یکھیے بھئی آگے سبق! یازدہم اسمائے کنایہ از عدد، و آن دو لفظ است: کم و کذا. کم بر دو قسم است: استفامیہ و خبریہ. کم استفامیہ تمیز را بہ نصب کند، و کذا نیز، چون کم رجلاً عندك، و عندي كذا درهماً. و کم خبریہ تمیز را بہ جر کند، چون کم مالٍ انفقته، و کم دارٍ بنيتُ. و گاہے من جار بر تمیز کم خبریہ آید، چون قولہ تعالی: کم من ملکٍ في السماوات.
اسمائے عاملہ کا بیان چل رہا ہے. صاحب نحمیر نے آپ کو بتلایا تھا کہ اسمائے عاملہ گیارہ ہیں. نمبر ایک اسمائے شرطیہ، یہ شرط اور جزا پر داخل ہوتے ہیں، اور فعل مضارع کو جزم دیتے ہیں. دوسرا اسمائے افعال بھئی بمعنی ماضی کے، اور یہ اپنے فاعل کو رفع دیتے ہیں. تیسری قسم تھی اسمائے افعال بمعنی امر حاضر. چوتھی قسم تھی اسم فاعل. پانچویں قسم اسم مفعول. چھٹی قسم صفتِ مشبہ. ساتویں قسم اسم تفضیل. آٹھویں قسم مصدر. نویں قسم اسم مضاف. دسویں قسم اسم تام، اسم تام جو تمیز کو نصب دیتا ہے. اور گیارہویں قسم ہے اسمائے کنایہ، وہ آج ہم پڑھیں گے.
کل کے سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ اسم مضاف جو ہے، وہ مضاف الیہ کو جر دیتا ہے. جیسے: جاءنی غلامُ زیدٍ. یہ غلام مضاف ہے، اس نے زیدٍ جو مضاف الیہ ہے، اس کو جر دیا. اور پھر صاحبِ کتاب نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہاں پر حقیقت میں لام مقدر ہے، اور غلامُ زیدٍ اصل میں غلامٌ لزیدٍ تھا. میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان کبھی من مقدر ہوتا ہے، کبھی فی مقدر ہوتا ہے، اور کبھی لام. اور کہاں فی مقدر ہے، کہاں من اور کہاں لام. میں نے بتلایا تھا کہ اس کے لیے آپ مضاف الیہ پر غور کر لیں، اگر مضاف الیہ مضاف کے لیے ظرف ہے، یعنی زمانے یا جگہ کا نام ہے، تو پھر اس صورت میں وہاں فی مقدر ہوگا، کیونکہ عربی زبان میں ظرفیت کے لیے فی آتا ہے.
اور جیسے آپ بتلانا چاہتے ہیں کہ زید گھر میں ہے، تو آپ کیا کہیں گے: زیدٌ في الدارِ. تو دیکھا گھر میں، گھر میں، گھر کے اندر بتلانے کے لیے کیا لفظ لائے آپ؟ فی کو لے کر آئے. تو ایک چیز کو دوسری چیز کے اندر یا ایک چیز کو دوسری چیز میں بتلانے کے لیے عربی میں فی استعمال ہوتا ہے. تو یہاں پر بھی اگر مضاف الیہ مضاف کے لیے ظرف ہو، تو وہاں فی مقدر ہوگا، جیسے صلاۃُ الجمعۃ، جمعہ کی نماز. تو صلاۃ ہے مضاف اور الجمعۃ ہے مضاف الیہ، اور یہ جمعہ کا دن جو ہے، یہ ظرف ہے نماز کے لیے بھئی. تو یہاں فی مقدر ہوگا، ای صلاۃٌ في الجمعۃ.
یا اسی طرح ہے صومُ رمضان. یہ رمضان یہ ظرف ہے، وقت ہے روزے کے لیے، تو یہاں بھی فی مقدر ہوگا، ای صومٌ في رمضان. اور رمضان غیر منصرِف ہے، اس پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے. اور اسی طرح قیامُ اللیل، رات کا قیام، یعنی رات کو تہجد پڑھنا بھئی، تہجد تو اس کو قیامُ اللیل کہتے ہیں، تو یہاں بھی دیکھو اللیل جو مضاف الیہ ہے، وہ ظرف ہے کس کے لیے؟ اس قیام کے لیے، وہ جو نماز کے لیے انسان کھڑا ہوتا ہے، اس کے لیے ظرف ہے، تو قیامٌ في اللیل.
اور اگر مضاف، مضاف الیہ کے لیے ظرف نہ ہو بلکہ اس کے لیے جنس ہو، یعنی اس سے، یعنی یوں کہے، اور اگر مضاف الیہ جنس ہو مضاف کے لیے، تو پھر وہاں پر من مقدر ہوگا، جیسے خاتمُ فضّۃٍ یا خاتمُ حدیدٍ، حدید لوہے کو کہتے ہیں. خاتمُ فضّۃٍ چاندی کی انگوٹھی، یا خاتمُ حدیدٍ لوہے کی انگوٹھی. تو دیکھو یہ جو انگوطھی ہے، اس کے بعد جو مضاف الیہ آ رہا ہے، فیضۃ یہ اس کے لیے جنس ہے، یعنی اس سے بنی ہے، یا اس کے بعد جو حدید مضاف الیہ آ رہا ہے، وہ اس کے لیے جنس ہے، معلوم ہوا یہ انگوٹھی لوہے سے بنی ہے، تو اس صورت میں من وہاں مقدر ہوگا، جب مضاف الیہ مضاف کے لیے جنس ہو، یعنی مضاف اس سے بنا ہو، تو پھر وہاں من مقدر ہوگا.
تو خاتمُ فضّۃٍ، یہ اصل میں کیا ہے؟ خاتمٌ من فضّۃٍ. اور خاتمُ حدیدٍ، یہ اصل میں کیا ہے؟ خاتمٌ من حدیدٍ. اور اگر مضاف الیہ مضاف کے لیے نہ ظرف ہو اور نہ جنس ہو، تو پھر باقی تمام صورتوں میں وہاں لام مقدر ہوگا، جیسے غلامُ زیدٍ یا کتابُ زیدٍ. یہ کتاب مضاف ہے اور زیدٍ مضاف الیہ، اور مضاف الیہ یعنی زید جو ہے، وہ کتاب کے لیے نہ ظرف ہے اور نہ ہی اس کے لیے جنس ہے، تو یہاں لام مقدر ہوگا، ای کتابُ لزیدٍ، زید کی کتاب بھئی.
اس کے بعد اسم تام کے بارے میں انہوں نے بتلایا تھا کہ اسم تام جو ہے وہ تمیز کو نصب دیتا ہے، تمیز کو، اور اسم تام وہ اسم جو ایسی حالت میں ہو کہ آگے اس کا مزید مضاف الیہ نہ آ سکے. اسم تام، اسم تام کا کیا معنی؟ وہ اسم جو پورا ہو گیا، مکمل ہو گیا، اور اسم تام ہو یعنی پورا ہو، مطلب یہ ہے کہ ایسی حالت میں ہو وہ اسم کہ آگے اس کا مضاف الیہ نہ آ سکے.
