اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم۔ بسم اللہ الرحمن الرحيم۔
يا ايها النبي قل لازواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن ذلك ادنى ان يعرفن فلا يؤذين وكان الله غفورا رحيما۔
لئن لم ينته المنافقون والذين في قلوبهم مرض والمرجفون في المدينة لنغرينك بهم ثم لا يجاورونك فيها إلا قليلا۔
ملعونين اينما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلا۔
يا ايها النبي، اے پیغمبر! قل لازواجك، آپ کہہ دیجیے اپنی بیویوں سے، وبناتك، اور اپنی بیٹیوں سے، ونساء المؤمنين، اور مسلمانوں کی بیویوں سے۔ اے پیغمبر! آپ اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی بیویوں سے فرما دیجیے۔ يدنين عليهن، کہ وہ نیچے کر لیا کریں، قریب کر لیا کریں، یعنی نیچے کر لیا کریں عليهن، اپنے اوپر، من جلابيبهن، اپنی چادریں۔
جلابیب جمع ہے جلباب کی، اور جلباب بڑی چادر کو کہتے ہیں، بڑی چادر کو بھئی۔
تو اے پیغمبر! آپ اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے، يدنين عليهن، کہ وہ اپنے، کہ وہ نیچے کر لیا کریں اپنے اوپر اپنی چادریں۔ ذلك ادنى، یہ بات زیادہ قریب ہے، ان يعرفن، کہ وہ پہچانی جائیں، فلا يؤذين، پس وہ تکلیف نہ دی جائیں، یعنی ان کو کوئی تکلیف نہ دے۔ یہ بات زیادہ قریب ہے اس کے کہ وہ پہچانی جائیں پس انہیں تکلیف نہ دی جائے، وكان الله غفورا رحيما، اور اللہ تعالیٰ معاف، اللہ تعالیٰ مغفرت فرمانے والے اور نہایت رحم کرنے والے ہیں۔
اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں عورتیں اور باندیاں وغیرہ جب رات کو قضائے حاجت کے لیے باہر نکلتی تھیں، تو کچھ منافقین جو تھے، وہ انہیں راستے میں راستوں میں تنگ کرتے تھے بھئی۔ اور پھر جب ان منافقین کو ڈانٹا جاتا، تو وہ کہتے کہ ہم تو سمجھے تھے یہ کوئی باندی ہے۔ ہم تو سمجھے تھے یہ کوئی باندی ہے، ہمیں پتہ نہیں تھا، اس طرح بہانہ بنا کر اپنی جان چھڑا لیتے اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اے پیغمبر! آپ ان اپنی بیویوں سے، اپنی بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیجیے، انہیں کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادریں نیچے لٹکا لیا کریں، یعنی چادر کو سر پر ڈالتی ہیں، اسی کو تھوڑا نیچے چہرے پر بھی لٹکا لیا کریں۔
یہ بات زیادہ قریب ہے کہ اس سے وہ پہچانی جائیں گی۔ پہچانی جائیں گی، کیا معنی؟ یعنی پتہ لگ جائے گا کہ یہ باندی نہیں ہے، آزاد اور معزز عورت ہے۔ بعض لوگ اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ ظاہر ہے عام لوگ بھئی کہ پہچانی جائیں گی، یعنی چہرے سے دیکھ کر پتہ لگ جائے گا کہ یہ مسل، بھئی یہاں مراد یہ نہیں ہے کہ چہرے سے پہچانی جائیں گی، بلکہ جب انہوں نے چادر لٹکائی ہوگی اپنے چہرے کے اوپر بھی، تو پتہ لگ جائے گا کہ یہ باندی نہیں ہے بلکہ آزاد عورت ہے بھئی، تو یہ معنی ہے کہ پہچانی جائیں گی، یعنی باندی سے ممتاز ہو جائیں گی، اس سے جدا ہو جائیں گی۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد عورتیں گھروں سے نکلتیں، تو اس طرح انہوں نے چادروں کو اپنے چہروں پر لٹکایا ہوتا کہ صرف ایک آنکھ آگے دیکھنے کے لیے کھلی ہوتی، باقی پورے چہرے کو چھپایا ہوتا تھا، پورے چہرے کو۔
