Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحو مير · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 02 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 47
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصلٌ بدان کہ علامتِ اسم آن است کہ الف و لام یا حرفِ جر در اولش باشد، چون الحمدُ و بزیّدٍ۔ یا تنوین در آخرش باشد، چون زایدٌ۔ یا مسند الیہ باشد، چون زیدٌ قائمٌ۔ یا مضاف باشد، چون غلامُ زایدٍ۔ یا مصغر باشد، چون قریشٌ۔ یا منسوب باشد، چون بغدادیٌّ۔ یا تثنیہ باشد، چون رجلانِ۔ یا مجموع باشد، چون رجالٌ۔ یا موصوف باشد، چون جاء رجلٌ عالمٌ۔ یا تائے متحرک بہ دو پیوندد، چون ضاربةٌ۔ بھئی، پہلے گزشتہ سبق کا خلاصہ سن لیجیے بھئی۔ گزشتہ سبق میں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو مرکبِ غیرِ مفید ہوتا ہے، یہ ہمیشہ جملے کا جز بنتا ہے۔ یعنی یا تو یہ مسند بنے گا یا مسند الیہ۔ یعنی اس طرح تو جملے کا، یعنی جز بنے گا، پورا جملہ نہیں بنے گا۔ اور اس کے بعد انہوں نے بتلایا تھا کہ کوئی بھی جملہ دو لفظوں سے کم نہیں ہوگا۔ ہر جملے میں کم از کم کتنے لفظ ہوں گے؟ دو۔ اور پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ لفظ کو لفظ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ہم اس پر تلفظ کرتے ہیں، یعنی زبان سے ادا کرتے ہیں۔ دیکھو، اب میں زبان سے یہ جو کچھ بول رہا ہوں، یہ سارے الفاظ ہیں بھئی۔ تو لفظ کو لفظ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ہم اس پر کیا کرتے ہیں؟ تلفظ کرتے ہیں۔ دیکھو، ہم جو بھی بات کرتے ہیں، پہلے ذہن میں سوچتے ہیں اور پھر زبان سے اس کو ادا کرتے ہیں۔ تو جب تک ذہن کے اندر ہیں، وہ معنی جو ہم نے ادا کرنا ہے، اس کو لفظ نہیں کہیں گے۔ لیکن جب ہم اس کو زبان سے ادا کر دیں گے تو اسے لفظ کہیں گے۔ تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ کوئی بھی جملہ دو لفظوں سے کم نہیں ہوگا۔ لیکن وہ جو دو لفظ ہیں، وہ یا تو لفظاً ہوں گے یا تقدیراً۔ وہ دونوں لفظ لفظاً ہوں گے، کیا معنی؟ یعنی ہم ان دونوں پر الگ الگ تلفظ کریں گے، زیدٌ قائمٌ۔ دیکھو، زیدٌ پر الگ تلفظ کیا اور قائمٌ پر الگ تلفظ کیا۔ تو کوئی بھی جملہ دو لفظوں سے کم نہیں ہوگا اور ان دونوں پر یا تو ہم لفظاً تلفظ کریں گے یا تقدیراً، یا تقدیراً۔ جیسے اِضْرِبْ۔ اِضْرِبْ تو ایک ہی لفظ ہے، لیکن اس کے اندر اَنْتَ ضمیر چھپی ہوئی ہے۔ تو جب اِضْرِبْ بولا، تو اس کے اندر اَنْتَ ضمیر بھی آ گئی۔ تو دو لفظ ہو گئے، جملہ پورا ہو گیا۔ لیکن یہ دو لفظ لفظاً نہیں ہیں، لفظاً نہیں ہیں، یعنی دونوں پر ہم تلفظ نہیں کر رہے، ہاں تقدیراً ہیں دو لفظ۔ تقدیراً کا معنی میں نے بتلایا تھا کہ کتابوں کے اندر جگہ جگہ آتا ہے تقدیراً۔ قَدَّرَ یُقَدِّرُ تَقْدِیْرًا کا معنی ہوتا ہے فرض کرنا۔ جگہ جگہ کتابوں میں آتا ہے، طلباء کو علم نہیں ہوتا، تو آپ نے خوب اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا ہے۔ تقدیراً کا کیا معنی ہے؟ فرض کرنا۔ تو دیکھو، میں نے اِضْرِبْ کہا۔ ایک لفظ بولا یا دو لفظ بولے؟ ایک لفظ بولا۔ لیکن فرض کر لو میں نے دو بول دیے۔ فرض کر لو۔ کس طرح فرض کیا آپ نے؟ کیونکہ اس کے اندر کیا چھپا ہوا ہے؟ اَنْتَ۔ تو جب میں نے اِضْرِبْ کہا، تو اِضْرِبْ بھی آ گیا اور اس کے اندر اَنْتَ بھی آ گیا۔ تو فرض کر لو کتنے لفظ ہو گئے؟ دو ہو گئے، دو پر تلفظ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے کہ کلمہ جو ہے، وہ دو لفظوں سے بنے گا۔ اچھا، کلمہ کسے کہتے ہیں؟ میں نے آپ کو بار بار آپ سے پوچھتا ہوں۔ با معنی لفظ کو، جس کا لفظ کا کوئی معنی ہو۔ اور جس لفظ کا کوئی معنی نہ ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مہمل۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ مہمل۔ اچھا، یہ چونکہ ابتدائی کتاب ہے، تو بار بار میں درمیان میں شروع سے سارا تکرار کروانے کی کوشش کروں گا۔ ٹھیک ہے؟ جتنی دفعہ تکرار ہوتا ہے ایک چیز کا، اتنی ہی وہ ذہن کے اندر بیٹھ جاتی ہے۔ اِذَا تَکَرَّرَ تَقَرَّرَ۔ اِذَا تَکَرَّرَ چھوٹے کاف سے ہے، اِذَا تَکَرَّرَ تَقَرَّرَ۔ تو دوسرے تَقَرَّرَ میں دو نقطوں والا قاف ہے۔ تو اِذَا تَکَرَّرَ، جب ایک چیز کا تکرار ہوتا ہے، تَقَرَّرَ، تو وہ جم جاتی ہے، ذہن میں بیٹھ جاتی ہے۔ تو لہٰذا ہم بار بار شروع سے تکرار کیا کریں گے۔ ہر چند سبقوں کے بعد پھر شروع سے سارا تکرار کر لیا کریں گے اور آپ لوگ بھی یاد رکھنا، جب کوئی کتاب پڑھ رہے ہوں، اس کا آپ تکرار کرتے ہیں، تو گزشتہ سبقوں کا بار بار تکرار کیا کرو بھئی۔ اور بڑا آسان ہے، کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ مثلاً، آج آپ نے ایک سبق پڑھا، آج اب آپ جا کر اس کا تکرار کریں گے بیٹھ کر، تو ہو سکتا ہے آپ کو 15 یا 20 منٹ لگ جائیں۔ اور اگلے دن پھر جب نئے سبق کا تکرار کرنے لگیں، تو ساتھ ہی اس گزشتہ کل والے سبق کا بھی تکرار کر لیں اور آپ دیکھیں گے کہ یہ جو پچھلے سبق پہ کل ہمارے 20 منٹ تکرار پہ لگے تھے، اگلے دن آپ دیکھیں گے آج اس کے تکرار پر صرف سات آٹھ منٹ لگے ہیں۔ اور اس سے اگلے دن دوبارہ تکرار کریں گے، تو پھر آپ دیکھیں گے آپ صرف پانچ منٹ لگے ہیں۔ تو ہر تکرار میں آپ 10، 15، 20 منٹ زائد لگا کر پچھلے کئی دنوں کے سبق کا تکرار کر سکتے ہیں۔ تو یہ اپنی ترتیب رکھیں۔ تو اس سبق میں بھی ہم اسی طرح کریں گے، کوشش کریں گے۔ دعا کریں، اللہ توفیق دے، آسان فرمائے کہ بار بار اس کا تکرار کرتے رہیں، تاکہ بہترین ذہن میں یہ چیزیں جم جائیں۔ تو انہوں نے کیا کہا کہ کوئی جملہ دو کلموں سے کم نہیں ہوگا، یا تو وہ دو کلمے لفظاً ہوں گے یا تقدیراً ہوں گے، یعنی دو، یعنی فرض کر لیا۔ اِضْرِبْ ہے تو ایک، لیکن فرض کیا کر لیں کہ دو ہیں، کیونکہ اس کے اندر اَنْتَ چھپا ہوا ہے۔ اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ بھی کلمات ہو سکتے ہیں ایک جملے میں اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ یاد رکھو، جب جملے میں زیادہ لفظ ہوں گے، تو جملے میں اصل تو دو ہی چیزیں ہوتی ہیں: ایک مسند اور دوسرا مسند الیہ۔ مسند اور مسند الیہ آ جائیں تو بات پوری ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر ایک جملے میں 10 لفظ ہیں، تو آپ پریشان نہ ہوں کہ مسند تو ایک نے بننا ہے، مسند الیہ نے بھی ایک نے بننا ہے، تو باقی لفظوں کا کیا ہوگا؟ یاد رکھنا، یہ جو باقی لفظ ہوتے ہیں، کچھ مسند الیہ سے جڑ جاتے ہیں اور کچھ مسند سے جڑ جاتے ہیں۔ تو حصے دو ہی بنتے ہیں کلام کے۔ اور آسان لفظوں میں، مسند اور مسند الیہ کے بارے میں میں نے بتلایا تھا کہ مسند الیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے بارے میں بات کی جائے۔ اور جو بات کی جائے، وہ کیا کہلاتی ہے؟ مسند کہلاتی ہے۔ تو کچھ لفظ جڑ جائیں گے مسند الیہ کے ساتھ، جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے، اور کچھ لفظ کس کے ساتھ جڑ جائیں گے؟ مسند کے ساتھ جڑ جائیں گے، یعنی جو بات کی جا رہی ہے۔ تو انہوں نے کیا بتلایا؟ ایک جملے میں کم از کم کتنے لفظ ہوں گے؟ دو۔ کیونکہ مسند اور مسند الیہ دونوں چاہیے اور زیادہ بھی ہو سکتے ہیں اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ 10، 20، 30، 40، 50، جتنے لفظوں کو جوڑ کر آپ جملہ بنانا چاہیں، آپ بنا سکتے ہیں۔ زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو مطالعہ کرنے کا طریقہ بتلایا تھا کہ کسی کتاب کو حل کیسے کرنا ہے، آپ نے مطالعہ کیسے کرنا ہے۔ انہوں نے بتلایا تھا کہ جب ایک جملے میں زیادہ الفاظ آ جائیں، تو آپ غور کر کے اسم کو بھی پہچان لیں، فعل بھی پہچان لیں اور حرف کو بھی۔ تو سب کو الگ الگ کر لیں کہ یہ کیا ہیں سارے؟ یہ والے اسم ہیں، یہ والے سارے فعل ہیں اور یہ سارے حرف ہیں۔ تو ان سب کو پہچان لیں۔ پہچاننے کے بعد، اس کے بعد پھر ان میں غور کریں کہ یہ معرب ہیں یا مبنی ہیں۔ معرب اور مبنی کی بھی پہچان آپ کر لیں۔ معرب کسے کہتے ہیں؟ جس کا آخر بدلتا ہے: زیدٌ، زیداً، زیدٍ۔ دیکھو، اس کا آخر بدل رہا ہے۔ اور مبنی کسے کہتے ہیں؟ جس کا آخر نہیں بدلتا، جیسے ہُوَ اور ھٰذَا۔ ہُوَ، اس کا آخر ہمیشہ اسی طرح رہے گا۔ ھٰذَا، اس کا آخر ہمیشہ اسی طرح رہے گا، تو اس کو مبنی کہتے ہیں۔ تو سب سے پہلے کیا کریں؟ اسم، فعل اور حرف کو پہچان لیں۔ اس کے بعد کون سا معرب ہے اور کون سا لفظ مبنی ہے، وہ بھی آپ پہچان لیں۔ اس کے بعد پھر تیسرا کام آپ یہ کریں کہ کون عامل ہے اور کون معمول۔ یاد رکھیے، یہ جو عربی کے اندر آپ الفاظ جوڑتے ہیں، تو کبھی پیش پڑھنا پڑتا ہے، کبھی زبر، کبھی زیر: زیدٌ، زیداً اور زیدٍ۔ یہ آپ اپنی مرضی سے نہیں پڑھیں گے، بلکہ موقعِ محل کے مطابق کہیں آپ کو زیدٌ پڑھنا پڑے گا، کہیں زیداً اور کہیں زیدٍ۔ تو یہ جو کسی لفظ پر زبر، زیر اور پیش آتے ہیں، یہ کسی اور لفظ کی وجہ سے آئیں گے۔ یعنی وہ لفظ عمل کرتا ہے اور اس لفظ پر پھر زبر، زیر یا پیش آ جاتا ہے۔ جیسے ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْرًوا۔ توجہ ہے؟ ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْرًوا۔ مارا زید نے عمر کو۔ تو یہاں زَیْدٌ پڑھنا پڑے گا، کیونکہ پٹائی کرنے والا کون ہے؟ زید ہے۔ تو یہ ضَرَبَ یاد رکھو، یہ فعل ہے اور زَیْدٌ اس کے لیے فاعل اور عَمْرًوا، اس پر زبر ہی پڑھنا پڑے گا، منصوب پڑھیں گے۔ اس کو کہتے ہیں مفعول بھئی۔ تو یہ ضَرَبَ کے لیے کیا ہے؟ مفعول۔ پھر دہراؤ: ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْرًوا۔ یہ زَیْدٌ کیا ہے ضَرَبَ کے لیے؟ فاعل ہے اور عَمْرًوا کیا ہے ضَرَبَ کے لیے؟ مفعول ہے۔ اور فاعل پر ہمیشہ ضمہ آتا ہے، اسی لیے ہم نے بھی ضمہ پڑھا: ضَرَبَ زَیْدٌ۔ دیکھو، زیداً نہیں پڑھنا، زیدٍ نہیں پڑھنا، زیدٌ پڑھنا ہے۔ اور عَمْرًوا مفعول ہے اور مفعول پر کیا پڑھتے ہیں؟ فتحہ پڑھتے ہیں، نصب پڑھتے ہیں۔ تو اسی لیے ہم نے بھی یہاں کیا پڑھا؟ فتحہ یعنی نصب پڑھا، عَمْرًوا پڑھا بھئی۔ تو یہاں ہم عَمْرٌو بھی نہیں پڑھ سکتے اور عَمْرٍو بھی نہیں پڑھ سکتے۔ تو فاعل ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مرفوع اور اس پر رفع آتا ہے۔ اور مفعول جو ہوتا ہے، وہ منصوب ہوتا ہے۔ اچھا، یہاں ایک اور بات سمجھ لیں۔ نئی ایک بات آ گئی، وہ بھی۔ بھئی، میں نے بتایا تھا پیش کو عربی میں ضمہ کہتے ہیں اور زبر کو عربی میں فتحہ کہتے ہیں اور زیر کو عربی میں کسرہ کہتے ہیں۔ انہی کے تین نام اور بھی ہیں: پیش کے لیے لفظ آئے گا رفع، زبر کے لیے لفظ آئے گا نصب اور زیر کے لیے لفظ آئے گا جر۔ پیش کے لیے رفع، زبر کے لیے نصب۔ رفع، نصب، جر۔ ایک نام کیا تھا؟ ضمہ، فتحہ، کسرہ۔ دوسرا نام کیا ہے؟ رفع، نصب، جر۔ بس، ابھی آپ صرف اتنا یاد رکھیں کہ پیش کے لیے لفظ کیا بولیں گے؟ رفع۔ زبر کے لیے کیا بولیں گے؟ نصب۔ اور زیر کے لیے کیا بولیں گے؟ جر۔ اب یہ کہاں رفع، نصب، جر بولنا ہے اور کہاں ضمہ، فتحہ، کسرہ بولنا ہے؟ تو یاد رکھو، رفع، نصب، جر معرب میں بولیں گے۔ معرب میں کیا کہیں گے؟ اس پر رفع ہے یا نصب ہے یا جر ہے۔ اور مبنی کے لیے کہیں گے کہ اس پر ضمہ ہے یا فتحہ ہے یا کسرہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ بلکہ یہ ضمہ، فتحہ، کسرہ عام ہے، یہ معرب کے لیے بھی بول سکتے ہیں اور... چلیں، تفصیل سمجھ لیں پوری۔ یہاں تین طرح کے نام ہیں۔ ایک رفع، نصب، جر۔ دہراؤ بھئی، یہ ہم تکرار کر رہے ہیں: رفع، نصب، جر۔ پھر دہراؤ: رفع، نصب، جر۔ اور دوسرا نام کیا ہے؟ ضمۃٌ، فتحۃٌ، کسرۃٌ۔ اس کے آخر اس کے ساتھ گول تا ملی ہوئی ہے: ضمۃٌ، فتحۃٌ، کسرۃٌ۔ ہم تو وقف کر رہے ہیں نا، ضمہ۔ ضمہ اصل میں کیا ہے؟ ضمۃٌ۔ ضمۃٌ، فتحۃٌ، کسرۃٌ، لیکن جب وقف کریں گے تو یوں ہی کہیں گے: ضمہ، فتحہ، کسرہ۔ تو آخر میں گول تا جڑی ہوئی ہے اور ایک تیسرا نام بھی ہے، اس میں آخر میں گول تا بھی نہیں جڑی ہوئی: ضَمٌّ، فَتْحٌ، کَسْرٌ۔ تو کتنے قسم کے نام ہو گئے؟ تین: رفع، نصب، جر۔ اور دوسرا: ضمۃٌ، فتحۃٌ، کسرۃٌ۔ اور تیسرا: ضَمٌّ، فَتْحٌ، کَسْرٌ۔ تو یہ جو رفع، نصب، جر، یہ معرب کے لیے بولتے ہیں۔ کس کے لیے؟ معرب کے لیے بولتے ہیں۔ رفع کس کو کہتے ہیں؟ پیش۔ لیکن پیش، یہ تو میں نے آپ کی آسانی کے لیے بتایا، کبھی یہی رفع واؤ کی صورت میں بھی آئے گا، کبھی یہی رفع الف کی صورت میں بھی آئے گا، یہ ساری تفصیل آگے آ رہی ہے۔ بس آپ ابھی آسانی کے لیے یہ یاد رکھیں کہ رفع کس کو کہتے ہیں؟ پیش کو کہتے ہیں، بس یہ سمجھ لو۔ اور نصب کس کو کہتے ہیں؟ زبر کو۔ یاد رکھنا، نصب ہمیشہ زبر کی صورت میں نہیں آتا، کبھی یا کی صورت میں بھی آتا ہے، کبھی الف کی صورت میں بھی آتا ہے، لیکن وہ آگے تفصیل آ جائے گی۔ لیکن بس آپ اتنا یاد رکھیں، نصب کس کے لیے آتا ہے؟ زبر کو کہتے ہیں۔ اور جر زیر کے لیے، لیکن زیر ہی کی صورت میں جر نہیں آتا، کبھی یا کی صورت میں بھی آتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو بس معرب کے لیے کیا لفظ بولنا ہے؟ رفع، نصب یا جر۔ پھر بولو، معرب کے لیے کیا بولنا ہے؟ رفع، نصب، جر۔ زیدٌ، زیداً، زیدٍ۔ آخر بدل رہا ہے یا نہیں؟ تو مبنی ہے یا معرب ہے؟ معرب ہے۔ تو زیدٌ، ہم کہیں گے یہ مرفوع ہے، اس پر رفع ہے۔ زیداً، ہم کہیں گے یہ منصوب ہے، یعنی اس پر نصب ہے۔ زیدٍ، ہم کہیں گے یہ مجرور ہے، یعنی اس پر جر ہے۔ تو معرب کے لیے کیا کہیں گے؟ رفع، نصب اور جر۔ اور مبنی کے لیے بغیر تا کے کہیں گے: ضَمٌّ، فَتْحٌ، کَسْرٌ۔ مثلاً ہُوَ، ہُوَ، اس کے آخر میں کیا ہے؟ زبر اور یہ کیا ہے؟ مبنی۔ تو ہم کیا کہیں گے؟ ہُوَ، کیا ہے؟ اس کے آخر میں فتحہ ہے۔ فتحٌ کہہ لیں یا فتحۃً کہہ لیں۔ فتحٌ کہیں تو فتحٌ خاص ہے کس کے ساتھ؟ مبنی کے ساتھ۔ اور فتحۃً کہیں تو فتحۃً دونوں کے لیے بولتے ہیں، معرب کے لیے بھی اور مبنی کے لیے بھی۔ پھر سنو! رفعٌ، نصبٌ، جرٌّ، یہ کس کے لیے، یہ کس کے ساتھ خاص ہے؟ معرب۔ اور ضمٌّ، فتحٌ، کسرٌ، بغیر گول تا کے ہو، یہ کس کے ساتھ خاص؟ یہ مبنی کے ساتھ۔ اور ضمۃٌ، فتحۃٌ، کسرۃٌ، یہ عام ہے، یہ معرب کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے اور یہ مبنی کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ یہ نام یاد رکھو، کتابوں میں کہیں پر آئیں تو آپ فوراً پہچان لیا کریں۔ رفعٌ، نصبٌ، جرٌّ کی بات چل رہی ہو تو سمجھ جائیں یہ معرب ہے، اور ضمٌّ، فتحٌ، کسرٌ کی بات چل رہی ہو تو سمجھ جائیں یہ مبنی ہے، اور ضمۃٌ، فتحۃٌ، کسرۃٌ استعمال ہو تو پھر دونوں احتمال ہیں، معرب کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے اور مبنی کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ اچھا، یہ عبارت حل کرنے کا طریقہ بتا رہے تھے کہ عبارت جب لمبی ہو، جملہ لمبا ہو، اس میں دو سے زیادہ الفاظ ہوں، سب سے پہلے کن کو پہچانو آپس میں؟ اسم، فعل اور حرف۔ ان کو الگ الگ کر لو۔ دوسرا عمل یہ کرو کہ کیا پہچانو؟ معرب اور مبنی پہچان لو۔ اور تیسرا عمل یہ کرو کہ عامل اور معمول۔ میں نے بتایا تھا: ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْرًوا۔ زَیْدٌ پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع۔ اور عَمْرًوا پر کیا پڑھنا ہے؟ نصب۔ تو یہ جو ضَرَبَ ہے نا، یہ عمل کر رہا ہے۔ اس نے زَیْدٌ کو رفع دیا اور اس نے عَمْرًوا کو نصب دیا۔ تو ضَرَبَ چونکہ عمل کرنے والا ہے، اس لیے اس کا نام ہوا عامل۔ یہ کون ہے؟ عامل، اس میں فاعل کا صیغہ ہے نا۔ ضارب کا کیا معنی ہوتا ہے؟ پٹائی کرنے والا۔ تو عامل کا معنی ہے عمل کرنے والا۔ اور کس میں عمل کیا؟ زَیْدٌ میں بھی اور عَمْرًوا میں بھی، تو وہ دونوں ہو گئے معمول، یعنی جس پر عمل کیا گیا۔ تو ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْرًوا، عامل کون؟ ضَرَبَ۔ اور معمول کون؟ زَیْدٌ بھی اور عَمْرًوا بھی۔ آپ نے تیسرا کام یہ کرنا ہے کہ جملے میں عامل اور معمول کو پہچاننا ہے کہ کون سا اسم یا فعل یا حرف عمل کرنے والا ہے اور کس پر عمل کر رہا ہے، عامل عمل کرنے والا کون اور کس پر عمل کر رہا ہے، وہ آپ نے پہچاننا ہے۔ تین چیزیں ہو گئیں، اور چوتھا کام آپ نے یہ کرنا ہے کہ ان کا آپس میں تعلق کیسا ہے، کیسے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کیسے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جیسے دیکھو: ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْرًوا۔ زَیْدٌ کس کے ساتھ جڑا ہوا ہے؟ ضَرَبَ کے ساتھ۔ اور عَمْرًوا بھی کس کے ساتھ جڑا ہوا ہے؟ ضَرَبَ کے ساتھ، وہ عامل یہ معمول۔ تو اس طرح آپ عامل اور معمول کو پہچان لیں، پھر آپس میں لفظ کس طرح جڑے ہوئے ہیں وہ آپ سارے الگ کر لیں۔ وہ ابھی تفصیل آگے آئے گی، کس طرح لفظ آپس میں ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ تو ان کو پہچان لیں۔ جب یہ سارے چار عمل آپ کر لیں گے، کون سے چار عمل؟ اسم، فعل اور حرف کو پہچان لیں، دوسرا معرب مبنی کو پہچان لیں، تیسرا عامل معمول کو پہچان لیں، چوتھا ان کا آپس میں تعلق کیسا ہے، کس کے ساتھ یہ جڑ رہے ہیں اور کس کے ساتھ نہیں جڑ رہے، وہ آپ پہچان لیں، تو آپ کو مسند اور مسند الیہ کا پتہ چل جائے گا۔ کس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے، وہ بھی پتہ لگ جائے گی، اور جو بات کی جا رہی ہے وہ بھی پتہ لگ جائے گی۔ جب مسند اور مسند الیہ کا آپ کو پتہ لگ گیا تو آپ کو جملے کا معنی سمجھ میں آ جائے گا۔ کس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے وہ بھی سمجھ میں آ جائے گا اور جو بات کی جا رہی ہے وہ بھی سمجھ میں آ جائے گی۔ تو اس طرح آپ کو جملے کا معنی تحقیقی طور پر معلوم ہو جائے گا۔ تحقیقی طور پر کیا معنی؟ یعنی اس کا صحیح صحیح معنی آپ کو معلوم ہو جائے گا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے سبق بھئی! فَصْلٌ: بِدَانْ کِہ عَلَامَتِ اِسْمْ آنَسْتْ کِہ اَلِفْ وَ لَامْ یَا حَرْفِ جَرّ دَرْ اَوَّلَشْ بَاشَدْ، چُوں: اَلْحَمْدُ وَ بِزَیْدٍ، یَا تَنْوِینْ دَرْ آخِرَشْ بَاشَدْ، چُوں: زَیْدٌ، یَا مُسْنَدٌ اِلَیْہِ بَاشَدْ، چُوں: زَیْدٌ قَائِمٌ، یَا مُضَافْ بَاشَدْ، چُوں: غُلَامُ زَیْدٍ۔ بھئی دیکھیے، ابھی انہوں نے آپ کو کیا بتلایا کہ جب جملے کے الفاظ زیادہ ہوں تو سب سے پہلے کیا کر لو؟ اسم، فعل اور حرف کو الگ کر لو۔ بھئی، اب ہم اسم، فعل اور حرف کو کیسے الگ کریں گے؟ انہوں نے تو ابھی تک ہمیں کوئی طریقہ نہیں بتلایا۔ تو یہ جو چیزیں انہوں نے ذکر کیں، اب وہ بیان کرنے لگے ہیں کہ اسم، فعل اور حرف کو پہچانو گے کیسے۔ پھر اس کے بعد معرب اور مبنی کو پہچانو گے کیسے، دوسرا کام کیا تھا؟ معرب اور مبنی کو الگ کرو۔ معرب اور مبنی کو کیسے پہچانو گے، پھر وہ بیان کریں گے۔ پھر اس کے بعد عامل اور معمول کا پتہ کیسے چلے گا، یہ سارا وہ اب تفصیل سے بیان کریں گے۔ تو سب سے پہلے اب وہ بتلانے لگے ہیں کہ ہم اسم، فعل اور حرف کو کیسے پہچانیں گے۔ چنانچہ علامتیں ذکر کریں گے۔ اسم کی یہ یہ علامت ہے۔ اسم کی یہ علامت ہے۔ مثلاً آپ سے میں کہتا ہوں کہ بھئی، مدرسے کے اندر ایک طالب علم آیا ہے، اس کو ڈھونڈ کر میرے پاس لے کر آؤ۔ نام کا نہ مجھے پتہ ہے اور نہ آپ کو پتہ ہے۔ تو پھر اب کیسے لے کر آئیں، مدرسے میں تو سینکڑوں طالب علم ہیں؟ تو پھر میں آپ کو نشانی بتلاؤں گا کہ بھئی، وہ طالب علم جس نے پگڑی باندھی ہو گی، پھر اس کی کوئی اور نشانی بتلاؤں گا، اس نے اس طرح کے کپڑے پہنے ہوں گے، تو کئی نشانیاں بتاؤں گا اور اس کی مدد سے جا کر آپ اس کو پہچان لیں گے۔ تو یہ جو علامت ہوتی ہے نا، علامت کے ذریعے کسی چیز کو پہچانا جاتا ہے۔ علامت کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔ دیکھو، ایک ہوتا ہے ایک چیز کا معنی اور مفہوم، معنی اور مفہوم سے ایک چیز سمجھ میں تو آ جاتی ہے، لیکن خارج میں جب اس کو پہچاننا ہے اس کے لیے کوئی نشانی چاہیے، تو وہ نشانیاں اب بیان کرنے لگے ہیں کہ اسم کی یہ یہ نشانیاں ہیں۔ جس لفظ میں یہ چیزیں ہیں، ان میں سے کوئی چیز نظر آ جائے سمجھ جاؤ یہ اسم ہے۔ فعل کی یہ نشانیاں ہیں، جس میں یہ فعل والی نشانی نظر آ جائے سمجھ جاؤ کہ وہ فعل ہے۔ جیسے مثلاً ایک اسم کی نشانی آپ کو بتلائیں گے کہ اس کے شروع میں الف لام آ جاتا ہے۔ تو جس اسم کے شروع میں الف لام آپ کو نظر آئے، آپ سمجھ جائیں کہ یہ کیا ہے؟ اسم۔ جیسے اَلْحَمْدُ، دیکھا! اَلْحَمْدُ کے شروع میں کیا ہے؟ الف لام۔ الف لام دیکھتے ہی آپ پہچان گئے، یہ کیا ہے؟ اسم ہے۔ تو اب آگے وہ اسم اور فعل وغیرہ کی علامتیں بیان کریں گے۔ ان علامتوں کے ذریعے آپ عبارت کے اندر آسانی سے فعل کو بھی پہچان سکتے ہیں اور اسم کو بھی پہچان سکتے ہیں۔ تو علامت کے ذریعے کیا ہوتا ہے؟ کسی چیز کی خارج میں پہچان۔ دیکھو بھئی، اسم فعل کی تعریف بھی گزری تھی پیچھے۔ اسم کے بارے میں آپ نے پڑھا تھا کہ اسم وہ کلمہ ہے، اسم دیکھا! معلوم ہوا اسم با معنی ہو گا ہمیشہ، اس کا کچھ نہ کچھ معنی ہو گا کیونکہ وہ کلمہ ہے اور کلمہ کس کو کہتے ہیں؟ با معنی لفظ کو۔ تو معلوم ہوا اسم کا بھی کچھ نہ کچھ معنی ہو گا۔ اور پھر یہ بھی بتایا تھا کہ اسم وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے، کسی دوسرے کلمے کے جڑنے کا محتاج نہیں، اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا نہیں ہوتا، تو یہ اسم کہلاتا ہے۔ اب اسم کی تعریف تو آپ کو سمجھ میں آ گئی، لیکن عبارت میں اس کو پہچانیں گے کیسے؟ وہ علامت کے ذریعے پہچانیں گے۔ کس کے ذریعے؟ علامت کے ذریعے پہچانیں گے۔ تو یہ اب علامتیں بیان کر رہے ہیں، یہ علامتیں اتنی آسان ہیں، آپ کو زبانی یاد ہونی چاہئیں۔ جہاں اسم آئے گا، ان علامتوں میں سے کوئی ایک دیکھتے ہی آپ اس کو پہچان لیں گے۔ ایک اور بات یاد رکھنا، علامت وہ چیز ہو گی جو اسم، مثلاً اسم کی علامت ہے، تو علامت اس کو کہیں گے جو اسم میں تو پائی جائے، فعل میں نہ پائی جائے، حرف میں بھی نہ پائی جائے۔ اگر وہ فعل اور حرف میں بھی ہے تو پھر اس سے تو ہمیں پتہ نہیں چلے گا کہ یہ اسم ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ کیا ہو؟ فعل، کیونکہ وہ فعل میں بھی ہے، اور ہو سکتا ہے وہ حرف ہو کیونکہ وہ حرف میں بھی ہے۔ تو علامت وہ چیز ہو گی یاد رکھنا جو صرف اسی کے اندر پائی جائے، دوسری چیزوں میں نہ پائی جائے۔ تو جو اسم کی علامت ہو گی وہ صرف اسم میں ملے گی آپ کو، فعل میں نہیں۔ اگر فعل میں بھی وہ پائی جاتی ہے تو پھر وہ اسم کی علامت ہی نہیں، وہ تو علامت ہی نہیں ہے۔ تو علامت وہ ہو گی جو ایک چیز میں پائی جائے، دوسروں میں نہ پائی جائے اور اس کے ذریعے چیز کی پہچان ہوتی ہے۔ میں نے اس کی مثال دے دی، کسی کو تلاش کرنا ہے، آپ کو اس کی نشانیاں بتا دیتے ہیں کہ ایسا لباس ہو گا، ایسی پگڑی ہو گی، اس طرح کا رومال ہو گا۔ دیکھو! معلوم ہوا یہ کسی اور کا اس طرح کا لباس نہیں ہو گا، اگر اوروں کا بھی ایسا ہی لباس ہے پھر تو آپ اسے نہیں پہچان سکتے بھئی۔ اسم کی علامت وہ ہے جو اسم میں پائی جائے، فعل اور حرف میں نہ پائی جائے، اور فعل کی علامت وہ ہے جو فعل میں تو پائی جائے لیکن اسم اور حرف میں نہ پائی جائے۔ تو اب اسم کی علامتیں بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: بِدَانْ کِہ عَلَامَتِ اِسْمْ آنَسْتْ، بِدَانْ کِہ عَلَامَتِ اِسْمْ آنَسْتْ، جان لے تو کہ اسم کی علامت وہ ہے کِہ اَلِفْ وَ لَامْ یَا حَرْفِ جَرّ دَرْ اَوَّلَشْ بَاشَدْ، کہ الف لام یا حرفِ جر دَرْ اَوَّلَشْ بَاشَدْ۔ اوّلہُ کا کیا معنی؟ اوّل کا معنی پہلے، اوّل، اور میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ شین فارسی زبان میں کس کے لیے آتا ہے؟ اس، اس۔ اوّلہُ، اس کے اوّل میں، اس کے شروع میں۔ کتابہُ، اس کی کتاب۔ قلمہُ، اس کا قلم۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کِہ حَرْفِ جَرّ دَرْ اَوَّلَشْ بَاشَدْ، اس کے شروع میں ہو۔ الف لام بھئی، ابھی میں نے مثال ذکر کر دی، ابھی میں نے مثال ذکر کر دی: اَلْحَمْدُ، دیکھو شروع میں کیا ہے؟ الف لام۔ اس الف لام سے آپ کو پتہ چل گیا کہ یہ فعل بھی نہیں ہے، یہ حرف بھی نہیں ہے، بلکہ یہ کیا ہے؟ اسم ہے۔ تو کسی بھی لفظ کے شروع میں الف لام آ جائے، آپ سمجھ جائیں کہ یہ اسم ہے۔ جیسے القرآن، جی القرآن اسم ہے، فعل ہے یا حرف؟ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ الف لام سے۔ المدینۃ، یہ کیا ہے؟ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ الف لام سے پتہ چلا۔ مدرسۃ، کیا ہے؟ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ الف لام شروع میں آیا۔ تو ایک علامت اسم کی یہ ہے، اس کے شروع میں الف لام آتا ہے۔ اور یا اس کے شروع میں حرفِ جر آتا ہے۔ کیا آتا ہے؟ حرفِ جر۔ ابھی میں نے بتلایا، جر جو ہے عموماً زیر کی صورت میں آتا ہے۔ تو یہ کچھ حروف ہیں، کچھ حروف ہیں، یہ اسم پر داخل ہوتے ہیں اور جس اسم پر بھی یہ داخل ہوتے ہیں اس کو جر دے دیتے ہیں۔ یعنی اس پر جر آ جائے گی، اور جر عموماً جر زیر کی صورت میں آئے گی، لیکن کبھی کبھار جر فتحہ کی صورت میں بھی آ سکتی ہے، کبھی جر یا کی صورت میں بھی آ سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جر کی کتنی صورتیں ہو گئیں؟ تین صورتیں۔ کبھی جر کس صورت میں؟ کسرہ کی صورت میں۔ کبھی جر یا کی صورت میں، اور کبھی جر فتحہ کی صورت میں۔ غیر منصرف آئے گا، اس پر جر فتحہ کی صورت میں آئے گا۔ تو جر کی کتنی صورتیں؟ تین۔ تو یاد رکھو! جر جو ہے جر، کبھی زیر کی صورت میں آتا ہے، کبھی فتحہ کی صورت میں، اور کبھی یا کی صورت میں۔ یہ آگے ساری چیزیں آ جائیں گی بھئی، لیکن بہرحال جو میں بیان کر رہا ہوں کم از کم یاد رکھنے کی اسے کوشش کریں۔ تو یہ حروفِ جارہ، یہ کچھ حروف ہیں، یہ تقریباً سترہ حروف ہیں، یہ آگے ان کا ذکر بھی کریں گے۔ سترہ ہیں، اور یہ جس اسم پر داخل ہوتے ہیں اس کو جر دے دیتے ہیں۔ کیا دے دیتے ہیں؟ جر۔ اور یہ حروفِ جارہ صرف اسم پر داخل ہوتے ہیں، فعل یا حرف پر کبھی بھی داخل نہیں ہوتے۔ تو جس لفظ کے شروع میں کوئی حرفِ جر آپ کو نظر آ جائے، آپ سمجھ جائیں کہ یہ لفظ کیا ہے؟ اسم۔ وہ لفظ جس سے پہلے کیا آ جائے؟ حرفِ جر، معلوم ہوا وہ لفظ کیا ہے؟ اسم۔ اور حرفِ جر عمل کرتا ہے، یہ جر دے دیتا ہے۔ تو حروفِ جارہ ہوئے عامل، اور جس پر یہ داخل ہوں وہ کیا ہو گا؟ معمول۔ یہ کیا دیں گے؟ جر۔ تو جر ان حروفِ جارہ کی وجہ سے آتا ہے۔ تو کہتے ہیں: عَلَامَتِ اِسْمْ آنَسْتْ، اسم کی علامت وہ ہے کِہ اَلِفْ وَ لَامْ یَا حَرْفِ جَرّ دَرْ اَوَّلَشْ بَاشَدْ، کہ الف لام یا حرفِ جر دَرْ اَوَّلَشْ اس کے شروع میں بَاشَدْ ہو۔ چُوں: اَلْحَمْدُ، جی! یہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف؟ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ الف لام شروع میں ہے۔ وَ بِزَیْدٍ، یاد رکھو یہ جو با ہے با، یہ حروفِ جارہ میں سے ہے۔ دیکھو، بِزَیْدٍ، زید پر کیا پڑھ رہا ہوں میں؟ زیر پڑھ رہا ہوں، جر پڑھ رہا ہوں۔ یہ جر کس نے دیا؟ با نے۔ تو یہ با ہے عامل اور زَیْدٍ کیا ہے؟ معمول۔ اور نیز یہ زید کیا ہے؟ معرب ہے، دیکھو اس کا آخر بدل رہا ہے۔ اور نیز آپ کو کیا پتہ چلا کہ یہ زید اسم ہے، فعل ہے یا حرف؟ اسم ہے۔ کیسے پتہ چلا؟ اس کے شروع میں با آ گئی، اور با کس میں سے ہے؟ حروفِ جارہ میں سے۔ اور ہم نے پڑھا کہ جس لفظ کے شروع میں بھی حرفِ جر آ جائے وہ کیا ہوتا ہے؟ اسم ہوتا ہے۔ تو بِزَیْدٍ میں اسم کیا ہے؟ زَیْدٍ، اور با کیا ہے؟ جارہ ہے۔ تو الف لام بھی شروع میں آئے گا اور حرفِ جر بھی شروع میں۔ لیکن حرفِ جر کا جو اثر ظاہر ہو گا وہ آخر میں آئے گا، زید کے آخر میں کیا آ گئی؟ جر آ گئی۔ تو الف لام شروع میں آئے یا حرفِ جر شروع میں آئے تو یہ اسم کی علامت ہے۔ یَا تَنْوِینْ دَرْ آخِرَشْ بَاشَدْ، یا تنوین دَرْ آخِرَشْ، کیا معنی؟ اس کے آخر میں۔چوں اس کے لیے آتا ہے۔ در آخرش باشد یا تنوین اس کے آخر میں ہو، چوں زید جیسے زید۔ دیکھو بھئی! تنوین یاد رکھو نونِ ساکن کا نام ہے۔ کس کا نام ہے؟ نونِ ساکن۔ میں نے لکھا: زا، یا اور دال۔ اور اس دال پر میں نے دو پیش لگا دیے، پڑھو بھئی اس کو آپ کیسے پڑھیں گے؟ زید، بھئی آپ تو آخر میں نون پڑھ رہے ہیں، زید۔ میں نے تو نون نہیں لکھا، تو یہ نون کہاں سے پڑھ رہے ہیں؟ تو آپ جواب میں کیا کہیں گے کہ یہ دراصل وہ تنوین ہے، یہ جو دو پیش آپ نے ڈال دیے، یہ وہ تنوین ہم پڑھ رہے ہیں۔ تو تنوین دراصل کس کا نام ہے؟ نونِ ساکن کا نام ہے۔ البتہ اس کو لکھتے دو پیش یا دو زبر یا دو زیر کی صورت میں لکھتے ہیں: زید، زیداً اور زید۔ اور تنوین شروع میں آتی ہے لفظ کے یا آخر میں؟ آخر میں۔ الف لام بھی کہاں آئے گا؟ شروع میں۔ حرفِ جر بھی کہاں آئے گا؟ شروع میں۔ لیکن تنوین کہاں آئے گی؟ آخر میں۔ تو یہ تنوین بھی اسم کی علامت ہے۔ چوں زید جیسے... تو کہتے ہیں: یا تنوین در آخرش باشد یا تنوین اس کے آخر میں ہو، چوں زید جیسے زید۔ زید اسم ہے، فعل ہے یا حرف ہے؟ اسم۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ اس کے آخر میں تنوین ہے، شاباش! یا مسند الیہ باشد یا وہ کیا ہو؟ مسند الیہ ہو، چوں زید قائم۔ مسند الیہ کسے کہتے ہیں؟ میں نے آسان لفظوں میں کہا تھا: جس پر حکم لگایا گیا ہے۔ آسان لفظوں میں، آسان لفظوں میں جس کے بارے میں بات کی جائے، وہ ہے مسند الیہ۔ زید قائم، کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، اور کیا بات کی؟ کہ وہ کھڑا ہے۔ تو زید مسند الیہ بنا، اور آپ نے پڑھا تھا کہ مسند الیہ صرف اسم بن سکتا ہے، فعل یا حرف نہیں بن سکتا۔ حرف تو نہ مسند بن سکتا ہے نہ مسند الیہ، فعل صرف کیا بن سکتا ہے؟ مسند، اور اسم مسند بھی بن سکتا ہے اور مسند الیہ بھی۔ تو کوئی لفظ اگر عبارت میں مسند الیہ بن رہا ہو تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ اسم ہے۔ تو کہتے ہیں: یا مسند الیہ باشد یا وہ مسند الیہ ہو، چوں زید قائم جیسے زید قائم۔ زید، ادھر دیکھیے! زید قائم، جی! زید اسم ہے یا فعل ہے یا حرف ہے؟ اسم۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ اس کے آخر میں تنوین ہے، شاباش! ایک علامت۔ نیز اور کیسے پتہ چلا؟ مسند الیہ ہے، یہ کیا ہے؟ مسند الیہ ہے جملے کے اندر، اور قائم کیا ہے؟ مسند ہے۔ تو زید اسم ہوا، کتنی نشانیاں مل گئیں آپ کو؟ دو۔ پہلی نشانی کیا؟ تنوین اس کے آخر میں ہے، دوسری نشانی کیا؟ مسند الیہ ہے کہ اس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔ اور قائم، یہ اسم ہے یا فعل یا حرف؟ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ اس کے آخر میں بھی تنوین ہے۔ تو کہتے ہیں: یا مسند الیہ باشد یا وہ مسند الیہ ہو، چوں زید قائم جیسے زید قائم۔ یا مضاف باشد یا وہ کیا ہو؟ مضاف ہو، چوں غلام زید جیسے غلام زید۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا، پیچھے مرکبِ اضافی گزرا تھا۔ کیا گزرا تھا؟ مرکبِ اضافی۔ مرکبِ غیر مفید کی تین قسمیں آپ نے پڑھی تھیں: ایک مرکبِ اضافی، ایک مرکبِ بنائی اور ایک مرکبِ منعِ صرف۔ مرکبِ اضافی کس کو کہتے تھے؟ جس میں ایک چیز کی نسبت کی جائے دوسری چیز کی طرف۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں: "زید کی کتاب"، تو میں نے کتاب کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ زید کی طرف۔ "عمرو کا قلم"، میں نے قلم کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ عمرو، معلوم ہوا یہ کسی اور کا قلم نہیں ہے، کس کا ہے؟ عمرو کا ہے۔ اور اسی طرح "بکر کی پگڑی"، معلوم ہوا یہ پگڑی کس کی ہے؟ بکر کی ہے، کسی اور کی نہیں۔ تو یہ جو نسبت کسی چیز کی طرف کی جاتی ہے، عربی میں اس کو اضافت کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اضافت۔ اور اردو میں دیکھو، مضاف الیہ پہلے آتا ہے اور مضاف بعد میں۔ میں نے کہا: "زید کی کتاب"، تو کس چیز کی نسبت کی؟ کتاب کی۔ دیکھو کتاب آخر میں ہے، "زید کی کتاب"। اور کس کی طرف نسبت کی؟ زید، تو زید شروع میں ہے، "زید کی کتاب"। تو جس چیز کی نسبت کی جائے اس کو کہتے ہیں مضاف، اور جس کی طرف نسبت کی جائے وہ کہلاتا ہے مضاف الیہ۔ تو میں نے کس کی نسبت کی؟ کتاب کی، اور کس کی طرف کی؟ زید کی طرف۔ تو اردو میں مضاف الیہ یعنی زید پہلے آیا اور کتاب آخر میں آئی، اور نیز اردو میں یہ مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان "کا"، "کے" یا "کی" میں سے کوئی لفظ آتا ہے، جبکہ عربی میں اس کا برعکس ہے۔ عربی میں مضاف پہلے آتا ہے اور مضاف الیہ بعد میں۔ دیکھو "زید کی کتاب"، اسی کو عربی میں ہم کیا کہیں گے؟ کتاب زید۔ دیکھو مضاف پہلے اور زید مضاف الیہ بعد میں آ رہا ہے۔ تو عربی میں مضاف پہلے آتا ہے اور مضاف الیہ بعد میں، اور اردو میں مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان کیا آتا تھا؟ "کا"، "کے" اور "کی"। عربی میں کچھ درمیان میں نہیں آئے گا، البتہ مضاف الیہ پر جر آ جائے گا: کتاب زید۔ اب آپ اس کو "کتاب زیداً" نہیں پڑھ سکتے، "کتاب زیدٌ" نہیں پڑھ سکتے، بلکہ یہ مضاف کیا کرتا ہے؟ مضاف الیہ کو جر دے دیتا ہے، تو کتاب زید پڑھیں گے۔ اسی طرح میں کہنا چاہتا ہوں: "عمرو کا قلم"، تو کیسے کہوں گا؟ قلم عمرو، دیکھا! قلم عمرو، عمرو کا قلم۔ ترجمہ آخر سے ہوگا اردو کے اندر، کیونکہ اردو کے اندر لفظ الٹ جائیں گے، مضاف الیہ کو پہلے لے آئیں گے اور مضاف کو بعد میں لے آئیں گے۔ تو کہتے ہیں: یا مضاف باشد یا وہ مضاف ہوگا، چوں غلام زید۔ توجہ ہے؟ غلام زید، کیا معنی؟ زید کا غلام۔ دیکھو ترجمہ آخر سے کرنا ہے: زید کا غلام۔ جی! اس میں سے "غلام" جو ہے، وہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف ہے؟ اسم۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ مضاف ہے، اور "زید" کیا ہے؟ مضاف الیہ۔ اور انہوں نے ابھی ہمیں بتایا کہ مضاف ہونا کس کی علامت ہے؟ اسم کی۔ اسم مضاف ہو سکتا ہے، فعل یا حرف مضاف نہیں ہو سکتا۔ تو "غلام زید"، اس میں "غلام" کیا ہے؟ اسم۔ کیوں اسم ہے؟ مضاف ہے۔ اور "زید" کیا ہے؟ یہ بھی اسم۔ یہ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ اسم ہے؟ اس کے آخر میں تنوین ہے بھئی، کیا ہے؟ تنوین ہے۔ تو زید کے اسم ہونے کا پتہ کس سے چلا؟ تنوین سے پتہ چلا، اس کے آخر میں تنوین آ رہی ہے۔ چوں غلام زید جیسے زید کا غلام۔ یا مصغر باشد یا وہ مصغر ہو، چوں قریش جیسے قریش۔ یاد رکھو! ایک ہے اسمِ مکبر، ایک ہے اسمِ مصغر۔ "کتاب" یہ جو عام لفظ ہے، اس کو اسمِ مکبر کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مکبر۔ اور اسی میں بعض اوقات اس کی تصغیر بناتے ہیں، ایسا لفظ بناتے ہیں جس میں چھوٹا ہونے کا معنی پایا جائے۔ ایسا لفظ بناتے ہیں جس میں چھوٹا ہونے کا معنی پایا جائے! مثلاً "کتاب" وہ تو ذرا بڑی ہو اس کو کتاب کہیں گے، اور اگر چھوٹی سی ہے تو اس کی تصغیر بنائیں گے اور وہ عموماً "فُعَیْلٌ" وزن پر بناتے ہیں۔ کس وزن پر؟ فُعَیْلٌ، زبان سے دہراؤ! کس وزن پر؟ فُعَیْلٌ۔ تو "کتاب" کی تصغیر ذرا بناؤ: کُتَیِّبٌ۔ تو کتاب کا معنی ہے کتاب، اور کُتَیِّب کا معنی ہے چھوٹی سی کتاب۔ دیکھا! چھوٹا ہونے کا معنی آ گیا۔ تو اس کو تصغیر کہتے ہیں۔ کوئی کتاب چھوٹی سی ہے تو دوسرا آدمی کہے گا: یہ تو کتاب نہیں ہے، یہ تو کیا ہے؟ کُتَیِّب ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ نے کسی کو کہا: "میں آپ کے لیے کتاب لاتا ہوں"، پھر آپ ایک چھوٹی سی کتاب لے آئے، تو اس نے کیا کہا: "یہ تو کتاب نہیں ہے بلکہ یہ تو کُتَیِّب ہے"، یعنی چھوٹی سی کتاب ہے۔ اردو میں بھی آپ بولتے ہیں۔ اردو میں "کتاب" اور اس کی تصغیر بولتے ہیں "کتابچہ"। چھوٹی کتاب ہو تو کہتے ہیں "کتابچہ ہے"، کتابچہ ہے۔ تو ہر زبان کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ تو عربی میں کیا کرتے ہیں اس کو عموماً "فُعَیْل" وزن پر لے جاتے ہیں۔ اور بھی تفصیل ہے لیکن آپ کے لیے ابھی وہ ضرورت نہیں ہے، بس فُعَیْل وزن یاد رکھیں۔ اور یاد رکھیں! یہ صرف چھوٹا ہونے کے لیے نہیں ہوتا یہ لفظ تصغیر جو ہوتی ہے، فُعَیْل وزن پر لے جاتے ہیں لیکن صرف چھوٹا ہونا بتلانا نہیں ہوتا، بعض اوقات کسی کی تحقیر مقصود ہوتی ہے۔ کیا مقصود؟ حقارت کی نظر سے کسی کو اس طرح بیان کرتے ہیں۔ جیسے آپ کا... آپ نے کسی کے بارے میں کوئی بات کی کہ: "وہ آدمی کل میرے پاس آیا تھا"، آپ نے کیا کہا؟ "جاؔءنی الرجل، میرے پاس وہ آدمی آیا تھا امس کل رات"। آپ نے "الرجل" کا لفظ بولا، لیکن وہ آدمی بڑا بد اخلاق ہے، تو آپ کا ساتھی آپ کو کہتا ہے کہ: "بھئی! وہ تو آدمی نہیں ہے، وہ تو ایسے چھوٹا سا ایک آدمی ہے"، بطورِ تحقیر کے کہتا ہے، یعنی اتنے برے اخلاق والا ہے اس کو تو رجل کہنا ہی نہیں چاہیے۔ اس کو... وہ تو "رُجَیْل" ہے بھئی! فُعَیْل وزن پر لے گیا۔ تو کیا کہا؟ وہ تو رجل نہیں ہے بلکہ رُجَیْل ہے! کیا معنی رُجَیْل ہے؟ یعنی قد کے اعتبار سے چھوٹا نہیں کہہ رہا بلکہ اس کا معنی کیا ہے؟ تحقیر کر رہا ہے کہ وہ اس قابل نہیں ہے کہ اس کو آدمی کہا جائے بلکہ وہ رُجَیْل ہے، یعنی چھوٹا آدمی ہے۔ اتنے برے اخلاق والا ہے اس کو تو آدمی کہو ہی نہ، تو یہ بطورِ حقارت کے وہ کہہ رہا ہے۔ تو دیکھو! ایک ہے کتاب، ایک ہے کُتَیِّب۔ کُتَیِّب کیا ہے؟ چھوٹی کتاب، اس کو کہیں گے یہ اسمِ مصغر ہے۔ یہ کُتَیِّب کیا ہے؟ اسمِ مصغر۔ تو جس سے مصغر بنا، اس کو اسمِ مکبر کہتے ہیں۔ تو کتاب اسم ہے اور یہ اس کی تصغیر ہے۔ تو رجل ہے اسم اور رُجَیْل کیا ہے؟ اس کی تصغیر۔ اور اس کے اور بھی مقاصد ہوتے ہیں، بعض اوقات محبت کی وجہ سے بھی تصغیر کا لفظ بول دیتے ہیں۔ تصغیر کا لفظ کس لیے؟ محبت کی وجہ سے۔ ماں جیسے اپنے بچے کے لیے کوئی تصغیر والا لفظ بول دیتی ہے، تصغیر والا لفظ بول دیتی ہے، اب وہاں کیا مقصد ہوتا ہے؟ محبت کے طور پر، یعنی میرے لیے تو یہ چھوٹا سا بچہ ہے پیارا سا، اپنے بیٹے کے لیے وہ کہتی ہے۔ تصغیر یاد رکھو! یہ اسم کی علامت ہے۔ کس کی علامت ہے؟ ہاں، جب مصغر لائے، تو مصغر جب کوئی لفظ مصغر ہے تو سمجھ جائیں یہ اسم ہے، جیسے قریش۔ کون سا وزن ہے؟ فُعَیْلٌ، میں نے ابھی بتایا! قریش کون سا وزن؟ فُعَیْل۔ معلوم ہوا یہ اسمِ مصغر ہے، جب یہ اسمِ مصغر ہے معلوم ہوا یہ اسم ہے۔ کیونکہ تصغیر صرف کس کی لائی جاتی ہے؟ اسم کی لائی جاتی ہے، فعل یا حرف کی نہیں لائی جاتی۔ یہ معنی ہے: یا مصغر باشد یا وہ یا وہ کیا ہو؟ مصغر ہو، چوں قریش جیسے قریش۔ ہاں بھئی! قریش اسم ہے، فعل ہے یا حرف ہے؟ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ ایک تو اس کے آخر میں تنوین ہے، اس سے پتہ چلا۔ اور کس سے پتہ چلا؟ مصغر ہے بھئی، یہ فُعَیْل وزن پر ہے، تو یہ تصغیر ہے، معلوم ہوا یہ اسم ہے۔ یا منسوب باشد یا وہ منسوب ہو، چوں بغدادی جیسے بغدادی۔ اس میں منسوب وہ ہے جس کے آخر... جب کسی اسم کے آخر میں یائے مشدد لگا دی جائے، یائے مشدد ملا دی جائے، جیسے لاہور شہر کا نام ہے، اس کے آخر میں یائے مشدد لگا دیں: لاہوریٌ، کیا معنی؟ لاہور والا۔ پاکستانیٌ، کیا معنی؟ پاکستان والا۔ تو دیکھا! یہ جو یائے مشدد ہے، یہ نسبت کے لیے لگائی جاتی ہے۔ لاہور کے آخر میں یائے مشدد لگا دی، کسی آدمی کے بارے میں آپ سے کسی نے پوچھا تو آپ نے کہا: لاہوریٌ، کہ یہ کہاں کا ہے؟ لاہور والا ہے، لاہور کی طرف اس کی نسبت کر دی۔ تو یہ اسمِ منسوب، یہ جس کے آخر میں یائے مشدد ملا دی اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسمِ منسوب کہتے ہیں، یعنی اس میں نسبت کی گئی ہے۔ اس اسم کی طرف نسبت کی گئی ہے، تو لاہوریٌ کا کیا معنی؟ لاہور والا۔ معلوم ہوا یہ آپ نے کسی آدمی کو کہا ہے کہ یہ کیا ہے؟ لاہور کا رہنے والا ہے، یا کوئی اچھا کھانا تھا آپ نے کہا: لاہوریٌ، یہ کھانا کہاں کا ہے؟ لاہور والا ہے، یا کوئی اچھا کپڑا تھا تو آپ مختلف علاقوں کی طرف نسبت کرتے ہیں یا نہیں چیزوں کی؟ بعض اوقات ایک چیز ایک علاقے میں اچھی ہوتی ہے، وہ کوئی آپ سے پوچھتا ہے تو آپ کہتے ہیں: یہ فلاں علاقے کی چیز ہے، نسبت کر دیتے ہیں اس علاقے کی طرف۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسمِ منسوب کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں کیا ہو؟ یائے مشدد ہو، اور یہ کس لیے یائے مشدد بڑھائی جاتی ہے؟ نسبت کرنے کے لیے، اس کی طرف نسبت کرنے کے لیے۔ تو کہتے ہیں: یا منسوب باشد یا وہ منسوب ہو، چوں بغدادی۔ بغداد بھئی! عراق کے ایک شہر کا نام ہے۔ بغدادیٌ، کیا معنی؟ بغداد والا، بغداد والا۔ تو جی! اب مجھے بتائیے: بغدادیٌ یہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف ہے؟ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ ایک تو اس کے آخر میں تنوین ہے، اس سے بھی پتہ چلا۔ دوسرا؟ یہ اسمِ منسوب ہے، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ اسم ہے۔ منسوب اسم ہوتا ہے، فعل یا حرف نہیں ہوتا۔ یا تثنیہ باشد یا وہ تثنیہ ہو، چوں رجلان جیسے رجلان، رجلان۔ رجلان، یاد رکھو! عربی میں جب کسی چیز کے دو افراد بتلانے ہوں تو اس کے آخر میں الف نون جوڑ دیتے ہیں۔ اس اسم کے آخر میں الف نون جوڑ دیتے ہیں، رجلٌ کا معنی ہے ایک ایک آدمی۔ اب آپ بتلانا چاہتے ہیں: "دو آدمی"، تو آپ اس کے ساتھ الف اور نون جوڑ دیں: "رجلانِ"۔ "رجلٌ" سے کیا بن گیا؟ "رجلانِ"۔ "رجلانِ" کا کیا معنی؟ "دو آدمی"، "دو مرد"۔ اور "کتاب" ہے، میں کہنا چاہتا ہوں "دو کتابیں"، اس کے آخر میں بھی الف نون جوڑ دو۔ کیسے پڑھیں گے؟ تو کتاب کا معنی ایک کتاب اور "کتابانِ" کیا معنی؟ "دو کتابیں"۔ "قلم" کا معنی ایک قلم اور "قلمانِ" کیا معنی؟ "دو قلم"۔ تو یہ تثنیہ بنانے کے لیے اس کے آخر میں الف نون جوڑتے ہیں۔ اور یاد رکھیں یہی الف نون کبھی بدل جاتا ہے یا نون سے۔ "رجلانِ" اور کبھی "رجلینِ"۔ "کتابانِ" اور "کتابینِ"۔ اور "قلمانِ" اور "قلمینِ"۔ تو یہی الف کبھی یا سے بدل جاتا ہے۔ تو یہ بہرحال ہے یہ وہی تثنیہ بھئی۔ یہ کہاں بدلے گا؟ یہ آگے تفصیل آ جائے گی۔ تو بس یہ تثنیہ ہے۔ اور یاد رکھو تثنیہ ہونا اسم کی علامت ہے۔ جس اسم کے، جس لفظ کے آخر میں یہ الف نون آ جائیں، یہ تثنیہ والے الف نون، آپ سمجھ جائیں یہ اسم ہے، فعل یا حرف نہیں ہے۔ یا مسنّٰی باشد، یا وہ تثنیہ ہو، چوں "رجلانِ" جیسے رجلانِ۔ رجلانِ کا کیا معنی؟ دو آدمی۔ اور مجھے بتائیے، یہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف ہے؟ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ کہ یہ مسنّٰی ہے، یا یوں کہیں یہ تثنیہ ہے، اس کے آخر میں کیا آیا؟ الف نون۔ یا مجموع باشد، یا وہ جمع ہو۔ یا وہ کیا ہو؟ جمع ہو۔ چوں "رجالٌ" جیسے رجالٌ۔ بھئی ایک ہے "رجل"، ایک آدمی کو کہتے ہیں۔ اور کئی آدمی ہوں تو کہتے ہیں "رجالٌ"، رجل کی جمع۔ "کتاب"، کتاب کی جمع کیا ہے؟ "کتبٌ"، "کتبٌ"، کئی کتابیں۔ "قلم" کی جمع کیا ہے؟ "اقلامٌ"۔ دیکھا مختلف صورتیں ہوتی ہیں جمع کی۔ لیکن یہ تین یا تین سے زیادہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تین یا تین سے زیادہ آدمی ہوں تو پھر "رجال" کہیں گے۔ ایک ہو تو کیا کہیں گے؟ "رجل"۔ دو ہوں تو؟ "رجلانِ"۔ اور دو سے زیادہ ہوں تو؟ "رجالٌ"۔ ایک کتاب ہو تو؟ "کتابٌ"۔ دو ہوں تو؟ "کتابانِ"، ابھی آپ نے تثنیہ پڑھا۔ اور زیادہ ہوں تو؟ "کتبٌ"، کتب بھئی، کتب۔ اور ایک قلم ہو تو؟ "قلمٌ"۔ دو ہوں تو؟ "قلمانِ"۔ دو سے زیادہ ہوں تو؟ "اقلامٌ"۔ تو یہ جو اقلام جمع آئی یا یہ جو رجال جمع آئی، تو جب کوئی لفظ جمع ہو تو سمجھ جائیں یہ اسم ہے؛ کیونکہ جمع صرف اسم کی آتی ہے، فعل یا حرف کی نہیں آتی۔ تو کہتے ہیں: یا مجموع باشد، یا وہ کیا ہو؟ مجموع یعنی جمع ہو۔ چوں "رجالٌ" جیسے رجالٌ۔ کتنی نشانیاں گزر گئیں بھئی؟ گنو ذرا۔ الف و لام: ایک۔ حرفِ جار: دو۔ تنوین: تین۔ مسند الیہ: چار۔ مضاف: پانچ۔ مصغر: چھ۔ منسوب: سات۔ مسنّٰی: آٹھ۔ اور مجموع: نو۔ نو نشانیاں بیان ہوئیں۔ آخری دو نشانیاں کیا بیان ہوئیں؟ تثنیہ اور جمع۔ جب کوئی لفظ تثنیہ ہو سمجھ جاؤ اسم ہے۔ جب کوئی لفظ جمع ہو سمجھ جاؤ یہ اسم، یہ اسم ہے؛ کیونکہ فعل میں تثنیہ اور جمع نہیں آتا۔ آپ کے ذہن، آپ تو صرفی ہیں بھئی، آپ کے ذہن میں فوراً اشکال آئے گا کہ ہم نے تو فعل تثنیہ بھی پڑھا ہے، جمع بھی پڑھا ہے: ضَرَبَ، ضَرَبَا، ضَرَبُوْا۔ دیکھا "ضَرَبَا"، یہ فعل کیا ہے؟ تثنیہ۔ "ضَرَبُوْا"، یہ فعل کیا ہے؟ جمع۔ یا "یَضْرِبُ"، "یَضْرِبُ"، "یَضْرِبَانِ"، "یَضْرِبُوْنَ"۔ تو "یَضْرِبُ"، "یَضْرِبَانِ"، یہ "یَضْرِبَانِ" کیا ہے؟ تثنیہ۔ اور "یَضْرِبُوْنَ" کیا ہے؟ جمع۔ تو آپ نے تو ہمیں کیا کہا، تثنیہ اور جمع صرف کس میں آتے ہیں؟ اسم میں، اور یہ اس کی علامت ہے، اس سے اسم کی پہچان ہوتی ہے۔ تو بھئی فعل میں بھی تو تثنیہ جمع آتا ہے۔ تو یاد رکھنا، فعل کبھی تثنیہ جمع نہیں آتا۔ یہ فعل کے آخر میں ضمیریں بدل رہی ہیں تثنیہ اور جمع کی ضمیریں آ رہی ہیں، خود فعل تثنیہ یا جمع نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھو ضَرَبَ، ضَرَبَا۔ تثنیہ کا صیغہ ہے۔ ضَرَبَ کا کیا معنی؟ مارا اس ایک مرد نے زمانۂ گزشتہ میں۔ اور ضَرَبَا الف کے ساتھ ہو تو مارا ان دو مردوں نے۔ تو دیکھو یہ جو آخر میں الف آیا، یہ فاعل ہے، یہ تثنیہ کی ضمیر ہے۔ ذرا اس کو ہٹا دو۔ پیچھے کیا رہ گیا؟ ضَرَبَ۔ فعل اسی طرح ہے بھئی۔ فعل اسی طرح ضَرَبَ ہے۔ صرف آگے فاعل کی ضمیر تثنیہ اس صورت میں الف آ گیا، ضمیر۔ اور ضمیر آپ پڑھیں گے اسم کی قسم ہے۔ کس کی قسم ہے؟ اور معلوم ہوا تثنیہ صرف اسم میں آتا ہے۔ اگلے فعل پہ آ جاؤ: ضَرَبُوْا۔ ضَرَبُوْا کے آخر میں یہ جو واؤ آیا، یہ جمع کے لیے آتا، یہ جمع کی ضمیر ہے۔ یہ واؤ کیا ہے؟ جمع کی ضمیر ہے۔ ذرا اس جمع کی ضمیر واؤ کو ہٹا دو۔ پیچھے کیا رہ گیا؟ ضَرَبَ۔ دیکھو فعل اسی طرح مفرد ہے۔ تو فعل ہمیشہ مفرد رہتا ہے۔ اس کا فاعل جو ہے، وہ کبھی مفرد ہوگا، کبھی تثنیہ ہوگا اور کبھی جمع ہوگا۔ فعل خود تثنیہ اور جمع نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح فعل مضارع میں ہے: یَضْرِبُ، یَضْرِبَانِ، یَضْرِبُوْنَ۔ یَضْرِبَانِ، اس میں دیکھو یہ جو الف ہے، یہ تثنیہ کی ضمیر ہے۔ یَضْرِبُوْنَ میں یہ جو واؤ ہے، یہ جمع کی ضمیر ہے۔ تو فعل کبھی بھی تثنیہ جمع نہیں ہوتا۔ فعل مفرد کا مفرد رہتا ہے۔ ہاں جو اس کے آخر میں جو تثنیہ اور جمع آ رہے ہیں، یہ وہ ضمیریں ہیں اور ضمیر تو کیا ہے؟ اسم، تو اسم ہی تثنیہ جمع ہو سکتا ہے، فعل کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: یا موصوف باشد، یا وہ اسم کیا ہو؟ موصوف۔ بھئی عربی کے اندر جب کسی چیز کی صفت بیان کرنی ہو، تو اس کے بعد اس صفت کو لاتے ہیں۔ پہلے موصوف کو لاتے ہیں، پھر صفت۔ جیسے میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں: "بہادر آدمی"۔ کیا کہنا چاہتا ہوں؟ "بہادر آدمی"۔ تو اردو میں صفت "بہادر" میں پہلے لایا اور "آدمی" کو بعد میں لایا۔ توجہ ہے؟ اردو میں صفت پہلے آتی ہے اور جس چیز کی صفت بیان کی جا رہی ہے اس کو کہتے ہیں موصوف۔ تو وہ بعد میں آتا ہے: "بہادر آدمی"۔ صفت کیا ہے؟ بہادر۔ اور یہ صفت میں کس کے لیے لایا؟ آدمی۔ تو آدمی کو کہیں گے موصوف۔ تو اردو میں پہلے صفت آتی ہے، اس کے بعد موصوف۔ لیکن عربی میں برعکس ہے۔ عربی میں موصوف پہلے آتا ہے اور صفت اس کے بعد۔ اب میں عربی میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں: "بہادر آدمی"۔ تو آدمی کو عربی میں کہیں گے "رجلٌ" اور بہادر کو کہتے ہیں "شجاعٌ"۔ تو کیسے کہیں گے؟ "رجلٌ شجاعٌ"۔ "رجلٌ"، دیکھو موصوف پہلے آیا اور "شجاعٌ" اس کے بعد میں آ گیا، تو "رجلٌ شجاعٌ"۔ "رجلٌ"۔ تو "رجلٌ" کیا ہوا؟ موصوف۔ اور "شجاعٌ" کیا ہوا؟ صفت۔ تو جب بھی کوئی لفظ موصوف ہو یعنی اس کے بعد صفت آ جائے، تو سمجھ جاؤ یہ اسم ہے۔ "رجلٌ شجاعٌ"، سنتے ہی آپ کو پتہ چل گیا کہ ان میں سے ایک لفظ اسم ہے۔ وہ کون سا؟ جو پہلے آیا، جو موصوف ہے یعنی "رجلٌ"۔ توجہ ہے؟ "رجلٌ شجاعٌ"، "رجلٌ" کیا بن رہا ہے؟ موصوف۔ اور صفت بعد میں ہے، تو "شجاعٌ" کیا ہے؟ صفت۔ جب بھی موصوف صفت آ جائیں، بات یاد رکھو کبھی ایک صفت ہوتی ہے، کبھی دو، کبھی تین۔ تو "رجلٌ شجاعٌ" آپ کے سامنے آیا، اس کو دیکھتے ہی آپ پہچان گئے کہ اس میں جو پہلا لفظ ہے "رجل"، وہ کیا ہے؟ وہ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ کیونکہ یہ موصوف ہے، اس کے بعد صفت آ رہی ہے۔ اور ہم نے نحو میر میں کیا پڑھا کہ جو بھی موصوف ہوگا، وہ دراصل اسم ہوگا۔ یہ معنی ہے: یا موصوف باشد، یا وہ موصوف ہو۔ چوں "جاء رجلٌ عالمٌ"، آیا عالم آدمی۔ "جاء" کا معنی: آیا۔ "رجلٌ عالمٌ"، اردو میں اس کا ترجمہ کیسے کریں گے؟ صفت کو اٹھا کر پہلے لے آؤ۔ "جاء رجلٌ عالمٌ"، آیا عالم آدمی۔ دیکھو عالم کو رجل پر مقدم کر دو: عالم آدمی آیا۔ عالم آدمی آیا۔ تو "جاء رجلٌ عالمٌ"، عالم آدمی آیا۔ اس میں دیکھو "رجلٌ" موصوف ہے، معلوم ہوا یہ اسم ہے۔ یا تائے متحرک بدو پیوندد۔ یہ آخری علامت آ گئی اسم کی۔ تائے متحرک، ایسی تا جس پر حرکت ہے۔ "بدو"، "بدو" اصل میں ہے "بہ او"۔ تائے متحرک اس کے ساتھ پیوندد، جڑی ہوئی ہو۔ "پیوسستن" کا معنی ہے جڑنا، جڑنا۔ اردو میں بھی آپ بولتے ہیں کہ ایک چیز دوسری چیز کے ساتھ پیوست ہو گئی۔ تو اسی پیوستہ، پیوستن ہے مصدر اور اسی سے کیا بنایا فعل: "پیوندد"۔ تو "یا تائے متحرک بدو پیوندد"، تائے متحرک جو ہے اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہو، اس کے ساتھ جڑ جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چوں "ضاربةٌ" جیسے ضاربةٌ۔ تائے متحرک سے مراد ہے یہ گول تا بھئی۔ جو الفاظ کے آخر میں آپ عربی میں دیکھتے ہیں: ضاربةٌ، کاتبةٌ، مانعةٌ۔ تو ضاربٌ اور ضاربةٌ، کاتبٌ اور کاتبةٌ، فاتحٌ اور فاتحةٌ۔ تو یہ جو گول تا جو تانیث کے لیے لائی جاتی ہے، یہ ہے تائے متحرک۔ دیکھو اس تا پر حرکت ہے: ضاربةٌ۔ تا پر میں حرکت پڑھ رہا ہوں یا نہیں پڑھ رہا؟ تا ساکن ہے یا اس پر حرکت ہے؟ حرکت ہے: ضاربةٌ۔ ضاربت، نہیں ضاربت نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ ضاربةٌ، تا پر بھی حرکت ہے۔ تو یہ ہے تائے متحرک۔ اور کہاں پر ملی ہے؟ شروع میں یا آخر میں؟ آخر میں۔ تو جس لفظ کے بھی آخر میں یہ گول تا، یہ جو متحرک گول تا ہے، یہ آ کر جڑ جائے، تو آپ سمجھ جائیں یہ اسم ہے؛ کیونکہ یہ گول تا صرف کس کے ساتھ جڑتی ہے؟ اسم کے ساتھ جڑتی ہے، فعل کے ساتھ یا حرف کے ساتھ، فعل یا حرف کے ساتھ نہیں جڑتی۔ یہ معنی ہے: یا تائے متحرک بدو پیوندد، یا تائے متحرک اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہو۔ چوں "ضاربةٌ" جیسے ضاربةٌ۔ تو دیکھو یہ گیارہ علامتیں بیان کر دیں اسم کی۔ اور یاد رکھو اسم کی صرف یہی گیارہ علامتیں نہیں ہیں، علماء نے بیس پچیس تیس سے بھی زائد اس کی علامتیں ذکر کی ہیں بھئی۔ لیکن یہاں انہوں نے موٹی موٹی آسان علامتیں ذکر کر دیں؛ کیونکہ یہ کتاب ابتدائی طلباء کے لیے ہے۔ تو ابتدائی طلباء کو موٹی موٹی علامتیں جس کو وہ آسانی سے سمجھ سکیں، وہ بیان کر دیں۔ باقی آپ جوں جوں اگلی کتابیں پڑھیں گے نحو کی، وہاں مزید تفصیل آ جائے گی۔ تو کتنی علامتیں اب آپ نے یاد رکھنی ہیں اسم کی؟ گیارہ۔ چلیے بس اب حاصلِ کلام پھر سن لیں بھئی۔ آج آپ نے علاماتِ اسم کے بارے میں پڑھا۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ علامت وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز کو ہم پہچان لیں، وہ اس کی علامت کہلاتی ہے۔ اور یہاں اسم کی الگ علامتیں بیان کریں گے اور فعل کی الگ۔ اسم کی جو علامت ہوگی وہ فعل میں یا حرف میں نہیں ہوگی اور جو فعل کی علامت ہوگی وہ اسم میں یا حرف میں نہیں ہوگی۔ ان کے ذریعے ہم پہچان لیں گے کہ کیا چیز اسم ہے اور کیا چیز فعل ہے اور کیا حرف ہے۔ اسم کی پہلی علامت انہوں نے یہ بیان کی کہ اس کے شروع میں کیا آئے گا؟ الف لام آئے گا۔ یا کیا آئے گا؟ حرفِ جار اس کے شروع میں آئے گا۔ یا اس کے آخر میں کیا آئے گی؟ تنوین آ جائے گی۔ یا وہ کیا بنے گا؟ مسند الیہ بنے گا۔ یا وہ کیا بنے گا؟ مضاف ہوگا یعنی اس کی نسبت ہوگی کسی چیز کی طرف۔ یا وہ مصغر ہوگا۔ یا منسوب ہو۔ یا وہ تثنیہ ہو۔ یا وہ جمع ہو۔ یا وہ موصوف ہو۔ یا اس کے آخر میں گول تا جڑی ہوئی ہو۔ تو ان میں سے جو بھی علامت آپ کو کسی لفظ کے شروع میں یا آخر میں نظر آ جائے، آپ سمجھ جائیں کہ یہ اسم ہے، فعل یا حرف نہیں ہے بھئی۔ "ضاربةٌ"، جی یہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف ہے؟ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ اس کے آخر میں تا جڑی، گول تائے متحرکہ جڑی ہوئی ہے۔ "جاء رجلٌ عالمٌ"، جی "رجلٌ عالمٌ"، یہ رجل کیا ہے؟ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ اس کے آخر میں تنوین ہے ایک علامت۔ دوسری علامت؟ جی؟ موصوف ہے، آگے کیا آ رہی ہے؟ صفت۔ تیسری کیا علامت ہے؟ مسند الیہ کہ یہ مسند الیہ ہے، شاباش! کیا ہے؟ مسند الیہ؛ کیونکہ فاعل ہے نا اور جملہ فعلیہ میں آپ نے پڑھا تھا فعل مسند ہوتا ہے اور فاعل مسند الیہ۔ اور مسند الیہ ہونا کس کی علامت ہے؟ اسم کی۔ تو معلوم ہوا یہ رجل میں تین علامتیں آپ کو نظر آ گئیں۔ اور "عالمٌ"، یہ اسم ہے یا فعل ہے یا حرف ہے؟ اسم ہے۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ اس کے آخر میں تنوین ہے، شاباش! تو علامتیں ساری سمجھ میں آ گئیں؟ اچھا، اب مجھے ایک دو لفظ ویسے بتائیں کہ وہ اسم ہیں، فعل ہیں یا حرف ہیں۔ "کرۃ القدم"، "کرۃ القدم"، کاف، چھوٹا را اور گول تا: "کرۃ"، اور "القدم"، قدم پیر کو کہتے ہیں۔ "کرۃ القدم" فٹبال کو کہتے ہیں بھئی۔ "کرۃ القدم"، جی! یہ "کرۃ" لفظ کیا ہے؟ جی بھئی، یہ اسم ہے۔ کیسے پتہ چلا؟ جی؟ اس کے ایک علامت، اس کے آخر میں گول تا ہے۔ اور مضاف ہے، دوسری علامت یہ ہے، شاباش! اور "القدم"، یہ کیا ہے؟ یہ اسم۔ کیسے پتہ چلا؟ الف لام اس کے شروع میں ہے، شاباش! ساری علامتیں سمجھ میں آ گئیں؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
56 approved lectures · 9 of 56