اور اسم تام ہوتا ہے چار چیزوں کے ذریعے. نمبر ایک تنوین کے ذریعے، اور کبھی نونِ تثنیہ کے ذریعے، اور کبھی نونِ جمع کے لیے، اور کبھی مضاف الیہ کے ذریعے. تو اسم تام ہوتا ہے کبھی تنوین کے ذریعے، جیسے غلامُن، غلامُن پر تنوین آ رہی ہے، یہ تنوین بتلا رہی ہے کہ یہ غلامُن کا لفظ تام ہو چکا، پورا ہو چکا، آگے مضاف الیہ نہیں آ رہا. میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اضافت کی صورت میں تنوین کو بھی گرا دیتے ہیں، نونِ تثنیہ کو بھی گرا دیتے ہیں، اور نونِ جمع کو بھی گرا دیتے ہیں. تو تنوین آنے کا معنی یہ ہے کہ یہ اسم تام ہو گیا، آگے کوئی مضاف الیہ نہیں آ رہا. اگر آپ مضاف الیہ لانا چاہتے ہیں تو یہ تنوین آپ کو گرانا پڑے گی، اس کو برقرار رکھتے ہوئے آپ مضاف الیہ نہیں لا سکتے. تو تنوین علامت ہے اسم کے تام ہونے کی.
اور پھر یہ تنوین کبھی لفظوں میں ہوگی اور کبھی تقدیراً ہوگی. لفظوں کے اندر تو منصرِف کے اندر آئے گی، جیسے زیدُن یا غلامُن، یہ کیا ہے؟ منصرِف. جبکہ تقدیراً تنوین آئے گی غیر منصرِف اور مبنی کے اندر بھئی. عندي أحد عشر درهماً، یہ أحد عشر، اس کے آخر میں را پر زبر ہے، تنوین تو نہیں ہے، لیکن چونکہ یہ مبنی ہے، تو فرض کر لو یہاں کیا موجود ہے؟ تنوین موجود ہے کیونکہ مبنی پر تنوین آ نہیں سکتی، تو یہ پورا ہو چکا، تام ہو چکا. اور اسی طرح زیدٌ اکثرُ منك مالاً، تو یہ اکثرُ جو ہے اس کے آخر میں تنوین نہیں کیونکہ یہ غیر منصرِف ہے، لیکن یہ تام ہو چکا، جب تام ہو چکا، آگے مضاف الیہ نہیں آ رہا تو یہ اب تمیز کو نصب دیں گے.
تو اسم تام ہوتا ہے کبھی تنوین کے ذریعے، کبھی نونِ تثنیہ کے ذریعے، کبھی نونِ جمع کے ذریعے، اور اسی میں نونِ جمع کے اندر داخل تھا مشابہ نونِ جمع. میں نے بتلایا تھا عشرونا سے لے کر تسعونا تک، یہ جو دہائیاں ہیں، یعنی 20، 40، 50، 60، 70، 80، 90، یعنی عشرونا، ثلاثونا، اربعونا، خمسونا، ستونا، سبعونا، ثمانونا اور تسعونا، یہ جو دہائیاں ہیں، ان میں جو نون آیا، یہ نونِ جمع نہیں، بلکہ یہ کیا ہے؟ مشابہ نونِ جمع ہے، اس کے مشابہ ہے. جیسے نونِ جمع کے اندر نون سے پہلے واو آتی ہے حالتِ رفعی میں اور حالتِ نصبی جری میں نون سے، نون سے قبل یا آتی ہے، اسی طرح ان ان دہائیوں میں بھی ایسا ہی ہے، حالتِ رفعی میں کہتے ہیں عشرونا اور ثلاثونا، اور حالتِ نصبی جری میں کہتے ہیں عشرینا اور ثلاثینا. تو یہ اس نونِ جمع کے مشابہ ہیں، تو یہ بھی اسم کے تام ہونے کی علامت، لہٰذا جب ان کے ذریعے بھی اسم تام ہوگا، یہ آگے تمیز کو نصب دیں گے.
اور کبھی اسم تام ہوتا ہے مضاف الیہ کے ذریعے، جیسے اس کی مثال انہوں نے ذکر کی عندي ملؤہ عسلاً، ملؤہ، ملؤ مضاف، ہا ضمیر مضاف الیہ، تو یہ مضاف الیہ کے ذریعے ملؤہ تام ہوا، اور اس نے آگے عسلاً جو تمیز ہے اس کو نصب دیا. تو یہ جو اسم تام ہے، یہ پھر آگے تمیز کو نصب دیتا ہے. اور اسم تام کہتے ہیں دراصل کہ اس کی مشابہت فعل کے ساتھ ہو جاتی ہے. کس طرح مشابہت ہوتی ہے؟ جیسے فعل فاعل کے ساتھ تام ہوتا ہے، اور پھر کیا کرتا ہے مفعول کو نصب دیتا ہے. تام ہوتا ہے یعنی اس کی بغیر فعل آ نہیں سکتا، تو فعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل، تو یہاں پر بھی جب اسم کے بعد تنوین آگئی یا نونِ تثنیہ آگیا یا نونِ جمع یا مضاف الیہ، تو اسم تام ہوا، جیسے فعل کس کا تقاضا کرتا ہے؟ فاعل کا، اور اس کے ذریعے تام ہوتا ہے یعنی اس کے ذریعے اس میں بات پوری ہوتی ہے، اور پھر وہ مفعول کو بھی نصب دیتا ہے. تو یہ اسم تام ہوئے ان چیزوں کے ذریعے، اور پھر اس کے بعد انہوں نے تمیز کو نصب دیا.
آگے دیکھیے بھئی. یازدہم اسمائے کنایہ از عدد، و آن دو لفظ است: کم و کذا. کم بر دو قسم است: استفامیہ و خبریہ. کم استفامیہ تمیز را بہ نصب کند، و کذا نیز، چون کم رجلاً عندك، و عندي كذا درهماً.
اب اسمائے کنایہ آگئے بھئی. اسمائے کنایہ کے بارے میں آپ مبنیات کی جب آٹھ قسمیں آئی تھیں، وہاں بھی انہوں نے کنایات کے بارے میں بتلایا تھا آپ کو. مبنی کتنی قسم کا ہے؟ آٹھ قسم کا. نمبر ایک تمام ضمیریں. نمبر دو اسمائے اشارہ. نمبر تین اسمائے موصولہ. نمبر چار اسمائے افعال. نمبر پانچ اسمائے اصوات. نمبر چھ کچھ ظروف ہیں. نمبر سات کنایات، اسمائے کنایات بھئی. اور نمبر آٹھ کچھ مرکبات ہیں، یعنی مرکبِ بنائی، تو یہ آٹھ ہیں. اس میں کنایات کا ذکر آیا تھا، اور کنایا میں نے بتلایا تھا، کنایات دو قسم کے ہیں، کبھی کنایا عدد سے ہوتا ہے اور کبھی کنایا بات سے ہوتا ہے.