يا ايها النبي قل لازواجك، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے اپنی بیویوں سے، وبناتك، اور اپنی بیٹیوں سے، ونساء المؤمنين، اور مسلمانوں کی بیویوں سے، يدنين عليهن، کہ وہ نیچے کر لیا کریں اپنے اوپر، من جلابيبهن، اپنی چادریں۔ میں نے بتلایا جلباب کسے کہتے ہیں؟ بڑی چادر جس میں پورے بدن کو عورت چھپا لے۔ ذلك ادنى ان يعرفن، یہ بات زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں، فلا يؤذين، پس انہیں نہ ستایا جائے، وكان الله غفورا رحيما، اور اللہ تعالیٰ مغفرت فرمانے والے اور نہایت مغفرت فرمانے والے نہایت رحم کرنے والے ہیں۔
لئن لم ينته المنافقون، لئن لم ينته المنافقون، البتہ اگر باز نہ آئیں منافق، لئن لم ينته المنافقون، البتہ اگر باز نہ آئیں منافق، والذين في قلوبهم مرض، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، والمرجفون في المدينة، ارجف یرجف کے معنی ہوتے ہیں جھوٹی خبر اڑانا، جھوٹی خبر پھیلانا، والمرجفون في المدينة، اور وہ جو جھوٹی خبریں پھیلانے والے ہیں مدینہ منورہ میں۔
یہ منافقین اور یہود وغیرہ، یہ جھوٹی خبریں پھیلاتے تھے مسلمانوں کو تنگ کرنے اور پریشان کرنے کے لیے کہ مثلاً فلاں بادشاہ کی فوج آرہی ہے مدینہ منورہ پر حملے کے لیے یا فلاں لوگ آرہے ہیں مدینہ منورہ پر حملے کر، حملہ کرنے کے لیے، تو مسلمانوں کو پریشان کیا کرتے تھے۔
تو اللہ تعا، اللہ فرما رہے ہیں کہ اگر باز نہ آئیں منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور وہ جو جھوٹی خبریں پھیلانے والے ہیں مدینہ منورہ میں، لنغرينك بهم، اغری یغری کے معنی ہوتے ہیں پیچھے لگا دینا، لنغرينك، تو البتہ ضرور بالضرور ہم پیچھے لگا دیں گے آپ کو، بهم، ان کے۔ تو ہم ضرور آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے، یعنی ان پر مسلط کر دیں گے۔ ثم لا يجاورونك، پھر وہ آپ کے ساتھ نہ رہیں گے، فيها، اس مدینہ میں، اس شہر میں۔ جاور یجاور کے معنی ہوتے ہیں پڑوس میں رہنا، پڑوسی ہونا بھئی، یعنی ساتھ رہنا، ثم لا يجاورونك، پھر وہ آپ کے ساتھ نہ رہیں گے، فيها، ای فی المدینۃ، کس میں؟ مدینہ میں، إلا قليلا، مگر تھوڑا سا ہی۔
ملعونين، اس حال میں کہ لعنت کیے ہوئے ہوں گے۔ یہ حال ہے یجاورونک کے میں جو فاعل کی ضمیر ہے اس سے حال ہے بھئی۔
اينما ثقفوا، جہاں بھی پائے جائیں گے، جہاں بھی پائے جائیں گے، اخذوا، پکڑے جائیں گے، وقتلوا تقتيلا، اور خوب قتل کیے جائیں گے۔
اللہ فرما رہے ہیں اگر منافقین اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے اور اسی طرح وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، یعنی بدنظری کا مرض ہے یا اسی طرح زنا وغیرہ کا مرض ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں، اگر یہ لوگ باز نہ آئے اپنی شرارتوں سے، لنغرينك، تو اے پیغمبر! ہم آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے۔ پھر یہ آپ کے ساتھ مدینہ میں نہ رہ پائیں گے مگر تھوڑی ہی مدت اور اس حال میں رہیں گے کہ لعنت کیے ہوئے ہوں گے، ان پر اللہ کی طرف سے لعنت ہوگی اور جہاں بھی پھر پائے جائیں گے، پکڑے جائیں گے اور خوب قتل کیے جائیں گے، یعنی ہم آپ کو حکم دے دیں گے جہاں بھی ان میں سے جو بھی ملے ان کو، اس کو قتل کر دو۔ معنی سمجھ میں آگیا؟
