اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی۔ یا ایہا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما۔
ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا والآخرۃ واعد لہم عذابا مہینا۔
ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی۔
یقیناً اللہ و ملائکتہ اور اس کے فرشتے یصلون رحمت بھیجتے ہیں علی النبی پیغمبر پر۔ یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں نبی پر۔ یا ایہا الذین امنوا اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو صلوا علیہ تم تم رحمت بھیجو ان پر وسلموا تسلیما اور سلام بھیجو۔ اور سلام بھیجو۔ تسلیما مفعول مطلق ہے بھئی۔
جی، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں پیغمبر پر، اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو تم بھی رحمت بھیجو اور سلام بھیجو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بھئی۔
اللہ بھی رحمت بھیجتے ہیں اور اس کے فرشتے بھی رحمت بھیجتے ہیں۔ اللہ رحمت نازل فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اور یہ رحمت فرشتوں کے واسطے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی ہے بھئی۔ یہ رحمت فرشتوں کے واسطے سے۔
علماء لکھتے ہیں کہ صلاۃ کی نسبت جب اللہ کی طرف ہو کہ اللہ رحمت بھیجتے ہیں، تو اس کا معنی اس کا معنی رحمت کے کریں گے بھئی۔ جب صلاۃ کی نسبت کس کی طرف ہو؟ اللہ صلاۃ بھیجتے ہیں، تو کیا معنی کریں گے؟ اللہ رحمت بھیجتے ہیں۔ اور صلاۃ کی نسبت فرشتوں کی طرف ہو کہ فرشتے صلاۃ بھیجتے ہیں، تو اس کے معنی استغفار کے کرتے ہیں کہ فرشتے یعنی استغفار کرتے ہیں۔
اور صلاۃ کی نسبت اگر انسانوں کی طرف ہو، مومنین کی طرف ہو کہ مومنین صلاۃ بھیجتے ہیں، تو اس کے معنی دعا کے ہیں، یعنی مومنین دعا کرتے ہیں۔
جی، ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی، یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں پیغمبر پر۔ یا ایہا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما، اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو رحمت بھیجو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اور سلام بھیجو۔
صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! سلام تو ہم جانتے ہیں جو نماز میں آتا ہے تشہد کے اندر بھئی، السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کہ سلام تو ہم جانتے ہیں، یہ صلاۃ کس طرح بھیجیں آپ پر؟ تو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ درود ذکر فرمایا جو نماز میں ہم پڑھتے ہیں درودِ ابراہیمی، کہ اس طرح کہو: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد۔ اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد۔
یہاں امر کا صیغہ آیا بھئی، صلوا، اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو صلوا علیہ وسلموا، امر آیا صلاۃ بھیجو اور سلام بھیجو۔ اور امر وجوب کے لیے آتا ہے کسی چیز کو واجب کرنے کے لیے۔
چنانچہ علماء لکھتے ہیں کہ زندگی بھر میں کسی مومن پر ایک مرتبہ صلاۃ و سلام بھیجنا فرض ہے بھئی۔ کسی مومن کا ایک مرتبہ حضور علیہ السلام پر صلاۃ و سلام بھیجنا فرض ہے، فرض ہے۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جب اسمِ مبارک آئے تو درود پڑھنا چاہیے بھئی، صلاۃ و سلام بھیجنے چاہئیں۔ اور کسی مجلس میں آپ بیٹھے ہوں تو وہاں اس مجلس کے اندر جب پہلی مرتبہ آئے تو پھر پہلی مرتبہ صلاۃ و سلام ضرور پڑھ لیں، اور اس کے بعد پھر بار بار نام آئے تو بہتر ہے پھر بھی پڑھ لیں۔ لیکن ایک مرتبہ ضرور پڑھ لینا چاہیے۔ ایک مرتبہ ضرور پڑھ لینا چاہیے بھئی۔