مثلاً آپ زید کو کوئی بات بتلا رہے تھے، تیسرا شخص آگیا، اب آپ اس سے بات چھپانا چاہتے ہیں، تو آپ کہتے ہیں کہ پھر میں نے عمر کو ایسے ایسے کہا، دیکھا، بات بتلانے کے بجائے ایسے ایسے لے آئے. یا آپ کہتے ہیں میں پھر میں نے عمر کو یوں یوں کہا، تو بات بتلانے کے بجائے یوں یوں کا لفظ لے آئے، تو یہ آپ نے کنایہ کر لیا اس بات سے، اس بات کو گول کر گئے، اس کا ذکر نہیں کیا اور کنایا ذکر کر دیا. تو عربی میں اس کے لیے کینتا اور زَیتا استعمال ہوتا ہے، یہ جب بات سے کنایہ کرنا ہو، بات سے کنایہ کرنا.
اور ایک ہے کنایہ عدد سے، بعض اوقات عدد ذکر کرنے کے بجائے اس سے کنایہ کر دیا جاتا ہے، اور عدد سے کنایہ کے لیے دو لفظ ہیں، ایک ہے کم اور ایک ہے کذا. اس میں عدد سے کنایہ ہوتا ہے. مثلاً میں کہنا چاہتا تھا کہ میں زید کو 10 درہم دیے، مثلاً میں عمر کو بتلا رہا تھا کہ میں نے زید کو 10 درہم دیے، اور میں بات کر رہا تھا کہ ایک تیسرا آدمی بھی وہاں آگیا، اب میں اس کو بتلانا نہیں چاہتا کہ میں نے 10 درہم دیے ہیں، تو میں اس عدد سے کنایہ کر لیتا ہوں اور یوں کہता ہوں: أعطيتُ زيداً كذا درهماً، أعطيتُ زيداً كذا، میں نے زید کو اتنے درہم دیے، تو دیکھو وہ 10 کا عدد بولنے کے بجائے میں نے كذا کا لفظ بولا، یعنی اتنے درہم دیے، تو یہ کنایہ ہے عدد سے بھئی، یہ کیا ہے؟ کنایہ ہے عدد سے. تو عدد سے کنائے کے لیے عربی میں دو لفظ ہیں، ایک ہے کم اور ایک ہے كذا. کم اور كذا. اب آج انہی کا بیان ہو رہا ہے.
کم اور كذا، کہتے ہیں یازدہم گیارہویں قسم جو ہے اسمائے عاملہ کی، اسمائے کنایہ از عدد، وہ جو اسمائے کنایہ ہیں عدد سے، و آن دو لفظ است و وہ دو لفظ ہیں کم و كذا، ایک کم ہے اور ایک كذا ہے بھئی. کم بر دو قسم است، کم دو قسم پر ہے، استفامیہ و خبریہ، ایک استفامیہ ہے اور ایک خبریہ ہے.
یاد رکھو یہ جو کم ہے، اس یہ خبر دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ سوال پوچھنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے. اور اس میں ابہام ہوتا ہے، تو اس کے بعد ایک تمیز آتی ہے جو آکر اس ابہام کو دور کرتی ہے. توجہ ہے؟ جی. کم استفام کے لیے بھی آتا ہے اور خبر دینے کے لیے بھی آتا ہے. اور یہ مبہم ہے تو آگے تمیز چاہیے. اور یہ کم استفامیہ ہے یا کم خبریہ ہے، اس کا پتہ تمیز سے چلتا ہے. کم استفامیہ جو ہے اس کی تمیز منصوب آتی ہے. تمیز کیا آئے گی؟ منصوب.
مثلاً کم رجلاً عندك، کتنے آدمی ہیں عندك آپ کے پاس؟ تو کم کی تمیز کیا آئی؟ رجلاً، اور منصوب ہے، اس کا نصب بتلا رہا ہے کہ یہ کم استفامیہ ہے، خبریہ نہیں. جبکہ کم خبریہ جو ہے، وہ اپنی تمیز کی طرف مضاف ہو جاتا ہے، تمیز اس کے بعد بھی آتی ہے، توجہ ہے؟ کم خبریہ کے بعد بھی تمیز ضرور آئے گی، لیکن وہاں کم اس تمیز کی طرف مضاف ہو جائے گا اور تمیز مجرور ہو جائے گی. کم رجلٍ عندي، کم رجلٍ عندي، ترجمہ کیا ہوگا؟ نہ سوال نہیں، سوال نہیں، کتنے نہیں، یہ تو آپ استفامیہ بنا رہے ہیں، معنی ہے بہت سے آدمی ہیں میرے پاس. یہ کثرت بیان کرنے کے لیے آتا ہے. کس کے لیے آتا ہے؟ کثرت بیان کرنے کے لیے. کم رجلٍ عندي، بہت سے آدمی ہیں عندي میرے پاس. تو کم، یہ کم مضاف اور رجلٍ مضاف الیہ، اور یہ رجل اس کی تمیز ہے، یہ بتلا رہی ہے کہ کم سے کیا مراد ہے؟ رجل مراد ہے، کیا مراد ہے؟ رجل مراد ہے.
کم استفہام میں تھا کم رجل عندک کم رجل عندک تو وہاں پر بھی کم کے اندر ابہام تھا اور اگے تمیز ائی منصوب بھئی اور اس نے ابہام کو دور کیا کہ کم سے کون مراد ہے، رجل مراد ہے کم رجل عندک آپ کے پاس کتنے آدمی ہیں؟ اور کم خبرایہ کے اندر بھی کم کے اندر ابہام ہے تمیز چاہیے لیکن یہ اپنی تمیز کی طرف مضاف ہو جاتا ہے اور بہرحال چاہے مجرور ہی کیوں نہ ہو، وہ آکر ابہام کو دور کر دیتی ہے، بتلا دیتی ہے کہ کم سے کیا مراد ہے؟ تو کم رجل عندک معلوم ہوا کہ یہ کم سے کون مراد ہے؟ رجل ہی مراد ہے۔ کم رجل عندي بہت سے آدمی میرے پاس ہیں۔
فرق سمجھ میں آیا؟ اور نیز یہ جو کم خبرایہ ہے، اس کی تمیز جمع مجرور بھی آسکتی ہے۔ کم رجل بھی اور کم رجال بھی، کم رجال عندي میرے پاس بہت سے آدمی ہیں۔ تو کم کتنے قسم کا ہوا؟ دو۔ ایک کم استفہامیہ اور ایک کم خبرایہ۔ کم استفہامیہ کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ سوال پوچھا جاتا ہے اور کم خبرایہ کے ذریعے خبر دی جاتی ہے، کوئی بات بتلائی جاتی ہے اور کم استفہامیہ اور کم خبرایہ میں فرق کس سے ہوگا؟ تمیز سے۔ اگر تمیز منصوب ہوئی تو معلوم ہوا یہ کم کون سا ہے؟ استفہامیہ ہے اور اگر تمیز مجرور ہوئی معلوم ہوا یہ کم خبرایہ ہے اور یہ جو کم خبرایہ ہے، یہ مضاف ہوتا ہے اپنی تمیز کی طرف اور اس کی تمیز مفرد بھی آسکتی ہے اور جمع بھی کم رجل بھی آسکتا ہے اور کم رجال بھی جبکہ کم استفہامیہ جو ہوتا ہے، اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب رہتی ہے، کم رجلاً، کم رجلاً ہی رہے گا، کم رجالا یہاں آپ نہیں کہہ سکتے بھئی۔