دوبارہ دیکھیے، لئن لم ينته المنافقون، اگر باز نہ آئیں منافق، والذين في قلوبهم مرض، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، والمرجفون في المدينة، اور بری اور جھوٹی خبریں پھیلانے والے مدینہ میں، لنغرينك، تو البتہ ہم آپ کو، آپ کو پیچھے لگا دیں گے، بهم، ان کے، ثم لا يجاورونك، پھر وہ نہیں رہیں گے آپ کے ساتھ، فيها، اس مدینہ میں، إلا قليلا، مگر تھوڑا سا ہی، ملعونين، اس حال میں کہ لعنت کیے ہوئے ہوں گے، اينما ثقفوا، جہاں بھی پائے جائیں گے، اخذوا، پکڑے جائیں گے، وقتلوا تقتيلا، اور خوب قتل کیے جائیں گے۔
سنة الله في الذين خلوا من قبل، اللہ کی سنت ہے ان لوگوں میں، خلوا من قبل، جو گزرے ہیں اس سے پہلے۔
سنة الله، یہ پہلے بھی اس طرح کی آیت گزری، میں نے بتلایا تھا یہ کیا واقع ہوگا؟ مفعول مطلق واقع ہو رہا ہے سنة الله۔ یرحمک اللہ۔ تو اصل میں کیا ہے؟ سن الله سنة، سن الله سنة، پھر فعل کو اور فاعل کو حذف کر لیا گیا اور پھر فاعل کو آگے مفعول مطلق کے آگے ذکر کر کے اس کی طرف اضافت کی گئی بھئی۔
تو اللہ کی سنت ہے ان لوگوں میں، خلوا من قبل، جو گزرے ہیں اس سے پہلے، یعنی اللہ کی یہی سنت ہے، اللہ کی یہی عادت ہے کہ جب اس طرح لوگ فساد پھیلانے والے باز نہیں آتے، تو اللہ ان کو لوگوں کے درمیان سے نکال دیتے ہیں، ان کو ختم کر دیتے ہیں۔
ولن تجد لسنة الله تبديلا، اور آپ ہرگز نہیں پائیں گے اللہ کی سنت میں تبدیلی۔ اللہ کی سنت میں، اللہ کی عادت میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے، اللہ کی یہی سنت ہے کہ جو فساد پھیلانے والے ہوتے ہیں، اللہ انہیں ختم فرما دیتے ہیں، لوگوں کے درمیان سے نکال دیتے ہیں۔
يسألك الناس عن الساعة، يسألك، اے پیغمبر! پوچھتے ہیں آپ سے، الناس، لوگ، عن الساعة، قیامت کے بارے میں، کہ قیام، یعنی کہ قیامت کب آئے گی۔ يسألك الناس عن الساعة، پوچھتے ہیں آپ سے لوگ قیامت کے بارے میں، قل إنما علمها عند الله، آپ فرما دیجیے، إنما، إنما حصر کے لیے آتا ہے، میں نے بتلایا تھا۔ علم اگر صرف ہو، علمها عند الله، تو معنی ہوگا اس کا علم اللہ کے پاس ہے، قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے، یعنی اللہ جانتے ہیں اس کے بارے میں۔ اور إنما آیا تو اس نے حصر پیدا کر دیا کہ إنما علمها عند الله، اس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، باقی سب سے نفی بھی ہو گئی بھئی، یہ ہے حصر کا معنی بھئی۔ اس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، یعنی اور کسی کو علم نہیں ہے کہ قیامت کب آئے گی۔ قل إنما علمها عند الله، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے کہ قیامت کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، وما يدريك لعل الساعة تكون قريبا، اور آپ کو کیا خبر، شاید کہ قیامت قریب ہی ہو۔ اے پیغمبر! آپ کو کیا خبر، آپ کو کیا علم، شاید کہ قیامت قریب ہی ہو۔
وما يدريك، کیا ترجمہ کیا میں نے؟ آپ کو کیا خبر، آپ کو کیا علم، آپ کو کیا پتہ۔ لفظی ترجمہ یہ ہوگا بھئی، وما، ما، کیا چیز ہے وہ؟ يدري، ادری یدری کے معنی ہوتے ہیں خبر دینے کے۔ کیا چیز ہے وہ کہ جس نے خبر دی، ك، آپ کو؟ وہ کیا چیز ہے جس نے آپ کو خبر دی؟ لفظی ترجمہ، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ما، کیا استفہام کے لیے ہے نا؟ استفہام کے لیے، کیا چیز ہے وہ؟ يدريك، جس نے آپ کو خبر دی۔ یہ لفظی ترجمہ، با محاورہ ترجمہ کیا ہوگا؟ یعنی آپ کو کیا، تو وہ استفہام انکاری ہے، کیا چیز ہے وہ جس نے آپ کو خبر دی؟ تو یہ سوال ہے تو سوال، لیکن استفہام انکاری ہے، یعنی کسی چیز نے آپ کو خبر نہیں دی۔ تو ترجمہ یہ کرتے ہیں پھر آپ کو کیا خبر، وما يدريك، اور آپ کو کیا خبر، لعل الساعة تكون قريبا، شاید کہ قیامت قریب ہی ہو۔