تاکہ حدیث میں جو آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس شخص کی ناک خاک آلود فرمائے جس کے سامنے میرا نام آئے اور پھر وہ مجھ پر صلاۃ نہ بھیجے۔ تو لہٰذا ایک مرتبہ تو ضرور پڑھ لینا چاہیے، پھر بھی جتنی مرتبہ نام آئے پڑھ لے تو بڑی اچھی بات ہے، لیکن ایک مرتبہ تو کم از کم ضرور ہو بھئی پہلی مرتبہ میں۔
درود کی بڑی برکات ہیں بھئی درود شریف کی۔ اور اعمال ان کے بارے میں قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ اسے قبول فرمائیں گے یا قبول نہیں فرمائیں گے۔ آپ نیک عمل کوئی کرتے ہیں تو قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ اس کو قبول فرمائیں گے یا قبول نہیں فرمائیں گے بھئی، اخلاص ہوا تو امید ہے کہ یقیناً اللہ کیا کریں گے؟ قبول فرما لیں گے۔ لیکن علماء لکھتے ہیں کہ درود کو اللہ ضرور قبول فرما لیتے ہیں بھئی درود کو۔
اور حدیث میں آتا ہے کہ دعا کے ساتھ درود پڑھنا چاہیے، جب تک درود نہ پڑھا جائے تو دعا زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہتی ہے۔ دعا زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہتی ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے، ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ اور اس کے دس گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ اور اس کے نامۂ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں۔ اور اس کے دس درجات بلند فرما دیتے ہیں۔ دس اللہ رحمتیں نازل فرماتے ہیں، دس گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، دس نیکیاں نامۂ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں اور اس شخص کے دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں۔
تو درود شریف جتنی کثرت ہو سکے بھئی جتنی کثرت، جتنی کثرت سے پڑھ سکیں اتنی کثرت سے درود شریف پڑھنا چاہیے۔ سب سے افضل درود جو نماز میں ہم پڑھتے ہیں درودِ ابراہیمی بھئی، وہ سب سے افضل ہے کیونکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سکھلایا۔
لیکن درود کسی بھی طریقے سے پڑھنا جائز ہے کسی بھی، چنانچہ علماء نے درود کی مختلف صورتیں بنائیں بہتر سے بہتر کہ جس میں زیادہ سے زیادہ صلاۃ و سلام شامل ہو جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چنانچہ بہت سے درود آپ کو ایسے ملیں گے جو بزرگوں نے بنائے مثلاً کہ اے اللہ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اتنی صلاۃ و سلام بھیجیے جتنی آپ کی ساری مخلوقات ہیں، جتنی ساری آپ کی مخلوقات ہیں۔
تو دیکھیے اب یہاں عدد کے ساتھ کی طرف نسبت کر دی گئی، اتنے صلاۃ و سلام جتنی آپ کی ساری مخلوقات ہیں۔
احادیث وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر وغیرہ جب انسان کرے تو اگر کسی عدد کی طرف اس کی نسبت کر دے، کوئی عدد اس کے ساتھ ذکر کر دے تو اللہ اسی کے بقدر کر دیتے ہیں، یہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے بھئی۔ اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے بھئی، اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے۔
