Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحو مير · dars-054

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 04 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی۔ فصل دوم در بیان منصرف و غیرمنصرف۔ منصرف آن است کہ ہیچ سبب از اسبابِ منعِ صرف درون نہ باشد۔ و غیرمنصرف آن است کہ دو سبب از اسبابِ منعِ صرف درون باشد۔ و اسبابِ منعِ صرف نو است: عدل و وصف و تأنیث و معرفہ و عُجْمَہ و جمع و ترکیب و وزنِ فعل و الف و نونِ مزیدتان۔ گذشتہ سبق میں آپ نے توابع کی آخری دو قسمیں یعنی عطف با حرف اور عطفِ بیان کے بارے میں پڑھا تھا۔ عطف با حرف انہوں نے آپ کو بتلایا کہ عطف با حرف وہ تابع ہے کہ جو حرف عطف کے بعد آئے اور تابع اور متبوع دونوں مقصود بالنسبہ ہوتے ہیں۔ یعنی وہ جو معطوف با حرف ہے، وہ بھی متبوع کے ساتھ ساتھ مقصود بالنسبہ ہوتا ہے۔ تو دونوں کیا ہوتے ہیں؟ مقصود بالنسبہ۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا جائنی زید و عمرو۔ تو زید ہے متبوع علیہ اور واؤ حرف عطف اور عمرو ہے معطوف۔ تو یہاں صرف متبوع یعنی جو پہلے آیا صرف وہ مقصود نہیں یا جو صرف بعد میں آیا یعنی تابع، وہ بھی مقصود نہیں بلکہ دونوں مقصود بالنسبہ ہیں۔ یعنی کہنے والا دونوں کی طرف آنے کی نسبت کرنا چاہتا ہے۔ وہ دونوں کے بارے میں بتلانا چاہتا ہے کہ دونوں آئے ہیں؛ زید بھی آیا ہے اور عمرو بھی آیا ہے۔ تو زید جو پہلے آیا وہ ہوا متبوع علیہ اور جو بعد میں یعنی عمرو آیا وہ ہے معطوف۔ تو معطوف با حرف وہ ہے کہ جو اپنے متبوع سمیت مقصود بالنسبہ ہوتا ہے؛ یعنی دونوں مقصود بالنسبہ ہوتے ہیں۔ عطف با حرف بھئی۔ اور یہ عطف بمعنی معطوف ہے۔ معطوف با حرف۔ عطف کس معنی میں ہے؟ معطوف کے معنی میں۔ تو معطوف با حرف یعنی حرف کے ذریعے جو معطوف ہو۔ آگے ایک عطفِ بیان آرہا ہے، وہ بھی معطوف ہے لیکن وہ عطفِ بیان ہے لیکن یہ عطف با حرف ہے، حرف کے ذریعے معطوف ہے بھئی۔ تو یہاں درمیان میں حرف عطف آئے گا جبکہ آگے عطفِ بیان وہاں بھی عطف ہوگا لیکن وہاں درمیان میں حرف عطف نہیں آئے گا۔ اور انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ عطف با حرف کو عطفِ نسق بھی کہتے ہیں بھئی، عطفِ نسق۔ اور نسق کا معنی ہے ترتیب دینا۔ چونکہ یہ عطف بھی بعض مقامات پر ترتیب کا فائدہ دیتا ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں عطفِ نسق۔ جیسے جائنی زیدٌ ف عمروٌ ثم بکرٌ۔ یہ فا بھی عطف کے لیے آتی ہے، ثم بھی عطف کے لیے آتا ہے تو یہاں یہ ترتیب کا فائدہ دے رہے ہیں۔ جائنی زیدٌ میرے پاس زید آیا، ف عمروٌ پھر عمرو آیا، ثم بکرٌ پھر پھر بکر آیا۔ تو معلوم ہوا سب سے پہلے زید آیا، اس کے بعد پھر عمرو آیا اور اس کے بعد بکر آیا تو یہ ترتیب کا فائدہ دیا یہاں پر فا اور ثم نے تو اس لیے اس عطف با حرف کو عطفِ نسق بھی کہتے ہیں۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ حروفِ عطفہ کا بڑا فائدہ ہے کہ یہ کلام کو مختصر کر دیتے ہیں۔ مثلاً جائنی زیدٌ و عمروٌ۔ یہ کلام کس درجے میں ہے؟ گویا آپ نے کہا جائنی زیدٌ و جائنی عمروٌ۔ تو جائنی زیدٌ و جائنی عمروٌ تو ہر ایک کے لیے علیحدہ جائ فعل ذکر کرنا پڑتا لیکن حرفِ عطف نے کیا فائدہ دیا کہ دوبارہ فعل کو یا دوبارہ عامل کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ تو یہ کلام مختصر ہو گیا۔ جائنی زیدٌ و جائنی عمروٌ کے بجائے صرف جائنی زیدٌ و عمروٌ سے کام بن گیا اور اس نے بھی وہی فائدہ دیا بھئی۔ اس کے بعد عطفِ بیان کے بارے میں آپ نے پڑھا تھا اور انہوں نے بتلایا کہ عطفِ بیان وہ تابع ہے جو صفت کے علاوہ ہوتا ہے اور اپنے متبوع کی وضاحت کرتا ہے۔ اپنے متبوع کی وضاحت۔ یہاں انہوں نے قید لگائی کہ جو صفت کے علاوہ ہوتا ہے وجہ اس کی یہ کہ صفت بھی اپنے متبوع کی وضاحت کرتی ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ صفت معرفہ کی بھی آتی ہے اور نکرہ کی۔ معرفہ کے اندر جو صفت آئے وہ اپنے متبوع کی وضاحت کرتی ہے۔ مثلاً زیدٌ ہے معرفہ اور اس کی صفت میں العالِم لاتا ہوں، جائنی زیدٌ العالمُ۔ تو اس العالِم نے زید کی وضاحت کر دی، اس کی توضیح کر دی، توضیح کا کیا معنی کہ زید کے اندر عالم ہونے کا بھی احتمال تھا اور عالم نہ ہونے کا بھی احتمال تھا تو پھر جب العالِم آیا تو اس نے بتلا دیا کہ وہ عالم ہے اور عالم نہ ہونے کے احتمال کو اس نے ختم کر دیا بھئی۔ تو صفت کیا کرتی ہے؟ معرفہ کے اندر توضیح کا فائدہ دیتی ہے اور نکرہ کے اندر تخصیص کا فائدہ دیتی ہے۔ نکرہ کی صفت لائیں تو وہ معرفہ تو نہیں بنتا البتہ اس میں تخصیص پیدا ہو جاتی ہے اور تخصیص کا معنی ہے دیگر احتمالات کو کم کرنا۔ جیسے میں صرف غلام کا لفظ بولوں، فرض کرو دنیا میں ایک کروڑ غلام ہیں تو یہ غلام کا لفظ ان میں سے ہر ایک پر بولا جا سکتا ہے کہ یہ بھی غلام ہے، یہ بھی غلام ہے، یہ بھی غلام ہے، ہر ایک غلام پر بولا جا سکتا ہے تو اس غلام میں ایک کروڑ احتمالات ہوئے۔ پھر جب میں اس کی صفت لے آیا، غلامٌ مؤمنٌ، مومن غلام۔ اب فرض کرو ایک کروڑ غلاموں میں سے صرف دس لاکھ مومن ہیں تو اب غلامٌ مؤمنٌ اب یہ کتنے پر صادق آ رہا ہے؟ دس لاکھ پر۔ پہلے غلام کا لفظ اکیلا تھا، اکیلا ابھی بھی آپ لائیں گے تو وہ ایک کروڑ پر صادق آئے گا لیکن جب آپ صفت لے آئیں گے، غلامٌ مؤمنٌ اب کافر غلام پر تو یہ لفظ نہیں بول سکتے تو صرف کتنے پر صادق آئے گا؟ دس لاکھ پر تو دیکھو احتمالات کم ہو گئے یعنی اس میں تخصیص پیدا ہو گئی۔ تو معرفہ کے اندر صفت توضیح کا فائدہ دیتی ہے یعنی وضاحت کا یعنی دوسرے احتمال کو ختم کر دیتی ہے اور نکرہ کے اندر صفت تخصیص کا فائدہ دیتی ہے۔ تو صفت بھی توضیح کا فائدہ دیتی ہے اور عطفِ بیان بھی توضیح یعنی وضاحت کا فائدہ دیتا ہے تو اگر صرف یہ تعریف کرتے کہ عطفِ بیان وہ تابع ہے جو اپنے متبوع کی وضاحت کرتا ہے تو صفت بھی اس میں آ جاتی کیونکہ صفت بھی اپنی وضاحت کرتی ہے تو لہٰذا قید لگا دی کہ صفت کے علاوہ ہونا چاہیے۔ یہ عطفِ بیان صفت کے علاوہ ہونا چاہیے۔ صفت تو وہ تھی جو اب ایسے معنی پر دلالت کرے جو متبوع میں پایا جائے یا متبوع کے متعلق میں پایا جائے جبکہ عطفِ بیان میں ایسا نہیں ہوتا وہ ایسے معنی پر دلالت نہیں کرتا جو متبوع میں پایا جائے یا متبوع کے متعلق میں پایا جائے۔ تو انہوں نے بتلایا کہ عطفِ بیان وہ تابع ہے جو صفت کے علاوہ ہو اور اپنے متبوع کو روشن کرے یعنی اس کی وضاحت کرے جیسے اقسم بالله أبو حفصٍ عمرُ۔ اور اس میں میں نے آپ کو دو مذاہب بھی بتلائے تھے صاحبِ نحو میر نے یہ بتلایا کہ جو عطفِ بیان ہوتا ہے وہ متبوع علیہ سے زیادہ مشہور ہونا چاہیے۔ جیسے أبو حفصٍ عمرُ۔ أبو حفصٍ یہ ہے کنیت بھئی میں نے بتایا تھا کسی نام کے شروع میں اب، اُم، یا ابن، بنت، وغیرہ جیسے لفظ آ جائیں تو اس کو کنیت کہتے ہیں اور عرب میں جو بڑے لوگ ہوتے تھے وہ اپنی کنیت رکھا کرتے تھے بھئی۔ جیسے مثلاً زید ہے زید کا بیٹا عمر ہے تو زید اپنی کنیت رکھ لیتا ہے ابو عمر، عمر کا باپ، عمر کا باپ۔ اور یا زید کی ماں ہے وہ اپنی کنیت رکھ لیتی ہے اُمِ زید، اُمِ زید، زید کی ماں۔ یا زید کا بیٹا ہے، زید کا بیٹا ہے وہ اپنی کنیت رکھ لیتا ہے ابنِ زید، کیا رکھ لیتا ہے؟ ابنِ زید۔ ہاں تو اس کی کنیت اس سے اپنی کنیت رکھ لیتا ہے دیکھو ابنِ زیدین، زید کا بیٹا، دیکھو شروع میں ابن کا لفظ آ گیا یا بنتِ زیدین، زید کی بیٹی، یا اُمِ زیدین، زید کی ماں، یا أبو زید، زید کا باپ تو یہ مختلف قسم کے دیکھو سب کے شروع میں اب اُم وغیرہ کا لفظ آ رہا ہے، یہ ہیں کنیت بھئی۔ تو انہوں نے بتلایا کہ عطفِ بیان جو ہے وہ وہ متبوع کے مقابلے میں زیادہ مشہور ہونا چاہیے کیونکہ اس نے وضاحت کرنی ہے اپنے متبوع کی جب زیادہ مشہور ہوگا تبھی وضاحت کرے گا نا جیسے اقسم بالله أبو حفصٍ عمرُ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایک ان کا نام ہے وہ ہر ایک جانتا ہے اور ایک ان کی کنیت ہے ابو حفص وہ ہر ایک کو معلوم نہیں۔ تو پہلے شعر میں ذکر کیا ابو حفص اب ابو حفص سے وضاحت نہیں ہوئی کہ اس سے کون مراد ہیں تو آگے ان کا نام جو زیادہ مشہور تھا وہ ذکر کر دیا کہ ابو حفصٍ عمرُ اس عمر نے آکر وضاحت کر دی کہ ابو حفص سے کون مراد ہیں؟ عمر مراد ہیں بھئی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ۔ تو دو مثالیں دیں بھئی مصنف نے یہاں۔ ایک میں دیکھو ابو حفص کنیت کو پہلے لائے اور عمر جو نام تھا اس کو عطفِ بیان بنایا کیونکہ نام زیادہ مشہور تھا اور دوسری مثال جائنی زیدٌ أبو عمرٍ۔ اس میں زید جو نام ہے اس کو متبوع علیہ بنایا اور ابو عمر جو کنیت ہے اس کو عطفِ بیان بنایا کیونکہ یہاں کنیت زیادہ مشہور ہے تو جو زیادہ مشہور ہو اگر نام زیادہ مشہور ہو تو نام کو پھر عطفِ بیان بنائیں گے اور اگر کنیت زیادہ مشہور ہو تو پھر کنیت کو عطفِ بیان بنائیں گے یعنی بعد میں اس کو لائیں گے، پہلے دوسرے لفظ کو لائیں گے۔ اور جبکہ میں نے بتایا کہ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ عطفِ بیان کا اپنے متبوع سے زیادہ مشہور ہونا ضروری نہیں۔ ہاں دونوں سے مل کر توضیح دونوں سے دونوں سے مل کر وضاحت حاصل ہو جائے تو یہ کافی ہے پھر وہ عطفِ بیان بن سکتا ہے۔ میں نے مثال سے بات سمجھائی تھی جیسے آپ کے دو ساتھی ہیں ان کا نام ہے زید اور ایک کا نام ہے عبدالرحمن تو ان میں سے اگر میں صرف کہوں میرے پاس زید آیا تھا، دیکھو آپ کو پتہ نہیں چلا کہ کون سا زید آیا ہے اور ان میں سے عبدالرحمن کی کنیت بھی ابو عمر ہے اور ایک زید کی کنیت بھی ابو عمر تو اگر میں صرف ابو عمر کہوں پھر بھی آپ کو پتہ نہیں چلے گا، پتہ نہیں کون سا ابو عمر آیا، زید آیا یا عبدالرحمن آیا لیکن جب میں نام کے ساتھ کنیت بھی ملا دوں گا جائنی زیدٌ أبو عمرٍ۔ میرے پاس وہ زید آیا جس کی کنیت کیا ہے؟ ابو عمر۔ اب آپ کو پتہ چل گیا کہ کون سا والا زید مراد ہے اور کون سا والا ابو عمر مراد ہے؟ وہ زید جس کی کنیت کیا ہے؟ ابو عمر اور وہ ابو عمر جس کا نام کیا ہے؟ زید، معلوم ہوا وہ آپ کے پاس آیا ہے تو دونوں کے ملنے سے وضاحت حاصل ہو گئی تو صاحبِ کتاب نے اس مذہب کو ترجیح دی کہ عطفِ بیان کو وہ متبوع علیہ سے زیادہ مشہور ہونا چاہیے جبکہ بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ عطفِ بیان کا زیادہ مشہور ہونا ضروری نہیں۔ ہاں دونوں کے ملنے سے وضاحت ہو جاتی ہو پتہ چل جاتا ہو تو پھر اس لفظ کو عطفِ بیان بنا سکتے ہیں۔ آگے دیکھیے بھئی۔ فصلِ دوم در بیانِ منصرف و غیرمنصرف۔ منصرف آن است کہ ہیچ سبب از اسبابِ منعِ صرف درون نہ باشد۔ و غیرمنصرف آن است اس کو آنست نہ پڑھنا بھئی نون پر زبر پڑھنا، و غیرمنصرف آن است کہ دو سبب از اسبابِ منعِ صرف درون باشد۔ و اسبابِ منعِ صرف نو است: عدل و وصف و تأنیث و معرفہ و عُجْمَہ و جمع و ترکیب و وزنِ فعل و الف و نونِ مزیدتان۔ اب منصرف اور غیرمنصرف کا بیان کرنے لگے ہیں۔ منصرف اور غیرمنصرف کے بارے میں آپ پہلے بھی پڑھ چکے ہیں جہاں وہ اعراب کے اعتبار سے اسم کی سولہ قسمیں آئی تھیں سولہ قسمیں وہاں غیرمنصرف کا بیان آیا تھا اور انہوں نے اسبابِ منعِ صرف بھی آپ کو گنوائے تھے کہ اسبابِ منعِ صرف نو ہیں بھئی۔ یہ نو اسباب ہر وقت آپ کو یاد ہونے چاہیے، وہ نو اسباب کون کون سے ہیں؟ عدل، وصف، تأنیث، معرفہ، عُجْمَہ، جمع، ترکیب، وزنِ فعل اور الف و نونِ زائدتان بھئی۔ یہ الف و نون مزیدتان کہہ لیں یا الف و نون زائدتان کہہ لیں، ایک ہی بات ہے۔ تو یہ اسبابِ منعِ صرف ہیں بھئی۔ یاد رکھو ان میں سے ان میں سے جو جمع ہے، جمع کے اندر جمع منتہی الجموع کا صیغہ جو ہے جمع منتہی الجموع کا صیغہ وہ سبب بنتا ہے غیرانصراف کا۔ ہر جمع غیرانصراف کا سبب نہیں بنتی۔ کتاب کی جمع ہے کتب تو کتب کا وزن کیا؟ فعول، یہ وزن سبب نہیں، یہ کتب بھی جمع ہے لیکن یہ غیرانصراف کا سبب نہیں ہے۔ اسی طرح قلم کی جمع ہے اقلام، یہ اقلام بھی غیرانصراف کا سبب نہیں۔ جمع سے مراد ہے جمع منتہی الجموع۔ جمع منتہی الجموع کا خاص وزن ہے بھئی اور وہ یہ کہ الفِ جمع کے بعد دو حرف آجائیں یا تین حرف آجائیں یا ایک حرف آئے لیکن مَّشدد ہو، مَّشدد ہو۔ جیسے مسجد کی جمع ہے مساجد دیکھو مساجد، یہ جمع ہے کس کی؟ مسجد کی اور مساجد کے درمیان الف ہے۔ مسجد میں الف تھا؟ نہیں۔ تو یہ جو الف ہے یہ الفِ جمع والا ہے اس کو الفِ جمع کہتے ہیں کہ جمع کی وجہ سے لانا پڑا۔ تو مسجد کی جمع مساجد اور مساجد اس میں الفِ جمع آیا اور الفِ جمع کے بعد کتنے حروف ہیں؟ دو حروف ہیں، جیم اور دال۔ تو یہ یہ ہے جمع منتہی الجموع کا وزن۔ یا اسی طرح تین حروف ہوں، جیسے مصباح بھئی صا کے ساتھ۔ مصباح چراغ کو کہتے ہیں اور مصباح کی جمع ہے مصابیح بھئی۔ مصباح میں ص اور با کے درمیان توجہ ہے مصباح ص اور با کے درمیان کوئی الف ہے؟ ہاں؟ ص اور با کے درمیان کوئی الف ہے؟ نہیں۔ با کے با تو الف ہے لیکن با سے پہلے الف نہیں۔ لیکن مصابیح یہاں دیکھو ص اور با کے درمیان الف آگیا۔ معلوم ہوا یہ کون سا الف ہے؟ الفِ جمع ہے۔ یہ مفرد میں تو نہیں تھا یہاں آگیا۔ ہے تو مصابیح میں یہ الف الف جمع ہے اور اس الف کے بعد تین حروف ہیں با یا اور حا تو یہ بھی کیا ہے جمع منتہل جموع کا وزن ہے یا الف جمع کے بعد ایک حرف ہو لیکن لیکن وہ مشدد ہونا چاہیے اور حرف مشدد بھی دراصل دو حروف ہوتے ہیں جیسے دابۃ دابۃ کی جمع آتی ہے دواب دال واو الف اور با مشدد ہے تو یہ الف جمع کا ہے اور با مشدد ہے اور با مشدد بھی کتنے حروف کے درجے میں ہے؟ دو تو گویا دو حروف آ گئے الف جمع کے بعد تو حاصل کلام یہ کہ اسباب منع صرف میں جمع سے مراد کون سا صیغہ ہے؟ جمع منتہل جموع پھر دہرائو کون سا صیغہ؟ جمع منتہل جموع کا صیغہ ہے اور جمع منتہل جموع کا صیغہ کون سا ہوتا ہے؟ کہ الف جمع کے بعد دو حرف آ جائیں یا تین حرف آ جائیں یا ایک حرف آئے لیکن وہ مشدد ہو اور یہ یاد رکھو یہ غیر انصراف کا سبب بنے گا یہ وزن جس لفظ میں یہ وزن آ جائے گا اسکو غیر منصرف پڑھیں گے اور یہ دو سببوں کے قائم مقام ہیں یہاں اب دوسرا سبب دیکھنے کی ضرورت نہیں جہاں یہ وزن آ جائے وہ خود ہی دو سببوں کے قائم مقام ہے تو معلوم ہوا مساجد اس میں یہ وزن آ گیا تو یہ کیا ہے؟ غیر منصرف ہے کیونکہ اس میں جمع منتہل جموع کا وزن آیا اور جمع منتہل جموع کا وزن دو سببوں کے قائم مقام ہے یعنی یہ دو سببوں کی طرح ہیں غیر منصرف کسے کہتے ہیں؟ جس میں دو اسباب منع صرف ہوں یا ایک سبب ایسا ہو جو دو کے قائم مقام تو یہاں یہ مساجد یہ جمع منتہل جموع کا وزن ہے اور یہ سبب دو سببوں کے قائم مقام ہے لہذا یہ سبب جب آ گیا اب یہ مساجد کا لفظ غیر منصرف ہے اس میں کوئی دوسرا سبب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں اور غیر منصرف کا حکم آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی۔ كسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین تنوین بھی نہیں آتی۔ مثلا جاءني عمر یہ عمر کا لفظ غیر منصرف ہے اور دیکھو اس پر تنوین نہیں جاءني زيد زيد کو میں ذکر کروں تو اس پر تنوین آتی ہے جاءني زيد زيد فاعل ہے نا اور فاعل پر رفع آتا ہے تو ساتھ تنوین بھی آئے گی جاءني زيد میرے پاس زید آیا لیکن جب یہی لفظ عمر میں اس کو فاعل بناؤں جاءني عمر اب تنوین نہیں عمر تنوین نہیں آئے گی کیونکہ عمر کا لفظ کیا ہے؟ غیر منصرف اور غیر منصرف پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی۔ كسرہ بھی نہیں آتا بھئی اس پر جر بھی فتحہ کی صورت میں آتا ہے۔ جاءني عمر یہ فاعل ہے مرفوع ہے رأيت عمرا یہ منصوب ہے یہ مفعول بہ ہے اور مررت بعمرا دیکھو یہ عمر پر با جارہ داخل ہے اور با جارہ کیا کرتی ہے؟ جر دیتی ہے تو اس نے جر دیا عمر کو تو عمرا بعمرا اب آپ سے کوئی پوچھے کہ عمر کا لفظ اس کا اعراب کیا ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ مجرور ہے جی مجرور ہے بھئی جس لفظ پر حرف جر داخل ہو جائے آنکھیں بند کر کے بتا دیا کریں کہ یہ مجرور ہے کیونکہ حرف جر جر دیتا ہے ہاں پھر جر کی صورتیں مختلف ہیں کبھی جر لفظاً آتا ہے کبھی جر تقدیرًا آتا ہے اور کبھی جر محلاً آتا ہے جر لفظاً آئے گا مررت بزید دیکھو زید پر آپ کو جر تلفظ میں معلوم ہو رہا ہے نظر آ رہا ہے اور کبھی جر تقدیرًا آتا ہے مررت بموسیٰ یہ موسیٰ کیا ہے؟ اس کے آخر میں تو الف مقصورہ ہے اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیدی ہوتا ہے لہذا اس پر جر تقدیرًا ہوگا بھئی تقدیرًا ہوگا۔ تو مررت بموسیٰ یہ موسیٰ پر جر کیا ہے؟ تقدیرًا تو جر کبھی کبھار لفظاً آتا ہے اور کبھی تقدیرًا اور اگر مبنی ہو پھر جر کیسے آتا ہے؟ محلاً آتا ہے۔ مررت بہذا یہ ھذا کیا ہے؟ اس میں اشارہ ہے مبنی ہے اور مبنی پر اعراب کیسے آتا ہے؟ محلاً تو مررت بہذا یہ ھذا کیا ہوگا؟ مجرور محلاً ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی مررت بزید یہ زید کیا ہے؟ مجرور لفظاً پھر دہرائیں مررت بزید یہ زید کیا ہے؟ مجرور لفظاً مررت بموسیٰ یہ موسیٰ مجرور ہے تقدیرًا اور مررت بہذا یہ ھذا مجرور ہے محلاً بھئی۔ اب مجھے بتائیے بھئی یہ میں نے تفصیل دوبارہ بیان کی جاءني عمر یہ عمر کیا ہے؟ مرفوع اس پر تنوین کیوں نہیں آئی؟ کیونکہ غیر کیونکہ یہ غیر منصرف ہے رأيت عمرا اس پر تنوین کیوں نہیں آئی؟ غیر منصرف ہے اور مررت بعمرا جی اس عمرا کا اس پر با جارہ داخل ہے اس کا اعراب بتائیے مجھے مجرور مجرور ہے کون سا مجرور ہے یہ لفظاً جی ہاں شاباش مجرور لفظاً ہے آپ یہ نہ کہیں کہ جر تو نظر نہیں آ رہا نہیں بھئی یہ اس پر جو فتحہ آ رہا ہے یہ جر ہی ہے اس کا جر آتا ہی کس شکل میں ہے؟ فتحہ کی صورت میں اور آپ اس فتحہ پر تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے مررت بعمرا دیکھو میں فتحہ پر تلفظ کر رہا ہوں تو اس کا جر آتا ہی کس شکل میں ہے؟ فتحہ کی صورت میں تو یہ مجرور لفظاً ہے تو غیر منصرف کا حکم کیا ہوا؟ اس پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی۔ بات چل رہی تھی جمع منتہل جموع کی جمع منتہل جموع کا صیغہ یہ کتنے سببوں کے قائم مقام؟ دو سببوں کے لہذا مسجد کی جمع مساجد آئی کون سا صیغہ ہے یہ؟ جمع منتہل جموع کا لہذا یہ غیر منصرف ہوگا کیونکہ جمع منتہل جموع دو سببوں کے قائم مقام ہے لہذا اب اس پر تنوین نہیں آئے گی مساجد مساجد تنوین کے ساتھ آپ نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح مصابیح یہ بھی غیر منصرف ہے اس پر بھی تنوین نہیں آئے گی اور دوابب دیکھو اس پر بھی تنوین نہیں آئے گی اور نیز ان کا جر بھی کس صورت میں آئے گا؟ فتحہ کی صورت میں مثلا مساجد اگر یہ مجرور ہوتا تو کیسے پڑھتے؟ مساجدا مساجدا یہ اس کا جر ہے اس کا جر آتا ہی کس شکل میں ہے؟ فتحہ کی صورت میں تو یہ کون سا مجرور ہوا مجرور کیونکہ اس کے جر پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ اسی طرح مصابیح حالت رفعی میں حالت نصبی میں کیسے کہیں گے؟ مصابیحہ اور حالت جری میں کیسے کہیں گے؟ مصابیحہ دیکھو جر جو ہے وہ فتحہ کی صورت میں ہی آئے گا۔ حاصل کلام کیا ہوا کہ جمع منتہل جموع کا صیغہ دو سببوں کے قائم مقام ہے اور یہ جس لفظ میں آ جائے وہ لفظ غیر منصرف بن جاتا ہے اور غیر منصرف پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی۔ اسی طرح دو اور سبب ہیں وہ بھی دو دو کے قائم مقام ہیں۔ ایک تانیث بلف مقصورہ اور ایک تانیث بلف ممدودہ آپ نے پڑھا تھا کہ مؤنث کسے کہتے ہیں؟ جس میں کوئی تانیث والی علامت ہو اور تانیث کی علامتیں چار ہیں ایک کیا ہے؟ گول تا جیسے طلحۃ طلحۃ اس میں دیکھو گول تا ہے بھئی گول تا اور یہ تانیث کی علامت یہ نام تو بیشک مذکر کا ہے لیکن تانیث والی علامت گول تا اس لفظ میں موجود ہے۔ اور دوسری علامت کیا تھی؟ الف مقصورہ جیسے حبلیٰ کسی اسم کے آخر میں تانیث کی وجہ سے جو الف ملا دیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ الف مقصورہ اور ایک دوسرا ہے الف ممدودہ جیسے حمراءو احمر کا معنی ہوتا ہے سرخ اور اسی کی مؤنث کیا؟ حمراءو تو حمراءو یہ بھی کیا ہے مؤنث اور اس میں تانیث کی کون سی علامت ہے؟ الف ممدودہ حبلیٰ بھی مؤنث وہ اس میں تانیث کی کون سی علامت ہے؟ الف مقصورہ تو یہ جو تانیث کی دو علامتیں ہیں الف مقصورہ اور الف ممدودہ یہ بھی دو سببوں کے قائم مقام ہیں۔ الف مقصورہ تانیث والا جس لفظ میں آ جائے تو یہ دو سببوں کے قائم مقام ہے یہ سبب لہذا وہ لفظ غیر منصرف ہوگا غیر منصرف دوسرا سبب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح یہ تانیث والا الف ممدودہ جس لفظ کے اندر آ جائے وہ بھی غیر منصرف ہوگا وہاں دوسرا کوئی سبب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو دو سببوں کے قائم مقام گویا تین اسبابِ منع صرف ہیں۔ کون کون سے؟ ایک جمع منتہل اور ایک جمع منتہل جموع اور ایک تانیث بلف مقصورہ اور ایک تانیث بلف ممدودہ یہ تین دو دو سببوں کے قائم مقام ہیں۔ تو یہ جن میں آ جائیں وہ غیر منصرف ہوں گے وہاں دوسرا سبب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں جبکہ باقی اسباب وہ اکیلے آئیں تو لفظ کو غیر منصرف نہیں بنائیں گے کیونکہ ایک سبب کی وجہ سے لفظ غیر منصرف نہیں بنتا بلکہ کم از کم کتنے سبب چاہئیں؟ دو سبب توجہ ہے ایک سبب غیر انصراف والا کسی لفظ میں آ جائے تو وہ غیر منصرف نہیں بنے گا بلکہ کم از کم دو سبب ہوں تو غیر منصرف وہ ہے جس میں جس میں غیر انصراف والے دو سبب آ جائیں یا کوئی ایک ایسا سبب آ جائے جو دو کے قائم مقام ہے۔ معلوم ہوا جس لفظ میں غیر انصراف کا کوئی ایک بھی سبب نہ ہو وہ بھی منصرف توجہ ہے؟ دو سبب ہوں گے پھر تو کیا بنے گا؟ غیر منصرف اگر دو سبب نہیں ہے کسی لفظ میں یعنی ایک بھی نہیں ہے تو وہ کیا ہوگا؟ وہ ظاہر سی بات ہے منصرف ہوگا اور اگر ایک ہو پھر بھی منصرف توجہ نہیں میرا خیال ہے۔ غیر منصرف کسے کہتے ہیں؟ جس میں دو سبب ہوں غیر انصراف والے یا کوئی ایک ہو جو دو کے قائم مقام ہو اور جو ایسا نہ ہو وہ منصرف ہوگا جو ایسا نہ ہو وہ منصرف لہذا ایک لفظ ہے اس میں غیر انصراف والا ایک بھی سبب نہیں ہے تو اس کو آپ کیا کہیں گے؟ اس کو منصرف کہیں گے جب غیر منصرف نہیں ہے تو دوسری بات کیا رہ گئی وہ کیا ہوگا؟ منصرف ہوگا منصرف ہوگا اور اگر ایک سبب پایا گیا تو بھی وہ کیا ہوگا؟ منصرف کیونکہ غیر منصرف کے لیے دو سبب ہونا ضروری تو لہذا کوئی لفظ ایسا ہے جس میں غیر انصراف کا ایک بھی سبب نہیں ہے آپ اس کو کیا کہیں گے؟ منصرف یا سبب تو ہے لیکن صرف ایک ہے دو سبب نہیں ہیں اس کو بھی آپ کیا کہیں گے؟ منصرف کہیں گے بات سمجھ میں آگئی اتنی لمبی تقریر میں نے کی دراصل سمجھانا یہ چاہتا تھا کہ صاحب کتاب نے جو تقریر کی ہے معلوم ہوتا ہے اس میں کوئی کتابت کی غلطی ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے کیا کہا دیکھو ذرا کتاب پر کہتے ہیں فصل دوم در بیانِ منصرف و غیر منصرف دوسری فصل ہے منصرف اور غیر منصرف کے بیان میں (یعنی اس میں منصرف اور غیر منصرف کا بیان ہوگا) اب منصرف کی پہلے تعریف کر رہے ہیں منصرف آنست منصرف وہ ہے کہ ہیچ سبب از اسبابِ منع صرف درو نباشد کہ ہیچ سبب کہ کوئی سبب از اسبابِ منع صرف منع صرف کے اسباب میں سے کہ ہیچ سبب از اسبابِ منع صرف منع صرف کے اسباب میں سے کوئی سبب درو نباشد وہ اس کے اندر نہ ہو توجہ ہے؟ منصرف کسے کہتے ہیں؟ جس میں غیر انصراف کے اسباب میں سے کوئی سبب نہ ہو حالانکہ ابھی میں نے بتایا کہ جس میں کوئی سبب نہ ہو وہ بھی منصرف جس میں ایک سبب ہو وہ بھی منصرف لیکن یہ تو کیا کہہ رہے ہیں کہ جس میں کوئی سبب نہ ہو وہ منصرف ہے تو جس میں ایک سبب ہو وہ بھی تو منصرف ہوتا ہے اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے معلوم ہوا یہ یہ کہ کتابت کی غلطی ہوئی ہے کہ یہ پہلے زمانے میں کتابیں طلبہ ہاتھ سے لکھتے تھے تو کسی نے کتابت کرتے ہوئے یہ جو ہیچ کا لفظ آیا نا یہاں دو کا لفظ ہونا چاہیے دو یوں تعریف کریں منصرف آنست کہ دو سبب از اسبابِ منع صرف درو نباشد کہ منصرف وہ ہے کہ جس کے اندر اسبابِ منع صرف کے دو سبب نہ ہوں توجہ ہے؟ ہیچ کی جگہ کیا ہونا چاہیے؟ دو دو تو یہ ہیچ کو کاٹنا نہیں ہے کاٹنا نہیں ہے بس اس کے اوپر نشان ہلکا سا لگا کر کنا پر دو لکھیں بھئی خرابی سمجھ میں آگئی انہوں نے کیا کہا کہ منصرف کسے کہتے ہیں؟ جس میں کوئی بھی سبب نہ ہو حالانکہ جس میں ایک سبب ہو وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ منصرف ہوتا ہے وہ داخل نہیں ہو رہا تھا تو لہذا ہیچ کے لفظ کی بجائے اگر کیا ہو؟ دو کا لفظ ہو تو پھر بات ٹھیک بن جاتی ہے معلوم ہوا یہ کسی لکھنے والے سے غلطی ہوئی ہے اور وہ جیسے غلطی ایک دفعہ ہوتی تھی پھر وہ چلتی رہتی تھی یہ نہیں کہ اس کو کوئی ٹھیک کر لیتا تھا وجہ یہ کہ اگر ہر آدمی کہے بھئی یہ بھی غلطی لگ رہی ہے اس کو ٹھیک کرو دوسرا کہے گا یہ غلطی لگ رہی ہے اس کو بھی ٹھیک کرو چاہے خود غلطی میں مبتلا ہو لیکن کتاب کا تو حلیہ ہی بدل جائے گا بھئی کچھ عرصے میں ہی لہذا جس طرح کتابیں نقل ہوتی چلی آئیں یہ امانت کے درجے میں ہیں اس کو اسی طرح اگلی نسلوں کو منتقل کیا جاتا ہے البتہ کنا ر پر یا حاشیے پر علماء پھر لکھ دیتے ہیں کہ یہاں یہ لفظ جڑتا نہیں ہے معلوم ہوا کسی لکھنے والے سے غلطی ہوئی ہے تو منصرف کسے کہتے ہیں؟ جس کے اندر دو اسبابِ منع صرف نہ ہوں جب دو نہیں ہیں تو چاہے ایک ہو چاہے ایک بھی نہ ہو دونوں کیا ہوگئے؟ منصرف ہوگئے بات سمجھ میں آگئی دیکھیے بھئی کہتے ہیں منصرف آنست منصرف وہ ہے کہ دو سبب از اسبابِ منع صرف درو نباشد کہ دو سبب اسبابِ منع صرف میں سے درو نباشد اس میں نہ ہوں اور ایک سبب ہو دو کے قائم مقام۔ ایک سبب دو کے قائم مقام اس کو ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ ایک بھی کتنے کے قائم مقام ہے؟ دو کے قائم مقام ہے تو حقیقت میں تو دو نہیں لیکن حکم کے اعتبار سے وہ بھی کیا ہیں؟ دو ہی ہیں تو اس لیے ان کو دو کا جب ذکر کر دیا تو اس کو علیحدہ ذکر نہیں کیا۔ غیر منصرف آنست اور غیر منصرف وہ ہے کہ دو سبب از اسبابِ منع صرف درو باشد کہ دو سبب از اسبابِ منع صرف کہ منع صرف کے اسباب میں سے دو سبب درو باشد اس میں ہوں و اسبابِ منع صرف نہ ہست اور اسبابِ منع صرف نو ہیں عدل و وصف و تانیث و معرفہ و عجمہ و جمع و ترکیب و وزن فعل و الف و نون مزیدتان یہ اسبابِ منع صرف انہوں نے آپ کو بتلایا کہ نو ہیں بھئی عدل وصف تانیث معرفہ عجمہ جمع ترکیب وزن فعل اور الف نون مزیدتان ان پر نظر رکھیں ایک ایک کو میں بیان کرتا ہوں بھئی عدل پہلا سبب ہے عدل عدل بھئی مختصر مختصر میں بیان کرتا ہوں تفصیل نہیں بیان کروں گا تفصیل اگلی کتابوں میں اجائے گی مختصراً تھوڑا تھوڑا تعارف ان کا عدل اس کو کہتے ہیں کہ عدل کا معنی ہے پھیرنا پھیرنا بدلنا لفظ کو ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف بدلنا لفظ کو ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف پھیرنا اس کو کیا کہتے ہیں؟ عدل کہتے ہیں عدل اور یہ یاد رکھو یہ کوئی ضابطہ اور قانون نہیں ہوتا خلاف قانون کیا کر لیا جاتا ہے؟ ایک لفظ کو دوسری صورت کی طرف بدل دیا جاتا ہے بدل دیا جاتا ہے پھر یاد رکھو یہ جو بدلنا ہے یہ دو طرح پر ہے ایک کو عدل تحقیقی کہتے ہیں ایک کو عدل تقدیدی کیا کہتے ہیں؟ عدل تحقیقی اور عدل تقدیدی عدل کا کیا معنی؟ پھیرنا اور بدلنا یعنی ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف لفظ کو پھیر دینا بدل دینا اور یہ دو قسم پر ہے ایک عدل تحقیقی اور ایک عدل تقدیدی عدل تحقیقی یہ ہے کہ ایک لفظ کو دوسرے لفظ کی طرف پھیرا گیا ہے اور ہمارے پاس دلیل بھی موجود ہے ہمارے پاس دلیل بھی کوئی موجود ہو جو بتلائے کہ اس لفظ کی اصل صورت یہ تھی اور اس کو پھیرا گیا ہے اس شکل کی طرف اور عدل تقدیدی وہ ہے تقدیر قدر یقدر تقدیر کا معنی فرض کر لینا جہاں عدل کو فرض کر لیا گیا مان لیا گیا ہمارے پاس دلیل کوئی نہیں موجود نحوی حضرات کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ پہلے صورت یہ تھی اور پھر پھیر کر یہ بنا دی گئی لیکن بس وہ مان لیتے ہیں فرض کر لیتے ہیں کیا کر لیتے ہیں؟ فرض کر لیتے ہیں تو عدل تحقیقی کسے کہتے ہیں؟ جس میں عدل پر کوئی دلیل موجود ہو اور عدل تقدیدی کسے کہتے ہیں؟ جس میں عدل پر کوئی دلیل موجود نہ ہو دیکھو مثالوں سے اور وضاحت ہوگی جیسے عمر ابھی میں نے بتلایا عمر کا لفظ کیا ہے؟ غیر منصرف ہے غیر منصرف ہے اس میں دو سبب کیا؟ ایک عدل ہے اور ایک علم ہے نام ہے معرفہ ہے معرفہ ہے تو دو سبب کیا ہوگئے؟ بھئی معرفہ کی کئی قسمیں ہیں نا ان میں سے صرف علم جو نام ہے جو زید عمر بکر جو نام ہے یہ سبب بنتا ہے غیر انصراف کا تو عمر میں کون سا دو سبب ایک تو یہ نام ہے علم ہے دوسرا سبب کیا؟ عدل ہے اور یاد رکھو یہ عدل تقدیدی ہے عدل تقدیدی کا کیا معنی؟ فرض کر لیں اس میں عدل ہے فرض کر لیں عدل ہے اور یہ اصل میں تھا عامر عامر اور پھر بدل دیا گیا کیا بنا دیا گیا؟ عمر تو دیکھو پہلے عامر وزن تھا اب عمر بن بالکل صورت بدل گئی تو دیکھو اس کو کہتے ہیں عدل ایک صورت سے صیغے کو پھیر دیا گیا دوسرے دوسری صورت کی طرف اور کیا دلیل ہے؟ دلیل کوئی موجود نہیں دلیل کوئی موجود نہیں کوئی دلیل موجود نہیں تو یہ عدل تقدیدی ہے بھئی جب دلیل کوئی موجود نہیں تو پھر کیسے مان لیا کہ یہاں پہلے عام پہلے یہ عامر تھا اور پھر کیا بن گیا؟ عمر تو جواب یہ نحوی حضرات کو نے قانون بنا دیا کہ غیر منصرف وہی لفظ ہوگا جس میں دو سبب پائے جائیں یا ایک ایسا سبب ہو جو دو کے قائم مقام ہو ضابطہ کیا بنایا؟ غیر منصرف کون سا لفظ ہوگا؟ جس میں دو سبب ہوں یا کوئی ایک سبب ہو جو دو کے قائم مقام ہو انہوں نے یہ ضابطہ بنایا بھئی کتنی محنت کی ہوگی کتنا سوچا ہوگا اور پھر یہ ضابطہ اور قانون بنا دیا اور یہ اسباب بھی جمع کیے اور پھر یہ قانون عربی کے الفاظ پر دیکھنا شروع کیا یہ قانون اپنی طرف سے نہیں کہ ہم دو سبب ہیں اب اس کو کیا پڑھو غیر منصرف پڑھو نہیں نہیں اصل سننا عرب سے ہی ہے کہ عرب کس لفظ کو غیر منصرف کے طور پر پڑھتے ہیں یعنی کسرہ اور تنوین نہیں لاتے اور کس پر وہ کسرہ اور تنوین لاتے ہیں چنانچہ پوری عربی زبان میں غور کیا بات سمجھ میں ارہی ہے یہ قوانین کس کے لیے بنا رہے تھے؟ عربی زبان کے لیے عربی زبان کے لیے اور یہ نہیں کہ یہ قانون بنا دیے اب زبان کو تبدیل کرو ان قوانین کے مطابق پڑھو نہیں نہیں نہیں زبان اسی طرح ہے اس کے لیے قانون ایسا بنا دو کہ وہ ضابطے کے تحت اجائے چنانچہ انہوں نے قانون بنایا کہ یہ بعض الفاظ کو عرب غیر منصرف پڑھتے ہیں اس پر کسرہ بھی نہیں پڑھتے اور تنوین بھی نہیں انہوں نے غور کیا یہ کیوں ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ آخر غور کرتے کرتے کرتے انہوں نے یہ نو اسباب صرف جمع کیے اور کہا کہ یہ نو اسباب صرف ہیں ان میں سے جو دو یا ان میں سے کوئی ایک جو دو کے قائم مقام ہے جب وہ کسی لفظ میں اجائے تو عرب اس سے ہم نے سنا ہے وہ اس لفظ کو غیر منصرف پڑھتے ہیں چنانچہ انہوں نے پوری عربی زبان کے الفاظ دیکھنا شروع کیے ہر ہر جگہ پر یہ قانون درست بنتا جا رہا ہے بھئی جہاں بھی عربوں نے کسی لفظ کو غیر منصرف پڑھا ہے اس میں دو سبب ہوگئے کبھی کوئی دو ملتے ہیں کبھی دوسرے دو ملتے ہیں کبھی اور دو ملتے ہیں لیکن ہوتے دو سبب ضرور ہیں اور جس لفظ میں دو سبب ہوتے ہیں عرب اس کو ہمیشہ کیا پڑھتے ہیں؟ غیر منصرف عربوں کو خود نہیں پتہ کہ اس میں دو سبب ہیں یا نہیں ان کی تو زبان ہے وہ بولتے ہی اسی طرح ہیں لیکن بعض الفاظوں پر وہ کسرہ اور تنوین نہیں پڑھتے اور بعضوں پر کسرہ اور تنوین پڑھتے ہیں پھر نحویوں نے جس پر کسرہ اور تنوین نہیں پڑھتے اس کا نام غیر منصرف رکھ دیا۔ عربوں کے سامنے غیر منصرف کہو گے ان کو کچھ پتہ نہیں غیر منصرف کیا چیز ہے لیکن ان کی عادت ہے ان کی زبان ہے وہ کچھ لفظوں پر کسرہ اور تنوین پڑھتے ہیں اور کچھ پر کسرہ اور تنوین جن پر کسرہ اور تنوین نہیں پڑھتے نحویوں نے اس کا نام غیر منصرف رکھا اور پھر غور کیا کہ یہ کیوں نہیں پڑھتے کسرہ اور تنوین تو انہوں نے یہ اسباب جمع کیے مختلف لفظوں میں غور کرتے کرتے یہ نو اسباب انہوں نے جمع کیے اور پھر اس کے بعد مختلف عربی کے الفاظ دیکھنا شروع کیے دیکھا بہترین قانون بن گیا ہے ساری عربی کے الفاظ جس جس کو عرب غیر منصرف پڑھتے ہیں جب نحوی اس میں غور کرتے تو دو سبب مل جاتے پھر دوسرا لفظ لائے اس کو بھی عرب غیر منصرف پڑھتے ہیں کسرہ اور تنوین اس پر نہیں پڑھتے اس میں غور کرتے تو اس میں بھی دو سبب مل جاتے لیکن بعض لفظ ایسے ملے کہ جن میں ایک سبب تھا اور عرب پھر بھی اس کو کیا پڑھ رہے ہیں؟ غیر منصرف توجہ ہے جیسے عمر کا لفظ عمر کے لفظ کو عرب غیر منصرف پڑھتے ہیں کبھی بھی اس پر کسرہ بھی نہیں پڑھتے اور تنوین بھی نہیں پڑھتے نحویوں نے بہت غور کیا لیکن کوئی دوسرا سبب مل ہی نہیں رہا ایک علم تو ہے اس کے اندر دوسرا سبب نہیں مل رہا تو پھر اپنے قانون کو بچانے کے لیے انہوں نے کیا کہا اس میں عدل کو فرض کر لو اس میں کیا ہوا ہے؟ عدل ہوا ہے اور تو یہ ہے عدل تقدیدی تو کہتے ہیں فرض کر لو یہ عمر پہلے کیا تھا؟ عامر تھا یہ خود ہی فرض کر لیا یہ نہیں کہ عربی میں ایسا تھا نہیں کہ یہ عمر پہلے کیا تھا؟ عامر پھر اس کی صورت بدل کر کیا بنا دی؟ عمر تو اس میں عدل ہے اب دیکھو قانون بچ گیا دو سبب آگئے ایک علم دوسرا عدل اور عدل کون سا؟ تقدیدی ہے اور عدل تقدیدی کسے کہتے ہیں؟ جس کے جس کے پاس فرض کر لیا یعنی جس کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں اور کیوں فرض کیا؟ اپنے قانون کو بچانے کے لیے قانون کیا بنایا تھا؟ کہ کوئی لفظ غیر منصرف عربوں نے پڑھا ہے اس میں دو سببوں میں سے کوئی نہ کوئی دو سبب ہوں گے یا ایک ایسا سبب ہوگا جو دو کے قائم مقام ہوگا تو چنانچہ اس میں عدل کو فرض کر لیا اور ایسا خوبصورت قانون بن گیا اب آپ پوری عربی اٹھا کر دیکھ لیں آپ دیکھیں گے جو بھی لفظ عرب غیر منصرف کے طور پر پڑھتے ہیں یعنی اس پر کسرہ اور تنوین نہیں پڑھتے تو وہاں غیر انصراف کے کوئی سے دو سبب ملیں گے یا کوئی ایک سبب ملے گا جو دو کے قائم مقام ہوگا بات سمجھ میں آگئی تو یہ عمر کا لفظ اس میں ایک سبب کیا؟ علم دوسرا سبب عدل اور عدل کی کوئی دلیل ہے؟ نہیں معلوم ہو یہ کون سا عدل ہے؟ عدل تقدیدی ہے اور ایک عدل تحقیقی ہے بھئی عدل تحقیقی وہ ہے جس کی ہمارے پاس دلیل موجود ہو جیسے ثلاثو اور مثلثو ثلاثو کا معنی ہے تین تین مثلثو کا معنی بھی ہے تین تین یہ ثلاثہ سے بنے ہیں مادہ کیا ہے؟ ثلاثہ তো ثلاثو اس کا معنی کیا؟ دو دفعہ بولیں تین تین ایک نہیں ویسے تو ثلاثہ کا معنی تین لیکن ثلاثو کا معنی ہے تین تین دو دفعہ تین بولنا پڑتا ہے مثلثو کا معنی بھی ہے تین تین دو دفعہ تین بولنا پڑتا ہے حالانکہ ایک لفظ کا ایک معنی ہوتا ہے یا دو معنی ہوتے ہیں؟ ایک معنی ثلاثہ کا کیا معنی؟ تین اربعہ کا کیا معنی؟ چار لیکن ثلاثو اور مثلثو میں آپ تین تین دو دفعہ بول رہے ہیں تو یہ دلیل ہے معلوم ہوا یہ پہلے دو لفظ تھے کیا تھے؟ دو لفظ ایک لفظ ہو تو اس کا ایک معنی ہوتا ہے لیکن آپ تین تین دو دفعہ بول رہے ہیں معلوم ہوا دو معنی ہیں ایک ہی لفظ کے اور ایک ہی لفظ کے دو معنی تو نہیں ہوتے معلوم ہوا یہ پہلے لفظ بھی دو تھے معلوم ہوا یہ ثلاثو اور مثلثو یا صرف ایک پہلے بول لیں ثلاثو پہلے ثلاثۃ ثلاثۃ تھا ثلاثۃ ثلاثۃ ترجمہ کریں تین تین دیکھا اب دو معنی آگئے دو لفظ ہیں تو معنی بھی کتنے؟ دو پھر اس ثلاثۃ ثلاثۃ کو نئی صورت دے دی اور ثلاثو بول دیا اور ایک اور صورت دے دی مثلثو بول دیا تو ثلاثو کا معنی بھی تین تین اور مثلثو کا معنی بھی تین تین اور یہ اصل میں کیا تھے؟ ثلاثۃ ثلاثۃ تھے اور کیا دلیل ہے آپ کے پاس؟ دلیل یہ ہے کہ اس کا معنی دو دفعہ ہے معنی دو دفعہ تبھی ہوتا ہے جب لفظ کیا ہو؟ دو دفعہ ہو معلوم ہوا یہ بھی کیا تھا پہلے دو لفظ تھے بھئی ثلاثۃ تھے تو بات سمجھ میں آگئی تو یہ ایک سے لے کر دس تک آتے ہیں اسی طرح بھئی تو یہ اسی طرح ہے ثلاثو رباعو خماسو سداسو اسی طرح تو عدل تحقیقی کسے کہتے ہیں؟ جس میں ہمارے پاس لفظ کو ایک صورت سے دوسری طرف پھیرنے کی کوئی دلیل موجود ہو اور عدل تقدیدی کسے کہتے ہیں؟ جس میں لفظ کو ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف بدلنے کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو تو عدل گزر گیا وصف وصف کا معنی ہے صفت بھئی وصف کا معنی صفت یہ صفت جو ہوتی ہے یہ بھی غیر انصراف کا سبب بنتی ہے جیسے احمر احمر احمر کیا ہے؟ سرخ اور سرخ صفت ہوتی ہے کوئی چیز سرخ ہے کوئی سبز ہے کوئی نیلی ہے تو یہ سبب بنے گی غیر انصراف کا تانیث بھئی تانیث بھی کیا ہے؟ غیر انصراف کا سبب بنے گی کوئی لفظ اگر مؤنث ہو تو یہ ایک سبب شمار ہوگا جیسے طلحۃ طلحۃ ایک تو علم ہے نام ہے اور دوسرا تانیث ہے تو یہ غیر منصرف ہوگا لہذا طلحۃ تنوین کے ساتھ نہیں پڑھیں گے بلکہ کیا پڑھیں گے؟ طلحۃ طلحۃ کسرہ بھی نہیں آئے گا اور تنوین بھی نہیں آئے گی یہ تو تانیث بلف تا ہے اسی طرح تانیث معنوی ہے تانیث معنوی کہ معنی کے اعتبار سے مؤنث ہو کسی مؤنث کا نام وغیرہ ہو تانیث معنوی تو تانیث کے اندر تانیث بلف تا یہ بھی غیر انصراف کا سبب اور ایک تانیث بلف الف مقصورہ ہے وہ دو سببوں کے قائم مقام اور اسی طرح تانیث بلف الف ممدودہ ہے وہ بھی دو سببوں کے قائم مقام ہے اس کے بعد معرفہ آیا معرفہ کی آپ نے سات قسمیں پڑھی تھیں بھئی سات قسمیں نمبر ایک ترتیب سے ضمیریں تمام ضمیریں نمبر دو علم نمبر تین اسم اشارہ نمبر چار اسم موصولہ نمبر پانچ معرفہ بداء نمبر چھ معرفہ بلام اور نمبر سات جو ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہو بھئی پھر دہرائیں معرفہ کی کتنی قسمیں؟ سات نمبر ایک تمام ضمیریں نمبر دو علم نمبر تین اسم اشارہ نمبر چار اسم موصولہ نمبر پانچ معرفہ بداء نمبر چھ معرفہ بلام نمبر سات ان میں سے کسی ایک کی طرف جو مضاف ہو بھئی تو یہ سات قسمیں ہیں معرفہ کی اور ان میں سے صرف جو علم ہے علم وہ غیر انصراف کا سبب بنتا ہے باقی قسمیں غیر انصراف کا سبب نہیں بنتی تو معرفہ سے یہاں کیا مراد ہے؟ علم مراد ہے و عجمہ عجمہ کہتے ہیں عجمی زبان کا لفظ ہو یعنی غیر عرب زبان کا عجمہ کا کیا معنی؟ غیر عربی لفظ ہو عربی زبان میں آگیا ہے لیکن یہ عربی زبان کا لفظ نہیں ہے جیسے اج کل آپ بھی دیکھتے ہیں اردو کے اندر انگریزی کے اور زبانوں کے الفاظ کثرت سے استعمال ہوتے ہیں تو اسی طرح عربی میں اگر غیر عربی لفظ اجائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کہ یہ عجمی لفظ ہے عجمی تو عجمہ کہتے ہیں غیر عربی لفظ ہو اور عربی زبان میں اجائے جمع اگلا سبب ہے جمع جمع میں نے بتایا کون سا صیغہ سبب بنے گا؟ جمع منتهل جموع اور اگلا سبب جو ہے وہ ہے ترکیب بھئی ترکیب देखो اگر آپ کو یاد ہو نحمیر کے بالکل آغاز میں انہوں نے بتلایا تھا کہ مرکب دو قسم پر ہے ایک مرکب مفید اور ایک مرکب غیر مفید تو وہاں انہوں نے بیان کیا تھا کہ مرکب غیر مفید تین قسم پر ہے ایک مرکب اضافی ہے ایک مرکب بنائی ہے اور ایک مرکب منع صرف ہے कितनी किस्में؟ तीन किस्में एक مرکب اضافی جو مضاف اور مضاف الیہ سے ملکر بنے ایک مرکبِ بینائی جیسے احد عشرہ اور یہاں پر یہ اصل میں تھا احاد و عشرون تو یہاں واؤ تھا وہ واؤ جو ہے اس کو حذف کر دیا اور ان دونوں لفظوں کو ملا کر جوڑ دیا اور یہ مبنی بن گیا سارا، احد عشرہ۔ اس کو اسی طرح پڑھنا ہے، اس پر کوئی اس میں آگے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی بھئی۔ اور تیسری قسم مرکب کی تھی مرکبِ منع صرف۔ مرکبِ منع صرف وہ تھا جہاں دو لفظوں کو جوڑ کر ایک لفظ بنا لیتے ہیں اور اس کو غیرمنصرف کی طرح استعمال کرتے ہیں جیسے بعلبکّہ۔ یہ بعل ایک بت کا نام تھا جس کی لوگ عبادت کیا کرتے تھے اور بکُّن بادشاہ کا نام تھا جس نے ایک شہر بسایا، تو اس شہر کا نام ہی اس بت اور بادشاہ کے نام کو ملا کر بعلبکّہ رکھ دیا گیا اور بعلبکّہ اب اس کو سارے کو جوڑ کر ایک لفظ بنا دیا تو اس کے آخر میں جب اب اعراب پڑھیں گے تو وہ غیرمنصرف والا پڑھیں گے بھئی۔ کیونکہ یہ ایک علم ہو گیا، نام ہے، شہر کا نام ہے، علم ہے اور دوسرا یہ مرکبِ منع صرف ہے تو یہاں ترکیب آگئی۔ ترکیب یعنی دو لفظوں کو جوڑا گیا ہے تو ایک علم اور ایک ترکیب یہ دو چیزیں اس میں جمع ہوگئیں۔ تو تو حالتِ رفع میں کہیں گے بعلبکُّ دیکھو تنوین نہیں ہے بھئی، غیرمنصرف ہے اور حالتِ نصبی میں کہیں گے بعلبکّہ اور حالتِ جری میں بھی کہیں گے بعلبکّہ۔ تو بعلبکّہ حالتِ جری میں، یہ جو اس پر فتحہ آ رہا ہے یہ جر ہی ہے بھئی۔ اس کے غیرمنصرف کا جر کس صورت میں آتا ہے؟ فتحہ کی صورت میں آتا ہے، تو یہ ہے ترکیب دیکھا ایک تو بعلبکّہ میں دو سبب کیا ہیں؟ ایک ایک علم ہے اور دوسرا ترکیب ہے دو لفظوں کو جوڑ کر ایک بنایا گیا ہے بھئی۔ اور اگلا سبب ہے وزنِ فعل بھئی۔ وزنِ فعل یعنی فعل والا وزن ہو اور اسم کے اندر آجائے تو یہ بھی سبب بنے گا غیر غیر انصراف کا، غیر انصراف کا۔ تو جیسے جیسے زُربی، کسی کا نام ہی مثلاً زُربی رکھ دیا گیا۔ اب دیکھو ایک تو یہ علم بن گیا اور دوسرا زُربی فُعِل فعل کا وزن آگیا تو یہ لفظ کیا بن جائے گا؟ غیرمنصرف ہوگا بھئی۔ و الف و نون مزیدتان، الف و نون مزیدتان یعنی الف اور نون ہوں اور زائد ہوں حروفِ اصلی نہ ہوں دیکھو مزیدتان یعنی زائدتان یہ دونوں کیا ہوں؟ زائد ہوں حروفِ اصلی نہ ہوں اگر حروفِ اصلی ہیں الف اور نون پھر وہ غیرانصراف کا سبب نہیں بنیں گے بلکہ کیا ضروری کہ دونوں زائد ہوں تو پھر یہ غیر انصراف کا سبب بنیں گے۔ جیسے عثمان بھئی۔ اب یہ نام ہے ایک علَمیت ہے اور ایک الف نون اس کے آخر میں زائد آرہا ہے۔ اس کا مادہ کیا ہے؟ ع، ف، اور م تو الف نون زائد ہیں حروفِ اصلی نہیں ہیں تو دو سبب آگئے ایک علم ہے اور ایک الف نون مزیدتان تو یہ غیرمنصرف ہے۔ تو یہ جو الف نون مزیدتان ہیں یہ بھی سبب بنتے ہیں غیر انصراف کا۔ دیکھیے کتاب پر کہتے ہیں بابِ منع صرف و نحوست۔ بابِ منع صرف نو ہیں بھئی۔ عدل، وصف، تانیس، معرفہ، عجمہ، جمع، ترکیب، وزنِ فعل اور الف و نون مزیدتان۔ چنانچہ در عمر و اب ہر ایک کی مثالیں ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں چنانچہ در عمر عَدل است و علَم۔ عمر میں کون سے دو سبب ہیں؟ عَدل است و علَم۔ عَدل ہے اور علَم۔ و در ثلاث و مثلث۔ صِفت است و عَدل۔ ثلاث و مثلث یہ بھی سبب بنتے ہیں غیر انصراف کا۔ اس میں کیا دو سبب؟ صِفت صِفت ہے تین تین بھئی کیا چیز ہے تین تین یہ کسی کی صِفت بنے گی اور روپے مثلاً آپ کسی کو کہتے ہیں کہ یہ یہ یہ تین تین روپے بچوں میں تقسیم کر دو دیکھا، تقسیم کے موقع پر اس طرح بولتے ہیں۔ یہ بچوں میں ہر بچے کو کتنے دینے ہیں؟ تین تین روپے تو کیسے کہیں گے؟ تین تین تین تین اردو میں کیسے کہیں گے؟ تین تین دیکھا بچوں میں تین تین تقسیم کر دیکھا بولتے ہی دو دفعہ ہیں تین تین روپے بچوں میں تقسیم کر۔ اگر صرف یوں کہیں بچوں میں تین تین روپے تقسیم کر دو دیکھو معنی ہی بدل جائے گا اس کا معنی صرف تین روپے تقسیم کرو اور تین تین تقسیم کر دو کیا معنی؟ ہر ایک کو تین تین دے دو۔ تو یہ ثلاث و مثلث صِفت بھی ہیں اور عَدل بھی ہے۔ عَدل کیا ہے؟ ثلاثۃ ثلاثۃ پہلے کیا تھا یہ؟ ثلاثۃ ثلاثۃ یعنی کون سا عدل ہے؟ عَدل تحقیقی۔ ہمارے پاس دلیل بھی موجود کیا دلیل؟ کہ معنی دو دفعہ ہے معلوم ہوا لفظ بھی اصل میں دو دفعہ تھا بھئی۔ تو ثلاث و مثلث میں صِفت اور عَدل ہے بھئی۔ تو ثلاث و مثلث میں صِفت ہے اور عَدل ہے۔ عَدل کون سا؟ عدلِ تحقیقی جس کی ہمارے پاس دلیل موجود ہے اور اور صِفت بھی ہے یہ کیونکہ اس کے ذریعے کسی چیز کی صِفت بیان کی جاتی ہے جیسے میں نے مثال بیان کی کہ آپ کہتے ہیں بچوں میں تین تین روپے تقسیم کر دو یا آپ کہتے ہیں طلبہ میں تین تین کتابیں تقسیم کر دو تو دیکھو یہ تین تین صِفت ہے کتابوں کی کہ کس طرح تقسیم کرنی ہے؟ تین تین بھئی۔ و در طلحہ تانیس است و علَم۔ اور طلحہ میں تانیس ہے اور علَم۔ طلحہ دیکھو نام بھی ہے اور تانیس بھی ہے کون سی تانیس ہے؟ گولتا ہے تو یہ دو سبب آگئے یہ غیرمنصرف ہے۔ و در زینب تانیس معنوی است و علَم۔ اور زینب یہ مؤنث کا نام ہے تو اس میں تانیسِ معنوی ہے و علَم اور علَم۔ تانیسِ معنوی یعنی لفظوں میں کوئی تانیس کی علامت نہیں۔ لیکن نام کس کا ہے؟ مؤنث ذات کا ہے تو یہ تانیسِ معنوی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ پھر دہرائیں۔ تانیسِ معنوی لفظوں میں کوئی تانیس کی علامت نہیں ہے لیکن نام کس کا ہے؟ مؤنث کا ہے تو یہ تانیسِ معنوی ہے بھئی۔ تو تانیس سبب بن رہی ہے اور علَم ہے نام بھی ہے تو دو سبب آگئے تو یہ غیرمنصرف ہے۔ و در حبلی تانیس است با الفِ مقصورہ۔ اور حبلی میں تانیس ہے کون سا؟ الفِ مقصورہ کے ساتھ جو ہے وہ تانیس وہ سبب ہے اور یہ کتنے سببوں کے قائم مقام؟ دو کے اس لیے یہاں دوسرا سبب ہی ذکر نہیں کیا۔ و در حمراء تانیس است با الفِ ممدودہ۔ اور حمراء میں تانیس ہے الفِ ممدودہ کے ساتھ تو وئی مؤنث بجاے دو سبب است اور یہ مؤنث دو سبب کی جگہ پر ہیں۔ ای مؤنث، یہ مؤنث جو ہیں بجاے دو سبب یہ دو سبب کی جگہ پر ہے بھئی۔ کون سے مؤنث؟ تانیس با الفِ مقصورہ اور تانیس با الفِ ممدودہ۔ و در ابراہیم عجمہ است و علَم۔ اور ابراہیمو کے اندر عجمہ ہے اور علَم ہے۔ علَم ہے، نام ہے اور عجمہ ہے یعنی عجمی زبان کا لفظ ہے، غیرعربی کا لفظ ہے۔ آپ کے ذہنوں میں سوال پیدا ہوگا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کا نام تو قرآن میں بھی آتا ہے اور قرآن تو عربی زبان میں ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اس میں نام آتا ہے تو ابراہیم یہ تو عربی نام ہے؟ نہیں بھئی۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام عربی زبان کے وجود میں آنے سے پہلے گزرے ہیں۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس وقت عربی زبان کا وجود بھی نہیں تھا عربی زبان اس کے بعد آہستہ آہستہ بنتی چلی گئی بھئی۔ جیسے یہ اردو ہے، یہ اردو آج سے تین سو سال پہلے اردو کا وجود نہیں تھا لیکن بادشاہوں کی فوج ہوتی تھی اس میں ترکی کے لوگ بھی ہوتے، اس میں ایران کے لوگ بھی ہوتے، اس میں عرب لوگ بھی ہوتے تھے اور تو یہ سارے لوگوں کے گھل مل کر رہنے سے وہ ہر ایک اپنی بات بیان کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی لفظ بولتا تھا۔ جب کسی کو زبان نہ آتی ہو آپ بات سمجھانے کے لیے کبھی اپنی زبان میں لفظ بولتے ہیں تو ہر تو چیزوں کے نام مختلف مشہور ہوتے چلے گئے سارے چونکہ مل کر رہتے تھے تو پھر آہستہ آہستہ ایک نئی زبان بنتی چلی گئی جس میں ترکی کے بھی الفاظ آگئے، فارسی کے بھی الفاظ آگئے، عربی کے بھی الفاظ آگئے اور ایک بالکل نئی زبان بن گئی بھئی۔ تو اس طرح زبان وجود میں آتی ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام عربی زبان کے بننے سے پہلے ہی گزرے ہیں تو ابراہیم لفظ یہ عربی نہیں ہے بلکہ عجمی ہے بھئی، عجمی ہے۔ تو کہتے ہیں و در ابراہیم عجمہ است و علَم۔ ابراہیم کے اندر عجمہ ہے اور علَم، دو سبب ہو گئے۔ و در مساجد و مصابیح جمع منتهی الجُموع۔ اور مساجد اور مصابیح کے اندر جمع منتہی الجُموع جو ہے بجاے دو سبب است یہ دو سببوں کی جگہ ہے یعنی ان کا قائم مقام ہے۔ و در بعلبکّہ ترکیب است و علَم۔ اور بعلبکّہ میں ترکیب ہے و علَم اور نیز یہ نام ہے، علَم ہے۔ و در احمد وزنِ فعل است و علَم۔ اور احمد میں وزنِ فعل ہے اور علَم ہے۔ احمد ایک تو علَم ہے، نام ہے اور دوسرا وزنِ فعل۔ احمد، اکرم، اکرم یُکْرِمُ، اکرماً وزن آگیا کہ نہیں؟ آخری حرف کو نہ دیکھیں، اکرم آپ کہیں گے اکرماً میں تو میم پر بھی زبر ہے اور احمد میں میم پر زبر نہیں، نہیں آخری حرف نہیں آخر میں تو عموماً وقف کر لیتے ہیں بولتے ہوئے انسان اس پر رک جاتا ہے اس کا اعتبار نہیں ہے باقی وزن سارا وہی ہے اکرم، احمد تو یہ کیا ہے وزنِ فعل تو ایک وزنِ فعل آیا اور ایک علَم ہے۔ و در سکران و الف و نون زائدتان است و وصف۔ سکران، سکران لفظ اس میں الف اور نون زائدتان ہیں یہ الف اور نون کیا ہیں؟ زائد۔ و وصف اور نیز یہ کیا ہے؟ وصف بھئی وصف بھئی تو وصف بھی ہیں اور الف نون زائدتان بھی ہیں وصف کیا؟ سکران کا کیا معنی؟ سکران کا معنی ہے مدہوش بھئی مدہوش۔ وہ شخص جو نشے میں ہو اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں سکران کہتے ہیں سکران۔ مدہوش بھئی سکران کا کیا معنی ہے؟ مدہوش بھئی تو مدہوش دیکھو یہ کسی کی صِفت ہوگی کوئی آدمی ہوگا جو کیا ہوگا؟ مدہوش تو ایک وصف ہے اور ایک الف نون زائدتان ہیں۔ و در عثمان و الف و نون زائدتان است و علَم۔ اور عثمان کے اندر الف نون زائدتان بھی ہیں اور علَم۔ یہ الف نون زائدتان نام میں بھی آتے ہیں، علَم میں بھی اور صفت میں بھی۔ توجہ ہے؟ جی۔ الف نون زائدتان یہ علَم میں بھی آتے ہیں اور وصف میں۔ سکران اس میں بھی الف نون زائدتان ہیں اور ساتھ کیا جمع ہے؟ وصف۔ اور عثمان اس میں بھی یہ علَم بھی ہیں اور الف نون زائدتان بھی ہیں بھئی۔ اور ایک اور بات یاد رکھنا کہ یہ وصف اور علَم جمع نہیں ہو سکتے۔ علَم اور وصف جمع نہیں ہو سکتے۔ ایک ہی لفظ ہو اور وہ غیرمنصرف ہو اور کوئی پوچھے کسی سے کہ اس میں کون سے دو سبب ہیں اور وہ کہے علَم ہے اور وصف ہے۔ نہیں بھئی علَم اور وصف کبھی ایک لفظ میں جمع نہیں ہو سکتے۔ کیوں نہیں جمع ہو سکتے؟ بھئی آپ معنی میں غور کر لیں آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا۔ علَم کسی معین ذات کے لیے مقرر ہوتا ہے۔ زید سے زید ہی مراد ہے، بکر یا خالد مراد نہیں۔ اور جب میں بکر کہوں گا تو بکر سے بکر ہی مراد ہے، زید یا عمر مراد نہیں۔ تو علَم جو ہوتا ہے وہ معین ذات پہ دلالت کرتا ہے۔ اور وصف وہ غیر معین ذات پر دلالت کرتا ہے جیسے العالم۔ العالم زید کی صِفت بھی ہو سکتی ہے، بکر کی صِفت بھی ہو سکتی ہے، خالد کی صِفت بھی ہو سکتی ہے تو وصف ذاتِ غیرمعین پر دلالت کرتا ہے اور علَم ذاتِ معین پر دلالت کرتا ہے تو دونوں بالکل ایک دوسرے کی ضد ہیں جیسے دن اور رات۔ دن اور رات جمع نہیں ہو سکتے یا جیسے صبح اور شام صبح اور شام ایک دوسرے کی ضد ہیں، جمع نہیں ہو سکتے۔ اور کیا مثال؟ سردی اور گرمی۔ سردی اور گرمی ایک دوسرے کی ضد ہیں، سردی ہے تو گرمی نہیں، گرمی ہے تو تو جیسے یہ دو چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں اسی طرح علَم اور وصف بھی جمع نہیں ہو سکتے کہ ایک ہی لفظ میں علَم بھی ہو وہ اور وصف بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ علَم کس پر دلالت کرتا ہے؟ ذاتِ معین پر اور وصف ذاتِ غیر معین پر دلالت کرتا ہے۔ آگے دیکھیے و تحقیقِ غیرمنصرف است کتبِ دیگر معلوم شود۔ اور تحقیقِ غیرمنصرف اور غیرمنصرف کی تحقیق (یعنی اور مزید تفصیل جو ہے) است کتبِ دیگر معلوم شود، دوسری کتابوں سے معلوم ہو جائے گی۔ غیرمنصرف کی تحقیق دوسری کتابوں سے معلوم ہو جائے گی یعنی یہ ابتدائی کتاب ہے یہاں میں نے مختصر باتیں ذکر کر دیں، مزید تفصیل اگلی کتابیں جب آپ پڑھیں گے تو وہاں آپ کو غیرمنصرف کی مزید تفصیل معلوم ہو جائے گی۔ چلیے بس کریں بھئی۔ حاصلِ کلام یہ آج آپ نے منصرف اور غیرمنصرف کے بارے میں پڑھا۔ غیرمنصرف وہ ہے جس میں دو اسبابِ منعِ صرف یا کوئی ایک سبب جو دو کے قائم مقام ہو وہ پایا جائے اور منصرف وہ ہے جس میں دو سبب یا ایک ایسا سبب جو دو کے قائم مقام ہو وہ نہ ہوں بھئی، منصرف تو وہ منصرف ہے اور اسبابِ منعِ صرف نو ہیں اور ان میں سے میں نے مختصر تعارف کروا دیا۔ عدل کے بارے میں تھوڑی تفصیل بیان کر دی کہ عدل دو قسم پر ہے۔ عدل کا معنی پھیرنا، صیغے کو ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف پھیرنا اور یہ دو قسم پر ہے ایک عدلِ تحقیقی اور ایک عدلِ تقدیمی۔ عدلِ تحقیقی وہ ہے جس کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود ہو اور عدلِ تقدیمی وہ ہے جس کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو اور اس کے بعد پھر انہوں نے کچھ مثالیں ذکر کیں اور پھر میں نے آخر میں آپ کو بتلایا کہ علَم اور وصف دونوں جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ علَم دلالت کرتا ہے ذاتِ معین پر اور وصف دلالت کرتا ہے ذاتِ غیر معین پر۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگ گئی؟ چلیے بس بھئی ہٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
56 approved lectures · 54 of 56