إن الله لعن الكافرين وأعد لهم سعيرا، یقیناً اللہ نے لعنت فرمائی ہے کافروں پر، وأعد لهم سعيرا، اور تیار کی ہے، لهم، ان کے لیے، سعيرا، بھڑکتی ہوئی آگ، یعنی جہنم بھئی۔ یقیناً اللہ نے لعنت فرمائی ہے کافروں پر اور تیار کی ہے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔
خالدين فيها ابدا، ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ خلود کہتے ہیں، خلود کے معنی ہمیشہ کے نہیں ہوتے بھئی، خلود کے معنی ہوتے ہیں بڑی طویل مدت بھئی۔ خلود کا کیا معنی ہے؟ بہت طویل مدت جو ہے، اس کو خلود کہا جاتا ہے، تو چونکہ بہت طویل مدت، تو اسی کو ترجمہ ہم ہمیشہ سے کر دیا کرتے ہیں، لیکن اس کا معنی حقیقتاً ہمیشہ کے نہیں ہیں۔ ہاں، ابد کے معنی ہمیشہ کے ہیں بھئی، ابد کے معنی ہمیشہ کے ہیں۔
تو اگر ہوتا، خالدين فيها، تو کیا معنی ہوتا؟ بڑی لمبی مدت تک وہ اس فيها، اس جہنم میں رہیں گے، اس بھڑکتی ہوئی آگ میں رہیں گے، لیکن ابداً ساتھ آگیا، اس نے بتلا دیا، ابد کا معنی تو ہوتا ہے ہمیشہ کے لیے، تو اس نے بتلا دیا کہ نہیں بھئی، بڑی طویل مدت نہیں مراد بلکہ ہمیشہ مراد ہے، ہمیشہ جہنم میں جلتے رہیں گے۔
بعض لوگ اشکال پھر کرتے ہیں بھئی کہ ان کا جرم تو تھوڑا تھا اور سزا ان کی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے، جرم تو جتنی زندگی تھی، اس کے اندر انہوں نے کفر و شرک وغیرہ کیا بھئی، تو سزا بھی جیسے جرم محدود، تو سزا بھی محدود ہونی چاہیے اور آگے اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
تو جواب یہ بھئی، کہ اللہ کے مفسرین یہ جواب دیتے ہیں کہ اللہ کے علم میں ہے کہ یہ لوگ اگر ان کو ہمیشہ کی زندگی بھی ہم دے دیتے، تو یہ ہمیشہ کیا کرتے رہتے؟ جرم ہی کرتے، شرک ہی کرتے، کبھی بھی راہِ حق کی طرف نہ آتے بھئی، راہِ حق کی طرف۔ تو ان کا جرم بھی دراصل ہمیشہ ہی کے لیے تھا، اس لیے ان کو سزا بھی ہمیشہ ہی کے لیے دی گئی بھئی۔
خالدين فيها ابدا، ہمیشہ اس میں رہیں گے، لا يجدون وليا ولا نصيرا، ولی کہتے ہیں دوست کو، نصیر کہتے ہیں مددگار کو، لا يجدون، نہ پائیں گے وہ، وليا، کوئی دوست، ولا نصيرا، اور نہ کوئی مددگار۔ یعنی اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور کوئی دوست اور کوئی مددگار نہیں پائیں گے جو انہیں اس عذاب سے بچا لے۔
يوم تقلب وجوههم في النار، اور جس دن، يوم تقلب وجوههم، جس دن الٹے پلٹے جائیں گے، وجوههم، ان کے چہرے، في النار، آگ میں۔ جس دن ان کو، جس دن ان کے چہرے الٹے پلٹے جائیں گے آگ میں۔ تقلب کا معنی ہے الٹنا پلٹنا، تو بعض کہتے ہیں یعنی کہ مراد ہے اوندھے منہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا بھئی، اوندھے منہ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جہنم کی آگ ہی جو ہے، ان کے چہروں کو الٹے پلٹے گی، ایک طرف سے آگ کے شعلے جلانے والی بھی ہوگی اور وہ، ان کے چہروں پر وہ آگ مارنے والی بھی ہوگی، تو کبھی ایک طرف چہرہ الٹ جائے گا، کبھی دوسری طرف ان کا چہرہ بھئی۔ يوم تقلب وجوههم في النار، جس دن کہ الٹے پلٹے جائیں گے ان کے چہرے آگ میں، يقولون، وہ کہیں گے، يا ليتنا، اے کاش
اطاعنا الله واطعنا الرسولا، ہم نے اطاعت کی ہوتی اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی اس کے رسول کی!