تو اگر آپ یہ کہتے ہیں اے اللہ! اتنے صلاۃ و سلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بھیجیے جتنی آپ کی مخلوقات ہیں، اب مخلوقات تو کروڑوں، اربوں، کھربوں کی تعداد میں ہے تو اللہ اتنی ہی، یعنی اسی کے بقدر صلاۃ و سلام گویا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بھیجا اور اسی کے بقدر پھر اللہ آپ کو اجر بھی دے دیں گے بھئی اسی کے بقدر۔
سمجھ میں آیا؟ چنانچہ روایات میں آتا ہے بھئی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں کہ انہوں نے کھجور کی بہت سی گٹھلیاں اکٹھی کی ہوئی تھیں اور ان کے اوپر وہ ذکر، تسبیحات وغیرہ اور چیزیں پڑھا کرتے تھے، تو بعض اوقات کہیں جلدی میں جانا ہوتا یا کوئی اور کام پڑ جاتا تو پھر وہ گٹھلیاں کافی ساری ان کا چھوٹا سا، چھوٹی سی ڈھیری بنی ہوتی تو اسی کے اوپر ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کرتے تھے اے اللہ! اس کے برابر ان ان گٹھلیوں کی تعداد کے برابر فلاں ذکر ہے جو وہ کیا کرتے تھے فلاں ذکر اور فلاں، یا کبھی ایک ایک پوری پوری مٹھی اٹھا اٹھا کر رکھتے جاتے کہ اے اللہ! ان ساری گٹھلیوں کے برابر سبحان اللہ، اے اللہ! ان ساری گٹھلیوں کے برابر الحمد للہ، اے اللہ! ان ساری گٹھلیوں کے برابر لا الہ الا اللہ، تو اس طرح کرتے تھے بھئی۔ جی، اور کبھی بہت ہی وقت، بہت جلدی میں کہیں جانا پڑا تو پھر اس ساری ڈھیری کے اوپر ہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیتے تھے کہ اے اللہ! ان سب کے برابر سبحان اللہ، ان سب کے برابر الحمد للہ، ان سب کے برابر لا الہ الا اللہ۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا اس سے کہ عدد کو ساتھ ذکر کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اتنا ہی فرما دیتے ہیں، کیونکہ اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے، بڑی وسیع ہے، اتنی وسیع ہے کہ انسان کے تصور سے بھی بلند تر ہے بھئی۔
مثلاً کوئی کہتا ہے کہ اے اللہ! حضور علیہ السلام پر اتنے صلاۃ و سلام بھیجیے جتنی آپ کی مخلوقات ہیں، اور جتنے ریت کے ذرات ہیں، اور جتنے درختوں کے پتے ہیں، وغیرہ، تو اللہ اسی کے بقدر فرما دیتے ہیں۔
سمجھ میں آیا؟ چنانچہ بھئی، حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے صبح کے وقت، اور آپ کی ایک زوجۂ مبارکہ جو تھیں وہ مصلے پر بیٹھی ہیں اور اپنی نماز کی جگہ پر اور اللہ کے ذکر میں مشغول ہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دیر بعد تشریف لائے جب سورج کچھ کافی بلند ہو چکا تھا، تو دیکھا وہ اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھی ہوئی تسبیحات پڑھ رہی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اس وقت سے یہی بیٹھی ذکر کر رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں ایسا کلمہ نہ سکھا دوں کہ جو وہ ایک کلمہ جتنی دیر تم بیٹھی ہو اس سے بہتر ہو؟ اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسبیح سکھائی۔
کیا تسبیح تھی؟ فرمایا کہ یوں کہو: سبحان اللہ العظیم وبحمدہ، عدد خلقہ، ورضا نفسہ، وزنہ عرشہ، ومداد کلماتہ۔ سبحان اللہ العظیم وبحمدہ۔ یہ تسبیح عدد خلق۔
اللہ کی مخلوقات کی تعداد کے برابر۔
ورضا نفسہ اور اللہ کی رضا کے برابر۔
وزنہ عرشہ اور اللہ کے عرش کے وزن کے برابر۔
ومداد کلماتہ اور اللہ کے کلمات یعنی اللہ کی صفات کے برابر۔