تو کم استفہامیہ کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب اور کم خبرایہ کی تمیز مفرد مجرور یا جمع مجرور آئے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ کم کنایہ ہے عدد سے اور اسی طرح کذا ہے، کذا وہ بھی عدد سے کنایہ ہے لیکن وہ صرف خبر کے لیے استعمال ہوتا ہے، وہ صرف خبرایہ ہوتا ہے، وہ استفہامیہ نہیں۔ جیسے آپ کہتے ہیں عندي کذا درهماً میرے پاس اتنے درہم ہیں۔ کذا کے اندر ابہام تھا، درهماً نے آکر اس ابہام کو دور کر دیا تو یہ عندي کذا درهماً میرے پاس اتنے درہم ہیں۔
دیکھیے بھئی دوبارہ ترجمہ دیکھ لیں، اسماء کنایات عدد واں دو لفظ است، اسماء کنایات عدد سے اور وہ دو لفظ ہیں کم اور کذا کم بر دو قسم است کم دو قسم پر ہے استفہامیہ و خبرایہ، ایک استفہامیہ اور ایک خبرایہ۔ کم استفہامیہ تمیز رب نصب کند، کم استفہامیہ تمیز کو نصب دیتا ہے وکذا نیس اور کذا بھی کذا بھی یعنی وہ بھی اپنی تمیز کو نصب دیتا ہے چوں کم رجلاً عندک کتنے آدمی ہیں آپ کے پاس وعندی کذا درهماً میرے پاس اتنے درہم ہیں۔
وکم خبرایہ تمیز راجر کند اور کم خبرایہ تمیز کو جر دیتا ہے، چوں کمال انفقو انفق ینفق انفاق کا معنی خرچ کرنا، انفق تو میں نے خرچ کیا، کمال انفق تو جی یہ کم کون سا ہے؟ استفہامیہ یا خبرایہ؟ خبرایہ، کیسے پتہ چلا؟ تمیز مجرور ہے اور یہ مضاف الیہ بن رہی ہے کم کے لیے، تو کمال انفق تو بہت سا مال میں نے خرچ کیا، بہت سا مال میں نے خرچ کیا، وکم دارن بنیتو دار گھر کو کہتے ہیں، بنیتو بنا یبنی کا معنی ہے بنانا، تعمیر کرنا، کم دارن بنیتو یہ کون سا کم ہے؟ کم خبرایہ ہے اور کم خبرایہ کا معنی کس کے ساتھ کرتے ہیں؟ بہت کے ساتھ، یہ کثرت بتلانے کے لیے آتا ہے، تو یہ انشاء تکثیر کے لیے ہے، وکم دارن بنیتو بہت سے گھر میں نے تعمیر کیے، بہت سے گھر میں نے بنائے۔
وگاہ مین جار بر تمیز کم خبرایہ آیت، وگاہ کبھی کبھی وگاہ مین جار اور کبھی مین جار را جو ہے بر تمیز کم خبرایہ آیت وہ کم خبرایہ کی تمیز پر آتا ہے، کبھی کبھار مین جار را جو ہے وہ کم خبرایہ کی تمیز پر آتا ہے جیسے پیچھے تھا کم دارن کم دارن یہاں مین آجاتا ہے کبھی کم من دارن بنیتو، کم من دارن بنیتو تو کہتے ہیں وگاہ مین جار بر تمیز کم خبرایہ آیت اور کبھی مین جار را جو ہے کم خبرایہ کی تمیز پر آتا ہے چوں قولہ تعالیٰ جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے کم من ملک فی السماوات کم من ملک فی السماوات بہت سے فرشتے ہیں آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں آسمانوں میں، بہت سے فرشتے آسمانوں میں آگے خبر جو ہے وہ آگے آیت کے اندر ذکر ہے بس اس کا معنی میں نے بتلا دیا آپ کو کم من ملک فی السماوات بہت سے فرشتے آسمانوں میں یہاں تک بات سمجھ میں آگئی حاصل کلام کیا ہوا کہ کنایہ از عدد کتنے لفظ ہیں؟ دو، ایک کم ہے اور ایک کذا۔ کذا صرف خبر دینے کے لیے آتا ہے جبکہ کم استفہام کے لیے بھی آتا ہے اور خبر دینے کے لیے بھی اور ان میں ابہام ہوتا ہے، آگے تمیز چاہیے۔ کذا کی تمیز تو ہمیشہ منصوب آئے گی لیکن کم اس کی تمیز منصوب بھی آسکتی ہے اور مجرور بھی۔ اگر تمیز منصوب آئے، معلوم ہوا یہ کون سا کم ہے؟ استفہامیہ یہ ہمیشہ اس کی تمیز مفرد منصوب آئے گی، جمع نہیں بلکہ مفرد منصوب اور اگر اس کی تمیز مجرور آئے تو سمجھ جائیں یہ کون سا کم ہے؟ کم خبرایہ اور یہ جو کم خبرایہ ہے اس کی تمیز مجرور تو آئے گی لیکن مفرد بھی ہو سکتی ہے اور جمع بھی ہو سکتی ہے بھئی۔ اور یہ بھی انہوں نے بتایا کہ کم خبرایہ کی تمیز پر کبھی مین بھی داخل ہو جاتا ہے جیسے کم من ملک دیکھو یہ ملک کیا تھا؟ تمیز تھی۔ ملک فرشتے کو کہتے ہیں۔ تو ملک کا معنی ہے فرشتہ بھئی تو کم من ملک اس پر کیا داخل ہوا؟ یہ ملک تمیز ہے اور اس پر مین داخل ہوگیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ اچھا یہ ترکیب بھی کر لیجیے بھئی، کم رجلاً عندک کم رجلاً عندک جی بتلائیے کم کا اعراب بولو، یاد رکھو یہ مبتدا بنے گا۔ کم مرفوع محلاً یہ مبنی ہے، مرفوع محلاً مبہم ممیز، رجلاً منصوب لفظاً تمیز، مبہم ممیز اپنی تمیز سے مل کر مبتدا اور عندک عند منصوب لفظاً مضاف کیونکہ عند نے کیا بننا ہے؟ ظرف تو منصوب لفظاً مضاف، کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر بنے گی خبر، تو کس سے متعلق ہوں گے؟ ثابت سے، کس سے؟ ثابت سے، ثابت مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں؟ خبر ہے، لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، مرفوع لفظاً اور اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ جی، کم رجلاً، کم رجلاً مبتدا کو راجع ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی، کم کو راجع ہے، کم کو اور کیونکہ خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے، تو اس میں فاعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ (یعنی عندک) سے مل کر کیا بنا؟ یہ عندک کیا بن رہا ہے؟ مفعول فیہ، تو ثابت صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا کیونکہ سوال پوچھا جا رہا ہے۔