يا ليتنا، اے کاش! اطاعنا الله واطعنا الرسولا، ہم نے اطاعت کی ہوتی اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول کی۔
وقالوا، اور وہ کہیں گے، ربنا، اے ہمارے پروردگار! إنا اطعنا سادتنا، بے شک ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں کی۔ سادۃ جمع ہے سید کی۔
وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! إنا اطعنا، بے شک ہم نے کہنا مانا، ہم نے اطاعت کی سادتنا، اپنے سرداروں کی، وكبراءنا، اور اپنے بڑوں کی۔ کبراء جمع ہے کبیر کی۔ اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی، فاضلونا السبيلا، پس انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا السبيلا، راستے سے، یعنی سیدھے راستے سے۔ انہوں نے ہمیں گم، پس انہوں نے گمراہ کر دیا ہمیں سیدھے راستے سے۔
ربنا، اے ہمارے پروردگار! آتهم، آپ دی، آپ دیجیے ان کو، آتا یؤتی کے معنی عطا کرنا، دینا۔ تو امر کا صیغہ ہے۔ آتهم، آپ دیجیے ان کو، ضعفين، دگنا، من العذاب، عذاب میں سے۔ اے اللہ! آپ انہیں دگنا عذاب دیجیے۔ یہ خود گمراہ تھے اور ہمیں بھی انہوں نے کیا کیا؟ گمراہ کیا۔ تو انہیں دگنا عذاب دیجیے۔ ولعنهم لعنا كبيرا، اور اے اللہ! ان پر لعنت فرمائیے لعنا كبيرا، بڑی لعنت۔ اور اے اللہ! ان پر بڑی لعنت فرمائیے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو ربنا آتهم ضعفين من العذاب، اے ہمارے پروردگار! آپ ان کو، یعنی ہمارے سرداروں اور بڑوں کو جو ہے دگنا عذاب دیجیے، ولعنهم لعنا كبيرا، اور ان پر اور ان پر بڑی لعنت کیجیے۔
يا ايها الذين آمنوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! لا تكونوا كالذين آذوا موسى، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! لا تكونوا، تم نہ ہو جاؤ، كالذين، ان لوگوں کی طرح، آذوا موسى، جنہوں نے تکلیف دی، اذیت دی موسیٰ علیہ السلام کو، فبرأه الله، پس اللہ نے بری کر دیا ان کو، اللہ نے پاک کر دیا ان کو، مما، اس چیز سے، قالوا، جو وہ کہتے تھے۔
وكان عند الله وجيها، اور وہ تھے اللہ کے نزدیک وجيها، مرتبے والے۔ وہ اللہ کے نزدیک مرتبے والے تھے، وہ اللہ کے نزدیک معزز تھے۔
تو اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم نہ ہو جاؤ ان لوگوں کی طرح جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اذیت دی تھی، تو اللہ نے ان کو بری کر دیا، پاک کر دیا اس چیز سے جو وہ کہتے تھے بھئی۔ جو الزام وغیرہ ان پر لگاتے تھے اللہ نے ان کو اس سے بری کر دیا۔ وكان عند الله وجيها، اور وہ اللہ کے نزدیک مرتبے والے تھے۔
کیا تکلیف دیتے تھے؟ کیا الزام لگاتے تھے جس سے اللہ نے بری کر دیا؟ تو تفاسیر میں آپ کو دو تین قسم کے واقعات ملیں گے بھئی۔
ایک تو یہ، بعض کہتے ہیں کہ جب حضرت ہارون علیہ السلام جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھئی تھے، جب ان کی موت کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتلایا کہ ہارون علیہ السلام کی موت کا وقت آگیا ہے، آپ انہیں لے کر فلاں پہاڑ پر آئیے۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں وہاں لے کر گئے، انہیں بتلایا نہیں کہ ان کی موت کا وقت آیا ہے، انہیں ساتھ لے گئے، وہاں پہنچے تو کہتے ہیں ایک درخت تھا اور ایک کمرہ بنا ہوا تھا، اس میں ایک تخت بچھا ہوا ہے، بچھونا اس پر لگا ہوا ہے اور بڑی بہترین قسم کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔ حضرت ہارون علیہ السلام اپنے بھئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے کہ مجھے تو نیند آرہی ہے، میں اس پر کچھ دیر آرام کر لیتا ہوں۔ چنانچہ وہ سو گئے اور اسی نیند کے اندر پھر ان کی روح قبض کر لی گئی اور روح قبض کر لی گئی۔