تو یہ بڑی فضیلت والی تسبیح ہے، یہ تو باقاعدہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرما دی تو یہ تسبیح تو انسان اپنا معمول بنائے کم از کم ایک تسبیح اس کی پڑھنی چاہیے روزانہ بھئی، دو چار منٹ لگیں گے، دو تین منٹ بھئی زیادہ نہیں لیکن اتنی فضیلت کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مبارکہ ان کے ذکر کی کتنی فضیلت اور پھر وہ کتنی دیر سے بیٹھی ہوئی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ یہ ایک تسبیح اس سے بہتر ہے۔
تسبیح دوبارہ سن لیجیے: سبحان اللہ العظیم وبحمدہ، عدد خلقہ، ورضا، ضاد کے ساتھ ہے، ورضا نفسہ، وزنہ، زا کے ساتھ ہے آگے گول تا ہے نون اور گول تا، وزنہ عرشہ، ومداد کلماتہ۔
جی، تو میں نے جیسے آپ کو بتایا بھئی کہ درود شریف میں جو بھی بہتر سے بہتر طریقہ اختیار کیا جائے جائز ہے بھئی۔ اس بارے، اس کے بارے میں وسعت ہے جائز ہے جو بھی بہتر سے بہتر طریقہ اختیار کیا جائے۔
اور پھر خاص طور پر اس کے بارے میں والد محترم شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ ان کی ایک کتاب ہے البرکات المکیۃ بھئی۔ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آٹھ سو سے زیادہ مستند اسماء کو درود شریف کی شکل میں جمع کیا ہے اور علماء، اولیاء، عوام اس کتاب کو بطور وظیفہ کے پڑھتے ہیں اور اس کی بے انتہا برکات اور فائدے انہوں نے کتاب کے ساتھ درج کیے اور لوگ اس کو باقاعدہ محسوس کرتے ہیں بھئی، باقاعدہ محسوس کرتے ہیں۔
انتہائی بے انتہا مبارک کتاب تو درود اس میں ایک ہی چلتا ہے البتہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام بدلتے جاتے ہیں تو ہر نام کے ساتھ درود آ جاتا ہے بھئی، ہر نام کے ساتھ۔ اور ان ناموں کے معانی کی طرف بھی توجہ ہوتی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور آپ کی عظمت بھی انسان کے سامنے اور واضح ہوتی چلی جاتی ہے کہ تمام نام آ رہے ہیں آٹھ سو سے زیادہ مستند اسماء بھئی۔
تو انتہائی مبارک کتاب ہے ہزاروں لوگ اس کو اس کو اس وقت وظیفے کے طور پر روزانہ انہوں نے اپنے معمولات میں شامل کر رکھا ہے اور آ آ کر لوگ بتاتے ہیں ایسی ایسی تکالیف اور پریشانیاں اور مشکلات جو بظاہر جن کا حل ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے اللہ اس کے ذریعے حل فرما دیتے ہیں بھئی۔
تو دیکھو دنیاوی فائدہ بھی ہے اور اخروی فائدہ تو ہے ہی ہے کہ ہر درود پر دس رحمتیں اللہ کی نازل ہوتی ہیں اور اللہ دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں، دس نیکیاں نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں، دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور دس درجات بلند ہوتے ہیں۔ تو جو شخص روزانہ درود شریف کو اپنا معمول بنا لیں، بنا لے اس کے ثواب کا کیا اندازہ کیا جا سکتا ہے کتنی عظیم اس نے، کتنی عظیم وہ نیکیاں جمع کر لے گا بھئی۔
حدیث میں آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری قبر کے پاس آ کر جو درود پڑھتا ہے میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور پڑھا جاتا ہے فرشتے اسے میرے پاس لے کر آتے ہیں، میرے سامنے پیش کرتے ہیں۔ پیش کرتے ہیں۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جو شخص روزانہ درود شریف پڑھتا ہو اور اپنا معمول بنا رکھا ہو کئی تسبیحات کا، تو آپ اندازہ لگائیے وہ آخرت میں اپنے لیے کتنا عظیم خزانہ جمع کر رہا ہے، اتنا عظیم خزانہ جس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ تو درود شریف کو ہمیشہ اپنا معمول بناؤ۔