وعندی کذا درهماً اس کی بھی اسی طرح ترکیب ہے۔ عندي ترکیب کیجیے، عندي ظرف ہے نا، منصوب تقدیرًا کیونکہ یا کی طرح مضاف ہے، یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اور مضاف الیہ مل کر مفعول فیہ ہوا کس کے لیے؟ ثابتون کے لیے اور ثابتون صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر ہوا ضمیر فاعل، جو کس کو راجع؟ آگے جو کذا آرہا ہے، وہ ہے مبتدا، وہ کذا کی طرف راجع اور ثابتون صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر خبر مقدم اور کذا یہ کذا کا اعراب بولو، مبتدا ہے نا، تو مرفوع ہوگا کذا، مرفوع محلاً ممیز اور درهماً منصوب لفظاً تمیز، مبہم ممیز اپنی تمیز سے مل کر مبتدا مؤخر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، عندي کذا درهماً، میرے پاس اتنے درہم ہیں۔ جی یہ انشائیہ نہیں ہوگا، یہ انشائیہ نہیں ہوگا، کذا صرف خبرایہ آتا ہے۔
وکم مال انفق تو، کم مال انفق تو یہاں دیکھو ذرا معنی پر غور کرو، ترجمہ کرو، میں نے بہت سا مال خرچ کیا، ترجمے سے کچھ سمجھ میں آرہا ہے کہ کم کیا بن رہا ہے؟ کم مالین کیا بن رہا ہے؟ کم مال انفق تو، میں نے بہت سا مال خرچ کیا، کم تو خبرایہ ہے، خبرایہ، کم تو خبرایہ ہے، ٹھیک ہے لیکن ترکیب میں کیا بن رہا ہے کم مالین؟ مفعول، ہاں شاباش، یہ مفعول بنے گا، ذرا اس کو مؤخر کر دو، انفق تو میں نے خرچ کیا، کمالین، بہت سا مال دیکھا یہ خرچ کرنے والا متکلم اور وہ جو کم مال ہے وہ ہے مفعول بھئی، تو یہاں کم کا اعراب بولو اب ترکیب کیجیے، کم، منصوب محلاً اب ممیز کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آگے تمیز نہیں آرہی، آگے تمیز کی طرف اضافت ہو رہی ہے، ہے تو تمیز ہی لیکن اس کی طرف کیا ہو رہی ہے؟ اضافت، لہذا ممیز نہ کہیں، بس، کم منصوب محلاً مضاف، مالین مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مفعول بہ ہوا کس کے لیے؟ انفق تو فعل کے لیے، میں نے بتایا تھا فعل سب سے قوی عامل ہے، یہ ما بعد میں بھی عمل کرتا ہے اور ما قبل میں بھی عمل کرتا ہے، تو اس نے دیکھو مفعول کو ما قبل میں نصب دیا اور انفق تو فعل با فاعل، اس کے اندر تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، میں نے بہت سا مال خرچ کیا۔
اور وکم دارن بنیتو یہاں بھی اسی طرح ہے، کم منصوب محلاً مضاف، دارن مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مفعول بہ ہوا کس کے لیے؟ بنیتو کے لیے، بنا، بنیتو، کم دارن، ذرا مؤخر کریں، پھر آپ کو معنی سمجھ میں آئے گا، بنیتو میں نے بنائے، میں نے تعمیر کیے، کم دارن، بہت سے گھر، معلوم ہوا یہ مفعول بن رہا ہے، تعمیر کرنے والا متکلم اور جس کو تعمیر کیا، وہ کیا ہیں؟ مفعول ہیں بھئی گھر تو کم منصوب محلاً مضاف، دارن مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول بہ اور بنیتو فعل با فاعل، تا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، کم خبرایہ ہے نا، ترکیب سمجھ میں آگئی، میں نے بہت سے گھر تعمیر کیے۔
اور آگے ہے کم من ملک في السماوات، اس میں یاد رکھو یہ کم یہ مبتدا بنے گا، مبتدا، اور من ملک، من جارہ ہے اور ملک مجرور، یہ لیکن یہ من زائد ہے، زائد ہے، لہذا ملک لفظوں میں تو مجرور ہے، کیونکہ اس پر کیا داخل ہے؟ مین، لیکن محل کے اعتبار سے یہ منصوب ہے یہ تمیز ہے یہ ابہام کو دور کر رہی ہے کم سے، یہ ملکن کیا ہے؟ تمیز ہے، اور تمیز کیا ہوتی ہے؟ منصوب، تو محل کے اعتبار سے یہ منصوب ہے، توجہ ہے؟ یہ مجرور لفظاً ہے، لیکن منصوب محلاً ہے، یہ تمیز ہے، اور فی السماوات یہ صفت ہے اس ملک کی، کیونکہ نکرہ کے بعد جار مجرور آجائے، ملک کیا ہے؟ نکرہ، ملکن، یہ نکرہ ہے، اور اس کے بعد جار مجرور آیا، اور وہ کسی اور چیز سے نہ جڑ رہا ہو، تو وہ اسی نکرہ کے لیے صفت بنتا ہے۔ جیسے نکرہ کے بعد فعل آجائے، تو وہ اسی نکرہ کے لیے عموماً صفت، اسی طرح نکرہ کے بعد اگر جملہ اسمیہ آجائے، تو وہ بھی عموماً اس نکرہ کے لیے صفت بنتا ہے، تو یہ فی السماوات جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہوں گے؟ ملکین سے، جی صفت ہے ملک کی، صفت ہے ملک ان کی، تو کس سے متعلق ہوں گے؟ کیا نکالیں گے؟ ثابتن، ثابتن، ثابتین، ثابتین، جی ثابتین نکالیں گے، صفت موصوف کے مطابق ہوتی ہے اعراب میں، ملکن مجرور تو ثابتین صفت بھی مجرور۔
پھر سنو ترکیب، کم مرفوع محلاً مبتدا ہے، اور مبہم ممیز، من جارہ زائدہ، ملکن مجرور لفظاً، منصوب محلاً تمیز ہے، اور فی السماوات، فی جارہ، السماوات مجرور، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ ثابتین سے، ثابتین صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر ہوا ضمیر فاعل جو کس کو راجع؟ ملک موصوف کو راجع، صفت کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصوف سے، ثابتین صیغہ اسم فاعل، اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، ملکن موصوف، اپنی صفت سے مل کر یہ تمیز ہوئی کس کے لیے؟ کم کے لیے، کم ممیز اپنی تمیز سے مل کر مبتدا، اور آگے کیا آجائے گی؟ خبر آجائے گی، ترکیب سمجھ میں آگئی۔