پھر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس آئے اور لوگوں کو ان کی موت کی اطلاع دی، تو بعض شریر کہنے لگے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھئی کو قتل کر دیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طبیعت چونکہ بڑی جلالی طبیعت تھی اور حضرت ہارون علیہ السلام کی بڑی نرم طبیعت تھی، تو لوگ کہنے لگے چونکہ وہ ہمارے ساتھ بڑے نرم تھے اور تو اس وجہ سے انہوں نے کیا کیا ہے ان کو؟ قتل کر دیا ہے، قتل کر دیا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ نے خارقِ عادت طریقے کے ذریعے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی براءت ثابت کی بھئی۔ کہتے ہیں جب ان کے الزامات حد سے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تو پھر فرشتے ان کی میت لے آئے بھئی اور لوگوں نے پھر دیکھ لیا سب نے کہ ان پر قتل وغیرہ کا کسی قسم کا کوئی نشان نہیں ہے، ان کی موت وہاں طبعی ہی ہوئی ہے بھئی۔
تو یہ معنی ہے کہ اللہ نے ان کو بری کر دیا، اللہ نے ان کو پاک کر دیا اس سے جو وہ کہتے تھے، یعنی وہ جو الزام لگاتے تھے۔ بعضوں نے یہ واقعہ ذکر کیا۔
بعضوں نے دوسرا واقعہ ذکر کیا کہ بنی اسرائیل میں اس زمانے میں جب وہ ان میں وہ آپس میں غسل وغیرہ کرتے تھے تو ایک دوسرے کے سامنے ہی نہاتے تھے، اس کی وہ پروا ہی نہیں کرتے تھے۔
جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حیا والے تھے، وہ ہمیشہ تنہائی میں نہاتے تھے۔ تو انہوں نے آپس میں مشہور انہوں نے کر دیا کہ معلوم ہوا یہ ہمارے سامنے نہیں نہاتے، اکیلے ہی جا کر نہاتے ہیں، معلوم ہوا ان کے بدن پر کوئی عیب ہے یا ان کی شرمگاہ میں کوئی مرض ہے، کوئی عیب ہے جس کی وجہ سے یہ ہمیشہ اکیلے نہاتے ہیں، ہمارے سامنے کسی کے سامنے نہیں نہاتے۔
تو چنانچہ کہتے ہیں ایک مرتبہ وہ نہانے کے لیے اکیلے تنہائی میں نہانے لگے، اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھے۔ تو وہ پتھر جو ہے نہا کر نکلے تو وہ پتھر جو ہے ان کے کپڑے لے کر بھاگا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی لاٹھی اٹھا کر اس کے پیچھے بھاگے کہ اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے، یہ فرماتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، وہ پتھر بھاگتے بھاگتے بنی اسرائیل جو تھی ان کی قوم تھی، بھری ہوئی مجلس کے اندر جا پہنچا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تو خیال ہی نہیں تھا اس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، وہ بھی اس کے پیچھے پہنچے، تو وہاں ان لوگوں نے دیکھ لیا کہ ان کے بدن پر یا شرمگاہ میں کوئی عیب نہیں ہے۔ تو وہاں جا کر وہ پتھر رکا، انہوں نے جلدی سے کپڑے پہنے اور پھر کہتے ہیں لاٹھی سے اس پتھر کو مارنا شروع کر دیا جس سے اس پر کئی نشانات پڑ گئے بھئی۔
تو اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا اپنے پیغمبر کو جو وہ تکلیف دیتے تھے، الزام لگاتے تھے اس سے بری کر دیا۔
اور بعضوں نے ایک اور واقعہ ذکر کیا کہ قارون جو تھا قارون، یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کہ چچا زاد ان کا چچا زاد بھئی تھا۔ اور بڑا حسد کرتا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ یہ یہ بھی میرے چچا زاد بھئی ہی ہیں، ان کو اتنا عزت، اتنا مقام ملا ہے، اللہ نے ان کو اپنا پیغمبر بنایا اور تمام بنی اسرائیل والے ان کی بات مانتے ہیں، تو وہ بڑا حسد کرتا تھا اور حالانکہ اس کو اللہ نے اتنی دولت دی تھی، اتنی دولت دی تھی کہتے ہیں کہ ان کے خزانوں کی چابیاں جو تھیں چابیاں، وہ بھی کئی افراد مل کر اٹھاتے تھے بھئی، اتنی وزنی تھیں بھئی، اتنی زیادہ چابیاں۔
