله حق اے لوگوں! یقیناً اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے۔ فلا تغرنكم الحياة الدنيا پس تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے دنیاوی زندگی۔ ولا يغرنكم اور تم کو ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے، بالله اللہ کے بارے میں، الغرور دھوکے میں ڈالنے والا۔ دھوکے میں ڈالنے والا یعنی شیطان تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ ولا يغرنكم اور ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے تمہیں، بالله اللہ کے بارے میں، الغرور دھوکے میں ڈالنے والا، یعنی شیطان۔ اللہ کے حلم، اللہ کی بردباری، اس کی وجہ سے کہیں تمہیں دھوکے میں ڈالنے والا یعنی شیطان دھوکے میں نہ ڈال دے۔ اللہ ہر ایک گناہ پر فوراً پکڑ نہیں فرماتے، تو اس سے شیطان تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے کہ اللہ کچھ بھی نہیں کہیں گے، جو کچھ بھی کرتے رہو، بلکہ یہ اللہ کا حلم ہے، بردباری ہے کہ انسان گناہ کرتا چلا جاتا ہے، لیکن اللہ کی طرف سے پکڑ نہیں آتی، اسے مہلت دی جاتی ہے، خوب مہلت دی جاتی ہے زندگی کے اندر، تو اس سے دھوکے میں نہ ڈال دے تمہیں شیطان۔ إن الشيطان لكم عدو یقیناً شیطان تمہارا دشمن ہے۔ فاتخذوه عدوا پس پکڑو تم اسے دشمن۔ یقیناً شیطان تمہارا دشمن ہے، فاتخذوه عدوا، تو تم بھی اسے دشمن پکڑو، یعنی دشمن سمجھو، دشمن سمجھو۔ إن الشيطان لكم عدو یقیناً شیطان تمہارا دشمن ہے۔ فاتخذوه عدوا پس تم اسے دشمن ہی سمجھو۔ إنما يدعو حزبه وہ تو پکارتا ہے، بلاتا ہے۔ يدعو کے معنی بلانا۔ إنما يدعو حزبه وہ تو اپنے گروہ ہی کو بلاتا ہے۔ حزبه اپنے گروہ کو۔ ہا ضمیر راجع ہے شیطان کو۔ اپنے گروہ کو، یعنی شیطان اپنے گروہ ہی کو بلاتا ہے، ليكونوا من أصحاب السعير تاکہ وہ ہو جائیں جہنم دوزخ والوں میں سے۔ سعیر، بھڑکتی ہوئی آگ، دوزخ۔ ليكونوا تاکہ وہ ہو جائیں، من أصحاب السعير کس میں سے؟ دوزخ والوں میں سے۔ تو ان پیچھے إنما آیا، إنما يدعو حزبه۔ کہ شیطان اپنے ہی گروہ کو پکارتا ہے، یعنی شیطان کا گروہ کون سا؟ جو اس کے راستے پر چلنے والے ہیں اور جو وساوس وہ دل میں ڈالتا ہے، ان ان پر جو چلنے والے ہیں، شرک پر کے راستے کو جو اختیار کرنے والے ہیں، تو شیطان تو اپنے ہی گروہ یعنی اپنے پیروی کرنے والوں ہی کو پکارنے والا ہے، ان کو بلانے والا ہے ليكونوا من أصحاب السعير تاکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہو جائیں۔ الذين كفروا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، لهم عذاب شديد ان کے لیے سخت عذاب ہوگا۔ والذين آمنوا وعملوا الصالحات اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے، لهم مغفرة وأجر كبير ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے۔ الذين كفروا لهم عذاب شديد والذين آمنوا وعملوا الصالحات لهم مغفرة وأجر كبير وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے، والذين آمنوا اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے لهم مغفرة وأجر كبير ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا اجر ہے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
69 approved lectures · 41 of 69