ترکیب اگر کوئی مشکل بھی پیش آئے، ابھی پریشان نہیں ہونا بھئی، بہرحال ترکیب، ذکر میں کرتا جا رہا ہوں، کوئی ایک آدھ بات تو ذہن میں رہ جائے گی، عموماً ہمارے ہاں درجہ اولیٰ میں ترکیب کروا دیتے ہیں۔
تو حالاں کہ ترکیب تو ہدایت النحو کے ساتھ صحیح انسان کو سمجھ میں آتی ہے تو بہرحال میں یہاں ذکر کرتا جا رہا ہوں اگر کوئی بات ذہن میں رہ گئی تو اچھی بات ہے اگر ذہن میں نہ بھی ائے پریشان نہیں ہونا البتہ یہ نحمیر کے مسائل آپ نے خوب اچھی طرح یاد کرنے ہیں جب یہ مسائل اچھی طرح یاد ہوں گے انشاءاللہ ہدایت النحو میں پھر ترکیب جب اس کے ساتھ چلے گی تو آپ کو بہترین سمجھ میں آئے گی بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی قسم دوم معنوی۔ بداں کہ عوامل معنوی بر دو قسم است۔ اول ابتدا یعنی خلو اسم از عوامل لفظی کہ مبتدا و خبر را بر رفع کند چوں زید قائم۔
و ایں جا گویند کہ زید مبتدا است مرفوع با ابتدا و قائم خبر مبتدا است مرفوع با ابتدا۔
अच्छा भाई यह कुछ सफे कबल आया था बाब अव्वल दर हुरूफ आमिला जहां हुरूफ आमिला का बयान शुरू हुआ था फिर अफआल अफआल का बयान आया था जो अमल करते हैं वहां पर इन्होंने जिक्र किया था उससे एक- दो सतर कबल फसल। بداں کہ عوامل اعراب بر دو قسم است اعراب کے عوامل جو ہیں وہ دو قسم کے ہیں وہ عامل جو اعراب دیتے ہیں لفظی اور معنوی۔ کچھ لفظی ہیں اور کچھ معنوی ہیں۔ پھر لفظی کی انہوں نے تین قسمیں بنائی تھیں کہ وہ عامل حروف ہوں گے یا افعال ہوں گے یا اسماء تو یہ لفظی عوامل کا بیان اب تک چل رہا تھا مسلسل۔ اب آج آ کر یہ مکمل ہوا اب عوامل معنوی کا بیان کرنے لگے ہیں اسی لیے انہوں نے کہا قسم دوم معنوی دوسری قسم عوامل کی کیا ہے؟ معنوی ہے بداں کہ تو جان لے کہ عوامل معنوی بر دو قسم است اچھا بھئی پہلے اس کو سمجھ لیں۔
عوامل معنوی جو ہیں وہ دو قسم پر ہیں۔ ایک کا نام ہے ابتدا جو مبتدا اور خبر میں عامل ہے۔ ایک کا نام کیا ہے؟ ابتدا اور دوسری قسم ہے جو فعل مضارع کے اندر عامل ہے اس کو رفع دیتی ہے۔ فعل مضارع یاد رکھو وہ مرفوع ہوتا ہے جب اس پر کوئی نصب دینے والا عامل بھی نہ ہو اور جزم دینے والا عامل بھی نہ ہو۔ یہ جو رفع اعراب آتا ہے یہ خود بخود نہیں آتا ہمیشہ اس کے لیے کیا چاہیے؟ عامل چاہیے تو فعل مضارع کے اندر فعل مضارع جب عامل ناصب سے اور عامل جازم سے خالی ہو تو پھر یہ مرفوع ہوتا ہے یعنی عامل لفظی سے خالی ہونا۔ عامل لفظی سے جب وہ خالی ہوگا تو کیا ہوگا؟ مرفوع۔ اسی طرح مبتدا اور خبر ہیں۔ اس میں نحویوں نے غور کیا کہ ان پر رفع کیوں آتا ہے؟ تو کوئی ایسا لفظ نہیں نظر آیا کہ جس کی وجہ سے ان پر رفع آئے تو انہوں نے کہا کہ کہ رفع تو آ رہا ہے اور رفع تو بغیر عامل کے آتا نہیں لہذا یوں کہو کہ ان کے اندر عامل معنی ہے۔ کیا ہے؟ عامل معنی ہے اور وہ کیا؟ ابتدا۔ کہ یہ مبتدا ہے مسند علیہ اور خبر کیا ہے؟ مسند۔ تو مسند اور مسند علیہ جب وہ عامل لفظی سے خالی ہوں تو ان کے اندر عامل معنوی ہوگا۔
توجہ ہے؟ مسند اور مسند علیہ جب کس سے خالی ہوں؟ جب عامل لفظی سے خالی ہوں تو ان کے اندر عامل کون ہوگا؟ معنوی ہوگا، معنا عامل ہوگا اور وہ اسم کے اندر صرف مبتدا اور خبر ہیں۔ باقی جتنی جگہ بھی رفع یا نصب یا جر آئے گا ہر جگہ کوئی نہ کوئی عامل موجود ہوتا ہے لیکن صرف مبتدا اور خبر یہ مسند علیہ اور مسند۔ مبتدا کیا ہے؟ مسند علیہ اور خبر کیا ہے؟ مسند یہ دو چیزیں جو ہیں ایک مسند علیہ ہے اور ایک مسند ہے ان میں ہمیں کوئی عامل لفظوں میں نہیں ملا تو نحوی حضرات نے کہہ دیا کہ اس کے اندر عامل ابتدا ہے۔ اس کے اندر عامل ابتدا معنی ہے، معنی ہے اور اس کا نام ابتدا رکھ دیا۔ تو طلباء پریشان ہوتے ہیں پتہ نہیں ابتدا کیا چیز ہے؟ بھئی ابتدا کیا ہے؟ کہ کوئی مسند ہو یا مسند علیہ اور عامل لفظی سے خالی ہو بس۔ کوئی مسند ہو یا مسند علیہ اور عامل لفظی سے خالی جب عامل لفظی سے خالی ہے تو عامل معنوی موجود ہے یعنی کیونکہ رفع خود بخود تو نہیں آتا۔ زید قائم یہ زید پر رفع تو آ رہا ہے اور کوئی ایسا لفظ نہیں جو رفع دینے والا ہو۔ قائم پر بھی رفع آ رہا ہے کوئی لفظ نہیں ایسا جو رفع دینے والا ہو اور رفع بغیر عامل کے نہیں آ سکتا تو کیا کہو؟ عامل معنی ہے لفظ نہیں ہے بلکہ معنی ہے اور اس کا نام کیا رکھ دیا؟ ابتدا۔