تو چنانچہ انہوں نے ایک عورت کو تیار کیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام جب ایک دن وعظ فرما رہے تھے، پوری قوم والے لوگ جمع ہیں، بھری مجلس کے اندر ایک عورت کھڑی ہوئی جسے قارون نے پیسے دیے تھے، خوب مال دیا تھا کہ تم نے بھری مجلس کے اندر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر الزام لگانا ہے کہ خود تو دوسروں کو برائی سے منع کرتے ہو اور خود انہوں نے میرے ساتھ بدکاری کی ہے۔ چنانچہ بھری مجلس کے اندر وہ عورت کھڑی ہوئی اور کہنے لگی کہ آپ نے میرے ساتھ بدکاری کی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کتنی کتنی تکلیف ہوئی ہوگی آپ اندازہ تو لگائیے! اور پھر اس عورت کو ڈرایا دھمکایا اور اللہ کے عذاب وغیرہ سے ڈرایا تو وہ ڈر گئی اور پھر اس نے وہیں پر اقرار کر لیا کہ نہیں، یہ تو مجھے قارون نے پیسے دیے تھے کہ آپ پر یہ الزام لگاؤں بھئی۔
تو اللہ نے اس طرح ان کی براءت ظاہر فرمائی اور قارون کو زمین میں اللہ نے دھنسا دیا، تو اس طرح اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی براءت وہیں پر ظاہر فرما دی۔ جی۔
تو دیکھیے اب بھئی، يا ايها الذين آمنوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! لا تكونوا كالذين آذوا موسى، نہ ہو جاؤ تم ان لوگوں کی طرح جنہوں نے اذیت دی موسیٰ علیہ السلام کو، فبرأه الله مما قالوا، تو بری کر دیا اللہ نے ان کو اس سے جو وہ کہتے تھے، وكان عند الله وجيها، اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والے تھے۔
يا ايها الذين آمنوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اتقوا الله، تم اللہ سے ڈرو، وقولوا قولا سديدا، اور کہو تم سیدھی بات۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو، درست بات کہو۔
صلح لكم اعمالكم، اللہ درست کر دیں گے تمہارے لیے اعمالکم، تمہارے اعمال کو۔ یعنی اگر تم اللہ سے ڈرو گے اور سیدھی بات کہو گے، يصلح لكم اعمالكم، تو اللہ تمہارے اعمال، تمہارے لیے تمہارے اعمال درست کر دیں گے۔ یہ جوابِ امر ہے، جوابِ امر بھئی، اس لیے مجزوم ہے، يصلح بھئی۔ يصلح پر جزم آرہا ہے، یہ کیا ہے؟ جوابِ امر۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا چھ چیزیں ہیں جن کے بعد فعلِ مضارع آئے تو وہ مجزوم ہوگا۔ اور اگر اسی مضارع پر فاء یا واؤ آجائے تو یہ منصوب ہوگا بھئی منصوب۔ اگر یہ ہوتا، فاء بھی ہوتی، فيصلح، تو پھر فيصلح ہوتا، فيصلح۔ یا واؤ ہوتا تو ويصلح۔
يصلح لكم اعمالكم، اللہ درست کر دیں گے تمہارے لیے تمہارے اعمال کو، یعنی اللہ تمہارے اعمال کو سنوار دیں گے، ويغفر لكم ذنوبكم، اور بخش دیں گے تمہارے لیے تمہارے گناہوں کو۔ ومن يطع الله ورسوله، اور جو اطاعت کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول کی، فقد فاز، تو تحقیق اس نے کامیابی حاصل کی، فوزا عظيما، عظیم کامیابی پانا۔ یہ مفعولِ مطلق ہے بھئی فوزاً، تو ترجمہ کیا ہوگا فقد فاز فوزا عظيما؟ تو تحقیق اس نے عظیم کامیابی حاصل کر لی۔
إنا عرضنا الامانة على السماوات والارض والجبال، بے شک ہم نے پیش کی، إنا عرضنا، بے شک ہم نے پیش کی الامانة، امانت۔ بے شک ہم نے امانت پیش کی على السماوات، آسمانوں پر، والارض، اور زمین پر، والجبال، اور پہاڑوں پر۔ جبل پہاڑ کو کہتے ہیں، جبال جمع بھئی۔ فابين، تو انہوں نے انکار کر دیا، ابى یابی کے کیا معنی ہیں؟ انکار کرنا۔ فابين، پس انہوں نے انکار کیا أن يحملنها، کہ وہ اسے اٹھا لیں، تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا، واشفقن منها، اور وہ ڈر گئے اس سے، اس امانت کے اٹھانے سے ڈر گئے۔ وحملها الإنسان، اور اٹھا لیا اس امانت کو انسان نے۔
إنه كان ظلوما جهولا، یقیناً انسان جو ہے بڑا ظالم، بڑا جاہل ہے۔ إنه كان ظلوما جهولا، یقیناً انسان بڑا ظالم، بڑا جاہل ہے۔