حدیث میں آتا ہے اگر کوئی شخص کوئی بات بھول جائے تو درود شریف پڑھنے سے ان شاء اللہ اللہ اس کے ذہن میں ڈال دیں گے، تو کوئی بات بھول جائے درود شریف پڑھنا شروع کر دیجیے ان شاء اللہ ضرور اللہ تعالیٰ آپ کے ذہن میں وہ بات ڈال دیں گے، آپ کو وہ بات یاد آ جائے گی۔
جی، تو میں نے آپ کو بتایا کہ وہ کتاب لکھی البرکات المکیۃ والد صاحب رحمہ اللہ نے اور اس میں آٹھ سو سے زیادہ مستند اسماء جمع کیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ اور یہ کتنی عظیم کتاب ہے اس سے اندازہ لگائیے جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے بھئی جب حضرت شیخ رحمہ اللہ کو دفنایا گیا تو ان کی قبر سے ایک سال تک جنتی خوشبو آتی رہی بھئی، دور دور سے لوگ آتے رہے اور مٹی اٹھا اٹھا کر لے جاتے، مٹی ختم ہو جاتی تو ہم اور مٹی ڈال دیتے، وہ بھی چند لمحات کے اندر اسی طرح خوشبو سے مہکنے لگتی اور ایسی ایسی عجیب خوشبو کہ جس کے اندر عجیب سا ایک سکون محسوس ہوتا تھا بھئی، اور اتنی تیز خوشبو تھی کہ پورا قبرستان، میانی قبرستان بہت بڑا قبرستان ہے، پورا قبرستان خوشبو سے معطر تھا بھئی، پورا قبرستان۔
اور اتنی تیز خوشبو کہ اس مٹی کی ایک چٹکی کے برابر مقدار بھی کمرے میں رکھ دی جاتی تو پورا کمرہ معطر ہو جاتا تھا، اور ہلکی خوشبو نہیں پورا کمرہ بے انتہا تیز خوشبو سے بھر جاتا بھئی، اور خوشبو زیادہ ہو جائے تو انسان اس سے تنگ ہوتا ہے لیکن اس کے اندر جتنی وہ زیادہ ہوتی تھی اتنا ہی ایک عجیب سا سرور اور اطمینان اور لذت محسوس ہوتی تھی بھئی کیونکہ وہ دنیاوی خوشبو نہیں بلکہ جنتی خوشبو تھی، جنتی خوشبو۔
ایسی تیز خوشبو کہ جو شخص قبر کے پاس کچھ وقت گزار لیتا 15-20 منٹ یا آدھا گھنٹہ، تو اس کے کپڑے، چادر وغیرہ ہر چیز سے خوشبو آنے لگتی تھی اور کئی کئی دن تک پھر ان کپڑوں سے اس کے خوشبو آتی رہتی تھی، کئی کئی دن تک۔
تو وفات کے بعد یہ خوشبو شروع ہوئی اور پھر تقریباً ایک سال تک یا ایک سال سے بھی زائد عرصے تک جاری رہی، اور وفات کے ایک ماہ بعد کا واقعہ ہے والد صاحب کے ایک شاگرد عمرہ کر کے مدینہ منورہ پہنچے اور پھر وہاں پر کہتے ہیں میں مسجد نبوی کے اندر ریاض الجنہ کے اندر بیٹھا ہوا تھا، میرے ہاتھ میں یہی کتاب البرکات المکیۃ تھی اس کو میں پڑھ رہا تھا اور ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا، اسی دوران مجھے اونگھ آ گئی، نیند تھوڑی سی آ گئی، تو اسی اونگھ کے عالم میں میں نے خواب دیکھا بھئی، خواب دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنہری جالی مبارک جو ہے اس کا دروازہ کھلا اور اندر سے حضرت شیخ رحمہ اللہ انتہائی مسکراتے ہوئے اور ہنستے ہوئے باہر نکلے بھئی۔
کہتے ہیں میں نے جس طرح خواب میں ان کو دیکھا اتنے خوش، اتنے خوش، اس طرح کبھی میں نے زندگی میں ان کو اس طرح خوشی سے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ تو بڑے مسکراتے ہوئے اندر سے باہر نکلے تو میں قریب ہوا، ادب سے سلام کیا اور پوچھا کہ استاد جی! آپ کی قبر مبارک سے خوشبو آ رہی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟
کہتے ہیں خواب میں بھی میرے ہاتھ میں وہی درود شریف کی کتاب تھی، تو حضرت شیخ رحمہ اللہ میری طرف متوجہ ہوئے اور مسکراتے ہوئے فرمانے لگے: بھئی! کیا آپ کو علم نہیں ہے یہ جو کتاب آپ نے پکڑی ہے البرکات المکیۃ، یہ جو آپ کے ہاتھ میں کتاب ہے، میری اس کتاب کو بارگاہ نبوی میں شرف قبولیت حاصل ہو گیا ہے، اسی لیے میری قبر سے جنتی خوشبو آ رہی ہے۔