تو ابتدا کس چیز کا نام ہے؟ عامل معنوی کا نام ہے اور وہ کیا ہے اس کی تعریف کرو؟ مسند و مسند مسند یا مسند علیہ عامل لفظی سے خالی ہوں بس یہ ہے ابتدا۔ مسند اور مسند علیہ دیکھو کوئی مشکل ہے؟ مسند ہو یا مسند علیہ ہو اور عامل لفظی سے خالی ہو تو اس کے اندر عامل کون؟ ابتدا یعنی معنا معنی عامل ہے اور اس کا نام ابتدا ہے۔ بس یہ ہے ابتدا بھئی۔ اور دیکھو اس کے اندر صرف کون داخل ہوئے؟ کس میں عامل معنوی آیا؟ صرف مبتدا اور صرف خبر اور کوئی ایسا مسند اور مسند علیہ نہیں جو عامل لفظی سے خالی ہو۔ تو یہ عامل معنوی یعنی ابتدا صرف مبتدا میں عامل ہے اور صرف خبر میں۔ اس کا نام ابتدا رکھ دیا ویسے یہ کوئی بھی چیز نہیں ہے بھئی کہ بس یہ معنا عامل ہے اور اس کا نام ابتدا ہے۔
بات سمجھ میں آگئی ابتدا کسے کہتے ہیں؟ مسند یا مسند علیہ کا عامل لفظی سے خالی ہونا بس یہ ابتدا ہے۔ تو زید پر رفع کیوں کس کی وجہ سے آیا؟ عامل کون؟ ابتدا اور خبر پر رفع کیوں آیا؟ عامل کون؟ ابتدا ہے اور ابتدا کس چیز کا نام؟ کہ مسند ہو اور عامل لفظی سے خالی یا مسند علیہ ہو اور عامل لفظی سے خالی۔ مسند یا مسند علیہ ہونا چاہیے اور کچھ نہیں بھئی۔ اور وہ صرف کون ہیں؟ مبتدا اور خبر ہیں ان کے علاوہ اور کوئی ایسا مسند یا مسند علیہ نہیں ہے جو عامل لفظی سے خالی ہو۔
دیکھیے بھئی کتاب پر قسم دوم معنوی دوسری قسم عامل معنوی ہے بداں کہ عوامل معنوی بر دو قسم است۔ جان لے تو کہ عوامل معنوی دو قسم پر ہے اول ابتدا پہلی قسم کیا ہے؟ ابتدا۔ کیا معنی خود معنی بیان کر رہے ہیں یعنی خلو اسم از عوامل لفظی خالی ہونا اسم کا عوامل لفظی سے کہ مبتدا و خبر را بر رفع کند کہ جو مبتدا اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ صرف کس کس کو ذکر کیا؟ مبتدا اور خبر اسم کا خالی ہونا کس سے؟ عوامل لفظی سے اور یہ صرف کس کو رفع دیتا ہے؟ مبتدا اور خبر کو اور کہیں پر بھی ابتدا عامل نہیں ہے بھئی۔
پھر دیکھیے ابتدا یعنی خلو اسم از عوامل لفظی یعنی خالی ہونا اسم کا عوامل لفظی سے کہ مبتدا و خبر را بر رفع کند کہ مبتدا اور خبر کو رفع دیتا ہے چوں زید قائم جیسے زید قائم۔ زید پر رفع آیا کس کی وجہ سے؟ ابتدا کی وجہ سے۔ قائم پر رفع آیا کس کی وجہ سے؟ ابتدا اور ابتدا ایک معنوی عامل ہے اس کی تعریف کیا ہے ابتدا کسے کہتے ہیں؟ کہ کوئی مسند یا مسند علیہ ہو اور عامل لفظی سے خالی ہو تو بس یہ خالی ہونا معلوم ہوا اس کے اندر عامل کون ہے؟ معنا عامل ہے اور اس کا نام ابتدا ہے۔ و ایں جا گویند اور یہاں پر کہتے ہیں ایں جا یہاں یہاں کہتے ہیں کہ زید مبتدا است مرفوع با ابتدا کہ زید جو ہے وہ مبتدا ہے اور مرفوع ہے با ابتدا کس کی وجہ سے مرفوع ہے؟ ابتدا کی وجہ سے۔ و قائم خبر مبتدا است اور قائم جو ہے مبتدا کی خبر ہے مرفوع با ابتدا وہ بھی کس کی وجہ سے مرفوع ہے؟ ابتدا کی وجہ سے۔
یہاں ایک دو مذہب اور بھی ہیں وہ بھی ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں بعض نحوی حضرات فرماتے ہیں کہ ابتدا صرف مبتدا میں عامل ہے۔ کس کے اندر؟ مبتدا میں عامل ہے اور پھر مبتدا آگے خبر میں عامل ہے۔ مبتدا میں رفع کس کی وجہ سے آیا؟ ابتدا لیکن خبر میں جو رفع آیا وہ کس نے دیا؟ مبتدا نے دیا۔
دوسرا مذہب یہ ہے کہ مبتدا اور خبر دونوں ایک دوسرے میں عامل ہیں۔ مبتدا نے رفع دیا خبر کو اور خبر نے رفع دیا مبتدا کو تو تین مذہب ہوگئے پہلا مذہب جمہور کا کیا؟ کہ دونوں میں عامل ابتدا ہے۔ دوسرا مذہب یہ کہ مبتدا میں عامل ابتدا اور خبر میں عامل مبتدا ہے اور تیسرا مذہب کیا کہ دونوں ایک دوسرے کے اندر عامل ہیں مبتدا خبر میں عامل اور خبر مبتدا میں عامل۔
پہلا مذہب جمہور کا ہے جمہور۔ جمہور کا معنی ہے اکثر نحوی۔ اکثر نحوی۔ یعنی اکثر نحوی یہ کہتے ہیں کہ مبتدا اور خبر دونوں میں عامل ابتدا ہے۔ اور جمہور نحویوں (یعنی جمہور کا یہ مذہب ہے) جمہور کا کیا معنی؟ اکثر۔ اکثر نحوی اس طرف گئے ہیں کہ مبتدا اور خبر دونوں میں عامل ابتدا ہے۔ تو جمہور کا کیا معنی؟ اکثر۔ اور جمہور نحویوں کا یہ مذہب ہے۔ مذہب کا کیا معنی؟ مذہب کا معنی ہے رائے، رائے۔ اکثر نحویوں کی یہ رائے ہے کہ مبتدا اور خبر دونوں میں عامل کیا ہے؟ ابتدا ہاں بعض نحویوں کا مذہب یہ ہے یعنی بعض نحویوں کی رائے یہ ہے کہ مبتدا کے اندر عامل ہے ابتدا اور خبر کے اندر عامل ہے مبتدا اور بعض نحویوں کا یہ مذہب ہے یعنی ان کی یہ رائے ہے کہ مبتدا اور خبر دونوں ایک دوسرے میں عامل ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی۔
کہتے ہیں و ایں جا دو مذہب دیگر است اور یہاں دو مذہب دوسرے بھی ہیں یکے آن کہ ابتدا عامل است در مبتدا ایک مذہب یہ کہ ابتدا عامل ہے مبتدا میں صرف یکے آن کہ ابتدا عامل است در مبتدا ایک یہ کہ ابتدا عامل ہے مبتدا میں و مبتدا در خبر اور مبتدا خبر میں اور مبتدا خبر میں۔ دیگر آنکہ دوسرا مذہب یہ ہے کہ ہر یک از مبتدا و خبر عامل است در دیگر کہ ہر ایک از مبتدا اور خبر ہر ایک مبتدا اور خبر میں سے عامل است وہ عامل ہے در دیگر دوسرے میں یعنی مبتدا خبر میں عامل ہے اور خبر مبتدا میں عامل۔ دوم دوسرا عامل معنوی خلو فعل مضارع از ناصب و جازم خالی ہونا فعل مضارع کا عامل ناصب اور عامل جازم سے جب اس پر کوئی نصب یا جزم دینے والا عامل نہ ہو تو وہ مرفوع ہوگا۔