اللہ فرما رہے ہیں ہم نے یہ امانت پیش کی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر، تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور اس امانت کو انسان نے اٹھا لیا۔ کیا امانت بھئی؟ یہ جو اللہ کے احکام ہیں۔ اللہ کے، اللہ کے احکام ہیں وہ مراد ہیں، اللہ فرما رہے ہیں یہ جو ہمارے احکام ہیں یہ ہم نے زمین اور آسمان اور پہاڑوں پر پیش کیے اور انہیں کہا کہ یہ میرے احکام ہیں، ان پر اگر عمل کرو گے، ان پر چلو گے تو بڑا اجر دوں گا اور اگر تم ان پر نہ چلے تو سخت عذاب دوں گا، تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے کیا کیا؟ اس امانت کے اٹھانے سے، ان احکام کا مکلف بننے سے انکار کر دیا، تو کہ وہ ڈر گئے۔ اور اس کو اور حضرت آدم علیہ السلام پر پیش کیا تو انہوں نے اس کو اٹھا لیا۔
ترجمہ سمجھ میں آیا، مفہوم بھئی؟ إنا عرضنا الامانة على السماوات والارض، تو اللہ نے پیش کی یہ زمین اور آسمان اور پہاڑوں پر کہ بھئی یہ اٹھانے کے لیے تیار ہو؟ یہ میرے احکام ہیں، اگر کرو گے، عمل کرو گے تو میں اجر دوں گا اور اگر عمل نہیں کیا تو میں تمہیں سخت عذاب دوں گا، تو تم اٹھاؤ گے یا نہیں اٹھانا چاہتے؟ تو انہوں نے انکار کر دیا کہ وہ اور ڈر گئے بھئی۔
إنا عرضنا الامانة، بے شک ہم نے پیش کیا امانت کو، على السماوات والارض والجبال، آسمانوں پر، زمین پر اور پہاڑوں پر، فابين أن يحملنها، تو انہوں نے پس انہوں نے انکار کر دیا اس کے اٹھانے سے، واشفقن منها، اور اس سے ڈر گئے، وحملها الإنسان، اور اس امانت کو اٹھا لیا انسان نے، یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے اٹھا لیا۔ إنه كان ظلوما جهولا، بے شک انسان جو ہے بڑا ظالم، بڑا جاہل ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ بے شک انسان بڑا ظالم اور بڑا جاہل ہے۔ مفسرینِ حضرات لکھتے ہیں کہ اللہ یہاں انسان کو بڑا ظالم اور بڑا جاہل فرما رہے ہیں تو لیکن تو (یعنی یہ بظاہر تو مذمت ہے، بظاہر کیا ہے؟ مذمت ہے، لیکن ضمناً یہ مدح بھی ہے، تعریف بھی ہے۔
کیونکہ ظالم اسی کو کہتے ہیں جس میں عدل و انصاف کی استعداد ہو، صلاحیت ہو۔ اندھا اسی کو کہتے ہیں جس میں دیکھنے کی صلاحیت ہو لیکن پھر دیکھ نہ سکے بھئی۔ دیوار کو کبھی آپ اندھا کہتے ہیں بھئی؟ نہیں! ہاں، انسان ہے اس میں اللہ نے دیکھنے کی صلاحیت رکھی ہے پھر کسی مرض کی وجہ سے نہ دیکھ سکے تو آپ اسے کیا کہتے ہیں؟ اندھا کہتے ہیں۔ تو یہاں بھی ظالم کہا گیا معلوم ہوا انسان کے اندر اللہ نے عدل و انصاف کی صلاحیت اور استعداد رکھی ہے، تو کہ اس میں اللہ نے صلاحیت رکھی ہے۔
اسی طرح جهولا، بڑا جاہل ہے، اور جاہل اسی کو کہتے ہیں جس میں علم کی صلاحیت ہو۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ گویا کہ ہم نے انسان میں عدل و انصاف اور علم کی استعداد رکھی ہے بھئی، تو ضمناً یہ مدح بھی ہو گئی انسان کی۔ مفہوم سمجھ میں آگیا بھئی؟
ليعذب الله المنافقين، تاکہ اللہ عذاب دے منافقین کو، تاکہ اللہ عذاب دے بھئی۔ جی!
تو انسان کو اس کا مکلف بنا دیا گیا بھئی، کیوں؟ تاکہ اللہ عذاب دے منافقین کو، لیعذب الله المنافقين، تاکہ اللہ عذاب دے منافق مردوں کو، والمنافقات، اور منافق عورتوں کو، والمشركين والمشركات، اور مشرک مردوں کو اور مشرک عورتوں کو، ويتوب الله على المؤمنين، اور رجوع فرمائے اللہ مومنین پر۔ تاب یتوب کے معنی رجوع کرنا۔ ويتوب الله، یعنی اللہ معاف فرما دیں یا اللہ توجہ فرمائیں، جو بھی ترجمہ آپ کر لیں بھئی۔ ويتوب الله على المؤمنين، اور اللہ رجوع فرما لیں مومن مردوں اور مومن عورتوں پر، یا یہ ترجمہ کر لیں: ويتوب الله، اور تاکہ اللہ معاف فرما دیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو، یا یہ ترجمہ کر لیں: ويتوب الله، اور اللہ مہربانی فرمائیں، توجہ فرمائیں على المؤمنين والمؤمنات، مومن مردوں اور مومن عورتوں پر، وكان الله غفورا رحيما، اور اللہ تعالیٰ مغفرت فرمانے والے، نہایت رحم فرمانے والے ہیں۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