Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحو مير · dars-015

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 04 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 33
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق دیکھیے آگے بھئی کتاب پر۔ چہارم اسمائے افعال و آن بر دو قسم است۔ اول بمعنے امر حاضر چون روید و بلحہ و حیَّ هل و هلمَّ۔ دوم بمعنے فعل ماضی چون هیهات و شتّانہ۔ پنجم اسمائے اصوات چون اُہ اُہ و اُف و بخ و نخَّ و غاقِ۔ اس میں غیر متمکن کا بیان چل رہا ہے۔ مصنف نے آپ کو بتلایا کہ اس میں غیر متمکن آٹھ قسم پر ہے۔ نمبر ایک تمام ضمیریں۔ نمبر دو اسمائے اشارہ۔ اور نمبر تین ہیں اسمائے موصولہ۔ تو یہ تین اب تک ہم پڑھ چکے ہیں بھئی۔ اور آج ہم اسمائے افعال وغیرہ کے بارے میں پڑھیں گے۔ تو کل کے سبق میں ہم نے اسمائے اشارہ اور اسمائے موصولہ کے بارے میں پڑھا تھا۔ اسمائے اشارہ میں نے آپ کو بتلایا کہ اس میں اشارہ وہ ہے کہ جس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جائے۔ اور یہاں حسی اشارہ مراد ہے یعنی ایسا اشارہ جو آنکھوں سے نظر آئے بھئی۔ یعنی ہاتھ سے یا انگلی کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ وہ اسم اشارہ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ مثلا میں کسی کتاب کی طرف اشارہ کرتا ہوں اور کہتا ہوں ھٰذا تو دیکھا آپ فوراً سمجھ گئے کہ یہ کتاب مراد ہے جس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔ یا میں قلم کی طرف اشارہ کرتا ہوں اور کہتا ہوں ھٰذا آپ سمجھ گئے کہ ھٰذا سے کس کیا مراد ہے یہ قلم جس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے وہ مراد ہے۔ جبکہ غائب کی ضمیر کے ذریعے بھی اشارہ کیا جاتا ہے لیکن میں نے بتلایا تھا کہ وہ اشارہ ذہن میں ہوتا ہے۔ تو اسم اشارہ کے ذریعے اشارہ حِساً ہوتا ہے۔ حِساً کیا معنی؟ حسی طور پر جو آنکھوں سے نظر آئے بھئی، حسی طور پر۔ اور پھر اسمائے اشارہ انہوں نے ذکر کیے تھے کہ یہ ذا، زانی، زینی، تا تی، تہ، ذہ، ذہی، تہی، تانی، تینی، اولی اور اولاء ہیں بھئی۔ مد کے ساتھ ایک ہے اور ایک قصر کے ساتھ۔ اور یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اسم اشارہ کے ساتھ عموماً تنبیہ کی ہا ملا کر بولتے ہیں۔ تو اسم اشارہ تو ہے ذا یا ذہی لیکن بولتے کیسے ہیں؟ ھٰذا یا ھذہی تو تنبیہ کی ہا بھی ساتھ ملاتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے ملائی جائے لیکن عموماً ملاتے ہیں بھئی۔ اور اسی طرح اولائی اور اولی۔ ایک مد کے ساتھ ہے الف کے بعد ہمزہ آ جائے تو اس الف کو الف ممدودہ کہتے ہیں اس کو لمبا کرتے ہیں خوب لمبا کر کے پڑھا جاتا ہے۔ تو ایک مد کے ساتھ ہے اولائی اور ایک بغیر مد کے ہے یعنی اولی قصر۔ قصر کا کیا معنی؟ کہ بغیر مد کے پڑھیں بغیر مد کے۔ اور ان کے ساتھ بھی دیکھو ہا تنبیہ کی ملاتے ہیں ھؤلاء تو ان کے ساتھ بھی ملاتے ہیں۔ اور یہ بھی میں نے بتلایا تھا کہ اولائی اور اولی ان میں واؤ بھی لکھتے ہیں واؤ بھی لکھتے ہیں۔ تو یہ جو اولی ہے اس میں واؤ لکھتے ہیں یہ واؤ بتلاتا ہے کہ یہ اسم اشارہ ہے۔ اگر یہ واؤ نہیں تو پھر شبہ پڑتا ہے پتہ نہیں یہ الا لکھا ہے یا اولا۔ ایک اولی اس میں موصول بھی ہے وہ بغیر واؤ کے لکھا جاتا ہے۔ اور الا حرف جر جو ہے وہ بھی بغیر واؤ کے ہوتا ہے تو وہ پہلے میں نے بتلایا کہ یہ اعراب اور یہ حرکات وغیرہ اور نقطے وغیرہ نہیں ہوتے تھے عربی زبان میں تو پھر فرق نہیں ہو سکتا تھا کہ کون سا لفظ اسم موصول یا حرف جر ہے اور کون سا اسم اشارہ ہے۔ تو فرق کرنے کے لیے علماء نے کیا نشانی مقرر کی؟ کہ اسم اشارہ کے درمیان کیا لکھتے ہیں؟ واؤ۔ یہ واؤ بتلا دیتا ہے کہ یہ اسم اشارہ ہے حرف جر یا اسم موصول نہیں ہے۔ اس کے بعد اسمائے موصولہ کے بارے میں آپ نے پڑھا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ اسمائے موصولہ اسمائے موصولہ ان کا معنی پورا نہیں ہوتا جب تک ان کا صلہ نہ آجائے۔ اس میں موصول کا ترجمہ کرتے ہیں ترجمہ کرتے ہیں وہ جو کہ یا وہ جس نے کہ اب وہ جو کہ دیکھو بات سمجھ میں نہیں آ رہی یا وہ جس نے کہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی تو اس کے ساتھ ایک جملہ چاہیے ہوتا ہے جو اس کا صلہ کہلاتا ہے۔ اور پھر اس سے اس کا معنی سمجھ میں آتا ہے۔ تو اس میں موصول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ صلہ۔ تو صلہ ایک جملہ ہوتا ہے اس میں موصول کے بعد آتا ہے لہٰذا آپ جب بھی عربی عبارت کو حل کریں اور اس میں موصول آجائے تو اس کے ساتھ ہی اگلا جملہ فورا اس پر نظر کریں اور اس جملے کو اس کا صلہ بنا دیں اور موصول صلہ مل کر پھر یہ جملے کا جز بنے گا۔ اگر آپ اس کو فاعل بنانا چاہتے ہیں تو بھی موصول کے ساتھ صلہ ملانا پڑے گا۔ اگر آپ اس کو مفعول بنانا چاہتے ہیں تو بھی موصول کے ساتھ صلہ ملانا پڑے گا۔ اگر آپ اسے مبتدا یا خبر بنانا چاہتے ہیں تو اس صورت میں بھی موصول کے ساتھ صلہ ملانا پڑے گا۔ موصول کا موصول بغیر صلے کے آ ہی نہیں سکتا، موصول بغیر صلے کے اس کا معنی سمجھ میں آئے گا ہی نہیں تو موصول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ صلہ۔ اور صلہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ۔ اور پھر اسمائے موصولہ جو ہیں میں نے آپ کو بتلایا تھا الذی، اللذانی، اللذین، الذین اور اللتی، اللتانی، اللتینی وغیرہ۔ ان میں سے میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تین اسمائے موصولہ ہیں جن کو ایک لام کے ساتھ لکھتے ہیں۔ ایک الذی ہے الذی جو مفرد واحد مذکر کے لیے آتا ہے اور ایک الذین جو جمع مذکر کے لیے آتا ہے اور ایک اللتی جو واحد مونث کے لیے آتا ہے۔ یہ ایک لام سے لکھتے ہیں باقی سارے جو ہیں ان کو دو لام کے ساتھ لکھا جائے گا۔ تو یہ الذین میں ایک لام لکھتے ہیں یہ فرق کرنے کے لیے اللذین۔ تثنیہ کے لیے کیا آتا ہے؟ اللذانی اور اللذینی۔ اب اللذینی اگر اس پر زبریں زیریں نہ ہوں اور الذین تو دونوں دیکھو ایک ہی جیسے لکھے جائیں گے۔ تو فرق کرنے کے لیے اللذینی میں دو لام اور الذین میں ایک لام۔ اب اعراب نہ بھی ہوں آپ کو لام کے ذریعے پتہ چل جائے گا کہ اگر ایک ہے تو یہ الذین ہے اور اگر دو لام ہیں تو یہ اللذینی تثنیہ ہے بھئی۔ اسی طرح باقی اسمائے موصولہ بھی انہوں نے آپ کو بتلائے ما، من، ایّ اور ایّتھ۔ اور پھر یہ بھی آپ کو بتلایا کہ وہ الف لام جو اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہو وہ بھی اسم موصول ہوتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک ہے فاعل، ایک ہے اسم فاعل۔ فاعل کسے کہتے ہیں؟ جسے فعل کا صیغہ رفع دے اور اسم فاعل کسے کہتے ہیں؟ وہ خاص صیغہ جو آپ نے گردانوں میں پڑھا اسم فاعل کا۔ اور ایک ہے مفعول، ایک ہے اسم مفعول۔ مفعول کسے کہتے ہیں؟ جسے فعل نصب دے اور اسم مفعول وہ گردانوں میں جو آپ نے صیغہ پڑھا مضروب، مفتوح وغیرہ۔ تو یہ جو اسم فاعل اور اسم مفعول ہے یعنی ضارب اور مضروب، مانع اور ممنوع، فاتح اور مفتوح، مکرم اور مکرم، مستخرج اور مستخرج، متصرف اور متصرف۔ یہ جو اسم فاعل اور اسم مفعول ہیں ان پر جو الف لام داخل ہو جائے وہ بھی اسم موصول ہے۔ تو الضارب یہ الف لام کس معنی میں؟ الذی اور ضارب یہ کس معنی میں ہے؟ کس معنی میں؟ یضرب فعل مضارع میں فعل مضارع کے معنی میں تو الضارب کس معنی میں ہو گیا؟ الذی یضرب۔ یضرب معروف فعل نکال لیا اور المضروب کس معنی میں ہوا؟ الذی یضرب فعل مجہول لے آئیں گے یہاں پر۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ اور پھر آخر میں انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ ایّ اور ایّتھ معرب ہیں۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ جب یہ معرب ہیں تو یہ تو مبنی کی بحث چل رہی ہے بھئی اس میں غیر متمکن کی بحث چل رہی ہے تو یہاں پر اس معرب کو کیوں ذکر کیا؟ تو ایک جواب میں نے یہ دیا تھا آپ کو کہ چونکہ یہاں وہ اسمائے موصولہ کو ذکر کر رہے تھے تو اسمائے موصولہ سارے گنوا دیے اگرچہ ان میں سے ایک دو معرب بھی ہیں تو ان کو بھی گنوا دیا تاکہ سارے اکٹھے ہو جائیں۔ یا دوسرا جواب یہ کہ اس کے جو ایّ اور ایّتھ ہیں ان کے استعمال کی چار صورتیں ہیں۔ چار طریقے سے یہ استعمال ہوتے ہیں عربی زبان میں ان میں سے تین طریقوں کے مطابق یہ معرب ہیں اور ایک طریقے کے مطابق یہ مبنی ہوتے ہیں تو اس وجہ سے ان کو یہاں مبنی کی بحث میں ذکر کر دیا کیونکہ ایک صورت میں تو یہ مبنی ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ آگے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں چہارم اسمائے افعال و آن بر دو قسم است۔ اول بمعنے امر حاضر چون روید و بلحہ و حیَّ هل و هلمَّ۔ دوم بمعنے فعل ماضی چون هیهات و شتّانہ۔ چوتھی قسم آگئی بھئی غیر متمکن کی۔ اس میں غیر متمکن کی۔ پہلی قسم کیا تھی؟ مضمرات یعنی تمام ضمیریں۔ نمبر دو اسمائے اشارہ۔ نمبر تین اسمائے موصولہ۔ نمبر چار کیا ہے؟ اسمائے افعال بھئی۔ اسمائے افعال یاد رکھیں وہ ہیں تو اسم نام سے ہی پتہ چل رہا ہے اسمائے افعال۔ فعل والے اسم بھئی۔ وہ ہوتے تو اسم ہیں اور معنی فعل والا ادا کرتے ہیں۔ تو اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں اسمائے افعال۔ ہیں اسم لیکن معنی کس کا؟ فعل والا ان کو اس لیے ان کو اسمائے افعال کہتے ہیں۔ اور ان کی علامت یہ ہے بھئی جب یہ فعل والا معنی ادا کرتے ہیں تو ان کو فعل ہی کیوں نہیں کہتے؟ اسم کیوں کہتے ہیں؟ وجہ یہ کہ یہ فعل کی کوئی علامت قبول نہیں کرتے۔ فعل کی علامتیں ذکر ہوئی تھیں یا نہیں ہوئی تھیں؟ جی۔ ہاں تو یہ فعل کی کوئی علامت قبول نہیں کرتے معلوم ہوا یہ فعل نہیں ہیں بھئی تو یہ اس اسمائے افعال ہیں یہ معنی افعال والا ادا کرتے ہیں پھر یہ آپ کو بتائیں گے کہ یہ جو فعل والا معنی ادا کرتے ہیں تو کچھ ان میں سے امر حاضر کے معنی میں ہوں گے۔ کس معنی میں؟ امر حاضر۔ اور امر حاضر تو کیا ہے؟ فعل کون سا فعل ہے؟ مبنی الاصل۔ تو اس لیے جب ان کے ساتھ مشابہت آگئی ان کا معنی ادا کیا تو یہ بھی کیا ہیں؟ مبنی۔ اسی طرح کچھ جو ہیں وہ فعل ماضی کا معنی ادا کرتے ہیں تو وہ بھی مبنی۔ کیوں مبنی؟ کیونکہ مبنی الاصل کے ساتھ مشابہت آگئی ماضی کیا تھی؟ مبنی الاصل۔ تو یہ اس کا معنی ادا کرتے ہیں یہ اس کے مشابہ ہو گئے اس لیے یہ بھی کیا ہیں؟ مبنی ہیں۔ دیکھیے بھئی کتاب پر چہارم اسمائے افعال و آن بر دو قسم است۔ اول بمعنے امر حاضر چون روید و بلحہ و حیَّ هل و هلمَّ۔ رویدا کا معنی ہے امهل مہلت دے دے۔ کسی کو عربی میں کہنا ہو کہ اس کو مہلت دے دو کچھ وقت اور دے دو تو ایک صورت یہ ہے کہ باقاعدہ فعل استعمال کر لیں امهل کہ اس کو کیا کرو؟ امهل زیداً زید کو مہلت دے دو اور کبھی کہتے ہیں رویدا زیداً زید کو مہلت دے دو۔ اور ایک ہے بلحہ۔ بلحہ کا معنی ہے چھوڑ دے۔ چھوڑ دے۔ تو یہ اسم فعل ہے۔ و حیّهل۔ حیّهل کا معنی ہے لاؤ یا متوجہ ہو جاؤ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لاؤ یا متوجہ ہو جاؤ۔ اور هلمَّ۔ هلمَّ جو ہے یہ آؤ کے معنی میں ہے آؤ یا لاؤ بھئی۔ لاؤ دونوں معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے کوئی چیز لاؤ یا آؤ یعنی آ جاؤ۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ کس معنی میں ہوئے؟ امر حاضر کے معنی میں۔ توجہ ہے؟ سارے خاموش بیٹھے ہیں کیا بات ہے۔ یہ کس معنی میں ہوئے؟ انہوں نے بتلایا نا اسمائے افعال دو قسم کے ہیں کچھ کس معنی میں ہیں؟ امر حاضر کے معنی میں اور کچھ فعل ماضی کے معنی میں تو یہ امر حاضر کے معنی میں تھے رویدا، بلحہ، حیّهل اور هلمَّ۔ دوم بمعنے فعل ماضی۔ دوسرا فعل ماضی کے معنی میں چون هیهات و شتّانہ۔ هیهات کا معنی یہ ماضی کے معنی میں ہے دور ہوا۔ هیهات زیدٌ۔ زید دور ہوا۔ یا شتّانہ۔ شتّانہ کا معنی ہے جدا ہوا۔ الگ ہوا۔ شتّانہ زیدٌ۔ زید کیا ہوا؟ جدا ہوا، الگ ہوا۔ اور نیز اس میں یاد رکھیں یہ جو اسم فعل ہوتا ہے اس میں مبالغہ ہوتا ہے۔ مبالغہ ہوتا ہے۔ تو هیهات کا معنی دور ہوا۔ یہ بعودہ کے معنی میں ہے۔ بعودہ زیدٌ۔ بعودہ کا کیا معنی؟ بعید ہوا، دور ہوا۔ دور ہوا۔ اور لیکن اس میں مبالغہ ہے۔ تو هیهات کا معنی ہوا بہت دور ہوا۔ دور ہوا کہنا ہو تو کہیں گے بعودہ زیدٌ۔ اور کہنا ہو بہت دور ہوا مبالغہ کرنا ہے تو پھر کیا کہیں گے؟ هیهات زیدٌ۔ اور اسی طرح شتّانہ اس کے اندر بھی اسی طرح مبالغہ ہے۔ افتراق کا معنی ہے جدا ہونا۔ افتراق زیدٌ۔ زید کیا ہوا؟ جدا اور اگر آپ مبالغے کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں یعنی بہت دور ہوا، خوب جدا ہوا، بہت جدا ہوا تو کہیں گے شتّانہ۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو یہ اسمائے افعال ہیں۔ تو ان کو اسمائے افعال کیوں کہتے ہیں؟ ہاں یہ ہیں تو اسم لیکن معنی کس کا ادا کرتے ہیں؟ فعل کا ادا کرتے ہیں اور یہ کتنی قسم پر ہیں؟ دو قسم پر۔ پہلا کس معنی میں؟ امر حاضر۔ دوسرا فعل ماضی۔ نیز یاد رکھنا بھئی۔ اسم فعل مضارع کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اسم فعل مضارع کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن کیونکہ وہ قلیل ہے اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا بھئی۔ پنجم اسمائے اصوات۔ پانچواں غیر متمکن جو ہے اسمائے اصوات۔ وہ اسمائے اصوات ہیں۔ اصوات جمع ہے صوت کی صاد کے ساتھ۔ صاد، واؤ اور لمبی تا۔ صوت۔ صوت آواز کو کہتے ہیں۔ اسمائے اصوات جو آواز پر دلالت کریں مختلف آوازوں پر۔ دیکھو بعض اوقات انسان خوشی یا غم وغیرہ کی حالت میں آواز نکالتا ہے خوشی یا غم وغیرہ یا تکلیف پر دلالت کے لیے ہوتی ہیں یا اسی طرح کسی حیوان کو بلانے وغیرہ کے لیے آپ دیکھتے ہیں دیہات کے اندر بھئی حیوان کو حیوان کو چلانا ہو یا ڈانٹنا ہو تو خاص آواز نکالتے ہیں چلانے والے یا پانی کے لیے بلانا ہو تو خاص آواز نکالتے ہیں پانی لانے والے یا اسی طرح ان کو ان کو کسی طرف لے کر جانا ہو تو وہ خاص مختلف آوازیں انہوں نے مقرر کی ہوتی ہیں تو یہ جو مختلف وہ جو آوازیں ہیں وہ ہیں اسمائے اصوات۔ تو کیا کیا میں نے بیان کیا اسمائے اصوات؟ خوشی یا غم وغیرہ کی میں جو آواز نکالتا ہے انسان یا اسی طرح جانور کو بلانے کے لیے یا اسی طرح اپنی تکلیف کو بیان کرنے کے لیے یا مختلف حیوانات کی آوازیں آوازوں کو نقل کرتے ہیں انسان۔ مثلا دیکھو بھئی خوشی کی حالت میں خوشی کی حالت میں کوئی چیز کسی کو پسند آتی ہے تو اردو میں کہتے ہیں واہ واہ۔ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ واہ واہ۔ عربی میں کہتے ہیں بخ بخ۔ یا بخن بخن۔ دیکھا یہ وہی اردو ہر زبان کا اپنا انداز ہوتا ہے اردو والے کو زبان اردو زبان میں کسی کو کوئی چیز پسند آئے اور اچھی لگے تو وہ کیا کہتا ہے؟ واہ واہ اور عربی میں بخ بخ۔ اسی طرح تکلیف کی حالت میں تکلیف کی حالت میں کوئی کسی چیز سے تنگ آ جائے تو عربی میں کہتے ہیں اُف۔ اُف۔ الف ہے (یعنی ہمزہ) اور اُف! اردو میں بھی آپ اُف کہتے ہیں، کسی چیز سے تنگ آ جائیں تو اُف کہتے ہیں۔ دیکھا یہ وہی عربی کا لفظ ہے جو اردو میں استعمال ہو رہا ہے۔ اور اسی طرح انسان کو کھانسی آتی ہے تو عربی میں اس کے لیے آواز ہے اُح اُح! کسی کو کھانسی آئے تو کیا کہتے ہیں کہ وہ اُح اُح کر رہا تھا؟ دیکھا؟ دیکھو اس کی آواز نقل کر دی جو تکلیف کی آواز نقل کر دی۔ اور اسی طرح حیوانات کو بلانے کے لیے یا ڈانٹنے کے لیے یا بٹھانے کے لیے تو عربی میں اونٹ کو بٹھانے کے لیے آواز نکالتے ہیں، نخ نخ! یا نخا نخا اونٹ کو بٹھانے کے لیے۔ تو یہ دیکھو اس یہ اس میں صوت ہے بھئی۔ یہ اسی طرح مختلف حیوانات کی آوازیں ہوتی ہیں جیسے آپ اردو میں کہتے ہیں کہ بکری مے مے کرتی ہے، اور کووا کائیں کائیں کرتا ہے تو اردو میں کووے کی آواز کو کیسے نقل کرتے ہیں؟ کائیں کائیں! عربی میں کہتے ہیں غاق غاق! کہ کووا کیا کرتا ہے؟ غاق غاق کرتا ہے۔ دیکھو ہر زبان کا اپنا انداز ہے۔ تو اسمائے اصوات میں مختلف قسم کی آوازیں جو ہیں وہ شامل ہیں اور کس قسم کی آوازیں؟ وہ آوازیں جو انسان خود خوشی یا غم کے موقع پر نکالتا ہے، یا وہ آوازیں جو حیوانات کو بلانے یا ڈانٹنے کے لیے انسان نکالتا ہے، وہ آوازیں اور اسی طرح مختلف حیوانات کی جو ان کی اپنی آواز کو جو نقل کیا جاتا ہے، یہ سب کس میں داخل ہیں؟ اسمائے اصوات میں۔ دیکھیے بھئی کتاب پر پنجُم اسمائے اصوات بھئی، اسمائے اصوات۔ چون اُح اُح، یہ اُح اُح کس کی آواز ہے؟ کھانسی کی. و اُفّ، یہ کس چیز کی آواز ہے؟ ہاں تنگ ہونے کی، کسی چیز سے تنگ ہونے کی اور تکلیف میں ہونے کی۔ آگے ہے و بخ و بخ بخ، جی! یہ بخ کس کی آواز ہے؟ خوشی کی۔ واہ واہ بھئی! اور نخ یا نخا اونٹ کو بٹھانے کے لیے ہے، و غاق یہ کس لیے ہے؟ یہ کووے کی آواز ہے بھئی۔ آگے دیکھیے ششم اسمائے ظروف ظرفِ زماں۔ چھٹی قسم ہے اس میں غیرِ متمکن کی اسمائے ظروف بھئی۔ اور اسمائے ظروف، ظرف یاد رکھیے برتن کو کہتے ہیں، برتن۔ جیسے برتن کے اندر کوئی چیز ڈالی جائے تو برتن نے اس کو ہر طرف سے گھیرے ہوتا ہے۔ گلاس میں پانی ڈالا آپ نے، دیکھو گلاس نے پانی کو ہر طرف سے گھیرے ہوا ہے، پانی اس کے اندر ہے اور اس کے باہر کیا ہے؟ گلاس ہے۔ یا جگ میں آپ نے پانی ڈالا یا مٹکے میں آپ نے پانی ڈالا، دیکھو پانی اس کے اندر ہے اور مٹکے نے اس کو ہر طرف سے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے اس پانی کو۔ سورہ سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اسی طرح یاد رکھو، یہ جو چیز زمانے یا جگہ پر دلالت کرے اس کو بھی ظرف کہتے ہیں۔ کس پر دلالت کرے؟ زمانے یا جگہ۔ ان کو ظرف کہتے ہیں، کیونکہ یہ ظرف کی طرح ہے، جیسے ظرف نے اپنے اندر چیز کو گھیرے ہوتا ہے ہر طرف سے، اسی طرح یہ جو وقت ہے اور یہ جو جگہ ہے اس نے ہمارے ہر فعل کو گھیرے ہوا ہے۔ یہ جو وقت ہے اور جگہ ہے اس نے ہر طرف سے ہمارے فعل کو گھیرے ہوا ہے، اس لیے ان کو ظرف کہتے ہیں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں، میں نے کھانا کھایا۔ جب آپ نے کھانا کھایا، تو یہ یقیناً کوئی نہ کوئی زمانہ ہوگا۔ مثلاً آپ نے صبح کے وقت میں کھانا کھایا تو دیکھو اس وقت نے آپ کو گھیرے ہوا ہے، آپ اس وقت کے اندر ہیں۔ آپ وقت سے باہر نکل سکتے ہیں؟ نہیں۔ کوئی نہ کوئی وقت ہوگا، یا مثلاً آپ کہتے ہیں میں بازار گیا، دیکھو یہ کوئی نہ کوئی وقت ہوگا، وقت نے آپ کو گھیرے ہوا ہے۔ آپ کا ہر فعل کسی نہ کسی زمانے میں ہوگا اور کسی نہ کسی جگہ میں ہوگا، تو وقت نے آپ کو گھیرے ہوا ہے۔ آپ کوئی اپنا فعل ذکر کر دیں، میں نے مطالعہ کیا، کوئی نہ کوئی وقت ہوگا۔ میں نے سبق پڑھا، کوئی نہ کوئی وقت ہوگا، میں بازار گیا، کوئی نہ کوئی وقت ہوگا۔ میں اپنے میں اپنے گھر گیا، دیکھو یہ کوئی نہ کوئی وقت ہوگا، صبح، دوپہر، شام یہ جمعہ کا دن ہوگا یا ہفتے کا دن ہوگا یا کوئی مہینہ ہوگا یا کوئی سال ہوگا، یہ سب کیا ہیں؟ یہ زمانے کے نام ہیں، انہوں نے ہمیں گھیرے ہوا ہے تو جو بھی آپ کام کریں گے وہ کسی نہ کسی زمانے میں کریں گے، تو زمانہ کس کی طرح ہوا؟ ہمارے فعل کے لیے ظرف کی طرح، جیسے میں نے بتایا مٹکے کے اندر پانی ہو تو مٹکے نے اس پانی کو ہر طرف سے گھیرے ہوتا ہے یعنی وہ پانی مٹکے میں ہے، اسی طرح آپ جو بھی کام کریں، وہ کسی نہ کسی زمانے میں ہے بھئی، تو زمانہ اس کے لیے آپ کے فعل کے لیے ظرف ہے۔ اسی طرح جگہ، جو جگہ ہے یہ بھی ظرف کی طرح ہے، آپ جو بھی فعل کریں، کوئی نہ کوئی جگہ ہوگی، مثلاً آپ نے زید کی پٹائی کی۔ دیکھو یہ کسی نہ کسی جگہ پٹائی کی ہوگی، یا آپ نے آپ نے گلی میں اس کی پٹائی کی ہوگی، یا کسی سڑک پر پٹائی کی ہوگی، یا بازار میں پٹائی کی ہوگی، یا مدرسے کے اندر پٹائی کی ہوگی، لیکن کسی نہ کسی جگہ میں ہوگی۔ کسی نہ کسی جگہ کے اندر یہ کام ہوا ہوگا، آپ کہتے ہیں میں نے کھانا کھایا، دیکھو کسی نہ کسی جگہ میں یہ آپ نے فعل کیا ہوگا، کمرے میں بیٹھ کر آپ نے کھانا کھایا، آپ نے سبق پڑھا تو آپ نے دیکھو مثلاً مسجد میں بیٹھ کر سبق پڑھا تو تو یہ مسجد کیا ہے اس نے آپ کو گھیرے ہوا ہے، آپ اس کے اندر ہیں۔ تو یہ جو زمانہ اور جگہ ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظرف کہتے ہیں۔ ظرف کیوں کہتے ہیں؟ میں نے تفصیل بیان کردی، جیسے کہ ظرف برتن کو کہتے ہیں، جیسے برتن نے اپنے اندر موجود چیز کو ہر طرف سے گھیرے ہوتا ہے اور وہ چیز اس کے اندر ہوتی ہے، اسی طرح ہمارا جو بھی فعل ہے وہ کسی نہ کسی زمانے میں ہے اور کسی نہ کسی جگہ میں ہے، تو یہ جگہ اور زمانہ کیا ہے اس کے لیے ظرف ہیں۔ تو گویا ظرف دو قسم پر ہوا بھئی، ایک ظرفِ زماں ہے اور ایک ظرفِ مکاں ہے۔ ظرفِ زماں، نام سے پتہ چل رہا ہے جو زمانے کا نام ہو۔ جیسے، صبح، صبح دیکھو ایک زمانہ ہے۔ منٹ، منٹ کیا ہے؟ ایک منٹ، دو منٹ یہ کس چیز کا نام ہے؟ زمانے کا نام ہے۔ ایک سال، سال کس کا نام ہے؟ زمانے کا۔ جمعہ کا دن زمانے کا نام ہے۔ اور مہینہ، زمانے کا نام ہے۔ ہفتہ، زمانے کا نام ہے۔ تو یہ سب کیا ہیں؟ ظرفِ زماں ہیں۔ اور کچھ ظرفِ مکاں ہیں، جو جگہ پر دلالت کرتے ہیں، مسجد مسجد مکان، جگہ کا نام ہے۔ گھر، کس کا نام مکان؟ جگہ کا نام ہے۔ بازار، جگہ کا نام ہے۔ شہر، جگہ کا نام ہے۔ ملک، جگہ کا نام ہے۔ دنیا، جگہ کا نام ہے۔ تو یہ ظرفِ مکان ہیں، بات سمجھ میں آگئی؟ تو ظرف کتنی قسم پر؟ دو، یا ظرفِ زماں ہے یا ظرفِ مکاں ہے بھئی۔ دیکھیے کتاب پر ششم اسمائے ظروف، چھٹی قسم اس میں غیرِ متمکن کی وہ اسمائے ظروف ہیں۔ نمبر ایک جو ہے وہ ظرفِ زماں ہے۔ ظرفِ زماں جو کس پر دلالت کرے؟ زمانے پر، چون إذ و إذا و متی و کیف و أیّان و أمسی و مُذ و منذ و قطّ و عوض و قبل و بعد. یہ اس کچھ ظروف ہیں بھئی۔ یہ کچھ ظروف۔ بھئی ظروف اور بھی ہیں ظرفِ زماں صرف یہی نہیں ہیں۔ لیکن یہاں صرف وہ ظرفِ زماں ذکر کر رہے ہیں جو مبنی ہیں، کیونکہ یہ کس کی بحث چل رہی ہے؟ غیرِ متمکن کی۔ اور غیرِ متمکن کا دوسرا نام کیا؟ مبنی۔ اسی کو مبنی کہتے ہیں ہم یہ اس میں یہ اس میں مبنی ہے۔ تو یہ غیرِ متمکن جو اسمائے ظرفِ زماں ہیں وہ ذکر کیے اور وہ یہ ہیں۔ باقی جو ظرفِ زماں اور بھی ہیں لیکن وہ مبنی نہیں ہیں۔ تفصیل سمجھ میں آگئی۔ تو یہ إذ اور إذا یہ جب کے معنی میں ہے، جب۔ لیکن إذ ماضی کے لیے آتا ہے، إذا مستقبل کے لیے۔ اسی طرح متیٰ کا معنی ہے کب کب۔ یا اس کا معنی جب بھی آتا ہے۔ کیف کا معنی ہے کیسا، کیسا۔ أیّان کا معنی ہے کب۔ أمسی، أمسی کہتے ہیں گزشتہ کل کو۔ گزشتہ کل۔ بھئی، اردو میں تو کل کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، چاہے گزرا ہوا ہو چاہے آنے والا ہو۔ آپ اپنے ساتھی کو بتاتے ہیں، میں کل گھر گیا تھا۔ دیکھو کل کا لفظ میں نے بولا۔ اور کون سا کل ہے؟ آنے والا ہے یا گزرا ہوا؟ گزرا ہوا۔ گزرا ہوا۔ اور دوسرا دیکھیں آپ مستقبل کے لیے میں بولتا ہوں، میں کل آپ کے پاس آؤں گا۔ جی، اب کون سا کل ہے؟ آنے والا۔ آنے والا۔ تو دیکھو اردو میں ایک ہی لفظ جو ہے کل وہ ماضی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور مستقبل کے لیے بھی۔ لیکن عربی میں الگ ہے۔ گزشتہ کل کے لیے اور لفظ ہے اور آنے والے کل کے لیے اور لفظ۔ گزشتہ کل کے لیے وہ لفظ بولتے ہیں أمس، أمس گزشتہ کل۔ اور آنے والا کل، اس کے لیے لفظ بولتے ہیں غداً بھئی، غداً۔ تو أمس کا معنی ہے گزشتہ کل۔ اسی طرح مُذ اور منذ یہ ابتدائے وقت کے لیے یا سارے وقت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ بس ان کو یاد کریں، ان کا معنی بھی بے شک آپ کو نہ آئے کوئی حرج نہیں۔ لیکن یہ اسمائے موصولہ ہیں یہ آپ کو یاد ہونے چاہیے۔ اسمائے اشارہ جتنے ہیں سارے آپ کو یاد ہونے چاہیے۔ اور یہ ظروفِ زماں یہ جو آ رہے ہیں یہ آپ کو یاد ہونے چاہیے۔ اور قطّ، قطّ ماضی کے لیے آتا ہے، سارے ماضی کا احاطہ کر لیتا ہے۔ اور عوضُ مستقبل کے لیے آتا ہے۔ باقی استعمال کیا ہے اس کو چھوڑ دیں بس آپ یاد کریں فی الحال ان کو۔ اور قبلُ اور بعدُ، قبلُ اور بعدُ، قبلُ کا معنی پہلے اور بعدُ کا معنی بعد میں۔ وقتِ مضاف باشد، جس وقت کے یہ مضاف ہوں۔ و مضاف الیہ محذوف منوی باشد، اور مضاف الیہ جو ہے محذوف منوی ہو، (یعنی نیت میں ہو)۔ اب تفصیل اس میں یاد رکھو۔ مصنف نے یہ سارے اسمائے ظروف ذکر کیے ظرفِ زماں۔ کون کون سے؟ إذ، إذا، متی، کیف، أیّان، أمسی، مُذ، منذ، قطّ، عوضُ، قبلُ اور بعدُ۔ اور کہا کہ جس وقت کے یہ مضاف ہوں اور مضاف الیہ محذوف ہو، نیت میں ہو، یہ نہیں بتایا کہ یہ کس کا حکم بیان ہو رہا ہے؟ لیکن آپ یاد رکھنا اس کا تعلق صرف قبلُ اور بعدُ سے ہے۔ یہ وقتِ مضاف باشد و مضاف الیہ محذوف منوی باشد یہ کس کی بات ہو رہی ہے؟ قبلُ اور بعدُ۔ یاد رکھو یہ قبلُ اور بعدُ ہمیشہ مضاف الیہ چاہتے ہیں۔ مضاف الیہ چاہتے ہیں۔ قبلُ کا معنی پہلے، بھئی کس سے پہلے؟ قبل زیدٍ أو قبل عمروٍ، زید سے پہلے یا عمرو سے پہلے، أو قبل جمعةٍ یا جمعہ سے پہلے۔ قبل کا کیا معنی؟ پہلے۔ کس سے پہلے آگے مضاف الیہ چاہیے۔ کس سے پہلے؟ مثلاً آپ کہنا چاہتے ہیں میں جمعہ سے پہلے آپ کے پاس آؤں گا۔ دیکھو کس سے پہلے؟ جمعہ سے پہلے تو کہیں گے قبل الجمعةِ، جمعہ سے پہلے۔ تو دیکھو اس کے لیے مضاف الیہ چاہیے۔ اور بعدُ کا معنی ہے بعد میں۔ بھئی کس کے بعد؟ زید کے بعد، عمرو کے بعد، بکر کے بعد، جمعہ کے بعد، ہفتے کے بعد۔ تو آگے مضاف الیہ چاہیے۔ تو مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں جمعہ کے بعد میں آؤں گا تو کیسے کہوں گا؟ بعد الجمعةِ، بعد الجمعةِ۔ تو یہ قبلُ اور بعدُ ہمیشہ کیا چاہتے ہیں؟ مضاف الیہ۔ تو ان کے استعمال کی تین صورتیں ہیں یاد رکھنا۔ ایک صورت یہ کہ آپ عبارت میں قبلُ اور بعدُ لاتے ہیں اور آگے مضاف الیہ بھی ذکر کر دیتے ہیں۔ ایک صورت توجہ ہے؟ کہ مضاف الیہ باقاعدہ آگے عبارت میں ذکر ہو۔ دوسری صورت کہ آپ مضاف الیہ کو لفظوں سے حذف کر دیتے ہیں، لفظوں میں ذکر ہی نہیں کرتے۔ اور ذہن میں بھی نہیں رکھتے۔ مثلاً میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں جاءنی زیدٌ قبل عمروٍ۔ جاءنی زیدٌ قبل عمروٍ۔ میرے پاس آیا زید قبل عمروٍ، کس سے پہلے؟ عمرو سے پہلے۔ میرے پاس زید عمرو سے پہلے آگیا۔ جاءنی زیدٌ قبل عمروٍ۔ تو دیکھو اب قبل کیا چاہتا ہے؟ مضاف الیہ۔ توجہ ہے؟ قبل کیا چاہتا ہے؟ مضاف الیہ۔ اور یہاں مضاف الیہ ذکر ہے کہ نہیں ذکر؟ کس سے پہلے؟ عمرو سے تو دیکھو عمرو ذکر ہے، جاءنی زیدٌ قبل عمروٍ۔ دیکھو عمرو ذکر ہے، جس سے پہلے کی بات ہو رہی ہے وہ عبارت میں باقاعدہ ذکر ہے۔ دوسری صورت کہ آپ اس عمرو کو لفظوں سے اڑا دیتے ہیں۔ لیکن نیت میں پھر بھی ہے۔ اور یوں کہتے ہیں جاءنی زیدٌ قبل عمرو کو اڑا دیا۔ لیکن نیت میں ابھی بھی ہے۔ بتانا یہی چاہتے ہیں کہ زید کس سے پہلے آیا؟ عمرو۔ سننے والا سمجھ گیا بھئی۔ اس کو پہلے ہی پتہ تھا کہ عمرو بھی آپ کے پاس آیا تھا، زید بھی آیا تھا، اب وہ صرف یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ پہلے کون آیا؟ تو آپ کیا کہتے ہیں؟ جاءنی زیدٌ قبلُ، زید میرے پاس پہلے۔ پہلے نہیں۔ عمرو کو بھی لے کر آؤ ترجمہ میں۔ عمرو سے پہلے لایا تھا دیکھو۔ زید میرے پاس آیا تھا عمرو سے پہلے، اور عمرو لفظوں میں تو میں نہیں ذکر کر رہا۔ لفظوں میں تو میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں جاءنی زیدٌ قبلُ۔ لیکن عمرو مراد ہے، تو جب مراد ہے تو ترجمہ کرتے ہوئے آپ عمرو کو لے کر آؤ گے۔ نیت میں ہے، کہاں ہے وہ عمرو؟ لفظوں سے میں نے اڑا دیا، لیکن نیت میں ہے، جب نیت میں ہے تو ترجمہ میں لے کر آؤ۔ آیا میرے پاس زید، کس سے پہلے؟ عمرو سے پہلے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ لفظوں سے بھی اڑا دو، نیت سے بھی اڑا دو، اب ترجمہ میں نہ لاؤ۔ اب ترجمہ کرو، جاءنی زیدٌ قبلًا۔ کیسے ترجمہ کریں گے؟ آیا میرے پاس زید پہلے۔ اب عمرو لانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ آپ نے نیت میں بھی نہیں رکھا۔ ترجمہ کیسے کریں گے جاءنی زیدٌ قبلًا، کیا معنی؟ آیا میرے پاس زید پہلے۔ ہاں میرے پاس زید پہلے آیا بس۔ اب عمرو مراد نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ پھر سنو، یہ قبلُ اور بعدُ وغیرہ ہمیشہ کیا چاہتے ہیں؟ مضاف الیہ۔ اور ان کے استعمال کے تین طریقے ہیں عربی زبان میں۔ ایک طریقہ کیا کہ ان کے ساتھ ان کے مضاف الیہ کو لفظوں میں باقاعدہ ذکر کیا جائے۔ دوسری صورت کیا؟ لفظوں میں تو ذکر نہیں کیا، لیکن نیت میں نیت میں ہے۔ اور تیسری صورت کیا؟ لفظوں میں بھی اڑا دیا اور نیت میں بھی اڑا دیا۔ تو یاد رکھو ان تین طریقوں میں سے جو دوسرا طریقہ تھا، لفظوں سے تو اڑا دیا، لیکن نیت میں ہے، اس صورت میں یہ مبنی ہوتے ہیں۔ یہ قبلُ اور بعدُ کیا ہوتے ہیں؟ مبنی علی الضم۔ یعنی ان پر پیش پڑھنا ہے۔ قبلُ۔ جاءنی زیدٌ قبلُ۔ اصل میں کیا تھا؟ قبل عمروٍ۔ جاءنی زیدٌ قبل عمروٍ۔ لام پر زبر تھا، قبل قبل عمروٍ۔ لیکن جب میں نے عمرو کو اڑایا، لفظوں سے میں نے ختم کر دیا، لیکن نیت میں چونکہ موجود ہے، تو دیکھو قبل کا نقصان ہو گیا۔ اس کا ایک حصہ آپ نے اڑا دیا۔ مضاف الیہ اس کے لیے ضروری تھا نا، تو اس کا کیا ہوا؟ نقصان۔ جب نقصان ہوا تو اب آپ اس کو پیش والی حرکت دے دو، جو مضبوط حرکت ہے۔ تو یوں پڑھیں گے، جاءنی زیدٌ قبلُ۔ میرے پاس زید آیا تھا، عمرو سے۔ ہاں ترجمے میں بولنا ہے، میرے پاس زید آیا تھا عمرو سے پہلے، تو جاءنی زیدٌ قبلُ۔ یہ قبلُ میں کیوں پڑھ رہا ہوں؟ یہ مبنی ہے، مبنی علی الضم ہے۔ کیا ہے؟ مبنی۔ جی! مبنی علی الضم میں کیوں پڑھ رہا ہوں؟ کیونکہ اس کے مضاف الیہ کو ہم نے لفظوں سے اڑا دیا، لفظوں سے ختم کر دیا، لیکن نیت میں ابھی بھی موجود۔ اور ترجمہ کیسے کریں گے جاءنی زیدٌ قبلًا؟ آیا زید میرے پاس پہلے۔ شاباش! ترجمے میں لے کر آئیں گے، کیونکہ وہ نیت میں مراد ہے، کسی اور سے پہلے کی بات نہیں کر رہے، آپ یہ نہیں کہنا چاہ رہے کہ زید خالد یا بکر یا کسی سے پہلے آیا تھا، آپ کیا بتلانا چاہتے ہیں کس سے پہلے؟ آیا تھا۔ عمر سے پہلے اور عمر کو کیوں اڑا دیا لفظوں سے؟ کیونکہ سامنے والے کو پتہ ہے بات کس کی چل رہی ہے؟ زید اور عمر کی چل رہی ہے کسی اور کی بات نہیں چل رہی تو وہ سامنے والا سمجھ جاتا ہے کہ یہ چیز یہاں حذف کر دی ہے اس نے تو لہذا تو وہاں قبل وہ تو منسوب تھا فتحہ تھا لیکن جب مضاف الیہ کو حذف کیا تو اس کا نقصان ہو گیا جب نقصان ہوا تو اس کو مبنی بنا دیا اور کون سی حرکت پر مبنی بنایا؟ ضمہ تو وہ مبنی علی الضم ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی اب پھر دہراؤ قبل بعد وغیرہ یہ ہمیشہ کیا چاہتے ہیں؟ مضاف الیہ اور ان کے استعمال کے کتنے طریقے؟ تین طریقے پہلا طریقہ کیا؟ کہ مضاف الیہ ان کے ساتھ لفظوں میں ذکر ہو دوسری صورت کیا؟ لفظوں سے تو ختم کر دیا لیکن نیت میں نیت میں موجود ہے تیسری صورت لفظوں سے بھی ختم کر دیا اور ذہن سے بھی ختم کر دیا তো دو صورتوں میں یہ معرب ہے اور ایک صورت میں یہ مبنی ہے۔ کون سی صورت میں مبنی ہے؟ جب مضاف الیہ محذوف ہے اور منوی ہے منوی کا کیا معنی؟ نیت میں ہے منوی نیت میں ہے بات سمجھ میں آ گئی جی دیکھیے اب کتاب پر تو کہتے ہیں کہ وقت کہ مضاف باشن جس وقت کہ یہ مضاف ہوں کون مضاف ہوں؟ یہ عبارت پر نظر رکھو وقت کہ مضاف باشن جس وقت کہ یہ مضاف ہوں کس کی بات ہو رہی ہے؟ قبل و بعد یہ جس وقت کہ مضاف باشن یہ مضاف ہوں وہ مضاف الیہ محذوف منوی باشد اور جو مضاف الیہ ہے وہ محذوف ہو منوی ہو منوی کیا معنی؟ نیت میں ہو محذوف اور نیت میں ہو۔ دوسری قسم ہے اسمائے ظروف کی وہ ظرف مکان جو حيث و قدام و تحت و فوق حيث یہ جگہ کے لیے اتا ہے جہاں اور قدام قدام کا معنی پہلے پہلے اور تحت کا معنی نیچے فوق کا معنی اوپر آگے اس میں بھی کہہ رہے ہیں وقت کہ مضاف باشن و مضاف الیہ محذوف منوی باشد کتنے لفظ ذکر کیے کتنے اسمائے ظرف مکان ذکر کیے؟ چار کون کون سے؟ حيث قدام و تحت اور فوق اور آگے کیا کہہ رہے ہیں؟ جس وقت کہ یہ مضاف ہوں اور مضاف الیہ محذوف منوی باشد اس کا تعلق آخری تین سے ہے قدام فوق اور تحت قدام کا معنی آگے پہلے کس سے پہلے کس سے آگے بھئی مضاف الیہ چاہیے فوق کا معنی اوپر بھئی کس کے اوپر مضاف الیہ چاہیے تحت کا معنی نیچے کس چیز کے نیچے مضاف الیہ چاہیے بھئی تو ان کے استعمال کے بھی وہی تین طریقے ہیں یہ ہمیشہ کیا چاہتے ہیں؟ مضاف الیہ اور ان کا مضاف الیہ کبھی عبارت میں ذکر ہوگا کبھی عبارت میں تو نہیں لیکن نیت میں موجود ہوگا اور کبھی نہ عبارت میں ہوگا اور نہ نیت میں ہوگا اگر ان کا مضاف الیہ عبارت میں نہیں اور نیت میں ہے تو پھر اس صورت میں یہ مبنی اور باقی دو صورتوں میں معرب ہوں گے تو کہتے ہیں وقت کہ مضاف باشن جس وقت کہ یہ مضاف ہوں اور مضاف الیہ محذوف منوی باشد اور مضاف الیہ جو ہے وہ محذوف ہو منوی محذوف منوی ہو یعنی نیت میں ہو۔ ہفتم اسمائے کنایات ساتویں قسم آ گئی اسمائے کنایات بھئی اسمائے کنایات چونکہ کم و کذا کنایت از عدد و کيت و زیت کنایت از حدیث اسمائے کنایات بھئی جن کے ذریعے کنایہ کیا جائے کیا کیا جائے؟ کنایہ کیا جائے یعنی چیز کو صاف لفظوں میں ذکر نہ کیا جائے ایک ہے صاف لفظوں میں کوئی بات ذکر کرنا اور ایک ہے کنایہ کرنا مثلا میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں زید لمبے قد والا ہے تو ایک ہے میں صاف لفظوں میں آپ کو کہوں زید لمبے قد والا ہے صاف لفظوں میں کہا میں نے جو کہنا چاہتا تھا جو بعض آپ کو بتانا چاہتا تھا لفظ بھی وہی استعمال کیئے کہ زید لمبے قد والا ہے دوسری صورت اب یہی بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں لیکن کنائے کے رنگ میں میں کہوں گا زید لمبی قمیض والا ہے دیکھا معنی وہی ہے کیا معنی؟ لمبے قد والا ہے لفظ میں بول رہا ہوں لمبی قمیض والا ہے اور معنی ارادہ کس کا کر رہا ہوں؟ لمبے اگر میں قمیض بول کر قمیض ہی کا ارادہ کروں پھر یہ کنایہ نہیں ہے پھر تو وہی بات جو میں بتانا چاہ رہا تھا وہی بول رہا ہوں میں بتانا بھی چاہتا ہوں قمیض لمبی ہے اور اور بول بھی کیا رہا ہوں کہ اس کی کمی پھر کنایہ نہیں ہے اگر قمیض بول کر قمیض ہی کا ارادہ کروں یہ کس وقت جب لفظ ایک بولوں ارادہ دوسرے معنی کا کروں میں بتانا کیا چاہتا ہوں؟ اس کا قد لمبا ہے اور بول کیا رہا ہوں اس کی قمیض لمبی ہے لیکن سننے والا سمجھ گیا کہ کیا بتانا چاہ رہا ہے؟ اس کا قد لمبا ہے کیونکہ قمیض ظاہر سی بات ہے اسی کی لمبی ہوگی جس کا قد لمبا ہے تو جب میں نے کہا زید لمبی قمیض والا ہے اور ارادہ کس معنی کا کیا؟ کہ لمبے قد والا ہے تو اس کو کہتے ہیں کنایہ তো ایک ہے صاف لفظوں میں کوئی بات کرنا صراحتا اس کو کیا کہتے ہیں؟ صراحتا کوئی بات کرنا اور ایک ہے کنائے کے انداز میں کوئی بات کرنا تو یہاں پر بھی یہ کنایات ہیں جیسے کم و کذا کنایت از عدد یہ عدد سے کنایہ ہے کم و کذا کس سے کنایہ ہے؟ عدد سے آپ بھی استعمال کرتے ہیں اردو میں مثلا آپ اپنے کسی ساتھی کو بتا رہے تھے کہ میں نے جیب میں 50 ہزار روپے ڈالے اور میں اس ساتھی کی مدد کے لیے اس کے پاس گیا سن رہے ہیں؟ آپ نے جیب میں کتنے پیسے ڈالے؟ آپ اپنے ساتھی کو بتا رہے ہیں میں نے جیب میں 50 ہزار روپے ڈالے وہ میرا ساتھی ضرورت مند تھا تو میں نے جیب میں 50 ہزار روپے ڈالے اور میں اس کے پاس گیا اب آپ اس کو کہنا چاہتے ہیں کہ میں نے اس کو 50 ہزار روپے دے دیے اتنے میں ایک اور آدمی آگیا آپ دونوں باتوں میں مشغول ہیں ایک اور آدمی آگیا اب آپ اس کو نہیں بتانا چاہتے کہ میں نے کتنے پیسے دیے تو اب آپ کنایہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں تو میں نے اس کو اتنے پیسے دے دیے صورت سمجھ میں آ رہی ہے میں نے کیا کیا پہلے اس کو بتا دیا تھا جیب میں کتنے پیسے ڈالے؟ 50 ہزار اب میں اس کو بتانے لگا ہوں کہ میں اپنے ساتھی کے پاس گیا اور میں اس کو میں کہنا یہی تھا کہ میں نے اس کو پھر وہ 50 ہزار دے دیے کہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر لو لیکن اتنے میں ایک اور آدمی آگیا یا دو آدمی اور آگئے اور میں ان سے چھپانا چاہتا ہوں کہ کتنے پیسے دیے تو میں وہاں کنایہ کروں گا اور یوں کہوں گا تو میں نے اس کو اتنے پیسے دے دیے اتنے کا لفظ بول دیا یہ یوں کہوں اتنے اتنے پیسے میں نے اس کو پھر دے دیے آپ تو سمجھ گئے کہ نہیں سمجھ گئے؟ لیکن وہ نہیں سمجھے دیکھا میں نے ان سے چھپا لیا اس کو کہتے ہیں کنایہ عدد سے میں نے کیا کر لیا؟ کنایہ کر لیا تو کبھی کبھار عدد سے کنایہ کرتے ہیں اور کبھی کبھار بات سے کنایہ کرتے ہیں کس سے؟ بات سے کوئی بات آپ کسی سے کی ہے اب وہ بات اپنے ساتھی کو سنا رہے ہیں ابھی تھوڑی سی بات سنائی ہے ایک تیسرا آدمی آگیا اب آپ یہ نہیں بتانا چاہتے اس کو کہ میں نے اس سے اس سے کیا بات کی تھی تو آپ اس کو کہتے ہیں تو میں نے اس کو پھر یوں یوں کہا کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ بات آپ گول کر جاتے ہیں میں نے پھر اس کو یوں یوں کہا اور اس طرح بات آگے چلی دیکھا اب اس کو نہیں پتہ چلا کیا بات کہی تھی لیکن سننے والے کو کچھ نہ کچھ پتہ لگ گیا کچھ بات آپ نے اشارتا ذکر کر دی تھی تو اس کو کہتے ہیں کیا؟ کنایہ کنایہ دیکھو اب یہ کنایہ عدد سے کیا یا کسی بات سے کیا؟ بات سے پہلے صورت میں تھا عدد سے کنایہ کیا تھا اور اس میں بات سے تو عربی کے اندر بھی اسی طرح ہے عدد سے کنایہ کرنے کے لیے کم اور کذا ہے کم اور کذا اور بات سے کنایہ کرنے کے لیے کَیتا اور زَیتا ہے عربی میں کہتے ہیں میں نے اس کو یوں یوں کہا یا ایسے ایسے کہا میں نے اس کو ایسے ایسے کہا قُلْتُ لہ کَیتا و کَیتا یا کہتے ہیں قُلْتُ لہ کَیتا و زَیتا یا قُلْتُ لہ زَیتا یا قُلْتُ لہ کَیتا جیسے بھی آپ بولنا چاہیں دو دفعہ لانا چاہیں ایک دفعہ لانا چاہیں دونوں تو کَیتا اور زَیتا کسی بات سے کنائے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور کم اور کذا کسی عدد سے کنایہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں بات سمجھ میں آ گئی دیکھیے کتاب پر ہفتم جو ہے ساتواں جو ہے اسمائے کنایات وہ کیا ہیں؟ اسمائے کنایات ہیں چونکہ کم و کذا کنایت از عدد جیسے کم اور کذا یہ کس سے کنایہ ہیں؟ عدد سے و کَیتا و زَیتا اور کَیتا اور زَیتا جو ہیں کنایت از حدیث حدیث کا معنی ہوتا ہے بات بات کنایت از حدیث یہ دونوں کنایہ ہیں حدیث سے یعنی بات سے تو حدیث بات کو کہتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال وغیرہ کو بھی حدیث کہتے ہیں کیونکہ اس میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں ہوتی ہیں کیا ہوتی ہیں؟ حدیث کا اصل معنی ہے بات اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں ہیں تو اس لیے اس کو حدیث کہتے ہیں ہشتہم جو ہے مرکبِ بنائی ہشتہم مرکبِ بنائی آٹھواں کیا ہے؟ مرکبِ بنائی ہے مرکبِ بنائی آپ پڑھ چکے ہیں مرکبِ بنائی کہاں پر یہ بات آئی تھی؟ مرکب غیر مفید کا جب بیان آیا تھا انہوں نے آپ کو بتلایا تھا مرکب غیر مفید جو ہے وہ تین قسم پر ہے یا وہ مرکب اضافی ہوگا یا وہ مرکبِ بنائی ہوگا یا وہ مرکبِ منع صرف ہوگا مرکبِ بنائی کس کو کہتے تھے؟ احَدَ عَشَرَ جیسے احَدَ عَشَرَ مرکبِ بنائی آپ پڑھ چکے ہیں اصل میں تھا احد و عشرون احد و عشرون گیارہ کے لیے عدد ہے احد پھر احد و عشرون دو اسم تھے احد الگ اسم تھا اور عشرون اور درمیان میں واؤ تھا پھر اس یہ جو واؤ ہے یہ اس کو حذف کر لیا یا یوں کہیں یہ واؤ عشرون میں چھپ گیا کس میں چھپ گیا؟ عشرون میں اور تو واؤ ختم کر دیا وہ عشرون میں چھپ گیا اور دونوں کو ملا کر ایک کر دیا یوں یوں کہو آسان لفظوں میں واؤ کو حذف کر دیا ہم نے بیچ میں سے ختم کر دیا عربوں نے اور احد و عشرون واؤ کو ختم کیا اور احد عشرہ دونوں کو جوڑ کر ایک ہی لفظ بنا لیا اور یہ دونوں جز مبنی ہیں دونوں پر فتحہ پڑھنا ہے احَدَ عَشَرَ احَدَ کی دال پر بھی فتحہ اور عَشَرَ کی را پر بھی فتحہ اور یہ مرکبِ بنائی کہلاتا ہے مرکبِ بنائی کیوں کہلاتا ہے؟ کیونکہ یہ مبنی ہے تو احَدَ عَشَرَ یہ کیا ہے؟ مرکبِ بنائی ہے اور یہ انیس تک اسی طرح ہے لیکن اثنا عشرہ میں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس کا پہلا جز معرب ہے حالتِ رفعی میں کہیں گے اسنا عشرہ اور حالتِ نصبی جری میں کہیں گے اسنْئ عشرہ دیکھا یہ اسنا اور اسنئ بدل رہا ہے اور مبنی تو وہ ہوتا ہے جو بدلتا ہی نہیں ہے تو احَدَ عَشَرَ سے لے کر تسعۃ عشرہ تک انیس تک سارے مبنی ہیں سوائے کس کے؟ اثنا عشرہ کے کہ اس کا پہلا جز وہ معرب ہے وہ بدلتا ہے صورت سمجھ میں آ گئی تو کہتے ہیں ہشتہم مرکبِ بنائی آٹھواں جو ہے وہ مرکبِ بنائی ہے جو احَدَ عَشَرَ جیسے احَدَ عَشَرَ اچھا چلیے بس بھئی حاصلِ کلام پھر سن لیجیے آج آپ نے پانچ قسمیں پڑھیں اسمِ غیر متمکن کی شروع سے دہرائیں بھئی اسمِ متمکن کی پہلی قسم مضمرات دوسری قسم اسمائے اشارہ تیسری قسم اسمائے موصولہ چੌتھی قسم اسمائے افعال پانچویں قسم اسمائے اصوات چھٹی قسم اسمائے ظروف ساتویں قسم اسمائے کنایات اور آٹھویں قسم مرکبِ بنائی یہ آٹھ قسمیں ہر وقت آپ کو یاد ہونی چاہیے بھئی میں بار بار ذکر کر رہا ہوں ان کو خوب یاد کرو نحو آپ کی بہترین ہو جائے گی یہ چیزیں جب آپ کو یاد ہوں گی تو آج ہم نے پڑھا اسمائے افعال کے بارے میں اور میں نے بتایا اسمائے افعال وہ دراصل اسم ہیں لیکن معنی کس کا ادا کر رہے ہیں؟ فعل والا اور یہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک کبھی یہ امر حاضر کے معنی میں ہوگا اور کبھی فعل ماضی کے معنی میں اور امر حاضر بھی مبنی الاصل اور فعل ماضی بھی مبنی الاصل ہے تو جب یہ ان کے معنی ادا کر رہے ہیں تو یہ ان جیسے ہوگئے اور جب ان جیسے ہوگئے تو وہ تو مبنی تھے یہ بھی کیا بن گئے؟ مبنی اور میں نے یہ بھی بتلاایا کہ فعل مضارع کے معنی میں بھی اسمائے افعال آتے ہیں لیکن چونکہ وہ قلیل ہیں اس لیے ان کو ذکر نہیں کیا اور وہ بھی مبنی ہیں وہ فعل ماضی پر محمول ہیں جب ایک فعل ماضی والے مبنی تو فعل مضارع کے جو معنی میں ہیں ان کو بھی کیا قرار دیا؟ وہ بھی مبنی ہیں بھئی اور اس کے بعد پھر اسمائے اصوات میں نے بتایا اسمائے اصوات وہ اسم جس کے ذریعے آوازیں ذکر کی جائیں وہ آوازیں پھر مختلف قسم کی ہوتی ہیں بعض آوازیں وہ ہیں جو خوشی اور غم کے موقع پر انسان ادا کرتا ہے بعض آوازیں وہ ہیں کہ انسان دوسرے جانوروں کو ڈانٹنے کے لیے یا پانی پلانے کے لیے یا بٹھانے وغیرہ کے لیے آوازیں نکالتا ہے اور بعض آوازیں وہ ہیں جو انسان دوسرے حیوانات کی آواز کو نقل کرتا ہے جیسے آپ بھی اردو میں کہتے ہیں بکری مےں کرتی ہے بلی میاؤں کرتی ہے اور کوا کائیں کائیں کرتا ہے تو یہ آپ آوازوں کو نقل کرتے ہیں اس کے بعد اگلی قسم تھی اسمائے ظروف اسمائے ظروف میں نے بتایا ان کو ظرف کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ظرف کا کیا معنی ہوتا ہے؟ برتن اور جس طرح برتن نے اپنے اندر چیز کا احاطہ کیا ہوتا ہے اسی طرح یہ جو زمانہ اور جگہ ہے اس نے بھی ہمارے ہر فعل کا احاطہ کیا ہوتا ہے تو ہم جو بھی فعل کریں وہ کسی نہ کسی زمانے میں ہوگا اور کسی نہ کسی جگہ میں ہوگا تو پھر یہ دو قسم پر ہے کچھ ظرف زمان ہے اور کچھ ظرف مکان اور پھر یہ بھی میں نے بتایا یہ کہ یہ بحث چل رہی ہے اس میں غیر متمکن کی تو یہ اسمائے ظروف آپ یہ نہ سمجھ لینا کہ سارے ہی مبنی ہوتے ہیں بلکہ کچھ مبنی ہیں اور کچھ معرب ہیں تو یہاں جو ذکر کر رہے ہیں وہ صرف کن کو ذکر کر رہے ہیں؟ جو مبنی ہیں غیر متمکن ہیں وہ ذکر کر رہے ہیں کچھ ظرف زمان ہیں اور کچھ ظرف مکان اور ان میں سے پھر بتلایا تھا کہ ظرف زمان میں سے قبل اور بعد اور ظرف مکان میں سے قدام تحت اور فوق یہ ہمیشہ کیا چاہتے ہیں؟ مضاف الیہ اور ان کے استعمال کی کتنی صورتیں؟ تین پہلی صورت کیا؟ کہ مضاف الیہ ان کے ساتھ عبارت میں ذکر ہو دوسری صورت عبارت سے حذف ہو لیکن نیت میں موجود ہو تیسری صورت عبارت سے بھی حذف اور ذہن سے بھی حذف ہو یعنی ختم کر دیا تو ان تین صورتوں میں سے ایک صورت میں یہ مبنی ہوتے ہیں اور وہ کون سی صورت؟ کہ عبارت سے محذوف ہو مضاف الیہ لیکن نیت میں موجود ہو اس کے بعد ساتویں قسم جو ہے وہ اسمائے کنایات میں نے بتایا کنایات کہ ایک ہے صریح صاف لفظوں میں بات کرنا ایک ہے کنائے کے انداز میں (یعنی یوں کہو گول مول بات کرنا دوسرے کو پوری بات کا پتہ نہ چلے) اور وہ تو اس کے مختلف فائدے ہیں یہ ایک تو یہ تو میں نے ایک صورت ذکر کر دی نا چھپانے کے لیے آپ نے ذکر نہیں کیا بعض اوقات ویسے ہی کنایہ کر دیا جاتا ہے یہ مقصد کسی سے چھپانا نہیں ہوتا تو مختلف مقاصد ہوتے ہیں لیکن ایک استعمال میں نے بتلا دیا اس سے آپ کو سمجھ میں آگئی کہ آپ کسی سے بات کوئی عادت چھپانا چاہتے ہیں تو آپ اس سے کنایہ کر لیتے ہیں کہ میں نے اسے اتنے اتنے روپے دیے یا آپ کسی سے کوئی بات چھپانا چاہتے ہیں تو آپ پھر کہتے ہیں میں نے اسے ایسے ایسے کہا یا میں نے اسے یوں یوں کہا تو دیکھو کنایہ کر لیا تو کنایہ کبھی کس سے ہوتا ہے؟ عدد سے اور کبھی کسی بات سے تو عدد سے کنایہ کے لیے کم اور کذا ہیں اور بات سے کنایہ کے لیے کَیتا اور زَیتا ہیں اور آٹھویں قسم جو ہے وہ مرکبِ بنائی پڑھی مرکبِ بنائی جس میں دو لفظوں کو جوڑ کر ایک بنا لیا جاتا ہے اور ان کے اندر کسی حرف کا یعنی حرف واؤ کا معنی ان کے اندر چھپ جاتا ہے اور واؤ تو کیا ہے؟ حرف اور حروف تو کیا ہیں؟ مبنی الاصل تو جب مبنی الاصل کا معنی ان کے اندر آگیا تو یہ بھی کیا بن گئے؟ مبنی بن گئے اس لیے اس کو مرکبِ بنائی کہتے ہیں بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح چلیے بس بھئی ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام
56 approved lectures · 15 of 56