دوسرا عامل معنوی فعل مضارع میں ہے۔ فعل مضارع میں کبھی کبھار کوئی عامل لفظی آتا ہے وہ اس کو نصب دے دیتا ہے اس کو عامل ناصب کہتے ہیں۔ ناصب کا معنی نصب دینے والا۔ اور فعل مضارع کے اندر بعض اوقات کوئی عامل آتا ہے اور وہ جزم دے دیتا ہے اس کو عامل جازم کہتے ہیں جزم دینے والا۔
تو فعل مضارع جو ہے اس پر جب عامل ناصب اور عامل جازم نہ آئے تو فعل مضارع مرفوع ہوگا۔ فعل مضارع کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا۔ یہاں بھی وہی بات کہ معلوم ہوا فعل مضارع جب عامل لفظی سے خالی ہو تو وہ کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا اور یہاں عامل معنی ہے کیونکہ رفع خود بخود نہیں آتا۔ تو وہاں بھی اسم کے اندر بھی عامل معنوی کیا تھا؟ عامل لفظی سے خالی ہونا لیکن وہاں قید کیا تھی؟ مسند یا مسند علیہ ہونا چاہیے وہ عامل لفظی سے خالی ہو۔ اور فعل مضارع کے اندر بھی عامل معنوی کیا ہے؟ عامل لفظی سے خالی ہونا کیونکہ عامل لفظی تو اس میں یا نصب دینے والے آتے ہیں یا جزم دینے والے رفع دینے والا کوئی لفظی عامل ہوتا ہی نہیں تو اس کے لیے تو یہی بات وہی ہے کہ یہ بھی کیا ہو؟ عامل لفظی سے خالی ہو لیکن اس کو ذکر یوں کرتے ہیں کہ فعل مضارع جب ناصب اور جازم سے خالی ہو تو وہ کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا۔ اس کے اندر عامل کیا ہے؟ معنا عامل ہے اور وہ معنوی عامل کیا؟ جازم اور ناصب سے اس کا خالی ہونا۔
بات سمجھ میں آگئی دیکھیے بھئی دوم دوسرا عامل معنوی خلو فعل مضارع از ناصب و جازم خالی ہونا فعل مضارع کا عامل ناصب اور عامل جازم سے جب اس پر کوئی نصب یا جزم دینے والا عامل نہ ہو تو وہ مرفوع ہوگا۔ فعل مضارع برفع کنت اور یہ فعل مضارع کو رفع دیتا ہے۔ دیکھو یہاں بھی ہے خالی ہونا عامل لفظی سے اور وہاں بھی کیا ہے؟ ایک عامل معنوی ہے اسم میں ایک عامل معنوی ہے فعل مضارع میں۔ بات سمجھ میں آگئی دونوں ایک ہی چیز ہیں وہاں بھی عامل لفظی سے خالی ہونا اور یہاں بھی عامل لفظی سے خالی ہونا۔
چوں یضرب زید جیسے یضرب زید تو دیکھو یضرب پر رفع ہے ایں جا یضرب مرفوع است یہاں پر یضرب مرفوع ہے زیرا کہ خالی است از ناصب و جازم اس لیے کیونکہ زیرا کیونکہ کیونکہ یا اس وجہ سے کہ زیرہ کہ خالی است از ناصب و جازم اس وجہ سے کہ وہ خالی ہے ناصب و جازم سے (یعنی نصب دینے والے عامل اور جزم دینے والے عامل سے خالی ہے) تمام شد عوامل نحو پورے ہوگئے نحو کے عوامل بتوفیق اللہ تعالی اللہ تعالی کی توفیق سے و عونہ اور اللہ کی مدد سے۔ عون مدد کو کہتے ہیں۔ اللہ کی توفیق اور مدد سے عوامل نحو پورے ہوگئے عوامل لفظی بھی آپ نے پڑھ لیے اور عوامل معنوی بھی آپ نے پڑھ لیے۔
اور خلاصہ کلام اب سن لیں حاصل کلام یہ کہ آج آپ نے کنایات کے بارے میں پڑھا کہ وہ کنایہ جو عدد سے ہو اس کے دو الفاظ ہیں کم اور کذا۔ اس میں سے کم جو ہے وہ استفہامیہ بھی آتا ہے اور خبریہ بھی اور اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ آگے انے والی تمیز سے۔ کم استفہامیہ کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب آئے گی جبکہ کم خبریہ کی تمیز مفرد مجرور بھی آ سکتی ہے اور جمع مجرور۔ جبکہ کذا وہ صرف خبریہ آتا ہے استفہامیہ نہیں آتا۔ اور کبھی کبھار یہ جو کم خبریہ ہے اس کی تمیز پر من بھی داخل ہو جاتا ہے جو اس کو جر دیتا ہے اور میں نے بتایا وہ من زائد ہوتا ہے وہ جو تمیز ہوتی ہے لفظا تو مجرور ہوتی ہے لیکن محلا وہ منصوب ہوتی ہے تمیز ہوتی ہے۔
اور اس کے بعد آپ نے پھر عوامل معنوی کے بارے میں پڑھا۔ انہوں نے بتلایا کہ عوامل معنوی دو ہیں ایک اسم کے اندر عامل ہے معنوی اور ایک وہ ہے جو فعل مضارع میں عامل ہے۔ اسم میں کیا اس کا نام کیا ہے؟ ابتدا۔ فعل والے میں بس اس کا خالی ہونا عامل ناصب اور عامل جازم سے تو وہ پھر فعل مضارع مرفوع ہوتا ہے اس صورت میں۔ اور اسم کے اندر ابتدا جو ہے وہ عامل معنوی ہے اور ابتدا طلباء پریشان ہوتے ہیں پتہ نہیں کس چیز کا نام ہے؟ میں نے بتایا ابتدا کسی چیز کا نام نہیں۔ بس کوئی لفظ مسند ہو یا مسند علیہ ہو کوئی اسم کوئی اسم کیا ہو؟ مسند ہو یا مسند علیہ ہو اور عامل لفظی سے خالی ہو تو کہہ دو اس کے اندر عامل کون ہے؟ ابتدا ہے یعنی معنوی حامل ہے۔ معنی عامل ہے لفظ یہاں پر کوئی عامل نہیں۔ اور یہ صرف کس کے اندر عامل ہے؟ مبتدا اور خبر میں اور کسی چیز میں یہ ابتدا عامل نہیں۔ مبتدا پر رفع آیا کس کی وجہ سے؟ ابتدا کی وجہ سے۔ خبر پر رفع آیا کس کی وجہ سے؟ ابتدا کی وجہ سے۔ اور یہاں دوسرے بھی دو مذہب ہیں ایک مذہب یہ کہ مبتدا کے اندر عامل ابتدا ہے اور خبر کے اندر عامل ابتدا نہیں ہے بلکہ کون ہے؟ مبتدا ہے۔ مبتدا اس کے اندر عامل۔ جبکہ تیسرا مذہب یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے میں عامل ہیں۔ مبتدا نے رفع دیا خبر کو اور خبر نے رفع دیا مبتدا کو۔ بات سمجھ میں آگئی۔
چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