Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-002

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor طالبۃالعم
📍 Location Karachi, Pakistan
📅 Approved Date 28 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 75
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
لکھیے بھئی، صاحبِ ہدایہ کے احوال۔ صاحبِ ہدایہ کے احوال۔ صاحبِ ہدایہ کا نام برہان الدین، برہان الدین ابوالحسن، ابوالحسن علی ابن ابی بکر، علی ابن ابی بکر الفرغانی، الفرغانی المرغینانی ہے۔ المرغینانی، م-ر-غ-ی-ن-ا-ن-ی، مرغینان۔ آپ فرغانہ، آپ فرغانہ علاقے کی ایک بستی، آپ فرغانہ علاقے کی ایک بستی اور ایک شہر مرغینان کے رہنے والے تھے۔ آپ فرغانہ علاقے کی ایک بستی اور شہر مرغینان کے رہنے والے تھے۔ تو فرغانہ کی نسبت سے آپ فرغانی اور مرغینان کی نسبت سے مرغینانی کہلاتے ہیں۔ تو فرغانہ کی نسبت سے آپ فرغانی اور مرغینان کی نسبت سے مرغینانی کہلاتے ہیں۔ بھئی میں نے نام لکھوایا برہان الدین ابوالحسن علی ابن ابی بکر، بھئی تفصیل تو آپ خود سمجھ گئے ہوں گے کہ برہان الدین شروع میں جو آیا، یہ صاحبِ ہدایہ کا لقب ہے۔ اور ابوالحسن ان کی کنیت ہے، علی ان کا نام ہے اور بیٹے کس کے ہیں؟ ابو بکر کے بھئی۔ آپ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ کی ولادت، آپ کی ولادت 8 رجب، 8 رجب 511 ہجری، 511 ہجری بروزِ پیر ہوئی۔ بروزِ پیر ہوئی۔ آپ نے اپنے زمانے کے، آپ نے اپنے زمانے کے، یہ کون چھینکا ہے؟ الحمدللہ کیوں نہیں کہتے بھئی؟ اونچی آواز سے ساری جماعت سنے بھئی۔ الحمدللہ، یرحمک اللہ۔ جی کیا لکھا؟ آپ نے اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء، بڑے بڑے علماء، شیوخ، شیوخ، محدثین، محدثین اور فقہاء سے علمِ دین حاصل کیا۔ اور فقہاء سے علمِ دین حاصل کیا۔ بھئی آپ کیوں نہیں لکھ رہے؟ گزشتہ سبق میں آئے تھے آپ میرے؟ ہاں لکھیں بھئی، ایسے نہ بیٹھیں۔ یہ پھر کون چھینکا؟ پرانے ہیں کہ نئے ساتھی ہیں بھئی؟ پرانے ہیں۔ اونچی آواز سے کہو بھئی۔ الحمدللہ، یرحمک اللہ۔ جی، سے علمِ دین حاصل کیا اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت، اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت بہت جلد علومِ دینیہ میں، بہت جلد علومِ دینیہ میں فضل و کمال حاصل کر لیا۔ فضل و کمال حاصل کر لیا۔ الگ سطر میں لکھیے آگے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ، صاحبِ ہدایہ بہت بڑے فقیہ، بہت بڑے فقیہ، محدث، محدث، مفسر، مفسر، اصولی، اصولی اور ادیب تھے۔ اور ادیب تھے۔ علم کے ساتھ ساتھ، علم کے ساتھ ساتھ اللہ جل جلالہُ نے، اللہ جل جلالہُ نے ورع و تقویٰ، ورع، و-ر-ع، ورع و تقویٰ، ورع و تقویٰ میں فرق جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ ورع تقویٰ سے بھی اونچا مقام ہے۔ تقویٰ میں تو جن چیزوں سے بچنا ضروری ہے، ان سے بچتا ہے انسان۔ اور ورع کے اندر مشتبہات سے بھی بچتا ہے انسان بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اس سے بھی اونچا مقام ہے پرہیزگاری کا بھئی۔ جی کیا لکھا؟ ورع و تقویٰ اور پرہیزگاری کے اعتبار سے بھی، اور پرہیزگاری کے اعتبار سے بھی بڑا اونچا مقام نصیب فرمایا تھا۔ بڑا اونچا مقام نصیب فرمایا تھا۔ آپ نے مختصر القدوری، آپ نے مختصر القدوری اور امام محمد رحمہ اللہ کی تصنیف، اور امام محمد رحمہ اللہ کی تصنیف جامع صغیر سے، جامع صغیر سے انتخاب کرتے ہوئے، سے انتخاب کرتے ہوئے ایک جامع متن تحریر فرمایا، ایک جامع متن تحریر فرمایا جس کا نام بدایۃ المبتدی رکھا۔ جس کا نام بدایۃ المبتدی رکھا۔ پھر آپ نے اس متن کی شرح بھی، پھر آپ نے اس متن کی شرح بھی خود ہی تصنیف فرمائی، خود ہی تصنیف فرمائی جس کا نام، جس کا نام کفایۃ المنتہی رکھا۔ کفایۃ المنتہی رکھا۔ یہ شرح، یہ شرح 80 جلدوں پر مشتمل تھی۔ ہمارے بزرگوں کی زندگیوں میں اللہ نے عجیب برکات رکھی تھیں بھئی۔ انسان حیران ہوتا ہے اتنی اتنی بڑی کتابیں انہوں نے لکھیں، اتنی اتنی جلدوں میں، جیسے اسی کو دیکھ لیں 80 جلدوں میں شرح لکھی بھئی۔ اور بعض کے مفسرین اور بعض دیگر علماء کی بعض کتابیں سینکڑوں سینکڑوں جلدوں میں ہیں بھئی۔ انسان حیران ہوتا ہے کہ یہ کیسے انہوں نے لکھیں بھئی۔ اور اتنی قیمتی کتابیں، عام کتابیں بھی نہیں کہ انسان ویسے لکھتا چلا جائے۔ بعد والے تمام علماء ان کتابوں کے محتاج ہیں بھئی، ایسی ایسی قیمتی کتابیں۔ اور یہ کیسے انہوں نے لکھیں، انسان حیران ہوتا ہے۔ انہوں نے سوچا بھی ہو گا۔ نئے نئے نکات بیان کرتے ہیں، ہر جگہ قدم قدم پر ہر ایک جو بھی لکھتا ہے کہ میرے ذہن میں اللہ نے یہ نقطہ ڈالا، یہ نقطہ ڈالا۔ کتنا سوچ سوچ کر انہوں نے لکھا ہو گا اور آج کل تو سہولت ہے بھئی، قلم روشنائی والے قلم ہیں، لکھتے آپ چلے جائیں۔ پہلے تو قلم کو بار بار دوات میں ڈبونا پڑتا تھا بھئی۔ ایک دو لفظ سے زیادہ وہ چلتا ہی نہیں تھا۔ تو وہ کیسے سوچتے، کیسے لکھتے، کتنی برکت رکھی تھی اللہ نے ان کی زندگیوں میں کہ تھوڑے وقت میں وہ اتنا زیادہ زیادہ کام کر گئے کہ انسان حیران ہے۔ جی لکھیے بھئی آگے، کیا لکھا؟ چونکہ یہ شرح نہایت طویل ہو گئی تھی، چونکہ یہ شرح نہایت طویل ہو گئی تھی، لہذا آپ نے، لہذا آپ نے اس شرح کو مختصر کرتے ہوئے، اس شرح کو مختصر کرتے ہوئے چار جلدوں میں، چار جلدوں میں اس کا خلاصہ تحریر فرمایا۔ اس کا خلاصہ تحریر فرمایا اور اس کا نام ہدایہ رکھا۔ اور اس کا نام ہدایہ رکھا۔ آپ نے ذی قعدہ، آپ نے ذی قعدہ 573 ہجری، 5-7-3، 573 ہجری کو بدھ کے روز، بدھ کے روز ہدایہ کی تصنیف کا کام شروع کیا۔ ہدایہ کی تصنیف کا کام شروع کیا اور شب و روز محنت کرتے ہوئے، اور شب و روز انتہا درجے کی محنت کرتے ہوئے 13 سال میں، 13 سال میں اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ 13 سال میں اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اس مدت کے دوران، اس مدت کے دوران آپ نے ہمیشہ روزہ رکھا۔ آپ نے ہمیشہ روزہ رکھا اور کوشش کی، اور کوشش کی کہ آپ کے روزے کے بارے میں، کہ آپ کے روزے کے بارے میں کسی کو خبر نہ ہو۔ کسی کو خبر نہ ہو۔ چنانچہ خادم گھر سے کھانا لے کر آتا، چنانچہ خادم گھر سے کھانا لے کر آتا تو آپ اسے فرماتے، تو آپ اسے فرماتے کہ کھانا رکھ جاؤ، کہ کھانا رکھ جاؤ۔ جب خادم چلا جاتا، جب خادم چلا جاتا تو آپ کسی طالب علم وغیرہ کو بلا کر، تو آپ کسی طالب علم وغیرہ کو بلا کر وہ کھانا اسے کھلا دیتے۔ وہ کھانا اسے کھلا دیتے۔ خادم واپس آ کر، خادم واپس آ کر برتن خالی دیکھتا، برتن خالی دیکھتا تو سمجھتا، تو سمجھتا کہ آپ کھانا کھا چکے ہیں۔ کہ آپ کھانا کھا چکے ہیں۔ بھئی آپ کیوں آخر، یہ ہاں آخری کنارے تک سطر کے لکھتے چلے جاتے ہیں؟ ہمیشہ یاد رکھو جب بھی کوئی چیز لکھو دونوں طرف کچھ نہ کچھ جگہ خالی چھوڑ دیا کرو بھئی۔ اور جب بھی مضمون کوئی لکھیں، دو چار سطریں، پانچ سطروں کے بعد پھر نیا پیرا شروع کیا کریں۔ مسلسل تحریر ہو، بڑی بری لگتی ہے۔ انسان کا پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا اس کو۔ پیرے بنا لیں، اپ کتابوں وغیرہ سب میں دیکھتے ہوں گے، پیرے بنائے ہوتے ہیں چھوٹے چھوٹے، بھئی۔ اور دونوں طرف خالی جگہ کو چھوڑیں، اس سے ایک تو تحریر خوبصورت لگتی ہے اور کبھی پھر ایسا ہوتا ہے کچھ اضافہ کرنا پڑتا ہے یا کچھ تصحیح کرنی پڑتی ہے، تو کنارے پر انسان کے پاس جگہ ہوتی ہے، ارام سے تصحیح کر لیتا ہے۔ جی، اگے لکھیے: چنانچہ اپ کی اس محنت، چنانچہ اپ کی اس محنت، عرق ریزی، عرق ریزی، اور اخلاص پر، اور اخلاص پر اللہ جل جلالہ نے، اللہ جل جلالہ نے یہ انعام نصیب فرمایا، یہ انعام نصیب فرمایا کہ اپ کی کتاب، کہ اپ کی کتاب کو، کہ اپ کی کتاب کو علماء و طلباء کی، علماء و طلباء کی نگاہوں کا مرکز بنا دیا۔ علماء و طلباء کی نگاہوں کا مرکز بنا دیا اور اسے اس قدر مقبولیت نصیب فرمائی، اور اسے اس قدر مقبولیت نصیب فرمائی کہ سینکڑوں سال سے یہ کتاب، کہ سینکڑوں سال سے یہ کتاب مدارس دینیہ کے نصاب میں داخل ہے، مدارس دینیہ کے نصاب میں داخل ہے اور اولیاء اللہ، اور اولیاء اللہ اسے پڑھ رہے ہیں اور پڑھا رہے ہیں، اسے پڑھ رہے ہیں اور پڑھا رہے ہیں۔ اور یہ فقہ حنفی کی معتبر ترین کتاب ہے، اور یہ فقہ حنفی کی معتبر ترین کتاب ہے۔ صاحب ہدایت بہت بڑے ادیب بھی تھے۔ صاحب ہدایت بہت بڑے ادیب بھی تھے۔ عظیم محدث، عظیم محدث، مفسر، فقیہ، اور جامع العلوم، اور جامع العلوم علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ، علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ، جنہیں اللہ تعالی نے، جنہیں اللہ تعالی نے محیر العقول، محیر العقول حافظہ، حافظہ اور ذہن نصیب فرمایا تھا، حافظہ اور ذہن نصیب فرمایا تھا۔ ان کو اللہ نے ایسا عجیب قوی حافظہ نصیب فرمایا تھا اور ایسا ذہن کہ انسان حیران رہتا ہے، بھئی۔ کوئی معمولی عبارت کسی کتاب پر نظر ڈال لیتے، سرسری سی نظر، تو 25-30 سال تک اسے بھولتے نہیں تھے، گہری نظر پر تو پھر عمر بھر ہی نہیں بھولتے تھے۔ اور اپ اخبار کا مطالعہ نہیں کرتے تھے۔ کسی نے پوچھا کہ حضرت! اپ اخبار نہیں دیکھتے، کیا وجہ ہے؟ کہنے لگے: اخبار دیکھتا ہوں تو سارا اخبار میرے حافظے میں محفوظ ہو جاتا ہے، تو کیا ضرورت ہے مجھے ان بیکار چیزوں کو ذہن میں محفوظ کرنے کی؟ یہ جو فقہ کی ایک کتاب اپ پڑھتے ہیں قدوری کے ساتھ، کیا نام ہے؟ نور الایضاح، نور الایضاح۔ ہاں، اس کے بارے میں بھی یہ روایت سنی ہے کہ اپ مصر تشریف لے گئے تھے، وہاں ایک مکتبے میں یہ کتاب اپ کو ملی۔ تو بڑا کوئی پرانا نسخہ تھا۔ اپ نے وہی مکتبے میں بیٹھے بیٹھے جلدی جلدی اس کا مطالعہ کر لیا اور پھر واپس ا کر پوری کتاب کو اپنے حافظے سے لکھ دیا، بھئی۔ عجیب ذہن! جی، لکھیے بھئی، اگے: کان آیۃ من آیات اللہ، کان آیۃ من آیات اللہ، کان آیۃ من آیات اللہ بلا مریۃ، بلا مریۃ، و نادرۃ من نوادر الدہر، و نادرۃ من نوادر الدہر، بلا فریۃ، بلا فریۃ۔ معنی سمجھ میں ارہا ہے عبارت کا، بھئی؟ کان آیۃ من آیات اللہ، ہاں، علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی تھے، بھئی۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے، بلا مریۃ، بغیر شک و شبہے کے۔ و نادرۃ من نوادر الدہر، اور زمانے کی نایاب چیزوں میں سے ایک نایاب چیز تھے، بلا فریۃ، بغیر کسی جھوٹ کے۔ فریہ جھوٹ کو کہتے ہیں، یعنی اس بات میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔ اپ حقیقتاً زمانے کی نایاب چیزوں میں سے ایک نایاب چیز تھے۔ ہدایہ فقہی، فقہ کے ساتھ ساتھ، فقہ کے ساتھ ساتھ ادبی اعتبار سے بھی، ادبی اعتبار سے بھی اس قدر، اس قدر عظیم کتاب ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ ان سے، ان کو اللہ نے میرے، جیسے میں نے بیان کیا، اللہ نے عجیب حافظہ اور عجیب ذہن دیا تھا۔ اور صرف حافظہ ہی نہیں قوی تھا بلکہ ذہن بھی ایسا تھا کہ جو فوراً چیزوں کا تجزیہ کر لیتا، فوراً، بھئی۔ ایک صرف حافظے کا قوی ہونا ہے، یہ اور چیز ہے؛ ایک ذہن کا چیزوں کا تجزیہ کر لینا، کھڑے کھوٹے کو الگ کر دینا، اور مختلف چیزوں کو اپس میں ملا دینا، یہ ایک عجیب الگ صلاحیت ہوتی ہے من جانب اللہ کہ انسان فوراً نتیجے تک پہنچ جاتا ہے، بھئی۔ فوراً نتیجے تک۔ مختلف اقوال ائے، وہ تحقیق وغیرہ، وہ سارا کچھ ایک دم ذہن تجزیہ کر کے سارا کچھ سامنے لے اتا ہے کہ کون سی بات صحیح ہے، اس کی یہ دلائل ہیں، فلاں دلائل، فلاں جگہ تھے؛ یہ ساری چیزوں کا تجزیہ ایک دم ذہن کر لیتا ہے، بھئی۔ بڑا عجیب ذہن اللہ نے ان کو دیا تھا۔ اور ان سے جب دینی کتابوں کے بارے میں پوچھا جاتا، بھئی، علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ سے کہ حضرت! فلاں کتاب جیسی کتاب اپ لکھ سکتے ہیں؟ بڑی بڑی عظیم کتابوں کے بارے میں پوچھا جاتا، تو جواب میں فرماتے: اس سے بہتر لکھ سکتا ہوں۔ کوئی دوسری کوئی کتاب ذکر کی جاتی، پوچھا جاتا کہ حضرت! اپ اس جیسی کتاب لکھ سکتے ہیں؟ فرماتے: اس سے بہتر لکھ سکتا ہوں، اس سے بدرجہا بہتر لکھ سکتا ہوں۔ لیکن دو چار کتابیں ایسی تھیں جن کے بارے میں اپ فرماتے تھے کہ میں ان جیسی کتاب نہیں لکھ سکتا۔ انہی میں سے ایک کتاب ہدایہ بھی تھی۔ فرماتے تھے: اس جیسی میں چند سطریں بھی نہیں لکھ سکتا۔ اتنی عظیم ادبی کتاب ہے، ادبی اعتبار سے بھی اتنی حسیں و دلکش اور پیاری عبارتیں صاحب ہدایہ لے کر ائے ہیں کہ کہ یہ عام انسان کے بس کی بات نہیں، بھئی۔ جی، کیا لکھا؟ کہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ، کہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ ہدایہ کے بارے میں فرماتے ہیں، ہدایہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ کتاب ادبی اعتبار سے اس قدر بلند ہے، اس قدر بلند ہے کہ اس جیسی، کہ اس جیسی چند سطریں بھی نہیں لکھ سکتا، کہ اس جیسی چند سطریں بھی نہیں لکھ سکتا۔ اگے الگ سطر میں لکھیے، بھئی۔ صاحب ہدایہ کی عادت تھی، صاحب ہدایہ کی عادت تھی کہ اپ عموماً درس کا اغاز، کہ اپ عموماً درس کا اغاز بدھ کے دن فرمایا کرتے تھے، بدھ کے دن فرمایا کرتے تھے۔ اور اس سلسلے میں یہ حدیث روایت کرتے تھے، اور اس سلسلے میں یہ حدیث روایت کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدھ کے دن جو کام بھی شروع کیا جائے، کہ بدھ کے دن جو کام بھی شروع کیا جائے، وہ ضرور پورا ہوتا ہے، وہ ضرور پورا ہوتا ہے۔ حدیث کے عربی الفاظ یہ ہیں، حدیث کے عربی الفاظ یہ ہیں: ما من شيء بدء يوم الاربعاء، ما من شيء بدء، با، دال، اور یا، یا پر ہمزہ لکھیں، یہ ہمزہ ہے دراصل، با دال اور یا جو اس کے اوپر ہمزہ، ما من شيء بدء يوم الاربعاء، يوم الاربعاء، الاربعاء بدھ کے دن کو کہتے ہیں نا عربی میں، ہاں، اربعاء کے اخر میں الف اور ہمزہ ہے، بھئی، يوم الاربعاء الا الا تم، تم، تا دو نقطوں والی اور میم مشدد۔ صاحب ہدایہ کی وفات، صاحب ہدایہ کی وفات 14 ذوالحجہ، 14 ذوالحجہ 593 ہجری، 593، 5 9 3، 593 ہجری کو پیر کی شب، کو پیر کی شب میں ہوئی، پیر کی رات میں ہوئی۔ اپ کو، اپ کو سمرقند میں دفنایا گیا، اپ کو سمرقند میں دفنایا گیا۔ لکھ لیا، بھئی؟ جی، بحث مکمل ہوئی۔ تو سمرقند میں اس جبل علم کو زمین کے حوالے کر دیا گیا، بھئی۔ والد صاحب رحمہ اللہ جب بڑے علماء کا تذکرہ ہوتا اور ان کی وفات کا ذکر اتا کہ، تو فرمایا کرتے تھے: دیکھو، بھئی! یہ کتنی بڑی علمی شخصیت تھی جس کو زمین میں دفنا دیا گیا۔ اور پھر اس موقع پر یہ مصرع اپ کی زبان پر ا جایا کرتا تھا: زمین کھا گئی اسماں کیسے کیسے زمین کھا گئی اسماں کیسے کیسے دیکھو، یہ علم کا ایک اسمان تھا، بھئی، اتنا بلند علمی مقام تھا ان کا، لیکن ان کو بھی زمین کھا گئی۔ زمین کھا گئی اسماں کیسے کیسے۔ اور مجھے یاد ہے جب حضرت شیخ رحمہ اللہ کا انتقال ہوا اور ان کو دفنایا گیا تو ان کے سارے شاگردوں کی زبان پر یہی مصرع تھا، بھئی: زمین کھا گئی اسماں کیسے کیسے چلیے، بھئی، اللہ اپ سب کو بڑا عالم بنائے۔ امین۔
16 approved lectures · 2 of 16