تو یہ بڑی مبارک کتاب ہے اس کو اس کو اپنا معمول بنائیں، اپنے گھر کے اندر رکھیں اور ان شاء اللہ اس کی وجہ سے اللہ بہت پریشانیاں اور تکالیف کو دور فرما دیتے ہیں اور بہت مسائل کو اللہ حل فرما دیتے ہیں۔
اچھا بھئی، دیکھیے بھئی: ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی، یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں پیغمبر پر۔ یا ایہا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما، اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو رحمت بھیجو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اور سلام بھیجو۔
ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا والآخرۃ، ان الذین یقیناً وہ لوگ یؤذون اللہ جو تکلیف دیتے ہیں اللہ کو ورسولہ اور اللہ کے رسول کو، لعنہم اللہ فی الدنیا والآخرۃ لعنت فرمائی ہے ان پر اللہ نے دنیا میں اور آخرت میں، لعنت فرمائی ہے یا لعنت فرماتے ہیں اللہ ان پر دنیا میں اور آخرت میں، واعد لہم عذابا مہینا اور تیار کر رکھا ہے ان کے لیے عذابا مہینا اہانت والا عذاب یعنی ذلیل کر دینے والا عذاب۔
ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ، یقیناً وہ لوگ جو تکلیف دیتے ہیں اللہ کو اور اللہ کے رسول کو، اللہ کو تکلیف دیتے ہیں؟ یعنی بھئی اللہ کے رسول کو تکلیف دینا گویا کس کو تکلیف دینا ہے؟ وہ اللہ کو تکلیف دینا ہے۔ یقیناً وہ لوگ جو تکلیف دیتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو لعنہم اللہ، اللہ لعنت فرماتے ہیں ان پر دنیا میں اور آخرت میں واعد لہم عذابا مہینا اور تیار کیا ہے ان کے لیے ذلت والا عذاب۔ اللہ ان پر لعنت فرماتے ہیں بھئی، لعنت کا معنی ہے رحمت سے دور کرنا، اللہ ان کو اپنی رحمت سے دور کرتے ہیں بھئی۔
والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنات اور وہ لوگ جو تکلیف دیتے ہیں مومن مردوں کو والمؤمنات اور مومنہ عورتوں کو بغیر ما اکتسبوا بغیر اس کے جو انہوں نے کیا ہو، یعنی بغیر کچھ کیے ہی وہ لوگ جو تکلیف دیتے ہیں مومنین کو اور مومنات کو بغیر ما اکتسبوا بغیر اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہو، فقد احتملوا تو تحقیق انہوں نے اٹھایا بہتانا، بہتانا واثما مبینا بہتان اٹھایا، بہتان کہتے ہیں جھوٹے الزام کو بھئی۔ بہتان کسے کہتے ہیں؟ جھوٹے۔ تو انہوں نے جھوٹا الزام اٹھایا واثما مبینا اور واضح گناہ صریح گناہ انہوں نے اٹھایا۔
والذین یؤذون المؤمنین اور وہ لوگ جو تکلیف دیتے ہیں مومن مردوں کو والمؤمنات اور مومنہ عورتوں کو بغیر ما اکتسبوا بغیر اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہو، یعنی بغیر کسی گناہ کے جو مومنین مردوں اور عورتوں کو تکلیف دیتے ہیں فقد احتملوا بہتانا واثما مبینا، تو تحقیق انہوں نے اٹھایا یعنی بوجھ اٹھایا، تو انہوں نے بوجھ اٹھایا بہتانا جھوٹے الزام کا واثما مبینا اور واضح گناہ کا۔
مؤمنین اور مؤمنات کو تکلیف دیتے ہیں بغیر کسی گناہ کے، بغیر اس کے جو انہوں نے کچھ کیا ہو، یعنی بلا وجہ ان کو تنگ کرتے ہیں اور ان پر الزامات وغیرہ لگاتے ہیں مومن مردوں اور مومن عورتوں پر، تو ان لوگوں نے بڑا بھاری گناہ اور جھوٹا الزام اٹھایا اس کو اپنے سر لے لیا، قیامت کے دن ان کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